دسمبر ۲۰۱۸ء میں یہی دن تھے جب خرطوم کی سڑکوں پر عوامی احتجاج کاشعلہ بھڑکا۔ وہ احتجاج روٹی کی قیمت تین گنا ہونے پرشروع ہوا تھا اور پھر مظاہروں کا نہ تھمنے والا سلسلہ چل نکلا۔ مسلح افواج کے ہیڈکوارٹر کے سامنے دھرنا دیا گیا اور تین عشروں سے جما ہوا عمرحسن البشیر کے مقتدر نظام کا دھڑن تختہ ہوگیا۔
عبوری حکومتی نظام، فوجی قیادت اور فوج کے مقرر کردہ سول نمایندوں پر مشتمل تھا، جس میں زیادہ تر کمیونسٹ اور نیشنلسٹ خیالات کے حامی شامل تھے۔ یہ عبوری حکومت ’عدل و انصاف کے قیام، حُریت و آزادی اور عام آدمی کی خوش حالی‘ کے نعروں کے ساتھ برسرِاقتدار آئی تھی۔ سوال یہ ہے کہ تین برس گزرنے کے بعد یہ سارے مقاصد، اہداف اور نعرے حاصل ہوسکے؟ اس جائزے سے پہلے ضروری ہے کہ صدر عمرحسن البشیر کے۳۰سالہ دورِاقتدار کا مختصر طور پر جائزہ لیا جائے۔
یہ ۱۹۸۹ء تھا جب عمرالبشیر فوجی انقلاب لے کر آئے۔ اس وقت سوڈان کی کمزور ترین حکومت کی باگ ڈور وزیراعظم صادق المہدی کے پاس تھی اورجنوب میں ’پیپلز موومنٹ‘ متعصب علیحدگی پسند عیسائی رہنما جون قرنق کی زیرقیادت دردِ سربنی ہوئی تھی۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ سوڈان کا سارا جنوب جون قرنق کےقبضے میں چلا جائے گا۔ ان حالات میں کچھ فوجی افسروں نے جنرل عمر حسن البشیر کی زیرقیادت المہدی حکومت کا تختہ پلٹا اور ملک میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔
اقتدار کے ابتدائی کچھ برسوں میں انقلاب کی نظریاتی جہت کا تعین ڈاکٹر حسن الترابی [یکم فروری ۱۹۳۲ء- ۵مارچ ۲۰۱۶ء] اور ان کے رفقا پس منظر میں رہتے ہوئے کررہے تھے، جب کہ حکومتی اسٹیج پر نمایاں فوجی چہرے نمایشی حیثیت رکھتے تھے۔ رفتہ رفتہ بیرونی طاقتوں کی مدد و اعانت کی حامل اپوزیشن کی طرف سے فوجی حکومت کی مخالفت میں شدت آتی گئی، اور اپوزیشن کے کچھ گروہوں نے مسلح مزاحمت شروع کی، نیز ملک کے فیصلہ ساز مراکز میں دوئی کی بناپر فیصلہ سازی میں تضادات نمایاں ہونے لگے، تو مناسب یہی سمجھاگیا کہ ڈاکٹر حسن الترابی اورحکومت کے اعلیٰ عہدے داران ’حزب الموتمر الوطنی‘ کے پلیٹ فارم سے سامنے آکر اپنی سرکاری حیثیت میں شرکت اقتدار اور فیصلہ سازی کےعمل میں باقاعدہ شامل ہوجائیں۔تاہم، اسپیکر اسمبلی ہوتے ہوئے واضح ہوا کہ حسن الترابی وقت کی رفتار اور اپنی تبدیل شدہ حیثیت کو ٹھیک سے سمجھ نہیں پائے اور اپنی نئی حیثیت کو چیلنج کرنے والے عہدے داران سے اُلجھتے رہے۔
اس دورکے مقتدر نظامِ حکومت میں چونکہ حسن الترابی اور ان کے رفقائے کار فیصلہ کُن اثرورسوخ کے حامل تھے، لہٰذا حکومتی اقدامات خواہ قانون سازی کے ہوں یا انتظام و انصرام کے، ان میں اسلامی رنگ نمایاں نظر آتا تھا۔ بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نمایاں اسلامی رنگ کی ایک وجہ جنوب کی طرف سے بڑھتا ہوا دبائو بھی تھا۔ فیصلہ سازوں کے خیال میں متعصب علیحدگی پسند عیسائی رہنما جون قرنق، جو سیکولر اپوزیشن گروپوں کے اتحادی بھی تھے، ان کا مقابلہ جوابی اسلامی احیائی لہر اور اسلامی شعور اور اسلامی جوش و جذبے کی بیداری ہی سے ممکن تھا۔ یہی وہ عرصہ تھا، جس میں سوڈانی مقتدرہ نے جہاد کی دعوت کو نوجوانوں میں عام ہونے دیا اور اس طرح بہت سے ایسے مسلح گروہ سامنے آئے جو جنوب کے عیسائیوں کے ساتھ معرکہ آرائی میں اپنی افواج کی مدد کے لیے ہمہ وقت تیار تھے۔
