سوال : اتفاقاً نمازِ مغرب میں امام صاحب سے سہواً قعدۂ اولیٰ ترک ہوگیا اور وہ سیدھے قیام میں چلے گئے۔ پھر کسی مقتدی کے سبحان اللہ کہنے پر وہ قیام سے قعدۂ اولیٰ کی طرف لوٹ گئے۔ نماز کے بعد بعضوں نے کہا کہ بغیر لوٹے سجدئہ سہو سے نماز کی تکمیل ہوجاتی ہے، مگر بعض حضرات نے نماز کو قطعی طور پر فاسد بتایا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نماز دوبارہ پڑھی گئی۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ:
۱- قعدۂ اولیٰ سہواً ترک کر کے اگر امام سیدھا کھڑا ہوجائے اس کے بعد اسے خود یاد آجائے یا مقتدی تنبیہہ کرے تو اس کو کیا کرنا چاہیے؟
۲- نبی ؐسے نماز میں کن مواقع پر سہو ہوا ہے اور ان مواقع پر آپؐ نے کیا عمل فرمایا ہے؟
۳- اگر امام سیدھا کھڑا ہوجانے کے بعد پھر بیٹھ جائے تو کیا اس سے نماز فاسد ہوجاتی ہے اور اس کو دُہرانا ضروری ہے؟
جواب: ۱-کوئی شخص تنہا نماز پڑھ رہا ہو یا کسی جماعت کا امام ہو، دونوں صورتوں میں اگر وہ قعدۂ اولیٰ سہواً ترک کرکے سیدھاکھڑا ہوجائے تو اب اس کو بیٹھنا نہیں چاہیے بلکہ قعدۂ اخیرہ کے بعد سجدئہ سہو کر کے نماز پوری کرلینی چاہیے۔ یہی طریقہ سنت کے مطابق ہے جس کی تفصیل سوال نمبر۲ کے جواب میں آرہی ہے۔ ہاں، اگر وہ پوری طرح کھڑا نہ ہوا ہو اور اسی اثنا میں اسے خود یاد آجائے یا مقتدی تنبیہہ کرے تو بیٹھ جانا چاہیے۔ اس صورت میں سجدئہ سہو کی ضرورت نہیں ہے۔
۲- نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چارمواقع پر نماز میں سہو ہوا ہے:
پہلا موقع: عبداللہ بن بحینہؓ سے روایت ہے کہ ایک بار ظہر کی نماز میں آپؐ سے قعدۂ اولیٰ سہواً ترک ہوگیا اور آپؐ تیسری رکعت میں کھڑے ہوگئے۔ جب پوری نماز پڑھ چکے تو سہو کے دو سجدے کر کے اس کمی کی تلافی فرما دی۔ علامہ ابن قیم نے زادالمعاد میں لکھا ہے کہ اس حدیث کے بعض طرق میں یہ بات بھی ہے کہ جب آپؐ کھڑے ہوگئے تو مقتدی صحابہؓ نے سبحان اللہ کہہ کر یاد دلایا، لیکن حضوؐر نہ بیٹھے بلکہ اشارے سے فرمایا کہ تم بھی کھڑے ہوجائو ۔ اس کی تاکید مزید دو روایتوں سے ہوتی ہے۔ مسند اور ترمذی میں ہے کہ ایک بار حضرت مغیرہ بن شعبہؓ نے نماز پڑھائی اور قعدۂ اولیٰ ترک ہوگیا۔ مقتدیوں نے سبحان اللہ کہہ کر ان کو متنبہ کیا تو انھوں نے اشارے سے کہا کہ تم لوگ بھی کھڑے ہوجائو۔ نماز پوری کر کے انھوں نے سہو کے دو سجدے کیے اور کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک بار اسی طرح عمل فرمایا تھا۔ دوسری روایت بیہقی کی ہے: ایک بار حضرت عقبہ بن عامر جہنیؓ کے ساتھ بھی یہی واقعہ پیش آیا اور مقتدیوں نے سبحان اللہ کہہ کر تنبیہہ کی لیکن انھوں نے نماز جاری رکھی اور آخر میں سجدئہ سہو کے بعد جب فارغ ہوئے تو کہا: ’’تمھاری تسبیح (سبحان اللہ) میں نے سنی تھی۔ تم چاہتے تھے کہ میں بیٹھ جائوں لیکن سنت وہی ہے جو میں نے کیا۔
دوسرا موقع: ایک بار عصر کی نماز میں آپؐ نے دو رکعتوں کے بعد ہی سلام پھیر دیا۔ پھر حضرت ذوالیدینؓ کے توجہ دلانے پر آپؐ نے باقی دو رکعتیں ادا فرمائیں اور سجدئہ سہو کیا۔
تیسرا موقع: حضرت عمران بن حصینؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک بار آپؐ نے عصر کی نماز میں تین رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا۔ پھر توجہ دلانے پر ایک رکعت ادا کر کے سجدئہ سہو کیا۔
چوتھا موقع: حضرت عبداللہ بن مسعودؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک بار آپؐ نے پانچ رکعتیں پڑھ لیں، پھر توجہ دلانے پر سہو کے دو سجدے کیے۔
یہی چار مواقع ہیں جن میں حضوؐر سے نماز میں سہو ہوا ہے۔ میں نے ان صحیح احادیث کی تفصیلات چھوڑ کر مختصراً اصل بات یہاں لکھ دی ہے۔
۳- تیسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ سیدھا کھڑا ہوکر بیٹھ جانے سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔ سجدئہ سہو کرلینے سے مکمل ہوجاتی ہے۔ فقہ حنفی کا صحیح قول یہی ہے اور جمہور فقہا کا مسلک بھی یہی ہے۔ فقہاے احناف کی ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ اس سے نماز فاسد ہوجاتی ہے لیکن اس قول کی کوئی تشفی بخش دلیل نہیں ہے۔ تیسری رکعت میں کھڑے ہونے کے بعد پھر بیٹھ جانا خلافِ سنت ضرور ہے لیکن اس سے نماز فاسد و باطل ہوجانے کی کوئی وجہ نہیں۔ (مولانا سیّد احمد عروج قادری، احکام و مسائل، اوّل، ص ۲۰۶-۲۰۷)
س : زندگی کی مصروفیات میں مجھے اِدھر اُدھر سفر کرنے کی نوبت اکثر آتی رہتی ہے۔ میں کار، ریل گاڑی، بس اور ہوائی جہاز میں فرض نمازیں ادا کرتا رہتا ہوں۔ میرے چند دوستوں کو اس پر اعتراض ہے۔ چنانچہ میرے ایک دوست نے مجھے ایک خط لکھا ہے اور انھوں نے چند احادیث اپنے موقف کی تائید میں تحریر کی ہیں۔ ان کا موقف یہ ہے کہ فرض نمازیں سواری پر ادا نہیں کی جاسکتیں۔ انھوں نے اپنی تائید میں یہ بھی لکھا ہے کہ میں نے کسی عالم دین کو دورانِ سفر گاڑی میں چلتے ہوئے فرض نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا ہے اور نہ کسی سے سنا ہے۔ جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے، سواری پر نماز فرض بھی ادا کی جاسکتی ہے۔ آپ اس کے بارے میں اپنی تحقیق سے مطلع کریں۔
