جولائی ۱۹۵۷ء میں تیونس کی آزادی کے بعد سے لے کر نومبر ۱۹۸۷ تک حبیب بورقیبہ ملک کے سیاہ و سفید کا مالک رہا۔ اس دوران اپنے مخالفین پر ناقابل بیان مظالم کے پہاڑ توڑنے کے علاوہ، عالم اسلام کے کئی آمروں کی طرح موصوف نے خود اسلام کو بھی مشق ستم بنانے کی کوشش کی۔ فروری ۱۹۶۰ میں محنت کشوں کے ایک اجتماع سے خطاب کے دوران ’فرمایا‘ کہ: ’’ہم ملک میں تعمیر و ترقی کے جہاد اکبر میں مصروف ہیں، اس لیے ہمیں روزہ ترک کردینا چاہیے۔ ہاں، ریٹائرمنٹ کے بعد یا کسی اور مناسب موقعے پر ان روزوں کی قضا ادا کی جاسکتی ہے‘‘۔ بعدازاں تیونس کے مفتی اعظم محمد العزیز جعیط سے اس حکم کے حق میں فتویٰ بھی جاری کروادیا۔ لیکن بات جب تیونس کے جلیل القدر عالم دین الطاہربن عاشور تک پہنچی تو انھوں نے قوم سے ایک مختصر ترین خطاب کیا۔ حمد و صلاۃ کے بعد فرضیت صیام کی قرآنی آیت تلاوت کی اور پھر تین بار فرمایا: صَدَقَ اللہُ وَ کَذَبَ بوُ رقیبہ، اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا اور بورقیبہ نے کہاجھوٹ۔ اس ایک مختصر جملے نے بورقیبہ کا حکم شاہی خاک میں ملادیا۔
روزہ ساقط کرنے کی جسارت ہی نہیں، موصوف نے کئی واضح اسلامی تعلیمات کو بھی بدلنے کی ناکام کوشش کی۔ قرآن کریم میں صراحت کے ساتھ بیان کیے گئے احکام وراثت کو قانوناً تبدیل کرتے ہوئے مرد و عورت کے حصے برابر قرار دے دیے۔ بزعم خود مساوات کا ثبوت دیتے ہوئے بہ امر مجبوری بھی مردوں کی ایک سے زیادہ شادی پر پابندی لگادی۔ حج پر جانے سے منع کرتے ہوئے فتویٰ دیا کہ ’’اس فضول خرچی کی کیا ضرورت ہے۔ تیونس میں ابوزمعہ البلویؓ کی قبر پہ حاضری ہی کافی ہے‘‘۔ ایک روز ترنگ میں آکر کہنے لگا کہ ’’مجھے ذرا سرخ قلم دینا میں قرآن میں موجود اغلاط درست کرنا چاہتا ہوں‘‘۔ پھر اس ظالم شخص کا انجام یہ ہوا کہ ہر نافرمانی میں شریک اپنے ہی وزیراعظم نے اس کا تختہ الٹ کر نظربند کردیا۔ پھر ذرائع ابلاغ پر ایک ڈاکٹری سرٹیفکیٹ کی خبر چلنے لگی کہ ’’طوالت عمر کے باعث دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے‘‘۔ بورقیبہ کا جانشین زین العابدین بن علی بھی اپنے سلف کے نقش قدم پر چلا اور بالآخر جنوری ۲۰۱۱ء میں عوام نے خوف کا بت توڑتے ہوئے اسے بھی ظالم حکمرانوں سے بھرے تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا۔
تیونس اور پھر مصر، لیبیا، یمن اور شام میں شروع ہونے والی تحریک ’عرب بہار‘ کو کس طرح خزاں میں بدلا گیا او رمسلسل بدلا جارہا ہے وہ ایک الگ المناک باب ہے، لیکن اُمت مسلمہ میں ایک بار پھر ’اسلام اکبری‘ کے نفاذ کا بھوت کئی حکمرانوں پر سوار ہے۔ ۱۳ اگست کو تیونس کے حالیہ صدر ۹۱ سالہ الباجی قائد السبسی نے اپنے خطاب میں اعلان کیا کہ وراثت کوئی دینی مسئلہ نہیں، ایک معاشرتی ضرورت ہے۔ آج کی خاتون کو وراثت میں برابر حصہ دینے کا قانون بنایا جائے۔ یہ قانون بھی بنایا جائے کہ مسلم خاتون کو غیر مسلم مرد سے شادی کی اجازت ہے۔ بدقسمتی سے تیونسی دارالافتاء نے بھی اس فرمان کی تائید کردی ہے، اور مصری صدر عبد الفتاح السیسی کے تابع مفتیان اور جامعہ ازہر کے بعض ذمہ داران نے بھی حمایت کردی ہے۔ اب تیونسی صدر نے ایک قانونی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو ۲۰۱۴ء میں منظور ہونے والے دستور کی روشنی میں مزید قانون سازی کرے گی۔ لیکن عوام کی اکثریت نے نہ صرف اس بیان کو مسترد کردیا ہے، بلکہ وہ اس انتظار میں ہیں کہ بورقیبہ کا یہ سابق دست راست کب اپنے پیش رو کے انجام کو پہنچتا ہے۔
روشن خیال ،معتدل، دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ، اور نہ جانے کن کن خوش نما پردوں میں چھپے یہ اقدامات صرف تیونس تک محدود نہیں، پورے عالم اسلام اور ساری دنیا کے مسلمانوں کے لیے یہی ایجنڈا زیر تکمیل ہے۔ آئیے اس پورے کھیل کے پالیسی ساز اور اصل عالمی حکمرانوں کے احکامات کی چند جھلکیاں دیکھیں۔
امریکا میں بحث و تحقیق اور پالیسی سازی کے لیے کے بہت سارے ادارے کام کرتے ہیں۔ برطانوی رسالے اکانومسٹ نے ایک بار لکھا تھا کہ یہ ادارے (Think Tanks) ہی امریکا کی اصل حکومت ہیں۔ اصل سیاسی فیصلے یہی ادارے کرتے ہیں، حکومتوں کا کام صرف ان پر دستخط کرنا ہوتا ہے۔ ’رینڈ کارپوریشن‘ کا نام ان اداروں میں بہت نمایاں ہے۔ اس کا سالانہ بجٹ ۱۵۰ ملین ڈالر (۱۵ کروڑ ڈالر) ہے، جب کہ اس کے بنائے گئے منصوبوں پر عمل درآمد کا بجٹ بعض اوقات اربوں ڈالر تک جاپہنچتا ہے۔ آج سے دس سال پہلے ۲۰۰۷ء میں اس ادارے نے ۲۱۷ صفحات پر مشتمل ایک منصوبہ پیش کیا جس کا عنوان تھا : Building Moderate Muslim Networks ’معتدل مسلمانوں کے نیٹ ورک کی تشکیل‘۔ اس دستاویز کے مطالعے سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ یہ نہ صرف مسلمانوں کو قابو میں لانے کی سفارشات ہیں بلکہ خود اسلام کی جڑیں کاٹنے کی ایک اور جسارت بھی ہے۔ اس دستاویز میں بتایا گیا کہ جس طرح ہم نے سوشل ازم کا مقابلہ کرنے کے لیے خود ان کے اندر سے مختلف گروہ تشکیل دیے تھے، اسی طرح ان تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے اب اسلام اور مسلمانوں کو اپنی ڈھب پہ لایا جائے گا۔ واضح رہے کہ ان سفارشات کا ہدف صرف ’اسلام پسند‘ طبقہ ہی نہیں تمام مسلمان ہیں ۔ کیونکہ اب ہرمسلمان کو ایک امکانی خطرے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ ان سفارشات میں جس طرح کے ’مسلمان‘ بنانے کی تجویز دی گئی ہے ان کی چند نمایاں خصوصیات ملاحظہ کیجیے:
ان سفارشات میں کئی ایسے سوالات بھی درج کیے گئے ہیں جن کے ذریعے یہ امر یقینی ہوسکتا ہے کہ فلاں شخص واقعی مطلوبہ معیار کا ’روشن خیال‘ ہوگیا یا نہیں۔ مثلاً اس سے پوچھا جائے کہ کیا تم ایک مسلمان کو یہ حق دیتے ہو کہ وہ چاہے تو اپنا مذہب تبدیل کرلے؟ پھر اسی سوال کی آڑ میں اسلام میں مرتد کی سزا کو ’ظالمانہ‘ قرار دینے کا پورا ایجنڈا سامنے آجاتا ہے۔ مختلف مسلم ممالک سے مختلف شخصیات کا تعارف کرواتے ہوئے مطلوبہ ’روشن خیال‘ عناصر کی مثالیں بھی دی گئی ہیں۔ یہ امر یقینا اتفاقیہ نہیں کہ ان میں سے اکثر افراد پر یا تو قرآن کریم کے بارے میں تشکیک کا الزام تھا، جیسے مصری نام نہاد دانش ور نصر ابوزید۔ اس کا قرآن کے بارے میں کہنا تھا کہ: Work of Litrature and a Text that should be subjected to Rational and Scholarly Analysis. ’’یہ ایک ادب پارہ اور ایک ایسا متن ہے جس کا عقلی جواز اور دانش ورانہ تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔ یا پھر اس رپورٹ کے ’مثالی روشن خیال‘ ایسے لوگ ہیں کہ جنھوں نے کسی نہ کسی حوالے سے توہینِ رسالت کا ارتکاب کیا تھا۔ اس ضمن میں پاکستان کے ڈاکٹر یونس شیخ کی مثال دی گئی ہے جو ۲۰۰۰ء میں توہین رسالت کے الزام میں گرفتار ہوا اور پھر رہائی پاکر یورپ جاپہنچا۔ یا ایسے افراد ہیں جو اسلام کو صرف ایک معاشرتی یا انفرادی معاملہ قرار دیتے ہوئے دین اور ریاست و حکومت کو جدا جدا رکھنے کا پرچار کرتے ہیں۔ اس ضمن میں ترک رہنما فتح اللہ گولان اور شامی ’روشن خیال اسکالر‘ محمدشحرور کا مفصل ذکر کیا گیا ہے۔ جو یہ کہتے ہیں کہ: چوںکہ ہر انسان اپنے اعمال کا خود جواب دہ ہے، اور دین کسی پر جبر نہیں کرتا، اس لیے ریاست و حکومت کا دین اور اس کی تعلیمات کے نفاذ میں کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہیے۔ ان سفارشات میں ایسے تمام عناصر کو باہم مربوط کرنے کے لیے مختلف عملی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ انھیں مختلف کانفرنسوں اور اجتماعات میں اکٹھے کرنے کا ذکر ہے۔ ذرائع ابلاغ کے ذریعے ان کی تشہیر و تعریف کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ نیز ان کی اخلاقی، سیاسی اور مالی مدد کرنے کا مطالبہ و منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔
دیگر معاملات کے علاوہ مساوات مردوزن کا مسئلہ بھی خاص طور پر زیر بحث لایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ: The Issue of Women's right is a major battle ground in the war of ideas within Islam ’حقوق نسواں کا مسئلہ خود اسلام کے اندر چھیڑی جانے والی فکری جنگ کا ایک مرکزی میدان ہے‘۔ اسی ضمن میں خاتون کے حق وراثت اور ’اپنی مرضی کی ذاتی زندگی‘ گزارنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ وراثت کے بارے میں بات کرتے ہوئے بعینہ وہ دلائل دیے گئے ہیں کہ جو سابقہ و حالیہ تیونسی صدر یا ان کے ہم نواؤں کی زبان سے ادا ہوتے ہیں۔ یعنی یہ کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے زمانے میں حالات کے تقاضے اور ضروریات مختلف تھیں، جب کہ آج کے حالات و ضروریات مختلف ہیں، کہ جب ہر خاتون معاشی زندگی کا فعال حصہ بن چکی ہے۔ نہ جانے ان عالمی پالیسی سازوں کو یہ کیوں معلوم نہیں ہوسکا کہ اس وقت بھی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا جیسی کامیاب تجارت کرنے والی عظیم خاتون موجود تھیں اور آج بھی کسی مسلم خاتون کی تجارت و محنت پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ خالق کائنات کی خواتین پر رحمت تو یہ ہے کہ تب بھی کسی خاتون پر کسی طرح کا مالی و معاشی بوجھ نہیں ڈالا گیا تھا اور آج بھی ایک خاتون کی زندگی کے ہر مرحلے میں اس کے معاشی حقوق اس کے خاندان ہی کے ذمے ہیں۔ یہ تو مغربی تہذیب ہے کہ شوہر اپنی بیگم اور بیٹے اور اپنی ماں تک کی معاشی ذمہ داری اُٹھانے سے انکار کردیتے ہیں۔ مقصد چوں کہ اسلام پر حملہ آور ہونا ہے، اس لیے خواتین پر ظلم جیسے یہ بے بنیاد الزامات مسلسل دہرائے جاتے رہیں گے۔
گذشتہ عرصے میں اس عالمی ایجنڈے اور پروپیگنڈے کی باز گشت اس لیے بھی زیادہ رہی کہ ایک ہی طرح کی بات بیک وقت کئی ممالک سے سنائی دی جانے لگی۔ اس کا ایک اندازہ آپ کو معروف سعودی تجزیہ نگار جمال خاشقجی کے کالم ’سیکولرزم کی دکان‘ سے لیے گئے ان چند جملوں سے ہوسکتا ہے۔ واضح رہے کہ جمال خاشقجی کا تعلق اعلیٰ ترین سرکاری حلقوں سے رہتا ہے۔ ارب پتی سعودی شہزادے ولید بن طلال نے جب اپنا بڑا ٹی وی چینل کھولنے کا ارادہ کیا تھا تو انھیں ہی اس کا سربراہ بنایا تھا۔ سعودی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ اور شاہ فیصل مرحوم کے صاحبزادے ترکی الفیصل نے جب افغانستان اور خطے کے بارے میں کئی قسطوں پر مشتمل اپنے تہلکہ خیز انٹرویو نشر کروائے تو وہ انٹرویو بھی جمال ہی نے کیے۔ اپنے تازہ کالم میں وہ لکھتے ہیں: ’’سیکولرزم کوئی دکان نہیں کہ ہم میں سے کوئی وہاں جائے، سامان کا جائزہ لے اور اپنی مرضی کی ایک دو چیزیں خرید کر باقی سب کچھ وہیں چھوڑ کر آجائے، لیکن ہمارے بعض ساتھی سیکولرزم کو ایسا ہی سمجھتے ہیں۔ ہمارے اخبارات میں اچانک سیکولرزم کے فضائل و محاسن بیان کرنے کا مقابلہ شروع ہوگیا ہے۔ ایسا کرنے والے لوگ سیکولرزم کو ہمارے اس نظام میں شامل کرنا چاہتے ہیں جو اپنے مزاج و ترکیب کے اعتبار سے بالکل مختلف ہے۔ مملکت سعودی عرب اپنے اساسی نظام حکومت کے اعتبار سے ایک اسلامی ریاست ہے۔ اس میں آپ یہ تو کرسکتے ہیں کہ اسلام کی حقیقی تعلیمات کو سمجھنے کی مزید کوشش کریں۔ لیکن اگر آپ اس کے وجود اور بقا و تسلسل کی بنیاد ہی تبدیل کرنا چاہیں تو یہ ایک بہت بڑا خطرہ ہوگا‘‘۔
