جواب :میرے نزدیک پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ تقریباً وہی ہے جو تمام مسلم ممالک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور وہ یہ ہے کہ لیڈرشپ آخرکار اسلام کو ماننے، سمجھنے اور اخلاص کے ساتھ اس پر عمل کرنے والوں کے ہاتھ میں آتی ہے ، یا ایسے ہی لوگوں کے ہاتھ رہتی ہے جو اسلام کا نام لیتے ہوئے یا کھلم کھلا اس کی مخالفت کرتے ہوئے، اپنی قوم کو بگٹٹ غیراسلامی راستے پر لے جانا چاہتے ہیں۔ اگر مستقبل قریب میں اس مسئلے کا فیصلہ پہلی صورت کے حق میں نہ ہوا، تو مجھے اندیشہ ہے کہ سارے مسلم ممالک سخت تباہی سے دوچار ہوں گے۔
بدقسمتی سے بیش تر مسلم ممالک میں جو لیڈرشپ قائم ہے، وہ کسی عنوان سے بھی مسلم عوام کے ضمیر سے مطابقت نہیں رکھتی۔ یہ حکومتیں اگر سو برس بھی زور لگائیں تو بھی مَیں ان سے توقع نہیں رکھتا کہ وہ مسلم عوام کے عقائد اور ان کے تصورات، تہذیب و تمدن اور ان کی اخلاقی قدروں کو تبدیل کرسکیں گی، اور یہ توقع بھی نہیں رکھتا کہ مزید سو برس میں وہ کسی دوسری تہذیب کی قدروں اور تصورات پر قوم کی تعمیرِ سیرت کرسکیں گی۔
اس ڈگر پر چلنے کا نتیجہ اس سے زائد کچھ نظر نہیں آتا کہ مسلمان قوم کی کوئی سیرت اور کردار نہ بن پائے اور اخلاقی اعتبار سے وہ بالکل دیوالیہ ہوجائے اور کوئی مادی ترقی بھی نہ کرسکے۔ ایک بے سیرت قوم خواہ کتنے ہی ذرائع و وسائل رکھتی ہو ، درحقیقت کوئی مادی ترقی نہیں کرسکتی اور کسی حکومت کی کوئی پالیسی خواہ وہ خارجی ہو یا داخلی، ایسی صورت میں کامیاب نہیں ہوسکتی، جب کہ پوری قوم کا ضمیر پورے اطمینان کے ساتھ اس کے ساتھ نہ ہو۔ اس لیے میں یقین رکھتا ہوں کہ تمام مسلمان ملکوں کے مستقبل کا انحصار صرف ایک صحیح قسم کی اسلامی لیڈرشپ پر ہے۔ خدانخواستہ اگر یہ قیادت میسر نہ آئی تو ہم سب کو بہت ہی بُرا دن دیکھنا پڑے گا۔
جواب :لیڈرشپ کسی ایک شعبے میں نہیں اُبھرا کرتی۔ اس کو زندگی کے ہر شعبے میں ظاہر اور نمایاں ہونا چاہیے۔ میرا خیال ہے کہ اگر مسلمان ملکوں میں جمہوری نظام کو نشوونما پانے کا موقع مل جائے، تو بالکل ایک فطری ارتقا کے طور پر مسلمان ملکوں میں اسلامی لیڈرشپ اُبھر آئے گی۔ مغرب زدہ طبقہ ہرمسلمان ملک میں ایک بڑی ہی محدود اقلیت رکھتا ہے۔ لیکن مغربی استعمار کی بدولت یہ اقلیت اقتدار کی وارث بن گئی ہے۔ یہ طبقہ اس بات کو جانتا ہے کہ اگر ان ملکوں میں جمہوریت کو کام کرنے کا موقع ملا، تو آخرکار اقتدا ان لوگوں کے ہاتھوں سے نکل جائے گا۔ اس لیے یہ طبقہ سازشوں کے ذریعے آمریت قائم کر رہا ہے اور جمہوریت کو اُبھرنے کا موقع نہیں دے رہا ہے۔
سوال : یہ صاف نظر آتا ہے کہ مسلمان جمہور خود اسلام کے راستے سے بہت دُور ہیں۔ انھیں اسلام سے جذباتی لگائو تو ہوسکتا ہے مگر غالباً تربیت کی کمی کی وجہ سے ان میں وہ جوہر نظر نہیں آتا جو اسلامی لیڈرشپ کو جنم دے سکے، تو پھر جمہوری نظام قائم کرنے سے صالح قیادت کیسے بروے کار آسکے گی؟
