مضامین کی فہرست


جون ۲۰۱۷

Pondering Over the Quran [تدبّر قرآن ] : امین احسن اصلاحی ، مترجم : محمدسلیم کیانی ۔ ناشر : الکتاب پبلی کیشنز، ۶۸ ۔ٹالپوٹ کریسنٹ ہینڈن ، لندنNW4 4HP۔  صفحات : ۸۳۔قیمت: درج نہیں۔

تدبر قرآن ، قرآن حکیم کی اُردو تفاسیر میں ایک ممتاز مقام رکھتی ہے۔ یہ مولانا امین احسن اصلاحی کا حاصل حیات ہے۔ اس کی پہلی جلد ۱۹۶۷ء میں شائع ہوئی ۔ مکمل تفسیر ۸ جلدوں میں ہے۔ اس تفسیر کی سب سے بڑی خوبی نظمِ قرآن کی وضاحت ہے۔ زیر نظر کتاب، تدبر قرآن  کے دیباچے،   بسم اللہ اور سورئہ فاتحہ کے انگریزی ترجمے پر مشتمل ہے۔ آخر میں مترجم محمد سلیم کیانی (م: نومبر ۲۰۱۶ء) نے مولانا حمیدالدین فراہی اور مولانا امین احسن اصلاحی کا تعارف اور ان کی تصانیف کی فہرست دی ہے۔ اسی طرح مترجم نے کتاب کے تعارف میں نظم قرآن کے سلسلے میں مولانا فراہی اور مولانا اصلاحی سے ماقبل مفسرین کی کوششوں کا ذکر بھی کیا ہے۔

ترجمہ بہت عمدہ اور عام فہم ہے ۔انگریزی قارئین کے لیے فہم قرآن کے سلسلے میں یہ تمہیدی حصہ اپنے اندر افادیت رکھتا ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)


معیارِ حق کون ہے؟ ترتیب: مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف [ترتیبِ نو: ڈاکٹر عبدالحی ابڑو، شکیل عثمانی، خلیل الرحمٰن چشتی]۔ناشر: الاحسان، ۴؍۱۱-E، اسلام آباد۔ فون: ۵۵۶۰۹۰۰-۰۳۰۰۔ صفحات:۲۶۵۔ قیمت(مجلد): ۳۶۰  روپے۔

حق کی راہ پر چلنے والوں کو، خود حق پر چلنے کی پہچان رکھنے والے بھی کس کس طرح ناحق تنگ کرتے ہیں؟ اس ’کارِخیر‘ کی ایک جھلک اس کتاب میں دیکھی جاسکتی ہے۔

ویسے تو جماعت اسلامی کو تشکیل کے روز (۲۶؍اگست ۱۹۴۱ء) ہی سے تنقید ی نگاہ سے پرکھا جانے لگا تھا، اور اس کام میں دین دار اور بے دین، دونوں طرح کے حلقوں سے ، بعض حضرات اپنے اپنے ظرف کے مطابق کھینچ تان کر رہے تھے۔ تاہم، ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء میں قیامِ پاکستان کے بعد، ۱۹۵۴ء میں بھارت سے اچانک غلغلہ بلند ہوا کہ: ’’جماعت اسلامی کے دستور میں   بیان کردہ عقیدے سے متعلق عبارت کی روشنی میں یہ جماعت اہلِ سنت سے خارج اور گمراہ ہے‘‘۔ اس ناگہانی افتاد یا ’کرم فرمائوں‘ کی مشقِ ناز کا جائزہ لینے کے لیے مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف صاحب نے پہل قدمی کی۔ انھوں نے ایک خاص مکتب ِ فکر کے مذکورہ فتوئوں اور سوقیانہ مہم کا جائزہ لینے کے لیے عرب و عجم اور ہند و پاکستان سے تحریری سطح پر رابطہ قائم کیا، پھر اسلامی تاریخ اور مآخذ تک رسائی حاصل کی۔ اس کاوش سے جو نتیجہ نکلا اسے اس کتاب میں ڈھال دیا۔

نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزرا کہ یہ کتاب ناپید تھی۔ ڈاکٹر عبدالحی ابڑو، شکیل عثمانی اور خلیل الرحمٰن چشتی نے اس کتاب کی ترتیبِ نو کے دوران متعدد قیمتی اضافے کرتے ہوئے سوانحی و توضیحی نوٹس سے معنویت کو دوچند کر دیا۔

پرانی بحثوں کو تازہ کرنا اس کتاب کی اشاعت ِ نو کا مقصد نہیں ہے بلکہ سفر کی ایک کٹھن  گھاٹی کو عبور کرنے کا منظر بیان کرنا مطلوب ہے۔ پھر دستور میں بیان کردہ عقیدے کے تقاضوں کو خاص طور پر دینی تحریکوں میں تازہ کرنے کا پیغام دینا بھی پیش نظر ہے۔ یہ قیمتی دستاویز علم ، تاریخ اور عمل کو ایک جہت عطا کرتی ہے۔ (سلیم منصور خالد)


مخزنِ حکمت و دانش، ملک احمد سرور۔ناشر: طٰہٰ پبلی کیشنز، ۱۹- ملک جلال الدین (وقف) بلڈنگ، چوک اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۴۴۷۰۵۰۹-۰۳۳۳۔ صفحات: ۵۹۲۔ قیمت: ۶۰۰ روپے۔

مصنّف کا شکوہ بجا ہے کہ ایک زمانے میں قرآن و حدیث کے بعد رومی و سعدی کی حکایات کو حکمت و دانش کا خزانہ سمجھ کر انھیں پڑھا اور سنا جاتا تھا، مگر پروپیگنڈے اور ’ترقی‘ کے  اس دور میں جو شخص زیادہ چیختا ہے اور دھڑلّے سے جھوٹ بولتا ہے، وہی حکیم اور دانش ور ہے۔ ہمارے خیال میں اس ’حکمت و دانش‘ کے نمونے آج کل کے اخباری کالموں میں بھی مل جاتے ہیں۔

زیرنظر کتاب مصنف کا ’حاصلِ مطالعہ‘ ہے جو ماہ نامہ بیدار میں ’حکمت و دانش‘ کے عنوان سے شائع ہوتا رہا، اِسے اضافوں کے ساتھ عنوان وار مرتب کیا گیا ہے۔ قرآن و حدیث اور صدیوں کے انسانی تجربات کی روشنی میں زندگی کے نشیب و فراز سے عہدہ برآ ہونے کی تدابیر، بعض ابواب کے موضوعات ان کے عنوانات سے واضح ہیں (افضل و احسن اعمال، علم، جہاد، انفاق، دُعا، قرآنِ حکیم، ذہانت و حاضرجوابی، عدل و انصاف کے چند قابلِ رشک مناظر، ادبی شگوفے وغیرہ)،جب کہ بعض عنوانات عمومی نوعیت کے ہیں (اقوالِ حکمت و دانش، متفرق شہ پارے، بکھرے موتی وغیرہ)۔  ان کے تحت فہرست کی ضمنی سرخیوں سے حکایات وا قوال کے تنوع کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ غوروفکر اور تفکّر و تدبر کے ساتھ، کتاب میں رونے اور ہنسنے اور حصولِ عبرت کا لوازمہ بھی یکجا ہے۔ ایک مختصر نمونہ:’’ایک دفعہ ایک شخص نے سرسیّد کو خط لکھا کہ اگر نماز میں بجاے عربی عبارتوں کے، ان کا اُردوترجمہ پڑھ لیا جائے تو کوئی حرج اور نقصان تو نہیں؟ سرسیّد نے جواب دیا: ہرگز کوئی ہرج اور نقصان نہیں، صرف اتنی سی بات ہے کہ نماز نہیں ہوگی‘‘ (ص ۱۸۷)۔ ایک اور: شاہِ ہندستان سلطان ناصرالدین محمود بغیر وضو کبھی اسمِ مبارک ’محمدؐ، زبان پر نہ لاتا تھا۔ (ص ۴۰۸)

