افغانستان کے طالبان ‘مغرب کے لیے ایک بڑا اہم سوال بن چکے ہیں۔ پہلے تو صرف ان کی مذہبی پالیسیاں خصوصاً خواتین کے بارے میں ان کا ’’کٹرپن‘‘ یا اسامہ بن لادن کے بارے میں بے لچک رویہّ ہی قابل اعتراض تھا۔ اب بدھا کے مجسّموں کی توڑ پھوڑ نے اہل مغرب کے ساتھ بعض مشرقی ممالک (جاپان‘ تھائی لینڈ‘ نیپال وغیرہ) کو بھی طالبان کے بارے میں فکرمند اور پریشان کر دیا ہے‘ اگرچہ خود طالبان کسی کی دادو تحسین یا مذمت سے بے نیاز ہیں۔ وہ اپنی ہی دُھن میں مگن جو چاہتے ہیں‘ کر گزرتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ ان کے قابل قدر اقدامات کی بھی قدر نہیں کی جاتی‘ جیسے بھارت کے اغوا شدہ طیارے سے طالبان کا کامیابی سے نمٹنا یا پوست کی کاشت کا کامیابی سے خاتمہ کرنا۔ (اب وہ امریکہ اور مغربی طاقتوں کو بجا طور پر طعنہ دیتے ہیں کہ تمھارے لاڈلے شمالی اتحاد کے علاقے میںتو پوست بدستور کاشت ہو رہی ہے۔) باوجود اپنی علاقائی اور سیاسی ’’تنہائی‘‘ کے‘ ان کا رویہّ اب بھی بے لچک ہے۔ غالباً اس لیے کہ وہ پاکستان کی تائید سے بڑی حد تک مطمئن ہیں۔ ان کے بارے میں امریکہ کی واضح طور پر معاندانہ پالیسی‘ دنیا کی تمام بڑی طاقتوں کی مخالفت‘ اقوام متحدہ کی پابندیوں حتیٰ کہ پاکستان کے سوا اپنے تمام مسلم ہمسایوں سے تعلّقات میں کشیدگی اور اندرونِ ملک بے روزگاری ‘ غربت اور قحط کے مسائل نیز شمالی اتحاد سے برسرِ جنگ ہونے کے باوجود طالبان اپنے موقف پر جرأت اور بہادری سے ڈٹے ہوئے ہیں۔ اس سے کم از کم ایک بات تو ثابت ہوتی ہے کہ آج افغان ہی دنیا کی سب سے زیادہ آزاد قوم ہے۔
ان عجیب و غریب طالبان کو سمجھنے کے لیے برطانوی پیٹر مارسڈن نے آٹھ سال سے زائد عرصہ مختلف برطانوی ایجنسیوں اور گروپوں کے رابطہ افسر کی حیثیت سے افغانستان میں گزارا۔ یہ مختصر کتاب ان کے آٹھ سالہ تجربے‘ مشاہدے اور تحقیق کا حاصل ہے۔ اس کا دائرہ موضوعات خاصا وسیع ہے (یعنی: افغانستان کا جغرافیہ‘ تاریخ‘مذہبی‘ لسانی اور قبائلی تصورات‘ مجاہدین کی تحریک‘ طالبان کی قیادت‘ ان کے عقائد‘ طور طریقے اور پالیسیاں وغیرہ۔) مارسڈن نے طالبان پر عالم اسلام کی بعض بڑی تحریکوں (اخوان المسلمون‘ سعودی عرب کی وہابی تحریک‘ لیبیا اور ایران کے انقلابات) کے اثرات کا سراغ لگانے کی کوشش کی ہے مگر ان کا خیال ہے کہ طالبان پرکسی خاص تحریک کا ٹھپہ لگانا دانش مندی نہ ہوگی (ص ۵۶)۔ وہ کہتے ہیں کہ طالبان پر سب سے غالب اثر علما کا ہُوا ہے (ص ۶۳)۔
