’’مغربی تہذیب کی یلغار‘‘ (ستمبر ۲۰۰۴ئ) میں مغرب کی اسلام کے خلاف سازشوں کو بخوبی بے نقاب کیا گیا ہے اور مقابلے کے لیے حکمت عملی اور لائحہ عمل بھی دیا گیا ہے جس کے دور رس اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
مضمون میں جہاں مسلمانوں کے لیے فکروتدبر کے کئی زاویے ہیں وہاں مغربی‘ خصوصاً امریکی عوام و خواص کے لیے غوروفکر کے متعدد نکات ہیں کہ اگر وہ انھیں سمجھ لیں تو بین الاقوامی تعلقات خصوصاً مسلم-مغرب تعلقات میں خوش گوار تبدیلی آسکتی ہے۔ اس مضمون کو انگریزی زبان میں منتقل کر کے وسیع پیمانے پر اشاعت کی ضرورت ہے۔
’’تعلیم کا استعماری ایجنڈا اور آغا خان بورڈ‘‘ (ستمبر ۲۰۰۴ئ) نہایت اہم اور فکرانگیز مضمون ہے۔ مستقبل سے بے نیاز حکمرانوں کو یقینا اس بارے میں سوچنا چاہیے۔ پارٹی تعصبات کو بالاے طاق رکھتے ہوئے تمام ارکانِ پارلیمنٹ کو اس مسئلے کے خلاف مثبت قدم اٹھانا چاہیے وگرنہ آیندہ نسلیں ایسے موقع پرست حکمرانوں اور سیاست دانوں کو کبھی معاف نہیں کریں گی۔
آغا خان امتحانی بورڈ کے اثرات اور نتائج پر بڑی بالغ نظری کے ساتھ خیالات کااظہار کیاگیا ہے لیکن آغا خان امتحانی بورڈ کی گاڑی اب اتنی دور جاچکی ہے کہ اُسے پیچھے ہٹانا اب شاید ممکن نہیں رہا۔
آغا خان یونی ورسٹی امتحانی بورڈ کا آرڈی ننس نومبر ۲۰۰۲ء میں نافذ ہوا اور اسے ۱۷ویں آئینی ترمیم میں تحفظ بھی مل چکا۔ اس لیے یہ سب کچھ بعد ازمرگ واویلا کی بات ہے۔ نوازشریف کی حکومت میں منظور کی جانے والی ۱۹۹۸ء کی ایجوکیشن پالیسی کے تحت یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ آغا خان یونی ورسٹی نے امتحانی بورڈ کے لیے درخواست بھی ۱۹۹۹ء میں دی تھی۔ قومی سوچ رکھنے والی قوتوں نے اس طرف توجہ نہ دی اور اب‘ جب کہ بیج درخت کی شکل اختیار کرچکا ہے تو واویلا کرنے کا کیا فائدہ۔ اب تو جو کچھ ممکن ہے وہ یہ ہے کہ: ۱-آغا خان یونی ورسٹی امتحانی بورڈ کو پابند کیا جائے کہ وہ قومی نصابِ تعلیم کے مطابق امتحان لے۔ ۲- آغا خان یونی ورسٹی امتحانی بورڈ‘ انٹربورڈ کمیٹی آف چیئرمین (IBCC) جو وفاقی وزارتِ تعلیم کا سپروائزری ادارہ ہے کی چھتری کے تحت کام کرے اور انھی قوانین و ضوابط کی پابندی کرے جن کی تمام قومی امتحانی بورڈز پابندی کرتے ہیں۔ ۳-انٹربورڈ کمیٹی آف چیئرمین کا درجہ بڑھایا جائے اور اسے ریگولٹیری اتھارٹی کا درجہ دیا جائے اور اسے تمام قومی تعلیمی بورڈ بشمول آغا خان یونی ورسٹی امتحانی بورڈ کو ریگولیٹ کرنے کا اختیار دیا جائے۔
’’ہرفرعونے را موسیٰ،ہرکمالے را زوال‘‘ (ستمبر ۲۰۰۴ئ) میں برطانیہ کے بادشاہ لُوئی چہاردہم کا ذکر کیا گیا ہے۔ مصنف سے سہوِ قلم ہوگیا ہے۔ برطانیہ کی پوری تاریخ میں نہ تو لُوئی نام کا کوئی بادشاہ گزرا ہے‘ اور نہ ان برطانوی بادشاہوں میں ایک ہی نام کے آٹھ سے زیادہ بادشاہ ہوئے ہیں۔ درحقیقت لوئی چہاردہم فرانس کا حکمراں تھا ‘ اور اسی کی طرف یہ جملہ منسوب ہے: I am the state
’’تصنیفی تربیت کا ایک تجربہ‘‘ (ستمبر۲۰۰۴ئ) پڑھ کر دلی خوشی ہوئی کہ چلو ۴۰ سال بعد سہی‘ ادارہ معارف اسلامی لاہور نے آخرکار کم از کم اپنا پہلا قدم تو اٹھا ہی لیا۔
ترجمان القرآن کی آیندہ پالیسی اور ہدف یہ ہونا چاہیے کہ پاکستان کو امریکی اثرونفوذ سے کیسے آزاد کرایا جائے؟ جمہوریت کو فوج اور ایجنسیوں کی مداخلت سے کیسے محفوظ رکھا جاسکتا ہے تاکہ حقیقی شورائیت کی بنیاد پرملک کو صحیح قیادت مل سکے؟ صاف اور شفاف انتخابات کے لیے قانونی اور انتظامی امور پر موجودہ نظام میں کن تبدیلیوں کی ضرورت ہے؟