کتاب مجلّد اور طباعت و پیش کش اطمینان بخش ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)


تعارف کتب

oمغربی زبانوں کے ماہر علما ( علی گڑھ کالج کے قیام سے پہلے )، پروفیسر سید محمد سلیم ۔ ناشر : مجلس ترقی ادب ۲- کلب روڈ لاہور ۔ صفحات : ۵۲۔ قیمت : ۲۰۰روپے۔ [اس نہایت معلومات افزا کتاب کی طبع دوم کا اہتمام ڈاکٹر تحسین فراقی نے ایک مختصر دیباچے کے ساتھ کیا ہے۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ انگریزوں کی آمد سے پہلے برعظیم پاک و ہند کے مدرسوں میں ایسے اصحاب علم ودانش کی کثیر تعداد موجود تھی جو مغربی زبانیں جانتے تھے۔ کتاب میں ان فاضلین کے تعارف کے ساتھ ، ان کی ترجمہ شدہ کتابوں کی تفصیل بھی دی گئی ہے۔ گویا یہ کتاب آبا کے قابل فخر کارناموں سے آگاہ کرتی ہے۔ ]

oگردشِ ایام ، محمد فاروق چوہان۔ ناشر : قلم فائونڈیشن انٹر نیشنل، یثرب کالونی ، بنک سٹاپ ، والٹن روڈ، لاہور کینٹ۔ صفحات : ۵۹۲۔ قیمت: ۱۵۰۰روپے۔[یہ کتا ب مصنف کے ان کالموں پر مشتمل ہے ، جو مختلف قومی، ملّی ، سیاسی موضوعات پر روزنامہ جنگ  میں شائع ہوتے رہے۔ ہر موضوع کو فوری طور پر زیر بحث لاکر نقطۂ نظر پیش کیا گیا۔ اس طرح یہ کتاب ایک طرح سے مختلف مسائل کی تاریخ بھی بیان کرتی ہے۔ ]

عمران احمد خان ،گڑھی کپورہ (مردان)

مئی کے ترجمان میں پروفیسر خورشیداحمد صاحب کے فکرانگیز’اشارات‘ اور ایک آزاد خیال طبقے کی جانب سے اسلامی تحریکات پر سنگ زنی کے جواب میں ’بیانیہ سازی کا کھیل‘ نہایت قیمتی مضامین ہیں۔ ان میں برتے ہوئے الفاظ موتیوں کی طرح چمک رہے ہیں، لیکن جب میں پاکستان کے لاکھوں لوگوں کو دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ان مضامین کو مزید آسان الفاظ میں لکھا جائے تو اور زیادہ فائدہ ہوسکتا ہے۔


راجا محمد عاصم ،موہری شریف ،کھاریاں

 ’ المیہ کشمیر: غیروں کا ظلم، اپنوں کا جرم‘ (مئی ۲۰۱۷ء) میں ارشد حسین نے کشمیری عوام کی پاکستان سے گہری وابستگی اور کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم اور پاکستان کے حکمرانوں کی مقدمۂ کشمیر کے حوالے سے کمزور پالیسی کی طرف بجا توجہ دلائی ہے۔ محترم سیّد علی گیلانی نے ’ کشمیر :جدوجہد کی موجودہ لہر کا سبق ‘ (اپریل ۲۰۱۷ء ) کے عنوان سے تحریکِ آزادیِ کشمیر پر تفصیلی تبصرے میں بھارتی حکمرانوں کا اصل چہرہ بے نقاب کیا ہے۔ عابدہ فرحین صاحبہ نے ’ عورت کی حیثیت اور ہمارا ادھورا معاشرہ ‘(اپریل ۲۰۱۷ء ) میں عورت کے حقوق اور ذمہ داریوں کو اُجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف این جی اوز کے ایجنڈے کی وضاحت کی ہے۔


پروفیسر ملک   محمد   حسین ،جوہرآباد

سیّد سعادت اللہ حسینی جب بھی لکھتے ہیں، خوب لکھتے ہیں۔ ان کا مضمون ’انتخابی نتائج اور مسلم فکرمندی‘ (مئی ۲۰۱۷ء) ایک عمدہ تحریر ہے۔ اگر ہمارے دینی اور سیاسی قائدین اسے غور سے پڑھیں تو اس میں سب کے لیے خیروبرکت سے بھرپور رہنمائی کے کئی دَر وا ہوسکتے ہیں۔ تنویرقیصر شاہد صاحب کا مضمون معلومات افزا ہے۔


سلمان سراج ،ہوسئی شہباز گڑھی ، مردان

اُم المومنین سیّدہ سودہؓ پر مضمون (اپریل ۲۰۱۷ء) ایک قیمتی تذکرہ ہے، جسے مضمون نگار نے سیرۃ الصحابیات سے اخذ کیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مضمون میں بڑی روارو ی سے بیانات نقل کیے گئے، جو تحقیق اور احتیاط سے مناسبت نہیں رکھتے۔ مضمون میں تین روایتیں تو منقطع سند کے ساتھ ہیں ، جو سخت بے احتیاطی ہے۔


ڈاکٹر فضل عظیم ،بونیر

ڈاکٹر انیس احمد کا مضمون ’تبدیلیِ نظام، تحریکی حکمت عملی: چند پہلو‘ (اپریل ۲۰۱۷ء) معلومات سے بھرپور ہے۔ اللہ کرے کہ ساتھی اس کے پڑھنے سے محروم نہ رہیں۔ صفحہ نمبر ۸ پر ان کا یہ جملہ بڑی اہمیت کا حامل ہے: ’’تعلق باللہ کا مؤثر ترین ذریعہ قرآن کریم کی رفاقت ہے۔ جب قرآن کریم ایک صاحبِ ایمان کا رفیق بن جاتا ہے تو پھر اسے کسی اور کی رفاقت کی ضرورت نہیں رہتی‘‘۔


غازی امان اللہ خان ،گوجرانوالہ

’امریکا کا عالمی کردار اور ہماری ذمہ داریاں‘ (مارچ ۲۰۱۷ء) کے عنوان سے پروفیسر خورشید احمد صاحب کے ’اشارات‘ فکر انگیز ہیں۔ موجودہ عالمی تناظر میں اس تحریر کو دنیا کے تمام سربراہانِ مملکت تک پہنچانا چاہیے،   خواہ وہ مسلم ہوں یاغیر مسلم۔ یہ بھی تو دعوت کا حصہ ہے۔