اسی عرصۂ اقتدار میں سوڈانی قوانین اور معاشرے کی اسلامائزیشن کا عمل شروع کیا گیا۔ اس سلسلے میں جو نمایاں کارنامہ سرانجام پایا وہ سوڈان کے دستور کی اسلامی تدوین تھی۔ دستور کا یہ اسلامی رنگ ۱۹۹۸ء کے دستور میں نمایاں نظر آتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’’شریعت اسلامیہ، اجماع اُمت ’دستورا اور عرفا‘ قانون سازی کا مصدر و منبع ہوں گے اور ان سے ہٹ کر ہرگز کوئی قانون سازی نہیں کی جائے گی‘‘۔ اسلامائزیشن کا یہ عمل تقریباً انھی خطوط پر تھا، جو صدرجنرل ضیاء الحق کے دور میں ہمارے ہاں انجام پاچکا تھا۔
تاہم، اسلامائزیشن کے اس عمل کی وجہ سے یہ عشرہ، پڑوسی ملکوں اور علاقائی و بین الاقوامی طاقتوں کی طرف سے سوڈان کے محاصرے پر منتج ہوا۔ ان سب ملکوں کی طرف سے دشمنی پر مبنی اس رویے کا مقصود دراصل اسلامائزیشن کے عمل کو روکنا تھا۔ یہ عشرہ ۱۹۹۳ء میں سوڈانیوں کے لیے امریکا کی طرف سے ابتلا اور آزمایش کا یہ پیغام بھی لے کرآیا کہ سوڈان کا نام دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کرلیا گیا۔ اب اگلے تین عشرے، سوڈانی عوام کو اس اعلان کی المناکیوں کو بھگتنا تھا۔ ملک کی درآمدات اور برآمدات تباہ ہوکر رہ گئیں۔ دُنیا کے بنکاری نظام سے سوڈان کا ناتا توڑ دیا گیا، جس کے سوڈان کی معیشت پر انتہائی خوفناک اثرات مرتب ہوئے۔ دوسری طرف خطے کی سیاسی صورتِ حال اس وقت یہ تھی کہ سوڈان کے پڑوسی ممالک ایتھوپیا، اری ٹیریا اور یوگنڈا کی مدد سے اپوزیشن اتحاد مسلح مداخلت پر تلا بیٹھا تھا۔ دوسری طرف مصر جسے سوڈان ہمیشہ اپنے مضبوط دفاعی حلیف اور پشتی بان کے طور پردیکھتا رہا، اس نے مکمل لاتعلقی کا رویہ اپنا لیا۔
عمر حسن البشیر کی حکومت نے گمبھیر ہوتی ہوئی اس صورتِ حال کا تدارک یہ نکالا کہ اقتدار کے دوسرے عشرے میں علانیہ اسلامائزیشن کا عمل تقریباً روک دیا۔ ڈاکٹر حسن الترابی اور ان کے رفقا کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا۔ ۱۹۹۸ء کے دستور میں ۲۰۰۵ء کے اندر ترمیم کردی گئی۔ اگرچہ دستور میں حسب سابق یہ الفاظ تو برقرار رکھے گئے تھے کہ شریعت اسلامیہ قانون سازی کا منبع و مصدر ہوگی، تاہم بہت ساری دفعات میں شریعت کے احکامات کو پہلے کی طرح برقرار نہیں رکھا گیا۔
مغرب کو خوش کرنے کے لیے کی جانے والی اس ساری کاوش کا حاصل تو کچھ نہیں نکلا بلکہ ’ڈومور‘ کے تقاضے کے ساتھ ان طاقتوں نے سوڈانی مقتدرہ کو مزید اَدھ موا کرنے اور اس کی قوت کو مضمحل اور شل کرنے کے لیے دارفور کے صوبہ میں علیحدگی پسند قوتوں کی نہ صرف سرپرستی اور مدد کی، بلکہ نسل کشی کے الزام میں صدر عمر حسن البشیرکے لیے انٹرنیشنل وار کرائمز ٹربیونل کی طرف سے وارنٹ گرفتاری جاری کروا دیئے۔ عالمی طاقتوں سے موافقت اور ان کی ڈکٹیشن قبول کرنے کا یہ عشرہ آخرکار جنوبی سوڈان سے مکمل دست برداری اور بالفعل ایک عیسائی مملکت کے قیام پر منتج ہوا۔
یوں عمرالبشیر حکومت نہ تو ملکی سالمیت برقرار رکھ سکی، اور نہ مقتدر حلقوں کی روزافزوں بدعنوانی کو روک سکی۔ سوڈانی مقتدرہ چند گنے چنے افراد کے گرد گھوم رہی تھی اور ملک فساد اور رشوت ستانی کا گڑھ بنتا جارہا تھا۔ اس پر طرفہ یہ کہ مقتدرہ کی ساری کارستانیاں، اسلامائزیشن کے علَم بردار اسلام پسندوں کے کھاتے میں درج ہوتی جارہی تھیں۔ سسٹم میں فیصلہ کن اختیار رکھنے والے بیرونی طاقتوں سے مفاہمت اور ان سے طاقت کے حصول کی اُمیدیں لگائے بیٹھے تھے۔
