حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت کا ایک دروازہ ہے، جس کا نام ریان (سیرابی) ہے۔ قیامت کے روز آواز دی جائے گی: ’’روزے دار کہاں ہیں؟ جب آخری روزہ دار داخل ہوجائے گا، تو یہ دروازہ بند کردیا جائے گا‘‘۔ (بخاری، مسلم)
حضرت ابوسعیدؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو بھی بندہ اللہ کی راہ میں اللہ کے لیے روزہ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے چہرے کو آگ سے ۷۰ خریف (۲۱۰میل) دُور کردیتا ہے‘‘۔ (بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، احمد، ابن ماجہ)
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم کا ہر عمل اس کے اپنے لیے ہے، سواے روزے کے، اس لیے کہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا‘‘۔ (احمد، مسلم، نسائی)
حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزہ اور قرآن قیامت کے روز بندے کی سفارش کریں گے۔ روزہ کہے گا: ’’اے رب! میں نے اس شخص کو دن کے وقت کھانا کھانے اور اپنی خواہشات پوری کرنے سے روکے رکھا، اس لیے اس کے معاملے میں میری سفارش منظور فرما‘‘۔ اور قرآن کہے گا: ’’اے رب! میں نے رات کے وقت اس شخص کو نیند سے بیدار رکھا، اس لیے اس کے معاملے میں میری سفارش منظور فرما‘‘۔(مسند امام احمد)
روزے کی چار قسمیں ہیں: ۱- فرض یا واجب ۲- نفلی یا مستحب ۳- مکروہ ۴-حرام۔
فرض روزوں کے علاوہ مندرجہ ذیل نفلی روزوں کا رکھنا سنت ہے:
۱- شوال کے چہے روزے: حضرت ابوایوب انصاریؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے، پھر اس کے بعد شوال میں چھے دنوں کے روزے رکھے، گویا اس نے ہمیشہ (یعنی سال بھر) روزے رکھے‘‘۔ (مسلم، ابوداؤد)
ان روزوں کو عیدالفطر کے اگلے روز (یعنی دو شوال) سے لگاتار بھی رکھا جاسکتا ہے اور پورے ماہِ شوال میں الگ الگ کرکے بھی۔ اس بارے میں اختلاف صرف افضل ہونے میں ہے۔
۲- ذی الحجہ کے ابتدائی نو دنوں کے روزے: حضرت حفصہؓ سے روایت ہے کہ چار چیزیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ترک نہ فرماتے تھے: ’’ایک عاشورا (۱۰محرم) کے دن کا روزہ، دوسرے ذی الحجہ کے پہلے عشرے (یعنی پہلی تاریخ سے نو تاریخ تک) کے روزے، تیسرے ہر ماہ میں تین دن کے روزے اور چوتھے فجر کی نماز سے پہلے دو رکعتیں‘‘۔ (احمد، نسائی)
حضرت ابوقتادہؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عرفہ کے دن (یعنی ۹ذی الحجہ) کا روزہ دو سالوں کے گناہ کا کفارہ کردیتا ہے، ایک وہ سال جو گزرا اور دوسرا وہ سال جو آیندہ آرہا ہے‘‘ (مسلم، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، احمد)۔لیکن عرفہ کے دن کا یہ روزہ اور اس کی یہ تاکید حاجیوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لیے ہے (اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے)۔ حاجیوں کے لیے اس روز عرفات کے میدان میں روزہ رکھنا مکروہ ہے۔
۳- محرم خصوصاً عاشورا کا روزہ:حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز کون سی ہے؟ آپؐ نے فرمایا: رات کے درمیانی حصے کی نماز۔ پھر سوال کیا گیا کہ رمضان کے بعد سب سے افضل روزہ کون سا ہے؟ فرمایا: اللہ کے اس مہینے کے روزے جسے تم محرم کہتے ہو‘‘۔ (احمد، مسلم، ابوداؤد)
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ اسلام سے پہلے قریش عاشورا (۱۰محرم) کا روزہ رکھا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہ روزہ رکھا کرتے تھے۔ جب آپؐ مدینہ تشریف لائے تو وہاں بھی آپؐ نے یہ روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی اس کے رکھنے کا حکم دیا‘‘۔ (بخاری، مسلم)
۱۰محرم کے ساتھ ۹ اور ۱۱؍ یا صرف ۹ محرم کا بھی روزہ رکھنا مسنون ہے۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عاشورا کے دن کا روزہ رکھو اور اس میں یہود (کے طریقے) کی مخالفت کرو اور (وہ اس طرح کہ) اس سے ایک دن پہلے (بھی) روزہ رکھو اور اس کے ایک دن بعد (بھی) روزہ رکھو‘‘۔ (احمد، بیہقی)
حضرت ابن عباسؓ ہی سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورا کے دن روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی اس کے رکھنے کا حکم دیاتو لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! اس دن کی تو یہود و نصاریٰ تعظیم کرتے ہیں۔ فرمایا: اگر اگلا سال آیا اور ہم زندہ ہوئے تو ہم ۹تاریخ کا (بھی) روزہ رکھیں گے۔ لیکن اگلے سال کے آنے سے پہلے ہی نبیؐ کا انتقال ہوگیا۔(مسلم)
۴- شعبان کے اکثر دنوں کے روزے:نبی صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں رمضان کے علاوہ باقی تمام مہینوں کی نسبت زیادہ روزے رکھا کرتے تھے۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ میں نے رمضان کے علاوہ نبی اکرمؐ کو کسی مہینے کے پورے دن روزے رکھتے نہیں دیکھا اور میں نے شعبان کے علاوہ نبی اکرمؐ کو کسی مہینے کے اکثر دن روزے رکھتے نہیں دیکھا‘‘۔(بخاری)
