مولانا اسلم صدیقی کا نام دینی اور تحریکی حلقوں میں محتاجِ تعارف نہیں۔ جامعہ پنجاب کے شعبۂ مساجد کے صدر اور خطیب کی حیثیت سے آپ نے سرگرم زندگی گزاری ہے۔ آپ کے خطبات سننے والوں کے ذہن و قلب‘ دین اسلام کی تعلیمات کی پیروی کے لیے راغب ہوتے ہیں۔ گذشتہ چند برسوں میں انھوں نے قرآن کا سلسلے وار درس شروع کیا جو کیسٹ پر محفوظ کیا گیا اور اب ان دُروس کو لکھ کر کتابی شکل میں پیش کیا جا رہا ہے۔ سورۂ اعراف تک کے درس درج بالا آٹھ کتابوں کی شکل میں شائع ہوچکے ہیں (دروس قرآن‘ سورۃ الفاتحہ اور سورۃ البقرہ ‘جلد اوّل پر ترجمان القرآن میں تبصرہ اکتوبر ۲۰۰۵ء میں شائع ہوچکا ہے)۔
مولانا اسلم صدیقی بنیادی طور پر خطیب ہیں اور بہت اچھے خطیب۔ ان کی تقاریر سن کر حاضرین ولولے اور جوش سے بھر جاتے ہیں لیکن وہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ وہ تصنیف کے مرد میدان نہیں۔ ان کے جو دروس نقل کیے گئے اور ایک نظر ڈال کر شائع کر دیے گئے‘ اس کام میں انھیں بعض احباب کا تعاون حاصل رہا ہے۔ مرتب کرتے ہوئے اسٹائل تبدیل نہیں کیا گیا۔ اس لیے خطیبانہ رنگ برقرار ہے اور پڑھنے والے پر اثر ڈالتا ہے۔ وہ تفسیری مباحث میں نہیں گئے اور نہ اختلافی مسائل میں الجھے ہیں بلکہ قرآن کے پیغام کو پُرزور استدلال سے پیش کردیا ہے۔ قرآن کا پیغام‘ جو اللہ کی بندگی اور اس کی کامل اطاعت کا پیغام ہے‘ عصرِحاضر کے پس منظر میں کھل کر سامنے آتاہے اور قاری کو عمل پر اُبھارتا ہے۔ یہ سلسلۂ دروس مکمل ہوگا تو تفسیری لٹریچر میں اپنی نوعیت کا ایک اضافہ ہوگا۔ مثبت طرز اختیار کیا گیا ہے۔ قرآن کے لانے والے نے قرآن کو جس طرح پیش کیا ہے اسے سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے‘ چنانچہ سیرت کے حوالے جابجا نظر آتے ہیں۔
آج کل دینی کتب بھی بہت اہتمام سے اور خوب صورت شائع کی جارہی ہیں۔ دل چاہتا ہے کہ یہ کتب بھی اس معیار پر طبع ہوں کہ دیکھ کر دل خریدنے اور پڑھنے کو چاہے۔ اس کی بھی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ کوئی ماہر مدیر خطیبانہ رنگ برقرار رکھتے ہوئے اس کی تدوین نو کرے تو اس کے فائدے اور تاثیر میں اضافہ ہو۔(مسلم سجاد)
مصنف علمی حلقوں میں ایک معروف شخصیت ہیں۔ زیرنظر کتاب کی وجۂ تالیف یہ جذبہ ہے کہ سیرت و کردار کی تعمیر اور عہدحاضر کے مسائل کے لیے حقیقی رہنمائی قرآن ہی سے میسرآسکتی ہے۔ فی الواقع قرآن ہردور کے لیے رہنما ہے۔ مصنف نے عقائد‘ عبادات‘ معاملات‘ اخلاقیات‘ معاشرت اور دیگر موضوعات پر قرآن و سنت کی روشنی میں جدید اسلوب میں رہنمائی فراہم کی ہے اور عہدِ جدید پر انطباق کیا گیا ہے۔
عہدحاضر کے حوالے سے جہاد کا تصور‘ جنگ و امن کے قرآنی اصول‘ اسلام کا نظریۂ مال و دولت‘ قرآن اور بین الاقوامی معاملات‘ ناین الیون کا واقعہ اور یہودیت و عیسائیت اور قرآن اور میڈیا کو بھی موضوع بنایا گیا ہے۔ خواتین کے حقوق اور دیگر مسائل بھی زیربحث آئے ہیں۔