ج:احادیث میں صرف جانور، یعنی اُونٹ پر نوافل اور وتر ادا کرنے کی صراحت ملتی ہے۔ آپ کے دوست نے وہی حدیثیں آپ کو لکھی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور پر کبھی کوئی فرض نمازادا نہیں کی۔ فقہ کی کتابوں میں کشتی پر نماز فرض ادا کرنے کی تفصیلات بکثرت موجود ہیں۔ ائمہ مذاہب اربعہ کے زمانے میں موجودہ دور کی جدید سواریاں موجود نہ تھیں۔ اس لیے فقہ کی قدیم کتابوں میں ان کے بارے میں کوئی جزئیہ نہیں مل سکتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے۔
آپ کے دوست نے چلتی ہوئی ریل گاڑی میں کسی عالم کو فرض نماز ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا، لیکن میں نے بہت سے علما کو چلتی ہوئی گاڑی میں فرض نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ چلتی ہوئی ریل گاڑی میں نماز کی ایک شکل تو یہ ہوتی ہے کہ پوری نماز کھڑے ہوکر رکوع و سجود کے ساتھ ادا کی جائے۔ اس کو ناجائز کہنے کی کوئی وجہ ہی نہیں ہے۔ اگر کھڑے ہوکر رکوع و سجود کے ساتھ نماز ادا کرسکتا ہو تو اسے بیٹھ کر نماز ادا نہیں کرنی چاہیے۔لیکن اگر ایسا نہ ہو اور نماز قضا ہو رہی ہو تو اس کو ریل گاڑی میں بیٹھ کر فرض نماز ادا کرلینی چاہیے۔ کسی نماز کے قضا ہوجانے اور اس کا وقت نکل جانے کا عذر سب سے بڑا عذر ہے۔ دوسرے تمام اعذار کا اعتبار اسی وقت کیا جاسکتا ہے جب نماز کے قضا ہوجانے کا اندیشہ ہو، ورنہ کوئی عذر، عذر نہیں ہے۔
فقہاے احناف کے نزدیک جانورپر بلاعذر فرض نماز ادا کرنا جائز نہیں ہے اور عذر کے ساتھ جائز ہے۔ فقہ کی کتابوں میں ان اعذار کی ایک فہرست دی گئی ہے جن کی بنا پر فرض نماز جانور کی پیٹھ پر ادا کی جاسکتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک عذر یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر جانور سرکش ہو اور سوار اس سے اُتر کر کسی کی مدد کے بغیر دوبارہ اس پر سوار نہ ہوسکتا ہو اور کوئی مددگار موجود نہ ہو تو وہ فرض نماز جانور پر ہی ادا کرسکتا ہے۔ یہ عذر اسی وقت عذر بنے گا جب اس وقت کی نماز قضا ہوجانے کا اندیشہ ہو۔ اور وقت کے اندر منزل پر پہنچ کر نماز پڑھی جاسکتی ہو تو وہ عذر، عذر ہی نہیں۔
وَکَیْفِیَّۃُ الصَّلٰوۃِ عَلٰی الدَّآبَّۃِ اَنْ یُّصَلِّیَ بِالْاِیْمَائِ (فتاویٰ عالم گیری، ج۱) جانور پر نماز ادا کرنے کی کیفیت یہ ہے کہ سوار اشارے سے نماز ادا کرے گا۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک پانی پر چلتی ہوئی کشتی میں بلاعذر بیٹھ کر نماز ادا کرنا بھی جائز ہے لیکن امام ابویوسف اور امام محمد کے مسلک میں کشتی میں بلاعذر بیٹھ کر نماز ادا کرنا جائز نہیں ہے، البتہ اگر عذر ہو تو بالاتفاق جائز ہے۔ مثال کے طور پر اگر کھڑے ہوکر نماز پڑھنے میں دورانِ سر کی شکایت پیدا ہوتی ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھی جاسکتی ہے:
اَجْمَعُوا عَلٰی اَنَّہٗ لَوْ کَانَ بِحَالٍ یَدُوْرُ رَاْسُہٗ لَوْ قَامَ تَجُوْزُ الصَّلٰوۃُ فِیْھَا قَاعِدًا کَذَا فِی الْخَلَاصَۃ (فتاویٰ عالم گیری، ج۱) اس پر اتفاق ہے کہ کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کی صورت میں دورانِ سر ہوتا ہو تو کشتی میں بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہے۔
الجامع الصغیر جو امام محمد کی تصنیف اور فقہ حنفی کی مستند ترین کتاب ہے، اس میں لکھا ہے:
رَجُلٌ فِی السَّفِیْنَۃِ قَاعِدًا مِنْ غَیْرِ عِلَّۃٍ اَجزَاہٗ وَالْقِیَامُ اَفْضَلُ وَقَالَ اَبُویُوْسفَ وَمُحَمَّد رَحِمَھُمَا اللّٰہُ لَا یُجْزِیْہِ اِلَّا مِنْ عُذْرٍ،کسی شخص نے کشتی میں بغیر کسی عذر کے بیٹھ کر نماز پڑھی تو یہ اس کے لیے کافی ہے اور قیام افضل ہے۔ ابویوسف و محمد رحمہما اللہ نے کہا کہ یہ اس کے لیے کافی نہ ہوگا الا یہ کہ کوئی عذر ہو۔
کشتی میں اگر قبلہ رُو ہوکر نماز پڑھی جاسکتی ہو تو استقبال قبلہ ضروری ہے۔ لیکن اگر استقبالِ قبلہ سے عاجز ہو تو جدھر رُخ کر کے نماز پڑھنے پر قادر ہو اُدھر ہی رُخ کر کے نماز ادا کرے گا:
وَ اِنْ عَجِزَ عَنْ اِسْتِقْبَالِھَا صَلَّی اِلٰی جِھَۃِ قُدْرَتِہٖ (الفقہ علی المذاہب الاربعہ) اگروہ استقبال قبلہ سے عاجز ہو تو جس سمت پر قدرت ہو اُدھر ہی رُخ کر کے نماز پڑھے گا۔
اسی طرح اگر رکوع و سجود پر قدرت ہو تو اس کے بغیر نماز جائز نہ ہوگی۔ اشارے سے نماز اس وقت جائز ہوگی جب رکوع و سجود پر قدرت نہ ہو:
وَلَوْ صَلَّی فِیْھَا بِالْاِیْمَائِ وَھُوَ قَادِرٌ عَلَی الرُکُوعِ وَالسُّجُودِ لَا یُجْزِیْہِ فِی قَوْلِھِمْ جَمِیْعًا (فتاویٰ عالم گیری، ج۱) اگر رکوع و سجود پر قدرت کے باوجود کسی نے کشتی میں اشارے سے نماز پڑھی تو بالاتفاق یہ اس کے لیے کافی نہ ہوگا۔