حضرت اُمِ سلمہؓ سے روایت ہے کہ شعبان کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سال کے کسی مہینے کے پورے روزے نہ رکھتے تھے۔ آپؐ شعبان کو رمضان سے ملا دیا کرتے تھے (یعنی اس کے آخر تک روزے رکھتے رہتے تھے)‘‘۔ (ابوداؤد، ترمذی، احمد، نسائی، ابن ماجہ)
حضرت اسامہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ’’اے اللہ کے رسولؐ! (کیا بات ہے کہ) میں آپ کو جتنے دن شعبان میں روزے رکھتے ہوئے دیکھتا ہوں، کسی اور مہینے میں نہیں دیکھتا۔ فرمایا: ’’رجب اور رمضان کے درمیان یہ ایک ایسا مہینہ ہے جس کی فضیلت سے لوگ غافل ہیں۔ یہ ایک ایسا مہینہ ہے جس میں اللہ رب العالمین کی طرف اعمال اُٹھائے جاتے ہیں، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ میرا عمل اس حال میں اُٹھایا جائے کہ میں روزہ سے ہوں‘‘۔ (ابوداؤد)
۵- رجب، ذی القعدہ ، ذی الحجہ اور محرم کے روزے: قبیلہ باھلہ کے ایک صحابیؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس سے اگلے سال پھر حاضر ہوئے اور اس وقت ان کی حالت اور شکل و صورت بدلی ہوئی تھی۔ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! آپؐ مجھے نہیں پہچانتے؟فرمایا: تم کون ہو؟ انھوں نے کہا: میں وہی باھلی (یعنی قبیلہ باھلہ کا آدمی) ہوں جو گذشتہ سال آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ آپؐ نے دریافت فرمایا: تو تم بدلے ہوئے کیوں ہو؟ حالانکہ پچھلے سال تمھاری شکل و صورت بہت اچھی تھی۔ انھوں نے کہا: جب سے میں آپؐ کے پاس سے گیا ہوں، میں نے دن کے وقت کبھی کھانا نہیں کھایا۔ صرف رات کو کھانا کھاتا رہا ہوں، یعنی برابر روزے رکھتا رہا ہوں۔ حضوؐر نے فرمایا: تم نے اپنی جان کو یہ عذاب آخر کیوں دیا؟ پھر آپؐ نے فرمایا: صبر کے مہینے (یعنی رمضان) کے روزے رکھو اور پھر ہر مہینے میں ایک روزہ رکھو۔ انھوں نے کہا: زیادہ کر دیجیے اس لیے کہ مجھ میں طاقت ہے۔ فرمایا: دو روزے رکھ لو۔ انھوں نے کہا: زیادہ کردیجیے۔ فرمایا: تین روزے رکھ لو۔ انھوں نے کہا: زیادہ کر دیجیے۔ فرمایا: حُرمت والے مہینوں میں روزے رکھ لو اور چھوڑ دو۔ حُرمت والے مہینوں میں روزے رکھ لو اور چھوڑ دو۔ حُرمت والے مہینوں میں روزے رکھ لو اور چھوڑ دو۔ اور آپؐ نے اپنی تین انگلیوں کو ملایا اور پھر انھیں چھوڑ دیا (یعنی حُرمت والے مہینوں میں بھی لگاتار روزے نہ رکھو، بلکہ تین دن روزہ رکھو اور تین دن میں نہ رکھو)۔(ابوداؤد)
اشہرالحرم میں نفلی روزوں کے صحیح ہونے پر اجماع ہے۔ بعض احادیث میں رجب میں خصوصیت کے ساتھ نفلی روزے رکھنے کی فضیلت آئی ہے، لیکن یہ تمام کی تمام احادیث انتہائی ضعیف ہیں اور اسی لیے امام احمد، بخاری، مسلم، ابوداؤد، نسائی، ترمذی اور ابن ماجہ میں سے کسی نے ان کو اپنی کتاب میں نقل نہیں کیا۔(الفتح الربانی، ج۱۰،ص ۱۹۶)
۶- ھفتہ اور اتوار کا روزہ: حضرت اُمِ سلمہؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمؐ دوسرے دنوں کی نسبت ہفتہ اور اتوار کو زیادہ روزے رکھا کرتے تھے اور یہ فرماتے تھے: ’’یہ دونوں دن مشرکین (یعنی یہود و نصاریٰ) کی عید ہیں، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ ان کے خلاف عمل کروں‘‘۔(احمد)
۷- پیر اور جمعرات کا روزہ: حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمؐ پیر اور جمعرات کا روزہ انتظار کر کے رکھا کرتے تھے۔(احمد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابوداؤد)
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہر پیر اور جمعرات کے دن اعمال پیش کیے جاتے ہیں، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اس حال میں پیش کیے جائیں کہ میں روزے سے ہوں‘‘۔ (احمد، ترمذی)
حضرت ابوقتادہؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پیر کے دن روزہ رکھنے کے متعلق دریافت کیا گیا، تو آپؐ نے فرمایا: ’’یہ وہ دن ہے جس میں میری پیدایش ہوئی اور مجھ پر وحی آنا شروع ہوئی‘‘۔(احمد، مسلم، ابوداؤد)
۸- ھر ماہ میں تین دن کے روزے: حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمؐ نے فرمایا: ’’اگر تم مہینے میں تین روزے رکھو تو ۱۳، ۱۴ اور ۱۵ تاریخوں کے روزے رکھو‘‘۔(احمد)
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ماہ میں ہفتہ، اتوار اور پیر کے روزے رکھتے تھے اور اس سے اگلے مہینے میں منگل، بدھ اور جمعرات کے‘‘۔(ترمذی)
ان احادیث کی بنا پر ہر ماہ تین دن روزے کے مستحب ہونے پر تمام ائمہ کا اتفاق ہے، البتہ ان کے تعیین میں اختلاف ہے۔ (الفتح الربانی، ج۱۰،ص ۲۱۲)
۹- ھر دو دنوں میں سے ایک دن کا روزہ: حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھ سے) فرمایا: ہر مہینے میں تین روزے رکھو۔ میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں۔ اسی طرح آپؐ مجھے زیادہ سے زیادہ دنوں کے روزے کی اجازت دیتے رہے، یہاں تک کہ آپؐ نے فرمایا: ایک دن روزہ رکھو، اور ایک دن نہ رکھو، اس لیے کہ یہ سب سے افضل روزہ ہے اور یہ میرے بھائی دائود ؑ کا روزہ ہے‘‘۔ (بخاری، مسلم)
