مضامین کی فہرست


جون۲۰۰۶

فتاویٰ، ڈاکٹر یوسف القرضاوی‘ مترجم: سید زاہد اصغر فلاحی۔ ناشر: دارالنوادر‘ الحمدمارکیٹ‘ غزنی سٹریٹ‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۶۳۶۔ قیمت: ۳۵۰ روپے۔

علامہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی عالم اسلام کی ایک معروف علمی شخصیت ہیں۔ قرآن‘ حدیث اور فقہ اسلامی پر ان کی گہری نظر ہے۔ دورجدید کے حالات‘ مسائل اور پیچیدگیوں سے وہ بخوبی واقف اور اسلام کی روشنی میں ان کا معقول حل پیش کرنے کی غیرمعمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ  کسی فقہی مکتب فکر کے پابند نہیں بلکہ پورے فقہی ذخیرے سے استفادہ کرتے ہیں جس راے کو   قرآن و سنت سے ہم آہنگ پاتے ہیں‘ برملا اسے ترجیح دیتے ہیں۔ اہل سنت کے معروف فقہی استدلال کے اصولوں کو تسلیم کرتے ہیں اور انھی کی روشنی میں جہاں ضرورت سمجھتے ہیں‘ خود بھی اجتہادی راے قائم کرتے ہیں۔

زیرنظر کتاب موصوف کے ان فتاویٰ پر مشتمل ہے جو انھوں نے قطر ٹی وی پر ایک پروگرام بعنوان: ’ہدی الاسلام‘ میں سائلین کے جواب میں پیش کیے تھے۔ اس میں عقائد و نظریات‘  حکومت و سیاست‘ اقتصاد و معیشت‘ تمدن و معاشرت‘ تعلیم و تربیت‘ طب و سائنس‘ غرض کہ انسانی زندگی کے تقریباً ہر پہلو پر اسلام کی روشنی میں رہنمائی فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے۔ اس کتاب کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ یہ زندہ اور روزمرہ درپیش مسائل کا احاطہ کرتی ہے۔ اس میں موجود  بیش تر فتاویٰ کا تعلق ان موضوعات سے ہے جو عصرحاضر میں دینی و علمی حلقوں میں بالعموم زیربحث رہتے ہیں‘ مثلاً: اسلام کا سیاسی نظام‘ اسلامی ریاست میں سیاسی پارٹیوں کا وجود‘ بنک کا سود‘ بنک کی نوکری‘ کرنسی کی خریدوفروخت‘ اسلام اور جدیدسائنسی تحقیقات‘ رحم مادر کا کرایہ‘ انسانی اعضا کی پیوندکاری‘ عورت کا بغیر محرم سفرحج‘ غیرمسلم خاتون سے شادی‘ عورت اور ملازمت‘ عورت اور سیاست‘ فقہی مسالک میں اتحاد کی ضرورت‘ فقہی مسائل میں تجدید کی ضرورت‘ رویت ہلال اور جدید آلات‘ طیاروں اور مسافروں کا اغوا وغیرہ۔

موصوف نے فتاوٰی میں جوابات کا تفصیلی طریقہ کار اختیار کیا ہے۔ اختلافی مسائل میں تمام معروف نقطہ ہاے نظر مع دلائل بیان کرتے ہیں اور آخر میں اپنی راے کا اظہار کرتے ہیں۔ مصالح عامہ اور رخصت کے فقہی اصول بھی مدنظر رکھتے ہیں۔ سب سے اہم یہ کہ بیش تر مقامات پر شرعی احکام کی حکمت و معنویت دل نشیں پیراے میں بیان کرتے ہیں۔ اس خوبی کا کریڈٹ کتاب کے فاضل مترجم کو بھی جاتا ہے جنھوں نے مصنف کے استدلال کو بخوبی سمجھا اور شُستہ انداز میں ترجمے کا حق ادا کیا ہے۔