جواب :ان دونوں کی حالت میں ایک بنیادی فرق ہے۔ عوام کی اخلاقی حالت یہ ہے کہ اگرچہ ان میں جہالت بھی بہت پھیلی ہوئی ہے، لیکن ان کی قدریں نہیں بدلیں۔ کسی بُرے سے بُرے اور بدکردار آدمی سے آپ بات کریں، تو تھوڑی دیر بعد آپ کو محسوس ہوجائے گا کہ اس کی قدریں (values) ابھی وہی ہیں، جو ایک مسلمان کی ہونی چاہییں۔ اپنی تمام بدکرداریوں کے متعلق اسے یہ تسلیم کرنے میں تامل نہ ہوگا کہ وہ جو کچھ کر رہا ہے بُرا کر رہا ہے، بُرائی کو بھلائی کہنے والے آدمی مسلم معاشروں میں آپ کو بہت ہی مشکل سے ملیں گے۔
اس کے برعکس مغرب زدہ طبقے کی قدریں تبدیل ہوگئی ہیں، اور ان کا فلسفۂ زندگی بدل گیا ہے۔ اسلام جن چیزوں کو بُرا کہتا ہے، وہ انھیں اچھا سمجھتے ہیں اور اسلام جن چیزوں کو نیکیوں سے تعبیر کرتا ہے، ان کی نگاہ میں ان چیزوں کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ اسلامی روایات سے وہ منحرف ہوچکے ہیں بلکہ ان کی نگاہوں میں ان روایات کے لیے کوئی احترام نہیں ہے۔ ہماری یونی ورسٹیوں میں جو پروفیسر تعلیم دے رہے ہیں، ان میں سے اکثر اس خیال کے حامی ہیں کہ ’’انسانی تاریخ میں مسلمانوں نے کوئی قابلِ ذکر کارنامہ سرانجام نہیں دیا‘‘۔ ایسے استاد بھی ہماری درس گاہوں میں موجود ہیں جو فرائڈ کے نظریات کے مطابق انبیاے کرام ؑ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کی تصریح فرماتے ہیں۔ اُونچے سرکاری مناصب پر بلاتامل ایسے لوگ رکھے جاتے ہیں، جو شراب اور سود کو حلال ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ رقص و سُرود کو اسلامی تہذیب و ثقافت کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ ان لوگوں کے عقائد اور عوام کے درمیان کوئی بھی مماثلت نہیں۔ اگر اقتدار اسلامی ذہنیت رکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہو تو مسلمان عوام کے انداز و اطوار کو بغیر کسی جبر کے، صرف چند برسوں میں بالکل تبدیل کیا جاسکتا ہے کیوں کہ ان کے رگ و ریشے میں اسلامی تصورات اور اقدار موجود ہیں، صرف ان کو اُبھار کر عملی شکل میں نمایاں کرنے کی ضرورت ہے۔
جواب : ذرانم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
اقامت ِ دین اور ظہورِ مہدی
سوال : کیا اقامت ِ دین ایک فرض ہے کہ جسے ہر زمانے اور ہر حال میں ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے؟ اور کیا قرآن و حدیث میں کہیں یہ بات ملتی ہے کہ ظہورِ مہدی سے قبل اسلامی نظام قائم ہوسکے گا؟
جواب : قرآن میں تو خیر ظہورِ مہدی کا سرے سے ذکر ہی نہیں کیا گیا ہے۔ البتہ احادیث میںاس کا ذکر ضرور آیا ہے، مگر وہ بس اسی حد تک ہے کہ مہدی آئیں گے اور دنیا کو، جو ظلم سے بھر چکی ہوگی، عدل سے بھر دیں گے۔اس خوش خبری سے آخر یہ مطلب کیسے نکل آیا کہ جب تک وہ نہ آئیں، اس وقت تک دنیا ظلم سے بھرتی رہے اور ہم اس کا تماشا دیکھتے رہیں۔ شیاطین کے دین قائم ہوتے رہیں اور اللہ کا دین قائم کرنے کے لیے ہم امام مہدی کی تشریف آوری کے انتظار میں بیٹھے رہیں۔