بیرونی طاقتوں کی تائید و حمایت سے اقتدار اور سسٹم کو بچانے کے لیے ہی صدر عمر حسن البشیر نے دمشق کا دورہ کیااور شام کے خونی ڈکٹیٹر بشارالاسد سے راہ و رسم بڑھائی۔اسی طرح اقتدار کے اس آخری عرصے میں سوڈانی انٹیلی جنس سربراہ صلاح قوش کی اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ سے ملاقاتیں بھی دراصل اسی پالیسی کا شاخسانہ تھیں۔ اب مقتدرہ کی کوشش تھی کہ اپنے آپ کو مغرب کا قابلِ اعتماد حلیف بتائے اور اسلامائزیشن کی کوششوں کے ناقد اور گریزپا کے رُوپ میں پیش کرسکے۔ تاہم، اب ہاتھ پائوں مارنے کا حاصل کچھ نہیں تھا۔ لہٰذا، چند ماہ کے عوامی احتجاج کے بعد بالآخر ۱۱؍اپریل ۲۰۱۹ء کو فوجی جنتا نے اپنے سابقہ سربراہ عمرحسن البشیر کی معزولی اور ایک فوجی مجلس سیادت کے قیام کا اعلان کردیا۔
چند ماہ بعد اگست ۲۰۱۹ء کو شرکت اقتدار کا فارمولا وضع کیا گیا جس کی رُو سے مجلس سیادت کے پانچ فوجی ممبران اور پانچ سویلین ممبران متعین کیے گئے۔ اس مجلس نے تین برس کے عرصے میں نئے انتخابات کی راہ ہموار کرکے نومبر ۲۰۲۲ء کو اقتدار کی باگ ڈور منتخب جمہوری حکومت کو سونپ دینی تھی۔ سوڈان میں مسلسل چہ مگوئیاں ہوتی رہی ہیں کہ مجلس سیادت کے سویلین ممبران کا چنائو فوج نے خود کیا تھا، یا یہ نام مغربی طاقتوں کے فراہم کردہ تھے؟
اس مجلس سیادت کی قائم کردہ سول حکومت ملک کو کس ڈگر پر لے کر چل رہی تھی، اس کا اندازہ اس قانون سازی سے بخوبی ہو جاتا ہے، جو گذشتہ دو سالہ اقتدار کے دوران کی گئی ہے۔ صاف نظر آتا ہے کہ اس کا ایجنڈا عالمی طاقتوں کی رضاجوئی ہے۔
علاوہ اَزیں مشرقی سوڈان کےعلیحدگی پسندوں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا گیا ہے جس میں یہ اعلان بھی شامل ہے کہ سوڈان کا مجوزہ دستور سیکولر بنیادوں پر استوار کیا جائے گا۔
یہ دیکھنا ضروری ہے کہ گذشتہ برسوں میں اس عبوری حکومت نے جو کچھ کیا ہے، اس کے نتائج کیا ہیں؟ اور کیا سوڈان کے مسلمان ان نتائج سے مطمئن ہیں؟ اکثر تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ عام سوڈانی فرد اس حکومت کی کارکردگی سے مایوس بھی ہے اور ناراض بھی۔ اس وقت سوڈان کو تین بڑے بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے: آئی ایم ایف کی پالیسیاں معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان خلیج کو وسعت دے رہی ہیں۔ غربت اور بے روزگاری کے ساتھ مہنگائی زوروں پر ہے۔
سوڈان کی سالمیت اور وحدت کو درپیش خطرات ٹلے نہیں ہیں۔ جنوبی سوڈان کے بعد دارفور اور مشرقی سوڈان کی علیحدگی کی تحریکیں سرگرمِ عمل ہیں۔ان چیلنجوں سے نمٹنے کا واحدطریقہ اسلام پسندوں کا اتحاد اور سوڈان کی اسلامی شناخت کی طرف مخلصانہ واپسی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انتخابات کے شفاف انعقاد کو یقینی بنانا ہے۔
۱۷دسمبر ۲۰۲۲ء کو تیونس کے عام انتخابات میں صرف ۸فی صد ووٹ ڈالے گئے۔ سواکروڑ سے بھی کم آبادی والا یہ چھوٹا سا ملک تیونس، بحرِ روم کے کنارے شمالی افریقا میں واقع ہے۔ قدیم عرب جغرافیہ داں اس علاقے کو ’مغرب العربی‘ کہا کرتے تھے، جو تیونس، الجزائر، لیبیا، مراکش اور موریطانیہ پر مشتمل ہے۔ ساحلی علاقوں میں بربر عرب آباد ہیں اور اس مناسبت سے مغرب کا ایک اور نام ’بربری ساحل‘ بھی ہے۔ مشہور مسلم جرنیل طارق بن زیاد بربر نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ علمی سطح پر مسجد و جامعہ الزيتونہ دوسری صدی ہجری کے آغاز میں قائم ہونے والا تعلیمی ادارہ، دُنیا کے قدیم ترین مدارس میں شمار ہوتا ہے اور یہ بھی تیونس میں ہے۔