یہ کتاب اگرچہ عالم اسلام کی ایک بڑی دینی شخصیت کے رشحات فکر پر مبنی ہے‘ تاہم اس میں شامل ان کے بعض فتاویٰ سے دلائل کی بنیاد پر یقینا اختلاف کیا جاسکتا ہے (مثلاً: اباحت موسیقی‘ عورتوں سے مصافحہ وغیرہ)۔ لیکن اس اختلاف کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ اتنی قیمتی کتاب نظرانداز کردی جائے۔ میری راے میں فقہ اسلامی کے ہر مبتدی و منتہی کو اس کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے‘ بالخصوص اصحاب افتا کو اس سے مستغنی نہیں رہنا چاہیے۔ (حافظ مبشر حسین)


زبورخیال ، ابوالامتیاز ع س مسلم۔ ناشر: القمر انٹرپرائزز، اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۲۱۲۔ قیمت: ۲۲۵ روپے۔

کتاب کی نوعیت کا اندازہ‘ ایک تو سرورق کی توضیح: ’تنقید، مقالات، مباحث‘ اور دوسرے‘ فہرست عنوانات سے ہوجاتا ہے۔ یہ مجموعہ مصنف کی مختلف النوع تحقیقی و علمی، تنقیدی، علمی و ادبی، واقعاتی و مشاہداتی اور صحافتی و تجزیاتی تحریروں پر مشتمل ہے۔ موضوعاتی تنوع کے باوجود سبھی تحریریں وقیع اور قابلِ قدر ہیں۔

حضرت آدم ؑ کے جسدِ مبارک اور حضرت حوا ؑکے قدوقامت اور سری لنکا میں قدم گاہِ آدم جیسے موضوعات پر مصنف نے اچھی خاصی تحقیق کی ہے‘ نتیجہ: حضرت آدمؑ اور ان کی اولاد کئی پشتوں تک نہایت طویل القامت تھی اور کوہِ آدم (Adam's Peak) پر آپ ہی کا نقشِ قدم ہے۔  اسی طرح مرقد حوا کے بارے میں اچھی خاصی تفصیل مہیا کرنے کے بعد بتایا ہے کہ ۱۹۲۵ء میں  جدہ پرقبضے کے بعد‘ مرقدِ حوا کو ملک عبدالعزیز کے حکم سے مسمار کردیا گیا۔ دو تین مضامین   (’اسلامی قومیت اور اس کے عملی مضمرات‘، ’قیامِ پاکستان کے مخالف علما کا جائزہ‘ اور ’آشوبِ ملّت‘ کے زیرعنوان دو تحریریں بھی )اُسی دردمندی اور اضطراب کے آئینہ دار ہیں جو اُمت مسلمہ کی  زبوں حالی‘ پس ماندگی ‘ انتشار‘ غلامانہ ذہنیت کو دیکھ دیکھ کر مصنف کو پریشان کیے دیتا ہے۔ بعض تحریروں کو بیرونِ ملک قیام کی یادداشتیں اور سفر کے مشاہدات کہہ سکتے ہیں۔ پھر دنیاے شعروادب کا ذکر اذکار‘ ادیبوں اور شاعروں کی بے اعتدالیاں‘ بعض شعرا کی سوداگرانہ ذہنیت (’بھائی مسلم،  ہم یہاں دبئی میں کچھ کمانے کے لیے آئے ہیں‘ ص ۱۷۰) یا ایسے پیشہ ور نعت خوانوں کا ذکر جو  معاوضے کے لیے ہی نعت خوانی کرتے ہیں (ص ۱۶۳) وغیرہ۔ اس سے ادیبوں اور شاعروں کی کوئی قابلِ رشک تصویر سامنے نہیں آتی۔ دو تحریریں زبان و بیان کے نکات پر اور ایک خالد اسحاق کی یاد میں___