نفلی روزے کے لیے نیت کے ضروری ہونے پر سب کا اتفاق ہے۔ جمہور ائمہ (جن میں امام ابوحنیفہؒ، شافعیؒ اور احمد بن حنبلؒ شامل ہیں) کے نزدیک نفلی روزے کی نیت کا رات سے ہونا ضروری نہیں ہے، بلکہ دن میں بھی اس کی نیت کی جاسکتی ہے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ ایک روز نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور دریافت فرمایا: ’’کیا تمھارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے؟‘‘ ہم نے کہا: نہیں۔ فرمایا: تب میں روزے سے ہوں‘‘۔ (مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)
اس چیز کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی حدیث میں نہیں ہے کہ دن میں نفلی روزے کی نیت کس وقت تک کی جاسکتی ہے۔ صحابہ اور ائمہ کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہے۔ حضرت علیؓ کے نزدیک نفلی روزے کی نیت زوال کے بعد بھی کی جاسکتی ہے۔ امام احمدؒ اور دوسرے ائمہ کا یہی مذہب ہے۔ امام شافعیؒ سے دونوں قسم کی روایات ملتی ہیں۔ امام مالکؒ کے نزدیک نفلی روزے کی نیت دن میں کی ہی نہیں جاسکتی، جیساکہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں۔(الفتح الربانی)
اس پر تمام ائمہ کا اتفاق ہے کہ جس شخص کا نفلی روزہ ہو، اس کے لیے جائز ہے کہ دن ہی میں اسے افطار کرلے۔ اگرچہ افضل یہ ہے کہ اسے پورا کیا جائے۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ ایک روز نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور دریافت فرمایا: ’’کیا تمھارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے؟‘‘ ہم نے کہا: ’’نہیں‘‘۔ فرمایا: ’’تب میں روزہ سے ہوں‘‘۔ پھر ایک دوسرے ر وز آپؐ تشریف لائے۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! ہمیں کچھ حیس (ایک کھانے کی چیز جو کھجور، پنیر اور گھی سے تیار کی جاتی تھی) تحفے میں ملی ہے۔ فرمایا: مجھے دکھائو۔ میں نے تو روزے کی حالت میں صبح کی تھی۔ اس کے بعد آپ نے وہ حیس کھائی‘‘ (مسلم)۔ امام نسائی کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: ’’نفلی روزہ رکھنے والے شخص کی مثال اس شخص کی ہے جو اپنے مال سے صدقہ نکالتا ہے۔ وہ چاہے تو یہ صدقہ دے دے اور چاہے تو اسے روک لے‘‘۔
۱- عیدالفطر اور عیدالاضحٰی: اس پر اجماع ہے کہ عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن روزہ رکھنا حرام ہے، خواہ یہ روزہ نذر کا ہو یا نفلی یا کفّارہ کا یا کوئی اور (نووی بحوالہ الفتح الربانی، ج۱۰، ص ۱۴۱)۔ حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دنوں کے روزے سے منع فرمایا ہے۔ عیدالفطر تو تمھارا (رمضان کے) روزوں سے افطار ہے اور عیدالاضحی کے دن تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھائو‘‘۔ (بخاری)
۲- ایامِ تشریق: ایامِ تشریق سے مراد عیدالاضحی کے بعد کے تین دن ہیں، یعنی ۱۱؍ ۱۲ اور ۱۳ ذی الحجہ۔جمہور صحابہ ، تابعین اور ائمہ کے نزدیک ان تین دنوں میں بھی روزہ رکھنا حرام ہے، خواہ وہ نذر کا روزہ ہو یا نفلی یا کفّارہ کا یا کوئی اور۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن حذافہؓ کو بھیجا کہ منیٰ میں گھوم کر یہ اعلان کردیں کہ ’’ان دنوں میں (یعنی تشریق کے دنوں میں) روزہ نہ رکھو، اس لیے کہ یہ کھانے پینے اور اللہ کو یاد کرنے کے دن ہیں‘‘ (احمد، دارقطنی)۔(حج میں ایسے شخص کے لیے جسے قربانی کا جانور نہ ملا ہو، تشریق کے دنوں میں روزہ رکھنے کے متعلق اختلاف ہے)۔
۳-شوھر کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ رکہنا: جمہور (جن میں امام مالکؒ، شافعیؒ اور احمد بن حنبلؒ شامل ہیں) کے نزدیک عورت کا اپنے شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ رکھنا حرام ہے۔(الفتح الربانی،ج ۱۰، ص۱۶۷)
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عورت اپنے شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر ایک دن بھی روزہ نہ رکھے، سواے رمضان کے۔ (بخاری)
۴-وصال کے روزے: وصال سے مراد یہ ہے کہ اس طرح دن رات مسلسل روزہ رکھا جائے کہ درمیان میں نہ سحری کھائی جائے اور نہ افطاری کی جائے۔ اکثر ائمہ (جن میں امام مالکؒ اور امام شافعیؒ شامل ہیں) کے نزدیک وصال کا روزہ حرام ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگرچہ بعض اوقات روزے میں وصال فرمایا کرتے تھے، لیکن اپنی اُمت کو حضوؐر نے اس سے منع فرمایا ہے۔ اس بارے میں متعدد احادیث مروی ہیں جن میں سے اختصار کے خیال سے صرف ایک حدیث نقل کرتے ہیں: حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: ’’روزے میں وصال سے بچو‘‘۔ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! مگر آپؐ خود وصال فرماتے ہیں؟‘‘ فرمایا: ’’اس بارے میں تم میری طرح نہیں ہو۔ میں اس طرح رات بسر کرتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔لہٰذا تم اتنا ہی کام کرو، جس کی تم طاقت رکھتے ہو۔(بخاری، مسلم، احمد)
