حافظ محمد ادریس


مصر نے کیمپ ڈیوڈ معاہدے (جنوری ۱۹۷۴ئ) میں اسرائیل کو تسلیم کرلیا تھا۔ اسرائیل کے ساتھ متحارب عرب ریاستوں میں سے مصر اپنی قوت اور تعداد کے لحاظ سے اہم ملک تھا۔ مصری قوم نے اس ذلت آمیز معاہدے کو دل سے کبھی تسلیم نہیں کیا۔ مصر کو جتنا بھی سیکولر‘ جدید‘ لبرل اور مغرب زدہ بنانے کی حکومتی اور عالمی کاوشیں ہوئی ہیں‘ حقیقت یہ ہے کہ وہ سب مصر کی اسلامی تحریک کے وسیع اثرات‘ منظم جدوجہد اور بحیثیت مجموعی‘ مصر کے عام مسلمان شہری کی اسلام کے ساتھ وابستگی کی بدولت اپنے مطلوبہ مذموم نتائج حاصل نہیں کر سکیں۔ مصری اداروں میں اسرائیل کے سرکاری سطح کے اثر و رسوخ کو ایک مصری‘ خواہ تحریک اسلامی کے ساتھ وابستہ ہو یا نہ ہو‘ نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

صدر محمد انوار السادات نے ناصری آمریت کے بعد اگرچہ ملک میں بنیادی حقوق بحال کر کے جمہوریت تو رائج نہیں کی تھی مگر سابقہ ادوار کے شدید جبروتشددکے مقابلے میں کچھ کمی ضرور آگئی تھی۔ اس کے نتیجے میں اخوان المسلمون کی اعلیٰ قیادت اور کارکنان جو سیکڑوں کی تعداد میں گذشتہ ۱۹ سالوں سے جیلوں میں بدترین قسم کے مظالم کا شکار تھے‘ رہا کر دیے گئے۔ اس کے باوجود سادات کا یہودیوں کی ناجائز ریاست کو قانوناً تسلیم کرلینا ملک بھر میں اس کے بہت بڑے جرم کی نظر سے دیکھا گیا اور مظلوم و بے گھر فلسطینی عوام سے انسانی اور اسلامی ہمدردی کا یہی تقاضا بھی تھا۔ تاہم‘ اخوان کے نزدیک اس بدترین فیصلے کے باوجود حکومت کے خلاف کوئی غیرقانونی اقدام کرنے کا جواز نہ تھا۔ اخوان نے قانونی حدود کے اندر احتجاج کیا مگر ایک اور انتہا پسند گروپ ’جماعت التکفیر والھجرہ‘ کے نوجوانوں نے سادات کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا جس کو ۶اکتوبر ۱۹۸۱ء کو ایک نوجوان خالد اسلامبولی نے عملی جامہ پہنایا۔ (اخوان کے موقف کے لیے دیکھیے مرشدِعام سید عمرتلمسانی کی یادداشتیں‘ یادوں کی امانت‘ باب پنجم)

اس موقع پر بھی اخوان کے خلاف بہت واویلا ہوا‘ پکڑ دھکڑ بھی ہوئی مگر ان کے خلاف کوئی الزام ثابت نہ ہوسکا‘ کیونکہ قاتل نے پوری ذمہ داری کے ساتھ قتل کا اعتراف کیا اور اس کا کوئی تعلق اخوان کے ساتھ نہ مل سکا تھا۔ اخوان نے قانونی حدود کے اندر ہمیشہ اس فیصلے کے خلاف صداے احتجاج بلند کی۔ یہودیوں کے فلسطین میں مظالم اور صہیونی منصوبوں میں پیش رفت کے خلاف بھی اخوان مسلسل زبان‘ قلم اور راے عامہ کے ذریعے نکیر کرتے رہے۔ پارلیمان میں بھی اخوان کے ارکان ہمیشہ بدعنوانی‘ حکومتی اہل کاروں کی نااہلی‘ انتظامیہ کے ظلم و ستم اور عوامی نوعیت کے دیگر مسائل‘ مہنگائی‘ بے روزگاری‘ زراعت و تجارت کی بدحالی پر احتجاج کے ساتھ ساتھ فلسطین کے اندر اسرائیلی حکومت کے مظالم کے خلاف توجہ دلائو نوٹس‘ تحاریکِ التوا‘ تحاریکِ استحقاق‘ قراردادوں اور تقاریر کے ذریعے مصری عوام کے جذبات کی حقیقی ترجمانی کرتے رہے۔ اس کے علاوہ مصر کے معاملات میں یہودیوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ بلکہ مداخلت پر بھی اخوان کی پارلیمان میں کارکردگی بہت نمایاں رہی۔ واضح رہے کہ اخوان پر اگرچہ قانوناً پابندی ہے مگر ان کے قابلِ لحاظ افراد آزاد حیثیت میں یا بعض انتخابات میں دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے پلیٹ فارم سے کامیاب ہوکر پارلیمنٹ میں پہنچتے رہے ہیں۔

