مضامین کی فہرست


جون ۲۰۱۴

سوال : 

موجودہ دور میں مردوں کی دوسری شادی (پہلی بیوی کی موجودگی میں) کے معاملے میں مَیں نے جتنا غور کیا ہے تو یوں لگتا ہے کہ اگرچہ شریعت نے مرد کو یہ اختیار دیا ہے لیکن عملاً یہ اختیار پہلی بیوی کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اگر میاں بیوی کے درمیان بہت اچھی ذہنی ہم آہنگی بھی ہو، اور خوش گوار ازدواجی زندگی گزار رہے ہوں، اس کے باوجود شوہر یا تو اپنی فطری خواہش کی وجہ سے دوسری شادی کرنا چاہتا ہو، یا پھر کسی ایسی بے سہارا خاتون کو سہارا دینے کے لیے کرنا چاہتا ہو جو کہ خود بھی ایک دین دار اور خوفِ خدا رکھنے والی خاتون ہو، مگر پہلی بیوی اس بات کو پسند نہ کرے اور ایسے میں مرد بیوی کی ناراضی اورگھر میں ناچاقی کے ڈر سے اپنے ارادے سے باز رہے، تو کیا بیوی گناہ گار ہوگی کہ اس نے اللہ کے عطا کردہ اختیار کو استعمال کرنے سے روک دیا؟

اس معاملے میں دوسری رکاوٹ ہمارا معیارِزندگی ہے۔ عورتیں اپنے شوہروں سے مطالبہ کرتی ہیں کہ بالکل علیحدہ گھر کا انتظام کریں مگر ہماری ضروریات اور لوازمات اس قدر    بڑھ چکے ہیں کہ آج کے ا س مہنگائی کے دور میں عملاً یہ ممکن نہیں رہا۔ بہت ہی کم لوگ ہیں جو اس کا بار اُٹھا سکتے ہیں۔ اگر دونوں بیویوں کو ایک ہی گھر میں رکھا جائے تو کیا   یہ اسلامی معاشرت کا ایک اچھا نمونہ کہلانے کے قابل ہوگا یا اس کے برخلاف؟

میں اپنی بات کو عمومیت سے ہٹا کر خاص اپنے معاملے کو آپ کے سامنے بیان کرنا چاہتی ہوں۔ میری عمر ۳۶سال ہے، شادی کو ۱۱سال ہوئے ہیں اور چھے بچے ہیں۔ دعوتِ دین کی جدوجہد سے وابستہ ہونے کی حیثیت سے مَیں نے ہمیشہ یہ محسوس کیا ہے کہ ہم خواتین کا اصل کام یہ ہے کہ ہم عملاً اسلامی معاشرت کو اپنے گھروں میں زندہ کریں۔ کیونکہ خواتین کا اصل میدان تہذیبی اور معاشرتی میدان ہے۔

پھر میں نے یہ سوچا کہ اسلام تو دینِ فطرت ہے۔ تعددِ ازدواج مرد کی فطرت سے  قریب تر ہوگااس لیے اس کی اجازت دی گئی ہے۔ پھر شریعت میں انفرادی مصلحت پر اجتماعی مصلحت کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس اجازت کی بدولت معاشرے کی بہت سی  بے سہارا خواتین کے حقوق کا تحفظ ممکن بنایا گیا ہے۔ دوسری طرف پہلی بیوی کے لیے یہ بات اگر اتنی ناگوار ہے تو شاید قصور شریعت کا نہیں بلکہ ہمارے اپنے مزاج کا ہے۔ شریعت کے احکام تو فطرت پر ہیں مگر ہمارا نفس شاید فطرت کے خلاف استوار ہوچکا ہے۔

میرے قریبی حلقے میں بعض ایسی خواتین ہیں جو یا تو بیوہ ہوگئیں یا انھیں طلاق دے دی گئی ہے۔ بہت سوچ بچار اور بارہا استخارے کے بعد میں نے یہ فیصلہ کرلیا کہ اپنے شوہر کی دوسری شادی مکمل رضامندی کے ساتھ کرا دوں۔ میرے شوہر نے بھی میرے اُوپر چھوڑاہے کہ آپ راضی ہوں تو میں دوسری شادی کروں گا۔ عقلی طور پر بہت سے دلائل میں اس فیصلے کے حق میں جمع کرچکی ہوں مگر جذباتی طور پر تمام دوسری عورتوں کی طرح میں بھی اسے ایک نہایت مشکل مرحلہ سمجھتی ہوں۔ اگر میں اپنے شوہر کو اس سے روک دوں یا خوش دلی سے آمادہ نہ ہوں، تو پوری زندگی مجھے یہ احساس رہے گا کہ میں شریعت کی مصلحتوں کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوں۔

بہت سوچ کر مَیں نے ایک باعلم اور عمر رسیدہ تحریکی خاتون سے مشورہ کیا جنھوں نے میری راے کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ: یہ تو تم خود اپنے آپ کو آزمایش میں ڈال رہی ہو۔ اللہ کو یہ مطلوب ہرگز نہیں ہے کہ بندہ خود کو مشکل میں ڈالے اور نہ تو یہ کوئی عزیمت کا راستہ ہے، نہ کسی متروک اسلامی روایت کا احیا ہی ہے۔ بالکل غلط سوچ ہے تمھاری۔ جب مرد تمھارا شوہر اس ضمن میں زبردستی نہیں کر رہا تو اپنی زندگی میں تلخی نہ بھرو۔

اس بات پر میں مطمئن نہ ہوسکی۔ ایک طرف اپنی اس بہن کے بارے میں سوچتی ہوں جو بے سہارا ہے اور وہ حدیث ذہن میں آتی ہے کہ اسلامی معاشرے کی ہر اینٹ دوسری کو تقویت دیتی ہے۔ دوسری طرف مجھے معلوم ہے کہ میرے شوہر کی بھی خواہش ہے لیکن وہ مجھے ناراض نہیں کرنا چاہتے۔ تیسری طرف یہ بھی دیکھتی ہوں کہ میرے شوہر کو اللہ تعالیٰ نے معاملہ فہمی، وسعت ظرف اور عدل جیسی خوبیاں عطا کی ہیں۔ پھر جب کسی قدر اپنے دل کی تنگی کو رکاوٹ بنتا محسوس کرتی ہوں تو اپنے فہم کے مطابق مجھے یہی  سمجھ میں آتا ہے کہ مجھے بہرحال اس راستے کو اختیار کرنا چاہیے کیونکہ شاید یہی عزیمت ہے اور دوسری صورت میں، مَیں رخصت کو اختیار کروں گی۔ عزیمت کو اختیار کرنے کے لیے مجھے اپنی کمزوریوں کو دُور کرنا چاہیے اور اللہ پر توکّل کرنا چاہیے۔

جواب :

یہ جان کر خوشی ہوئی کہ اس گئے گزرے دور میں بھی تحریکِ اسلامی سے وابستہ خواتین کو ایسے حساس معاملات میں جن میں خود ان کے جذبات اور حقوق متاثر ہوتے ہوں، اپنی ذات سے بلند ہوکر صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول اور رب کریم کی نافرمانی سے بچنے کی خواہش انھیں زیادہ عزیز ہے۔ اللہ تعالیٰ تحریکِ اسلامی سے وابستہ اور دیگر خواتین کو بھی اپنی ذاتی پسند، سہولت اور خواہش سے بلند ہوکر قرآن وسنت پر عمل کرنے کی توفیق دے، آمین!

