قطب الدین عزیز کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔ وہ لکھنؤ میں پیدا ہوئے، والدین کے ساتھ حیدر آباد دکن منتقل ہوئے اور وہیں پر ابتدائی تعلیم پائی ۔ پھر وہاں سے مدراس (چنائے ) اور بعد میں لندن اسکول آف اکنامکس سے اعلیٰ سند یافتہ ہوئے۔ پاکستان ہجرت کے بعدصحافت سے وابستہ ہو گئے۔ وزارت خارجہ میں اہم عہدوں پر سرفراز ہوئے اور کئی بیرونی ممالک میں پاکستان کی نمایندگی کی۔ اپنی مثبت فکر سے شغف کی بنا پر انھیں ادب، سیاست اور ثقافت کے حلقوں میں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
پیش نظر کتاب خون اور آنسوؤں کا دریا کے مصنف قطب الدین عزیز نے مشرقی پاکستان کی ملک سے علیحدگی کی اَلم ناک داستان بیان کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ: مارچ ۱۹۷۱ء میں جب عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان میں تحریک سول نافرمانی کا آغاز کیا اور پورے صوبے میں لاقانونیت ، آتش زنی ، لُوٹ مار اور بے قابو قتل وغارت کا سلسلہ پھیل گیا تو پاکستان میں جنرل آغا یحییٰ خان کی صدارت میں مارشل لا حکومت نے مغربی پاکستان کے ذرائع ابلاغ کو ہدایت دی کہ یہ خبریں شائع نہ کی جائیں، مبادا اس سے مغربی پاکستان میں آباد بنگالیوں کو نقصان پہنچے ۔ اس طرح ان خبروں کو دبادیا گیا۔ اگرچہ مشرقی پاکستان کے تمام ذرائع ابلاغ دہشت گرد قوم پرست بنگالیوں کے ہاتھوں اسیر تھے، مگر وہاں سے کسی طرح جان بچا کر ہجرت کرکے آنے والوں کی داستانیں رفتہ رفتہ عام ہوتی گئیں۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ ، جو ابتداً بنگالیوں کے ’حق خود ارادی ‘ کے تناظر میں ساری ہنگامہ آرائی کو دیکھ رہے تھے، اب ’غیر جانب دار‘ بننے لگے۔ لندن کے سنڈے ٹائمز کے نمایندے اینتھونی مسکارن ہارس ، جس نے کئی مضامین میں پاکستانی فوج کو نشانہ بنایا تھا، کہ وہ بنگالیوں پر ظلم ڈھا رہی ہے، آخر سچ کہنے پر مجبور ہوئے ۔ وہ اپنی رپورٹ میں لکھتے ہیں: ’’ ہزاروں بدقسمت خاندانوں کو جو ۱۹۴۷ء میں تقسیم ہند کے وقت بہار سے ہجرت کر کے مشرقی پاکستان آئے تھے، انھیں بڑی بے رحمی سے صفحۂ ہستی سے مٹا دیا گیا۔ عورتوں کی آبرو ریزی کی گئی ، یا خاص طور پر بنائے گئے چاقوئوں سے ان کی چھاتیوں کو کاٹ دیا گیا۔ بچے بھی اس ظلم سے بچ نہ سکے اور جو ذرا قسمت والے تھے، ان کو ان کے والدین کے ہمراہ قتل کر دیا گیا۔ لیکن ان میں ہزاروں ایسے بھی تھے، جن کو زندگی بھر کے لیے معذور کر دیا گیا۔ ان کی آنکھیں نکال دی گئیں اور ان کے بازو اور ٹانگیں کاٹ دی گئیں۔ غیر بنگالیوں کی ۲۰ ہزار سے زائد لاشیں بڑے بڑے شہروں جیسے چٹاگانگ ، کھلنا اور جیسور میں پائی گئی ہیں۔ اصل تعداد جو مجھے مشرقی بنگال میں بتائی گئی وہ ایک لاکھ سے زیادہ ہو سکتی ہے، کیوں کہ ہزاروں غیر بنگالی بغیر کسی نا م ونشان کے غائب کر دیے گئے ہیں‘‘۔ (ص ۱۹ )
