مضامین کی فہرست


دسمبر ۲۰۱۵

پاکستان بجا طور پر اپنی تاریخ کے اہم ترین دور سے گزر رہا ہے ، جس میں بہت سے عوامل شامل ہیں۔ ان میں خاص طور پر نوجوانوں کی اکثریت پر مشتمل آبادی بھی ہے۔ راے عامہ کے جائزوں اور بین الاقوامی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کا حصہ ۶۲فی صد سے بھی زیادہ ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان ۲۰۴۵ء تک ’ینگستان‘ یا ’جوانستان‘ رہے گا۔

نوجوانوں پر مشتمل آبادی، جہاں پاکستان کے لیے بہت بڑی نعمت ہے، وہیں ایک چیلنج بھی۔ امکانات پر مشتمل مستقبل بھی سامنے ہے اور فکرمندی کے کئی پہلو بھی۔ اصل چیلنج نوجوانوں کی اس بڑی تعداد کو پاکستان اور اسلام کے ساتھ جوڑے رکھنا ہے۔ پس ماندگی، کم علمی، مایوسی، بے روزگاری،  بے عملی، دین سے دُوری، دہشت گردی، بے سمت زندگی اور کسی نظریاتی تحریک کا نچلی سطح پر رہنمائی اور مشاورت کا مضبوط و وسیع نیٹ ورک نہ ہونا ہر دردمند دل کو پریشان کیے ہوئے ہے۔

پاکستان کے نوجوان، مغرب کا خاص ہدف ہیں۔ مغربی ادارے، این جی اوز اور سفارت خانے ان نوجوانوں کے بارے میں مسلسل تحقیق اور جستجو میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ کسی طرح آبادی کا یہ حصہ ’سیکولر‘ (بے دین یا دین سے لاپروا) اور ’لبرل‘ یعنی اخلاق و اقدار سے آزاد اور مادر پدر آزادی کا خوگر ہوجائے۔ پھر مزید آگے بڑھ کر مغربی تہذیب کے ایجنڈے کے اپنے معاشرے میں نفاذ کے عمل میں شامل ہوجائے۔ اس کام کے لیے کچھ اندازوں کے مطابق اربوں روپے سے ’کوششوں‘ کا آغاز ہوچکا ہے۔پاکستان میں نوجوانوں کی اس ’ذہنی تطہیر‘ کے لیے جو ادارے کام کر رہے ہیں، ان میں یو-ایس ایڈ، برٹش کونسل، جرمن، یورپی یونین، فرانس اور اٹلی کے ادارے خاص طور پر نمایاں ہیں۔ یہ ادارے جان دار منصوبہ بندی، کارگر حکمت عملی، دیرپا اور تسلسل سے کام اور اکیسویں صدی کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد تک پہنچنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔یہ عموماً غیر سیاسی اور غیر مذہبی لبادہ اُوڑھ لیتے ہیں۔ معاشرتی سدھار اور علاج معالجے میں مدد کی فراہمی کا بینر تھام لیتے ہیں۔

برٹش کونسل کا مطالعہ اور نتائج

ان منصوبوں پر کام کرنے والوں میں ’برٹش کونسل‘ بھی شامل ہے، جس نے ۲۰۰۹ء میں پاکستان کے نوجوانوں کے حالات جانچنے کے لیے ایک سروے کروایا تھا۔ اُس سروے کے نتائج سے پاکستانی نوجوانوں کے بارے میں درج ذیل نکات واضح طور پر سامنے آئے ہیں:

                ۱-            پاکستان کے نوجوان کچھ کرنا چاہتے ہیں،

                ۲-            وہ اپنے ملک سے محبت رکھتے ہیں،

                ۳-            وہ آگے بڑھنا اور کچھ کرنا تو چاہتے ہیں، مگر انھیں رہنمائی کرنے والے نہیں ملتے،

                ۴-            وہ مختلف مہارتیں (skills) سیکھنا چاہتے ہیں ، لیکن رہنمائی اور مناسب تربیت کے لیے ادارے موجود نہیں،

                ۵-            وہ اپنی شخصی تربیت اور اچھی نشوونما سے دل چسپی رکھتے ہیں،

                ۶-            وہ معاشرے کی بہبود (بھلائی اور رفاہِ عام) پر یقین رکھتے ہیں۔

ان نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے برٹش کونسل نے پاکستان بھر سے ۱۰۰ ماہرین پر مشتمل مختلف کمیٹیاں بنائیں اور اُن سے پاکستانی نوجوانوں میں اثرونفوذ کے لیے تجاویز طلب کیں۔ اُن ماہرین کی تجاویز پر برٹش کونسل نے ایک پروگرام ترتیب دیا، جس کا ایک بے ضرر اور بھلا سا نام ’فعال شہری‘ (Active Citizen) پروگرام رکھا۔ یہ پروگرام عام نوجوانوں کے لیے اکتوبر ۲۰۱۴ء سے جاری ہوچکا ہے۔ اِس پروگرام کی خاص بات یہ ہے کہ یہ نوجوان کو خوب صورت انداز میں ان کی ’شخصی ترقی‘ (پرسنیلٹی ڈویلپمنٹ) کو بنیاد بناتے ہوئے اپنی گرفت میں لے لیتا ہے، اور آخرکار انھیں سیکولر بنا دیتا ہے۔ تقریباً ۸۰ہزار سے زائد نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ملک کے ہرعلاقے سے اس پروگرام میں اب تک شرکت کرچکے ہیں۔

برٹش کونسل ’فعال شہری‘ پروگرام کو پاکستان بھر میں پھیلی ہوئی اور سیکولر ایجنڈے پر کام کرنے والی این جی اوز کے ساتھ مل کر آگے بڑھا رہی ہے۔ اِن این جی اوز کی اکثریت، غیرملکی کثیر عطیات کے ذریعے نوجوانوں میں اپنی اقدار سے بے پروائی، مخلوط ماحول کی پسندیدگی، حیاوحجاب سے دُوری اور دین بیزاری پیدا کر رہی ہیں۔