وَیَسْقُطُ عَنْہُ السُّجُوْدُ اَیْضًا اِذَا عَجِزَ عَنْہٗ (الفقہ علی المذاھب الاربعہ) اور سجدہ کرنا بھی ساقط ہوجائے گا اگر وہ اس سے عاجز ہو۔
فقہ کے یہی وہ مسائل ہیں جن پر قیاس کر کے موجودہ دور کی جدید سواریوں پر فرض نماز کے مسائل مستنبط کیے گئے ہیں۔ جب چلتی ہوئی کشتی پر مختلف حالتوں میں کھڑے ہوکر یا بیٹھ کر یا اشارے سے فرض نماز ادا کرنا جائز ہے تو چلتی ہوئی ریل گاڑی پر بدرجہ اولیٰ جائز ہونا چاہیے، کیوں کہ کشتی پانی پر چلتی ہے اور ریل زمین پر۔ موجودہ دور کے فقہا نے اسی قیاس پر ہوائی جہاز میں فرض نماز ادا کرنے کو بھی جائز قرار دیا ہے:
وَمِثْلُ السَّفِیْنَۃ اَلقُطُرُ البُخَارِیَّۃُ الْبَرِّیَۃُ وَالطَّائِرَاتُ الْجَوَّیَۃُ (الفقہ علی المذاھب الاربعہ) کشتی ہی کے مثل، ریل گاڑیاں، ہوائی جہاز، اور اس طرح کی دوسری سواریاں ہیں۔
اشارے کے ساتھ نماز ادا کرنے کی صورت و کیفیت یہ ہے کہ بیٹھ کر ہر رکعت میں وہ سب کچھ پڑھنا ہے جو نماز میں پڑھا جاتا ہے اور پھر دونوں طرف سلام پھیرنا ہے۔ البتہ رکوع میں کچھ جھک جانا چاہیے اور سجدے میں اپنی پیشانی کسی چیز پر رکھے بغیر، رکوع کے مقابلے میں کچھ زیادہ جھک جائے۔ (سید احمد عروج قادری، احکام و مسائل، اوّل، ص ۱۸۷-۱۹۰)
س : ہمارے یہاں نمازِ جنازہ پڑھنے کے مسئلے پر اختلاف پیدا ہوگیا ہے۔ بعض لوگ کہتے تھے کہ غائبانہ نمازِ جنازہ مسنون ہے اور بعض کہتے تھے کہ جائز نہیں ہے۔ مہربانی کرکے وضاحت کر دیجیے؟
ج:غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھنے کے بارے میں فقہا کے درمیان اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہؒ کا مسلک یہ ہے کہ نمازِ جنازہ غائبانہ نہیں پڑھنی چاہیے۔ امام شافعیؒ اور دوسرے ائمہ کے نزدیک نمازِ جنازہ غائبانہ پڑھی جاسکتی ہے۔ احادیث میں آتا ہے کہ حبشہ کے بادشاہ نجاشی (جو مسلمان ہوگئے تھے) کا انتقال ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ہوئی تو آپؐ نے ان کی غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھی تھی۔ امام شافعیؒ اور دوسرے لوگ اسی حدیث کو اپنی دلیل میں پیش کرتے ہیں۔
حنفی فقہا اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہ حضوؐر کی خصوصیت تھی اور بادشاہ حبشہ کی بھی خصوصیت تھی۔ حضوؐر نے غائبانہ نمازِ جنازہ کا نہ کوئی حکم دیا ہے اور نہ خود بادشاہ نجاشی کے علاوہ کسی اور کی نمازِ جنازہ غائبانہ پڑھی ہے۔ حالانکہ متعدد صحابہ کرامؓ نے دوسرے مقام پر وفات پائی تھی لیکن حضوؐر نے ان کی نمازِ جنازہ غائبانہ نہیں پڑھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ کوئی عام حکم نہیں ہے۔ ایک بات یہ بھی سمجھ میں آتی ہے کہ جس وقت بادشاہِ حبشہ کا انتقال ہوا تھا اس وقت وہاں اسلامی طریقے پر نمازِ جنازہ ادا کرنے والے لوگ موجود نہ تھے۔ اس لیے حضوؐر نے غائبانہ ان کی نمازِ جنازہ پڑھی ہوگی۔ لیکن یہ کوئی لڑنے جھگڑنے کی بات نہیں ہے۔ اگر کچھ لوگ کسی کی نمازِ جنازہ غائبانہ پڑھنی چاہتے ہوں تو رکاوٹ ڈالنا صحیح نہیںہے۔ البتہ جس شخص کا یہ خیال ہوکہ غائبانہ نمازِ جنازہ نہیں پڑھنا چاہیے وہ اس میں شریک نہ ہو۔(سیّد احمد عروج قادری، احکام و مسائل، ص ۲۴۵)
س : کچھ لوگ سختی کے بغیر بُرائی سے باز نہیں آتے تو ایسے لوگوں کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہیے؟
ج: کچھ لوگ سختی کے بغیر باز نہیں آتے لیکن ایسی سختی جو مصلحت کے خلاف ہو، یا جس کا نتیجہ اس سے بھی بُرا نکلتا ہو تو وہ جائز نہیں ہے، کیونکہ واجب یہ ہے کہ حکمت و دانش کو اختیار کیا جائے۔ سختی، یعنی مارنا، ادب سکھانا اور قید کرنا تو حکمرانوں کا کام ہے۔ عام لوگوں کا فرض یہ ہے کہ وہ حق کو بیان کردیں اور بُرے کاموں کی تردید کردیں، باقی رہا بُرائی کو ہاتھ سے مٹانا تو یہ حکمرانوں کا منصب ہے۔ یہ ان پر فرض ہے کہ وہ بقدر استطاعت بُرائی کو ختم کریں کیونکہ وہ اس کے ذمہ دار ہیں۔
اگر انسان اپنے ہاتھ سے اس بُرائی کو مٹانا چاہے جو وہ دیکھے تو اس سے ایسی خرابی پیدا ہوسکتی ہے، جو اس بُرائی سے بھی بڑھ کر ہو، لہٰذا اس معاملے میں حکمت و دانش سے کام لینا چاہیے۔ آپ بُرائی کو اپنے ہاتھ سے اپنے گھر میں تو مٹا سکتے ہیں لیکن اگر اس بُرائی کو بازار میں اپنے ہاتھ سے روکنے کی کوشش کریں تو ہوسکتا ہے کہ اس کا نتیجہ اس بُرائی سے بھی زیادہ بُرا ثابت ہو۔ اس صورت میں آپ کے لیے واجب یہ ہے کہ بات اس شخص تک پہنچا دیں، جسے بازار میں اپنے ہاتھ سے بُرائی ختم کر دینے کی قدرت حاصل ہو۔(محمد بن صالح عثیمین، فتاویٰ اسلامیہ، چہارم، ص۳۱۰-۳۱۱)
س : جناب کی ان بعض نوجوانوں کے بارے میں کیا راے ہے، جن کا شیوہ ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ بعض علما پر تنقید کرتے، لوگوں کو ان سے متنفر کرتے اور ان سے الگ تھلگ رکھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں؟ کیا یہ عمل شرعی طور پر درست ہے؟
