مضامین کی فہرست


۲۰۰۶فروری

کائنات کی وسعتیں قرآن کی نظر میں، مصنف: علامہ طنطاوی۔ مترجم: ابومعاذ حافظ عبدالواحدصدیقی۔ ناشر: ہزارہ سوسائٹی فار سائنس ریلجن ڈائیلاگ‘ مانسہرہ۔ صفحات:۳۵۰۔ قیمت: ۳۰۰ روپے

علامہ طنطاوی مصر کے ایک روشن خیال اور جید عالمِ دین‘ مفسرِقرآن اور ایک ایسے مفکر تھے جو کائنات کی وسعتوں پر قرآن کی روشنی میں غوروفکر اور تدبر کیا کرتے تھے۔

علامہ نے قرآن کی مشہور تفسیر الجواہر لکھی جو ۲۵ اجزا اور ایک ملحق پر مشتمل ہے۔ زیرنظر کتاب اسی ملحق کا اُردو ترجمہ ہے۔ پون صدی قبل لکھی گئی اس تحریر میں اُس وقت دستیاب سائنسی معلومات کو قرآن سے ثابت کرنے کی پوری کوشش کی گئی ہے۔ مغرب کے مادی سیلاب کا راستہ روکنے کے لیے نسلِ نو کو خوابِ غفلت سے جگانا اور سائنس اور ٹکنالوجی کی تعلیم کے حصول پر زور دینا اس کتاب کا خاصہ ہے۔ علامہ صاحب نے جہاں بھی سائنسی انکشافات اور حقائق بیان کیے ہیں وہاں عام فہم انداز میں تحصیلِ علم اور تحقیق و جستجو کی ترغیب بھی دی ہے۔

اس کتاب میں انسانی جسم کے مختلف اعضا اور نظاموں:دورانِ خون‘ دل کی ساخت‘ شریانوں اور وریدوں کے افعال‘ اور دانتوں کی ساخت پر درست اور تفصیلی بحث موجود ہے۔ اسی طرح حشرات الارض میں سے ہشت پا (آکٹوپس) کی ساخت اور دفاعی نظام پر بھی درست معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں سمندری مخلوق‘ مختلف پودوں اور بیجوں کے متعلق مفید معلومات‘ جس انداز میں پیش کی گئی ہیں اس سے علامہ صاحب کے ذوق‘ وسعت ِمطالعہ اور شوق و جستجو کو داد دینی پڑتی ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے کائنات اور موجودات کے بارے میں بہت سی آیات میں اشارے بیان فرمائے ہیں جو آج کی سائنس کے حوالے سے بہت اہم ہیں لیکن قرآنی آیات کی توضیح و تفسیر سائنسی انکشافات اور صنعتی عجائبات کی روشنی میں اس طرح سے کرنا کہ قرآن سائنس کی ایک کتاب بن کر رہ جائے‘ بے اعتدالی ہے۔ کیونکہ سائنسی انکشافات کا دارومدار مفروضات پر ہوتاہے جو آج کچھ اور کل کچھ اور بھی ہوسکتے ہیں‘ جب کہ قرآن ایک قطعی علم‘ اٹل حقیقت اور لاریب کتاب ہے۔ علامہ صاحب اکثر مقامات پر ایسی ہی بے اعتدالی اور افراط و تفریط کا شکار نظر آتے ہیں۔

حرفِ آغاز میں صحیح کہا گیا ہے کہ آنے والے علما کا کام تھا کہ وہ قرآن کی روشنی میں سائنس کی پوزیشن واضح کرتے اور ان [علامہ طنطاوی] سے سرزد ہونے والی غلطیوں کو نہ دہراتے بلکہ اصلاح کرتے ہوئے اس کام کوآگے بڑھاتے۔ ترجمے میں بعض عربی الفاظ کو جوں کا توں رہنے دیا گیا ہے جس کی وجہ سے روانی متاثر ہوئی ہے۔ (پروفیسر وقار احمد زبیری)


سایۂ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، مولانا عامر عثمانی۔ مرتبہ: سید علی مطہر نقوی امروہوی۔ ناشر: مکتبہ الحجاز پاکستان‘ ۲۱۹-اے‘ بلاک سی‘ الحیدری ‘شمالی ناظم آباد‘ کراچی۔ صفحات: ۲۵۹۔ قیمت: ۱۵۰روپے۔

توحید‘ عقیدہ اسلام کا بنیادی رکن ہے اور شرک عقیدہ توحید کی ضد ہے۔ ہم کو زندگی میں  اس مسئلے کے گوناگوں پہلوئوں سے کسی نہ کسی موڑ پر سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی اس کا اظہار سیدھا سیدھا بت پرستی کی سی شکل میں‘ کسی نئے معبود کی صورت میں ہوتا ہے اور کبھی عقیدتوں میں غلو اور مبالغے کی صورت میں شرک راستہ بناتا ہے۔

مولانا عامر عثمانی نے: ’’اس مقصد عظیم کے پیش نظر‘ اپنے پورے ماحول حتیٰ کہ شیوخ اساتذہ تک سے اختلاف و مخالفت میں بھی کوئی تامل و تساہل نہیں برتا‘‘ (ص ۶)۔ بدعت اور طریقت نے عقیدت اور نیکی کی تلاش میں اس نوعیت کی بہت سی بحثوں کو اٹھایا کہ جن کا قرآن و سنت میں کوئی مقام نہ تھا‘ مگر زورِ کلام اور ندرتِ تخیل نے اُمت کی وحدت پر ضرب لگانے کے لیے ایسی موشگافیوں کو خوب غذا فراہم کی۔ یہ کتاب اپنے متن‘ لہجے اور سنجیدہ زبان میں‘ علمی گفتگو کو سلیقے سے پیش کرنے کا ایک نمونہ ہے۔ دلیل کو دلیل سے کاٹنے اور قرآن و سنت کی تعلیمات کو ان کے اصل رنگ اور مزاج و مذاق کے مطابق پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سوالات گوناگوں ہیں اور جوابات دلیل و برہان سے بھرپور ہیں۔فاضل مرتب جناب سید علی مطہر نقوی شکریے کے مستحق ہیں کہ انھوں نے یہ مباحث شائع کیے۔(سلیم منصور خالد)


