وفیاتِ مشاہیر خیبرپختون خوا ، ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیچ۔ناشر: قلم فائونڈیشن انٹرنیشنل، بنک سٹاپ، والٹن روڈ، لاہور کینٹ۔ فون: ۰۵۱۵۱۰۱- ۰۳۰۰۔ صفحات(بڑی تقطیع:۲۶۸۔ قیمت: ۱۰۰۰ روپے۔
وفیات نگاری علمی و ادبی تحقیق کی ایک اہم شاخ ہے۔ پاکستان میں جہاں وفیات کے ریکارڈ کی بات ہوگی، وہاں پروفیسر محمد اسلم (۱۹۳۲ء-۱۹۹۸ء)کے ساتھ ڈاکٹر منیراحمد سلیچ کا ذکر ضرور ہوگا۔ اس موضوع پر ان کی کتابوں کی تعداد عشرئہ کاملہ تک پہنچ چکی ہے۔ قابلِ تحسین بات ہے کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کے بعد اُردو میں وفیات نگاری کے ذخیرے کو مالا مال کر رہے ہیں___ وہ اب تک اپنے بقول: ’۱۸ہزار اہم پاکستانی شخصیات کی وفیات محفوظ کرنے کا کام‘ کرچکے ہیں۔
زیرنظر تازہ کتاب میں ۲ہزار ایسے ممتاز افراد کے مختصر سوانحی کوائف شامل ہیں جو صوبہ سرحد میں پیدا ہوئے یا اُن کی عمر کا بڑا حصہ اِس صوبے میں گزرا اور وہ ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء سے ۱۴فروری ۲۰۱۹ءکے درمیانی عرصے میں فوت ہوئے۔ وفات یا تدفین دنیا میں جہاں ہوئی ہو، ان کا تذکرہ کتاب میں شامل ہے۔ جملہ مرحوم شخصیات اپنے اپنے شعبے میں نمایاں مقام رکھتی تھیں۔
ممتاز شخصیات میں اکثریت علماے دین کی ہے، جو اس صوبے کا اعزاز شمار ہوگا۔ اگرچہ سلیچ صاحب نے کوائف کی فراہمی کے بعد، صحت کے لیے مقدور بھر چھان پھٹک کی ہے، مگر اس کے باوجود وہ اعتراف کرتے ہیں کہ کتاب میں اغلاط و تسامحات کی موجودگی کو رَد نہیں کیا جاسکتا۔
کتاب میں بیسیوں مشاہیر کی تصاویر بھی شامل ہیں۔’کتابیات‘ تقریباً اڑھائی سو اُردو انگریزی کتابوں، تحقیقی مقالوں اور اخبارات و رسائل پر مشتمل ہے۔ ہم، مقدمہ نگار ڈاکٹر عبداللہ جان عابد کے الفاظ میں پُراُمید ہیں کہ: ’’اہلِ دانش و بینش، ان کی دیدہ ریزی کا والہانہ استقبال کریں گے‘‘۔ (رفیع الدین ہاشمی)
مشاہیر ادب کے خطوط: بنام غازی علم الدین، مرتب: حفیظ الرحمٰن احسن۔ ناشر: مثال پبلشرز، رحیم سنٹر، پریس مارکیٹ، امین پور بازار، فیصل آباد۔صفحات:۴۹۱۔ قیمت: ۸۰۰ روپے۔
چند برس قبل ڈاکٹر آصف حمید کا مرتبہ مجموعہ اہلِ قلم کے مکاتیب بنام غازی علم الدین کے عنوان سے شائع ہوا تھا۔ زیرنظر دوسرا مجموعہ نسبتاً زیادہ اہم اور دل چسپ محسوس ہوتا ہے۔ کُل ۸۱شخصیات کے ۴۵۵ خطوط شامل ہیں۔ اِن خطوں سے مکتوب نگاروں کے علم و فضل، ان کے ادبی نظریاتی کا اندازہ تو ہوتا ہی ہے، مکتوب الیہ کی علمی شخصیت کا بہت اچھا نقش بھی سامنے آتا ہے۔ مکتوب نگاروں نے بحیثیت مجموعی غازی صاحب کی تنقیدات کی تحسین کی ہے، مگر ان کے لسانی نظریات سے کہیں کہیں اختلاف بھی کیا ہے۔گذشتہ برس ان کی کتاب تخلیقی زاویـے شائع ہوئی تھی۔ بھارتی نقاد اور محقق جناب یحییٰ نشیط (پ:۱۹۵۱ء) غازی صاحب (پ:۱۹۵۹ء) کے بزرگ ہیں، انھوں نے تخلیقی زاویـے کو ’مبتدیانہ‘ کام قرار دیا ہے جو غازی صاحب کے ’وقار و معیار کے شایانِ شان نہیں‘ (ص۸۰)۔ غازی صاحب نے ’ہندوئوں کی لسانی تنگ نظری‘ اور اُردو زبان کے لیے ان کے تعصب کا ذکر کیا تھا (جو ایک واضح حقیقت ہے) مگر یہ یحییٰ نشیط صاحب کو پسند نہیں آیا۔ ’ہندستان میں رہتے ہوئے‘ وہ غازی صاحب کی راے سے متفق نہیں اور ایسی باتوں کو اُردو کے لیے بھی ’مضرت رساں‘ سمجھتے ہیں۔