۱-صرف جمعہ کا دن:جمہور (جن میں امام شافعیؒ اور امام احمدؒ اور عام محدثین شامل ہیں) کے نزدیک ہفتہ بھر میں صرف جمعہ کے دن کا روزہ رکھنا مکروہ ہے، لیکن اگر کوئی شخص اس سے پہلے کا بھی یا اس کے بعد کا بھی روزہ رکھے، یا کوئی شخص اپنی عادت کے مطابق روزے رکھ رہا ہو اور ان میں جمعہ کا دن آجائے، یا جمعہ کے دن عرفہ یا عاشورا آجائے، تو روزہ مکروہ نہیںہے۔
حضرت ابوایوب حجریؓ سے روایت ہے کہ ایک جمعہ کے روز نبی صلی اللہ علیہ وسلم (ام المومنین) حضرت جویریہؓ کے ہاں تشریف لائے۔ اس دن ان کا روزہ تھا۔ آپؐ نے ان سے دریافت فرمایا: ’’کیا تم نے کل بھی روزہ رکھا تھا؟‘‘ انھوں نے جواب دیا: ’’نہیں‘‘۔ پھر دریافت فرمایا: ’’کیا تم کل بھی روزہ رکھو گی؟‘‘ انھوں نے جواب دیا: ’’نہیں‘‘۔ فرمایا: تو روزہ توڑ لو‘‘۔(بخاری)
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جمعہ کے دن روزہ نہ رکھو، الا یہ کہ تم اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد میں بھی روزہ رکھو‘‘۔(بخاری، مسلم)
۲-صرف ھفتہ کا دن: جمہور کے نزدیک صرف ہفتہ کے دن روزہ رکھنا مکروہ ہے۔ عبداللہ بن بشرؒ اپنی بہن حضرت صمائؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہفتہ کے دن روزہ نہ رکھو، الا یہ کہ اس دن کوئی فرض روزہ آجائے۔ اگر تم میں سے کوئی شخص کھانے کے لیے انگور کی بیل کی ٹہنی یا کسی درخت کی چھال کے سوا کچھ نہ پائے، تو اس کو چبا لے‘‘۔ (ابوداؤد)
۳-شک کا دن:شک کے دن سے مراد ۳۰ شعبان ہے، اس صورت میں کہ ۲۹شعبان کو چاند نظر نہ آئے اور یہ بات قطعی طور پر معلوم نہ ہوسکے کہ کل ۳۰ شعبان ہے یا یکم رمضان؟
شک کے دن رمضان کے روزے کی نیت کرکے روزہ رکھنا ممنوع ہے۔ حضرت عمار بن یاسرؓ سے روایت ہے کہ جس شخص نے شک کے دن روزہ رکھا، اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی‘‘ (ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)۔لیکن اگر کوئی شخص روزہ رکھ لے اور اگلے دن یہ واضح ہوجائے کہ آج واقعی رمضان ہے، تو جمہو ر (جن میں مالکیہ، شافعیہ اور حنبلیہ شامل ہیں) کے نزدیک اگرچہ اس شخص کے لیے ضروری ہے کہ کھانے پینے سے رُکا رہے، لیکن اس کا وہ روزہ رمضان کا روزہ شمار نہ ہوگا اور بعد میں اس کے ذمے اس کی قضا ضروری ہوگی۔(نیل الاوطار)
۴-ھمیشہ روزہ رکہنا:حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: ’’جس شخص نے ہمیشہ روزہ رکھا (اللہ کرے)، وہ کبھی روزہ نہ رکھے‘‘۔ (بخاری)
حضرت ابوقتادہؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: ’’اے اللہ کے رسولؐ!وہ شخص کیسا ہے (یعنی اس کا عمل کہاں تک درست ہے) جس نے ہمیشہ روزہ رکھا؟‘‘ فرمایا: ’’وہ کبھی نہ روزہ رکھے اور نہ افطار کرے (یعنی آپؐ نے اس کے لیے یہ بددعا فرمائی) ، یا آپؐ نے فرمایا: اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ افطار کیا‘‘۔ (مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، احمد)
حضرت ابوموسٰیؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص نے ہمیشہ روزہ رکھا، اس پر اس طرح جہنم تنگ کردی گئی اور یہ فرماتے ہوئے آپ نے اپنی ہتھیلی کو بھینچا‘‘۔ (احمد)
ان احادیث کی بنا پر ہمیشہ روزہ رکھنے کی ممانعت پر سب کا اتفاق ہے۔ جمہور (جن میں ائمہ اربعہ شامل ہیں) کے نزدیک یہ ممانعت صرف اس شخص کے لیے ہے، جو اس طرح سال بھر روزہ رکھے کہ عیدین اور تشریق کے دنوں میں بھی روزے کے بغیر نہ رہے، یا یہ کہ وہ لگاتار روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہو یا لگاتار روزہ رکھ کر دوسرے حقوق کی ادایگی میں کوتاہی کرتا ہو۔ جو شخص ان چیزوں سے بچ کر ہمیشہ روزہ رکھے، اس کے لیے ایسا کرنا مستحب ہے، کیونکہ بعض صحابہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پے درپے روزہ رکھنے کی اجازت دی تھی۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ حمزہ اسلمیؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’اے اللہ کے رسولؐ! میں ایک ایسا آدمی ہوں، جو پے درپے روزے رکھتا ہوں۔ کیا میں سفر میں بھی روزہ رکھوں؟ فرمایا: اگر تم چاہو، تو رکھو اور اگر نہ چاہو تو نہ رکھو‘‘۔ (بخاری)۔ (بحوالہ فقہ السنہ ، انتخاب: ارشاد الرحمن)
خرم مراد: حیات و خدمات کا نیا ایڈیشن زیرترتیب ہے۔ جن افراد نے اُن کے ساتھ مختصر یا طویل عرصہ کے لیے کام کیا ہو، یا کسی وجہ سے رابطہ ہوا ہو یا رابطہ رہا ہو، اُن سے کوئی یادگار ملاقات ہوئی ہو، اس کی یاد یں اُن کے پاس امانت ہے۔ نئی نسل کو منتقل کرنے کے لیے اُن کی یادیں قلم بند فرما دیں۔ جزاھم اللّٰہ
نگارشات ہمیں ۲۰؍اکتوبر تک ذیل کے پتے پر پہنچ جائیں۔دسمبر ۲۰۱۵ء میں آپ کے ہاتھوں میں نیا ایڈیشن ہوگا،ان شاء اللہ !
