مضامین کی فہرست


اگست ۲۰۲۱

پاکستان کا تشخص کیا ہو گا ؟ یہ سوال قیام پاکستان سے پہلے بھی اپنا وجود رکھتا تھا اور آج بھی پاکستانی قوم کے سامنے یہ سوال موجود ہے ۔ پاکستان کے قیام کے لیے جدوجہد کرنے والے لوگوں کے ذہن میں جواب بالکل واضح تھا کہ متحدہ ہندستان میں مسلمانوں کے تشخص، ان کی تہذیب کا محفوظ رہنا نا ممکن ہے۔ اس لیے ہندستان کے مسلمانوں کو ایک الگ وطن کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کے لیے الگ وطن کی ضرورت کے اسباب ایک سے زیادہ تھے ۔ مختلف اوقات میں  ان کی جانب کُل ہند مسلم لیگ کے رہنما اور قائد اعظم محمد علی جناح اشارے بھی کرتے رہے ہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد اس بحث میں مزید ابہام اور چند در چند اشکالات نے حقیقت پر ڈالی جانے والی دھند صاف کرنے کی ضرورت دوچند کر دی ہے۔ ضروری ہے کہ مستند تاریخی دستاویزات سے شہادت لی جائے۔

فرد ہو یا قوم، تشخص کا سوال اس کے وجود کی بقاء کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ شخصی یا قومی تشخص کو مختلف زاویہ ہائے نظر سے دیکھا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہم قومی تشخص کی بات کریں تو کسی قوم کے تشخص کو بیان کرنے کے لیے اس کے جغرافیہ، زبان، تاریخ، ثقافت، مذہب وغیرہ عناصر کا ذکر ناگزیر ہو جاتا ہے۔ یہاں یاد رکھنے کی بات یہ ہے ، اگرچہ تشخص کے درخت کی شاخیں بہت سی ہوسکتی ہیں، لیکن اس کا تنا ایک ہی ہوتا ہے، پھر تنے سے نیچے پھیلی ہوئی جڑیں زمین کے ان حصوں تک جاتی ہیں، جہاں سے درخت اپنی نشوو نما کے لیے غذا حاصل کرتا ہے۔

برطانوی سامراجی تسلط

برعظیم پاک و ہند میں برطانوی سامراج کے تسلط کے بعد ایک ایسی صورت حال پیدا ہوئی تھی، جس کا سامنا ایک خطے کے لوگوں کو اس سے پیش تر کبھی نہیں ہوا تھا۔ بالخصوص ۱۸۵۷ءکی جنگ آزادی میں شکست کے بعدبحکم سرکار اسے ’غدر‘ کا متبادل نام دیا گیا تھا۔ اس جنگ میں ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں نے حصہ لیا تھا، لیکن ناکامی کا زیادہ تر بوجھ مسلمانوں کو برداشت کرنا پڑا تھا ۔ یہ صورت حال بدلے ہوئے تناظر میں ایسی حکمت عملی کا تقاضا کرتی تھی، جس میں جدید مغربی تصورات کے تحت ملک کی تعمیر و تشکیل میں اس خطے میں آباد مختلف مذہبی، لسانی اور ثقافتی گروہوں کے مفادات کا تحفظ ہو سکے۔ تاہم، جدید مغربی اثرات کےتحت ہندستان میں اُٹھنے والی تحریکوں میں مشترکہ ہندستانی قوم سے زیادہ مذہبی بنیاد پر اپنے اپنے ہم مذہب لوگوں کو متحد اور منظم کرنے کی طرف رجحان نمایاں تھا۔ مگر یہاں اس مضمون میں مذہبی حلقوں کی تحریکیوں کو حوالہ نہیں بنایا جا رہا، بلکہ ان لوگوں کی تحریکوں کو سامنے رکھ کر بات کی جارہی ہے، جو نہ صرف جدید مغربی تہذیب و تمدن سے متاثر تھے، بلکہ انھی خطوط پرہندستانی معاشرے کے لوگوں کو ڈھالنا چاہتے تھے۔

ہندستان میں انگریز حکومت (ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت ) کے زیر اثر جو پہلی طاقت ور تحریک پیدا ہوئی ،وہ راجہ رام موہن [م: ۱۸۳۳ء]کی تحریک (’برہموسماج‘: تاسیس ۱۸۳۰ء) تھی۔ یہ تحریک واضح طور پر ہندو دھرم کی تحریک تھی۔ یہ ہندستان میں بسنے والے ہندوؤں کے مفادات کو سامنے رکھ کر ترتیب دی گئی تھی۔ اس کے مقاصد میں ہندوؤں کو انگریزوں کے قریب لانا، انھیں انگریزی تعلیم کی طرف مائل کرنا اور معاشی دوڑ میں آگے بڑھاناشامل تھا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جدید مغربی فکر اپنے سیکولر مزاج کے ساتھ مذہبی بنیادوں پر لوگوں کی تقسیم کی قائل نہیں تھی۔ یہ مذہب اور سیاست کی علیحدگی پر اصرار کرتی تھی۔ لیکن اس فکرکے زیر اثر پروان چڑھنے والی پہلی تحریک ہی ہندستان کے لوگوں کو تقسیم کر رہی تھی۔

راجہ رام موہن کے بعد سر سید احمد خاں [م: ۱۸۹۸ء] نے مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کی علی گڑھ تحریک ۱۸۶۸ءمیں شروع کی۔ تب تک حالات بہت تبدیل ہو چکے تھے۔ کمپنی کی حکومت کی جگہ براہِ راست تاج برطانیہ لے چکا تھا۔ ہندستان میں انگریز ی راج مستحکم ہو چکاتھا۔ ہندو بہ طور طبقہ انگریزوں کے زیرسایہ ترقی کی منازل طے کر رہے تھے۔ ایسے میں سر سید احمد خاں نے مسلمانوں کو مغربی تعلیم اور تہذیب کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی، تو ان کے مخاطب ہندستان کے سارے لوگ نہیں تھے۔وہ صرف ایک مذہب کے لوگ تھے۔ پھر جب ہندستان میں اردو ہندی تنازعے نے سر اٹھایا تو اس کی بھی یگانگت کے بجائے مذہبی تقسیم بنیاد تھی۔ ان حالات میں جب ۲۵دسمبر ۱۸۸۵ء میں انڈین نیشنل کانگریس کی بنیاد رکھی گئی تو اس کی بنیاد رکھنے والے ڈیوڈہوم تھے۔ ان کا مقصد حکومت اور لوگوں کے درمیان رابطہ پیدا کرنا تھا۔ اس میں تمام مذاہب کے لوگ شامل تھے۔ جب کانگریس کے سیاسی مقاصد نمایا ں ہونے لگے اوریہ دکھائی دینے لگا کہ انگریز ہندستان میں مغربی طرز ِجمہوریت کو جزوی طور پر نافذ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو جن لوگوں نے مسلمانوں کو کانگریس سے دور رہنے کا کہا، ان میں سر فہرست سرسید احمد خاں تھے۔

سیاست میں انقلابی تبدیلیاں

بیسویں صدی کا آغاز بر عظیم کی سیاست میں انقلابی تبدیلیوں کا دور ثابت ہوا۔ ۳۰دسمبر ۱۹۰۶ء کو کُل ہند مسلم لیگ کی بنیاد خواجہ سلیم اللہ خاں [م: ۱۹۱۵ء] نے رکھی تھی اور اسی سال مسلمانوں کا جدا گانہ انتخاب کا مطالبہ تسلیم کر لیا گیا۔ یہ مطالبہ کرنے والے بھی مغربی تعلیم سے آراستہ لوگ تھے اور ان کی قیادت سر آغا خان سوم [م:۱۹۵۷ء] کے ہاتھ میں تھی۔ مسلمانوں کو اس سمت لانے میں بنیادی کردار، تقسیم بنگال کے حوالے سے سامنے آنے والا ہندوؤں کا رد عمل تھا جس کی قیادت کانگریس کر رہی تھی۔ اگر کانگریس واقعی ہندستان کے تمام طبقوں کی نمایندہ تھی، تو اسے صوبے کی تقسیم پر معترض نہیں ہونا چاہیے تھا ۔اس حقیقت سے آنکھیں چرانا ممکن نہیں کہ اس وقت بھی کانگریس پر ہندوؤں کا غلبہ تھا اور کانگریس کی مالی معاونت کرنےوالے زیادہ تر ہندو ہی تھے۔

