پاکستان اور بھارت کے مابین جامع مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، مگر پانی کے مسائل پر گذشتہ دنوں ’سندھ طاس مشترکہ کمیشن‘ کا نئی دہلی میں اجلاس ہوا۔ اس اجلاس سے چند روز قبل بھارت کے وزیر ٹرانسپورٹ نیتن گڈکری نے ہریانہ کے کسانوں کو پانی کی فراہمی کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا: ’’اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش میں جلد از جلد زیادہ سے زیادہ ڈیم بنا کر راوی، بیاس اور ستلج دریائوں کے پانی کو بھارت میں ہی زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے گا ‘‘۔
دو سال قبل بھارت نے اوڑی کے فوجی کیمپ پر حملے کے بعد پاکستان کی طرف جانے والے دریائی پانی کی تقسیم کے معاملے پر خاصا جارحانہ رویہ اختیار کیا تھا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا: ’’پانی اور خون ساتھ ساتھ نہیں بہہ سکتے‘‘۔ ۱۹۶۰ء میں طے شدہ ’سندھ طاس آبی معاہدہ‘ ماضی میں کئی جنگوں اور انتہائی کشیدگی کے باوجود سانس لے رہا ہے، اس کی ازسرِنو تشریح کے لیے ایک اعلیٰ سطحی ٹاسک فورس تشکیل دی گئی۔ اس معاہدے کی رُو سے بھارتی پنجاب سے بہہ کر پاکستان جانے والے دریائوں: بیاس، راوی اور ستلج پر بھارت کا حق تسلیم کیا گیا، اور کشمیر سے بہنے والے دریا، یعنی سندھ، جہلم اور چناب پاکستان کی ضروریات کے لیے وقف کردیے گئے تھے۔ ایسے منصوبے جن سے ان دریائوں کی روانی میں خلل نہ پڑے، اس کی اجازت معاہدے میں شامل ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پچھلے کئی برسوں سے بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے پاکستان کے لیے پانی ایک اہم ایشو کی صورت اختیار کر گیا ہے۔
۱۹۵۰ء سے قبل پانی کے حصول کے حوالے سے پاکستان خاصی بہتر حالت میں تھا۔ اعداد وشمار کے مطابق فی کس ۵۲۶۰ کیوبک میٹر پانی پاکستان میں دستیاب تھا، جو ۲۰۱۳ء میں گھٹ کر فی کس ۹۶۴کیوبک میٹر تک رہ گیا۔ یعنی صرف ۶۶برسوں کے اندر اندر ہی پانی کی دولت سے مالامال یہ ملک شدید آبی قلت کے زمرے میں آگیا۔ اس کی وجوہ آبادی میں اضافہ، غیر حکیمانہ منصوبہ بندی، پانی کے وسائل کا بے دریغ استعمال، قلیل سرمایہ کاری، موجودہ ذخیروں تربیلا، منگلا اور چشمہ کی بروقت صفائی میں کوتاہی اور اندازے سے بڑھ کر سلٹنگ، کے علاوہ ریاست جموں و کشمیر میں پانی کے مرکزی مآخذ پر ماحولیاتی تبدیلی بھی شامل ہے۔ وادیِ کشمیر کے پہاڑوں کی چوٹیوں پر اس سال برف کی صرف ایک ہلکی سی تہہ جمی ہوئی ہے۔ اس کی وجہ موسمِ سرما میں معمول کی سطح سے نہایت ہی کم برف باری کا ہونا خطرے کی گھنٹی ہے، جسے کشمیر کے نشیبی علاقوں بشمول پاکستان کے کسانوں کے لیے فکرمندی کا باعث ہونا چاہیے۔ کشمیر کے ندی نالوں میں اس سال پانی کی سطح بہت ہی کم ہوچکی ہے۔ بھارتی زیرانتظام جموں و کشمیر کے محکمہ آب پاشی نے حال ہی میں ایک باضابطہ ایڈوائزری جاری کر کے شمالی کشمیر کے کسانوں کو خبردار کیا ہے کہ ’’اس سال دھان کی کاشت کے لیے محکمہ پانی فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگا‘‘۔اس لیے کسان ’’دھان کی جگہ کوئی اور متبادل فصل اُگائیں‘‘۔ یقینی بات ہے کہ سندھ طاس کمیشن کی میٹنگ میں یہ ایڈوائزری پاکستان کوبھی دی گئی ہوگی۔ محکمہ آب پاشی کے چیف انجینیر شاہ نواز احمد کے بقول: ’’دریاے جہلم میں پانی کی سطح ریکارڈ لیول تک گرچکی ہے۔ سری نگر کے پاس سنگم کے مقام پر جہاں دریا کی سطح اس وقت چھے فٹ ہونی چاہیے تھی، محض ۱ء۴ فٹ ہے۔ ضلع کپواڑہ کے ندی نالوں میں ۱۰ فی صد پانی کی کمی واقع ہوچکی ہے‘‘۔
وادیِ کشمیر میںآنے والے مہینوں میں خشک سالی کا پاکستان کے کسانوں پر اثرانداز ہونا لازمی ہے۔ ویسے بھی پاکستان کی طرف بہنے والے دریائوں کے مراکز، یعنی جموں و کشمیر میں موجود پانی کے ذخائر پچھلے ۶۰برسوں میں خطرناک حد تک سکڑ چکے ہیں۔ سری نگر کے نواح میں بڑی نمبل، میرگنڈ، شالہ بوگ، ہوکرسر اور شمالی کشمیر میں حئی گام کے پانی کے ذخائر تو خشک ہوچکے ہیں۔ ان کے بیش تر حصوں پر تجاوزات قائم ہیں۔ سوپور میں تحصیل کے پاس مسلم پیربوگ، جو شہر کے اندر پانی کی ایک جھیل تھی، اس پر اب ایک پُررونق شاپنگ مال کھڑا ہے۔ کشمیر میں کوئی ایسا ندی نالہ نہیں ہے، جس میں پچھلے ۷۰برسوں میں پانی کی مقدار کم نہ ہوئی ہو۔ چندسال قبل ایکشن ایڈ کے ایک سروے میں بتایا گیا کہ: ’’اکثر جگہ پانی کی سطح ایک تہائی رہ گئی ہے اور چند میں تو نصف ریکارڈ کی گئی۔ ان ندی، نالوں کا پانی ہی جہلم، سندھ اور چناب کو بہائو فراہم کرتا ہے۔ علاوہ ازیں سلسلہ کوہِ ہمالیہ میں گلیشیروں کے پگھلنے کی رفتار بھی دُنیا کے دیگر علاقوں کی نسبت زیادہ ہے۔ سرحدی علاقوں میں ان کی موجودگی اور جنگی فضا کے باعث ان پر سرکاری رازداری کے قانون کا اطلاق ہوتا ہے، جس سے ان پر تحقیق محدود ہوجاتی ہے۔ چین کے علاقے تبت، نیپال، بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں اور اتراکھنڈ، نیز جموں و کشمیر وغیرہ، جو ہمالیائی خطے میں آتے ہیں، جہاں ایک اندازے کے مطابق ۱۵ہزار گلیشیرزہیں،جو دُنیا کے عظیم دریائی سلسلوں، میکانگ، برہم پترا، گنگا اور سندھ کو پانی فراہم کرتے ہیں۔ ان میں سے ۳۱۳۶ گلیشیر کشمیر کے کوہساروں کی پناہ میں ہیں۔ بھارت میں دریاے گنگا اور اس کے گلیشیرز کو بچانے کے لیے بھارت کی مرکزی اور ریاستی حکومتیں خاصی پُرعزم ہیں ۔
دوسری طرف دیکھا گیا ہے کہ: ’سندھ طاس‘ گلیشیرز کی حفاظت کو نظرانداز کیا جاتا ہے، بلکہ مذہبی یاترائوں کے نام پر ایک طرح سے ان کی پامالی کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ اقتدار میں آنے کے فوراً بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی حکومت نے نہ صرف گنگا کو بچانے اور اس کی دیکھ بھال کے لیے ایک علیحدہ وزارت بھی قائم کی، بلکہ اس کام کے لیے ایک کھرب ۲۰ ارب روپے مختص کیے۔ ۲۰۰۸ء میں اتراکھنڈمیں بی جے پی حکومت نے دریاے گنگا کے منبع پر ہندوئوں کے مقدس استھان گومکھ گلیشیر کو بچانے کے لیے وہاں جانے پر سخت پابندیاں عائد کردیں، جس کی رُو سے اب ہر روز صرف ۲۵۰یاتری اور سیاح گومکھ کا درشن کرپاتے ہیں۔ اس کے برعکس ہرسال روزانہ تقریباً ۲۰ہزار یاتری کشمیر میں سندھ طاس ندیوں کے منبع کولاہی اور تھجواسن گلیشیر کو روندتے ہیں۔