یہ تعلیم نہ اللہ نے دی ہے، نہ اللہ کے رسولؐ نے، اور قرآن و حدیث میں یہ بھی کہیں نہیں کہا گیا ہے کہ امام مہدی کی آمد سے پہلے اللہ کا دین کبھی قائم نہ ہوسکے گا، یااسے قائم کرنے کی کوشش کا فریضہ مسلمانوں کے ذمے سے ساقط رہے گا۔ یہ بات ایک بشارت تو ضرور ہوسکتی ہے کہ آیندہ کسی زمانے میں کوئی ایسی عظیم شخصیت اُٹھے گی جو تمام عالم میں اسلام کا جھنڈا بلند کردے گی، مگر یہ کوئی حکمِ امتناعی نہیں ہوسکتا کہ ہم دنیا میں اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے کچھ نہ کریں۔
رہا یہ سوال کہ اقامت ِ دین فرض ہے یا نہیں؟ تو ایسا شخص جو قرآن و حدیث کو جانتا ہے، اس بات سے ناواقف نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام سے لے کر سیّدنا محمدصلی اللہ علیہ وسلم تک جتنے انبیا بھی بھیجے ہیں، اپنا دین قائم کرنے کے لیے بھیجے ہیں۔ کوئی ایک نبی بھی لوگوں کو یہ سکھانے کے لیے نہیں بھیجا کہ وہ غیراللہ کا دین قائم کرنے والوں کے ماتحت بن کر رہیں۔ سورئہ شوریٰ دیکھیے، اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سمیت تمام انبیاؑ کا فرض یہ بیان کیا گیا کہ: اَقِیْمُوْا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ ط ’’اس دین کو قائم کرو اور اس میں متفرق نہ ہوجائو‘‘۔ سورئہ توبہ، سورئہ فتح اور سورئہ صف میں دیکھیے تین مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد یہ بیان کیا گیا ہے کہ ہُوَالَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰي وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْہِرَہٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّہٖ’’وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسولؐ کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ پورے دین پر اسے غالب کردے‘‘۔ اب کون یہ کہنے کی جسارت کرسکتا ہے کہ اُمت مسلمہ کا مقصد وجود نبی برحق کے مقصد بعثت سے مختلف بھی ہوسکتا ہے؟(ہفت روزہ آئین)
مؤ لف نے اپنے حرمین شریفین کے دو اسفار کی اس رُوداد ( ’عقیدت ومحبت کا سفر ‘)کو غیر معمولی اہتمام اور کاوش کے ساتھ نہایت خوب صورت انداز میں شائع کیا ہے۔
سرکاری ملازمت سے سبک دوشی(۲۰۰۵ء ) کے بعد سفر عمرہ (۲۰۱۱ء) اور سفر حج وعمرہ (۲۰۱۳ء) کی یہ رُوداد ،بہاول پور سے شروع ہوتی ہے ۔ لکھتے ہیںـ: ’’حج کے لیے رقم نہیں تھی زادِ راہ تو ایک طرف، درخواست جمع کرانے کے لیے لاکھوں روپے کہاں سے آئیں گے، لیکن انسان جب نیت کر لے تو اللہ رحمان ہے، رحیم ہے، وہی اسباب اور راستے کھول دیتا ہے‘‘۔ (ص۱۱)
