مضامین کی فہرست


مارچ ۲۰۱۹

یہ ۲۷فروری ۲۰۰۲ء کا الم ناک دن تھا، جب گودھرا ٹرین کی آتش زدگی کے فوراً بعد بھارتی ریاست گجرات میں مسلمانوں کے گھروں پر انتہاپسند ہندوئوں نے حملے کر کے بڑے پیمانے پر مسلمانوں کا قتل عام کیا اور ایک ہزار سے زیادہ مسلمان مار دیے گئے، گھر جلا دیے گئے اور عورتوں کی اجتماعی بے حُرمتی کی گئی۔ تب نریندرا مودی گجرات کے وزیراعلیٰ اور اس ’آپریشن مسلمان‘ کے عملاً کمانڈر تھے۔ تباہ حال مسلمان گھرانوں کی بحالی کے کاموں میں دیگر مسلمان رضاکاروں کی طرح جمعیۃ العلما ، مہاراشٹر کے رہنما مفتی عبدالقیوم منصوری بھی سرگرم تھے۔ ۲۴ستمبر ۲۰۰۲ء کو اکشردھام مندر میں گرنیڈ حملے میں ۳۲؍افراد ہلاک ہوگئے۔ اس حادثے میں مفتی عبدالقیوم اور دینی رہنمائوں کو پھانسنے کے لیے ۱۷؍اگست ۲۰۰۳ء کوگرفتار کرکے تعذیب خانوں میں ڈالا گیا۔ آخرکار ’دہشت گردی روک قانون‘ (POTA) کی عدالت نے ۲جولائی ۲۰۰۶ء کو مفتی صاحب کو سزاے موت سنائی۔ ہائی کورٹ میں اپیل کی تو اس نے ۲۴؍اپریل ۲۰۰۸ء کو فیصلہ محفوظ کیا اور ۲۶ماہ بعد یکم جون ۲۰۱۰ء کو سزاے موت برقرار رکھنے کا حکم دیا۔ اس پر  سپریم کورٹ میں اپیل کی تو وہاں سے ۱۶مئی ۲۰۱۴ء کو مفتی صاحب اپنے تمام ساتھیوں سمیت بے گناہ قرار پاکر، گیارہ برس بعد رہا ہوئے۔ بھارت کے مسلمان ایسے صدمات سے گزر رہے ہیں۔ مفتی صاحب نے اپنی رُوداد گیارہ سال سلاخوں کے پیچھے لکھی ہے، اس سے چند صفحات پیش ہیں۔ ادارہ


یہ ۱۷؍اگست ۲۰۰۳ء کی صبح تھی۔ میں ڈابھیل اپنے استاذ مولانا مفتی احمد صاحب خانپوری اور دیگر اساتذہ و طلبہ سے ملاقات کے بعد کفلیتہ پہنچا کہ صبح ۱۰بجے میرے موبائل پر ایک کال آئی جس کا نمبر دیکھ کر مَیں بے چین ہوگیا کیوں کہ یہ نمبر پچھلے ایک ہفتے سے میرے پیچھے لگا ہوا تھا۔ ایسے آثار نظر آرہے تھے کہ کسی بھی وقت مجھے بھی پولیس کرائم برانچ کا بلاوا آسکتا ہے کیوں کہ مجھ سے قبل کئی حضرات کو کرائم برانچ میں بلایا، دھمکایا ، ماراپیٹا اور غلط مقدمات میں پھنسا دیا گیا تھا۔ حتیٰ کہ حضرت مفتی احمد صاحب خانپوری، مولانا احمد مظاہری پٹنی، مفتی یحییٰ صاحب، مفتی رضوان صاحب اور  مفتی امتیاز صاحب بھی اس مکروہ ترین مرحلے سے گزر چکے تھے، لہٰذا مجھے بھی خطرہ لاحق ہوگیا تھا کہ کب بلاوا آ جاتا ہے؟
آخرکار۱۷؍اگست ۲۰۰۳ء اتوار کے روز صبح ۱۰بجے انھی صاحب کا فون آیا: ’بھائی تو کہاں ہے؟‘ میں نے پوچھا: ’کیا کام ہے؟‘ کہا: ’سانگھل صاحب بلا رہے ہیں‘۔
میں نے کہا: ’میں پالن پور میں ہوں‘۔ جواب ملا:’تو کب آئے گا؟‘ میں نے بتایا: ’شام تک آجائوں گا‘،تو جواب آیا: ’پالنپور صرف دو تین گھنٹے کا راستہ ہے، تجھے اتنی دیر کیوں ہوگی؟‘
میں نے اپنا موبائل فون بند کر دیا اور وہاں سے فوراً ڈابھیل آکر اپنے بزرگوں کو یہ بات بتائی اور دُعا کی درخواست کی۔ کھانے کی دعوت حضرت مولانا محمد سملکی کے گھر تھی، لیکن اس تشویش ناک خبر سے میرا اور میرے رفقاے سفر کا کھانا بھی بدمزا ہوگیا اور واپسی کا سفر شروع ہوا۔ میں اپنی فکر میں ڈوبا ہوا تھا اور گاڑی کی رفتار سے تیزخیالات اور وساوس کی رفتار تھی کہ اب کیا ہوگا؟مجھے کیوں بلایا گیا ہے؟ پورا سفر میں نے اور ساتھیوں نے اضطراب میں گزارا۔
شام کو تقریباً پانچ بجے شہراحمدآباد میں داخل ہوکر سارنگ پور، رنگ بھون کے قریب موبائل چالو کیا ہی تھا کہ ان صاحب کا فون آگیا کہ’تو کہاں تک پہنچا ہے؟‘ میں نے کہا: ’بس احمدآباد میں داخل ہو رہا ہوں‘۔ کہنے لگے: ’لوکھنڈوالا ہسپتال آجا، تجھے لینے کے لیے وہ حضرات  تیرا انتظار کر رہے ہیں‘۔ مَیں مغرب کی نماز سے کچھ قبل لوکھنڈوالا ہسپتال پہنچا تو وہاں وہ جناب اور ایک صاحب موجود تھے۔ انھوں نے کہا کہ ’کرائم برانچ والے کہتے ہیں کہ یہاں مناسب نہیں ہے، حاجی سخی مسجد پہنچ جائو،وہاں سے لے جائیں گے‘۔ میں حاجی سخی مسجد گیا اور اپنے رفیقِ سفر    مولانا یوسف صاحب کو اپنا موبائل، اسکوٹر کی چابی اور دیگر کچھ چیزیں سپرد کیں اوربیٹے معاویہ کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ مسجد پہنچتے ہی کرائم برانچ کے تین چار افسران ملک صاحب کی قیادت میں مسجد میں تشریف لائے جو سارے مسلمان تھے۔
انھوں نے آکر مجھ سے مصافحہ کیا۔ پی ایس آئی ملک صاحب مجھ سے اچھی طرح واقف تھے، تاہم سرسری طور پر پوچھا: ’آپ ہی مفتی عبدالقیوم ہیں‘۔ میں نے کہا: ’جی ہاں‘۔ کہا: ’ہم آپ کو لینے کے لیے آئے ہیں، میں نے ان سے پوچھا: ’مجھے کیوں بلایا گیا ہے؟‘ انھوں نے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ’مولانا عبداللہ کو بھی آج ہی صبح کی نماز کے وقت پکڑ لائے ہیں، اس لیے آپ  گھر والوں کو بھی اطلاع دے دو، تاکہ وہ فکرمند نہ ہوں، ان شاء اللہ دوچار روز میں ہم آپ کو   واپس چھوڑ جائیں گے‘۔ میں نے مولانا یوسف صاحب سے کہا کہ ’میرے گھر والوں کو یہ اطلاع دے دیں‘۔ شاید اسی وقت ان حضرات نے میرے گھر یہ اطلاع دے دی تھی، چنانچہ کچھ ہمدرد ساتھی مسجد ہی میں آگئے اور انھوں نے مشورہ دیا کہ ’آپ ہرگز نہ جائیں، ہم کرائم برانچ والوں کو ٹال دیں گے‘۔ میں نے کہا کہ ’میں نے کوئی جرم نہیں کیا، لہٰذا مجھے ضرور جانا چاہیے‘۔
مغرب کا وقت ہو رہا تھا، کرائم برانچ کے افسران نے کہا کہ ہم مغرب بعد چلیں گے، مغرب کی نماز خوف و ہراس اور وسوسوں کی نذر ہوگئی۔ نماز کے بعد مختصر سی دُعا کی اور کرائم برانچ کے افسروں کے ساتھ ہولیا۔اس وقت میرا گھر حاجی سخی کی مسجد سے متصل ہی تھا۔ پولیس والوں کے ساتھ نکلتے ہوئے میں نے صحن سے اپنے گھر والوں کو الوداعی ہاتھ ہلایا۔ مجھے کب پتا تھا کہ یہ جدائی صرف دوچار دن کی نہیں بلکہ گیارہ برسوں کی ہے۔
بہرحال مکروفریب سے مجھے اغوا کر کے کرائم برانچ کے ایک کانسٹیبل نے اپنی موٹرسائیکل پر سوار کرلیا۔ میں حسرت بھری نگاہوں سے اپنی پیاری مسجد اور محلّے کو دیکھ رہا تھا۔ دریاپور چارواٹ سے گزرتے ہوئے خلیل بھائی کی چائے کی دکان پر میں نے اپنے والد (مرحوم) کو چائے پیتے ہوئے دیکھا اور صرف ہاتھوں سے اشارہ کیا، کسے علم تھا کہ میں اب اپنے والد کی معیت و صحبت کبھی بھی نہیں پاسکوں گا۔ اِبنّا بھائی اور مولوی یوسف کرائم برانچ کے آفس تک میرے پیچھے آئے، اور بڑی بے چارگی سے مجھے الوداع کہہ کر واپس آگئے۔
عشاء سے قبل گائیک واڈ کی حویلی، کرائم برانچ پہنچ کر جناب پی ایس آئی محبوب ملک مجھے ایک خستہ حال عمارت کی دوسری منزل پرلے گئے۔ وہاں ایک ہال نما کمرہ تھا جہاں مَیں نے مولوی عبدالصمد حیدرآبادی اور دیگر کچھ مظلوموں کو آنکھوں پر پٹی اور ہاتھوں میں ہتھ کڑی لگی حالت میں بے بس و مجبور دیکھا۔ مولوی عبدالصمد صاحب میری محبوب ترین مادر علمی جامعہ ڈابھیل سے فارغ تھے۔ مَیں ان مظلوموں کو دیکھ کر اپنی فکر بھول گیا۔ مجھے وہاں ایک افسر پی آئی ماوانی کے دفتر میں بٹھا دیا گیا اور محبوب ملک نے مجھے ایک چادر دی اور کھانالاکر دیا اور ساتھ ہی اپنا دستی رومال نکال کر میری آنکھوںپر باندھ دیا۔ عشاء کی نماز بڑی رغبت و استحضار کے ساتھ پڑھی اور کھانا بڑی بے رغبتی سے کھایا۔ اس حالت میں جو اوراد و اَذکار یاد آرہے تھے پڑھ رہا تھا اور دل ہی دل میں اللہ سے خیروعافیت کی دُعا کر رہا تھا۔ 
رات کے تقریباًگیارہ بجے ملک صاحب آئے، میرا ہاتھ پکڑ کر سیڑھی سے اُتار کر نیچے لائے۔ سیڑھی اُترتے ہی اے سی پی گریش کمار سانگھل کے آفس میں لے جاکر میری آنکھوں سے پٹی ہٹا دی۔ وہاں سانگھل صاحب تشریف فرما تھے۔ انھوں نے ملک صاحب و دیگر کو آفس سے باہر نکال دیا اور کچھ دیر تک مجھے گھورتے رہے۔ الحمدللہ، میں نے بھی ان کی آنکھوں میں آنکھیں جمائے رکھیں (وہاں کی ’مہمان نوازی‘ سے مشرف ایک صاحب نے مجھے بتلایا تھا کہ سانگھل صاحب اگر آپ کو گھورنے لگے تو آنکھیں نہیں چرانا چاہییں ورنہ یہ سمجھا جائے گا کہ آپ مجرم ہیں)۔ کچھ دیر بعد انھوں نے اپنی زبان کو تکلیف دی اور اس طرح گفتگو ہوئی:
سانگھل: ’تجھے یہاں کیوں لائے ہیں؟‘ میں نے کہا: ’مجھے پتا نہیں ہے‘۔ سانگھل صاحب غرائے: ’سوچ کر بتا، کچھ تو ہوگا جس کی وجہ سے تجھے یہاں لایاگیا ہے؟‘ میں نے سوچا کہ شاید بواہر ہال ریلیف کیمپ کے حساب کتاب کے معاملے میں بلایا گیا ہو۔ اس لیے مَیں نے جواب دیا کہ ’ریلیف کیمپ کے حساب کتاب کے سلسلے میں بلایا گیا ہے‘۔ سانگھل نے کہا: ’اور سوچ کر بتا تُو نے کیا کیا ہے؟‘ جواب دیا: ’میں نے کچھ بھی غلط نہیں کیا‘۔سانگھل نے کچھ دیر گھورنے کے بعد کہا: ’حیدرآباد سے کون آیا تھا؟‘ میں نے جواب دیا: ’مولوی عبدالصمد آئے تھے‘۔
سانگھل نے کہا: ’اور کون آیا تھا؟‘ میں نے بتایا: ’حیدرآباد کے بہت سے طلبہ ڈابھیل پڑھتے تھے، وہ بھی احمد آباد آتے تھے‘۔ اس پر سانگھل نے اچانک پوچھا: ’لیاقت سے کیا بات ہوئی تھی؟‘ اس پر مَیں یہ سمجھا کہ لیاقت چونے والا جس سے میں اکثر ہنسی مذاق کرتا تھا۔ غالباً اس سے گفتگو کا کوئی شرارت بھرا فون ٹیپ کرلیا گیا ہے، چنانچہ یہ سوال سنتے ہی میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی۔