مصنف نے ’’ مشرقی پاکستان کے ۳۳ ؍اضلاع اور شہروں ڈھاکہ ، نارائن گنج، چٹاگانگ ، چندرا گھونا اور رنگامتی ، کھلنا ، ست خیرہ ، دیناج پور، پاربتی پور، ٹھاکر گائوں ، لکشم ، راج باڑی، گو لندو، فرید پور کشتیا، چوا ڈنگا، مہر پور اور ظفر کنڈی ، اشوردی ، پاکسے ، نواکھالی، سلہٹ مووی بازار، بہراماڑا، نارکل ڈنگا، رنگ پور، نیلفاماری، سید پور، لال منیر ہاٹ، جیسور ، نریل ، باجر ڈنگا، جہنی ڈاہ، نواپاڑا، باری سال، میمن سنگھ ، راج شاہی اور ناٹور ، پبنہ اور سراج گنج ، کومیلا، برہمن باڑیا ، بوگرا اور نو گائوں ، سنتھارکے الگ عنوانات کے تحت ابواب میں ان علاقوں اور شہروں اور شہریوں کی دُکھ بھری داستانیں بیان کی ہیں، جو انھوں نے چشم دید گواہوں یا آپ بیتی بیان کرنے والوں سے خود سنیں اور ریکارڈ کیں۔ مصنف نےایک ٹیم کے ذریعے مشرقی پاکستان کے ۵۵ شہروں /قصبوں سے تعلق رکھنے والے گواہوں کے بیانات / شہادتیں اکٹھی کیں، اور بڑی احتیاط اور دیانت سے اسے رپورٹ کیا گیا ہے۔
مصنف کہتے ہیں کہ ’’میں اس وقت حواس باختہ ہو گیا اور اپنا خون رگوں میں جمتا ہوا محسوس کیا ، جب میں نے اپریل ۱۹۷۱ء کے وسط میں چٹاگانگ سے جان بچا کر کراچی آنے والے غیربنگالی پاکستانیوں سے ان کی رُوداد سنی ۔ ان کے کہنے کے مطابق : عوامی لیگ کے منظم دہشت گردوں اور باغیوں نے غیر بنگالیوں کو قصابوں کی طرح کاٹا ۔ یہ تفصیلات سن کر میری روح کانپ اُٹھی اور اپنی اس کیفیت کو بیان کرنے کے لیے آج بھی میرے پاس الفاظ نہیں ہیں، کیوں کہ میں تو بنگالیوں کو نہایت شائستہ اور فن وادب کے ذوق کی وجہ سے پسند کرتا تھا ‘‘۔ (ص ۱۹)
امریکا اور یورپ میں بھارت نے منفی پروپیگنڈے کے لیے جنگی بنیادوں پر سیلابی ریلے کی طرح بے شمار کتابیں اور پمفلٹ شائع کیے۔ جن میں پاکستانی فوج پر لاکھوں بنگالیوں کو قتل کرنے کا الزام لگایا گیا۔ حکومت پاکستان مؤثر اور جوابی کارروائی نہ کرسکی ، اور جیسا کہ اُوپر بیان کیا گیا ہے، اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ مغربی پاکستان میں ردّ ِ عمل کے طور پر بنگالیوں پر ظلم نہ ہونے پائے۔