زبورخیال کے مضامین زندگی کے تنوع اور کثیرالجہتی کے آئینہ دار ہیں۔ لیکن دو باتیں بڑی واضح ہیں‘ اوّل: ہر تحریر پوری توجہ بلکہ ارتکاز اور انہماک کے ساتھ لکھی گئی ہے‘ لکھنے والا اپنی سوچ اور اپنے موقف کے بارے میں یکسو ہے‘ اور اس نے اپنا موقف بڑے عمدہ استدلال اور تاریخی حوالوں کے ساتھ پیش کیا ہے۔ دوم: یہ ساری تحریریں ایک ایسے قلب مضطر کے قلم سے نکلی ہیں جو اُمت کی محبت سے لبریز ہے (انتساب کی عبارت: ’ملّتِ مظلومہ محکومہ پاکستانیہ کے نام، اس دعا کے ساتھ کہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ جس نے یہ نعمت عظمیٰ ہمیں بخشی، اسے سلامتیِ دین کے ساتھ قائم رکھے‘)۔ ابتدا میں گوانتاناموبے کے اسیر مجاہدوں کے لیے ایک خوب صورت نظم بھی شامل اشاعت ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)


تقلید (تجزیاتی مطالعہ) سرفراز حسین صدیقی۔ ناشر: رائل بک کمپنی‘ BG-5 ‘ ریکس سینٹر‘ فاطمہ جناح روڈ‘ جی پی او بکس نمبر ۷۷۳۷‘ کراچی۔ صفحات: ۳۱۶۔ قیمت: درج نہیں۔

تقلید کے بارے میں تین مختلف قسم کی آرا اور ان پر مبنی رویے اُمت میں پائے جاتے ہیں۔ ایک رویہ ائمہ مذاہب کی اطاعت کو مقصود بالذات قرار دیتا ہے۔ دوسرا‘ ہر شخص کے براہ راست قرآن و سنت کی پیروی کرنے کا ہے۔ تیسرا یہ ہے کہ جن مسائل میں ائمہ کے اجتہادات قرآن و سنت کے احکام کے خلاف محسوس نہ ہوتے ہوں ان میں تقلید جائز اور عوام کے لیے ضروری ہوگی۔

مصنف نے تیسرے رویے کو دلائل کے ساتھ شرح و بسط سے بیان کیا ہے۔ اہل علم کے نزدیک کوئی بھی امام مستقل مطاع نہیں ہے۔ ہر ایک کے نزدیک دو اطاعتیں مستقل ہیں اور فقہا کی اطاعت کتاب و سنت کی موافقت کے ساتھ مشروط ہے۔ اسی لیے ہر فقہ میں ہر امام‘ چاہے اس کا تعلق ائمہ اربعہ سے ہو یا اصحاب ظواہر اور اہلِ حدیث سے‘ ہر ایک اپنے قول کے لیے کتاب و سنت سے دلیل پیش کرتا ہے اور ہر ایک کے نزدیک یہ اختلاف فروعی ہے اور اپنی تحقیق کے راجح ہونے اور دوسرے کی تحقیق کے باطل ہونے کی نہیں بلکہ مرجوح ہونے کا قائل ہے۔

مصنف نے تقلیدِ شخصی میں جن کمزوریوں کی نشان دہی کی ہے وہ تقلیدِشخصی کی کمزوریاں نہیں بلکہ عوام کی کم علمی ہے۔ اہلِ علم میں تقلیدِشخصی کا وہی مقام ہے جو جناب سرفراز حسین صدیقی صاحب اُسے دینا چاہتے ہیں۔ ان کی یہ تجویز مناسب ہے کہ ہرمکتبِ فکرکے محقق‘ علماے کرام کو  مل بیٹھ کر مختلف پیش آمدہ مسائل کے حوالے سے مشترک نقطۂ نظر پیش کرنے کی کوشش کرنا چاہیے تاکہ عوام کے لیے قرآن و سنت پر عمل میں آسانی پیدا ہو اور ایک مسئلے میں مختلف آرا کی وجہ سے وہ پریشانی کا شکار نہ ہوں۔

