انسانی حقوق کا بنیادی تصور یہ ہے کہ تمام انسان آزادی، تحفظ، عزّت اور یکساں سلوک کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ یہ حقوق کسی بھی قسم کے مذہبی، نسلی، لسانی، جغرافیائی حدود، عمر، جنس، معاشی و سماجی مرتبہ کی تفریق کے بغیر سب کو حاصل ہوں۔ انسانی حقوق ہرفرد کو پیدائشی طور پر حاصل ہیں اور کسی سے بغیر کسی وجہ کے چھینے نہیں جاسکتے۔
عصرحاضر میں انسانی حقوق کے تصورات، تفصیلات اور معاہدات اقوامِ متحدہ کے تحت طے کیے گئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے ۱۹۴۵ء میں اپنے قیام کے بعد اپنے دستور (یواین چارٹر ۱۹۴۶ء) میں ایسے بنیادی اُصول وضع کیے جن کی بنیاد گذشتہ چند صدیوں میں مغرب میں پیش کردہ انسانی حقوق کے تصورات اور ان کی بنیادوں پر انقلابات، نئی ریاستوں کا قیام اور ان کےدساتیر کا ترتیب پانا تھا، جن میں انگلستان کا ’میگناکارٹا‘ (۱۲۱۵ء)، انقلاب فرانس کا ’منشور حقوق انسانی‘ (۱۷۸۹ء)، امریکا کا ’منشور انسانی حقوق‘ (۱۷۷۶ء) اور امریکا کا ’معاہدہ انسانی حقوق و فرائض‘ (۱۹۴۸ء) شامل تھے۔
جمہوری فلسفہ کے تحت اقوام متحدہ نے بہت سی مثبت اور تحفظاتی حقوق سے متعلق قراردادیں منظور کیں اور آخرکار ۱۰دسمبر ۱۹۴۸ء کو ’عالمی منشور حقوقِ انسانی‘ (The Universal Declaration of Human Rights) منظرعام پر آیا۔ دُنیا کے بیش تر ممالک نے اس کی تائید کی اور جنھوں نے تائید نہیں کی انھوں نے بھی اس سے اختلاف نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ صرف عام اصولوں کا اعلان و اظہار تھا، معاہدہ نہیں تھا کہ کسی نوعیت کی قانونی پابندی دستخط کرنے والی حکومتوں پر لازم ہو۔ البتہ اس کے ذریعے واضح کر دیا گیا تھا کہ یہ وہ معیار ہے جس تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس منشور کو حقوق انسانی کی تاریخ میں ایک انقلابی قدم سمجھا جاتا ہے۔
حقوقِ انسانی کے اس عالمی منشور (UDHR 1948) میں ۳۰ آرٹیکلز کے ذریعے فرد کے بنیادی حق زندگی، عدل و انصاف اور مساوات کے ساتھ معاشی، سماجی، ثقافتی اور سیاسی حقوق کا احاطہ کیا گیا ہے۔ منشور میں تمام حقوق کو عالم گیر اور ناقابلِ تنسیخ قراردیا گیا ہے۔ ہرفرد کا حق تسلیم کیا گیا ہے کہ اس کے ساتھ مساوات ہو، کسی کو اس سے برتر یا اسے کسی سے کم تر نہ سمجھا جائے۔ اسے جان اور مال کا تحفظ حاصل ہو۔ اس پر کسی قسم کا جبروتشدد روا نہ رکھا جائے۔ اسی طرح عقیدہ اور مذہب، اظہارِخیال ، تنظیم اور جماعت سازی، سفر اور نقل مکانی، شادی اور خاندان بسانے کے حق کو مانا گیا ہے۔ تعلیم، حکومت میں شرکت، ملازمت، راحت اور آرام، خلوت اور نجی زندگی میں عدم مداخلت کو بھی اس کا بنیادی حق قرار دیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے دستور اور انسانی حقوق کے چارٹر نے تمام دُنیا میں، تمام مرد و خواتین کے لیے جو حقوق لازم قرار دیئے ہیں، انھیں اقوام متحدہ کے ممبر ممالک نے اپنے ریاستی دساتیر اور قوانین کا حصہ بنایا۔ آئین پاکستان ۱۹۷۳ء میں بھی ان تمام بنیادی حقوق اور آزادیوں کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ موضوع کی مناسبت سے اس اہم حقیقت کا تذکرہ ضروری ہے کہ انسانی حقوق کے عالمی منشور اور اس کے بعد آنے والے انسانی حقوق کے مختلف معاہدات اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔
شہری اور سیاسی حقوق کا بین الاقوامی معاہدہ (ICCPR 1966)، معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق کا بین الاقوامی معاہدہ (ICESCR 1966)،نسلی امتیازات کے خاتمے کا بین الاقوامی معاہدہ (ICERD 1965)، خواتین کے خلاف ہرقسم کے امتیازات کے خاتمے کا سمجھوتہ (CEDAW 1979)، تشدد کے خلاف سمجھوتہ (CAT 1984)، بچوں کے حقوق کے تحفظ کا سمجھوتہ (CRC 1989) اور دیگر معاہدات ، قراردادوں میں کسی بھی سطح پر ہم جنسیت کو انسانی حقوق کا درجہ حاصل نہیں ہے۔
’ہم جنسیت‘ کو انسانی حقوق سے منسلک کرنے کی تاریخ کچھ یوں ہے کہ ۲۰ویں صدی کے آخری عشرے میں ہم جنسیت کو ’جبلت‘ اور ’طبیعت کا میلان‘ قرار دیتے ہوئے، اسے ایک عمل کے بجائے ایک رویہ قرار دیا گیا اور اس کے لیے ’جنسی رجحان‘ (Sexual Orientation) کی اصطلاح وضع کی گئی۔ ہم جنس زدہ افراد جو پہلے صرف Homosexualsکہلاتے تھے، ان کی وسیع نمایندگی کے لیے پہلے LGB ، پھر LGBT ، LGBTI، اور LGBTIQ کی اصطلاحات استعمال کی جانے لگیں۔
اقوام متحدہ کے تحت پہلی دفعہ ’جنسی رجحان‘ کی اصطلاح خواتین کی ’چوتھی عالمی کانفرنس‘ کے لیے بننے والی دستاویز ’بیجنگ پلیٹ فارم فار ایکشن‘ (BPA 1995)کے دوران زیربحث آئی، جہاں اسے خواتین کے حق کے طور پر متعارف کروایا گیا۔ بعدازاں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) اور انسانی حقوق کی کونسل (UNHCR) کے تحت مختلف فورمز پر جنسی رجحان، صنفی شناخت اور LGBTحقوق کی تائید میں قراردادیں ، اعلامیے اور بیانات پیش اور منظور ہوتے رہے۔
اس سلسلے کی اہم قراردادیں ۲۰۱۱ء، ۲۰۱۴ء اور ۲۰۱۵ء میں منظور ہوئیں۔ ۲۰۱۵ء میں اقوام متحدہ کے ۱۲ بین الاقوامی اداروں: ILO، OHCHR، UNAIDS، UNDP، UNESCO، UNFPA، UNHCR، UNICEF، UNODC، UN WOMEN، WFP اور WHO نے LGBT افراد کے خلاف امتیاز اور تشدد ختم کرنے کے لیے ایک مشترکہ قرارداد منظور کی، جس پر ممبر ممالک سے عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا۔ ۹۶ ممبر ممالک نے LGBTحقوق کے تحفظ کے لیے اس قرارداد کی تائید کی۔ ان تمام پیش قدمیوں کے دوران ۲۰۰۸ء کی منظور شدہ ایک قرارداد کی مخالفت میں ویٹی کن کے نمایندے، ’اسلامی تعاون کی تنظیم‘ (OIC) اور پاکستان کی طرف سے بھی مخالفت میں بیان دیئے گئے اور ان اقدامات کو ’’بین الاقوامی انسانی حقوق کے ڈھانچے کو کمزور کرنے اور معاشرے میں جنسی بے راہ روی کی اثرپذیری‘‘ اور ان کے قانونی جواز پر تحفظات کا اظہار کہا گیا۔
اقوام متحدہ نے LGBT حقوق کے ضمن میں اپنی اس تمام پیش رفت کے دوران ۲۰۱۱ء میں انسانی حقوق کی کونسل میں حتمی طور پر LGBT حقوق کو بطورِ انسانی حقوق تسلیم کرنے کی قرارداد منظور کرلی۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے فوراً ہی ایک رپورٹ جاری کردی، جس میں دُنیا کے مختلف ممالک میں LGBT افراد کے حقوق کی خلاف ورزی، ان کے خلاف ہونے والے مبنی بر نفرت جرائم، امتیازات اور ہم جنس پرستوں کے لیے قانونی سزائوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر اقوام متحدہ نے تمام ممبر ممالک پر زور دیا کہ ’’وہ LGBT حقوق کی حفاظت و ضمانت کے لیے قوانین کی تشکیل کریں‘‘۔ اقوام متحدہ کے تحت LGBT حقوق کو انسانی حقوق کے طور پر تسلیم کیے جانے کے نتائج میں، عالمی اداروں کی حمایت کے ساتھ ’جنسی رجحان‘ (Sexual Orientation) ، صنفی شناخت (اپنے خود ساختہ احساسات کی بنیاد پر) رویوں کی ترویج، ہم جنسیت کو ممنوع یا ناروا رویے کے بجائے سماجی قبولیت کا درجہ حاصل ہونا، ہم جنسیت کے خلاف خواتین کو تنقید کا نشانہ بنانا اور ان کی تنسیخ کا مطالبہ، ہم جنس زدگان کی علانیہ فخریہ پریڈ اور ہم جنس شادیوں کو قانونی تحفظ دینا شامل ہیں۔
LGBTکے انسانی حقوق کے طور پر تسلیم کیے جانے کے بعد ہم جنس شادیوں سے متعلق بہت سے اُمور پر بھی قوانین سازی کی کوششیں جاری ہیں، جن میں اسے جوڑنے کے لیے اولاد کا حصول بذریعہ Adoption یا Surrogacy (کرائے پر رحمِ مادر کا حصول) اور IVF کے ذریعے تولیدی عمل، تبدیلیٔ جنس کے لیے سرجری، ہارمونز کی تبدیلی اور دیگر اُمور کی اجازت اور سہولیات کی فراہمی، تولیدی صلاحیتوں میں تبدیلیوں کی سرجری کی سہولیات کی فراہمی پر مبنی قوانین شامل ہیں۔ اسی طرح مختلف شعبہ ہائے زندگی تعلیم، ملازمت، طبّی سہولیات، فوجی خدمات میں بلاامتیاز شمولیت کے قوانین اور امتیازی سلوک یا ہراساں کیے جانے کے خلاف قوانین کی تشکیل بھی مطلوب ہے۔
