مضامین کی فہرست


اپریل ۲۰۱۵

محمد اسلم سلیمی ، لاہور

 ’اسلام اور ریاست: چند بنیادی مباحث‘ (مارچ ۲۰۱۵ئ)کے عنوان کے تحت ڈاکٹر انیس احمد صاحب نے اسلام میں تصورِ خلافت، استخلاف فی الارض، اسلام کا مخاطب: فرد یا جماعت، اسلام میں تصورِ قومیت کی جو تشریح قرآن و سنت کی روشنی میں فرمائی ہے، اُس نے روزنامہ جنگ میں ’جوابی بیانیے‘ کی اشاعت سے پھیلائے جانے والے مغالطوں کو ذہنوں سے صاف کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر انیس احمد صاحب کو جزاے خیر عطا فرمائے اور ان کی صلاحیتوں اور زورِ قلم میں اضافہ فرمائے۔ آمین! ’اسلامی معاشی ماڈل کے خدوخال‘ پڑھ کر علم میں اضافہ ہوا۔


عبدالرشید عراقی ، گوجرانوالہ

ڈاکٹر انیس احمد صاحب کا اداریہ ’اسلام اور ریاست کے‘ موضوع پر جامع اور علمی و معلوماتی ہے، جس میں ڈاکٹر صاحب نے بڑے مثبت انداز میں بحث کرتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ  (اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے)۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ ہر فرد کو اسلام اختیار کرنا چاہیے، چاہے   وہ عام فرد ہو یا کوئی حاکم۔ انھوں نے جامع انداز میں اسلامی ریاست کے بارے میں جو تشریح و توضیح فرمائی ہے وہ اپنے موضوع پر بہترین جواب ہے۔


گل زادہ شیرپاؤ، لاہور

مارچ ۲۰۱۵ء کا شمارہ سامنے ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس شمارے کا ہر مضمون دل کو چھونے والا اور دل و دماغ کے دروازے کھول دینے والا ہے تو مبالغہ نہیں ہوگا۔ بطورِ خاص ’دین کا حقیقی مقصد: نظامِ عدل کا قیام‘ ، ’مغرب کی انصاف پسندی کی حقیقت‘ اور ’اسلام کا تصورِ رواداری‘ دل کو موہ لینے والے مضامین ہیں۔

مطبوعات

ہفت روزہ ایشیا، بہ ادارت : ملک نصراللہ خاں عزیز۔ مقامِ اشاعت: گوالمنڈی، لاہور۔ قیمت: فی پرچہ ۴؍ آنے۔

یہ ’کوثر‘ مرحوم کا نعم البدل یا خلف الرشید ہے۔ حُسنِ ترتیب اور اقامت ِ معیار کے لیے ملکِ عزیز کا نام سب سے بڑی ضمانت ہے۔ مگر ملکِ عزیز نے کوثر کے مقابلے میں جو نئی شان ایشیا میں پیدا کردی ہے اسے دیکھ کر تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ملک صاحب جوں جوں بوڑھے ہوتے جارہے ہیں ان کا قلم جوان ہو رہا ہے۔ مستقل عنوانات کے تحت جو مواد ادب دیا جا رہا ہے اور جس تنوع کے ساتھ اسے مرتب کیا جا رہا ہے اس کے پیش نظر ہم یہ راے رکھتے ہیں کہ لاہور کے دوسرے تمام ہفت روزہ جرائد کو ایشیا نے سواے ایک گپ بازی اور سینمائی اشتہارات اور حکام کی بیگمات کی تصویروں کے اور ہر لحاظ سے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ البیرونی کا روزنامچہ تو ادبیت و مقصدیت کے لحاظ سے ایک تاریخی چیز ہوگیا ہے۔ سنجیدہ ذوق رکھنے والوں کو چاہیے کہ وہ مصور ایشیا کے چند پرچے دیکھ کر خود راے قائم کریں۔

اس ماہ کے مطبوعات (ص ۶۳-۷۲) میں درج ذیل کتب پر تبصرہ کیا گیا ہے: lاسباب زوالِ اُمت، علامہ امیرشکیب ارسلان، قیمت مجلد:۸؍ lتفسیر ابن کثیر، (اُردو)، قیمت: درج نہیں۔ lمکاتیبِ سلیمان، مرتبہ: مولانا مسعود عالم ندوی مرحوم،قیمت مجلد: سوا تین روپے۔ lاصحاب کھف، مرتبہ: عبیدالحق صاحب۔ قیمت: ۶؍ lسچّی باتیں، (حصہ اول)، انوارالحسن صاحب۔ قیمت: ۹؍ lالقرآن، مرتب: فروغ احمد۔ چندہ سالانہ: ۵ روپے، فی پرچہ ۸ آنے۔ lفردوس کی راہ، مرتبہ: منور سلطانہ روحی۔ قیمت: ۲ روپے ۱۲آنے۔ lدعوت الفطرت، محمدعطاء اللہ سلفی،قیمت: درج نہیں۔lمنتخب نظمیں، مرتبہ: کوثر نیازی، قیمت: ۸ ؍ lمعیار، (تنقید نمبر) مدیر: نجم الاسلام،قیمت تنقید نمبر: ۸؍ lاسلام کا فلسفۂ تاریخ،  پروفیسر عبدالحمید صدیقی، قیمت مجلد:۱۲؍ lفقہ الحدیث، مولانا سیّداصغرحسین ، قیمت مجلد:ایک آنہ۔ lماھنامہ مشیر، روح نمبر، مرتبہ: مرزا عبدالغفور بیگ، قیمت خاص نمبر: ایک روپیہ۔ lماھنامہ ھمایوں، میاں بشیراحمد، چندہ سالانہ: ساڑھے سات روپیہ،   فی پرچہ: ۱۰؍۔lتعمیرادب، مؤلف: عبدالغنی و عبدالواحد رحیمی صاحبان، قیمت: ۳؍ آنے۔  (’مطبوعات‘، ترجمان القرآن، جلد۴۴، عدد۱، رجب ۱۳۷۴ھ ، اپریل ۱۹۵۵ئ، ص ۷۲)

______________