سوال : بعض لوگ کہتے ہیں کہ قرآن اور حدیث کا پورا علم حاصل کیے بغیر ہمیں تبلیغ کا کوئی حق نہیں ہے۔ یا اگر علم تو ہو لیکن عمل نہ ہو، تو اس صورت میں بھی تبلیغ کا کوئی حق نہیں، مثلاً پینٹ پہن کر اور ٹائی لگا کر تبلیغ کی جاتی ہے تو یہ درست نہیں ہے۔ کیا یہ خیال صحیح ہے؟
جواب :جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن و حدیث کا پورا علم حاصل کیے بغیر کسی کو تبلیغ کا حق نہیں ہے، ان سے دریافت کیجیے کہ: پورے علم کی تعریف کیا ہے؟ اس کی حد کیا ہے؟ اور اس کا پیمانہ کیا ہے؟ یہ پیمایش کیسے ہوگی کہ کسی کو پورا علم حاصل ہوگیا کہ نہیں؟ جن لوگوں کی عمریں قرآن و حدیث پڑھتے پڑھاتے ہوئے گزر گئی ہیں، وہ بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتے کہ انھیں پورا علم حاصل ہوگیا ہے۔ جو آدمی صحیح معنوں میں عالم ہوتا ہے، وہ مرتے دم تک طالب علم رہتا ہے۔ کبھی اس کے دماغ میں یہ ہوا نہیں بھرتی کہ مَیں پورا عالم ہوگیا ہوں اور مجھے پورا علم حاصل ہوگیا ہے۔ اس لیے یہ بات صحیح نہیں کہ ’پورا علم‘ حاصل کیے بغیر تبلیغ کرنا درست نہیں۔
یہ بھی دیکھا جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو بدوی آکر مسلمان ہوتے تھے اور پھر اپنے قبیلوں میں جاکر تبلیغ کرتے تھے، وہ کب پورے عالم بن کر جاتے تھے۔ بس دین کی بنیادی باتیں انھیں معلوم ہوجاتی تھیں۔ وہ یہ جان لیتےتھے کہ حق کیاہے اور باطل کیا ہے؟ ہمارے فرائض کیا ہیں، کون کون سی چیزیں ہمارے لیے ممنوع ہیں، اور کن کن کی اجازت ہے؟ یہ باتیں وہ جان لیتے تھے اور جاکر لوگوں میں خدا کے دین کی تبلیغ شروع کر دیتے تھے اور پورے پورے قبیلوں کو مسلمان بنا لیتے تھے۔
دوسرا سوال ہے عمل نہ ہوتے ہوئے تبلیغ کرنے کے متعلق___ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ کے راستے کی طرف بلانا کسی شرط کے ساتھ مشروط نہیں ہے۔ ایک آدمی اگر شیطان کے راستے کے بجاے اللہ کے راستے کی طرف بلا رہا ہے اور اس کے اپنے عمل میں خامی ہے، تو اس کا اللہ کے راستے کی طرف بلانا تو غلط نہیں ہے۔ اسے اس کام سے نہ روکیے اور نہ اس پر اعتراضات کیجیے۔ اصل چیز یہ ہے کہ جب ایک آدمی یہاں تک آپہنچتا ہے کہ وہ لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف بلاتا ہے، انھیں بُرائیوں سے روکنے کی کوشش کرتا ہے اور ان کے سامنے حق پیش کرتا ہے، تو اُمید رکھنی چاہیے کہ یہ عمل اس کی اپنی زندگی کو بھی درست کردے گا۔ جب وہ یہ کام کرے گا تو وہ خود ہر وقت اپنے عمل اور زندگی پر بھی نظر دوڑائے گا، اور آہستہ آہستہ اپنی اصلاح بھی کرلے گا۔ اب جو آدمی خود بخود غلط سے صحیح راستے کی طرف آرہا ہے اگر آپ اسے بار بار ٹوکیں گے اور اس طرح اس کے واپس لوٹ جانے کا سبب بنیں گے، تو میرا خیال ہے کہ آپ خدا کے ہاں ماخوذ ہوں گے۔ آپ کے اس طرح ٹوکنے کا نتیجہ یہی تو نکل سکتا ہے کہ وہ خدا کے راستے کی طرف نہ بلائے، حق بات نہ کہے اور لوگوں کو خدا کی بندگی کی طرف دعوت نہ دے ۔ظاہر ہے کہ یہ نہایت غلط بات ہے۔ اگر اس کے عمل میں کوئی خرابی ہے تو، توقع کیجیے کہ اس کی اصلاح بھی ہوجائے گی۔