۲۴ دسمبر ۲۰۱۰ءکوبےر وزگاری سے تنگ آکر ایک نوجوان محمد بو عزیزی نے تیونس کے صدارتی محل کے سامنے بطور احتجاج خود کو نذر آتش کر لیا۔ اس کے ساتھ ہی سارے ملک میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔ یہاں کے صدر زین العابدین بن علی (م:۲۰۱۹ء)نے پہلے تو طاقت کا بھر پور استعمال کیا اور پھر معافی تلافی کی کوشش کی۔ لیکن طلبہ کے پر امن مظاہروں سے مجبور ہوکر۲۳ سال تک مطلق العنانیت سے منسوب خودساختہ مردِ آہن اپنے اہل خانہ کے ساتھ ۱۴ جنوری ۲۰۱۱ءکو سعودی عرب فرار پر مجبور ہوگئے۔ صدر صاحب کی خواہش تھی کہ وہ امریکا یا یورپ کے کسی ملک میں پناہ حاصل کریں، مگر ان کے مغر بی سرپرستوں نے اپنے پٹے ہوئے مہرے سے آنکھیں پھیر لیں۔
فوج نے اخوان المسلمون کی فکر سے متاثر ’حرکۃ النہضۃ‘ (تاسیس:۱۹۸۱ء) کے سربراہ راشد الغنوشی (پ:۲۲جون ۱۹۴۱ء)کو قومی حکومت بنانے کی دعوت دی، جسے النہضہ نے فوری طور پر مسترد کردیا۔ جناب غنوشی کا کہنا تھا:’’تیونسی عوام نے چہرے نہیں بلکہ نظام کی تبدیلی کے لیے قربانیاں دی ہیں اور اس وقت ملک کی ترجیح ایک ایسے دستور کی تدوین ہے، جو عوامی اُمنگوں کا ترجمان ہو‘‘۔ چنانچہ پارلیمان کے اسپیکر فواد مبزا کو قائم مقام صدر بناکر انتخابات کی تیاری شروع ہوگئی۔
اُسی سال ۲۳؍اکتوبر کومتناسب نمایندگی کی بنیاد پر انتخابات منعقد ہوئے اور آئین ساز اسمبلی تشکیل دی گئی۔ ملکی تاریخ کے پہلے عام انتخابات میں جوش و خروش دیدنی اور ووٹ ڈالنے کا تناسب ۹۰ فی صد رہا۔ النہضہ نے ۴۱ فی صد ووٹ لے کر ۲۱۷ کے ایوان میں ۹۰ نشستیں حاصل کیں، جب کہ اس کی مخالف سیکولر جماعت پی ڈی پی کو صرف ۱۷ نشستیں مل سکیں۔ کانگریس فار ری پبلک المعروف موتمر ۳۰ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔
النہضہ نے جو آئین ترتیب دیا اس کے بارے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے، ’’یہ دستور نہیں بلکہ انسانی اقدار کا منشور ہے، جس میں قیدیوں کے حقوق تک کی بھی ضمانت دی گئی اور تفتیش کے لیے تشدد کی ہر شکل کو قابل دست اندازیِ پولیس قراردیا گیا۔ ضلعوں کی بنیاد پر سارے ملک میں انسانی حقوق کی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں، جس کے سربراہ حاضر سروس جج تھے ۔ آئین کے مطابق رنگ، نسل، مذہب اور لسانیت کی بنیاد پر امتیاز ایک جرم قرار پایا۔آزادیٔ اظہار کو آئینی تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ عدلیہ کو انتظامیہ کے اثر سے کلیتاً آزاد کردیا گیا‘‘۔
آئین منظور ہوتے ہی جنوری ۲۰۱۳ء میں ایک قومی حکومت تشکیل دی گئی، جس کی نگرانی میں ۲۶؍اکتوبر کو ایوان نمائندگان کے انتخابات منعقد ہوئے۔ لیکن ان انتخابات میں النہضہ کو شکست ہوگئی۔ فوج کی حامی ’ندائے تیونس‘ ۸۶ نشستوں کے ساتھ پہلے نمبر پر رہی اور ۶۹ سیٹوں کے ساتھ النہضہ نے حزب اختلاف کا کردار سنبھال لیا۔ پانچ سال بعد ۲۰۱۹ء میں ایک بار پھر انتخابات ہوئے، جس میں کوئی بھی جماعت اکثریت نہ حاصل کرسکی، لیکن ۵۲ نشستوں کے ساتھ النہضہ پارلیمان کی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری۔