سوال :

میں تین اہم پہلو غور طلب ہیں: اوّل اسلام کے معاشرتی اور عائلی نظام میں بنیادی اکائی یک زوجگی کی ہے یا تعدُّد کی اور اس حوالے سے سنت مطہرہ سے کیا اصول و ہدایت ملتی ہے؟ دوم: اسلامی معاشرے میں بیوہ اور مطلقہ خواتین کا مسئلہ کس طرح حل کیا جائے؟ سوم: یہ کہ اگر ایک شادی شدہ شخص جو اپنی بیوی سے مطمئن ہو، اللہ نے اسے اولاد بھی دی ہو ، ذہنی اور فکری سکون بھی اسے حاصل ہو لیکن وہ مزید نکاح کا خواہاں ہو، تو کیا اس کا قرآن کی دی ہوئی ’اجازت‘ کا استعمال کرنا اس کا اپنے ساتھ، اپنی بیوی اور اولاد کے ساتھ عدل کا رویہ ہوگا؟

جواب :

ضمنی طور پر یہ پہلو بھی غور کا مطالبہ کرتا ہے کہ اگر ایک شخص نکاح ثانی کا خواہاں ہو اور اس کے پاس مالی وسائل نہ ہوں یا موجود ہوں تو کیا محض وسائل کی موجودگی اسے ایک ’شرعی‘ اجازت کو استعمال کی اجازت دیتی ہے، یا اُس کے مقابلے میں وہ افراد جو ابھی تک شادی شدہ نہ ہوں انھیں ترجیحی بنیاد پر ایسی خواتین کو اپنانا چاہیے؟

قرآنِ کریم نے ایک عمومی اصول جو تمام اہلِ ایمان کے لیے بیان فرمایا ہے وہ اپنی بساط سے زیادہ بوجھ کا نہ اُٹھانا ہے۔ حضرت عمرو بن عاصؓ کے صاحبزادے حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: اے عبداللہ! کیا میں نے یہ ٹھیک سنا ہے کہ تم مستقل روزے رکھتے ہو اور رات بھر کھڑے ہوکر عبادت کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں یارسولؐ اللہ۔ آپ ؐ نے فرمایا: اچھا اب ایسا مت کیا کرو، روزہ رکھو بھی اور نہ بھی رکھو اور راتوں کو کھڑے ہوکر عبادت بھی کیا کرو اور سویا بھی کرو کیونکہ تمھارے جسم کا بھی تم پر حق ہے اور تمھاری آنکھوں کا بھی تم پر ایک حق ہے اور تمھاری بیوی کا بھی تم پر ایک حق ہے۔ تمھارے پاس ملاقات کے لیے آنے والوں کا بھی تم پر ایک حق ہے‘‘۔(متفق علیہ)

ظاہر ہے تقویٰ اور اللہ تعالیٰ کی بندگی اختیار کرنے میں جتنا اضافہ کیا جائے، وہ ایک فرد کے اپنے نقطۂ نظر سے مطلوب و محبوب چیز ہوگی، لیکن ہادی اعظم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ نہ کوئی تقویٰ کا حامل ہوسکتا ہے اور نہ تقویٰ کی صحیح تعلیم دینے والا۔ آپؐ ایک فرد اور اس کے متعلقات کے حقوق میں جس توازن و اعتدال کا حکم دے رہے ہیں وہ محض روزے تک محدود نہیں ہوگا۔ اس متفق علیہ حدیث پر قیاس کرتے ہوئے پہلی بات تو یہ یاد رکھنے کی ہے کہ رمضان کا روزہ فرض ہے لیکن نفلی روزہ، فرض کا مقام حاصل نہیں کرسکتا۔ قرآن و سنت کی روشنی میں غیرشادی شدہ شخص کا نکاح کرنا ایمان کی تکمیل کا ذریعہ اور سنت ِ رسولؐ کی اتباع ہے۔ فقہی طور پر اگر ایک غیرشادی شدہ شخص اس سنت کا انکار کرتا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی روشنی میں وہ آپؐ کی اُمت سے خارج ہوسکتا ہے، لیکن جو اس فرض کو ادا کر کے صاحب ِ اولاد اور صاحب ِ سکون ہو، اس کا دوسری یا تیسری شادی کرنا نہ واجب ہے اور نہ اللہ کے ہاں جواب دہی کا باعث۔ جس نے اس واجب پر عمل کرلیا، اس کے لیے دوسری شادی وجوب میں شامل نہیں ہوگی اور نتیجتاً دوسرے نکاح کے نہ کرنے سے نہ وہ کسی معصیت کا ارتکاب کرے گا، نہ کسی حق کو پامال کرے گا بلکہ وہ اپنے، اپنی بیوی اور اپنی اولاد کے حقوق کے صحیح طور پر ادا کرنے کی اولیت (priority) کو برقرار رکھ کر زیادہ اجر کا مستحق ہوگا۔

مزید یہ کہ قرآن کے اصول لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا ط  (البقرہ۲:۲۸۶) کی وضاحت اُوپر درج کی گئی حدیث سے جس طرح ہوتی ہے اس کی روشنی میں اس معاملے پر  غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اصل مسئلہ محض شوہر کی خواہش کا نہیں ہے بلکہ شوہر پر واجب اُن حقوق کا ہے، جن کی اوّلیت ایک ایسے کام کے کرنے سے جو اس پر واجب نہیں ہے متاثر ہوتی ہے اور اس مصلحت کی بناپر اس کا خود کو یہ سمجھاکر مطمئن کرنا کہ وہ دوسری شادی اجتماعی مفاد کی بنا پر کرلے، درست نہیں ہوگا۔ ہاں، اس صورتِ حال میں وہ افراد جو ابھی تک شادی شدہ نہیں ہیں ان پر فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ ایسی نیک اور صالح خواتین کو اپنے عقد میں لیں جو بیوہ یا مطلقہ ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا عقد حضرت خدیجہؓ سے ہوا جو بیوہ تھیں اور تمام زندگی آپؐ کی نگاہ میں انتہائی محترم اور محبوب شخصیت رہیں اور ان کی حیاتِ مبارکہ میں آپ نے اِس اجازت پر غور نہیں فرمایا۔

اس پس منظر میں سوال کے پہلے پہلو پر غور کیا جائے تو یوں نظر آتا ہے کہ سورئہ نساء میں چار کی حد تک اجازت کا سیاق و سباق عموم کا نہیں بلکہ حالت ِ اضطرار سے قریب تر ہے۔ چنانچہ  اصلاً زور اسی بات پر ہے کہ ایک کے ساتھ نکاح ہو اور اس کے ساتھ عدل کا رویہ اختیار کیا جائے۔ یہ عدل محض مادی معاملات میں نہیں کیا جاسکتا۔ اس میں نفسیاتی، دینی اور روحانی تعلق کے ساتھ تمام معاشرتی پہلوئوں سے عدل شامل ہے۔ اسی بناپر فرمایا گیا کہ اگر ایسا عدل کرسکو تو دوسرے نکاح کا خیال کرو ورنہ ایک ہی پر، اپنی تمام خواہش کے باوجود قانع رہو۔