۵۰سال قبل چناب کے طاس کا تقریباً ۸ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ برف سے ڈھکا رہتا تھا، وہ آج گھٹ کر صرف ۴ہزار مربع کلومیٹر رہ گیا ہے۔ پیرپنجال پہاڑی سلسلے میں تو شاید ہی کوئی گلیشیر باقی بچا ہے۔ اسی طرح اب بی جے پی حکومت ایک اور روایت قائم کرکے پیرپنچال کے پہاڑوں میں واقع ’کوثر ناگ‘ کی یاترا کی بھی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ پھر ایک گروہ تو آزاد کشمیر میں واقع شاردا کو بھی اس یاترا سرکٹ میں شامل کرنے پر اصرار کر رہا ہے۔ پہاڑوں میں واقع صاف شفاف اور آلودگی سے پاک ’کوثر ناگ‘ پانی کا چشمہ جنوبی کشمیر میں اہربل کی مشہور آبشار، دریاے ویشو اور ٹونگری کو پانی فراہم کرتا ہے۔ بعض عاقبت نااندیش کشمیری پنڈتوں کو آلہ کار بنا کر ہندو فرقہ پرست قوموں، نیز حکومت نے ’امرناتھ یاترا‘ کی طرح ’کوثر ناگ‘ یاترا چلانے کا اعلان کر ڈالا ہے۔ ۲۰۰۵ء میں مشہور ماہر ماحولیات پروفیسر ایم این کول کی قیادت میں چوٹی کے ماہرین ماحولیات نے ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ: ’’اگر امرناتھ کے مقدس گپھا تک سونہ مرگ کے پاس بل تل کے راستے ہزاروں یاتریوں کی آمدورفت کا سلسلہ اس طرح جاری رہا تو ماحولیات اور گلیشیر کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا‘‘۔ لیکن اس مشورے پر کان دھرنے کے بجاے دہلی حکومت آج زیادہ سے زیادہ یاتریوں کو بال تل کے راستے ہی سے امرناتھ بھیج رہی ہے۔ نتیش سین گپتا کمیٹی نے ۱۹۹۶ء میں اپنی سفارشات میں یہ بھی کہا تھا کہ امرناتھ کو ایک ماہ اور زائرین کی تعداد ایک لاکھ تک محدود کی جائے‘‘۔ لیکن حکومت نے پہلے تو یاترا کی مدت ایک ماہ سے بڑھا کر تین ماہ کر دی اور اس کے بعد یاتریوں کی تعداد کو محدود کرنے سے انکار کردیا۔ آیندہ برسوں میں اندازہ ہے کہ یہ تعداد ۱۰لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ یاترا ، اب ایک مذہبی سبھا کے بجاے ’ہندوتوا‘ غلبے کا پرچم اُٹھائے کشمیر میں وارد ہوتی ہے۔ کولہائی گلیشیر ۱۱ مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ گذشتہ تین عشروں میں یہ ڈھائی مربع کلومیٹر تک سکڑ گیا ہے اور چند عشروں کے بعد پوری طرح پگھل چکا ہوگا۔ ’امرناتھ گپھا‘ اسی گلیشیر کی کوکھ میں واقع ہے۔
ایک اور حیرت ناک پہلو یہ بھی ہے کہ پچھلے ۳۰برسوں سے بھارت اور پاکستان کے درمیان وولر بیراج یا ٹولبل آبی پراجیکٹ کے حوالے سے بات چیت کے کئی دور ہوئے، مگر شاید ہی کبھی اس جھیل کی صحت اور تحفظ پر غوروخوض ہوا ہے۔ سوپور اور بانڈی پورہ کے درمیان واقع کئی برس قبل تک یہ ایشیا میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیل تھی۔ پاکستان اور میدانی علاقوں کے کسانوں کے لیے یہ ایک طرح کا واٹر بنک ہے۔ جنوبی کشمیر کے چشمہ ویری ناگ سے نکل کر سری نگر اور اس کے اطراف کو سیراب کرکے دریاے جہلم پوری طرح وولر میں جذب ہوجاتا ہے، اور سوپور کے نواح میں ایک بار پھر سے تازہ دم ہوکر بارہ مولا سے ہوتے ہوئے، اوڑی کے پاس لائن آف کنٹرول پار کرتا ہے۔ بھارتی ویٹ لینڈ ڈائریکٹری میں اس جھیل کی پیمایش ۱۸۹ مربع کلومیٹر درج ہے، ’سروے آف انڈیا‘ کے نقشے میں اس کا رقبہ ۵۸ء۷ مربع کلومیٹر دکھایا گیا ہے اور کشمیر کے مالی ریکارڈ میں اس کی پیمایش ۱۳۰مربع کلومیٹر ہے۔ جس میں ۶۰مربع کلومیٹر پر اب نرسریاں یا زرعی زمین ہے۔ ایک سابق مرکزی وزیر سیف الدین سوز کے بقول: ’’اس کا رقبہ اب صرف ۲۴مربع کلومیٹر تک محیط ہے‘‘۔ سیٹلائٹ تصاویر دیکھیں تو نظر آتا ہے کہ یہ جھیل بڑی حد تک سکڑ گئی ہے۔ پانی اور ماحولیاتی بربادی کی اس تصویر سے بھی زیادہ خوف ناک اور تشویش کن صورت پیدا ہوسکتی ہے، مگر اور بھی زیادہ حیرت ناک صورت حال یہ ہے کہ دونوں ملکوں نے ابھی تک قدرتی وسائل کی حفاظت کی سمت میں بات چیت کو بھی قابلِ اعتنا نہیں سمجھا ہے۔ چارسال قبل کشمیر میں آئے سیلاب نے جگانے کے لیے خطرے کی گھنٹی بجائی تھی، اور اس کے بعد گہری نیند کا سماں ہے۔
کہاوت ہے کہ پہاڑ کی جوانی اور ندیوں کی روانی وہاں کے مکینوں کے کام نہیں آتی، بلکہ اس کا فائدہ میدانوں میں رہنے والے کسانوں اور کارخانوں کو ملتا ہے، اور انھی کی بدولت شہر اور بستیاں روشن ہوتی ہیں۔ اس لیے پہاڑوں میں رہنے والے وسائل کے محافظوں کو ترقی میں حصہ دلانا لازمی ہے۔ دونوں ممالک کی یہ ذمہ داری ہے کہ ’سندھ طاس معاہدے‘ سے آگے بڑھ کر ماحولیاتی تبدیلی اور قدرتی وسائل کی حفاظت کی خاطر باہم مل کر کوئی مشترکہ لائحہ عمل وضع کریں۔ کشمیر کے بعد اس ماحولیاتی تبدیلی کا سب سے زیادہ اثر پاکستانی زراعت اور پن بجلی کے منصوبوں پر پڑنے والا ہے۔ اس خطے میں ماحولیاتی تباہی کئی نسلوں کو متاثر کرے گی اور کسی دوسرے خطرے کے مقابلے میں انسانی جانوں کا کہیں زیادہ ضیاع ہوگا۔ اس لیے یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہےکہ اتنے اہم معاملے پر بھارت اور پاکستان کے سفارتی حلقوں میں خاطرخواہ دل چسپی کیوں نہیں لی جارہی؟ دونوں ممالک کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ ’سندھ طاس آبی معاہدے‘ سے آگے بڑھ کر کوئی پاے دار نظامِ کار وضع کریں، تاکہ کنٹرول لائن کے دونوںطرف رہنے والوںکو سیلاب اور خشک سالی جیسی آفات سے بچایا جاسکے، جب کہ اس وقت ماحولیاتی تبدیلی اور قدرتی وسائل کی حفاظت جیسے اُمور بین الاقوامی سفارتی گفت و شنید کا لازمی جز بن چکے ہیں۔
آج پوری دنیا میں بے چینی، بے قراری، انتشار اور نفسیاتی عوارض روز افزوں ہیں۔ پوری دنیا جنگوں کا جہنم زار ہے۔ گھر ہوں یا خاندان، دفاتر ہوں یا کاروبار، سیاسی جماعتیں ہوں یا اقوام، کھینچا تانی کے مناظر چھائے نظر آتے ہیں۔ عالمی سطح پر جنگوں میں درندگی ، انسانی اقدار کی تباہی کسی بھی ذی حس، ذی شعور کے ہوش گم کر دینے کے لیے کافی ہے۔ انسان کو انسان کے ہاتھوں پہنچنے والے دُکھ اور اذیتیں ناقابل بیان، ناقابلِ یقین ہیں۔ خُودکُشی کرنے والے محض معاشی حالات کے ہاتھوں مجبور نہیں، بلکہ بڑی تعداد تو معاشی اور سائنسی سطح پر نہایت ترقی یافتہ ممالک (جاپان، امریکا) کے لوگوں کی ہے، جو مال، دولت ، شہرت ، تعلیم کی بلندترین سطح پر پہنچ کر بھی اپنی ذات کی داخلی دُنیا کے خلا کے ہاتھوں اپنی جان لے لیتے ہیں۔ کتوں، بلیوں، مچھلیوں ، بندروں کے حقوق کے غم میں گھلنے والے تو بہت سے لوگ اور ادارے پائے جاتے ہیں، لیکن انسانوں کو خوفناک کیمیائی بموں سے تباہ کرنے، وحشیانہ قتل عام کرنے اور بستیاں جلانے والے ہاتھوں کو روکنے والے کہیں نظر نہیں آتے، بلکہ عالمی قیادت، ویٹو کلب یا جی سیون (G7)یک جا ہو کر درندگی کی پشت پناہی کی منصوبہ بندی کرتی ہے!