ہر موضوع پر سیرحاصل بحث کی گئی ہے۔ قرآنی آیات کے ساتھ ساتھ حسبِ ضرورت احادیث‘ صحابہ کرامؓ کے واقعات‘ جدید دور کی امثال اور اشعار بھی پیش کیے گئے ہیں۔ زبان شُستہ‘ رواں اور اسلوب عام فہم ہے۔ مصنف نے فکری و عملی زندگی قرآنی اصولوں پر استوار کرنے کی دعوت دی ہے اور قرآن کو حقیقی معنوں میں رہنما بنانے پر زور دیا ہے۔ بنیادی طور پر کتاب خطبات (لیکچرز) کا مجموعہ ہے جسے نظرثانی اور اضافوں کے ساتھ پیش کیا گیاہے۔ (سعید اکرم)
رجوع الی القرآن کے رجحان میں اضافے کا ایک مظہر یہ بھی ہے کہ قرآنی مضامین پر کتب کا سلسلہ جاری ہے اور لکھنے والے علماے کرام کے علاوہ جدید تعلیم یافتہ ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی محنت اورمطالعے میں دوسروں کو شریک کرنا چاہتے ہیں۔ زیرنظر کتاب میں بھی مؤلف نے ہرسورہ کے مختصر تعارف کے بعد‘ ایک ایک یا زیادہ آیات کا مطلب سلیس اُردو میں سلسلہ وار بیان کردیا ہے۔ انھوں نے تفسیر ابن کثیر کو بنیاد بنایا ہے۔ ساتھ ہی اشاریہ بھی ہے جس میں مختلف موضوعات پر الف بائی ترتیب سے آیات کے حوالے دیے ہیں اور اکثر مختصر تشریح بھی دی گئی ہے۔ عربی سے ناواقف لوگوں کے لیے قرآن سے آگاہی کی اچھی اور مفید کوشش ہے لیکن حقیقی مفہوم سے آگاہی کے لیے متن کو برابر زیرمطالعہ رکھنا اور عربی سے واقفیت حاصل کرنے کی کوشش بھی لازمی سمجھنا چاہیے۔ (م - س)
معروف ادیب‘ شاعر اور مصنف جناب گوہر ملسیانی کے پیشِ نظر اس کتاب کا مقصدِتالیف نوجوان نسل (بالخصوص طلبہ و طالبات اور کم تعلیم یافتہ افراد) کو رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات اطہر سے اس انداز میں روشناس کرانا ہے کہ یہ اُن کی ذہنی اور عملی زندگی کی تہذیب و تشکیل کا وسیلہ بن سکے۔ فاضل مؤلف کااسلوب نگارش نہ صرف شُستہ و رُفتہ اور عام فہم ہے بلکہ اتنا دل کش اور دل نشیں ہے کہ قاری کو اپنے اندر جذب کرلیتا ہے۔ انھوں نے ہادیِ برحق صلی اللہ علیہ وسلم کے وقائعِ حیات کو احاطۂ تحریر میں لاتے ہوئے اپنی استطاعت کی حد تک کوشش کی ہے کہ ضعیف اور مشکوک روایتیں کتاب میں نہ آنے پائیں اور صرف مستند مصادر و مآخذ ہی سے استفادہ کیا جائے۔ اس کوشش میں وہ خاصے کامیاب نظر آتے ہیں‘ تاہم کتاب میں کمپوزنگ اور سہوقلم کے تسامحات بعض مقامات پر کھٹکتے ہیں‘ مثلاً: ’ابن اُم مکتوم‘ کی جگہ ’ابن مکتوم‘ (ص ۱۴۸‘ ۱۴۹) لکھا گیا۔ کتاب ہمارے دینی ادب میں خوش گوار اضافہ ہے اور اس کا مطالعہ کرنے والے یقینا روح میں تازگی اور بالیدگی محسوس کریں گے۔(طالب الہاشمی)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم ایک ایسا موضوع ہے جس پر مختلف پہلوئوں سے بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ زیرنظر کتاب اس موضوع پر انفرادیت کی حامل ہے۔ مصنف نے تعلیم و تربیت کے حوالے سے ۴۵ عنوانات کے تحت تمام ممکنہ پہلوئوں پر احادیث کو جمع کردیا ہے اور حسبِ موقع معروف علما کی شرح بھی دی گئی ہے۔ تعلیم کے لیے وقت اور جگہ کا تعین‘ تعلیم کا دائرہ‘ تعلیم کے ذرائع‘ طلبہ کی نفسیات‘ مخاطب کا رویہ اور مزاج‘ شاگردوں سے تعلق‘ اندازِگفتگو‘ اشاروں‘ لکیروں اور شکلوں کا استعمال‘ طلبہ سے استفسار‘ سوال کرنے پر رہنمائی‘ طلبہ کی صلاحیتوں کا ادراک‘ اپنی موجودگی میں شاگرد کو تعلیم و تدریس کا موقع دینا‘ نظم و ضبط‘ سرزنش اور حوصلہ افزائی‘ اخلاقی تعلیم‘ طلبہ کی ضروریات کا خیال رکھنا‘ تعلیم میں سہولت و ترغیب‘ غرض تعلیم سے متعلق تمام اہم موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔یہ لوازمہ ایک اہم تعلیمی ضرورت پوری کرتا ہے اور جدید تعلیمی نظریات و رجحانات کی روشنی میں ماہرین تعلیم کو دعوتِ تحقیق دیتا ہے۔ (محمد الیاس انصاری)
کبھی کبھی کوئی ایسی کتاب نظرپڑتی ہے کہ یقین نہیں آتا کہ ہمارے معاشرے میں کسی سرکاری سرپرستی یا مالی اعانت کے بغیر کوئی فرد محض اپنے ذاتی شوق سے اتنا بڑا علمی کام کرسکتا ہے۔ غلامی کے موضوع پر میاں محمد اشرف کی ۷۰۰ صفحات کی ایک بھرپور اور جامع کتاب ایسی ایک کاوش ہے۔ وہ ایک ریٹائرڈ پروفیسر ہیں‘ لیکن جب انھیں غلامی کے موضوع پر اُردو میں لوازمہ نہ ملا تو انھوں نے اس خلا کو پُر کرنے کا خود ارادہ کیا اور تین چار سال کی محنت شاقہ سے مسئلۂ غلامی کی پوری تاریخ‘ مختلف معاشروں اور تہذیبوں میں اس کی صورت حال خصوصاً استعماری طاقتوں نے دنیا کے مختلف ملکوں کی پوری پوری آبادیوں پر جس وحشیانہ انداز میں غلامی مسلط کی‘ اسے اصل مآخذ سے حاصل کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس آئینے میں ‘ روشن خیال اور مہذب تہذیبوں کی اتنی بھیانک تصویر سامنے آتی ہے کہ انسان کانپ اُٹھتا ہے اور سوچتا رہ جاتا ہے کہ کیا انسان اتنا زیادہ گرسکتا ہے کہ اپنے ہی بھائیوں کا بدترین استحصال کرے اور انھیں نت نئے طریقوں سے تعذیب دے۔ اس کتاب میں اس کی تمام تفصیلات مطالعے کے لیے موجود ہیں۔
غلامی کے حوالے سے اسلام پر بھی اعتراضات کیے جاتے ہیں۔ فاضل مصنف نے ایک الگ باب میں اس کا تفصیلی جائزہ لیا ہے اور بتایا ہے کہ اسلام نے کس تدریج اور حکمت سے اس مسئلے کو حل کیا۔ غلام آزاد کرنے کو بہت بڑی نیکی بتایا۔ انھیں معاشرے میں باعزت مقام دیا۔ ان کے حقوق کا تحفظ کیا‘ یہاں تک کہ مسلم تاریخ میں ایسے حکمران بھی ملتے ہیں جو غلاموں میں سے تھے۔ مصنف نے غلامی کے مسئلے پر مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ نے جو کچھ لکھا ہے‘ اسے کتاب میں ضمیمے کے طور پرشامل کیا ہے تاکہ اسلام کا موقف کھل کر سامنے آجائے۔
فاضل مصنف نے اس کتاب کے ابواب کو چھے الگ الگ کتابوں کی شکل میں بھی پیش کیا ہے: ۱- یورپ اور غلامی‘ صفحات: ۱۲۷۔ قیمت: ۳۰۰ روپے۔ ۲-امریکا اور غلامی ‘ ۹۲/:۲۰۰ روپے۔ ۳-اشتراکیت اور غلامی‘ ۱۲۶/۲۷۵روپے۔ ۴-ہندو معاشرہ اور غلامی‘ ۱۰۵/۳۰۰روپے۔ ۵- اسلام اورغلامی‘ ۱۶۸/۳۵۰روپے۔