عددی برتری کے مقابلے میں اپنے تشخص کو کھو دینے کا جو احساس جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں کو تھا،اس میں ہندستان میں ہونے والے واقعات اور بالخصوص کانگریس کے رد عمل نے اضافہ کردیا تھا۔ تقسیم بنگال اس حوالے سے نہایت اہم ہے۔ کانگریس کے رد عمل اور ہندوؤں کی طرف واضح جھکاؤ کا دوسرا اظہار، ۱۹۰۱ء میں پنجاب کی تقسیم اور صوبہ سرحد [خیبرپختونخوا] کی تخلیق کے وقت دیکھنے میں آیا۔ پنجاب کی تقسیم سے ہندوؤں کے مفادات متاثر نہیں ہورہے تھے،بلکہ صوبہ سرحد کے قیام سے پنجاب میں ان کی قوت میں اضافہ ہو رہا تھا، اس لیے کانگریس نے تقسیم بنگال کے برعکس اس تقسیم پر خاموشی اختیار کی۔ دو صوبوں کی تقسیم کے ایک جیسے عمل پر انڈین کانگریس کے متضاد رد عمل نے اس دعوے کی قلعی کھول دی کہ وہ کس حد تک ہندستان میں بسنےوالے تمام طبقوں کی نمایندگی کرتی ہے۔

قیامِ پاکستان تک بر عظیم کی سیاست میں اصل سوال یہ تھا کہ ’’ہندستان میں بسنے والے مختلف طبقوں کے مفادات کا تحفظ کیسے کیا جائے گا؟‘‘ بر عظیم کے تناظر میں یہ کوئی آسان سوال نہیں تھا اور نہ اس کا کوئی واحد جواب ممکن تھا۔ اس خطے میں مختلف مذاہب کے لوگ آباد تھے۔ اس میں بےشمار زبانیں بولی جاتیں تھیں ۔ مختلف نسلی گروہ موجود تھے۔ ذات پات کا نظام مذہب اور ثقافت کی سرحدیںبھی عبور کر جاتا تھا۔ ان سب کی موجودگی میں ہندستان میں مغربی طرز کی جمہوریت صرف اسی وقت کارگر ہو سکتی تھی، جب وہ اس خطے میں بسنے والے تمام طبقوں کے مفادات کی نگہداشت کر سکے۔ ایسا بہ ظاہر ممکن دکھائی نہیں دیتا تھا۔ اس لیے ہندو اور مسلمان دونوں کی جانب سے یہ آواز سنائی دیتی رہتی تھی کہ ہندستان میں دو بڑے گروہوں کے درمیان کوئی لکیر کھینچ دی جائے۔ ہندوؤں کی طرف سے لالہ لاجپت رائے [م: ۱۹۲۸ء] اور پنڈت مدن موہن اور مسلمانوں کی طرف سے حسرت موہانی [م: ۱۹۵۱ء] اور علامہ محمد اقبال کو بطور حوالہ پیش کیا جا سکتا ہے۔

یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ سیاسی جدوجہد میں ہندو مسلم کبھی کبھی بہت قریب آ جاتے تھے، جیسے ’لکھنو ٔپیکٹ‘ اور’ تحریک خلافت‘ کے دوران ہوا۔ مگر پھر یہ دونوں کبھی کبھی بہت دور چلے جاتے تھے ،جیسے ۱۹۳۷ء کی بر صغیر کے آٹھ صوبوں میں بننے والی وزارتوں کے دوران کانگریسی حکومتوں اور قیادت کے ہاتھوں مسلمانوں کے خلاف اقدامات اور رجحانات میں دکھائی دیتاہے۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کو قریب لانے کا کام وہ رہنما کرتے تھے ،جو اس بات کے قائل تھے کہ اگر ہندستان کو واقعی انگریز کے تسلط سے نجات حاصل کرنا ہے ،تو پھر ہندو اور مسلمان دونوں کو مل کر جدوجہد کرنا ہوگی۔ اس حوالے سے سب سے اہم نام قائد اعظم محمد علی جناح [م:۱۹۴۸ء] کا ہے اور ان کے بارے میں گوپال کرشن گوکھلے جیسے قوم پرست رہنما نے کہا تھا :’’جناح ہندو مسلم اتحاد کے سفیر ہیں ۔‘‘

ایک دلچسپ نکتہ ہندستان کی سیاسی جدوجہد میں مرکزی مسئلے کے طور پر موجود تھا اور وہ تھا’جداگانہ انتخابات‘۔ جدا گانہ انتخاب کا حق، مسلم لیگ اور کانگریس کے درمیان ہونے والے تمام مذاکرات کا محور رہا ۔ یہی وہ نکتہ ہے، جس پر دونوں فریق مشترکہ لائحہ عمل اختیار نہ کر سکے اور بالآخر ہندستان کی تقسیم عمل میں آ گئی۔

یہ احوال مختصراً انداز میں اس لیے رقم کیے گئے ہیں کہ قیام پاکستان کی بنیاد میں جنم لینے والے معاملات کو واضح کیا جاسکے۔ قیام پاکستان سے تاحال پاکستان کے تشخص کی بحث میں بھی یہ پس منظر جاننا ضروری ہے۔ پاکستان میں ایک طبقہ مسلسل اس بات کو اچھالتا رہاہے کہ ’’پاکستان کے قیام کا مقصد ایک سیکولر ریاست کا قیام تھا۔ پاکستان کو مذہبی تشخص دینے کی بات قیامِ پاکستان کے بعد اور محمد علی جناح کے انتقال کے بعد کی جانے لگی‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ اس موقف میں کتنی صداقت ہے، اسی موضوع پر آیندہ صفحات میں بات کی جائے گی۔

قیامِ پاکستان کے بعد آئین سازی

قیامِ پاکستان کے بعد جب ملک میں آئین سازی کا مرحلہ آیا تو لیاقت علی خان، سردار عبدالرب نشتر، چودھری محمد علی، مولانا شبیر احمد عثمانی اور دیگر احباب نے آئین کی رہنمائی کے لیے پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی میں ’قراردادِ مقاصد‘ پاس کروائی۔ اس وقت اسمبلی میں اس قرارداد کی مخالفت میں بھی آوازیں آئیں ۔ ظاہرہے جمہوری عمل میں اختلاف رائے ہونا کوئی اَنہونی بات نہیں ہے، لیکن یہ بڑی واضح حقیقت ہے کہ پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی نے اسے بڑی بھاری اکثریت سے منظور کیا۔ ہمارے وہ دوست، جو ’قرار داد مقاصد‘ کی مخالفت کرتے ہیں، یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ یہ قرار داد کسی ایک فرد کے ذہن کی اختراع نہیں تھی، بلکہ اس قراردادکی منظوری تو پاکستان کی بانی اور پہلی دستور ساز اسمبلی نے دی۔ پھر ۳۱جیدعلما نے، جن کا تعلق پاکستان میں بسنے والے مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر سے تھا، قرارداد کی منظوری کے بعد ریاست کے سیاسی و اجتماعی معاملات کو چلانے کے لیے متفقہ طور پر بائیس نکات پر مشتمل رہنما اصول وضع کیے تھے کہ پاکستان میں قوانین قرآن و سنت کی روشنی میں بنائے جائیں گے۔ چوں کہ اس پر جمہوری انداز میں لوگوں سے اتفاق رائے حاصل کیا گیا تھا،اس لیے پاکستان کے پہلے آئین ۱۹۵۶ء، پھر دوسرے آئین ۱۹۶۲ء سے لے کر ۱۹۷۳ء کے آئین تک میں ’قراردادِمقاصد‘ ابتدائیہ کے طور پر موجود ہے۔

پاکستان کے سیکولر تشخص کی بحث

نائن الیون کے بعد جہاں امریکا نے فوجی اعتبار سے پاکستان کو اپنے حصار میں لیا ،وہاں اس نے پاکستان کے سیکولر تشخص کے حوالے سے بھی بحث کو نئے سرے شروع کروایا۔ اس حوالے سے ایک قابلِ ذکر پتھر ۲۰۰۴ء میں امریکی حکومت کی پالیسی پلاننگ سٹاف کے ایک سابق رکن سٹیفن فلپ کو ہن [۱۹۳۸ء-۲۰۱۹ء]کی طرف سے ان کی کتاب The Idea of Pakistan [ناشر: بروکنگز انسٹی ٹیوشن پریس، واشنگٹن ڈی سی]کی شکل میں آیا۔ فتح محمد ملک نے اپنی کتاب فتنہ انکار پاکستان میں سٹیفن پی کوہن کے نقطۂ نظر کا نہایت باریک بینی سے تجزیہ کیا ہے۔