اس تمہید میں پائے جانے والے ہوش ربا منظرنامے کی وجہ عورت ہے! ٹھہریے! یہ نہ کہیے کہ عورت کو ہر معاملے میں موردِ الزام ٹھیرانا اپنی جگہ بڑا ظلم ہے، مگر بقول اقبال:
قصور زن کا نہیں ہے کچھ اس خرابی میں فساد کا ہے فرنگی معاشرت میں ظہور
دراصل عصرِحاضر کی عورت خود ایک کٹھ پتلی بن چکی ہے۔ ہوس پرست مردوں اور عالمی حیا باختگی کے سوداگروں نے گذشتہ دو صدیوں سے انسانیت کو اُس عورت سے بتدریج محروم کیا ہے، جو ’مادرِ انسانیت‘ تھی۔ آج بن ماں کے سسک سسک اور ٹھوکریں کھا کھا کر پلتے انسانوں کی تشنہ، ناپختہ، کج رو اور نفسیاتی بیماریوں کی ماری شخصیت کے ہاتھوں دنیا ابتر ہوئی پڑی ہے۔ انسانی بچہ سب سے زیادہ محنت، توجہ، بے پناہ محبت اور شفقت کا محتاج ہوتا ہے۔ اسے برائلر چوزوں کی طرح بلبوں کی روشنی، مصنوعی خوراک اور ٹیکوں کے ذریعے پال پوس کر چھوڑ دینا شرفِ انسانیت کی نفی ہے۔ صاحب ِکردار اور اعلیٰ اقدار کا فرد تیار کرنے کے لیے بے پناہ عرق ریزی، خون جگر ، صبر و ایثار درکار ہوتا ہے۔ مضبوط محفوظ گھر کی چاردیواری میں ہمہ گیرو ہمہ پہلو محبت، دل داری گھونٹ گھونٹ اندر اُتارنے کی ضرورت ہوتی ہے ___ پاکیزہ گفتگو، مہذب آوازوں ، اخلاق و کردار کی مہک ننھے بچے کے کانوں اور مساموں تک میں جگہ بناتی ہے۔ آنکھیں پاکیزہ مناظر سے روشنی پاتی ہیں۔ لقمۂ حلال جزوِ بدن بنتا ہے۔ گردوپیش میں موجود ہر انسانی رشتہ پوری یکسوئی اور یک رنگی سے بچے کو پروان چڑھانے میں ہم آہنگ ہو، اخلاق و کردار کی آکسیجن فراواں ہو، تو انسان پرورش پاتے ہیں۔ دم گھونٹ دینے والی مسموم فضاؤں، کان کے پردے پھاڑتی موسیقی کی تانوں، تیز جھگڑالو آوازوں کے ہنگاموں اور نفسانی خواہشات کے بگولوں میں انسان کا بچہ نہیں پل سکتا۔ مہذب، شائستہ، نرم خو، متوازن اور مضبوط کردار کے انسانوں کی دنیا پروان نہیں چڑھ سکتی۔
معاشروں کی رہبری کرنے اور روشنی کا مینار بننے والے انسانوں کی جو فراوانی مسلم تاریخ کا قابلِ فخر سرمایہ ہے___ اس کی نظیر دنیا پیش کرنے سے قاصر ہے۔ جس کام کا آغاز وحی الٰہی کی روشنی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جاںفشانی اور دل سوزی سے ہوا تھا، اسے اُمت کی ماؤں نے تھام کر شخصیت سازی کی ذمہ داری اُٹھائی تھی۔ جس کے لیے اسلام نے عورت کو بے پناہ تحفظ، تقدس اور احترام دیا تھا۔ اس کے قدموں تلے جنت رکھی تھی ’ شرف میں مشت ثریا سے بڑھ کے خاک اس کی!‘ انسانی صفات سے لہلہاتی سرسبزوشاداب فصل جو صحابہ و صحابیات (رضوان اللہ علیہم) کی صورت میں اُٹھی تھی، اس نے رہتی دنیا تک کے لیے سیرت سازی کا نمونہ فراہم کیا تھا۔ مسلم گھرانے بچے کی اٹھان، تعلیم و تربیت اور کردار سازی کے گہوارے بن گئے تھے۔ گئے گزرے اَدوار میں بھی یکایک کوئی تراشا ہوا ہیرا سامنے آتا اور منظر بدل جاتا ۔ مال و دولت کی فراوانی میں ڈوبتے اُبھرتے بنواُمیہ کے دورِ بادشاہت میں عمر بن عبدالعزیزؒ اٹھتے ہیں اور ہوائیں فضائیں اس کردار کی خوشبو سے مہک اٹھتی ہیں۔ کبھی نور الدین زنگی اور صلاح الدین ایوبی جیسے رجال، اُمت کی تقدیر بدلنے کو میسر آجاتے ہیں۔ غرض یہ کہ ہر آبادی سے اسی نبویؐ فارمولے کے تحت انسان سازی بروے کار آتی رہی اور بہار کے مناظر لہلہا اٹھتے رہے۔ یہ تو دورِ حاضر کی بدنصیبی ہے کہ دنیا بھر میں بلاشرکت غیرے اقتدار و اختیار ایسے گروہوں اور مافیا کے ہاتھ آگیا کہ جس کے بعد انسان بنانے کی فیکٹریوں پر تالے پڑ گئے۔ جان لیجیے اس فیکٹری کی کارپرداز ہستی (عورت) ہر جگہ موجود ہے۔ چوراہے پر ٹریفک کنٹرول کرنے، دکان پر سوداگری کرنے، ٹیلی ویژن سکرین پر دل لبھانے، سیاست کی گدی پر جوڑ توڑ کرنے اور جنگی جہازوں سے چھلانگ لگانے تک! کیا ان مقامات پر عورت موجود نہیں ___ ؟ مگر قرار اور وقار سے ٹِک کر انسان سازی جیسی اعلیٰ و ارفع، نفع بخش اور اہم ترین ذمہ داری سے طویل رخصت پر غائب ہے! خود بھی بے در، بے گھر ، بے سکون اور انسانی معاشرے بھی تباہی کا شکار!
یہ طوفان مغرب میں تباہی لاکر آج آخری انتہا پر پہنچ چکا ہے اور عورت بند گلی میں بے دست و پا۔ مغربی مرد نے عورت کو اتنا عریاں، اتنا سستا، اتنا فراواں اور ہر جگہ ٹکے بھاؤ میسر کر دیا ہے کہ اب خود مرد کا دل بھی اس سے بے زار ہوتا نظر آرہا ہے۔ ہر جا سر چڑھی اور برابری کی دعوے دار، ’مردانہ وار عورت‘ اپنی کشش کھو چکی ہے۔ ان معاشروں میں نسوانی عورت موجود نہیں۔ دراصل آج وہاں مردوں پر ہی مشتمل آبادیاں ہیں، تمام کی تمام حقیقی مردوں اور مصنوعی مردوں سے آباد! پیدایشی مرد اور مردانہ لباس میں ملبوس مردانہ عورت یا پھر اعصاب شکن فاحشہ، برہنہ عورت! معاشرہ اپنا حسن، رنگ روپ، مروت ، ایثار، تحمل ، برداشت، شفقت اور رافت کھو چکا ہے۔ معاشرے کا ایک خوب صورت منظر ننھے منے بچے ہوا کرتے ہیں۔ جو اُداس اور تھکے ماحول میں راحت، زندگی اور اُمید بھر دیتے ہیں___ چہچہاتے، کھلکھلاتے، بھاگتے، دوڑتے اور کلکاریاں بھرتے بچّے، مگر آج ان کی جگہ سارے منظر پر باقاعدہ پالتو کتّے چھا چکے ہیں: غراتے، بھونکتے، دُم ہلاتے، رال ٹپکاتے! ’وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ!‘ اس رنگ میں کتّے بھنگ ملاچکے ہیں اور تصویر کائنات، انسانیت کے بہتے خون سے لہولہان ہو چکی ہے۔ جا بجا انسانوں کی جلی ہوئی، بموں سے چیتھڑا بنی لاشیں پڑی ہیں!