ج:میری راے میں ایسا کرنا حرام ہے کیونکہ کسی انسان کے لیے جب یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کی غیبت کرے خواہ وہ عالم نہ بھی ہو، تو یہ کیسے جائز ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے ان مسلمان بھائیوں کی غیبت کرے جو علما ہیں۔ لہٰذا ہر مسلمان کے لیے یہ واجب ہے کہ وہ اپنی زبان کو اپنے مسلمان بھائیوں کی غیبت سے روکے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
یٰٓاََیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اجْتَنِبُوْا کَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ ز اِِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِِثْمٌ وَّلَا تَجَسَّسُوْا وَلَا یَغْتَبْ بَّعْضُکُمْ بَعْضًا ط اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنْ یَّاْکُلَ لَحْمَ اَخِیْہِ مَیْتًا فَکَرِہْتُمُوْہُ ط وَاتَّقُوا اللّٰہَ ط اِِنَّ اللّٰہَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌo (الحجرات ۴۹:۱۲) اے اہلِ ایمان! بہت گمان کرنے سے احتراز کرو کہ بعض گمان گناہ ہیں اور ایک دوسرے کے حال کا تجسس نہ کیا کرو اور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟ اس سے تو تم ضرور نفرت کرو گے (تو غیبت نہ کرو) اور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔
اس مصیبت میں مبتلا انسان کو معلوم ہونا چاہیے کہ جب وہ کسی عالم کو تنقید کا نشانہ بنائے گا تو وہ گویا اس عالم کی حق باتوں کی تردید کا بھی سبب بنے گا ،تو حق کی تردید اور اس کی عدم قبولیت کا گناہ بھی اس کے ذمہ ہوگا، کیونکہ ایک عالم پر تنقید ایک شخص پر تنقید نہیں بلکہ یہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی میراث پر تنقید ہے۔
علماے کرام انبیاے کرام علیہم السلام کے وارث ہیں۔ لہٰذا جب علما پر طعن و تشنیع کی جائے تو لوگ اس علم پر بھی اعتماد نہیں کریں گے، جو ان کے پاس ہے حالانکہ وہ علم تو رسولؐ اللہ کی میراث ہے اور اس طرح وہ گویا شریعت کی کسی بھی ایسی چیز کو قابلِ اعتماد نہیں سمجھیں گے جس کو یہ عالم بیان کرتا ہو، جسے طعن و تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہو۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ہرعالم معصوم ہے، بلکہ ہر انسان خطا کا پتلا ہے۔ اگر آپ زَعم میں کسی عالم کو غلطی پر دیکھیں تو اس سے ملیں اور تبادلۂ خیال کریں۔اگر یہ بات واضح ہوجائے کہ اس عالم کا موقف حق پر مبنی ہے، تو آپ پر واجب ہے کہ اس کی اتباع کریں۔ اگر یہ واضح نہ ہو کہ اس کا موقف حق پر مبنی ہے لیکن اس کی بات کی بھی گنجایش ہو تو آپ کے لیے واجب ہے کہ رُک جائیں، اور اگر اس کی بات کی کوئی گنجایش ہی نہ ہو تو پھر اس کی بات کو قبول کرنے سے اجتناب کریں کیونکہ غلطی کو برقرار رکھنا جائز نہیں ہے لیکن آپ اس پر جرح نہ کریں، خصوصاً، جب کہ وہ عالم حُسنِ نیت میں معروف ہو۔ اگر ہم حُسنِ نیت میں معروف علما پر مسائل فقہ میں کسی غلطی کی وجہ سے جرح کرنے لگیں گے تو ہم بڑے بڑے علما پر جرح کربیٹھیں گے، لہٰذا واجب وہی ہے، جو میں نے ذکر کر دیا ہے۔ اگر آپ کسی عالم کی کوئی غلطی محسوس کریں اور گفتگو اور افہام و تفہیم سے واضح ہوجائے کہ ان کا موقف درست ہے تو آپ کو ان کی بات مان لینی چاہیے اور اگر آپ کا موقف درست ثابت ہو تو پھر اُنھیں آپ کی بات تسلیم کرلینی چاہیے، اور اگر بات واضح نہ ہو اور اختلاف کی گنجایش موجود ہو تو پھر آپ ان کو نظرانداز کر دیں کہ وہ اپنی بات کہتے رہیں اور آپ اپنی بات کہتے رہیں۔
اختلاف صرف اسی زمانے میں نہیں ہے بلکہ اختلاف تو حضرات صحابہ کرامؓ کے زمانے سے آج تک چلا آرہا ہے۔ اگر غلطی واضح ہونے کے بعد بھی کوئی عالم اپنی ہی بات پر اصرار کرے تو آپ کے لیے واجب ہے کہ آپ غلطی کو واضح کریں اور اس سے الگ ہوجائیں مگر توہین و تذلیل اور ارادئہ انتقام کی بنیاد پر نہیں۔ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اس اختلافی مسئلے کے سوا دیگر مسائل میں وہ حق بات کہتا ہو۔
بہرحال میں اپنے بھائیوں کو اس مصیبت اور اس بیماری سے بچنے کی تلقین کرتا ہوں اور میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے اور انھیں ہر اس چیز سے شفا عطا فرمائے جو ہمارے لیے دین و دنیا کے اعتبار سے باعث ِ عار اور موجب ِ نقصان ہو۔(محمد بن صالح عثیمین، فتاویٰ اسلامیہ، چہارم، ص۳۱۰-۳۱۱)
۱۲؍مختصر ابواب پر مشتمل یہ کتاب ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم کے خطبات سیر ت کا خلاصہ ہے، جسے مرتب نے بہت محنت کے ساتھ احادیث کی تخریج اور جامع حواشی کے ساتھ ترتیب دیا ہے۔