اسی طرح ان کی یہ راے بجا ہے اور علما میں مسلّم ہے کہ تحقیق کی بنیاد پر کسی مسئلے میں ایک فقہی مذہب سے دوسرے فقہی مذہب کی طرف انتقال کے لیے کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہیے بشرطیکہ یہ انتقال خواہش نفس کی بنیاد پر نہ ہو۔

یہ ایک دردمند مسلمان کی پکار ہے جو اُمت مسلمہ کو اتحادو اتفاق اور اجتہاد کے اسلحے سے لیس دیکھنے کا متمنی ہے چونکہ یہی ہمارے عروج کا راستہ ہے۔ دیدہ زیب ٹائٹل اور عمدہ پیش کش ہے۔ یہ کتاب دین دار جدید تعلیم یافتہ طبقے کے جذبات و احساسات اور سوچ کی نمایندگی کرتی ہے۔ (خالد محمود)


Promise and Fulfilment : Documented History of All India Muslim League، محمد سلیم احمد۔ پبلشر: شعبہ تاریخ و مطالعہ پاکستان‘ اسلامیہ یونی ورسٹی بہاول پور۔ صفحات: ۴۳۸۔ قیمت: ۵۵۰ روپے۔

مسلم لیگ کا نام ایک ایسی سیاسی تحریک کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے انگریزوں کے دورِحکومت میں جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کو منظم کیا اور اس برعظیم پاک و ہند کے چند علاقوں میں مسلم اکثریتی حکومت کا تصور کیا‘ جس کے وہ ۶۰۰ برس یکہ و تنہا حکمران رہے تھے۔

مسلم لیگ نے کس طرح آزادیِ وطن کامعرکہ سر کرلیا‘اِس کے مختلف جوابات ہوسکتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر محمدسلیم احمد‘ دو درجن سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں اور اسلامیہ یونی ورسٹی بہاول پور میں صدرشعبۂ تاریخ و مطالعہ پاکستان رہے ہیں۔ اِس کتاب میں تاریخی حوالوں کی مدد سے اُس دور کو کھنگالنے کی کوشش کی گئی ہے کہ جب مسلم لیگ قائم ہوئی ‘ مختلف صدور کی قیادت میں اُسے کام کرنے کاموقع کیسے ملااور طبقۂ خواص کی نمایندہ جماعت کس طرح مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن بن گئی۔ یہ کتاب مسلم لیگ کے قیام کے ۱۰۰ برس پورے ہونے کے موقع پر شائع ہوئی ہے۔

اس کتاب کے ۱۳ باب ہیں‘ اس کے پیش لفظ میںوہ تحریر کرتے ہیں کہ یہ آل انڈیا مسلم لیگ کی خدمات کا ایک نئے پہلو سے جائزہ ہے‘ اُن کے خیال میں اس کتاب کا نمایاں وصف اس کے تاریخی حوالے ہیں جو عموماً سرکاری دستاویزات اورمستند کتابوں سے حاصل کیے گئے ہیں۔ کتاب کے تعارف میں پروفیسر موصوف اعلان کرتے ہیں کہ مسلم لیگ مذہبی جماعت نہیں تھی‘ سیاسی جماعت تھی جس کا نقطہ نظر عموماً سیکولر رہا۔

مصنف نے بطور تنظیم مسلم لیگ کی خدمات کا جائزہ لیا ہے کہ اس نے کس طرح حقیقی مسائل کی نشان دہی کی اور کس طرح بروقت فیصلے کیے۔ ۱۹۲۰ء میں قائداعظم کی شمولیت کے بعد مسلم لیگ کو نئی زندگی ملی اور قائداعظم نے نظم و ضبط اور قواعد و قانون کی بالادستی پر خصوصی زور دیا۔محمدعلی جناح جیسی شخصیات ہی تاریخ کا رُخ بدلتی ہیں۔ مصنف کا اصرار ہے کہ پاکستان کا قیام مسلمانوں کی اپنی قوتِ بازو کی بدولت تھا‘ وہ لوگ غلطی پر ہیں جو اصرار کرتے ہیں کہ غیرملکی قوتیں اس میں شریک و دخیل ہیں‘ کتاب کے اختتام پر تفصیلی نوٹ بھی دیئے گئے ہیں۔

