بیسویں صدی میں قرآن مجید کے تراجم اور تفاسیر میں جو پذیرائی‘ شہرت اور مقبولیت مولانا مودودیؒ کی تفہیم القرآن (چھے جلدیں)کو حاصل ہوئی‘وہ کسی بھی زبان میں لکھی جانے والی‘ کسی بھی تفسیر کو نصیب نہیں ہوئی۔ اس کا صرف ترجمہ مع مختصر حواشی ان کی زندگی ہی میں علیحدہ شائع کیا گیا تھا تاکہ جدید محاورے اور اسلوب کے حامل اس ترجمے اور بعض آیات/ مقامات کی مختصر تشریح سے زیادہ سے زیادہ لوگ مستفیض ہوسکیں۔
ڈاکٹر ظفراسحاق انصاری‘ مولاناؒ کی مکمل تفسیر کا انگریزی زبان میں ترجمہ کر رہے ہیں‘ جس کی اب تک سات جلدیں طبع ہوچکی ہیں اور بقیہ حصے پر کام جاری ہے۔ پیشِ نظر کتاب مولانا کے ترجمۂ قرآن اور مختصر حواشی کا انگریزی زبان میں ترجمہ ہے۔ ان حواشی کا اپنا مقام ہے لیکن یہ تفہیم القرآن کا خلاصہ (abridged version) نہیں ہے جیساکہ اس کتاب کے ٹائٹل پر درج کیا گیا ہے۔
قرآن مجید کے متداول انگریزی ترجموں میں مارما ڈیوک پکتھال‘ اے جے آربیری‘ ٹی بی اروِنگ‘ رچرڈ بیل‘ عبداللہ یوسف علی‘ حافظ غلام سرور اور مولوی محمدعلی کے ترجمے مشہور ہوئے۔ ان میں سے بعض اپنی زبان کی وجہ سے آج کے انگریزی داں طبقے کے لیے نامانوس ہوگئے اور کچھ اظہارِ معانی کے لحاظ سے متنازع (controversial) قرار پائے۔ اس ترجمے کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے معانی اور مفہوم‘ عصرِحاضر کے ایک مُستند اور قابلِ ذکر عالم کے بیان کردہ ہیں‘ اور اُن کا انگریزی زبان میں اظہار‘ ایک ایسے غیر روایتی عالمِ دین کے قلم سے ہے‘ جس کا تعلق‘ گہرا مذہبی رنگ رکھنے والے ایک جدید علمی خانوادے سے ہے۔ ڈاکٹر انصاری نے معاشیات کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی‘ اور پھر علومِ اسلام کی طرف متوجہ ہوگئے اور میک گِل یونی ورسٹی سے علومِ اسلامی میں پی ایچ ڈی کی سند لی۔ بیرونِ ملک متعدد جامعات میں تدریس کے بعد وہ آج کل بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی‘ اسلام آباد سے منسلک ہیں۔ عربی اور انگریزی زبانوں پر ان کے یکساں عبور‘ نیز گہری دینی وابستگی نے اس ترجمے کو ایک منفرد حیثیت دے دی ہے۔ اس سے آج کے انگریزی خواں قاری کو قرآن کے مفہوم تک رسائی میں یقینا مدد ملے گی۔ مثلاً وہ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰہِ (اٰل عمرٰن۳:۱۰۳)کا ترجمہ Hold fast together the cable of Allahکرتے ہیں‘ جو جدید قاری کے لیے روایتی ’اللہ کی رسّی‘ (rope of Allah) سے زیادہ بامعنی ہے۔ مولانا مودودیؒ نے جس طرح لفظی ترجمے کے بجاے آزادانہ انداز میںقرآن مجید کی ترجمانی کی ہے‘ ڈاکٹر انصاری نے انگریزی میں بھی (بعض مقامات پر) مولانا کے ’ترجمے‘ کی پابندی نہیں کی‘ بلکہ اصل عربی کو پیش نظر رکھا ہے۔ جیسے سورہ قٓ آیت ۳۷ میں اِنَّ فی ذٰلِکَ لَذِکْرٰی میں مولاناؒ اِنَّکے لیے ’یقینا‘/ ’بلاشبہ‘ کا لفظ استعمال نہیں کرتے‘ مگر انگریزی میں ڈاکٹر انصاری اِنَّ کا مفہوم verily سے ادا کرتے ہیں‘ جو اگرچہ قدیم انگریزی ہے‘ تاہم اس طرح آیت کی بہتر ترجمانی ہوتی ہے۔ اسی طرح اَلْقَارِعَۃ (القارعہ:۱‘۲)کی ترجمانی ’عظیم حادثہ‘ سے کی گئی ہے‘ جب کہ The calamity (مصیبت ِعظیم) مفہوم سے قریب تر ہے‘ تاہم اس خوب صورت‘ رواں اور آسان ترجمے میں بعض جگہ عام طور پر مستعمل محاورے کے بجاے کچھ غیرمانوس (گو درست) الفاظ بھی استعمال ہوگئے ہیں‘ جیسے ’کھیتی‘ (زَرْع) کے لیے cultivation کے بجاے tilth (الفتح:۲۹)‘ یا mary worshipکے لیے mariolatory۔
جدید انگریزی طرزِکلام کے مطابق قرآن مجید کا یہ ’ترجمہ‘ بلاشبہہ کلامِ الٰہی کی تفہیم میں ایک قابلِ ذکر اور مفید اضافہ ثابت ہوگا۔ کتاب کا عربی متن‘ انگریزی ٹائپ (فونٹ)‘ کاغذ اور طباعت نہایت نفیس اور خوب صورت ہے۔ اُمید ہے کہ یہ علمی حلقوں اور عام انگریزی خواں طبقے میں یکساں مقبول ہوگا۔ (پروفیسر عبدالقدیرسلیم)
رحمت ِ عالم خاتم الانبیاء والمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اطہر تمام کمالات و صفات کی جامع اور انسانیت و عبدیت کی منتہاے کمال ہے۔ آپؐ کی سیرتِ طیبہ ایک ایسا پاکیزہ اور ہمہ گیر موضوع ہے جس پر آج تک مختلف زبانوں میں بے شمار کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ زیرنظرکتاب اُردو زبان میں لکھی گئی کتابوں میں ایک گراںقدر اضافہ ہے۔ اس میں فاضل مؤلف نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس زندگی کے تمام پہلوئوں اور اہم واقعات کو قرآنِ حکیم کی روشنی میں بڑی عقیدت اور محبت کے ساتھ قلم بند کیا ہے۔ کتاب کے ۱۵ ابواب ہیں۔ ان میں اڑھائی سو سے زائد ضمنی عنوانات کے تحت سیرتِ طیبہ کے تمام اہم واقعات کو قرآنِ حکیم کے حوالے سے جامعیت کے ساتھ احاطۂ تحریر میں لانے کی سعی بلیغ کی گئی ہے۔ پہلے باب میں بعثت ِ نبویؐ سے قبل کے ادیان و مذاہب اور دوسرے باب میں‘ کتب سماویہ میں حضوؐر کے ظہور کی پیش گوئیوں کی تفصیل ہے۔ باقی ابواب میں حضوؐر کے امتیازات (بشمول اسوئہ حسنہ)‘ معراج‘ ہجرت‘ معجزات‘ غزوات و سرایا‘ ازدواجی زندگی‘ حجۃ الوداع‘ سفرِآخرت وغیرہ کا احاطہ کیا گیا ہے۔
مؤلف کا اسلوبِ نگارش عام فہم اور دل نشین ہے۔ ان کی عرق ریزی نے کتاب کو علمی حیثیت سے اس قابل بنا دیا ہے کہ یہ ریسرچ اسکالروں کے لیے مآخذ کا کام دے سکے۔ البتہ چند مقامات نظرثانی کے محتاج ہیں‘ مثلاً صفحہ ۱۴۶ پر حضرت عامر بن فہیرہؓ کا ذکر نامناسب انداز میں کیا گیا ہے۔ وہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے‘ آزاد کردہ غلام تھے۔ ان کا شمار بڑے جلیل القدر (سابقون اوّلون) صحابہؓ میں ہوتا ہے۔ سفرِہجرت میں ان کو بھی رسول اکرمؐ کی معیت کا شرف حاصل ہوا۔