۱۰۰ مشہور ضعیف احادیث، جمع و ترتیب: شیخ احسان بن محمد العتیبی۔ ترجمہ : حافظ عمران ایوب لاہوری۔ ملنے کا پتا: نعمانی کتب خانہ‘حق سٹریٹ‘ اُردو بازار‘ لاہور۔صفحات: ۹۵۔ قیمت: درج نہیں۔

اس حقیقت سے انکار بہت مشکل ہے کہ مختلف ادوار میں بدطینت‘ دروغ گو لوگوں‘ زندیقوں اور اسلام دشمن عناصر نے دین حنیف میں تحریف اور تشکیک‘ دراندازی اور رخنہ اندازی کے مذموم مقاصد کو پروان چڑھانے کی غرض سے ایسی ایسی روایتیں گھڑیں جس سے دین میں تشکیک کی راہیں کھلیں اور کافی حد تک بے عملی نے رواج پایا۔

اس روش کے سدّباب کے لیے علماے حق میدان میں آئے جنھوں نے کمال محنت اور شب و روز کی عرق ریزی سے وہ احادیث کے ایسے مجموعے منظرعام پر لے آئے جن میں ضعیف اور خودساختہ اور من گھڑت روایات کو چھانٹ کر صحیح روایات سے الگ کرکے رکھ دیا اور صحیح احادیث کو شفاف آئینے کی طرح دنیا کے روبرو پیش کر دیا۔

شیخ احسان بن محمد العتیبی نے جو‘ جناب ناصرالدین البانی صاحب کے شاگرد رشید ہیں ۱۰۰مشہور ضعیف اور خودساختہ احادیث کو ایک ہی جگہ جمع کردیا ہے جنھیں اس معاشرے کے کم علم خطبا اور بے عمل واعظین اپنی تقریروں میں بڑے زوردار انداز میں بیان کرتے ہیں۔ اس طرح غیرحقیقت‘ حقیقت کا روپ دھار لیتی ہے اور غیرمصدقہ ضعیف اور موضوع روایات عملی زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں اور عوام بدعت اور غیربدعت میں امتیاز نہیں کرسکتے۔ اس مشکل کو حل کرنے میں یہ کتاب بڑی معاون اور مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ ہر خاص و عام کے لیے ضعیف روایات کی پہچان‘ معرفت اور بدعات سے تحفظ اوربچائو کا بہت اچھا ذریعہ بن سکتی ہے۔ ہرمسلمان کو اس سے استفادہ کرنا چاہیے۔ بڑی مفید کتاب ہے۔ مفید اس پہلو سے بھی ہے کہ مترجم نے ابتدا میں ضعیف حدیث کی تعریف‘ ان کی اقسام‘ ان کو گھڑنے کے اسباب‘ ان کو بیان کرنے کے طریقے کے ساتھ ان کتابوں کا بھی ذکر کردیا ہے جن میں ضعیف اور موضوع روایات جمع کی گئی ہیں۔ نیز اصطلاحات احادیث پر بھی خاطرخواہ روشنی ڈالی گئی ہے۔ (عبدالوکیل علوی)


صحابیات طیباتؓ، احمد خلیل جمعہ۔ مترجم: محمود احمد غضنفر۔ ناشر: نعمانی کتب خانہ‘ حق سٹریٹ‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۶۷۰۔ قیمت: درج نہیں۔

رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کے بعد صحابیات طیباتؓ کی سوانح حیات تقدیسِ فکر اور تزکیۂ نفس کے لیے خواتین کے حوالے سے زیادہ مفید اور کارآمد ہے۔ ان ولولہ انگیز واقعات کے مطالعے سے نہ صرف تعلق باللہ اور عشقِ رسول محکم ہوتا ہے بلکہ خواتین کو اپنے اخلاق و کردار کو بہترین ساخت پر ڈھالنے کے لیے ایک سانچہ مہیا ہوجاتا ہے۔ مسلمان خواتین ان نشانات پر اپنا جادۂ حیات طے کرنے کے لیے عزم اور رہنمائی حاصل کرسکتی ہیں۔ صحابہ کرامؓ پر تو ہمیں بہت سی تصانیف ملتی ہیں لیکن صحابیاتِ اسلام کی حیاتِ مقدسہ اور کارہاے نمایاں پر اتنا نہیں لکھا گیا جتنا کہ اس کا حق ہے۔ زیرِتبصرہ کتاب اس صنف میں قابلِ قدر اضافہ ہے جس میں صحابیاتؓ کی پاکیزہ سیرت اور ان کے کارناموں کو خوب صورتی سے بیان کیا گیا ہے۔

