گذشتہ صدی عیسوی کے دوران‘ جنوب مشرقی ایشیا میں جس عالم دین کو سب سے زیادہ علما کی منفی اور سوقیانہ تنقید کا سامنا کرنا پڑا‘ وہ مولانا مودودی رحمتہ اللہ علیہ تھے۔اس تنقید یا تنقیص میں دلیل کم‘ اور تعصب کا عنصر زیادہ تھا۔ اس کے باقیات اب بھی کسی نہ کسی شکل میں سامنے آتے رہتے ہیں۔
مولانا عامر عثمانی ؒ فاضل دیوبند‘ علامہ شبیر احمد عثمانی ؒکے بھتیجے‘ مولانا حسین احمد مدنی ؒکے شاگرد اور دیوبند سے شائع ہونے والے ماہ نامہ تجلّی کے مدیر شہیر تھے۔ انھوں نے اس افسوس ناک صورت حال میں سچائی کا دفاع کرنے اور فاول پلے کو روکنے کے لیے اپنے علم و فضل کے ساتھ ساتھ‘ حیرت انگیز حد تک ثابت قدمی سے کام لیا۔ مولانا مودودی پر حملہ آور قوتوں کے بارے میں انھوں نے پتے کی بات کہی ہے: ’’جس طرح ’’کوکا کولا‘‘ پینا ایک فیشن بن گیا ہے‘ اسی طرح مولانا مودودی کی تحریر و تقریر پر اعتراض بھی کئی حلقوں میں داخل فیشن ہو گیا ہے‘‘ (ص ۱۷۷)۔ ’’بلاشبہہ غلطیاں شبلیؒ ، اور ابوالکلام ؒاور مودودیؒ اور غزالیؒ اور ابوحنیفہؒ سب سے ہو سکتی ہیں‘ مگر ان کی نشان دہی اور اثبات کے لیے تقویٰ اور تبحر اور بیدار مغزی چاہیے اور طنز و تحقیر سے پرہیز ضروری ہے‘‘ (ص ۵۹-۶۰)
وہ کہتے ہیں: ’’میرے نزدیک مودودی کی دوستی اور دشمنی کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ میں مودودی صاحب کی حیثیت اس سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتا کہ وہ اللہ کے ایک بندئہ ناہیچ ہیں‘ وہ قرآن و سنت کے مطابق کہیں توجان و مال سے قبول‘ خلافِ قرآن و سنت کہیں تو ہزار بارردّ۔ یہی طریقہ میرے اسلاف کا رہا ہے۔ تمھیں عقل و انصاف اور دیانت و شرافت کے معیار وں پر توجہ کرنی چاہیے۔ تم جو چُھرا اپنے خیال میں مولانا مودودی کی عظمت و عزت کے سینے میں گھونپتے ہو‘ وہ فی الحقیقت اللہ کے دین اور دعوت حق اور تحریک اسلامی کے سینے میں گھونپتے ہو‘‘۔ (ص ۲۳۳-۲۳۴)
ان احساسات کے ساتھ انھوں نے تفہیم القرآن پر اعتراضات کا تجزیہ کیا تھا‘ جسے رسالہ تجلّی سے اخذ ومرتب کر کے جناب سید علی مطہر نقوی نے زیرتبصرہ کتاب کی صورت میں پیش کر دیا ہے۔
انوارالباری کے مصنف مولانا سید احمد رضا بجنوری کی جانب سے تفہیم میں نسائھن کے ترجمے پر اعتراض وارد کیا گیا اور پھر عجیب و غریب اسلوب میں کھینچاتانی کی گئی ‘ جس کے طول و عرض کا اندازہ جناب عامر عثمانی کے علمی تجزیے سے ہوتا ہے۔ عثمانی مرحوم نے اس اعتراض کا تجزیہ کرتے ہوئے تقریباً چالیس صفحات میں سلف و خلف سے نظائر پیش کر کے اعتراض کے کھوکھلے پن کو علمی سطح پر بے نقاب کیاہے۔
اسی طرح بجنوری صاحب‘ مولانا مودودی کے ایک پارئہ تشریح کو ہدف تنقید بناتے ہیں جس میں مولانا مودودی نے لکھا ہے: ’’عام طور پر یہ جو مشہور ہو گیا ہے کہ شیطان نے پہلے حضرت حوا کو دامِ فریب میں گرفتار کیا اور پھر انھیں حضرت آدم ؑکو پھانسنے کے لیے آلہ کار بنایا‘قرآن اس کی تردید کرتا ہے… بہ ظاہر یہ بہت چھوٹی سی بات معلوم ہوتی ہے‘ لیکن جن لوگوں کو معلوم ہے کہ حضرت حوا کے متعلق اس مشہور روایت نے دنیا میں عورت کے اخلاقی‘ قانونی اور معاشرتی مرتبے کو گرانے میں کتنا زبردست حصہ لیا‘ وہی قرآن کے اس بیان کی حقیقی قدروقیمت سمجھ سکتے ہیں‘‘۔ (تفہیم القرآن‘ ج ۲‘ ص ۱۶)