صفحہ ۱۷۴ پر ابوجہل کے قاتلوں (حضرت معاذؓ اور حضرت معوذؓ) کو ’ننھے مجاہد‘‘ بتایا گیا ہے یہ صحیح نہیں۔ حضرت معوذؓ ایک جوان بیٹی (حضرت رُبیعؓ) کے والد تھے۔ اس بیٹی کی شادی غزوئہ بدر کے چند دن بعد ہوئی۔ حضرت معاذؓ عمر میں حضرت معوذؓ سے بڑے تھے اور ۱۱ اور ۱۲ سنِ نبوت (قبل ہجرت) میں عقبہ کی دونوں بیعتوں میں شریک تھے۔ حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف عمر میں ان دونوں سے کافی بڑے تھے اس لیے اگر انھوں نے ان دونوں کو ’لڑکے‘ کہہ دیا تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ دونوں ’چھوٹی عمر‘ کے نوجوان (یا ننھے مجاہد) تھے۔ صفحہ ۲۰۵ پر یہ جملہ وضاحت طلب ہے: ’’تاآنکہ آپؐ پر قرآن نازل ہوا جو بعد میں منسوخ ہوگیا‘‘۔ صفحہ ۳۴۱‘ ۳۴۲ پر سورئہ تحریم کی پہلی اور دوسری آیتوں کے نزول کا جو پس منظر بیان کیا گیا ہے‘ اکابر اہلِ علم نے اسے ناقابلِ اعتبار ٹھیرایا ہے (تفہیم القرآن‘ جلد ۶)۔ معتبر روایات کے مطابق حضوؐر نے مغافیر کے شہد کو اپنے اُوپر حرام قرار دیا تھا۔ کتاب میں اِعراب اور علاماتِ اضافت کی کمی بھی محسوس ہوتی ہے۔ صفحہ ۱۴۴ پر درز کی جگہ دراز اور صفحہ ۳۳۷ پر صُلبی کے بجاے سلبی کمپوز ہوا ہے۔ اسی طرح جحش (ج ح ش) کو ہرجگہ حجش (ح ج ش) کمپوز کیا گیا ہے۔ امید ہے اگلے اڈیشن میں ان گزارشات کو پیش نظر رکھا جائے گا۔ (طالب ہاشمی)
ایک مسلمان کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ اس مقام کی زیارت کرے‘ جس کو اللہ تعالیٰ نے مرکز عبادت قرار دیا ہے اور جو مرکز ملّت ہے‘ اور اللہ تعالیٰ نے اسے ہزاروں برس سے سجدوں کا مرکز قرار دیا ہے۔
انسانی زندگی سفر اور عبادت کی کسی نہ کسی شکل سے عبارت ہے‘ لیکن وہ سفرجو کعبۃ المکرمہ کے لیے کیا جاتا ہے اس کی حلاوت‘ شوق اورقلبی کیفیات کو صرف وہی جان سکتا ہے جو شعور کے ساتھ حجِ بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے گھر سے نکلتا ہے اور عبادت کے اس مرکز کی زیارت کرتا ہے۔ ان کیفیات اور جذب دل کی فراوانیوںکو ہزاروں لوگوں نے قلم بند کیا اور اربوں انسانوں نے اپنے دل پر نقش کیا۔ زیرنظر کتاب انھی سعادت مند زائرین کی اُردو نثرونظم میں لکھی ہوئی داستان شوق کا ایک انتخاب ہے۔اس کتاب کی تدوین کے لیے محترم پروفیسر اقبال جاوید نے حج کے ۳۳۵ سفرناموں کا مطالعہ کیا۔ یہ کتاب ۵۲افراد کی تحریروں کے صرف اس حصے کے انتخاب پر مشتمل ہے کہ جب زائر کی نظر سب سے پہلے خانہ کعبہ پر پڑی تو اُس کی قلبی کیفیات کیا تھیں۔
