مضامین کی فہرست


جنوری ۲۰۱۴

مارچ۲۰۱۱ء سے ظالم بشار الاسد کے خلاف شروع ہونے والی عوامی تحریک نے ۸ دسمبر ۲۰۱۳ء کوپورے ایک ہزار دن مکمل کرلیے ۔پونے تین سال سے جاری اس خوں ریزی میں اب تک کم وبیش ڈیڑھ لاکھ افراد شہید ہوچکے ہیں۔ عوام کا مطالبہ صرف یہ تھا کہ بدترین ڈکٹیٹرشپ ختم ہو، عوام کو آزادیاں اور سکھ کا سانس ملے اور پر امن طریقے سے اصلاحات لائی جائیں۔ بدقسمتی سے بشار الاسد نے بھی اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عوام کو قتل اور ملک کو تباہ کرنا شروع کردیا۔ اب تک ۳۰لاکھ سے زائد لوگ بیرون ملک ہجرت پر مجبور ہوچکے ہیں۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور دیگر آزاد ذرائع نے بشار اور اس کی انتظامیہ کو شام میں تمام تر تباہی کا ذمہ دار ٹھیرایا ہے۔ اقوام متحدہ کے متعلقہ ادارے نے شامی عوام پر ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف سنگین جرائم قرار دیتے ہوئے بشار اور اس کے قریبی رفقا کو انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے حوالے کردینے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

آبادی کے لحاظ سے شام عرب ممالک میں ساتواںبڑا ملک ہے ۔ اس کی ۲ کروڑ ۴۰ لاکھ کی آبادی کا ۹۰ فی صد عرب،۸ فی صدکُرد اور باقی دیگر قوموں پر مشتمل ہے۔ ۹۰ فی صد سے زائد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے جن میں غالب اکثریت اہل سنت کی ہے ۔ علوی ، اسماعیلیہ اور دیگر شیعہ فرقے ۱۰ سے۱۵ فی صد کے قریب اور باقی مسیحی وغیرہ پر مشتمل ہے ۔ شام افریقہ، ایشیا اور یورپ کے سنگم پر واقع ہے اور اس کی سرحدیں ترکی، لبنان ،مقبوضہ فلسطین(اسرائیل)، اُردن اور عراق کے ساتھ ملتی ہیں۔

حکومت کے خلاف مظاہروں کے شروع ہوتے ہی بشار نے اسے طاقت سے کچلنے کاآغاز کردیا تھا۔ لاٹھی چارج، آنسو گیس اور پکڑ دھکڑ ہی نہیں مظاہرین پر براہِ راست فائرنگ شروع کردی گئی، بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں سے رہایشی علاقوں کو گھیرلیا گیا،اور پھر جنگی جہازوں، توپوں اور میزائلوں سے بم باری شروع کردی گئی۔ گھروں، سکولوں ، مسجدوں اور ہسپتالوںکو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کردیا گیا۔پوری پوری عمارتوں کو مکینوں سمیت ملیامیٹ کردیااور ہر جگہ لاشوں کے ڈھیر  لگ گئے۔ پورا ملک کھنڈرات میں تبدیل ہوگیا۔ زیادہ تر شہر خالی ہوگئے اور لوگ پُرامن علاقوں اور پڑوسی ممالک میں پناہ گزین ہوگئے ۔ بشار کے مظالم نے پناہ گزین کیمپوںمیں بھی ان کا پیچھا نہ چھوڑا اور وہاں بھی بچوں اور خواتین کومیزائلوںاور فضائی حملوں کانشانہ بنا رہا ہے۔ 

 ایک موقع پر عرب لیگ نے بھی خواب غفلت سے آنکھیں کھولیں،ایک متفقہ قراردادکے ذریعے بشار کو فوری طور پر اقتدار سے ہٹانے اور اختیارات اپنے نائبین کو منتقل کرنے کا مطالبہ کیا اور پھر گہری نیند میں ڈوب گئی ۔ اکتوبر ۲۰۱۱ء اور فروری ۲۰۱۲ء میں یہی مطالبہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں دہرایا گیالیکن دونوں دفعہ روس اور چین نے ویٹو کا اختیار استعمال کرتے ہوئے اس کی مخالفت کردی۔ سلامتی کونسل نے بہت تیر مارا تو ۱۴،اپریل ۲۰۱۲ء کو ایک اور قرارداد میں شام کی حکومت سے فوری جنگ بندی اور رہایشی علاقوں کی طرف فوج کشی کو روکنے کا مطالبہ کیا۔اقوام متحدہ اور  عرب لیگ نے مشترکہ طور پر کوفی عنان کو خصوصی ایلچی بنا کر بھیجاتاکہ بشار حکومت کی جانب سے روارکھے گئے انسانیت سوز مظالم کو روکے ۔لیکن کوفی عنان کے مختصر دورے کے فوراً بعد نہتے مظاہرین اور بے گناہ شہری ایک دفعہ پھر ٹینکوں، توپوں اورفضائی بم باری کا سامنا کر رہے تھے۔

بشار انتظامیہ کی جانب سے رہایشی علاقوں پر بم باری کی وجہ سے لوگ اپنے علاقے چھوڑ گئے ہیں ،زیادہ تر علاقے خالی ہوچکے ہیں۔ شامی پناہ گزین اسرائیل کے علاوہ تمام پڑوسی ممالک میںپناہ لیے ہوئے ہیں۔ پڑوسی ممالک کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگوں نے یورپ کا رخ بھی کیا ۔اقوام متحدہ کے کمیشن براے مہاجرین کے مطابق یورپ نے شام سے پناہ لینے کے لیے آنے والوں کا دل کھول کر استقبال نہیں کیا اور صرف ۱۰ یورپی ممالک نے ان کو پناہ دی۔ان میں جرمنی سرفہرست ہے جس نے ۱۰ ہزار مہاجرین کو پناہ دی ہے۔سمندری راستوں سے یورپ پہنچنے والے شامی اس وقت مختلف مسائل کا شکار ہیں۔ بیش تر لوگوں کی رجسٹریشن نہیں ہورہی اور وہ عملا قید کی زندگی گزار رہے ہیں۔ شامیوں کی ایک بڑی تعداد مصر میں بھی پناہ لینے کے لیے پہنچی ہوئی ہے ۔ تاہم فوجی حکومت کے نامناسب رویے کی وجہ سے ان کی تعداد بہت کم ہے۔ گذشتہ دنوں مصر ی حکام نے کئی خاندانوں کو مصر سے بے دخل کردیا تھا۔مہاجرین کا سب سے زیادہ دباؤ لبنان پر ہے۔ دسمبر ۲۰۱۳ء کے اعداد وشمار کے مطابق اب تک ساڑھے ۸ لاکھ مہاجرین سرحد عبور کرکے لبنان پہنچ چکے ہیں۔ ترکی اور اس سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں شامی مہاجرین کی حالت قدرے بہتر ہے جہاں حکومت کی سرپرستی کے باعث رفاہی اداروں کی رسائی اور امدادی کارروائیاں قدرے آسان ہیں۔