اس سے پہلے امریکا میں متحدہ عرب امارات کے سفیر یوسف العتیبہ کا ایک امریکی ٹی وی PBS سے انٹرویو بہت مشہور ہوا جس میں اس نے قطر کے ساتھ اختلافات کے سبب بتاتے ہوئے واضح طور پر کہا تھا کہ ’’اگر آپ امارات، سعودیہ، اُردن، مصر اور بحرین سے پوچھیں کہ وہ آج سے دس سال بعد کس طرح کا مشرق وسطیٰ چاہتے ہیں، تو ان کا جواب قطر کے جواب سے بالکل مختلف ہوگا۔ ہم علاقے میں ’سیکولر‘ اور ترقی یافتہ حکومتیں چاہتے ہیں۔ لیکن اگر گذشتہ ۱۵ سال میں قطر کی پالیسیاں دیکھیں تو وہ الاخوان المسلمون، حماس، طالبان، شام کی مسلح تنظیموں اور لیبیا کی مسلح تنظیموں کی مدد کررہا ہے۔ یہ ہماری ان تمام پالیسیوں کے بالکل برعکس ہے جن کے بارے میں ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے خطے کو ان کی طرف بڑھنا چاہیے‘‘۔ اب ایک طرف ان صدارتی فرمانوں، انٹرویووں، ابلاغیاتی جنگوں اور سوشل میڈیا پر ہونے والی لڑائیوں کو دیکھیں اور دوسری جانب امریکی پالیسی ساز اداروں میں ہونے والی بحثوں کو دیکھیں، جن میں مسلم ممالک کے نصاب تعلیم کے بارے میں اظہار تشویش کیا جارہا ہے۔ مثلاً کچھ عرصہ قبل امریکی کانگریس میں ہونے والی بحث کے یہ الفاظ ملاحظہ فرمائیں کہ: ’’سعودی عرب کا اپنے نصاب تعلیم میں سے وہ تمام حصے حذف کرنا کہ جو انتہاپسندی کی تعلیم دیتے ہیں، صرف ایک درست اقدام ہی نہیں، ہماری قومی سلامتی کا جزو ہے۔ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ اس کے بغیر نہیں جیتی جاسکتی۔ گذشتہ مئی میں ہم نے انھیں ایک طویل فہرست ان عبارتوں کی پیش کی ہے، جو انتہا پسندی کی تعلیم دیتی ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ سال ۱۷ -۲۰۱۶ءکی نصابی کتب میں بھی ان تمام اقدامات پر موت کی سزا کی تعلیم دی جارہی ہے جنھیں امریکی قانون شخصی آزادی قرار دیتا ہے۔ مثلاً زنا، اور اسلام کا مذہب ترک کرنا (مرتد ہونا) وغیرہ… اسی طرح یہ کتب مسیحیت اور یہودیت بالخصوص صہیونیت کے خلاف بات کرتی ہیں۔ ان میں لکھا گیا ہے کہ مسیحیت ایک تحریف شدہ دین ہے… ان کتابوں میں ایسی قرآنی آیات پڑھائی جاتی ہیں کہ (اے اہل ایمان یہود و نصاریٰ کو اپنے جگری دوست نہ بناؤ۔ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہیں)۔ ان تمام چیزوں کو نصاب سے خارج کرنا ہوگا‘‘۔
امریکی کانگریس کے ایک اور سیشن میں سعودی خواتین میں تبدیلی کی ضرورت پر براہِ راست بحث کی گئی۔ سوال کیا گیا کہ کیا سعودی عرب میں دینی آزادی اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے پائی جانے والی صورت حال، حقوق انسانی کی صریح خلاف ورزی نہیں ہے؟ کانگریس کمیٹی کے سامنے اس کا جواب دیتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ ٹیلرسن نے کہا: ’’سعودی عرب اور امریکا کی اقدار یقینا مختلف ہیں، لیکن خطے میں امریکی مفادات سعودیہ کو مسلسل اس بات پر اُبھار رہے ہیں کہ وہ ان انسانی حقوق کا احترام کریں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ گذشتہ عرصے میں اس سلسلے میں بہت سارا سفر طے ہوچکا ہے‘‘۔
یہی امریکی وزیر نصابی اور دینی کتب کے بارے میں کہتے ہیں کہ: ’’ریاض کانفرنس کہ جس میں دہشت گردی کے خلاف مرکز قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کے بعد، نئی نصابی کتب تیار کی جارہی ہیں جو تمام مدارس اور دنیا بھر کی مساجد میں بھی عام کی جائیں گی۔ یہ کتب ان پرانی کتابوں کی جگہ لیں گی، جن میں ’متعصب وہابی‘ تعلیمات دی جاتی تھیں اور جن میں تشدد کا جواز فراہم کیا جاتا تھا۔ ہم نے صرف نئی کتب متعارف کروانے کا ہی نہیں، پرانی کتابیں اُٹھالینے کا بھی مطالبہ کیا ہے‘‘۔ وزیر موصوف کا مزید کہنا تھا کہ: ’’یہ تو صرف ایک مثال ہے وگرنہ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ میڈیا او رسوشل میڈیا کے ذریعے بات کیسے پھیلانا ہے؟ نوجوان ائمہ مساجد کو کیسے اور کیا تربیت دینا ہے؟ یہ وہ تمام اُمور ہیں جو امریکی وزارت خارجہ سعودی عرب اور دیگر مسلم ممالک کے ذریعے انجام دے رہی ہے اور جس پر ہم خود کو جواب دہ سمجھتے ہیں‘‘۔
ایک طرف ان تمام عالمی منصوبوں، سازشوں اور ان پر عمل درآمد کو دیکھیں اور دوسری طرف اپنی غفلت کی جانب نگاہ دوڑائیں کہ ہم اپنی تباہی سامنے دیکھ کر بھی اس سے بچنے کی کوئی فکر نہیں کررہے۔ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن جو دام بچھانا چاہتے ہیں ہم خود آگے بڑھ کر اس کا کام آسان کرنے لگ جاتے ہیں۔ تاہم، ایک ابدی حقیقت جو اپنوں پرایوں سب کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی ہیں۔ قرآن کریم آخری کتاب ہے اور قرآن و سنت پر مبنی دین حنیف نہ صرف قیامت تک ہر تحریف و ہزیمت سے پاک رہنا ہے بلکہ اسے بہرصورت غالب ہوکر رہنا ہے۔ آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں: ’’عزت مندوں کی عزت میں اضافہ کرتے ہوئے اور ذلیلوں کو مزید ذلیل کرتے ہوئے‘‘۔
ہر سال ۴ستمبر پوری دنیا میں ’عالمی یوم حجاب‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کا انعقاد فرانس میں حجاب پر پابندی کے بعد لندن میں ۲۰۰۴ء میں ایک کانفرنس کے موقعے پر عالم اسلام کے ممتاز رہنمائوں نے طے کیا تھا، جس کی قیادت علامہ یوسف القرضاوی کرر ہے تھے۔
اس کا پس منظر یہ ہے کہ نائن الیون کے بعد اسلام اور مسلمانوں کے مذہبی شعائر کے خلاف مغربی میڈیا کا تعصب بڑھتا ہی جارہا ہے۔ حجاب کے خلاف کہیں پارلیمنٹ میں قانون سازی ہورہی ہے تو کہیں جرمانے عائد کیے جارہے ہیں۔ ان شعائر کو جو اسلامی تہذیب کی علامات ہیں: انتہا پسندی، قدامت پرستی اور دہشت گردی سے جوڑا جارہا ہے۔ فرانس، ہالینڈ، ڈنمارک، بلجیم اور اٹلی حجاب پر پابندی عائد کرچکے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل سابق فرانسیسی وزیر برنر سٹازے کی زیرصدارت کمیٹی نے تمام سرکاری اداروں میں حجاب پر پابندی لگاتے ہوئے کہا: ’’ہم کوئی بھی دینی علامت لے کر تعلیمی اداروں میں آنے کی اجازت نہیں دے سکتے چاہے وہ حجاب ہو یا صلیب کا نشان ہو یایہودی ٹوپی ’کیپا‘‘‘، جب کہ مسلم ملک تیونس کے صدر نے برملا کہا کہ ’’حجاب میں جارحیت کی جھلک دکھائی دیتی ہے‘‘۔
مشاہدے کی بات ہے کہ سیکورٹی فورسز کا ایک ملازم یہ چاہتا ہے کہ اس کے لباس سے لوگ اندازہ کرلیں کہ وہ قانون کا محافظ ہے، ایک عیسائی نن کے لباس یا ڈاکٹر کے سفید کوٹ سے لوگ ان کے کردار کی شناخت کرلیں۔ بالکل اسی طرح ایک مسلمان عورت کاساتر لباس یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ چاہتی ہے کہ لوگ اس کے ساتھ احترام کے ساتھ پیش آئیں، تو پھر یہ حجاب ان کی نظر میں تشدد کی علامت کیسے ہوگیا؟