پروفیسر موصوف نے تاریخی حوالوں سے ایک اہم تحریر کا جس طرح جائزہ لیا ہے وہ قابلِ تحسین ہے‘ اُمید ہے سیاسی تحریکات اور اُن کے اثرات کو سمجھنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ یہ بھی ایک مستقل موضوع ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد مسلم لیگ مفاد پرست طبقات کے ہاتھ کس طرح چڑھی اور ہر سیاسی و فوجی حکومت نے اسے اپنی سواری کے طور پر کیسے استعمال کیا۔ اُمید ہے اس پر بھی کام کیا جائے گا۔ محققین‘ تاریخ کے طلبہ اورسیاسی تحریکات سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ غیرمعمولی کتاب ثابت ہوگی۔ (محمدایوب منیر)


پاکستان کی مزدور تحریک ایک نظریاتی مطالعہ، پروفیسر شفیع ملک۔ ناشر: پاکستانی ورکرز ٹریننگ اینڈ ایجوکیشن ٹرسٹ‘ ایس ٹی ۳/۲‘ بلاک ۵‘ گلشن اقبال‘ کراچی۔ صفحات: ۱۱۷۔ قیمت: ۱۰۰ روپے۔

مزدور تحریک کے ساتھ سوشلزم کا تصور وابستہ رہا ہے لیکن پاکستان میں اسلامی نظریہ حیات کے علم برداروں نے اس میدان میںبھی مزدوروں کی رہنمائی کی‘ اور نیشنل لیبر فیڈریشن کے قیام کے ذریعے اسلامی مزدور تحریک پروان چڑھی۔ پروفیسر شفیع ملک اس سے روزِ اوّل سے وابستہ رہے ہیں اور مزدور تحریک پر ان کی گہری نظر ہے۔ یہ کتاب سب سے پہلے ۱۹۶۳ء میںشائع ہوئی۔ اب یہ اس کا نظرثانی شدہ اڈیشن ہے جس میں پاکستان میں مزدور تحریک کی تاریخ‘ بین الاقوامی پس منظر‘ سوشلسٹ اور اسلامی مزدور تحریک سب کا اختصار اور جامعیت سے جائزہ لیا گیا ہے۔ کتاب کے پہلے اڈیشن کا مقدمہ پروفیسر خورشید احمد نے لکھا تھا جو شاملِ اشاعت ہے۔ (مسلم سجاد)


تعارفِ کتب

  • القرآن الکریم ،ناشر: مکتبہ قدوسیہ‘ رحمن مارکیٹ‘ غزنی سٹریٹ‘ اُردو بازار لاہور۔ صفحات: ۱۲۹۶۔ ہدیہ: ۴۰۰ روپے۔[عربی متن کے بعد دوسری سطر میں الفاظ الگ الگ کر کے تیسری سطر میں شاہ رفیع الدینؒ کا لفظی ترجمہ دو رنگوں میں دیا گیا ہے اور چوتھی سطر میں مولانا محمد جوناگڑھی ؒ کا بامحاورہ ترجمہ دیا گیا ہے۔ لفظی اور بامحاورہ ترجمے کے تقابلی مطالعے کے لیے مفید‘ خوب صورت پیش کش۔]

خولہ عبدالفتاح ‘ کوہاٹ

’تہذیبوں کا تصادم، حقیقت یا واہمہ؟‘ (مئی ۲۰۰۶ئ) وقت کے اہم ترین موضوع پر قلم اٹھایا گیا ہے۔ ’ترجیح آخرت‘ میں مولانا مودودیؒ کے قلم سے فکرِ آخرت کی تربیت کے لیے فکری و عملی رہنمائی میسر آئی۔ ’قومی ذرائع ابلاغ پر ایک نظر‘ (مئی ۲۰۰۶ئ) میں پیش کیا گیا تجزیہ اور لائحہ عمل عملی اقدامات کی متقاضی ہے۔ حکومت اور ارکان اسمبلی کو اپنی ذمہ داری محسوس کرنا چاہیے۔آغا خان بورڈ پر کچھ عرصہ قبل ایک اچھی تحریر شائع ہوئی تھی۔ بورڈ کی سرگرمیاں جاری ہیں‘ اس حوالے سے باخبر رکھنے کی ضرورت ہے۔