بشار کی وحشیانہ کارروائیوں اورجنگی جہازوں کی بم باری سے ۱۲ لاکھ گھر تباہ ہوچکے ہیں اور روز بروزاس میں اضافہ ہورہا ہے ہیں ۔ بڑی تعداد میںلوگ پڑوسی ممالک کے علاوہ ملک کے اندر محفوظ مقامات پر منتقل ہوگئے ہیں ۔اقوام متحدہ کے ادارے براے بحالی مہاجرین کے مطابق اب تک ۶۵ لاکھ افراد اپنے آبائی علاقوں کو چھوڑ کر اندرون ملک نقل مکانی کر چکے ہیں۔ نومبر ۲۰۱۳ء کو شائع ہونے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ لوگ انتہائی کس مپرسی کی حالت میں مختلف کیمپوںاور دیگر مقامات میںزندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ UNHCR کے مطابق ان میں سے صرف ۴۶ ہزار لوگ اقوام متحدہ کے اس کمیشن کے پاس رجسٹرد ہیںجوپانچ مختلف ممالک میں ان کی بنیادی ضروریات پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ باقی لوگ انتہائی پریشان کن حالات سے گزر رہے ہیں۔ ملک کے بیشتر علاقے سخت برف باری کی زد میں ہیں اور درجۂ حرارت منفی ۱۰ سینٹی گریڈ سے بھی کم ہوجاتا ہے۔ سخت سردی کی اس لہر میں خیموں کے اندر زندگی گزارنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے ۔

بشار انتظامیہ کے مظالم پر احتجاج کرتے ہوئے، بڑی تعداد میں فوجی افسران اور سپاہیوں نے بھی فوج سے بغاوت کا اعلان کردیا ۔علیحدگی اختیار کرنے والے افسران اور مختلف تنظیموں نے مسلح گروپ تشکیل دیے ہیں۔سب سے پہلے لیفٹننٹ کرنل حسین ہرموش فوج سے الگ ہوئے جس نے ’الاحرار بریگیڈ‘ کے نام سے ایک گروپ تشکیل دیااور فوج میں اپنے دوستوں سے اپیل کی کہ حکومت سے الگ ہوجائیں اور ان کی تحریک میں شامل ہوجائیں۔ بعد ازاں جیسے جیسے فوجی افسر بغاوت کرکے فوج سے نکلتے رہے،اپنا گروپ تشکیل دیتے رہے۔یہی نہیں مختلف عالمی اور علاقائی طاقتوں نے بھی اپنے اپنے مقاصد کی خاطر مسلح گروہ تشکیل دیے ہیں۔ اس وقت مختلف ناموں سے دو درجن سے زائد جہادی تنظیمیں بشار کے خلاف بر سرِ پیکار ہیں۔ اگر چہ ان تنظیموں کے آپس میں اِکّا دکّا واقعات کے علاوہ کسی بڑی جھڑپ کی اطلاع تو نہیں آئی ہے، تاہم اتنی بڑی تعداد میں مسلح گروہوں کی تشکیل ہی دشمن کو تقویت اور اپنی اپوزیشن کو کمزور کرنے کا باعث ہے۔ اس صورت حال سے فائدہ اٹھا کر دشمن ممالک اور تخریبی ادارے بھی مجاہدین کے نام پر ایسے گروپ تشکیل دینے میں کامیاب ہورہے ہیں جو دشمن کے ایجنڈے پر کام کرتے ہوئے جہاد اور مجاہدین کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ ان مسلح گروپوں میں کئی ایسی تنظیمیں بھی ہیں جو اپنے علاوہ باقی سب کو کافر قرار دیتی ہیں۔

 بعض علاقوں میں مسلح گروہ ایک چھتری تلے جمع ہو گئے ہیںجیسے گذشتہ دنوں حلب میں تمام چھوٹی تنظیموں نے جبہۃ اسلامیہ کے ساتھ ضم ہونے کا اعلان کیا لیکن ملکی سطح پر تمام گروپوں کو جمع کرنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے ۔

زمینی صورت حال اس وقت یہ ہے کہ شام کا ۹۰ فی صد سے زائد علاقہ بشار کے ہاتھ سے نکل گیا ہے ۔ حمص ، السویداء ، لاذقیہ اور درعا کے علاوہ تمام اضلاع مجاہدین کے کنٹرول میںہیں، جب کہ دارالحکومت دمشق کے بیش تر حصے پر بھی مجاہدین کا قبضہ ہے ، اور وہاںمجاہدین اور بشار انتظامیہ کے ساتھ جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔ بشار چونکہ زمینی جنگ ہار چکا ہے اس لیے اب وہ صرف بم باری پر انحصار کر رہا ہے ۔

نومبر ۲۰۱۲ء میں قطر کے دارالحکومت میںشامی اپوزیشن قوتوںکے مابین ایک  معاہدے پر دستخط ہوئے جس کے نتیجے میں حکومت مخالف جماعتوں کی اکثریت ایک چھتری تلے جمع ہوگئی۔ انقلابی طاقتوں اور اپوزیشن جماعتوں کے اس اتحاد نے عالمی برادری کی توجہ شام کے مسئلے کی طرف مبذول کرانے کے ساتھ ساتھ شامی مجاہدین کی کوششوں کو بھی مربوط کرنے میںمدد دی ہے۔

۱۹۶۳ء میں بعث پارٹی کا اقتدار سنبھالتے ہی اخوان کی آزمایش کا دور شروع ہو گیا تھا۔حافظ الاسد نے۱۹۷۱ء میں برسر اقتدار آکر اخوان کے گرد گھیرا مزید تنگ کردیااور قید وبند کاایک طویل سلسلہ شروع ہوگیا۔۱۹۸۰ء میں ایک دستوری ترمیم کے ذریعے اخوان کے ساتھ تعلق ثابت ہونے کی سزا پھانسی مقرر کردی گئی جو آج بھی باقی ہے۔اخوانی قیادت کی اکثریت جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے ۔ مارچ ۲۰۱۱ء میں بشار کے خلاف جدوجہد کے آغاز ہی سے اخوان پوری طاقت سے ایک مؤثر فریق کی حیثیت سے ظالم ڈکٹیٹر کے خلاف جدوجہد میں شریک ہیں۔