 سٹیفن فلپ کوہن، امریکی حکومت کے لیے کام کرنے والے ادارے بروکنگز میں پالیسی اسٹڈیز پروگرام میں سینئرفیلو کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ یہاں انھوں نے ایک دوسری کتاب The Future of Pakistan بھی تحریر کی ہے، جو اسی سوچ کی غماز ہے۔ کوہن، تحریک پاکستان کی کامیابی کو ’المیاتی کامیابی‘ (Tragic Vcitory) خیال کرتے اور پاکستان کو ایک ناکام ریاست قرار دیتے ہیں ۔ پاکستانیوں کو ڈرانے کی پرانی امریکی روش پر چلتے ہوئے کہتے ہیں:

Failure of vision, Pakistan's founders expected the idea of Pakistan to shape the state of Pakistan, instead, a military bureaucracy governs the state and imposes its own vision of a Pakistani nation. (p:3)

وژن کی ناکامی، پاکستان کے بانی تصورِ پاکستان سے ریاست ِ پاکستان کی تشکیل کی توقع رکھتے تھے، بجائے اس کے کہ ملٹری بیوروکریسی پاکستانی قوم کا اپنا تصور مسلط کرتی اور ریاست پر حکومت کرتی۔(ص ۳)

اب جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ قیام پاکستان کے بعد، پاکستان کی تشکیل ویسی نہ ہوسکی، جیسی تصور پاکستان میں سوچی گئی تھی، تو بلاشبہہ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں۔ اسی بنیاد پراگر ریاستوں کی کامیابی اور ناکامی کی جانچ کی جائے گی، تو خود ریاست ہائے متحدہ امریکا کے بانیوں نے جس تصور پر امریکا کی تشکیل کی تھی، گذشتہ ۱۵۰ سال میں امریکا نے سامراج کی شکل اختیار کرکے اس تصور کی خوب مٹی پلید کی ہے۔ پھر اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ گاندھی جی، بھارت کی عدم تشدد کی بنیاد پر تشکیل کرنا چاہتے تھے ۔ بھارت وجود میں آنے سے لے کر اب تک دوسری اقوام کے خلاف اور خود بھارت کے اندر بسنے والے باشندوں کے لیے بار بار تشدد کا ارتکاب کرتا رہا ہے اور اب بھی کر رہا ہے۔ کیا بھارت کو ایک ناکام ریاست نہ سمجھ لیا جائے؟ پروفیسر فتح محمد ملک نے بجاطور پر لکھا ہے کہ: ’’پاکستان کو نئے نئے استدلال کے ساتھ جو بار بار ناکام ریاست کہا جاتا ہے تو صرف اس لیے کہ پاکستان ایک ناکام ریاست نہیں ہے۔ ہم اپنے خواب کی تکمیل سے کتنے بھی دور ہوں، ہماری ناکامیاں کیسی بھی ہولناک ہوں، لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہماری کامیابیاں بھی کچھ کم نہیں ہیں‘‘ ۔بہ قول فتح محمد صاحب: ’’پاکستان عملی طور پر ایک اسلامی ریاست نہیں بن پایا ہے، مگر امکانی طور پر ایک مسلم ریاست ضرور ہے اور یہی وہ امکانی صورت ہے، جو امریکی استعمار کو ہضم نہیں ہوتی۔

کوہن نے لکھا ہے: ’’پاکستان اپنی قومی شناخت کو اپنے اہم ہمسایہ ممالک کے مفادات سے ہم آہنگ کرنے کی راہ اپنائے‘‘۔ اس پر ملک صاحب کہتے ہیں: ’’اب جہاں تک ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات کا مشورہ ہے ،یہ بڑا صائب ہے۔ ہمارے ہمسایہ ممالک صرف بھارت اور افغانستان تو نہیں، چین اور ایران بھی ہیں۔ دوسری جانب چیلنج یہ درپیش ہے کہ امریکی سامراج ہمارے لیے یہ طے کرنے کا بے جا ’حق‘ جتاتا ہے، کہ وہی ہمارے لیے یہ طے کرے گا کہ کون ہمارا ہمسایہ ہے اور کون نہیں، کس سے ہمیں تعلقات رکھنا ہیں اور کس سے نہیں؟ اسی طرح امریکا ہماری داخلی شناخت کو بھی اپنی مرضی کے مطابق متعین کرنا چاہتا ہے‘‘۔

اس حوالے سے سٹیفن کوہن لکھتے ہیں:

Pakistan was clearly  "Indian" in that the strongest supporters of the idea of Pakistan identified themselves as culturally Indian, although in opposition to Hindu Indians. This Indian dimension of Pakistan's identity has been systematically overlooked by contemporary Pakistani politicians and scholars. (p37).

پاکستان واضح طور پر ان معنوں میں ’بھارتی‘ تھا کہ تصورِ پاکستان کے مضبوط ترین حامی ہندو بھارتیوں کی مخالفت میں ثقافتی طور پر اپنے آپ کو بھارتی تصور کرتے تھے۔ پاکستان کی بھارتی شناخت کا یہ پہلو ایک منظم انداز میں ہم عصر پاکستانی سیاست دانوں اور اسکالروں نے نظرانداز کردیا۔

آپ نے دیکھا کہ امریکی دانش ور کس خوب صورتی سے پاکستان کی شناخت کو دھندلانے کی کوشش کر رہے ہیں، تا کہ ایک نئی شناخت کے لیے جگہ بنائی جا سکے۔ اس کام سے فارغ ہونے کےبعد وہ پاکستان کے تشخص پر مزید بات کرتے ہیں اور ’قرارداد مقاصد‘ کو نشانہ بنا کر پاکستان کے اسلامی تشخص کی نفی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سٹیفن پی کوہن کے خیال میں:

 ’’قائد اعظم کا تصور پاکستان ایک سیکولر تصور تھا‘‘ (ص۴۵)، ’’پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کی حیثیت سے قائد اعظم کی تقاریر کی روح سیکولر تھی‘‘(ص۴۲)۔اور قرارداد مقاصد میں سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اس میں سیکولر مسلمانوں اور سیکولر اسلام کا ذکر تک نہیں :

The resolution defines both the state and the idea of Pakistan. The new country was to be a federal, democratic and  Islamic entity, but there was no mention whatsoever of a secular Muslim life, a secularized Islam, or even the term "Secular" (p57).

قرارداد ریاست اور تصورِ پاکستان دونوں کو واضح کرتی ہے۔ نئی مملکت کی ایک وفاقی، جمہوری اور اسلامی شناخت ہونا تھی، لیکن اس میں ایک سیکولر مسلمان کے طرزِ زندگی، سیکولر اسلام، حتیٰ کہ اصطلاح ’سیکولر‘ کی نشان دہی نہیں کی گئی۔

اطلاعاً عرض ہے کہ ’قرارداد مقاصد‘ جس [دستور ساز]قومی اسمبلی نے منظور کی تھی، اس کے ارکان تحریک پاکستان کے قائدین اور عمائدین پر مشتمل تھے۔ قرار داد منظور کرنے والوں کو  بخوبی علم تھا کہ پاکستان کانظریہ کیا ہے ؟ اسلامیانِ ہند نے کس خواب و خیال کو عملی زندگی میں جلوہ گر دیکھنے کی تمنا میں پاکستان قائم کیا ہے ؟ اپنے خیالات، تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں ہی انھوں نے پاکستان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان قرار دیا تھا۔ قرار داد مقاصد میں ’سیکولر‘ کی اصطلاح کی عدم موجودگی ایک قدرتی امر ہے۔

پاکستان کا نظریاتی یا جدلیاتی پہلو

اس بحث کی مناسبت سے ہم معروف تاریخ نگار حسن جعفر زیدی کے مضمون ’پاکستان نظریاتی یا جدلیاتی‘کا تجزیہ کرتے ہیں۔ متعدد جلدوں پر مشتمل اس کتاب پاکستان کی سیاسی تاریخ کو ایک سنجیدہ کاوش سمجھا جاتا ہے۔ وہ اپنے مضمون میں بڑے پتے کی بات کہتے ہیں:

مطالعہ تاریخ دراصل ایک سائنس ہے، اس میں ذاتی پسند یا نا پسند کا کوئی دخل نہیں ہے۔ عقائد خواہ دائیں بازو کے ہوں یا بائیں بازو کے، عقیدہ پرستی کے شکنجے میں پھنس کر نہ تو ماضی کی اصل حقیقت سے آگاہی حاصل ہو سکتی ہے نہ حال کو سمجھا جا سکتا ہے اور نہ مستقبل کے بارے میں درست پیش گوئی کی جا سکتی ہے۔