ہم جنس شادی کی صورت حال دیکھی جائے تو ۲۰۰۱ء میں ہالینڈ سے آغاز کے بعد سے ۲۰۲۲ء تک اسے برطانیہ، ویلز، امریکا، آسٹریلیا، جرمنی، فرانس، نیوزی لینڈ، فن لینڈ، مالٹا، کینیڈا، اسپین، ڈنمارک، برازیل سمیت ۳۲ ممالک میں (مکمل طور پر یا کچھ حصوں میں) قانونی تحفظ حاصل ہوچکا ہے، جب کہ مزید ۳۴ ممالک میں ہم جنس جوڑوں کو تحفظ حاصل ہے۔ تقریباً ۷۰ممالک میں جن کا تعلق ایشیا، افریقا اور مشرق وسطیٰ سے ہے، ہم جنسیت غیرقانونی ہے۔ البتہ ۲۰۱۹ء میں بھارت میں بھی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی روشنی میں ہم جنسیت کو قانونی تحفظ دیا گیا ہے۔
عالمی اداروں کے دبائو پر قوانین میں گنجایش پیدا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ انھی میں ایسے ممالک ہیں، جہاں ہم جنسیت کی قانونی سزا ’سزائے موت‘ ہے۔ ان میں ایران، سوڈان، سعودی عرب، یمن، صومالیہ، نائیجیریا کے کچھ علاقے، شام اور عراق شامل ہیں۔ اگرچہ پاکستان، افغانستان، موریطانیہ، قطر اور متحدہ عرب امارات میں بھی شریعہ لا کے تحت سزائے موت دی جاسکتی ہے، لیکن اس پر کبھی عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔
اقوام متحدہ کی متعدد بار تمام ممالک کو ہدایت ہے کہ وہ ’’ہم جنسیت کے خلا ف موجود ریاستی قوانین کو منسوخ کر دیں اور ہم جنسیت اور ہم جنس شادی کے حق میں قانون سازی کریں اور پالیسی اقدامات اُٹھائیں‘‘۔ پاکستان میں بھی گذشتہ عشرے سے نسبتاً مربوط کوششوں کے اثرات ظاہر ہورہے ہیں ۔ ۲۰۱۸ء میں خواجہ سرا افراد کے حق میں منظور ہونے والے قانون میں ’ٹرانس جینڈر‘ کی اصطلاح میں وسعت پیدا کرتے ہوئے، جنسی رجحان اور شخصی صنفی شناخت کو قانونی تحفظ فراہم کرکے LGBT حقوق اور ہم جنس شادی کا راستہ کھولنے کی کوشش کی گئی۔
آئین پاکستان ۱۹۷۳ء کے تحت اسلامی جمہوریہ پاکستان کا بنیادی تشخص اسلام ہے۔ ریاست کی حاکمیت اعلیٰ اللہ رب العالمین کے لیے ہے اور ملک میں قرآن و سنت کے قانون کی بالادستی ہے۔ جس سے متصادم کوئی قانون سازی ملک عزیز میں نہیں ہوسکتی۔ پاکستان کے قانون ساز اداروں پر لازم ہے کہ ہم جنسیت سے متعلق کسی قسم کے قوانین کو ملکی قوانین کا حصہ نہ بنائیں کہ یہ اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی اور ریاست کے آئین کی نفی ہے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ تجارت، بین الریاستی تعلقات کا ایک اہم جز ہے، اور عالم گیریت کے دور میں یہ اور بھی زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ بعض حلقوں کی جانب سے یہ بھی تجویز کیا جاتا ہے کہ تجارت خاص طور پر ناموافق تعلقات میں اور بھی ضروری ہوجاتی ہے، کیونکہ اس سے بہتر ماحول کی تشکیل میں مد د ملتی ہے۔ بنیادی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ’’تجارت کو سیاست سے الگ رہنا چاہیے اور وقتاً فوقتاً کشیدگی کو دوطرفہ تجارت پر اثرانداز ہونے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے، کیونکہ عارضی خلل بھی خاص طور پر عام لوگوں کے لیے نقصان دہ ہے‘‘۔
بلاشبہہ، کوئی بھی سمجھ دار شخص، پاک بھارت تعلقات کو معمول پر لانے پر اعتراض نہیں کرسکتا، لیکن تاریخ ان کمزور لوگوں پر کبھی رحم نہیں کھائے گی جو وقتی مصلحتوں کی قربان گاہ پر اصولوں کی قربانی دیتے ہوئے اس حقیقت کے برعکس دلائل دیئے چلے جارہے ہیں۔
پاکستان ان دنوں تباہ کن سیلاب اور اس کے مابعد اثرات سے گزررہا ہے۔ ان حالات میں بھارت کے ساتھ تجارت دوبارہ شروع کرنے کے حق میں دلائل اور زیادہ زورشور سے سننے کو مل رہے ہیں۔ یہ دعویٰ کیا جارہا ہےکہ ممکنہ طور پر پاکستان کو کھانے پینے کی اشیا اور کپاس کی بڑے پیمانے پر قلت کا سامنا کرنا پڑے گا، جس سے نہ صرف مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا بلکہ پاکستانی برآمدات (exports) کو بھی نقصان پہنچے گا۔ لیکن بھارت سے ان اشیا کو درآمد کرکے اس صورتِ حال میں جزوی طور پر کمی لائی جاسکتی ہے، کیونکہ ان شدید معاشی اور مالیاتی حالات میں پاکستان کے لیے بھارت سے بہتر کوئی متبادل نہیں۔ اگر زندگی بخش دوائیں ہندستان سے درآمد کی جاسکتی ہیں تو ضروری اشیائے خورونوش کے حق میں یہ دلیل کیوں نہیں دی جاسکتی؟
جی ہاں، خالصتاً معاشی نقطۂ نظر سے یہ خیالات بامعنی ہیں۔ لیکن جب پاکستان بھارت تعلقات کی بات آتی ہے تو جغرافیائی معاشیات (جیواکنامکس) کو دوسرے بنیادی متعلقات سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔
۱۴فروری ۲۰۱۹ء کو پلوامہ میں مسلح کارروائی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، بھارت نے پاکستان سے درآمد و برآمد کے معاملات پر سخت فیصلے کیے اورفوری طور پر پاکستان سے درآمدات پر ۲۰۰ فی صد کسٹم ڈیوٹی عائد کر دی۔ لیکن پاکستان نے ردعمل میں اس طرح سے جواب نہیں دیا۔ تاہم، پاکستان نے سفارتی تعلقات کو کم کرنے کے علاوہ دوطرفہ تجارت کو صرف اس وقت روکا، جب اسی سال ۵؍اگست ۲۰۱۹ء کو بھارت نے کشمیر پر یک طرفہ غیرقانونی ادغام کا فیصلہ کیا تھا۔ بھارت نے اپنی ہی سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہ غیرآئینی اقدام کیا۔ پاکستان کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ ایسا ردعمل ظاہر کرے جیساکہ اس نے کیا۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ ۲۰۲۲ء کے سیلاب سے بہت پہلے پاکستان میں دوطرفہ تجارت کی بحالی کی تجاویز سننے میں آرہی تھیں۔ ’تحریک انصاف‘ کی حکومت میں وزیر تجارت عبداللہ رزاق داؤد اور وزیرخزانہ حماد اظہر نےعوامی سطح پر رائے سازی شروع کر رکھی تھی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اس سلسلے میں ایک سمری بھی تیار کرلی تھی، جسے بعد میں انھی کی کابینہ نے مسترد کر دیا۔ بعدازاں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی حکومت کے وزیرخارجہ بلاول زرداری نے حلف اُٹھانے کے بعد اسلام آباد میں ایک تھنک ٹینک سے خطاب کے دوران بھارت سے تجارت کے حق میں بیان داغ دیا۔
خارجہ پالیسی کے اس طرح کے اہم فیصلوں کو ایسے غیرسنجیدہ انداز میں حل نہیں کیا جاسکتا اور نہ ایسا ہونا چاہیے۔ شہباز شریف کی حکومت میں وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے ایک روز قوم کو بتایا کہ ’’پاکستان بھارت سے ضروری اشیائے خورو نوش درآمد کرنے پر غور کر رہا ہے‘‘۔ اور اگلے ہی روز وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے وزیرخزانہ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایسا کچھ نہیں ہے‘‘۔ خارجہ پالیسی کے اہم مسائل پر فیصلہ سازی کی مناسبت سے یہ رویہ تشویش ناک ہے۔
بھارتی حکومت نے کہا کہ اسلام آباد سے باضابطہ درخواست موصول ہونے پر اس معاملے پر غور کیا جائے گا، جب کہ بھارتی میڈیا نے یہ منتر دُہرایا کہ ’’تجارت اور دہشت گردی ایک ساتھ نہیں چل سکتے‘‘۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ بھارت، پاکستان کو کشمیر پر اپنے روایتی موقف سے ہٹ کر چلتا دیکھنا چاہتا ہے۔ یاد رہے پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی نے ۷؍اگست ۲۰۱۹ء کو اپنے اجلاس میں کچھ ایسے فیصلے کیے، جو پاکستان میں وسیع عوامی جذبات کی نمایندگی کرتے ہیں۔دُنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے بھی ۵؍اگست کے بھارت کے غیرسنجیدہ فیصلے پر پاکستان کے معقول ردعمل کا خیرمقدم کیا۔
یہ سچ ہے کہ پاکستان کے مقتدر حلقے، کشمیر پر اپنے غیرسنجیدہ رویے کی وجہ سے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنہیں سکے۔ تاہم، عالمی برادری کی جانب سے لاتعلقی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پاکستان بھارت کے مقابلے میں اپنے اصولی موقف سے دست بردار ہوجائے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے اس موقف کو دُہرایا کہ ’’جب تک بھارت کشمیر کی سابقہ صورتِ حال کو بحال نہیں کرتا، پاکستان بھارت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات قائم نہیں رکھ سکتا‘‘۔ بھارت یہ توقع کر رہا تھا کہ شہباز حکومت گذشتہ حکومت کی طرف سے اختیار کیے گئے سخت موقف کو بآسانی ترک کر دے گی۔