ناقابلِ برداشت تشدد کا آغاز

میری اس مسکراہٹ پر سانگھل صاحب بھڑک اُٹھے اور مجھے واہی تباہی گندی گالی دیتے ہوئے اُٹھ کر بے ساختہ مجھے ڈنڈے سے پیٹنا شروع کر دیا۔ کچھ ڈنڈے مارنے کے بعد کہا: ’جا، کل تجھے پتا چل جائے گا کہ تجھے ہم یہاں کیوں لائے ہیں؟‘ پھر ایک ناقابلِ بیان، بے انتہا ظلم و ستم اور وحشت و درندگی سے بھرپور غم ناک داستان کا آغاز ہوا۔ مجھے آنکھوں پر پٹّی باندھ کر دفتر میں بھیج دیا گیا۔ اُس رات دیر سے پھر جناب ملک اور اشرف چوہان تشریف لائے۔ اشرف چوہان صاحب اگرچہ مسلمان تھے، لیکن ان کے کارنامے کسی درندہ صفت یہودی کو بھی شرمادینے کے لیے کافی تھے۔ انھوں نے چھوٹتے ہی کہا: ’تجھے اور مفتی سفیان کو ملک مخالف حرکتیں نہیں کرنی چاہییں تھیں‘۔ میں نے کہا: ’میں نے کوئی غلط حرکت نہیں کی ہے‘۔ یہ بات ہورہی تھی کہ اچانک پی ایس آئی ماوانی آگیا اور وہ دونوں حضرات چلے گئے۔ کرائم برانچ کی یہ پہلی رات بڑی تاریک و خوف ناک معلوم ہورہی تھی۔ چھوٹا سا کیبن نما آفس، اندھیری رات اور پھر آنکھوں پر پٹی۔ گہری رات کی خاموشی میرے خوف و ہراس کو بڑھاتی رہی۔ اللہ اللہ کرکے صبح ہوئی۔ دوپہر تقریباً ۱۲بجے مجھے لینے کے لیے ایک کانسٹیبل آگیا کہ: ’بنجارا صاحب بلا رہے ہیں‘‘۔
گرفتاری سے قبل مسٹر بنجارا کا ’نام‘ اور ’کام‘ سن رکھا تھا، دیدار ۱۸؍اگست ۲۰۰۳ء، پیرکے روز دوپہر کو نصیب ہوا۔ آفس میں لے جاکر میری آنکھوں سے پٹّی ہٹائی گئی تو کائونٹر ٹیبل کے پیچھے لال داڑھی والے چشمہ لگائے ہوئے بنجارا صاحب تشریف فرما تھے۔ ان کی بائیں جانب کرسیوں پرکچھ دوسرے افسران بیٹھے تھے، جن میں سے سانگھل صاحب سے تو گذشتہ رات تعارف ہوچکا تھا۔ دوسرے حضرات میں وکھت ڈیوی ونار، آر آئی پٹیل وغیرہ شامل تھے، جن سے بعد میں واقفیت ہوئی۔ مجھے لے جاکر ان کے جوتوں کے پاس زمین پر بٹھا دیا گیا اور بات شروع کرنے کی ذمہ داری بنجارا نے پنے ہاتھ میں لیتے ہوئے گذشتہ رات والا سوال دہرایا کہ ’حیدرآباد سے کون آیا تھا؟‘ میں نے وہی جواب دیا: ’مولانا عبدالصمد صاحب آئے تھے‘۔ بنجارا نے کہا کہ ’ڈنڈا پارٹی کو بلائو‘۔ یہ ڈنڈا پارٹی پانچ، چھے درندوں او ر وحشیوں پر مشتمل تھی۔ یہ بھوکے بھیڑیےاور وحشی خود مارتے ہوئے جب تک تھک نہ جاتے مارپیٹ اور ظلم و ستم کا سلسلہ جاری رہتا تھا، یا پھر  مار کھانے والا مر جائے یا بے ہوش ہوجائے تو ہوش آنے تک یہ سلسلہ رُک جاتا۔
چنانچہ ڈنڈا پارٹی آگئی۔ انھوں نے آکر میرے ہاتھ میں بیڑیاں ڈال دیں۔ ایک موٹے تازے بھینسے جیسے ظالم نے تیزی سے لپک کر مجھے کمر سے دبوچ لیا۔ دوسرے نے دونوں پیر پکڑ لیے۔ تیسرے شخص نے باوجود یہ کہ میرے ہاتھوں میں بیڑیاں تھیں میرے دونوں ہاتھ کندھوں سے پکڑ کر مجھے اُلٹا کھڑا کر دیا اور وی ڈی ونار نے میری پشت اور کولہوں پر انتہائی درندگی سے  ڈنڈے برسانے شروع کیے۔ الحمدللہ، ہرڈنڈے کی ضرب پر مَیں’اللہ اکبر‘کی صدا لگا رہا تھا۔ جب مَیں اللہ اکبر کہتا تو بنجارا صاحب نہایت گندی گالیاں بک کر کہتا کہ:’ تمھارا اللہ تمھارا ساتھ چھوڑ گیا ہے۔ دیکھ، آج ہمارے پاس سب کچھ ہے۔ تمھارے پاس کیا ہے؟ اگر اللہ تیرے ساتھ ہے تو یہ بیڑیاں توڑ دے اور رہا ہوکر دکھلا دے‘۔اسی طرح اللہ رب العزت، جنت، حُور وغیرہ کے متعلق نہایت گھٹیا اور ناقابلِ بیان تبصرے کرکے اپنے دل کی خباثت و گندگی کا ثبوت دیتا رہا۔
اسی طرح وکھت دیوی ونار کا تعارف اگر مَیں ان الفاظ میں کرائوں کہ ظلم اور ونار، ایک سکّے کے دو رُخ تھے تو بے جا نہ ہوگا۔ میں نے اپنی زندگی میں اس سے بڑھ کرظالم شخص نہیں دیکھا۔ اس کے تعصب اور اسلام دشمنی کا اس بات سے انداز ہ لگایا جاسکتا ہے کہ دورانِ ریمانڈ یہ جنگلی درندے کی طرح مجھ پر ٹوٹ پڑتا۔ مجھے لہولہان کرتے ہوئے بے ہوش کردیتا۔یہ اسلام اور مسلمانوں پر ناقابلِ بیان گندے تبصرے کرتے ہوئے مجھے اکثر کہتا کہ: ’ہماری پولیس، حکومت اور عدالتیں بے وقوف ہیں کہ مقدمات درج کرکے تم لوگوں پر فضول خرچی کرتے ہیں۔ تم مُسلوں کو تو گولی مار دینی چاہیے‘۔
ونار نے کتنے ڈنڈے برسائے معلوم نہیں، آخر وہ تھک گیا اور اس کی سانس پھولنے لگی تو وہ رُک گیا۔ تب بنجارا نے براہِ راست سوال کیا کہ: ’بتا ، اکشردھام مندر پر حملہ کس نے کروایا تھا؟‘ یہ سن کر میرے پیروں تلے سے زمین سرک گئی اور کلیجہ منہ کو آگیا، زبان کانٹے کی طرح خشک ہوگئی اور پہلی مرتبہ مجھے معاملے کی سنگینی کا احساس ہوا کہ مجھے کس بھیانک جرم میں پھنسانے کی سازش ہورہی ہے۔ میں نے پوری قوت سے چلّا کر کہاکہ:’خدا کی قسم!میں بالکل بے قصور ہوں اور مَیں اس معاملے میں کچھ بھی نہیں جانتا‘۔ بنجارا نے برہم ہوکر ونار سے کہا: ’مارو اسے‘۔ اس ظالم نے دوبارہ میرے کولہوں پر نہایت ہی جنون و پاگل پن سے ڈنڈے برسانے شروع کر دیے، یہاں تک کہ میرے کپڑے خون سے تر ہوگئے۔ تو بنجارا نے حکم دیا:’اس کے ہاتھوں پر مارو‘۔ پھر میری ہتھیلیوں پر اتنے ڈنڈے برسائے کہ ہتھیلیوں کا رنگ بدل گیا اور دونوں ہتھیلیاں زخموں سے چُور ہوگئیں۔ بنجارا کی نظر میرے پیروں پر پڑی تو کہنے لگا: ’دیکھو، کتنا موٹا تازہ ہے، اس کے پیروں پر ڈنڈے برسائو‘۔ چنانچہ ظالموں نے مجھے گرا دیا اور وہ موٹا و مکروہ شخص مجھے اُلٹا منہ کے بل لٹاکر میری پُشت پر بیٹھ گیا، دوسرے دو لوگ میرے پیروں پر بیٹھ گئے۔ دو لوگوں نے میرے ہاتھ اور سر کو پکڑ لیا۔ پھرونارنے اسی حالت میں میرے پیروں کے تلوئوں پر ڈنڈے برسانے شروع کیے اور برساتا ہی رہا۔ جب تھک جاتا تو کچھ دیر کو رُک جاتا۔ اس کے رُکنے پر بنجارا گالی دے کر کہتا: ’اور مارو، کیوں رُک گئے؟‘ وہ کہتا: ’صاحب تھک گیا ہوں، تھوڑا آرام کرلوں‘۔ پیروں سے ہٹ کر پیچھے مارنا شروع کرتا۔ مجھے معلوم نہیں کہ کتنی دیر تک یہ سلسلہ چلا اور مجھے کتنے ڈنڈے مارے گئے۔  میرے اندازے سے کم از کم ڈیڑھ ، دو سو ڈنڈے ضرور مارے تھے۔ آخرکار میں بے ہوش ہوگیا۔جب مَیں ہوش میںآیا تو مَیں نے پانی طلب کیا ۔
پیروں کے تلوے بے شمار ڈنڈے مارے جانے کی وجہ سے بالکل زخمی ہوگئے اور ہاتھوں اور پیروں میں ورم آگیا۔ چلنا تو درکنار مَیں اپنے پیروں پر کھڑا بھی نہیں ہو سکتا تھا۔ جیسے ہی مَیں بات چیت کرنے اور مزید مارپیٹ کے کھانے کے قابل ہوگیا تو مجھے پکڑ کر اُٹھایا گیا اور اب کی بار بنجارا نے یہ کہا کہ :’مندر پر حملہ کرنے کے لیے تو نے حیدرآباد سے کسے بلایا تھا؟‘ سوال کا منشا یہ تھا گویا مَیں ہی اکشردھام مندر پر حملے کا ملزم ہوں۔ اس لیے مجھے حملہ آوروں اور سازش میں شریک دوسرے افراد کے نام بتانے تھے۔ میں نے کہا: ’مَیں بے قصور ہوں مجھے کچھ نہیں معلوم‘۔ تو مجھے پوچھا گیا: ’اے بھائی‘ کو جانتے ہو؟‘  میں نے کہا: ’نہیں جانتا‘۔ بنجارا کے حکم پر ’اے بھائی‘ کو طلب کیا گیا ۔ چنانچہ ’اے‘ بھائی کو بھی اسی طرح آنکھوں پر بندھی پٹّی کے ساتھ دفتر میں لایا گیا اور اسی پٹّی بندھی حالت میں مجھ سے کہا گیا کہ: ’تو اسے جانتا ہے؟‘ میں نے کہا: ’نہیں جانتا‘۔ تو کہا گیا: ’مگر یہ تجھے جانتا ہے‘۔ اس کے بعد میری آنکھوں پر پٹّی باندھی گئی اور اے بھائی کی آنکھوں سے پٹّی ہٹائی گئی۔ چنانچہ ان سے پوچھا گیا کہ : ’تو اسے جانتا ہے؟‘انھوں نے کہا : ’جی ہاں،    یہ مفتی عبدالقیوم ہے‘۔ اب میری آنکھوں سے بھی پٹی ہٹاکر کہا: ’دیکھ، یہ تجھے اچھی طرح جانتا ہے  تو اسے کیوں نہیںجانتا؟‘ اور ساتھ اے بھائی سے کہا گیا: ’تو اسے بتا، تو اسے کیسے جانتا ہے؟‘ اے بھائی نے بتانا شروع کیا: ’یہ مفتی عبدالقیوم صاحب جو بواہر ہال میں ریلیف کیمپ چلاتے ہیں۔ ان کے ساتھ عبدالرحمٰن پانار، اور خالد شیخ بھی ہیں۔ یہ لوگ کیمپ کے انچارج ہیں‘۔ اور پھر ایک نہایت ہی گھنائونی اور گھٹیا کہانی بیان کرنا شروع کی۔
میں یہاں پر وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اُوپر کی سطروں میں اے بھائی کے حوالے سے جو باتیں بیان اور ذیل کی سطور میں ان کے حوالے سے جو کہانی درج کی جارہی ہے، اس معاملے میں وہ بالکل بے قصور ہیں۔ کیوں کہ وہ بے چارے میری گرفتاری سے آٹھ روز قبل ۹؍اگست سے کرائم برانچ کی حراست میں تھے۔ میں سمجھ سکتا تھا کہ جیسا ظلم مجھ پر کیا گیا ہے ویسا ہی بلکہ ہوسکتا ہے مجھ سے زیادہ ان پر ظلم کیا گیا ہو۔ چنانچہ میری توقع کے مطابق وہ بھی مظلوم اور بے بس تھے اور ناقابلِ برداشت ذہنی اور جسمانی اذیتیں دے کر انھیں کرائم برانچ کی تیار کی ہوئی ایک جھوٹی کہانی پڑھنے اور قبول کرنے کے لیے مجبور کیا گیا تھا۔ 
صرف اے بھائی ہی نہیں، بلکہ ہم تمام زیرحراست لوگوں کو باہم ایک دوسرے کے خلاف بولنے پر خوب مجبور کیا گیا اور حسب ذیل جھوٹی کہانی تیار کی گئی تھی۔ لیکن جرح کے دوران پوٹا کورٹ کے سامنے کرائم برانچ کے جھوٹ کو بے نقاب کر دیا اور ان کی گواہی بھی ہماری رہائی میں مددگار ثابت ہوئی۔