حسن جعفر زیدی کی بات سے ،اگر اتفاق بھی کر لیا جائے تو یہ سوال بہرحال باقی رہتا ہے کہ کیا تاریخ کو متعین کرنے والے اسباب کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟ یہ درست ہے کہ تاریخ عقیدہ نہیں، لیکن کیا بعض تاریخی واقعات کے پس منظر میں ہمیں عقیدہ اپنی جھلک نہیں دکھاتا؟ زیادہ دُور جانے کی ضرورت نہیں جب ہندستان کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے، شاہ ولی اللہ نے احمد شاہ ابدالی کو دہلی پر حملے کی دعوت دی تھی تو کیا وہاں مذہب ایک فیصلہ کن عامل کے طور پر موجود نہیں تھا؟ مرہٹوں نے مغلیہ دربار میں اپنا اقتدار مستحکم کرنے کے بعد مغل شہنشاہ سے احکامات صادر کروائے۔ کیا ان کی بنیاد ہندومت اور ہندوؤں کے مفادات نہیں تھے؟

جب ہم تاریخی واقعات کے پس منظر میں کارفرما عوامل کا کھوج لگانے کی کوشش کریں گے تو اور کئی عوامل کے ساتھ ساتھ مذہب اور عقیدہ بھی اہم سبب کے طور پر موجودہوگا۔ یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ ہر واقعے کے پیچھے صرف مذہب اور عقیدہ ہی اہم محرک ہوتے ہیں، لیکن بہت سے واقعات کے پس منظر میں ہمیں عقیدہ ایک اہم محرک کے طور پر ملتا ہے۔ یہاں اس بات کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بڑے تاریخی واقعات کے پس منظر میں صرف ایک محرک کار فرما نہیں ہوتا، بلکہ بہت سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ کون سا محرک سب سے قوی اور فیصلہ کن ہے؟

پھر حسن جعفر زیدی نے ہندستان میں جاری سیاسی کش مکش کے حوالے سے ایک دل چسپ پیراگراف تحریر کیا ہے، جس سے ان کے اپنے ہی موقف کی تردید ہو جاتی ہے:

بیسویں صدی کا آغاز ہوا تو بر صغیر میں تینوں قوتوں کے درمیان کش مکش جاری تھی۔ اسٹرکچر میں دوسری پوزیشن کے حامل ہندو جلد از جلد انگریز کو حاصل پہلی پوزیشن پر پہنچنا چاہتے تھے اور غلبے کے حصول کی اس کوشش میں مسلمانوں کی حیثیت کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہ تھے۔ وہ انڈین نیشنلزم اور سیکولر ازم کی تعریف یوں کرتے تھے کہ ’’کوئی ہندو، سکھ، عیسائی نہیں ہے۔ یہ سب ہندستانی ہیں‘‘۔ وہ ان کی قومی شناخت کا انکار کرکے ان کو اپنی عددی اکثریت کے نیچے کچل ڈالنا چاہتے تھے۔ یوں وہ مسلمانوں سے گذشتہ ایک ہزار سال کا بدلہ بھی لینا چاہتے تھے۔ ادھر مسلمان اس صورت حال میں اپنی بقا کی جدوجہد کر رہے تھے (نقاط ۸،ص ۱۰۱-۱۰۲)۔

اس سلسلے میں آگے چل کر مزید لکھتے ہیں :

اس کے لیے وہ ہر دس سال بعد آئینی اصلاحات کا ایک پیکیج لاتے تھے، لیکن ہر پیکیج سے پہلے اور بعد ہندو مسلم تضاد شدیدہو جاتا تھا۔ وجہ یہ ہوتی تھی کہ کانگریس اس پیکیج میں بلا شرکت غیرے زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کی کوشش کرتی، خود کو پورے ہندستان کا واحد نمایندہ ثابت کرتی، جب کہ حقیقت میں مسلمانوں کے فائدے کا کوئی کام ہوتا تو اس کی راہ میں رکاوٹ بن کر کھڑی ہو جاتی۔ مسلمانوں کا اعتماد کانگریس پر سے اٹھتا چلا گیا اور ہندو مسلم جدلیات کے نتیجے میں آل انڈیا مسلم لیگ اور آل انڈیا مسلم کانفرنس ان کی نمایندہ جماعتوں کے طور پر ابھر آئیں۔ (نقاط ۸،ص۱۰۲)

مندرجہ بالا اقتباسات کا بہ غور مطالعہ کریں، تو واضح ہوتا ہے کہ حسن جعفر زیدی اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں دو بڑی قومیں ہندو اور مسلمان آباد تھیں اور انگریزوں کے زیرِتسلط زندگی گزارتے ہوئے یہ دونوں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سر گرم رہتی تھیں ۔ اس کش مکش کو وہ ’ہندو مسلم جدلیات‘ کا نام دیتے ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس جدلیات کی بنیاد کیا معاشی مفادات تھے، لسانی محرکات تھے یا گروہی مفادات؟ اس بات کو تو حسن جعفر زیدی بھی قبول کرتے ہیں کہ ان کے درمیان جدلیات کی بنیاد مذہب تھا۔ جب ہندستان میں بسنے والے لوگوں کی تقسیم’ ہندو‘ اور ’مسلم‘ کے خانوں میں کرتے ہیں تو ہم اس تقسیم کے لیے مذہب ہی کو بنیاد بناتے ہیں۔ جب آپ خود ’ہندو مسلم جدلیات‘ کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں، تو اس جدلیات کے پس منظر میں موجود مذہب کے اس عنصر کا انکار کس طرح کر سکتے ہیں جس کی بنیاد پر یہ جدلیات وجود پذیر ہو رہی ہیں ۔

بانیانِ پاکستان کا موقف

یہاں ہم قیام پاکستان کے لیے جدوجہد کرنے والی شخصیات کے موقف کی طرف آتے ہیں۔ علامہ اقبال، راجہ صاحب محمود آباد، حسرت موہانی اور خود قائد اعظم محمد علی جناح نے با ربار اس موقف کا اعادہ کیا کہ ہندستان میں ایک قوم آباد نہیں، جیسا کہ کانگریس کا دعویٰ تھا، بلکہ اس میں بہت سی قومیں آباد ہیں اور انھی میں دو بڑی قومیں ہندو اور مسلمان ہیں۔ جب تک ان دو قوموں کے درمیان حقوق و مفادات کے حصول کا طریقۂ کار طے نہیں ہوتا، ہندستان کے مسائل کا سیاسی حل ممکن نہیں۔ یہ درست ہے کہ ابتداء میں مسلم لیگ اور مسلمان رہنماؤں کا موقف مسلم مفادات کا تحفظ تھا اور اس کے لیے وہ کسی بھی آئینی صورت حال کو قبول کرنے کے لیے تیار تھے، جو انھیں اپنے تشخص کے تحفظ کی ضمانت دے۔ بیسویں صدی کے ابتدائی چالیس سال اسی نوعیت کی جدوجہد سے عبارت ہیں۔

اس ساری جدوجہد کے پیچھے دو قومی نظریہ کار فرما تھا کہ مسلمان، ہندوؤں سے الگ ایک قوم ہیں اور اپنے اس تشخص سے مسلمان ایک دن کے لیے بھی پیچھے نہیں ہٹے تھے ،سوائے نیشنلسٹ مسلمانوں کے۔ اسی اصول یا موقف کو بعد میں نظریہ پاکستان کا نام دیا گیا۔ موقف یہ تھا، چوںکہ مسلمان ایک الگ قوم ہیں، اس لیے انھیں ایک الگ وطن کی ضروت ہے۔ اس حقیقت کا باضابطہ طور پر اعلان ۱۹۴۰ء کی قرار داد لاہور میںکیا گیا، جسے اس وقت کے پریس اور خصوصاً ہندو پریس نے ’قراردادِ پاکستان‘ کا نام دیا تھا، کیوںکہ بیسویں صدی کے تیسرے عشرے کی ابتداء میں چودھری رحمت علی’پاکستان‘ نام کی مجوزہ ریاست کا خاکہ پیش کر چکے تھے۔