بھارت کی طرف سے مسلسل ہٹ دھرمی پر مبنی دھونس اور بین الاقوامی عہدوپیمان کی دھجیاں بکھیرنے کے باوجود، پاکستان کا دوطرفہ تجارت دوبارہ شروع کرنا کشمیر کاز کے لیے ایک اور دھچکا ہوگا۔ اسلام آباد کو بھارت کے غیرآئینی اقدامات کو قانونی حیثیت نہیں دینی چاہیے، جو کہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور ۱۹۷۲ء کے شملہ معاہدے کی بھی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان اس صورتِ حال کو جوں کا توں قبول کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا، جسے بھارت مستحکم کرنے پر تُلا ہوا ہے۔
ان حالات میں بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات کی بحالی سے کشمیریوں کے حوصلے مزید پست ہوں گے۔ وہ سخت مشکلات میں اپنی جدوجہد کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ جب پیاز، ٹماٹر اور کپاس کی درآمد دیگر جگہوں سے کی جاسکتی ہو تو کشمیریوں کی قربانی کو ان کی بھینٹ چڑھانا انتہائی افسوس ناک ہوگا۔ امرواقعہ تو یہ ہے کہ پاکستان کو دیگر مواقع سے استفادہ کرتے ہوئے بھارت سے ادویات کی درآمد بھی روک دینی چاہیے۔ اپنی کشمیر ڈپلومیسی کو مزید مستحکم کرنا چاہیے اور نامناسب وقت پر یک طرفہ لچک میں مبتلا ہونے سے گریز کرنا چاہیے۔
انسانی حقوق کے لیے سرگرم معروف عالمی تنظیم ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘(A1) نے حال ہی میں جاری اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے:’’جموں و کشمیر میں پچھلے دو برسوں یعنی اپریل ۲۰۲۰ءسے مارچ ۲۰۲۲ءتک پولیس مقابلوں میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اگست ۲۰۱۹ء کے بعد سے ا ب تک شہریوں کی ہلاکتوں میں ۲۰ فی صد کا اضافہ ہوا ہے‘‘۔ رپورٹ کے مطابق: ’’مقامی قوانین کی منسوخی کے نتیجے میں سات اداروں بشمول انسانی حقوق کمیشن کو تحلیل کر دیا گیا، جس سے خطے کے لوگوں کے لیے انصاف کا حصول مشکل تر ہو گیا ہے‘‘۔ اس تنظیم کے مطابق: ’’خطے کے ہائی کورٹ میں اس وقت ایک ہزار۳سو۴۶ حبس بے جا مقدمات التواء میں ہیں۔ مجموعی طور پر حبس بے جا کی درخواستو ں میں پچھلے تین برسوں میں ۳۲ فی صد کا اضافہ ہوا ہے۔ عدالت نے جن ۵۸۵ درخواستوں کی سماعت شروع کی ہے، ان میں اب تک صرف ۱۴ درخواستیں ہی نمٹائی گئی ہیں‘‘۔
رپورٹ نے ۶۰ ایسے واقعات کی تفصیلات درج کی ہیں، جن میں صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو یا تو پوچھ گچھ کے لیے بلایا گیا یا پھر حراست میں لیا گیا۔ اس کے علاوہ متعدد نیوز میڈیا اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر مالی بے ضابطگیوں کے الزامات لگا کر قومی تحقیقاتی ایجنسی اور محکمۂ انکم ٹیکس کی طرف سے مسلسل چھاپوں اور تحقیقات کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہراساں کیے جانے اور ڈرانے دھمکانے کی وجہ سے بہت سے صحافی یا تو اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں یا پیشہ ہی چھوڑ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ صحافیوں، وکلا، سیاست دانوں، انسانی حقوق کے کارکنان، اور تاجروں سمیت ۴۵۰ سے زائد افراد کو بغیر کسی عدالتی حکم کے ’نو فلائی لسٹ‘ میں رکھا گیا‘‘۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بتایا ہے: ’’۵؍ اگست ۲۰۱۹ء سے ۵؍ اگست۲۰۲۲ء کے درمیان صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور ماہرین تعلیم سمیت کم از کم چھ افراد کو بغیر کسی وجہ کے بیرون ملک سفر کرنے سے روک دیا گیا‘‘۔ انسانی حقوق کے ایک محافظ نے جسے بیرون ملک پرواز کرنے سے روک دیا گیا تھا ایمنسٹی انٹرنیشنل کو بتایا:’’ سفری پابندیاں جبر کے انداز کا ایک اور پہلو ہیں۔یہ ایک ایسا حربہ ہے جس کو حکام نے ملک کے اندر اور باہر آزاد، تنقیدی آوازوں کو دبانے کے لیے استعمال کیا ہے‘‘۔
پچھلے تین برسوں میں بھارتی حکومت نے۱۶۴ مقامی قوانین منسوخ کیے اور ۲۴۳ مرکزی قوانین کی اس خطے تک توسیع کی، مگر بد نامِ زمانہ مقامی قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کو برقرار رکھا۔ اس کے علاوہ ’آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ‘ جو فوجی اہل کاروں یا نیم فوجی تنظیم کے اہل کاروں کو کسی بھی شخص کو مکمل استثنیٰ کے ساتھ گولی مارنے یا قتل کرنے کا اختیار دیتا ہے،مضبوطی سے نافذ ہے۔ ’نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو‘ (NCRB) کے اعداد و شمارکے مطابق جموں و کشمیر میں انسداد دہشت گردی قانون (UAPA) کے استعمال میں ۱۲ فی صد اضافہ ہوا ہے۔ اس قانون کے تحت حکام کسی بھی فرد کو بغیر چارچ شیٹ دیئے، ۱۸۰ دن تک حراست میں رکھ سکتے ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے شکایت کی ہے کہ ’’بھارت میں اس کے لیے برسرِزمین کام کرنے کی صلاحیت کو محدود کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ اس کے دفاتر پر یلغار کرکے اس تنظیم کے خلاف منی لانڈرنگ کی روک تھام ایکٹ ۲۰۰۲ء، فارن ایکسچینج مینجمنٹ ایکٹ ۱۹۹۹ء اور فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ایکٹ۲۰۱۰ء اور دیگر قوانین کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ستمبر۲۰۲۰ء میں، بھارتی حکام کی جانب سے تنظیم کے خلاف مسلسل مہم جوئی کے بعد، ایمنسٹی انٹرنیشنل کو بھارت میں اپنا دفتر بند کرنے پر مجبور کیا گیا،اور بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اس کے تمام بنک اکاؤنٹس منجمد کردیے گئے۔ اس رپورٹ میں ایمنسٹی نے بتایا:’’برسرِزمین کام کرنے کی اجازت نہ دینے کی وجہ سے اس رپورٹ کو تیار کرنے کے لیے مختلف افراد سے انٹرویو کا سہارا لینا پڑا۔ انٹرویو دینے والوں نے تنظیم کو بتایا کہ ان کے نام ظاہر ہونے کی صورت میں ان کو اور ان کے رشتہ داروں کو انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کئی صحافیوں نے ایمنسٹی کے اہل کاروں سے بات کرنے سے ہی انکار کردیا‘‘۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ۲۲؍ اگست ۲۰۲۲ء کو بھارتی حکومت کو اس صورت حال کے حوالے سے خط لکھا ، مگر رپورٹ کی اشاعت تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
رپورٹ میں جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، ۵؍ اگست ۲۰۱۹ء سے جموں و کشمیر میں کم از کم ۲۷ صحافیوں کو بھارتی حکام نے گرفتار اور نظر بند کیا ہے۔پریس کونسل آف انڈیا (PCI) نے اپنی ’فیکٹس فائنڈنگ رپورٹ‘ میں بتایا ہے کہ ۲۰۱۶ء سے اب تک اس خطے میں کم از کم ۴۹صحافیوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں سے آٹھ کو غیر قانونی سرگرمیوں کی (روک تھام) ایکٹ (UAPA) کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ اسی طرح حکومتی یا آر ایس ایس میڈیا نے گیارہ صحافیوں کو کٹہرے میں کھڑا کرکے انھیں حکومت سے جواب دہی کا مطالبہ کرنے پر ’ریاست مخالف بیانیہ‘ بتایا اور ا ن پر الزام لگایا کہ ان کو پاکستان کی سرپرستی حاصل ہے۔
جولائی ۲۰۲۰ء میں، سیکورٹی اہل کاروں نے کشمیر کے ضلع شوپیاں میں تین افراد کو ’دہشت گرد‘ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے ہلاک کیا۔ تین افراد نے گمشدگی کی شکایت درج کرائی۔ انکوائری کے نتیجے میں طے پایا کہ مسلح افواج کے ارکان نے اختیارات سے تجاوز کیا تھا، مگر ان فوجیوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مقدمہ چلاناکسی کے بس میں نہیں ہے۔ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مبینہ مجرموں، خاص طور پر حراستی تشدد اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کے ملزمان کو قانونی چارہ جوئی اور جواب دہی سے بچانے کے لیے سکیورٹی اہل کاروں کے ٍمقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جاتے ہیں۔
ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ اگست ۲۰۱۹ء تک، جموں و کشمیر کا اپنا ریاستی انسانی حقوق کمیشن تھا جس کو ختم کر دیا گیا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل سے بات کرتے ہوئے، ریاستی انسانی حقوق کمیشن کے سابق سربراہ جسٹس بلال نازکی نے کہا: ’’جس وقت اس ادارے کو تحلیل کیا گیا، اس وقت اس میں ۸ہزار سے زیادہ زیر التوا مقدمات تھے‘‘۔دوسری طرف بھارتی سپریم کورٹ نے آرٹیکل۳۷۰ کی منسوخی کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی تین برسوں سے سماعت نہیں کی۔ ایک وکیل نے تنظیم کو بتایا کہ ’’عدالتیں مناسب وجوہ بتائے بغیر مقدمات کی سماعت میں تاخیر کرتی ہیں۔اس خطے میں، جموں و کشمیر رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ موجود تھا جس کی جگہ نیشنل رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ، نے لے لی۔ مگر مرکزی حق اطلاعات ایکٹ کو برسوں کے دوران مسلسل کمزور کیا گیا ہے ‘‘۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ’’وہ انتظامی حراست اور دیگر جابرانہ قوانین کے تحت من مانی طور پر حراست میں لیے گئے افراد کو فوری طور پر رہا کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ ان کے خلاف باقاعدہ عدالت میں فوری اور منصفانہ مقدمہ چلایا جائے۔ اس کے علاوہ حکومت کو فیصلہ سازی کے عمل میں جموں و کشمیر کے لوگوں کی نمایندگی اور شرکت بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کرنے چاہییں۔ غیر قانونی نگرانی کے اقدامات، من مانی حراست، اور آزادیٔ اظہار پر پابندیاں لگانے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے اقدامات کو چھپانے کی حکومت کی کوششیںجموں و کشمیر میں انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے‘‘۔
گذشتہ چند ماہ کے دوران پاکستان سے تعلق رکھنے والے ’غیر ریاستی عناصر‘ کی جانب سے مقبوضہ فلسطین (اسرائیل) جانے آنے کی اُوپر تلے اطلاعات، بے معنی قرار نہیں دی جا سکتیں۔ مشرق وسطیٰ کی سیاست میں تیزی دیکھنے میں آرہی ہے۔ اگر مختلف ممالک کے ’ریاستی عناصر‘ متحرک ہوچکے ہیں، تو دوسری طرف ’غیر ریاستی عناصر‘ بھی میدان میں اتارے جا چکے ہیں۔
ماضی میں ’غیر ریاستی عناصر‘ (نان اسٹیٹ ایکٹرز)کی اصطلاح صرف مسلح جنگجوؤں کے لیے استعمال ہوتی تھی جنھیں جنگی نوعیت کی ’پراکسیز‘ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اب ان کی جگہ ’غیر جنگی پراکسیز‘ کے لیے غیر مسلح ’غیر ریاستی عناصر‘ کو متحرک کیے جانے کا رجحان غالب آ رہا ہے۔ یقیناً یہ ’غیر ریاستی عناصر‘ بعض ریاستوں کے لیے وہ کام کر دکھاتے ہیں جو ریاستیں خود کریں تو انھیں کئی طرح کے رد عمل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس پس منظر میں کافی زیادہ تعداد میں انسانی وسائل اور افرادی قوت کے علاوہ غیر حکومتی تنظیموں (NGO's)کی دستیابی ممکن ہو گئی ہے۔
مشرق وسطیٰ کے حوالے سے سرگرم ہونے والے یہ ’غیر ریاستی عناصر‘ کون ہیں؟ انھیں کون متحرک کرتا ہے؟ اس بارے میں ذکر ذرا بعد میں کرتے ہیں۔ پہلے اس غیر معمولی پیش رفت کا تذکرہ ضروری ہے جو مشرق وسطیٰ کے امن عمل کے پس منظر میں ۲۰ برس کے بعد سعودی عرب نے اَز سر نو بحال کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
سعودی عرب کے شاہ عبد اللہ بن عبدالعزیز [م:۲۳جنوری ۲۰۱۵ء] نے مشرق وسطیٰ میں ’امن‘ کی غرض سے ۲۰۰۲ء میں جو منصوبہ پیش کیا تھا، اس کی اہم ترین بات یہ ہے کہ اسے تمام عرب دنیا اور مسلم دنیا سمیت فلسطینیوں نے بھی اسی وقت تسلیم کیا تھا۔ جس کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ اس سے مشرق وسطیٰ سے تعلق نہ رکھنے والے عناصر کی مداخلت کا امکان کم کیا جاسکتا تھا۔
یہ کہنے میں کوئی باک نہیں ہے کہ امریکا اور اس کے ہم نوا دیگر یورپی ممالک ’نان مڈل ایسٹ ایکٹرز‘ (مشرق وسطیٰ سے تعلق نہ رکھنے والے عناصر) ہیں، بلکہ خود اسرائیل بھی ایسا ایک عنصر ہے، جس نے اس علاقے ہی کو نہیں، بلکہ پوری دُنیا کے امن کو دائو پر لگارکھا ہے۔ اس منظرنامے میں اسرائیل ایک اجنبی کاشت شدہ پودا ہے۔ اسے یورپی ممالک کی تلچھٹ بھی کہا جا سکتا ہے۔ اسرائیلی قبضے کو یقینی بنانے کے لیے یہودی تنظیمیں، جنھیں آج کی اصطلاحات میں ’دہشت گرد‘ سے کم قرار نہیں دیا جا سکتا، ان سے لے کر ناجائز قابض اسرائیلی ریاست کے حکمران بننے والے ابتدائی برسوں کے تقریباً سارے لوگ نہ صرف دہشت گرد یہودی تنظیموں کے عہدے دار تھے بلکہ سارے مشرق وسطیٰ کے لیے اجنبی بھی تھے۔
اسرائیل کی موجودہ آبادی میں ایک بڑی تعداد انھی یہودیوں پر مبنی ہے، جن کا آبائی علاقہ تو کوئی اور ہے، مگر قابض اسرائیلی اتھارٹی نے انھیں محض اس لیے لا کر فلسطین کی زمین میں بسا دیا کہ فلسطینی آبادی کا تناسب تبدیل کر سکے۔ نہ صرف یہ بلکہ فلسطینیوں کی شناخت بھی بدل سکے۔ رہی بات امریکا اور یورپی ممالک کی، تو وہ بھی اسرائیلی یہودیوں کی طرح ہی ’نان مڈل ایسٹ ایکٹرز‘ ہیں۔ اس منظر نامے میں سعودی مملکت کا پیش کردہ ۲۰۰۲ء کا عرب امن منصوبہ ایک بہتر راستہ تلاش کرنے کی طرف لے جاسکتا ہے۔
مذکورہ سعودی امن فارمولے پر ’نان مڈل ایسٹ ایکٹرز‘ کے علاوہ دوسرے تقریباً سبھی متعلقہ حلقوں کا کسی نہ کسی درجے میں اتفاق ہے، حتیٰ کہ ’اسلامی تعاون تنظیم‘ (OIC)کے رکن ممالک کا بھی اس پر اتفاق ہے۔ صرف امریکا، یورپ اور اسرائیل کا اس پر اتفاق نہیں تھا، اس لیے امریکا نے اپنا منصوبہ پیش کیا، جسے آج ’معاہدہ ابراہم‘ کا نام دیا جاتا ہے۔
اگر کوئی یہ سوال کرتا ہے کہ کیا وجہ ہوئی کہ امریکا نے سعودی عرب کا پیش کردہ ایک قسم کا امن منصوبہ اختیار کرنے یا اس کو آگے بڑھانے کے بجائے اپنا فارمولا پیش کر دیا، تو فطری سی بات ہے، اسے مشرق وسطیٰ کے بارے میں امریکی عزائم اور اسرائیل نوازی کے علاوہ کچھ نہیں کہا جاسکے گا۔
اس کی ایک وجہ اس سے پہلے امریکی نگرانی میں ہونے والے ’کیمپ ڈیوڈ‘ اور ’اوسلو معاہدے‘ بھی ہیں کہ دونوں میں پیش نظر مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل یا مشرق وسطیٰ میں پائے دار امن ہرگز نہ تھا بلکہ اسرائیل کا بچاؤ اور تحفظ تھا اور اسرائیلی بالادستی قائم کرنا تھی۔
دوسری جانب مشرق وسطیٰ سے تعلق نہ رکھنے والے عناصر کی سرگرمیاں دیکھ کر ہر ذی شعور کا ماتھا ضرور ٹھنکتا ہے۔سعودی عرب اور خطے کے دیگر ممالک سے بہتر کون جان سکتا ہے کہ فلسطینی عوام کو ان کے حقوق سے محروم رکھ کر اور ناراض کر کے خطے میں امن کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ جسے امریکا اور اسرائیل ’نارملائزیشن‘ کا نام دے رہے ہیں، اس سے کوئی بڑا تنازع اس خطے کے لیے جنم لے سکتا ہے۔
خطے کے ممالک کی غالب آبادی بشمول فلسطینی، جنھوں نے ۷۵ برس مشکلات ومصائب دیکھے ہیں، وہ بھی نارمل زندگی کی طرف آنے کا راستہ دیکھتے ہیں، جسے امریکی پشت پناہ نسل پرست صہیونیت حکومت باربار برباد کردیتی ہے۔ بلاشبہہ نارملائزیشن کی اگر کسی کے لیے ضرورت ہے تو وہ فلسطینی عوام ہیں، جنھیں ان کی سرزمین پر معمول کی زندگی کا حق ملنا چاہیے۔
صرف عربوں کو نہیں بلکہ پوری دُنیا کے دیگر ممالک کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ فلسطینی اگر مضطرب اور پریشان ہیں تو اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ میں اضطرابی ماحول کو جنم دیں گے۔ دُنیا بھر کے نقشے پر اسرائیل ایک ’ابنارمل‘ شناخت کا غاصب ملک ہے۔ اس کی آبادی کا بڑا حصہ غیرفطری طریقے سے جبری طور پر آباد کیا گیا ہے، جس سے نارملائزیشن کا مطالبہ تعجب انگیز ہے۔
اس دوران الجزائر نے بھی فلسطینی تنظیموں کو ایک میز پر بٹھانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اکتوبر کے شروع میں ایک بار پھر فلسطینی باہمی اختلاف کے خاتمے کے لیے بیٹھیں گے۔