حدیث میں آتا ہے کہ آں حضوؐر سے ایک شخص کے متعلق پوچھا گیا کہ وہ دن کو نمازیں پڑھتا ہے اور رات کو چوریاں کرتا ہے۔ اس کے متعلق کیا حکم ہے؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اس کے حال پر چھوڑ دو،یا تو چوری اس سے نماز چھڑوا دے گی، یا نماز اس سے چوری چھڑوا دے گی۔ یہ تو ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی تعلیم۔ اب اگر ایک آدمی اصلاح کے جوش میں آکر ایسے شخص سے یہ کہے کہ:کم بخت جب تو چوری کرتا ہے تو تیری نماز کس کام کی؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس کی اصلاح کی آخری اُمید بھی منقطع کرنا چاہتے ہیں۔ چوری میں تو و ہ مبتلا ہے ہی، اب آپ اس سے نماز بھی چھڑوانا چاہتے ہیں۔ نماز ایک آخری رشتہ ہے جس سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ مکمل بھلائی کی طرف پلٹ آنے میں اس کی مدد کرے۔ لیکن آپ وہ رشتہ بھی جوشِ اصلاح میں کاٹ دینا چاہتے ہیں۔ اپنے نزدیک تو آپ نے بڑی اصلاح کی بات کی، لیکن حقیقت میں آپ نے اسے جہنم کی طرف دھکیلنے میں حصہ لیا۔ یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: جب وہ شخص چوری کرتا ہے تو نماز سے اسے کیا حاصل؟‘ بلکہ یہ فرمایا: اُسے اس کے حال پر چھوڑ دو۔ ایک وقت آئے گا کہ یا تو اس کی نماز اس سے چوری چھڑا دے گی یا چوری نماز چھڑا دے گی‘۔
بڑی مشکل یہ ہے کہ لوگ اصلاح کی باتیں تو بہت کرتے ہیں، لیکن اصلاح کے لیے جس حکمت کی ضرورت ہوتی ہے ، وہ اس کے ابتدائی تقاضوں سے بھی واقف نہیں ہوتے، اور بسااوقات اپنے غیرحکیمانہ طرزِعمل سے درست ہوتے ہوئے آدمیوں کو بھی بگاڑ دیتے ہیں۔
سوال : آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے ساتھ ازراہِ احترام بعض لوگ ’صلعم‘ لکھ دیتے ہیں اور بعض جگہ صرف ’ ؐ‘ لکھا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
جواب : ’صلعم‘ لکھنا تو صحیح نہیں اور آںحضوؐر کے نام کے ساتھ لکھنا نامناسب ہے۔ البتہ ’ ؐ‘لکھا جاسکتا ہے،لیکن زیادہ مناسب یہی ہے کہ صلی اللہ علیہ وسلم مکمل لکھا جائے۔
سوال : روزے کی حالت میں آدمی کسی شدید تکلیف میں مبتلا ہوجائے، تو کیا اس کے لیے روزہ توڑنا جائز ہے؟
جواب : اگر تکلیف ناقابلِ برداشت ہوجائے یا ڈاکٹر اسے بتا دے کہ جان جانے کا خطرہ ہے تو روزہ توڑنا جائز ہے۔
سوال : بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر ایسی حالت میں انسان روزہ نہ توڑے اور جان دے دے، تو اس کا درجہ بلند ہوجاتا ہے؟
جواب : ایسا نہیں ہوتا، بلکہ شریعت کی رُو سے انسان گناہ گار قرار پاتا ہے۔ اصل چیز یہ ہے کہ ہمیں انسانی جان کے معاملے میں وہی معیار سامنے رکھنا چاہیے اور مومن کی زندگی کو وہی اہمیت دینی چاہیے، جو اسلام دیتا ہے۔ شریعت کا حکم ہے کہ جان پر آبنے یا تکلیف آپے سے باہر ہوجائے، تو روزہ توڑنے میں کوئی حرج نہیں۔
سوال : ایک فرد جو ریاست کو ٹیکس ادا کرتا ہے تو کیا اس کے لیے محصول چونگی کی ادایگی بھی ضروری ہے؟
