۲۰۰۶فروری

فہرست مضامین

۶۰ سال پہلے

| ۲۰۰۶فروری | ۶۰ سال پہلے

Responsive image Responsive image

کوئلوں پر مُہر

آپ نے لکھا ہے کہ میں جماعت میں شامل ہونے ہی والا تھا کہ یہ دو چیزیں [علم حدیث اور ڈاڑھی سے متعلق] میرے سامنے آگئیں اور انھیں دیکھ کر میں رُک گیا۔ اس رُک جانے کو آپ شاید کوئی تقویٰ کا فعل سمجھتے ہوں گے‘ لیکن آپ ذرا غور کریں تو آپ کو خود معلوم ہوجائے گا کہ فی الواقع آپ نے تقویٰ کا مفہوم غلط سمجھا ہے اور اسی وجہ سے ایک غیرمتقیانہ فعل کو متقیانہ فعل سمجھ کر آپ کرگزرے ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ یہ جماعت اُس دین کی اقامت کے لیے بنی ہے جو ہرمومن کے لیے عین ایمان کا مقتضا ہے۔ آپ خود فرماتے ہیں کہ ’’اس دور میں ایمان کو سلامتی کے ساتھ لے چلنے کے لیے صرف جماعت اسلامی ہی کی راہ اختیار کی جا سکتی ہے‘‘، اور یہ کہ ’’اس نظریے کو قبول کرنا اور اسے پھیلانا ہر مسلمان کا فرض ہے‘‘۔ اب سوال یہ ہے کہ اس تقاضاے ایمان اور اس فرض کی طرف بڑھتے بڑھتے آپ کا صرف اس لیے رُک جانا کہ ایک علمی مسئلے کی تعبیر اور ایک جزوی فقہی مسئلے کی تحقیق میں آپ جماعت کے خادم کی رائے کو غلط پاتے ہیں‘ آخر کس قسم کا تقویٰ ہے؟

فقہی و علمی اختلاف تو خیر بہت چھوٹی چیز ہے کہ اس کے لیے فریقین کے پاس شریعت سے دلائل موجود ہوتے ہیں‘ میں ثابت شدہ سنتوں کے متعلق آپ سے پوچھتا ہوں کہ ان کی خلاف ورزی دیکھ کر بھی اگر آپ فرض سے اجتناب کرجائیں تو کیا یہ پرہیزگاری ہے؟ مثلاً آپ دیکھیں کہ امام نے مسجد میں داخل ہوتے وقت بایاں قدم پہلے رکھا اور یہ دیکھتے ہی آپ جماعت چھوڑ کر مسجد سے پلٹ آئیں‘ یا آپ دیکھیں کہ اسلامی  فوج کے جنرل نے اُلٹے ہاتھ سے پانی پیا یا چھینک آنے پر الحمدللہ نہ کہا اور اس خلاف سنت حرکت سے متنفر ہوکر آپ میدانِ جہاد سے پلٹ آئیں‘ توکیا واقعی اس کو آپ پرہیزگاری سمجھیں گے؟ آپ کو موازنہ کر کے دیکھنا چاہیے کہ اس نے کیا چھوڑا تھا اور آپ نے کیا چھوڑ دیا۔ وہ بڑا غلط کار تھا کہ اس نے ایک پیسہ ضائع کیا‘ مگر آپ نے  تو اس کے جواب میں خزانہ برباد کر دیا‘ پھر بتایئے کہ زیادہ بڑا غلط کار کون ہوا؟ تاہم ‘یہ آپ کا قصور نہیں ہے بلکہ آج کل دین داری کا عام ڈھنگ یہی ہے کہ اشرفیاں لٹیں اور کوئلوں پر مُہر۔ (’رسائل و مسائل‘، سیدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن‘ جلد ۲۸‘ عدد ۳‘ربیع الاول ۱۳۶۵ھ‘ فروری ۱۹۴۶ئ‘ ص ۶۲-۶۳)