کچھ دن بعد ہونے والے صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں کسی بھی امیدوار کو مطلوبہ ۵۰ووٹ نہ مل سکے، چنانچہ ووٹوں کے اعتبار سے پہلے نمبر پر آنے والے قیس سعید اور ان کے قریب ترین حریف نبیل قروئی کے درمیان Run-offمقابلہ ہوا۔ النہضہ نے قیس سعیدکی حمایت کی اور وہ بھاری اکثریت سے صدر منتخب ہوگئے۔ دوسری طرف راشد الغنوشی کو پارلیمینٹ کا اسپیکر چن لیا گیا۔ یعنی ’انقلابِ یاسمین‘ کی کامیابی کے بعد تیونس میں تین پارلیمانی اور دو صدارتی انتخابات ہوئے اور انتقالِ اقتدار سمیت کسی بھی مرحلے پر کوئی بدمزگی دیکھنے میں نہ آئی۔نظریاتی اختلافات کے باوجود وزیراعظم، صدر، اسپیکر اور حزب اختلاف کے تعلقات انتہائی شان دار رہے۔
عرب دنیا کی تحریکِ آزادی یا ’ربیع العربی‘(Arab Spring) کے آغاز پرعرب حکمراں، اسرائیل اور ان کے مغربی سرپرست لرز کر رہ گئے تھے۔ تب دیکھتے ہی دیکھتے ساری عرب دنیا آمریت کے خلاف اُٹھ کھڑی ہوئی۔ شیوخ و امرا نے جہاں اس تحریک کو کچلنے پر کروڑوں ڈالر خرچ کیے، وہیں اس کی بنیادیں اکھیڑنے کے لیے ان کے سرپرستوں نے بہت عرق ریزی سے کام کیا۔جس میں نصاب کی تبدیلی، اسرائیل سے قریبی تعلقات اور اخوان المسلمون کی بیخ کنی شامل ہے۔
’ربیع العربی‘ صرف تیونس ہی میں اپنے اہداف حاصل کرسکی ۔ مصر میں مغرب و اسرائیل کی ایما پر فوج نے عوامی اُمنگوں کا گلا گھونٹ دیا۔ الجزائر اور بحرین میں بھی یہ مزاحمت کچل دی گئی، جب کہ لیبیا اور یمن میں اٹھنے والی تحریک خانہ جنگی کا شکار ہوگئی۔ یہی حال شام کا ہے جہاں فرقہ وارانہ محاذآرائی نے داعش کا روپ اختیار کرلیا ہے۔ مراکش میں بادشاہ نے اپنے کچھ اختیارات پارلیمینٹ کو منتقل کیے، لیکن وقتاً فوقتاً جاری ہونے والے شاہی احکامات کے ذریعے یہ تمام اقدامات کالعدم کردیئے گئے۔ تیونس کی اس کامیابی کو عالمی و علاقائی قوتوں نے تسلیم نہیں کیا او ر اس کے خلاف ایک منظم مہم دس سال سے جاری ہے۔
مارچ ۲۰۲۰ء میں وارد ہونے والے کورونا نے ملکی معیشت کو برباد کرکے رکھ دیا اور مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن کردی۔اب جمہوریت دشمنوں کی جانب سے حکومت کے خلاف الزام تراشی اور انگشت نمائی کا سلسلہ شروع ہوا،اور تیونسی سیاست دانوں کی برداشت اور مل کر کام کرنے کی ۱۰سالہ مخلصانہ کوششوں پر پانی پھرگیا۔صدر قیس نے شکوہ کیا کہ معیشت میں بہتری کے لیے پارلیمان ان کے اقدامات کی توثیق میں بہت دیر لگارہی ہے۔ دوسری طرف اسپیکر راشد الغنوشی کا کہنا تھا کہ ’’پارلیمان میں بحث کے بغیر قانون سازی نہیں ہوسکتی، تاہم فوری اقدامات کے لیے جاری ہونے والے صدارتی آرڈی ننس پر وہ اعتراض نہیں کریں گے‘‘۔
فوج کی ایماپر حکومت کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے اور جلد ہی اس کا رُخ پارلیمان اور خاص طور سے النہضہ کی طرف ہوگیا۔ پارلیمان کا گھیراؤ کرکے حکومت سے استعفا کا مطالبہ کیاگیا۔ اس دوران تشدد کے واقعات میں درجنوں افراد زخمی ہوئے، کئی مقامات پر نقاب پوش گروہوں نے النہضہ کے دفاتر پرحملے کئے اور جنوب مغربی تیونس کے شہر توزر میں مقامی دفتر کو آگ لگادی گئی اور مارشل لا کے فلک شگاف نعرےبلند ہوئے۔ صدر قیس نے ۲۵ جولائی ۲۰۲۱ءکو پارلیمان معطل کرکے وزیراعظم ہشام المشیشی کو کابینہ سمیت گھر بھیج دیا۔قوم سے اپنے خطاب میں صدر قیس نے حکومت پر سنگین الزام لگائے اور ساتھ ہی دھمکی بھی دے گئے کہ ’’اگر کسی نے صدارتی حکم کی خلاف ورزی کی، تو مسلح افواج روایتی تنبیہہ کے بغیر گولی چلائے گی‘‘۔