مولانا بجنوری نے اس ٹکڑے کو مولانا مودودی کی ’’تجدد پسندی‘‘ اور ’’مساوات مرد و زن کی علم برداری‘‘ قرار دے کر جو انداز سخن اختیار کیا‘وہ پڑھ کر انسان حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔ موصوف نے مولانا مودودی کو ردّ کرنے کے جوش میں عورت کی تذلیل اور ’’فطری گھٹیا پن‘‘ کو ثابت کرنے کے لیے اسرائیلیات کے انبار اور ذخیرۂ حدیث سے مختلف ٹکڑوں کو استعمال کرنے کی ایک افسوس ناک روش اختیار کی جسے عامرعثمانی نے وسیع نظائر اور مضبوط دلائل سے واضح کیا۔ وہ لکھتے ہیں: ’’پھر ]مولانا بجنوری نے[ عورتوں کو مرد کے مقابلے میں زیادہ مکار‘ کم رتبہ اور گھٹیا ثابت کرنے کے لیے جن روایات کا سہارا لیا ہے… ان کا مطلب وہ ہے ہی نہیں‘ جو ]مولانا بجنوری[ زبردستی نکال رہے ہیں‘‘ (ص ۷۱)۔
کتاب کا دوسرا باب بھی بڑا معرکہ آرا ہے۔ مولانا مودودی نے آدم ؑ کی پسلی سے حضرت حوا کی ولادت والی روایات سے اختلاف کیا ہے۔ بعض علما نے مولانا مودودی کی اس رائے پر جو خاک اڑائی اس کا تجزیہ کرتے ہوئے‘ عامر عثمانی مرحوم نے دلائل و براہین کے ذریعے معترض حضرات کے داخلی تضاد کو نمایاں کیا۔
باب سوم میں‘ تفہیم القرآن کے بعض دوسرے حصوں پر وارد کیے جانے والے اعتراضات و اشکالات پر سیرحاصل بحث کی گئی ہے۔ جناب عثمانی ہر اعتراض کو علمی ذخیرے کی میزان پر تولتے اور اعتراض کے داخل و خارج کو موضوع بحث بناتے ہیں۔ ان مباحث میں انھوںنے متعدد احادیث کے متن اور نتائج پر ایسی اعلیٰ درجے کی بحث کی ہے کہ ان کے اسلوب بحث و بیان پر بعض اوقات مولانا امین احسن اصلاحیؒ کے لہجے کا گمان گزرتا ہے۔
یہ مجموعۂ مضامین ‘ایک طرف مولانا مودودی کے معترضین کے فکروکلام کی کج روی کو واضح کرتا ہے‘ دوسری طرف مولانا مودودی کی سلامتِ فکر ‘اور اس کے ساتھ ہی عامر عثمانی مرحوم کے تبحرِ علمی اور قدرتِ بیان کا ایک اَن مٹ نقش بھی مرتب کرتا ہے۔ (سلیم منصور خالد)
یہ ’’آیات قرآنی کا موضوع وار جامع اشاریہ‘‘ ہے۔ آیات قرآنی کے اردو تراجم (اقتباسات) کو مع حوالہ سورہ اور آیت‘ مختلف عنوانات کے تحت جمع کیاگیا ہے۔ مضامین یا عنوانات اس قسم کے ہیں: اتحاد‘ اجر‘ احسان‘ اخلاق‘ اذان‘ تاریکی‘ تبلیغ‘ تجارت‘ تخلیق‘ بارش‘ بادل‘ بجلی‘ بدعت‘ چوری‘ چاند‘ جھوٹ‘ جہنم ‘ جہالت وغیرہ--- بعض عنوانات غیر اہم‘ مبہم اور ضمنی ہیں‘ جیسے: ہوا‘ برکت‘ باغ‘ بچپن‘ تاریکی‘ دودھ‘ جوانی‘ سفر--- ایسے موضوعات کی بذات خود کوئی اہمیت نہیں‘ ان کی معنویت کسی دوسرے اہم موضوع کے تحت ہی بنتی ہے۔ اس کے برعکس بعض بنیادی موضوعات کو عنوانات نہیں بنایا گیا‘ جیسے: آخرت‘ انفاق ‘ حشر یا قیامت وغیرہ۔
اصلاً یہ ایک مفید کام ہے لیکن اس کے لیے جو خاطرخواہ توجہ‘ باریک بینی اور محنت و کاوش درکار تھی‘ اس میں کچھ کمی رہ گئی چنانچہ بعض باتیں کھٹکتی ہیں۔بہت سی آیات ‘ صحیح عنوانات کے تحت نہیں ہیں‘ مثلاً: ص ۴۷ پر آیت ’’اور جو لوگ سونا چاندی جمع...‘‘ عنوان: ’’بشارت‘‘ کے تحت نہیں، ’’بخل‘‘ یا ’’کنجوسی‘‘ کے تحت آنی چاہیے تھی۔ ص ۷۹ پر ’’ختم نبوت‘‘ کے تحت پہلی دونوں آیتوں کا‘ عنوان سے کوئی تعلق نہیں‘ ان کا عنوان ’’اسلام‘‘ یا ’’دین‘‘ صحیح ہے۔ ص ۱۰۰ پر ’’سفر‘‘ کے تحت پہلی آیت کا صحیح عنوان ’’روزہ‘‘ ہے۔ ص ۴۶‘ کالم ۲، ’’اور ویسی یہ کتاب...‘‘ کا صحیح عنوان ’’قرآن‘‘ ہے‘ نہ کہ ’’برکت‘‘--- ص ۱۲۶ پر ’’فتح مکہ‘‘ کے تحت دی گئی آیت کا اشارہ اسلام کی فیصلہ کن فتح کی طرف ہے‘ اس کا ’’فتح مکہ‘‘ سے تعلق نہیں‘ کیوں کہ فتح مکہ ۸ ہجری میں ہوئی اور یہ سورہ ۱۰ ہجری میں نازل ہوئی۔ ص ۱۹۰ پر ’’نشہ‘‘ کے تحت ’’لوگو‘ اپنے رب سے ڈرو...‘‘ کا موضوع آخرت اور قیامت ہے،’’نشہ‘‘ سے اس کا دور کا واسطہ بھی نہیں۔ ص ۸۰: طلاق اور خلع دو مختلف موضوع ہیں‘ یہاں ’’خلع‘‘ کے تحت طلاق کی آیت درج ہے۔ بعض جگہ ایک ہی آیت کے دو مختلف ترجمے دیے گئے ہیں‘ مثلاً ص ۱۶‘ کالم ۱: ’’جس روز تم اسے...‘‘ اور ص ۱۹۰‘ کالم ۱: ’’لوگو‘ اپنے رب سے ڈرو...‘‘۔