امریکا اس پورے مسئلے میںنہایت عیاری سے تباہ کن کردار ادا کر رہا ہے۔عالمی برادری کی تائید حاصل کرنے کے لیے ایک طرف وہ شامی عوام کی جدوجہد کا ساتھ دینے کے زبانی وعدے کر رہا ہے اور دوسری طرف معاملے کو مزید طول دے کر عراق کے بعد ایک اور مسلمان ملک کو کمزور کر رہا ہے، تاکہ اسرائیل کی سرحدیں مضبوط ہوں اوروہ بیرونی خطرات سے محفوظ رہے۔ بدقسمتی سے ایران اور حزب اللہ بھی کھلم کھلابشار کا ساتھ دے کر اس خون ریزی میں شریک ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ بشار کی حکومت اسرائیل کے سامنے بند کی حیثیت رکھتی ہے ،اس لیے ہم اسے بچانے کے لیے ہر حد تک جائیں گے ،لیکن عملاًدیکھیں تو خود اسرائیلی انتظامیہ ، امریکا اور عالمی برادری سب بشار انتظامیہ کو باقی رکھنے پر مصر ہیں۔اگر ان دونوں فریقوں(ایران و حزب اللہ) اور (امریکا واسرائیل) میں سے کوئی ایک فریق بھی بشار انتظامیہ سے نجات کا فیصلہ کرلیتا تو یقینا بشار اب تک قصۂ پارینہ بن چکا ہوتا۔

جیسے جیسے بشار الاسد اپنا قبضہ وتسلط کھوتا جارہا ہے اور امریکا واسرائیل کی تشویش میں اضافہ ہورہا ہے ۔ وہ کسی ایسے متبادل کی تلاش میں ہیں جو بشار کے بعد خطے میں ان کے مفادات کا خیال رکھ سکے اور جس سے اسرائیل کی سلامتی کو خطرہ نہ ہو۔

شام کے مسئلے کے حل کے لیے براے نام کوششوں کے سلسلے میں امریکا اور روس کی آشیرباد سے عالمی برادری آیندہ جنوری میں جنیوا ۔۲ کے نام سے کانفرنس کر رہی ہے۔اس سے قبل ’جنیوا-۱‘ ہوچکی ہے۔ ملک کے زیادہ تر حصے پر مجاہدین کے قبضے کے بعد حقوق انسانی کے علَم بردار ممالک یہ کوشش کر رہے ہیں کہ بات چیت  کے ذریعے معاملات حل ہوجائیں ۔ لیکن زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ اب بشار کے جانے کے علاوہ کوئی دوسرا حل نہ توپایدار ہوگا نہ معاملے کے اصل فریق، یعنی شامی عوام کو قابل قبول ۔

سخت سردی اور بد ترین بم باری کے تناظر میں تمام اسلامی ممالک ، انسانی حقوق کی تنظیموںاور رفاہی اداروںکا فرض ہے کہ آگے بڑھ کرمظلوموں کی فوری مدد کریں۔

حیاتِ سرورِ کائنات ، ملّا واحدی دھلوی۔ ناشر: نشریات، ۴۰-اُردو بازار، لاہور۔ فون:۴۵۸۹۴۱۹-۰۳۲۱۔ صفحات:۸۲۲۔ قیمت: ۴۷۵ روپے۔

سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اولین کتاب: مغازیِ رسولؐ اللّٰہ ہے جسے حضرت عروہ بن زبیرؓ (م:۹۴ھ) نے لکھا۔ سیرتِ نبویؐ کا ذخیرہ آج دنیا میں کم و بیش ۱۰۰ زبانوں میں ہزاروں کتب و تراجم کی شکل میں دستیاب ہے۔ اُردو زبان میں ذخیرۂ سیرت ۳ہزار سے متجاوز   نظم ونثر کی چھوٹی بڑی مطبوعات کی صورت میں موجود ہے۔ یہ سلسلہ مزید آگے بڑھتا نظر آرہا ہے اور حکومت پاکستان کی سرپرستی میں سیرتِ رسولؐ پر کتب پر سیرت اوارڈ سے بھی اس کی مزید  حوصلہ افزائی ہورہی ہے۔ پھر مستشرقین نے نبی اکرمؐ کی سیرتِ مبارکہ پر اعتراضات اُٹھائے تو اس کے رد میں کتب سیرت کا ایک سلسلہ موجود ہے۔ اسی طرح بعض غیرمسلموں نے بھی نبی اکرمؐ کی شان میں کتب لکھی ہیں جو اپنی جگہ لائق مطالعہ ہیں۔ غرض سیرتِ رسولؐ کے ذخیرے پر نگاہ ڈالی جائے تو ایک عظیم الشان ذخیرہ ہے جو اہلِ ایمان کا علمی ورثہ ہے اور اسے نئی نسلوں تک سیرتِ رسولؐ کے شایانِ شان اور عصرِحاضر کے جدید تقاضوں کے پیش نظر منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔ نیز یہ میدان اہلِ علم و تحقیق کو غوروفکر کی دعوت بھی دے رہا ہے۔

ذخیرۂ سیرتِ نبویؐ کو محفوظ کرنے اور نئی نسل تک جدید تقاضوں کے پیش نظر منتقل کرنے کی ضرورت کو محسو س کرتے ہوئے ادارہ نشریات نے کتب ِ سیرت کی اشاعت کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ حیات سرورِ کائناتؐجو ماضی قریب میں علمی وادبی حلقے کے ایک معروف نام مُلّا واحدی دہلوی کے قلم سے سامنے آئی، کی اشاعت ِ نو اسی غرض سے کی گئی ہے۔