مؤلف کا اسلوب رُوداد نویسی عام سفر ناموں سے خاصا مختلف ہے۔ مثلاً: مکہ مکرمہ پہنچ کر عمرے کی رُوداد مختصراً بیان کرنے کے بعد، وہ حال سے ماضی کی طرف پلٹتے ہیں ۔وادی بے آب وگیاہ میں حضرت ہاجرہ ؓ کی آمد ، آب زم زم ، بیت اللہ پر اَبرہہ کے حملے، مختلف زمانوں میں خانہ کعبہ کی تخریب وتعمیر ، اس کے ساتھ خانہ کعبہ کا مفصل تعارف (حطیم، میزاب ِ رحمت، اندرونی منظر اور چھت، رکنِ یمانی ، ملتزم، غلافِ کعبہ، حجرِ اسود ) میقات، دارِارقم ، نہر زبیدہ، دارالندوہ، جنت المعلّٰی ___ ان سب کی تفصیل بیان کرنے کے بعد، وہ مختلف ممالک کے حجاج کرام سے ملاقاتوں اور تبادلۂ خیال کی رُوداد بیان کرتے ہیں۔ یہ تاثرات بھی بہت دل چسپ ہیں۔ مدینہ منورہ پہنچ کر پھر اسی طرح حرم نبویؐ، مدینہ کے قابلِ ذکر مقامات ومساجد کی رُوداد ِ زیارت۔
سفر نامے میں نئی پرانی نادرونایاب تصاویر دی گئی ہیں اور مختلف مواقع اور مقامات کی دعائیں بھی۔ آیاتِ قرآنی اور ان کے ترجمے کا بھی اہتمام ہے۔ یہ ایک اچھی رہنما کتاب بھی ہے ۔ مؤلف کا ذوق جمال قابلِ داد ہے ۔ اسلوب سیدھا سادہ اور دل نشین ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)
زیرتبصرہ مجلے پر کوئی راے دینے سے پہلے ایک اقتباس پیش خدمت ہے، جو ادارہ معارف اسلامی کراچی کے مؤسس سیّدابوالاعلیٰ مودودی کے خطبے سے لیا گیا ہے۔ یہ خطبہ انھوں نے اس ادارے کی تاسیس کے وقت بیان فرمایا تھا:
اس سلسلے میں یہ بات وضاحت طلب ہے کہ علمی تحقیقات کس نوعیت کی ہمیں مطلوب ہیں؟ ایک تو وہ ریسرچ ہے جومغربی محققین ہم کو سکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ ایک بے مقصد اور بے رنگ ریسرچ، محض ریسرچ براے ریسرچ ہے۔ مثلاً کتابوں کو ایڈٹ کرنا، ان کے مختلف نسخوں کا مقابلہ کرکے ان کی عبارتوں کے فرق کو پرکھنا اور مصنّفین کی سنینِ وفات و پیدایش کو جمع کرنا اور اسی قبیل کی جو ریسرچ ہے، وہ بے مقصد اور بے معنی ریسرچ ہے۔ اس میں شک نہیں کہ یہ علوم و فنون میں مددگار ہوتی ہے، لیکن بجاے خود یہ وہ ریسرچ نہیں ہے جو کسی قوم کو زندگی کی حرارت عطا کرے، اور حیات کی حرکت پیدا کرے۔ یہ ٹھنڈی اور بے معنی ریسرچ ہے۔ اہلِ مغرب ایک ریسرچ اور کرتے ہیں۔ وہ محرک قسم کی ریسرچ ہے۔ وہ اس مقصد کے لیے ہے کہ اُن کے پاس وہ طاقتیں فراہم ہوں، کہ جوان کو دُنیا پر غالب کرسکیں۔(ماہ نامہ چراغِ راہ، کراچی، جون ۱۹۶۷ء، ص ۹)
اس اقتباس کی روشنی میں، ۳۱۴صفحات پر مشتمل زیرنظر مجلہ تحصیل کو دیکھیں تو کم و بیش مذکورہ ہدایت کے برعکس دکھائی دیتا ہے۔ جو چیز اس ادارے کی جانب سے پیش کرنا تھی، وہ اس مجلّے میں موجود نہیں، اور اگر موجود ہے تو اس کی سطح توقعات سے مناسبت نہیں رکھتی۔
یہ مجلہ ادبیات و سماجیات سے متعلق یونی ورسٹیوں اور کالجوں کے اساتذہ کے ’فارمولا ٹائپ‘ مقالات پر مشتمل ہے۔ مضامین کے عنوانات سے بلاتبصرہ مجلے کا رُخ سمجھنا آسان تر ہے: lگنجینۂ معنی کا طلسم، رنگا رنگ معنویت کی دریافت l سیّد علی رضا نقوی: لائق فارسی تذکرہ شناس اور فائق لُغت نگار lانیسویں صدی میں اُردو تاریخ گوئی l عبدالرحیم خان خاناں، ہندوتوا کا پرچار l گیان چند جین کی اَشک شناسی اور ناول گرتی دیواریں l یاقوت l فہرست نویسی نسخہ ہاے خطی فارسی l جامعات میں اُردو تحقیق، کچھ تسامحات، کچھ استدراکات l انیسویں صدی کا ہندستان ، جدید مؤثر اسلامی تحریکات l تحفۃ الہند___ انگریزی میں: مسلم تہذیب کے زوال کے اسباب l داؤ رہبر، ترکی میں اُردو کا پہلااستادl شہدا بالقسط l انگریزی اور پاکستانی کلچر lکیٹلاگ ، فارسی، عربی، سنسکرت۔