مشرقی پاکستان کے اس المیے میں جنرل یحییٰ خان (اس وقت کے صدر پاکستان ) اور ذوالفقار علی بھٹو کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ۷دسمبر۱۹۷۰ء کے انتخابات نے عملی طور پر ملک کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ دھونس ، دھاندلی اور تشدد کی سیاست نے قومی اسمبلی کی ۳۰۰ نشستوں میں مشرقی پاکستان کی مجیب پارٹی (عوامی لیگ) نے ۱۶۰ نشستیں جیت لیں اور ملک کی اکثریتی پارٹی بن گئی۔ مغربی پاکستان میں بھٹو صاحب کی پیپلز پارٹی نے ۸۱ نشستیں جیتیں۔ صدرجنرل یحییٰ خان نے انتخابات کے بعد دو ماہ تک تو اسمبلی کا اجلاس ہی نہ بلایا ۔ آخر ۳ مارچ ۱۹۷۱ء کو ڈھاکہ میں اجلاس طلب کیا گیا۔ لیکن مغربی پاکستان سے اکثریتی لیڈر بھٹو صاحب نے اصرار کیا کہ: ’’دستوری فارمولا اسمبلی اجلاس سے باہر طے کیا جائے، اور اگر دستور سازی کے لیے مقرر کردہ ۱۲۰دنوں میں دستور نہ بنا تو دستور ساز اسمبلی کا وجود خطرے میں پڑجائے گا‘‘۔ جب انھیں اس ضمن میں کامیابی حاصل نہ ہوسکی تو انھوں نے اسمبلی کا اجلاس ملتوی کرنے کا مطالبہ کر دیااور کہا کہ مغربی پاکستان سے کوئی منتخب رکن ڈھاکہ جائے گاتو اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی۔ اور اس طرح ’اِدھر ہم ، اُدھر تم‘ کی بنیاد پڑگئی۔ اسمبلی کے اجلاس کے التوا سے مشرقی پاکستان میں ہنگامہ شروع ہو گیا۔ جس کو دبانے کے لیے وہاں ۲۵مارچ ۱۹۷۱ء کو فوجی ایکشن شروع کر دیا گیا۔مجیب کو گرفتار کر کے مغربی پاکستان لایا گیا اور بھٹو نے کہا : ’’خدا کا شکر ہے ، پاکستان بچ گیا‘‘ ۔ لیکن ’پاکستان ‘ کا مطلب صرف اس کا مغربی بازو تو نہیں تھا ! دراصل یہ پاکستان کے انہدام کی ابتدا تھی ، لیکن فاضل مصنف نے اس پوری کہانی سے صرفِ نظر اور بوجوہ اغماز کیا ہے۔
کتاب کے اختتامیےکے پہلے مضمون میں سیّدخالد کمال نے بنگلہ دیش میں بسنے اور اُردو بولنے والے بے وطن پاکستانیوں کے کرب اور المیے کو بڑی خوبی سے بیان کیا ہے۔ اسی حصے کے دوسرے مضمون میں مترجم سلیم منصور خالد نے ’۳۰ لاکھ کے قتل کا افسانہ …‘ کے عنوان سے ایک تفصیلی تحقیقی مقالے کا اضافہ کیا ہے ۔ علیحدگی پسند بنگالیوں نے پاکستانی فوج اور اُردو بولنے والے شہریوں پر یہ الزام لگایا تھا کہ انھوں نے ۳۰ لاکھ بنگالیوں کو قتل کیا اور ہزاروں بنگالی خواتین کو بے آبرو کیا ہے، مگر غیر جانب دار صحافیوں اور خود مشرقی پاکستان کے محاذ پر ہندستان کے فوجی کمانڈر جگجیت سنگھ اروڑا تک نے اس مبالغہ آمیزی کی نفی کی ہے۔ اس طرح دیگر بہت سے غیر ملکی اور خود ہندستانی صحافیوں اور تحقیق کاروں نے بھی پاکستانی فوج کے ہاتھوں بنگالیوں کے قتلِ عام کی تردید کی۔