مرتب نے مقدمے میں بعض معروف نکات اٹھائے ہیں جن کا تعلق تاریخ کے نفس مضمون اور سیر ت کے عمومی تصور سے ہے ۔ باب اوّل میں مطالعہ سیرت کی ضرورت و واہمیت پر غازی صاحب کے مطالعہ سیرت کے نتیجے میں بیان کردہ خطاب کے اہم پہلو تحریر کیے گئے ہیں ۔ ان کی یہ بات درست ہے کہ مطالعۂ سیرت کی اہمیت مسلمانوں اورغیر مسلموں دونوں کے لیے ہے (ص۲۷)۔ اگلے باب میں سیرت اور علوم سیرت کا تعارف کرایا گیا ہے۔ اس سے وابستہ تیسرا باب ہے جس میں بعض باتیں مکرر اور بعض اضافی بیان کی گئی ہیں ۔اس باب میں تاریخی جائزے میں اہم سیرت نگاروں کا اختصار سے تعارف شامل ہے ۔مستشرقین نے نہ صرف واقدی بلکہ ایسی کتب کو بھی اپنا ذریعۂ معلومات بنایا ہے جو تاریخی اصول تنقید کی روشنی میں تحریر نہیں کی گئیں، جیسے کتاب الاغانی۔ مصنف نے واقدی کے حوالے سے اس عام تصور کی وضاحت کر دی ہے کہ تمام تر احتیاط کے باوجود اس کی تاریخی معلومات میں تاریخیت پائی جاتی ہے۔(ص ۷۸-۸۰)
مصنف نے مدینہ کی اسلامی ریاست کی معاشرت و معیشت کے حوالے سے ساتویں باب میں قیمتی معلومات کا خلاصہ پیش کیا ہے ۔ کلامیاتِ سیرت، فقہاتِ سیرت، دو ایسے موضوع بھی اٹھائے گئے ہیں جو عموماً کتب سیرت میں زیر بحث نہیں لائے جاتے۔ پھر برعظیم میں مطالعۂ سیرت کا تاریخی جائزہ پیش کیا گیا ہے جو اسلامی تاریخ اور عام تاریخ کے طلبہ کے لیے بھی مفید ہے ۔ دورِ جدید میں مطالعۂ سیرت کا جائزہ بھی معلومات افزا ہے۔ آخری باب میں تجویز کیا گیا ہے کہ عمرانی علوم کی علمی و تحقیقی حکمت عملی (Research Methodology) سے مدد لیتے ہوئے سیرت پاک سلسلے کے بعض ایسے پہلو زیر تحقیق آنے چاہییں جن پر ابھی تک زیادہ توجہ نہیں دی گئی ۔ سیرتِ پاکؐ پر یہ ایک مفید کتاب ہے، جسے عمومی سطح پر زیرمطالعہ لانے کا اہتمام ہونا چاہیے۔(ڈاکٹر انیس احمد)
پاکستان کے علمی اور ادبی حلقوں میں ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر ،پروفیسر شعبۂ اسلامی تاریخ، جامعہ کراچی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔علمی تحقیق ،شعر و ادب اور خود نوشت، غرض ہر شعبے میں ڈاکٹر صا حبہ نے اعلیٰ معیاری تصانیف پیش کی ہیں ۔ زیر نظر کتاب ایک ایسی شخصیت سے تعلق رکھتی ہے، جس کے عقائد نے امت مسلمہ کے ایک محدود حصے کو متاثر کیا اور اپنی قدیم یا جدید شکل میں ان میں سے بعض عقائد کے آثار آج تک مشاہدے میں آتے ہیں ۔
مؤرخ کا قلم غیر جانب دار ،حقائق کا متلاشی اور بے باک نہ ہوتو غیر محسوس طور پر ذاتی وابستگی اور بعض اوقات تعصب کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہاں، اگر وہ اپنے تعصبات سے خود آگاہ ہو تو توازن و اعتدال کا دامن نہیں چھوڑتا ۔مغرب زدہ مسلم مؤرخین تاریخ کی تاریخ کے بیان میں جرمن تاریخ دان Rankeکو حقائق پرست ،تاریخ نگاری کا علَم بردار سمجھتے ہیں، جب کہ تصور تاریخ، جدلیاتی فکر سے متاثر ہو یا ما دیت یا سرمایہ دارنہ طرز فکر کاا سیر ہو،حتیٰ کہ نام نہاد سائنٹی فک طریق تحقیق سے وابستہ ہو ، داخلی وابستگی سے آزاد نہیں ہو سکتا۔ مؤرخ حقائق کا مطالعہ اور تجزیہ کرتے وقت یہ بھول جاتا ہے کہ اس نے جو عینک زیب ناک کر رکھی ہے وہ حقائق کی صداقت تک پہنچنے میں اس کی راے پر غیرمحسوس طور پر اثر انداز ہو رہی ہے ۔آج اردو زبان جس مقام پر پہنچ گئی ہے اس میں سلیس اردو کی ہر تحریر پڑھ کر تقویت ہوتی ہے۔ (ڈاکٹر انیس احمد)
جناب عنایت علی خاں کی شہرت تو طنزومزاح کے شاعر کی ہے اور یہ ہے بھی سچ۔ وہ مشاعروں میں اسی مزاحیہ کلام سے دھوم مچاتے ہیں مگر ان کے کسی مجموعے کو دیکھ کر اور بالخصوص کلیات کو دیکھ کر یہ واضح احساس ہوتا ہے کہ ان کو محض طنزومزاح کا شاعر سمجھنا ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔ وہ ایک دردمند ، محب ِ وطن اور حالاتِ حاضرہ سے باخبر شاعر ہیں۔
انھیں ہر صنف میں اپنی بات کہنے کا ہنر آتا ہے۔ بحرِبیکراں، افراد ہو یا راج کہانی یا ’ورلڈکپ‘ جو ان کی سب سے زیادہ مشہور نظم ہے، کسی کو بھی دیکھیے آپ کو محسوس ہوگا کہ اُن کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے اور پیش کرنے کا سلیقہ بھی۔ صرف ایک نظم کا ایک بند دیکھیے:
ہم ہیں صاحب، ہم کو ورثے میں ملی یہ صاحبی
ایک پی او ، ایک شوفر ، گیٹ پر دو سنتری
ہے شہنشاہی جسے سمجھا ہے تم نے نوکری
قوم کے افراد سارے ہیں ہمارے خدمتی
ان کی شہرت تو ضرور ایک شاعر کی ہے مگر وہ مصنف ہیں، محقق ہیں ،مترجم ہیں اور مذہب پر کامل اعتقاد رکھنے والے عالم باعمل ہیں۔ تمام زندگی پڑھتے پڑھاتے گزری ہے۔ ان کی نظم ’ٹیوٹر‘ پڑھیے تو علم کی ناقدری کا بھرپور احساس ہوتا ہے۔
کلیات کی اشاعت پر ان کو مبار کباد تو دی جاسکتی ہے مگر ابھی ان سے اور بھی بہت سی توقعات ہیںجو ان شاء اللہ پوری ہوں گی۔
۶۷۲ صفحات کی اس کتاب میں ۱۵۰ سے زائد صفحات پر شاعرِ خوش کلام کے بارے میں نامی گرامی شخصیات کا اظہار خیال ہے۔ یہ تحریریں شاعر کی شخصیت ، ان کے مقام، ان کے کلام ، ان کی ذاتی زندگی، اخلاق و کردار، رویوں اور سوچ و فکر سب کے بارے میں گواہی پیش کرتی ہیں۔ جو تحریریں بعد میں لکھی جاتی ہیںعنایت صاحب نے سامنے ہی لکھوا لی ہیں۔