ڈاکٹر محمد اعظم    چودھری،کراچی

حبیب الرحمٰن چترالی کا مضمون ’پاکستانی قومی بیانیے کی تشکیل‘ (مارچ ۲۰۱۷ء) ایک بہترین مضمون ہے، تاہم ، صفحہ ۸۲ پر علما کے جس وفد کی پٹنہ میں بیرسٹر عبدالعزیز کے گھر پر ملاقات کا ذکر کیا گیا ہے، وہ درست نہیں کیوںکہ علما کا جو وفد۲۴ دسمبر ۱۹۳۸ء کو قائد اعظم سے ملا تھا، اس کی قیادت مولانا مرتضیٰ حسن نے کی تھی اور اس میں مولانا شبیر احمد عثمانی بھی شامل تھے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی کی قیادت میں دوسرا وفد ۱۲فروری ۱۹۳۹ء کو دہلی میں قائد اعظم سے ملا تھا۔ اس میں وہی گفتگو ہوئی تھی جو مضمون نگار نے تحریر کی ہے۔ (دیکھیے : پروفیسر انوارالحسن، حیات امداداللہ اور ایچ بی خان، برصغیر پاک  و  ہند کی سیاست  میں علما کا کردار)


اخوندزادہ    نصراللہ ، ایون، چترال

’امریکا کا عالمی کردار اور ہماری ذمہ داریاں‘ (مارچ ۲۰۱۷ء)، ازپروفیسر خورشید احمد اور ’پاکستانی قومی بیانیے کی تشکیل‘ از حبیب الرحمٰن چترالی ، فی الحقیقت مسلم اُمہ اور اہل پاکستان کے لیے جامع ہدایات پر مبنی مقالات ہیں۔ دین اسلام اور امت مسلمہ کے لیے اصحابِ علم کی تحریریں روشنی عطا کرتی ہیں۔


محمد عارف     جاوید،چکوال

دعوتِ دین کے لیے متحرک کارکنوں کے لیے عالمی ترجمان القرآن ایک نصابِ علم وتزکیہ ہے جس میں معلومات کا بیش بہا خزانہ ملتا ہے۔ ادارہ ترجمان کی کوشش کے باوجود ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ بعض مشکل الفاظ کو سمجھنے کے لیے لغت کا سہارا لیا جائے۔ تاہم ،اگر ان کے مضامین کو اجتماعی مطالعے کا وسیلہ بنایا جائے تو یہ مشکل بھی حل ہو سکتی ہے اور مضامین ومعلومات بہتر انداز سے ذہن نشین ہو سکتی ہیں۔

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

[تعارفی نوٹ از مدیر] : پاکستان کا قیام، برطانوی سامراج کے خلاف برعظیم کے مسلمانوں کی دو سوسالہ جدوجہد کا حاصل اور ثمرہ ہے۔ جہاں یہ اللہ تعالیٰ کا انعام خاص ہے، وہیں ایک تاریخی جدوجہد اور اس میں پیش کی جانے والی بیش بہا قربانیوں کا پھل بھی ہے۔

بظاہر سات سال پر محیط تحریکِ پاکستان کے نتیجے میں جو ملکِ عزیز قائم ہوا، الحمدللہ، اس نے سارے مصائب اور خطرات، دشمنوں کی سازشوں اور اپنوں کی کوتاہیوں اور بے وفائیوں کے باوجود اپنی آزادی کے ۷۰ سال مکمل کر لیے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ پاکستان ربِّ کائنات کی طرف سے ایک عظیم نعمت ہے، رمضان المبارک کی ۲۷ویں شب ملنے والا یہ الٰہی تحفہ، ان شاء اللہ قائم و دائم رہے گا۔ جن مقاصد کے لیے برعظیم کے مسلمانوں نے جدوجہد کی تھی، وہ ضرور حاصل ہوں گے۔

اللہ کے شکر اور جو کچھ حاصل ہے، اس کی قدر کے پورے احساس کے ساتھ یہ تاریخی لمحہ اس امر کا بھی تقاضا کرتا ہے کہ خلوص اور دیانت سے جائزہ لیں کہ ان ۷۰ برسوں میں ہم نے کیا پایا اور کیا کھویا؟ تحریک پاکستان کے اصل مقاصد کیا تھے؟ اور پاکستان کا وہ تصور اور وژن کیا تھا جس کے حصول کے لیے برعظیم کے مسلمانوں نے جدوجہد کی، اور آج ہم اس سے کتنا قریب ہیں اور کتنا  اس سے دُور ہو گئے ہیں؟ یہ جائزہ دیانت داری سے لیا جانا چاہیے کہ ہماری مثبت کامیابیاں کیا ہیں اور منفی پہلو کون کون سے ہیں اور ان سے کس طرح نجات حاصل کی جا سکتی ہے؟ نیز ایک نئے عزم کے ساتھ اصل وژن کا ادراک اور تفہیم اور اس کے حصول کے لیے صحیح لائحہ عمل کا شعور، اور اس کے لیے مؤثر اور فیصلہ کن جدوجہد کا عزم اور تیاری وقت کی ضرورت ہے۔

عالمی ترجمان القرآن کے موجودہ شمارے سے اس مقصد کے لیے ایک قلمی مذاکرے کا اہتمام کیا جا رہا ہے،جو تحلیل و تجزیے اور تفہیم و تذکیر کے ایک سلسلے کا آغاز ہے، اور یہ ان شاء اللہ آیندہ بھی جاری رہے گا۔

راقم اپنی صحت کی خرابی کے باعث اس بحث میں بھرپورشرکت کی سعادت سے محروم ہے، لیکن اس کمی کی تلافی، عصرِحاضر میں تحریک اسلامی کے داعی، ہمارے محسن اور قائد مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی کے ایک بصیرت افروز خطبے کو ’اشارات‘ کی شکل میں پیش کر کے کی جا رہی ہے۔ یہ تقریر مولانا محترم نے نومبر۱۹۷۰ء میں کی تھی۔ پاکستان کے پہلے انتخابات کے موقعے پر قوم کو پاکستان کے اصل تصور، تحریک پاکستان کے حقیقی مقاصد اور ان مقاصد کے حصول اور اس منزل کی طرف پیش رفت کے لیے جس لائحۂ عمل کی ضرورت ہے، مولانا مرحوم و مغفور نے تب بڑے خوب صورت اور مؤثر انداز میں اس کی نشان دہی فرمائی تھی اور قوم کو اس کی اصل منزل کی طرف پیش قدمی کی دعوت دی تھی۔

اس تقریر میں مولانا مودودی lنے ان چھے چیزوں کو بڑے واضح الفاظ میں پیش کر دیا ہے، جو آج بھی پاکستان کی ویسی ہی ضرورت ہیں، جیسی کہ ۱۹۴۷ء اور ۱۹۷۰ء میں تھیں۔ اسلام کے تصورِ دین، حکمتِ انقلاب اور زندگی کو تبدیل کرنے کے لائحہ عمل کی اس سے واضح، جامع اور مؤثر ترجمانی مشکل ہے۔ یہ تقریر مولانا کی سیاسی بصیرت کا شاہکار ہے، اور آج ۴۷سال کے بعد بھی صبحِ نو کی طرح تروتازہ ہے۔ ہم یہ تقریر درج ذیل معروضات کے ساتھ ناظرین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔

یہ امر پیش نظر رہنا چاہیے کہ پاکستان کا قیام ،تحریک پاکستان کی حتمی سات سالہ جدوجہد کا حاصل نہیں بلکہ یہ ۲۰۰ سال سے زیادہ عرصے پر پھیلی ہوئی اس تحریکِ آزادی کا ثمرہ ہے، جو برطانوی سامراج کے برعظیم میں قدم جمانے کے ساتھ ہی شروع ہو گئی تھی اور جس کے کم از کم تین بڑے واضح مرحلے دیکھے جا سکتے ہیں:

  •  اولاً، عسکری قوت سے سامراجی حکمرانوں کا مقابلہ اور مسلم اقتدار کی بحالی۔
  •  ثانیاً، سیاسی جدوجہد کا آغاز اور برعظیم کے تمام ہم وطنوں کے ساتھ مل کر سیاسی آزادی کی ایسی جدوجہد کہ جس میں مسلمان اپنا نظریاتی،دینی، سیاسی اور تہذیبی تشخص برقرار رکھ سکیں اور غیر مسلم اکثریت میں ضم نہ ہو جائیں۔ علاقائی قومیت کے مقابلے میں دو قومی نظریے کا ارتقا، اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ایسا سیاسی انتظام، جو کثیر قومی (State of Nationalities)کا متبادل ’مثالیہ‘ (paradigm) پیش کر سکے۔ ۳۹-۱۹۳۸ء تک یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ انڈین نیشنل کانگریس جو دراصل ابتدا سے آج تک برہمنوں ہی کی گرفت میں رہی ہے، اس تصور کو کسی صورت قبول کرنے کو تیار نہیں تھی، نہ ہے۔ اس کا مقصد عددی اکثریت کا غلبہ اور جمہوریت و سیکولرزم کے نام پر ہندو قوم پرستی کی حکمرانی قائم کرنا ہے۔ عملاً ۱۹۳۵ء کے قانون کے تحت انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومتوں نے اس کا عملی مظاہرہ بھی کیا۔
  • اس پس منظر میں مسلمانوں کی تحریک کا تیسرا مرحلہ شروع ہوا۔ علمی اور عملی دونوں میدانوں میں اور دو قومی نظریے کو سیاسی حقائق کی روشنی میں برعظیم کے مسلمانوں کی جس نئی سیاسی منزل کی شکل میں پیش کیا گیا، وہ تقسیم ہند اور پاکستان کا آزاد اسلامی ریاست کی حیثیت سے قیام تھا۔ تحریک پاکستان کے دو ناقابل تفریق و تنظیم (Indivisible and Inseperable) پہلو تھے۔ ایک سیاسی آزادی اور دوسرا اس آزادی کی بنیاد اور منزل اسلامی نظریہ اور تہذیب و ثقافت۔ یہی وجہ ہے کہ تصورِ پاکستان اور تحریکِ پاکستان کے مقاصد، مزاج اور شناخت کو سمجھنے کے لیے حسب ذیل دستایزات کا مطالعہ ضروری ہے:   { FR 1004 }

                ۱-            علامہ اقبال کا ۱۹۳۰ء کا خطبۂ صدارت،

                ۲-            ۲۳مارچ ۱۹۴۰ء کی قراردادِ لاہور ،

                ۳-            قائداعظم کا خطبۂ صدارت، ۷؍اپریل ۱۹۴۷ء کی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے منتخب ارکان کے کنونشن کی قرار داد، حلف نامہ اور قائداعظم کی تقریر ،

                ۴-            ۱۳مارچ ۱۹۴۹ء کو پہلی منتخب دستور ساز اسمبلی کی منظور کردہ قراردادِ مقاصد اور اس موقعے پر وزیراعظم نواب زادہ لیاقت علی خان اور تحریکِ پاکستان کے اکابر ارکانِ دستورساز اسمبلی کی تقاریر۔ (قراردادِ مقاصد تحریکِ پاکستان کی فکری جہت کا خلاصہ ہے، اور پاکستان کے دستور کی تمہید اور اس کا حصہ ہے۔)

اس پس منظر میں پاکستان کو ایک حقیقی اسلامی، جمہوری اور فلاحی ریاست بنانے کے لیے چھے چیزیں ضروری ہیں:

۱-            پاکستان کے تصور اور اس کی اصل منزل کا صحیح اور مکمل شعور۔ یہ وژن اور اس کے باب میں مکمل شفافیت (clarity) اور یکسوئی اوّلین ضرورت ہے۔ اسی سے ہماری منزل اور اس تک پہنچنے کے راستے کا تعین ہو سکتا ہے۔ یہ ہماری شناخت ہے اور اسی شناخت کے تحفظ اور ترقی کے لیے آزادی کی جدوجہد کی گئی اور پھر آزادی حاصل کی گئی۔ اس مقصد کے لیے نہ صرف لاکھوں انسانوں کے جان و مال اور آبرو کی قربانی دی گئی، بلکہ بھارت میں  رہ جانے والے مسلمانوں نے اسلام اور اپنے مسلمان بھائیوں کی آزادی کی خاطر اپنے کو بھارت میں ہندوئوں کے غلبے میں رہ جانے کی عظیم ترین قربانی دی۔

                ۲-            آزادی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے علاقے (Territory) کا حصول ضروری ہے اور یہی وجہ ہے کہ آزاد قوم اور آزاد علاقہ ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ ملکی حدود کی حفاظت اور دفاع قومی سلامتی کی پہلی ضرورت ہے۔ دفاعِ وطن اور دفاعِ نظریہ، شخصیت اور پہچان ساتھ ساتھ واقع ہوتے ہیں۔ اس کے لیے عسکری قوت کے ساتھ سیاسی، معاشی، مادی اور اخلاقی قوت بھی مقابلے کی قوت کی حیثیت سے ضروری ہے۔ اس میں ضُعف ، ملکی سلامتی کے لیے خطرے کا باعث بنتا ہے۔ یہ سیاسی و معاشی استحکام، اندرونی امن و امان ، بیرونی خطرات سے تحفظ اور آبادی کی ترقی اور خوش حالی کے لیے وسائل کے بھرپور استعمال کا راستہ دکھاتا ہے۔

                ۳-            تیسری ضرورت اس وژن اور قومی سلامتی اور مفادات کا تحفظ و ترقی ہے، زندگی کے تمام شعبوں کے لیے صحیح پالیسیوں کا تعین ، انتہادرجے کی شفافیت کے ساتھ پالیسی سازی اور ان پر عمل کرنے کا اہتمام۔

                ۴-            ان مقاصد کو حاصل کرنے اور پالیسیوں کی مؤثر تنفیذکے لیے تمام ضروری اداروں کا قیام، استحکام، اصلاح اور ترقی۔ دستور اور قانون کی حکمرانی ہی کے ذریعے اداروں کی بالادستی اور حقوق وفرائض کی بجاآوری ممکن ہے۔

                ۵-            ان مقاصد کے حصول کے لیے اساسی ضرورت ہر سطح پر اور ہرشعبے کے لیے مردانِ کار کی تیاری ہے۔ تعلیم اس کی کنجی ہے۔ پوری آبادی کی اخلاقی، علمی اور صلاحیت کار کی ترقی کے ذریعے ہی کوئی قوم ترقی کر سکتی ہے، پھر اپنی آزادی اور شناخت کی حفاظت اور استحکام کے ذریعے اس ترقی کو زیادہ ثمرآور بنایا جاسکتا ہے۔ ماحول، معاشرہ اور تہذیب و ثقافت ہر میدان کی صورت گری میں اس کا حصہ ہے۔