ادارہ معارف اسلامی، جو عالمِ اسلامی میں اقامت دین کی جدوجہد سے منسوب ادارہ ہے، اس کا ایک وقیع مجلہ اگر ایسے ہی مندرجات پر زورآزمائی کرے گا تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ مطلوب اور منسوب موضوعات پر تحقیق و تجزیہ کہاں ہوگا؟
زیرنظر مجلّے میں براہِ راست اسلامی تحریکات سے متعلق واحد مضمون کی سطح کو سمجھنا یا پرکھنا چاہیں تو دو مثالیں، پیمایش کے لیے کافی ہوں گی۔ لکھا ہے:’’جمال الدین [افغانی] کے دانش ور تلامذہ میں سے ایک حسن البنا بھی تھے، جنھوں نے ’اخوان الصفا‘ کی بنیاد رکھی‘‘ (ص ۱۸۳)۔ امرِواقعہ یہ ہے کہ جمال الدین افغانی کا انتقال ۱۸۹۷ء میں ہوا، اور حسن البنا کی پیدایش ۱۹۰۶ء میں۔ سوال یہ ہے کہ البنا، افغانی کے شاگردوںمیں کیسے شمار ہوئے؟ اسی طرح ’اخوان الصفا‘ جیسی تصوف و فلسفہ سے منسوب جماعت کی تاسیس پانچویں صدی ہجری/۱۰ویں، ۱۱ویں صدی عیسوی میں ہوئی، جب کہ الاخوان المسلمون کا قیام ۱۹۲۸ء میں عمل میں آیا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ حسن البنا ۲۰ویں صدی عیسوی میں ہوش سنبھال کر، ۱۱ویں صدی میں کوئی تحریک قائم کرلیں؟ ظاہر ہے کہ یہ ادارتی تسامح ہے، مگر مقالہ نگار نے بھی ’دادِ تحقیق‘ دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
اگر واقعی ’فارمولا تحقیق‘ کی اشاعت کا فیصلہ کرلیا گیا ہے، تو اعتراض کی گنجایش نہیں۔ بہرحال، مولانا مودودی نے اس ادارے کی تاسیس مختلف کام کے لیے کی تھی۔اور پھر پروفیسر خورشیداحمد نے بھی تاسیس کے وقت وضاحت فرمائی تھی: ’’ادارہ معارفِ اسلامی، علم و فکر کے میدان میں اسلام کے دفاع اور اس کی ترجمانی کی کوشش کرے گا‘‘۔(ترجمان القرآن، اگست ۱۹۶۳ء، ص۴۷)
مجلے کا کاغذ سفید ، پیش کش خوب صورت اور اشاعت توجہ طلب ہے۔ (سلیم منصور خالد)
عالمی ترجمان القرآن جون کا شمارہ نظرنواز ہوا۔ قصہ یہ ہے کہ میرے ایک رفیق کار نے مجھے واٹس اَیپ مسیج کیا کہ تمھارے لیے ایک نایاب تحفہ بھیج رہا ہوں۔ میں نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ انھوں نے کچھ بھی بتانے کے بجاے صرف یہ کہا کہ دو چار روز بعد دیکھ لیجیے گا۔ جب مجھے ڈاک ملی، لفافہ کھولا تو دیکھا جون ۲۰۱۸ءکا ترجمان تھا، سمجھ میں نہ آیا کہ یہ کس طرح کا تحفہ ہے۔ لیکن جب اس کے مشمولات کو دیکھا اور ’فلسطین میں قتلِ عام اور عالم اسلام‘ پر عبد الغفار عزیز کا مضمون پڑھا تو سچ پوچھیے دل کی کیفیت بدل گئی اور فورا ً رفیق کار کو فون کرکے ان کا شکریہ ادا کیا۔یقینا یہ رسالہ معیاری اور اس کے موضوعات متنوع ہیں۔ نہ صرف دینی مضامین شامل ہیں، بلکہ جہان عالم کے مسائل کو بھی گہری نظر سے دیکھا گیا ہے۔ اس معلوماتی رسالے کے لیے مدیر محترم پروفیسر خورشید احمد کو مبارک باد پیش کرتی ہوں ۔