طویل مضامین اور بھرپور حج کے سفرناموں سے یہ منتخب کردہ چند مشک بار سطور نہ صرف اظہارو بیان کی خوب صورتی کا مرقع ہیں‘بلکہ مختلف ادوار میں اور مختلف مزاجوں کے حامل ۵۲ افراد کے قلب و قلم کی وہ گواہیاں ہیں‘ جو اس مقدس سفر پر جانے والوں کو روشنی عطا کرتی ہیں اور جو نہیں جاسکتے اُن کے دل میں شوق کو اُبھارتی ہیں۔ (سلیم منصورخالد)
پروفیسر الطاف طاہر اعوان اُردو زبان و ادب کے استاد ہیں اور اپنی افتادطبع میں بہت فعال‘ متحرک اور مستعد انسان ہیں۔ ایک پاکیزہ اور دردمند دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے انھیں خدمتِ خلق کا وافر جذبہ بھی عطا کیا ہے‘ چنانچہ وہ حج بیت اللہ میں اپنی معمول کی سرگرمیوں کے ساتھ‘ حتی الوسع دوسروں کی مدد کرتے‘ ان کے کام آتے اور ان کی خدمت گزاری کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ لاہور سے وہ سب سے پہلی پرواز سے براہِ راست مدینہ پہنچے تھے‘ اس لیے سفرنامے کے ابتدائی ابواب میں مدینۃ الرسول کا والہانہ تذکرہ قدرتی طور پر نسبتاً طویل ہے۔ ان کا شعری ذوق جگہ جگہ خاص طور پر مدینہ طیبہ کے تذکرے میں نسبتاً نمایاں ہے۔ فارسی اور اُردو اشعار‘ زائر کی کیفیاتِ دلی کے اظہار کو پُراثر بنادیتے ہیں۔
کتاب کی ایک خوبی مصنف کی جزئیات نگاری ہے جو گہری قوتِ مشاہدہ اور ایک مضبوط حافظے کے بغیر ممکن نہیں۔ سفرنامے میں کسی نہ کسی حوالے اورحیلے بہانے مصنف کے واقف کاروں اور دُور نزدیک کے عزیزوں اور نئے پرانے دوستوں‘ ان کے دوستوں اور ملنے والوں کا تذکرہ غیرمتعلق لگتا ہے۔ مگر وہ ان سب ’غیرمتعلقات‘ کو‘ اصل موضوع سے جوڑدینے کا فن جانتے ہیں۔ اس سے قاری کو حج بیتی پر آپ بیتی کا گمان ہوتا ہے۔
مصنف نے حجاج کرام کو پیش آنے والے مسائل کے ذکر میں شکوہ و شکایت کے بجاے صبروشکر اور خندہ پیشانی کے ساتھ‘ مشکلات کو برداشت کرکے اپنے اجروثواب میں اضافہ کیا ہے۔ سفرسعادت ایک طرف تو مصنف کے ۴۰ روزہ سفر و مقام کی ’داستانِ جذب و شوق‘ ہے تو دوسری طرف عازمین عمرہ و حج کے لیے ’ایک جامع اور مکمل راہ نما کتاب‘ بھی۔ طویل ہونے کے باوجود‘ دل چسپ ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی )
فاضل مصنف جواں سال ہیں اور تحریر و تالیف میں اس قدر مگن کہ متنوع موضوعات پر ایک کے بعد ایک کتب شائع ہوکر سامنے آرہی ہیں۔ تبصرہ نگار کے علم میں ان کی کم از کم ۲۲ کتب ہیں جو سب عام فہم ہیں‘ آسان زبان میں ہیں اور سب سے بڑھ کر جدید انداز سے لکھی گئی ہیں۔ ان کی کتب میں اصل ماخذ قرآن و سنت ہیں۔ مصنف کا اندازِ تحریر یا اسلوب سوال جواب کا بھی ہے اور موضوعاتی بھی۔ وہ ہرچیز کو اس انداز میں بیان کرتے ہیںکہ کتاب میں موجود علمی خزانہ موضوعات کی صورت میں قاری کے سامنے آجاتا ہے۔ کتاب کی فہرست ہی اس قدر جامع اور مفصل ہوتی ہے کہ قاری اپنی پسند یا ضرورت کی چیز بآسانی تلاش کر کے استفادہ کرلیتا ہے۔
