مضامین کی فہرست


اپریل ۲۰۱۸

اسلامی ریاست میں غیرمسلموں کی شناخت

سوال :

  1. کیا اسلامی ریاست کوئی ایسا قانون وضع کرسکتی ہے کہ جس سے کسی غیرمسلم کو بالواسطہ یا بلاواسطہ بطورِ مسلم تصور اور شناخت کیا جائے؟
  2. کیا اسلامی ریاست میں غیرمسلم شہریوں کو اس امر کی اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو بطورِ مسلم ظاہر یا پیش کریں؟
  3. اگرکوئی غیرمسلم، اپنے آپ کو مسلم کے لبادے میں چھپائے تو اس کا یہ فعل کس تعریف میں آئے گا؟
  4. اگر درج بالا سوالات کا جواب اثبات میں ہے تو ریاست کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟
  5. کیا اسلامی ریاست کے لیے یہ لازم نہیں ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں کے مذہب اور مذہبی عقائد کے بارے میں مکمل طور پر آگاہ ہو، اور اس حوالے سے ایک مؤثر اور جامع طریق کار وضع کرے؟
  6. کیا کسی شہری کے مذہب اور مذہبی عقائد کے بارے میں معلوم کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے ضمن میں آتا ہے؟

جواب :

اسلامی ریاست کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں کے لیے انسانی حقوق کی ضمانت دے اور رنگ، نسل، علاقہ یا مذہب کی بنیاد پر ان کے درمیان کوئی تفریق روا نہ رکھے۔ چنانچہ اس کی حدود میں رہنے والے غیرمسلم بھی اپنے تمام بنیادی انسانی حقو ق سے بہرہ ور ہوتے ہوئے اطمینان و سکون کے ساتھ زندگی گزار سکیں گے اور انھیں اپنی شناخت کو چھپانے کی ضرورت نہ ہوگی کہ اپنا نام، لباس یا ظاہری ہیئت مسلمانوں جیسی کرکے فائدے حاصل کرنے کی کوشش کریں، بلکہ اس سے آگے کی بات یہ ہے کہ اسلامی ریاست غیرمسلموں کو مسلمانوں کی شکل و شباہت اختیار کرنے سے روکے گی، تاکہ وہ بعض ان پابندیوں سے آزاد رہ سکیں جو مسلمانوں پر عائد ہوتی ہیں اور جن کی خلاف ورزی کی صورت میں مسلمان تنبیہہ اور سزا کے مستحق ہوتے ہیں۔

اس بنیادی اور اصولی بات کی روشنی میں آپ کے سوالات کے جوابات یہ ہیں:

  1. اسلامی ریاست کوئی ایسا قانون وضع کرسکتی ہے، جس میں اس بات سے روکا گیا ہو کہ کسی غیرمسلم کو بالواسطہ یا بلاواسطہ مسلم تصور اور شناخت کیا جائے اور اس کی شناخت مسلمان کی ہو۔
  2. اسلامی ریاست میں غیرمسلم شہریوں کو اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ اپنے آپ کو بہ طور مسلم ظاہر یا پیش کریں۔
  3. اگر کوئی غیرمسلم اپنے آپ کو مسلم کے لبادے میں چھپائے، تو اس کا یہ فعل ریاست کے ساتھ دھوکا دہی کی تعریف میں آئے گا۔
  4. اگر اسلامی ریاست میں غیرمسلم یہ رویہ اختیار کرتا ہے تو ریاست اس کی تنبیہہ و تعزیر کے لیے قانون وضع کرسکتی ہے۔
  5. اسلامی ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں کے مذہب اور مذہبی عقائد کے بارے میں مکمل طور سے آگاہ ہو اور اس کے لیے مؤثر اور جامع ضابطۂ کار وضع کرے۔
  6. کسی شہری کے مذہب اور مذہبی عقائد کے بارے میں معلوم کرنا اس کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے، البتہ مذہب کی بنیاد پر اسے بنیادی انسانی حقوق سے محروم کرنا غلط ہے۔

اس موضوع پر فقہی اور قانونی تفصیلات کے لیے کتب ِ فقہ کی طرف رجوع کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح ہماری کتاب غیرمسلموں سے تعلقات اور ان کے حقوق میں ذمیوں سے متعلق بحث میں اس طرف بنیادی اشارے کیے گئے ہیں۔ (مولانا  سیّد جلال الدین عمری، نئی دہلی)

سوالات کے جوابات علی الترتیب درج ذیل ہیں:

  1. حکومت کے لیے لازم ہے کہ وہ ایسا قانون وضع کرے جو غیرمسلم کو بلاواسطہ یا بالواسطہ، بطورِ مسلم پیش کرنے سے روکے۔ قرآنِ پاک اور احادیث نبویؐ اس قانون کی اساس پر واضح طور پر دلالت کرتے ہیں۔
  2.  اسلامی ریاست میں غیرمسلم شہریوں کو اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ اپنے آپ کو بطورِ مسلم ظاہر کریں، کیوں کہ یہ دھوکا ہے اور اسلام دھوکا دہی کی اجازت کسی بھی صورت میں نہیں دیتا۔
  3. اگر غیرمسلم اپنے آپ کو مسلم کے لبادے میں چھپائیں، تو یہ فعل ریاست کے ساتھ دھوکا دہی کے دائرے میں آئے گا اور اس پر انھیں تعزیری سزا دی جائے گی، جو عدالت کی صواب دید پر ہوگی۔ چاہیے یہ کہ عدالتوں کی سہولت کے لیے قانون بنا دیا جائے جس میں تعزیری سزا ’بدنی‘ اور قید متعین کردی جائے۔
  4. ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس سلسلے میں محکمۂ پولیس کو چوکس رکھے اور مجرموں کو گرفت میں لانے کے لیے اقدامات تجویز کرے۔
  5. اس سلسلے میں حکومت مؤثر قانونی تدابیر اختیار کرے، جس سے وہ تمام شہریوں کے مذہب سے آگاہی حاصل کرتی رہے۔
  6. کسی شہری کے مذہب کے بارے میں معلوم کرنا بنیادی حقوق کاتقاضا ہے، اس لیے کہ بعض حقوق کا تعین مذہب کی بنیاد پر ہوگا، واللہ اعلم! (مولانا عبدالمالک،لاہور)