عالمی ترجمان القرآن ، تحریک ِ اسلامی کا ایک مستند، معتبر اور معیاری ماہنامہ ہے جس میں دین و دنیا کے علاوہ عالمی مسائل بالخصوص عالمِ اسلام پر گہرے اور عمدہ مضامین ہوتے ہیں۔ پروفیسر خورشیداحمد کے ’اشارات‘ میں ہمیشہ اہم مسائل پر وقیع گفتگو کی گئی ہے۔ ترجمان کے مشمولات کے تنوع کی اقتدا تحریک کے دیگر رسائل کو بھی کرنی چاہیے۔
مئی کے شمارے میں ڈاکٹر عائشہ یوسف، محی الدین غازی، مسعود محبوب خان کے علاوہ سیّد عمر تلمسانی کا مضمون قیمتی حاصلِ مطالعہ ہے۔ اسی طرح جموں کے مسلمانوں، افتخار گیلانی اور کشمیر کے حالات پر ایس احمد پیرزادہ کے مضامین معلومات افزا ہیں۔ جون کے شمارے میں عبدالغفار عزیز کا مضمو ن آنکھیں کھولنے والا ہے۔ پھر اسوئہ حسنہ، تزکیہ و تربیت، یادداشت اور دعوت و تحریک گوشے کے مضامین بھی بے حدعمدہ ہیں۔ ایس احمد پیرزادہ اور افتخار گیلانی کے مضمون پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ مضامین ، لوازے اور مشمولات واقعی ایک اچھے اور معیاری رسالے کی علامت ہیں۔ تاہم، احساس ہوتا ہے کہ ایسا رسالہ کچھ خاص قاری حضرات تک محدود رہتا ہے اور اُمت کے زیادہ تر افراد تک نہیں پہنچتا۔ اس لیے ارادی کوشش کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ زیادہ تر پڑھے لکھے لوگوں تک پہنچے۔
شمارہ جون میں میاں طفیل محمد مرحوم کا مضمون تاریخی اعتبار سے ایک سند کا درجہ رکھتا ہے۔ عورت کے معاشی و سیاسی کردار پر افشاں نوید کی قابلِ قدر اور عمدہ تحریر ان لوگوں کے لیے رہنمائی کا سامان فراہم کرتی ہے، جو باپردہ خواتین کے لیے اجتماعی زندگی میں گنجایش نہیں پاتے، مگر اشفاق پرواز کی تحریر دوسرا رُخ پیش کررہی ہے۔ گذشتہ چند ماہ سے بھارت اور مقبوضہ کشمیر سے زیادہ تحریریں شامل اشاعت ہیں، جس پر ذہن میں سوال ضرور پیدا ہوا ہے۔ [قرآن و سنت کی روشنی میں اُمت کے مفاد اور انسانیت کی فلاح کے لیے دُنیا کے کسی بھی حصے سے، اگر کوئی معیاری اور بامعنی تحریر ملے گی تو ہمیں اس کی اشاعت میں ہچکچاہٹ نہیں ہوگی۔ سرحدیں، علم کے بہائو میں رکاوٹ نہیں ڈالتیں، تاہم موقف اور نقطۂ نظر کے حوالے سے احتیاط برتنے کی حتی المقدور کوشش کی جاتی ہے۔ س م خ۔]
الحمدللہ، اس وقت عالمی ترجمان القرآن دینی ابلاغ، علمیت اور ادبیت کی بلندیوں کو چھو رہا ہے، خاص طور پر مارچ، اپریل کے شمارے تو عالی شان مقام رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اسے رُشد و ہدایت کا ذریعہ بنائے، آمین!
شمارہ جون میں عبدالغفار عزیز نے اہل فلسطین کے قتل عام پر امت کی عمومی بے حسی پر گرفت فرمائی ہے۔ یہودیوں کو اندازہ ہو گیا کہ ملت مرحومہ میں شاید اب کوئی زندگی کی حرارت باقی نہیں رہی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اُمت کے اندر نہ تو صلاحیت کی کمی ہے اور نہ ایثارو قربانی کے جذبے ماند پڑے ہیں، بس قیادت کی کمی ہے۔ اُمت مسلمہ اس صاحب ِ ایمان، جرأت مند اور دُوراندیش قیادت کی منتظر ہے!