برٹش کونسل نے یہ پروگرام دنیا بھر میں اُن ممالک میں شروع کیا ہے، جہاں وہ امریکا کے ساتھ مل کر ذہنی و معاشرتی تبدیلی، عسکری و اقتصادی مفادات کے حصول اور مغربی تہذیب کے فروغ اور آبیاری کا مشترکہ ایجنڈا رکھتی ہے۔ اِس پروگرام میں شامل ممالک میں تنزانیہ، سری لنکا، یوکرین، ترکی، پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان اور مصر خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ یہ وہ ممالک ہیں جہاں ’نوجوان آبادی‘ کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ یہ منصوبہ طویل المیعاد بھی ہے اور وسیع الاطراف بھی۔ اس کے اثرات اِن معاشروں پر مرتب ہونا شروع ہوچکے ہیں ۔ کہیں زیادہ، کہیں کم۔

عام نوجوانوں میں ’فعال شہری‘ پروگرام کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے برٹش کونسل نے سال ۲۰۱۲ء میں اسے پاکستان کی دو جامعات میں ایک پائلٹ (آزمایشی) پروجیکٹ کے طور پر شروع کیا۔ یہ دو یونی ورسٹیاں ، کراچی کی ’بحریہ یونی ورسٹی‘ اور لاہور کی ’لاہور کالج فار ویمن یونی ورسٹی‘ تھیں۔

برٹش کونسل اور ھائر ایجوکیشن کمیشن

برٹش کونسل کے مطابق یہ پروگرام ان دونوں یونی ورسٹیوں میں کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ اس کامیابی کو سامنے رکھتے ہوئے برٹش کونسل نے ’فعال شہری‘ پروگرام کو پاکستان کی تمام جامعات میں بطور لازمی کورس پڑھانے کے لیے پاکستان کے ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کو شیشے میں اُتارا۔ ہمارے ملک کی بدنصیبی کہ ایچ ای سی نے اس پروگرام کے مواد، نتائج اور پاکستانی طلبہ پر اس کے ممکنہ اثرات سے بے نیازی برتتے ہوئے (یا پھر گورے کی عنایت سمجھتے ہوئے) ان سفارشات کو منظور کرلیا۔ اب یہ پروگرام برٹش کونسل ، ایچ ای سی کے ساتھ مل کر پاکستان کی تمام جامعات میں بطور کورس پڑھوائے گی۔ ایچ ای سی کی عاقبت نااندیش انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے، پاکستان کے لاکھوں طلبہ و طالبات اور ہزاروں اساتذہ کا طرزِفکر اور معیارِ ردّ و قبول تبدیلی کے دوراہے پر آن کھڑا ہوگا۔ جس میں مطلوب یہ ہے کہ دنیا کو اُس رنگین عینک سے دیکھنے کا خوگر بنایاجائے جو چشمہ اُن کی آنکھوں پر لگایا جانے والا ہے ، بلکہ لگایا جا رہا ہے۔

ذرا ہاتھ کی صفائی دیکھیے کہ ’فعال شہری‘ کے ظاہری مقاصد کتنے پُرکشش ہیں:

                ۱-            نوجوانوں کو مثبت، مفید اور متحرک شہری بنانا۔

                ۲-            طلبہ میں ایسی بیداری پیدا کرنا کہ وہ خود کو ہیجانی یا اشتعالی یا جذباتی کیفیات سے نکال کر اپنے مسائل خود حل کرسکیں۔

                ۳-            دوسرے مذاہب اور تہذیبوں کے افراد کے ساتھ رہنے کے لیے اپنے اندر برداشت و رواداری پیدا کرسکیں۔

                ۴-            آگے بڑھ کر اپنی برادری (کمیونٹی) کے سماجی مسائل کو حل کرسکیں۔

مگر اس پروگرام پر گہری نگاہ ڈالنے والے اس کے چھپے ہوئے اہداف تک بآسانی پہنچ سکتے ہیں۔

اھداف

                ۱-            غیرملکی این جی اوز اور سفارت خانے یہ بات سمجھ چکے ہیں کہ وہ ہمارے تعلیمی نصاب میں کوئی بڑی تبدیلی بیک وقت نہیں کرا سکتے۔ نصابِ تعلیم تبدیل کرا کے اسے سیکولر بنانے کے اُن کے بیش تر حربے ، محب وطن اور اسلام پسند حلقوں کی شدید تنقید اور مزاحمت کی وجہ سے کامیاب نہیں ہوپائے۔ اب انھوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اسکولوں کے نصاب میں تبدیلیوں کی کاوشوں کے ساتھ ساتھ اپنا ایک مخصوص کورس، تعلیمی اداروں، جامعات اور بالخصوص ٹیچرز ٹریننگ اور تعلیمی و تدریسی افرادی قوت پیدا کرنے والے شعبوں میں پڑھائیں گے۔ ’فعال شہری‘ پروگرام اس سلسلے کی پہلی کوشش ہے جو شروع کی جاچکی ہے۔

                ۲-            برٹش کونسل کا ہدف ہے کہ: ’پاکستان کے ہائر ایجوکیشن کمیشن‘ کی سرپرستی میں اگلے پانچ برسوں میں جامعات میں پڑھنے والے تمام طلبہ و طالبات کو ’فعال شہری‘ پروگرام سے گزاریں۔

                ۳-            اس پروگرام کی خاص بات یہ ہے کہ پہلے مرحلے میں جامعات کے ہزاروں اساتذہ کو تربیت دی جارہی ہے، جو آگے چل کر طلبہ کو یہ کورس پڑھائیں گے۔ جامعات کے اساتذہ اُن کا خاص ہدف ہیں۔ انھیں ٹریننگ ورکشاپس کے ذریعے اس تربیتی عمل سے گزارا جارہا ہے۔

یہ غالباً پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوگا کہ اپنے طے شدہ نصاب سے ہٹ کر غیرملکی ایجنڈے کے مطابق تیار کردہ ایک نصاب بھی جامعات میں پڑھایا جائے گا۔