یہودی ریاست اور اس کے سرپرست امریکہ نے ہمیشہ اخوان کی ان ’گستاخیوں‘کو تشویش کی نظر سے دیکھا اور انھیں ’حدود کا پابند‘ بنانے کے احکامات مصری حکمرانوں کو وقتاً فوقتاً جاری ہوتے رہے۔ شیخ احمد یاسینؒ اور ڈاکٹر عبدالعزیز رنتیسیؒ کی شہادتوں پر بھی اخوان نے پُرزور احتجاج کیا‘ اور رفاہ پر تباہ کن صہیونی حملوں کی بھی زوردار انداز میں مذمت کی۔ اخوان کے ارکان پارلیمان اور دیگر اہم اور فعال شخصیات کے خلاف صہیونی لابی کئی سالوں سے سرگرم عمل تھی۔ کافی عرصے سے فضا بن رہی تھی کہ اخوان پر ہاتھ ڈالا جائے۔

صدر حسنی مبارک نے واشنگٹن پوسٹ (۲۲ مارچ ۲۰۰۳ئ) کو اپنے انٹرویو میں گذشتہ سال کھل کر کہا تھا کہ ’’اگر مصر میں کھلی آزادیاں دے دی جائیں تو حالات خطرناک صورت اختیار کرلیں گے۔ کٹر مذہبی عناصر‘ بالخصوص اخوان اداروں پر چھا جائیں گے‘‘۔ یہی بات یہودی مسلسل کہے چلے جا رہے ہیں۔ گویا صدر حسنی مبارک نے خود مغرب کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا کہ آزادیوں اور جمہوری حقوق کا مطالبہ کرو گے تو ہمارے ساتھ تم بھی پچھتائو گے۔ صدر حسنی مبارک نے اس سال ۱۲ مارچ ۲۰۰۴ء کو سکندریہ میں جدید اصلاحات کے موضوع پر ایک کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے زوردار الفاظ میں اس تصور کو رد کر دیا کہ شدت پسند مذہبی افکار کو پنپنے کا موقع دیا جائے (المجتمع‘ کویت‘ شمارہ ۱۶۰۴‘ ۱۱ جون ۲۰۰۴ئ)۔ اپنے سابقہ دورئہ یورپ میں بھی وہ جگہ جگہ الجزائر کی مثال دے کر مکمل آزادیوں کے خطرات سے یورپ اور مغرب کو ڈراتے رہے ہیں۔ عرب اخبارات نے اٹلی کے اخبار لاریبوبلیکا کی ۵ مارچ ۲۰۰۴ء کی اشاعت کے حوالے سے ان کا جو انٹرویو شائع کیا ہے وہ خطرے کی کئی گھنٹیاں بجاتا سنائی دیتا ہے۔

اس دوران ناصری آمریت کے ابتدائی دور میں کیے جانے والے کئی اقدامات کی ریہرسل بھی دیکھنے میں آئی۔ اخوان اور دیگر باخبر حلقے سمجھ رہے تھے کہ کچھ ہونے والا ہے۔ اخوان کے ایک سابق رکن انجینیرابوالعلا ماضی کی قیادت میں ایک نئی ’معتدل، لبرل‘ سیاسی پارٹی کی بنیاد بھی رکھی جا رہی ہے جس کا نام ’حزب الوسط‘ تجویز کیا گیا ہے۔ مصری پارلیمان کا موسمِ گرما کا اجلاس جاری تھا۔ اس میں ۷۵ ارکان نے حکومت سے سوال کیا کہ وہ اصلاح کے نام پر پکنے والی کھچڑی کے بارے میں ایوان اور قوم کو کچھ بتائے۔ بے چارے وزرا بتا تو کیا سکتے تھے‘ اس کے چند روز بعد ۱۵ مئی کو اخوان کے ۵۸ اہم رہنمائوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