اگر دیکھا جائے تو ایک شوہر کو پہلے نکاح سے حاصل ہونے والے فوائد میں جہاں فطری تسکین شامل ہے، وہاں نفسیاتی اور دینی طور پر جو تعلق استوار ہوجاتا ہے وہ یکساں اہمیت کا حامل ہے۔ باہمی اعتماد، قلب و نظر کا سکون، مادی پیمانوں سے ناپا نہیں جاسکتا۔ اسی لیے اس رشتے کو قرآنِ کریم نے اللہ تعالیٰ کی ایک آیت قرار دیا ہے۔ دوسری شادی اس قیمتی فطری تعلق کو بگاڑنے کا ایک ممکنہ ذریعہ بن سکتی ہے۔ اس لیے اس سے قطع نظر کہ پہلی بیوی دوسری شادی کی شکل میں   خوش ہوتی ہے یا ناراض، عائلی زندگی کے اسلامی مقاصد دوسری شادی سے ٹکراتے ہیں۔

دوسرا اہم پہلو مطلقہ یا بیوہ صالح مسلم خواتین کے معاشرتی مقام کا ہے۔ بعض علاقوں میں دیگر مذاہب کے زیراثر مسلمانوں میں بھی یہ تصور عام ہوگیا کہ بیوہ کی عظمت تمام زندگی اپنے شوہر سے وفاداری کے طور پر شادی نہ کرنے میں ہے۔ یہ ایک خالص غیراسلامی تصور ہے۔ اسلام اس تصور کو رد کرتا ہے اور یہ سنت ِ رسولؐ سے ثابت ہے۔ اسی بناپر سیّداحمد شہیدؒ نے اپنے بھائی کی بیوہ سے نکاح کرکے اس غیراسلامی تصور کی اصلاح کرنا اپنا فرض سمجھا۔ اس لیے بیوہ کا عقد ثانی کرنا یا مطلقہ کا عقد ثانی کرنا اسلام کے معاشرتی نظام کے مقاصد سے پوری مطابقت رکھتا ہے۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ جو شخص پہلے سے شادی شدہ ہو وہی ایسی خواتین کا سہارا بنے بلکہ اسلام کا مدعا یہ نظر آتا ہے کہ معاشرے کے جو افراد غیرشادی شدہ ہوں انھیں اس طرف متوجہ کیا جائے اور اس طرح کے رشتوں کی ہمت افزائی کی جائے۔

جیساکہ آغاز میں عرض کیا گیا تعدد ازدواج کی یہ تعبیر کہ ایک سے زائد شادی کرنا مرد کی فطرت سے قریب ہے، ایک قیاس اور تعبیر کا معاملہ ہے۔ شریعت کا مدعا ایسا نظر نہیں آتا۔ کسی کام کی اجازت ایک استثنا بھی ہوسکتی ہے اور عموم بھی۔سورئہ نساء کی آیت پر غور کیا جائے تو اس اجازت میں عموم نہیں پایا جاتا بلکہ استثنائی اور اضطراری کیفیت کی طرف رجحان نظر آتا ہے تاکہ ہر دور میں بدلتے حالات میں قرآنی قانون سازی پر یکساں عمل کیا جاسکے۔ آپ نے جو صورت حال تحریر فرمائی ہے اس میں محض ’خواہش‘معقول بنیاد نہیں بن سکتی بلکہ اگر ایسی ’خواہش‘ ہے تو موجودہ بیوی سے ہی اس کا پورا کرنا دین کا مدعا ہے۔

یہ بات بھی واضح ہونی چاہیے کہ عائلی زندگی بجاے خود ایک اجتماعی عمل ہے۔ اس لیے انفرادی اور اجتماعی مصلحت کے فلسفے کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ بے سہارا خواتین کے عقد کے لیے انفرادی اور اجتماعی کوشش لازماً کرنی چاہیے لیکن جیساکہ اُوپر عرض کیا گیاایک مسئلے کے حل کرنے کی غرض سے ایک خاندان کے نظام کو، اس کے سکون کو اور بیوی اور اولاد کے حقوق کو نہ ثانوی حیثیت دی جاسکتی ہے اور نہ نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔کسی شادی شدہ خاتون کا وقتی طور پر یہ سمجھنا کہ وہ اپنے جذبات کو تھوڑی بہت محنت سے اور اسے ’عزیمت‘ سمجھتے ہوئے بخوشی گھر کے معاملات میں شراکت گوارا کرلے گی، اپنے آپ کو محض خوش فہمی میں رکھنا ہے۔ رہا استخارے کا معاملہ تو استخارہ ان تمام معاملات میں کرنا سنت ہے جہاں بظاہر ایک معقول حل نظر نہ آرہا ہو لیکن جن معاملات میں عقل اور تجربہ، دونوں ایک معاملے میں متفق ہوں وہاں استخارہ غیرضروری ہے۔

گھروں میں اسلامی طرزِ معاشرت کی جیتی جاگتی تصویر کے لیے شوہر کا دوسری شادی کرنا نہ شرطِ اوّل ہے نہ شرطِ ثانی۔ البتہ بے سہارا خواتین کے عقد کے لیے کوشش ایک دینی فریضہ ہے۔ کیا آج ہمارے معاشرے میں ایسے بے شمار افراد موجود نہیں ہیں، جو بڑی عمر تک وسائل نہ ہونے کی بناپر شادی مؤخر کرتے رہتے ہیں۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ جو صاحب اس مسئلے کے حل کے لیے    دل چسپی رکھتے ہیں وہ ایک ایسے مرد کو وہ تمام وسائل فراہم کردیں جو اس کو نکاح کرنے کے لیے درکار ہوں اور اس طرح وہ بے سہارا خاتون اور وسائل کی کمی کے سبب شادی سے محروم رہنے والا ایک مسلمان، دونوں کی ضرورت پوری ہوجائے۔

اپنے آپ کو جان بوجھ کر آزمایش میں ڈالنا دین کا مدعا ہے نہ عقل کا مطالبہ۔ اس کے باوجود ایک باشعور مسلم خاتون کا بے سہارا مسلم خواتین کی مدد کے لیے اپنی خاندانی زندگی کو آزمایش سے دوچار کرنا ایک قابلِ قدر جذبہ تو ہے لیکن اسے شریعت کا مطالبہ تصور کرنا درست نہیں۔

اصولی بات یہ ہے کہ اسلام نے دوسری شادی کی نہ ترغیب دی ہے اور نہ مخالفت کی ہے اور نہ واضح حوصلہ شکنی کی ہے۔ بس اس کا دروازہ کھلا رکھا ہے تاکہ حقیقی ضرورت کی صورت میں استفادے کا موقع موجود رہے۔ فیصلہ فرد کو اپنے ضمیر اور دینی اور خاندانی زندگی کے استحکام کے مصالح کو سامنے رکھ کر کرنے کا اختیار دیا ہے۔ البتہ یہ انتباہ واضح الفاظ میں کردیا ہے کہ انصاف ہرصورت میں شرطِ لازم ہے۔ ایسے نازک اُمور کو جذبات یا عزیمت اور گناہ کے تخیلاتی احساسات کے تحت طے کرنا شریعت اور عقل دونوں کے اعتبار سے محلِ نظر ہے۔ البتہ جو اجتماعی مسئلہ اس سوال کا باعث بناہے، وہ اپنی جگہ اہم ہے اور اس کا حل فرد اور معاشرے کی اخلاقی اصلاح اور تربیت ہی میں مضمر ہے،واللّٰہ اعلم بالصواب۔(ڈاکٹر انیس احمد)