من گھڑت ، واہیات کہانی

بہرحال اے بھائی نے یہ کہانی بیان کرنی شروع کی: ’مَیں عبدالرحمٰن پانار، مناف اور  ناصر میرے دوست ہیں۔ مَیں، عبدالرحمٰن پانارا وغیرہ کو بواہر ہال پر ملنے کے لیے جایا کرتا تھا۔ وہاں ان مفتی عبدالقیوم صاحب سے ملاقات ہوتی تھی۔ میرا بھائی عبدالرشید اور کالوپور کے سلیم بھائی اور احمدآباد و گجرات کے دیگر بہت سے مسلمان سعودی عرب،ریاض میں ملازمت کرتے ہیں۔ عبدالرشید وغیرہ سے ہم نے گجرات فسادات کی کارگزاری، بواہرہال و دیگر کیمپوں میں لُٹے پٹے، بے بس و مجبور مسلمانوں کی خستہ حالی بیان کی۔ ہم نے مسلمانوں کے قتل عام، مالی نقصان کا انتقام لینے کے لیے عبدالرشید اور سلیم بھائی وغیرہ سے تعاون کی درخواست کی تھی جس پر انھوں نے کہا تھا کہ مقامی ذمہ داروں سے بھی مشورہ اور تعاون کی درخواست کرو۔ چنانچہ مَیں، عبدالرحمٰن، مناف اور ناصر، مفتی عبدالقیوم اور مولانا عبداللہ صاحب سے مشورہ کرنے کے لیے بواہرہال گئے تھے اور  ان حضرات نے نہ صرف مفید مشورے دیے بلکہ ہماری حوصلہ افزائی بھی کی اور کہا تھا: ’بالکل آگےبڑھو، جہاں تعاون کی ضرورت ہو ہم سے بات کرنا‘۔
بس اتنا سننا تھا کہ مولانا عبداللہ صاحب کو طلب کرکے ان حضرات کی موجودگی میں مجھے پھر نہایت بے دردی سے پیٹنا شروع کیا۔ میں مار کھاتے کھاتے زمین پر گر کر نیم بے ہوش ہوگیا۔ اب آدم بھائی کی باری تھی۔ مَیں اپنی نیم بے ہوشی کی حالت میں اس بے چارے کی دردناک چیخ پکار اور جگرخراش اور پتھر کو رُلا دینے والی آہیں اور سسکیاں سن رہا تھا۔ میں چوں کہ اپنے پیروں سے چل بھی نہیں سکتا تھا، اس لیے کچھ لوگ مجھے اُٹھا کر کرائم برانچ میں رمیش ایشور پٹیل کے آفس میں ڈال گئے اور پھر مجھے ۱۲ سے ایک بجے کے درمیان لے گئے۔ 
رات کو مجھے کھانادیا گیا۔ میرے ہاتھ پائوں سوج کر گیند کی طرح گول ہوگئے تھے۔  ان ہاتھوں سے کیوں کر کھایا جاسکتا تھا۔ میں ہاتھ، پیر اور پیچھے کی جانب بے انتہا درد کی وجہ سے سسکیاں اور آہیں بھر رہا تھا۔ اسی حال میں خون آلود کپڑوں کے ساتھ عشاء کی نماز بیٹھ کر ادا کی۔ آنکھوں سے آنسوئوں کا سیلاب جاری تھا،اور اس وقت اللہ رب العزت کی ذات حکیمانہ کا تقرب،  دل کی کیفیت اور ایمان کا جو مزا تھا، واللہ! اس کی بات ہی کچھ اور تھی۔ 
گذشتہ رات کی طرح یہ رات بھی خوف و اضطراب میں گزری۔ کرائم برانچ کے افسران  دیر رات تین چار بجے تک ظلم و ستم کی محفلیں سجاتے، کبھی سانگھل آفس سے کسی مصیبت زدہ کی جگرخراش چیخیں بلند ہوتیں، کبھی بنجارا کے آفس سے زمین و آسمان کو رُلا دینے والی آہیں سنائی دیتیں، تو کبھی ونار اور پٹیل کے دفاتر سے مظلوم و بے بس انسان کی آہ و زاری اور رحم کی بھیک و دہائی سنائی دیتی، لیکن ان آہوں پر خون آشام درندوں کی چنگھاڑ اور وحشیوں کے قہقہے غالب آجاتے تھے۔ رات بھر ظلم و ستم کا بازار گرم رہتا۔ رات میں تقریباً تین چار بجے یہ حضرات اپنے گھروں کو جاتے اور صبح گیارہ بجے واپس آتے تھے۔ بس یہ چند گھنٹوں کا وقفہ کچھ پُرسکون ہوتا تھا۔ صبح گیارہ بجے افسروں کی آمد کے ساتھ ہمارے لیے ایک نیا دن، نئی مصیبتوں کے ساتھ شروع ہوتا تھا۔
پورے ۴۰روز میری آنکھوں پر پٹّی اور دونوں ہاتھوں میں بیڑیاں لگائی جاتی رہیں،  حتیٰ کہ رات کو سونے کے وقت بھی ایک ہاتھ اور ایک پیر میں بیڑی لگا کر ٹیبل یا کسی بھی جالی کے ساتھ بیڑی کا دوسرا حصہ لاک کر دیا جاتا تھا۔ اس حال میں پُرسکون نیند کیسے آسکتی تھی؟ تاہم، نماز، کھانا اور استنجا کے لیے ایک ہاتھ ضرور کھولا جاتاتھا۔
مجھے سب سے زیادہ تکلیف اور درد استنجا کے وقت ہوتا تھا۔ خون و پیپ کی وجہ سے پاجامہ پیچھے سیرین سے چپک جاتا تھا کہ استنجا کے وقت زور لگاکر کھینچنا پڑتا تھا۔ بڑی مشکل سے پاجامہ چمڑی سے الگ ہوتا تو خون و پیپ بہنا شروع ہوجاتی اور اسی حال میں استنجا کرنا پڑتا تھا۔
بنجارا کی گھنٹی کی ڈنگ ڈونگ اور سانگھل کی گھنٹی کی چہچہاہٹ پورے کرائم برانچ میں سنائی دیتی تھی۔ جیسے ہی ان میں سے کوئی گھنٹی بجتی ہمارے دلوں کی دھڑکنیں تیز ہونا شروع ہوجاتی تھیں۔  گھنٹی کی آواز سنتے ہی ہم آنکھیں جھکالیتے، اور زبان پر قرآن اور ذکر و اَوراد جاری ہوجاتے۔ اور پھر آنے والے قدموں کی آہٹ ہم میں سے کسی کے پاس آکر رُک جاتی اور کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا جاتا کہ بنجارا صاحب اور سانگھل صاحب بلا رہے ہیں۔ کلیجہ اُچھل کر منہ کو آجاتا اور آنکھوں میں اندھیرا چھا جاتا، قدم بوجھل ہوجاتے تھے۔
۱۹؍اگست ۲۰۰۳ء ، منگل کودوپہر کے وقت بنجارا کے آفس کی گھنٹی بجی۔ اس بار جب آفس میں لے جاکر میری آنکھوں سے پٹی کھولی گئی تو وہاں اے بھائی کے علاوہ مولوی عبداللہ ، عبدالرحمٰن پانار، مناف، ناصر، محبوب الٰہی ٹیلر وغیرہ حضرات کو موجود پایا۔ یہ حضرات میرے محلے ہی کے باشندے اور میرے اچھے دوست ہیں۔ 
من گھڑت جھوٹی کہانی کا پہلا حصہ بیان ہوچکا ہے کہ آدم بھائی و دیگر حضرات مجھ سے اور مولانا عبداللہ صاحب سے مشورے کے لیے آئے تھے اور ہم نے نہایت قیمتی مشورے دےکر  ان حضرات کی نہ صرف رہنمائی کی بلکہ تعاون کی پیش کش بھی کی تھی۔ 
اب یہ کہانی کچھ اس طرح آگے بڑھی کہ مجھے پوچھا گیا: ’اکشردھام مندر پر حملہ کرنے کے لیے حیدرآباد سے تو نے کن لوگوں کو بلایا تھا؟‘ میں نے کہا: ’صاحب! مجھے پتا نہیں‘۔ بس پھر وہ جسمانی و ذہنی اذیتوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ آخرکار مَیں نے ناقابلِ برداشت ظلم و تشدد سے تنگ آکر کہہ دیا کہ: ’صاحب، آپ جو کچھ کہیں گے مَیں ماننے کے لیے تیار ہوں‘۔ اب مارپیٹ بند ہوگئی اور ہمیں آپس میں کردار طے کرنے کے لیے بات چیت اور مشورے کا موقع دیا گیا۔ مزید یہ کہ: مختلف مقدمات میں ’انتخاب‘ کا حق بھی دیاگیا تھا۔چنانچہ ہمارے ساتھی سلیم بھائی کو اکشردھام، گودھرا سانحہ اورہرین پانڈیا تین میں سے کسی ایک مقدمے کے انتخاب کے لیے کہا گیا۔ مجھے بھی ایک مرتبہ سانگھل صاحب نے کالی گیند جیسی ایک چیز بتاکر: ’’یہ ’چرس‘ ہے‘‘ کہتے ہوئے چرس ضبطی کے مقدمے میں پھنسانے کی بھی دھمکی دی تھی۔ 