حمید اللّٰہ خٹک‘ لاہور

’قومی ذرائع ابلاغ پر ایک نظر‘ (مئی ۲۰۰۶ئ) عنوان دیکھ کر خیال آیا کہ مقالہ نگار نے نظریاتی نقطۂ نظر سے جائزہ لیا ہوگا۔ لیکن اس میں صرف حکومت اور ذرائع ابلاغ کی کش مکش کی تاریخ بیان کی گئی۔ یہ بتانے کی ضرورت تھی کہ ذرائع ابلاغ کے ذمہ داران ایک مسلمان ملک کے ذمہ دار شہری ہیں۔ پاکستان کا دستور بھی ان سے کچھ تقاضے کرتا ہے۔ مسلم معاشرہ بھی کچھ توقعات قائم کرتا ہے۔ اس حوالے سے ذرائع ابلاغ کا کیا کردار رہا ہے‘ یہ جائزے میں آنا چاہیے تھا۔ بعض اوقات یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس حوالے سے توجہ دلانا چند فرض شناس شہریوں کا فریضہ ہے جو اخباری مراسلات لکھتے رہیں کہ کیا کیا قابلِ اعتراض لوازمہ دکھایا اور پڑھایا جا رہا ہے‘ لیکن ذمہ داروں کو جیسے مادرپدر آزادی حاصل ہے کہ دینی اور معاشرتی اقدار کے خلاف جو چاہیں دکھائیں اور چھاپیں۔ کیا ان کے ضمیر نہیں!


احمد علی محمودی‘ حاصل پور۔  اللّٰہ دتہ جمیل‘ جھنگ

’تہران کی القدس کانفرنس‘ (مئی ۲۰۰۶ئ) محترم عبدالغفار عزیز کا اپنی نوعیت کا منفرد مضمون ہے۔ ایران اپنے مبنی برعدل موقف پر جس جرأت و استقامت سے عالمی قوت کے سامنے ڈٹا ہواہے‘ دُنیا بھر کے مسلمانوں کی نگاہیں ایران پر جمی ہوئی ہیں۔ ایسے میں مذکورہ مضمون سے جہاں مفید معلومات سامنے آئیں وہاں براہِ راست ایرانی قوم کے جذبے‘ عزم اور حوصلے کی تصویر دیکھنے کوملی۔ غیرملکی ذرائع ابلاغ پر انحصار اور براہِ راست مشاہدے کا فرق بھی صاف محسوس ہوا۔ کاش! مسلمان اپنی عالمی نیوز ایجنسی تشکیل دے سکیں۔

کانفرنس کی انفرادیت‘ عالمی اسلامی تحریک کے قائدین بالخصوص فلسطین کی پوری قیادت کی شرکت تھی۔ اُم نضال کی ایمان پرور گفتگو‘ حماس کی قیادت کو درپیش عملی مشکلات اور ان کے حل کے لیے جدوجہد اور اپنے اصولوں پر کسی قیمت پرسمجھوتہ نہ کرنے کا عزم‘ اُمت کی طرف سے دل کھول کر مالی امداد کا منظر___ ایک زندہ اُمت اور مسلمانوں کے فقید المثال جذبۂ اخوت ومحبت کی یاد تازہ ہوگئی۔ ایرانی قوم کا یہ عزم یقینا ایک حقیقت ثابت ہوگا کہ ایران پر حملہ پوری اُمت مسلمہ پر حملے کے مترادف ہوگا اور پوری دنیاسے اس کا جواب دیا جائے گا!