پھر دلچسپ یا حیران کن پیش رفت اور بھی منظر عام پر آئی ہے، جس میں پاکستان اور انڈونیشیا کا ذکر ہے اور اس اطلاع یا پیش رفت کا انکشاف اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ نے کیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اسرائیل کے حوالے سے جن امور، واقعات یا اقدامات کا تعلق پاکستان کے حوالے سے ہوتا ہے، وہ خبریں عام طور پر غیر ملکی میڈیا میں پہلے آتی ہیں۔ بعدازاں پاکستان کا الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا ان خبروں کی جگالی کرتا ہے۔
پاکستان کا دفتر خارجہ اور حکومت ہمیشہ اس کی گول مول سی روایتی تردید کرتے نظر آتے ہیں، ایک رٹی رٹائی طوطا کہانی کی طرح۔ جس پر اعتبار کریں تو نقصان، نہ کریں تو نقصان۔ اگرچہ حقائق بتاتے ہیں کہ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری بھی اسرائیلیوں سے ملاقاتوں کا فیض پا چکے ہیں۔
یروشلم پوسٹ کا انکشاف انڈونیشیا اور پاکستان کے شہریوں کے وفود کے حوالے سے ہے، جنھوں نے ستمبر ۲۰۲۲ء میں اسرائیل کا دورہ کیا۔ انڈونیشیا اور پاکستان میں کئی شعبوں میں مماثلت ہے اور کئی باتیں مختلف ہیں۔ دونوں مسلم آبادی کے اعتبار سے پہلے اور دوسرے نمبر پر ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔ پھر جکارتہ اور اسلام آباد، سعودی عرب کے علاوہ امریکا کے بھی بہت قریب ہیں۔ دونوں کے ہاں اپنے اپنے معاشی و دیگر مسائل رہتے ہیں۔ دونوں کے عوام سڑکوں پر قبلہ اوّل سے محبت کا اظہار فلک شگاف نعرے لگا کر کرتے ہیں۔
اس لیے ان دونوں کے ’وفود‘ کا ایک ہی وقت میں اسرائیل میں موجود ہونا اہم ہے۔ انڈونیشیا اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں کس حد تک جا سکتا ہے؟ اس سوال سے زیادہ اہم پاکستان کا معاملہ ہے کہ اسرائیل کے بارے میں پاکستان اور اس کے رہنے والوں کی سوچ کئی پہلوؤں سے اہم تر ہے۔ اور یہ ایک جوہری مسلم ملک بھی ہے۔ کیا یہ بھی فلسطینیوں کے لیے ’بروٹس‘ بننے جا رہا ہے؟
بار بار پاکستان سے تعلق رکھنے والے غیر ریاستی عناصر کے اسرائیل جانے آنے کی اطلاعات اور نت نئی باتیں اس معاملے میں مسلسل بے معنی قرار نہیں دی جا سکتیں۔
جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا محمد اجمل قادری صاحب سے لے کر میڈیا سے تعلق رکھنے والے احمد قریشی اور اب مشرف دور کے کرکٹ بورڈ کے سربراہ اور نائب وزیر کے عہدے پر فائز رہنے والے نسیم اشرف کے ایک بڑے وفد کے ساتھ اسرائیل جانے کی خبر اہم ہے۔ افراد کے علاوہ ’بین المذاہب مکالمے‘ اور ’بین المذاہب ہم آہنگی‘ جیسے فورم بھی مشرق وسطیٰ کے مستقبل کے لیے غیر ریاستی عناصر کے طور پر کُود چکے ہیں۔
حیرانی کی بات یہ ہے کہ ان سب کی کوششوں کا انتساب امریکا سے شروع ہو کر اسرائیل پر ختم ہوتا ہے۔ قابل غور پہلو یہ ہے کہ یہ سب براستہ امریکا ہی کیوں اسرائیل پہنچتے ہیں؟ اور پھر کیا وجہ ہے کہ پاکستانی شہری ہونے کے باوجود اسرائیل میں انھیں کبھی شک کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا؟ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ خود پاکستان کی حکومت، ریاست اور ادارے ان کے بارے میں کبھی تشویش میں مبتلا نظر نہیں آتے ہیں، اور نہ کسی شک و شبہے میں پڑتے ہیں۔ کبھی کسی سے بازپُرس کی گئی اور نہ ڈی بریفنگ کے عمل سے گزارا گیا۔
سچ پوچھیں تو بدلے ہوئے زمانے میں ’غیر ریاستی عناصر‘ (نان اسٹیٹ ایکٹرز)کی صورت میں یہ لوگ سفارتی رابطہ کاری اور برف پگھلانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ ان کے علاوہ دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح پاکستان کا میڈیا بھی ایک بڑے ’نان سٹیٹ ایکٹر‘ کے طور پر اپنا ہوش ربا کام کر رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے اہم ترین میڈیا ہاوسز پاکستانی عوام کے اعتقادات، نظریات، تصورات، رجحانات، معاملات اور مفادات سے الگ راستے پر چلنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ پاکستانی عوام بھی ان ’مین سٹریم‘ میڈیا ہاوسز کے خیالات اور معاملات کو اپنے سے دور سمجھنے لگے ہیں۔ یہ ابلاغی ادارے اور ان میں اہم قرار پانے والی کئی شخصیات سب غیر ریاستی عناصر کا رُوپ دھار چکے ہیں۔اس لیے یہ اسرائیل جائیں یا بھارت کے ساتھ ’بیک ڈور ڈپلومیسی‘ کی چھاؤں میں کردار ادا کریں۔ مقصد اور منزل ان کی ایک ہی ہے کہ جو کام حکومت اور اس کے ادارے نہ کر سکیں، اس کام کے لیے یہ لوگ دستیاب ہیں۔
یورپ میں سب سے زیادہ ہندو برطانیہ کے شہر لیسٹر میں مقیم ہیں۔ ۲۰۱۱ء کی مردم شماری کے مطابق ۳۲ء۴ فی صد عیسائی، ۱۸ء۶ فی صد مسلمان، ۱۵ء۲ فی صد ہندو، ۴ء۴ فی صد سکھ، لیسٹر میں رہتے ہیں۔ باقی دیگر مذاہب یا لامذہبیت سے وابستہ ہیں۔ سیاسی، معاشی اور تعلیمی لحاظ سے ہندو اس شہر میں کافی منظم اور متحرک ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لیسٹر سٹی کونسل کی بلدیہ کے منتخب اراکین میں ان کی تعداد اچھی خاصی ہے، اور اسی لحاظ سے کافی اثر و رسوخ بھی ہے۔ یورپ میں ہندوؤں کا سب سے بڑا مندر بھی لیسٹر میں ہے۔ جیساکہ بتایا گیا ہے، یہاں پر مسلمان بھی کافی ہیں، جن کا تعلق بھارتی صوبہ گجرات سے ہے۔ پھر پاکستانی، بنگلہ دیشی اور دیگر کمیونٹی کے باشندے بھی یہاں بستے ہیں، لیکن ان کی تعداد کم ہے۔ اس شہر میں اس سے قبل کبھی ہندو مسلم فسادات نہیں ہوئے تھے۔
جون ۲۰۲۲ء میں جب بھارت میں نبی اکرمؐ کی شان میں حکومتی شخصیت نوپور شرما نے گستاخانہ کلمات کہے تھے، تو فطری طور پر لیسٹر کے مسلمانوں میں بھی اضطراب پایا گیا۔ کچھ دردمند مسلمانوں نے سوچا کہ موقعے کی مناسبت سے انتہا پسند ہندوؤں کی منفی سرگرمیوں کو برطانوی معاشرے کے سامنے لایا جائے۔ عین انھی دنوں بھارت کے ایک بڑے عالمِ دین برطانیہ آئے ہوئے تھے۔ جو جگہ جگہ مساجد میں جا کر بھارتی مسلمانوں کو تلقین کر رہے تھے کہ وہ کوئی ایسی حرکت نہ کریں جن سے ہندو مسلم تعلقات خراب ہوں، کیونکہ اس کے اثرات بھارت میں رہنے والے مسلمانوں پر پڑتےہیں۔ نتیجتاً مسلمانوں نے انتہا پسند ہندوؤں کی ہرزہ سرائی کے خلاف کوئی ردعمل ظاہر نہ کیا۔
ستمبر۲۰۲۲ء کے دوران لیسٹر میں ہندو مسلم کشیدگی عروج پر رہی ہے۔ اگرچہ اس کشیدگی کی جڑیں تین ماہ گہری پائی جاتی ہیں، مگر پھر یہ بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ اسے کرکٹ میچ سے منسلک کر رہے ہیں، لیکن ممتاز محقق اور یونی ورسٹی میں استاد ریاض خاں کے مطابق: ’’اس تنائو کا آغاز تقریباً تین چار ماہ قبل ہو گیا تھا، جب انتہا پسند ہندوؤں کے ایک گروہ نے ایک مسلمان لڑکے کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا، مگر مقامی پولیس نے کوئی ایکشن نہیں لیا تھا‘‘۔
لیکن یہ کشیدگی اس وقت بہت بڑھ گی جب ۲۸؍ اگست کو دوبئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلے جانے والےمیچ میں پاکستان کو بھارتی ٹیم کے مقابلے میں شکست ہوئی۔ اس وقت بہت سے ہندوؤں نے جیت کی خوشی میں بھارتی جھنڈے لہراتے ہوئے ’پاکستان مُردہ باد‘ کے نعرے بلند کرنا شروع کر دیے تھے۔ اپنی ٹیم کی جیت پر خوشی میں نعرے بلند کرنے کی بات تو سمجھ آتی ہے۔ لیکن مخالف ٹیم کے خلاف نعرے بازی کا مقصد اشتعال دلانے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اس لیے پاکستان مخالف نعروں سے کشیدگی بہت زیادہ بڑھ گئی۔
اس سے پہلے بھی ایسا ہوتا رہا ہے کہ میچ کے شائقین اپنی ٹیم کے حق میں نعرے بلند کرتے ہیں، لیکن مخالفانہ نعروں سے گریز کیا جاتا ہے۔ لیکن اس دفعہ پاکستان مخالف نعروں کے ردِ عمل میں پاکستانیوں کے ایک گروپ نے بھی ہندوؤں کے علاقے میں ایک مظاہرہ کیا اور پاکستان کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرے بازی کی۔ چونکہ پولیس بڑی تعداد میں موجود تھی، اس لیے حالات کنٹرول میں رہے۔ مگر حالات اس وقت زیادہ شدت اختیار کر گئے، جب ۱۷ ستمبر کو۳۰۰ ہندوانتہاپسندوں پر مشتمل ایک منظم جلوس مختلف راستوں کے چکر لگاتا ہوا، مسلمانوں کے علاقے گرین لین روڈ پر آگیا۔ ان مشتعل نوجوانوں نے اپنے چہرے ڈھانپے ہوئے تھے، اور یہ ’جے شری رام‘ کے نعرے لگاتے ہوئے مسلمانوں کی دکانوں کے سامنے سے گزر رہے تھے، اور مسلمانوں کو اشتعال دلا رہے تھے۔ ان مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لیے پولیس بلائی گئی۔