ایک اور ظلم یہ کہ آزادیِ افکار کا راگ الاپنے والے معاشرے مسلمانوں کو حجاب کے حوالے سے اپنا موقف پیش کرنے کی اجازت بھی نہیں دیتے۔ جب بھی حجاب کی وجہ سے مسلمانوں سے امتیازی سلوک کی شکایت کی جاتی ہے، تو جواب میں ایک ایسا پروپیگنڈا شروع کردیا جاتا ہے کہ جس میں دنیا کے سارے جرائم اور تشدد کو مسلمانوں سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ خود کو انسانی حقوق کا چیمپئن گرداننے والے یہ مغربی انتہاپسند، مسلمان عورت کو گز بھر کپڑا سر پر رکھنے کی اجازت دینے کو تیار نہیں، جب کہ حجاب صرف عورتوں ہی کی ضرورت نہیں بلکہ معاشرے کو بھی پاکیزہ بناتا ہے۔ جس طرح عریانی اور فحاشی کے معاشرے پر اثرات ہوتے ہیں اس طرح حجاب کے بھی معاشرے پر گہرے مثبت اثرات ہوتے ہیں۔ لیکن چاہے حجاب ہو یا داڑھی، ان کو بلاجواز متنازعہ بناکر ان پر پابندیاں لگائی اور طعن وتشنیع کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں باحجاب طالبات کی تضحیک کی جاتی ہے اور ان کے اسکارف اتروائے جاتے ہیں۔ مغربی ممالک میں رہنے والے مسلمان ان متعصب رویوں اور امتیازی قوانین کی وجہ سے بہت سے مسائل سے دوچار ہیں۔
ہمیں اس چیلنج کو سمجھنا ہوگا کہ مسلمان خاندان اور ان کے اسلامی شعائر، سامراج کی نظروں میں کھٹکتے ہیں اور دنیا بھر میں استحصالی قوتیں مسلمان عورت کے اس بنیادی حق کو سیکولر ازم کے بالمقابل دہشت گردی کی علامت کے طور پر پیش کررہی ہیں۔ باحجاب مسلمان عورت، مغرب یا مغرب زدہ لوگوں کی نظر میں ’پس ماندہ اور فرسودہ‘ ہے، جب کہ اس کے برعکس یہی مسلمان عورت حجاب میں خود کو زیادہ محفوظ اور باوقار محسوس کرتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان عورت کو حجاب نے کبھی صحت مند معاشرتی کردار ادا کرنے سے نہیں روکا۔
oحجاب، عورت کو تقدس ہی نہیں تحفظ بھی عطا کرتا ہے۔ یہ شیطان اور اس کے حواریوں کی ناپاک نظروں سے بچنے کے لیے ایک محفوظ قلعہ ہے۔
oجب عورت پردہ اتار دیتی ہے تو اس کی مثال فوج کے اس سپاہی جیسی ہوتی ہے، جو میدان جنگ میں اپنے ہتھیار پھینک دے اور خود کو دشمن کے حوالے کردے۔ کیوں کہ پردہ مسلمان عورت کی ڈھال ہے۔
oایک مسلمان عورت کے لیے یہ ایمان کے بعد خوب صورت ترین تحفہ ہے، جو معاشرے سے بے حیائی کی جڑ کاٹ کر اس کی نسلوں کو پاکیزہ ماحول مہیا کرتا ہے۔
oحجاب، عورت کو ظاہری نمود ونمایش اور غیر ضروری اخراجات سے روکتا ہے اور سادگی سکھاتا ہے۔
oشرم وحیا، عورت کا سب سے بڑا زیور ہے اور اس قیمتی زیور کی حفاظت پردے کے بغیر ممکن نہیں۔
oایک باحجاب عورت بلاضرورت گھر سے باہر نکلنے سے گریز کرتی ہے۔ اس طرح وہ اپنے گھریلو فرائض کے لیے زیادہ وقت نکال سکتی ہے۔ یہی وہ عمل ہے جس کو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کا جہاد کہا ہے۔
oایک باحجاب عورت خود کو محفوظ سمجھتی ہے، اور اسے معاشرے میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
oوہ ماحول کی آلودگی اور موسم کی شدتوں سے دیگر خواتین کی بہ نسبت زیادہ محفوظ ہوتی ہے۔
oایسی عورتوں پر لعنت کی گئی ہے جو لباس پہن کر بھی ننگی رہتی ہیں اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق وہ جنت کی خوشبو تک نہ پاسکیں گی۔
بتولےؓ باش و پنہاں شو ازیں عصر
کہ در آغوش شبیرےؓ بگیری
[ارمغانِ حجاز]
سیّدہ فاطمۃ الزہرا [بتول] بن جائو، اور اس زمانے کی نظروں سے چھپ جائو کہ تمھاری گود میں ایک شبیرؓ پرورش پاسکے۔
ان کے خیال میں اللہ تعالیٰ کو یہ حجاب اور پردے کی صفت اتنی محبوب ہے کہ ہر تخلیق کرنے والی ہستی کو اپنی طرح حجاب میں رہنے کا پابند بناتا ہے، تاکہ وہ اپنی تخلیق کی بہتر حفاظت اور پرورش کرسکے۔ چنانچہ ایک شعر میں فرماتے ہیں ؎
حفظِ ہر نقش آفریں از خلوت است
خاتمِ اُورانگین از خلوت است
[جاوید نامہ]
ہر نقش آفریں کی حفاظت خلوت سے ہے، اورخلوت ہی اس کی انگوٹھی کا نگینہ ہے۔
مراد یہ ہے کہ آفاق کے سارے ہنگامے پر نظر ڈالو۔ تخلیق کرنے والی ہستی کو جلوت کے ہنگاموں کی تکلیف نہ دو۔ اس لیے کہ ہر تخلیق کی حفاظت کے لیے خلوت کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے صدف کا موتی خلوت میں جنم لیتا ہے۔
پھر فرماتے ہیں[ارمغانِ حجاز] :
بہل اے دخترک ایں دلبری ہا
مسلماں را نہ زیبدکافری ہا
منہ دل بر جمالِ غازہ پرورد
بیاموز از نگہ غارت گری ہا
اے میری پیاری بیٹی، دلبری (آرایش وزیبایش) کے انداز چھوڑ دو کہ مسلمانوں کو یہ کافرانہ ادائیں زیب نہیں دیتیں ۔(یعنی، اس مصنوعی آرایش وغازے کی سرخی کو چھوڑ کر کردار کی طاقت سے دلوں کو مسخر کرنا سیکھو)۔
ایک ایسے وقت میں، جب کہ اقبال کی شاعری کو بطور فیشن ہر مقرر اپنی تقریر کی زینت بنارہا ہے ہمیں اُن کی شاعری کے اصل پیغام کو سمجھنا اور اُس پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔
ہمیں کیا کرنا ہے؟
oہمیں مغرب کے منافقانہ طرز عمل کے خلاف ہر سطح پر آواز اٹھانا چاہیے اور دنیا بھر میں پردے اور حجاب کی بنیاد پر امتیازی سلوک یا تعصب کا نشانہ بننے والی خواتین کے ساتھ اظہار یک جہتی کرنا چاہیے۔
oمیڈیا اور کاروباری ادارے جس طرح عورت کی خوب صورتی کو تجارتی اور گھٹیاتشہیری مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں، یہ عورت کی توہین ہے۔ خود خواتین کی جانب سے اس کی مذمت اور مخالفت کی جانی چاہیے۔
oمعاشرے میں حیا کے چلن کے فروغ کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے، جس کے لیے قرآن وسنت دونوں اصناف (مردوں اور عورتوں) کو واضح ہدایات دیتے ہیں۔
oمعاشرے میں عورت کے اس تحفظ اور احترام کو یقینی بنانا چاہیے، جس کی بنیاد پر ہم اسلام اور مسلمانوں کو مغرب سے بہتر سمجھتے ہیں اور اس برتری کو ثابت بھی کرتے ہیں۔