اے مراد لعل‘ چترال

تہران کی القدس کانفرنس (مئی ۲۰۰۶ئ) میں سرکاری سطح پر کوئی نمایندگی نہ ہونا افسوس ناک ہے۔ یقینا اسے عالمِ اسلام‘ فلسطینی اتھارٹی اور ایرانی بھائیوں نے محسوس کیا ہوگا‘ اور ان ممالک میں پاکستان کے اس اقدام سے عام طور پر مایوسی ہوئی ہوگی۔ آخر یہ لوگ کب اپنا قبلہ درست کریں گے!


غلام مصطفٰی ‘ قصور۔ خالد فاروق‘ سوات۔ بشیرانور‘ رحیم یارخان۔ عبدالطیف ‘ کرک

ترجمان القرآن کی توسیع اشاعت کا تقاضا ہے کہ اس میں عام فہم اور مختصر مضامین شائع ہوں‘  زبان سہل ہو‘ اور اگر مشکل الفاظ استعمال کیے جائیں تو مفہوم بریکٹ میں دیا جائے۔ مولانا مودودیؒ کے دور ادارت میں اس کا خصوصی اہتمام کیا جاتا تھا۔ انھوں نے جو لٹریچر بھی پیش کیا اس کے بڑے پیمانے پر عام ہونے کی بنیادی وجہ بھی عام فہم اور سادہ زبان ہے۔ ادارے کی جانب سے ترجمان کی توسیع اشاعت کی اپیل بھی کی جاتی ہے لیکن یہ مسائل اس کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ مئی کے شمارے میں ’تہذیبوں کا تصادم ___ حقیقت یا واہمہ‘  ایک فلسفیانہ اور پیچیدہ موضوع ہے‘ جب کہ اپریل میں ’التوحید: عالمی تناظر میں‘ خشک‘ مشکل تراکیب اور عبارت پر مبنی تحریر ہے جس کو سمجھنے میں خاصی دقت پیش آتی ہے۔ براہ کرم اس پہلو پر خصوصی توجہ دیں۔


منظوراحمد‘ چکوال

وفاقی حکومت جو نئی تعلیمی پالیسی جون ۲۰۰۶ء میں لارہی ہے اس کا ایک امتیازی پہلو یہ ہے کہ ۴۶اختیاری مضامین کی تعداد گھٹاکر صرف ۲۷ مضامین قابلِ مطالعہ قرار دیے جا رہے ہیں۔ ۱۹مضامین جنھیں  زمرۂ تدریس سے نکالا جا رہا ہے‘ اُن میں سے ایک فارسی ہے۔ اسے نصابِ تدریس سے خارج کرنا کسی طرح قرین مصلحت و انصاف نہیں کیوں کہ: (ا) فارسی اُردوکا منبع اور سرچشمہ ہے۔ فارسی زبان کے ۶۰ سے ۷۰ فی صد تک الفاظ اُردو میں مستعمل ہیں۔ فارسی جانے سیکھے بغیر اُردو کا حق ادا نہیں کیا جاسکتا۔ (ب)علامہ اقبال کی شاعری کا بیش تر حصہ فارسی اشعار پر مشتمل ہے۔ فارسی سے نابلد رہ کر فکرِاقبال کی حقیقی روح سے آگاہی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ (ج) برعظیم پاک و ہند کے اسلامی عہد کا تمام علمی‘ تہذیبی و تاریخی ورثہ فارسی میں محفوظ ہے اور اس دور سے متعلق ہزاروں مخطوطات پاکستان‘ ہندستان اور یورپ کے بڑے بڑے کتب خانوں میں محفوظ ہیں۔ حیرت ہے کہ اسرائیل میں عبرانی زبان کو جو صدیوں سے مُردہ ہوچکی تھی‘ دوبارہ زندہ اور رائج کیا جا رہا ہے‘ جب کہ ہمارے ہاں نظام تعلیم میں نت نئے تجربات کرنے والے ارباب اختیار کا ہمارے علمی و ادبی‘ ثقافتی ورثے اور قومی زبان کی جڑ کاٹنے کا رویہ سمجھ سے بالاترہے۔