ابتدا میں جناب راشد الغنوشی نے صدر کے فیصلے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا، لیکن جب النہضہ کی شوریٰ نے مزاحمت کے بجائے مفاہمت کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا، تو غنوشی صاحب نے مظاہرہ منسوخ کرکے صدر قیس کو بات چیت کی پیش کش کردی۔معزول وزیراعظم نے بھی صدر کافیصلہ قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ نامزد وزیراعظم کو فوری طور پراقتدار منتقل کردیں گے۔ لیکن اس پیش کش کے جواب میں فوج نے پکڑ دھکڑ شروع کردی۔ ساتھ ہی صدر قیس نے منتخب قانون ساز اسمبلی سے منظور کیا جانے والا دستور بیک جنبشِ قلم منسوخ کردیا، اور نئے آئین کی تدوین کے لیے 'قانونی ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔ دوسری طرف معیشت کی تعمیر نو کے لیے ایک عظیم الشان منصوبے کا اعلان ہوا جس کے مطابق: ’’حکومت کے زیرانتظام تمام اداروں کوفروخت کردیا جائے گا اور انھیں فروخت کے لیے پُرکشش بنانے کی غرض سے ان میں بڑے پیمانے پر چھانٹی ہوگی‘‘۔
نئے دستور کا مسودہ سامنے آتے ہی تیونسی مزدوروں کی وفاقی انجمن ’الاتحاد العام التونسي للشغل‘(UGTT) نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’’بڑی طاقتوں کے ایما پر تحریر کی جانے والی یہ دستاویزِ غلامی کسی قیمت پر قبول نہیں کی جائے گی ۔ عوام کی منتخب پارلیمان نے ۲۰۱۱ء میں جو آئین بنایا وہ تیونسیوں کی اُمنگوں کا ترجمان ہے اور اس کی منسوخی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا‘‘۔ اس کے باوجود حکومت نے ۲۶ جولائی کو ریفرنڈم کے ذریعے نیا دستور منظور کرلیا۔ طلبہ و مزدور یونینوں اور سیاسی جماعتوں کے بائیکاٹ کی وجہ سے ریفرنڈم میں ووٹ ٖڈالنے کا تناسب صرف ۳۰فی صد رہا ۔
نئے دستور کی بنیاد پر اس ہفتے عام انتخا بات اس طرح ہوئے کہ سیاسی جماعتوں کو براہِ راست حصہ لینے کی اجازت نہ تھی۔ جماعتی کارکنوں کے امیدوار بننے پر تو کوئی اعتراض نہیں ہوا لیکن مہم کے دوران کسی سیاسی جماعت کا نام، پرچم یا نشان کے استعمال پر پابندی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ تقریباً ۲۵ فی صد نشستوں پر صرف ایک امیدوار ہونے کی وجہ سے ووٹنگ کی نوبت ہی نہ آئی۔الیکشن کمیشن کے سربراہ جسٹس فاروق بوسکار نے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’’۹۰ لاکھ رجسٹرڈ ووٹروں میں سے ۸ لاکھ افراد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا‘‘۔ ’النہضہ‘ سمیت پانچ جماعتی ’محاذِ نجات‘ (Salvation Front)نے انتخابی ڈرامے کا بائیکاٹ کرکے صدر قیس سعید، نئے دستور اور پارلیمان کی تحلیل پر عوام نے اپنے ردعمل کا اظہار کردیا ہے۔محاذ کے سربراہ احمد نجیب الشابی نے کہا کہ تیونسی صدر کے پاس اب استعفا اور دستور و پارلیمان کی بحالی کے سوا کوئی اور راستہ نہیں۔ تاہم، الغنوشی صاحب نے جمہوریت کے آبگینے کو حفاظت سے بحال کرنے کے لیے صدرقیس کو پیش کش کی ہے کہ اگر وہ عوامی اُمنگوں کا احترام کریں تو انھیں صدر برقراررکھا جاسکتا ہے۔