مصنف نے ۷۰ صحابیات طیباتؓ کے حالات و واقعات یکجا کر کے ایک ایسا مرقع تیار کیا ہے جس کے مطالعے اور مشاہدے سے ایمان تازہ ہوجاتا ہے اور عمل کے لیے تڑپ پیدا ہوتی ہے۔ عہدنبوی کی ان جلیل القدر صحابیات کے سوانحی خاکوں میں عبادات و معاملات کا تذکرہ بھی ملتا ہے‘ حکمت و اخلاق کے موتی بھی اور تعلیم و تربیت کے انداز بھی۔ مصنف نے بالخصوص یہ پہلو بھی مدنظر رکھا ہے کہ ہرصحابیہؓ کے بارے میں رسول اکرمؐ کی خصوصی محبت و شفقت و رافت کے اظہار و واقعات کو حسنِ ترتیب کے ساتھ جمع کردیا جائے۔ اس طرح صحابیہؓ اور حضور اکرمؐ کے مابین محبت و رفاقت کا تعلق واضح ہوکر سامنے آجاتا ہے۔ ان نفوسِ قدسیہ کے حالاتِ زندگی کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ شانِ استقامت و عزیمت کیا ہے‘ ایثار و وفا اور عزم و ہمت کسے کہتے ہیں‘ شیوہ تسلیم و رضا کیا ہے‘ قربانی کیسے دی جاتی ہے اور مقام فقروعشق کیا ہے اور خدمتِ دین کیسے کی جاتی ہے!

کتاب کا عربی سے اُردو ترجمہ ایسا رواں ہے کہ اس پر ترجمے کا گمان ہی نہیں ہوتا۔ آسان سلیس اور قابلِ فہم زبان‘ دل نشیں اسلوب علمی نکات‘ تلفظ کی احتیاط اور نادر کتب کے حوالے کتاب کی جامعیت میں اضافہ کرتے ہیں۔(ربیعہ رحمٰن)


اسلام میں غریبی کا علاج، علامہ یوسف القرضاوی‘ ترجمہ: نصیراحمد ملّی‘ تخریج: محمد سرور عاصم۔ ناشر: مکتبہ اسلامیہ‘ غزنی سٹریٹ بالمقابل رحمن مارکیٹ‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۲۴۰۔ قیمت: ۱۴۰ روپے۔

آج کی گلوبل ویلج کی دعوے دار دنیا میں ہر پانچواں شخص انتہائی غربت کا شکار ہے۔ دنیابھر میں ڈیڑھ ارب لوگ صاف پانی اور ۲ ارب افراد بجلی سے محروم ہیں۔ روزانہ ۳۰ ہزار بچے غربت کی وجہ سے موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں چند سو امیر لوگوں کی دولت‘ دنیا کے ڈھائی ارب افراد کی دولت کے مساوی ہے۔ یورپ میں لوگ آئس کریم پر ۱۱ ارب ڈالر اور خوشبوئوں پر ۱۲ ارب ڈالر خرچ کرڈالتے ہیں۔ پاکستان جہاں ۹۰ کے عشرے میں ۲۲ فی صد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے تھے‘ اب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ۳۲ فی صد سے زائد انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

زیرتبصرہ کتاب  عالمِ اسلام کے معروف مفکر علامہ یوسف القرضاوی کی کتاب مشکلۃُ الفقرِ وکَیْفَ عَالَیھَا الاسْلَامُ کا اُردو ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں علامہ موصوف نے غربت کے خاتمے کی تدابیر کے سلسلے میں دین اسلام کی حکمت عملی اور طریق کار کو وضاحت سے پیش کیا ہے۔

کتاب نو ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں مختلف مذاہب کا غربت کے بارے میں نقطۂ نظر پیش کیا گیا ہے‘ مثلاً: مسیحی موقف‘ جبریہ کا موقف‘ سرمایہ داروں کا موقف‘ کمیونسٹوں کا نظریہ وغیرہ ۔ دوسرے باب میں ان مذاہب کے بالمقابل اسلام کے نقطۂ نظر کی وضاحت کی گئی ہے اور قناعت و توکل اور خیرات کے غلط تصور کی وضاحت کے ساتھ ساتھ صحیح اسلامی تصور کو واضح کیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ خیرات و امداد کے بجاے اسلام غربت کا مستقل علاج تجویز کرنے پر زور دیتا ہے جس کے چند پہلوئوں پر تیسرے باب میں روشنی ڈالی گئی ہے۔ چوتھے باب میں ان تدابیر کو پیش کیا گیا ہے جن پر عمل کر کے کسی معاشرے سے غربت کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ پانچویں باب میں زکوٰۃ اور نظامِ زکوٰۃ کے جدید مسائل اور عملی پہلو پر مفید بحث کی گئی ہے‘جب کہ چھٹے باب میں بیت المال کے اسلامی تصور اور غربت کے خاتمے کے لیے اس کے کردار اور نظامِ احتساب کو واضح کیا گیا ہے۔ ساتویں باب میں اسلام کے ان اقدامات کا جائزہ لیا گیا ہے جن کے نتیجے میں ایک فرد کو اپنی دولت میں دوسروں کو شریک کرنے کے لیے ہدایات دی گئی ہیں۔ اسی طرح آٹھویں باب میں وقف کے اسلامی تصور اور تعمیرمعاشرہ میں اس کے کردار کا جائزہ لیا گیا ہے۔ کتاب کا آخری باب اسلامی ریاست اور اسلامی معاشرے کے اسی ماحول کو پیش کرتا ہے جو باہمی اخوت اور مؤدت کی بناپر تشکیل پاتا ہے۔ حکمرانی دراصل خدمتِ خلق سے عبارت ہوتی ہے‘ اور کفالتِ عامہ اس کی ذمہ داریوں میں شامل ہے جس کے نتیجے میں کسی بھی معاشرے سے غربت و افلاس کا خاتمہ ممکن ہوسکتا ہے اور لوگ آسودہ حال زندگی گزارنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔

معاشیاتِ اسلام پر یہ کتاب ایک مفید علمی اضافہ ہے‘ اور اہلِ علم ‘معاشیات کے اساتذہ وطلبہ‘ علماے کرام اور حکمرانوں کے لیے ایک رہنما کتاب ہے۔ (میاں محمد اکرم)


۱-استحصال اور جارحیت ‘ ۲- مقبوضات اور بیرونی اڈے‘ ۳-عیسائی یہودی این جی اوز گٹھ جوڑ‘ ۴- عالمی تنظیمیں، فیض احمد شہابی۔ ناشر: ادارہ معارف اسلامی‘ منصورہ‘ لاہور۔ صفحات: (۱) ۴۸‘ دیگر:۴۰۔ قیمت: (۱) ۱۸ روپے‘ دیگر: ۱۵ روپے۔

سرمایہ داری اور اشتراکیت کی کش مکش کے دور میں ہماری توجہات کا زیادہ مرکز اشتراکیت رہا۔ اس کا خطرہ سر پر نظر آیا تو کتابچوں کے سلسلے بھی نکلے اور رسالوں نے ضخیم نمبر بھی نکالے۔ عالمی منظرنامے سے اشتراکیت رخصت ہوئی تو سرمایہ داری اپنے حقیقی رنگ وروپ میں سامنے آئی۔ یہ ہماری زندگیوں میں خوب دخیل ہے اور ہم خود اس کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ غالباً اسی لیے اس کی خطرناکی کا شعور گہرا نہیں۔ ادارہ معارف اسلامی لاہور نے اس ضرورت کو محسوس کیا اور اس کے ریسرچ اسکالر محترم فیض احمد شہابی نے سرمایہ داری کے پھندے سیریز تیار کی۔ مذکورہ بالا عنوانات کے تحت ان تحقیقی مقالوں میں کیا ہے‘ عنوان بتا دیتا ہے۔ ان موضوعات پر نہایت قیمتی تحقیقی مواد جو بڑی محنت سے مرتب کیا گیا ہے‘ شائقین کے لیے موجود ہے‘ اور اہم علمی ضرورت پوری کرتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کنواں کھودنا کافی نہیں‘ پانی پہنچانا بھی ہے۔ ضرورت مندوں کو پیاس کا احساس بھی دلانا ہے۔ یہ کام کون کرے؟ (مسلم سجاد)


تعارف کتب

  • ۱-شعور قرآن ‘۲- شعور حدیث‘ محمد عبداللہ حنیف۔ ناشر: ادارہ تعمیر انسانیت ٹرسٹ‘ کراچی۔ ملنے کا پتا: فضلی سنز‘ سپرمارکیٹ‘ اُردو بازار‘ کراچی۔ صفحات: (۱) ۲۹۲‘ (۲) ۲۴۴۔ قیمت: (۱) ۹۰ روپے‘ (۲) ۸۵ روپے۔ [۱-شعور قرآن قرآن مجید کی بنیادی تعلیمات پر مشتمل ۱۲ دروس قرآن کامجموعہ۔ آیات کا انتخاب بھی ایک خاص حکمت سے کیا گیا ہے۔ آیات‘ احادیث اور واقعات سیرت پر مبنی یہ ایمان افروز‘ عام فہم درس‘ قرآن فہمی کے لیے مفید‘ موثر اور متاثر کن ہیں اور مربی حضرات‘ درس قرآن کے حلقوں اوراسکولوں کے صبوحی خطبات کی ایک اہم ضرورت پوری کرتے ہیں۔ تعمیرسیرت کے انفرادی و اجتماعی تقاضے‘ نیز اسلامی معاشرے کی خصوصیات اور تعمیر کے لیے رہنمائی۔ ۲-شعورحدیث‘ ۲۰ منتخب احادیث مبارکہ کی قرآن وسنت کی روشنی میں دل نشیں تشریح۔ موضوع سے متعلق آیاتِ قرآنی‘ دیگر احادیث اور واقعات کا بیان کتاب کی انفرادیت ہے۔ حدیث فہمی اور اطاعتِ رسولؐ و حبِ رسولؐ کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے ایک مفید کتاب۔تحریکی اور دعوتی مقاصد کے پیش نظر انتخاب حدیث کے ضمن میں مفید اضافہ۔]
  • اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی قرارداد مقاصد میں وائرس ، مہندس محمد اکرم خاں۔ ناشر: جے-۴۶‘ ماڈل ٹائون‘ لاہور۔ صفحات: ۳۰۸۔ قیمت: بلامعاوضہ۔ [مصنف نے یہ انوکھا نظریہ پیش کیا ہے کہ قرارداد مقاصد میں حکومتی اختیارات کو استعمال کرنے والوں کے لیے ’پاکستانی لوگوں کی قوم‘ کے الفاظ کا استعمال دو قومی نظریئے کی نفی کے مترادف ہے اور ایک سیکولر وطن یا ریاست ہونے کی دلالت کرتا ہے۔ وہ اسے وائرس قرار دیتے ہیں اور اسی ’وائرس‘ کی وجہ سے وطن عزیز ۱۹۷۱ء میں دولخت ہوا۔ تاہم‘ مصنف ایک مخلص مسلمان اور پاکستان کے سچے بہی خواہ نظر آتے ہیں۔]
  • Comparative Study of Hadd-e-Zina Ordinance 1979 with Pakistan Penal Code ،تحقیق وتصنیف: ویمن ایڈ ٹرسٹ پاکستان‘ مکان ۳۶‘ گلی ۲‘ ۳/۱۰-جی‘ اسلام آباد۔ صفحات:۸۴۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔[اس تقابلی مطالعے میں حدود و حدِزنا آرڈی ننس ۱۹۷۹ء پر کیے جانے والے اعتراضات کا معروضی جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ چار وکلا کی تحقیقی کاوش ہے جسے ویمن ایڈ ٹرسٹ نے شائع کیا ہے۔]