                ۶-            آخری فیصلہ کن ضرورت ہے: صحیح قیادت کا انتخاب، مشاورت کے مؤثر نظام کا قیام، احتساب اور جواب دہی کا ہر سطح پر اہتمام۔

یہ چھے چیزیں کسی بھی ملک اور قوم کی آزادی و خودمختاری اور ترقی و استحکام کی ضامن ہیں۔ ان سب کے بارے میں غفلت، کمزوری، فکری انتشار، تضادات اور عملی کوتاہیاں ہی پاکستان کے سارے مسائل کی جڑ ہیں۔ جس حد تک ان کا پاس و لحاظ کیا جائے گا ہماری آزادی اور خودمختاری برقرار رہ سکے گی۔ بلاشبہہ ان میں سے بعض پہلوئوں پر توجہ کی گئی ہے، جس کی وجہ سے خطرات اور کمیوں، کوتاہیوں کے باوجود ہم اپنا وجود برقرار رکھ سکے ہیں اور کسی حد تک ترقی بھی حاصل کر سکے ہیں۔

مولانا مودودیؒ نے اپنی حسب ذیل تقریر میں ان چھے پہلوئوں کے بارے میں ایک واضح لائحہ عمل پیش کیا ہے، جو آج بھی ہمارے لیے روشنی کا مینار ہے۔ ہم تخلیقِ پاکستان کے ۷۰سال کی تکمیل پر آیندہ اصلاحِ احوال اور تعمیر کے عزم کی تجدید کے ساتھ، رہنمائی کے ان زریں اصولوں کو قوم کے سامنے پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں۔ ہمارا خطاب پوری قوم سے ہے  اور خصوصیت سے تحریک اسلامی اور تمام دینی اور سیاسی قوتوں سے ہماری اپیل ہے کہ اس خطبے پر کھلے دل و دماغ سے غوروفکر کریں اور مستقبل کی تعمیر کے لیے ہر تعصب سے بالا ہو کر نئے عزم کے ساتھ سرگرم عمل ہوں۔

خورشید احمد

o

سیّدابوالاعلیٰ مودودیo

o

جماعت اسلامی، پاکستان میں اس مقصد کے لیے کام کررہی ہے کہ یہاں معاشرے اور ریاست کی تعمیر دیانت اور انصاف کے ان اصولوں پر کی جائے، جو اسلام نے ہم کو دیے ہیں۔ اس کے پیشِ نظر پاکستان کو ایک ایسی ریاست بنانا ہے:

  •  جو خلافت ِ راشدہؓ کے نمونے پر کام کرے۔ ظلم، استحصال اور اخلاقی بے راہ روی کی ہرشکل کو مٹائے اور زندگی کے ہرپہلو میں عدل قائم کردے۔
  •  جو ایک خادم خلق ریاست ہو، ہر شہری کے لیے بنیادی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی کی ضمانت دے۔ تمام جائز ذرائع سے ملک کی دولت بڑھائے اور اس دولت کی منصفانہ تقسیم کا انتظام کرے۔
  •  جو صحیح معنوں میں ایک جمہوری ریاست ہو۔ عوام اپنی آزاد مرضی سے جن لوگوں کو اس کا اقتدار سونپنا چاہیں، وہی انتخابات کے ذریعے سے برسرِاقتدار آئیں اور جنھیں اقتدار سے ہٹانا چاہیں، ان کو انتخابات کے ذریعے سے بآسانی ہٹاسکیں۔

انھی مقاصد کے لیے جماعت عام انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔

oملک کو اس وقت جو مسائل درپیش ہیں ان کے بارے میں جماعت کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ پاکستان مسلمانوں کی قربانیوں سے قائم ہوا ہے اور یہ قربانیاں انھوں نے اس غرض کے لیے دی تھیں کہ یہاں وہ اسلامی احکام اور اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرسکیں۔ اس لیے یہاں کسی نظریاتی کشمکش کا کوئی جواز نہیں ہے۔ یہ بات ہمیشہ کے لیے طے شدہ سمجھی جانی چاہیے کہ یہ ایک اسلامی مملکت ہے۔

پاکستان کا قیام اس وجہ سے ممکن ہوا تھا کہ مسلمانوں نے نسل، علاقے، زبان اور طبقات کے تمام تعصبات کو دل سے نکال کر ،محض مسلمان ہونے کی حیثیت سے اس کے قیام کے لیے متحدہ جدوجہد کی تھی۔ اسی اتحاد کی بدولت وہ علاقے مل کر ایک ملک بن گئے جن کے درمیان نہ زبان ایک تھی، نہ رہن سہن کا طریقہ ایک تھا اور نہ کوئی جغرافی اتصال پایا جاتا تھا۔ آج بھی یہی اتحاد کامل ملک کی وحدت و سالمیت کے لیے واحد ضمانت ہے۔

ملک کی آبادی کے مختلف عناصر میں یگانگت کے احساس کو برقرار رکھنے اور نشوونما دینے کے لیے یہ قطعی ناگزیر ہے کہ اس اسلام پر عمل کیا جائے، جس کے نام پر یہ ملک وجود میں آیا ہے، اور سیاسی، معاشرتی اور معاشی حیثیت سے مکمل انصاف قائم کیا جائے، جس سے ملک کے تمام علاقے اور باشندگانِ ملک کے تمام گروہ اور طبقے اپنے حقوق کے معاملے میں پوری طرح مطمئن ہوں۔

o  ملک کو جس آئینی بحران کاسامنا ہے، اس کام کو مکمل اور آسان بنانے کے لیے ہم یہ تجویز کرتے ہیں کہ قومی اسمبلی نئے سرے سے کوئی آئین بنانے کی کوشش نہ کرے، بلکہ ۱۹۵۶ء کے آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں چار ضروری ترمیمات کرنے کے بعد اس کو ملک کا آئین قرار دے دے، تاکہ اقتدار جلدی عوام کے نمایندوں کو منتقل ہوجائے اور ایک جمہوری حکومت ملک میں کام کرنا شروع کر دے۔ باقی جو تغیر و تبدل بھی اس آئین میں کرنا مطلوب ہو، وہ بعد میں کیا جاسکتا ہے۔ وہ چار ترمیمیں جو ۱۹۵۶ءکے آئین میں ہم کرنا چاہتے ہیں: آبادی کی بنیاد پر نمایندگی، ون یونٹ کی تنسیخ، مغربی پاکستان کے سرحدی علاقوں کو پاکستان میں پوری طرح ضم کرلینے ،اور ملک کی سالمیت کو محفوظ رکھتے ہوئے صوبوں کو مکمل علاقائی خودمختاری دینے کے بارے میں ہیں۔{ FR 1000 }

o  ہم نے ملک کے قانونی نظا م کی اصلاح کے لیے بہت سی تجاویز پیش کی ہیں، جن میں خاص طور پر چار چیزوں کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے: lایک یہ کہ اسلام کے ان تمام احکام کو قانونی حیثیت دینا، جو ایک اسلامی مملکت میں رائج ہونے چاہییں اور خاص طور پر ان اخلاقی بُرائیوں کو ممنوع قرار دینا، جنھیں اسلام ازروے قانون روکنا چاہتا ہے۔ mدوسرے، عورتوں کو شریعت کے     عطا کردہ حقوق دلوانے کے لیے قانون بنانا۔ oتیسرے، شخصی آزادی اور اظہار راے کی آزادی پر ناراو پابندیوں کو ختم کرنا۔oچوتھے انصاف کو آسان اور سستا بنانا۔