مشکل حالات میں زکوٰۃ و صدقات کا دینی تعلیم پر خرچ

سوال :

یورپ کے جس ملک میں ، مَیں رہ رہی ہوں وہاں مسلمانوں کو ریاستی، سماجی اور حکومتی سطح پر بہت مشکل حالات کا سامنا ہے۔ خصوصاً مسلمان خواتین اور طالبات کو بڑی مشکل صورتِ حال کا سامنا ہے۔مسلمانوں کی نئی نسل میں طالبات اور نوجوان لڑکیوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے وہاں باقاعدہ رجسٹرڈ ادارہ قائم کیا گیا ہے، لیکن مالی وسائل کی فراہمی کے لیے سخت دشواری درپیش ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا جملہ احتیاطوں کے ساتھ ہم زکوٰۃ و صدقات کو مذکورہ دینی تعلیم و تربیت کے ادارے کے لیے جمع اور خرچ کرسکتے ہیں؟

جواب :

آپ نے یورپ کے جس ملک میں درپیش تکلیف دہ حالات کے بارے میں دریافت کیا ہے اس کا حال معلوم کرکے سخت دُکھ ہوا۔ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو ایمان اور استقامت کی دولت عطا فرمائے۔

عرض یہ ہے کہ آپ کے اُس ملک کے مخصوص حالات میں ، وہاں مسلم بچیوں اور بچوں کی تعلیم و تربیت پرعام عطیات اور صدقات نافلہ خرچ کیے جاسکتے ہیں۔ تاہم، زکوٰۃ کا الگ سے حساب رکھا جائے، تاکہ اس سے وہی بچے استفادہ کرسکیں، جو معاشی اعتبار سے کم زور اور زکوٰۃ کے مستحق ہوں۔(مولانا عبدالمالک)

کھانے کا ایک ادب

سوال :

ایک حدیث کامفہوم یہ ہے کہ پیٹ کے تین حصّےکیے جائیں: ایک کھانے کے لیے، دوسرا پینے کے لیے، تیسرا خالی رکھاجائے۔ آج کل ڈاکٹر حضرات کھانا کھانے کے ساتھ پانی پینے کو مضر گردانتے ہیں اور اس سے منع کرتے ہیں، جب کہ  اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ملتاہے کہ کھانا کھانے کے بعد پانی کے لیے جگہ خالی رکھی جائے۔ بہ راہ کرم وضاحت فرمادیں؟

جواب :

حضرت مقدام بن معدی کربؓ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

مَامَلأَ آدَمِیٌّ وِعَاءً شَرّاً مِّنْ بَطْنٍ، بِحَسبِ ابْنِ آدَمَ اُکَیْلاَتٌ یَقُمْنَ صُلْبَہ‘، فَاِنْ کَانَ لَا مُحَالَۃَ فَثُلُثٌ لِطَعَامِہ وَثُلُثٌ لِشَرَابِہ وَثُلُثٌ لِنَفْسِہ (ترمذی: ۲۳۸۰، ابن ماجۃ:۳۳۴۹، صحیح ابن حبان:۵۲۱۳)کسی آدمی نے پیٹ سے برابرتن نہیں بھرا۔ ابن آدم کے لیے اپنی پیٹھ سیدھی رکھنے کے لیے چند لقمے کافی ہیں۔ اگر وہ لازماً زیادہ کھانا ہی چاہے تو (پیٹ کے تین حصے کرلے) ایک تہائی کھانے کے لیے، ایک تہائی پینے کے لیے اور ایک تہائی سانس کے لیے۔

علامہ البانی ؒ نے اس حدیث کی تخریج اپنی کتاب ارواء الغلیل  میں کی ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے۔

اس حدیثِ نبویؐ میں بڑی حکمت کی بات بتائی گئی ہے۔ اس میں شکم پُری سے روکا گیاہے۔ سروے رپورٹوں سے معلوم ہوتاہے کہ آج کل پیٹ کی جتنی بیماریاں پائی جاتی ہیں ان میں سے زیادہ تر بسیار خوری کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ دعوتوں اور تقریبات کو جانے دیجیے، لوگ روزمرہ کے معمولات میں کھانے کااس قدر اہتمام کرتے ہیں کہ معلوم ہوتاہے، وہ کھانے ہی کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ اس حدیث سے یہ تعلیم ملتی ہے کہ آدمی کھانے کے لیے زندہ نہ رہے، بلکہ زندہ رہنے کے لیے کھانا کھائے۔

کھانا کھانے کے دوران یا اس سے فارغ ہوتے ہی فوراً پانی پینا طبی اعتبار سے درست نہیں ہے۔ معدہ سے ایسے افرازات (secretions)خارج ہوتے ہیں جو ہضمِ غذا میں معاون ہوتے ہیں۔ کھانا معدے میںپہنچتاہے تو وہ افرازات اس میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اس طرح کھانا درست طریقے سے جلد ہضم ہوتاہے۔ کھانے کے دوران یا اس کے فوراً بعد پانی پی لینے سے ان افرازات کی تاثیر کم یا ختم ہوجاتی ہے۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ کھانے سے فراغت کے نصف گھنٹے کے بعد پانی پیاجائے۔

مذکورہ بالاحدیث میں کھانے کے بعد فوراً پانی پینے کا حکم نہیں دیاگیاہے، بلکہ اس میں صرف یہ بات کہی گئی ہے کہ آدمی اپنے پیٹ کو کھانے سے مکمل نہ بھرلے، بلکہ کچھ گنجایش پانی کے لیے بھی رکھے۔ اب اگر کوئی شخص کھانے سے فارغ ہونے کے کچھ دیر بعد پانی پیے تو اس سے حدیث کی مخالفت نہ ہوگی، بلکہ طبّی اعتبار سے یہ بہتر ہوگا۔(مولانا رضی الاسلام  ندوی)