اقبال، مصورِ پاکستان: ایک اعتراض

پھر اسی مضمون میں حسن جعفر زیدی نے بحث کی ہے کہ علامہ اقبال کو مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کے تصور کا خالق قرار دینا غلط ہے۔ اس حوالے سے انھوں نے علامہ اقبال کے خطبہ الہ آباد کے بعض نکات کی طرف اشارے کیے ہیں ۔ پھر پروفیسر ای جے ٹامسن کے حوالے سے لکھتے ہیں: ’’۱۹۳۴ ءمیں علامہ اقبال کی کتاب ’رموز خودی‘ کے انگریزی ترجمے پر پروفیسر ای جے ٹامسن نے تبصرہ کرتے ہوئے علامہ کے تعارف میں آپ کے خطبہ الٰہ آباد کو چودھری رحمت علی کی پاکستان تجویزسے منسلک کر دیا۔ آپ نے یہ تبصرہ پڑھا تو جواب میں جو خط لکھا وہ پروفیسر ٹامسن کے خطوط کے مجموعے میں شامل ہے، جسے علی گڑھ یونی ورسٹی نے شائع کیا ہے۔ آپ نے اس میں لکھا:’’آپ نے ایک غلطی کی ہے۔ جس کی میں فوری نشان دہی ضروری سمجھتا ہوں ۔ کیوںکہ یہ ایک فاش غلطی ہے، آپ نے میرے بارے میں کہا ہے کہ میں اس اسکیم کا حامی ہوں، جسے پاکستان کہا جاتا ہے۔جب کہ پاکستان میری اسکیم نہیں ہے۔ میں نے اپنے خطبے میں جو تجویز پیش کی تھی، وہ ایک مسلم صوبہ کے بارے میں تھی، جو شمال مغربی ہندستان کے مسلم اکثریتی آبادی پر مشتمل تھا۔ میری اسکیم میں یہ نیا صوبہ مجوزہ انڈین فیڈریشن کا حصہ ہو گا۔ پاکستان اسکیم میں مسلم صوبوں پر مشتمل ایک علیحدہ فیڈریشن کا قیام تجویز کیا گیا ہے۔ اس اسکیم نے کیمبرج میں جنم لیا ہے‘‘(نقاط۸، ص ۱۰۶)۔

مندرجہ بالا اقتباس میں دو تین بڑی فاش غلطیاں ہیں۔ حسن جعفر زیدی نے کہا ہے کہ پروفیسرٹامسن نے علامہ اقبال کی کتاب رموز خودی پر تبصرے کا ذکر کیا ہے۔ واضح رہے کہ اس نام کی کوئی کتاب علامہ اقبال نے تخلیق نہیں کی۔ گمان گزرتا ہے کہ حسن احمد کی مرتب کردہ کتاب His Political Ideas at Cross Road جو دراصل پروفیسر ٹامسن کے نام کتاب کے خطوط پر تبصرہ کی شکل میں ہے۔ زیدی صاحب کی نظر سے ہی نہیں گزری اور انھوں نے کسی ثانوی ماخذ پر بھروسا کیا ہے، اور یہی کمزوری محسوس کرکے حوالہ دینے سے اجتناب کیا ہے۔ اگر وہ اصل کتاب دیکھ لیتے تو انھیں علم ہوجاتا کہ علامہ اقبال نے پروفیسر ٹامسن کو اپنے ۵فروری۱۹۳۴ءکے خط میں گزارش کی تھی کہ وہ علامہ اقبال کی کتابReconstruction of Religious Thought in Islam Six Lectures پر Observerکے لیے تبصرہ لکھ دیں ۔ اس سلسلے میں ۴ مارچ ۱۹۳۴ء کو پروفیسر ٹامسن کا تبصرہ وصول ہونے کے بعد، اپنے خط میں علّامہ محمد اقبال نے پروفیسر ٹامسن کی اس غلطی کی طرف اشارہ کیا ہے، جو پروفیسر موصوف سے سرزد ہو گئی تھی۔ اقبال کے پورے خط کا متن کچھ یوں ہے :

I have just received your review of my book. It is excellent and I am grateful to you for the very kind things you have said of me. But you have made one mistake, which I hasten to point out as I consider it rather serious. You call me (a) protagonist of the scheme called  "Pakistan". Now Pakistan is not my scheme. The one that I suggested in my address is the creation of a Muslim Province  i.e.,a province  having an overwhelming population of Muslims  in the North West of India. This new province will be, according to my scheme, a part of the proposed Indian Federation. Pakistan scheme proposes a separate federation of Muslim  Provinces  directly related  to  England  as  a  seprate domination. This scheme originated in Cambridge. The authors of this scheme   believe   that  we  Muslim Round Tablers   have sacrificed the Muslim  nation  on  the  altar  of  Hindu or  the so called Indian Nationalism.

ابھی ابھی آپ کے ذریعے میری کتاب پر کیا گیا تبصرہ موصول ہوا۔ یہ نہایت اعلیٰ پایہ کا ہے اور آپ نے میرے بارے میں جو اچھی باتیں کہی ہیں اس کے لیے میں آپ کا شکرگزار ہوں۔ لیکن آپ سے ایک بڑی غلطی سرزد ہوئی ہے جس کی جانب میں توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ جسے میں سنجیدہ غلطی سمجھتا ہوں۔ آپ نے مجھے ایک منصوبہ کا رہنما کہا ہے جسے پاکستان کہتے ہیں لیکن پاکستان میرا منصوبہ نہیں ہے۔ میں نے اپنے خطبہ میں جو تجویز پیش کی تھی وہ صرف ایک مسلم صوبہ کی تشکیل ہے۔ ہندستان کے شمال مغرب میں ایک مسلم صوبہ بنائے جانے کا منصوبہ تھا جس میں مسلمانوں کی غالب اکثریت ہو۔ میرے منصوبہ کے مطابق یہ نیا صوبہ مجوزہ ہندستانی وفاق کا ہی ایک حصہ ہوگا، جب کہ منصوبۂ پاکستان مسلم صوبوں کا ایک علیحدہ وفاق بنائے جانے کی تجویز ہے جو انگلینڈ سے براہِ راست ایک ڈومینین کی شکل میں مربوط ہوگا۔ اس منصوبہ کی پیدایش کیمبرج میں ہوئی تھی۔ اس منصوبہ کے خالق یہ سمجھتے ہیں کہ گول میز کانفرنس کے ہم مسلمان نمایندوں نے مسلم قوم کو ہندوئوں یا نام نہاد ہندستانی قومیت کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھا دیا ہے (علامہ اقبال - چند جہتیں، ڈاکٹر مختار احمد مکّی، ص ۱۵۸)۔

یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم ذرا باریک بینی سے علامہ اقبال کے خطبہ الٰہ آباد کی طرف رجوع کریں ۔ اس خطبے میں علامہ اقبال نے اسلام کے تصور قومیت پر روشنی ڈالی ہے اور بھارتی قوم پرستی کے اس تصور کو جس کی وکالت کانگریس کر رہی تھی، سختی سے رد کیا ہے۔ اس کے بعد علامہ اقبال اس تاریخی بیان کی طرف آتے ہیں، جس میں اسلام کے تصور قومیت کی بنیاد پر ہندستان کے شمال مغرب میں ایک علیٰحدہ وطن کا مطالبہ کیاگیاہے:

I would like to see the Punjab, North West Frontier Province, Sindh and Baluchistan amalgamated into a single state. Self government within the British empire or without British empire, the formation of a consolidated north-west-Indian Muslim state appears to me to be the final destiny of the Muslim, at least of north- west-India.

میری خواہش ہے کہ پنجاب، صوبہ سرحد، سندھ اور بلوچستان کو ایک ریاست میں ضم کردیا جائے۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ خودمختارحکومت، خواہ سلطنت برطانیہ کے اندر ہو یا سلطنت برطانیہ کے باہر ہو، ایک مربوط مغربی ہندو مسلم ریاست کی تشکیل مسلمانوں کی کم از کم شمال مغربی ہند کے مسلمانوں کی تقدیر ٹھیرے گی۔

مندرجہ بالا اقتباس حسن جعفر زیدی نے نقل کرتے ہوئے دو اعتراضات وارد کیے ہیں: پہلا یہ کہ نہ تو اس خطبے کا مکمل متن پڑھا جاتا ہے اور نہ درسی کتابوں میں پڑھا یا جاتا ہے‘‘۔ اور دوسرا یہ کہ: ’’اردو کی کتابوں میں لفظ ریاست کے ساتھ’خود مختار‘ اور انگریز درسی کتابوں میں autonomous کے لفظ کا اضافہ کیا جاتا ہے، جو اصل خطبے میں نہیں ہے‘‘(نقاط۸،ص۱۰۴)۔

درسی کتابوں کا معاملہ مرتبین پر چھوڑتے ہیں۔ جو اقتباس ہم نے اُوپر انگریزی میں دیا ہے اس میں لفظautonomousنہیں ہے۔ یوں اگر کسی جگہ یہ درج کیا گیا ہے، تو یہ اعتراض بالکل بجا ہے۔ مندرجہ بالا انگریزی بیان اور اس کے اردو ترجمے سے اس بات کا اندازہ تو ہوتا ہے کہ اقبال نے شمال مغربی ہندستان میں ایک مسلم ریاست (صوبہ) کی بات واضح الفاظ میں کی ہے اور مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کے صدارتی خطبے کے دوران کی ہے تو اس سے اس بیان کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔

پاکستان کے قیام کے حوالے سے علامہ اقبال نے نہ صرف خطبہ الہ آبادمیں ایک تصور کی تشکیل کی، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے قائد اعظم کو ہندستان واپس آ کر کُل ہند مسلم لیگ کی قیادت کرنے پر بھی مائل کیا۔ اس کے ساتھ انھوں نے اسلام کے تصور قومیت کے حوالے سے قائداعظم کی فکری راہنمائی بھی کی۔ دوسری گول میز کانفرنس کی ناکامی سے دل برداشتہ ہو کرمحمد علی جناح کو اقبال نے خطوط لکھےاور ۱۹۳۷ءمیں ہندستان کے مختلف صوبوں میں قائم ہونے والی کانگریس وزارتوں کے طریق کار نے محمد علی جناح کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ہندستان میں مسلمان ایک اقلیت نہیں ہیں،بلکہ ایک الگ قوم ہیں۔ اس طرح بات مارچ ۱۹۴۰ءکی قرارداد لاہور تک آگئی۔ (جاری)

کیا ذبیحہ کے لیے تسمیہ شرط نہیں؟

سوال : یہاں کینیڈا میں شرقِ اوسط سے آئے ہوئے عرب بھائیوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ’’اہلِ کتاب کا ذبیحہ جسے قرآن میں حلال قرار دیا گیا ہے ، اُس کے تحت وہ تمام گوشت آجاتا ہے جو یہاں کی دکانوں میں فروخت ہوتا ہے۔ پھر یہ کہ جانور کو ذبح کرتے وقت اللہ اکبر یا بسم اللہ کہنا ضروری نہیں ہے، یعنی تسمیہ ذبح کے لیے شرط نہیں۔ جو گوشت بھی مشینوں سے کٹ کر بازاروں میں آتا ہے اُسے کھاتے وقت بسم اللہ کہہ دینا کافی ہے؟‘‘

جواب :یہ بات عجیب و غریب ہے کہ ذبح کے لیے تسمیہ شرط نہیں ہے۔ قرآن میں اللہ کا نام لے کر ہی جانور ذبح کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ ’’جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اُسے مت کھائو‘‘ (انعام۶:۱۲۱)۔ اہلِ کتاب کا ذبیحہ اور طعام اُنھی شرائط کے تحت حلال ہے، جو قرآن میں دوسرے مقامات پر مذکور ہیں۔ ورنہ اہلِ کتاب کے کھانے میں تو خنزیر بھی ہوتا ہے۔ اگر اہلِ کتاب کا کھانا (طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ) مطلقاً حلال ہوتا تو خنزیر کو بھی حلال ہونا چاہیے تھا۔ ان کے طعام کی حلِّت کے متعلق حکم ایسا مطلق نہیں ہے، جسے دوسرے قرآنی احکام مقیّد نہ کرتے ہوں۔ ہمارے ائمہ میں صرف امام شافعیؒ کا ایک قول مروی ہے کہ ’’مسلمان اگر اللہ کا نام نہ لے تب بھی اُس کا ذبیحہ حلال ہے‘‘، لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ ہرمسلمان کا عقیدہ اور نیت بھی یہی ہوتی ہے کہ وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کر رہا ہے، اس لیے اُس کا زبان سے ذکر نہ کرنا حلِّت پر اثرانداز نہیں ہوتا۔ امام شافعیؒ سے اس کے بالمقابل دوسرا قول بھی مروی ہے جس میں تسمیہ کو لازم قرار دیا گیا ہے۔ میرے علم میں کوئی دوسرا امام یا فقیہہ نہیں، جو بغیر تسمیہ کے ذبیحۂ اہلِ کتاب کو حلال سمجھتا ہو۔ (جسٹس ملک غلام علیؒ، ترجمان القرآن، جولائی ۱۹۷۷ء)


زکوٰۃ و عُشرکا مختلف سرکاری ٹیکسوں سے فرق

سوال :  ایک نشست میں زکوٰۃ و عُشر کا مسئلہ زیربحث آگیا۔ ایک صاحب نے فرمایا کہ عُشر دسویں حصہ پیداوارِ ارضی پر عائد ہوتا ہے ، اور زکوٰۃ جمع شدہ دولت کا صرف چالیسواں حصہ ہے، لیکن مالیہ اور آبیانہ اراضی کی پیداوار کے نصف پر تشخیص ہوتا ہے اور جمع شدہ دولت پر انکم ٹیکس ایک بھاری شرح سے لگایا جاتا ہے۔ یہ تمام ٹیکس وصول ہوکر حکومت کے بیت المال میں داخل ہوتے، رفاہِ عامہ، یعنی مدرسے، ہسپتال اور دیگر قسم کی ضروریاتِ عالم پر خرچ ہوتے ہیں۔ اس لیے عُشر اور زکوٰۃ کا دینا اب لازم نہیں آتا۔ مجھے اس رائےسے اتفاق نہیں تھا اور اپنی یہ رائے پیش کی کہ اوّل تو تحصیل اور انکم ٹیکس کے دفاتر بیت المال کی تعریف ہی میں نہیں آتے۔ دوسرے، ان رقوماتِ وصول شدہ کا مصرف حکمِ قرآنی کے مطابق نہیں ہوتا۔ آپ بتائیں کہ میری رائے صحیح ہے یا جج صاحب کی؟

جواب :زکوٰۃ کے متعلق پہلی بات یہ سمجھ لینی چاہیے کہ یہ ٹیکس نہیں ہے بلکہ ایک عبادت اور رکنِ اسلام ہے، جس طرح نماز، روزہ اور حج ارکانِ اسلام ہیں۔ جس شخص نے کبھی قرآنِ مجید کو آنکھیں کھول کر پڑھا ہے، وہ دیکھ سکتا ہے کہ قرآن بالعموم نماز اور زکوٰۃ کا ایک ساتھ ذکر کرتا ہے اور اسے اُس دین کا ایک رکن قرار دیتا ہے، جو ہر زمانے میں انبیائے کرامؑ کا دین رہا ہے۔ ایک اسلامی حکومت جس طرح اپنے ملازموں سے دفتری کام اور دوسری خدمات لے کر یہ نہیں کہہ سکتی کہ اب نماز کی ضرورت باقی نہیں ہے کیونکہ انھوں نے سرکاری ڈیوٹی دے دی ہے۔ اسی طرح وہ لوگوں سے ٹیکس لے کر نہیں کہہ سکتی کہ اب زکوٰۃ کی ضرورت باقی نہیں کیونکہ ٹیکس لے لیا گیا ہے۔ اسلامی حکومت کو اپنے نظام الاوقات لازماً اس طرح مقرر کرنے ہوں گے کہ اُس کے ملازمین نماز وقت پر ادا کرسکیں۔ اسی طرح اُس کو اپنے ٹیکسوں کے نظام میں زکوٰۃ کی جگہ نکالنے کے لیے مناسب ترمیمات کرنی ہوں گی۔

اس کے علاوہ یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ حکومت کے موجودہ ٹیکسوں میں کوئی ٹیکس اُن مقاصد کے لیے اُس طرح استعمال نہیں ہوتا، جن کے لیے قرآن میں زکوٰۃ فرض کی گئی ہے اور جس طرح اس کے تقسیم کرنے کا حکم ہے۔(جسٹس ملک غلام علیؒ،ترجمان القرآن، مارچ ۱۹۷۷ء)

فکرونظر، نثار احمد عابد۔ ناشر: دارالنوادر، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۴۷۳۴۴۶۳- ۰۳۳۲ صفحات:۱۵۸۔ قیمت: درج نہیں۔

تحریک ِ اسلامی کے سرگرم کارکن نثار احمد عابد کے ۳۲ مختصر مضامین میں خاصا تنوع ہے۔ دس عنوانات (ایمانیات، کتاب و سنت کی پیروی، اسوئہ رسولؐ، عبادات، قرآنیات، اقامت ِ دین، حقوق العباد وغیرہ) کے تحت مختلف موضوعات پر دو دو، چار چار صفحے کی یہ تحریریں کویت کے اخبار عرب  ٹائمز کے اُردو حصے میں شائع ہوتی رہیں۔ مستند اور ٹھوس معلومات پر مبنی مؤثر مضامین ہیں۔ بقول حافظ محمد ادریس: ’’کتاب کا ہرمضمون ایمان افروز اور سبق آموز ہے‘‘۔

دیباچے میں مصنّف کہتے ہیں: ’’اگر کسی ایک مضمون سے بھی کسی ایک فرد کا قبلہ درست ہوگیا اور وہ اسلام کی طرف مائل ہوا تو میں اسے اپنے لیے ایک بہت بڑی سعادت اور توشۂ آخرت سمجھوں گا‘‘۔ طباعت و اشاعت اطمینان بخش ہے (رفیع الدین ہاشمی)۔