مرتب نے بلاشبہ محنت کی ہے لیکن یہ کام اور زیادہ تامّل اور توجہ سے کیا جاتا تو یقینا زیادہ مفید اور بہتر ہوتا اور اس میں کم سے کم خامیاں ہوتیں۔ ( ر- ہ)
اعلاے کلمۃ الحق کی روایت ہماری تاریخ کا ایک شان دار‘ قابل قدر اور درخشاں باب ہے۔ کلمہ حق کیا ہے؟ بہ قول مصنف: ’’ایک روشنی ہے‘ نور ہے‘ جس میں ہر شے کی حقیقت نظر آجاتی ہے۔ انسان باخبر ہو جاتا ہے کہ جس راستے پر وہ چل رہا ہے‘ وہ آگے کہیں کسی خوف ناک غار میںتو ختم نہیں ہو رہا‘‘۔ سوا اس کے ’’حق گوئی سے انسان کو اپنی ذات کا عرفان بھی حاصل ہوتا ہے‘‘ (ص ۲۳)۔
مؤلف نے‘ حق گوئی کی مفصل تاریخ مرتب کی ہے۔ دورصحابہؓ سے حضرات ابوذرغفاریؓ، امام حسینؓ،ابن زبیرؓ اور سعید بن جبیرؓ کا ذکر ہے۔ دوسرے دور میں اس روایت کو حسن بصریؒ، ابراہیم نخعیؒ،زید بن علیؒ، امام ابوحنیفہؒ، سفیان ثوریؒ اور بہت سے دوسرے اصحاب نے زندہ رکھا__ اس کے بعد امام احمد ابن حنبلؒ، امام ابن تیمیہؒ، مجدد الف ثانیؒ، شاہ اسماعیل شہیدؒ، اور تحریک مجاہدین سے وابستہ بہت سے دوسرے افراد__ اور یہ داستان نسبتاً قریبی زمانے کے محمد علی جوہر‘ حسرت موہانی ‘علی شریعتی‘ امام حسن البناء‘ سید قطب شہید‘ زینب الغزالی‘ بدیع الزمان سعید نورسی اور مولانا مودودی تک پہنچتی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ: ’’جان و مال کی آزمایش کے وقت کلمۂ حق کہنے والے دنیا میں بہت کم ہوئے۔ اتنے قلیل کہ ہر زمانے میں ان کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے‘‘(ص ۵)۔ اوائل ہی سے بنی اُمیّہ نے لوگوں کو حق گوئی سے باز رکھنے کے لیے دھمکیوں‘ دھونس او رلالچ کے حربے استعمال کرنے شروع کیے جس سے کتمانِ حق اور مصلحت اندیشی کو فروغ ملا اور مسلم معاشرے کو اخلاقی اعتبار سے ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ ضمیر فروشی اور زراندوزی نے بحیثیت مجموعی مسلمانوں کو زوال و اِدبار سے دوچار کیا۔ مصنف لکھتے ہیں: ’’جب مسلمان ڈرپوک اور بزدل ہو گئے‘ جب وہ اپنے ظالم اور جابر حاکموں کے روبرو حق بات کہنے سے ڈرنے لگے تو پھر چنگیز اور ہلاکو جیسے خونخوار حملہ آوروں کے سامنے کیا پامردی دکھاتے۔ نتیجہ باغ اسلام کی ویرانی کی صورت میں نکلا‘‘(ص۲۴)۔
پاکستان اور افغانستان کے موجودہ حالات کے حوالے سے ایک حدیث نبویؐ قابل غور ہے‘ جس میں آپؐ نے فرمایا: ’’تم اس وقت تک عذابِ الہٰی سے نجات نہ حاصل کر سکو گے جب تک تم ظالموں اور فاسقوں کو نہ روکو۔ خدا کی قسم تم ان (ظالم حکمرانوں) کو اچھی باتوں کے بارے میں کہو اور بری باتوں سے روکو۔ ظالم کے ہاتھ پکڑ لو‘ ان کو حق پر آمادہ کرو ورنہ خدا وند تعالیٰ تم میں سے بعض کے دلوں کو بعض کے دلوں سے وابستہ کر دے گا اور پھر تم پر لعنت کرے گا جیسا کہ بنی اسرائیل پر لعنت کی تھی‘‘(ص ۶)۔ یہاں مصنف بجا طور یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کہیں مسلمان اس حدیث کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کی لعنت کی لپیٹ میں تو نہیں آچکے؟