کتاب کی علمی حیثیت اور مقام کے بارے میں پروفیسر عبدالجبار شاکر مرحوم تقریظ میں لکھتے ہیں:’’سیرت النبیؐ کے موضوع پر اُردو میں ہزاروں چھوٹی بڑی کتابیں اور رسائل لکھے گئے ہیں مگر مُلّاواحدی کی کتاب حیاتِ سرورِکائناتؐ اس تمام پاکیزہ ذخیرے میں اپنے مضامین، اسلوب، حسنِ ترتیب، زبان و بیان اور طرزِانشاء کے لحاظ سے یگانہ و ممتاز ہے۔ ہرچند اس تصنیف میں سیرت النبیؐ از شبلی نعمانی، سید سلیمان ندوی، رحمۃ للعالمینؐ از قاضی محمد سلیمان، سلمان منصور پوری اور سیدابوالاعلیٰ مودودی، نیز مولانا سعید احمد اکبرآبادی کی متعدد تحریروں سے بھرپور استفادہ کیا ہے۔ اس طرح جو تصویر سامنے آئی ہے وہ نہ صرف نبی اکرمؐ کی حیاتِ طیبہ کے سوانحی پہلو کی کامل تصویر پیش کرتی ہے بلکہ اس میں کارنامۂ نبوت کی تمام تر تفصیلات، اسوئہ حسنہ کی پاکیزگی اور تابندگی، معمولاتِ نبویؐ کی جزئیات اور دین و شریعت کی تمام تر تعلیمات کا عکس بھی دکھا دیا گیا ہے....مصنف نے کہیں کہیں مغربی دانش وروں کے ایسے اقوال اور تحریریں بھی درج کی ہیں جن سے عظمت ِ مصطفویؐ اور اعترافِ رسالت کے پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔ یہ کتاب سیرت، نبوت و رسالت کی رواں تفسیر دکھائی دیتی ہے‘‘۔ (ص ۳۱)

سیرتِ نبویؐ کے ذخیرے سے استفادے کا یہ اقدام مبارک باد کا مستحق ہے اور اس سلسلے کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اربابِ علم و دانش کو طباعت و تحقیق کی جدید سہولیات سے استفادہ کرتے ہوئے ترجیحی بنیادوں پر اس پہلو پر توجہ دینا چاہیے۔ یہ جہاں حب ِ رسولؐ کا تقاضا ہے وہاں علمی ضرورت بھی ہے۔(امجد عباسی)


معاملاتِ رسولؐ، قیوم نظامی۔ ناشر: نواز نیاز، جہانگیر بکس، ۱۲۱، ڈی بلاک، گلبرگII، لاہور۔ صفحات: ۳۶۸، قیمت:۶۰۰ روپے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر عربی، اُردو، فارسی، انگریزی، فرانسیسی اور    جرمن میں اتنی کثیر تعداد میں کتابیں تحریر کی گئی ہیں کہ تاریخ میں کسی بھی انسان پر اتنی بڑی تعداد میں کتابیں تحریر نہیں ہوئیں۔ حضور اکرمؐ کے متعلق ہر مصنف نے اپنے نقطۂ نظر کے مطابق قلم اُٹھایا، مثلاً تصوف کے حوالے سے یا حضور اکرمؐ بطور ایک عظیم سپہ سالار یا بطور ایک انقلابی رہنما یا بطور ایک کامیاب حکمران اور ماہر سیاست دان وغیرہ۔

مصنف نے حضور اکرمؐ کی عملی زندگی میں عدل و انصاف اور معاشی مساوات کے پہلو کو نمایاں کیا ہے۔ مصنف کے خیال میں لوگ حقوق العباد کو بھول چکے ہیں، انھیں حضور اکرمؐ کی سیرت کے حوالے سے اس طرف توجہ دلائی جائے تو یقینا وہ راہِ راست کی طرف پلٹیں گے۔

مصنف نے سیرت النبیؐ کی معتبر و مستند کتابوں اور قرآنِ مجید کے حوالوں سے اپنی کتاب مرتب کی ہے (اگرچہ حوالے کہیں مبہم، کہیں ناقص اور ادھورے ہیں)۔ پہلے ۱۷؍ابواب حضور اکرمؐ کی ولادت سے لے کر آپؐ کی وفات تک کے واقعات زمانی ترتیب سے مرتب کیے گئے ہیں۔ باقی حصے میں مختلف موضوعات پر اسوئہ حسنہ کی روشنی میں اسلامی تعلیمات و ہدایات پیش کی گئی ہیں۔ اکیسویں باب میں حضور اکرمؐ کی حیاتِ مبارکہ میں سے ، جسے مصنف نے عملی قرآن لکھا ہے (ص ۲۹۱) چند ایسے واقعات لکھے ہیں جن سے حضور اکرمؐ کے حُسنِ اخلاق اور حُسنِ معاملہ کا پہلو اُجاگر ہوتا ہے۔

مصنف نے عام فہم زبان میں اللہ کے آخری نبیؐ کی زندگی کو محبت و عقیدت کے ساتھ  پیش کیا ہے۔ یہاں چند ایک اُمور کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے تاکہ نقشِ ثانی میں تصحیح ہوسکے۔ غار، مذکر ہے، اسے مؤنث لکھا گیا ہے (۲۹۸)۔ حضور اکرمؐ کی رضاعی والدہ کا نام ثویبہ ہے، ثوبیہ لکھا گیا ہے (ص ۴۴)۔ حضوراکرمؐ کی سیرت کا سب سے بڑا مآخذ قرآنِ مجید ہے۔ پوری کتاب میں قرآنی حوالوں کے لیے عربی متن کے بجاے صرف اُردو ترجمہ دیا گیا ہے، قرآن کی آیات کا ترجمہ کسی مستند ترجمے سے دیا جائے تو مناسب ہے۔ یہی حال احادیث کی کتاب کے حوالوں میں ہے، یعنی حدیث کی کتاب کا نام دیا ہے، صفحہ نمبر نہیں دیا۔ بعض اشعار بھی غلط نقل ہوئے ہیں۔ بعض حوالے نامکمل ہیں ص ۱۲۶ پر، حوالہ نمبر۲۸ کے تحت صرف پیرکرم شاہ لکھا گیا ہے۔ کتاب کا نام اور صفحہ نمبر مفقود ہے۔  طائف فتح نہیں ہوا (۱۸۴)، حضور اکرمؐ نے چند روز محاصرہ کیا پھر لوٹ آئے۔ اسلوبِ بیان واضح، صاف اور سلیس ہے، کہیں ابہام نہیں۔ اُمید ہے کہ قارئین اس کتاب کے مطالعے سے حضور اکرمؐ کے اسوئہ حسنہ کے مطابق عمل کا داعیہ محسوس کریں گے۔(ظفرحجازی)


قرآن کا فہم و شعور (اول، دوم)، مؤلف: راجا محمد شریف قاضی۔ ناشر: اسلامک پبلی کیشنز، منصورہ، لاہور۔ فون: ۳۵۴۱۷۰۷۴-۰۴۲۔ صفحات (علی الترتیب): ۴۷۶، ۴۷۲۔ قیمت فی حصہ: ۲۹۵ روپے۔