مسئلہ فلسطین، ڈاکٹر محمد مشتاق احمد۔ ناشر: شیبانی فائونڈیشن، اسلام آباد۔ فون: ۵۹۱۵۲۸۷- ۰۳۳۳۔ صفحات: ۱۲۰،قیمت: ۴۰۰ روپے۔

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد، انٹرنیشنل اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آبادکی شریعہ فیکلٹی میں فقہ اور بین الاقوامی قانون پر گہری نظر رکھنے والے محنتی استاد اور محقق ہیں۔ ان میں قابلِ قدر صلاحیت یہ ہے کہ تحقیق اور اظہارِ بیان میں وہ کسی مصلحت کے اسیر نہیں۔ دینی مآخذ اور فہم کے تحت جو درست سمجھتے ہیں، حاضرو موجود کی پروا کیے بغیر لکھتے اور نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

زیرنظر بظاہر ایک مختصر کتاب ہے ، لیکن امرواقعہ ہے کہ مسئلہ فلسطین کے جملہ پہلوئوں پر بہت پھیلی، گہری اور گھمبیر صورتِ حال کو حددرجہ جامعیت اور اختصار سے مسئلے کی اہمیت کو پیش کیا ہے اور انسانیت کی ذمہ داری کو واشگاف لفظوں میں بیان کیا ہے۔

کتاب کے پہلے حصے میں مسئلہ فلسطین سے متعلق مغالطوں کا مؤثر تجزیہ کیا ہے۔ دینی حوالے سے بڑی خوبی سے استدلال کیا ہے۔ خاص طور پر پرانے منکرینِ حدیث اور نئے منکرینِ حدیث کی جانب سے صہیونیت نوازی اور فلسطین پر اسرائیل کے نوآبادیاتی قبضے کی تائید میں لکھی گئی داستان سرائی کا مدلل محاکمہ کیا ہے۔ دوسرے حصے میں مسئلہ فلسطین کو بین الاقوامی قانون اور عالمی رائے عام کی روشنی میں پرکھا ہے، اور تیسرے حصے میں فلسطینی جدوجہد آزادی کی تمام سطحوں کا نہایت اعلیٰ درجے پر تجزیہ کرکے حقیقت بیانی سے کام لیا ہے۔

کتاب کے ناشر اور نوجوان محقق مراد علی علوی نے خوش ذوقی سے اسے شائع کیا ہے، جب کہ ممتاز قانون دان اور دانش وَر جناب آصف محمود نے کتاب کا مؤثر تعارف لکھا ہے۔ یہ کتاب حق رکھتی ہے کہ اسے توجہ سے پڑھا جائے۔(س م خ)


بازدید، خورشید رضوی۔ ناشر: القا پبلی کیشنز، ۱۲-کے مین بلیوارڈ، گلبرگ ۲، لاہور۔ فون:۳۵۷۵۷۸۷۷- ۰۴۲۔ صفحات: ۲۳۴۔ قیمت: ۶۹۵ روپے۔

جناب خورشیدرضوی اِس وقت اُردو دُنیا کے تین چار چوٹی کے شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ ایک بلندپایہ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہت اچھے نثرنگار بھی ہیں۔ وہ عربی فارسی، انگریزی اُردو اور پنجابی زبانوں پر اچھی دسترس رکھتے ہیں۔

زیرنظر کتاب ان کے طویل اور مختصر شخصی خاکوں کا مجموعہ ہے۔ بقول مصنف: ’’یہ تحریریں چالیس سال کی قلم فرسائی پر مشتمل ہیں‘‘۔جن میں اُردو اور عربی زبان و ادب کے نام وَر ادیب، شاعر اور محقق شامل ہیں جیسے مولانا روحی، اختر شیرانی، احمد ندیم قاسمی، ڈاکٹر وزیر آغا، علّامہ عبدالعزیز میمن، پیرمحمد حسن، انتظار حسین، ناصر کاظمی، مشفق خواجہ، منیرنیازی، محمدکاظم اور انور مسعود ، نیرواسطی___ ان کے ساتھ کچھ نسبتاً غیرمعروف اصحاب کو بھی یاد کیا ہے۔

بعض خاکوں میں دل چسپ باتیں اور واقعات ملتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ معروف مستشرق مارگولیتھ لاہور آیا اور اسلامیہ کالج بھی گیا۔ مولانا روحی کی کلاس میں اس وقت آیا جب مولانا لیکچر دے رہے تھے۔ انھوں نے ڈائس کے اُوپر ہی سے کھڑے کھڑے مارگولیتھ سے ہاتھ ملا لیا۔ بعد میں مولانا نے بتایا: ’’جو ہاتھ میں نے مارگولیتھ سے ملایا تھا، اُسی وقت جا کر دھو لیا تھا‘‘ (ص۲)۔

ایک دلچسپ واقعہ یہ درج ہے کہ مولانا روحی کے فرزند صوفی ضیاء الحق کے پی ایچ ڈی کے مقالے کا ممتحن کوئی انگریز مستشرق تھا، جس نے زبانی امتحان کے لیے انھیں لندن طلب کیا تھا۔ مولانا روحی نے بیٹے کو لندن جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا اور صوفی صاحب نے والدصاحب کی اجازت کے بغیر سفر کا ارادہ ترک کردیا۔ پھر کچھ خیرخواہوں کی کوششوں سے مولانا روحی نے دوشرائط کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی:

اوّل، ضیاء الحق ہوائی جہاز سے جائے اور انٹرویو کے بعد فی الفور اوّلین ممکنہ پرواز سے واپس آجائے۔ دوم: اپنا کھانا یہیں سے باندھ کر لے جائے اور دیارِ فرنگ سے نہ کچھ کھائے، نہ پیے۔

صوفی صاحب نے کراچی سے کچھ ٹوسٹ وغیرہ لے کر ٹفن میں بند کرلیے اور والد صاحب کی ہدایت کے مطابق ہوائی جہاز سے لندن پہنچتے ہی ہوائی اڈے سے سیدھے ممتحن کے ہاں چلے گئے۔ ممتحن انٹرویو سے بہت مطمئن تھا۔اس نے پوچھا: لندن میں کب تک قیام ہے؟ بتایا کہ آیندہ پرواز سے واپسی ہے تو اُسے سخت حیرت ہوئی۔ ابھی ایک گھنٹے کے لگ بھگ وقت کی گنجایش تھی۔ ممتحن نے پوچھا: یہ وقت کہاں گزاریں گے؟ صوفی صاحب نے کہا: برٹش میوزیم لائبریری میں۔ چنانچہ وہاں گئے اور تھوڑا سا وقت وہاں گزار کرہوائی اڈّے چلے گئے۔ (ص۴۳)

خورشیدرضوی صاحب کا حافظہ بہت اچھا اور یادداشت مضبوط ہے۔ اس لیے انھوں نے دوستوں کے اُردو،انگریزی جملے تک خاکوں میں لکھ دیے ہیں۔ مجموعی طور پر ان کے اسلوب میں تازگی اور شگفتگی نے خاکوں کو دلچسپ بنا دیا ہے۔

ناشر نے کتاب خوب صورت انداز میں چھاپی ہے۔  (رفیع الدین ہاشمی)


برق بنام مہر، مرتب: امجد سلیم علوی۔ ناشر: شیخ غلام علی اینڈ سنز، لاہور۔ فون: ۳۷۳۵۲۹۰۸- ۰۴۲۔ صفحات: ۱۷۲۔ قیمت: درج نہیں۔

ڈاکٹر غلام جیلانی برق [۲۶؍اکتوبر ۱۹۰۱ء- ۱۲مارچ ۱۹۸۵ء] پنجاب کے دُور افتادہ  ضلع اٹک کے نواح میں واقع ایک پس ماندہ گائوں کے رہنے والے تھے۔ غریب گھرانا تھا، مگر والدین نے اپنا اثاثہ (زمین، مویشی اور کچھ سامان) بیچ کر بیٹے کو تعلیم دلوائی۔ وہ ایک سکول میں مدرس ہوگئے۔ اسی دوران وہ اپنی تعلیمی قابلیت کو بڑھانے کی کوشش کرتے رہے۔ آخر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرلی۔ محکمہ تعلیم کی سرکاری نوکری مل گئی۔ کئی برس ہوشیار پور کے کالج میں پڑھاتے رہے۔ پھر کیمبل پور کالج میں آگئے۔ امام ابن تیمیہ ؒ پر کام کرتے ہوئے انھوں نے مولانا غلام رسول مہر  [۱۳؍اپریل ۱۸۹۵ء- ۱۶نومبر ۱۹۷۱ء]سے بذریعہ خط کتابت رابطہ کیا۔ پھر وہ اپنی رہنمائی کے لیے مہرصاحب کو برابر خط لکھتے رہے۔ خطوں کا زمانۂ تحریر ۱۹۳۸ء تا ۱۹۶۸ء ہے۔ مہرصاحب حتی المقدور، برق صاحب کی راہ نمائی اور مدد کرتے رہے۔