دورانِ ریمانڈ مجھے بجلی کے کرنٹ بھی دیے گئے ۔ میرے ہاتھوں کی تمام انگلیوں میں کلپ لگاکر اُس کے ساتھ ایک چھوٹے سے الیکٹرک (بجلی کے) مشین کے تار لگائے جاتے اور پھر اُس میں ایک ہینڈل گھمایا جاتا، جس سے میرے پورے جسم میں کرنٹ اور بجلی کی لہر دوڑ جاتی۔ اسی طرح کبھی کبھی بیس بال کے ڈنڈے جیسا ایک بجلی کا ڈنڈا میرے جسم کے مختلف حصوں پر لگایا جاتا اور اس سے مجھے کرنٹ دیا جاتا تھا۔ میری انگلیوں میں ناخن کے نیچے سوئیا ں چبھو دی جاتی تھی۔  ریمانڈ کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ ملزم کوانگریزی کا اُلٹا ’ٹی‘ بنایا جاتا تھا۔

ظلم و تشدد کے کچھ شرم ناک طریقے

    ۱-    ظلم کا ایک نہایت ہی بہیمانہ طریقہ یہ تھا کہ ملزم کے پاجامے یا شلوار کی آستینیں نیچے سے باندھی جاتی اور ازاربند کھول کر اُوپر سے زندہ چوہے اندر چھوڑ دیے جاتے تھے۔
    ۲-    ایک شرم ناک طریقہ یہ تھا کہ ملزم کو برہنہ کر کے اس کی مقعد میں جبراً موٹا ’ڈنڈا‘ داخل کیا جاتا تھا یا پھر پچکاری کے ذریعے اندر پٹرو ل ڈالا جاتا تھا۔ اس وقت کی درد وتکلیف کو بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔
    ۳-    ایک اور وحشیانہ طریقہ یہ تھا کہ شرم گاہ سے بجلی کا تار لگا کر کرنٹ کے جھٹکے دیے جاتے۔
    ۴-    ایک طریقہ یہ تھا کہ ملزم کے سامنے اس کی ماں، بہن، بیوی، بیٹی کے ساتھ نہایت ہی گھٹیا، ناقابلِ بیان فحش گفتگو کی جاتی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے گندے ،فحش اور بازاری لفظوں میں ان قابلِ احترام خواتین کے ساتھ بدفعلی کی دھمکی دی جاتی، بلکہ بعض اوقات صرف دھمکی ہی نہیں واقعتاً یہ شرمناک حرکت کرکے ملزم کو گناہ کے اقرار پر مجبور کیا جاتا تھا۔ مجھے بھی شرم گاہ پر کرنٹ لگانے اور گھر کی معزز خواتین کے حوالے سے یہی دھمکیاں دی گئیں، لیکن الحمدللہ، اللہ رب العزت نے حفاظت فرمائی۔ 
اِن کے پاس میرے جمعہ کے خطبات کی کیسٹیں بھی تھیں۔ چنانچہ ریمانڈ کے دوران جب مَیں حسب معمول آہستہ سے جواب دیتا تو کہا جاتا: ’بلندآواز سے بات کر‘۔ میں کہتا: ’میری آواز پست ہے‘۔ تو کہا جاتا: ’ہمیں معلوم ہے تیری آواز کیسی ہے‘۔ ہمارے پاس تیرے جمعہ کے بیانات کی کیسٹیں ہیں تو اسپین کے مسلمانوں کی بربادی کی بہت داستان سناتا ہے‘۔
بنجارا کی بہ نسبت سانگھل نے مارپیٹ اور گالی گلوچ قدرے کم کی، کبھی کبھی نرمی سے بھی پیش آیا۔ لیکن شاید یہ بھی کرائم برانچ کے ظلم کا ایک طریقہ ہے کہ ایک مارے اور دوسر ا سہلائے۔ ۲۹؍اگست ۲۰۰۳ء جمعہ کے دن ’اکشردھام مقدمہ ‘ میں ہماری گرفتاری کا اعلان ہوا۔ رات میں مجھے سانگھل نے بلایا اور کہا: ’دیکھ، ہم نے تجھے اکشردھام مقدمے میں گرفتار کیا ہے اور کل عدالت میں تجھے پیش کریں گے، وہاں ہمارے خلاف کوئی شکایت مت کرنا‘۔ میں نے روتے ہوئے کہاکہ: ’صاحب، آپ نے مجھے اتنے بڑے مقدمہ میں پھنسا دیا؟‘ میری حالت دیکھ کر کہنے لگا: ’میں مجبور تھا، مجھ پر ’اُوپر‘ سے دبائو تھا، لیکن تو فکر مت کر، مَیں تیرے گھر کی ضروریات کا خیال رکھوںگا‘۔ میں نے کہا کہ :’اس کی ضرورت نہیں، الحمدللہ میرے دوست اچھے ہیں، وہ خیال رکھیں گے‘۔
اُن دنوں انٹیلی جنس بیورو سے بھی دوافسر آتے اور دو تین رو ز تک مجھے گھنٹوں لے کر بیٹھتے اور کہتے: ’کچھ بتا دے یار‘۔ میں تفصیل شروع کرتا تو کہتے: ’’بکواس بند کر ، یہ سب جھوٹ ہے، کوئی اور کام کی صحیح بات بتا‘‘۔ لیکن مَیں اس کے علاوہ اور کیا بتاسکتا تھا؟
ابتدا میں ایک رات ایک پستہ قد سیاہی مائل رنگت والے صاحب، بنجارا کے آفس میں  اس کی کرسی پر تشریف فرما تھے۔ مجھے اُن کے سامنے پیش کیا گیا۔ بنجارا ا ور دیگر افسران اُن کے سامنے ادب سے بیٹھے تھے۔ اُنھوں نے مجھے متاثر کرنے کے لیے کہا کہ دیکھو: ’میں مسلمان نہیں، لیکن پھر بھی مَیں جب بھی کھانا کھاتا ہوں تو بسم اللہ اور کھانے کے بعد الحمدللہ پڑھتا ہوں۔   میری بیوی مجھ سے جھگڑا بھی کرتی ہے کہ کیا آپ مسلمان ہوگئے ہیں؟ یا پچھلے جنم میں مسلمان تھے؟ میں کہتا ہوں: مَیں یہ سب نہیں جانتا، لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ یہ کھانا جو ہم کھاتے ہیں یہ     اللہ تعالیٰ نے دیا ہے‘‘۔
ان باتوں سے مجھے غلط فہمی ہوئی کہ شاید کوئی انصاف پسند افسر ہیں، اس لیے میں نے ہمت کر کے کہاکہ: ’صاحب، میں آپ سے تنہائی میں بات کرنا چاہتا ہوں‘۔ انھوں نے کہا: ’ٹھیک ہے‘۔ اور بنجاراکے علاوہ تمام افسران کو آفس سے باہر نکال دیا۔ میں نے کہا: ’بنجارا صاحب کو   بھی نکال دیجیے‘۔ اُنھوں نے تعجب سے کہا: ’بنجارا کو بھی نکال دوں؟‘میں نے کہا: ’جی ہاں‘۔   انھوں نے بنجارا سے کہا: ’جایئے صاحب آپ بھی جایئے‘۔ اب صرف ہم دو تھے، انھوں نے کہا : ’کیا کہنا چاہتے ہیں؟‘میں نے کہا: ’صاحب میں بالکل بے قصور ہوں، آپ میری مدد کیجیے اور اس مقدمے کی جانچ سی بی آئی کو دے دیجیے‘۔
اتنا سننا تھا کہ وہ صاحب بھڑک اُٹھے اور کہا: ’مُلّاجی، آپ نے مجھے پہچاننے میں غلطی کی ہے، میں کسی اور ایجنسی کا نہیں بلکہ اسی پولیس کا آدمی ہوں، اب مَیں آپ سے کوئی بات کرنا نہیں چاہتا‘۔ اور اُس رات کے بعد انھیں کبھی نہیں دیکھا۔ بلکہ دوسرے روز میری شامت آگئی۔ دوپہر میں مجھے بلایا گیا۔ تب بنجارا کا غصّہ ساتویں آسمان پر تھا، مجھے دیکھتے ہی چنگھاڑا: ’تو مجھے میرے آفس سے بھگاتا ہے‘ کہہ کر گالیوں کی بوچھاڑ شروع کر دی، اور ونار کو مجھ پر مسلط کر دیا۔ پھر اُس نے حیوانیت و درندگی کا وہ ننگا ناچ پیش کیا جس کو بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں۔
بہرحال، اس عذاب کدے کے جعلی منصوبے کے تحت آدم بھائی، عبدالرحمٰن، مناف اور ناصر کے حصے میں یہ کردار آیا کہ ان حضرات نے میٹنگ کی، سعودی عرب فون کر کے وہاں سے ۲۵لاکھ کی امداد طلب کی۔ انھوں نے ۲۵لاکھ کے بجاے مختلف مرحلوں میں صرف ۶۶ہزار میں سے ۲۰ہزار الٰہی درزی کو لوٹا دیے اور صرف ۴۶۰۰ ہی سے کام چل گیا۔ اور پھر آدم بھائی کو  سعودی عرب سے حکم دیا گیا تھا کہ حیدرآباد جاکر ابوطلحہ اور ایوب سے ملاقات کریں جو آپ کو اگلے منصوبے سے آگاہ کریں گے۔ آدم بھائی ہم سے مشورہ کرکے حیدر آباد گئے، وہاں ایوب اور ابوطلحہ سے ملاقات ہوئی۔(گیارہ سال سلاخوں کے پیچھے، از مفتی عبدالقیوم احمد منصوری، جمعیۃ علما، احمد آباد، مہاراشٹر، طبع چہارم، ۲۰۱۶ء، ص ۱-۱۹)