گواہی دینے والوں میں نعیم صدیقی، ضمیرجعفری، مشفق خواجہ، تابش دہلوی، انورمسعود، افتخار عارف، ڈاکٹر طاہر مسعود، ابونثر اور دیگر شامل ہیں۔ عطاء الحق قاسمی نے انھیں شاعروں کا پطرس قرار دیا ہے۔ عنایت صاحب نے خود اپنے حالات بھی لکھ دیے ہیں کہ سند رہے۔ ایک تحریر ہمزاد خاں کی بھی ہے۔ کلیات، عنایت علی خاں کی یادگار ہے اور اللہ انھیں زندگی اور صحت دے اور سلسلۂ عنایت از راہِ عنایت جاری رہے اور اہلِ ذوق کو کلیات کے دوسرے تیسرا ایڈیشن نصیب ہوں۔(وقار احمد زبیری)
اُردو میں اہلِ علم و ادب اور اکابرِ ملک و ملّت کی خدمات کے اعتراف میں اَرمغان یا یادگاری کتاب پیش کرنے کی ایک روایت برسوں سے چلی آرہی ہے۔ مسلّمہ روایت میں تو ’ارمغانِ علمی‘ متعلقہ شخصیت کی دل چسپی کے موضوعات پر غیرمطبوعہ علمی مضامین پر مبنی ہوتی ہے۔ اُردو میں ایسے ارمغانوں کی تعداد تقریباً دو درجن ہے( ’انگشت شمار‘ نہیں جیساکہ زیرنظر مجموعے میں بتایا گیا ہے)۔ زیرتبصرہ کتاب ان معنوں میں تو ’ارمغانِ علمی‘ نہیں مگر پروفیسر ڈاکٹر سیّد محمد خورشیدالحسن رضوی (ولادت: ۱۹مئی ۱۹۴۲ئ) کی شخصیت، حالاتِ زندگی، تصانیف و تالیفات، شاعری وغیرہ پر مطبوعہ مضامین اور تبصروں کا ایک خوب صورت مجموعہ ہے جسے ان کے شاگرد ڈاکٹر زاہد منیر عامرنے (جو خود بھی ایک بڑے نام وَر استاد، محقق، مصنف اور شاعر ہیں) بڑی محنت اور محبت سے تیار کر کے پیش کیا ہے۔
خورشید رضوی اُن ’پراگندا طبع‘ لوگوں میں سے ہیں جن کی تعداد ہمارے معاشرے سے روز بروز گھٹتی جارہی ہے۔ صاحبانِ علمیت و ذہانت تو مل جاتے ہیں مگر بے غرض، بے ریا اور نام و نمود کی خواہش سے بے نیاز (خورشید رضوی ایسے)کم ہی ملتے ہیں۔ اس کتاب میں رضوی صاحب کے بارے میں ان کے بعض اساتذہ کی آرا بھی شامل ہیں، مثلاً: ڈاکٹر سیّد عبداللہ، ان کی ’دانش ورانہ صلاحیتوں‘ کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’خورشید رضوی کے عربی زبان و ادب کے غیرمعمولی علم نے مجھے نمایاں طور پر متاثر کیا‘‘۔ ڈاکٹر ایس ایم زمان فرماتے ہیں: ’’ڈاکٹر خورشیدرضوی کے تحقیقی مضامین پر نظر ڈالیں تو یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ وہ ایک سنجیدہ، محتاط، ذہین وطباع، محقق و مفکر ہیں یا صاحب ِ طرز ادیب…؟ وہ یہ سبھی کچھ ہیں‘‘۔ اسی طرح ڈاکٹر صوفی محمد ضیاء الحق کو ہزاروں طالب علموں میں سے ’’صرف ایک ہونہار نوجوان [خورشید رضوی] میں علماے سلف رحمہم اللہ کے اوصافِ عالیہ کی کچھ جھلک نظر آئی‘‘۔
اساتذہ کی ان آرا کے ساتھ رضوی صاحب پر اُردو کے نام وَر ادیبوں، شاعروں، صحافیوں اور نقادوں کے مختصر اور طویل مضامین بھی شامل ہیں۔یہ مضامین خورشیدصاحب کی شخصیت کے مختلف پہلوئوں (بطور شاعر، بطور محقق، بطور نقاد، بطور مترجم) کا ا حاطہ کرتے ہیں۔ مؤلّف نے مجموعے کو مزید وقیع اور روشن کرنے کے لیے خود خورشیدصاحب کے تین خطباتِ صدارت، مصاحبے (انٹرویو) اور مکاتیب بھی (مع چھے انگریزی تحریرات) شامل کردیے ہیں۔
یہ بہت خوش آیند بات ہے کہ ایک ایسے شخص پر، جس کا ادب میں کوئی دھڑا نہیں ہے اور وہ ترقی پسند بھی نہیں ہے اور شہرت کا طلب گار بھی نہیں، اتنی بڑی تعداد میں لکھنے والوں نے ازخود لکھا ہے، لیکن دوسری طرف یہ بات افسوس اور تشویش کی ہے کہ ہماری جامعات اور علمی و تحقیقی اداروں نے خورشید رضوی ایسے نادر ِ روزگار عالم سے فائدہ نہیں اُٹھایا۔ یہ الگ بات ہے کہ انھوں نے ستایش کی تمنا اور صلے کی پروا کیے بغیر، اپنی دُھن میں عربی ادب پر بے مثال تحقیقی و تنقیدی کام کیا ہے۔
مرتب کا ذوقِ تالیف و ترتیب بھی قابلِ داد ہے۔ انھوں نے مجموعے کو دل چسپ بنانے اور پیش کش کو نہایت خوب صورتی سے سامنے لانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ لیکن اگر وہ زیرنظر نسبتاً آسان کام کے بجاے اصل ’ارمغانِ علمی‘ تیار کرتے تو اور زیادہ مبارک باد کے مستحق اور ’مرداں چنیں کنند‘ کا مصداق ہوتے۔ (رفیع الدین ہاشمی)
زیرنظر کتاب غالباً مصنف کا ایم فل اُردو کا تحقیقی مقالہ ہے۔ اشاعت کے موقعے پر ممکن ہے اس میں ترامیم اور تبدیلیاں کی گئی ہوں۔ مصنف نے ایم فل اُردو کے لیے ’اُردو قاعدہ، تحقیقی و تنقیدی مطالعہ‘ کے عنوان سے تحقیقی مقالہ لکھا جس میں اِملا اور رسم الخط کے مسائل بھی زیربحث آئے تھے۔ انھی مسائل کی وضاحت اور حل کے سلسلے میں انھوں نے زیرنظر کتاب تصنیف کی ہے۔ اس میں ان کے تحقیقی مقالے کا ایک حصہ بھی شامل ہے۔
اُردو زبان بالعموم خط ِ نستعلیق میں لکھی جاتی ہے جو ہمارے نزدیک دنیا کا سب سے خوب صورت رسم الخط یہی ہے۔ لیکن جہاں اِملا درست نہ ہو اور اِملا میں یکسانیت کا فقدان ہو، وہاں اُردو کی خوب صورتی ماند پڑ جاتی ہے۔ مصنف کی خواہش بجا ہے کہ اُردو لکھنے والا ہرشخص درست اِملا لکھے۔ اس کے لیے انھوں نے درست اِملا کے اصول بھی بتائے ہیں، مثالیں بھی دی ہیں اور ۲۱صفحات کا ایک لغت بھی شاملِ کتاب کیا ہے۔ اس میں درست اِملا میں ۵۰۰ سے زائد الفاظ دینے کے ساتھ ان کے لغوی معنی بھی دیے گئے ہیں۔