_______________

ھم نے آج تراویح میں کیا پڑہا؟ اُردو اور سندھی زبان میں تراویح کے دوران  روزانہ پڑھے جانے والے قرآن کریم کے حصے کا خلاصہ اور قرآنی و مسنون دعائیں  مع آسان ترجمہ مفت تقسیم کی جارہی ہیں۔ خواتین و حضرات عام ڈاک کے لیے 15روپے اور ارجنٹ میل سروس کے لیے 55روپے کے ڈاک ٹکٹ درج ذیل پتے پر روانہ کریں:

ڈاکٹر ممتاز عمر، T-473، کورنگی نمبر 2، کراچی-74900

First Principles of Islamic Economics ،[معاشیاتِ اسلام کے ابتدائی اصول]، سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ، تدوین: پروفیسر خورشیداحمد، ترجمہ: احمد امام شفق ہاشمی۔ ناشر:انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز، سٹریٹ نمبر۸، سیکٹر ۳/۶-ایف،اسلام آباد۔ فون:۳-۸۴۳۸۳۹۱-۰۵۱۔ صفحات (بڑی تقطیع): ۲۹۰۔ قیمت: ۸۰۰ روپے۔

سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ نے جس موضوع پر بھی قلم اُٹھایا اس کا حق ادا کیا۔ ان کی تحریر یں قرآن و حدیث، اسلامی افکار اور جدید و قدیم لٹریچر کے گہرے مطالعے کا نچوڑ ہوتی ہیں۔ آج کے دور کا اہم ترین موضوع ’معاشیات‘ اور ’اسلامی معاشیات‘ قرونِ اولیٰ اور قرونِ وسطیٰ کے علما کی تحریروں میں تو نظر آتاہے، لیکن علامہ ابن خلدون ؒ کے بعد کے اَدوار میں مغرب کے اسکالروں کی تحریریں ہی نظر آتی ہیں۔ مسلمان علما نے اس موضوع پر بہت کم لکھا۔

سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اس موضوع پر لکھا اور لکھنے کا حق ادا کیا۔ ان کے بعد ان کے رفقا نے اس موضوع پر خوب لکھا۔ آج اس موضوع پر ہزاروں کتابیں، کتابچے اور مقالات لکھے جاچکے ہیں۔ سیّد مودودیؒ نے اس موضوع پر ۱۹۳۰ء کے عشرے میں لکھنا شروع کیا۔ ۱۹۶۰ء کے عشرے تک مولانا کی تحریروں کو پروفیسر خورشیداحمد نے معاشیاتِ اسلام کے قالب میں ڈھالا اور   اس کتاب کی تدوین کی۔ بعدازاں اس کتاب کا انگریزی ترجمہ لاہور سے شائع ہوا۔

First Principles of Islamic Economics ،معاشیاتِ اسلام کاایک جدید اور جامع ترجمہ ہے۔ احمد امام شفق ہاشمی نے خوب صورت اور جامع انگریزی میں یہ ترجمہ کیا ہے۔ اس کتاب میں اسلامی معاشیات کے تقریباً تمام ہی نظری مباحث موجود ہیں۔ سیّد مودودیؒ نے دورِجدید کے تناظر میں قرآن و سنت کی روشنی میں معاشی مسائل پر بحث بھی کی ہے اور جدید ذہن میں اُٹھنے والے سوالات کے جوابات بھی دیے ہیں۔ اسلامی نقطۂ نظر سے فلاح کے اسلامی تصور کی وضاحت بھی کی ہے اور دیگر معاشی نظاموں سے موازنہ بھی، خصوصاً نظامِ سرمایہ داری سے۔ قرآن پاک کی معاشی تعلیمات کا نچوڑ بھی پیش کیا ہے اور اسلام کے معاشی فلسفے پر بحث بھی کی ہے۔ اسلامی معاشی نظام کے مقاصد کے ساتھ معاشی زندگی کے اسلامی اصول بھی بیان کیے ہیں۔ اسلامی معاشی نظام کے اہم خدوخال بیان کرتے ہوئے زمین کی ملکیت کے اسلامی تصور، سود کی حُرمت اور اس کے دلائل، زکوٰۃ کا نظریہ اور عملی اطلاق کی صورتیں، سماجی انصاف (Social Justice) کی ضرورت و اہمیت کو اُجاگر کیا ہے۔ دورِ جدید کے مسائل متعلقہ محنت و مزدور، انشورنس اور قیمتوں کے تعین (price control)کے بارے میں اسلامی تعلیمات پیش کی ہیں۔ دورِ جدید میں اسلامی معاشی قوانین کی تشکیل جدید پر بحث سے اس کتاب کا اختتام ہوتا ہے۔

یقینا یہ کتاب انگریزی دان طبقے ، جامعات کے اساتذہ و طلبہ کے علاوہ محققین کی لائبریری میں ایک قابلِ قدر اضافہ ثابت ہوگی۔سرورق جاذبِ نظر ہے۔(ڈاکٹر میاںمحمد اکرم)


عزیزِ جہاں،قاضی حسین احمدؒ، مرتب: جمال عبداللہ عثمان۔ ناشر:ادارہ فکروعمل، مکان ۲۷۷،  ناظم الدین روڈ، اسلام آباد۔ فون: ۲۸۰۳۰۹۶-۰۵۱۔ صفحات: ۳۸۷۔ قیمت: ۷۸۰، مجلد: ۱۲۰۰ روپے۔

’’قاضی حسین احمد تاریخِ پاکستان کے بڑے آدمیوں میں سے تھے‘‘۔ ممکن ہے اس جملے پر بعض لوگ چونکیں اور انھیں اس بیان کو تسلیم کرنے میں کچھ تامّل ہو اور وہ سوال کریں: وہ کیوں  ایک بڑے آدمی تھے؟

اس کی متعدد وجوہ ہیں: وہ ایک بڑی دینی اور سیاسی پارٹی (جماعت اسلامی) کے سربراہ تھے۔ ایک ایسی جماعت کے سربراہ جس نے قیامِ پاکستان کے مقاصد اور نصب العین (لاالٰہ الا اللہ کا نفاذ، بصورتِ اسلامی شریعت) کو تروتازہ رکھا، اور ایک ایسی جماعت کے سربراہ، کہ جس نے دوسری پارٹیوں کی طرح وسائلِ پاکستان کولوٹ کر،اپنی جیبوں میں منتقل نہیں کیا، اور ایک ایسی جماعت کے سربراہ جس نے پاکستان کی بقا اور تحفظ کے لیے عملاً سب سے زیادہ قربانیاں دیں اور اس پر اپنے نوجوانوں کی جانیں تک نچھاور کردیں۔ پھر قاضی حسین احمد کو ایک سیاسی پارٹی کی سربراہی وراثت میں نہیں ملی تھی، بلکہ وہ اپنی صلاحیتوں کی بناپر اپنی جماعت کے سربراہ مقرر کیے گئے تھے۔ ان کا شمار اس لیے بھی بڑے آدمیوں میں ہونا چاہیے کہ انھوں نے سیاست دانوں کی طرح، پارلیمنٹ کا ممبر ہونے کے باوجود مادی وسائل اور پلاٹ جمع نہیں کیے تھے اور وہ کسی بنک کے نادہندہ بھی نہیں تھے۔ جب پاکستان کے دفاع کی بات کی جائے گی تو پاکستان کے ساحلوں تک پہنچنے کے عزائم رکھنے والے سرخ ریچھ کو افغانستان کی سرحد پر روکنے اور پھر وہیں سے اس کا    منہ پھیرنے کی منصوبہ بندی میں بھی قاضی صاحب نے بہت بنیادی کردار ادا کیا تھا۔