میاں محمد افضل نے تاریخ کو دقّت ِ نظر سے دیکھا اور گہرائی میں اُتر کر موضوع سے متعلق تفصیلی لوازمہ فراہم کیا ہے۔ ان کی محنت قابل داد ہے۔ ایک اعتبار سے یہ ضخیم کتاب تاریخ اسلام کے ان درخشاں ستاروں کی کہانی ہے جن کی آب و تاب اور چمک دمک سے تاریخ کے اوراق آج بھی جگمگا رہے ہیں اور انھوں نے اپنی جان کے نذرانے پیش کر کے ملت اسلامیہ کو حیات نو بخشی__کلمۂ حق کا سبق یاد دلانے اور تازہ رکھنے کے لیے ہماری رائے میں اس کتاب کا ایک مختصر ایڈیشن بھی چھاپنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کی اشاعت وسیع حلقوں تک ہو سکے۔ (رفیع الدین ہاشمی)
عہدِغلامی میں مسلمانوں نے جگرلخت لخت کو جمع کرتے ہوئے‘ اپنی فلاح و بہبود اور اشاعت تعلیم کے سلسلے میں جو ادارے قائم کیے ان میں انجمن حمایت اسلام کا نام نمایاں ہے۔ اس کے تحت قائم شدہ اسلامیہ کالج لاہور نے مسلمانوں کی تعلیمی پیش رفت میں مفید کردار ادا کیا۔ پروفیسر احمد سعید نے بڑی محنت اور جانفشانی سے مذکورہ کالج کی تاریخ مرتب کی ہے۔ حصہ اول کئی سال پہلے چھپا تھا اب اس کا دوسرا حصہ (۱۹۱۰ء تا ۱۹۳۵ء) سامنے آیا ہے۔
مصنف نے انجمن کے ریکارڈ اور اس زمانے کے اخبارات و رسائل کی مددسے ایک تجربہ کار مؤرخ کی سی مہارت کے ساتھ ایک ایسی کتاب تیار کی ہے جو حوالوںاور تصاویر سے پوری طرح مزین ہے۔کتابیات و اشاریے کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔
زیرنظر کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا مودودی ۴۰-۱۹۳۹ء کے تعلیمی سال میں کالج مذکورہ میں ناظم دینیات رہے۔ وہ تدریس کا کام اعزازی طور پر انجام دیتے تھے۔ ایک سال کے بعد انجمن سے اختلافات کے سبب انھوں نے تدریس ترک کر دی ___زیرنظرکتاب میں اس کا ذکر بہت تشنہ اور اُدھورا ہے حالانکہ متعدد اصحاب نے اس کی تفاصیل روایت کی ہیں ___ مزیدبرآں بعض امور تحقیق و تصحیح طلب ہیں۔ ( ر - ہ)
’’اہتمام مشورہ‘‘ میں مختلف معاشرتی و سیاسی اداروں کے بگاڑ کا سبب‘ عدم مشورہ کو گردانتے ہوئے‘ کتاب و سنت اور تاریخی حوالوں سے ہر شعبۂ زندگی میں مشورے کی اہمیت کو اُجاگر کیا گیا ہے۔ یہ مختصر کتاب موضوع کی اہمیت و وسعت کے اعتبار سے بہت جامع ہے۔ مصنف نے اسلام کے اصولِ مشاورت کو انفرادی سطح سے آگے‘ مختلف معاشرتی و سیاسی اور نجی و سرکاری اداروں تک پھیلا دیا ہے اور مشورے کو ہر سطح کی بنیادی تنظیمی ضرورت قرار دیا ہے۔ اس سلسلے میں اسلامی نظام حکومت میں مجلس شوریٰ کی اہمیت و نوعیت‘ ’’اولوالامر‘‘ اور عظمت صحابہؓ کی ضمنی بحثیں بھی کتاب میں شامل ہیں۔ صاحب کتاب کے بعض علمی نکات کی جزئیات سے دیانت دارانہ اختلاف کی گنجایش تو شاید موجود ہو لیکن اُمت مسلمہ کے لیے اس خیرخواہانہ اصلاحی کاوش کی اہمیت و افادیت سے انکار ممکن نہیں۔ (ڈاکٹرمحمد حماد لکھوی)
ایک نہایت اہم موضوع پر نہایت اہم کتاب جس میںخاصی محنت کے ساتھ بڑی حد تک حق ادا کیا گیا ہے ۔ یہ وہ موضوعات ہیں جن پر‘ اگر مسلم دنیا بیدار ہوتی اور اس کے تحقیقی اداروں میں دن رات کام ہوتا‘ کتابوں کے سلسلے شائع ہوتے تو یقینا اس صورت میں مغربی میڈیا کے لیے مسلم دنیا کو اپنے ساتھ بہا لے جانا اتنا آسان نہ ہوتا۔ آزاد اور بظاہر ممتاز مسلم ممالک کی اتنی بڑی تعداد کے ہوتے ہوئے‘ بھارت کے ایک ادارے کے حصے میں یہ کام آیا‘ یہ خود ہمارے حالات پر ایک تبصرہ ہے۔