درست اِملا کی اہمیت اپنی جگہ مگر زبان کی خوب صورتی اِملا کے علاوہ الفاظ کی آلودگی سے بھی متاثر ہوتی ہے بلکہ زبان بگڑ جاتی ہے۔ ہمارے اخبارات،ریڈیو، ٹیلی وژن اور مقررین مل جل کر اس بگاڑ میں اپنا اپنا حصہ ڈال رہے ہیں، مثلاً: انگریزی الفاظ کا بے جا اور غیرضروری استعمال ۔ اسی طرح اُردو الفاظ کے جمع بنانے میں اُردو کے بجاے انگریزی اصولوں اور قاعدوں کو اپنانا وغیرہ۔ مصنف کو اِملا کے ساتھ ساتھ اس پہلو پر بھی توجہ دینی چاہیے تھی۔
اُردو اِملا کا المیہ یہ ہے کہ نہ صرف افراد (مصنف، خوش نویس، پروف خواں) بلکہ ادارے (علمی و ادبی انجمنیں ، جامعات کے اشاعتی شعبے، ناشر وغیرہ) بھی اِملا کے مسلّمہ اصولوں کی پاس داری نہیں کرتے۔ یوں وہ بھی زبان کی آلودگی بڑھانے میں شامل ہیں۔
زیرنظر کتاب میں لیے کو لئے، دیے کو دیئے، رشید حسن خاں کو رشید حسن خان اور ہیئت کو ہیت لکھا گیا ہے، جو ان الفاظ کا درست اِملا نہیں ہے۔ کتاب میں رُموزِ اوقاف پر بھی بحث ہے مگر مصنف کے اپنے دیباچے میں رُموزِ اوقاف کا اہتمام نہیں ملتا۔ کتابت کی اَغلاط بھی کم نہیں اور پروف ریڈنگ بھی احتیاط سے نہیں کی گئی۔ ان خامیوںکے باوجود مصنف کی کاوش قابلِ قدر ہے۔ اُمید ہے آیندہ ایڈیشن میں وہ کتاب کو بہتر اور مفید تر بنائیں گے۔(رفیع الدین ہاشمی)
علامہ اقبال کے افکار جس طرح شاعری میں اپنی ندرت اور تاثیر کے باعث قبولِ خاطر ہیں، اسی طرح نثر میں بھی ان کے نظریات واضح ہیں۔ ان کے خطوط کے ۱۰،۱۲ مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔
زیرنظر مجموعۂ مکاتیب سیّد نذیرنیازی کے نام ۱۷۸ خطوط پر مشتمل ہے۔ دو خطوط نذیر نیازی کے نام نہیں، تاہم وہ بھی اس مجموعے میں شامل ہیں۔ سید نذیر نیازی نے ۱۹۵۷ء میں یہ خطوط مکتوباتِ اقبال کے عنوان سے شائع کیے تھے۔ اب یہ مکاتیب متن کی تصحیح کے بعد شائع کیے گئے ہیں۔ ان خطوط کی عکسی نقول مرتب کو اقبال اکادمی سے حاصل ہوگئی تھیں۔ سیّد نذیرنیازی کے شائع کردہ مکتوباتِ اقبال میں سیکڑوں اغلاط تھیں اور غیرضروری طویل حواشی تھے جو زیرنظر مجموعے میں حذف کردیے گئے ہیں۔ سیّد نذیر نیازی کے نام یہ خطوط ۱۹۲۹ء سے ۱۹۳۷ء تک کے عرصے میں تحر یر کیے گئے۔ علامہ اقبال نے ان خطوط میں اپنی تصنیفات، بعض شخصیات، اپنے اسفار، علمی کانفرنسوں میں شرکت،اور اپنی بیماری وغیرہ کا ذکر کیا ہے اور بعض خطوں میں علمی مسائل پر کلام کیا ہے۔
مرتب نے سیّد نذیر نیازی کی کتاب مکتوباتِ اقبال کی تصحیح کرتے ہوئے اگرچہ بہت سی اغلاط کی درستی کی ہے جس کے باعث زیرنظر مجموعہ پہلے مطبوعہ نسخے مکتوباتِ اقبالکی نسبت بہتر حالت میں ہے۔ تاہم زیرنظر تصحیح کردہ نسخے میں بھی متعدد اغلاط موجود ہیں۔ بعض خطوط کے عکس دے دیے جاتے تو بہتر ہوتا۔ مرتب نے مکاتیب کے متن کی صحت کا خیال رکھنے کی کوشش کی ہے، تاہم پروف عجلت کے بجاے ذمہ دارانہ احساس کے ساتھ احتیاط سے پڑھے جاتے تو یہ اغلاط نہ رہتیں۔ (ظفر حجازی)
o زندگی اسوئہ رسولؐ کے سنگ ، علامہ محمد علی بِکری صدیقی شافعیؒ، ترجمہ: غلام مصطفی القادری۔ ناشر: ساگرپبلشرز، فرسٹ فلور، ۳۰- الحمدمارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۳۷۲۳۰۴۲۳-۰۴۲۔ صفحات: ۲۰۰۔ قیمت: ۳۰۰ روپے۔ [شمائلِ نبویؐ اور گیارھویں صدی ہجری کے محدث علامہ محمدعلی بن علان بن ابراہیم بِکری صدیقی شافعی کی عربی تصنیف کا اُردو ترجمہ ہے۔ علامہ علی بِکری نے روایاتِ احادیث کی صورت میں محسنِ انسانیت ؐ اور ہادیِ عالم ؐ کے شمائل وخصائل، عادات و معمولات، طبع و مزاج گرامی اور رسولِ کریمؐ کے استعمال میں رہنے والی اشیا، سواریوں، لباس و بستر وغیرہ کا تذکرہ مرتب کیا ہے۔ سیرتِ پاکؐ کے یہ پہلو بھی لائقِ اتباع ہیں۔]
o شرح اربعین امام حسینؓ، عبداللہ دانش۔ ناشر: العاصم اسلامک بُکس۔ ۲۸-الفضل مارکیٹ، ۱۷-اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۳۷۱۲۲۴۲۳-۰۴۲۔صفحات: ۴۷۵۔ قیمت: درج نہیں۔ [مرتب نے چند برس قبل امام حسینؓ کے فضائل و مناقب اور شہادت سے متعلق احادیث ِ رسولؐ اور تاریخی روایات کا ایک مجموعہ اربعین امام حسینؓ کے نام سے شائع کیا تھا۔ اب اسی مجموعے کی شرح، تخریج اور کتاب کے نام میں ایک لفظ کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ اربعین امام حسینؓ عنوان سے تاثر ملتا ہے کہ یہ امام حسینؓ کی جمع کردہ احادیث ِ رسولؐ کا مجموعہ ہے لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ یہ ان سے متعلق روایات ہیں جن کو مرتب نے صحت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ طباعت معیاری ہے۔]