غازی صاحب ہمیں زبان و بیان کے ایسے پہلوئوں کی طرف متوجہ کرتے ہیں، جو اہلِ قلم کی نظر سے اوجھل رہتے ہیں۔ بعض خطوط تو تحقیقی مقالوں کی صورت اختیار کرگئے ہیں، جیسے پروفیسر ظفرحجازی کے خطوط (ص ۲۴۵-۲۸۵)۔
پروفیسر عبدالرزاق کے طویل خط سے مولوی محمد شفیع (۱۸۸۳ء-۱۹۶۳ء) کے بارے میں ایسی نادر معلومات ملتی ہیں جو کسی اور ذریعے سے قارئین تک نہیں پہنچیں۔ انسائی کلوپیڈیا، اب بھی تالیف ہوتے ہیں مگر مولوی صاحب جیسے محقق نایاب ہیں جن کی گاڑی کو شیخ امتیاز بھی دھکا لگانا، سعادت سمجھتے ہوں (ص ۳۱)___ڈاکٹر مظہرمحمود شیرانی ، ڈاکٹر رؤف پاریکھ اور ڈاکٹر عبدالستار دہلوی کی مفصل تقاریظ، کتاب کی وقعت پر مؤید ہیں۔(رفیع الدین ہاشمی)
ڈاکٹر انیس احمد صاحب نے ’اشارات‘ میں دعوتِ دین کے کام میں اصولی حکمت عملی کو اپناتے ہوئے خود احتسابی کے لیے درست ترجیحات کا تعین کیا ہے اور اصلاحِ معاشرہ کی ذمہ داری کو پوراکرنے کے لیے شخصی رابطے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ یقینا اس سے زیادہ مؤثر اور دیر پا طریقہ اور ذریعہ کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔
مئی کے شمارے میں بیش تر مضامین جاذب قلب ونظر تھے۔ رمضان المبارک کی فضیلت پر متعدد تحریریں افادیت کی حامل تھیں، کن کن مضامین، عنوانات کی مدح سرائی کی جائے، کہ باعث طوالت ہوگا۔ تاہم،’اشارات ‘ میں محترم ڈاکٹر انیس احمد کی تحریر قابلِ غور وفکر تھی: ’’ دعوت کی اثر انگیزی اسی وقت ہو گی جب فرد کا فرد سے رابطہ ، تبادلۂ خیالات اور داعی کی شخصیت خود اپنے ہر عمل سے دعوت کا مرقع ہو۔ یہ کام آج بھی اسی طرح ہوسکتا ہے جس طرح جماعت اسلامی کی تاسیس کے بعد تک ہوتا رہا‘‘۔ یہ چند الفاظ پوری کتاب پر بھاری ہیں۔’’کاش! کہ ہم پھر سے کتاب اور ’الکتاب ‘ سے اپنا تعلق مضبوط ترکر سکیں ‘‘۔ کاش! اس شان دار رسالے کو ہم الماریوں کی زینت بنانے کے بجاے ہر عام وخاص فرد تک پہنچانے کی سعی کریں۔ جس سے آخرت میں ابلاغِ دعوتِ دین کی باز پُرس سے نجات ممکن ہے اور یہی راستہ تحریک اسلامی کی کامیابی کے لیے ناگزیر بھی ہے۔
ہمارے گھر پر ترجمان القرآن کے مضامین کا مہینے بھر میں اجتماعی مطالعہ ہوتا ہے، جس میں سب اہلِ خانہ شریک ہوتے ہیں۔مئی کے ترجمان میں رمضان المبارک کی مناسبت سے مولانا محمد فاروق خاں صاحب کے علمی اور ڈاکٹر میمونہ حمزہ صاحبہ کے ترجمہ شدہ عملی مضامین نے روزہ داروں کی روحانیت کو چار چاند لگادیے۔ جماعت اسلامی ہند کے امیرجناب سیّد سعادت اللہ حسینی کے مضمون نے متاثر اور حیرت زدہ کیا کہ تحریک اسلامی کی قیادت قدیم و جدید، دین اور دنیا دونوں پر نہ صرف نظر رکھتی ہے بلکہ نہایت منطقی ذہن کی بھی حامل ہے۔ جناب عمر تلمسانی کی دردِ دل میں ڈوبی یادداشتوں کی فراہمی پر ہم حافظ محمد ادریس صاحب کے شکرگزار ہیں۔جناب افتخار گیلانی کی دونوں تحریریں معلومات کا سرمایہ رکھتی ہیں۔
مئی کے ’اشارات‘ ایمان افروز تھے۔ تحریک ِ اسلامی کے لائحہ عمل کے چار نکات کی جس طرح تشریح کی گئی ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!