گورے مردوں نے عورت کو جس سفر پر ڈالا تھا، اس میں وہ مامتا کے مقام سے نکل کر مردکی سفلی ہوس میں رگیدی ’کمفرٹ گرل‘ اور ’سپائس گرل‘ بننے کے راستے پر چل نکلی۔ یوں نام نہاد مغربی معاشروں نے انسانیت کے منہ پر کالک ملی۔ عالمی جنگوں میں صرف کروڑوں انسانی جانوں کا خون ہی نہیں کیا بلکہ عورت کو بھی بے طرح پامال کیا۔ عورت کو صنعتی انقلاب کے بعد معاشی دوڑ میں لاکھڑا کیا۔ گھر کو خود کار بنانے کے لیے ایجادات ، مصنوعات کے ڈھیر لگا دیے اور تمام گھریلو اُمور کی انجام دہی مشینی بنا دی۔ دوسری جانب خود عورت کو گھر اور بچوں سے باہر کی دنیا میں پیسہ کمانے، اور ساتھ ساتھ ضمنی طور پر دل لبھانے والی مشین بنا دیا۔ بازاروں میں فروزن سبزیاں ، پکے ہوئے کھانے، چٹنیاں، ڈبل روٹیاں، برگر وغیرہ سب ارزاں ہوئے۔کپڑے اور برتن دھونے کی مشینیں عورت کی نذر کیں اور دل نواز آواز میں پکارا: ’’بس، اب تم گھر سے نکل آؤ۔ میرے ساتھ رہو، جدھر نظر اٹھاؤں، تمھارے وجود کا رنگ آنکھوں کو رونق بخشے۔ خوراک کے ذائقے کی کمی برداشت کر لوں گا، مگر تم گھر کی قید سے نکلو اور میرے ساتھ رہو___ ترقی اور آزادی، حقوق اور مساوات کے پُرفریب نعروں پہ آزادیِ نسواں کی تحریک پروان چڑھی اور پھریرے لہراتی پوری دنیا پر چڑھ دوڑی:
تہذیب فرنگی ہے اگر مرگِ امومت
ہے حضرت انساں کے لیے اس کا ثمر موت
جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن
کہتے ہیں اسی علم کو اربابِ نظر موت
مغرب کے بعض اربابِ نظر بھی بہت چیخے چلائے تھے، لیکن ’دقیانوسیت‘ کی پھبتی کَس کر انھیں نکّو بنا دیا گیا، اور جدیدیت کی رنگینیوں کی جگمگاہٹوں نے ذہن ماؤف کر ڈالے۔ مرد و زن کو یکساں تعلیم و تربیت دی۔ فنونِ لطیفہ کے نام پر تہذیب کی بدترین کثافتوں کی دلدل میں عورت کو دھکیل دیا۔ مردانہ وار تعلیم کی مصروفیت اور مرد سے مسابقت کے شوق نے ماں، ممتا اور بچے کے لطیف جذبات کو کچل کر رکھ دیا۔اولاد کی فطری خواہش کو سر اُٹھانے سے پہلے کچل دیا گیا۔ اسقاطِ حمل کی سہولتیں فراواں ہوئیں۔ خاندانی منصوبہ بندی کی ایجادات و مصنوعات نے انسانیت کش سامان فراہم کیے۔ ایک مسئلہ مخلوط تعلیم اور ہمہ گیر اختلاط سے حرام بچوں کی آمد کا تھا، جسے روکنے کو کم عمری میں جنسی تعلیم او ر تعلیمی اداروں میں فیملی پلاننگ کی ضروریات کی فراہمی کا بندوبست ہوا۔ ان ’حفاظتی‘ اقدامات کے لیے ادارے بنے، اور ’ڈے کیئر‘ کی آیاؤں نے پرائے بچے پالنے کی ذمہ داری سنبھالی۔ سوسال کے اندر اندر نانیاں، دادیاں ملازمتوں اور پھر اپنی دوستیاں نبھانے میں یوں بے پناہ مصروف ہوئیں کہ بچے کرائے پر پلنے لگے۔ اگلی نسل میں بچے بھی کرائے پر پیدا ہونے لگے۔ بچے پیدا کرکے دینے کی نوکری بھی ایجاد ہو گئی۔ کھیل کے میدانوں میں ’شانہ بشانہ‘ نے رہی سہی نسوانیت بھی ختم کر دی۔ اب عورت نسوانیت، حیا، لطافت، تحمل، صبر، عمیق جذبات اور قدرت کی ودیعت کردہ پرورش اولاد کی خاطر جذباتیت کھوچکی۔
یہ مرد نُما قسم کی مخنث عورت، فطری کشش کھو کر مدمقابل مخلوق بن چکی۔ اس کے سر چڑھے پن کے ہاتھوں وضع ہونے والی قانون سازیاں، شادی کے مقدس بندھن کو مرد کے استحصال کا ایک آلہ قرار دے چکی۔ مرد طلاق دیتا ہے تو عمر بھر کی پونجی گنوا بیٹھتا ہے۔ شوہر کو بلااجازت قربت کا حق بھی نہ رہا اور اس مقصد کے لیے خوف ناک اصطلاحیں وجود میں لائی گئیں۔ عورت عشوے، غمزے اور حیا کی ساری حدیں پار کرتے ہوئے اشتہاری جنس کا ایک آلہ بن کر رہ گئی۔ قصاب کی دکان پر لٹکے گوشت کی مانندعورت کے جسم کا ہرہرحصہ بکتا یا صنعتی اشیا کی فروخت کا حوالہ بن چکا تھا۔ کہیں سالم اور کہیں شانے، دستی، پائے، ران کے دام الگ الگ وصول کرتی، بل بورڈوں پر چڑھی، فلم اور فیشن کو تارے دکھاتی عورت اپنے ٹیلنٹ اور آزادی کا اظہار کررہی ہے۔ایسی حیا باختہ عورتوں کا نام ’ستارہ‘ (Star)اور بڑی ’شخصیت یا فنکارہ‘ (Celebrity) قرار پایا۔ دوسری طرف عورت ہی سے بیزاری شروع ہو گئی کہ کھلونے کی طرح کھیل لیا، پھینک دیا اور طبیعت کو اُکتاہٹ ہونے لگی۔ مرد نے عورت پر تین حرف بھیج کر بحرِمُردار سے ملعون تہذیب نکالی اور اس سے اخذ کیا: مرد سے مرد کی شادی اور ضد میں عورت کی عورت سے شادی۔ یہ قانون بن گئے۔ شکست خوردہ مذہبیت کے بے آباد، مگر سجے سجائے چرچوں سے بھی اجازت مل گئی! پھر مردوزن نے حقیقی کتے، کتیوں اور جانوروں سے شادی کرنے کے ’جرأت مندانہ‘ قدم اُٹھائے۔ جاپان اور یورپ میں بڑی بڑی گڑیاؤں (ڈمیوں) سے شادی اور ان اشیا کے جگمگاتے اسٹور۔ بچوں کے لیے اگر بہت جی چاہا تو نامعلوم والدین کے بچے لے لیے۔
درحقیقت نسوانیت کی اسی موت نے خود انسانیت کو موت کی تاریک وادیوں میں دھکیل دیا ہے۔ عورت ایک برہنگی زدہ، کریہہ منظرنامے کے کردار کی مانند پھر رہی ہے۔ لاکھوں فحش سائٹس، مکروہ ترین ایجادات کا حصہ ہیں اور اربوں ڈالر کی صنعت ہے۔ ماں کے ہاتھ سے پکے اور خوشبودار مہکتے غذائیت سے بھرپور کھانوں کی جگہ فاسٹ فوڈ بھی موت ہی کی سوداگری ہے۔(ہمارے ہاں اسی کلچر پر مرمٹنےکا جادو سر چڑ ھ کر بول رہا ہے، اور بازاری کھانوں میں اب گدھے کا گوشت، مردار مرغیاں اور کیا کچھ مزید نہیں کھایا کھلایا جا رہا۔)