قرآنِ مجید کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت اس کے عجائب کے نہ ختم ہونے کا سلسلہ ہے۔ قرآنِ مجید سے ہدایت و رہنمائی اور اس کے مفہوم کو جاننے کے لیے وقتاً فوقتاً مختلف تفاسیر لکھی جاتی رہی ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ قرآن کا فہم و شعور ایک مختصر اور جامع تفسیر ہے جو انفرادیت کی حامل ہے۔

نبی اکرمؐ کے طریق تعلیم میں ایک پہلو استفہامی انداز بھی تھا۔ آپؐ صحابہ کرامؓ کو متوجہ کرنے کے لیے سوال پوچھتے تھے اور پھر جواب بھی دیتے تھے۔ اس طرح سے جہاں بات پوری طرح سمجھ میں آجاتی تھی وہاں ذہن نشین بھی ہوجاتی تھی۔ راجا محمد شریف قاضی نے جو کئی کتب کے مصنف ہیں اور دعوت و تدریس کے میدان سے وابستہ ہیں، تفسیرقرآن کے لیے اس طریق تعلیم کو پیش نظر رکھتے ہوئے سورئہ فاتحہ، سورئہ بقرہ اور آخری پارے کی تفسیر کی ہے۔

آغاز میں سورہ کا مختصر تعارف دیا گیا ہے جو کہ سوال و جواب کی شکل میں ہی ہے۔ عربی متن اور ترجمے کے بعد ’لغت‘  کے عنوان سے اہم عربی الفاظ کے معنی، قواعد و ضوابط اور مآخذ و مصادر بیان کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد آیاتِ قرآنی کی مختلف عنوانات کے تحت سوالاً جواباً تشریح دی گئی ہے۔ آیات میں بیان کردہ مضامینِ قرآن کو واضح کرنے کے لیے مختلف ابواب کا تعین کیا گیا ہے اور ہرباب کے آخر میں ’مشق‘ دی گئی ہے تاکہ اہم موضوعات ذہن نشین ہوجائیں۔ تفسیرقرآن کے لیے سیدمودودیؒ کی تفسیر تفہیم القرآن کو بنیاد بنایا گیا ہے اور سیدقطب شہیدؒ کی فی ظلال القرآن اور مولانا امین احسن اصلاحیؒ کی تدبرقرآن سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔

استفہامی انداز میں یہ مختصر تفسیر جہاں قرآنِ مجید کے اہم مضامین کو جاننے کا ذریعہ ہے وہاں قرآنی عربی سیکھنے کی رغبت بھی دلاتی ہے۔ اگر قرآنی عربی کا کورس بھی کرلیا جائے تو آیات کے ترجمے کی استعداد بھی حاصل ہوسکتی ہے۔ فہم قرآن اور مدرسین قرآن کے لیے ایک مفید تفسیر ہے۔ اگر اس سلسلۂ تفسیر کو مکمل کرلیا جائے تو قرآن فہمی کے لیے یقینا ایک مفید خدمت ہوگی۔(امجد عباسی)


اخوان المسلمون اور فرعونیت کی کش مکش ، میربابر مشتاق۔ ناشر: عثمان پبلی کیشنز، اے-۸، بلاک بی-۱۳، پاکستان ریلوے ہائوسنگ اسکیم، گلشن اقبال، کراچی- فون: ۴۸۷۴۰۷۴-۰۳۶۴۔ صفحات:۳۰۴۔ قیمت: ۳۶۰ روپے۔

یہ کتاب مصر میں حسنی مبارک کے بعد، صدر مرسی کے مختصر دور اور پھر جنرل سیسی کے فوجی انقلاب کی صورت حال کے تناظر میں لکھی گئی ہے۔ اس کتاب نے مصر کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال کا پس منظر فراہم کر کے ایک اہم ضرورت پوری کی ہے۔

مصنف نے اس کتاب کے ایک باب میں حسن البنا سے محمد بدیع تک تمام مرشدین عام اور دوسرے باب میں ’اخوان اہلِ قلم کا قافلہ‘ کے عنوان سے ۱۴شخصیات پر ضروری معلومات فراہم کی ہیں۔ دوتہائی سے زیادہ کتاب گذشتہ دو تین سال کے حالات پر مشتمل ہے۔ اس دوران جو تجزیے اور رپورٹیں اُردو یا عربی میں شائع ہوئیں ان کا ایک مربوط انتخاب صورتِ حال کی مکمل تصویرکشی کردیتا ہے۔ صدرمرسی کے انٹرویو، ان کی کارکردگی کے بارے میں رپورٹیں، اسی طرح فوجی بغاوت کے بارے میں ضروری معلومات، سب جمع کردی گئی ہیں۔ ریفرنڈم میں منظورشدہ دستور کا مکمل متن بھی شامل ہے۔ ابتدا میں ہی رابعہ العدویہ، شہدا، بچوں اور بڑے بڑے اجتماعات کی تصاویر سے تحریکِ مزاحمت کی بھرپور جھلکیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ نعیم صدیقی کی مشہور نظمیں   ’پھر ایک کارواں لٹا‘ ، ’یہ کون تھا کس کا خون بہا؟‘ بھی شاملِ اشاعت ہیں۔

اس کتاب کی حیثیت ایک مستند دستاویز کی ہوگئی ہے۔ اگر سب منتخب تحریرات کے حوالے بھی دیے جاتے تو کتاب زیادہ مستند ہوتی۔ مصنف اس کتاب کی بروقت طباعت پر مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے مستقبل کے مؤرخ کے لیے لوازمہ ایک جگہ فراہم کردیا ہے۔ (طاہر آفاقی)


 مجاہد ملت قاضی حسین احمد (اشاعت ِخاص خواتین میگزین)، خصوصی ادارت: عباس اختر اعوان۔ ملنے کا پتا: ماہنامہ خواتین میگزین، منصورہ، ملتان روڈ، لاہور۔ فون: ۳۵۴۳۵۶۶۷-۰۴۲۔ صفحات:۴۹۶۔ قیمت: ۴۰۰روپے۔

سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد مرحوم کے انتقال (۵جنوری ۲۰۱۳ء) پر جس طرح سے عالمی سطح پر اور اندرونِ ملک حلقوں نے ان سے اظہارِ عقیدت کیا، اس سے ان کی شخصیت اور مقبولیت کا بھرپور اندازہ ہوتا ہے۔ قاضی حسین احمد مرحوم کی شخصیت، جدوجہد، خدمات اور درپیش اہم چیلنجوں کا زیرتبصرہ اشاعت ِ خاص میں احاطہ کیا گیا ہے۔ عالمی اسلامی تحریک کے قائدین، علماے کرام، معروف سیاست دان، جماعت اسلامی کے قائدین اور وابستگان اورمعروف اہلِ قلم، دانش وروں اور کالم نگاروں کے افکار و آرا اور انٹرویو اس اشاعت خاص میں یک جا کردیے گئے ہیں۔ قاضی صاحب کا جہادِافغانستان میں اہم کردار تھا، حکمت یار گلبدین نے ان کی خدمات کا تذکرہ کیا ہے۔ مسئلۂ کشمیر اور جہادِ کشمیر سے قاضی صاحب کی وابستگی پر الیف الدین ترابی اور عبدالرشید ترابی اظہارِ خیال اور خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ اہلِ خانہ اور احباب کے تاثرات بھی شاملِ اشاعت ہیں۔ مضامین کے ساتھ منظوم خراجِ عقیدت بھی پیش کیا گیا ہے۔ مجاہد ملت قاضی حسین احمد کی یاد میں ایک ضخیم اشاعت خاص۔(امجد عباسی)


قتلِ غیرت: افسانہ، حقیقت اور تجزیہ، مرزا محمد الیاس۔ ناشر: اربن پبلشرز، ۱/۹، رائل پارک، لاہور۔ فون: ۹۸۷۷۵۹۴-۰۳۳۴۔ صفحات: ۳۰۸۔ قیمت: ۴۵۰ روپے۔

’قتلِ غیرت‘ ایک ایسی اصطلاح ہے جس سے بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ بظاہر اس کے معنی ’غیرت کو قتل کردینا‘ ہوں گے، لیکن مصنف کی مراد اس سے بالکل برعکس یہ ہے کہ غیرت کو باقی رکھنے یا ’پاسِ غیرت‘ میں قتل کرنا۔ انگریزی میں اس کے لیے عام اصطلاح Honour Killing ہے۔

مغرب میں، اور ہمارے ملک میں بھی، عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ ’غیرت‘ کی بناپر عورتوں پر تشدد، جو اُن کی ہلاکت پر بھی منتج ہوسکتا ہے، صرف مسلم معاشروں میں پایا جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ بقول مصنف: ’’غیرت مغرب کا مسئلہ بھی ہے اور مشرق کا بھی۔ یہ ایک انسانی تقاضا ہے کہ انسان اپنے نسلی و خاندانی کردار پر اُٹھنے والی ہرانگلی کو اپنی عزت و آبرو پر اُٹھنے والا اشارہ تصور کرتا ہے۔ اس تصور کے بعد عمل کیا ہے یہ ایک اور رویّہ ہے، جو مختلف ہوسکتا ہے۔’غیرت‘ قتل ہوجائے تو قتل کا سبب بھی بن جاتی ہے۔ غیرت رُسوا کرے تو بے حیائی کی نئی تعبیر بھی بن جاتی ہے۔(ص ۱۱)

نام نہاد غیرت کی بنا پر کسی کو قتل کردینا، عام طور پر مردوں کا ہی فعل ہوتا ہے، جس کا شکار کوئی عورت ہوتی ہے، خواہ وہ بیوی ہو، بیٹی، بہو یا ماں، یا خاندان کی کوئی اور عورت۔ پاکستان میں کسی عورت کے جنسی جرم کے نتیجے میں اُسے نظربندی، زبردستی کسی سے نکاح، جسمانی تشدد، بدہیئت بناد ینا (ناک، کان کاٹ دینا، تیزاب سے چہرہ مسخ کردینا) بھی بہت شاذ نہیں۔ مگر اس طرح کے جرائم، نام نہاد ’مہذب مغرب‘ میں بھی عام ہیں اور انھیں ’گھریلو تشدد‘ کا نام دے کر نسبتاً ایک ہلکا سا جرم قرار دے دیا جاتا ہے۔ امریکا میں خواتین پر تشدد کے ایک جائزے پر مبنی رپورٹ (۲۰۰۴ء) کے مطابق، ہر چھے میں سے ایک امریکی عورت اپنی زندگی میں عصمت دری یا مجرمانہ حملے کا نشانہ بنتی ہے۔ لیکن ان کے نصف سے بھی کم واقعات کی رپورٹ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کی جاتی ہے۔ (ص ۱۰۱)

مصنف نے ’جنسی غلامی‘ پر طویل بحث کی ہے۔ بیسویں اور اکیسویں صدی کی نام نہاد ’مہذب دنیا‘ میں عورتوں کے ساتھ کیا سلوک ہوا، اور ہو رہا ہے، اس کی داستان بڑی دل گداز اور شرم ناک ہے۔ دوسری جنگ ِ عظیم کے دوران جاپانیوں نے اپنے مقبوضہ علاقوں میں، روسیوں نے جرمن شکست خوردہ قوم کی عورتوں کے ساتھ، گوئٹے مالا کی خانہ جنگی، کانگو، لائبیریا، چیچنیا، کویت، کشمیر اورسری لنکا، بوسنیا اور خدا جانے دنیا کے کون کون سے گوشے ہیں، جہاں عورتوں پر تشدد اور بدترین سلوک کی داستانیں بکھری پڑی ہیں۔ بعض ملکوں میں تو انھیں پانچ فٹ کے ڈربوں میں بند رکھا جاتا رہا۔ اس طرح کے سلوک سے کم ہی عورتیں زندہ بچ پائیں (ص ۲۴۷)۔ اس بات کا غالب امکان ہے کہ فوجیوں کے اس اجتماعی آبروریزی جیسے اقدام میں اعلیٰ فوجی کمان کے فیصلے اور حمایت بھی شامل تھی، جہاں عصمت دری کو بطورِ ہتھیار اور اپنے فوجیوں کی آسایش اور آسودگی (relief/comfort) کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

صنف ِ نازک کے ساتھ انسانوں کا ایسا سلوک، اسفل ترین حیوانات بھی نہیں کرتے۔ کیا کیا جائے؟ اس عقدۂ مشکل کی کشود، انسانی ساختہ قوانین سے نہیں ہوسکتی۔ صرف علیم و خبیر ہستی پر حقیقی ایمان اور جزا و سزا پر اعتقاد ہی سے اس شرم ناک، بلکہ دہشت انگیز طرزِعمل کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ تاریخ میں اس کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ ایک اکیلی عورت صحرائوں کو عبور کرتے ہوئے ہزاروں میل کا سفر طے کرتی ہے، اور اُسے سواے خدا کے کسی کا خوف نہیں ہوتا۔ کاش مصنف ایک باب میں یہ شہادت بھی پیش کردیتے۔(پروفیسر عبدالقدیرسلیم)