کتاب کے مقدمے ]۶۰ صفحے[ میں نئے عالمی نظام کے خدوخال سے آگاہ کیا گیا ہے۔ پہلے باب کے ۴۵ صفحات میں مغربی میڈیا کا تاریخی پس منظر بیان کیا گیا ہے۔ دوسرے باب میں (۲۰ صفحات) میڈیا کے کردار کے بارے میں صہیونی عزائم پیش کیے گئے ہیں۔ تیسرے باب میں مغربی میڈیا میں مسلمانوں کی جو تصویر پیش کی جا رہی ہے مثلاً شہوت پرست انسان‘ شیطان صفت انسان‘ فتنہ پرور انسان ‘ وغیرہ وغیرہ‘ اسے دکھایا گیا ہے۔ چوتھا باب خصوصی اہمیت رکھتا ہے جس میں مصر‘ سعودی عرب‘ کویت اور دیگر عرب ممالک پر مغربی میڈیا کے اثرات کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ ایک باب بھارتی میڈیا پر ہے۔ اسی باب میں پاکستانی معاشرے خصوصاً پاکستانی صوبہ پنجاب کی مثال پیش کی گئی ہے۔ ۸واں باب اسلامی میڈیا‘ نظریہ اور عمل کا ہے۔
تبصرہ نگار کی نظر میں ۴۲۰ صفحات کی یہ کتاب اس لائق ہے کہ جو افراد اور ادارے آنے والے دور میں اسلام کو غالب کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں یا کسی جدوجہد میں مصروف ہیں‘ وہ ضرور کتاب کا مطالعہ کریں۔ انسانی ذہن جیتنے کی لڑائی میڈیا کے ذریعے ہی لڑی جا رہی ہے۔ دشمن بہت آگے تک حملہ کر چکا ہے‘ اورہم نے ابھی صف بندی بھی نہیں کی ہے۔ اگر تیاری ہو تو یہ کہتے اچھے لگیں کہ : ع شب گریزاں ہو گئی آخر جلوۂ خورشید سے___ جو اس کتاب کے آخری باب کا موضوع ہے۔ (م -س)
نجم جعفری۔ ناشر: احباب پبلشرز‘ ۴۰ جی شمع پلازا‘ ۷۲ فیروز پور روڈ‘ لاہور۔ صفحات: ۱۷۶۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔]غزلیات اور قومی اور ملی نظموں کا مجموعہ‘ ابتدا میں شاعر کو مختلف اہل قلم کا خراج تحسین۔[
ترجمان القرآن (جنوری ۲۰۰۲ء) کے اشارات نہایت فکرانگیز‘ وقت کی آواز اور مستقبل کا بہترین لائحہ عمل تھے۔ مولانا مودودیؒ کی یاد تازہ ہو گئی۔
حقیقت یہ ہے کہ ۱۱ ستمبر کے بعد جہاں دُنیا معاشی‘ سیاسی‘ جغرافیائی اور سماجی اعتبار سے تہ و بالا ہوئی وہیں فکری اعتبار سے بھی حیرت زدگی (astonishment)‘درماندگی اور بے چارگی کا شکار ہوئی۔ بالخصوص مسلم دُنیا اور اس میں برپا اسلامی تحریکوں کے لیے بالکل ایک نیا چیلنج سامنے آیا اور یہ حقیقت مبرہن ہوئی کہ محض ذہنی و فکری انقلاب اور دلیل و برہان کی طاقت پیش پا افتادہ زمینی حقائق کو تبدیل کرنے کے لیے کافی نہیں ہے بلکہ عسکری و تکنیکی قوت کی برتری ازبس ضروری ہے۔ لیکن کیا مسلم دنیا اگلے ایک سو سال میں بھی (یک قطبی دنیا) یورپ و امریکہ کے مقابلے کی عسکری و تکنیکی قوت فراہم کر سکے گی؟ موجودہ صورت حال میں اس کا جواب نفی میں ہے۔ بڑھتی ہوئی حرص اور مفادات کی جنگ نے مسلم دُنیا کو ٹکڑے ٹکڑے کر رکھا ہے۔ ’’اُمت‘‘ ہونے کا تصور عنقا ہو گیا ہے۔ عرب و عجم کی تقسیم اس پر مستزاد ہے۔ مسلم ممالک نفسانفسی کا شکار ہیں۔ اس صورت حال میں ہمیں ایک تازہ فکر اور نئی اسٹرے ٹیجی ’’حکمت عملی‘‘ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ترجمان القرآن کے تازہ اشارات نے اس سلسلے میں کافی رہنمائی کی ہے۔