ذھنی تشکیل کے بنیادی نکات

’فعال شہری‘ پروگرام پر نظر ڈالنے سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آتی ہے کہ اس پروگرام کے ذریعے پاکستانی نوجوانوں میں دراصل درج ذیل سوچ و فکر بلکہ طرزِ فکر کو پروان چڑھانا مقصود ہے:

                ۱-            آپ کا مسلمان ہونا ثقافت (کلچر) کی وجہ سے ہے اور ثقافت تبدیل ہوسکتی ہے۔ لہٰذا، مسلم شناخت کوئی مستقل چیز نہیں، یہ تبدیل بھی ہوسکتی ہے۔ یہاں تک کہ مذہب بھی تبدیل ہوسکتا ہے۔ گویا اقدار، نظریات، شناخت اور ثقافت قابلِ تغیر ہیں، کوئی مستقل شے نہیں۔

                ۲-            آپ کی سوچ اور فکر بنانے میں ثقافت کا بڑا حصہ ہے۔ اگر ثقافت تبدیل ہوگی تو سوچ و فکر بھی تبدیل ہوسکتی ہے۔ یعنی آپ کو اگر سیکولر ملک جانا پڑے تو آپ کا سیکولر بننا کوئی عیب نہیں، بلکہ بن جانا ہی بہتر ہے۔

                ۳-            جن افکار و اقدار پر مسلم نوجوانوں کی شخصیت پروان چڑھتی ہے، اُن کے بارے میں شکوک یا عدم یکسوئی پیدا کرنا، تاکہ لوگ سوچیں کہ مسلمان بننا ثقافت کی ضرورت تھی یا محض ایک پیدایشی اتفاق تھا۔ یہ میری اپنی راے، پسند اور انتخاب نہیں۔

                ۴-            دوسروں کے مذاہب تبدیل کرانا ٹھیک نہیں۔ اُنھیں اُسی طرح قبول کریں جیسے وہ ہیں (یعنی مسلمان ’دعوتی‘ کام کرکے دوسروں کی شخصیت کو نہ بگاڑیں)۔ دوسروں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اُن سے ہم آہنگ ہونے کے لیے خود کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان لوگوں کی جانب سے ایک طرف تو یہ تربیت اور ذہن سازی ہے، جب کہ دوسری طرف یہ پیغام بھی دینا ہے کہ پاکستان میں دوسرے مذاہب کو تبلیغ کی اجازت دی جانی چاہیے۔ تبلیغ کرنا ان کا بنیادی انسانی حق ہے۔

                ۵-            نوجوانوں کے ذہن میں یہ بات ڈالنا کہ پاکستان بیک وقت اسلامی اور جمہوری ملک نہیں رہ سکتا کیوںکہ ’اسلامی‘ غیرواضح بھی ہے اور متنازع بھی۔ پھر یہ کہ اسلام میں جمہوریت کہاں ہے؟ (یہی بات مخالف کیمپ کے بعض لوگوں سے بھی کہلوائی جارہی ہے)۔

                ۶-            نوجوانوں کے ذہن میں یہ سوال ڈال دیا جائے کہ مذہبی لوگ آپ کے فیصلے کیوں کرتے ہیں؟ کسی کو بھی یہ حق نہیں کہ وہ دوسروں کے معاملات میں حتمی اور دوٹوک فیصلہ دے۔

                ۷-            نوجوانوں کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی جائے کہ نہ شادی ضروری ہے اور نہ شادی کے لیے مخالف صنف سے بندھن ضروری ہے، بلکہ ہم جنسی بھی ایک معمول کا سماجی عمل ہے، جس سے بدکنا دقیانوسیت ہے۔

                ۸-            موسیقی، ناچ گانا، مخلوط ماحول، آزادانہ دوستی وغیرہ کے بارے میں پسندیدگی بڑھائی جائے اور ان کا چلن عام کردیا جائے۔

                ۹-            عورت اور مرد میں جنس کے علاوہ کوئی فرق نہیں اور یہ جنسی فرق بھی بے معنی ہے۔

                ۱۰-         آپ کی زندگی کے فیصلے مذہب، رواج، اخلاق کی بنیاد پر کیوں کیے جاتے ہیں؟ پڑھا لکھا اور روشن خیال ثابت ہونے کے لیے اس روایت اور سوچ سے بغاوت ضروری ہے۔

پہلے مرحلے میں یہ پروگرام طلبہ و طالبات کو اُلجھن کا شکار اور اپنے مذہب و ثقافت اور اقدار کے بارے میں شکوک میں مبتلا کر دیتا ہے۔ بہت نرم روی سے نوجوانوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھائی جاتی ہے کہ: ’’وہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں سے کم تر ہیں۔ انھیں ایک ایسا فرد ہونا چاہیے جو ہر معاشرے میں قابلِ قبول ہو، ہرمعاشرے میں چل سکے، جس کی کوئی مستقل شناخت نہ ہو، مستقل اقدار نہ ہوں۔ ایک سیکولر طرزِ فکر اور ایک مادرپدر آزاد (لبرل) طرزِ زندگی ہی نوجوانوں کی ضرورت اور ان کے لیے مفید ہے۔

اس پروگرام کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ تمام باتیں، سوچ و فکر اور رویے، مختلف سرگرمیوں کے ذریعے سکھائے جاتے ہیں۔ کچھ زیادہ پڑھایا نہیں جاتا۔ طلبہ اور طالبات اس طرزِ زندگی کو مختلف سرگرمیوں کے دوران باقاعدہ برت کر دکھاتے ہیں۔ اساتذہ طلبہ کے لیے صرف سہولت کار ہیں اور یہ کہ طلبہ میں یہ تمام تبدیلیاں مختلف سرگرمیوں کے ذریعے پیدا کی جائیں۔

سوال : دو مقولے ہیں جنھیں ہم عام طور پر لوگوں کی زبانوں سے سنتے ہیں اور وہ دونوں مقولے ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ پہلا مقولہ یہ ہے کہ ’جلدبازی شیطان کا کام ہے‘ اور دوسرا یہ کہ ’سب سے بھلی نیکی وہ ہے، جو جلد کرلی جائے‘۔ کیا یہ دونوں مقولے حدیث نبویؐ ہیں؟ اگرہیں تو ان دونوں کے درمیان مطابقت کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟ اگر حدیث نہیں ہیں تو ان میں صحیح کون سا ہے؟