تاریخ کو مسخ کرنے والے اس جھوٹ کا مقصد پاکستان کی یک جہتی کی حامی جماعت اسلامی اور پاکستانی فوج کے خلاف نفرت کو ہوا دینے کے سوا کچھ نہیں ۔ اس جلتی آگ کو سرد ہوتا دیکھ کر ۲۰۱۰ء کے بعد، عوامی لیگ کی حکومت نے ۳۸سال بعد ’جنگی ٹریبونل ‘ جیسی ’نام نہاد عدالتوں‘ کے ذریعے جماعت اسلامی اور البدر کے بنگالی ہم وطنوں پر، جو ۱۹۷۱ء میں متحدہ پاکستان کے حامی تھے ، مقدمے چلانے اور سزاے موت دینے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے (اسی ظالمانہ عدالتی ڈرامے کے نتیجے میں ۹۲سالہ پروفیسر غلام اعظم، سابق امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش جیل میں انتقال کر گئے)۔ دراصل جماعت اسلامی بنگلہ دیش میں ہونے والے تمام انتخابات میں بڑھتی ہوئی مقبولیت کے اشارے دے رہی تھی۔ مجیب کی بیٹی حسینہ واجد کے ہاتھوں ان مظالم کی لہر نہ جانے کہاں رُکے گی۔ بہر حال صاحب ِمقالہ سلیم منصور خالد کی خواہش ہے کہ :’’ بنگلہ دیش: دو قومی نظریے کی بنیاد پر ایک آزاد، خود مختار، اسلامی اور خوش حال ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر سرفراز رہے‘‘۔ (ص ۴۵۸)
کتاب کے آخر میں ۳۳ صفحے کا تفصیلی اشاریہ بڑی محنت سے مرتب کیا گیا ہے۔ اس اہتمام سے یہ کتاب اپنے موضو ع پر حوالے کی ایک نہایت مستند اور بہترین کتاب بن گئی ہے: خون اور آنسوؤں کا دریا، قطب الدین عزیز/ ترجمہ و تدوین :سلیم منصور خالد ، ظہور احمد قریشی، ناشر : منشورات، پوسٹ بکس: ۹۰۹۳، علّامہ اقبال ٹاؤن، لاہور۔ فون:۰۰۳۴۹۰۹- ۰۳۳۲۔ صفحات :۴۹۶، قیمت (مجلد): ۶۰۰ روپے۔
امینِ کعبہ ، پروفیسر محمد عبداللہ قاضی۔ ناشر: مکتبہ اسلامیہ،ہادیہ حلیمہ سنٹر، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۳۷۲۴۴۹۷۳- ۰۴۲۔صفحات:۵۹۶۔قیمت:۱۱۰۰ روپے۔
کتاب کا بنیادی موضوع سیرت النبیؐ ہے اور یہ بنیادی موضوع تیسرے باب سے شروع ہوتا ہے۔ باب اوّل: ’مقام مصطفیٰ ؐاہلِ کتاب کی نظر میں‘ اور باب دوم: ’رسولؐ اللہ غیرمسلموں کی نظر میں‘۔ یہ دونوں موضوع سے براہِ راست متعلق نہیں ہیں، یہ ان موضوعات کا محل بھی نہیں تھا۔
واقعاتِ سیرت کی ترتیب زمانی ہے۔ مؤلف نے حسب ِ موقع قرآنِ حکیم ، احادیث ِ مبارکہ اور کتب ِ سیرت کے حوالے بھی دیے ہیں لیکن کئی جگہ صرف کتاب کا نام لکھ دیا ہے، حوالے نامکمل ہیں۔
واقعاتِ سیرت بیان کرتے ہوئے کہیں کہیں معاشرت اور معاملات کے اصول بھی اخذ کیے ہیں۔ مباحث ضمنی عنوانات میں تقسیم ہیں۔ مصنف نے بطورِ استناد قرآنی آیات بکثرت استعمال کی ہیں اور ان کا ترجمہ بھی دیا ہے۔ چوں کہ بعض قرآنی اقتباسات مع ترجمہ طویل تر ہیں، اس لیے ہمارے خیال میں پہلے دو ابواب سمیت کچھ حصے اور اقتباسات مع ترجمہ نکال کر کم و بیش ایک سو صفحہ کم ہوسکتا تھا۔ یہ ایک بابرکت اور مفید کام ہے جسے زیادہ بہتر انداز سے انجام دیا جاتا تو مفید تر ہوتا۔ (رفیع الدین ہاشمی)