دراصل ہمیں مغرب کو اپنا حریف سمجھنے کے بجائے دعوت کے ذریعے اسے اپنا حلیف بنانے کی فکر کرنا چاہیے۔ دعوت کے لیے میدان نہایت سازگار ہے۔ ۱۱ ستمبر کے بعد جہاں بہت سے ناخوش گوار واقعات سامنے آئے‘ وہیں اس تصویر کے دوسرے رُخ کے بہت سے مثبت پہلو ہیں جو ہماری توجہ کے طالب ہیں۔ میرے حالیہ سفر امریکہ کا مشاہدہ ہے کہ میڈیا کی تمام تر نفرت انگیز مہم کے باوجود‘ عام امریکیوں میں اسلام کے بارے میں جاننے کے لیے ایک نئی تڑپ پیدا ہوئی ہے۔ وہاں کے ذمہ دار مسلمانوں نے سوسائٹی کے اس رجحان کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلامک سنٹروں میں ’’اسلام کے کھلے گھروں‘‘ Open Houses of Islamکے نام سے دعوہ مہم شروع کی جو نہایت کامیاب ہوئی۔ کنساس کے ایک چھوٹے سے شہر میں اس ’’دعوہ ہائوس‘‘ کو دو دنوں میں ۶ ہزار امریکیوں نے دیکھا۔ اسلام پر تمام لٹریچر فروخت ہو گیا۔ ڈلاس میں ایک ایک امریکی کو قرآن کی باترجمہ کاپی کے حصول کے لیے دو دو گھنٹے لائن میں لگنا پڑا۔ چنانچہ امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ قرآن حکیم کی مانگ اتنی زیادہ ہوئی جسے پورا کرنا مشکل ہو گیا۔ میری رائے میں جس دن امریکیوں پر صہیونی میڈیا کا دجل و فریب کھل گیا ان شاء اللہ امریکہ میں قبولیت اسلام کی رفتار یدخلون فی دین اللّٰہ افواجاً کا منظر پیش کرے گی۔
اس سلسلے میں جان واکر (امریکی طالبان کا ایک فرد) کے والد کے انٹرویو ‘ جو میں نے خود سنا‘ کا ذکر بے جا نہ ہوگا۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ آپ کا بیٹا طالبان کا ساتھ دے کر اپنی حکومت سے غداری کا مرتکب کیوں ہوا؟ والد کا جواب تھا کہ میرا بیٹا مئی میں طالبان کا ساتھ دینے افغانستان گیا تھا‘ جب کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کا واقعہ ۱۱ ستمبر کو پیش آیا۔ لہٰذا وہ کسی قسم کی غداری کا مرتکب نہیں ہوا۔ سوال کیا گیا کہ اس نے اپنا عقیدہ چھوڑ کر اسلام کیوں اختیار کیا؟ جواب تھا کہ ’’دراصل میرا بیٹانہایت شریف اور ذہین آدمی ہے۔ لہٰذا اسلام جو امن کا دین ہے وہ اس کی ذہنی تشنگیوں کا سامان (intellectual thirst) اور فکری اُلجھنوں کا مداوا ثابت ہوا۔ لہٰذا اس نے یہ دین قبول کرلیا‘‘۔ اس پر وہ انٹرویو کاٹ دیا گیا اور منظر بدل گیا۔
گذشتہ سال مجھے ایک امریکی نومسلم سفید فام خاتون کا جنازہ پڑھانے کا اتفاق ہوا۔ تدفین کے وقت اس کی پوری فیملی مسلم قبرستان میں حاضر تھی۔ اس کے خاندان کے ایک فرد نے پوچھا کہ آپ لوگوں کے عقیدے کی تفصیلات کیا ہیں؟ میں اس بارے میں جاننا چاہتا ہوں کیونکہ میری بہن ایک طویل عرصے سے کینسر میں مبتلا تھی اور چھ ماہ قبل جب اس نے اسلام قبول کیا تو وہ بیماری کے باوجود اتنی پرُسکون ہو گئی کہ میں نے پوری زندگی اسے کبھی اتنا پرُسکون نہیں دیکھا۔ چنانچہ انھیں اسلام پر کچھ ضروری لٹریچر اور تعارف فراہم کر دیا گیا۔ غرض یہ کہ اس خطے میں اللہ تعالیٰ پے درپے اپنی نشانیاں دکھا رہا ہے۔ الحمدللہ! وقل الحمدللّٰہ‘ سیریکم آیاتہ فتعرفونھا‘ اور الحمدللہ کہتے رہیے۔اللہ تعالیٰ تمھیں اپنی نشانیوں کی معرفت عطا کرتا رہے گا‘‘۔ دین اسلام کسی خطہ‘ جغرافیہ اور قوم کا محتاج نہیں ہے ؎
ہے عیاں فتنۂ تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
’’اشارات‘‘ میں اہم معاملات پر جس طرح لکھا جا رہا ہے حقیقی صورت حال سامنے آ رہی ہے۔ ’’اللہ کرے زور قلم اور زیادہ‘‘۔ کچھ توجہ طلب امور درج کر رہا ہوں: ۱- مضمون ’’تصورِتوحید‘‘ (جنوری ۲۰۰۲ء) کے ترجمے میں مشکل الفاظ استعمال ہوئے ہیں جس سے عام قاری کے لیے بہت مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ ۲- ’’بچوں کو فقہ‘‘ کے حوالے سے تعلیم دینے اور مخصوص مسائل (حیض‘ نفاس و طہارت) پڑھانے کے لیے جو جواب دیا گیا ہے (جنوری ۲۰۰۲ء) ‘مناسب ہے۔ البتہ اس میں یہ اضافہ کر دیا جائے کہ ماں کو بیٹیوںکو اور باپ کو بیٹوں کو مسائل سکھانے چاہییں اور اسی طرح معلمین و معلمات کو طلبہ و طالبات کے لیے مواقع فراہم کرنے چاہییں۔ یہ ایک مناسب رابطہ ہے۔ اَن پڑھ والدین بھی یہ کام کر سکتے ہیں۔