جواب: پہلا مقولہ تو ایک حدیث نبویؐ کا جزو ہے۔ پوری حدیث یوں ہے:

اَلْأَنَاۃُ مِنَ اللّٰہِ وَالْعُجْلَۃُ مِنَ الشَّیْطَانِ، ٹھیر ٹھیر کر عمدگی سے کام کرنا اللہ کی صفت ہے اور جلدبازی شیطان کی صفت ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ جلدبازی کو ہر زمانے میں اور ہرقوم نے ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا ہے۔ اس کے برعکس ٹھیر ٹھیرکر خوش اسلوبی کے ساتھ کام نمٹانے کی تعریف ہر زمانے کے  ذی شعور لوگوں نے کی ہے۔ اس مفہوم کا حامل ایک مشہور مقولہ ہے:

فِی التَّأَنِیّ اَلسَّلَامَۃَ وَفِی الْعُجْلَۃِ اَلنِّدَامَۃَ، سوچ بچار کر ٹھیر ٹھیر کر کام کرنے میں سلامتی ہے اور جلدبازی میں ندامت ہے۔

ابن قیمؒ فرماتے ہیں کہ جلدبازی کو شیطان کی طرف منسوب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جلدبازی میں جو فیصلہ کیا جاتا ہے اس میں ہلکا پن، غصہ اور طیش شامل ہوتا ہے جو بندے کو  وقار، بُردباری اور ثابت قدمی سے دُور کرتا ہے۔ چنانچہ اس کے نتائج اکثر و بیش تر بُرے ہی ہوتے ہیں۔

ایک حدیث نبویؐ ہے:یُسْتَجَابُ لِلْعَبْدِ مَا لَمْ یَسْتَعْجِلْ،’’بندے کی دعا قبول ہوتی ہے، اگر وہ جلدی نہ مچائے‘‘۔

رہا دوسرا مقولہ تو وہ کوئی حدیث نہیں ہے۔ البتہ حضرت عباسؓ سے اسی مفہوم کا قول مروی ہے، آپؓ نے فرمایا کہ: لَا یُتَمَّمُ الْمَعْرُوْفُ اِلَّا بِتَعْجِیْلِہٖ،’’بھلا کام اُسی وقت پورا ہوتا ہے جب اسے جلداز جلد کرلیا جائے‘‘۔

اس قول میں بھلائی کے کام کو جلد کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ نیکی اور بھلائی کے کاموں میں جلدی کرنا اور اس کی طرف تیزی سے لپکنا ایک پسندیدہ اور قابلِ تعریف صفت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ایسے لوگوں کی تعریف فرمائی ہے:

اُوْلٰٓئِکَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَھُمْ لَھَا سٰبِقُوْنَo (المومنون ۲۳:۶۱)   یہ لوگ بھلائیوں میں جلدی کرتے ہیں اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔

فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرَاتِ (البقرہ ۲:۱۴۸) بھلائیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جائو۔

چنانچہ یہ دوسرا مقولہ اپنے معنی و مفہوم کے اعتبار سے بالکل درست ہے۔ اگرچہ یہ حدیث نہیں ہے اور اس مقولے اور مذکورہ حدیث کے درمیان معنی و مفہوم کے اعتبار سے کوئی تناقض بھی نہیں ہے کہ مطابقت کی ضرورت ہو۔

علماے کرام نے ٹھیر ٹھیر کر کام کرنے کو قابلِ تعریف اور جلدبازی کو قابلِ مذمت تین شرطوں کے ساتھ ٹھیرایا ہے:

۱- پہلی شرط یہ ہے کہ وہ کام جس کا کرنا مقصود ہو، اگر اطاعت ِ الٰہی اور بھلائی اور نیکی کے دائرے میں آتا ہے، تو اس میں سبقت لے جانے کی کوشش کرنا اور اس میں جلدبازی کرنا، نہ صرف قابلِ تعریف ہے بلکہ یہی مطلوب و مقصود ہے۔ نبی اکرمؐ نے حضرت علیؓ کو ہدایت کی تھی کہ:  ’’اے علیؓ! تم تین چیزوں میں کبھی تاخیر نہ کرنا۔ نماز جب اس کا وقت ہوجائے، جنازہ جب سامنے لاکر رکھ دیا جائے اور کنواری لڑکی کا نکاح جب اس کا بَر مل جائے‘‘۔

مشہور عالمِ دین ابوالعیناء کو کسی نے جلدبازی سے منع کیا تو آپؒ نے جواب دیا کہ اگر ایسی ہی بات ہے تو حضرت موسٰی ؑ کبھی اللہ سے یہ نہ کہتے کہ:وَعَجِلْتُ اِلَیْکَ رَبِّ لِتَرْضٰی o (طٰہٰ ۲۰:۸۴) ’’اور اے رب، میں تیرے پاس جلدی چلا آیا تاکہ تو راضی ہوجائے‘‘۔

۲-  وہ جلدبازی قابلِ مذمت ہے ، جو بغیر غوروفکر اور تدبر کے ہو۔ کسی کام میں غوروفکر اور مشورہ کرلینے کے بعد اس میں ٹال مٹول سے کام لینا کوئی تعریف کی بات نہیں۔ یہ تو سُستی اور کاہلی کی علامت ہے۔ قرآن فرماتا ہے:

وَ شَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ ج فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ ط (اٰل عمرٰن ۳:۱۵۹)  اور دین کے کام میں ان کو بھی شریکِ مشورہ رکھو۔ پھر جب تمھارا عزم کسی راے پر مستحکم ہوجائے تو اللہ پر بھروسا کرو۔