مارسڈن کی رائے میں ملا محمد عمر کا مقصد افغانستان کو بدعنوان‘ مغرب زدہ اور موقع پرست لیڈروں سے نجات دلانا ہے۔ ان کی منفی پالیسی کی سختی دراصل افغان خواتین کو مغربی اثرات سے محفوظ رکھنے کی ایک جان توڑ کوشش ہے (ص ۷۳)۔ مارسڈن نے طالبان کو قریب سے دیکھا ہے اور اس کا رویہّ طالبان سے ہمدردانہ ہے۔ اوّل: مارسڈن کا خیال ہے کہ اسلام کے بارے میں اہل مغرب ابھی تک صلیبی جنگوں کے حصار سے باہر نہیں نکل سکے (شاید اسی لیے وہ طالبان کو سمجھ نہیں پا رہے)۔ دوم: مارسڈن یہ سوال اٹھاتا ہے کہ بجا ہے کہ امریکہ اور یورپی ممالک اپنے اصول و ضوابط کی روشنی میں طالبان کو تسلیم نہیں کر رہے لیکن یہ سمجھنا مشکل ہے کہ جو حکومتیں طالبان سے زیادہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کر رہی ہیں انھیں کیوں تسلیم کر لیا گیا ہے؟ (مارسڈن نے کسی کا نام نہیں لیا)۔
مصنف کا خیال ہے کہ طالبان کی مشکلات اور مسائل کا حل پیش کرنا آسان نہیں۔ افغانستان کے داخلی حالات میں مسلسل اتارچڑھائو کی وجہ سے نت نئی پیچیدگیاں اور اُلجھنیں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ اس وجہ سے آیندہ کیا ہوگا؟ یا کیا کرنا چاہیے؟ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
عربی کے فارغ التحصیل مارسڈن نے یہ بیانیہ کتاب تجزیاتی اور تحقیقی انداز میں لکھی ہے۔ ابتدا میں ضروری نقشے شامل ہیں اور اشاریہ بھی۔ آخر میں مآخذ کی فہرست ہے۔ افغانستان اور طالبان پر اردو میں لکھنے والوں کو مارسڈن کے طریقہ تصنیف و تالیف سے کچھ سیکھنا چاہیے۔ ایک غیر ملکی ناشر نے کتاب اتنے اچھے معیار پر شائع کی ہے (گو‘ قیمتاً گراں ہے) کہ ملکی ناشرین کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)
تاریخ جہاں گشائی منگولوں‘ خوارزم شاہیوں اور اسماعیلیوں کی تاریخ کی ایک مستند‘ ثقہ اور بنیادی مآخذ کی کتاب ہے۔ عطا ملک الجوینی (متوفی ۶۸۱ھ) ہولاکو کے دَور میں ایران اور عراق کا گورنر رہا۔ وہ منگولوں کے ہاں میرمنشی کی حیثیت سے آیا اور گورنر کے عہدے تک پہنچا۔ وہ ہولاکو کے ہاتھوں وقوع پذیر ہونے والے تمام حادثات و واقعات کا عینی شاہد ہے۔ یہ پہلی کتاب ہے جس نے اُس دَور کے مؤرخین کو بھی منگولوں کی طاقت سے متعلق موثق مواد فراہم کیا۔ یہ کتاب خوارزم شاہیوں کی تاریخ کا تفصیلی بیان بھی مہیّا کرتی ہے۔ نیز اسماعیلیوں کے عقائد اور اُن کی خفیہ دعوت سے بھی پردہ اٹھاتی ہے۔ تین جلدوں پر مشتمل یہ کتاب منگولوں کی قدیم تاریخ سے لے کر ۶۴۴ھ تک کے تمام واقعات‘ خوارزم شاہی سلاطین کے حالات اور ہولاکو کی بلادِ غربیہ میں آمد تک کے واقعات اور ہولاکو کے بلادِ غربیہ پر تسلّط ‘ اس کے ہاتھوں ان کی بربادی اور اس کے بعد رکن الدین خورشاہ کے قتل تک کے واقعات اور اسماعیلی خاندان کی مکمل تباہی کی تفصیل پیش کرتی ہے۔