  • سوال :مغربی فلسفے کا اپنا ایک نظام اور تاریخی تسلسل ہے، جب کہ علامہ اقبال ؒ  کے افکار کی تفہیم کے لیے اسلام اور مشرق کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ کیا اس صورت میں فکرِ اقبال کی افادیت صرف مشرق تک محدود نہیں ہو جاتی؟
  • جواب: میں اس نظریے سے اتفاق نہیں کرتا۔ اگر آپ مغربی فکر اور تاریخی ارتقا کا جائزہ لیں ، تو یہ بات کھل کر سامنے آ جائے گی کہ اسلام سے اکتسابِ فیض کیے بغیر یورپ ترقی کی منازل طے نہ کر سکتاتھا۔ میرے نزدیک اسلام کے بغیر مغربی تہذیب اور علوم کی تاریخ کا تسلسل قائم رکھنا ممکن نہیں ہے۔ میں تو یہ کہوں گا کہ قرونِ وسطیٰ (Middle Ages) میں اقوامِ مغرب  مشّرف بہ اسلام ہو جاتیں ، تو ان کی ترقی کی رفتار میں بے پناہ اضافہ ہوتا۔ ذرا اس پر تو غور کریں کہ جس زمانے میں یورپ جہالت کی تاریکیوں میں بھٹک رہا تھا، اُس دور میں اسلامی مفکرین کا ئنات کی گتھیاں سلجھا رہے تھے۔ اسلامی تہذیب نہ ہوتی تو مغرب ترقی کی راہ پر گامزن نہ ہوتا ۔ میرے خیال میں ہمیں اقبال ؒ کو صرف مشرق تک محدود نہیں کر دینا چاہیے۔ اقبال مشرق اور مغرب دونوں کے لیے سرچشمۂ فیض ہے۔ تاہم، میرے اس نظریے سے یورپ والے بھی اتفاق نہیں کرتے، لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ 

اسی طرح یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ آج مسلم اقوام خواب ِ غفلت میں مبتلا ہیں۔ مسلمان درحقیقت الحاد کے تاریک راستوں میں بھٹک رہے ہیں، لہٰذا آج مشرق اور مغرب دونوں کو اقبال کی ضرورت ہے ، تا کہ توحید کے مرکز پر انسانیت کو جمع کیا جائے۔ ایک طرف مغرب مذہب سے بیگانہ ہو چکا ہے اور وہاں دوسری جانب مشرق رسوم وقیود میں گرفتار ہے۔ افراط اور تفریط کی یہ کیفیت ختم ہونی چاہیے، ورنہ دونوں تباہ ہو جائیں گے۔ 

  • اس تباہی سے بچنے کے لیے عملی صورت کیا ہوسکتی ہے؟
  • یہ ایک مشکل سوال ہے، اس کے لیے توحید کی راہ اختیار کرنا ہوگی ۔ ’اللہ ‘ کی ذاتِ واحد سے رشتہ استوار کیے بغیر مغربی معاشرت بربا د ہو جائے گی۔ جسے مغرب آزادی کہتا ہے وہ دراصل اس کی خودکشی ہے۔ یورپی سیاست دان،دانش ور اور ماہرین سماجیات بہت بلندآہنگ دعویٰ کرتے ہیں: ’’ہم آزاد ہیں…ہم اپنے ضمیر کی آواز سنتے اور اس پر عمل کرتے ہیں‘‘۔ لیکن فی الحقیقت ایسا نہیں، بلکہ وہ خود فریبی میں مبتلا ہیں ‘‘۔

ایک انسان کی زندگی میں تین طرح کی بندگیاں ہو سکتی ہیں: ¤ خدا کی بندگی ¤ کسی آمر کی بندگی ¤ نفسانی خواہشات کی بندگی۔ مغرب یا یورپ تیسری قسم کی بندگی میں مبتلا ہے۔ اگر ہم سب ایک اللہ کی بندگی اختیار کر لیں ، تو غلامی کی سبھی زنجیریں کٹ جائیں گی اور ہم حقیقی معنوں میں آزاد ہو جائیں گے۔ اسی طرح مشرق کے لوگ جو خدا کو کسی نہ کسی شکل میں ماننے کا دعویٰ تو کرتے ہیں، وہ بھی دراصل خرافات ہی میں کھوئے ہوئے ہیں۔ وہ رسوم اور روایات کی پرستش کررہے ہیں۔ صحیح راہ کی جستجو کے لیے اجتہاد کرنا ہو گا۔ میں یہاں غالب کا شعر پیش کروں گا: 

ہم موحد ہیں ہمارا کیش ہے ترکِ رسوم 
ملتیں جب مٹ گئیں، اجزاے ایماں ہو گئیں 

ہم جن بندھنوں اور غلامیوں میں گرفتار ہیں، ان سے نجات حاصل کر لیں اور سچے موحد بن جائیں ، تو آئیڈیل معاشرہ قائم کر سکتے ہیں۔ ’توحید‘ سے میری مراد ’’ اسلامی تصورات کے مطابق اللہ کے وجود پر ایمان ہے،عیسائیت کے ’گاڈ‘ پر ایمان مراد نہیں ہے‘‘۔ کیوںکہ خدا کا مسیحی تصور عقل پر مبنی ہے، جب کہ اللہ اور انسان کا رشتہ روحانی ہے۔ یورپ کو اللہ پر ایمان لانا ہو گا جوارفع خودی (supreme ego) سے متصف ہے اور جو تصورات کی تمام حدوں سے آگے ہے۔ 