۳- ٹھیر ٹھیر کر کام کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ انسان اتنی تاخیر کردے کہ مقصد ہی     فوت ہوجائے یا مطلوبہ کام کا وقت ہی نکل جائے ۔ اس لیے کہ وقت نکل جانے کے بعد کفِ افسوس ملنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوگا۔ (ڈاکٹر یوسف قرضاوی، فتاویٰ یوسف القرضاوی،  ترجمہ: سید زاہد اصغر فلاحی، اوّل، ص۵۵-۶۰، دسمبر ۱۹۹۸ئ)

انفاق فی سبیل اللہ کے باوجود تنگ دستی کیوں؟

س : ایک صحیح حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ ہر دن جب سورج طلوع ہوتا ہے تو دو فرشتے اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ! اپنی راہ میں خرچ کرنے والوں کو برکت و فضل عطا فرما اور بخل کرنے والوں کو بربادی۔ لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ اس دنیوی زندگی میں عملی طور پر بہت سے ایسے افراد ملیں گے، جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں لیکن پھر بھی ان کی تنگ دامانی نہیں جاتی اور بہت سے لوگ ایسے ہیں جو بخل سے کام لیتے ہیں اور دادِ عیش دے رہے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟

ج:آپ نے جس حدیث کا مفہوم پیش کیا، وہ ایک صحیح حدیث کا مفہوم ہے اور بخاری و مسلم میں اس طرح موجود ہے: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ہر دن جب شروع ہوتا ہے تو دوفرشے نازل ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک دعا کرتا ہے: اے اللہ! خرچ کرنے والے کو برکت عطا فرما، اور دوسرا بددعا کرتا ہے کہ اے اللہ! بخیل کے حصے میں بربادی رکھ دے۔

اسی مفہوم میں متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں۔ قرآن میں بھی متعدد آیات اسی مفہوم کو پیش کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَ مَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَھُوَ یُخْلِفُہٗ ج (السبا ۳۴:۳۹) ’’جو کچھ تم خرچ کر دیتے ہو اس کی جگہ وہی تم کو اور دیتا ہے‘‘۔

سوال کرنے والے کو اس حدیث کو سمجھنے میں جو غلط فہمی ہوئی ہے، وہ یہ کہ انھوں نے برکت اور بربادی کو مال ودولت کی حد تک محدود کر دیا ہے، جب کہ برکت کا مفہوم محض مال و دولت میں اضافہ اور بربادی کا مفہوم محض مال و دولت میں خسارہ نہیں ہے بلکہ اس کا مفہوم اس سے وسیع تر ہے۔ برکت کی بے شمار صورتیں ہوسکتی ہیں۔ برکت کبھی صحت و تن درستی کی شکل میں ملتی ہے تو کبھی نیک اولاد کی شکل میں۔ کبھی مال و دولت کی فراوانی کی صورت میں برکت ہوتی ہے تو کبھی محض معنوی برکت عطا ہوتی ہے، مثلاً ہدایت کی توفیق، سکونِ قلب اور لوگوں میں عزت و مقبولیت وغیرہ وغیرہ۔ ان سب پر مستزاد وہ اجر ہے، جو اللہ نے ان کے لیے آخرت میں تیار کر رکھا ہے۔ برکت کو محض دولت کے چند نوٹوں میں محصور کرلینا ایک زبردست غلط فہمی ہے۔ اس لیے کہ سبھی جانتے ہیں: ’’ذہنی سکون سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں‘‘۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَ بِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا ھُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَo (یونس ۱۰:۵۸) ’’کہو کہ یہ اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی ہے کہ یہ چیز اس نے بھیجی،  اس پر تو لوگوں کو خوشی منانی چاہیے، یہ ان سب چیزوں سے بہتر ہے جنھیں لوگ سمیٹ رہے ہیں‘‘۔

اسی طرح ’بربادی‘ کا مفہوم محض مال و دولت میں خسارہ نہیں ہے۔ بربادی کبھی بیماری کی صورت میں آسکتی ہے تو کبھی غیرصالح اولاد کی صورت میں۔ کبھی لوگوں میں نفرت کی صورت میں اور کبھی ذہنی خلفشار کی صورت میں۔کبھی انسان کو ایسی بے چینی اور خلش لاحق ہوجاتی ہے، جو ہزار نعمت کے باوجود مستقلاً اسے اندر ہی اندر گھلائے جاتی ہے۔ ان سب پر مستزاد وہ عذاب ہے جو اللہ نے اس کے لیے آخرت میں تیار کر رکھا ہے۔( ایضاً، ص ۵۷-۵۹)

اَلْوَلَاء وَلْبَرَاء فِی الْاِسْلَام  [اسلام میں دوستی اور دشمنی کا تصور]۔ تالیف: محمد بن سعید القحطانی ، ترجمہ: ابو احمد فرحان الٰہی۔ ناشر: تحریک تعمیر ملت،بی-۴۸، غلہ منڈی، بہاول پور ۔

شیخ محمد سعید القحطانی کی یہ تالیف ایسے زمانے میں منظر عام پر آئی ہے ،جب مسلم دنیا اندرونی اور بیرونی خطرات و خلفشار کا شکار ہے، اور ہر باشعور فرد کے ذہن میں سولات اٹھ رہے ہیں کہ اگر دو مسلمان گروہ آپس میں لڑ رہے ہوں تو کیا کیا جائے ؟اگر کوئی مسلم ملک کسی ایسے ملک کا حلیف بن جائے جو اسلام دشمنی کے لیے معروف ہے تو اس کا حکم کیا ہو گا؟مسلمان کس کو دوست اور کس کو دشمن تصور کریں،محبت اور نفرت کی بنیاد کیا ہو ؟