جیساکہ عنوانات سے ظاہر ہے‘ مصنف نے ان سب عنوانات کے تحت تحقیقی کاوش کر کے اُردو زبان میں وہ لوازمہ پیش کیا ہے جو اس سے پہلے دستیاب نہ تھا اور اس موضوع پر معلومات کا ایک خزانہ جمع کر دیا ہے۔ اگر ہمارے معاشرے میں حقیقی قدرافزائی کی روایت ہو‘ تو مصنف کو اس کام پر ضرور کوئی اعزاز ملنا چاہیے۔ (م - ا - ا)
جناب قاضی حسین احمد گذشتہ ۳۵ برس سے وطنِ عزیز میں دینی و سیاسی سطح پر فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ اوائلِ جوانی سے تحریکِ اسلامی سے وابستہ ہیں اور تقریر وخطابت ان کا خاص میدان ہے۔ حال ہی میں مضامین قاضی حسین احمد منظرعام پر آئی ہے۔ ترجمان القرآن اور دیگر اخبارات و جرائد میں شائع شدہ مضامین‘ نیز جماعتِ اسلامی پاکستان کے اہم اجتماعات میں ان کی تقاریر میں سے چند ایک کو اس مجموعے میں شامل کیا گیا ہے۔جن موضوعات پر اظہارِ خیال کیا گیا ہے ان میں ’سیرت رسولؐ کا پیغام‘ ، ’امریکا‘ ، ’عالمِ اسلام‘ ، ’اسلامی تحریکات‘ ، ’پاکستان کو درپیش حقیقی خطرات‘ ، ’مختلف ممالک کے دوروں کے تاثرات‘ اور ایک اہم خطاب ’آیئے حالات دُرست کریں‘ شامل ہے۔ بانیِ تحریک سید ابوالاعلیٰ مودودی اور شاعرِانقلاب علامہ اقبال کے حوالے بکثرت موجود ہیں۔
ان تحریروں کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ صاحبِ تحریر عزم و یقین سے سرشار ہیں اور پوری قوم کو میدانِ جدوجہد میں اُتار کر وطنِ عزیز کو اسلامی ریاست میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ ان میں تجزیہ بھی ہے‘ مستقبل کی روشنی بھی اور حالات کو سُدھارنے کے لیے اسلامی تحریکات کا دست وبازو بننے کی اپیل بھی۔ استعمار‘ اسرائیل‘ امریکی جبروستم اور پاکستان میں انگریزوں کے شاگردوں کا ذکر کرتے ہوئے مجاہد کی سی گھن گرج کے ساتھ جلوئہ نما نظرآتے ہیں‘ جب کہ دنیابھر کے مظلوم طبقات اور پاکستان کے بے بس عوام کا ذکر کرتے ہوئے ایک خاص گداز کی کیفیت سے گزرتے محسوس ہوتے ہیں۔ اُن کی تحریر بتاتی ہے کہ وہ نظامِ فرسودہ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں۔
مضامین کی عنوان وار درجہ بندی کرلی جاتی تو کتاب مزید مؤثر ہوجاتی۔ یہ ذکر بھی مناسب ہوتا کہ یہ تقریر کس مقام پر کی گئی‘ انٹرویو کس رسالے کے لیے لیا گیا اور تحریر کس روزنامے/ ماہنامے میں کب شائع ہوئی۔ (محمدایوب منیر)
اسلام کی ۱۴۰۰ سالہ تاریخ میں ایسی بے شمار تحریکوں کا ذکر ملتا ہے جو ملوکیت کے خلاف اٹھیں‘ اہلِ اقتدار کے خلاف جدوجہد کی اور تاریخ کے صفحات پر اَن مٹ نقوش چھوڑ گئیں۔ زیرنظر کتاب میں ایسی ہی تحریکوںکا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ ان میں تحریک علویہ‘ عباسیہ‘ باطنیہ‘ قرامطہ‘ مہدویہ‘ صلاحیہ اور وہابیہ شامل ہیں۔ یہ جائزہ مؤرخانہ دیانت سے پیش کیا گیا ہے اور حالات و واقعات ایک تلاش و جستجو اور تحقیق کے بعد پیش کیے گئے ہیں۔ ایک قاری کو باطنیہ کے بارے میں مؤلف کی آرا عام مؤرخین کی آرا سے مختلف نظر آتی ہیں لیکن مولانا علم الدین سالک کے بقول مؤلف نے جو کچھ لکھا ہے اس سے ’’ان غلط فہمیوں کا ازالہ ہو جاتا ہے جو ایک مدت سے دانستہ یا نادانستہ اس فرقے کے خلاف پیدا ہوچکی ہیں‘‘۔