oمغربی اور بھارتی فلمی کلچر کے اثرات کے باعث عورتوں کو عریانیت کی طرف لانے والے عوامل کی اصلاح کرنی چاہیے۔
oیہ بتانا چاہیے کہ حجاب نہ صرف دل اور آنکھ کا ہے اور نہ صرف اُوڑھے ہوئے برقعے، چادر یا اسکارف کا، بلکہ آنکھ اور دل بھی ان کے ہم رکاب ہونے چاہییں۔
m ۴ستمبر یوم حجاب کے طور پر منایا جاتا ہے [یہ دن تو ایک علامت ہے، وگرنہ ایک مسلمان کے لیے ہر روز، ’یومِ حجاب‘ ہے]۔اس موقعے پر ہم اس بات کا عزم کریں کہ حجاب محض سر لپیٹنے کا نام نہیں ہے بلکہ ہمیں اپنے پورے معاشرے کو شیطان اور اس کے چیلوں سے آزادی دلانی ہے۔ یہ نظام شیطانی اخلاق سے آزادی حاصل کرنے اور اپنے معاشرے اور اپنے خاندان کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرنے کا نظام ہے۔
oحجاب ایک تحریک ہے، چادر بتولؓ اور یادگارِ فاطمہؓ و عائشہؓ ہے۔ بس یہی ایک ذریعہ ہے جس سے ہم اپنے معاشرے اور مستقبل کا تحفظ کرسکتے ہیں اور اپنے پیچھے ایک پاکیزہ نسلِ انسانی کو چھوڑ کر جاسکتے ہیں۔
oاپنے بہترین خاندانی نظام اور اقدار کی حفاظت وقدردانی کریں اور اپنی نسلوں کی تربیت قرآن وسنت کی روشنی میں کریں تاکہ حیا کا کلچر پروان چڑھے۔
عورت ہی تہذیب کی عمارت کا ستون ہے۔ وہ مایوسیوں میں اُمید کے چراغ کو روشن کرتی ہے۔ اپنے خون جگر سے ایک بے جان لوتھڑے کو انسان بناتی ہے۔ وہ ایک روشن مشعل کی طرح اندھیروں سے لڑبھڑ جانے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ کبھی نہ بجھنے والے چراغ کی مانند نسلِ نو کی رہنمائی کرتی ہے۔ اُس کی پکار ہمیشہ محبت کی پکار ہوتی ہے۔ اُس کی صدا زندگی کا پیام بن کر صدیوں سے راہیں منور کررہی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اُس کی ردا اُسے لوٹانے میں اپنا حصہ ڈالیں۔
کسی قوم، معاشرے یا اجتماعیت پر اللہ تعالیٰ کا یہ فضل و احسان ہوتا ہے کہ اس میں اصحابِ علم و دانش کی فراوانی ہوتی ہے اور ارباب تدبر و تفکر کا وجود پایا جاتا ہے۔ لیکن اگر کسی اجتماعیت میں یہ جنس گراں مایہ کم ہو یا موجود ہی نہ ہو، تو سمجھ لیجیے کہ اس کی اُلٹی گنتی شروع ہوچکی ہے، چاہے ظاہربین نظریں اس کی شان و شوکت، ہائوہو اور کثرتِ تعداد سے کتنا ہی دھوکا کھا بیٹھیں۔
مسلم اُمہ کے لیے عام طور پر اور اسلامی تحریک ِ احیاے اسلام کے لیے خاص طور پر ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری ایسی ہی سرمایۂ ملّت ہستی تھی۔ ایک صاحب ِ علم و فضل اور تحریک ِ پاکستان سے وابستہ عظیم شخصیت مولانا ظفراحمد انصاری صاحب کے ہاں پیدا ہوئے۔ لڑکپن میں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان سے وابستہ ہوئے، اور اس تنظیم کی علمی، فکری اور تہذیبی تشکیل کا بنیادی کردار ادا کرنے والی سہ رکنی ٹیم (دو ارکان خرم مراد اور خورشیداحمد) میں کارہاے نمایاں انجام دیے۔ جمعیت کا انگریزی ترجمان Student's Voice درحقیقت خورشیداحمد صاحب اور ظفرصاحب کی رفاقت کا چشمۂ فیض تھا۔ اسی عرصے میں جناب خرم مراد، جمعیت کے ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے تو جمعیت کے دستور کی تدوین و تشکیل کا بنیادی کام بڑی جاں کاہی کے ساتھ اسی سہ رکنی ٹیم نے انجام دیا۔
ظفراسحاق تعلیم مکمل کرکے تدریس اور تحقیق سے وابستہ ہوئے۔ گیارہ برس کراچی یونی ورسٹی میں پڑھایا، ڈاکٹریٹ کے لیے میک گل یونی ورسٹی کینیڈا گئے اور پھر تدریس و تحقیق کے لیے بیرونِ ملک بھی خدمات انجام دیں۔ دل و جان، فکروخیال اور مال و حال کی دولت لیے زندگی کی آخری ساعت تک تحریک ِ اسلامی کا حصہ بنے رہے۔ تاہم، اس مقصد کے لیے انھوں نے اپنا میدانِ کار، جلسہ اور جلوس کے بجاے تعلیم، تربیت، تحقیق اور رابطے کو اپنی توجہات کا مرکز بنایا اور پوری زندگی اسی مورچے پر ڈٹے رہے اور اسی عالم میں ۲۴؍اپریل ۲۰۱۶ء کو رحلت فرمائی، انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔
ماہ نامہ تعمیرافکار، کراچی کے مدیر جناب سیّد عزیز الرحمٰن شکریے کے مستحق ہیں کہ انھوں نے قارئین کو ایسی دل کش، علم پرور او ر تہذیب و شائستگی سے مملو شخصیت سے متعارف کرانے کے لیے یہ اشاعت ِ خاص پیش کی ہے۔ وہ آغاز میں لکھتے ہیں: ’’یہ اشاعت دراصل ڈاکٹر صاحب کو ایک طالب علمانہ خراجِ عقیدت ہے، اور بس۔ گزرنے والوں کو یاد رکھنا اور بھول جانے والوں کو ان گزرے ہوئوں کی یاد دلاتے رہنا… اور کسی اِدعا کے بغیر یہ خدمت انجام دینا، اس اشاعت [کا مقصد] ہے… حضرت ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات کا دائرہ وسیع بھی تھا اور متنوع بھی۔ ہم اس کا احاطہ تو کیا، سرسری تذکرہ بھی نہیں کرسکے۔ یہ صرف ابتدائی نوعیت کا یادنامہ ہے‘‘(ص۹)۔ ہمارے خیال میں یہ سرسری تذکرہ نہیں بلکہ بے قدری اور مردم ناشناسی کے سنگین ماحول میں، ایک بھرپور خراجِ عقیدت ہے، جس پر جناب عزیز الرحمٰن مبارک باد کے مستحق ہیں۔
یہ خصوصی شمارہ جناب ظفر اسحاق انصاریؒ کی یاد میں مطبوعہ اور کچھ غیرمطبوعہ مضامین کے علاوہ ان کی چند تحریروں، کچھ دیباچوں اور خطوط پر مشتمل ہے۔ مشمولہ مضامین کی خوشبو کا رچائو، شخصی خوبیوں کے اعتراف کا بہائو اور ایک رشکِ دوراں شخصیت کی اُلفت، قاری کے ہم رکاب ہوتی ہے۔ ان احوال و آثار پر مشتمل ۲۸مضامین میں سے چند اقتباسات مطالعے کے لیے حاضر ہیں:
ظفرصاحب کے ۶۷ برس کے رفیق لبیب، پروفیسر خورشید احمد کہتے ہیں: ’’راجا بھائی [ظفراسحاق] اور خرم بھائی، تحریکِ اسلامی میں میرے پیش رو ہی نہیں بلکہ راستہ دکھانے والے بھی تھے۔خرم بھائی کو قرآن سے عشق تھا اور راجا بھائی سیاست اور اجتماعی علوم پر گہری نظر رکھتے تھے۔ جب وہ بی اے کے طالب علم تھے، اس وقت کراچی کے ایک روزنامے کی عملاً ادارت کے فرائض انجام دیتے تھے‘‘ (ص ۴۸)۔ ڈاکٹرسیّد سلمان ندوی نے بتایا ہے: ’’وہ مجلسی آدمی نہیں تھے، لیکن علمی راے پیش کرنے اور مدلل گفتگو کا عمدہ سلیقہ رکھتے تھے۔ انھوں نے تفہیم القرآن کا انگریزی ترجمہ کیا… [جو] قرآنِ کریم کے چند بہترین انگریزی ترجموں میں سے ایک ہے‘‘ (ص ۳۹، ۴۰)۔ پروفیسر خورشید احمد کے بقول: ’’مولانا مودودی نے ترجمۂ قرآن، اُردوے مبین میں کیا تھا، اور ظفراسحاق نے اسے انگریزیِ مبین میں ڈھال دیا، جو ایک سدابہار یادگاری کارنامہ ہے‘‘۔ (ص ۵۱)