فصل اول میں عقیدۂ توحید اور علامہ ابن القیمؒنے کفر کی اقسام سے جو بحث کی ہے، اس کا تذکرہ ہے۔فصل ثانی میں اللہ کے دوستوں اور شیطان کے دوستوں کے درمیان فطری عداوت کا بیان ہے ۔فصل ثالث میں اس تقسیم پر اہل سنت کا عقیدہ، اور فصل الرابع میں انبیاے کرام ؑکے  اسوۂ حسنہ کے تناظر میں موضوع کا جائزہ لیا گیا ہے ۔فصل الخامس اور فصل السادس میں مکہ اور مدینہ کے تناظر میں اللہ کے دوست اور دشمنوں کا تذکرہ ہے ۔بعد کے مضامین میں غیر مسلموں کے ساتھ مسلمانوں کا رویہ ،دارلحرب کے احکام اور پھر دور حاضر میں مسلمانوں کے تعلقات پرگفتگو کی گئی ہے۔ مغربی سازشوں کاتذکرہ ہے اور بعض ان مسلمان مفکرین پر تنقید ہے جنھوںنے مغرب سے مرعوبیت کا اظہار کیا۔ آخر میں امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے باہمی اخوت پر زور دیتے ہوئے  اسلام دشمن عناصر کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے ایک ایسے معاشرے کے قیام پرمتوجہ کیا گیا ہے، جو اسلام کے دورِ اول کی یاد تازہ کرد ے ۔

بعض مقامات پر مفہوم الجھ گیا ہے، مثلاً: ص۵۹ پر خوارج کے حوالے سے درج ہے: ’’اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوارج کو قتل کرنے کا حکم صادر فرمایا:تم انھیں جہاں پائو قتل کر ڈالو۔اگر وہ مجھے مل جائیں تو میں قوم عاد کی طرح ان کو قتل کروں گا‘‘۔ تاریخی طور پر خوارج کا ظہور حضرت علی ؓ کے دور میں ہوا۔اگر حدیث میں اس کا تذکرہ بطور کسی پیش گوئی یا علامت کے  طور پر ہے تو ضروری ہے کہ سیاق وسباق بیان کرنے کے بعد حدیث کے الفاظ نقل کیے جائیں ۔ یہ ایک اہم دعوتی مسئلہ ہے۔ایمان کا تقاضا ہے کہ شرک کے ساتھ مکمل دشمنی اور براء ت کا اظہار ہو، لیکن مشرک کو دائرۂ اسلام میں لانے کے لیے اس سے رابطہ ، تبادلۂ خیال اور اپنے اعلیٰ اخلاقی طرزِعمل سے اسے اسلام سے قریب لانا قرآن و سنت کا مطالبہ ہے۔

مصنف نے اس معاملے میں قدرے عدم توازن کا اظہار کیا ہے ۔ص ۱۶۶ پر کہا گیا ہے: ’’الثالث! جس سے مکمل عداوت وبُغض رکھا جائے گا، یعنی جوشخص جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں ،رسولوں اور یوم آخرت کا کفر کرتا ہو۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے اسما و صفات میں اہل اسلام کے سوا کسی اور راستے پر چلتے ہوئے الحاد کا شکار ہوجائے، یا اہل بدعت اور خواہش پرستوں کے مسلک پر چل پڑے، یا دس نواقضِ اسلام میں سے کسی ایک کا مرتکب ہو ،تو ان تمام صورتوں میں یہ شخص دائرۂ اسلام سے خارج متصور ہو گا ۔اس کے ساتھ من جملہ بُغض رکھنا واجب ہو جائے گاـ‘‘۔

جس قطعیت کے ساتھ کتاب میں بعض موضوعات پر اظہار ِ خیال کیا گیا ہے ،اس پر دعوتی نقطۂ نظر سے نظرثانی کی ضرورت ہے ۔شرک اور بدعت سے نفرت تقاضاے ایمان ہے، لیکن مشرک اور بدعتی کو حکمت و نرمی کے ساتھ قرآن کریم کے بتائے ہوئے طریقے اور سنت کو سامنے رکھتے ہوئے دین سے قریب لانا اور ہدایت سے روشناس کرانا ایک فریضہ ہے ۔ فرعون سے زیادہ باغی اور کون ہوسکتا ہے، اس کے پاس حضرت موسٰی ؑاور حضرت ہارون ؑ کو بھیجتے وقت جو ہدایت کی گئی وہ جامع دستورِ دعوت ہے :  فَقُوْلَا لَہٗ قَوْلًا لَّیِّنًا(طٰہٰ ۲۰:۴۴) ’’اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا‘‘۔

عصر حاضر میں دعوت کاا بلاغ اسی وقت ہو سکتا ہے جب ہم شرک والحاد سے مکمل بے تعلقی کے ساتھ مشرکین و ملحدین اور گمراہ افراد تک اپنی دعوت قول و عمل کے ساتھ لے کر پہنچیں، اور اپنی حکمت عملی سے انھیں جہنم سے کھینچ کر جنت کی طرف لانے میں کامیاب ہوں۔(ڈاکٹر انیس احمد)


پاکستان میری محبت،ڈاکٹر صفدر محمود۔ ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز، ۲۵- شاہراہِ پاکستان (لوئر مال)، لاہور۔ صفحات: ۴۶۸۔ قیمت: ۹۹۵روپے۔