ایک باب ’کاذبیہ‘ میں نبوت کے جھوٹے مدعیوں اسود‘ مسیلمہ‘ سجاح اور طلیحہ کی فتنہ انگیزیوں کا جائزہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ آخر میں اس طبع ثانی میں دو ابواب ’یورشِ تاتار‘ اور ’محمدعلی‘ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ مؤلف کے ایسے مضامین ہیں جو پہلی اشاعت میں شامل نہ تھے۔
کتاب کے مؤلف خدابخش اظہر امرتسری اپنے دور کے نام ور شاعر‘ صحافی اور ادیب تھے جو ۲۰ سال تک روزنامہ زمیندار کے ایڈیٹر بھی رہے۔ ۱۹۴۰ء میں پہلی دفعہ یہ کتاب شائع ہوئی اور اب ۶۵ سال بعد اس کی طبعِ جدید منظرعام پر آئی ہے۔ اس کا پیش لفظ مولانا علم الدین سالک اور مصنف کا تعارف شورش کاشمیری نے لکھا‘ جو اس طباعت میں بھی شامل ہیں۔ طبعِ جدید کا تعارف جناب طالب الہاشمی نے تحریر کیا ہے۔ اسلامی تاریخ اور تحریکوں سے دل چسپی رکھنے والے قارئین کے لیے نہایت معلومات افزا کتاب ہے۔ (عبداللّٰہ شاہ ہاشمی)
اسلام کے علمی ذخیرے پر نیش زنی‘ کفار اور مشرکین کا وطیرہ تو تھا‘ لیکن گذشتہ تین صدیوں کے دوران‘بالخصوص مغربی علم الکلام سے متاثرہ ایک گروہ نے اپنی علمی کمزوری کے ہاتھوں مجبور ہوکر‘ خود اسلام ہی کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کا راستہ منتخب کیا۔ اس گروہ میں ایک نمایاں عنصر منکرین حدیث کا ہے‘ جو اپنی علمی سطح کو بلند کرنے یا ملاحدۂ مغرب کی فکری یاوہ گوئی کا شافی جواب دینے کے بجاے‘ خود دشمن ہی کی بارودی سرنگوں کو اُٹھا اُٹھا کر اسلامیانِ عالم کے سپرد کرنے کو ’فکرِ قرآنی‘ کا مغز پالینے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ڈاکٹر فضل الرحمن کے بعد اسلم جیراج پوری‘ عنایت اللہ مشرقی‘ نیاز فتح پوری اور ایک دور میں اس کے کرتا دھرتا‘ جناب غلام احمد پرویز [م:۱۹۸۵ئ] رہے۔ موصوف نے فتنۂ انکارحدیث کو ایک تحریک کی شکل دینے کے لیے خودساختہ ’مرکز ملت‘ ملک غلام محمد اور مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ایوب خان کی مدد حاصل کی (اکبربادشاہ سے لے کر جنرل پرویز مشرف تک کو ایسے ابوالفضل‘ فیضی اور شیخ مبارک بہ سہولت ملتے رہے ہیں۔ جنرل مشرف کو آج کل ایسے ہی اساتذہ روشن خیالی اور مداہنت پسندی کا درس دے رہے ہیں)۔
زیر نظر کتاب ’قرآنی لغت کے خودساختہ ماہر‘ پرویز صاحب کی ان فکری قلابازیوں‘ کلامی یاوہ گویوں‘ اتہام بازیوں اور تضاد بیانیوں کا دفتر ہے۔ پرویز ایک جانب فکر اسلامی پر تیشہ زنی کرتے رہے تو دوسری جانب اسلام پر براہ راست حملہ کرنے کی ہمت نہ پاتے ہوئے‘ مولانا مودودی مرحوم کے منہ کو آتے رہے اور علامہ اقبال کے نام کا سہارا لے کر لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکتے رہے‘ جس کا پورا ریکارڈ‘ طلوعِ اسلام میں موجود ہے۔
