مضامین کی فہرست


نومبر ۲۰۰۱

محمد اسلم سلیمی ‘  لاہور

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی صاحب نے اپنے مقالے: ’’معاصر اسلامی فکر: چند توجہ طلب مسائل‘‘ (اکتوبر ۲۰۰۱ء) میں جو چھے موضوعات اٹھائے ہیں‘ اُن میں سے کچھ موضوعات پر ان شاء اللہ ادارہ معارف اسلامی لاہور میں تحقیقی کام کا پروگرام بنایا جا رہا ہے۔ میں اس سلسلے میں اپنے احباب سے مشورہ کر رہا ہوں۔

توراکینہ قاضی ‘  گجرات

اشارات (اکتوبر ۲۰۰۱ء) میں پروفیسر صاحب نے موضوع کے ہر پہلو پر قلم اٹھایا ہے لیکن انھوں نے اس طرف توجہ نہیں کی کہ امریکہ میں دہشت گردی اور ایسے وسیع پیمانے پر تباہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ انتباہ ہو سکتا ہے کہ روس کے بعد اس سوپرپاور کی تباہی بھی قریب ہے۔ اب ممکن ہے کہ افغانستان جہاں روس کا قبرستان بنا‘ وہاں امریکہ کا قبرستان بھی بن جائے۔ امریکہ کا نامۂ اعمال جیسا سیاہ ہے‘ سب کو معلوم ہے۔ اب اس ظالم کا بھی یومِ حساب قریب ہے۔ ’’اسلام اور عصرحاضر کے معاشی چیلنج‘‘ (ستمبر ۲۰۰۱ء) چشم کشا تحریر ہے۔ ڈاکٹر انیس احمد کی، ’’مسلم ممالک‘ جمہوری روایت اور اسلام‘‘ (ستمبر ۲۰۰۱ء) بھی بے حد عمدہ لگی۔

ڈاکٹر محمد ا مین  ‘  لاہور

’’ترقی کا مفہوم‘‘ (اکتوبر ۲۰۰۱ء) میں یہ کہنا ناکافی ہے کہ مسلم ترقی دوسری تہذیبوں سے صرف بعض اخلاقی اصولوں کی پابندی کی بنا پر مختلف ہے۔ اسلام دنیا اور آخرت دونوں بلکہ ترجیحاً آخرت کی ترقی کا خواہاں ہے‘ جب کہ مغربی تہذیب صرف دنیوی ترقی کو موضوع بناتی ہے۔ اس اصولی فرق سے ترقی کے مفہوم‘اقدامات‘ اقدار‘ اہداف اور نتائج میں زمین و آسمان کا فرق پیدا ہو جاتا ہے۔

خلیل احمد ‘  اسلام آباد

گذشتہ ماہ امریکہ میں ہونے والے واقعات کے بعد اخبارات‘ ٹی وی‘ ملکی اور غیر ملکی تبصرے پڑھے اور سنے۔ ایک پریشانی تھی جو کہ بڑھتی جاتی تھی۔ عالم کفر کا یوں اُمڈتے آنا اور ایک دیوقامت (monolith) کا طاقت کے نشے میں بڑھتے جانا باعث تشویش تھا۔ اس کا جواب کیا ہے اور اس کا حل کیا ہے‘ سوجھتا نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ خرم مراد کی قبر کو نور سے بھر دے۔ ان کے مضمون ’’دورِ فِتن میں راہ عمل‘‘ (اکتوبر ۲۰۰۱ء) نے یہ اُلجھن دُور کر دی۔

محمد رفیق نازش  ‘  تحصیل فیروزوالہ

سرورق کی ڈیزائننگ میں تو خیر آپ لوگوں کا اپنا اک انداز اور معیار ہے‘ یعنی سادگی بھی‘ کشش بھی اور نظروں کو خیرہ کرنے والا بھی۔ لیکن اگر کریڈٹ پیج کو کچھ اچھے طریقے سے ڈیزائن کروا لیا جائے تو شاید پرچے کا حسن دوبالا ہو جائے۔ خرم مراد کا مضمون ’’دورِ فِتن میں راہ عمل‘‘ بھی بہت اچھا ہے۔اللہ آپ کو اور محنت کرنے کی توفیق دے۔ آمین!