ان موضوعات پر مفکرین و محققین سے خصوصی طور پر مقالے لکھوائے جائیں‘ اسٹڈی سرکلز کا انعقاد ہو‘ مختلف جامعات کے اساتذہ کو بلاکر ورکشاپ ہو اور آیندہ کے لیے قلیل المدت اور طویل المدت منصوبۂ کار قوم کے سامنے پیش کیا جائے۔ اس وقت کسی حد تک تاثر ابھرتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وقتی ضرورتوں کے مطابق فیصلے ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں امریکی استعمار پاکستان میں مزید طاقتور ہو رہا ہے۔
ترجمان میں شائع ہونے والی تحریریں فطری اور علمی اعتبار سے بامعنی اور پُرافادیت ہوتی ہیں اور پرچے کا صوری حسن بھی اطمینان بخش اور لفظی و املائی صحت بھی قابلِ داد--- مگر ستمبر کے شمارے میں صحتِ املا سے غفلت نمایاں ہے‘ مثلا: ھدیہ (ہدیہ)‘ بھروسہ (بھروسا)‘ سائے (ساے)‘ چھ (چھے) وغیرہ--- یہ صحت املا کے اصولوں کی خلاف ورزی یا لاپروائی کیوں؟ ان اصولوں سے اشتہاروں کی عبارات کیوں مستثنیٰ ہیں؟
ہمارے ملک میں تعلیم یافتہ آدمیوں کی جتنی کمی ہے‘ اُس سے بہت زیادہ کمی تربیت یافتہ آدمیوں کی ہے۔ مجھے اکثر یہ چیز بڑے رنج کے ساتھ محسوس ہوتی ہے کہ ہمارے اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ بھی‘ خواہ وہ قدیم نظامِ تعلیم سے تعلق رکھتے ہوں یا جدید نظامِ تعلیم سے‘ بالعموم اخلاق و شایستگی اور مہذب عادات اور ضبط و نظم کی بالکل ابتدائی اور بنیادی تربیت سے بھی عاری ہوتے ہیں‘ اور اس کی وجہ سے کوئی اعلیٰ درجے کی جماعت جو کسی نصب العین کے لیے جدوجہد کرسکے‘ اس ملک میں بنانی نہایت مشکل ہوتی ہے۔ جن قوموں میں اجتماعی تربیت کا نظام مکمل موجود ہے ان کی حالت یہ ہے کہ ان میں بیشتر افراد مہذب اور منظم زندگی کی بنیادی تربیت حاصل کیے ہوتے ہیں‘ اور جو شخص کوئی خاص تحریک ان کے اندر جاری کرنا چاہتا ہو اسے ان بنے اور سنورے ہوئے آدمیوں میں صرف اپنی تحریک کے لحاظ سے مناسب اوصاف پیدا کرنے کی سعی کرنی پڑتی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں یہ بڑی دشواری ہے کہ انسانیت کی بنیادی تربیت ہی بڑی حد تک مفقود ہے‘ اور یہاں اگر کسی خاص نصب العین کے لیے جدوجہد کرنی مقصود ہو تو آدمی کو بالکل ناتراشیدہ مواد خام ملتا ہے جسے بالکل نئے سرے سے تراشنے اور سنوارنے کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنے نظامِ تعلیم میں دماغی تربیت سے زیادہ اخلاقی تربیت کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمیں اپنی اس دعوت کے لیے صحیح قسم کے کارکن میسر آسکیں جن کی نایابی کی وجہ سے ہمارا یہ کام ہماری انتہائی کوششوں کے باوجود آگے نہیں بڑھ رہاہے۔
اس سلسلے میں ایک بات اور بھی ملحوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ وہ یہ کہ اس وقت ہم کسی ملک کے انتظام کا چارج نہیں لے رہے ہیں کہ ہمیں اپنے نظامِ تعلیم میں ان تمام ضرورتوں کے لیے آدمی تیار کرنے ہوں جو ایک ملک کے تمدن کی پوری مشینری کو چلانے میں پیش آتی ہیں۔ ہمارے سامنے اِس وقت صرف ایک کام ہے اور وہ یہ ہے کہ دنیا میں اخلاقی‘ فکری اور عمرانی انقلاب برپا کرنے کے لیے موزوں لیڈر اور کارکن تیار کریں۔ اس کام کے لیے ڈاکٹری یا انجینیرنگ یا سائنس وغیرہ کے ماہرین کی ضرورت نہیں ہے‘ بلکہ صرف ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو دین اسلام اور علومِ اجتماعیہ (social sciences) میں اعلیٰ درجے کی بصیرت رکھتے ہوں۔ آگے چل کر جیسا جیسا ہماری کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہوتا جائے گا اور ہمارے اوپر ذمہ داریوں کا جتنا جتنا بار بڑھتا جائے گا‘ اس کے لحاظ سے جن جن علمی شعبوں کے اضافے کی ضرورت ہوگی‘ ان کا اضافہ ہم کرتے جائیں گے۔ (’’روداد مجلس تعلیمی‘‘، میاں طفیل محمد‘ ترجمان القرآن‘ جلد ۲۵‘ عدد ۱-۴‘ رجب تا شوال ۱۳۶۳ھ‘ جولائی تا اکتوبر ۱۹۴۴ئ‘ ص ۱۰۶-۱۰۷)