ماہ نامہ طلوعِ اسلام کے تمام فائلوں سے فکرِپرویز کا بڑی باریک بینی بلکہ بڑے حوصلے سے مطالعہ کرنے کے بعد‘ جناب پروفیسر محمد دین قاسمی نے تحقیق و تدوین کا یہ مرقع مرتب کیا ہے۔ جس کا ہرصفحہ پرویز صاحب کی قلمی رکاکت و فکری کثافت‘ مولانا مودودی کی بیانیہ شایستگی اور مولف کی تجزیاتی سنجیدگی کا نمونہ ہے۔
جو لوگ فتنۂ انکارحدیث کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں‘ یا جو لوگ اس فتنے کے تاروپود کی کمزوری اور حکمت عملی کے دجل و فریب کو جاننا چاہتے ہیں‘ ان کے لیے یہ کتاب ایک قیمتی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسی سنجیدہ تحقیق کاری اور تقابلی تجزیہ کاری کی روایت ہمارے ہاں ناپید ہوتی جارہی ہے‘ لیکن پروفیسر محمد دین قاسمی کی اس پیش کش نے نوجوان محققین کو کارِ تحقیق کا درس بھی دیا ہے اور حوصلہ بھی۔(سلیم منصورخالد)
’پاکستان کی معاشی ترقی اور خوش حالی ‘ (جون ۲۰۰۶ئ) پاکستان کی معاشی بدحالی پربے لاگ تبصرہ ہے۔ ’تحریک اور رکنیت‘ سے تحریک اسلامی کی فکر‘ اس کے تصورات‘ اہداف اور رکنیت کے اہم تقاضوں کی اچھی تذکیر ہوئی اور بجا توجہ دلائی گئی کہ اس راہ میں اصل قوت داعیانہ اضطراب اور بے چینی ہے۔ ’مجلس عمل کی پارلیمانی جدوجہد کے چارسال‘ میں پارلیمانی جدوجہد کا اچھے انداز سے احاطہ کیا گیا ہے۔
’امریکا: اسرائیل نواز لابی کی گرفت میں‘(جون ۲۰۰۶ئ) اپنی نوعیت کی منفرد رپورٹ اور اہم ترین موضوع ہے جس پر اطہروقار عظیم نے قلم اٹھایا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اب امریکا میں بھی یہ تشویش بڑھتی جارہی ہے کہ اسرائیل نے امریکا کو یرغمال بنایاہوا ہے۔ صہیونیت کے مذموم عزائم اب ڈھکے چھپے نہیں رہے اور ان کے خلاف آواز توانا ہو رہی ہے۔
’تہذیبوں کا تصادم، حقیقت یا واہمہ؟‘ (مئی ۲۰۰۶ئ) میں آپ نے جو منظرنامہ پیش فرمایا‘ واقعتا وہ ہمارا آنے والا کل ہے۔ اس کے لیے بھرپور تیاری کی ضرورت ہے۔ سیاسی میدان کی جزوی جدوجہد کے ساتھ ساتھ اجتماعی و انفرادی سطح پر زندگیوں میں ’اللہ کا رنگ‘ بھرنے کی ازحد ضرورت ہے۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا‘ انفارمیشن ٹکنالوجی اور علم کا ہر جدید میدان خصوصی توجہ کا متقاضی ہے۔
’تہذیبوں کا تصادم، حقیقت یا واہمہ؟‘ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔مارچ کے اشارات ’شیطانی کارٹون: تہذیبی کروسیڈ کا زہریلا ہتھیار‘ کو سامنے رکھیں تو اس مضمون کی افادیت دوچند ہوجاتی ہے۔ بحیثیت مجموعی تجزیے سے اختلاف مشکل ہے‘ تاہم اتنا عرض کرنے کی جسارت کروں گا کہ یہ بعداز وقت مشورہ ہے۔ اس لیے کہ یہ جنگ مغربی و امریکی ساہوکاروں نے تہذیبوں کی جنگ بنا دی ہے اور اُمت اب اس جنگ میں ایک فریق کی حیثیت رکھتی ہے۔ جنگ کا آخری معرکہ ’مغرب اوراسلام‘ کے درمیان ناگزیر ہے۔ ہمیں اس وقت کے لیے اپنی قوتوں کو مجتمع کرنا ہے۔