سرسیّد احمد خان، تحقیقی و مطالعاتی مآخذ،مؤلّفہ: ڈاکٹر نسیم فاطمہ۔ ناشر: لائبریری پروموشن بیورو، ۹/۱۲۳۹، دستگیر سوسائٹی، ایف بی ایریا، کراچی- ۷۵۹۵۰۔ صفحات:۲۰۰۔ قیمت: ۴۰۰ روپے۔
ہندستان میں اٹھارھویں صدی کے مسلم اکابرمیں سرسیّداحمد خاں ایک ہمہ جہت شخصیت تھے۔ انھوں نے تباہ حال مسلمان قوم کو سنبھالنے اور اُٹھانے میں اپنی تمام توانائیاںصرف کر دیں۔ لیکن نیک نیتی کے باوجود، ان کی کاوشوں سے مسلمانوں کو نقصان بھی پہنچا۔ سب سے بڑا نقصان تو یہ ہوا کہ جدید تعلیم کے واسطے سے مسلمان انگریزوں کی غلامی میں رضامند رہنا سیکھ گئے۔
سرسیّد کی شخصیت اور ان کے علمی ،تعلیمی اور ادبی کارناموں پر مثبت اور منفی دونوں پہلوئوں سے بہت کچھ لکھا گیا۔ زیر نظر کتاب یہ بتاتی ہے کہ سرسیّد پر لکھی جانے والی کتابیں کراچی کے کن کتب خانوں میں موجود ہیں اور اِن میں کون کون سے ایسے رسالے ہیں جن میں سرسیّد پر مضامین شامل ہیں۔
ڈاکٹر نسیم فاطمہ نے ابتدا میں موضوع کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے سرسیّد پر منتخب کتابیات کا تعارف کرایا، زیرنظر اشاریے کی نوعیت بتائی اور سرسیّد پر ایک ’مکمل کیٹلاگ‘ مرتب کرنے کی ضرورت کا احساس دلایا اور اس ضمن میں تجاویز بھی پیش کی ہیں۔ مختصر یہ کہ کراچی کے مختلف جامعاتی کتب خانوں (کراچی یونی ورسٹی، سرسیّد یونی ورسٹی آف انجینیرنگ اینڈ ٹکنالوجی، ہمدرد یونی ورسٹی، وفاقی اُردو یونی ورسٹی)، بعض نجی کتب خانوں (جمیل جالبی، مشفق خواجہ، معین الدین عقیل) اور دیگر لائبریریوں (اسٹیٹ بنک، ادارہ یادگار غالب ، انجمن ترقی اُردو، ڈاکٹر محمود حسین لائبریری اور لیاقت میموریل لائبریری وغیرہ) میں سرسیّد پر جو بھی اور جس نوعیت کا لوازمہ ملتا ہے، اس کی نشان دہی کردی گئی ہے۔ اسی طرح مذکورہ کتب خانوں میں موجود رسائل میں شائع شدہ مضامین کا مصنف وار اشاریہ بھی مرتب کر کے شامل کیا ہے۔
سرسیّد پر کام کرنے والوں کے لیے یہ ایک مفید کتاب ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)
مختار مسعود، مکاتیب کے آئینے میں، مرتب: پروفیسرمحمد اقبال جاوید۔ ملنے کا پتا: سجاد کمپوزنگ سنٹر، دین پلازا، جی ٹی روڈ، گوجرانوالہ۔ فون: ۳۰۷۵۹۶۹۰-۰۵۵۔ صفحات: ۱۱۹۔ قیمت: ۲۰۰ روپے۔