آج یہ ساری بدنصیبی، گلوبل ویلج کے بن ماں کے پلے بدمست چودھریوں کے ہاتھوں دنیا کے گوشے گوشے میں پھیل چکی ہے۔ پاکستان بھی اس کی زد میں ہے۔ اور اب تو سعودی عرب بھی کھل کھیل کر ’زمانے کے ساتھ ساتھ چلنے‘ کی شاہراہ پر آن کھڑا ہورہا ہے۔ دہشت گردی کی آڑ میں پاگل پن کی بدحواسیاں۔ توبہ توبہ! عورت پر بے حیائی، بے حجابی مسلط کرنا ’انسداددہشت گردی‘ (Counter Terrorism) کا تیر بہدف نسخہ قرار پایا۔ مسلمانوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کو دھتکارتے امریکیوں کی رضا اور خوش نودی کی خاطر سندھ پولیس نے (CTD) سیمی نار منعقد کرکے ۴۰ یونی ورسٹیوں کے وائس چانسلر صاحبان کو اکٹھا کیا۔ مل بیٹھنے اور سرجوڑنے کے بعد توپوں کے سارے دہانے اسلام ، دروسِ قرآن، دینی تربیت، حجاب، نقاب، داڑھی پر گولہ باری کے لیے کھول دیے۔ اِکا دکا میزائل نوجوان طلبہ و طالبات کو ایمان اور حیا سے روکنے کے اقدامات اور فرامین کی صورت صادر فرمائے۔ ’لبرل ترقی پسندانہ‘ رویوں اور رجحانات کی حوصلہ افزائی کرنے کا حکم جاری ہوا۔ پہلے ہی تعلیم او ر تعلّم کا گلا گھونٹ کر یونی ورسٹیاں اور کالج رنگ و خوشبو میں غرق، عشق عاشقی اور عیاشی پروان چڑھانے کے اداروں میں ڈھل رہے ہیں۔ جا بجا طالبات جنسی ہراسانی کے عذاب میں مبتلا ہیں، خود اپنے اساتذہ کے ہاتھوں!ہم کیسے بدنصیب ہیں کہ بگٹٹ انھی راہوں پر آج دین ایمان سے منسوب اپنی شناخت بھلائے دوڑے چلے جا رہے ہیں کہ جن راہوں پر چل کر مغربی ممالک تباہ ہوئے ہیں۔ طلاق کی شرح ہمارے ہاں بھی خوف ناک حد تک بڑھتی جارہی ہے۔ عورت دیوانہ وار تلاش معاش میں بھاگی دوڑی چلی جارہی ہے اور بچے رُل رہے ہیں۔ ایسے میں کردار سازی کہاں___ ! بچے سسک سسک کر عدالتوں میں خلع طلاق کے کیسوں میں جدا ہوتے۔ ماں باپ کو دیکھتے اور چیخ چیخ کر پکارتے ہیں:
’گھر‘ توڑنے والے دیکھ کے چل ، ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’نیک بندے ایک ایک کرکے دنیا سے گزرتے چلے جائیں گے، یہاں تک کہ کچرے کے سوا کچھ باقی نہ رہے گا جیسے کھجور یا جو کا کچرا۔ اللہ اس بات کی پروا نہ کرے گا کہ انھیں کس وادی میں ہلاک کرے‘۔ آج دُنیا اس کچرے کا ڈھیر بنی نظر آتی ہے۔ اسے کچرادان بنانے میں جہاں نیکوکاروں کے اٹھ جانے بلکہ لاتعلقی کا حصہ ہے، وہیں پر دنیا کو اس حال تک پہنچانے میں عورت کی بے قراری اور بے وقعتی کا بھی بہت بڑا حصہ ہے۔ اس کا علاج ___ ؟ وہی آبِ نشاط انگیز ہے ساقی! اپنی ماؤں میں سیّدہ مریمؑ ، سیّدہ ہاجرہؑ ، سیّدہ خدیجہؓ، سیّدہ فاطمہؓ جیسا پاکیزہ مامتا بھرا اسوہ لوٹانے کی ضرورت ہے۔ یہی حج اور عمروں کا حاصل ہے۔ یہی ہمارا رول ماڈل ہے۔ قوم ماں کی گود سے پل کر نکلتی ہے:
بیگانہ رہے دیں سے اگر مدرسۂ زن
ہے عشق و محبت کے لیے علم و ہنر موت
اولاد کو فتنۂ دجال کی آندھیوں سے بچانے کے لیے پروں کے نیچے چھپا کر پالیے۔ کم تر معیارِ زندگی پر برتر معیارِ بندگی کو شعار بنائیے۔ میڈیا کے مسموم و مذموم اثرات سے بچائیے۔ قرآن و سنت ر گ و پے میں اتارئیے۔ پورے اعتماد سے مومنین و مومنات، قانتین و قانتات بنا کر پالیے۔ معترضین دیوانی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں، ان کی بات پر کان نہ دھریے! کہاں اسلام کی حیادار، عفت مآب محفوظ پاکیزہ عورت! اور کہاں مغربی معاشروں کی رگیدی بے وقعت عورت، بھوکی نگاہوں کے داغوں بھری چیچک زدہ عورت ؎ چہ نسبت خاک را بہ عالمِ پاک
سوال : ۱-رمضان کے کچھ روزے کسی شرعی عذر کی بنا پر قضا ہوگئے۔ کیا شوال کے چھے مسنون روزے رکھنے سے پہلے رمضان کے قضا روزوں کی ادایگی کی جائے یا قضا روزوں کو مؤخر کر کے پہلے شوال کے روزے رکھ لیے جائیں؟اگر کوئی شخص یہ نیت کرے کہ شوال میں قضا روزے ادا کر رہا ہوں اور ماہِ شوال کے مسنون روزوں کا ثواب بھی مل جائے گا۔ کیا ایسا کرنا درست ہے؟ یہ خیال رہے کہ عبادات میں نیت بہت ضروری ہے، اس لیے فرض عبادت کو نفل عبادت سے ملایا نہیں جاسکتا، مثلاً دو رکعت فرض نماز میں فرض ہی کی نیت کی جائے گی، نفل کی نہیں۔کیا روزے کا معاملہ بھی اسی طرح ہے؟
۲-اگر کسی شرعی عذر کے باعث کسی خاتون کے ذمے کئی ماہ کے روزے ہوں اور ان کی ادایگی کے لیے کوشاں بھی ہو، لیکن وہ شوال اور ذوالحجہ کے نفلی روزوںکا ثواب بھی لینا چاہے تو اس کے لیے کیا حکم ہوگا؟رمضان کے قضا روزے اگر تسلسل کے ساتھ رکھنا مشکل ہو، اور کوئی خاتون یہ معمول بنالے کہ وہ ہر پیر اور جمعرات کو روزہ رکھ کر اپنے ذمے فرض روزوں کو ادا کرے گی، تو کیا ان دو دنوں کی نسبت سے اس کو سنت پر عمل کا ثواب بھی ملے گا؟
۱-شرعی عذر کی بنا پر ماہِ رمضان کے جو روزے چھوٹ گئے ہوں، ان کی فوری قضا لازم نہیں، اگرچہ مستحسن یہی ہے کہ جلد رکھ کر اس فرض سے سبکدوشی حاصل کرلی جائے، کیونکہ انسان کو زندگی کے اگلے لمحے کا کچھ پتا نہیں۔ پھر یہ کہ نیکیوں کے حصول میں پہل کرنے اور عجلت سے کام لینے کا حکم دیا گیا ہے: فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرَاتِ(۲:۱۴۸)۔ لیکن اگر کسی وجہ سے یہ روزے فوری نہ رکھے جاسکیں تو تاخیر سے گناہ لازم نہیں آتا۔ اس لیے قضا روزے رکھنے سے پہلے دیگر نفلی روزے (جیسے شوال کے چھے روزے وغیرہ) بھی رکھے جاسکتے ہیں۔ صحیحین (بخاری و مسلم) میں حضرت عائشہؓ کا قول ہے: ’ میرے ذمے رمضان کے قضا روزے ہوتے تھے اور میں وہ شعبان ہی میں رکھ پاتی تھی‘۔ حافظ ابن حجر اس کی شرح میں کہتے ہیں: ’اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کسی مجبوری اور عذر کی بناپر یا اس کے بغیر بھی آیندہ رمضان تک روزوں کی قضا کو مؤخر کیا جاسکتا ہے‘۔ (فتح الباری، ج۴، ص ۲۳۹، حدیث: ۱۹۵۰)
۲- اصل تو یہ ہے کہ عبادات کو الگ الگ ادا کیا جائے، لیکن اگر ایک عمل سے دو طرح کی عبادات کی ادایگی کی بیک وقت نیت کی جائے، تو اس بارے میں فقہا کی راے مختلف ہے۔ حنفی فقہا کے ہاں ایک ہی عمل میں فرض اور نفل عبادت کو جمع نہیں کیا جاسکتا، البتہ دو نفل عبادات کی نیت ایک عمل میں کی جاسکتی ہے، جیسے اگر کسی نے دو رکعت نماز تحیۃ المسجد اور ساتھ ہی فجر کی سنت کی نیت سے پڑھا ہے تو دونوں ادا ہوجائیں گی۔ شافعی فقہا کے نزدیک فرض نماز اور تحیۃ المسجد ایک ہی نیت سے ایک ہی عمل میں ادا کی جاسکتی ہیں۔ اس کی تفصیل میں وہ کہتے ہیں کہ اگر ایک عبادت مقصود بالذات نہ ہو تو اسے دوسری عبادت کے ضمن میں ادا کیا اور دونوں کو ایک ہی عمل میں جمع کیا جاسکتا ہے، جیسے مذکورہ مثال میں تحیۃ المسجد مقصود بالذات نہیں، بلکہ اصل مقصد اس وقت اور مقام کو نماز کے عمل سے معمور کرنا ہے۔ اس لیے وہ دوسری مقصود بالذات عبادت کے ضمن میں ادا کی جاسکتی ہے۔ لیکن اگر دونوں عبادتیں اور اعمال مقصود بالذات قسم کے ہوں تو انھیں ایک ہی عمل میں جمع نہیں کیا جاسکتا۔