یاد رہے ، صدر قیس کی ساری زندگی قانون پڑھانے اور قانون کی بالادستی پر لیکچر دینے میں گزری ہے۔ کچھ ایسی ہی شخصیت راشد الغنوشی کی بھی ہے۔ صدر قیس نے عبوری وزیراعظم کے لیے جس خاتون کا انتخاب کیا وہ بھی معاملہ فہم شخصیت ہیں۔ المدرسہ الوطنیہ للمھندسين تیونس (National School of Engineers) میں ارضیات کی پروفیسر نجلہ ابومحی الدین رمضان، درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ النہضہ نے اپنے دورِحکومت میں انھیں ’تعلیمی کمیشن‘ کی سربراہ بنایا تھا۔
’النہضہ‘ کی جانب سے بڑھائے جانے والے مفاہمت کے ہاتھ کو صدر قیس جس طرح رعونت سے جھٹک رہے ہیں، اس کے پیچھے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر تو کھل کر قیس کے پشت پناہ ہیں، جب کہ مغرب کچھ کھلے میں، اور کچھ چھپے میں ان کا پشتی بان ہے۔
آئین پر ریفرنڈم اور اس کے بعد عام انتخابات میں عوام کی عدم شرکت سے جناب قیس سعیداپنا اعتماد کھوتے نظر آرہے ہیں اور معاشرے کو انتشار کا شکار کرکے طالع آزماؤں کے لیے نرم چارہ بنا رہے ہیں۔الجزائر، مصر اور فلسطین کے بعد تیونس میں عوامی اُمنگوں پر شب خون سے یہ حقیقت ایک بار پھر واضح ہوگئی کہ مغرب کے لیے وہی جمہوریت قابل قبول ہے جس کا قبلہ واشنگٹن یا بریسلز ہو۔
سوال : جب کوئی شخص غلط کام کرتا ہے تو مجھےخواہ مخواہ غصہ آجاتا ہے، حالانکہ میرا اس کام سے کوئی خاص واسطہ بھی نہیں ہوتا، مگر یہ سخت ذہنی اذیت کا سبب بنتا ہے۔ مثلاً کوئی نماز نہ پڑھے تو مجھے سخت ذہنی کوفت ہوتی ہے، اس کا کوئی علاج بتائیں؟
جواب : یہ کوئی بیماری نہیں ہے، جس کا علاج کیا جائے،یہ تو تندرستی کی علامت ہے۔ اگر کسی شخص کے نماز نہ پڑھنے پر آپ کوئی تکلیف محسوس نہیں کرتے تو خطرہ یہ ہے کہ ایک روز آپ خود بھی نماز چھوڑ بیٹھیں گے۔ اس کی تکلیف تو کم از کم آپ کو محسوس ہونی ہی چاہیے۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر آپ کو اسے تلقین کرنی چاہیے اور اسے اس کا فرض یاد دلانا چاہیے۔ البتہ، غصے اور کوفت کی ایک حد ہوا کرتی ہے۔ اگر غصے اور کوفت کا نتیجہ یہ ہو کہ آپ اس کو صبر سے سمجھائیں اور تلقین کریں تو ٹھیک ہے۔ لیکن اگر غصے اور کوفت کا نتیجہ یہ ہو کہ آپ آگے بڑھ کر اس سے اُلجھ پڑیں، تو یہ ایک غیرحکیمانہ فعل اور غلط قسم کا غصّہ ہوگا۔ تاہم، یہ بات واضح رہے کہ میں ہرغصے کو حلال بھی نہیں کہہ رہا ہوں۔ البتہ یہ ہے کہ اگر اس قسم کا غصہ آپ کو نہ آئے تو یہ ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔(مولانا مودودی، ۳۰؍اپریل ۱۹۷۵ء)
سوال : ہماری بستی کی مسجد میں ایک معروف واعظ صاحب نے اپنے وعظ کے دوران فرمایا: معراج کی رات حضوؐر کو خدائے قدوس کی طرف سے تین علم عطا ہوئے: (۱)علمِ شریعت (۲) علمِ طریقت (۳) علمِ حقیقت۔ حضوؐر کو ربّ کی طرف سے ہدایت ملی کہ علمِ شریعت امت کے ہر خاص و عام تک پہنچایا جائے۔ (۲) علمِ طریقت صرف چند خواص کو پہنچایا جائے۔ (۳) علمِ حقیقت صرف اپنے لیے مخصوص رکھا جائے۔ استدعا ہے کہ آپ قرآن و حدیث کی روشنی میں مسئلے کا جواب عطا فرمائیں ؟
جواب : آدمی کو جب یہ پرواہ نہ رہے کہ اسے اپنے قول و فعل کا کہیں حساب بھی دینا ہے، تو پھر جو اس کے منہ میں آئے کہے اور جو دل میں آئے کرے، کون اس کی زبان پکڑ سکتا ہے؟ غیر ذمہ دار اور اللہ سے نہ ڈرنے والے واعظوں کے منہ میں لگام دینے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ جو باتیں وہ اللہ اور رسولؐ اور دین سے منسوب کرکے ارشاد فرمائیں، ان سے ان کا حوالہ دریافت کیا جائے، حوالہ نہ دے سکیں تو سامعین ان سے صاف کہہ دیں کہ ہم اپنے دین و مذہب کے متعلق کوئی ایسی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں جس کے لیے قرآن یا حدیث یا معتبر اور معروف علما و ائمہ کی سند موجود نہ ہو۔