مئی ۲۰۱۸ء کے شمارے میں عامرہ احسان نے ’نسوانیت کی خودکشی‘ میں سچی منظرکشی کرکے مضمون کو حددرجہ پُرتاثیر بنا دیا ہے۔ مزید یہ کہ جدید دور کی عورت کی بے بسی کو بڑے کرب اور دُکھ کے ساتھ آشکار کیا ہے۔
’حسن البنا سے پہلی ملاقات (مئی ۲۰۱۸ء) سبق آموز بھی ہے اور ایمان پرور بھی ۔ اسی طرح عامرہ احسان کی سوزوگداز میں ڈوبی تحریر تو خواتین میں بڑے پیمانے پر پھیلانے کا تقاضا کرتی ہے۔
’امریکی درندگی کی علامت ابوغریب‘ از ٹارامیک کیلوی (مئی ۲۰۱۸ء) میں ابوغریب جیل میں قیدیوں پر ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم کی نشان دہی کرکے امریکی حکام کی ظالمانہ ذہنیت کی تصویر کو واضح طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اسی طرح ہلال احمدتانترے کے مضمون ’تنہائیوں میں پسے بزرگ‘ میں خصوصی توجہ دلاکر اہم خدمت انجام دی گئی ہے۔
طالب حق لوگوں کے لیے تو خدا کی زمین پر ہر طرف نشانیاں ہی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں، جنھیں دیکھ کر وہ حقیقت کو پہچان سکتے ہیں۔ لیکن ہٹ دھرم لوگ کبھی کسی چیز کو دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائے ہیں، نہ آفاق کی نشانیاں دیکھ کر اور نہ انبیا ؑ کے معجزات دیکھ کر۔ وہ تو ہمیشہ اُس وقت تک اپنی ضلالت پر جمے رہے ہیں، جب تک خدا کے عذاب نے آکر ان کو گرفت میں نہیں لے لیا ہے۔ اسی مناسبت سے ہٹ دھرمی [پر جمے] کفارِمکّہ [کو] چند باتیں ذہن نشین کرائی گئی ہیں:
اوّل یہ کہ نشانیاں دو طرح کی ہیں: ایک قسم کی نشانیاں وہ ہیں جو خدا کی زمین پر ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں، جنھیں دیکھ کر ہر صاحب ِ عقل آدمی تحقیق کرسکتا ہے کہ نبی جس چیز کی طرف بلا رہا ہے وہ حق ہے یا نہیں۔ دوسری قسم کی نشانیاں وہ ہیں جو فرعون اور اس کی قوم نے دیکھیں، قومِ نوح نے دیکھیں، عاد اور ثمود نے دیکھیں، قومِ لوط اور اصحاب الایکہ نے دیکھیں۔ اب یہ فیصلہ کرنا خود کفّار کا اپنا کام ہے کہ وہ کس قسم کی نشانی دیکھنا چاہتے ہیں۔
دوم یہ کہ ہر زمانے میں کفّار کی ذہنیت ایک سی رہی ہے۔ ان کی حجتیں ایک ہی طرح کی تھیں۔ ان کے اعتراضات یکساں تھے۔ ایمان نہ لانے کے لیے ان کے حیلے اور بہانے یکساں تھے اور آخرکار ان کا انجام بھی یکساں ہی رہا۔ اس کے برعکس ہر زمانے میں انبیاء ؑ کی تعلیم ایک تھی۔ ان کی سیرت و اخلاق کا رنگ ایک تھا۔ اپنے مخالفوں کے مقابلے میں ان کی دلیل و حجت کا انداز ایک تھا۔ اور ان سب کے ساتھ اللہ کی رحمت کا معاملہ بھی ایک تھا۔ یہ دونوں نمونے تاریخ میں موجودہیں اور کفّار خود دیکھ سکتے ہیں کہ ان کی اپنی تصویر کس نمونے سے ملتی ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں کس نمونے کی علامات پائی جاتی ہیں۔
تیسری بات جو بار بار دُہرائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ خدا زبردست ، قادر و توانا بھی ہے اور رحیم بھی۔ تاریخ میںاس کے قہر کی مثالیں بھی موجود ہیں اور رحمت کی بھی۔ اب یہ بات لوگوں کو خود ہی طے کرنی چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اس کے رحم کا مستحق بناتے ہیں یا قہر کا۔