جواب : محصول چونگی دراصل اس شہر کا حق ہوتا ہے جس میں آپ رہ رہے ہیں۔ یہ ان مصارف کے لیے ہوتا ہے، جن کے ذریعے آپ کو متعدد سہولتیں مہیا کی جاتی ہیں۔ اس لیے اس کی ادایگی کرنی چاہیے۔ یہ درست نہیں ہے کہ آپ سہولتوں سے تو استفادہ کریں اور مصارف کی ذمہ داریوں سے بچیں۔
سوال : انسان کے دل میں بعض اوقات طرح طرح کے وسوسے آتے ہیں، ان میں سے بعض بہت بُرے ہوتے ہیں، کیا ان کی بنیاد پر گرفت ہوگی؟
جواب : وسوسہ جب تک دل میں اس طرح جم نہ جائے کہ اس کی بنیاد پر انسان کوئی غلط کام کربیٹھے، اس وقت تک نہیں پکڑا جائے گا۔
مقالاتِ برکاتی، علّامہ حکیم محمود احمد برکاتی، مرتب: ڈاکٹر سہیل احمد برکاتی۔ ناشر: عکس پبلی کیشنز، داتا دربار مارکیٹ ، لاہور۔ فون: ۴۸۲۷۵۰۰-۰۳۰۰۔ صفحات:۵۵۰۔ قیمت: ۱۲۰۰روپے۔
ریاست ٹونک کو نواب امیرخان نے ۱۸۱۷ء میں قائم کیا تھا۔ تقسیم ہند کے بعد، بھارتی حکومت نے یکم مئی ۱۹۵۰ء کو اسے صوبہ راجستھان میں ضم کرلیا۔ برطانوی عہد میں برعظیم کی مسلم ریاستوں میں ٹونک کو کئی اعتبار سے ممتاز حیثیت حاصل تھی۔ امتیاز کا ایک سبب ٹونک کا خانوادۂ برکاتی ہے۔ علّامہ برکات احمد (م: ۱۹۲۸ء) فاضلِ اجل اورطبیب بے بدل تھے۔ اُن کے اخلاف نے علم و فضل اور طبابت کی روایت کو برقرار رکھا۔ زیرنظر کتاب کے مصنف حکیم محمود احمد برکاتی شہید (۱۹۲۶ء-۲۰۱۳ء) غالباً اِس کی آخری کڑی تھے۔ اُن کے فرزند ِ ارجمند ڈاکٹر سہیل احمد برکاتی نے اپنے والد ِ مرحوم کے نئے پرانے مقالات کا زیرنظر مجموعہ مرتب کر کے شائع کیا ہے۔قبل ازیں برکاتی شہید کی متعدد کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔
زیرنظر کتاب میں سیرت النبیؐکے علاوہ بعض بزرگوں (شاہ ولی اللہ، شاہ محمد اسحاق دہلوی، شاہ محمد محدث دہلوی، مولانا فضل حق خیرآبادی، مولانا عبدالحق خیرآبادی وغیرہ) اور بعض معاصرین (ماہرالقادری ، ظفر احمد انصاری ،ابوالخیر کشفی، پروفیسر سیّدمحمدسلیم اور محمد محسن ٹونکی وغیرہ) پر مصنّف کے مقالات شامل ہیں۔ تقریباً ایک درجن مضامین طب، ادویہ اور امراض پر ہیں۔ مزیدبرآں چند خطبات، ایک انٹرویو اور ایک خودنوشت بھی شاملِ اشاعت ہے۔ تاہم، ایک قیمتی مقالہ (حکیم احسن اللہ خان) شامل ہونے سے رہ گیا۔ یہ مقالہ مشفق خواجہ کے توسط سے ہمیں ملا تھا اور ارمغانِ شیرانی (شعبۂ اُردو اورینٹل کالج، لاہور، ۲۰۱۲ء) میں شامل ہے۔
مضمون: ’ٹونک کا ماضی اور حال‘ ریاست ٹونک کے متعلق ایک کشکول ہے جس میں ٹونک کے حکمرانوں، اکابر اہلِ قلم، ان کی تصانیف، وہاں کے پی ایچ ڈی مردو زن، صحافیوں، ٹونک پر کتب ِ تواریخ اور وہاں کے مطابع وغیرہ کے بارے میں معلومات مل جاتی ہیں۔ وہ ٹونک کی ہمہ پہلو تعریف میں رطب اللسان ہیں۔ وہ اسے ’دارالاسلام محمدآباد‘ عرف ٹونک کا نام دیتے ہیں ، شاید اس لیے کہ ان کے بقول: ’دین سے اتنا قریب معاشرہ میں نے کہیں نہیں دیکھا‘ (ص ۲۴۹)۔ ان کے خیال میں ٹونک ’غیرت شیراز و بغدادِ صغیر‘ تھا۔