ہدیۃ الوالدین وعظ و تلقین کی روایتی کتاب نہیں ہے بلکہ اس میں والدین اور اولاد کے متنازعہ مسائل کی تفصیلات اور نزاعات کی وجوہات اور ان کے تدارک پرخصوصی روشنی ڈالی ہے اور قرآن و سنت کی روشنی میں ایسا منصفانہ حل پیش کرنے کی کوشش کی ہے کہ نہ تو والدین کی حق تلفی ہو اور نہ ہی اولاد پر ظلم ہو۔جدید دور میں جو عملی مسائل پیدا ہو رہے ہیں ان سب کا احاطہ ہوگیا ہے‘ بلاشبہہ زیربحث موضوع پر اُردو زبان میں یہ ایک جامع کتاب ہے اور مغربی اثرات کے تحت خاندانی نظام کو پہنچنے والے نقصانات سے بچائو کے لیے اس کتاب کامطالعہ مفید ہے۔
ہدیۃالنساء … ہمارے معاشرے میں خواتین کی ایک بڑی تعداد کو دین کا صحیح فہم حاصل نہیں ہے جس کے نتیجے میں نئی نسل بھی غیراسلامی عقائد کے تحت پرورش پاکر جوان ہوتی ہے۔ فاضل مصنف نے اس پر نہایت تفصیل سے مواد کو یک جا کردیا ہے۔ ابواب کے موضوعات سے اندازہ کیا جاسکتا ہے: ۱- عورت پیدایش و پرورش اور تعلیم و تربیت ۲- عورت کا لباس‘ پردہ اور زیب و زینت ۳-عورت اور عباداتِ اسلام ۴- عورت کی ازدواجی و خانگی زندگی ۵-عورت کا دائرہ عمل اور دورِ جدید کے مسائل ۶- عورت کے بارے میں چند شبہات اور ان کا ازالہ ۷- خاتونِ اسلام اوراخلاقِ فاضلہ ۸- اسوئہ صحابیات۔ کتاب میں مغربی عورت کا حقیقی دنیا میں ایک مسلمان عورت سے موازنہ کیا گیا ہے۔(محمد الیاس انصاری)
جب ادارہ تحقیقاتِ اسلامی میں ڈاکٹر فضل الرحمن کو ڈائرکٹر بنایا گیا تو انھوں نے اپنی متجددانہ فکر کے تحت تجارتی سود کے حرام نہ ہونے کا اعلان کیا اور علما کو اس حوالے سے چیلنج کیا۔ مولانا ابوالجلال ندوی معروف و جید عالمِ دین تھے اور جدید و قدیم علوم پر گہری نظر رکھتے تھے۔ انھوں نے اس چیلنج کے جواب میں جو مضامین لکھے وہ اس کتاب میں شامل کیے گئے ہیں۔
کتاب کا پہلا حصہ سات مضامین پر مشتمل ہے‘ اس میں ر ٰبواور ریبہ‘ لفظ ربا اور ر ٰبوکی تحقیق اور اس کے معانی و مفاہیم بیان کیے گئے ہیں۔ قرآن و حدیث کی روایات‘ ان کے تاریخی و تدریجی نزول پر تحقیق کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے۔دوسرا حصہ ’غیرمسلم کی راے اور اسلام‘ کے عنوان پر مشتمل ہے۔ یہ مغربی فکر کی روشنی (روشن خیالی) میں دین کی من مانی تشریح کرنے والے تجدد پسندوں کے خیالات اور ان کے محاکمے پر مشتمل ہے۔ تیسرے حصے کا عنوان: ’زکوٰۃ کیا، ٹیکس کیا؟‘ہے۔ ڈاکٹر فضل الرحمن نے اپنے ایک مضمون میں زکوٰۃ کو ٹیکس اور ٹیکس کو زکوٰۃ قرار دیا اور کہا کہ قرآن و سنت زکوٰۃ کو عبادت نہیںکہتا بلکہ فقہا نے اسے عبادت کہا ہے۔ اس حصے میں اس کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اسلام کے معاشی پروگرام میں میراث کا بھی اہم کردار ہے‘ لہٰذا آخر میں ’آئینِ میراث‘ کے عنوان سے ایک ضمیمہ شامل کیا گیا ہے جو چھے مضامین پر مشتمل ہے۔ ’فرہنگ اصطلاحات و مشکل الفاظ‘ بہتر تفہیم اور جامعیت کا باعث ہے۔
زیرنظر کتاب اسلام کے معاشی تصورات کے ساتھ ساتھ پاکستان میں اسلام پسند اور مغرب کی اندھی تقلید کے علَم برداروں کے درمیان فکری کش مکش سے آگہی‘ نیزدین کے خلاف سازشیں کرنے والوں کے طریقۂ واردات کی تفہیم اور مقابلے کی حکمت عملی سامنے لاتی ہے۔(میاں محمد اکرم)
صُورِ سرافیل، ملک کے ایک نمایاں شاعر‘ جناب منیراحمد کے منظوم کلام کا مجموعہ ہے‘ اور اہل فن وفکر کے لیے لائق مطالعہ کتاب۔ ایک صحیح الفکر شاعر کے طور پر حمد‘ نعت‘ منقبت اور خانۂ کعبہ سے اپنی محبت اور لگائو پر مشتمل نظمیں درج ہیں۔ اس کے بعد اہم اور تاریخی صلحاے اُمت‘ مثلاً قائداعظم‘ علامہ اقبال‘ سیدمودودی‘ وغیرہ کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے‘ اور نظموںکے اس مجموعے کا نام ’شخصیات و تحریکات‘ ہے۔ اگلا عنوان ’اسلام اور مسلمان‘ ہے، جو خاصی تعداد کی نظموں پر حاوی ہے۔ اس کے بعد سیاسیات‘ ادبیاتِ حاضرہ‘ الباقیات الصالحات‘ عالمِ اسلام‘ کیفیات اور غزلیات کے عنوانات سے نظمیں اور غزلیں شامل ہیں۔
ان کے اندازِ تحریر میں اصل بات قدرتِ اظہار ہے۔ وہ جس موضوع پر قلم اٹھاتے ہیں اس میں معقولیت اور استدلال ملتا ہے ‘ نہ کہ محض جذباتیت۔یہ مجموعۂ کلام واقعی مسلم ذہنوں کو جھنجھوڑ کر آمادئہ کار بنانے کے لیے اپنے اندر بہت کچھ مواد رکھتا ہے- بجاطور پر اسے صُورِسرافیل کا نام دیا گیا ہے۔(آسی ضیائی)
’پاکستان ___ خوف‘ دباؤ‘ بیرونی مداخلت…‘ (نومبر ۲۰۰۶ئ) کا یہ جملہ: ’’اتاترک کسی ایک وارگیمز کا اسیر ہوجاتا تو آج ترکی کا کوئی وجود دنیا کے نقشے پر نہ ہوتا‘‘ (ص ۱۳) خوش گوار تاثر دیتا ہے‘ جب کہ واقعہ یہ ہے کہ مصطفی کمال پاشا کے بارے میں خود یورپی‘ یہودی اور ترک ماخذ سے شائع ہونے والی دستاویزات ثابت کرتی ہیں کہ کمال پاشا ایک قوم پرست ہیرو سے زیادہ مغرب کے فکری سامراج کا گماشتہ تھا‘ جسے ہیرو کا درجہ دینے میں خود مغرب نے کردار ادا کیا اور جس نے ترکوں کے جذبات کو اسلامی حوالوں اور قرآن کے نام پر استعمال کیا۔ ترک عرب نسل پرستی کے جذبات کو گہرا کیا اور اسلامی تشخص کو مٹانے کے طاغوتی ایجنڈے کی پاس داری کی۔ آج ۸۲ برس گزر جانے کے باوجود ترکیہ‘ ظالم سیکولرازم کے شکنجے میں پھنسا ہوا ہے۔ وہ یورپی یونین کی طرف بے حال ہوکر لپکتا ہے‘ مگر یورپ اسے دھتکار کر کہتا ہے: ابھی مزید اسلام سے دُور ہٹو۔