مسلم سجاد
منشورات، منصورہ، ملتان روڈ، لاہور- فون: 042-35252211
manshurat@gmail.com, manshurat@hotmail.com
دنیا کی شاید ہی کوئی قابلِ ذکر زبان ہو، جس میں اللہ کی آخری ہدایت کی کتاب، قرآنِ مجید کا ترجمہ نہ ہوا ہو۔ اُردو میں بھی متعدد تراجم موجود ہیں، مگر مولانا مودودی نے اس کتاب کا ترجمہ نہیں کیا، بلکہ اس کی اُردو زبان میں ’ترجمانی‘ کی اور چھے جلدوں میں اس کی ایک مبسوط تفسیر بھی لکھی۔
مولانا کی تفہیم القرآن مع مختصر حواشی ، ایک جلد میں بھی دست یاب ہے۔پیش نظر کتاب ترجمان القرآن الکریم میں احمد ابوسعید صاحب نے کوشش کی ہے کہ ہر آیت کے مقابل اس کی ترجمانی بھی پڑھی جاسکے۔ آیت بہ آیت ترجمانی کے لیے موجودہ مرتب نے مولانا مودودی کے ترجمے کو بڑی حد تک برقرار رکھتے ہوئے بعض جملوں کی ساخت میں کچھ تقدیم و تاخیر بھی کی ہے (النساء ۴:۱۶۰-۱۶۱)، لیکن عبارت و الفاظ میں کوئی تبدیلی نہیں کی، تاہم جملوں کی ساخت کی تبدیلی سے تعقید رفع ہو جاتی ہے، اور عبارت زیادہ صاف ہوجاتی ہے۔ التزام کیا گیا ہے کہ ’ترجمانی‘ کی سطر، آیت کے مقابل ہو۔ ہرصفحہ نئی آیت سے شروع ہوتا ہے۔ عربی متن والے ہرصفحے کے ذیلی حاشیے میں بعض عربی الفاظ کے اُردو معانی بھی دے دیے گئے ہیں۔ مولانا مودودی کے ترجمے کے اصل الفاظ کے ساتھ بعض جملوں کی ہیئت اس طرح تبدیل کی گئی ہے کہ عام مفہوم کو سمجھنے میں کوئی دقّت نہ ہو۔
رسم الخط میں ایک اچھی تبدیلی یہ ہے کہ اُردو میں ذاتِ الٰہی کے لیے ’اللہ‘ لکھا جاتا ہے۔ مرتب نے التزام کیا ہے کہ املا ’اللہ‘ ہو ۔ ’خدا‘ کی جگہ بھی ’اللہ‘ یا ’رب‘ کا استعمال کیا گیا ہے اور ’خوفِ خدا‘ اور ’خدا ترسی‘ کی جگہ ’تقویٰ‘ ہی کا لفظ رکھا گیا ہے۔مرتب کہتے ہیں مولانا مودودی یقینا میری اس سعی کو پسند فرماتے، تاہم ہم مولانا مودودی کے ترجمۂ قرآنِ مجید مع مختصر حواشی، اشاعت ۱۹۷۳ء ، لاہور کے اصل نسخے کے مطابق من و عن نقل کرنے کی مقدور بھر سعی کی گئی ہے۔
پیش نظر ترجمان القرآن الکریم نہایت خوب صورت اور صاف عربی متن اور اُردو خطاطی کے ساتھ اچھے کاغذ پر خوب صورتی کے ساتھ طبع ہوا ہے جس پر مرتب اور ناشر مبارک باد کے مستحق ہیں۔(پروفیسر عبدالقدیر سلیم)
یہ الوقت فی حیاۃ مسلم کا اُردو ترجمہ ہے۔مؤلف نے وقت کی اہمیت کے حوالے سے کتاب کے مقدمے میں ایک انتہائی اہم تاریخی حقیقت بیان کی ہے: ’’دورانِ مطالعہ میں نے دیکھا کہ قرونِ اولیٰ کے مسلمان اپنے اوقات کے سلسلے میں اتنے حریص تھے کہ ان کی یہ حرص ان کے بعد کے لوگوں کی درہم و دینار کی حرص سے بڑھی ہوئی تھی۔ حرص کے سبب ان کے لیے علم نافع، عملِ صالح، جہاد اور فتح مبین کا حصول ممکن ہوا‘‘۔مزید یہ کہ ’’میں آج کی دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ رہتے ہوئے دیکھ رہا ہوں کہ وہ کس طرح سے اپنے اوقات کو ضائع کر رہے ہیں اور اپنی عمریں لُٹا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ اس سلسلے میں بے وقوفی سے گزر کر مدہوشی کی حد تک پہنچ گئے ہیں اور یہی سبب ہے کہ آج وہ قافلۂ انسانیت کے پچھلے حصے میں دھکیل دیے گئے ہیں حالانکہ ایک وہ بھی زمانہ تھا کہ اسی قافلے کی زمامِ کار ان کے ہاتھ میں تھی‘‘۔ (ص۱۰)
کتاب میں: قرآن و سنت میں وقت کی اہمیت، وقت کے بارے میں مسلمانوں کی ذمہ داری، مسلمانوں کی روزمرہ کی زندگانی کا نظام، انسان کا وقت ماضی، حال اور مستقبل کے درمیان، وقت کو برباد کرنے والی آفات سے آگاہی اور ضیاعِ وقت کے اسباب کو قرآن و حدیث کے جامع حوالوں کے ساتھ اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ وقت کی قدر کرنے کے لیے ۲۴گھنٹوں کا قابلِ عمل منصوبہ سامنے آتا ہے۔ وقت کے بہتر استعمال اور تربیت کے لیے اس عمدہ کتاب کا مطالعہ انتہائی مفید ہوگا۔(شہزاد الحسن چشتی)
کتاب میں کم عمری کی شادی کے حوالے سے تمام پہلوئوں سے جائزہ لیا گیا ہے: قرآن و حدیث کی روشنی میں کم عمری کی شادی، کم عمری کی شادی پر صحابہ و تابعین کا عمل اور صحابہ کرام اور علما کا اس کے جواز پر اجماع پر عمدہ گفتگو کی گئی ہے۔
کتاب پر حافظ ابتسام الٰہی ظہیر صاحب کا مقدمہ جامع تحریر ہے: ’’مخصوص طبقہ جو کم عمری کی شادی کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی سمجھتا ہے اس سے تعلق رکھنے والے بہت سے افراد اس حد تک آزاد خیال ہیں کہ ہم جنس پرستی کو جائزقرار دیتے ہیں اور اسکولوں کی سطح پر جنسی تعلیم کی وکالت کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں‘‘۔