زیرنظر جلد سوم اسماعیلیوں کی تاریخ پر مشتمل ہے۔ اس میں ہولاکو کی ملاحدہ کے قلعوں کی تسخیر‘ باطنیوں اور اسماعیلیوں کے عقائد‘ ان کی دعوت‘ قرامطہ کے ظہور‘ اسماعیلی حکومت کے فروغ‘ مصر میں اسماعیلی حکومت کے خاتمے اور منگولوں کے ہاتھوں‘ بالآخر بلادِ غربیہ کی مکمل تباہی کا احوال بیان کیا گیا ہے۔
مترجم نے کتاب کے آغاز میں مصنف کے حالات زندگی‘ کتاب کی تاریخی اہمیت اور ترجمے سے متعلق بعض توضیحات شامل کی ہیں اور آخر میں تین ضمیمے مع حواشی بھی دیے ہیں جو قاری کو ایران‘ عراق اور خراسان کے اسماعیلیوںکی تاریخ کے اور قریب کر دیتے ہیں۔ اردو ترجمے کی زبان سلیس اور آسان ہے۔ حسب ضرور ت قوسین میں مناسب الفاظ کی مدد سے تفہیم میں آسانی پیدا کرنے کی بھی سعی کی گئی ہے۔ کہیں کہیں لیکن بہت کم‘ کمپوزنگ اور پروف خوانی میں کوتاہی کے سبب الفاظ غائب نظر آتے ہیں یا عبارت کی غلطی سامنے آجاتی ہے۔ تاریخ کے طلبہ اور تاریخ کا ذوق رکھنے والے دوسرے لوگوں کے لیے یہ کتاب ایک قیمتی دستاویز ثابت ہو سکتی ہے۔ (سعید اکرم)
قرآن حکیم کی تمام سورتوں کا خلاصہ آسان زبان میں پیش کیا گیا ہے۔ دیباچے میں بتایا گیا ہے کہ بدریہ کاظم صاحبہ نے خلاصہ مرتب کرتے ہوئے تفہیم القرآن کے علاوہ ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالمحسن الترکی کی تصانیف اور قرآن پاک کے انگریزی ترجمے مصحف المدینہ النبویہ سے بھی رہنمائی لی ہے۔ سورتوں کے خلاصے کے ساتھ کہیں کہیں پس منظر اور تبصرہ بھی آگیا ہے۔ یہ خلاصہ تقریباً اُسی نوعیت کا ہے‘ جو ہمارے ہاں تراویح کے بعد پیش کیا جاتا ہے۔
مولفہ کا تعلق متحدہ عرب امارات سے ہے۔ انھوں نے کتاب کو اعلیٰ درجے کے (قریب قریب) آرٹ پیپر پر شائع کیا ہے۔ خدا کرے ان کی یہ کوشش ان کے اپنے حسب خواہش ‘ ان کے لیے توشۂ آخرت ثابت ہو۔ (ر - ہ)
جناب محمد موسیٰ بھٹو سندھ کے ممتاز اہل قلم میں سے ہیں۔ انھوں نے اردو اور سندھی زبان میں اسلام کے فکری اور دعوتی نقطۂ نظر سے لائق مطالعہ کتابیں مرتب کی ہیںاور بعض اہل قلم کی اردو کتابوں کو سندھی زبان میں پیش کر کے مفید خدمت انجام دی ہے۔ بیداری کے نام سے ایک سندھی ماہنامہ نکال رہے ہیں۔ ان کی فکر متوازن اور معقولیت پسندانہ ہے۔ افراط و تفریط کے ماحول میں ایسی کتابوں کی افادی قدروقیمت کو یقینا محسوس کیا جائے گا جو اسلام کے صحیح اور مضبوط فکری موقف کی جانب رہنمائی کرتی ہیں۔