زیرنظر کتاب عزیزجہاں، قاضی حسین احمدؒ اسی بڑے آدمی کو خراجِ تحسین کی ایک صورت ہے۔ یہ اُن چھوٹے بڑے مضامین کا مجموعہ ہے جو قاضی صاحب کی وفات کے بعد لکھے گئے، اخبارات اور رسائل میں چھپے اور بعض تقاریب میں بھی پڑھے گئے اور بعض مکالمے   ٹیلی ویژن پر بھی ہوئے۔ لکھنے والوں میں مرحوم کے اہلِ خانہ، عالمی رہنما اور قائدین، جماعتی رفقا، ملکی، سیاسی و دینی قائدین اور اہلِ علم و قلم شامل ہیں۔ حکومتوں کے عہدے دار، سیاسی پارٹیوں کے سربراہ، اسلامی تحریکوں کے قائد، صحافی، ادیب، حتیٰ کہ قاضی صاحب اور جماعت اسلامی کے نظریاتی مخالفین نے بھی قاضی صاحب کی نیک نفسی، اعتدال، درویشی اور بے لوثی کی تعریف و تحسین کی ہے۔ بلاشبہہ قاضی حسین احمد کی زندگی سعادت کی زندگی تھی اور ان کا رخصت ہوجانا غمگین کردینے والا تھا۔ انھوں نے اپنے کردار اور اخلاق سے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا اور کروڑوں دلوں میں   اپنے لیے جگہ بنائی۔ زیرنظر کتاب بتاتی ہے کہ دلوں میں جگہ کیسے بنائی جاتی ہے!

بظاہر یہ کتاب متفرق مضامین کا مجموعہ ہے، مگر یہ ایک بڑے شخص کی داستانِ حیات ہے۔ قاضی حسین احمد نے صرف جماعت اسلامی ہی کی قیادت نہیں کی، بلکہ آگے بڑھ کر مسلم دنیا اور عالمی اسلامی تحریکوں کو درپیش بڑے بڑے مسائل کے حل کے لیے بھی کوشاں رہے۔ انھوں نے دنیا کے مختلف خطوں (افغانستان، کشمیر، بوسنیا، فلسطین، چیچنیا وغیرہ) کے مظلوم اور مقہور مسلمانوں کے دکھ درد کو محسوس کیا اور حتی المقدور طرح طرح سے ان کی مدد کرتے رہے۔ قاضی صاحب کے بارے میں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ انقلابی نظریات رکھتے تھے اور جماعت کے اجتماعی مزاج میں کچھ تبدیلیوں کے محرک بھی تھے۔یہ ایک بحث کا موضوع ہے مگر اس میں شبہہ نہیں کہ قاضی صاحب کے دورِ امارت میں اوّل تا آخر جماعت کا مقصد اور نصب العین اور لائحۂ عمل کبھی ان کی نظروں سے اوجھل نہیں ہوا۔

’عزیزِ جہاں‘ کی ترکیب الطاف گوہر نے سیّدمودودی کے لیے استعمال کی تھی، مگر    قاضی حسین احمد کے لیے بھی یہ بالکل درست اور صحیح ترکیب ہے، کیوں کہ وہ سیّدمودودی کے جا نشین تھے۔ جمال عبداللہ عثمان نے کتاب کو مرتب کیا اور شاہد اعوان (انڈسٹری، اسلام آباد) نے قابلِ رشک ذوقِ جمال سے اسے ڈیزائن کر کے شائع کیا ہے۔ کتاب کا معیارِ کتابت و طباعت لائقِ تحسین ہے۔ اس میں شامل بہت سی رنگین تصاویر میں بہت سی کہانیاں چھپی ہوئی ہیں۔(رفیع الدین ہاشمی)


تعبیرات، پروفیسر ڈاکٹر محمد شکیل اوج۔ ناشر: فیکلٹی آف اسلامک اسٹڈیز، جامعہ کراچی۔ فون:۹۹۲۶۱۶۵۵-۰۲۱۔صفحات:۳۵۲۔ قیمت: ۶۰۰ روپے۔

قرآنِ مجید کی ہدایت کسی ایک عہد تک محدود نہیں بلکہ یہ ہردور کے انسانوں کے لیے سرچشمۂ ہدایت ہے۔ قرآنِ مجید کی منصوص تعلیمات بغیر کسی تبدیلی کے ہر دور میں موجود رہی ہیں۔ نص میں تغیر و تبدل نہیں ہوا۔ ہر دور کی متغیر تہذیب سے پیدا ہونے والے مسائل کے حل کے لیے قرآنی نصوص کی تعبیر و تفسیر کا کام جاری رہا۔ اس تفسیری و تشریحی کام نے ہر دور میں بدلے ہوئے حالات کے باوصف قرآنی ہدایات سے روشنی حاصل کی اور قرآن پر عمل کے لیے راہیں نکالیں۔ یہی کاوش تنقیح و تحقیق اور اجتہادی بصیرت کے ساتھ فقہاے اسلام کا طرئہ امتیاز بنی۔

زیرتبصرہ کتاب کے بعض مضامین میں مصنف نے مختلف مباحث پر قرآنی نقطۂ نظر سے بات کی ہے اور بعض عنوانات کے تحت انھوں نے اپنے افکارونظریات بھی پیش کیے ہیں۔ جن عنوانات پر انھوں نے اپنی راے پیش کی ان میں سے چند ایک یہ ہیں: ہدایت و ضلالت میں انتخاب کی آزادی، تعبیرنصوص میں قدیم اور جدید منہج، قوم، اُمت اور ملّت کے قرآنی اطلاقات اور ہماری شناخت، کیا غیرمذاہب کے تمام پیروکار باطل پرست ہیں؟ عذابِ الٰہی اور فطری حوادث کے مابین فرق، نفاذِ شریعت کے قرآنی اصول، قتلِ عمد میں قصاص و دیت، حقیقت ربا اور اس کی اطلاقی نوعیت، امام اعظم کی قرآن فہمی کے چند نظائر، موت و حیات کا قرآنی و مغربی تصور، مسئلہ نسخ اور شاہ ولی اللہ دہلوی۔ تمام مضامین میں قرآنی فکر ہی کو بنیاد بنایا گیا ہے اور تنقیح و تفہیم سے کام لیا گیا ہے۔