جماعت اسلامی پاکستان کی سرگرمیوں کی تفصیلات کو اس کی ویب سائٹ پر دیکھا جاسکتا ہے۔ اکثر ویب سائٹس کی طرح یہ بھی انگریزی میں ہے‘ تاہم اس میں کچھ چیزیں اُردو میں بھی دستیاب ہیں۔ اس سائٹ میں Overview کے تحت ایک عمومی جائزے میں جماعت اسلامی کے اغراض و مقاصد اور طریق کار‘ جماعت کے وِژن اور تبدیلی کے لیے طریق کار سے متعلق تحریریں اور جماعت کا دستور موجود ہے۔ جماعت کے بارے میں بنیادی معلومات بھی دستیاب ہیں۔ آخر میں بانیِ جماعت سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی حیات و خدمات پر ایک تحریر ہے۔ اس سیکشن کے تحت     قومی ‘ ملّی اور بین الاقوامی موضوعات پر جماعت کے نقطۂ نظر پر مبنی تحریریں بھی موجود ہیں۔      پھرJI Media-News کے زیرعنوان دنیا کے مختلف ایشوز پر جماعت کے نقطۂ نظر کی وضاحت مختلف مضامین کی صورت میں ہے‘ جو جماعت کے ذمہ داران اور قیادت کی جانب سے تحریر کیے گئے ہیں۔

اس ویب سائٹ میں سب سے اہم حصہ Q&A‘ یعنی سوالات و جوابات کا ہے۔ بذریعہ ای میل دنیا کے کسی بھی حصے سے جماعت کی قیادت/ ذمہ داران سے جماعت‘ اسلام‘ پاکستان اور عالم اسلام سے متعلقہ کوئی بھی سوال پوچھا جاسکتا ہے جس کا جواب سوال کے ساتھ درج کر دیا جاتا ہے۔ ای-میل ایڈریس:  qa@jamaat.org پر سوالات پوچھے جاسکتے ہیں۔

جماعت اسلامی کی ۵۰ سالہ سرگرمیوں اور خدمات سے متعلق ایک سیکشن میں مختلف تحریریں موجود ہیں جو بنیادی طور پر ترجمان القرآن میں ’اشارات‘ (اداریہ) کے عنوان سے شائع ہوتی رہی ہیں۔ جماعت کے قائدین کا تفصیلی تعارف باتصویر بھی دیا گیا ہے۔ دعوتِ دین کے حوالے سے آٹھ مختلف تحریریں موجود ہیں (بچوں کے لیے اسلام‘ اسلام اور خواتین‘ اسلام اور انسانی حقوق‘ اسلام اور عائلی زندگی‘ اسلامی طرزِ حیات‘ محمدؐ کون ہیں؟ اسلام کے سماجی اصول اور حسن البنا شہیدؒ کے مسلمان طالب علم کوخطوط)۔

’Isharat‘ کے تحت ترجمان القرآن میں ۲۰۰۳ء سے اب تک شائع ہونے والے ’اشارات‘ کا انگریزی ترجمہ موجود ہے‘ نیز انڈیکس بھی ہے جس کے ذریعے مختلف مہینوں کے اشارات دیکھے جاسکتے ہیں۔ مناسب ہوگا کہ اسے ماہنامہ ترجمان القرآن کی ویب سائٹ سے  بھی لِنک کر دیا جائے۔ The Founder سیکشن میں بانیِ جماعت کے بارے میں ایک تفصیلی تحریر دستیاب ہے۔ اس ویب سائٹ میں ایک دل چسپ موضوع Digest کے عنوان سے ہے جس میں بیش تر انگریزی‘ جب کہ کچھ تحریریں اُردو میں بھی ہیں۔

آڈیو سیکشن میں مختلف قائدین کی تقریروں‘ انٹرویو اور مرکز جماعت میں جمعہ کے خطبات کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ صوتی ریکارڈ بذریعہ انٹرنیٹ آپ سماعت فرما سکتے ہیں۔ وڈیو سیکشن میں آخری کُل پاکستان اجتماع عام کی مکمل کوریج موجود ہے۔ Feed Back کے تحت انٹرنیٹ کے استعمال کنندگان سے اگر وہ چاہیں توا پنی راے دینے کے لیے ایک فارم بنایا گیا ہے۔ ایک سیکشن  Useful Linksکا ہے جس میں جماعت کے ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ برادر تنظیمات نیز‘ جسارت‘ نوائے وقت اور جنگ کے Links بھی شامل ہیں اور یہاں سے آپ ان اخبارات کی ویب سائٹس تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ News Update کے نام سے ایک اور سیکشن ہے جہاں سے جماعت سے متعلقہ تازہ ترین خبریں حاصل کرسکتے ہیں۔ تاہم ایک کمی اس سائٹ میں یہ محسوس ہوتی ہے کہ اس میں تازہ ترین تفصیلات دستیاب نہیں ہیں جن سے ہی کوئی دیکھنے والا اس کے ان خزانوں تک راستہ پاسکتا ہے۔(محمد الیاس انصاری)