تعارف کتب

مینارۂ نور ، مؤلف: محمد عبداللہ جاوید۔ ناشر: مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، ڈی-۳۰۷، دعوت نگر، ابوالفضل انکلیو، جامعہ نگر، نئی دہلی-۱۱۰۰۲۵، بھارت۔ صفحات:۱۲۸۔ قیمت: ۷۰ روپے بھارتی۔

[تزکیۂ نفس کے لیے جہاں    نیکی کے لیے ترغیب کی اہمیت ہے وہاں بُرائیوں سے بچنے کی ممانعت میں بھی حکمت ہے۔ مینارۂ نورکے  تحت  ان احادیث کو جمع کیا گیا ہے جن میں نبی کریمؐ نے بُرے اور ناپسندیدہ کاموں سے منع فرمایا ہے۔ اس میں کبیرہ و صغیرہ گناہ اور نازیبا حرکات کا تذکرہ ہے۔ مؤلف نے احایث کو ایمانیات، اخلاقیات، سماجیات اور معاملات کے عنوانات کے تحت مرتب کیا ہے۔ چند عنوانات: تعلق باللہ میں حائل رکاوٹیں، باوقار شخصیت کے لیے ضروری پابندیاں، ماحولیات کی بہتری کے لیے ضروری پابندیاں۔]


قرآن کیا کہتا ہے؟ ، سید عزیز الرحمن۔ ناشر: زوار اکیڈمی پبلی کیشنز، اے-۴/۱۷، ناظم آباد، کراچی۔ فون:۳۶۶۸۴۷۹۰-۰۲۱۔ صفحات: ۳۲۔ قیمت: ۲۰ روپے۔

[قرآنِ مجید کے موضوعات کا پانچ عنوانات: عقائد (توحید، رسالت اور آخرت)، عبادات، معاملات، اخلاقیات اور تاریخ کے تحت اختصار اور جامعیت سے بیان۔]


اسے زندہ کر دوبارہ ، قانتہ رابعہ۔ ناشر: ادبیات، رحمن مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون:۳۷۳۶۱۴۰۸-۰۴۲۔ صفحات: ۱۲۰ روپے۔ قیمت: ۱۲۰ روپے۔

[قانتہ رابعہ ادبی حلقوں میں ادیب اور افسانہ نگار کی شہرت رکھتی ہیں لیکن اسے زندہ کر دوبارہ میں اقبال کے مصرعے ع  دل مُردہ دل نہیں ہے اسے زندہ کر دوبارہ کے مصداق مختلف سماجی اور معاشرتی مسائل کی نشان دہی کرتے ہوئے تزکیہ وتربیت اور فکری رہنمائی کا سامان کرتی نظر آتی ہیں۔ مختصر ، فکرانگیز اور اثرپذیر نثرپاروں کا مجموعہ۔]


رزق کی کنجیاں ، پروفیسرڈاکٹر فضل الٰہی۔ ملنے کا پتا: مکتبہ قدوسیہ، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون:۳۷۲۳۰۵۸۵-۰۴۲۔ صفحات:۲۱۱۔ قیمت: ۲۷۵ روپے۔

[رزق میں کشادگی کے لیے ۳۰ اُمور کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ قرآن و حدیث،اقوال ائمہ اور واقعات سے افادیت بیان کی گئی ہے۔ رزق کی ان کنجیوں میں بیان کردہ اُمور پر تھوڑی سی توجہ سے بآسانی عمل کیا جاسکتا ہے، مثلاً: اللہ کا ذکر کرنا، استغفار، تقویٰ، گھر میں داخل ہوتے ہوئے سلام کہنا، غیبت سے اجتناب، نمازکی ادایگی اور اہلِ خانہ کو توجہ دلانا، مسنون دعائیں، صلۂ رحمی، حصولِ رزق کے لیے منہ اندھیرے اُٹھنا۔ کشادگی رزق کے لیے اقامت حدود، یعنی بدی کا مٹانا بھی ناگزیر ہے۔]


 سود کی نحوست ، غلام قادر جتوئی۔ ناشر: اسلامک لائرز موومنٹ پاکستان۔ ۲۰۸-طاہر پلازا، نزد سٹی کورٹس، کراچی۔ فون: ۲۰۴۲۱۰۶-۰۳۰۰۔ صفحات: ۸۰۔ قیمت: درج نہیں۔

[مسلمانانِ پاکستان اور صاحبانِ اقتدار گذشتہ ۶۶سال سے سودی نظام کے ساتھ سمجھوتا کیے ہوئے ہیں، اس کو عالمی استعمار کی پوری آشیرباد حاصل ہے۔ اس کتابچے میںوطن عزیز میں سود کے خاتمے کے لیے ہونے والی کوششوں کا اجمالی جائزہ سامنے آگیا ہے جو عوامی سطح پر تفہیم اور ابلاغ کی ایک عمدہ کوشش ہے۔]


تجلیاتِ قرآن ، مولانا سیّدجلال الدین عمری۔ ناشر: اسلامک ریسرچ اکیڈمی، ۳۵-ڈی، بلاک ۵، فیڈرل بی ایریا، کراچی-۷۵۹۵۰۔ فون: ۳۶۸۰۹۲۰۱-۰۲۱۔ صفحات:۴۶۲۔ قیمت:۴۵۰ روپے۔

[سیّد جلال الدین عمری کی اس کتاب میںقرآن کی فضیلت، عظمت، آداب، علمی اعجاز، عالمی اثرات اور اقوامِ عالم کے عروج و زوال کا قرآنی اصول بیان کیے گئے ہیں۔اب یہ پاکستان سے بھی شائع ہوگئی ہے۔ بھارتی اڈیشن پر ڈاکٹر انیس احمد کا تبصرہ عالمی ترجمان القرآن (ستمبر ۲۰۱۳ء) میں شائع ہوچکا ہے۔]


زندگی کے راستے، جینے کے ہُنر ، مؤلف: عبدالسلام سلامی۔ ناشر: قلم دوست، پوسٹ بکس ۱۱۰۰۲، کراچی-۷۵۲۳۰۔ صفحات: ۱۸۰۔ قیمت: ۲۰۰ روپے۔