  •  اسلامی تعلیمات کا فروغ:مسلمانوں کوا سلامی زندگی بسر کرنے کے قابل بنانے کے لیے ہمارا پروگرام یہ ہے کہ تمام ذرائع نشروابلاغ اور ذرائع تعلیم سے کام لے کر مسلم عوام میں اسلامی عقائد اور تعلیمات کا ضروری علم پھیلایا جائے۔ مساجد کو مسلم معاشرے میں مرکزی حیثیت دی جائے، اور ان کے لیے تربیت یافتہ امام اور خطیب تیار کیے جائیں۔’اوقاف‘ کا صحیح انتظام کیا جائے۔ مسلمانوں کو دینی فرائض کی ادایگی کے لیے ترغیب بھی دی جائے اور تمام ممکن سہولتیں بھی بہم پہنچائی جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم نے بحیثیت مجموعی ملک کی اخلاقی اصلاح کے لیے بھی بڑے پیمانے پر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ معاشرے کو بُرائیوں سے پاک کیا جائے۔ ان اسباب کو رفع کیا جائے جن سے جرائم اور بداخلاقیوں کو فروغ نصیب ہوتا ہے، اور عوام میں اتنا اخلاقی شعور پیدا کیا جائے کہ وہ شہریوں کی حیثیت سے خود اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو محسوس کرنے لگیں۔
  •  اسلامی نظامِ تعلیم :معاشرے کی تعمیر میں ہم تعلیم کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں اور اس کی اصلاح کے لیے [ہمارے] مفصل پروگرام کی نمایاں خصوصیات یہ ہیں:
  • ملک میں اس وقت جو کئی کئی تعلیمی نظام رائج ہیں، ان کو بہ تدریج ختم کر کے ایک ہی نظامِ تعلیم رائج کیا جائے گا ، جس میں تعلیم صرف علوم و فنون پڑھانے تک محدود نہ ہوگی، بلکہ ہرشعبے میں لازمی طور پر اخلاقی تربیت بھی شامل ہوگی، تاکہ معاشرے اور ریاست کے لیے خداترس اور فرض شناس کارکن تیار ہوسکیں۔
  •   کم سے کم مدت میں ملک سے ناخواندگی کو دُور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ابتدائی تعلیم لازمی اور مفت اور ثانوی تعلیم مفت کر دی جائے گی، اور تعلیم کو سستا کیا جائے گا، تاکہ کوئی باصلاحیت نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے محروم نہ رہ جائے۔
  •  استادوں کے لیے معقول معاوضے، بہتر شرائط کے ساتھ مقرر کیے جائیں گے۔ ان کی تربیت کے لیے بہتر انتظامات کیے جائیں گے، تاکہ وہ نہ صرف اچھے معلّم ہوں بلکہ شاگردوں کے لیے بھی اخلاق کا اچھا نمونہ بن سکیں۔ اور ان کے تقرر میں ان کی علمی اسناد ہی کا خیال نہیں رکھا جائے گا بلکہ یہ بھی دیکھا جائے گا، کہ وہ اپنے افکار اور سیرت و کردار کے لحاظ سے ہماری نئی نسلوں کو تعلیم دینے کے اہل ہیں۔
  •  تعلیمی اداروں میں آزاد فضا پیدا کی جائے گی اور یونی ورسٹیوں کو قومی تعلیمی پالیسی کے حدود کے اندر پوری طرح خودمختارانہ حیثیت دی جائے گی۔
  •   قومی زبان کو ذریعۂ تعلیم بنایا جائے گا اور عربی زبان ایک لازمی مضمون کی حیثیت سے پڑھائی جائے گی۔
  •  تعلیمی اداروں میں فوجی تربیت کا اہتمام کیا جائے گا، تاکہ نوجوان ملک کے دفاع کے لیے تیار ہوسکیں۔
  •  انتظامیہ کی تربیت: [ہم نے] نظم و نسق کی اصلاح کو بھی خاص اہمیت دی ہے، کیوں کہ ملک کی حالت کو بہتر بنانے کے لیے کوئی اچھے سے اچھا پروگرام بھی کامیاب نہیں ہوسکتا، جب تک اس کو چلانے کے لیے ایک دیانت دار، فرض شناس اور عمدہ اہلیت رکھنے والی انتظامیہ موجود نہ ہو۔ اس مقصد کے لیے جو تدابیر ہم نے تجویز کی ہیں ان میں سے چند نمایاں تدبیریں یہ ہیں:
  •     کوئی سرکاری ملازم جو اپنی جائز مالی حیثیت سے زیادہ بلند معیارِ زندگی اختیار کرے یا جایداد پیدا کرے، اس کا بلاتاخیر محاسبہ کیا جائے۔
  •        ایک ایسا اعلیٰ اختیارات رکھنے والا محکمہ قائم کیا جائے جو سرکاری افسروں کے ظلم اور اختیارات کے بے جا استعمال کی شکایات سنے اور ان کے فوری تدارک کا اہتمام کرے۔
  • جن اداروں میں سرکاری ملازمتوں کے لیے کارکنو ں کی تربیت کی جاتی ہے، ان میں اخلاقی و دینی تربیت لازمی طور پر شامل کی جائے، تاکہ اہلیت کے ساتھ ساتھ حکومت کے افسروں میں دیانت داری اور فرض شناسی پیدا ہو۔
  • نظم و نسق پر کسی ایک سروس کی اجارہ داری قائم نہ رہنے دی جائے اور حکومت کے مخصوص فنی شعبوں کی سربراہی پر انھی شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو مقرر کیا جائے۔

ملک کے معاشی نظام کی اصلاح کے لیے ہمارا پروگرام چار بڑے بڑے عنوانات پر مشتمل ہے: زراعت، صنعت و تجارت، مزدوروں اور کم تنخواہ پانے والے ملازموں کے حقوق اور عام معاشی اصلاحات۔

  •  زرعی اصلاحات: زراعت کے معاملے میں جو اہم اصلاح ہم نے تجویز کی ہے،   وہ یہ ہے کہ: جاگیرداریوں ، خواہ وہ نئی ہوں یا پرانی، ان کو قطعی ختم کر دیا جائے۔ اور جہاں تک ان زرعی املاک کا تعلق ہے جو [انگریزی اقتدار سے] پہلے سے لوگوں کی ملکیت میں چلی آرہی ہیں،  وہ اگر ایک خاص حد سے زائد ہوں تو زائد حصے کو منصفانہ شرح پر خرید لیا جائے۔ یہ حد مغربی پاکستان کے زرخیز علاقوں میں ۱۰۰ اور ۲۰۰؍ایکڑ کے درمیان ہوگی۔ کم پیداواری صلاحیت کی زمینوں کے لیے اسی معیار کے لیے مختلف حدیں مقرر کی جائیں گی۔ اس طریقے سے جو زمینیں حاصل ہوں گی، انھیں غیرمالک کاشت کاروں اور اقتصادی حد سے کم زمین کے مالکوں کے ہاتھ آسان اقساط پر فروخت کر دیا جائے گا اور یہی طریقہ سرکاری املاک اور نئے بیراجوں کے ذریعے سے قابلِ کاشت ہونے والی زمینوں کے معاملے میں بھی اختیار کیا جائے گا۔ ہرممکن کوشش کی جائے گی کہ زیادہ سے زیادہ کسانوں کو گزارے کے قابل زمین حاصل ہوجائے۔