اشارات: ’’نیا استعمار: پس چہ باید کرد‘‘ (جنوری ۲۰۰۲ء) یقینا بہت پرُمغز‘ تحریک اسلامی کو صحیح رہنمائی فراہم کرنے والے‘ اور حکومتی ذمہ داران کو مستقبل کے بارے میں منصوبہ بندی و لائحہ عمل کے لیے اہم نکات کی طرف متوجہ کرنے والے ہیں۔ کاش! ہمارے ذمہ داران اس پر کھلے دل سے توجہ دیں اور ان کی روشنی میں اپنے لیے خطوطِ کار متعین کریں۔ قاضی حسین احمد کا جہاد سے متعلق مضمون سب کے لیے اور خصوصاً نوجوانوں کے لیے اہم ہدایات کا حامل ہے۔
اشارات (جنوری ۲۰۰۲ء) ہمیشہ کی طرح فکرانگیز ہیں۔ حالات کا تجزیہ جس ایمانی بصیرت اور معلومات کے ساتھ کیا جاتا ہے‘ اللہ تبارک و تعالیٰ اس میں مزید ترقی عطا فرمائے۔ آمین!
’’مغربی میڈیا اور مسلم دُنیا‘‘ (دسمبر ۲۰۰۱ء) بہت اچھا مضمون اور برموقع ہے۔ فی زمانہ پروپیگنڈا قوموں اور ملکوں کی فتح اور شکست میں بڑا بنیادی کردا ادا کرتا ہے۔ مسلمان حکمرانوں کو اس طرف خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ اُمت مسلمہ اور صاحب خیر افراد کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ عالمی سطح پر جدید ذرائع ابلاغ کا موثر نظام قائم کرنے کی ترجیحاً کوشش کریں۔ پروپیگنڈے کا مقابلہ پروپیگنڈا سے‘ اسلحے کا مقابلہ اسلحہ سے‘ اور باطل کی ہمت کا ایمان سے مقابلہ کیا جائے۔
افغانستان کی صورت حال کو دیکھ کر بھی اُمت نے قدم نہ اٹھایا تو پھر اس کی تباہی اور بربادی یقینی ہے۔ کسی طاقت سے باطل شر کاکام لے رہا ہے تو اسی طاقت سے خیر کا کام لینا انتہائی ضروری ہے۔ آنکھیں بند کر لینے سے چوہے بلی کی دبوچ سے نہیں بچ سکتے۔ آج کا دور جس کی لاٹھی اس کی بھینس ہے۔ اقوام متحدہ امریکہ کا دوسرا نام ہے۔اب ’’مسلم اقوام متحدہ‘‘ کے قیام کی بھی ضرورت ہے۔
’’فلم سازی کے اسلامی ادارے کی ضرورت‘‘ (دسمبر ۲۰۰۱ء) میں عقل کی تشکیل و رہنمائی کے لیے فلم کے موثرترین ذریعہ ہونے کی وجہ سے فلم سازی کے اسلامی ادارے کے قیام کی اہمیت پر تو بہت زور دیا گیا ہے لیکن اس پہلو پر غور کرنے کی زحمت نہیں اٹھائی گئی کہ فلم (خواہ اخلاقی لحاظ سے اچھی ہو یا بری) اپنے تمام مراحل میں جس عمل (process) سے گزر کر تکمیل پاتی ہے‘ اس پر اسلامی نقطہ نظر سے کوئی اعتراض وارد ہوتا ہے یا نہیں۔ یہ تو مبرہن ہے کہ نقالی یااداکاری کے بغیر فلم بن ہی نہیں سکتی اور دین اسلام میں نقالی کا کوئی جواز نہیں۔ یہ فن انسانی خودی کی تربیت کے لیے بہت مضرت رساں ہے۔ کیونکہ نقالی میں کمال اس وقت حاصل ہوتا ہے جب ایکٹر اپنی خودی سے بیگانہ ہو جائے۔
واضح رہے کہ میرا اعتراض دستاویزی فلم پر نہیں کیونکہ ایسی فلم نقالی کی آلایش سے پاک ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اسلامی معاشرت کی ایک اہم قدر پردہ ہے‘ محرم اور نامحرم کی پابندی ہے۔ ڈراما یا فلم میں عورت کا کردار بھی اسی حوالے سے غور طلب اور بنیادی سوال ہے۔