زیرنظر کتاب میں مصنف نے سرزمین سندھ کی ایسی ۵۶ شخصیات کے تعارفی خاکے پیش کیے ہیں جن کا تعلق مختلف تحریکوں کے نمایندہ افراد‘ علما و مشائخ‘ اہل قلم اور اصحاب فکرونظر سے ہے۔ مذکورہ اصحاب نے اپنے اپنے دائرے میں دعوتی‘ علمی و تحقیقی اور سماجی و سیاسی پہلو سے خدمات انجام دی ہیں۔ ان خاکوں میں شخصیات کا مختصر اور اجمالی تعارف پیش کرتے ہوئے مصنف نے بصیرت افروز تنقیدی شعور سے کام لیا ہے اور محاسن کے فیاضانہ اعتراف کے ساتھ ساتھ کمزور پہلوئوں کی نشان دہی بھی بے لاگ طریقے سے کی ہے۔ اندازِ تحریر شگفتہ اور دل نشیں ہے۔
ہر تعارفی خاکے کے آخر میں وہ خطوط بھی شامل ہیں جو ان شخصیتوںکی جانب سے مصنف کو تحریر کیے گئے۔ اس سے کتاب کی افادی حیثیت بڑھ گئی ہے۔ اصل کتاب سندھی زبان میں لکھی گئی تھی۔ مصنف نے اسے اردو قالب میں ڈھال کر اردو کے قارئین کو ایک مفید کام سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔
کتاب پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ مصنف کے دل میں احیاے اسلام کے لیے ایک تڑپ اور مخلصانہ جذبہ موجود ہے اور یہی جذبہ ان کی قلمی کاوشوں اور علمی سرگرمیوں کا اصل محور ہے۔ وہ باب الاسلام سندھ میں علاقائی نیشنلزم‘ سوشلزم‘ لادینیت اور مغربیت کے بجائے اسلامی فکر کو فروغ پذیر دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کی نظر ملّت اسلام کے مستقبل اور نئی نسل کی صحیح رہنمائی پر ہے۔ پاکستان اور سندھ کے پس منظر میں لادینی قوتوں کی فتنہ انگیزی کو محسوس کرنے اور اسلامی شعور کو بیدار کرنے میں کتاب یقینا معاون ہوگی اور مصنف کی مساعی کو قدر کی نظر سے دیکھا جائے گا ۔ (انیس احمد اعظمی)
مراد ہوف مین کے مقالے پر آپ نے میرا تبصرہ شائع کیا‘ شکریہ۔
تکثیریت (pluralism) اور رواداری جو ہوف مین کے خطبات کا مرکزی موضوع ہیں‘ اب بے موسم کی بارش کی طرح ہمارے اہل فکر‘ خصوصاً نوجوان ذہنوں کی ’’آب یاری‘‘کر رہے ہیں۔ ’’جدید جمہوری مہذب معاشرے‘‘ (civil society) کا آئیڈیل بے شک اسلام کے دائمی مہذب اصولوں سے ہم آہنگ ہے‘ مگر اس سے ایک ایسا معاشرہ مراد لینا ‘ جہاں ’’اخلاقی تکثیریت‘‘ ہو‘ اسلام کے دائمی آفاقی نظامِ اقدار کی نفی کرنا ہے‘ اور مغربی یلغار (مغرب‘ کوئی جغرافیائی تصور نہیں‘ بلکہ ایک فکری نظام ہے) کو خوش آمدید کہنا ہے۔