ہمارے نزدیک، اگر ان اقوال کو سامنے رکھا جائے تو پیر اور جمعرات، نیز شوال کے چھے روزوں کی بھی یہی صورت بنتی ہے کہ وہ (بقول شافعیہ) مقصود بالذات کی قبیل سے نہیں بلکہ مقصد ان ایام اور اوقات کو روزے سے آباد کرنا ہے۔ اس لیے اگر قضا روزے انھی دنوں میں رکھے جائیں تو اُمید ہے کہ قضا روزوں کی تکمیل کے ساتھ ساتھ ضمنی طور پر پیر اور جمعرات اور شوال کے روزوں کی فضیلت بھی ان شاء اللہ حاصل ہوجائے گی۔ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کی شانِ کریمی و فیاضی سے یہی اُمید رکھنی چاہیے۔ وہ اپنے بندے کے ساتھ اس کی نیت و ارادے، تڑپ اور لگن کے مطابق برتائو کرتا ہے۔(مولاناعبدالحی ابڑو)
آخرت کی جواب دہی کے احساس سے سرشار ہرمسلمان مرد اور خاتون، بڑا اور چھوٹا یہ چاہتا ہے کہ میں اس فانی دُنیا میں اس طرح زندگی گزاروں کہ آنے والے کل میں، اللہ کے پسندیدہ فرد کی حیثیت سے نامۂ اعمال پیش کرسکوں۔ اس مقصد کے لیے ایک مفتی سے لے کر ایک عام مسلمان تک یہ چاہتا ہے کہ وہ اسلامی شریعت کی منشا جانے، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے روشنی لے۔ یہ کوشش دینی سوال و جواب اور فتاویٰ کی صورت میں سامنے آتی ہے۔
زیرنظر انسائی کلوپیڈیائی کتاب ۲۰ویں صدی کے دوران عرب اور غیرعرب دُنیا میں رہنمائی کا بڑے پیمانے پر فریضہ انجام دے چکی ہے، جسے پڑھنا اور اپنے پاس رکھنا ایک اعزاز سمجھا جاتا ہے۔ سیّدسابق جیسے معروف فقیہہ اور مدبّر (جنوری ۱۹۱۵ء- ۲۷فروری ۲۰۰۰ء) الازہر یونی ورسٹی سے فارغ التحصیل تھے۔ وہ دورِ طالب علمی ہی سے الاخوان المسلمون کے جاں نثاروں کے ہم قدم بن گئے۔ اخوان کے ہزاروں پروانوں کی فقہی تربیت کے لیے السیّد سابق نے اس عظیم کتاب کی ترتیب و تدوین کی ذمہ داری سنبھالی اور بڑی خوبی و کامیابی سے اسے مدون کیا۔
سیّد سابق نے اس ذخیرئہ رہنمائی میں مختلف فقہی مکاتب ِ فکر کے علمی افادات کو ہرذہنی تحفظ سے بالاتر رہ کر پڑھا اور کتاب و سنّت کی روشنی میں پرکھا۔ پھراس مطالعہ و تحقیق اور دینِ اسلام کی حکمت کو بڑی آسانی اور عام فہم زبان میں ڈھال دیا۔
زیرنظر کتاب کا یہ بھی اعزاز ہے کہ ۲۰ویں صدی میں علمِ حدیث کے ماہر ناصرالدین البانی ؒ نے اس کتاب پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے بہترین کتاب بھی قرار دیا۔ ڈاکٹر حافظ عبدالکبیرمحسن نے بڑی محنت سے اس کا رواں اور شُستہ اُردو ترجمہ کیا ہے، اور محمد سرورعاصم مدیر مکتبہ اسلامیہ لاہور نے بڑی محبت اور خوب صورتی سے اسے زیورِطباعت سے آراستہ کیا ہے۔
یقینی بات ہے کہ ہر صاحب ِ ذوق اس کتا ب کا استقبال کرے گا۔ یہ کتاب اَب تک انگریزی، فارسی، ترکی، ازبکی، روسی، بوسنیائی، تھائی، ملیالم زبانوں کے علاوہ اُردو میں بھی دو تین مختلف مترجمین کی توجہ اور ترجمانی کا مرکز بن چکی ہے۔(س م خ)
یہ کتاب پاکستان کے سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کی یادداشتوں پر مشتمل دستاویز ہے۔ ایسی دستاویز کہ جو بے ساختگی اور سادہ بیانی کا نمونہ ہے، جو اپنے آپ کو پڑھواتی اور قاری کو ساتھ چھوڑنے نہیں دیتی۔ اس کا تصویری حصہ خود تاریخ ہے۔ یہ ٹھیرا کتاب کا ایک پہلو۔
اس کتاب کا دوسرا پہلو عبرت ناک،سبق آموز اور صدمہ انگیز ہے۔ زیرتبصرہ کتاب میں ہیرو تو کوئی نہیں، البتہ دو’ولن‘ موجود ہیں: پہلے ’ولن‘ محمد نواز شریف وغیرہ ہیں، جنھیں وعدہ خلافی، طوطا چشمی، کینہ پروری اور ضدی پن کا مجسم نمونے کے طور پر مصنف نے ایک چشم دید گواہ کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ دوسرے ’ولن‘ خود صاحب ِ تصنیف ہیں۔ یہی دکھائی دیتا ہے کہ سیاسی میدان میں مصروف چودھری برادران (شجاعت حسین اور پرویز الٰہی) محض پیغام رسانی کا بوجھ اُٹھانے اور بار بار صدمے برداشت کرنے، مگر غالباً جم کر کھڑا نہ ہونے والی شخصیات رہی ہیں (تاہم، چودھری پرویز الٰہی کا صوبۂ پنجاب میں دورِ حکومت (۲۰۰۳ء-۲۰۰۷ء)، رفاہِ عامہ کے متعدد کاموں کے حوالے سے یادگار رہے گا)۔
پھر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ۲۲کروڑ عوام کا انتہائی نازک دوراہے پر کھڑا ملک ِپاکستان، آمریت اور ’جمہوریت‘ کے دونوں اَدوار میں کسی صورت جمہور عوام کے نمایندوں کی منشا و مرضی کے مطابق نہیں چلتا آرہا، بلکہ دو،تین یا محض چار افراد اس قوم کی قسمت اور بدقسمتی کا فیصلہ کرتے اور کاروبارِ ریاست کو من موجی انداز سے چلاتے ہیں، جب کہ حکومت کے نام سے منسوب ٹولے میں باقی سبھی افراد قوال کے ہم نوا سازندے یا پھر ہم آواز صدا کار ہوتے ہیں، اور عوام بے بسی و بے چارگی کی تصویر۔ صد افسوس! (س م خ)
مدیر ترجمان القرآن نے ’پاکستان کو درپیش چیلنج اور قومی لائحہ عمل‘ (اپریل ۲۰۱۸ء) میں نہ صرف دانش ورانہ گہرائی سے مسائل کی تشخیص کی ہے اور مسائل کا حل بتایا ہے، بلکہ پاکستان کی سیاسی قیادت اور انتظامیہ کی فطرت میں چھپی خرابیوں کی بھی نشان دہی کی ہے۔ خاص طور پر مقتدر سیاست دانوں، عدلیہ اور فوج کو بڑے متوازن انداز میں اصلاحِ احوال کا پیغام دیا ہے۔ کاش! ہمارے اہلِ قلم اسی دیانت اور سچائی سے قوم کی رہنمائی کریں۔