طبعی طور پر: ’’[ظفرصاحب] ان چند افراد میں سے ایک تھے، جو اکثر و بیش تر وقت، کسی گہری سوچ بچار اور اسے احاطۂ تحریر میں لانے میں صرف فرماتے ہیں اور دنیا سے چلے جانے کے بعد اپنا سرمایۂ تحریر، صدقۂ جاریہ کے طور پر چھوڑ جاتے ہیں‘‘ (ڈاکٹر حافظ افتخار احمد،ص ۲۵)۔ ایک کرم فرما کہتے ہیں: ’’ان کی دل چسپی صرف فقہی احکام تک محدود نہیں تھی، وہ دین کے تمام بنیادی تصورات کو قرآنی تعلیمات کی روشنی میں سمجھنا چاہتے تھے‘‘ (ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی، ص ۷۲)۔ سچی بات یہ ہے کہ: ’’انصاری صاحب کا شمار اہلِ علم کے قبیلے کے ان معدودے چند افراد میں ہوتا ہے، جو جدید مغربی علوم اور افکار و علومِ اسلامی دونوں پر یکساں دسترس رکھتے ہیں‘‘ (احمد حاطب صدیقی، ص ۱۴۸)۔ اسی طرح مفتی محمد زاہد بیان کرتے ہیں: ’’ان کے انہماکِ علمی کا اندازہ تو ان کے علمی و تحقیقی کام کی وسعت اور گہرائی سے لگایا جاسکتا ہے… ایک طرف تو علم و تحقیق میں فنائیت کی حدتک پہنچا ہوا یہ انہماک، دوسری طرف ملنساری اور خوش خلقی ایسی کہ اس علمی انہماک نے خشکی نام کی کوئی چیز ان [کے مزاج] میں پیدا نہیں ہونے دی‘‘ (ص ۸۳)۔ پھر یہ کہ: ’’وہ زندگی کے آخری لمحات تک علمی کام کرتے اور دوسروں کو علمی کام پر [لگاتے] رہے۔ شدید بیماری کے زمانے میں بھی انھوں نے علمی کام مکمل کیے‘‘۔ (علی طارق، ص ۱۵۹)
کتب کی ترتیب و تدوین میں انھوں نے زندگی کا بڑا حصہ صرف کر دیا، یعنی دوسروں کی تحریروں کے معیار کو بلند تر بنانے کے لیے انتہا درجے تک محویت اور لگن کی راہ اپنائی۔ نصیراحمد سلیمی بتاتے ہیں: ’’کتب کی ایڈیٹنگ میں ان جیسی محنت کرنے والا خوش ذوق شاید ہی کوئی ہوگا۔ وہ ایک کتاب کے مسودے پر اتنی بار نظرثانی کرتے کہ اصل متن نظروں سے اوجھل ہوجاتا۔ ان کی ایڈیٹنگ کے ساتھ چھپنے والی کتب پر مختلف مصنّفین کے نام لکھے ہیں، لیکن حقیقت میں مصنّف کہلانے کے حق دار انصاری صاحب ہی تھے‘‘۔ (ص ۱۰۸)
خود میرا بھی ایک تجربہ ہے۔ یہ ۱۹۷۷ء کی بات ہے۔ میں نے ذاتی شوق کے تحت جمعیت کے ناظم اعلیٰ عبدالملک مجاہد صاحب سے اجازت لی، اور اسلامی جمعیت طلبہ کے دستور کا انگریزی ترجمہ کرنے کے لیے پروفیسر عبدالحمد صدیقی صاحب سے درخواست کی۔ انھوں نے علالت کے باعث انگریزی کے ایک پروفیسر صاحب کو یہ کام سونپ دیا۔ جوں ہی ترجمہ ہاتھ میں آیا،تو میں نے زندگی میں پہلی بار تخاطب کا اعزاز حاصل کرتے ہوئے ازراہِ احتیاط وہ ترجمہ انصاری صاحب کو سعودی عرب بھیج دیا۔ پھر کیا تھا، جناب! انھوں نے مذکورہ ترجمے کی ایک ایک سطر ادھیڑ کر رکھ دی۔ سارا ترجمہ جگہ جگہ سے تبدیل کر کے واپس بھیجا۔ میں نے کمپوز کرایا تو خط آیا: ’’جوں ہی پروف نکلیں دوبارہ بھیجیں‘‘۔ ایک بار بھیجا اور پھر دوبارہ، سہ بارہ بھیجا، قصّہ کوتاہ ڈیڑھ سال میں آٹھ پروف انھوں نے ٹھیک کرکر کے واپس بھیجے۔ شائع ہونے کے بعد اپنی دل چسپی کے لیے میںنے بنیادی مسودے کے ساتھ موازنہ کیا تو سواے دفعات کی گنتی اور جمعیت کے نام کے، ہر چیز تبدیل تھی۔ یہ محنت، یہ توجہ، یہ جز رسی اور ایسی ذمہ داری کہ مثال پیش کرنا ممکن نہیں۔
تہذیبی ترفع ظفرصاحب کی شخصیت کا امتیازی پہلو تھا: ’’سلام میں پہل، مسکرا کر ملنا، محبت سے مصافحہ اور تمام متعلقین کے حال اَحوال دریافت کرنا ان کی مخصوص عادتیں تھیں…ایک مرتبہ جب وہ بہ طور صدرِ جامعہ (بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی) فرائض انجام دے رہے تھے، اطلاع ملی کہ طلبہ کے احتجاجی جلوس میں مخلوط ماحول دیکھنے میں آیا ہے۔ جس کا انھوں نے فوری نوٹس لیا اور سختی سے ہدایت کی کہ آیندہ اس قسم کا ماحول جامعہ میں برداشت نہیں کیا جائے گا‘‘ (ڈاکٹر سہیل حسن، ص۷۹)۔ اور یہ کہ: ’’ڈاکٹر صاحب بلاشبہہ ایسے خوش نصیبوں میں سے تھے، جو حق کو دائرۂ شعور کا زندہ مرکز بنا لیتے ہیں اور خیر کو دائرۂ وجود کا… بارہا دیکھا کہ کسی نے منہ پر ان کی تعریف کرنے کی کوشش کی تو انھوں نے ابتدائی فقرہ بھی پورا نہ ہونے دیا۔اپنی مدح سننے سے گریز کا یہ عمل رسمی عاجزی کے ساتھ نہیں، بلکہ بے تکلفی اور قدرے ناگواری کے ساتھ ہوا کرتا تھا‘‘ (احمد جاوید، ص ۴۴)۔ پھر یہ کہ: ’’ایک بہترین انسان اور تحقیق و تعلیم میں ہمہ تن مشغول رہنے والی شخصیت تھے، جو کسی طبعی علالت کو علمی و تحقیقی کام میں سنگِ گراں نہیں بننے دیتے تھے‘‘۔ (ڈاکٹر جمیلہ شوکت، ص ۹۱)
طبیعت میں ایسی انسان پروری، شگفتگی اور دل آویزی کہ: ’’یوں ہی خیال آتا ہے کہ اگر مولانا مودودی صاحب کے پیش کردہ نظریا ت کے نتیجے میں [ظفراسحاق] انصاری صاحب جیسے لوگ پیدا ہونے لگیں، تو ہم جیسے [تصوف کے طرف دار] لوگ اسی پر مطمئن ہوجائیں، کیوںکہ تصوف کا منشا بھی تو یہی ہے کہ ایسا معاشرہ قائم ہو، جس میں انسان انسان کی ڈھال بنے، اس کے لیے تلوار نہ بن جائے‘‘۔ (ڈاکٹر نجیبہ عارف، ص ۱۱۹)
قرآنِ عظیم سے محبت اور سیرتِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے شیفتگی کے مظاہر ان کی زندگی میں کئی حوالوں سے سامنے آتے ہیں: ’’ڈاکٹر صاحب انتہائی رقیق القلب تھے۔ میں نے خود دیکھا جب ایک محفل میں نعت ِ رسولؐ پڑھی جارہی تھی اور آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے‘‘ (ڈاکٹر ضیاء الدین رحمانی، ص ۱۴۶)۔ ڈاکٹر صاحبزادہ ساجد الرحمٰن لکھتے ہیں: ’’نعتیہ اشعار سناتے وقت ان کی آنکھوں میں تیرتے آنسو، سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے والہانہ عشق کے غماز ہوا کرتے تھے۔ گاہے کوئی پسندیدہ شعر سنانے کو جی چاہتا تو دفتر بلواتے اور محبت سے سناتے۔ ایک مرتبہ آسی جونپوری کا ایک شعر رندھی ہوئی آواز میں سنایا ؎