اگلے روز ہندوؤں نے دوبارہ ایک مظاہرہ بلگریوو روڈ پر کیا، اس کی اطلاع پولیس کو نہیں تھی، مگر جب پولیس وہاں پہنچی تو مظاہرین نے ان پر بوتلیں پھینکیں۔ ان مظاہروں میں پولیس کے ۲۵ آفیسر اور پولیس کا ایک کتا بھی زخمی ہوا۔ پولیس نے اس ہنگامہ آرائی کے جرم میں ۴۷؍ افراد کو حراست میں لے لیا۔ تب انکشاف ہوا کہ ان میں نصف سے زیادہ تعداد دوسرے شہروں سے آئے ہوئے انتہا پسندوں کی ہے۔ عام لوگوں کا خیال ہے کہ برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنے والے نسل پرست بھارتی طلبہ جو آر ایس ایس سے منسلک ہیں، وہی ان مظاہروں میں پیش پیش ہیں۔ یہ مختلف شہروں سے لیسٹر پہنچے تھے اور منظم ہو کر مسلمانوں کو ہراساں کررہے تھے۔ گرین لین روڈ کے مکینوں کا کہنا ہے کہ ’’لوگ خوف زدہ ہیں، کیونکہ جب انتہا پسند گزر رہے تھے تو وہ مسلمانوں کو اشتعال دلا رہے تھے، جس کے نتیجے میں اکثر لوگوں نے گھروں کی روشنیاں بند کیں اور پردے وغیرہ گرا دئیے تھے‘‘۔
ممتاز امریکی صحافی سلیل ترپاٹھی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’’جن لوگوں نے اپنے چہرے ڈھانپ کر مسلمانوں کی دکانوں پر ’جے شری رام‘ کے نعرے لگائے۔ وہ بھارتی نسل پرست سیاست کو برطانیہ لانے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔ انھوں نے کہا کہ ’’برطانوی سیاست دانوں کو حالات کی نزاکت کا احساس نہیں۔ حکومت کو آر ایس ایس جیسے سخت گیر نظریات کو پروان چڑھنے سے روکنا چاہیے‘‘۔ بی بی سی کی نامہ نگار گگن سبروال کا کہنا ہے کہ ’’لیسٹر کے ہندوؤں کی اکثریت امن پسند تھی، لیکن کچھ عرصے سے مغربی انڈیا کے جزیرے دمن اور دیپ سے نقل مکانی کر کے برطانیہ آنے والے ہندو جو نظریاتی طور پر آر ایس ایس سے وابستہ ہیں، انھوں نے برطانیہ میں بھی انتہاپسندی شروع کر دی ہے‘‘۔
اس سے قطع نظر یہ حقیقت ہے کہ کچھ عرصے سے ہندو انتہا پسند کافی متحرک ہوگئے ہیں۔ ۱۵؍ اگست بھارت کا یومِ آزادی ہے۔ کشمیری اور سکھ اسے ہر سال یومِ سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔ کشمیری اور سکھ اس روز بھارتی ہائی کمشنر اور کونصلیٹ کے سامنے مظاہرہ کرتے ہیں۔ لیکن اس سال ۱۵؍ اگست کو جب برمنگھم میں کشمیریوں اور سکھوں نے اس طرح کا مظاہرہ کیا تو اسے منتشر کرنے کے لیے کچھ ہندو انتہا پسند بھی آگے تھے،جنھیں سکھوں نے آڑے ہاتھوں لیا اور بھاگنے پر مجبور کیا۔
بظاہر یہ ایک برطانوی شہر میں رُونما ہونے والا بدنما اور افسوس ناک واقعہ ہے، لیکن اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ برہمنیت کے علَم بردار اور ’ہندوتوا‘ کے فسطائیت نواز طائفے نے اب یورپ و مغرب کو اپنی نئی چراگاہ بنانے کے لیے قدم اُٹھایا ہے۔ اگر یہاں کے حکام نے اس کا بروقت تدارک نہیں کیا تو یہ چیز یہاں کی عام شہری زندگی کے لیے ایک مستقل کینسر بن جائے گی۔ اس فسطائیت کے جواب میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ جوابی کارروائی کرنے اور سڑکوں پر فیصلہ کرنے کے بجائے یہاں کے قانون کو حرکت میں آنے دیں، اور اپنی جانب سے کوئی منفی قدم نہ اُٹھائیں۔
مولانا غلام رسول مہر [۱۳؍اپریل ۱۸۹۳ء- پھول پور، جالندھر- ۱۶نومبر ۱۹۷۱ء،لاہور] برصغیر میں اُردو صحافت اور تاریخ کا بڑا قابلِ احترام نام ہیں۔ آپ انقلاب [اجراء: ۱۹۲۷ء] کے ایڈیٹر رہے اور متعدد کتب تصنیف کیں، جن میں سیرت امام ابن تیمیہ ، سیّد احمد شہید، سرگزشت مجاہدین، جماعت مجاہدین شامل ہیں۔ مولانا مہر اور عبدالمجید سالک [۱۲ستمبر ۱۸۹۴ء، بٹالہ - ۲۷ستمبر ۱۹۵۹ء، لاہور] کی رفاقت کو برصغیر کی صحافتی و ادبی تاریخ میں ایک انفرادیت و بلند مقام حاصل ہے۔ زیر نظر وہ مضمون ہے، جو انھوں نے لکھا، مگر اشاعت کی غرض سے نہیں بھیجا۔ اب بھی ہم اسے کسی بحث کے لیے نہیں، بلکہ تاریخ کے ایک مرحلے کی نشانی کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ یہاں پر مولانا مہرمرحوم کا مدیر رسالہ الاعتصام جناب محمد اسحاق بھٹی [۱۵ مارچ ۱۹۲۵ء، کوٹ کپورا، فریدکوٹ، ۲۲دسمبر۲۰۱۵ء، لاہور]کے نام خط اور مضمون دیئے جا رہے ہیں:
مسلم ٹاؤن، لاہور
۱۷ جون ۱۹۵۵ء
باسمہٖ سبحانہ
مکرمی!
میں نے بڑے تامل کے بعد چند سطریں آج لکھوائی ہیں ۔ دو تین ہفتے سے میں مضطرب تھا ۔ ان سطور کا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ آپ انھیں اخبار میں چھاپیں، یا ان کا جواب دیں اور اس طرح بحث کا ایک نیا دروازہ کھلے۔ اہلِ علم کو انتہائی ضبط و تحمل سے کام لینا چاہیے۔ اعتراضات کی دوقسمیں ہیں: اول وہ اعتراضات جو قلتِ علم پر مبنی ہوں۔ ان کے جواب کے لیے ہر شخص کو تفہیمی انداز اختیار کرنا چاہیے۔ دوسرے وہ اعتراضات، جو اہل بغی وضلالت کی طرف سے پیش ہوں۔ان کے بارے میں دوصورتیں ہو سکتی ہیں: اوّل اعتراض کے علمی پہلو کی توضیح،دوم شخصی نکتہ چینیاں یا استہزا۔ علمی پہلو کی توضیح علمی رنگ میں ضرور ہونی چاہیے،استہزا کو بہر حال نظر انداز کیا جائے گا۔
ہمارا موقف بڑا ہی کٹھن اور حد درجہ پریشان کن ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر سمت سے فتنہ و فساد کے جھکڑ چل رہے ہیں اور ہمارے پاس ہدایت کا جو چراغ ہے، اس کی لَو کو ان جھکڑوں سے محفوظ رکھے بغیر چارہ نہیں۔ اگر ہم خود بھی جھکڑ چلانا شروع کردیں تو ظاہر ہے ہمارا مقصد فوت ہو جائے گا۔
میں نہ آپ کی طرح پڑھا لکھا ہوں اور نہ آپ کی طرح مقامِ حدیث کی اندازہ شناسی کا شرف مجھے حاصل ہے، لیکن برسوں عوامی دائرے میں تبلیغی مقاصد کی خدمت سر انجام دیتا رہا ،اس بنا پر تھوڑا سا تجربہ حاصل ہو گیا۔ ممکن ہے وہ آپ کے نزدیک قابلِ اعتنا نہ ہو، لیکن میں نے مناسب سمجھا کہ وہ تجربہ آپ تک پہنچا دوں۔اسے میری جسارت فرض کر لیجیے۔ معافی خواہ ہوں کہ باوجود قلتِ علم،اہلِ علم کے مباحث میں مداخلت کی جرأت کی۔
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ
مولانا داؤد غزنوی [اگست ۱۸۹۵ء، امرتسر- ۱۶دسمبر ۱۹۶۳ء لاہور] اور مولانا عطاء اللہ [حنیف: ۱۹۰۹ء، بھوجیاں، امرتسر- ۲؍اکتوبر ۱۹۸۷ء ، لاہور]کی خدمت میں سلام پہنچائیے۔ اگر مولانا [محمد] اسماعیل [سلفی: ۱۸۹۵ء،ڈھونیکی، وزیرآباد- ۲فروری ۱۹۶۸ء، گوجرانوالہ] سے ملاقات ہو تو ان کی خدمت میں بھی سلام عرض کیجیے ۔ میں ان سے ملنے کا آرزو مند ہوں، لیکن ریحی اوجاع کی وجہ سے جسم اس آرزو کے لیے مساعد نہیں۔
نیاز مند
مولانا سیّد ابو الاعلیٰ مودودی اور مباحثِ حدیث
مکرمی!
مجھے ابتدا ہی میں کہہ دینا چاہیے کہ میں کسی درجے میں بھی علم کا دعوے دار نہیں۔ میری معلومات اور مطالعے کی فرومایگی کا یہ عالم ہے کہ اہلِ علم کی مجلس سے استفادے کی صلاحیت بھی بہت ہی محدود ہے۔ میری گزارشات ایک عامی کی گزارشات ہیں،آپ چاہیں تو انھیں ایک اَن پڑھ کی گزارشات سمجھ لیں،لیکن امید ہے آپ ان پر توجہ مبذول فرمائیں گے:
میں نے وہ مضامین پڑھے ہیں، جو آپ نے مباحث ِ حدیث کے سلسلے میں مولانا مودودی کے متعلق لکھے۔ آپ کی خدمت میں یہ عرض کرنے کی بھی ضرورت نہیں کہ مجھے مولانائے موصوف کی جماعت اسلامی سے نہ کبھی کوئی علاقہ رہا ہے، اور نہ ان کے تمام ارشادا ت سے مجھے اتفاق کی سعادت نصیب ہوئی ہے۔
مولانا [مودودی] نے جب واضح طور پر کہہ دیا کہ ’’جو الفاظ مجھ سے منسوب کیے گئے [ہیں] وہ میں نے نہیں کہے‘‘ تو پھرسمجھ میں نہ آیا کہ آپ نے اس بحث کو اس درجہ طول دینے کی ضرورت کیوں محسوس فرمائی؟ گویا آج آپ کے لیے اس کے علاوہ کوئی [اور] مسئلہ ہے ہی نہیں، جس پر توجہ فرمائی جائے!