قرآن، اسلامی ریاست اور مولانا مودودیؒ

سوال :

مولانا مودودی ؒ نے اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلہِ  [یوسف۱۲:۶۷]اور دوسری آیات سے حاکمیت الٰہیہ کا جو سیاسی نظریہ پیش کیا ہے، یہ درست نہیں ۔ وہ تمام آیات جن سے مولانا مودودی استدلال کرتے ہیں ان سے تکوینی نظام مراد ہے ۔ اسلام دوسرے مذاہب کی طرح ایک مذہب ہے اور یہ ہر شخص کی نجی زندگی کو کنٹرول کرتا ہے اگر کوئی اس مذہب کو تسلیم کرے ۔

جواب :

مولانا مودوی ؒ کی کتاب قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں  نے عالمِ اسلام میں جو فکری انقلاب برپا کیا ہے، اس پر اب عالم اسلام کے علما اور مفکرین کا اجماع ہو گیا ہے۔اسلام کی اس تعبیر سے اہل مغرب بہت پریشان ہیں ۔ وہ عالم اسلام کے بعض فکری منحرفین سے ایسی کتابیں اور مقالات لکھواتے ہیں، کہ جن سے مولانا مودودی کی جانب سے تشریح کردہ اسلامی سیاسی نظریے اور اسلامی جمہوری انقلاب کے نظریے اور اسلامی جہاد کے نظریے کی نفی ہوجائے۔ 

یہاں پر سب سے پہلی بات یہ ذہن میں رہنی چاہیے کہ یہ نظریہ کوئی مولانا مودودی کا ذاتی حیثیت میں وضع کردہ نظریہ نہیں ہے کہ جس میں انھوں نے چند آیات کی صرف لغوی تشریح کردی ہو۔ مذکورہ کتاب میں قرآنی آیات کی تشریح کی پشت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل سیرت اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور خلافت راشدہ کے قیام کی تمام عملیات کھڑی ہیں اور قرآن و سنت کی واضح تصریحات بھی اس کے لیے شاہد عادل ہیں ۔ مولانا نے جن آیات سے استدلال کیا ہے، ان کے علاوہ انھوں نے اپنی کتاب سیرت سرور عالمؐ میں بھی استدلال کیا ہے اور قرآن کی   بے شمار تعبیرات اور سنت کی لا تعداد تصریحات سے بھی دلائل و نظائر کو پیش کیا ہے ۔ ان میں سے اہم تصریحات یہ ہیں:

  1. مثلاً اگر آپ سورۂ قصص آیت ۵ کامطالعہ کریں: وَنُرِيْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَي الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِي الْاَرْضِ وَنَجْعَلَہُمْ اَىِٕمَّۃً وَّنَجْعَلَہُمُ الْوٰرِثِيْنَ۝۵ۙ (القصص ۲۸:۵)’’اور ہم یہ ارادہ رکھتے تھے کہ مہربانی کریں ان لوگوں پر جو زمین میں ذلیل کرکے رکھے گئے تھے اور انھیں پیشوا بنا دیں اور ان ہی کو وارث بنائیں‘‘۔اگر مذہب کے اندر امامت کا کوئی دخل نہیں ہے تو اللہ نے یہ حکم کیوں دیا؟ لہٰذا، یہ کہنا کہ جب لوگ ایمان قبول کریں گے تو خود بخود اسلامی نظام قائم ہو جائے گا محض تکلف ہے۔اللہ تعالیٰ صراحت سے فرماتا ہے کہ ہمارا ارادہ اور حکم یہ تھا کہ غریب عوام کی امامت قائم ہواور پیغمبروں نے اس پر عمل کیا۔
  2. اسی طرح سورئہ مائدہ آیات ۴۴ تا ۵۰ کا بغور مطالعہ کریں ۔ تمام اولوالعزم پیغمبروںؑ کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ نظام عدل قائم کریں اور اللہ کے حکم کے مطابق فیصلے کریں۔ پھر سخت تنبیہ کی گئی کہ اگر تم عدل نہیں کرو گے تو تم ظالم ہو گے ، فاسق ہوگے اور کافر ہو گے۔ اس سے تکوینی احکام مراد نہیں کہ تم بارشیں بر سائو اور زلزلے برپا کرو ۔ ان آیات کے آخر میں مسلمانوں کو بھی عدل کا حکم دیا گیا ہے ۔ مزید یہ کہ کیا قرآن میں حضرت دائود علیہ السلام کے نظام عدل اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے عدل اور حکومت کے قصے آخر ویسے ہی تو بیان نہیں کیے گئے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اس اعتبار سے تمام انبیاؑ دعوت اور کام کے اعتبار سے ’سیاسی لوگ‘ تھے اور احادیث میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کَانَتْ بَنُوْ اِسْرَائِیْلَ تَسُوْسُہُمُ الْاَنْبِیَاءُ  (البخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب ما ذکر فی بنی اسرائیل، حدیث: ۳۲۸۶) بنی اسرائیل کے سیاسی امام بھی انبیاء تھے)۔ تعجب ہوتاہے کہ ان منحرفین کو کس طرح یہ غیرعقلی شبہہ لاحق ہو گیا ۔ کیا انھوں نے سیرتِ رسولؐ اور سیرت انبیا علیہم السلام نہیں پڑھیں؟

