’’عالمی امریکی استعمار ‘ اُمت مسلمہ اور پاکستان‘‘ (مئی ۲۰۰۳ئ) میں ایک جگہ لکھا گیا ہے: ’’فردِواحد کو آئین جیسی مقدس اور محترم دستاویز میں ٹاٹ کا پیوند لگانے کی اجازت نہیں‘‘۔اس سلسلے میں عرض ہے کہ مسلمانوں کا مقدس اور محترم آئین صرف قرآن ہے۔ جمہوری ملک کا آئین کبھی بھی مقدس نہیں ہو سکتا کیونکہ اس میں انسانوں کا عمل دخل شامل ہوتا ہے۔
’’امریکی برطانوی مصنوعات کا بائیکاٹ‘‘ (مئی ۲۰۰۳ئ) میں اُمت مسلمہ کے نفع نقصان پر خوب روشنی ڈالی گئی ہے۔ البتہ یہ بائیکاٹ اس وقت کامیاب ہوگا جب متبادل مشروبات و مصنوعات مارکیٹ میں آجائیں۔ ملکی صنعت کاروںکو اس طرف توجہ دینی چاہیے اور اس موقع کو بھرپور استعمال کرنا چاہیے۔مسلمان اس وقت حالت ِ جنگ میں ہیں۔ لہٰذا زندگی کو سادہ سے سادہ بنانے کی ضرورت ہے۔ ترجیحات کا تعین کرکے جن اشیا کے بغیر گزارہ ہو سکتا ہے ان کا استعمال بند کر دیں‘ نیز سامان تعیش کو بالکل ترک کر دیں۔ حکومت بھی آگے بڑھ کر اقدام کرے۔ ’’بغداد کا المیہ: چند سبق‘‘ میں اقبال کا شعر٭(ص ۶۶) غلط شائع ہوگیا ہے۔
ہے عیاں یورشِ تاتار کے افسانے سے پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
’’خصائص سیدالانامؐ‘‘ (مئی ۲۰۰۳ئ) بہت موثر مضمون ہے۔ معلومات افزا بھی ہے اور فکرافروز بھی‘ نیز اسلوب نگارش بھی پُرتاثیر ہے۔ البتہ رسالت کی شہادت کے ضمن میں مصنف نے جن روایات کا سہارا لیا ہے استنادی پہلو سے وہ خاصی کمزور ہیں۔ سید سلیمان ندویؒ نے ایسی روایات کی صحت پر سیرت النبیؐ جلد سوم میں تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ ترجمان کا دامن اگر ضعیف روایات سے پاک رہے تو زیادہ اچھا ہے۔
وقت ‘ اللہ تعالیٰ کا ایک بیش بہا عطیہ ہے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر حسن صہیب مراد کے مضامین: (اپریل‘ مئی ۲۰۰۳ئ) نہ صرف دل چسپ ہیں بلکہ ان میں عملی باتوں کے ساتھ فکری رہنمائی بھی ہے‘ نیز تحقیقی لوازمہ ہے اور فلسفیانہ تناظر بھی۔
’’بغداد کا المیہ : چندسبق‘‘ اور ’’القدس براستہ بغداد‘‘ (مئی ۲۰۰۳ئ) بے حد معلومات افزا اور حقائق پر مبنی ہیں۔ یہود و نصاریٰ کی اسلام دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ ملت اسلامیہ اور خصوصاً اس کے حکمرانوں کو اگر اب بھی ہوش نہیں آیا‘ اور اسلام کو صرف اپنے مفاد اور مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے تو وہ بھی صدام حسین کی طرح نشانِ عبرت بنا دیے جائیں گے!