مولانا کے محولہ بالا الفاظ کا مطلب یہی تھا کہ آپ جس مقصد کے لیے مضطرب ہیں، مولانا کو اس سے قطعاً اختلاف نہیں، اگرچہ ان کے تصور کی حیثیت وہ نہ ہو جو آپ نے اپنے دماغ میں قائم کر رکھی ہے۔ پھر کیا آپ کا مدعا یہ ہے کہ مولانا ضرور ان الفاظ کوتسلیم کریں،اور اس طرح آپ کا مقصد بوجہ احسن پورا ہو جائے؟ آخر خدمتِ حدیث کی یہ کون سی صورت ہے، جو آپ نے اختیار فرما رکھی ہے؟
ذخیرۂ احادیث کے متعلق مولانائے موصوف نے بالعموم جو رائے ظاہر کی، وہ تو ایسی نہیں کہ اس سے کسی کو اختلاف کی گنجائش ہو، یعنی یہ تو کوئی بھی نہیں مانتا کہ جو کچھ بطور حدیث مختلف کتابوں میں جمع ہوچکا ہے، وہ سب کا سب درست ہے۔ اگر صحیح البخاری کے متعلق انھوں نے یہ کہا کہ اس کی تمام حدیثیں آنکھیں بند کرکے قبول کر لینے کا دعویٰ کسی نے نہیں کیا، تو اس کا مطلب یہی ہے کہ حدیثوں کے متعلق تحقیق و تفتیش اور چھان بین کا دروازہ جس طرح پہلے کھلا ہوا تھا، اُسی طرح اب بھی کُھلا ہوا ہے۔ اس پر اعتراض کی کون سی وجہ ہے؟
رہا آپ کا یہ ارشاد کہ ’’جب تک کوئی شخص علم کی وہ تمام منزلیں طے نہ کر جائے جو ان بزرگوں نے طے فرمائیں، اس وقت تک ان کے متعلق گفتگو نہیں کر سکتا‘‘ تو حضراتِ علم و آمرانِ فقہ بھی ہمیشہ یہی فرماتے رہے ہیں۔ یہ استدلال آپ کے نزدیک بہت وزن دار ہوگا، لیکن اس کا طبعی نتیجہ یہی ہو سکتا ہے کہ لوگ ذخیرۂ حدیث کے متعلق بد ظن ہو جائیں۔
آپ یقیناً مولانا [مودودی]سے پوچھ سکتے ہیں کہ کوئی حدیث، صحیحین یا کسی دوسری کتاب میں سے ایسی نکالیے، جسے اہلِ علم نے ناقابلِ قبول قرار دیا ہوتو اس کے متعلق آپ یقیناً گفتگو فرما سکتے ہیں۔ اس قسم کی بحثیں علمی حلقے کے لیے مفید اور سود مند ہوں گی، لیکن جو طریقِ بحث آپ نے اختیار فرمایا ہے، وہ تو مجھ ناچیز کے نزدیک مضر ہی ہے، سودمند قطعاً نہیں۔
جب ایک صاحب کہتے ہیں کہ میں نے فلاں بات نہیں کی، تو آپ کو کیا حق ہے کہ ان کے خلاف شہادتیں فراہم کرتے پھریں اور اصرار کریں کہ ضرور کہی۔ آپ کیوں یہ فرض نہیں کر سکتے کہ کہنے والے کا جو مدعا تھا ،آپ نے اسے غلط سمجھا یا پہلے سے آپ کے دل میں ایک بات بیٹھی ہوئی تھی اور آپ نے فاعل کے الفاظ کو اس کے سانچے میں ڈھال لیا؟ پھر جب مقصود احترامِ حدیث ہے تو وہ تو پورا ہو گیا۔ کیا آپ بحث و تمحیص سے اس مقصد کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں؟
میرے نزدیک مقاصد کے لیے کام کرنے کا صحیح طریقہ یہی ہے کہ جو اصحاب جس حد تک متفق ہوں، ان کے اتفاق کا خیر مقدم کیاجائے، اور جس حد تک انھیں اختلاف ہو، اس کے لیے تبلیغ و تعلیم کے ذریعے سے مناسب بندوبست فرمایا جائے۔ اس سلسلے میں حکمت سے کام لیا جا سکتا ہے، نیز ’موعظۂ حسنہ‘ سے اور اگر بحث کی ضرورت پیش آجائے، تو ا س کے لیے بھی ’احسن‘ طریق کی شرط معلوم ہے۔ آپ غور فرمائیں کہ آپ کے پُر زور مقالات یا طریقِ استدلال اس مقدس ترازو میں پورا اُترتا ہے؟
اب آپ نے ایک نیا طریقہ اختیار فرمایا ہے،یعنی یہ کہ حدیث کی چھان بین کے اصول دوحصوں میں منقسم ہیں: ایک وہ جو محدثین نے مقرر کیے،دوسرے وہ جو معتزلہ وغیرہ فرقِ ضالّہ کے وضع کردہ ہیں۔ گویا آپ صرف ان قاعدوں کے پابند ہیں، جو محدثین نے وضع کیے۔ فرقِ ضالّہ اگر کوئی چیز پیش کریں تو آپ یہ کہہ کر الگ ہو جائیں گے کہ ’ہم تو صرف محدثین کے اصول کے مطابق گفتگو کرسکتے ہیں‘۔ بھلا آپ سوچیں کہ اگر سب لوگ بطور خود محدثین کے اصول و قواعد کو بے چون و چرا تسلیم کر لیں، تو پھر آپ کا وظیفہ کیا رہ گیا؟ لطف یہ کہ ان قاعدو ں کی تعلیم و تبلیغ کے لیے بھی اب تک آپ نے کچھ نہیں کیا۔
بھائی،آپ نے جو طریقہ اختیار فرمایا ہے، یہ خدمتِ حدیث کے لیے نہ صرف غیر موزوں بلکہ سراسر مضر ہے۔ آپ اس دور میں بیٹھے ہیں، جس میں لوگ حدیث کے مقام و مرتبے سے بھی آگاہ نہیں اور مخالفین نہایت نامناسب تدبیروں سے عوام کو بد ظن کررہے ہیں۔ آپ کی حالت یہ ہے کہ جو لوگ ۶۰ فی صد، ۷۰ فی صد، ۹۰فی صد آپ سے متفق ہیں، ان کو بھی آپ برگشتہ کیے بغیر چین نہ لیں گے، یا کم از کم ایسی کیفیت ضرور پیدا کردیں گے کہ وہ متفقہ علیہ مقاصد میں بھی آپ سے مل کر کام نہ کر سکیں۔ازراہِ لطف و کرم معاملے کے اس پہلو پر ٹھنڈے دل سے غور فرمائیے اور وہ طریقہ اختیار کیجیے جو پیشِ نظر مقاصد کے لیے زیادہ سے زیادہ مفید ہو۔
آپ حدیث کی چھان بین کے لیے اصول کو دو حصوں میں کیوں بانٹتے ہیں؟
کیوں یہ نہیں کہتے کہ کسی شے کی صحت و عدم صحت کی جانچ کے لیے آج تک انسان نے جو اصول وضع کیے اور جن پر اہلِ علم کا اتفاق ہے، وہ تمام اصول پیش نظر رکھ کر حدیثوں کی صحت و عدم صحت کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ فرقِ ضالّہ کے اصول اگر پختہ و پائے دار ہیں تو آپ کیوں انھیں قبول نہ کریں؟ وہ نا پختہ ہیں تو ان کی تردید کیجیے،محض درایت پر ذرا زیادہ زور دے دینے سے کوئی چیز باطل نہیں ہو جاتی۔ درایت کی بھی حدود و قیود ہیں۔ آپ کیوں درایت سے گھبراتے ہیں؟ مجھے تو کبھی کسی چیز کے متعلق تشویش نہیں ہوئی۔
اگر ہمارا یقین ہے کہ جو کچھ ہمارے پاس ہے وہ روشنی اور نور ہے، تو اندھیرا کسی بھی شکل میں ہمارے سامنے آئے، ہم اس سے کیوں پریشان ہوں؟اگر خدانخواستہ ہماری روشنی ایک خاص شیشے اور عینک کے بغیر نظر نہیں آسکتی، تو بھائی ! یقین رکھیے کہ ہم اس روشنی کو کسی بھی گروہ تک پہنچا نہیں سکتے۔ وہ مدھم ہوتے ہوتے خود ہی ختم ہو جائے گی۔ خدا نہ کرے کہ مآخذ دین میں سے حدیث جیسے اہم مآخذ کے متعلق کسی مسلمان کا یہ عقیدہ ہو۔اگر ہم فتنہ انکار ِ حدیث کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو اس سلسلے میں حدیث کو چھوئی موئی بنالینے سے تو گزارا نہ ہوگا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ گزارشات آپ کو کسی قدر تلخ معلوم ہوں، لیکن اُمید ہے کہ ان پر غور فرمانے کی زحمت آپ ضرور گوارا کرلیں گے۔
ریاستہائے متحدہ امریکا میں اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ اگرچہ کئی صدیوں پر محیط ہے، مگر مسلمانوں کے اثرات اوران کے قابل ذکر اداروں کا قیام پچھلے پانچ عشروں میں ہی عمل میں آیا ہے ۔کسی بھی ایسے ملک کی طرح جہاں مسلمان ایک مختصر اقلیت میں ہیں ، امریکا میں رہنے والے مسلمانوں نے ایک طویل اور صبر آ زما جدوجہد کے بعد ایک اجنبی معاشرے میں یہ مقام حاصل کیا ہے۔ امریکا میں مسلمان کُل آ بادی کا ۲سے ۴ فی صد حصہ ہیں۔
میرے والد محترم ۱۹۶۵ء میں پہلی مرتبہ امریکا آ ئے تھے،اور وہ بتاتے تھے کہ اس زمانے میں مساجد نہ صرف ناپید تھیں بلکہ حلال کھانے کی تلاش ایک بڑا مشکل مرحلہ ہوتا تھا۔ انھوں نے یہاں چھ مہینے تک قیام کے دوران بمشکل چند مساجد دیکھیں اور گنتی کے چند مسلمانوں سے واسطہ پڑا۔ اسلامک اسکول ، باحجاب خواتین اور حفظ کے مدارس کا تو تصور بھی محال تھا۔
۱۹۶۰ء اور ۱۹۷۰ء کے عشرے میں امریکا میں منظم، اسلامی سر گرمیوں کی داغ بیل ڈالی گئی ۔اس طرح جہاں برصغیر پاک و ہند سےتعلق رکھنے والوں نے ’اسلامک سرکل آف نارتھ امریکا‘ (ICNA) اور اس کی ذیلی تنظیموں کو اپنے اعتماد سے نوازا، وہاں مشرقِ وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے دُوراندیش مسلمانوں اور قائدین نے ’اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکا‘(ISNA)، ’مسلم امریکن سوسائٹی‘ (MAS)، ’کو نسل آف امریکن ریلیشن‘ ( CAIR) اور دیگر تنظیموں میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کی بقا اور دوام کے لیے منظم جدوجہد کا انتظام کیا۔