مختار مسعود(۱۹۲۶ء-۲۰۱۷ء) اُن گنے چُنے لوگوں میں سے تھے جنھیں بیوروکریٹ ہونے کے باوجود اپنے بلندپایہ قلمی سرمایے کی وجہ سے قبولِ عام حاصل ہوا۔ مختارمسعود نے زیادہ نہیں، کم لکھا مگر اس کا ایک خاص معیار اور اپنا مخصوص اسلوب برقرار رکھا۔ اُن کی پہلی کتاب (آوازِ دوست) ہی نے اُنھیں شہرت عطا کی۔ پھر سفر نصیب اور لوحِ ایام کی اشاعت سے اُنھیں مزید قبولِ عام حاصل ہوا۔ آخری کتاب (حرفِ شوق) اُن کی وفات کے بعد منظرعام پر آئی۔
زیرنظر کتاب میں مختارمسعود کے ایک مدّاح اقبال جاوید صاحب نے اپنے نام مرحوم کے خطوط جمع کیے ہیں اورہمراہ کچھ متعلقات بھی شامل ہیں، مثلاً مرحوم کے نام اپنے خطوط یا ابوالکلام آزاد سے منسوب تقریر یا بشیر ناصر کا مضمون (جنھیں، ممکن ہے بعض قارئین غیرمتعلقات خیال کریں)۔
مختارمسعود کے عکسِ تحریر بھی شامل ہیں۔ مراسلت کا یہ سلسلہ ۱۹۹۶ء سے ۲۰۱۱ء تک جاری رہا۔ بہرحال یہ مجموعہ خاصی حد تک مختارمسعود کی شخصیت اور اُن کے اندازِ فکرونظر کی ایک جھلک پیش کرتا ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)
اقبال نامہ (نسلِ نو کے لیے)، مستقیم خان۔ یونی ورسٹی پبلشرز، افغان مارکیٹ، قصہ خوانی بازار، پشاور۔ صفحات: ۱۴۴۔ قیمت: ۱۲۰ روپے۔
جناب مصنّف نے بے شک علّامہ اقبال کا زمانہ نہیں پایا، مگر علّامہ کے کلام اور اقوال نے انھیں شاعرمشرق کا نادیدہ عاشق اور ارادت مند بنا دیا۔ زیرنظر کتاب سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے اقبال کے افکارو نظریات کا گہرا مطالعہ کیا ہے اور وہ اقبالیات پر اچھی دسترس رکھتے ہیں۔ انھوں نے اگرچہ یہ کتاب نسلِ نو کے لیے لکھی ہے مگر اس میں نسلِ قدیم کے لیے بھی بہت کچھ موجود ہے۔ حیاتِ اقبال کے اہم واقعات، اقبال کے والدین ، ان کی تصانیف، سیاسی زندگی، تصوراتِ خودی، مردِ مومن، محبت ِ رسولؐ ،عقل و عشق، نوجوانوں اور بچوں کے لیےمنظومات کا متن اور اُن کی تشریح، اقبال کے بارے میں مشاہیر عالم کی آرا اور اقبالیات کی منتخب کتابوں کی فہرست شامل ہے۔ اس طرح گویا انھوں نے دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)
مجلہ تحصیل، (شمارہ ۱، جولائی تا دسمبر ۲۰۱۷ء)، مدیر: معین الدین عقیل۔ ناشر: ادارہ معارف اسلامی، ڈی ۳۵، بلاک ۵، فیڈرل بی ایریا، کراچی- ۷۵۹۵۰۔ فون: ۳۶۳۴۹۸۴۰-۰۲۱۔ صفحات: ۲۳۲+ انگریزی حصہ: ۱۵۰۔ قیمت: درج نہیں۔