کچھ عرصہ قبل اسلامی نظریاتی کونسل نے کم سنی کی شادی کو جائز قرار دیا تھا، جس کے بعد سندھ اسمبلی میں کم سنی کی شادی کے خلاف قرارداد پاس کی گئی۔ قرارداد کے مطابق دلھا اور دلھن کے والدین کو ایسی شادی کرنے کی صورت میں تین سال کی سزا کا سامنا کرنا ہوگا۔ دوسری طرف انسان حیران رہ جاتا ہے کہ بہت سے یورپی معاشروں میں کم عمری کی شادی کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔ یونان، اسکاٹ لینڈ، آسٹریا، بلغاریہ، کروشیا اور چیک ری پبلک سمیت بہت سے ممالک میں لڑکی کے لیے شادی کی عمر ۱۶برس، جب کہ ڈنمارک، ایستونیا، لتھوانیا، جارجیا میں شادی کی عمر کم از کم ۱۵ برس ہے۔ اسی طرح جنوبی امریکا کے ممالک بولیویا اور یوراگائے میں شادی کی عمر کم از کم ۱۴برس ہے۔ ویٹی کن سے شائع ہونے والے کیتھولک چرچ کی معروف قانونی دستاویز کے مطابق لڑکا ۱۶برس اور لڑکی ۱۴ برس میں شادی کرسکتے ہیں۔پاکستان میں خصوصاً وکلا، قانون دان، پارلیمنٹرین کو اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے۔(شہزاد الحسن چشتی)
آج کل اکثر اخباری کالموں کا علمی معیار،اتنا بلند نہیں کہ انھیں مستقل کتابوں کا حصہ بنایا جائے، لیکن عبداللہ طارق سہیل کا نام اس لحاظ سے بھی لائقِ توجہ ہے کہ یہ قلم کار صرف صحافی ہی نہیں بلکہ راست فکر، پختہ ذہن کے حامل دانش ور بھی ہیں۔ ان کی تحریریں علمی حقائق، ثقہ روایات اور معیاری تنقید و تبصرہ پر مشتمل ہوتی ہیں۔
زیرنظر کتاب، ان کے ۲۶ مارچ ۲۰۰۷ء سے ۹دسمبر ۲۰۱۱ء تک کے عرصے میں روزنامہ ایکسپریس میں شائع ہونے والے کالموں پر مشتمل ہے۔ ان کالموں میں ملکی، قومی اور عالمِ اسلام کے مسائل زیربحث آئے ہیں۔ اسی طرح عالمی سطح کے سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف اور مشرقی ممالک کے جاگیردارانہ نظام کی تباہ کاریوں کو زیربحث لاکر اسلامی نظامِ حیات کے خدوخال واضح کیے ہیں۔
کالم نگار کو عربی، انگریزی اور اُردو ادب سے خاص لگائو ہے۔ ان کی تحریر ادب، تاریخ، سیاسیات اور عصری معلومات سے معمور ہوتی ہے۔ انھیں عوامی مسائل کے حل سے دل چسپی ہے بالخصوص غربت، بے روزگاری، جہالت اور تشدد کے واقعات ان کی توجہات کا مرکز بنتے ہیں۔ قدیم و جدید تاریخی پس منظر میں مصنف نے واقعات و حوادث کا تنقیدی تجزیہ پیش کیا ہے۔ (ظفرحجازی)
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی بھارت کے ممتاز عالم دین ہیں۔ علمی حلقوں میں محتاجِ تعارف نہیں۔ عموماً علماے کرام ادیب نہیں ہوتے لیکن ان تحریروں میں مولانا ایک بلندپایہ ادیب کی حیثیت سے نظر آتے ہیں اور قاری علم و ادب اور دینی و ملّی خدمات سے متعلق اہم شخصیات کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کے ساتھ ادب کی چاشنی سے بھی لطف اندوز ہوتا ہے اور ایک کیفیت سے گزر جاتا ہے۔ اس کتاب میں ۴۵ شخصیات کا تذکرہ ہے۔ پہلے باب: ’بہارِ نادیدہ‘ میں وہ ہیں جن کو مصنف نے دیکھا نہ سنا جیسے مولانا قاسم نانوتوی، سرسیّداحمد خاں، ڈاکٹر محمد اقبال، ابوالکلام آزاد، عبدالماجد دریابادی اور دیگر۔ دوسرے باب: ’دیدہ و شنیدہ‘ میں وہ نام وَر ہستیاں جنھیں مصنف نے دیکھا اور سنا جیسے قاری محمد طیب، ابوالحسن علی ندوی، مجاہدالاسلام قاسمی وغیرہ۔ تیسرے باب: ’مشفق اساتذہ اور محسن احباب‘ میں ڈاکٹر محمود احمد غازی کا بھی تذکرہ ہے۔ چوتھے باب میں والدین اور ایک خاندانی بزرگ کا تذکرہ ہے۔
مصنف نے وضاحت کردی ہے کہ منصوبے کے تحت فہرست بناکر نہیں لکھا گیا ہے بلکہ کسی کی وفات پر، یا اجراے کتب کے موقع پر لکھی گئی تحریریں ہیں۔ مصنف نے ہرہرشخصیت کے عنوان میں شعر دیا ہے جیسے عبدالماجد دریابادی کے لیے: ’ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے‘ ،’کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں اور‘، اور ڈاکٹر حمیداللہ کے لیے: ’ڈھونڈو گے ہمیں ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیںہم___ کتاب کا مطالعہ بیسویں صدی میں پاک و ہند میں جو علمی، ادبی ، سیاسی سرگرمی رہی ہے اس سے بخوبی آگاہی دیتا ہے۔
مصنف کے اندازِ بیان کی جھلک دکھانے کے لیے علامہ اقبال کے بارے میں ابتدائی سطریں نقل ہیں:’’ یورپ دیدہ مگر کعبہ رسیدہ، دماغ فلسفی، دل صوفی، رازی کے پیچ و تاب سے بھی واقف، رومی کے سوز و گداز سے بھی آشنا، گفتار میں جوش، کردار میں ہوش، اسلوبِ شاعرانہ، طبیعت واعظانہ، شاعر مگر عارض و گیسو کے قصوں سے نفور، صوفی مگر مجاہدانہ جرأتوں سے معمور، علومِ جدیدہ کا شہسوار مگر ایمان و یقین سے سرشار، خود یورپ کے الحاد خانہ میں، دل حجاز کے خدا خانہ میں۔ اسی مجموعے کو اقبال کہا جاتا ہے ع خیرہ نہ کرسکا، مجھے جلوئہ دانش فرنگ / سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف‘‘۔ کتاب آپ ہاتھ میں لیں گے تو پڑھتے ہی چلے جائیں گے۔ (مسلم سجاد)