  3. اس میں شک نہیں کہ اسلام کا مرکز مسجد ہے اور اس نے مسجد کی تعمیر اور اللہ کی عبادت کا حکم دیا ہے اور واضح طور پر کہا ہے کہ اسلام کا مرکز مسجد ہے، لیکن یہ نہیں کہا گیا کہ اسلام مسجد تک محدود ہے بلکہ اسلام نے تو پوری زمین کو مسجد بنایا ہے اور واضح طور پر فرمایا ہے کہ مسجد جہاد کا سنٹر ہوگا اور فرمایا کہ مسجد کی خدمت کرنے کا ثواب تو ہے، لیکن یہ خدمت بہرحال اقامت ِ دین کے لیے زندگی بھر کی ہمہ پہلو جدوجہد سے بڑا درجہ نہیں رکھتی ۔ تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ اسلامی جہاد اور انقلاب کی راہ میں اگر تجارت اور مالی سر گرمیاں حائل ہوں یا تمھاری قومیت حائل ہو تو پھر اپنے انجام کا انتظار کرو۔ اسی لیے مولانا مودودی نے سب سے پہلے نظریۂ جہاد پر قلم اٹھا یا اوریہ بتایا کہ جہاد اسلامی انقلاب کا اصل ستون ہے ۔اس میں نکتے کی بات یہ ہے کہ مولانا نے اُمت مسلمہ کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ جہاد سے بھی پہلے اسلامی حکومت کا قیام ضروری ہے کیونکہ جہاد اسلامی حکومت کا کام ہے ۔ اگر کچھ لوگ اسلام سے حکومت کا باب نکال کر کچھ اور منہاج بنانا چاہتے ہیں تو وہ قرآن کریم کے ایک بڑے حصے کو منسوخ کر رہے ہیں اور سنت اور سیرتِ رسولؐ  اور سیرتِ صحابہؓ سے صریح انکار کرتے ہیں۔

  4. اسی طرح سورۂ انبیاء کی آیات ۱۰ تا ۱۷ پر غوروفکر کی دعوت دے رہا ہوں۔ ان کا خلاصہ (مفہوم) یہ ہے کہ ہم نے ایک کتاب اتاری جس میں تمھارے لیے نصیحت ہے۔ ہم نے آسمانوں اور زمینوں کی تخلیق اور ان میں انسانوں کی تخلیق اور ان کا عروج و زوال محض کائناتی اور تکوینی کھیل تماشا کے لیے نہیں بنایا بلکہ یہاں حق و باطل کی ایک کش مکش ہے ۔ ہم حق کو باطل پر ایک بم کی طرح پھینکتے جو باطل کا بھیجا نکال دیتا ہے اور جس سے ظالم اقوام کو پیس کر رکھ دیا جاتا ہے۔ وہ اس لیے کہ وہ ظالم ہوتی ہیں اور ہم نے ان کے نظام کی جگہ ایک عادلانہ نظام قائم کرنا ہوتا ہے ۔ یہ آیات خالص اقوام کے عروج و زوال اور عادلانہ نظام کے بارے میں ہیں ۔ سائنسی اعتبار سے تو یہ کائنات پہلے سے عادلانہ اصولوں پر چلتی ہے ۔ کوئی ستارہ دوسرے پر ظلم نہیں کرتا ۔ سورج چاند کو نہیں پکڑ سکتا۔ یوں تکوینی اعتبار سے کائنات پوری ہم آہنگی سے چلتی ہے۔

  5. پورے قرآن کریم اور سنت رسولؐ میں تذکیر و تبشیر کے ساتھ جرائم اور ان کی سزائوں کا ذکر بھی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اگر قرآن و سنت میں جرم و سزا کا تصور نہیں اور کوئی حکومت نہیں ہے تو پھر اسلام نے سزائیں کیوں مقرر کیں ہیں ؟ میں نے مصرکے فقیہ ڈاکٹر عبد العزیز عامر کی ایک کتاب مولانا مودودی کی ہدایت پر ترجمہ کی تھی ۔ اس کے حصہ اول پر مولانا مودودی ؒ نے خود نظرثانی کی۔ یہ کتاب اسلام کا قانونِ جرم و سزا  کے نام سے شائع ہوئی ہے ۔جو لوگ اسلامی نظام کے مختلف پہلوؤں ، سول کوڈ،کریمینل کوڈ اور معاشی نظام، مثلاً حرمت سود کا انکار کرتے ہیں، ان کے لیے آسان طریقہ تو یہ ہے کہ وہ سرے سے اسلام سے وابستگی کا انکار کر دیں، اللہ ہمیں ہدایت دے کیوںکہ ہم بدیہیات کا انکار کرتے ہیں۔

  6. سورۃ الفرقان کی آخری آیات ۶۳ تا ۷۷  میں عباد الرحمٰن، یعنی نبی آخر الزماںؐ اور  صحابۂ کرامؓ کا جو پروگرام دیا گیا ہے کہ یہ لوگ کن خصوصیات کا معاشرہ قائم کرنا چاہتے تھے ۔ ان آیات کے آخر میں ان کی یہ دعا نقل فرمائی ہے: وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًاکہ(ہمیں ایسی متقی سوسائٹی کا امام بنا) ۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اگر معاشرہ متقی نہ ہو اور وہ اصلاح نہ چاہتا ہو تو صرف حکمران ڈنڈے کے زور سے کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ قیامت میں ایسے پیغمبر بھی آئیں گے، جن کے ساتھ ایک ایک امتی ہو گا۔ اس آیت میں امامت و خلافت کے قیام کی صراحت ہے اور یہ نص صریح ہے ۔

مولانا مودودیؒ کا ساتھ چھوڑنے اور جماعت اسلامی سے نکلنے والے بعض حضرات ابہام پیدا کرتے آئے ہیں اور اس اعتبار سے موجودہ لبرل حضرات اور امام بخاری کے دور کے جھَمِیَّہ ایک ہی فکر رکھتے ہیں ۔ یہ لوگ اسلامی معاشرے سے مفادات تو لیتے ہیں، مگر معاشرے سے قطع تعلق نہیں کرسکتے ۔ اللہ ان کو ہدایت عطا فرمائے، آمین۔(مولانا سیّد   معروف    شاہ     شیرازی)

پیشاب کرتے وقت احتیاط نہ کرنے پر عذاب

سوال :

ایک حدیث میرے مطالعہ میں آئی ہے ، جس میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے۔ آپؐ نے فرمایا : ان دونوں پر عذاب ہورہاہے ۔ ان میں سے ایک چغلی کرتا تھا اوردوسرا پیشاب کرتے وقت احتیاط نہیں کرتا تھا ۔ پھر آپؐ نے ایک درخت سے ایک ٹہنی توڑی اور اس کے دو ٹکڑے کرکے دونوں قبروں پر لگادیے اورفرمایا کہ جب تک یہ ٹہنیاں ہری رہیں گی ، امید ہے کہ ان دونوں پر عذاب میں تخفیف ہوجائےگی۔