ادارہ معارف اسلامی کراچی کے اس نئے مجلے تحصیل پر اُردو اور فارسی زبان و ادب سے متعلق مقالات کا غلبہ ہے، جنھیں حسب ذیل عنوانات کے تحت شامل کیا گیا ہے: تحقیقی مقالات، گوشۂ اقبال، مآخذ تحقیق، تراجم، گوشۂ نوادر، وفیات، تبصراتی مقالہ۔ اسی طرح گیارہ تحریریں حصۂ انگریزی میں شامل ہیں۔ زیادہ تر مضامین ادبی، علمی اور تاریخی نوعیت کے ہیں، جیسے بھارت میں اُردو کا المیہ (از مرکنڈے کاٹجو)، میاں جمیل احمد شرق پوری کی علم پروری، کتاب دوستی اور کتب خانہ داری (نسیم فاطمہ)، ریاض الاسلام: عہدِوسطیٰ کی ہند اور اسلامی اور ہند ایرانی، تاریخ کا ایک مؤرخ۔ ہمارے خیال میں حوالہ جاتی قسم کے مضامین زیادہ اہم ہیں، مثلاً: امتیاز علی خاں عرشی کے تحقیقی و علمی کام کا اشاریہ (سیّد مسعود حسن)، اشاریہ منظوماتِ اقبال (خالد ندیم)، عہد ِ کتب شاہی کے مخطوطات (عطا خورشید)۔
عبدالرحمٰن بجنوری (۱۸۸۵ء-۱۹۱۸ء) نے برطانیہ اور جرمنی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ بھوپال کے مشیر تعلیمات رہے۔ کم عمری میں خالق حقیقی سے جاملے۔ ایک بار جب وہ یورپ جارہے تھے،انھوں نے مسلمانوں کے حالات سے واقفیت حاصل کرنے کے لیے سربیا اور بلغاریہ کا سفر کیا اور ’سربیا میں اسلام‘ اور ’بلغاریہ میں اسلام‘ کے عنوان سے دو مضامین مولانا محمدعلی جوہر کے رسالے ہمدرد میں شائع کروائے۔ جنابِ افضل حق قرشی نے بجنوری کے یہ مضامین بطور نوادر، حواشی کے ساتھ مرتب کیے ہیں۔ جاوید احمد خورشید نے امینہ جمال کی کتاب Jamaat-e-Islami Women in Pakistan پر تفصیل سے تبصرہ کیا ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)
سہ ماہی استعارہ، مدیران: ڈاکٹر امجد طفیل، ریاض احمد۔ ناشر: رانا چیمبرز، چوک پرانی انارکلی، لیک روڈ، لاہور- فون: ۱۳۲۱۰۴۷-۰۳۳۳۔ صفحات: ۲۸۸۔ قیمت: ۴۰۰ روپے۔
ادبی کتاب سلسلے کا یہ پہلا شمارہ ہی معیاری تحریروں پر مشتمل ہے۔ اس کی ترتیب، تدوین، تنوع اور معیارِ اشاعت سے اس کے روشن مستقبل کی پیش گوئی کی جاسکتی ہے۔ ڈاکٹر امجد طفیل ادب اور نفسیات کے سنجیدہ استاد ہیں۔ حلقہ اربابِ ذوق کو انھوں نے بڑی قابلیت اور مہارت سے چلایا۔ یہ شمارہ ان کی صلاحیتوں کا ایک اور رُخ پیش کرتا ہے۔ ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا کے تفصیلی انٹرویو (۳۲صفحات) کے ساتھ ان کی حیات و تصانیف کا کوائف نامہ (۱۰ صفحات) بھی شامل ہے۔ رسالے میں تخلیقی ادب کی مختلف اصناف اور تنقیدی مضامین اور تبصرے بھی شامل ہیں۔ رسالہ معروف اور نسبتاً نئے لکھنے والوں کی تحریروں سے مزین ہے۔ یہ ۲۰۱۷ء کی آخری سہ ماہی کا شمارہ ہے۔ اگر مجلسِ ادارت نئے سال (۲۰۱۸ء) میں چار شمارے بروقت اور کم از کم اسی معیار پر شائع کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یہ اس کی بہت بڑی کامیابی ہوگی۔(رفیع الدین ہاشمی)
انتطار فرمائیے