پچھلی ناہمواریوں کو دُور کرنے کے بعد ہم کلیتہً شرعی قوانین پر ہی اعتماد کریں گے کہ ان کے نفاذ کی وجہ سے آیندہ کوئی زمین داری ناجائز یا مشتبہ طریقوں سے پیدا نہ ہوسکے گی۔ اسی طرح جب بٹائی اور ٹھیکے کے بارے میں شرعی احکام کی سختی کے ساتھ پابندی کرائی جائے گی اور تمام ناجائز طریقوں کو بند کر دیا جائے گا تو کوئی زمین داری ظلم کی شکل اختیار نہ کرسکے گی۔

۱۰؍ ایکڑ تک اراضی کے مالکوں کو مال گزاری سے مستثنیٰ کر دیا جائے گا۔ ہمارے نزدیک یہ انصاف نہیں ہے کہ انکم ٹیکس کے معاملے میں تو ایک حد مقرر کر دی جائے اور گزارہ سے زمین   کم رکھنے والوں پر بھی ٹیکس لگا دیا جائے۔ مال گزاری کی تشخیص کے معاملے میں بھی ہم انکم ٹیکس کا  یہ اصول نافذ کرنا چاہتے ہیں کہ کم آمدنی رکھنے والوں پر نسبتاً کم اور زیادہ آمدنی والوں پر نسبتاً زیادہ مالیہ عائد کیا جائے۔

اس امر کا پورا انتظام کیا جائے گا کہ کاشت کاروں کو ان کی پیدا کردہ اجناس کی معقول قیمت ملے اور ان کے حصے کا فائدہ بیچ کے لوگ نہ لے اُڑیں، خصوصاً تجارتی فصلوں کے معاملے میں ہربے جااستحصال کا سدباب کیا جائے گا۔

دیہی علاقوں میں ایسی صنعتوں کو رواج دینے کی کوشش کی جائے گی، جن سے بے روزگاری بھی دُور ہو اور زراعت پیشہ آبادی کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوسکے۔

 صنعت  و تجارت کا فروغ: صنعت و تجارت کے معاملے میں دولت کا جو بے تحاشا ارتکاز ہوا ہے، اس کو توڑنے اور مرتکز شدہ دولت کو پھیلانے اور آیندہ ارتکاز کو روکنے [اور] معاشی زندگی [کو] اس بیماری سے پوری طرح نجات [دلانے کے لیے] چند اہم تجاویز یہ ہیں:

O سود، سٹہ، جوا اور دولت حاصل کرنے کے تمام ان طریقوں کو قانوناً ممنوع قرار دے دیا جائے، جن کو شریعت نے حرام کیا ہے۔ بینکنگ اور انشورنس کے پورے نظام کو اسلامی اداروں کے مطابق تبدیل کیا جائے۔ ناجائز اور حرام طریقوں سے جو دولت چند ہاتھوں میں سمٹ گئی ہے، اس کا سختی کے ساتھ محاسبہ کیا جائے اور اسے واپس لینے کے لیے مناسب قانونی اور انتظامی تدابیر کی جائیں۔ کمپنیوں کی ملکیت میں ایک شخص یا خاندان کے لیے زیادہ سے زیادہ حصوں کی ایک حد مقرر کر دی جائے اور اس سے زائد حصص کو عام فروخت کے لیے کھول دیا جائے۔

O مینیجنگ ایجنسی کا طریقہ بند کر دیا جائے۔ بنکوں ، انشورنس کمپنیوں، بازار حصص اور سرکاری مالیاتی اداروں پر سے سرمایہ داروں کا تسلط ختم کر دیا جائے۔ صنعتوں، اجارہ داریوں اور کاروباری جتھہ بندیوں کو توڑا جائے۔ قرض دینے کی پالیسی تبدیل کی جائے، تاکہ چھوٹے اور نئے سرمایہ کاروں کو بھی قرض مل سکیں۔ بونس اسکیم پر نظرثانی کی جائے اور درآمدی اور برآمدی تجارت کے لیے لائسنسوں کے اجرا کا طریقہ بھی بدلا جائے اور اس امر کا انتظام کیا جائے کہ صنعت کار اور بڑے تاجر ایک معقول حد سے زیادہ منافع نہ کما سکیں۔

Oہم قومی ملکیت کے نظام کو بطورِ اصول اختیار کرنا صحیح نہیں سمجھتے، البتہ جن صنعتوں کو حکومت کے انتظام میں قائم کرنا یا چلانا فی الواقع ضروری ہو، ان کے بارے میں عوام کی نمایندہ اسمبلی اس طریقے پر عمل کرنے کا فیصلہ کرسکتی ہے، اور ایسا کوئی فیصلہ کرتے ہوئے یہ اطمینان کرلینا ضروری ہے کہ ان صنعتوں کا انتظام بیوروکریسی کی معروف خرابیوں کا شکار نہ ہونے پائے۔

O مزدوروں اور ملازمین کے حقوق:مزدوروں اور کم تنخواہ پانے والے ملازمین [کی حالت دیکھیں تو] ملک میں معاوضوں کا فرق اس وقت ایک سو سے بھی زیادہ ہے۔ اسے گھٹاکر ہم ایک اور بیس پر، پھر بتدریج کم کرکے ایک اور دس کی نسبت پر لانا چاہتے ہیں۔ کم سے کم معاوضہ ہمارے نزدیک [اِس وقت] مصارف زندگی کے لحاظ سے ۱۵۰ اور ۲۰۰ کے درمیان ہونا چاہیے اور قیمتوں کے اُتار چڑھائو کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس پر وقتاً فوقتاً نظرثانی ہوتی رہنی چاہیے۔ کم تنخواہ پانے والے ملازمین کو مکان، علاج اور بچوں کی تعلیم کے لیے مناسب سہولتیں ملنی چاہییں اور مزدوروں کو نقد بونس کے علاوہ بونس شیئرز کے ذریعے سے صنعتوں کی ملکیت میں حصہ دار بھی بنایا جانا چاہیے۔ [ہم نے] یہ مقصد بنیادی طور پر پیش نظر رکھا ہے کہ ہماری معیشت میں صنعت کار اور محنت کار کے درمیان طبقاتی نزاع برپا ہونے کے امکانات باقی نہ رہیں اور اس کی جگہ انصاف کے اصولوں پر تعاون کا خوش گوار تعلق قائم ہو۔