وہاں پہنچ کے یہ کہنا صبا سلام کے بعد
تیرے نام کی رَٹ ہے ، خدا کے نام کے بعد
ایک مرتبہ طلب فرمایا اور ماہرالقادری کا یہ شعر سنایا:
تاروں سے یہ کہہ دو کوچ کریں، خورشید منور آتے ہیں
قوموں کے پیمبر آ تو چکے، اب سب کے پیمبر آتے ہیں
(ص ۶۷)
وہ ایک بہترین مترجم، شان دار مصنّف،اعلیٰ پاے کے دانش ور، شفیق استاد اور نجیب الطرفین انسان تھے۔ کارِ تحقیق اور اشاعت ِ دین ہی کے جذبے نے انھیں اُردو کے علاوہ عربی، فارسی، انگریزی، جرمن اور فرانسیسی زبانوں پر دسترس کے حصول پہ اُبھارا۔ان کی وفات پر جناب مجیب الرحمٰن شامی نے دُکھ کا اظہار اس آہ کی صورت میں کیا: ’’ڈاکٹر ظفراسحاق انصاری رخصت ہوئے تو اربابِ صحافت اور سیاست کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی۔ کسی نے ایک کان سے سنا بھی، تو دوسرے سے اُڑا دیا۔ نہ صدر مملکت کا کوئی بیان نظر سے گزرا، نہ وزیراعظم کی توجہ ہوئی، اور سراج صاحب بھی لاتعلق نظر آئے… شوروغوغا کو زندگی سمجھ لینے والے معاشرے بالآخر کہاں پہنچ جاتے ہیں، یہ جانے والے کے لیے نہیں، یہاں رہ جانے والوں کے لیے سوچنے کا مقام ہے‘‘۔ (ص ۹۶)
اس مختصر تبصراتی مضمون میں اسی قدر ذکرِ یار ممکن ہے، جب کہ راہروانِ عشق، اس داستانِ لذیذ کو مذکورہ اشاعت کے مطالعے ہی سے آویزئہ گوش بنا سکتے ہیں۔ [اشاعت ِ خاص، ماہ نامہ تعمیرافکار، کراچی]، مدیر:سیّد عزیز الرحمٰن۔ ناشر: زوّار اکیڈمی پبلی کیشنز ۔ فون: ۳۶۶۸۴۷۹۰- ۰۲۱۔ صفحات: ۳۰۴۔ قیمت: ۴۵۰ روپے۔
سیرتِ طیبہؐ کے مختلف پہلوئوں اور گوشوں پر بیسیوں بلکہ سیکڑوں کتابیں اور مقالات لکھے جاچکے ہیں لیکن قرآنِ حکیم کی روشنی میں سیرتِ پاکؐ پر کم ہی قلم اُٹھایاگیا ہے۔ ایک صدی پہلے مولانا ابوالکلام آزاد نے لکھا تھا: ’’آج تک کبھی اس کی کوشش نہیں کی گئی کہ صرف قرآنِ حکیم میں دائرہ استناد و اخذ محدود رکھ کر ایک کتاب سیرت میں مرتب کی جائے‘‘۔ مولانا آزاد نے مولانا شبلی کو بھی اس طرف متوجہ کیا تھا۔ ۲۰۱۰ء میں دارالمصنّفین اعظم گڑھ میں منعقدہ سیمی نار بہ عنوان ’مصادرِ سیرت‘ میں مولانا محمد عمر اسلم اصلاحی نے اپنے لیے موضوع ’’سیرتِ رسولؐ کا اہم ترین ماخذ قرآنِ مجید‘‘ منتخب کیا۔ زیرنظر کتاب اسی مقالے کی توسیع ہے۔
فاضل مصنّف کہتے ہیں کہ قرآنِ حکیم سیرتِ رسولؐ کا سب سے اہم، بنیادی، معتبر اور مستند ماخذ ہے۔ کتاب کے پہلے حصے میں ۲۴ عنوانات کے تحت سیرتِ پاکؐ کے مختلف پہلو نمایاں کیے گئے ہیں۔ ہر عنوان میں اوّلاً ایک مختصر سی ’تمہید‘ ہے۔ بعدہٗ قرآنِ حکیم کی متعلقہ آیات اور ان کا اُردو ترجمہ، پھر اس کی وضاحت۔ اسی طرح دوسرے حصے میں دعوت کے ۱۸ پہلوئوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
ہمارے ہاں محبت ِ رسولؐ اور عشقِ رسولؐ کے اظہار کے لیے بہت کچھ کیا جاتا ہے۔ اگر اس کتاب کی مدد سے قرآنِ حکیم کی روشنی میں دیکھا جائے کہ محبت ِ رسولؐ کے اصل تقاضے کیا ہیں، تو شاید ہماری عملی زندگیوں میں کچھ تبدیلی آجائے۔ (رفیع الدین ہاشمی)
سیّد محمود حسین نقوی مودودی (وفات: ۳۰ نومبر ۱۹۸۷ء) نے خاندانِ مودود چشتیہ کا تذکرہ تیار کیا تھا جو ۳۵ شخصیات (از سیّدنا امام علی زین العابدین تا سیّدابوالاعلیٰ مودودی) پر مشتمل ہے۔اس فہرست میں چودھویں بزرگ کا نام قطب الاقطاب خواجہ سیّد مودود چشتی تھا۔ انھی کی پیڑھی کے تمام بزرگ مودودی چشتی کہلاتے تھے۔
دیباچہ نگار سیّدخالد محمود نقوی مودودی (مقیم لندن) لکھتے ہیں: صوفیہ کے چودہ سلاسل ائمۂ اہلِ بیت، سادات کے توسط سے حضرت علیؓ ابن ابی طالب تک پہنچتے ہیں۔ ان میں سے ایک سلسلہ ساداتِ مودود چشتیہ کے نام سے مشہور ہے۔ اس خاندان کے بزرگوں نے تیرہ سو برس تک ارشادو ہدایت اور فقرو درویشی کو جاری رکھا۔یہ تاریخ انھی بزرگوں کے تذکرے پر مشتمل ہے۔ ہربزرگ کے حالات متعدد ضمنی عنوانات (نام، نسب، ولادت، تعلیم و تربیت، اخلاق و اوصاف، عبادات، وفات وغیرہ) کے تحت دیے گئے ہیں۔ مزید عنوانات، متعلقہ شخصیت کے امتیازی پہلوئوں کے مطابق قائم کیے گئے ہیں۔ بعض بزرگوں کے حالات مختصر اور بعض کے حالات نسبتاً طویل ہیں۔ ایسے تذکروں میں تذکرہ نگار، عموماً بزرگوں کے کشف و کرامات کے قصّے بہ کثرت بیان کرتے ہیں لیکن جیسا کہ سیّد محمود حسین نے لکھا ہے: مصنف مرحوم نے اِس تذکرے میں کرامات کے بیان سے کافی حد تک اجتناب کیا ہے۔ اِس اعتبار سے اِس کتاب کی نوعیت تربیتی ہے۔
یہ سارے بزرگ عوام کو شعائر اسلامی کی پابندی کی تلقین کرتے اور امرا اور سلاطین کو عدل و انصاف، مظلوم کی داد رسی، رعایا پرور ی اور شریعت کی پیروی کی نصیحتیں کرتے تھے۔ ہمیں دیباچہ نگار کی اِس راے سے اتفاق ہے کہ اگر ہندستان کو فتح کرنے میں محمد بن قاسم، محمود غزنوی اور شہاب الدین غوری اور بابر کا ہاتھ ہے تو یہ کہنا بھی غلط نہیں کہ ہندستان کی روح کو مودود چشتی درویشوں نے فتح کیا۔ یہ درویش صفت انسان کی باطنی زندگی اور ظاہری زندگی کے نبض شناس تھے۔ حالات و واقعات کا پیرایۂ بیان دل چسپ ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)
رفتگاں کی یاد اور ان کے کارناموں کو تازہ رکھنے کے لیے فاضل مصنّف کی نئی کتاب ہے۔ سلسلۂ رفتگاں کا یہ چھٹا حصہ ہے، جس میں ۲۱ شخصیات کا تذکرہ شامل ہے۔ اس تذکرے میں عزیمت کے بلند منصب پر فائز شہداے بنگلہ دیش (مولانا مطیع الرحمٰن نظامی، علی احسن محمدمجاہد، میرقاسم علی) کے مفصل حالات شامل ہیں۔ اسی طرح تحریکِ اسلامی کے وابستگان (ملک محمداسلم، گل انداز عباسی، معراج الدین خان، ظفرجمال بلوچ، حکیم عبدالرحمٰن عزیز،مولانا عبدالوکیل علوی وغیرہ) کے علاوہ کچھ ایسے رفتگان کا ذکر بھی ہے، جو براہِ راست تحریک سے وابستہ نہیں تھے، مگر مقصد ِ زندگی کی یکسانیت کی بنا پر تحریک سے ان کے ذہنی اور قلبی روابط استوار تھے۔