ڈاکٹر صفدر محمود دیباچے میں لکھتے ہیں: ’’پاکستان، قائداعظم، تحریکِ پاکستان، علامہ اقبال اور پاکستان کی تاریخ میری پہلی اور سچی محبتیں ہیں، اور میں زندگی بھر ان محبتوں سے وفا کرنے کی کوششیں کرتا رہا‘‘۔ ۱۴۹مضامین (جن میں سے بعض نسبتاً مختصر ہیں یا کالم) پر مشتمل ڈاکٹر صاحب موصوف کا یہ مجموعہ،ان کی مذکورہ بالا کوششوں کا ثمر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ موضوعات: ’’میرے قلب ِ ذہن کے نہایت قریب‘‘ تھے۔ کتاب کی جملہ تحریروں کو چھے حصوں(قائداعظم، علامہ اقبال، سقوطِ مشرقی پاکستان، مشاہیر، قیامِ پاکستان، متفرقات) میں تقسیم کر کے پیش کیا گیا ہے۔ پہلا حصہ قائداعظم پر ۵۱ تحریروں پر مشتمل ہے اور سب سے طویل۔ گذشتہ ماہ انھی صفحات میں ہم نے ڈاکٹر صفدر محمود کی کتاب اقبال، جناح اور پاکستان کا مطالعہ پیش کیا تھا۔ اس کتاب کا بنیادی اور بڑا موضوع بھی قائداعظم علیہ رحمۃ تھے۔ تیسرا حصہ ’سقوطِ مشرقی پاکستان‘ ۱۵ تحریروں پر مشتمل ہے۔ اس موضوع پر کئی برس پہلے وہ ایک پوری کتاب (پاکستان کیسے ٹوٹا؟) لکھ چکے ہیں۔ مشاہیر کو انھوں نے ایک پاکستانی اور مسلمان کی حیثیت سے دیکھا ہے۔ ڈاکٹر صفدر محمود ایک ماہر اور زیرک مؤرخ اور دانش ور ہیں، جن کے خلوص اور راست فکری میں دو رائیں نہیں ہوسکتیں۔ چنانچہ انھوں نے اپنوں کی خوبیوں کے ساتھ ان کی کمزوریوں کی نشان دہی بھی کی ہے اور غیروں کی خرابیوں کے ساتھ ان کی خوبیوں کا ذکر بھی کیا ہے، یعنی مثبت اور منفی دونوں پہلو بڑے مہذب اور معتدل انداز سے پیش کیے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ان مضامین میں آپ کو ’’تحقیق اور غوروفکر کی روشنی بھی ملے گی اور بعض ایسے حقائق کی جھلک بھی، جن کی طرف عام طور پر توجہ نہیں دی جاتی‘‘۔ ڈاکٹر صاحب نے جن موضوعات کے ساتھ علمی زندگی بسر کی ہے، ان کے بارے میں نئے نکات و حقائق کا انکشاف اُنھیں ہی روا ہے۔ ان مضامین سے خود ڈاکٹر صفدرمحمود کے ذاتی احوال، اور تحقیق و تفتیش کے لیے  افتادِ طبع کا بھی خاصی حد تک اندازہ ہوتا ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)


روشن آبگینے، مرتبہ: روبینہ فرید۔ ملنے کے پتے: اکیڈمی بک سنٹر، ڈی-۳۵، بلاک۵، فیڈرل بی ایریا، کراچی۔ فون: ۳۶۸۰۹۲۰۱، مکتبہ معارف اسلامی، منصورہ، لاہور۔صفحات: ۳۴۴۔ قیمت: ۴۰۰ر وپے

ـاس کتاب کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ آج دین کے کارِعظیم سے وابستہ خواتین یہ سبق حاصل کریں کہ جذبے کو جنوں کیسے بنایا جاتا ہے؟ رکاوٹوں کے درمیان راستہ کیسے تلاش کیا جاتا ہے؟ نصب العین کو مقصد بنا کر اوقات کی تقسیم کس طرح کی جاتی ہے ؟

کتاب میں جماعت اسلامی کی ۲۲ خواتین ارکان کے حالات اس طرح بیان کیے گئے ہیں کہ قاری یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ اللہ کی طرف سے دی گئی ہدایت کے بعد یہ جماعت اسلامی کے نظام تربیت اور اجتماعی ماحول کی برکت ہی سے ممکن ہو سکا، کہ یہ خواتین اس کارِعظیم کے لیے اس لگن کے ساتھ مصروفِ کار رہیں۔ ڈاکٹر رخسانہ جبیں کے بقول: ’’ اگرچہ وقت کے یہی ۲۴گھنٹے ان خواتین کے پاس بھی تھے، جو ہمارے پاس ہیں لیکن وہ ان کا بہترین استعمال کر کے ہم سب کے لیے رول ماڈل بن گئیں‘‘ ۔ ایک کتاب میں سبھی محسن خواتین کا ذکر نہیں ہوسکتا، اس لیے بہت سے اہم نام رہ بھی گئے ہیں، ان شاء اللہ آیندہ مجموعوں میں آجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ آج کی خواتین کارکنوں اور قائدات کو ان اچھے نمونوں پر عمل کرنے اور زندگیاں ان کی طرح گزارنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!  (عارفہ اقبال)

ڈاکٹر محمد ناصر ، پشاور

پروفیسر خورشیداحمد کا مقالہ بہ سلسلہ’دستور اور عدلیہ کا کردار‘ تمام اہلِ وطن کے لیے چشم کشا آئینہ ہے۔ اسی طرح ’مطالعہ کتاب‘ اقبال، جناح اور پاکستان بہت اہم ہے۔ تاہم تبصرے میں جو یہ کہا گیا ہے کہ کتاب میں اقبال پر سواے ضمیمے میں خطبۂ الٰہ آباد پر مضمون کے کچھ میسر نہیں۔ اس حوالے سے عرض ہے کہ کتاب میں اقبال کے خطبۂ الٰہ آباد کے تحریک ِ پاکستان سے تعلق پر ابتدا ہی میں شافی بحث موجود ہے۔


رانا محمد افضل ، میانوالی

پروفیسر خورشیداحمد صاحب نے ’قراردادِ مقاصد‘ پر گذشتہ چند ماہ میں نہایت اہم، مدلل مقالات قلم بند کیے ہیں۔ ارکانِ پارلیمنٹ ، سینیٹر حضرات اور اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے کے لیے ان کا مطالعہ خصوصاً مفید ہوگا۔


قاضی سمیع اللّٰہ ، لاہور

’ہجرت، مشاورت اور اسلامی تحریکات‘ (نومبر ۲۰۱۵ئ) میں ہجرت اور اسلامی تحریکوں کی احیاے اسلام کی جدوجہد کے تسلسل کا عمدگی سے انطباق کیا گیا ہے۔ ہجرت کا سبق اسی جدوجہد میں ہے۔


عبدالجبار بھٹی، پتوکی

’اسلامی پاکستان اور خوش حال پاکستان‘ (نومبر ۲۰۱۵ئ) میں مغربی مادیت کے تصور کے مقابلے میں خوش حالی کے اسلامی تصور کو قرآن و سنت سے استدلال کے ساتھ واضح کیا گیا ہے۔تاہم حضرت عدیؓ بن حاتم کی روایت میں سہو ہوگیا۔ ایک شخص نے فاقے کی، جب کہ دوسرے نے ڈاکے کی شکایت کی تھی۔(ص ۱۵)