عقیل امین احمد لون‘ جہلم

محترم شاہنواز فاروقی نے ’اخوان المسلمون کی شان دار کامیابی‘(جنوری ۲۰۰۶ئ) میں جو کچھ لکھا ہے علامہ اقبال بھی بہت عرصہ قبل یہ لکھ چکے ہیں     ؎

رنگ گردُوں کا ذرا دیکھ تو عُنّابی ہے

یہ نکلتے ہوئے سورج کی اُفق تابی ہے

علامہ اقبال نے مجملاً یہ بات کہی تھی لیکن شاہنواز فاروقی نے اس بات کو کھول کر بیان کیا ہے کہ عراق میں امریکا کو ہزیمت سے دوچار کرنے والے کوئی تنخواہ دار بریگیڈیئر‘ کرنل‘ جنرل یا فیلڈمارشل نہیں‘ اور نہ کوئی بکتربند فوج ہے بلکہ صرف اور صرف چند افراد کی قوتِ ایمانی اس کے مدِّمقابل ہے___ اور وہ بھی غیرمنظم۔ اگر اسلام منظم ہوکر مدِّمقابل آجائے تو …


احمد علی محمودی‘ بہاول پور

لبیک اللھم لبیک (جنوری ۲۰۰۶ئ) قلب کی گہرائی سے نکلے ہوئے یہ کلمات بہت پُراثر اور  ضیوف الرحمن کے لیے نادر تحفہ ہیں۔ اس سے بہتر‘ جامع اور مدلل تشریح اس سے قبل نظر سے نہیں گزری۔ اسے باربار پڑھنے کو جی چاہتا ہے۔ اس کا خوب صورت پہلو اس کا دعوتی رنگ ہے۔ تاہم‘ تلبیہ میں ان الحمد والنعمۃ کے بعد لک والملک کو علیحدہ کرکے عنوان بنا دینے کے بجاے متصل ہی دینا مناسب تھا۔


عتیق الرحمٰن صدیقی ‘ہری پور

’قربانی اور فلسفۂ قربانی‘ (جنوری ۲۰۰۶ئ) ایک خوب صورت اور دل کش تحریرہے۔ سید مودودیؒ نے تسلیم و رضا اور فدویت کے فلسفے کو ایسے کیف زا اسلوب میں پیش کیا ہے کہ بار بار مطالعے کو جی چاہتا ہے۔ اسلام کی اصل روح یہی ہے کہ بندئہ مومن اپنی تمام محبتوں کو حق کی محبت پر قربان کرنے کے لیے آمادہ رہے۔ آیت الکرسی کا مطالعہ اچھی کاوش ہے مگر اس کی براہِ راست تشریح و توضیح بھی مقصود تھی جس سے صرفِ نظر کیا گیا ہے۔ کشمیر واقعی خطرناک سیاسی زلزلوں کی زد میں ہے۔ ’پیرانِ پارسا‘ اسے جھٹکوں پہ جھٹکے دیے چلے جارہے ہیں۔ پروفیسرخورشیداحمد کا تجزیہ اور نقد یقینا فکرافروزہے اور چراغِ راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔


ڈاکٹر شفیق الرحمٰن انجم ‘قصور

’امدادی سرگرمیوں کی آڑ میں‘ (جنوری ۲۰۰۶ئ) مرزا محمد الیاس کی مختصر مگر جامع تحریر ہے اور اس میں چونکا دینے والے حقائق کا انکشاف کیا گیا ہے۔ آج اُمتِ محمدیہ کو محوِ خواب دیکھ کر مسیحی مشنریوں اور صہیونی تنظیموں نے امدادی سرگرمیوں کی آڑ میں مجبور اور بے کس لوگوں کو منظم طریقے سے بہلانا پھسلانا شروع کر دیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان تنظیموں پر کڑی نظر رکھی جائے۔ متاثرہ علاقوں میں زخمی اور بے سہارا کم سن بچوں کو گود لینے پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے اداروں اور تنظیموں کو تشکیل دیا جائے جو متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور بحالی کا کام کریں تاکہ اہلِ ایمان اور معصوم بچے مسیحی وصہیونی تنظیموں کے ناپاک مقاصد سے محفوظ رہ سکیں۔


رفیع الدین ہاشمی ‘ لاہور

مولانا امیرالدین مہر کے خط (جنوری ۲۰۰۶ئ) کے حوالے سے خوشی کی بات ہے کہ قارئین‘ ترجمان میں لفظوں اور املا کی چھوٹی بڑی غلطی کو بھی نوٹ کرتے ہیں۔ ذال اور زے کی بحث کے سلسلے میں ایک بنیادی حقیقت پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ جب الفاظ‘ اصل زبان سے کسی دوسری زبان میں جاتے ہیں تو بعض اوقات جوں کے توں برقرار نہیں رہتے بلکہ املا اور تلفظ حتیٰ کہ کبھی کبھی معانی کے اعتبار سے بھی وہ لفظ تبدیل ہوجاتے ہیں۔ عربی‘ فارسی‘ انگریزی اور دیگر زبانوں کے صدہا الفاظ ایسے ہیں جنھوں نے اُردو میں آکر اپنا املا اور تلفظ بدل لیا۔ اور اُردو والوں‘ بشمول ماہرین لغت و املا‘ نے اُنھیں قبول کرلیا۔ اب اُردو میں ان کی یہی تبدیل شدہ صورت ہی صحیح ہے (طوالت کے خوف سے مثالوں سے احتراز کرتا ہوں)۔ اس لیے یہ اصرار بے جا ہے کہ فارسی میں ذال نہیں ہے‘ اس لیے ہم اُردو میں بھی فارسی الاصل لفظوں کو ذال سے نہ لکھیں۔