’علّامہ اقبال کے ہاں ایک شام‘ (اپریل ۲۰۱۸ء) واقعی پروفیسر حمید احمد مرحوم کا ایک تحفہ ہے۔ اسے پڑھ کر اندازہ ہوا کہ اصحابِ علم کس انداز سے بڑی بڑی اُلجھی گتھیوں کو کس پیارے انداز سے کھولتے اور سائل کی تشفی و تسلی کرتے ہیں۔ اس وسعت ِ نظر اور وسعت ِ پیش کش پر ترجمان القرآن مبارک باد کا مستحق ہے۔
محترمہ زبیدہ عزیز کا مضمون : ’شعبان: فضیلت، عبادات، رسومات ‘ (اپریل ۲۰۱۸ء) میں قرآن و سنت کے تحت بدعات اور غلط روایات سے بچنے کا سامان فراہم ہوا ہے۔ تاہم ’’بہت سی روایات تو موضوع یعنی من گھڑت ہیں‘‘ (ص ۳۳) جیسے غیرمحتاط جملے کے بجاے یہ لکھنا کافی تھا: ’’بعض روایات ’موضوع‘ ہیں‘‘۔ حدیث کے معاملے میں کمزور بات یا جملے سے فساد کا دروازہ کھلتا ہے، اجتناب ضروری ہے۔
ڈاکٹر رخسانہ جبیں کا مضمون: ’بچے اُمت کا سرمایہ، مگر کیسے؟‘(اپریل ۲۰۱۸ء) میں بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے ایک بہترین پروگرام دیا گیا ہے۔ جس میں بچوں کی تربیت کے نہ صرف اہم نکات سمجھائے گئے ہیں بلکہ والدین کی ذمہ داریوں سے بھی آگاہ کیا گیا ہے۔اسی طرح پروفیسر عبدالقدیر سلیم کا مطالعہ کتاب: ’ناموسِ رسالتؐ، اعلیٰ عدالتی فیصلہ‘ ، کا کتابی صورت میں مرتب ہونا بہت بڑا احسان ہے۔
پروفیسر حمید احمد خان کا مضمون ’علّامہ اقبال کے ہاں ایک شام‘ پڑھا تو شدت سے د ل میں ایک آرزو جاگی کہ کاش مجھے بھی کسی شام علّامہ اقبال کی کسی محفل میں بیٹھنا نصیب ہوا ہوتا۔ کتنے خوش قسمت تھے وہ لوگ، جو علّامہ اقبال کے ہاں جاتے اور حکمت و دانش سے جھولیاں بھر کر اُٹھتے۔ اس محفل میں علّامہ کے کہے یہ جملے قارئین تازہ کرلیں: l’’ہندو شاعری کے تمام دفتر دیکھ ڈالیے، کہیں گرمی نہیں ملے گی‘‘۔ l’’حقیقت یہ ہے کہ اسلامی موسیقی کا کوئی وجود ہے ہی نہیں…‘‘۔ l’’صحابہؓ کے ’حال‘ اور تمھارے ’حال‘ میں یہ فرق ہے کہ انھیں میدانِ جنگ میں حال آتا تھا اور تمھیں رحیم بخش کی کوٹھڑی میں‘‘۔ l’’مسجد (مسجد قوۃ الاسلام) کی قوت و جلال نے مجھے اس درجہ مرعوب کر دیا کہ مجھے اپنا یہ فعل (نماز ادا کرنے کی خواہش) ایک جسارت سے کم معلوم نہ ہوتا تھا کہ میں اس مسجد میں نماز پڑھنے کے قابل نہیں ہوں‘‘۔
ترجمان القرآن (اپریل ۲۰۱۸ء) ’رسائل و مسائل‘ میں لکھا ہے کہ آج کل ڈاکٹر حضرات کھانا کھانے کے ساتھ پانی پینے کو مضر گردانتے ہیں۔ مَیں ایک ڈاکٹر ہونے کی حیثیت سے یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ کسی فزیالوجی یا میڈیسن کی کتاب میں یہ بات لکھی ہوئی نہیں ہے۔
شام کے المیے پر عبدالغفار عزیز اور محسن عثمانی صاحبان کے مضامین خصوصی اہمیت کے حامل تھے۔ ایس احمد پیرزادہ نے مقبوضہ کشمیر کے بارے میں حالات کو موقعے کے گواہ کی حیثیت سے بیان کرکے دُکھ اور درد کی ٹیسیں منتقل کی ہیں، جب کہ ڈاکٹر محمد محب الحق نے بھارتی فسطائی چہرے سے نقاب اُلٹ دیا ۔
بھارت ’برہمنی فسطائیت‘ کا دہکتا ہوا الائو ہے۔ اس الائو کے چند شعلوں کو ڈاکٹر محمد محب الحق نے بڑے دلیرانہ اور مدلل انداز سے بیان کیا ہے۔ اس مضمون کی دونوں قسطوں کو یک جا شائع کرکے پھیلانا اور عربی میں ترجمہ کر کے ان عربوں تک پہنچانا چاہیے، جو فاشسٹ مودی کی نازبرداری میں بچھے جارہے ہیں۔
پروفیسر خورشیداحمد کا تحقیقی اور تجزیاتی مقالۂ خصوصی : ’استعماری حکمت عملی اور راہِ انقلاب‘ (مارچ ۲۰۱۸ء) یادگار حیثیت رکھتا ہے۔ یہ کتنی بدنصیبی کی بات ہے کہ سو پچاس سال پہلے کی تاریخ سے بھی ہماری نئی نسل بے خبر بلکہ لاتعلق ہے۔ پروفیسر صاحب نے بڑے ہی مختصر الفاظ میں دو سو سالہ تاریخ کا اس انداز سے احاطہ کیا ہے کہ مقصد ِ تحریر نظروں سے اوجھل نہیں ہوتا، اور مقصد ِ تحریر بھی کیا ہے؟ سچ کی گواہی۔
چودھری صفدر علی مرحوم کے بارے میں مضمون (مارچ ۲۰۱۸ء) نے اس حسرت کو کئی درجے بڑھا دیا کہ ہم ایسے قیمتی افراد کی صحبتوں سے محروم رہتے ہیں، اور جب وہ چلے جاتے ہیں تو اُداس کر جاتے ہیں۔
نظری حیثیت سے تو ہر صحیح اصول قائم کرنے کے لیے اور ہر غلط چیز ترک کرنے اور مٹا دینے کے لائق ہے ، لیکن عملی زندگی میں خیروشر کی کش مکش کے درمیان انسان کو بہت سے مواقع پر ایسے حالات سے بھی سابقہ پیش آجاتا ہے، جن میں ایک چھوٹی بھلائی پر اصرار کرنے سے ایک بڑی بھلائی کا نقصان ہوتا ہے ، یا ایک چھوٹی بُرائی ترک کرنے سے ایک بڑی بُرائی لازم آتی ہے۔ ایسے مواقع پر شریعت ِ اسلامیہ میں جو حکمت معتبر ہے، اس کا تقاضا یہ ہے کہ بڑی بُرائی سے بچنے کے لیے چھوٹی بُرائی کو گوارا کیا جائے،اور چھوٹی بھلائی کی خاطر بڑی بھلائی کو نقصان نہ پہنچنے دیا جائے۔ اس معاملے میں مَیں صرف عقل کو کسوٹی بنانے کا قائل نہیں ہوں کہ آدمی جب چاہے عملی ضروریات کی بنا پر اسلام کے اصول و قواعد اور احکام میں سے جس کی بندش سے چاہے نکل جائے۔ میں اس حکمت کا قائل ہوں، جو خود اسلام کے دیے ہوئے معیار سے جانچ کر یہ دیکھتی ہے کہ کس چیز کی خاطر کس چیز کو کہاں اور کس حد تک قربان کرنا ناگزیر ہے۔ اس کی مثالیں اگر قرآن، حدیث،آثارِ صحابہ اور فقہا و محدثین کی تصریحات میں تلاش کی جائیں تو ان کا شمار مشکل ہوگا۔ یہاں صرف چند مثالیں پیش کروں گا:
۱- اسلام میں توحید کے اقرار کی جیسی کچھ اہمیت ہے ، کسی جاننے والے سے پوشیدہ نہیں۔ یہ حق پرستی کا اوّلین تقاضا اور ہر مومن سے دین کا سب سے پہلا مطالبہ ہے۔ نظری حیثیت سے دیکھا جائے تو اس معاملے میں قطعاً کسی لچک کی گنجایش نہ ہونی چاہیے۔ ایک مومن کا کام یہ ہے کہ چاہے اس کے گلے پر چھری رکھ دی جائے اور خواہ اس کی بوٹیاں کاٹ ڈالی جائیں، وہ توحید کے اقرار و اعلان سے ہرگز نہ پھرے۔ مگر قرآن ایسے حالات میں، جب کہ ایک شخص کو ظالموں سے جان کا خطرہ لاحق ہوجائے، یا اسے ناقابلِ برداشت اذیت دی جائے، کلمۂ کفر کہہ کر بچ جانے کی اجازت دیتا ہے، بشرطیکہ وہ دل میں عقیدۂ توحید پر قائم رہے: مَنْ كَفَرَ بِاللہِ مِنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِہٖٓ اِلَّا مَنْ اُكْرِہَ وَقَلْبُہٗ مُطْمَىِٕنٌّۢ بِالْاِيْمَانِ (النحل ۱۶:۱۰۶) [جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کرے (وہ اگر) مجبور کیا گیا ہو، اور دل اس کا ایمان پر مطمئن ہو (تب تو خیر ہے)]۔ یہ چاہے عزیمت کا مقام نہ ہو مگر رخصت کا مقام ضرور ہے، اور یہ رخصت اللہ تعالیٰ نے خود عطا فرمائی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ شریعت کی نگاہ میں مسلمان کی جان کی قیمت اقرارِ توحید سے زیادہ ہے، حتیٰ کہ اگر ان دونوں میں سے ایک کو قربان کر نا ناگزیر ہوجائے، تو شریعت اقرارِ توحید کی قربانی گوارا کرسکتی ہے، لیکن کیا جان بچانے کے لیے کفر کی تبلیغ بھی کی جاسکتی ہے؟ کسی دوسرے مسلمان کو قتل بھی کیا جاسکتا ہے؟ اسلامی حکومت کے خلاف جاسوسی کی خدمت بھی انجام دی جاسکتی ہے؟ اس کا جواب لازماً نفی میں ہے، کیوں کہ یہ اپنی جان کی قربانی کی بہ نسبت بہت زیادہ قیمتی چیزوں کی قربانی ہوگی جس کی اجازت کسی حال میں نہیں دی جاسکتی۔ [بقیہ دیکھیے ص۷۱ پر]
۲- اسلام میں شراب، خنزیر، مُردار، خون ، اور مَا اُھِلَّ بِہٖ لِغیراللہ کو اسی طرح قطعاً حرام کیا گیا ہے، جس طرح زنا ، چوری، ڈاکے اور قتل کو حرام کیا گیا ہے۔ لیکن اضطرار کی حالت پیدا ہوجائے تو جان بچانے کے لیے پہلی قسم کی حرمتوں میں شریعت رخصت کا دروازہ کھول دیتی ہے، کیوں کہ ان حُرمتوں کی قیمت جان سے کم ہے۔ مگر خواہ آدمی کے گلے پر چھری ہی کیوں نہ رکھ دی جائے، شریعت اس بات کی اجازت کبھی نہیں دیتی کہ آدمی کسی عورت کی عصمت پر ہاتھ ڈالے، یا کسی بے قصور انسان کو قتل کردے۔ اسی طرح خواہ کیسی ہی اضطرار کی حالت طاری ہوجائے، شریعت دوسروں کے مال چرانے اور رہزنی و ڈاکا زنی کرکے پیٹ بھرنے کی رخصت نہیں دیتی۔ کیوں کہ یہ بُرائیاں اپنے نفس کو ہلاکت میں ڈالنے کی بُرائی سے شدید تر ہیں۔
۳- راست بازی و صداقت شعاری اسلام کے اہم ترین اصولوںمیں سے ہے اور جھوٹ اس کی نگاہ میں ایک بدترین بُرائی ہے، لیکن عملی زندگی کی بعض ضرورتوں اور بعض حالات میں اس کے وجوب [لازم ہونے] تک کا فتویٰ دیا گیا ہے۔ صلح بین الناس اور اَزدواجی تعلقات کی درستی کے لیے اگر صرف صداقت کو چھپانے سے کام نہ چل سکتا ہو تو ضرورت کی حد تک جھوٹ سے بھی کام لینے کی شریعت نے صاف اجازت دی ہے۔ جنگ کی ضروریات کے لیے تو جھوٹ کی صرف اجازت ہی نہیں ہے بلکہ اگر کوئی سپاہی دشمن کے ہاتھ گرفتار ہوجائے اور دشمن اس سے اسلامی فوج کے راز معلوم کرنا چاہے، تو ان کا بتانا گناہ اور دشمن کو جھوٹی اطلاع دے کر اپنی فوج کو بچانا واجب ہے۔ اسی طرح اگر کوئی ظالم کسی بے گناہ کے قتل کے درپے ہو، اوروہ غریب کہیں چھپاہوا ہو، تو سچ بول کر اس کے چھپنے کی جگہ بتا دینا گناہ اور جھوٹ بول کر اس کی جان بچا لینا واجب ہے۔(رسائل و مسائل، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ماہنامہ ترجمان القرآن ، شعبان ۱۳۷۷ھ/مئی ۱۹۵۸ء، جلد۵۰،عدد۲، ص ۱۱۷- ۱۱۸)
دو مختلف نظاموں میں کچھ چیزیں مشترک ہوتے ہوئے بھی، وہ الگ الگ نظام ہوتے ہیں۔ ان دونوں نظاموں کی تفصیلات کا جائزہ لیتے ہوئے ان میں بیش تر چیزیں ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہوں، مگر اس کے باوجود ہم انھیں ایک نظام نہیں کہہ سکتے۔ دو مختلف نظاموں کا کسی ایک یا چند اُمور میں ایک دوسرے سے متفق ہو جانا بھی کبھی اُن کے ایک ہونے کی دلیل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہی حال اسلام اور مغربی جمہوریت کا ہے۔
اس ضمن میں یہ چیز ذہن نشین رہے کہ کسی نظام کا اصل جوہر طریق نہیں بلکہ وہ اصولی و مقصدی روح ہوتی ہے، جو اُس کے اندر جاری و ساری رہتی ہے اور اسی روح کے متعلق ہم حکم لگاسکتے ہیں۔
ان گزارشات کے بعد اب آپ مغربی جمہوریت اور اسلامی جمہوریت کے فرق پر غور فرمائیں:
(الف) مغربی جمہوریت میں حاکمیت جمہور کی ہوتی ہے اور اسلام میں حاکمیت اللہ تعالیٰ کی تسلیم کی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مغربی جمہوریت میں کسی چیز کے حق و ناحق کا فیصلہ کرنے کا آخری اختیار اکثریت کو حاصل ہے ، مگر اسلام میں یہ حق صرف باری تعالیٰ کو پہنچتا ہے، جس نے اپنا آخری منشا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے دنیا پر واضح فرما دیا۔ یہ اختلاف کوئی معمولی نہیں بلکہ اس کی بنا پر یہ دونوں نظام بنیادوں سے لے کر کاخ و ایوان تک ایک دوسرے سے مختلف ہوجاتے ہیں۔
(ب) اسلامی جمہوریت میں خلافت ایک امانت ہے، جو ہرمسلمان کو سونپی جاتی ہے، اور تمام مسلمان محض انتظامی سہولت کے لیے اُسے ارباب حل و عقد کے سپرد کردیتے ہیں۔ مغربی جمہوریت میں اصحابِ اقتدار صرف اپنی پارٹی [یا منتخب ایوان] کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس اسلامی ریاست میں عوام کے نمایندے خدا اور خلق دونوں کے سامنے جواب دہ ہیں۔
(ج) یہ عرض کر دینا بھی ضروری ہے کہ اسلامی نظام صرف ایک طریق انتخاب تک محدود نہیں ہے بلکہ زندگی کے سارے معاملات میں اپنا ایک مخصوص نقطۂ نظر اور زاویۂ نگاہ پیش کرتا ہے۔ اس کا مطالبہ یہ ہے کہ کتاب اللہ اور سنت رسولؐ اللہ کو آخری سند مان کر اپنی پوری انفرادی اور اجتماعی زندگی کو ان کے مطابق ڈھالا جائے___ پاکستان میں ’قراردادِ مقاصد‘ کے ذریعے اس اصول کو تسلیم تو کیا گیا ہے، مگر افسوس کہ اس کے نفاذ کے راستے میں ہرطرح کی رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں۔ (’رسائل و مسائل‘ [پروفیسر عبدالحمید صدیقی]، ترجمان القرآن، جلد۴۹، عدد۳، ربیع الاوّل ۱۳۷۷ھ، دسمبر ۱۹۵۷ء،ص ۱۸۳-۱۸۴)