o ادب: کس کا، کیوں اور کیسے؟ ، مولانا حکیم محمد ادریس فاروقی، محمد نعمان فاروقی۔ ناشر: مسلم پبلی کیشنز، ۲۵-ہادیہ حلیمہ سنٹر، اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۳۷۳۱۰۰۲۲-۰۴۲۔ صفحات: ۲۷۲۔ قیمت ( مجلد): ۳۹۰ روپے۔ [اللہ تعالیٰ، رسولؐ اللہ، قرآنِ مجید، احادیث ِ رسولؐ ، صحابہؓ و اہلِ بیتؓ ، حرمین شریفین و دیگر مساجد، ائمہ محدثین و فقہا، اولیاے کرام، والدین، اساتذہ اور بڑوں کے ادب و احترام پر قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔ اسلوب عام فہم اور واقعات مستند۔ مصنف کا زاویۂ نظر درست ہے۔]
o تربیت اولاد میں ماں کا کردار، عائشہ کرامت شیخ۔ ناشر: اسلامک سروسز سوسائٹی، ۱۷۹-اے ، احمدبلاک، نیو گارڈن ٹائون، لاہور۔ فون: ۳۵۸۶۳۱۹۹-۰۴۲۔ صفحات: ۴۷۔ قیمت: درج نہیں۔[معاشرتی بگاڑ کا بنیادی سبب اخلاق اور دین سے دُوری ہے اور نوجوان نسل بالخصوص اس کا ہدف ہے۔ اس انحطاط کو روکنے اور نوجوان نسل کی صحیح خطوط پر تربیت کے لیے ایک ماں کا مطلوبہ کردار اور راہ نمائی کے اصول اس کتابچے میں ایک مختلف اسلوب میں بیان کیے گئے ہیں۔ بچوں کی تربیت کے لیے ایک مختصر اور جامع کتاب۔]
نیا سرورق بامعنی اور سادہ ہے، تاہم مزید جدت کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ مولانا مودودیؒ کا سورئہ ذاریات کا درسِ قرآن (جنوری ۲۰۱۶ئ) بہت مفید ہے۔ بڑے مؤثر اسلوب میں آخرت کے برپا ہونے کے لیے عقلی دلائل فراہم کیے گئے ہیں اور انسانی ذہن میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دُور کیا گیا ہے۔ ’عہدنبویؐ میںا مدینہ کا شہری نظام‘ میں نبی کریمؐ کے اسوہ کا منفرد پہلو سامنے آیا۔ شہروں و بلدیاتی سطح پر درپیش مسائل کے حل کے لیے اہم خطوط کی طرف راہ نمائی کی گئی ہے۔
’تحریکِ اسلامی اور علم دوست معاشرہ‘ (جنوری ۲۰۱۶ئ) عمدہ اور جامع تحریر ہے۔ اس موضوع پر مزید تحریریں دینا مفید ہوگا۔ ماضی میں جس طرح تحریک اسلامی نے اسلامی مکتبوں کے قیام اور گھر گھر پہنچ کر انفرادی رابطوں ، گفتگوئوں اور دعوتی کتابچوں کے ذریعے اسلامی تعلیمات کو عام کیا اور لوگوں میں ذوقِ مطالعہ کو پروان چڑھایا، آج بھی اسی جذبے سے اسلام کی روایت ِعلم کو آگے بڑھانے اور مطالعے کے رجحان کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
’لبرل ازم ، کیا ہے اور کیا نہیں؟‘ (جنوری ۲۰۱۶ئ) کے تحت لبرل ازم کے اصول و مبادی کا محاکمانہ و تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا ہے اور اس کے اثرات و مضمرات کا احاطہ کیا گیا ہے جو وقت کی اہم ضرورت کو پورا کرتا ہے۔
’لبرل ازم ، کیا ہے اور کیا نہیں؟‘ (جنوری ۲۰۱۶ئ) اپنے موضوع پر جامع تحریر ہے اور لبرل ازم اور سیکولرازم ، نیزاس کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو اُجاگر کیا گیا ہے۔ تاہم اسلوب فلسفیانہ ہے، اسے مزید سہل بنانے کی ضرورت تھی۔
اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صاف صاف ہدایات کو دیکھ لینے کے بعد ایک مومن انسان کے لیے دو ہی صورتیں رہ جاتی ہیں: یا تو وہ ان کی پیروی کرے اور اپنی، اپنے گھر کی اور اپنے معاشرے کی زندگی کو اُن اخلاقی فتنوں سے پاک کردے، جن کے سدباب کے لیے اللہ نے قرآن میں اور اس کے رسولؐ نے سنت میں تفصیلی احکام دیے ہیں۔ یا پھر اگر وہ اپنے نفس کی کمزوری کے باعث اِن کی یا ان میں سے کسی کی خلاف ورزی کرتا ہے تو کم از کم اسے گناہ سمجھتے ہوئے کرے اور اس کو گناہ مانے، اور خواہ مخواہ کی تاویلوں سے گناہ کو صواب بنانے کی کوشش نہ کرے۔
اِن دونوں صورتوں کو چھوڑ کر جو لوگ قرآن و سنت کے صریح احکام کے خلاف، مغربی معاشرت کے طورطریقے اختیار کرلینے ہی پر اکتفا نہیں کرتے، بلکہ پھر انھی کو عین ’اسلام‘ ثابت کرنے کی کوشش شروع کردیتے ہیں اور علانیہ دعوے کرتے پھرتے ہیں کہ :’’اسلام میں سرے سے [فلاں] حکم موجود ہی نہیں ہے‘‘، وہ گناہ اور نافرمانی پر جہالت اور منافقانہ ڈھٹائی کا اور اضافہ کرلیتے ہیں، جس کی قدر نہ دنیا میں کوئی شریف آدمی کرسکتا ہے، نہ آخرت میں خدا سے اس کی اُمید کی جاسکتی ہے۔ مسلمانوں میں تو منافقوں سے بھی چار قدم آگے بڑھ کر ایسے لوگ بھی موجود ہیں، جواللہ اور رسولؐ کے ان احکام کو غلط اور اُن طور طریقوں کو صحیح و برحق سمجھتے ہیں، جو انھوں نے غیرمسلم قوموں سے سیکھے ہیں۔ یہ لوگ درحقیقت مسلمان نہیں ہیں، کیونکہ اس کے بعد بھی اگر وہ مسلمان ہوں تو پھر اسلام اور کفر کے الفاظ قطعاً بے معنی ہوجاتے ہیں۔ اگر یہ لوگ اپنے نام بدل دیتے اور علانیہ اسلام سے نکل جاتے تو ہم کم از کم ان کی اخلاقی جرأت کا اعتراف کرتے۔ لیکن ان کا حال یہ ہے کہ [اللہ اور رسولؐ کی ہدایات کے خلاف]یہ خیالات رکھتے ہوئے بھی وہ مسلمان بنے پھرتے ہیں۔ انسانیت کی اس سے زیادہ ذلیل قسم غالباً دنیا میں اور کوئی نہیں پائی جاتی۔ اس سیرت و اخلاق کے لوگوں سے کوئی جعل سازی، کوئی فریب، کوئی دغابازی اور کوئی خیانت بھی خلافِ توقع نہیں ہے۔ (’تفہیم القرآن ‘ ، سیّدابولااعلیٰ مودودی ، ترجمان القرآن،جلد۴۵، عدد۶، جمادی الاخریٰ ۱۳۷۵ھ، فروری ۱۹۵۶ئ، ص ۳۰-۳۱)
_______________