حدیث سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ یہ دونوں عذاب پانے والے کون تھے؟ یہ مومن تھے یا کافر؟ اور یہ کس زمانے کا واقعہ ہے اورکہاں کا ہے؟ اگروہ کافر تھے تو صرف انہی دونوں کا موں پر عذاب کیوں؟ وہ تو ایمان ہی سے محروم تھے اور اس سے بڑی سزا اور عذاب کے مستحق تھے۔ اگر مومن تھے تو بھی صرف انہی اعمال پر عذاب کا ذکر کیوں؟ انہوںنے ممکن ہے ، دوسرےگناہ بھی کیے ہوں، پھر حدیث میں ان پر سزا کا ذکرکیوں نہیں ہے؟ امید ہے ، میرے ان اشکالات کو دور فرمائیں گے۔

جواب :

  آپ نے جوحدیث نقل کی ہے اس میں ان دو اشخاص کے نام مذکور نہیں ہیں جن پر عذاب ہورہا تھا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہری ٹہنی لگادینے سے ان کے عذاب میں تخفیف ہوگئی۔ بہترہے  کہ ان کے بارے میں تفصیل جاننے کی کوشش نہ کی جائےکہ وہ صحابہ کرام تھے یا منافق تھے؟ یا کافر تھے؟ حدیث میں جوابہام ہے اسے باقی رکھا جائے اورجو بات کہی گئی ہے اس پرتوجہ دی جائے کہ ان کاموں ( چغلی اور پیشاب کرنے میں عدم احتیاط) سے بچا جائے جن کا ذکر حدیث میں کیا گیا ہے۔

 یہ حدیث بخاری(۲۱۶) ، مسلم(۱۱۱) ، ترمذی(۷۰)، ابوداؤد(۲۰)، نسائی(۳۱)، ابن ماجہ (۳۷۴)، دارمی (۷۳۹) اورمسند احمد0 (۱۹۸۰) وغیرہ میں آئی ہے ۔ شارح بخاری علامہ ابن حجرؒ نے اس کی شرح میں لکھا ہے : ’’ ان دونوں اشخاص کے نام حدیث میں مذکور نہیں ہیں ۔ ظاہر ہے کہ راویوں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے ۔ انہوںنے اچھا ہی کیا ، اس لیے کسی معاملے میں کسی شخص کی مذمت کا پہلو نکلتا ہوتو اس کا نام جاننے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے‘‘۔ ابن حجرؒ نے متعدد اقوال نقل کیے ہیں ۔ بعض ان دونوں کوکافر بتاتے ہیں ، بعض مسلمان۔ اس سلسلے  میں انہوںنے متعدد روایات کا حوالہ دیا ہے ۔ تفصیل کے لیے رجوع کیجئے فتح الباری  شرح صحیح البخاری، دار المعرفۃ بیروت، ۱/۳۲۰۔۳۲۱۔

صحیفہ(مکاتیب نمبر حصہ دوم)،جنوری ۲۰۱۷ء تا جون ۲۰۱۷ء۔مدیر: افضل حق قرشی ۔ناشر:  مجلس ترقی ادب ،۲- کلب روڈ لاہور۔ ۵۴۰۰۰۔ صفحات:۵۷۹۔قیمت:۵۸۰ روپے۔

’مکتوب ‘ دیگر زبانوں کے ادب کی طرح اردو ادب میں بھی ایک مسلّمہ صنف ِنثر کی حیثیت اختیار کر چکی ہے اور یہ اس لیے کہ اردو میں مکاتیب ِ مشاہیر کا ذخیرہ مطبوعہ صورت میں روز افزوں ہے ۔ مجلس ترقی ادب لاہور نے اپنے مجلے صحیفہ کے مکاتیب نمبر حصہ اوّل کے بعد، دوسرا نسبتاً ضخیم تر مجموعہ شائع کیا ہے۔(حصہ اوّل پر تبصرہ  در ترجمان :اگست ۲۰۱۷ء )

زیر نظر شمارے میں مدیر کے مطابق چار سو سے زائد مکاتیب شامل ہیں۔ یہ سبھی مکتوب نویس ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔ امیر مینائی، اصغر گونڈوی، ڈاکٹر حمید اللہ، سیّد سلیمان ندوی، یاس یگانہ چنگیزی، غلام رسول مہر، عبدالعزیز خالد،مولانا محمدمنظور نعمانی، مشفق خواجہ ، نصراللہ خاں عزیز، عنایت اللہ مشرقی، حکیم محمد سعید، نیّر واسطی وغیرہ۔مکاتیب کی نوعیت اور موضوعات میں خاصا تنوع ہے: زبان وبیان ،محاورہ، لُغت الفاظ کی صحت اور ان کا استعمال، تحقیقی نکات، علمی وادبی مسائل، تاریخی وسماجی موضوعات اور ان سے متعلق استفسارات اور ان کے جوابات۔

یہ خطوط مکتوب نویسوں کی شخصی دل چسپیوں اور ان کے مخصوص اسلوب کے آئینہ دارہیں، اور ان سے پتا چلتا ہے کہ اگلے وقتوں کے بزرگوں کا اسلوب کیا تھا۔ عبدالمجید قریشی کے ۱۴۹ خطوط میں سیرت کمیٹی پٹی کی تاریخ کے حوالے سے، ان خطوں کے مرتب (ڈاکٹر محمد ارشد) لکھتے ہیں: سیرت کمیٹی پٹی کا اہم ترین کارنامہ یہی ہے کہ اس نے یوم میلاد النبی ؐ کو ملکی وبین الاقوامی سطح پرمنانے کی طرح ڈالی اور اسے مسلمانوں اور غیرمسلموں میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت وتعلیمات کی اشاعت کا ذریعہ بنایا۔ سیرت کمیٹی کے ترجمان اخبار ایمان نے دینی تعلیمات کی اشاعت کے ساتھ مسلمانوں میں سیاسی بیداری کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا (ص ۵۳)۔ lحکیم محمد سعید نے ۱۹۸۶ء میں لکھا: میرا دل بڑا دُکھا ہوا ہے ۔ جغرافیائی حدوں کے اندر اور باہر میں جو کچھ دیکھ رہا ہوں اس کی سنگینی کو صاحبانِ فکرو نظر نہیں دیکھ رہے اور محسوس نہیں کر رہے ہیں (ص۳۱۸) ۔