گرفتاری کے ساتھ ہی ان کے خاندانوں کو بھوکا مارنے اور ان کے کاروباری شراکت داروں کو خوف زدہ کرنے کے لیے ان کی کمپنیاں‘ تجارتی ادارے‘ فارمیسیاں اور سرمایہ کاری کے تمام ذرائع پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ واضح رہے کہ یہ تمام ارکان اپنے اپنے پیشہ ورانہ شعبوں میں مہارت کی اعلیٰ مثال بھی ہیں اور کئی خاندانوں کو اپنے منصوبوں میں سرمایہ کاری اور شراکت کی بنیاد پر سہارا دیے ہوئے تھے۔ اخوان کے لوگ اپنے کاروبار ہمیشہ کامیابی اور دیانت سے چلاتے رہے ہیں اور حکومت نے جب بھی ان پر ظلم کا کوڑا برسایا ہے‘ اس پہلو کو بھی خصوصی ہدف بنانا ضروری سمجھا گیا ہے۔ آج پھر مصری حکومت کی طرف سے یہ ظلم ایسے وقت میں ڈھایا گیا ہے جب اخوان صہیونی شیطانی حملوں کے مدمقابل نہ صرف فلسطینی عوام کی حمایت کر رہے تھے بلکہ حکومتِ مصر کو بھی مضبوط موقف اپنانے پر اپنی حمایت کا یقین دلا رہے تھے۔ انھوں نے عراق میں امریکی مظالم کے خلاف زبردست احتجاج کیا اور تمام عرب و مسلمان ممالک کے حکمرانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اسلامی فریضے کی ادایگی کے لیے متحدہ موقف اپنائیں۔

گرفتار شدگان کے ساتھ کیا کچھ کیا گیا؟ مصری پارلیمنٹ کی دفاع‘ امن و امان اور عوامی حقوق کی مجلس قائمہ نے جب ان نظربندوں سے جیل میں ملاقات کی تو ان کے بقول ان کے پائوں تلے سے زمین نکل گئی۔ عراق کی ابوغریب جیل ہی کی طرح یہاں ان پاکیزہ صفت ابناے وطن کے ساتھ ان کی اپنی سرکاری مشینری نے ناقابلِ بیان مظالم ڈھائے تھے۔ ان ارکان پارلیمنٹ میں حکومتی جماعت اور دیگر پارٹیوں کے نمایندے شامل تھے۔ کمیٹی کے سربراہ انجینیرفتحی قزمان تھے‘ جب کہ ارکان میں بریگیڈیئر حازم حمادی‘ بریگیڈیئر بدر القاضی‘ ڈاکٹر ایمن نور‘ حمدین صباحی‘ طلعت سادات‘ ڈاکٹر محمد مرسٰی (اخوان کے پارلیمانی گروپ لیڈر) کے نام تھے۔ تمام ارکان نے قاہرہ کے جنوب میں واقع تاریخی اور بدنامِ زمانہ جیل خانے لیمان طرہ فارم کا ۹ جون ۲۰۰۴ء کی شام کو معائنہ کیا۔ یہ بدترین قسم کا عقوبت خانہ ہے۔ اخوان کی تاریخ جاننے والے اچھی طرح باخبر ہیں کہ ناصر کے دور میں بھی یہاں اخوان پر قیامت ڈھائی گئی تھی۔ اس کی دلدوز تفصیلات اخوان کے تیسرے مرشدعام عمر تلمسانیؒ کی یادداشتوں یادوں کی امانت اور چوتھے مرشدِعام سید محمد حامد ابوالنصرؒ کی خودنوشت تحریکی داستانِ حیات وادی نیل کا قافلہ سخت جان کے علاوہ ڈاکٹر محمود عبدالحلیم مرحوم (سابق شیخ ازھر) کی ضخیم کتاب تاریخ اخوان المسلمون کی دونوں جلدوں میں مختلف مقامات پر دیکھی جا سکتی ہیں۔