خصوصاًپاکستان میں اسی فکر کو ایک محدود دائرے میں رکھ کر تاریخ پاکستان‘ اسلامی ریاست اور معاشرے کے لیے جدوجہد کی نفی کرنے اور برعظیم کی ایک ’’مشترکہ تاریخ‘‘ ازسرنو تصنیف کرنے کے لیے کوشش ہو رہی ہے‘ تاکہ دو قومی نظریے کی نفی ہو‘ اور ایک ’’پرامن‘ ہم آہنگ اور مہذب‘‘ معاشرہ جنم لے کہ اس سے پہلے ہندوئوں کے ہیرو‘ مسلمانوں کے ولن اور مسلمانوں کے ہیرو‘ (محمود غزنوی‘ غوری‘ اورنگ زیب عالم گیر) ہندوئوں کے نزدیک ڈاکو‘ لٹیرے اور غاصب تھے۔ مفروضہ یہ ہے کہ اگر برعظیم میں تاریخ کا یکساں نصاب رائج کر دیا جائے تو تنائو‘نفرت اور جنگوں سے بچا جا سکتا ہے۔ ان حالات میں میرے خیال میں مداہنت مناسب رویہّ نہیں‘ بلکہ سورہ الممتحنہ پر غور وفکر اور اس کی عملی تلاوت ہی بہتر حکمت عملی ہے۔
اشارات (مئی ۲۰۰۱ء) بہت خوب ہیں۔ قرآن فہمی کے سلسلے میں سید مودودی ؒکے ’’مقدمہ‘‘ تفہیم القرآن کے بعد ایسی دل کش تحریر سے سابقہ پڑا۔ آپ نے کمال کیا کہ تصوف پر براہِ راست کسی قسم کا اعتراض کرنے کے بجائے ڈاکٹر اقبال کے مضمون کا حوالہ دیا جس میں انھوں نے ’شعورِ ولایت‘‘ اور ’’شعورِ نبوت‘‘ کی اصطلاحیں استعمال کر کے عربی اسلام اور عجمی اسلام کا فرق بتادیا ہے۔
’’کلام نبویؐ کی کرنیں‘‘ میں یہ پڑھ کر آنکھوں میں آنسو آگئے کہ نبی کریمؐ نے ایک بدو کے درشت رویے کے باوجود اس کے ایک اونٹ پر جو اور دوسرے پر کھجور کے بورے لدوا دیے۔ کون تصور کر سکتا ہے کہ حضورؐ اخلاق کے کس معیار پر تھے!
اپریل ۲۰۰۱ء کے شمارے میں بھکر سے محمد عبداللہ صاحب نے توراکینہ قاضی کے مضمون: ’’عالمی معاشرے میں شادی اور خاندان کا مرکزی کردار (مارچ ۲۰۰۱ء) میں اصل انگریزی الفاظ کو بغیر مناسب اصطلاحات کے شائع کرنے کو غیر مناسب سمجھا۔ آج کل عرب دنیا میں گلوبلائزیشن کے الفاظ کو العولمۃ سے ترجمہ کیا جا رہا ہے۔ گلوبل ازم کے لیے بھی العولمۃ کا لفظ مستعمل ہے۔ گلوبیانا کے بجائے مناسب عالمیانہ ہے۔ گلوبلائزیشن کے لیے عالم گیریت کے بجائے عالمیت بہتر محسوس ہوتا ہے اور انٹرنیشنل کے لیے عالمی۔
’’موثر اور کامیاب شخصیت‘‘ (مئی ۲۰۰۱ء) بہت مفید ہے۔ یہ تحریر ایک اہم تحریکی ضرورت پوری کرتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ داعی الی اللہ کی شخصیت ایسی ہو جسے دیکھ کر آدمی متاثر ہو اور وہ بات ایسے اچھے انداز میں کرے جو مخاطب کے دل میں اتر جائے۔ اپنی شخصیت کو موثر بنانے کے لیے تدابیر زیادہ تفصیل سے سامنے آنی چاہییں۔
’’موثر اور کامیاب شخصیت‘‘ (مئی ۲۰۰۱ء) جیسے مضامین ہر ماہ شائع ہونے چاہییں۔ ’’فروغ سائنس کی اہمیت اور ضرورت‘‘ میں مصنف نے سائنس کی اہمیت کوبڑے اچھے اندازمیں پیش کیا ہے ۔بیرون ملک جا کر واپس نہ آنے والے طلبہ کو کس طرح مادرِ وطن کی فلاح و بہبود کے لیے واپس بلایا جا سکتا ہے؟ اس بارے میں مصنف خاموش ہیں۔