یہ کتاب ڈاکٹرہاشمی کے ۱۴۹ خطوط پر مشتمل ہے، جب کہ مکتوب الیہ ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر ان کے شاگرد ہیں۔ساحر صاحب ان کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کررہے تھے اورکچھ تساہل کا شکار تھے۔ مکتوب نگار نے یہ خط وقتاًفوقتاًانھیں متحرک کرنے اور تحقیقی کام کوآگے بڑھانے اورجلد سے جلد ختم کرنے کے لیے لکھے۔ کوئی خط ایک سطر پر ،کوئی دوپراورکوئی تین،چارسطروں پر مشتمل ہے۔ یوں یہ تمام خط ایجاز و اختصار کا عمدہ نمونہ ہیں۔ ان میں ایک استاد کااندازتربیت بھی جلوہ گر ہے۔خطوں کاایک اور نمایاں پہلو ڈاکٹر ہاشمی کی حِسّ لطافت بھی ہے۔ کہیں کہیں ہلکا مزاح ہے اورظرافت کے عمدہ نمونے بھی نظر آتے ہیں۔مرتب نے خطوں پرحواشی بھی لکھے ہیں جن سے عام قاری کے لیے متن کی تفہیم واضح اورروشن ہوجاتی ہے۔(قاسم محموداحمد)
o تاجدار مدینہؐ کی شہزادیاں، سلام اللہ صدیقی۔ ناشر: ادارہ بتول، ۱۴-ایف، سیّد پلازا، ۳۰-فیروز پور روڈ، لاہور۔ فون: ۳۷۴۲۴۴۰۹-۰۴۲۔ صفحات: ۴۸۔ قیمت: ۶۰ روپے۔[نبی کریمؐ کی چار صاحب زادیوں (حضرت زینبؓ، حضرت رقیہؓ، حضرت اُمِ کلثومؓ اور حضرت فاطمہؓ) کے اس مختصر مطالعۂ سیرت میں جہاں رسول اکرمؐ کی اپنی صاحبزادیوں سے محبت، ان کی تربیت کا احوال درج ہے، وہاں صاحبزادیوں میں دین کے لیے تڑپ اور راہِ خدا میں جس طرح سے قربانیاں پیش کیں اور ظلم و جبر سہا اس کا احوال بھی ہے۔ نیز سیرتِ رسولؐ اور اسلامی معاشرت کے مختلف گوشے بھی سامنے آتے ہیں۔ تزکیہ و تربیت کے لیے ایک مفید کتاب۔]
o خواتین کا مقام اور ذمہ داریاں ،ناشر: ادارہ معارف اسلامی، منصورہ، لاہور۔ فون:۳۵۲۵۲۴۱۹-۰۴۲۔ صفحات:۵۶۔ قیمت: ۴۵ روپے۔[جماعت اسلامی کی تاسیس کے زمانے سے خواتین بھی دعوتِ دین کی جدوجہد میں برابر شریکِ کار ہیں۔ اس کتابچے میں مولانا مودودی، قاضی حسین احمد اور محترم سراج الحق کی تقاریر کے حصوں کو یک جا کر کے، خواتین کی جدوجہد کی اہمیت کو واضح کیا گیا ہے۔]
o میرے درد کو جو زباں ملے، تالیف: آئی یوجرال۔ ملنے کا پتا: ۱۱۴-ڈی، ایف-۱، کشمیرپوائنٹ،میرپور، آزاد کشمیر۔ فون: ۵۶۳۸۷۵۰-۰۳۱۱۔ صفحات:۱۷۴۔ قیمت:۴۰۰ روپے۔[بزرگ صحافی انعام اللہ جرال (آئی یو جرال)کا یہ حاصلِ مطالعہ ہے۔ مختلف عنوانات کے تحت انسانی رویوں کی اصلاح، تزکیہ و تربیت، اطمینانِ قلب اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے قرآن و حدیث، سیرت، تاریخ اور معروف کتب سے اقتباسات، دل چسپ واقعات اور حکایات پیش کی ہیں۔ الحاد کے رد اور مغربی تہذیب سے متاثر جدید ذہن کے شبہات کے ازالے کے لیے ڈاکٹرغلام جیلانی برق کی تحریروں سے خاص طور پر استفادہ کیا گیا ہے۔ مؤلف کے نزدیک راہِ نجات رجوع الی اللہ اور خلافت ِ راشدہ کے نظام کی بحالی میں ہے۔]
’آئین، عدلیہ اور قرآن و سنت کی بالادستی‘ (ستمبر ۲۰۱۵ئ) پروفیسر خورشیداحمد صاحب کی باکمال تحریروں میں شامل ہونے کے لائق ہے۔ موضوع کا بہترین انداز میں احاطہ کیا گیا ہے۔ ملک بھر میں کسی فرد یا ادارے نے ایسا تجزیہ نہ کیا ہوگا۔ ’عرب دنیا: بھارتی سفارتی و عسکری یلغار‘ میں بھارتی ریشہ دوانیوں کی ایک جھلک پیش کی گئی ہے اور عرب ممالک کی پالیسی بھی سامنے آگئی۔ بہت بروقت شذرہ لکھا گیا۔ ’اُردو کا نفاذ ناگزیر کیوں؟‘ بہت اچھا اور بروقت مضمون ہے۔ تقریباً تمام پہلوئوں کا احاطہ ہوگیا اور عملی راہ نمائی بھی دی گئی ہے۔ طارق مہنا کی رُودادِ اسیری چشم کشا ہے، اور مغرب کے انصاف اور انسانی حقوق کے دعوئوں کی حقیقت کھول کر رکھ دیتی ہے۔ عالمِ اسلام کے مسائل کا کماحقہ احاطہ نہیں ہورہا۔ مصر، لیبیا، الجزائر، سوڈان اور شام کے مسائل منتظر توجہ ہیں۔ مسلم اقلیتیں بھی تذکرے کا حق رکھتی ہیں۔ جماعت اسلامی کے علاوہ یہ فرضِ کفایہ کون ادا کرے گا؟
ماہِ ستمبر کے شمارے میں ’۶۰ سال پہلے‘ کے تحت ’کارخانہ ہستی کا مشاہدہ‘ مولانا مودودی کی یہ تحریر ہمیں ہر وقت اپنے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہم دنیاوی کاموں میں اتنے مصروف ہوچکے ہیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہم میں اور حیوانات میں کوئی فرق نہیں رہا۔
مولانا سیّد مودودی کی ایک نایاب و غیرمطبوعہ کتاب ’فتوحاتِ آصفی‘ اب تک طباعت سے کیوں محروم ہے۔ اس مقالے کے مطالعے سے مولانا مرحوم کے ذوقِ مطالعہ اور وسعت معلومات کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ کتاب اگر اشاعت کے مرحلے سے گزر جائے تو ایک عظیم علمی خدمت ہوگی۔