ترجمان القرآن کے قارئین کے لیے یہ تجویز بھی مفید رہے گی کہ وہ ایک دعوتی حلقہ بنا لیں جو ۱۰‘ ۱۵ افراد پر مشتمل ہو۔ یہ دعوتی حلقہ گھر‘ مسجد‘ ادارہ یا محلے کی سطح کا ہوسکتا ہے۔ ہفتے میں ایک دو مرتبہ باقاعدگی سے ترجمان القرآن کے مضامین کا اجتماعی مطالعہ کیا جائے۔ تھوڑے ہی عرصے میں آپ دیکھیں گے کہ شرکا کی علمی سطح بلند ہو رہی ہے‘ دین کے فہم میں اضافہ‘ اُمت کے لیے تڑپ اور احیاے دین کی جدوجہد کے لیے جذبہ بیدار ہو رہا ہے۔ اس دعوتی حلقے کی بنیاد پر قرآن کلاسز جیسے ہمہ پہلو نوعیت کے پروگرام کا آغاز نسبتاً زیادہ مؤثر ثابت ہوگا۔
مسلم دنیا میں عیسائی ایک معمولی سی اقلیت ہیں لیکن انھیں ہر جگہ بے پناہ سہولتیں میسر ہیں‘ اور ہمارے حکمران انھیں مزید بہت کچھ عطا کیے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف ان لوگوں کی جمہوریت اور اسلام دشمنی کی کیا کیفیت ہے‘ اس کی عکاسی ذیل کے واقعے سے بخوبی ہوتی ہے۔
برلن کے علاقے Panko Heinerspor(سابقہ ایسٹ برلن) میں کچھ لوگوں نے ایک پرانی فیکٹری جو اَب بالکل کھنڈر ہوچکی ہے خریدی تاکہ وہاں مسجد کی تعمیر کی جاسکے۔ اس سے پہلے کہ تعمیر شروع ہو‘ مسجد کمیٹی نے وہاں کے قرب و جوار کے رہنے والوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کا اہتمام کیا۔ مقامی پولیس کا ایک بڑا افسر بھی وہاں موجود تھا۔ کم و بیش ۸۰۰ لوگ جمع تھے جو وہاں مسجد بننے کے خلاف زبردست احتجاج کر رہے تھے۔ مظاہرین میں ہرعمر کے لوگ شامل تھے۔ جرمن ٹیلی ویژن کی ٹیم وہاں موجود تھی۔ یہ ۹ اپریل ۲۰۰۶ء کا واقعہ ہے۔ اس نے مظاہرین سے مختلف سوال جواب کیے۔ ایک ۵۰ سالہ شخص کہنے لگا: یہ لوگ دہشت گرد ہیں۔ یہ ناممکن ہے کہ ہمارے علاقے میں مسجد بن سکے۔ مسجد کی آڑ میں یہ القاعدہ کے تربیتی کیمپ کھولیں گے۔ ایک نوجوان لڑکی کہنے لگی کہ ہماری کوشش ہے کہ جرمنی میں جو خواتین اسکارف لیتی ہیں ان کے سروں سے بھی اسکارف اتارا جائے‘ اور یہ لوگ ہمارے علاقے میں مسجد بنانا چاہتے ہیں۔ اب تو ہم انھیں جرمنی میں رہنے بھی نہ دیں گے۔ ایک نے کہا: میرے لیے یہ ناممکن ہے کہ میں ہائی وے Auto Bahnسے اپنے گھر آنے کے لیے نیچے اُتروں اور سب سے پہلے میری نظر اس مسجد کے میناروں پر پڑے‘ ایسا کبھی نہ ہوگا۔ دوسرے نے کہا: اگرمسجدبن گئی تو ہم اس کو جلا دیں گے۔
ٹیلی ویژن کی ٹیم نے مسجد کمیٹی کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا تو ان کے نمایندے نے جواب دیا کہ ہم جرمنی کے رہایشی اور شہری ہونے کے ناطے اپنی عبادت گاہ تعمیر کرنا چاہتے ہیں جس کی ہمیں جرمن آئین اجازت دیتا ہے ‘ اور اس کے مطابق جرمنی کے ہرباشندے کو اپنے مذہب پر چلنے کا پورا حق حاصل ہے۔ آخر ہمیں یہ حق کیوں نہیں؟ آپ خود فیصلہ کریں کہ کون ’بنیاد پرست‘ ہے؟ البتہ پولیس کے ذمہ دار افسر کا کہنا تھا کہ مسجد کو پولیس کی حفاظت میں بنایا جاسکتاہے۔