’’اسلامی پارٹی ملایشیا کی پیش قدمی‘‘ بہت پسند آئی۔ البتہ اس کے ساتھ ’’جماعت اسلامی‘‘ کا موازنہ کیا جاتا اور اُن اسباب کا جائزہ لیا جاتا جن کی بدولت جماعت اسلامی‘ پاکستان میں‘ ملایشیا کی اسلامی پارٹی کے برعکس‘ وہ کامیابی حاصل نہ کر سکی۔
’’اسلامی پارٹی ملایشیا کی پیش قدمی‘‘ (مئی ۲۰۰۱ء) سے تحریک اسلامی کے کارکن میں ایک حوصلہ افزا امید پیدا ہوتی ہے۔ دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں میں’’جمہوریت کے راستے سے پیش قدمی‘‘ ایک رہنما اصول ہے۔ اس کے ذریعے مختصر عرصے میں رائے عامہ کو ساتھ لے کر اسلام کو برسرِاقتدار لایا جا سکتا ہے۔ جو مسلم لیڈر جمہوری راستے سے اسلام کے نفاذ کی سرتوڑ مخالفت کرتے ہیں ‘ وہ حقیقت میں بدکردار اور منافقانہ چالیں اختیار کرنے والے حکمرانوں کی مدت اقتدار میں طوالت کو پسند کرتے ہیں اور آمریت کو تقویت دیتے ہیں۔
اکیسویں صدی میں اگر ایک طرف اسلام کا رجحان بڑھ رہا ہے اور اسلام ایک نظامِ زندگی کی حیثیت سے اپنی قوت منوا رہا ہے‘ تو دوسری طرف اسلام کی آڑ میں اور مذہب کے لبادے میں انتہا پسندی اور دہشت گردی بھی بڑھ رہی ہے۔ فرقہ واریت‘ معمولی باتوں پر ایک دوسرے کی تکفیر‘ اور نت نئی عسکری تنظیمیں مستقبل میں عالمی اسلامی تحریک کے لیے کئی مسائل کھڑے کر سکتی ہیں اور عالمی سطح پر اسلام کا چہرہ مسخ ہو سکتا ہے۔ اس محاذ پر صحیح رہنمائی کی ضرورت ہے۔ کشمیر کے ساتھ ساتھ غربت‘ بے روزگاری‘ ظالمانہ ٹیکس اور تعلیم کی ابتری وغیرہ بھی اشارات کا موضوع بننا چاہییں۔
’’اکیسویں صدی اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ (اپریل ۲۰۰۱ء) میں یوسف القرضاوی نے ۱۰ نکات پر مشتمل مناسب ایجنڈا دیا۔ یہود نے ’’فرات سے دریاے نیل تک اسرائیل تیری سرحدیں ہیں‘‘ کے نعرے کو پے درپے کوششوں سے اپنے حامیوں کے دلوں میں ڈال دیا ہے۔ اسرائیل کے نعرے فرضی ہیں ان پر تو ان کو اتنا اعتماد کہ وہ جھوٹ کو سچ کرنے پر تلے ہوئے ہیں‘ اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئیاں جو کہ سچی بشارتیں ہیں اس پر مسلمانوں کو کامل یقین نہیں۔ لگتا ہے کہ ہم صرف قولی مسلمان ہیں اور عمل سے دُور ہیں۔ کفار تو اپنے کفر کے لیے ان تھک کوششیں کر رہے ہیں اور ہم مسلمان لہو و لعب میں مبتلا ہیں بلکہ دشمنان دین کی چالوں کو سمجھ نہیں رہے ہیں اور ان کی سازشوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ ہماری آنکھیں آخر کب کھلیں گی اور ہم اپنی ذمہ داریوں کو کب سمجھیں گے!!