  • یورپی قومیں قوم پرستی اور نسلی افتخار کے زعم باطل میں مبتلا ہیں۔ کیا رنگ ونسل کے یہ امتیازات عملاً ختم ہو سکتے ہیں ؟ 
  • میں ذاتی طور پر وطنیت کے نظریے یعنی Nationalism کے خلاف ہوں۔ میں نے بچپن ہی سے کبھی اپنے اطالوی ہونے پر فخر نہیں کیا۔ میرے خیال میں جو لوگ نسلی افتخار میں مبتلا ہوجاتے ہیں وہ کوئی بڑا تخلیقی کارنامہ سر انجام نہیں دے سکتے۔ دانتے ، گوئٹے اور فارسی کے شعرا نے عظیم تخلیقات ان زمانوں میں کیں ، جب اٹلی ، جرمنی اور ایران کی موجودہ واضح سرحدوں کا تعین نہ ہوا تھا۔ فارسی کے دانش وروں نے غیر ملکی تسلط کے دور میں کارنامے سر انجام دیے، کیوں کہ ایسی صورتِ حال میں ایک آئیڈیل ان کے سامنے ہوتا تھا، اور وہ آئیڈیل تھا ’اسلامی سلطنت ‘ ۔ میری کیفیت یہ ہے کہ میں اپنے لیے پاکستان میں زیادہ مانوس ماحول پاتا ہوں، کیوںکہ پاکستانی عوام میرے  تصورات سے زیادہ قریب ہیں۔ لیکن جب یہی بات میں نے ایران میں کہی تو ایرانیوں کو پسند نہ آئی، کہ وہ اپنی فطرت کے اعتبار سے مسلمان بعد میں اور ایرانی پہلے کہلانا چاہتے ہیں۔ 
  • یہ آئیڈیل باتیں ہیں۔ عام آدمی تو اپنے روز مرّہ مسائل میں گھرا ہوا ہے ۔ کیا سیاسی ، سماجی اور اقتصادی مسائل کا حل ان آئیڈیلز سے زیادہ ضروری نہیں؟ 
  • یہ بات درست ہے ۔ عام آدمی ہماری طرح نہیں سوچتا ۔ میری بہن اٹلی کے ایک کالج میں فلسفہ پڑھاتی ہیں ۔ وہ بھی مجھے یہی کہتی ہیں کہ: ’’ہمیں زندگی کے عملی مسئلے حل کرنے چاہییں۔ کسی کے لیے سکول کا اور کسی کے لیے صحت وصفائی کا مسئلہ زیادہ اہم ہے‘‘۔ لیکن مجھے اس بات سے اختلاف ہے۔ میرے نزدیک آئیڈیل کی اہمیت چھوٹے موٹے عملی مسائل سے زیادہ ہے۔ میںسمجھتا ہوں کہ اقتصادی مسئلے سے زیادہ انسانیت کی یک جہتی اہم ہے ۔ کسی ایک خطے یا علاقے میں بعض مسائل حل کر لینے سے پوری انسانیت کو فلاح حاصل نہیں ہو سکتی ۔ سویڈن کی مثال لے لیجیے ۔ وہاں معاشرتی رہن سہن اور سہولیات کے اعتبار سے صورتِ حال بڑی آئیڈیل تصور کی جاتی ہے، اور بلاشبہہ ایسا ہی ہے۔ صحت ، صفائی اور روز گار کے مسائل حل ہو چکے ہیں۔ لوگ آسودہ زندگی گزارتے ہیں ۔ایک طرح کی وہ جنتِ ارضی تصور کی جاتی ہے۔ لیکن اس پر بھی غور کیجیے کہ بھارت اور افریقہ کے کئی علاقوں میں لوگ بھوکے مر رہے ہیں ۔ ہم سب کو اکٹھے نجات حاصل کرنی چاہیے یا شرمندگی میں مر جانا چاہیے۔ یوں تنہا چھوٹی سی جنت بسا لینے سے تو انسانیت کا کوئی بھلا نہ ہو گا۔ 
  • کیا یہ نظریہ ،اشتراکیت سے قریب تر نہ ہو گا؟ 
  • اشتراکیت کے حامیوں سے ایک تاریخی غلطی ہوئی جس پر وہ پچھتارہے ہیں۔   سرمایہ دارانہ نظام کی برائیوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے انھوں نے مذہب کو بھی دیس نکالا دیا۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بچہ ٹب کے گندے پانی میں پڑا ہو، اور کوئی شخص ٹب سے گندے پانی کے ساتھ بچے کو بھی سڑک یا گندے نالے میں پھینک دے۔ اشتراکی روس میں اقتصادی انقلاب آیا، لوگوں کو روزگار ملا، لیکن معاشی مسئلہ حل کر لینے سے ان کے سبھی مسائل حل نہ ہوئے ۔ اشتراکی معاشرے میں نفرت اور بے چینی کہیں زیادہ اُبھر کر سامنے آئی ۔ اشتراکیت میں روپے پیسے کا مسئلہ حل ہو جاتا ہے، لیکن اس کی جگہ ایسی بیوروکریسی اپنا تسلط جما لیتی ہے کہ جس کے پاس تمام اختیارات ہوتے ہیں ۔ پھر اس کے ساتھ اخلاقی مسئلہ بھی حل طلب ہوتا ہے، جس کےلیے اشتراکی اخلاقیات کوئی حل پیش نہیں کرتی۔ 

روس میں لوگوں نے جس چیز کی کمی سب سے زیادہ محسوس کی ، وہ ہے روحانیت۔ میرے ایک روسی دوست نے مجھے کہا: ’’آپ لوگ خوش قسمت ہیں کہ آپ اس زندگی کے بعد بھی ایک زندگی کا تصور رکھتے ہیں‘‘ ۔ مذہب میںموت کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ آخرت میں جواب دہی کا تصور انقلابی ہے۔ دراصل مذہب جو اخلاقی انقلاب لاتا ہے، وہ زندگی کے روحانی اور مادی، دونوں قسم کے مسائل حل کرتا ہے۔ 

  • ایسا اخلاقی انقلاب کہاں سے اٹھے گا؟ 
  • یہ کوئی نہیں بتا سکتا ۔ جب رومی سلطنت زوال پذیر تھی، تو کسی کو معلوم نہ تھا کہ اس کے بطن سے کوئی نئی تہذیب جنم لینے والی ہے ۔ ہم ایک بحرانی دور میں زندہ ہیں۔ کچھ نہ کچھ تو پردۂ غیب سے ظہور میں آئے گا۔ میں روحانیت پسند ہوں ، اگرچہ میںیہ نہیں جانتا کہ عملاً مستقبل کا نقشہ کیا ہوگا، پھر بھی آنے والے وقت کے بارے میں پُر امید ضرور ہوں۔
  • اپنے ملک کی سیاسی صورتِ حال کے بارے میں بتائیے؟
  • اٹلی میں مکمل سیاسی آزادی ہے اور نظامِ حکومت جمہوری پارلیمانی ہے، لیکن کسی سیاسی جماعت کو قطعی اکثریت حاصل نہ ہونے کے باعث حکومت کمزور بنتی ہے۔ اس صورتِ حال میں مخالفین چاہیں تو کسی بھی وقت برسرِ اقتدار جماعت کے پائوں اُکھاڑ دیں، لیکن وہ ایسا نہیں کرتے ۔ ہمارا ملک شدید اقتصادی مسائل اور بحران کا شکار ہونے کی وجہ سے اس قسم کی سیاسی عیاشی کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ آپ حیران ہوں گے کہ بعض ارکان، پارلیمنٹ میں اپنے ووٹ کا حق استعمال نہیں کرتے، تا کہ کمزورہی سہی معمولی اکثریت سے حکومت بن جائے۔ 
  • آپ کے ہاں نوجوان نسل کی ذہنی اور اخلاقی حالت کیسی ہے؟
  • اٹلی کی نئی نسل ہم سے زیادہ ذہین اور حقیقت پسند ہے۔  وہ خواب وخیال کی دنیا میں گم نہیں رہتے ، بلکہ کسی نئی کائنات کی جستجو کرتے ہیں ۔البتہ کوئی واضح آئیڈیل ان کے سامنے نہیں ہے۔ لہٰذا، وہ مایوسی سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ ان میں منافقت نہیں ہے اور اس لحاظ سے وہ ہم سے اخلاقی طور پر بہتر ہیں۔ ہمارے ہاں تعلیم کا مسئلہ پیچیدہ تر ہے۔ روم یونی ورسٹی [تاسیس: ۱۳۰۳ء] ۱۰ہزار طلبہ کے لیے بنی تھی، لیکن اب یہ تعدا ایک لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ عمارتوں اور وسائل میں اضافہ نہ ہونے کے سبب طلبہ کی مشکلات بے پناہ ہیں۔ اس کے باوجود نوجوان اپنی ذہانت اور محنت کے بل پر کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ 
  • آپ کے ہاں اسلامی تعلیمات پر گہری نظر رکھنے والے اور بھی اسکالر ہیں؟ 
  • بس گنے چنے لوگ ہیں۔ مغرب میں محقق لوگ چیزوں کا پوسٹ مارٹم کر کے دیکھتے ہیں۔ مشرقی شاعری اور مذاہب کے مطالعے میں بھی وہ اسی طریقے پر عمل کرتے ہیں، ان کی روح تک ان کی رسائی نہیںہوتی ۔ میرے شاگرد وں میں چند ایک اسلامی تعلیمات سے متاثر ہیں، اور مثبت علمی کام کر رہے ہیں۔ 
  • کیا اقبال ؒ کے پیغام کو صورت پذیر کرنے کی ساری ذمہ داری پاکستان پر ہے؟
  • نہیں ! اقبال ؒ کی فکر کو عملاً آگے بڑھانا پوری انسانیت کا فرض ہے۔ لیکن چوں کہ آپ کے ہاں وہ پیدا ہوئے، لہٰذا آپ کی ذمہ داری دوسروں سے زیادہ ہے۔ پھر پیدایشی مسلمان ہونے کی حیثیت سے بھی آپ کو موحد یا توحیدپرست ہونا چاہیے۔ آپ کی جانب سے اپنی ریاست کو ’اسلامی جمہوریہ‘ کا نام دے دینا کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ اعلان کرکے آپ نے ایک بڑی عظیم ذمہ داری قبول کی ہے، اسے اب عملی سطح پر نبھانا بھی چاہیے۔ 

میرے خیال میں پاکستان کا عام شہری، اخلاقی اعتبار سے دوسرے مسلم ممالک کے شہریوں سے بہت بہتر ہے۔ یہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ آپ کے متوسط خاندان اخلاقی لحاظ سے قابلِ تعریف ہیں، اور نوجوانوں میں بزرگوں کے لیے احترام کا جذبہ ابھی باقی ہے۔ آپ ان بنیادوں پر ایک مثالی اسلامی معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔ 

  • یورپ میں لوگ پاکستان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ 
  • یورپ میں لوگ پاکستان کے بارے میں صحیح معلومات نہیں رکھتے ۔ اس میں بنیادی طور پر آپ کے سفارت کاروں اور سفارت خانوں کا قصور ہے۔ بھارت کا ذکر آئے تو لوگوں کے ذہن میں فوراً یہ بات آتی ہے کہ وہ ایک سیکولر ملک ہے ، لیکن پاکستان کی نظریاتی حیثیت سے یورپ آگاہ نہیں، وہ اسے ایک مذہبی ملک سمجھتے ہیں ۔ وہ مذہب اور دین کا فرق نہیں جانتے ۔ 

اسلام مکمل دین ہے، جس کے پاس زندگی کے چھوٹے سے چھوٹے مسائل سے لے کر، بڑے سے بڑے معاملات سے نبٹنے کے لیے مکمل ضابطۂ حیات ہے، جب کہ یورپ میں دین کا یہ تصور معروف نہیں ہے۔ وہاں لوگ اسلام کو ’مذہب‘سمجھتے ہیں اور مذہب کو اہلِ یورپ انسان کا محض ذاتی معاملہ کہتے ہیں۔ یورپ میں ہندو مذہب اور فلسفے کے بارے میں بھی ابہام پایا جاتا ہے۔ میرے نزدیک ہندو مذہب ایک فرسودہ چیزہے ، جب کہ مغربی لوگوں میں ہندوئوں کا جو تاثر (image) بنایا گیا ہے، اس کی بدولت یورپ میں بھارت کے ہر آدمی کو گاندھی اور رابندرا ناتھ ٹیگور خیال کیا جاتا ہے۔ 