ریاست ٹونک کے پانچویں حکمران نواب سعادت علی خاں (۱۹۳۰ء-۱۹۴۷ء)پر برکاتی مرحوم کا مضمون، البتہ کم زور ہے۔ بلاشبہہ تعمیراتی کام حکمرانوں کے فرائض میں شامل ہیں۔ یہ عوام پر، ان کی ’عنایات‘ نہیں ہوتیں۔ نواب صاحب شیروں کے شکاری تھے، مصنف نے ۱۱۰؍شیروں کے شکار کو بھی نواب صاحب کے ’کارناموں‘ میں شمار کیا ہے۔
کتاب کے دل چسپ ہونے میں کلام نہیں ، جس کا بڑا سبب موضوعات کا تنوع اور خوب صورت اسلوب ہے۔ بعض مضامین تو بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اُمید ہے کہ مرحوم کے لائق فرزند سہیل برکاتی، اپنے والد کے نام مشاہیر و اکابر کے خطوط بھی مرتب کر کے شائع کریں گے۔(رفیع الدین ہاشمی)
قرآن کی تاثیر ، مرتبہ :حافظ محمد عارف۔ ناشر: جامعہ عربیہ ،جی ٹی روڈ، گوجرانوالہ۔ فون: ۷۴۴۸۰۸۸-۰۳۲۱۔صفحات :۴۴۰۔قیمت: درج نہیں۔
فاضل مرتب نے کتاب کا آغاز اس فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہے:’’ہر نبیؑ کو ایسا معجزہ عطاکیا گیا ہے، جس پر انسان ایمان لائے، اور جو معجزہ مجھے عطا کیا گیا ، وہ یہ وحی [قرآن ] ہے، جو اللہ نے میری طرف نازل کی ہے‘‘۔(بخاری )
اسی فرمانِ نبویؐ کی روشنی میں محترم مرتب نے مختلف دانش وروں ، عالموں اور نو مسلموں کے دلوں کو پھیرنے میں قرآن کریم کی تاثیر پر مبنی تحریروں کو جمع کیا ہے۔ جن میں مقامی بھی ہیں اور غیر ملکی بھی، مرد بھی ہیں اور خواتین بھی۔ بقول مرتب:’’صرف وہ واقعات ومشاہدات جمع کیے ہیں، جو مستند ہیں ،جہاں شک وشبہے کی گنجایش تھی، ان واقعات سے صرف نظر کیا ہے ‘‘۔(ص ۷)
اس طرح یہ واقعات قاری کو قرآن سے جوڑنے اور اس کی برکتیں حاصل کرنے کے لیے اُبھارتے ہیں۔ (ادارہ)
ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی ، عصرِ حاضر میں تحریک اسلامی کے ایک جیّد عالم اور اسلامی معاشیات کی تحریک کے مرکزی قائدین میں شامل ہیں۔ ان کا فکر انگیز مقالہ ’اسلامی تحریکات: مستقبل اور مقاصد شریعت‘ (اپریل۲۰۱۹ء) غوروفکر کے ان زاویوں کو کھولتا ہے کہ جن کی طرف عام طور پر نظر نہیں جاتی یا پھر ان پر بات کرتے ہوئے ، روایت پسند ی آڑے آ جاتی ہے۔ نجات اللہ صاحب کے سوالات کا تعلق تکثیری معاشروں سے بھی ہے۔ اگرچہ ادارہ ترجمان نے جھجکتے ہوئے مضمون دیا ہے، حالاں کہ اس جھجک کی کچھ ضرورت نہ تھی۔ صاحب ِمقالہ نہ تو دین کے معاملے میں معذرت خواہ ہیں اور نہ اسلام کے درد سے ناواقف ۔ یقینا اہل حل وعقد اس مقالے پر توجہ فرمائیں گے۔
’مسجد: مرکزِ عبادت، تربیت اور خدمت ‘ کے مصنف ایچ عبدالرقیب نے ایک نہایت اہم مسئلے کی طرف توجہ دلائی ہے ۔ اسلام کا مقصد یقینا ایک ایسے معاشرتی نظام اور ایسے طرزِ زندگی کی تعمیر وتشکیل ہے، جو اخوت اور انصاف پر مبنی ہو۔ اصولاً ایک محلے میں ایک ہی مسجد ہو تو اچھا ہے، جس میں تمام مسالک کے مسلمان بھائیوں کے لیے اپنے مسلک کے تحت نماز کی گنجایش اور سماجی سطح پر یک جائی ، تعاون اور باہم فکر مندی کا سامان ہو۔
محترم سیّد علی گیلانی صاحب کے خطبے ’کشمیر :منزل صرف آزادی ‘ میں دلیل ، جرأت اور کمٹ منٹ کی پختگی اپنے نقطۂ عروج پر پہنچ کر اسلامیانِ عالم کو جھنجھوڑتی ہے۔ نیز اہلِ کشمیر کا اصولی موقف مدلّل انداز میں سامنے آتا ہے۔