بعض مباحث میں علما کے نقطۂ نظر کا اختلاف موجود ہے۔ مصنف نے ایسے مباحث کو واضح کر کے اپنا نقطۂ نظر پیش کیا ہے، مثلاً ایمان اور عمل کے تلازم کی بحث (ص۲۷)۔ بعض علما ایمان اور عقیدے کو ترجیح دیتے ہیں اور بعض کے نزدیک عمل کے بغیر عقیدہ متحقق نہیں ہوتا۔ مصنف نے دونوں کو ایک دوسرے کے لیے لازمی قرار دیا ہے۔ مشینی ذبیحے پر بھی علما نے اپنی آرا پیش کی ہیں۔ یورپ اور امریکا میں الیکٹرک شاک سے جانور کو بے ہوش کرکے ذبح کیا جارہا ہے۔ مصنف کے خیال میں اس طرح جانور کا خون پوری طرح خارج نہیں ہوتا۔ قرآن کا نقطۂ نظر    یہ ہے کہ ذبح میں جانور کے خون کا مکمل اخراج اور تکبیر ضروری ہے۔

مصنف نے’نصوص‘ کی تعبیر کے حوالے سے بھی اپنا نقطۂ نظر پیش کیا ہے۔ مسلمانوں میں جب سے مسلکی تعبیر کی ترویج ہوئی تب سے اختلاف راے نے تشدد کی صورت اختیار کرلی۔ بعدازاں یہی تشدد منافرت میں بدل گیا۔ مسلکی تعبیر میں غلو سے اختلافات کا بازار گرم ہوا تو یہ ملّت اسلامیہ کے انتشار اور اس کے زوال کا باعث بنا۔ مصنف نے قدیم و جدید مناہج تعبیر سے کام لیتے ہوئے اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ تعبیرنصوص کے لیے روایت و درایت کا لحاظ بھی رکھا گیا ہے۔ مصنف کی آرا سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، یہ اختلاف، راے کا اختلاف ہوگا، اسے کسی مسلکی تنگ نظری یا متجددین کی آزاد خیالی پر محمول نہیں کیا جاسکتا۔ یہ کاوش بہرحال آج کے حالات میں ایک نئی آواز ہے جس میں قرآنی بصیرت اور خدمت کا جذبہ شامل ہے۔

مصنف کو احساس ہے کہ وہ مشکل پسندی کا شکار ہیں، تاہم وہ مطمئن ہیں کہ صحافتی زبان اور علمی زبان دو مختلف اسلوبِ بیان کی حامل ہیں۔ ہمیں اُمید ہے کہ وہ خداداد بصیرت سے کام لے کر قرآنی معارف و بصائر سے اُردوخواں طبقے کو مستفید کرتے رہیں گے۔(ظفرحجازی)


قتل بہ جذبۂ رحم (نوعیت مسئلہ اور اسلامی نقطۂ نظر)، ڈاکٹر مفتی محمد شمیم اختر قاسمی۔ ناشر: اسلامک ریسرچ اکیڈمی، کراچی۔ ملنے کا پتا: اکیڈمی بک سنٹر، ڈی-۳۵، بلاک ۵، فیڈرل بی ایریا، کراچی-۷۵۹۵۰۔ فون: ۳۶۸۰۹۲۰۱-۰۲۱۔ صفحات: ۱۶۰۔ قیمت: ۲۰۰ روپے۔

زیرنظر کتاب ایک انتہائی حساس موضوع پر لکھی گئی ہے۔ اگر کوئی شخص پیدایشی طور پر کسی مہلک لاعلاج بیماری میں مبتلا ہو یا پھر عمر کے کسی حصے میں وہ مسلسل مہلک بیماری کا شکار ہوجائے اور اس کے شفایاب ہونے کی کوئی ممکنہ صورت نہ نظر آئے، یہاں تک کہ اس کی مثل مثلِ مُردہ کے ہوجاتی ہے کہ اپنا کوئی کام وہ خود نہیں کرسکتا۔ اس کی ساری ضرورتوں کی تکمیل اس کے قریب ترین رشتہ دار انجام دیتے ہیں۔ مریض یا تو مکمل بے حس اور بے حرکت ہو، جیسے کومے یا برین ہیمرج اور فالج کی مخصوص حالتیں ہوسکتی ہیں، یا پھر شدت تکلیف سے مسلسل کراہ رہا ہو اور ایڑیاں رگڑ رہا ہو۔ ایسے میں کسی مناسب تدبیر کے ذریعے یا پھر اس کے علاج معالجے کو روک کر اسے موت کی آغوش میں پہنچاناقتل بہ جذبۂ رحم کہلاتا جے جسے علمِ طب کی اصطلاح میں Euthanasia کہا جاتا ہے یا پھر انگریزی میں Mercy Killing سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔ قتل بہ جذبۂ رحم کی عموماً تین قسمیں بیان کی گئی ہیں: ۱-رضاکارانہ ۲- غیررضاکارانہ۳- نادانستہ۔اسی طرح قتل بہ جذبۂ رحم کے لیے مختلف طریقے بھی اختیار کیے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر مفتی محمد شمیم اختر قاسمی نے مذکورہ موضوع کا واقعی حق ادا کردیا ہے۔ زیرنظر کتاب پانچ ابواب پر مشتمل ہے۔ قتل بہ جذبۂ رحم کے ساتھ ساتھ باب سوم میں خودکشی کا تصور اور اسلام میں اس کا حکم، اور باب چہارم میں مریض، معالج اور اقربا کے حقوق و ذمہ داریاں بھی بیان کی گئی ہیں۔  آخر میں اسلام کا شرعی نقطۂ نظر پیش کیا ہے کہ مریض کی موت کے لیے ایسا اقدام حرام ہے،     نیز اس ضمن میں علما کی آرا اور فقہی اداروں کا موقف اور ضمنی مباحث بھی پیش کیے گئے ہیں۔ غرض یہ کتاب اپنے موضوع کا بخوبی احاطہ کرتی ہے۔(حافظ ساجد انور)


تذکارِ بُگویہ  (جلد سوم)، صاحب زادہ ڈاکٹر انوار احمد بُگوی۔ ناشر: مجلس مرکزیہ حزب الانصار، جامع مسجد بگویہ بھیرہ، ضلع سرگودھا۔ فون: ۶۶۹۰۸۴۷-۰۴۸۔ صفحات:۸۸۰۔ قیمت: درج نہیں۔

تذکارِ بُگویہ کی جلد اوّل و دوم پر ترجمان (نومبر۲۰۱۱ء) میں تبصرہ شائع ہوچکا ہے۔ اب جلد سوم(خطوط، حالات اور خدمات ۱۸۸۳ء-۲۰۱۰ء) منظرعام پر آئی ہے۔

 بھیرہ کے خانوادۂ بُگوی کے علما اور اکابر کی علمی، دینی، سیاسی اور تحقیقی خدمات کا دائرہ وسیع ہے۔ ۱۰۰ سال پہلے برپا ہونے والی تحریکوں (خلافت اور ترکِ موالات) میں ضلع سرگودھا کے علما کے کردار اور جدوجہد کو مصنف نے تفصیل سے پیش کیا ہے۔ خواجہ ضیاء الدین سیالوی نے گھر میں مستورات کا تیارکردہ دیسی کھدّر کا لباس پہنا اور اسے رواج دیا۔ مریدوں کو تلقین کی کہ سرکاری ملازمت ترک کر دیں۔ مولانا ظہوراحمد بگوی نے ڈیڑھ سال تک سی کلاس میں قید ِ بامشقت کاٹی۔