  • پاکستان میں منعقدہ اقبال کانفرنس سے آپ کس قدر مطمئن ہیں؟ 
  • انتظام اچھا تھا، لیکن زیادہ تر مقالات ستایشی تھے، جن میں علمی ، فکری گہرائی مفقود تھی۔ 

سوال : قرآن پاک میں آیا ہے کہ وَلَنْ تَجِدَ  لِسُنَّۃِ اللہِ  تَبْدِیْلًا   ’’یعنی اللہ کی سنت کبھی تبدیل نہیں ہوتی‘‘ ۔ اگر اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا قانون کبھی تبدیل نہیں ہوتا اور اس میں کوئی exception [استثنا]  نہیں ہے، مثلاً اگر آگ کی خاصیت جلانا ہے تو وہ ہر ایک کو جلائے گی۔ لیکن بعض اوقات ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا نہیں بھی ہوتا، جیساکہ حضرت ابراہیمؑ کا واقعہ ہے، اور ایسے ہی بعض دوسرے معجزات ہیں۔ توکیا معجزات کا صدور اس آیت کے خلاف نہیں پڑتا؟

جواب :لوگ دراصل context[سیاق و سباق] سے بات الگ کر کے اس کا مطلب نکالتے ہیں۔ وہاں جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ جو قوم اللہ کے نبی ؑ کو آخرکار جھٹلا دیتی ہے، اللہ اسے تباہ کیے بغیر نہیں چھوڑتا۔ اب اس خاص موقعے سے الگ کر کے اس آیت کا مطلب نکالا جائے گا تو صحیح مفہوم خبط ہوجائےگا۔ دوسرے یہ کہ اللہ کی سنت کیا ہے اور کیا نہیں؟ اس کا تعین اللہ کے سوا کوئی نہیں کرسکتا۔ آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ آگ ہمیشہ اور ہرمقام پر جلانے ہی کا کام کرے گی؟ اس کی اس چھوٹی سی زمین میں جو ایک بہت بڑی لامحدود کائنات کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے، یہ بات آپ کو نظر آتی ہے کہ آگ جلاتی ہے۔ اس پر آپ نے اسے اللہ کا قانون قرار دے لیا، کہ آگ جلاتی ہے اور اس میں کوئی استثنا نہیں ہوسکتا۔ آخرکار یہ معلوم کرنے کا آپ کے پاس کیا ذریعہ ہے کہ اللہ کا قانون یہی ہے؟

جہاں تک آگ کا جلانا ایک physical law [طبعی قانون] قرار دیا جاتا ہے تو اس ’فزیکل لا‘ کی حیثیت کائنات کے لامحدود حقائق کے مقابلے میں ایسی ہی ہے جیسے کہ وسیع سمندر کے مقابلے میں چندقطروں کی ہوتی ہے۔ جو حقائق آج آپ کو معلوم ہیں اور آپ انھیں ’فزیکل لا‘ قرار دیتے ہیں۔ جب تک وہ حقائق آپ کو معلوم نہیں تھے تو آپ کا وہ ’فزیکل لا‘ (طبعی قانون) بھی کوئی چیز نہیں تھا۔ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو پہلے انسان کو معلوم نہ تھیں توفزیکل لا نہ تھیں۔ سوسال پہلے اگر کوئی کہتا کہ ایک ایسی سواری ہےجو ہوا میں اُڑ سکتی ہے تو لوگ اسے کہتے کہ ’تو جھک مارتا ہے‘ کیوں کہ ان کے نزدیک یہ چیز اس وقت تک کے معلوم حقائق کے مطابق ’فزیکل لا‘ کے خلاف تھی۔ ان کے نزدیک تو ’فزیکل لا‘ یہ تھا کہ جوچیز ہوا سے زیادہ بھاری ہو، وہ ہوا میں نہیں ٹھیرسکتی۔ لیکن اب یہی چیز علم کے ذریعے سامنے آگئی ہے تو یہ طبعی قانون بن گیا ہے۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ جو مالک اور حاکم ہے، اگر اس کا قانون اسے باندھ دے اور وہ اپنے قانون میں کسی تبدیلی کا اختیار نہ رکھتا ہو، تو یہ چیز اس کی حاکمیت اور قدرت کے خلاف ہوگی۔

اقامت ِ دین اور تبلیغِ دین 

سوال : اقامت ِ دین اور تبلیغ کے فرق کے بارے میں وضاحت فرمایئے؟ 

جواب :تبلیغ بلاشبہہ مفید چیز ہے مگر اس سے وہ تمام حقوق پورے نہیں ہوجاتے جو فریضۂ اقامت ِ دین کی رُو سے ہم پر عائد ہوتے ہیں۔ محض کہہ دینا ہی کافی نہیں ہوتا۔ اگر آدمی، اللہ اور اس کے رسولؐ کی باتیں کہہ دے، مگر ارادہ ہرگز یہ نہ ہو کہ یہ باتیں عمل میں بھی آئیں تو یہ چیز لِمَ  تَقُوْلُوْنَ  مَا لَا تَفْعَلُوْنَ [تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو؟ الصف ۶۱:۲] کے زمرے میں آئے گی۔ 
مثلاً ایک بستی میں ایک شخص چاہتا ہے کہ لوگ نماز پڑھیں، تو کیا وہاں اس کا فرض محض نماز کے لیے کہہ دینا ہی ہے؟ یا ایک سچے مسلمان کی حیثیت سے یہ بھی اس کا فرض ہے کہ جو لوگ نماز پڑھنے پر آمادہ نظر آئیں، ان کے لیے مناسب جگہ تلاش کرے، انھیں یک جا کرے اور فریضۂ نماز کی بجاآوری میں ان کی مدد کرے۔ پھر وہاں نماز پڑھنے کے لیے مسجد بنانے کی فکر کرے۔ ساتھ ہی اسے یہ فکر بھی ہو کہ وہاں وقت پر اذان دی جائے اور باقاعدہ باجماعت نماز کا اہتمام ہو۔ یہ تمام چیزیں نماز کی تبلیغ کے لوازم ہیں۔ اب اگرکوئی شخص محض نماز کی تبلیغ کرکے بیٹھ رہے اور جب اس سے یہ کہا جائے کہ ان لوازم کے اہتمام کے لیے بھی آگے بڑھو، تو وہ کہے کہ یہ میرے فرائض میں شامل نہیں ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب وہ لوگوں کو نماز پڑھنے کے لیے کہتا ہے تو وہ تبلیغ نہیں کرتابلکہ محض ایک بات کہتا ہے جو کہنے کے بعد ختم ہوجاتی ہے۔
اگر کوئی گروہ اقامت ِ صلوٰۃ کے لوازم پورے کرنے کے لیے کنواں کھودتا ہے تاکہ نمازیوں کو وضو کے لیے پانی میسر آسکے، مزدوروں کی طرح اینٹیں ڈھوتا ہے تاکہ مسجد کی تعمیر ہوسکے اور مبلغ یہ سب کچھ دیکھ کر کہے کہ تم یہ کیا کر رہے ہو؟ میں نے کنواں کھودنے یا اینٹیں ڈھونے کے لیے تو نہیں کہا تھا، میں نے تو صرف نماز پڑھنے کو کہا تھا، تو ظاہر بات ہے کہ ایسا کہنے والا تبلیغ کے تقاضوں اور فریضۂ اقامت ِ دین کے حقیقی مفہوم ہی سے ناآشنا ہے۔

بھارت میں مسلمان

سوال : بھارت میں مسلمان جس پُرآشوب دور سے گزر رہے ہیں، اس سے وہاں مسلمانوں کے مستقبل کے بارے میں ذہن میں طرح طرح کے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔

جواب :بھارت میں اس وقت جو مسلمان موجود ہیں، انھیں ملک نہیں چھوڑنا چاہیے بلکہ وہاں رہ کر کام کرناچاہیے۔ میں نے ہندستان کے آخری اجتماع میں بھی کہا تھا کہ جب تک کوئی سخت مجبوری لاحق نہ ہو ، کسی کو اپنی جگہ نہیں چھوڑنی چاہیے۔ خود ہم نے پٹھان کوٹ میں فیصلہ کیا تھا کہ ڈٹ کر بیٹھیں گے، لیکن جب وہاں کی اور دُوردُور تک کی ساری آبادیاں مسلمانوں سے خالی کرا لی گئیں تو مجبوراً لاہور آنے کا فیصلہ کیا گیا۔
بھارتی مسلمان صبر کے ساتھ رہیں اور اپنے رویے کو درست رکھیں۔ ان شاء اللہ حالات آج نہیں تو کل تبدیل ہوں گے۔ ہندوئوں کے لیڈر مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ہوا دے رہے ہیں۔ ان کے نظریات کا علاج بھی مسلمانوں کے پاس موجود ہے۔ دراصل پہلے انگریز دشمنی اور مسلمان دشمنی کی بنیاد پر ہندو قوم کا تشخص برقرار تھا۔ اب صرف مسلمان دشمنی باقی رہ گئی ہے۔ مسلمان دشمنی کے سوا ان کے پاس کھڑے رہنے کے لیے کوئی پائوں نہیں ہیں۔یہ پائوں اگر آپ نے کاٹ دیے تو پھر وہ ٹھیر نہیں سکیں گے۔ ہندو کا مقابلہ اگر آپ مسلمان قوم پرستی کے ذریعے کرنا چاہیں گے تو یہ غلطی ہوگی۔ ایسی چیزوں سے ہندو قومیت کو غذا ملے گی۔ ہندوئوں میں آپ کو ’مسلمانوں کے مطالبات‘ کے بجاے ’اسلام کے مطالبات‘ لے کر کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔ اسلام کو ساتھ لے کر ہندستانی مسلمان موجودہ مراحل سے گزرتے چلے جائیں تو ان شاء اللہ صورتِ حال بدل جائے گی اور آج کے مسلمان آیندہ نسلوں کے لیے بہتر حالات پیدا کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ ہندوئوں میں جو لوگ مسلمانوں کے خلاف فتنے کھڑے کرکے فساد برپا کر رہے ہیں، ایک وقت آئے گا کہ خود ہندو اس صورتِ حال سے بیزار ہوجائیں گے۔

ہندو کون؟

سوال : ہندوئوں کے قومی تشخص کو، ہندو لیڈر مسلمان دشمنی کو ہوا دے کر برقرار رکھ رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہندوئوں کا مذہب ان کے قومی تشخص کے لیے کافی نہیں ہے؟