اس کتاب سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلامی تحریک نے کیسے کیسے صاحبانِ کردار پیدا کیے، جو ہمارے معاشرے کے لیے بہترین انسانوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دنیا میں انھوں نے خواہ کیسی ہی تنگی و ترشی میں زندگی گزاری ہو، آخرت میں وہ بامراد ہوں گے۔ (رفیع الدین ہاشمی)
انقلاب(بمبئی) بھارت کی اُردو دنیا کا مقبول روزنامہ ہے۔ زیرنظر کتاب انقلاب میں گذشتہ پانچ چھے برسوں کے دوران میں شائع ہونے والے ڈاکٹر زرقانی کے کالموں کا مجموعہ ہے۔ زرقانی عالمِ دین ہیں۔ لیبیا اور دیگر عرب ممالک میں زیرتعلیم رہے۔ ہیوسٹن (امریکا) کی ایک مسجد کے خطیب اور وہاں کے لون اسٹار کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ انھوں نے اسی زاویے سے مشرق (مسلم) اور مغرب کے مسلم حکمرانوں پر اور اُن کی پالیسیوں پر نکتہ چینی کی ہے جو زیادہ تر بجا ہے۔
انڈونیشیا سے انھیں بڑی اُمیدیں وابستہ ہیں۔ ۳۹ممالک میں کروائے گئے ایک سروے کے مطابق انڈونیشیا کے تقریباً ۹۸ فی صد لوگ پابندی سے زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ اسی طرح مسجد جانے والوں کا تناسب سب سے زیادہ انڈونیشیا ہی میں ہے۔ فی کس آمدنی کے لحاظ سے انڈونیشیا ۱۲۶ویں نمبر پر ہے، مگر دین داری کے اعتبار سے بہت اُوپر ہے۔
مصنّف نے سعودی عرب میں غیرملکیوں کے لیے نظامِ کفالیٰ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عصرِحاضر میں نظامِ کفالیٰ دراصل رواجِ غلامی کی ترقی یافتہ شکل ہے (ص ۷۱)۔ بعض کفیل صرف دستخط کرنے کے عوض غیرملکیوں سے بھاری رقم وصول کرتے ہیں۔ غیرملکی مزدوروں کے ساتھ زیادتی کے متعدد واقعات کی نشان دہی بھی کی گئی ہے۔
مجموعی حیثیت سے یہ تبصرے تعمیری ہیں۔ وہ مسلم معاشروں کی حالت پر افسردہ خاطر ہیں اور مسلمانوں کو اتحاد کا درس دیتے ہیں۔ یہ مجموعہ پہلے دہلی سے چھپا تھا۔ پاکستانی ناشر نے اِس نوٹ کے ساتھ شائع کیا ہے کہ ’’پبلشر کا مصنّف سے کامل اتفاق ضروری نہیں‘‘۔ (رفیع الدین ہاشمی)
o امام الانبیاؐ کا سفرِ حج ، انجینیرمحمد ارشد۔ ناشر: مثال پبلشرز، رحیم سنٹر، پریس مارکیٹ، امین پوربازار، فیصل آباد۔ فون:۶۶۶۸۲۸۴- ۰۳۰۰۔ صفحات: ۲۴۰۔ قیمت: ۵۰۰ روپے ۔[اس کتاب کا مقصد رسولؐ اللہ کے حج و عمرے کے طریقے (سنت) و واقعات کو ایک مسلمان تک پہنچانا ہے‘‘ تاکہ وہ ان عبادات میں آپ کا اتباع اختیار کرسکے (مصنّف)۔ ۳۱عنوانات کے تحت آپؐ کے حج اور عمرے کے اَسفار کا ذکر احادیث کے حوالے سے کیا گیا ہے، مثلاً یہ کہ مسجدالحرام میں آپؐ کب اور کس طرح داخل ہوئے، اور آپؐ نے وہاں کیا فرمایا، یا مثلاً مزدلفہ کے قیام میں آپؐ نے کیا کچھ کیا اور فرمایا، وغیرہ۔ حج اور عمرے کے عازمین کے لیے یہ ایک مفید کتاب ہے۔]
o حرف حرف روشنی ،ترتیب و تالیف: احمد علی محمودی۔ ملنے کا پتا: ندائے ملت پبلی کیشنز، دارالسلام ، عزیزآباد کالونی، وہاڑی روڈ، حاصل پور (ضلع بہاول پور)۔ فون: ۶۳۴۷۵۷۲- ۰۳۳۳۔ صفحات:۴۹۔ قیمت: ۶۰ روپے۔ [اقوالِ زریں اور حکمت و دانش پر مبنی مختصر اور جامع نصائح۔ علمی و ادبی ورثے سے عمدہ انتخاب، نیز بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے رہنمائی۔ تزکیہ و تربیت اور سوشل میڈیا پر مختصر پیغامات اور دعوت کے لیے مفیدکتابچہ۔]
واقعہ یہ ہے کہ کسی انسانی معاشرے میں آپس کی محبت و اُلفت ، باہمی ہمدردی و خیراندیشی، اور ایک دوسرے کے حقوق کا لحاظ اور مرتبے کا احترام اس درجے کا نہیں پایا جاتا اور نہ پایا گیا ہے جیساکہ صحابہ کرامؓ کے معاشرے میں نظر آتا ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ان کے اندر یہ صفت انتہائی ممکن کمال تک پہنچی ہوئی نظر آتی ہے، جس کا کسی انسانی معاشرے کے حق میں تصور کیا جاسکتا ہے۔ لیکن انسان جب تک انسان ہیں، اِن کے اندر بہرحال کبھی نہ کبھی اختلافات بھی پیدا ہوسکتے ہیں اور وہ اختلافات لڑائی جھگڑے کی صورت بھی اختیار کرسکتے ہیں۔ صحابہ کرامؓ بھی انسان ہی تھے۔ عالمِ بالا سے کوئی فوق البشر مخلوق، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت و معیت کے لیے اُتر کر نہیں آئی تھی۔ ایک دوسرے کے ساتھ رہن سہن، لین دین اور اجتماعی زندگی کے معاملات کرتے ہوئے لامحالہ بہ تقاضاے بشریت ان میں اختلافات بھی ہوجاتے تھے، اور بعض اوقات یہ اختلافات شدید نوعیت بھی اختیار کرگئے ہیں....
بے شک وہ جنگ جمل و صفّین میں ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما ہوئے ہیں، مگر کیا دُ نیا کی کسی خانہ جنگی میں آپ فریقین کو ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے ہوئے بھی ایک دوسرے کا وہ احترام ملحوظ رکھتے دیکھتے ہیں، جو اِن بزرگوں میں نظر آتا ہے۔ وہ نیک نیتی کے ساتھ اپنے آپ کو حق بجانب سمجھتے ہوئے لڑے تھے، نفسانی عداوتوں اور اغراض کی خاطر نہیں لڑے تھے۔ انھیں افسوس تھا کہ دوسرا فریق ان کی پوزیشن غلط سمجھ رہا ہے اور خود غلط پوزیشن اختیار کرتے ہوئے بھی اپنی غلطی محسوس نہیں کر رہا ہے۔وہ ایک دوسرے کو فنا کردینے پر تلے ہوئے نہیں تھے، بلکہ اپنی دانست میں دوسرے فریق کو راستی پر لانا چاہتے تھے۔ ان میں سے کسی نے کسی کے ایمان سے انکار نہیں کیا، اس کے اسلامی حقوق سے انکار نہیں کیا، بلکہ اس کی فضیلت اور اس کی اسلامی خدمات کا انکار بھی نہیں کیا۔ انھوں نے ایک دوسرے کو ذلیل و رُسوا کرنے کی کوشش نہیں کی.... لڑ کر گر جانے والے کے لیےوہ سراپا رحم و شفقت تھے، اور گرفتار ہوجانے والے پر مقدمہ چلانا اور اس کو سزا دینا یا اس کو ذلیل و خوار کرنا تو درکنار، قید رکھنا اور کسی درجے میں بھی نشانۂ عتاب بنانا تک انھوں نے گوارا نہ کیا۔ (’رسائل و مسائل‘ ،سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۴۸، عدد۶، ذی الحجہ ۱۳۷۶ھ، ستمبر ۱۹۵۷ء، ص ۴۲-۴۳)