ماہ نامہ شمس الاسلام ، بھیرہ کے حوالے سے بھی کتاب میں مختلف النوع لوازمہ یک جا کیا گیا ہے۔ زیرنظر جلد میں سیکڑوںخطوط بھی شامل ہیں، جن پر حواشی و تعلیقات کے ساتھ مکتوب نگاروں کے مختصر حالات اور تحریکِ خلافت اور تحریکِ ترکِ موالات کے جاں نثاروں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ خطوط میں ایک پورے عہد کی تاریخ موجود ہے۔ ان سے علما کی ذہنی قابلیت، بعض کا ادب اور شاعری سے لگائو، اُمورِ شریعت میں ان کا تفقّہ، ان کی دینی غیرت اور آزادی کی تحریکوں میں ان کی دل چسپی ظاہر ہوتی ہے، اور یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ عقیدے کے لحاظ سے مختلف مکاتب ِ فکر کے علما بیش تر معاملات میں یک سو تھے اور ان میں رواداری اور برداشت زیادہ تھی۔ تاریخ، سیاسیات، اور اسلامیات کے طالب علموں کے لیے اس کتاب میں بہت قیمتی لوازمہ موجود ہے۔خطوں کی تعداد ۶۸۰ اور سکین شدہ (scanned) خطوں اور دستاویزات کی تعداد ۳۰۰کے لگ بھگ ہے۔ مؤلف نے کمالِ محنت اور تحقیق سے لوازمہ جمع کر کے مرتب کیا ہے۔ قلمی رجسٹروں اور دستاویزات سے بھی مدد لی گئی ہے۔ سکین شدہ دستاویزات کی موضوع وار فہرست اور آخر میں ان کے عکس شامل کردیے ہیں۔اس سے قارئین اور تحقیق کاروں کے لیے استفادہ آسان ہوگیا ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)


ارمغانِ رفیع الدین ہاشمی، مرتب: ڈاکٹر خالد ندیم۔ ناشر: الفتح پبلی کیشنز، ۳۹۲-اے،    گلی نمبر۵-اے، لین نمبر۵، گل ریز ہائوسنگ اسکیم-۲، راولپنڈی۔ فون: ۵۱۹۲۵۴۳-۰۳۰۰۔ صفحات:۵۲۶۔ قیمت: ۸۰۰ روپے۔

ادبی دنیا میں گراں قدر خدمات انجام دینے والے اساتذہ کی خدمات اور عظمت کے اعتراف میں ارمغان پیش کرنے کی روایت دیگر زبانوں کی طرح اُردو میں بھی موجود ہے۔ ڈاکٹر سیّد عبداللہ نے ۱۹۵۵ء میں اپنے استاد ڈاکٹر مولوی محمد شفیع کی خدمت میں مجموعۂ مقالات پیش کیا۔ اُس وقت سے اب تک اُردو میں تقریباً دو درجن ارمغان پیش کیے جاچکے ہیں مگر ان میں سے زیادہ تر بھارت میں پیش کیے گئے ہیں۔ ارمغان عموماً کسی ادارے یا مجلس کی طرف سے تیار کیا جاتا ہے۔ زیرنظر ارمغان ڈاکٹر ہاشمی کو ۲۰ نام وَر اساتذہ اور علما (اسکالرز) پر مشتمل ایک ’مجلس سپاس‘ نے پیش کیا ہے جس کے سربراہ سرگودھا یونی ورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد اکرم چودھری ہیں۔ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کی بنیادی شناخت ایک معلم اور محقق کی ہے۔

زیرنظر ارمغان چھے حصوں پر مشتمل ہے: پہلا حصہ اقبال و اقبالیات پر ممتاز دانش وروں کے مقالات پر مشتمل ہے۔ دوسرے، تیسرے اور چوتھے حصے میں ملکی و غیرملکی ممتاز محققین کے تحقیقی مضامین کو شامل کیا گیا ہے۔ پانچویں اور چھٹے حصے میں ہاشمی صاحب کے سوانحی حالات اور ادبی سرگرمیوں اور تحقیقی کارناموں کا مختصراً ذکر کیا گیا ہے۔ نیز ان کی علمی دل چسپیوں کی مناسبت سے (اقبالیات، مودودیات، اسلام، اُردو تحقیق و تنقید، تاریخ پر ۲۵ مقالات شاملِ اشاعت ہیں۔ ارمغان کی روایت یہی ہے۔ یہ مقالات چار زبانوں (اُردو، انگریزی، ترکی ، فارسی) میں ہیں۔ لکھنے والوں میں پاکستان، بھارت، ایران اور ترکی اور جاپان کے نام وَر اساتذہ شامل ہیں۔یاد رہے کہ ان کی زیرنگرانی پی ایچ ڈی اور ایم فل کے ۳۰ سے زائد اور ایم اے کے ۴۴ سے زائد تحقیقی مقالات لکھے گئے ہیں۔

یہ کتاب کئی حوالوں سے اُردو میں ارمغانِ علمی کی روایت میں قابلِ قدر اضافہ ہے۔ ہاشمی صاحب مزاجاً کم آمیز، شہرت سے گریز پا، گوشہ نشین اور کام میں مگن آدمی ہیں۔ ان کے بہت سے اور باصلاحیت شاگردان موجود ہیں(ڈاکٹر عطش درانی، ڈاکٹر محمدایوب صابر، ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر، ڈاکٹر راشد حمید، ڈاکٹر زاہدمنیرعامر، ڈاکٹر اختر النساء، ڈاکٹر اشفاق احمد ورک، ڈاکٹر ارشد محمود خان اور ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم وغیرہ)لیکن یہ سعادت ڈاکٹر خالدندیم کے حصے میں آئی اور انھوں نے محبت، محنت اور جاں کاہی سے یہ فریضہ بخوبی نبھایا ہے۔ (عبداللّٰہ شاہ ہاشمی)


تعارف کتب

  • استقبالِ رمضان ، ترتیب و تالیف: پروفیسر ڈاکٹر محمد مجیب اللہ شیخ منصوری۔ ناشر: مکتبہ المستجاب، رحمن ٹائون، پھلیلی، حیدرآباد۔ فون: ۲۷۵۸۹۹۷-۰۳۳۳۔ صفحات: ۱۸۵۔ ہدیہ: ۱۲۰ روپے۔ [نبی اکرمؐ رمضان کی آمد کے موقعے پر اس ماہِ مبارک کی عظمت، اہمیت، فصائل اور برکات سے آگاہ کرنے کے لیے مختصر اور طویل خطبے ارشاد فرماتے تھے۔ ان میں جامع خطبہ حضرت سلمان فارسیؓ نے روایت کیا ہے۔ استقبالِ رمضان اس جامع خطبے کا مفصل بیان ہے۔ رمضان کی فضیلت،مقصد، حکمت، تزکیہ و تربیت، حصولِ تقویٰ، قیامِ لیل،    نمازِ تراویح اور دیگر پہلوئوں کو قرآن و حدیث کی روشنی میں جامعیت اور اختصار سے بیان کیا ہے۔ رمضان میں نبی اکرمؐ کے معمولات کا تذکرہ بھی ہے اور روزوں کے مسائل بھی بیان کیے گئے ہیں۔ 
  • ماہنامہ سوچنے کی باتیں ، مدیر: انواراحمد ۔ ملنے کا پتا: ۸شیخ سٹریٹ نمبر۶۸، اسلام پورہ، لاہور۔ فون:۳۷۱۵۸۷۷۵۲-۰۴۲۔ ای میل:huroofgf@gmail.com،قیمت: بلامعاوضہ۔[ یہ مجلہ حلقہ مطالعہ اسلام کے تحت شائع ہوتا ہے۔ مولانا مودودی اور دیگر اکابر تحریک اسلامی کی رہنما تحریروں کے علاوہ دین کی بنیادی تعلیمات، تزکیہ و تربیت، مغرب اور اسلام کے درمیان کش مکش جیسے موضوعات پر تحریریں شائع کی جاتی ہیں۔ اشاعت ِ دین اور شہادتِ حق کا فریضہ ادا کرنے کے لیے بلامعاوضہ ارسال کیا جاتا ہے۔ ]