ڈاکٹر انیس احمد نے جس محنت ، خلوص اور دردِ دل سے ’اشارات‘(مئی ۲۰۱۹ء) تحریر کیے ہیں، وہ تحریک اسلامی کے تمام متعلقین کے لیے چشم کشا ہیں۔ خاص طور پر ۱۹۵۷ء میں مولانا مودودی کی تقریر میں رہنمائی کا پورا سامان موجود ہے کہ : تطہیر افکار وتعمیر افکار ، صالح افراد کی تلاش وتنظیم وتربیت ، اجتماعی ومعاشرتی اصلاح اور حکومتی امور کی اصلاح کے لیے جمہوری جدوجہد ۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ پہلے تین نکات پر توجہ کم ہوتی گئی ہے، جب کہ کامیابی کے لیے تمام نکات پر توازن کے ساتھ عمل ضروری ہے۔
اپریل کے شمارے میں محترم نجات اللہ صدیقی کے مضمون میں حالات کے جبر کو تسلیم کرکے راستہ نکالنے کا درس موجودتھا۔کیا واقعی اقوام متحدہ کے ہاتھوں ہم مغربی تہذیب کے آگے اس قدر مجبور ہیں؟
’رسائل ومسائل ‘ میں ضروری مسائل کو خوب صورت انداز سے بیان کیا گیا ہے، خاص طور تبلیغ کی حکمت عملی کے حوالے سے جواب میں حکیمانہ پہلوئوں کو اُجاگر کیا گیا ہے۔
بھارت سے سکھ زائرین کے لیے کرتار پورہ راہداری کے کھلنے میں چندماہ باقی ہیں۔ ریاستوں کے تعلقات کی مجبوریاں اور امکانات اہم ہیں، لیکن تاریخ کو ذہنوں سے محو نہیں ہونا چاہیے۔یہ حقیقت ہے کہ گورونانک کی وفات [۱۵۳۹ء] کے بعد سے سکھوں کی تاریخ ، مجموعی طور پر مسلمانوں سے دشمنی سے بھری پڑی ہے(بلاشبہہ ہمسایوں کے طور پر بھائی چارے کی بہت اچھی مثالیں بھی موجود ہیں، جنھیں قومی عموم کا درجہ نہیں دیا جاسکتا کہ ایسی چنیدہ مثالیں تو ہندوئوں ، یہودیوں اور عیسائیوں میں بھی پائی جاتی ہیں)۔اورنگ زیب کا پورا زمانہ اور پھر مغلوں کا آخری زمانہ، اور خود رنجیت سنگھ [م:۱۸۳۹ء] اور اس کے گرووں کا زمانہ ، حتیٰ کہ قیامِ پاکستان کا مرحلہ، سکھوں کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل عام سے بھرا پڑا ہے۔ سید احمد شہید [م:۱۸۳۱ء]کی تحریک مجاہدین بنیادی طور پر اسی سکھا شاہی کا جواب بھی تھی۔ اس لیے مسلمانوں کے بارے میں سکھوں کے مذہبی ، قومی ، نسلی اور سیاسی شعور سے آگاہ کرنے کے لیے قارئین کورہنمائی دی جانی چاہیے۔