اسی طرح اسلامی نظریاتی کونسل کے بارے میں یہ تاثر کہ پہلی بار انھیں اپنے مقام‘ کردار اور استحقاق کا احساس ہوا (ص ۲۰)‘ توجہ طلب ہے۔ اس میں کسی شک و شبہے کی گنجایش نہیں ہے کہ موجودہ اسلامی نظریاتی کونسل‘ اسلامی سے زیادہ تجدد پسند نظریاتی کونسل ہے۔ اس کونسل کے موجودہ چیئرمین اور اکثر ارکان کا فکری قبلہ جنرل مشرف کی کھلنڈرانہ لادینیت اور حددرجہ معذرت خواہانہ جدیدیت سے روشنی پاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس ادارے نے سب سے زیادہ مؤثرانداز میں اپنے مقام‘ کردار اور استحقاق کے شعور کا مظاہرہ جناب تنزیل الرحمن کی صدارت کے دور میں کیا جنھوں نے اس کونسل کی سال ہا سال کی کارکردگی کو رپورٹوں کی صورت میں شائع کرکے بامعنی دبائو بڑھایا (لیکن سیاسی اور صحافتی برادری نے ساتھ نہ دیا)۔ بعدازاں جناب ایس ایم زماں نے بھی بڑی حکمت کے ساتھ اسی سمت میں کام کیا‘ جب کہ موجودہ نظریاتی کونسل کے کرتا دھرتا تو اس کا ۴۴ سالہ ریکارڈ دریابرد کرنے کے مشن پر گامزن ہیں۔
’غیرمسلموں میں دعوت، چند تجربات‘ (نومبر ۲۰۰۶ئ) نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ محترم صوفی محمد اکرم نے اپنے تجربات بیان کر کے دل و دماغ میں فکر کی ایک تیز لہر دوڑا دی ہے۔ خاص طور پر ایک عیسائی کا یہ کہنا کہ مسلمانوں کے مقابلے میں اس کے عیسائی بھائیوں کا کردار بہتر ہے (ص ۸۷) پڑھ کر کانپ کر رہ گیا۔ میری ایک عیسائی سے دوستی ہے‘ لیکن مجھے کبھی انھیں اپنے سچے دین کی طرف مائل کرنے کی توفیق نہیںہوئی۔
’سنیے، آپ کا بچہ آپ سے کچھ کہہ رہا ہے‘ (نومبر ۲۰۰۶ئ) میں غوروفکر اور عمل کے لیے اہم نکات سامنے آئے۔
پروفیسر خورشید احمد صاحب کا مضمون ’جرنیلی آمریت کی تباہ کاریاں‘ (اکتوبر ۲۰۰۶ئ) بہت پسند آیا۔ آپ نے جس خوب صورت اور دلیرانہ انداز کے ساتھ کلمۂ حق بلند کیا ہے اور جرنیلی آمریت کی تباہ کاریوں سے پردہ اٹھایا ہے وہ آپ ہی کا حصہ ہے۔ کئی در وا ہوئے‘ کئی انکشافات سامنے آئے۔ اللہ ہمارے ملک کو جرنیلی آمریت کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھے‘ آمین!
پروفیسر خورشید صاحب کا شیخ ابوبدرؒ (اکتوبر ۲۰۰۶ئ) پر تعزیتی تاثراتی شذرہ خوب ہے مگر عنوان میں تسامح ہوا ہے: ’امام خیرالعمل‘ درست نہیں۔ عربی میں شیخ کو ’رائد العمل الخیری‘ کا لقب دیا جاتا ہے (جس کا مطلب ہے: رفاہی یا رفاہ عامہ کے کاموں کے امام/قائد)۔ اسے اُردو ترکیب میں ڈھالنا مقصود تھا تو امام عمل الخیر یا امام العمل الخیری کہا جاتا‘ جب کہ موجودہ ترکیب کا مفہوم ہے: (خیرالعمل یعنی)نماز کے امام۔ اس لیے کہ ’خیرالعمل‘ نماز سے استعارہ ہوتا ہے!