’’کلام نبویؐ کی کرنیں‘‘ (اپریل ۲۰۰۳ئ) میں لکھا گیا ہے: ’’امیرالمومنین حضرت عمرؓ کو ایک مجوسی نے شہید کیا اور اس نے خودکشی کر لی۔ لیکن خود حضرت عمرؓنے ارشاد فرمایا کہ مدینہ کے مجوسیوں کو کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے۔ چنانچہ مدینہ میںکسی مجوسی کی نکسیر تک نہیں پھوٹی‘‘ (ص۳۳)۔ حالانکہ یہ بات خلافِ حقیقت ہے۔ بے شک حضرت عمرؓ نے بدلہ نہ لینے کا حکم دیا تھا مگر حضرت عمرؓکے صاحبزادے حضرت عبیدؓاللہ نے جوشِ انتقام میں حضرت عمرؓکے قاتل کی بیٹی‘ ایرانی سپہ سالار ہرمزان (جو گرفتار ہوکر مدینہ آئے اور پھر اسلام قبول کرکے وہیں بس گئے‘ یہ حضرت عمرؓ کے جنگی مشیر بھی تھے) اور ایک دوسرے مجوسی سمیت تین افراد کو قتل کر دیا تھا۔ بے شک یہ انتقام ایک بیٹے کی طرف سے تھا۔اسلامی حکومت یا اس کا کوئی اہلکار اس کام میں شریک نہیں تھا مگر یہ کہنا کہ ’’کسی کی نکسیر تک نہیں پھوٹی‘‘ خلافِ حقیقت ہے۔
گذشتہ ماہ تحریک اسلامی کے روشن ستارے ایک کے بعد ایک جہانِ فانی سے رحلت فرما گئے۔اناللّٰہ وانا الیہ راجعون۔ مولانا گوہر رحمن‘ مولانا مصاحب علی‘ مولانا جان محمد عباسی کے سانحات ارتحال دل و دماغ پر گہرے زخم لگا گئے۔ آسمانِ دنیا پر روشن کردار و خیالات کے یہ روشن آفتاب بجھ گئے۔ نصف صدی سے انسانیت کے یہ معمار پیہم محنت اور لگن کے ساتھ اسلام‘ تحریک اسلامی اور پاکستان کی خدمت کرتے آ رہے تھے۔ ہم اندازہ نہیں کرسکتے کہ کتنا بڑا نقصان ہوگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان رجال صادقون سے راضی ہو۔
محترم قاضی حسین احمد کی تحریر ’’عالمی امریکی استعمار‘ اُمت مسلمہ اور پاکستان‘‘ کی روشنی میں اُمت کی بیداری کا خواب حقیقت بنتا نظر آ رہا ہے۔ پروفیسر خورشیداحمد کے مقالے ’’بغداد کا المیہ: چند سبق‘‘ میں حکمرانوںاور عوام کے لیے یکساں سبق پوشیدہ ہیں۔ ’’اُمت کی تربیت‘‘ نے تو مایوسی کے سایے ختم کر دیے۔ ڈاکٹر حسن صہیب مراد کے مضمون: ’’وقت: اسلامی تصورات‘‘ نے دیرینہ آرزو پوری کر دی کہ دینی مضامین سائنٹفک انداز میں آئیں۔ اس مضمون کا انگریزی ترجمہ ہو تو خاصے کی چیز ہوگی۔
ترجمان القرآن کے لیے ایک تجویز ہے۔ ایک حصہ تحقیقی‘ تنقیدی‘ فکری‘ علمی ہو۔اس میں اسی زبان میں مضامین ہوں۔ دوسرا حصہ آسان ‘عام فہم‘ دل چسپ اور رواں بیان اور زبان میں ہو۔ اب سوال اٹھے گا کہ ترجمان کا آغاز اور مقصد کیا تھا۔ دو باتیں ہیں: اس وقت دوسرا حصہ خطبات‘ سلامتی کا راستہ وغیرہ کی شکل میں آجاتا تھا۔ دوسرے‘ اس وقت غالباً پہلے حصے کی زیادہ ضرورت اور طلب تھی۔ اب حالات بدل چکے ہیں۔ دوسرے حصے کی بہت زیادہ ضرورت ہے اور آبادی کی طلب بھی ہے۔ اس کا طالب کہاں جائے اور کس طرح آپ کے پاس آئے!