اور موسیٰ کو ہم نے اپنی نشانیوں اور کھلی کھلی سند ماموریت کے ساتھ فرعون اور اس کے اعیانِ سلطنت کی طرف بھیجا‘ مگر انھوں نے فرعون کے حکم کی پیروی کی حالانکہ فرعون کا حکم راستی پر نہ تھا۔ قیامت کے روز وہ اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا اور اپنی پیشوائی میں انھیں دوزخ کی طرف لے جائے گا‘ کیسی بدتر جاے ورود ہے یہ جس پر کوئی پہنچے! اور ان لوگوں پر دنیا میں بھی لعنت پڑی اور قیامت کے روز بھی پڑے گی‘ کیسا برا صلہ ہے جو کسی کو ملے![ھود ۱۱:۹۶-۹۹]
اس آیت سے اور قرآن مجید کی بعض دوسری تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ دنیا میں کسی قوم یا جماعت کے رہنما ہوتے ہیں وہی قیامت کے روز بھی اس کے رہنما ہوں گے۔ اگر وہ دنیا میں نیکی اورسچائی اور حق کی طرف رہنمائی کرتے ہیں تو جن لوگوں نے یہاں ان کی پیروی کی ہے وہ قیامت کے روز بھی انھی کے جھنڈے تلے جمع ہوں گے اور ان کی پیشوائی میں جنت کی طرف جائیں گے۔ اور اگروہ دنیا میں کسی ضلالت‘ کسی بداخلاقی یا کسی ایسی راہ کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں جو دین حق کی راہ نہیں ہے‘ تو جو لوگ یہاں ان کے پیچھے چل رہے ہیں وہ وہاں بھی ان کے پیچھے ہوں گے اور انھی کی سرکردگی میں جہنم کا رخ کریںگے۔ اسی مضمون کی ترجمانی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد میں پائی جاتی ہے کہ امرؤ القیس حامل لواء شعراء الجاھلیہ الی النار ،یعنی قیامت کے روز جاہلیت کی شاعری کا جھنڈا امرؤالقیس کے ہاتھ میں ہوگا اور عرب جاہلیت کے تمام شعرا اسی کی پیشوائی میں دوزخ کی راہ لیں گے۔ اب یہ منظر ہرشخص کا اپنا تخیل اس کی آنکھوں کے سامنے کھینچ سکتا ہے کہ یہ دونوں قسم کے جلوس کس شان سے اپنی منزل مقصود کی طرف جائیں گے۔ ظاہر ہے کہ جن لیڈروں نے دنیا میں لوگوں کو گمراہ کیا اورخلافِ حق راہوں پر چلایا ہے ان کے پیرو جب اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ یہ ظالم ہم کو کس خوف ناک انجام کی طرف کھینچ لائے ہیں تو وہ اپنی ساری مصیبتوں کا ذمہ دار انھی کو سمجھیں گے اور ان کا جلوس اس شان سے دوزخ کی راہ پر رواں ہوگا کہ آگے آگے وہ ہوں گے اور پیچھے پیچھے ان کے پیرؤوں کا ہجوم ان کو گالیاں دیتا ہوا اور ان پر لعنتوں کی بوچھاڑ کرتا ہوا جا رہا ہوگا۔ بخلاف اس کے جن لوگوں کی رہنمائی نے لوگوں کو جنت ِنعیم کامستحق بنایاہوگا ان کے پیرو اپنا یہ انجام خیر دیکھ کراپنے لیڈروں کو دعائیں دیتے ہوئے اور ان پر مدح و تحسین کے پھول برساتے ہوئے چلیںگے۔ (تفہیم القرآن‘ سورۂ ہود‘ ترجمان القرآن‘ جلد ۲۹‘ عدد ۲‘ شعبان ۱۳۶۵ھ‘ جولائی ۱۹۴۶ئ‘ ص ۳۰-۳۱)