تفہیم القرآن سے…

اگر کبھی ہم انسان کو اپنی رحمت سے نوازنے کے بعد پھر اس سے محروم کردیتے ہیں تو وہ مایوس ہوتا ہے اور ناشکری کرنے لگتا ہے‘ اور اگر مصیبت کے بعدہم اسے نعمت کا مزا چکھاتے ہیں تو کہتا ہے کہ میرے تو سارے دَلِدَّر پار ہوگئے‘ پھر وہ پھولا نہیں سماتا اور اکڑنے لگتا ہے۔ [ھود ۱۱:۹-۱۰]

یہ انسان کے چھچھورے پن‘ سطح بینی اور قلت تدبر کا حال ہے جس کا مشاہدہ ہروقت زندگی میں ہوتا رہتا ہے اور جس کو عام طور پر لوگ اپنے نفس کا حساب لے کر خود اپنے اندر بھی محسوس کرسکتے ہیں۔ آج خوش حال اور زور آور ہیں تو اکڑ رہے ہیں‘ فخر کر رہے ہیں‘ ساون کے اندھے کی طرح ہر طرف ہرا ہی ہرا نظر آرہا ہے اور خیال تک نہیں آتا کہ کبھی اس بہار پر خزاں بھی آسکتی ہے۔ کل کسی مصیبت کے پھیر میں آگئے تو بلبلا اُٹھے‘ حسرت و یاس کی تصویر بن کر رہ گئے‘ اور بہت تلملائے تو خدا کو گالیاں دے کر اور اس کی خدائی پر طعن کر کے غم غلط کرنے لگے۔ پھر جب بُرا وقت گزر گیا اور بھلے دن آئے تو وہی اکڑ‘ وہی ڈینگیں اور نعمت کے نشے میں وہی سرمستیاں پھر شروع ہوگئیں۔

انسان کی اس ذلیل صفت کا یہاں کیوں ذکر ہو رہا ہے؟ اس کی غرض ایک نہایت لطیف انداز میں لوگوں کو اس بات پر متنبہ کرتا ہے کہ آج اطمینان کے ماحول میں جب ہمارا پیغمبر تمھیں خبردار کرتا ہے کہ خدا کی نافرمانیاں کرتے رہو گے تو تم پر عذاب آئے گا ‘اورتم اس کی یہ بات سن کر ایک زور کا ٹھٹھا مارتے ہو اور کہتے ہو کہ ’’دیوانے دیکھتا نہیں کہ ہم پر نعمتوں کی بارش ہو رہی ہے‘ ہر طرف ہماری بڑائی کے پھریرے اُڑ رہے ہیں‘ اس وقت تجھے دن دھاڑے یہ ڈرائونا خواب کیسے نظرآگیا کہ کوئی عذاب ہم پر ٹوٹ پڑنے والا ہے‘‘، تو دراصل پیغمبر کی نصیحت کے جواب میں تمھارا یہ ٹھٹھا اسی ذلیل صفت کا ایک ذلیل تر مظاہرہ ہے‘ خدا تو تمھاری گمراہیوں اور بدکاریوں کے باوجود محض اپنے رحم و کرم سے تمھاری سزا میں تاخیر کررہا ہے تاکہ تم کسی طرح سنبھل جائو‘ مگر تم اس مہلت کے زمانے میں یہ سوچ رہے ہو کہ ہماری خوش حالی کیسی پایدار بنیادوں پر قائم ہے اور ہمارا یہ چمن کیسا سدابہار ہے کہ اس پر خزاں آنے کا کوئی خطرہ ہی نہیں۔ (تفہیم القرآن‘ سورۂ ہود‘ ترجمان القرآن‘ جلد ۲۹‘ عدد ۱‘ رجب ۱۳۶۵ھ‘ جون ۱۹۴۶ئ‘ ص ۱۸-۱۹)