ایک اور انتہائی قابل توجہ پہلو یہ ہے کہ اس پورے دورمیں سیاہ فام امریکی مسلمانوں کی تنظیموں اور قائدین نے بھی دین کی اشاعت اور ترویج میں بھرپور حصہ لیا ۔ یہ حقیقت نہیں بھولنی چاہیے کہ سیاہ فام مسلم تنظیموں کی اپنی تاریخ ڈیڑھ سوسال سے زیادہ پرانی ہے۔ ملک شہباز میلکم ایکس جیسے لیڈروں کے نام نہ صرف امریکا کے سیاہ فام مسلمانوں کے لیے بلکہ تمام مسلمانوں کے لیے زندہ کردار ہیں اور سول رائٹس کی جدوجہد میں امریکا کی تاریخ کا اَنمٹ حصہ ہیں۔ انفرادی و سماجی مطالعات کے مشہور تحقیقاتی ادارے (PEW)کے مطابق سیاہ فام، امریکا کی آ بادی کا ۱۳ء۴ فی صد ہیں اور ان میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب اس کا پانچواں حصہ یا ۲۰ فی صد ہیں۔ سیاہ فام امریکی مسلمانوں کے بارے میں ایک رائے یہ ہے کہ ’’مختلف ممالک سے آنے والے مسلمانوں کی تحریکات کو سیاہ فام مسلمانوں کے اندر زیادہ نفوذ کرنا چاہیے تھا، اور ان کی اسلامی اور سماجی نشوونما اور اُٹھان کے لیے مزید اور ٹھوس اقدامات کیے جانے چاہیے تھے‘‘، جس سے اصولی طور پر کسی کو اختلاف نہیں۔ مگر اس کے ساتھ یہ بھی سراسر نا انصافی ہو گی کہ خود اُن سعادت مند انسانوں کی جدوجہد کو ہلکا بناکر پیش کیا جائے، کہ جنھوں نے پچھلے ۵۰برسوں میں امریکا میں جنوب مشرقی ایشیا اور مشرق وسطیٰ سے ہجرت کر کے اپنی پوری زندگی امریکا میں اسلام کی بقا اور ترویج کے لیے وقف کردی۔
ایسا ملک جہاں چند عشرے پہلے حلال کھانا ناپید، ٫ مسجدوں اور عبادت گاہوں کا تصور محال اور مسلمان نسلوں کی اسلامی تعلیمات کا کوئی انتظام نہ تھا۔ آ ج وہاں لگ بھگ ۲۸۰۰مساجد ، سیکڑوں اسلامک اسکول اور قرآن حفظ کرنے کے ادارے، قدم قدم پر حلال کھانے کے مراکز اور یہاں تک کہ اسلامی علوم حاصل کرنے کی یونی ورسٹیاں تک قائم ہیں۔ امریکی ایوانوں سے لے کر اعلیٰ تعلیمی اداروں اور یونی ورسٹیوں میں باحجاب خواتین کی موجودگی ، ’مسلم اسٹوڈنٹس ایسو سی ایشن‘ (MSA) اور ’ینگ مسلمز‘ (YM) سے وابستہ ہزاروں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں، ۶۰ ہزار سے زائد امریکی مسلمان ڈاکٹر ، ہزاروں آئی ٹی ماہرین ، وکلا، ججز اور ماہرین تعلیم نے، اپنی موجودگی اور دعوت سے عام امریکی معاشرے پر اپنے گہرے اثرات چھوڑ ے ہیں ۔
امریکا میں ہونے والے اسلامک کنونشن اسلامی تہذیب ، دینی علم کے فروغ، مسلم فیملی سسٹم کی مضبوطی اور دین سے وابستگی کا ایک مؤثر ذریعہ ہیں۔ گذشتہ برس اکنا کے سالانہ مرکزی کنونشن میں ۲۲ ہزار سے زائد افراد اپنے خاندانی یونٹوں کے ساتھ امریکا کے طول و عرض سے شریک ہوئے۔ اکنا کے کنونشن میں برصغیر سے تعلق رکھنے والے ، امریکی اور افریقی سیاہ فام ، وہائٹ امریکن ، مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے ، غرض کے ہر رنگ و نسل اور ہر عمر کے لوگ شریک ہوئے۔ کنونشن شرکا کے بقول جب ۱۵ سے ۲۰ ہزار مسلمان باجماعت نماز پڑھتے ہیں تو حرم میں مختلف رنگ و نسل کے لوگوں کا بہ یک وقت اللہ تعالیٰ کے حضور سر بہ سجود ہونے کا منظر تازہ ہوجاتا ہے کہ ان شرکا میں تمام رنگ و نسل کے لوگ شریک ہوتے ہیں۔
آ ج امریکا میں پیدا ہونے والے اور اسلام کی تعلیم حاصل کرنے والے چند نوجوان اسکالر مسلمانوں میں مقبول ترین اسکالر اور اسلام کے داعی سمجھے جاتے ہیں۔ اسی طرح اکنا اور دیگر اسلامی تحریکوں کے تحت چلنے والی سوشل ویلفیئر کی تنظیمیں امریکا کے مسلم اور غیر مسلم دونوں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی خدمت خلق کا فریضہ انجام دے رہی ہیں۔
امریکا کی کارفرما اسلامی تحریکوں کو غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ مقامی افراد کی دعوتِ دین کی جدوجہد میں شرکت کو وسعت دیں۔ واضح رہے کہ مقامی (indigenous) امریکیوں میں تین اہم اکائیاں شامل ہیں: پہلی غالب اکثریت سفیدفام امریکیوں کی ہے جو مجموعی آبادی کا ۷۶ فی صد ہے۔ دوسری بڑ ی آبادی سیاہ فام باشندوں کی ہے جو امریکا کی آ بادی کا ۱۳ء۴ فی صد ہیں۔ تیسرا بڑا حصہ ہسپانوی نژاد باشندوں پر مشتمل ہے، جو آبادی کا ٪۱۰ فی صد ہے۔
اسلامی تحریک سے وابستہ بالخصوص وہ افراد جو معاشرے میں موجود پسماندہ افراد کا درد رکھتے ہیں ، رول ماڈل بنیں۔ مقامی امریکیوں کی آبادیوں میں اسلامک سنٹر قائم کریں۔ سب سے بڑھ کر ان کی آ بادیوں میں میل جول بڑھائیں۔ ان پہلوئوں پر دردمندی سے نظر رکھنے والے بجا طور پر امریکا کی اسلامی تحریکوں کے لیے کچھ مفید مشورے دے سکتے ہیں۔ تاہم، اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی ضروری ہے کہ پچھلے پانچ عشروں میں ہونے والے غیرمعمولی کام کو معمولی یا کمزور بنا کر نہ پیش کیا جائے۔
اللّہ سبحانہٗ وتعالیٰ، امریکا میں رہنے، بسنے اور دعوت و تربیت میں مصروف ساتھیوں کو اپنے رب سے کیے وعدے اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ۰ۭ قَالُوْا بَلٰي۰ۚۛ شَہِدْنَا۰ۚۛ (اعراف ۷:۱۷۲) کو ایفا کرنے اور اپنی زندگیوں کو نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سنت اور اطاعت پر گزارنے کی توفیق دے۔(آ مین!)
شریعت کا منشا [اسلام کی] اسکیم کو متوازن طریقے سے نافذ کرکے ہی پورا کیا جاسکتا ہے۔ اس کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے، اس کے کسی جز کو ساقط اور کسی کو نافذ کرنا حکمت دین کے بالکل خلاف ہے۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ شریعت اپنے نفاذ کے لیے مومن و متقی کارکن چاہتی ہے یا فاسق و فاجر لوگ، اور وہ لوگ جو اپنے ذہن میں اس کے احکام کی صحت کے معتقد تک نہیں ہیں؟
اس معاملے میں بھی محض جواز اور عدم جواز کی قانونی بحث کافی نہیں ہے۔ مجرد قانونی لحاظ سے ایک کام جائز بھی ہو تو یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ حکمت ِ دین کے لحاظ سے وہ درست بھی ہے یا نہیں۔ کیا حکمت دین کا یہ تقاضا ہے کہ احکامِ شرعیہ کا اجرا ایسے حُکام کے ذریعے سے کرایا جائے، جن کی اکثریت رشوت خور، بدکردار اور خدا و آخرت سے بے خوف ہے، اور جن میں ایک بڑی تعداد عقیدتاً مغربی قوانین کو برحق اور اسلامی قوانین کو غلط اور فرسودہ سمجھتی ہے؟ اسلام کو دُنیا بھر میں بدنام کردینے اور خود مسلم عوام کو بھی اسلام سے مایوس کردینے کے لیے اس سے زیادہ کارگر نسخہ اور کوئی نہیں ہوسکتا کہ اِن لوگوں کے ہاتھوں احکامِ شریعت جاری کرائےجائیں۔ اگر چند بندگانِ خدا پر بھی جھوٹے مقدمے بنا کر سرقے اور زنا کی حد جاری کردی گئی، تو آپ دیکھیں گے کہ اس ملک میں حدودِ شرعیہ کا نام لینا مشکل ہوجائے گا اور دُنیا میں یہ چیز اسلام کی ناکامی کا اشتہار بن جائے گی۔
اس لیے اگر ہم دین کی کچھ خدمت کرنا چاہتے ہیں، اُس سے دشمنی نہیں کرنا چاہتے تو پہلے اس امر کی کوشش کرنی چاہیے کہ ملک کا انتظام ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں منتقل ہوجائے ، جو دین کی سمجھ بھی رکھتے ہوں، اور اخلاص کے ساتھ اس کو نافذ کرنے کے خواہش مند بھی ہوں۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوگا کہ اسلام کی پوری اصلاحی اسکیم کو ہمہ گیر طریقے پر نافذ کیا جائے اور حدودِ شرعیہ کا اجرا بھی ہو۔
یہ کام بڑا صبر اور بڑی حکمت چاہتا ہے ۔ یہ ہتھیلی پر سرسوں جمانا نہیں ہے کہ آج مجلس قانون ساز میں ایک دو نشستیں ہاتھ آگئیں اور کل حدود ِ شرعیہ جاری کرنے کے لیے ایک مسودئہ قانون پیش کردیا گیا۔(’رسائل و مسائل‘، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۵۹، عدد۱، اکتوبر ۱۹۶۲ء، ص۵۸-۵۹)