O نظامِ زکوٰۃ کا نفاذ: ملک کی عام معاشی حالت کو درست کرنے کے لیے زکوٰۃ کی تنظیم کو ہم نے اپنے پروگرام میں سب سے مقدّم رکھا ہے۔ جس کے ذریعے سے یہ اہتمام کیا جائے گا کہ پورے ملک میں کوئی شخص اپنی زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم نہ رہنے پائے۔ اس فنڈ میں   نہ صرف جمع شدہ رقوم، تجارتی اَموال، زرعی پیداوار اور مویشیوں وغیرہ پر فرض زکوٰۃ وصول کی جائے گی بلکہ عام خیراتی رقوم اور فی سبیل اللہ اعانتیں بھی جمع کی جائیں گی، اور ان سے بوڑھوں، اپاہجوں، معذوروں اور یتیم و غریب بچوں کی کفالت کی جائے گی۔ بے روزگاروں کو روزگار ملنے تک وظائف دیے جائیں گے، غریبوں کا علاج کیا جائے گا۔ ضرورت مند اور مستحق لوگوں کو قرضِ حسنہ دیا جائے گا اور ایسے لوگوں کی مدد کی جائے گی، جو تھوڑے سرمایے سے اپنے پائوں پر کھڑے ہوسکتے ہوں۔

اس کے علاوہ [ہم نے] یہ بھی تجویز کیا ہے کہ بالواسطہ ٹیکسوں کو کم اور بلاواسطہ ٹیکسوں کو بڑھایا جائے گا تاکہ عوام پر سے ٹیکس کا بار کم ہوسکے۔ بیرونی قرضوں اور بیرونی سرمایے پر ملک کے انحصار کو ختم کرنے اور سابق قرضوں سے نجات پانے کی ہرممکن کوشش کی جائے گی۔ سرکاری خزانے کا مال بے جا مصارف پر صرف کرنے کا سدباب کیا جائے گا۔ اور رفاہِ عامہ کے کاموں اور ان تجارتی کاموں سے جو حکومت کے انتظام میں چل رہے ہیں ، بے جا نفع اندوزی کو روک دیا جائے گا۔

Oقومی صحت کے لیے ہمارا پروگرام آٹھ تجاویز پر مشتمل ہے، جن میں: سستی قیمت پر دوائوں کی فراہمی، علاج کے مصارف میں تخفیف، شفاخانوں اور دایہ گھروں کی توسیع، وبائی اور متعدی امراض کی روک تھام، شفاخانوں کے عملے کی اخلاقی اصلاح، غذا اور دوائوں میں آمیزش کا سدباب اور وسیع پیمانے پر حفظانِ صحت کے انتظامات شامل ہیں۔ یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ ملک میں علاج کی سہولتوں کو عام کرنے کے لیے یونانی طب اور ہومیوپیتھی کے شفاخانے سرکاری سطح پر قائم کیے جائیں۔

Oہم نے اسلامی فرقوں کو اس بات کی ضمانت دی ہے کہ انھیں حدودِ قانون کے اندر پوری مذہبی آزادی حاصل ہوگی۔ اپنے پیرووں کو اپنے مذہب کی تعلیم دینے کا پورا حق حاصل ہوگا۔ ان کے شخصی معاملات کے فیصلے ان کی اپنی فقہ کے مطابق کیے جائیں گے، اور وہ اپنے خیالات کی اشاعت آزادی کے ساتھ کرسکیں گے۔

Oغیرمسلم اقلیتوں کو بھی ہم نے اسی طرح تمام شہری اور قانونی حقوق اور مذہب اور عبادت، تہذیب و ثقافت اور پرسنل لا کے تحفظ کی ضمانت دی ہے۔

O[اپنی] خارجہ پالیسی کے اصول و مقاصد بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کر دیے ہیں: ہم ایک مسلمان قوم ہیں۔ دنیا میں ہمارا قومی وصف نمایاں ہونا چاہیے کہ ہم راست باز اور عہدوپیمان کے پابند ہیں۔ حق وانصاف کے حامی اور ظلم و زیادتی کے مخالف ہیں۔ ہم بین الاقوامی امن چاہتے ہیں، مگر بین الاقوامی عدل کے بغیر دنیا میں امن کا قیام ہمارے نزدیک ممکن نہیں ہے۔ سامراجیت اور استعمار خواہ مغربی ہو یا مشرقی، ہماری نگاہ میں یکساں قابلِ مذمت ہے اور ہماری ہمدردی ہمیشہ ان مظلوم قوموں کے ساتھ ہوگی جو اس کی شکار ہوں۔ خصوصاً مسلمان جہاں بھی ظلم و ستم کا نشانہ بن رہے ہیں ہم ان کی لازماً حمایت کریں گے، کیونکہ یہ ہماری انسانیت کا تقاضا بھی ہے اور ہمارے دین کا تقاضا بھی ہے۔

ہم دُنیا کی تمام قوموں کے ساتھ دوستی چاہتے ہیں، مگر کسی ایسی دوستی کے قائل نہیں ہیں، جس سے ہمارے نظریۂ حیات یا ہماری آزادی پر آنچ آتی ہو۔ ہماری خارجہ پالیسی آزاد ہوگی۔  دنیا کی بڑی قوموں کے بلاکوں کی کش مکش سے ہم اپنے ملک کو بالکل الگ رکھیں گے۔ کشمیر اور ہندستانی مسلمانوں کے ساتھ ظلم وہ بنیادی مسائل ہیں، جنھیں انصاف کے ساتھ حل کیے بغیر ہمارے نزدیک پاکستان اور بھارت کے تعلقات درست نہیں ہوسکتے۔ مسلم ممالک کے ساتھ ہم قریب ترین برادرانہ تعلقات رکھنا اور بڑھانا چاہتے ہیں۔ ہماری پوری کوشش یہ ہوگی کہ اپنے مشترک مفادات کے لیے ان کے درمیان گہرا تعاون ہو۔

Oمرکز یا صوبوں میں جہاں بھی جماعت اسلامی کی پارلیمانی پارٹی کو اکثریت حاصل ہوگی، وہ حکومت کی باگ ڈور سنبھال کر ایمان داری کے ساتھ اپنے منشور پر عمل کرنے کی کوشش کرے گی، اور اگر وہ ایسا نہ کرسکے تو حکومت چھوڑ دے گی۔ دوسری کسی پارٹی کے ساتھ مخلوط حکومت وہ صرف اس صورت میں بنائے گی، جب کہ اسے یہ توقع ہو کہ اس حکومت میں اپنے اصول اور مقاصد کے مطابق کام کرنا اس کے لیے ممکن ہوگا۔ بصورتِ دیگر وہ حزبِ اختلاف کی حیثیت سے کام کرے گی۔ لیکن، جماعت اسلامی کبھی اختلاف براے اختلاف کی قائل نہیں رہی ہے۔ حکومت خواہ کسی پارٹی کی ہو، جماعت اس کے صحیح کاموں میں اس کا ساتھ دے گی اور غلط کاموں کی بہرحال مخالفت کرے گی۔

یہ ہے جماعت اسلامی کے منشور کا خلاصہ۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ہم قومی زندگی کے ہرپہلو کی اصلاح کا ایک جامع پروگرام [پیش کر رہے] ہیں۔ کسی ایک پہلو پر ہم نے اتنا زور نہیں دیا ہے کہ دوسرے پہلوئوں کو نظرانداز کر دیا ہو ___ پاکستان پائندہ باد!

(ہفت روزہ آئین، لاہور، اشاعت ِ خاص، نومبر ۱۹۷۰ء، ص ۱۶-۱۹)