پھر یہ بھی ایک مفروضہ ہے کہ فارسی میں ذال نہیں ہے۔ متعدد نام ور اورمسلّمہ ماہرین لغت و املا‘ مثلاً ڈاکٹر شوکت سبزواری‘ جناب رشید حسن خاں‘ پروفیسر نذیراحمد‘ سید قدرت نقوی اور بہت پہلے خان آرزو ثابت کرچکے ہیں کہ فارسی میں ذال ہے۔ ایرانیوں کے ہاں‘ خصوصاً لغت نامہ دہخدامیں اس کی مثالیں مل جاتی ہیں۔ قاضی عبدالودود مرحوم اور ڈاکٹر عبدالستار صدیقی بھی ذالِ فارسی کے قائل تھے۔ بھارت میں اُردو کے سب سے بڑے اشاعتی ادارے ترقی اُردو بیورو دہلی کی املاکمیٹی (مشتمل بر: مالک رام‘ پروفیسر نثاراحمد فاروقی‘ ڈاکٹر سیدعابد حسین ‘ پروفیسر مسعودحسین خاں‘ پروفیسر خواجہ احمد فاروقی‘ پروفیسر گیان چندجین‘ پروفیسر گوپی چند نارنگ‘ وغیرہ) کی مطبوعہ سفارشات میں ’دل پذیر‘ ، ’اثر پذیر‘ وغیرہ کو صحیح قرار دیاگیا ہے۔ افسوس کہ یہاں اس سے زیادہ بحث و تفصیل کی گنجایش نہیں۔ مولانا امیرالدین مہر نے آخر میں لکھا ہے کہ’ ’ع س مسلم صاحب کو داد دینا چاہیے کہ انھوں نے ایک صحیح تلفظ اور رسم الخط کو باقی رکھنے کی کوشش کی ہے‘‘۔ عرض ہے کہ ذال اور زے کے استعمال کا مسئلہ املا کا ہے‘ نہ کہ تلفظ یا رسم الخط کا۔


عثمان پیرزادہ ‘ حیدر آباد

آپ کے مضامین ایک کوشش ہیں امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکی۔ دراصل ہماری سیاست اور صحافت کا طریقہ امربالمعروف کے سوا اور کچھ نہیں ہونا چاہیے۔ مگر صورت حال اس کے برعکس ہے۔اس وقت عدل و انصاف کی اتنی شدید ضرورت ہے جیسے زندگی کی بقا کے لیے ہوا اور پانی کی۔ ظالم اور بااثر مجرم لوگ ایسے طاقت ور ہوچکے ہیں کہ ان کا کچھ نہیں بگاڑا جا سکتا۔ پولیس کے مظالم کی داستانیں ہر روز عالم آشکار ہیں۔ انصاف مانگنے سے بھی نہیں ملتا۔ لہٰذا یہ ناگزیر ہے کہ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے فریضے سے غفلت کی طرف بھرپور توجہ دلائی جائے‘ بلکہ ایک بڑی تحریک کی ضرورت ہے کہ منکرات دب جائیں‘ معروف عام ہو اور عدل قائم ہو۔


محمد آصف اسماعیل‘ دوحہ‘قطر

الحمدللہ دسمبر ۲۰۰۵ء کا شمارہ بہت متوازن تھا۔ ’حکمتِ مصائب‘ میں ملک عطا محمد نے بڑے دل نشیں انداز میں قرآن وسنت کی روشنی میں ایک اہم موضوع کی وضاحت کی ہے۔ اگر ’اشارات‘ کو عموماً ۱۰‘۱۲ صفحات دیے جائیں اور باقی صفحات میں دوسرا مواد‘ مثلاًمولانا مودودی کے لٹریچر سے اقتباس‘ فہم قرآن و حدیث‘ نومسلموں کے حالات یا دوسرے معاشرتی یا نفسیاتی مسائل وغیرہ میں رہنمائی‘ حتیٰ کہ اشتہارات کو دیے جائیں‘ تو یہ تبدیلی اشاعت میں اضافے اور مالی معاونت کا باعث ہوسکتی ہے۔


نثار عباس، عرفان احمد بھٹی ‘ بہاول نگر

ہم کچھ دوست ’خیرخواہ‘ اور ’سنابل العلم‘ اور مختصر مضامین فوٹوکاپی کروا کے تقسیم کرتے ہیں‘ جب کہ کچھ کو بذریعہ ڈاک ارسال کرتے ہیں۔ ہمارا مقصد شہادتِ حق کی ذمہ داری کو کسی نہ کسی طرح ادا کرنا ہے اور یہ ایک آسان ذریعہ بھی ہے۔ کوشش یہی ہے کہ اس طرح یہ لوگ اچھے اور سنجیدہ علمی جرائد پڑھنے لگیں اور ان کے معاون بنیں۔  ع  صلاے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لیے !