’’فلم سازی کے اسلامی ادارے کی ضرورت‘‘ (دسمبر ۲۰۰۱ء) کے ضمن میں مصر کا ترجیحاً ذکر کیا گیا ہے۔ حالانکہ پاکستان میں اس ذریعہ ابلاغ کے حوالے سے سب کچھ فراوانی کے ساتھ موجود ہے۔ ضرورت صرف صالح نیت ‘ موقع محل اور سرمائے کی ہے۔ اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ذرائع ابلاغ سے عیش و عشرت اور نمود و نمایش کے بجائے معاشرتی بدعات کے خلاف قلمی اور فنی جہاد کیا جائے۔ کچھ بڑے لوگ پیش رفت کریں۔ ہم اپنی دینی ثقافت پر مبنی بہترین ڈرامے اورفلمیں بنا سکتے ہیں اور اپنی حقیقی ثقافت کا احیا کر سکتے ہیں۔
’’فلم سازی کے اسلامی ادارے کی ضرورت‘‘ (دسمبر ۲۰۰۱ء) یقینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہمیں زیادہ دُور جانے کی ضرورت نہیں‘ ایران میں بنائی جانے والی فلموں کو ماڈل کے طور پر لیا جا سکتا ہے۔
نبوت صرف اخلاقی حِس کے بیدار کرنے پر اکتفا نہیں کرتی بلکہ انسان کو ایک نظام نامہ اور مفصل ضابطہ اخلاق دیتی ہے‘ اچھے اخلاق پر اُس سے خدا کی رضا اور اس کی خوشنودی کے محل و مقام کا وعدہ کرتی ہے جس سے بہتر عمل کے لیے کوئی محرک ثابت نہیں ہوا‘ بداخلاقیوں اور قانون شکنی پر اس کے عذاب اور قہر سے ڈراتی ہے جس سے زیادہ کامیاب مانع دنیا میں موجود نہیں‘ خدا کے حاضر و ناظر‘ سمیع و بصیر اور عالم الغیب والشہادہ ہونے کا یقین اس کے دل و دماغ میں پیوست کر دیتی ہے جس سے بڑھ کر انسان کو ضبط میں رکھنے والی کوئی اخلاقی طاقت آج تک دریافت نہیں ہو سکی۔ یہی طاقت ہے جو انسان کو جلوت و خلوت‘ شہر اور صحرا میں پابند قانون رکھتی ہے‘ جو پولیس اور فوج کی طاقت کے بغیر بڑے بڑے جرائم اور صدیوں کی بری عادات کا استیصال کردیتی ہے‘ جو زبان کے ایک اشارہ سے پوری پوری قوم سے منہ لگی شراب چھڑا دیتی ہے‘ جو مجرموں کو شہروں اور صحرائوں سے کھینچ کر عدالت میں حاضر کرتی ہے اور ان کی زبان سے اپنے جرم کا اقبال کراتی ہے۔
جس اخلاقی نظام کی پشت پر نبوت کی یہ طاقت نہ ہو وہ صرف کتابی فلسفہ ہے جو ایک معمولی سے جرم کا انسداد بھی نہیں کر سکتا اور محدود سے محدود رقبۂ زمین میں بھی کوئی پاکیزہ اخلاقی ماحول پیدا نہیں کر سکتا۔
اس کی بہترین مثال امریکہ کی تحریک منع خمر کی ناکامی اور قانون تحریم خمر کی منسوخی ہے۔ اس تحریک اور قانون کی پشت پر دُنیا کی ایک عظیم ترین اور منظم ترین حکومت (ریاست ہاے متحدہ امریکہ)‘ بے پایاں دولت و سرمایہ‘ اعلیٰ علم و تہذیب اور لاانتہا وسائل نشروتبلیغ تھے۔ اندازہ ہے کہ شراب کے خلاف نشرواشاعت کے سلسلے میں صرف چھ سال کے اندر ساڑھے چھ کروڑ ڈالر صرف ہوئے اور وہ لٹریچر جو شائع کیا گیا وہ نو ارب صفحات پر مشتمل تھا۔ قانون کی تنفیذ کے سلسلے میں ۱۳سال کے اندر دو سو آدمی مارے گئے۔ ۵ لاکھ ۳۴ ہزار ۳ سو ۳۵ قید کیے گئے۔ ایک کروڑ ۶۰ لاکھ پونڈ کے جرمانے عائد کیے گئے۔ ۴۰ کروڑ ۴۰ لاکھ پونڈ مالیت کی املاک ضبط کی گئیں۔ لیکن ان انتہائی کوششوں کے باوجود امریکہ کی حکومت و قانون اور اس کے اصلاحی ادارے اور انجمنیں اہل ملک کو قانون کی پابندی اور شراب نوشی سے اجتناب پر آمادہ نہ کر سکیں بلکہ اس کے برعکس ان میں مے نوشی کا جنون پیدا کر دیا اور بالآخر ۱۴ برس بعد ۱۹۳۳ء میں جمہوریت کو مجبوراً اس قانون کو منسوخ اور شراب نوشی کو جائز قرار دینا پڑا (تفصیلات کے یے ملاحظہ ہو‘ کتاب تنقیحات‘ مضمون’’انسانی قانون اور الٰہی قانون‘‘)۔ (’’رسالت‘‘ مولانا ابوالحسن علی ندوی‘ ماہنامہ ترجمان القرآن‘ شوال‘ ذی القعدہ‘ ذی الحجہ ۱۳۶۰ھ‘ دسمبر ۱۹۴۱ء‘ جنوری‘ فروری‘ ۱۹۴۲ء‘ ص ۳۶)