مضامین کی فہرست


نومبر ۲۰۱۵

محمد شکیل ، ٹوبہ ٹیک سنگھ

’قراردادِ مقاصد: دستور سازی اور اعتراضات کا جائزہ‘ (اکتوبر ۲۰۱۵ئ) میں پروفیسر خورشیداحمد صاحب نے نہایت جانفشانی اور عرق ریزی سے قراردادِ مقاصد کا تاریخی پس منظر واضح کیا ہے اور ایسے گوشے سامنے لائے ہیں جو اکثر و بیش تر لوگوں کی آنکھوں سے اوجھل ہیں، اور اسے محض ایک رسمی سی قرارداد سمجھا جاتا ہے۔


محمد لطیف ، بہاول پور

’قراردادِ مقاصد‘ اور دستور سازی پر پروفیسر خورشیداحمد کے دو مقالات (ستمبر اور اکتوبر ۲۰۱۵ئ) بہت مدلل اور مؤثر ہیں۔ پاکستان کے اسلامی تشخص اور دستورِ پاکستان کی اسلامی شقوں کے بارے میں ہمارے ملک کا بالائی طبقہ اور بعض دانش ور مخالفت یا لاتعلقی کا جو رویہ اپنائے ہوئے ہیں، یہ اس کا رد ہے۔


بینا حسین ایڈووکیٹ ،رحیم یار خان

’اسلام فوبیا، مسلم دنیا اور امریکا‘ (ستمبر ۲۰۱۵ئ) میں طارق مہنا کا ایک امریکی قیدی کی حیثیت سے بیان امریکا کی انصاف پسندی کی حقیقت کھول کر رکھ دیتا ہے اور سیّد قطب شہید کے بارے میں (جولائی اور اگست میں ۲۰۱۵ئ) میں بہترین تحریریں پڑھنے کو ملیں۔ استقامت فی الدین کے یہ اعلیٰ نمونے عالمِ اسلام کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں۔


پروفیسر ایم نذیر احمد ، آزاد کشمیر

محترم خرم مراد صاحب کی ’’خرم مراد: حیات و خدمات‘‘ حصہ دوم کے بارے اکتوبر کے شمارے میں ضروری اعلان کیا گیا ہے۔ دسمبر میں اشاعت پیش نظر ہے۔ احباب سے گزارش ہے کہ جو اپنی یادوں کا سرمایہ بھیجنا چاہیں وہ ۲۰؍نومبر تک ضرور بھیج دیں۔ جن احباب نے لکھنے کا ارادہ کیا ہے۔ وہ اسے ملتوی نہ کریں۔ ۲۰ سال بعد یہ موقع مل رہا ہے، اس کا فائدہ اُٹھائیں۔

مسلم سجاد ، منشورات، منصورہ، لاھـور-فون:042-35252211

’قومی زبان: عدالت عظمیٰ کا تاریخی فیصلہ‘ (اکتوبر ۲۰۱۵ئ) میں درج مصرعہ ذوقؔ کا نہیں داغؔ کا ہے۔


عبدالباسط ، لاہور

ترجمان القرآن محض ایک رسالہ یا اسلام کے فضائل و برکات کے بیان کا سلسلہ نہیں، بلکہ یہ تحریک برپا کردینے اور قلوب و اذہان کو مسخر کر کے احیاے اسلام کی مؤثر جدوجہد میں شمولیت کا عملی راستہ دکھانے کا باعث رہا۔ آج بھی افکار و عمل کی یہ خوشبو رسالے کی سب سے مؤثر تشہیر کا باعث ہے۔ کیا ہم یہ گل دستہ پیش کرنے میں کامیاب ہیں؟

ذلّت کے سر پر رُسوائی کا تاج

اکتوبر ۱۹۵۴ء کی ایک شام یکایک یہ خبر لائی کہ گورنر جنرل بہادر نے سرے سے دستورساز اسمبلی ہی توڑ دی.... مگر اس انقلابی کارروائی کے معاً بعد جو آوازیں سننے میں آئیں وہ یہ تھیں کہ امریکی طرز کا ایک دستور نمایندگانِ ملک کے ذریعے سے مدوّن نہیں بلکہ ایک فرمانِ مبارک کے ذریعے سے مسلّط کیا جائے گا ، اور یہ کہ اسلامی ریاست نہ کبھی بنی ہے نہ بن سکتی ہے۔ مذہب کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مذہبی لوگ اگر اللہ اللہ چھوڑ کر سیاست میں دخل دیں گے تو کیفرکردار کو پہنچائے جائیں گے، بلکہ شاید ان کا پارسل بھی کہیں روانہ کیا جانے والا تھا ....

انڈی پنڈنس ایکٹ کی نئی قانونی تعبیر ملکۂ برطانیہ کے نمایندے کو مالک الملک بنا چکی ہے اور اس اسمبلی کا وجود و عدم اُس کی مرضی پر منحصر ہے.... ایک فردِ واحد اسے قانون کی حیثیت بھی دے سکتا ہے اور ردّی کی ٹوکری میں بھی پھینک سکتا ہے۔ نئی قانونی تعبیر نے یہ اختیارِ مطلق اُسی ملکۂ برطانیہ کے نمایندے کو سونپا ہے....گذشتہ ماہ جولائی میں اس اسمبلی کے اجلاس شروع ہوئے۔ اس موقعے پر اس کے ارکان کو توجہ دلائی گئی کہ سابق دستور ساز اسمبلی جو کام کرچکی ہے اس پر پانی نہ پھیرا جائے ....مگر اب جو خبریں پردے کے پیچھے سے چھن چھن کر آرہی ہیں وہ یہ ہیں کہ نیا دستوری خاکہ اُن تمام اسلامی دفعات سے خالی ہے جو پچھلی اسمبلی میں طے ہوئی تھیں اور اسلام کا جو تھوڑا بہت نام و نشان اس میں پایا جاتا ہے اُسے بھی خارج کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ مخلوط انتخاب کی تجویز اُس پر مزید، اور قراردادِ مقاصد تک کو اُڑا دینے کی افواہیں اس پر مزید علی المزید:__ اب یہ بات کچھ سمجھ میں آنے لگی ہے کہ.... اس مرتبہ ان کی توپوں کا رُخ براہِ راست جماعت اسلامی کی طرف کیوں ہے؟

 ....لیکن ہم یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ اگر خدانخواستہ یہ خاکہ ویسا ہی ہے جیسا بیان کیا جاتا ہے تو پچھلے آٹھ سال کی داستان پر یہ تازہ اضافہ گویا ذلّت کے سر پر رُسوائی کا تاج ہے۔

(اس ہشت سالہ رُوداد پر جو شخص بھی غور کرے گا اس سے یہ بات پوشیدہ نہ رہے گی کہ اس ملک میں خود مسلمانوں کا ایک نہایت بااثر طبقہ ایسا موجود ہے جو ساری قوم کے علی الرغم اسلامی ریاست کے تخیل کی مزاحمت کر رہا ہے اور اسے یہ چیز اتنی ناگوار ہے کہ وہ اسے زک دینے کے لیے اخلاق، دیانت اور حُب ِ وطن کے کسی تقاضے کو بھی پامال کردینے میں باک نہیں رکھتا)۔ (’اشارات‘، ابوالاعلیٰ مودودی،  ترجمان القرآن، جلد۴۵،عدد۳، ربیع الاول ۱۳۷۵ھ ،نومبر ۱۹۵۵ئ، ص۶-۷)

______________