خالدہ مسلم‘ لاہور

آج کل ایرانی صدر اور نمایندوں کے بیانات پڑھ کر اور سن کر دل میں خیال گزرتا ہے کہ کاش! میں ایرانی قوم کی ایک فرد ہوتی تو سر اُٹھا کر تو چلتی۔ محمود احمدی نژاد آج ملّت کا ترجمان بن کر اُبھرا ہے جو امریکی استعمار کی دھمکیوں اور بلیک میلنگ کے سامنے مردانہ وار کھڑا ہے۔ انڈونیشیا کے کسی دُور دراز جزیرے سے لے کر افریقہ کے کسی کونے میں بسنے والے مسلمان تک‘ سب کی دعائیں اُس کے ساتھ ہیں۔ ایک دفعہ اس حقیقت کو سمجھ لیا جائے کہ یہ چند روزہ زندگی ہی سب کچھ نہیں ہے تو سچ کے لیے کھڑا ہوا جاسکتا ہے۔ ایک پاکستانی کی حیثیت سے تو میرا سر جھکا ہوا ہے۔ کہنے کو تو ہم ایٹمی طاقت ہیں لیکن آج ساری دنیاکے مسلمان گھرانوں میں ہم پر لعنت بھیجی جاتی ہے۔ خیال آتا ہے کہ کیا ہم اتنے بُرے ہیں‘ کیا ہمارے گناہ اتنے بڑھ گئے ہیں کہ ہمیں ذلت کی سزا دینے کے لیے مشرف جیسا شخص ہم پر مسلط کیا گیا ہے!


نعیم شیروانی ، سید عاصم علی ‘کراچی

مطالعہ روح کی غذا ہے‘ اسے محدود نہ کیجیے۔ تحریکی رسائل و جرائد حصول علم کا مفید ذریعہ ہیں۔ ترجمان القرآن‘ جسارت اور فرائیڈے اسپیشل کا پیغام اپنے تک محدود رکھنے کے لیے نہیں ہے۔ پڑھنے کے بعد ردی کی ٹوکری کی نظر نہ کیجیے۔ اللہ نے استطاعت دی ہے تو محلے میں دفتراور کاروبار کے ساتھیوں‘ رشتہ داروں کو دیجیے‘ ان کو باقاعدہ خریدار بنائیے۔ خود بھی اجر سمیٹیں گے‘ آپ کے لیے بھی صدقہ جاریہ بنیں گے۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ وقت اور سرمائے کا اس سے بہتر مصرف اور کوئی نہیں!

کوئلوں پر مُہر

آپ نے لکھا ہے کہ میں جماعت میں شامل ہونے ہی والا تھا کہ یہ دو چیزیں [علم حدیث اور ڈاڑھی سے متعلق] میرے سامنے آگئیں اور انھیں دیکھ کر میں رُک گیا۔ اس رُک جانے کو آپ شاید کوئی تقویٰ کا فعل سمجھتے ہوں گے‘ لیکن آپ ذرا غور کریں تو آپ کو خود معلوم ہوجائے گا کہ فی الواقع آپ نے تقویٰ کا مفہوم غلط سمجھا ہے اور اسی وجہ سے ایک غیرمتقیانہ فعل کو متقیانہ فعل سمجھ کر آپ کرگزرے ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ یہ جماعت اُس دین کی اقامت کے لیے بنی ہے جو ہرمومن کے لیے عین ایمان کا مقتضا ہے۔ آپ خود فرماتے ہیں کہ ’’اس دور میں ایمان کو سلامتی کے ساتھ لے چلنے کے لیے صرف جماعت اسلامی ہی کی راہ اختیار کی جا سکتی ہے‘‘، اور یہ کہ ’’اس نظریے کو قبول کرنا اور اسے پھیلانا ہر مسلمان کا فرض ہے‘‘۔ اب سوال یہ ہے کہ اس تقاضاے ایمان اور اس فرض کی طرف بڑھتے بڑھتے آپ کا صرف اس لیے رُک جانا کہ ایک علمی مسئلے کی تعبیر اور ایک جزوی فقہی مسئلے کی تحقیق میں آپ جماعت کے خادم کی رائے کو غلط پاتے ہیں‘ آخر کس قسم کا تقویٰ ہے؟

فقہی و علمی اختلاف تو خیر بہت چھوٹی چیز ہے کہ اس کے لیے فریقین کے پاس شریعت سے دلائل موجود ہوتے ہیں‘ میں ثابت شدہ سنتوں کے متعلق آپ سے پوچھتا ہوں کہ ان کی خلاف ورزی دیکھ کر بھی اگر آپ فرض سے اجتناب کرجائیں تو کیا یہ پرہیزگاری ہے؟ مثلاً آپ دیکھیں کہ امام نے مسجد میں داخل ہوتے وقت بایاں قدم پہلے رکھا اور یہ دیکھتے ہی آپ جماعت چھوڑ کر مسجد سے پلٹ آئیں‘ یا آپ دیکھیں کہ اسلامی  فوج کے جنرل نے اُلٹے ہاتھ سے پانی پیا یا چھینک آنے پر الحمدللہ نہ کہا اور اس خلاف سنت حرکت سے متنفر ہوکر آپ میدانِ جہاد سے پلٹ آئیں‘ توکیا واقعی اس کو آپ پرہیزگاری سمجھیں گے؟ آپ کو موازنہ کر کے دیکھنا چاہیے کہ اس نے کیا چھوڑا تھا اور آپ نے کیا چھوڑ دیا۔ وہ بڑا غلط کار تھا کہ اس نے ایک پیسہ ضائع کیا‘ مگر آپ نے  تو اس کے جواب میں خزانہ برباد کر دیا‘ پھر بتایئے کہ زیادہ بڑا غلط کار کون ہوا؟ تاہم ‘یہ آپ کا قصور نہیں ہے بلکہ آج کل دین داری کا عام ڈھنگ یہی ہے کہ اشرفیاں لٹیں اور کوئلوں پر مُہر۔ (’رسائل و مسائل‘، سیدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن‘ جلد ۲۸‘ عدد ۳‘ربیع الاول ۱۳۶۵ھ‘ فروری ۱۹۴۶ئ‘ ص ۶۲-۶۳)