’’کلام نبویؐ کی کرنیں‘‘ (مئی ۲۰۰۱ء‘ ص ۱۷) میں ادب گا ہیست … شعر علامہ اقبال کا لکھا گیا ہے۔ یہ عزت بخاری کا ہے۔
...فاقہ کش‘ غریب اور مفلس عرب جو اپنے ملک کے خاص حالات کے لحاظ سے ایام جاہلیت میں معاشی حیثیت سے انتہائی سخت کوشیوں کا شکار بنا ہوا تھا‘ تعیش و رفاہیت کی زندگی کا تو کیا ذکر ہے‘ ضروری معاشی رسد کی تکمیل میں بھی ان کو آسمان و زمین کے قلابے ملانے پڑتے تھے۔ ساری عمر عرب کے چٹیل ریگستانی اور سنگستانی صحرائوں میں بے چارے صرف اس لیے دوڑتے پھرتے تھے کہ دو وقت کی خشک روٹی خواہ کسی شکل میں ہو ‘ مل جائے اور وہ بھی بہ مشکل میسر آتی تھی‘ لیکن اسلام نے ایک طرف ان کے باطنی قویٰ اور ذہنی طلب میں یہ طوفان برپا کیا‘ دوسری طرف ۱۵‘۲۰ سال کی مدت میں جسمانی اور معاشی مطالبوں کے لیے رسد کا ایک ایسا بے تھاہ سمندر ان کے اس غیرآباد‘ قلیل التعداد ملک میں ٹھاٹھیں مارنے لگا کہ سچ یہ ہے کہ اس کی نظیر بھی عرب کے آسمانوں نے نہ اس سے پہلے دیکھی تھی‘ اور نہ آج تک پھر وہ تماشا دیکھنا اسے نصیب ہوا۔ اُن خزائن اور دفائن‘ غنائم اور نفل کے سوا جو قرنہا قرن سے کسریٰ ایران کے خزانے میں جمع ہو رہے تھے‘ یا وہ دولت جو زمینِ فرعون (مصر) سے یا ارض شام سے آئی تھی‘ ستون فی ستین (یعنی ۶۰ گز لمبا ‘۶۰ گز چوڑا) والا جواہر نگار بہار نامی ایرانی غالیچہ جس کے تمام نقش و نگار‘ جن کا تعلق مختلف مناظراور موسموں سے تھا‘ انمول جواہرات کے ذریعے سے کاڑھے گئے تھے‘ کسریٰ کا وہ مرصع تاج جو اپنے قیمتی اور وزنی پتھروں کی وجہ سے بجائے سر پر رکھنے کے سونے کی زنجیر سے لٹکا دیا جاتا تھا اور کج کلاہ ایران اسی میں اپنا سر داخل کر دیتا تھا‘ کھجوروں کے تنے پر مدینہ میں جو مسجد کھڑی تھی اس میں یکے بعد دیگرے یہ سب کچھ ہر طرف سے چلا آ رہا تھا۔ خوراکی رسد کا یہ حال تھا کہ عام رمادہ کے قحط میںحضرت عمرؓ نے مصر کے والی عمرو بن عاصؓ کو غلے کے لیے جب لکھا تو انھوں نے جواب دیا کہ اونٹوں کی ایسی قطار غلے سے لاد کر پایۂ تحتِ خلافت میں بھیجتا ہوں جس کا پہلا اونٹ مدینہ میں ہوگا اور آخری اونٹ کی دُم میرے ہاتھ میں ہوگی۔...
ذہبی نے لکھا ہے کہ عہد فاروقی تک پہنچتے پہنچتے مدینہ کے بازار کی یہ حالت ہو گئی تھی کہ عہد نبوتؐ میں جس گدھے کی قیمت ۱۵درہم تھی‘ اب وہ ۱۵ سو میں ملتا تھا۔ بخاری کی مشہور روایت ہے کہ حضرت زبیرؓ نے غابہ کی زمین جومدینہ کے پاس ہے کل ایک لاکھ ۷۰ ہزار درہم میں مول لی تھی‘ لیکن ان کے بیٹے حضرت عبداللہؓ نے اسے جب فروخت فرمایا تو اس کی قیمت ۱۶ لاکھ ملی تھی۔ حضرت زبیرؓ کی جایداد کی قیمت جیسا کہ بخاری میں ہے ۵۰ کروڑ ۲ لاکھ لگائی گئی تھی--- صحابہ اور صحابہ کی اولاد جو وہی عرب تھے جن کے پاس ہزار کے اوپر عدد کے لیے کوئی لفظ ہی نہ تھا‘ لاکھوں اور کروڑوں کی تعداد میں ایک ایک وقت میں صرف خیرات کرتی تھی‘ یا اپنے ملنے جلنے والے احباب و اعزہ کو دے ڈالتی تھی۔ (’’تدوین حدیث‘ ‘ ، مناظر احسن گیلانی‘ ماہنامہ ترجمان القرآن‘ جلد ۱۸‘ عدد ۴‘ ۵‘ ۶‘ ربیع الآخر‘ جمادی الاولیٰ‘ جمادی الآخرہ ۱۳۶۰ھ‘ جون‘ جولائی‘ اگست ۱۹۴۱ء‘ ص ۱۵۲- ۱۵۴)