راجا محمد ظہور ،  چیچہ وطنی

ماہِ مئی کا شمارہ اس اعتبار سے بہت اہم تھا کہ اس مہینے میں نومنتخب امیرجماعت کا حلف ہوا ۔ اس موقعے پر پروفیسرخورشیداحمد صاحب نے اشارات: ’جماعت اسلامی: انتخابِ امیر اور ہمارے اہداف‘ میں تحریکِ اسلامی کی تاریخ اور بانیِ جماعت کی تحریروں کی روشنی میں جماعت کے نظریے، دعوت اور اہداف کو بخوبی اُجاگر کیا۔


عبدالرحمٰن ، لاہور

’۶۰سال پہلے‘ کے تحت قائداعظم کی ۱۱؍اگست ۴۷ء کی تقریر کے حوالے سے سیکولر حلقے کو قائداعظم کے فرمودات سے بھرپور جواب دیا گیا ہے۔ ’کریمیا پر روسی قبضہ اور یوکرائن‘ کے مسئلے پر کریمیا کا تاریخی پس منظر اور کش مکش پر تفصیل سے معلومات دی گئی ہیں لیکن موجودہ صورتِ حال کے بارے میں تشنگی محسوس ہوتی ہے۔ سیدقطب شہیدؒ کی تحریر: ’یہی شاہراہ ہے!‘ اُمت مسلمہ آج جن مظالم اور مصائب سے دوچار ہے، اس تناظر میںجہاں کامیابی کے حقیقی معیار کی طرف رہنمائی دیتی ہے وہاں عزم و حوصلہ اور ولولۂ تازہ کا ساماں بھی ہے۔


محمد لطیف ،بہاول پور

ڈاکٹر انیس احمد کا مقالہ ’اسلامی نظام: سیاسی ذرائع سے قیام ممکن ہے؟‘ (اپریل، مئی ۲۰۱۴ء) جامع اور فکرانگیز ہے۔ مقالے کے دوسرے حصے میں دستورِ پاکستان کے تحت جدوجہد کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس ضمن میں دستور کی دفعات ۶۲ اور ۶۳ بہت اہم ہیں۔ کیا ان دفعات کو مؤثر بنانے کے لیے کوششیں ہورہی ہیں؟


یوسف صدیقی ، چشتیاں

’بڑھتی ہوئی معاشرتی بے حسی‘(مئی۲۰۱۴ء) اپنے موضوع پر فکرانگیز اور جھنجھوڑنے والی تحریر ہے۔    اس وقت ریاستی سرپرستی میں فحاشی و عریانی کا سیلاب معاشرے بالخصوص نوجوان نسل کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ میڈیا کا کردار اس کے فروغ میں نمایاں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے ایک طرف اسلام کی اخلاقی تعلیمات کو     وسیع پیمانے پر عام کیا جائے اور بڑھتی ہوئی فحاشی و عریانی کے انسداد کے لیے راے عامہ کو منظم کیا جائے۔ دوسری طرف مظلوم اور بے بس عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت داد رسی کی بھی ضرورت ہے۔


محمد یاسر ، لاہور

نااُمیدی کے دور میں ترجمان اُمید اور حوصلے کی کرن ہے۔ ’اولاد کی تربیت محبت سے‘ (اپریل ۲۰۱۴ء) کے مطالعے سے بچوں کی تربیت کے ایسے پہلو سامنے آئے جو عموماً نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔


 

رواداری ؟

اس فتنۂ عظیم [قادیانیت] سے جو لوگ ’رواداری‘ برتنے کا ہمیں مشورہ دے رہے ہیں     وہ صرف یہی نہیں کہ رواداری کے معنی اور اس کے حدود نہیں جانتے، اور صرف یہی نہیں کہ وہ اسلام سے ناآشنا ہیں، بلکہ درحقیقت وہ بڑی نیک نیتی مگر بڑی نادانی و بے فکری کے ساتھ مسلم ملّت کی قبر کھودنا چاہتے ہیں۔ خصوصیت کے ساتھ پاکستان کے حق میں تو ان کی یہ غلطی قطعی طور پر ہلاکت کا پیغام ہے اور اِس ریاست کا کوئی بڑے سے بڑا بدخواہ بھی اس کے ساتھ وہ بدخواہی نہیں کرسکتا جو یہ رواداری کے پیغمبر کر رہے ہیں۔

یہ ملک مسلمانوں کی متفقہ قومی خواہش سے بنا ہے اور اسی وقت تک یہ ایک خودمختار ریاست کی حیثیت سے قائم ہے جب تک مسلمانوں کی متفقہ قومی خواہش اس کی پشت پناہ ہے۔ دنیا کے دوسرے مسلم ممالک میں، جہاں زبان ایک ہے، نسل ایک ہے، اور جغرافی حیثیت سے قومی وطن یک جا ہے، مسلمانوں کو اپنی قومیت کے لیے اسلام کے سوا دوسری بنیادیں بھی مل سکتی ہیں۔ مگر پاکستان جس میں نہ نسل ایک، نہ زبان ایک، اور جغرافی حیثیت سے جس کے دو ٹکڑے ایک ہزار میل کے فاصلے پر واقع ہیں، یہاں قومیت کی کوئی دوسری بنیادی تلاش کرنے والا اور اس کو ممکن سمجھنے والا صرف وہی شخص ہوسکتا ہے جو لاطائل خیالات کی دنیا میں رہتا ہو اور جسے عملی سیاست کی ہوا تک نہ لگی ہو۔ یہاں مسلمانوں کے لیے بناے وحدت اسلام کے سوا اور کوئی نہیں ہے، اور اسلام میں بھی صرف ایک ختم نبوت وہ چیز ہے جو اس وقت عملاً بناے وحدت بنی ہوئی ہے۔ اس بنیاد کو رواداری کی مقدس دیوی کے آستانے پر بھینٹ چڑھا دیجیے، پھر دیکھیے کہ کون سی طاقت اِس عمارت کو مسمار ہونے سے بچاسکتی ہے۔ آج   اِس اجراے سلسلۂ نبوت کے اثرات زیادہ تر پنجاب تک محدود ہیں، اس لیے اس کے پورے کرشمے ہماری قومی قیادت کو نظر نہیں آتے۔ مگر جب یہ فتنہ اپنی تبلیغ سے دوسرے صوبوں تک پھیل جائے گا تب ان عقلاے روزگار کو رواداری کے معنی اچھی طرح معلوم ہوجائیں گے۔ (’مولانا مودودی کا تحقیقاتی عدالت میں تیسرا بیان‘، ترجمان القرآن،جلد۴۲، عدد۳، رمضان المبارک ۱۳۷۳ھ،جون ۱۹۵۴ء، ص۲۲-۲۳)