جواب :ہندوئوں کی کوئی ایسی کتاب یا ایسا عقیدہ نہیں ہے جس پر سب ہندو متفق ہوں۔ ۱۸۸۱ء میں جب مردم شماری ہوئی تو یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ ہندو کس کو قرار دیا جائے؟ کیوں کہ کسی کا کچھ عقیدہ تھا اور کسی کا کچھ۔ آخر یہ طے پایا کہ جس کا مذہب ہندستان سے متعلق ہو اور جو گائے کو مقدس مانے وہ ہندو ہے۔ ان کی کوئی ایک شخصیت بھی ایسی نہیں جس پر یہ سب متفق ہوں۔ دیوتا بھی ایک نہیں، بلکہ کروڑوں ہیں۔ ان کے لٹریچر میں اپنے گروہ کے لیے کوئی نام بھی نہیں ہے، جس سے انھیں پکارا جائے۔ ہم برصغیر میں آئے اور انھیں ہندو کہنا شروع کیا تو ان کا نام ہندو پڑگیا۔

جہیز کی شرعی حیثیت

سوال : اسلام میںجہیز کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب :جہیز کا دینا ناجائز نہیں، مگر آج کل اس کو جو شکل دے دی گئی ہے، وہ بُری ہے۔ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تو جہیز کے بارے میں مجبور نہیں کیا۔ اگر کوئی جہیز نہ بھی ہو، تو بھی نکاح ہوجاتا ہے۔ دراصل ایک مسلمان معاشرے میں عدم توازن اس لیے پیداہوتا ہے کہ خدا اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جس چیز کا حکم نہیں دیا، لوگ وہ کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ’’کرنا پڑتا ہے؟‘‘۔ لیکن جن چیزوں کا حکم دیا گیا ہے، انھیں نظرانداز کردیتے ہیں، مثلاً میراث کے جو حصے اللہ نے مقرر کیے ہیں، انھیں ادا نہیں کرتے۔ ایسا طرزِعمل کبھی مفید ثابت نہیں ہوتا۔

نظامِ عبادات اور جہاد

سوال : کیا یہ درست ہے کہ نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کا مقصد جہاد کی تیاری ہے؟

جواب :نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کا مقصد اللہ کی عبادت اور اس کی رضاجوئی ہے۔ جہاد بھی اللہ کی عبادت ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ نماز، روزہ انسان کو جہاد کے لیے بھی تیار کرتے ہیں۔ حُسنِ نیت اور اخلاص کے ساتھ کی جانے والی ایک نیکی اور عبادت مسلمان کو دوسری نیکی اور عبادت کے لیے تیار کرتی ہے۔

نماز کے فوائد

سوال : کیا نماز روزے سے نفس کی پاکیزگی بھی حاصل ہوتی ہے؟ 

جواب :مسلمان کی نماز تو اسے یہی حکم دیتی ہے کہ وہ بُرائی سے بچے۔ بشرطیکہ نماز پڑھنے والا یہ سمجھ کر نماز پڑھے کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے۔ اگر وہ بلاسوچے یا نماز کے مقصد کو نظرانداز کرکے پڑھے گا تو پھر نماز پڑھ کر رشوت لینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں سمجھے گا۔ اگر رشوت لینے والا نماز پڑھے گا اور سمجھے گا کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے تو یہ خیال کرکے کہ مَیں تو حرام کھا رہا ہوں، وہ رشوت کے قریب بھی نہیں جائے گا۔

سوال : کیا نماز اقامت ِ دین کا حکم بھی دیتی ہے؟ 

جواب :نماز ہی تو حکم دیتی ہے اقامت ِدین کا۔ جب آپ [نماز میں دعاے قنوت پڑھتے ہوئے]کہتے ہیں: نَخْلَعُ وَنَتْرُکُ  مَنْ یَّفْجُرُکَ  ’’ہم ہر اس شخص کو چھوڑ دیں گے اور اس سے تعلق کاٹ دیں گے جو تیرا نافرمان ہو‘‘۔ تو دشمنانِ دین سے آپ کی لڑائی کا آغاز ہوجاتا ہے۔

ٹپ کی شرعی حیثیت

سوال : ہوٹلوں میں بیروں کو دی جانے والی ٹپ کی شرعی نوعیت کے بارے میں عرض ہے کہ یہ ٹپ کیا رشوت کی تعریف میں آتی ہے؟ 

جواب :ٹپ کا اب عام رواج ہوگیا ہے، لیکن اس کی نوعیت وہ نہیں ہے جو رشوت کی ہے۔ ٹپ اگر آپ نہ بھی دیں تب بھی بیرا چائے لائے گا۔ وہ ٹپ کے لیے آپ پر کوئی جبر نہیں کرسکتا، اور نہ آپ کا کوئی حق سلب کرسکتا ہے، نہ آپ کے کسی حق سے انکار کرسکتا ہے۔ اس لیے یہ رشوت کی تعریف میں نہیں آتی ہے۔ رشوت یہ اس وقت ہوگی جب بیرا آپ کو اس ٹپ کے بدلے میں کوئی زائد شے لا کر دے، مثلاً وہ دو پیالی کے بجاے ٹپ کے لالچ میں آپ کو تین پیالی لادے اور مالک کو رقم دوپیالیوں ہی کی ملے۔ یہ چیز رشوت ہوگی اور اسی لیے حرام ہوگی۔

تقلید اور عدم تقلید

سوال : تقلید اور عدمِ تقلید کی اصل نوعیت کیا ہے؟ 

جواب :جب کوئی محقق یا عالم کسی معاملے میں تحقیق کرنے بیٹھتا ہے تو درحقیقت وہ تقلید نہیں کرتا بلکہ عملاً وہ غیرمقلّد ہوتا ہے۔ اگر آدمی یہ قسم کھا کر تحقیق کرنے بیٹھے کہ مَیں اپنی تحقیق میں اسی نتیجے پر پہنچوں گا جو کسی خاص امام کا ہے، تو ایسی تحقیق بے کار ہے۔ تحقیق کے لیے ضروری ہے کہ انسان خالی الذہن ہوکر بیٹھے اور پھر ایمان داری کے ساتھ تحقیق کرے کہ اس مسئلے کے بارے میں کسی امام کا مسلک کس حد تک اور کتنا کچھ وزن رکھتا ہے؟

خیر اور شر کا وجود

سوال : مولانا، کیا خیروشر کی قوتیں انسان کے باہر ہی سے اثرانداز ہوتی ہیں، یا یہ انسان کے اندر بھی موجود ہوتی ہیں؟ 

جواب :یہ قوتیں اندر بھی موجود ہوتی ہیں اور باہر بھی۔ اگر یہ انسان کے اندر نہ ہوں تو باہر کی طاقتیں ان سے کیسے ربط قائم کرسکتی ہیں۔ اندر وہ قوتیں موجود ہوتی ہیں، جبھی تو وہ بیرونی قوتوں کو متاثر کرتی ہیں۔
سوال : ہم شیطان کی اثراندازی کا احساس کس طرح کرسکتے ہیں؟ 
جواب :جب انسان اپنے اندر بُرائی کی اُکساہٹ محسوس کر رہا ہو تو سمجھ لے کہ شیطان بُرائی کی ترغیب دے رہا ہے۔ اس پر اسے چوکنا ہوجانا چاہیے۔

عیسائیوں کے ساتھ کھانا

سوال : کیا عیسائیوں کے ساتھ مل کر کھانے پینے کی اجازت ہے؟

جواب :یہ تو قرآن مجید ہی میں آیا ہے کہ ان کے ساتھ مل کر کھایا پیا جاسکتا ہے۔ بس اس بات کی احتیاط کرنی چاہیے کہ اگر ان کے دسترخوان پر کوئی حرام چیز ہو تو اُسے استعمال نہ کیا جائے۔

سائنسی تحقیق کی حد

سوال : اگر کوئی مسلمان ریسرچ کو اپنا فریضہ بنا لے تو یہ کہاں تک درست ہے؟

جواب :دیکھنا یہ ہوگا کہ وہ ریسرچ کس غرض کے لیے کرنا چاہتا ہے، کیوں کہ ریسرچ براے ریسرچ تو بے معنی ہے۔ ہر ریسرچ کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہوتا ہے۔ چاہے وہ مقصد روپیہ کمانا ہو یا شہرت حاصل کرنا، یا قومی سربلندی کا مظاہرہ کرنا۔ ریسرچ براے ریسرچ کبھی نہیں ہوا کرتی۔ ہر کام کا کوئی مقصد ہوتا ہے ، اگر کوئی مسلمان اس مقصد کو سامنے رکھ کر ریسرچ کرے کہ اس سے اسلام اور مسلمانوں کو فائدہ پہنچے تو یہ ایک مفید چیزہے۔

دو مساجد

سوال : مولانا، لاہور کی بادشاہی مسجد اور دہلی کی جامع مسجد میں کیا خصوصیات ہیں؟ 

جواب :لاہور کی جامع مسجد بہت بڑی ہے، جب کہ دہلی کی جامع مسجد حُسن اور خوب صورتی میں بہت بڑھی ہوئی ہے۔ اس میں داخل ہوتے ہوئے جو گنبد سا ہے، اس کے نیچے کھڑے ہوکر اُوپر دیکھیں تو قرآنِ پاک کی آیات یکساں خط میں لکھی نظر آتی ہیں۔ حالاں کہ عبارت شروع ہونے کے مقام سے انتہائی بلندی تک پہنچتے پہنچتے ابتدائی اور آخری خط کی موٹائی میں ایک اور سولہ کی نسبت ہوجاتی ہے۔ لکھنے والے کا کمال یہ ہے کہ اس نے بلندی کی طرف جاتے ہوئے خط کی موٹائی میں اس تناسب کے ساتھ اضافہ کیا ہے کہ نیچے سے پڑھنے والے کو خط بالکل یکساں جلی معلوم ہوتا ہے۔

بنک اور سود

سوال : بنک کے ملازم کی تنخواہ میں سود شامل ہوتا ہے، اسی لیے اُسے ناجائز ٹھیرایا گیا ہے، لیکن ایک عام سرکاری ملازم کو جو تنخواہ ملتی ہے اس میں بھی سود کی رقم شامل رہتی ہے، تو یہ کیوں کر جائز ہے؟ 

جواب :بنک کے ملازم کو ملنے والی تنخواہ تمام تر سود پر مشتمل ہوتی ہے ،جب کہ سرکاری ملازم کی کُل تنخواہ میں محض ایک حصہ سود کا ہوتا ہے۔ لیکن دونوں میں اصل فرق یہ ہے کہ بنک کا ملازم براہِ راست سودی کام کرتا ہے، جب کہ کوئی عام سرکاری ملازم سود سے براہِ راست متعلق کوئی ڈیوٹی انجام نہیں دیتا۔ اسی لیے بنک کی ملازمت اور عام ملازمت ایک درجے میں نہیں ہے۔