  • پروفیسر خورشید احمد کے نام ڈاکٹر حمیداللہ کے نو خط شامل ہیں۔ خورشید صاحب نے اقبال ریویو کے لیے ڈاکٹر حمیداللہ سے مضمون کی درخواست کی تھی۔ جواباً انھوں نے اقبال کے بارے میں لکھا: مجھے شخصی طور پر ناصحِ بے عمل سے کچھ زیادہ طبعی لگائو نہیں ہوتا ۔(ص۳۳۹)

ادب کے تاریخ نویسوں کے لیے ان خطوں کی حیثیت قیمتی لوازمے کی ہے اور زمانۂ حال کے محقق طلبہ اور طالبات کے لیے یہ خطوط ایک نصیحت ِ غیر مترقبہ ہیں۔ مجلہ آیندہ شمارے (سر سید نمبر ) کے بعد مکاتیب نمبر جلد سوم بھی شائع کرے گا۔ اس کے لیے غیر مطبوعہ خطوں کی فراہمی کی اپیل کی گئی ہے۔ (ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی )


ماہ نامہ پکارِ ملّت (ذرائع ابلاغ نمبر)، مدیرہ: مناہل ایمن۔ ملنے کا پتا: مرکز طالبات، منصورہ، ملتان روڈ، لاہور۔ فون: ۱۴۱۶۹۰۳-۰۳۳۲۔ صفحات: ۱۷۸۔ قیمت: (اشاعت ِ خاص) ۹۰ روپے۔

ذرائع ابلاغ کی اہمیت ہمیشہ ہی مسلّمہ رہی ہے ، تاہم الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے مختلف چینلوںکی آمد اور سوشل میڈیا نے اس کی اہمیت کو جہاں دوچند کردیا ہے، وہاں ذہن سازی اور معاشرے پر اس کے اثرات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی اسی اہمیت کے پیش نظر پکارِ ملّت نے جو اسلامی جمعیت طالبات پاکستان کا ترجمان ہے، اشاعت ِ خاص کا اہتمام کیا ہے۔ میڈیا کی اہمیت و اثرات، آزادیِ اظہار، ثقافتی یلغار کے جائزے کے ساتھ ساتھ جدید ذرائع ابلاغ کے درست استعمال، دعوتِ دین کے تقاضے اور میڈیا پالیسی کو زیربحث لایا گیا ہے۔ میڈیا کی معروف شخصیات، ڈرامے اور فلم سے وابستہ افراد جنھوں نے شوبز کی دُنیا کو خیرباد کہہ دیا ہے،    ان کے تاثرات اور میڈیا کے کردار و اثرات پر قلمی مذاکرہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ افسانوں، دل چسپ مضامین کے علاوہ گوشۂ شعروسخن بھی ہے۔ ایک اہم موضوع پر فکروعمل کی رہنمائی کے ساتھ قابلِ ستایش کاوش ہے۔(ادارہ)


 

پروفیسر عبدالقدیر سلیم ، کراچی

پروفیسر خورشیداحمد کا تحقیقی مقالہ ’استعماری حکمت عملی اور راہِ انقلاب‘(مارچ ۲۰۱۷ء) ایک منفرد نوعیت کا نثرپارہ ہے: ’ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کنند‘۔ جس پر صاحب ِ مقالہ کو مبارک باد! میری ابتدائی تعلیم و تربیت استعماری نظام میں ہوئی، لیکن یہ کیسی بدقسمتی کی بات ہے کہ آج اپنے آزاد وطن کے نظام کی نسبت وہ اچھا لگتا ہے اور شوکت تھانوی کا افسانہ ’سودیشی ریل‘ بار بار یاد آتا ہے۔ ریل سے لے کر محکمہ ڈاک تک اور نظام عدل و احتساب سے لے کر تعلیمی نظم و ضبط تک، ہرعمارت کی اینٹیں اُکھڑی پڑی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہمارا آزاد معاشرہ کیوں بہتر نہ بن سکا؟


ڈاکٹر عبدالرزاق ، جہلم

’استعماری حکمت عملی اور راہِ انقلاب‘ (مارچ ۲۰۱۸ء)میں محترم پروفیسر خورشیداحمد نے برصغیر پاک و ہند کی تاریخ کی چند جھلکیاں پیش کرکے پاکستانی قوم ، بالخصوص نوجوانوں پر بہت بڑا احسان کیا۔ ڈاکٹر انیس احمد کی تحریر ’جمہوریت، مسلم دنیا اور تحریک ِ اسلامی‘ میں تبدیلیِ نظام کے سلسلے میں جو تجاویز دی گئی ہیں ان کا خاکہ تیار کرنے اور پھر اس میں رنگ بھرنے کا کام تحریک ِ اسلامی ہی کرسکتی ہے۔  ضرورت اس امر کی ہے کہ تحریک اسلامی ایک نظامِ تعلیم کا خاکہ تیار کر کے اسے بہتر بنانے کے لیے مشتہر کرے۔ ان دونوں تحریروں کو کتابچے کی صورت میں شائع کرکے عوام الناس بالخصوص تعلیمی اداروں میں پہنچایا جائے تاکہ لوگوں کے سامنے سابقہ اور موجودہ حکمرانوں کے چہرے آسکیں۔


یاسر علی ، فیصل آباد  / عبدالقادر، لاہور

صفدر علی چودھری مرحوم پر تعزیتی مضمون پڑھ کر طبیعت اداس بھی ہوئی اور حوصلہ بھی ملا کہ اس عہد میں تحریک ِ اسلامی کیسے کیسے قیمتی انسانوں کی رفاقت میں اقامت ِ دین کی جدوجہد کر رہی ہے۔ پروفیسر خورشید احمد صاحب نے اپنے مقالے میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ تحریک ِ آزادی کے لیے ہندوئوں، سکھوں اور کمیونسٹوں تک کی قربانیوں کا اعتراف کرکے وسعت ِ قلبی اور وسعت ِ نظری کا باب کھولا ہے۔