اس ملاقات میں کمیٹی کے ارکان کے علاوہ اخوان کے دیگر ۱۴ ارکانِ پارلیمنٹ بھی موجود تھے۔ پارٹیوں کی تقسیم سے قطع نظر کمیٹی کے جملہ ارکان کی رائے میں تمام نظربندوں کے ساتھ انتہائی وحشیانہ‘ غیر انسانی‘ اذیت ناک اور توہین آمیز سلوک کیا گیا۔ اکثر کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں‘ سبھی کے جسم پر بدترین تعذیب کے نشانات پائے گئے۔ بعض ان صدمات اور بجلی کے جھٹکوں کی وجہ سے اپنے اعصاب اور حواس تک کھو چکے تھے۔ عرب اخبارات اور مختلف ویب سائٹس پر اس کی مکمل تفصیلات سامنے آئی ہیں جو دل دہلا دینے والی ہیں۔(شرق الاوسط‘ لندن‘    ۱۵ جون ۲۰۰۴ئ۔  القدس العربی‘ ۱۷جون ۲۰۰۴ئ۔ الدعوۃ ویب سائٹ‘ www.aldaawah.org ‘۱۷ جون ۲۰۰۴ئ)

نظربندوں کو اذیت پہنچانے کے لیے مختلف اصطلاحات اور خفیہ الفاظ ایجاد کیے گئے تھے۔ ان میں سے ایک تھا: ’استاکوزا‘۔ اس کا مطلب تھا کہ سر سے لے کر پائوں تک تمام جسم اور بالخصوص نازک اعضا کو بجلی کے جھٹکے دیے جائیں۔ ایک حکم ہوتا تھا: ’ابوغریب کا تجربہ دہرائو‘۔ اس کے نتیجے میں بجلی کے جھٹکوں والی سلاخیں جسم کے نازک حصوں میں داخل کی جاتی تھیں اور ایسے ایسے مذموم ہتھکنڈے استعمال کیے گئے جن کا بیان بھی یہاں ممکن نہیں۔ صبحی صالح ایڈووکیٹ (صدر اسکندریہ بار ایسوسی ایشن) جس نے انٹرنیشنل وکلا پینل کے ہمراہ ابوغریب جیل کا معائنہ کیا تھا‘ اپنے بیان میں یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ لیمان طرہ جیل کے مظالم نے ابوغریب جیل اور گوانٹاناموبے کے عقوبت خانوں کی یاد تازہ کر دی ہے۔ پھر اس نے اخوان کے ان نظربندوں پر مظالم کے دردناک واقعات بیان کیے۔ ان کو ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال کر چھت سے لٹکا دیا گیا جس کے نتیجے میں کئی نظربندوں کی کلائی کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں مگر ان کو کسی قسم کے علاج معالجے کی کوئی سہولت حاصل نہ تھی۔ یہ سب اعلیٰ تعلیم یافتہ‘ ڈاکٹر‘ انجینیر‘ چارٹرڈ اکائونٹنٹ‘ وکلا‘ پروفیسر‘ علما‘ سابق امیدوارانِ پارلیمنٹ اور پی ایچ ڈی حضرات ہیں۔ (الدعوہ‘ حوالہ مذکورہ بالا)

ان سب مظالم سے بڑا ظلم یہ ہے کہ ایک قیمتی انسانی جان کو اذیتیں پہنچا پہنچا کر شہید کردیا گیا۔ اس کا انگ انگ زخمی تھا اور ہر ہڈی پسلی توڑ دی گئی۔ یہ عظیم انسان ۴۶ سالہ انجینیراکرم زہیری شہیدؒ ہے جو جامِ شہادت نوش کر کے زندۂ جاوید ہوگیا‘ مگر یہ سوال اُمت کے سامنے چھوڑ گیا کہ یہ مظالم کب تک برداشت کیے جاتے رہیں گے!

اکرم زہیری شہیدؒ دیگر اخوان کے ساتھ ۱۵ مئی ۲۰۰۴ء کو گرفتار کیے گئے۔ وہ شوگر کے مریض تھے۔ انھیں اپنے ساتھ کوئی دوا رکھنے کی اجازت تک نہ دی گئی۔ تفتیش کے دوران تشدد کے نتیجے میں ان کی حالت مزید بگڑ گئی۔ ان کے ساتھیوں نے جیل حکام کو بار بار اس جانب متوجہ کیا مگر بے سود۔ جب حالت زیادہ خراب ہوئی تو انھیں جیل کے ہسپتال میں لے گئے مگر وہاں علاج معالجے کی کوئی سہولت موجود نہ تھی۔ جب انھیں وزارت داخلہ کے ہسپتال قاہرہ بھیجنے کا فیصلہ ہوا تو ایسی ایمبولینس میں انھیں بھیجا گیا جو نہایت خستہ حال تھی۔ ان کے دونوں ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال دی گئیں ۔ راستے میں خراب گاڑی اور غیرمحتاط ڈرائیونگ کی وجہ سے وہ کئی بار گرے اور ان کی کئی ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔

اخوان کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر محمد مرسیٰ کے بیان کے مطابق ۱۰ دن تک انجینیراکرم زہیری موت و حیات کی کش مکش میں مبتلا رہے مگر ان کا نہ کوئی مناسب علاج کیا گیا نہ انھیں کسی معالج کی خدمات حاصل ہوسکیں۔ بدھ کے دن ۹ جون ۲۰۰۴ء کو فجر کے وقت اکرم زہیری شہادت کے مرتبے پر فائز ہو کر ان مصیبتوں سے نجات پاگئے۔ ان کا تعلق اسکندریہ سے تھا۔ وہ سول انجینیرتھے اور انجینیرکونسل کے شعبہ منصوبہ بندی کے صدر تھے۔ ۱۹۸۴ء میں وہ طلبہ کی انجینیرنگ کونسل کے صدر اور ۱۹۸۵ء میں اسکندریہ یونی ورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر منتخب ہوئے۔ شہید نے اپنے پیچھے دو بیٹے‘ ایک بیٹی اور بیوہ سوگوار چھوڑے ہیں۔ ان کے بچے ابھی اسکول میں زیرتعلیم ہیں۔ انجینیراکرم زہیری شہیدؒ کی کمپنی جو جبراً بند کردی گئی ہے‘ کا بہت اچھا کام تھا۔ یہ زمینوں اور مکانوں کی خرید وفروخت اور تعمیرات کی پرائیویٹ رجسٹرڈ کمپنی تھی۔

شہید کے خاندان اوراسکندریہ کے اخوان کی خواہش تھی کہ ان کا جنازہ جمعرات ۱۰ جون کو بعد نماز ظہر پڑھا جاتا۔ مگر امن و امان قائم رکھنے کے ٹھیکیدار حکمرانوں نے حکم صادر کیا کہ جنازہ رات ہی کو پڑھا جائے گا۔ چنانچہ شام کو جیل سے شہید کا جسدِخاکی ان کے گھر پہنچنے کے تین چار گھنٹے بعد رات کو ۱۰ بجے ان کا جنازہ اٹھا۔ جنازے کے ساتھ پولیس کی گاڑیاں خوف و ہراس پیدا کر رہی تھیں۔ ۵ ہزار نمازی جنازے کے ساتھ چل رہے تھے۔ اخوان کی قیادت میں سے استاد جمعہ امین عبدالعزیز‘ ڈاکٹر محمود عزت‘ جناب مسعود السبحی‘ ڈاکٹر ابراہیم زعفرانی‘ استاد حسن محمد ابراہیم (رکن پارلیمان)‘ انجینیرصابر عبدالصادق (رکن پارلیمان) اس موقع پر موجود تھے۔ سب لوگوں کی زبان پر اللہ کی حمدوثنا‘ شہید کے درجات کی بلندی کے لیے دعا اور پسماندگان کے لیے صبرواجر کی مناجات تھی۔ اس موقع پر استاد جمعہ امین نے بہت رقت انگیزخطاب کیا۔ اخوان کو حسب سابق صبر کی تلقین کی‘ پسماندگان کے لیے دعائوں اور نیک تمنائوں کا اظہار کیا اور کہا کہ جن لوگوں نے اکرم کو اذیتیں پہنچائی ہیں انھوں نے اپنے لیے ذلت و رسوائی اور عذاب کا سودا کیا ہے‘ مگر اللہ نے اکرم کو شہادت عظمیٰ کا تاج پہنا دیا ہے۔

گرفتار شدہ اخوان ابھی تک جیل میں ہیں۔ یہ نظربند اعلیٰ تعلیم یافتہ‘ مصر بلکہ پورے عالمِ عرب میں اپنی قابلیت و صلاحیت کی وجہ سے معروف شخصیات کے مالک ہیں۔ شہید اکرم عبدالعزیز کے علاوہ اہم شخصیات میں محمد اسامہ‘ ڈاکٹر جمال نثار‘ مدحت الحداد‘ جمال ماضی‘ابراہیم زویل‘ حمزہ صبری حمزہ‘ محمدی السید (سابق امیداوار پارلیمان)‘ حمدی سلیمان ایڈوکیٹ‘ ڈاکٹر مصطفی الغنیمی‘ ڈاکٹر محمد رمضان‘ ڈاکٹر محمد المھدی اور ڈاکٹر عاشور الحلوانی جیسے نابغۂ روزگار فرزندانِ اسلام شامل ہیں۔ ان میں سے بعض نظربندوں بالخصوص محمد اسامہ کی حالت تشویش ناک ہے۔