خرم مرادؒ کے شہ پارے ایمان کو تازگی اور یقین کو ثبات و استحکام اور دلوں کو زندگی بخشنے والے ہیں۔ یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔
’رمضان المبارک ‘ (اکتوبر ۲۰۰۶ئ) ایمان افروز مضمون تھا‘ تاہم اس میں فتح مکہ کی تاریخ ۱۰ رمضان ۸ھ لکھی گئی ہے جوغلط ہے۔ مکہ ۲۱ رمضان کو فتح ہوا۔ (سیرت ابن ہشام‘ الرحیق المختوم)
’عید سعید: چند غورطلب پہلو‘ (اکتوبر ۲۰۰۶ئ) میں جن چار راتوں کی فضیلت بیان کی گئی ہے‘ صحیح نہیںہے‘ ایسی تمام روایات کا تعلق ضعیف‘ مجہول‘ منکر وغیرہم سے ہے اور سب کو فقہاے کرامؒ اور محدثینؒ نے موضوعات میں شامل کیا ہے۔ ان میں رمضان المبارک کی راتوں اور خاص کر لیلۃ القدر کا ذکر نہیں ہے جس کی تلاش میں رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا جاتا ہے۔
جو انسان خدا سے ڈرتا ہے وہ خدا کے سوا کسی چیز سے نہیں ڈرتا۔ خدا کے ڈر کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ دوسرے تمام خطروں اور اندیشوں کو دل سے نکال پھینکتا ہے۔ انسان کہیں بھی ہو اور اس کے آگے کتنے ہی خطرات و مصائب پرے جمائے کھڑے ہوں لیکن اگر خدا کا یقین اور اس کا خوف اس کے اندر موجود ہے تو وہ اپنے آپ کو فوجوں کے جلو اور لشکروں کی حفاظت میں سمجھتا ہے۔ اس خوف سے جو بے خوفی انسان میں پیدا ہوتی ہے اس کی خاص خصوصیت اور برکت یہ ہے کہ وہ بے خوفی کے باوجود کہیں بال برابر بھی انصاف اور سچائی سے انحراف نہیں کرتا… اس بے خوفی کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ یہ مادی سازوسامان اور تعداد کی کثرت و قلت پر منحصر نہیں ہوتی۔ وہ کثرت کے اندر بھی باقی رہتی ہے اور قلت کے اندر بھی قائم رہتی ہے۔ یہ نہیں ہے کہ جہاں تعداد زیادہ ہوئی وہاں شیروں کی طرح بہادر بن گئے اور جہاں تعداد کم ہوئی وہاں بھیڑوں کی طرح بھاگ کھڑے ہوئے...
اس چیز [بے خوفی] کے پیدا کرنے میں اصلی دخل آپ کی سیرت کو ہے نہ کہ آپ کی زبان کو۔ اس وجہ سے اپنی سیرت کی نگرانی کرنی چاہیے کہ اس کے اندر خوف اور بزدلی کے اثرات سرایت نہ کرنے پائیں۔ آپ اپنے دل کو جس قدر مضبوط کرنا چاہیں اسی قدر اپنے معاملے کو خدا سے صاف رکھیں۔ آپ کا معاملہ اللہ سے جس قدر صاف ہوگا اس قدر آپ کو خدا پر اعتماد‘ اور اس سے حُسنِ ظن ہوگا اور جس قدر اللہ تعالیٰ سے آپ کا حُسنِ ظن بڑھے گا اسی قدر آپ کی قوت قلب میں اضافہ ہوگا۔ جو لوگ خدا کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگی نہیں بسر کرتے ان کو نہ تو خدا پراعتماد ہوتا نہ اس سے حُسنِ ظن اور اسی وجہ سے وہ برابر خوف و ہراس میں مبتلا رہتے ہیں۔ خدا سے مایوسی اور بدگمانی کی وجہ سے ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ خدا سے روٹی مانگتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ پتھر دے گا اور مچھلی کی طلب کرتے ہیں اور ڈرتے ہیں کہ وہ سانپ بھیجے گا۔ آپ اپنے دل کو اس طرح کے وسوسوں سے پاک رکھیے۔ جس جگہ ہیں‘ دل‘ دماغ اور ہاتھ پائوں کی قوتیں جس قدر ساتھ دیں خدا کا کلام کرتے رہیے۔ جو سپاہی اپنی ڈیوٹی پر ہے وہ اپنے مالک کی طرف سے اپنی مزدوری کا بھی مستحق ہے اور اپنی حفاظت کا بھی۔ اور اللہ تعالیٰ نہ مزدوری دینے میں بخیل ہے نہ حفاظت کرنے میں کمزور۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ آپ جس ماحول میں بھی ہوں ایک سچے مسلم کی زندگی بسر کیجیے۔ (’اشارات‘، مولانا امین احسن اصلاحی‘ ترجمان القرآن‘ جلد ۳۰‘ عدد ۱‘ محرم ۱۳۶۶ھ‘ دسمبر ۱۹۴۶ئ‘ ص ۱۰-۱۱)