احمد نواز سلطان ، ملتان

ڈاکٹر مصطفےٰ السباعی کا مکالمہ اگرچہ نصف صدی پہلے کا ہے، لیکن اس کے مطالعے سے معلوم ہوا کہ حالات کا دھارا کچھ زیادہ نہیں بدلا۔ مغربی تہذیبی گراوٹ اور مسلمانوں کے ہاں بے عملی کے آثار جوں کے توں ہیں۔ تبدیلی کیسے آئے گی؟ کا جواب ہے کہ ہم سب اپنی اپنی جگہ ذمہ داری ادا کریں۔


طاہرہ نوشین  ، کوئٹہ

ہمیشہ کی طرح ترجمان معلومات اور رہنمائی لیے ہوئے ہے۔ ڈاکٹر محب الحق نے بھارتی فسطائی لہر کو بڑی خوبی سے بے نقاب کیا ہے۔ ادارہ ترجمان کو ہم ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں کہ گذشتہ پورے سال میں مسئلۂ کشمیر پر نہایت قیمتی مضامین بڑے تسلسل سے شائع کیے۔ خصوصاً افتخار گیلانی کی تحریریں بہت معلومات افزا، جامع اور گہری تفصیلات لیے ہوئے ہیں۔


پروفیسر عبدالحق ، اسلام آباد

ملک خدا بخش بُچہ مرحوم کا خطبہ تقسیمِ اسناد (فروری ۲۰۱۸ء) نہایت فکرانگیزاور ایمان افروز ہے۔ یہ تحریر اس قابل ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں کے نصاب میں شامل ہوکر ہمارے نوجوانوں کی فکری رہنمائی کے لیے مشعلِ راہ بنے۔اسی طرح ڈاکٹر نازنین سعادت کی تحریر نے طلاق سے پیدا شدہ صورتِ حال پر بھرپور روشنی ڈالی ہے۔


مجیب شاہ خان ، لاہور

 ’آپ بھی کچھ لکھیے!‘(جنوری ۲۰۱۸ء) میں لکھنے والوں کے لیے ہمت افزائی کی گئی ہے، اور اچھے اور معیاری مضامین لکھنے کے لیے مفید مشورے دیے گئے ہیں۔


محمد حسنین اوساوالا ، کراچی

عالمی ترجمان القرآن کا شمارہ بابت جنوری ۲۰۱۸ء کا مطالعہ کیا۔ پورا شمارہ ہی ویسے تو نہایت اہم ہوتا ہے۔ سیّد سعادت اللہ حسینی صاحب کا مضمون ’تصورِ اقامت ِ دین پر چند اعتراضات؟‘ اپنی مثال آپ تھا۔ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی صاحب کا مضمون ’آ پ بھی کچھ لکھیے!‘ تو ایسا لگتا ہے ان کی دل کی آواز ہے۔ اسلوب سادہ اور دل نشین، پیرایہ پُرکشش۔ایک محقق کی یہ عملی تجاویز بہت کارگر ثابت ہوں گی۔

ایک گزارش یہ ہے کہ ترجمان میں گوشہ مخصوص کرتے ہوئے یا پھر ایک سلسلے کا آغاز کیا جائے جس میں تحریکی ادیبوں کا تعارف اور ان کی تصانیف کا احاطہ ہوجائے، جیسے نعیم صدیقی ، ماہر القادری، آبادشاہ پوری، نصراللہ خاں عزیز اور نسیم حجازی کا لٹریچر تحریکی جذبہ رکھتا ہے۔ ان عظیم اہلِ قلم کے متعلق ہماری نئی نسل نہیں جانتی کہ کس نگری کے باسی تھے؟ غلام رسول مہر بہت قیمتی تاریخی اثاثہ چھوڑ گئے۔ ایسے کئی افراد ہیں جن کو متعارف کرانا ازبس ضروری ہے۔ اگر اس طرف توجہ نہ دی گئی تو اس خلا کو پُر کرنے کے لیے دوسرے غیرتحریکی ادیبوں کی طرف رجحان بڑھ جائے گا۔


 

قرآن تین اصولی ہدایات دیتا ہے:اوّل یہ کہ فَسْـــَٔـلُوْٓا اَہْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ  ، ’’اگر تم علم نہیں رکھتے تو اہل الذکر سے پوچھ لو‘‘ (النحل، رکوع۶،الانبیاء، رکوع۱)۔ اس آیت میں ’اہل الذکر‘کا لفظ بہت معنی خیز ہے۔ ’ذکر‘ کا لفظ قرآن کی اصطلاح میں مخصوص طور پر اُس سبق کے لیے استعمال ہوا ہے جو  اللہ اور اس کے رسولؑ نے کسی اُمت کو دیا ہو، اور ’اہل الذکر‘ صرف وہ لوگ ہیں، جنھیں یہ سبق یاد ہو۔ اس لفظ سے محض علم (knowledge) مراد نہیں لیا جاسکتا، بلکہ اس کا اطلاق لازماً علمِ کتاب و سنت ہی پر ہوسکتا ہے۔ لہٰذا، یہ آیت فیصلہ کرتی ہے کہ معاشرے میں مرجعیت کا مقام اُن لوگوں کو حاصل ہونا چاہیے، جو کتابِ الٰہی کا علم رکھتے ہوں اور اُس طریقے سے باخبر ہوں جس پر چلنے کی تعلیم اللہ کے رسولؐ نے دی ہے۔