سید وصی مظہر ندوی ‘  کینیڈا

’’کچھ صلہ رحمی کے بارے میں‘‘ (ستمبر ۲۰۰۱ء)‘ ڈاکٹر انیس احمد مفتی یا قاضی کے بجائے پیچیدگی کے شکار خاندان کے کوئی بزرگ نظر آتے ہیں جن کی زیادہ دل چسپی اپنے خاندان کو پیچیدگی سے نکالنے سے ہوتی ہے‘ دوسرے پہلوئوں کی طرف ان کی نظر کم ہی جاتی ہے۔

 

سورہ عقود ]المائدہ[میں اللہ تعالیٰ نے پہلے کھانے کی چیزوں میں سے جو چیزیں جائز ہیں ان کو بیان کیا‘ پھر جن عورتوں سے نکاح جائز ہے ان کو بیان کیا‘ پھر وضو کا ذکر فرمایا۔ اب ان کی مناسبت پر غور کرو گے تو دو چیزیں تمھارے سامنے آئیں گی۔ ایک شئی اور ایک شرطِ شئی۔ شرائط میں سے وہ چیزیں بیان کیں جن سے یہ چیزیں پاک ہوتی ہیں۔ اب دیکھو‘ ذبح چوپایوں کو پاک کرتا ہے‘ مہر اور احصان سے عورتیں پاک ہوتی ہیں‘ اور وضو نماز کی پاکی ہے۔ پھر تمام حقیقت کو آخر میں یہ فرما کر کھول دیا:  ما یرید اللّٰہ لیجعل علیکم من حرج ولٰکن یرید لیطھرکم ولیتم نعمتہٗ علیکم اللہ تعالیٰ یہ نہیں چاہتا کہ تم پر کوئی تنگی ڈالے بلکہ چاہتا ہے کہ تم کو پاک کرے اور تم پر اپنی نعمت تمام کرے۔ یہ شرائط کا بیان تھا۔ اب اشیا پر غور کرو گے تو معلوم ہوگا کہ یہاں تین چیزیں بیان کی گئیں: طیباتِ طعام‘ طیباتِ نسا‘ طیبات نماز۔

اگر اس سے زیادہ تعمق کی نگاہ سے دیکھو گے تو معلوم ہوگا کہ یہ دنیا عالم کون و فساد ہے‘ پس یہاں تین عوالم: عالم شخص‘ عالم نوع اور عالم روح کے نقص کی تلافی تین چیزوں: طعام‘ نکاح اور نماز سے فرمائی۔ پھر طعام اور نکاح میں ایک اور مناسبت بھی ہے کہ دونوں میں سے جو چیزیں حرمت کا محل ہیں ان کی تخصیص کر دی گئی چنانچہ دیکھو دونوں آیتییں بالکل ایک ہی نہج پر وارد ہوئیں۔ حرمت علیکم امھاتکم وبناتکم الآیہ حرمت علیکم المیتۃ والدم الآیہ۔ اسی طرح نماز اور نکاح میں مناسبت کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ نکاح بدکاری کی آلودگیوں سے حفاظت کرتا ہے اور نماز فحشا اور منکر سے روکتی ہے۔ ان الصلوۃ تنھٰی عن الفحشاء والمنکر۔ یہ مناسبت دونوں میں پاکیزگی کے پہلو سے تھی۔ بقرہ میں تخفیف کے پہلو سے ان کی مناسبت دیکھو۔ فرمایا:  حافظوا علی الصلوات … فان خفتم فرجا لا او رکبانا۔ یہی صورت حال نکاح میں ہے۔ نکاح کی حفاظت حتی الامکان واجب ہے‘ مگر طلاق کے وقت اس میں کسی قدر تخفیف کی گئی۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید میں ہر تالیف اپنے اندر ایک نیا جلوئہ حسن و جمال رکھتی ہے۔ (مقدمہ ’’تفسیرنظام القرآن‘‘ ، مولانا امین احسن اصلاحی‘ ماہنامہ ترجمان القرآن‘ جلد ۱۹‘ عدد ۱‘۲‘ ۳‘ رجب‘ شعبان‘ رمضان ۱۳۶۰ھ/ستمبر‘ اکتوبر‘ نومبر ۱۹۴۱ء‘ ص ۴۱-۴۲)