عبدالرشید عراقی ، گوجرانوالہ

’مصر: جیلوں میں سسکتی انسانیت‘ (اکتوبر ۲۰۱۵ئ) کے مطالعے سے قیدیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ الاخوا ن المسلمون کے کارکنان کے جذبۂ استقامت پر دل سے دُعا نکلتی ہے۔


بینا حسین خالدی ، رحیم یار خان

عالمی ترجمان القرآن اپنی تحریروں کے ذریعے (بذریعہ تذکیر وتعلیم) اشاعت ِ اسلام کا فریضہ بخوبی انجام دے رہا ہے۔


عبدالباسط ، لاہور

ترجمان القرآن تحریک برپا کردینے اور قلوب و اذہان کو مسخر کر کے احیاے اسلام کی مؤثر جدوجہد میں شمولیت کا عملی راستہ دکھانے کا ذریعہ ہے۔ کیا ہم یہ گل دستہ پیش کرنے میں کامیاب ہیں؟


رفیع الدین ہاشمی ،لاہور

ترجمان القرآن الکریم: ترجمانی و مختصر تفہیم (از احمد ابوسعید، حیدرآباد دکن) پر تبصرے (اکتوبر، ۲۰۱۵ئ،پروفیسر عبدالقدیر سلیم) سے معلوم ہوا کہ موصوف نے مولانا مودودی کے اُردو ترجمۂ قرآن کی اصلاح فرمائی ہے، کیوں کہ ان کے خیال میں مولانا مودودی کے ہاں، عبارات ’زیادہ صاف‘ نہیں اور ’تعقید‘ بھی ہے۔ اسی طرح احمدابوسعید صاحب نے ’’بعض جملوں کی ساخت میں کچھ تقدیم و تاخیر بھی کی ہے‘‘۔

یہ بیان مولانا مودودی کی عبارات میں اصلاح نہیں بلکہ ’تحریف‘ کے ذیل میں آتا ہے۔ اس لیے ابوسعید صاحب کی یہ حرکت نامناسب، ناقابلِ قبول اور بلاجواز ہے۔’اصلاح‘ کا جذبہ قابلِ قدر ہے مگر اس کے لیے کسی متن کو بہتر اور زیادہ قابلِ فہم بنانے کا اصول یہ ہے کہ اصل متن کو برقرار رکھتے ہوئے، حواشی میں متبادل لفظ یا الفاظ یا جملہ تجویز کیا جائے اور وہیں مشکل لفظ کے معنی درج کیے جائیں۔

مولاناخالد سیف اللہ کی کتاب: وہ جو بیچتے تھے دواے دل پر تبصرہ کرتے ہوئے مبصر نے،   اُن کے اندازِ بیان کا جو نمونہ دیا ہے، وہ فقط لفاظی ہے۔اس حصے سے اقبال کی شخصیت یا ان کی فکر سے تعارف ہوتا ہے، اور نہ کسی طرح معلومات میسر آتی ہیں۔

بے ہودہ گوئی کی ممانعت

[قرآن کریم میں پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے سے منع کرنے کے ] حکم کا منشا یہ ہے کہ معاشرے میں لوگوں کی آشنائیوں اور ناجائز تعلقات کے چرچے قطعی طور پر بند کر دیے جائیں، کیوںکہ اس سے بے شمار بُرائیاں پھیلتی ہیں، اور اُن میں سب سے بڑی بُرائی یہ ہے کہ اس طرح غیرمحسوس طریقے پر ایک عام زناکارانہ ماحول بنتا چلا جاتا ہے۔ ایک شخص مزے لے لے کر کسی کے صحیح یا غلط، گندے واقعات دوسروں کے سامنے بیان کرتا ہے۔ دوسرے، اس میں نمک مرچ لگا کر اورلوگوں تک انھیں پہنچاتے ہیں، اور ساتھ ساتھ کچھ مزید لوگوں کے متعلق بھی اپنی ’معلومات‘ یا بدگمانیاں بیان کردیتے ہیں۔ اس طرح نہ صرف یہ کہ شہوانی جذبات کی ایک عام رو چل پڑتی ہے ، بلکہ بُرے میلانات رکھنے والے مردوں اور عورتوں کو یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ، معاشرے میں  کہاں کہاں اُن کے لیے قسمت آزمائی کے مواقع موجود ہیں۔ شریعت اس چیز کا سدّباب پہلے ہی قدم پر کردینا چاہتی ہے۔

ایک طرف وہ حکم دیتی ہے کہ اگر کوئی زنا کرے اور شہادتوں سے اس کا جرم ثابت ہوجائے تو اس کو وہ انتہائی سزا دو، جو کسی اور جرم پر نہیں دی جاتی۔ اور دوسری طرف وہ فیصلہ کرتی ہے کہ جو شخص کسی پر زنا کا الزام لگائے، وہ یا تو شہادتوں سے اپنا الزام ثابت کرے، ورنہ اس پر ۸۰ کوڑے برسا دو تاکہ آیندہ کبھی وہ اپنی زبان سے ایسی بات بلاثبوت نکالنے کی جرأت نہ کرے۔ بالفرض اگر الزام لگانے والے نے کسی کو اپنی آنکھوں سے بھی بدکاری کرتے دیکھ لیا ہو، تب بھی اسے خاموش رہنا چاہیے اور دوسروں تک اسے نہ پہنچانا چاہیے، تاکہ گندگی جہاں ہے، وہیں پڑی رہے، آگے نہ پھیل سکے۔ البتہ اگر اس کے پاس گواہ موجود ہیں تو معاشرے میں بے ہودہ چرچے کرنے کے بجاے معاملہ حکام کے پاس لے جائے اور عدالت میں ملزم کا جرم ثابت کرکے اسے سزا دلوا دے۔ (ابوالاعلیٰ مودودی، سورۃ النور، حاشیہ۶، ترجمان القرآن، جلد۴۵،عدد۴، ربیع الثانی ۱۳۷۵ھ، دسمبر۱۹۵۵ئ، ص۱۷-۱۸)

______________