دوم یہ کہ وَاِذَا جَاۗءَھُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِہٖ  ۝۰ۭ وَلَوْ رَدُّوْہُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَاِلٰٓى اُولِي الْاَمْرِ مِنْھُمْ لَعَلِمَہُ الَّذِيْنَ يَسْتَنْۢبِطُوْنَہٗ مِنْھُمْ ۝۰ۭ [النساء۴:۸۳] ’’اور جب کبھی امن یا خوف سے تعلق رکھنے والا کوئی اہم معاملہ ان کو پیش آتا ہے تو وہ اس کو پھیلا دیتے ہیں، حالاں کہ اگروہ اس کو رسولؐ تک اور اپنے اُولی الامر تک پہنچاتے تو اس کی کنہ جان لیتے، وہ لوگ جو ان کے درمیان اس کی کنہ نکال لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ معاشرے کو پیش آنےوالے اہم معاملات میں، خواہ وہ امن کی حالت سے تعلق رکھتے ہوں یا جنگ کی حالت سے، غیراندیش ناک نوعیت کے ہوں یا اندیش ناک نوعیت کے، ان میں صرف وہی لوگ مرجع ہوسکتے ہیں جو مسلمانوں کے درمیان اُولی الامر ہوں، یعنی جن پر اجتماعی معاملات کو چلانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہو، اور جو’استنباط‘ کی صلاحیت رکھتے ہوں، اور کتاب اللہ و طریقِ رسولؐ اللہ سے بھی دریافت کرسکتے ہوں کہ اس طرح کی صورتِ حال میں کیا کرنا چاہیے۔ یہ آیت اجتماعی مہمات اور معاشرے کے لیے عام اہل الذکر کے بجاے ان لوگوں کو مرجع قرار دیتی ہے جو اُولی الامر ہوں۔

سوم یہ کہ اَمْرُہُمْ شُوْرٰى بَيْنَہُمْ (الشوریٰ۴۲:۳۸) ، ’’ان کا کام آپس کے مشورے سے ہوتا ہے‘‘۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کا آخری فیصلہ کس طرح ہونا چاہیے۔

ان تین اصولوں کی عملی صورت یہ سامنے آتی ہے کہ لوگوں کو اپنی زندگی میں عموماً جو مسائل پیش آئیں ان میں وہ ’اہل الذکر‘ سے رجوع کریں۔ رہے مملکت اور معاشرے کے لیے اہمیت رکھنے والے مسائل، تو وہ اُولی الامر کے سامنے لائے جائیں، اور وہ باہمی مشاورت سے یہ تحقیق کرنے کی کوشش کریں کہ کتاب اللہ اور سنت ِ رسولؐ اللہ کی رُو سے کیا چیز زیادہ سے زیادہ قرین حق و صواب ہے۔(’رسائل و مسائل ‘، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ماہنامہ ترجمان القرآن، جلد۵۰، عدد۱، رجب ۱۳۷۷ھ/اپریل ۱۹۵۸ء،ص ۴۴-۴۵)

دو مختلف نظاموں میں کچھ چیزیں مشترک ہوتے ہوئے بھی، وہ الگ الگ نظام ہوتے ہیں۔ ان دونوں نظاموں کی تفصیلات کا جائزہ لیتے ہوئے ان میں بیش تر چیزیں ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہوں، مگر اس کے باوجود ہم انھیں ایک نظام نہیں کہہ سکتے۔ دو مختلف نظاموں کا کسی ایک یا چند اُمور میں ایک دوسرے سے متفق ہو جانا بھی کبھی اُن کے ایک ہونے کی دلیل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہی حال اسلام اور مغربی جمہوریت کا ہے۔

اس ضمن میں یہ چیز ذہن نشین رہے کہ کسی نظام کا اصل جوہر طریق نہیں بلکہ وہ اصولی و مقصدی روح ہوتی ہے، جو اُس کے اندر جاری و ساری رہتی ہے اور اسی روح کے متعلق ہم حکم لگاسکتے ہیں۔

ان گزارشات کے بعد اب آپ مغربی جمہوریت اور اسلامی جمہوریت کے فرق پر غور فرمائیں:

  • مغربی جمہوریت میں حاکمیت جمہور کی ہوتی ہے اور اسلام میں حاکمیت اللہ تعالیٰ کی تسلیم کی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مغربی جمہوریت میں کسی چیز کے حق و ناحق کا فیصلہ کرنے کا آخری اختیار اکثریت کو حاصل ہے ، مگر اسلام میں یہ حق صرف باری تعالیٰ کو پہنچتا ہے، جس نے اپنا آخری منشا    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے دنیا پر واضح فرما دیا۔ یہ اختلاف کوئی معمولی نہیں بلکہ اس کی بنا پر یہ دونوں نظام بنیادوں سے لے کر کاخ و ایوان تک ایک دوسرے سے مختلف ہوجاتے ہیں۔
  • اسلامی جمہوریت میں خلافت ایک امانت ہے، جو ہرمسلمان کو سونپی جاتی ہے، اور تمام مسلمان محض انتظامی سہولت کے لیے اُسے ارباب حل و عقد کے سپرد کردیتے ہیں۔ مغربی جمہوریت میں اصحابِ اقتدار صرف اپنی پارٹی [یا منتخب ایوان] کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس اسلامی ریاست میں عوام کے نمایندے خدا اور خلق دونوں کے سامنے جواب دہ ہیں۔
  • یہ عرض کر دینا بھی ضروری ہے کہ اسلامی نظام صرف ایک طریق انتخاب تک محدود نہیں ہے بلکہ زندگی کے سارے معاملات میں اپنا ایک مخصوص نقطۂ نظر اور زاویۂ نگاہ پیش کرتا ہے۔ اس کا مطالبہ یہ ہے کہ کتاب اللہ اور سنت رسولؐ اللہ کو آخری سند مان کر اپنی پوری انفرادی اور اجتماعی زندگی کو ان کے مطابق ڈھالا جائے___ پاکستان میں ’قراردادِ مقاصد‘ کے ذریعے اس اصول کو تسلیم تو کیا گیا ہے، مگر افسوس کہ  اس کے نفاذ کے راستے میں ہرطرح کی رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں۔ (’رسائل و مسائل‘ [پروفیسر عبدالحمید صدیقی]، ترجمان القرآن، جلد۴۹، عدد۳، ربیع الاوّل ۱۳۷۷ھ، دسمبر ۱۹۵۷ء،ص ۱۸۳-۱۸۴)