ترجمان القرآن کے مندرجات تو سب ہی اپنی اپنی جگہ پر اچھے ہوتے ہی ہیں‘ مگر ’’مدیرکے نام‘‘ آئے ہوئے خطوط کے اقتباسات سے بھی ہوا کے رُخ کا پتا چلتا ہے۔ہماری صفوں میں یہ فیشن چل پڑا ہے کہ ہر بات کی ذمہ داری اوروں پر ڈال دیتے ہیں اور یہ بھی اکثر کہا جاتا ہے کہ ’’ہمارے دشمنوں نے کیا کیا سوچ رکھا ہے اور ان کی کیسی گہری چالیں ہیں‘‘۔ خدارا سوچیے کہ سوا ارب مسلمانوں کوآخر کس نے روک رکھا ہے کہ وہ جذباتیت کی فضا سے نکل کر ٹھوس اور جامع اور دور رس منصوبہ بندی کریں۔ آج اور کل نہیں بلکہ آیندہ دس‘ بیس اور پچاس برسوں کی منصوبہ بندی کریں۔ افسوس کہ اغیار کے تھنک ٹینک جو سوچتے ہیں اور جو ideas وہ ہمیں ’’فروخت‘‘کرتے ہیں ہم اُن پر ردعمل کرنے لگتے ہیں۔ آگے بڑھنے اور پیش بینی کرنے کی ضرورت ہے۔خطرات کی نشان دہی ضروری ہے مگر روشن مستقبل کیسے حاصل ہو سکتا ہے‘ اس کی منزلوں کی نشان دہی اور راستے کے نقوش بھی بتانے کی ضرورت ہے۔ورنہ تو پھر ہم صرف ایک reactive (ردعمل کا مظاہرہ کرنے والی ) قوت بن کررہ جائیں گے حالانکہ مسلمان تو pro-ctive (آگے بڑھ کر اقدام کرنے والا) ہوتا ہے۔ اُس کا دین اُسے ہمیشہ آنے والے دن اور حالات کے لیے تیار کرتا ہے۔
فوجوں کی نقل و حرکت‘ منظم جماعتوں کی سرگرمیاں اور بڑے بڑے اداروں کے کام دیکھ کر عموماً لوگ یہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ اصل چیز جماعتی تنظیم ہے‘ افراد چاہے جیسے بھی ہوں‘ تنظیم اگر مکمل اورمستحکم ہے تو کامیابی اس کے قدم چوم کر رہتی ہے۔ اسی طرح اجتماعی نظامات کی قیل و قال اور مختلف اجتماعی فلسفوں کی کاغذی بحثیں سن کر اور پڑھ کر بہت سے لوگ اس غلط فہمی میں پڑ جاتے ہیں کہ اجتماعی نظام ہی سب کچھ ہے‘ وہ اگر صحیح اور منصفانہ ہو اور پُرزور جدوجہدسے قائم کر دیا جائے تو انسانیت کی فلاح یقینی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف تنظیم‘ تنظیم کا شور برپا ہے اور دوسری طرف اجتماعی نظاموں پر سرگرم علمی و نظری بحثیں ہو رہی ہیں۔ گویا ایک اچھی منظم جماعت کا وجود میں آجانا اور ایک مکمل اجتماعی نظام کو پالنا ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔ حالانکہ درحقیقت جماعتی تعلیم ہو یا اجتماعی نظام‘ اس کی صحت اور اس کے بقا و استحکام کا سارا انحصار اُن افرادکی سیرت و کردار پر ہوتا ہے جو اس ظاہری عمارت کے اندر اینٹوں کی طرح جوڑے جاتے ہیں۔ اگرچہ ضبط و نظم کے قاعدے اور اجتماع کے اصول بھی اپنے اندر بہت کچھ اہمیت رکھتے ہیں‘ لیکن سیلابِ حوادث کا اصل مقابلہ اور عملی زندگی کی آزمایشوں کا حقیقی سابقہ قاعدوں اور اُصولوں سے نہیں بلکہ ان کو چلانے والے افراد سے پیش آتا ہے۔ دنیا کی امتحان گاہ میں ضابطے اور اصول نہیں اُترتے‘ افراد اُترتے ہیں اور انھی کی طاقت وہ آخری طاقت ہوتی ہے جس پر امتحان کے فیصلے کا مدار ہوتا ہے۔ جماعتی ضبط خواہ کتنا ہی مکمّل ہو اور اجتماع کے اصول چاہے کتنے ہی صحیح ہوں‘ لیکن اگر انفرادی سیرتیں عمدہ اور پختہ نہ ہوں تو نہ ضابطے اور قاعدے کسی کام آتے ہیں نہ اصول۔ زمانے کا طوفان بندکی ایک ایک اینٹ کوآزماتا ہے اور جہاں چند کمزور اینٹیں اُسے مل جاتی ہیں وہیں سے رخنہ پیدا کر کے اپنا راستہ نکال لیتا ہے‘ پھر نہ انجنیری کے وہ اصول کچھ بنا سکتے ہیں جن سے بند کی تعمیرمیں کام لیا گیا ہو اور نہ وہ بندشیں ہی سیلاب کا منہ پھیرسکتی ہیں جن سے اینٹوں کو جوڑا گیا ہو۔ (’’اشارات‘‘، ابوالاعلیٰ مودودی‘ ترجمان القرآن‘ جلد ۲۲‘ عدد ۶‘ جمادی الآخر ۱۳۶۲ھ‘ جون ۱۹۴۳ئ‘ ص ۳)