برق صاحب کے بیش تر تفصیلی خطوط ان دنوں کے ہیں، جب وہ سرکاری ملازمت میں ترقی کے جائز حق میں مشکلات اور رکاوٹیں پیش آنے پر شدید کرب کا شکار تھے۔وہ بار بار مہرصاحب کو بتاتے ہیں کہ ایک ہی کالج میں یکساں ڈگری رکھنے والے ہندو اساتذہ کو، بہ نسبت مسلمان اساتذہ کے، زیادہ تنخواہیں ملتی ہیں اور ان کے گریڈ بھی بہتر ہیں۔ بااثر ہندو اور سکھ ان کی مدد کرتے ہیں۔ ایک خط میں لکھتے ہیں: ’’اگر میں ہندو یا سکھ ہوتا تو سندرسنگھ، منوہر لال، چھوٹورام اور مکند لال پوری میرے پشت پناہ ہوتے‘‘ (ص ۹۶)۔

اسی طرح وہ کہتے ہیں: ’’میں ایک غریب و بے نوا والد کے گھر پیدا ہوا کہ جو اَن پڑھ بھی تھا اور ہمارے علم نوازاور قدر شناس وزرا کے ہاں استحقاق کا معیار صرف نسلی تفوّق ہے۔ ٹوانہ خاندان کا میٹرک پاس کم از کم تحصیل دار بھرتی ہوگا۔ سر سکندر خان کے چند لڑکے جو چار چار بار بی اے میں فیل ہوئے تھے، بلامقابلہ EAC (ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر) و تحصیل داری میں لیے گئے۔ میرا سوٹ کیس علمی ڈگریوں سے بھر گیا ہے ‘‘ (ص ۹۵)۔

خطوں کا یہ مجموعہ اُردو خط نگاری کے ذخیرے میں ایک اچھا اضافہ ہے۔ اُمید ہے علوی صاحب، مہر صاحب کے نام دیگر شخصیات کے مکاتیب بھی اسی انداز میں منظرعام پر لائیں گے۔ (رفیع الدین ہاشمی)


قلم قتلے، ڈاکٹر انوار احمد بگوی۔ ناشر: الافتخار بگویہ فائونڈیشن ، دروازہ چک والا، بھیرہ، ضلع سرگودھا۔ فون: ۴۷۵۴۷۶۹- ۰۳۰۰۔ صفحات: ۴۷۲۔ قیمت: درج نہیں۔

مصنف میڈیکل ڈاکٹر ہیں۔حالیہ دنوں میں منصورہ ٹیچنگ ہسپتال کے منتظم اعلیٰ (C.E) کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ ان کی دلچسپی سیروسیاحت اور وابستگی قلم و قرطاس سے رہی ہے۔ دس بارہ تحقیقی و تجزیاتی کتابیں شائع کرچکے ہیں۔ زیرنظر کتاب موصوف کی ایسی متفرق مطبوعہ و غیرمطبوعہ تحریروں کا منتخب مجموعہ ہے۔

موضوعات متنوع ہیں ، سیاسی (الیکشن کمیشن کا فیصلہ، ۱۹۶۲ءکے انتخابات، ہمارا بلدیاتی نظام وغیرہ)، مذہبیات (کوچۂ سیاست اور مذہبی جماعتیں، دورِحاضر میں علماء کا وقار وغیرہ)، تہذیب و معاشرت (طلبہ و اخلاقی انحطاط کے عوامل اور ان کا علاج، صفائی اور پاکیزگی وغیرہ)، دین و دانش (تصوف اور تاریخ کی حقیقت، اُردو اور ہم، تعلیم کی اہمیت وغیرہ)۔ کتابیں میری نظر میں (اشاریہ تدبرقرآن، سوانح حیات مولانا حسین علی، حیاتِ سیّدنا معاویہؓ کے ناقدین وغیرہ)، پہاڑی کے چراغ (بعض شخصیات، مولانا امین احسن اصلاحی، محبوب سبحانی، محمدعالم مختارحق وغیرہ)۔ متفرقات میں سفرنامے، مکاتیب، صحت ِ عامہ وغیرہ شامل ہیں۔ حصہ انگریزی، چند مضامین اور مراسلوں پر مشتمل ہے۔

ان کی تحریر کی خوبی یہ ہے کہ مصنف نے مسائل کی نشان دہی اور ان پر تنقید ہی نہیں کی بلکہ تجزیہ بھی کیا اور امکانی حل پیش کیا، یوں ان تحریروں سے قارئین کو راہ نمائی بھی ملتی ہے۔

ڈاکٹر بگوی صاحب سادہ اور رواں دواں نثر لکھتے ہیں۔ علمی و مذہبی موضوعات پر بھی ان کا قلم کہیں اٹکتا نہیں۔ حسب ِ ضرورت انگریزی مترادفات کا استعمال ملتا ہے۔ طبّی اور انتظامی مصروفیات کے باوجود نوشت و خواند اور قلم و قرطاس سے رشتہ قائم رکھنا، ایک قابلِ قدر خوبی ہے۔

قارئین قلم قتلے کو ایک دلچسپ اورمعلومات افزا کتاب پائیںگے۔(رفیع الدین ہاشمی)


باتیں تڑپا دینے والی، مرتبہ: ابوعثمان عبدالرؤف، ناشر: مکتبہ صفدریہ، نزد مدینہ مسجد، ماڈل ٹائون، بی بلاک، بہاول پور، فون:  ۷۴۷۹۰۹۴- ۰۳۰۴۔ صفحات: ۲۲۴۔ قیمت: ۲۵۰ روپے۔

کتاب کے مرتب ایک ہائی اسکول میںاستاد رہے ہیں۔ انھوں نے دینی، اخلاقی، سماجی اور تاریخی حوالوں سے تربیت دینے کے لیے، بیسیوں کتب سے جو واقعات اخذ کرکے اپنے طالب علموں کو سنائے اور انھیں مؤثر پایا، یہ کتاب اُنھی اقتباسات پر مشتمل ہے۔ جو ایک قیمتی کتاب کی شکل میں سامنے آئی ہے۔ (س م خ)

کسی مسئلے میں کسی شخص یا گروہ سے اختلاف کرنا یہ معنی نہیں رکھتا کہ آدمی اس شخص یا گروہ کا مخالف ہے، یا اس کا دشمن ہے، یا جملہ مسائل میں اسے غلط کار سمجھتا ہے۔ آخر آپ حضرات خود شوافع، حنابلہ اور مالکیہ کی بہت سی آرا سے اختلاف کرتے ہیں، اور بسااوقات بڑے زور شور سے ان کی آراء کے خلاف استدلال کرتے ہیں۔ کیا اس کے یہ معنی لینے میں کوئی شخص حق بجانب ہوگا کہ آپ ان ائمۂ ثلاثہ اور ان کے پیرو علما کے مخالف ہیں اور ان کو قاطبۃً خطاکار قرار دیتے ہیں اور ان کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئے ہیں؟

اس لیے میری گزارش یہ ہے کہ آپ اپنے اس طرزِ فکر پر نظرثانی فرمائیں اور اختلاف رائے کو مخالفت و عداوت اور عناد کے ساتھ خلط ملط نہ فرمائیں۔

میرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ اصلاحِ باطن اور تزکیۂ نفس کا جو طریقہ قرآن و سنت اور عملِ صحابہؓ سے ثابت ہے وہی کافی ہے اور اسی پر ہمیں اکتفا کرنا چاہیے۔ اس سے بہتر کوئی دوسرا طریقہ نہیں ہے اور اس میں کمی و بیشی کرنا نہ درست ہے، نہ مفید۔ اس سے ہٹ کر جو طریقے جس نے بھی ایجاد کیے ہیں، یا دوسرے ادیان و ملل کے متبعین سے اخذ کیے ہیں، ان سے اجتناب کرناچاہیے۔ اس رائے میں اگر کوئی غلطی ہے تو آپ اس پر مجھے دلائل کے ساتھ متنبہ فرمائیں۔ میں پھر اس پر غور کروں گا۔ لیکن میں اس الزام سے براءت ظاہر کرتا ہوں کہ اس اختلاف رائے کی وجہ سے میں صوفیا کا مخالف ہوں، یا تصوف کا دشمن ہوں، یا اہلِ تصوف کو بالکلیہ مطعون کرتا ہوں۔(رسائل و مسائل، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۵۶،عدد ۵،اگست ۱۹۶۱ء، ص ۴۷-۴۸)