[سورۂ شعراء کے] آخری رکوع میں کہا گیا ہے کہ تم لوگ اگر نشانیاں ہی دیکھنا چاہتے ہو تو آخر وہ خوفناک نشانیاں دیکھنے پر کیوں اصرار کرتے ہو جو تباہ شدہ قوموں نے دیکھی ہیں۔ اس قرآن کو دیکھو جو تمھاری اپنی زبان میں ہے۔ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو۔ ان کے ساتھیوں کو دیکھو۔ ضدّم ضدّا کی بات دوسری ہے ، مگر اپنے دلوں کو ٹٹول کر دیکھو کہ وہ کیا شہادت دیتے ہیں۔ اگر دلوں میں تم خود جانتے ہو کہ کہانت اور شاعری سے اس کا کوئی دُور کا واسطہ بھی نہیں ہےتو پھر یہ بھی جان لو کہ تم ظلم کر رہے ہو اور ظالموں کا سا انجام دیکھ کررہو گے۔ ([سیّدابوالاعلیٰ مودودی] ماہنامہ ترجمان القرآن، جلد۵۰، عدد۴، شوال ۱۳۷۷ھ/ جولائی ۱۹۵۸ء،ص ۱۶-۱۷)
دو مختلف نظاموں میں کچھ چیزیں مشترک ہوتے ہوئے بھی، وہ الگ الگ نظام ہوتے ہیں۔ ان دونوں نظاموں کی تفصیلات کا جائزہ لیتے ہوئے ان میں بیش تر چیزیں ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہوں، مگر اس کے باوجود ہم انھیں ایک نظام نہیں کہہ سکتے۔ دو مختلف نظاموں کا کسی ایک یا چند اُمور میں ایک دوسرے سے متفق ہو جانا بھی کبھی اُن کے ایک ہونے کی دلیل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہی حال اسلام اور مغربی جمہوریت کا ہے۔
اس ضمن میں یہ چیز ذہن نشین رہے کہ کسی نظام کا اصل جوہر طریق نہیں بلکہ وہ اصولی و مقصدی روح ہوتی ہے، جو اُس کے اندر جاری و ساری رہتی ہے اور اسی روح کے متعلق ہم حکم لگاسکتے ہیں۔
(الف) مغربی جمہوریت میں حاکمیت جمہور کی ہوتی ہے اور اسلام میں حاکمیت اللہ تعالیٰ کی تسلیم کی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مغربی جمہوریت میں کسی چیز کے حق و ناحق کا فیصلہ کرنے کا آخری اختیار اکثریت کو حاصل ہے ، مگر اسلام میں یہ حق صرف باری تعالیٰ کو پہنچتا ہے، جس نے اپنا آخری منشا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے دنیا پر واضح فرما دیا۔ یہ اختلاف کوئی معمولی نہیں بلکہ اس کی بنا پر یہ دونوں نظام بنیادوں سے لے کر کاخ و ایوان تک ایک دوسرے سے مختلف ہوجاتے ہیں۔
(ب) اسلامی جمہوریت میں خلافت ایک امانت ہے، جو ہرمسلمان کو سونپی جاتی ہے، اور تمام مسلمان محض انتظامی سہولت کے لیے اُسے ارباب حل و عقد کے سپرد کردیتے ہیں۔ مغربی جمہوریت میں اصحابِ اقتدار صرف اپنی پارٹی [یا منتخب ایوان] کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس اسلامی ریاست میں عوام کے نمایندے خدا اور خلق دونوں کے سامنے جواب دہ ہیں۔
(ج) یہ عرض کر دینا بھی ضروری ہے کہ اسلامی نظام صرف ایک طریق انتخاب تک محدود نہیں ہے بلکہ زندگی کے سارے معاملات میں اپنا ایک مخصوص نقطۂ نظر اور زاویۂ نگاہ پیش کرتا ہے۔ اس کا مطالبہ یہ ہے کہ کتاب اللہ اور سنت رسولؐ اللہ کو آخری سند مان کر اپنی پوری انفرادی اور اجتماعی زندگی کو ان کے مطابق ڈھالا جائے___ پاکستان میں ’قراردادِ مقاصد‘ کے ذریعے اس اصول کو تسلیم تو کیا گیا ہے، مگر افسوس کہ اس کے نفاذ کے راستے میں ہرطرح کی رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں۔ (’رسائل و مسائل‘ [پروفیسر عبدالحمید صدیقی]، ترجمان القرآن، جلد۴۹، عدد۳، ربیع الاوّل ۱۳۷۷ھ، دسمبر ۱۹۵۷ء،ص ۱۸۳-۱۸۴)