معراج کی تفصیلات احادیث میں درج ہیں، اور حضورؐ کی سیرت پر لکھی گئی کتابوں میں انھیں نقل کیا گیا ہے۔ ان میں کہیں درج نہیں کہ شب ِ معراج میں آپؐ کو تین طرح کے علوم عطا ہوئے ہوں، اور پھر وہ ہدایات بھی اللہ کی طرف سے دی گئی ہوں جن کا ذکر واعظ صاحب نے کیا ہے۔
ویسے یہ تو معلوم ہی ہے کہ آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا علم ہر فرد بشر سے زیادہ تھا۔ بہتیرے ایسے حقائق و معارف ہوں گے جو حضوؐر تک ہی محدود رہے اور ان کے انکشاف و اظہار کی ضرورت انھوں نے نہیں سمجھی۔ لیکن یہ ایسے ہی معارف ہو سکتے ہیں جن کا چھپانا کھولنے سے بہتر ہو، اور جن کا تعلق دینی تعلیمات سے نہ ہو۔ ایسی کوئی چیز حضورؐ نے امت سے چھپا کر نہیں رکھی جو ان کی روحانی ترقی کے لیے مفید اور تکمیلِ ایمان کے لیے مؤثر ہو۔
بعض خوش فہم کہتے ہیں کہ ’’آںحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حضرت علیؓ کو بعض ایسے معارف و اَسرار سے آگاہ کیا تھا جنھیں کسی اور پر منکشف نہیں فرمایا‘‘۔ یہ بھی محض ایک بے بنیاد دعویٰ ہے، اور خود حضرت علیؓ کی زبانی اس کی تردید ملتی ہے۔ ان واعظ صاحب سے ضرور پوچھیے کہ شبِ معراج کی جو تفصیل آپ پیش فرما رہے ہیں وہ آپ کو کہاں سے معلوم ہوئی؟ (مولانا عامر عثمانی، مئی ۱۹۷۰ء)
بدیع الزماں سعید نورسی کے رسائل اور ان کی جماعت جو آن کی آن میں قوت پکڑگئی اور مختلف علاقوں میں پھیل گئی۔ مصطفےٰ کمال کے لیے ایک لادینی معاشرہ وجود میں لانے کے راستے میں پہلا روڑا ثابت ہوئی۔ چنانچہ مصطفےٰ کمال نے بدیع الزماں کو اسپارٹا کے ایک دُورافتادہ علاقہ ’بارلا‘ میں جلاوطن کردینے کے احکام صادر کر دیئے۔ وہاں موصوف کو شدید پہروں کے ساتھ یکہ و تنہا رکھا گیا۔ مگر بدیع الزماں کی پُرکشش شخصیت نے خود پہرہ داروں کے دلوں میں اُترنا شروع کردیا اور تھوڑا ہی عرصہ گزرا کہ پہرے داروں کا ایک گروہ آپ کی دعوت کا حامی اور آپ کے اسلامی نظریات کا علَم بردار ہوگیا۔ اس موقعے سے موصوف نے فائدہ اُٹھایا اور اپنے اُن رسائل کی تصحیح میں وقت گزارنے لگے، جو تلامذہ کی طرف سے اُن کے پاس پہنچتے رہتے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ نے الحاد و لادینیت کے خلاف بھی بھرپور تنقیدیں تیار کیں۔
بدیع الزماں نے ’بارلا‘ کے قیدخانے میں آٹھ سال گزارے۔ جیل میں موصوف اپنا کھانا خود ہی تیار کرتے تھے، خود ہی اپنے کپڑے دھوتے تھے اور دوسرے تمام اُمورخود ہی سرانجام دیتے رہے۔ مصطفےٰ کمال نے صرف اسی پر اکتفا نہ کیا۔ چونکہ بدیع الزماں کے قلب ِ حق پرست سے اُٹھنے والی دینی شعاعیں برابر لوگوں کے اندر بکھر رہی تھیں اور ان کے رسائل کی اشاعت روز بروز بڑھتی جارہی تھی۔ اس لیے مصطفےٰ کمال نے بذریعۂ حکم بدیع الزماں کو اور ان کے ۱۲۰ طلبہ کو سخت پہروں کے ساتھ ’اسکی شہر‘ کی جیل میں منتقل کروا دیا۔ طویل تحقیقات کے بعد حکومت کو کوئی ایسا ثبوت نہ ملا جو موصوف پر عائد شدہ الزامات کو درست قرار دے سکے۔ اس کے باوجود عدالت نے موصوف کو گیارہ ماہ قید کی سزا دی۔ (’ترکی کے مردِ مجاہد بدیع الزماں کی شخصیت و دعوت، ترجمہ: مولانا خلیل احمد حامدی، ترجمان القرآن، ج۵۹، عدد۴،جنوری ۱۹۶۳ء،ص ۳۹-۴۰)