پروفیسر خورشیداحمد کا مضمون : ’اقبال: اسلامی احیائی تحریک کا معمار‘ علّامہ کے فکری اور تہذیبی کارنامے پر اختصار و جامعیت سے روشنی ڈالتا ہے۔ مسجد کے مقام کو سمجھنے کے لیے اسلام جو فکر دیتا ہے، ایچ عبدالرقیب کی تحریر، اسے سمجھنے میں بڑی معاونت فراہم کرتی ہے۔ چودھری محمد اسلیم سلیمی صاحب نے حُسنِ اخلاق پیدا کرنے کے لیے سیرت النبیؐ کے مطالعے اور اس کی روشنی میں خود کو سنوارنے کی اچھی دعوت دی ہے۔
’اشارات‘ میں نہ صرف علامہ محمد اقبال کی فکر کا تعارف کرایا گیا ہے بلکہ ایک مختصر مضمون میں بہت بڑے موضوعات بھی سمجھا دیے گئے ہیں۔ اس طرح یہ تحریر ایک جانب تفہیمِ اقبال کے سلسلے میں حددرجہ مددگار ثابت ہوتی ہے، تو دوسری جانب موجود ہ زمانے میں مسلمانوں کے مسائل کی جڑ اور بنیاد کو سمجھنے میں بھی معاون بنتی ہے۔
اپریل کا پورا شمارہ یاد گار ہے۔ اشارات کے بعد ، ’رسائل ومسائل‘ میں مولانا مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی مجلس میں سوال کرنے اور جواب سننے تک کی سہولت میسر آئی جس کے لیے ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کے شکرگزار ہیں۔ تذکیر کے باب میں ڈاکٹر جاسم مطوع کی تحریر ’گفتگو: فکرمندی اور بدی سے‘ کئی طویل تقریروں پر بھاری ہے۔ محترم چودھری محمد اسلم سلیمی صاحب نے حسنِ اخلاق کی تعمیر کے لیے سیرت پاک سے پھول چُن کر قارئین کے مطالعے کے لیے پیش کیے ہیں۔ جناب افتخار گیلانی نے جموں وکشمیر میں جماعت اسلامی پر پابندی کا پس منظر جس خوبی سے بیان کیا ہے، وہ آنکھیں کھول دینے والا ہے۔
مراد علوی صاحب نے مولانا مودودیؒ کی کتاب الجہاد فی الاسلام کے پس منظر پر بہت سلیقے سے روشنی ڈالی ہے۔ حیرت ہے کہ سو سال گزرنے کے باوجود منظر وہی ہے۔ لیکن افسوس کہ آج کے زمانے میں ویسی جرأتِ اظہار رکھنے والے مسلمان اہلِ قلم کم یاب ہیں۔ مضمون نگار نے بڑی خوبی سے تاریخ کو آج سے جوڑ کر پیش کیا ہے۔
’اشارت‘ میں علامہ اقبال ؒ کی شخصیت کے دینی جذ بے اور افکار کو خوب صورت پیرائے میں بیان کیا گیا ہے ۔ محترم ایچ عبدالرقیب کے مضمون ’مسجد: مرکز ِ عبادت ، تربیت اور خدمت ‘ نے اسلامی معاشرے میں مسجد کی مرکزیت کو واضح کیا ہے ، حالاںکہ ہمارا خیال یہ ہوتا ہے مسجد میں نماز کی ادایگی کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح ڈاکٹر شائستہ پروین نے بچوں کی تربیت کے ایک خاص پہلو کو اُجاگر کرتے ہوئے تربیت کے اہم تقاضے بیان کیے ہیں۔ ’رسائل ومسائل‘ میں اہم مسائل کو مختصر اور جامع انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
| گذشتہ چھے ماہ کے دوران، عالمی ترجمان القرآن میں شائع ہونے والے متعدد یادگار مضامین کے مصنف جناب جاوید اقبال خواجہ (پ:یکم مارچ ۱۹۵۳ء) ۸؍اپریل ۲۰۱۹ء کو لندن میں وفات پاگئے ہیں، اِنَّـا لِلّٰہِ وَ اِنَّـا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ۔مرحوم کی مغفرت کی دعا کے لیے درخواست ہے۔ ادارہ |