جنرل حمیدگل مرحوم ایک عظیم انسان تھے۔ ان کے قول و فعل، گفتار و کردار میں تضاد نہیں تھا۔ بڑے جہاں دیدہ اور بے لوث اور محبت کرنے والے تھے۔ پروفیسر خورشیداحمد کی تحریر سے ان کی شخصیت کے کئی پہلو سامنے آئے۔
ماہِ ستمبر کا ترجمان اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے علم اور معلومات کا تنوع سمیٹے ہوئے ہے۔ ڈاکٹر معین الدین عقیل صاحب کے مضمون ’فتوحاتِ آصفی‘ (ص ۴۸) پر لکھا ہے کہ تاج، مسلم اور الجمعیۃ میں جو کچھ انھوں نے (مولانا مودودی) بحیثیت مدیر لکھا، ان کی تفصیلات معلوم و مرتب نہیں، جب کہ ادارہ معارف اسلامی منصورہ، لاہور کے تحت چار کتابیں (صداے رستاخیز، بانگِ سحر، جلوہ نور اور آفتاب تازہ) شائع ہوچکی ہیں۔ مولانا خلیل احمد حامدی مرحوم نے ان کتب میں الجمعیۃ دہلی میں شائع ہونے والے اداریوں اور مضامین کو مرتب کیا ہے۔ کیا یہ کتابیں ڈاکٹر معین الدین عقیل صاحب کے علم میں نہیں آسکیں؟
نئے ماہ کے آغاز ہی سے ترجمان کا انتظار شروع ہوجاتا ہے۔ ابتدائی چند دنوں میں اس کا مطالعہ کر کے اس کے مختلف مضامین دیگر احباب کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر مطالعہ کرانے کی کوشش کرتا ہوں۔ ماہِ ستمبر کا شمارہ بھی لاجواب ہے۔ تمام مضامین علم میں اضافہ اور عمل کے لیے جذبے کاباعث ہیں۔تاہم ڈاکٹر حسیب احمد کا مضمون ’اُردو کا نفاذ ناگزیر کیوں؟‘ وقت کی ضرورت ہے۔ انھوں نے نفاذِ اُردو کے تمام پہلوئوں کا احاطہ کیا ہے اور اس کے لیے قابلِ عمل تجاویز پیش کی ہیں۔ ہمارے ملک میں ’نفاذِ اُردو‘ تحریک کامیاب ہوگی ان شاء اللہ۔ ملک بھر میں نفاذِ اُردو کی اہمیت کو محسوس کرنے والے احباب کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر مشترکہ کوشش کرنی چاہیے۔
قرآنِ مجید کی تاویل و تعبیر کا صحیح طریقہ اچھی طرح سمجھ لیں۔ آپ جس آیت کے معنی سمجھنا چاہتے ہوں، پہلے عربی زبان کے لحاظ سے اس کے الفاظ اور ترکیب (construction) پر غور کریں۔ پھر اسے سیاق و سباق (context) میں رکھ کر دیکھیں.... اب میں آیت [لا اکراہ فی الدین] کو لیتا ہوں، جسے آپ نے مثال کے طور پر لیا ہے۔ اُس میں کہا گیا ہے کہ ’’دین میں کوئی جبر نہیں ہے‘‘۔ عربی زبان کے لحاظ سے ’دین میں‘ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک ’دین کو قبول کرنے یا اختیار کرنے کے معاملے میں‘ دوسرے ’دین کے نظام میں‘۔ ان دو تعبیروں میں سے کون سی تعبیر قابلِ ترجیح ہے؟ اس کا فیصلہ محض اس آیت کے الفاظ سے نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے آپ کو سیاق و سباق کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔
جس سیاق و سباق میں یہ آیت آئی ہے، وہ یہ ہے کہ پہلے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی صفات.... کی طرف قرآن دعوت دیتا ہے۔ پھر کہا گیا ہے کہ ’’دین میں کوئی جبر نہیں ہے‘‘۔ .... اس سیاق و سباق میں صاف طور پر یہ معنی [ہیں] کہ اللہ کے متعلق مذکورہ بالا عقیدہ کسی سے زبردستی نہیں منوایا جائے گا، صحیح عقیدے کو غلط عقائد کے مقابلے میں پوری وضاحت کے ساتھ پیش کردیا گیا ہے، اب جو کوئی غلط عقائد کو چھوڑ کر اللہ کو اُس طرح مان لے جس طرح بتایا گیا ہے، وہ خود فائدہ اُٹھائے گا اور جو ماننے سے انکار کرے وہ آپ ہی نقصان میں رہے گا۔ اس کے بعد آپ پورے قرآن پر ایک نگاہ ڈالیے [تو] آپ دیکھیں گے کہ متعدد جرائم کے لیے سزائیں تجویز کی گئی ہیں، بہت سی اخلاقی خرابیوں کو دبانے کا حکم دیا گیا ہے، بہت سی چیزوں کو ممنوع ٹھیرایا گیا ہے.... اور مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ رسولؐ اور اصحابِ امرکی اطاعت کریں۔ ان سب احکام کو نافذ (enforce) کرنے کے لیے بہرحال قوتِ جابرہ (coercive power) کا استعمال ناگزیر ہے، خواہ وہ ریاست کی طاقت ہو یا سوسائٹی کے اخلاقی دبائو کی طاقت۔ اس سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ ’دین میں کوئی جبر نہیں ہے‘ کہنے سے قرآن کا منشا یہ ہرگز نہیں ہے کہ اسلامی نظامِ زندگی میں سرے سے جابرانہ قوت کے استعمال کا کوئی مقام ہی نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ دین اسلام کو قبول کرنے کے معاملے میں جبر کا کوئی کام نہیں، جو قبول کرنا چاہے وہ اپنی آزاد مرضی سے قبول کرے اور جو قبول نہ کرنا چاہے، اسے کوئی زبردستی ایمان لانے پر مجبور نہ کرے گا۔(’ایک امریکن پروفیسر کے نام‘ ، سیّدمودودیؒ، ترجمان القرآن، جلد۴۵، صفر ۱۳۷۵ھ ، اکتوبر ۱۹۵۵ئ، ص۴۵-۴۷)
______________