[تعلیم و تربیت، روزگار کے مواقع کہاں ہیں؟ شوق و رجحان کے مطابق کیریئر کا انتخاب کیسے ہو؟ کامیاب اور خوش حال زندگی کیسے بسر کی جاسکتی ہے؟ یہ اور اس طرح کی مہارتوں اور معلومات سے معمور یہ کتاب کیریئر گائیڈنس اور کیریئر پلاننگ پر اُردو میں پہلی کتاب ہے۔ اس ضمن میں ’زندگی کے راستے‘ کا بلاگ (carieer.org.pk) بھی سودمند ہے۔ جس میں کیریئر پلاننگ کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کی دل چسپی کی دوسری معلومات بھی موجود ہیں۔]


عظیم تر پاکستان، سید مسعود اعجاز بخاری۔ناشر: مجلس تحقیق فکروفلسفہ پاکستان، ۳۲/اے، سیکٹر بی-تھری، پارٹ سیکنڈ، میرپور، آزاد جموں و کشمیر۔صفحات:۱۷۶۔قیمت: ۳۵۰روپے۔

[کیا پاکستان حادثاتی طور پر وجود میں آیا تھا؟ قائداعظمؒ پاکستان کو اسلامی ریاست بنانا چاہتے تھے یا سیکولر؟ موقع پرست عناصر نے نظریۂ پاکستان پر کیا کیا حملے کیے اور پاکستان کو سیکولر ریاست بنانے میں کیا کردارادا کیا؟ علامہ اقبالؒ نے پاکستان بنانے اور مسلمانوں کو بیدار کرنے میں کیا کردار ادا کیا؟ قومی زندگی میں ادب کی کیا اہمیت ہے اور قوم کی تعمیر میں ادب کیا کردار ادا کرتا ہے؟ عظیم تر پاکستان کیسے وجود میں آسکتا ہے؟ یہ کتاب ان سوالات کا جواب دیتی ہے۔]


 

ربیع الرحمٰن ، لاہور

عالمی ترجمان القرآن الحمدللہ ہرماہ موقع محل اور حالات کی مناسبت سے فکری رہنمائی کا قابلِ تعریف فریضہ ادا کرتا ہے۔ دسمبر۲۰۱۳ء کا مجلہ نظرنواز ہوا تو پرچے کی جامعیت کو دیکھ کر ضروری محسوس ہوا کہ اپنا تاثر پہنچایا جائے۔ محترم مدیر کے ’اشارات‘ اور ’شذرات‘ دونوں ہی بروقت اور بہت معیاری تھے۔ ’حکمت مودودی‘ سے انتخاب بھی حالات کی ضرورت تھا۔ ’نماز اور صحت‘، ایک ڈاکٹر کی طبی تحقیق نے بہت اچھا تاثر قائم کیا ہے۔ ’میڈیا کا کردار- اسلامی نقطۂ نظر‘ میں ڈاکٹر توقیرعالم فلاحی نے قرآن و حدیث کی روشنی میں ایمان افروز تحریر  قلم بند کرکے ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد کے لیے تذکیر کا حق ادا کردیا ہے۔ ’اخباراُمت‘ میں عبدالغفار عزیز عالمِ اسلام کے مختلف ممالک کے حالات پر جان دار تجزیہ کرتے ہیں۔ مصر میں آج کل کیا ہو رہا ہے؟ سوڈان کی صورت حال کیا ہے؟ برما میں تباہی کے بعد مسلم اقلیت کا حال کیسا ہے؟ اور دیگر ممالک کے بارے میںگاہے گاہے معلومات آتی رہیں تو بہت اچھا ہو۔


محمود احمد خان ، میاں چنوں

دہشت گردی اور فرقہ واریت کے حوالے سے پروفیسر خورشیداحمد نے بجا توجہ دلائی ہے۔ آج     فی الواقع پاکستان کو دہشت گردی اور فرقہ واریت نے آتش فشاں کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں عادلانہ حکمت عملی اپنانا ہی مسئلے کا حل ہے۔ علماے کرام کو حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے فرقہ واریت کی نفی اور اتحادِ اُمت پر زور دینا چاہیے۔’حکمت مودودی‘ کے تحت اتحادِ ملت کے لیے جن پانچ بنیادوں کی  نشان دہی کی گئی ہے ، ان کے لیے فضا ہموار کرنا وقت کا تقاضا ہے۔


عبداللہ ، پتوکی

’قرآن کی درست تلاوت‘ (دسمبر ۲۰۱۳ء) میں قرآن کے حقِ تلاوت کی طرف نہ صرف بجا توجہ دلائی گئی ہے بلکہ عملاً رہنمائی بھی د ی گئی ہے کہ تلاوتِ قرآن کے دوران کن اُمور کو ملحوظ رکھا جائے۔ لہٰذا ہر مسلمان کو جہاں درست تلاوت کا اہتمام کرنا چاہیے وہاں قرآنی عربی بھی سیکھنی چاہیے جو بآسانی سیکھی جاسکتی ہے تاکہ  فہم قرآن اور لذتِ قرآن سے بھی آشنا ہوا جاسکے۔


سرفرازاحمد بھٹی ، لاہور

’نماز اور صحت‘ کے زیرعنوان ڈاکٹر نبیلہ ظہیربھٹی نے معلومات افزا تحریر پیش کی۔ اس سے جہاں نماز کی افادیت واضح ہوئی وہاں انسانی صحت کو درپیش مسائل کے لیے رہنمائی بھی ملی۔ اگر نماز کی ادایگی کے دوران ان اُمور کو بھی پیش نظر رکھا جائے تو تزکیہ و خشیت کے ساتھ ساتھ بہت سے جسمانی امراض سے بھی محفوظ رہا جاسکتا ہے۔


سعدیہ کرمانی ، امریکا

’سوشل میڈیا-ا بلاغ عام کی نئی جہتیں‘ (نومبر ۲۰۱۳ء) نظر سے گزرا۔ اس مضمون میں سوشل میڈیا سے متعلق اہم اُمور کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ نئی نسل سے رابطے اور فکری رہنمائی کے لیے یہ اہم ذریعہ ہے۔ مختلف دینی جماعتیں اس حوالے سے کام کر رہی ہیں۔ جماعت اسلامی کو ترجیحاً اس کے لیے حکمت عملی اپنانی چاہیے۔


نقش بندی فقیر ، ای میل

ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی تحریریں وقتاً فوقتاً ترجمان میں شائع ہورہی ہیں۔ جناب ارشاد الرحمن بھی خوب ترجمانی کر رہے ہیں۔ یہ ایک مفید سلسلہ ہے، اسے جاری رکھا جائے۔ دعوتِ دین اور اُمت مسلمہ کو درپیش فکری چیلنج کے لیے مدلل رہنمائی دی جاتی ہے۔