اخوان کے مرشدعام جناب محمد مہدی عاکف نے اپنے ساتھیوں کی گرفتاری پر اپنے فوری ردعمل میں شدید غم و الم اور غصے کا اظہار کیا اور مصری حکومت کے اس فیصلے کو صہیونی اور امریکی جارح قوتوں کو خوش کرنے کی مذموم حرکت قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ اخوان کی تاریخ قربانیوں اور صبرواستقامت سے بھری پڑی ہے۔ ہم تمام حالات کا پامردی سے مقابلہ کریں گے۔ اکرم زہیری کی شہادت پر بھی انھوں نے اخوان کو صبروتحمل اور عزیمت کی تلقین فرمائی اور کہا کہ اکرم کو اللہ نے شہادت کی کرامت عطا فرما دی ہے۔

ایک برادر اسلامی ملک میں یہ کچھ ہو جائے اور کہیں سے کوئی احتجاج نہ ہو‘ یہ کوئی اچھی صورت حال نہیں ہے۔ غم تو اس بات کا کیا جاتا ہے کہ امریکہ افغانستان اور عراق میں خود آکر مظالم کی انتہا کر رہا ہے لیکن اُمت مسلمہ کی جانب سے اسے کوئی رکاوٹ پیش نہیں آرہی ہے (بلکہ آگے بڑھ کر تعاون پیش کیا جا رہا ہے) لیکن مصر اور دوسرے اسلامی ممالک میں اپنے پٹھوئوں کے ذریعے جو کچھ کروا رہا ہے‘ کیا اسے بھی ٹھنڈے پیٹوں برداشت کیا جائے گا؟ موجودہ صلیبی جنگ کا تقاضا ہے کہ اسلام کا ہر سپاہی خاموش رہنے اور بیٹھنے کے بجاے‘ میدان میں نکلے اور اپنا فرض ادا کرے۔ منظم گروہ‘ اتنا منظم احتجاج تو کرسکتے ہیں کہ ظالم کو اپنی گرفت ڈھیلی کرنا پڑے۔ اسلامی تحریکوں کی قیادت کو اس طرف توجہ کرنا چاہیے۔

مولانا مودودیؒ کا کارنامہ ہمہ پہلو‘ ہمہ جہت اور جامع ہے۔ آپ کا اصل کام فکری رہنمائی اور قلم و قرطاس کا صحیح استعمال ہے۔ جہاد قلم‘ زبان اور سیف سبھی سے کیا جاتا ہے۔ دیرپا اثرات قلمی جہاد ہی کے ہوتے ہیں‘ جو سید مودودیؒ کی اصل پہچان ہے۔

مولانا مودودیؒ کی تمام تصانیف‘ موثر‘ دل و دماغ کو اپیل کرنے والی‘ اور ایک مخلص داعی ٔ حق کا دردِ دل لیے ہوئے ہیں۔ ان کتابوں نے بلاشبہہ لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو تبدیل کیا ہے۔ ہر علاقے اور ہرزبان سے تعلق رکھنے والے غیرمسلم ان کی تحریریں پڑھ کر اسلام سے روشناس ہوئے۔ اسی طرح مولانا مودودیؒ کی کتب کے مطالعے کی بدولت خودبے شمار مسلمانوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا ہوا۔ ان سطور میں چند واقعات براعظم افریقہ کے تناظر میں پیش خدمت ہیں۔

  • افریقہ میں کچھ تجربات : ۱۹۷۴ء کے آغاز میں مجھے اسلامک فائونڈیشن‘ نیروبی میں خدمات سرانجام دینے کے لیے کینیا جانے کا اتفاق ہوا‘ اور ۱۲ برس تک وہاں رہا۔ اس دوران عموماً سال میں ایک یا دو مرتبہ مجھے پاکستان آنے کا موقع ملتا تھا۔ ۱۹۷۸ء تک ہر مرتبہ واپسی پر میں مولانا محترم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا۔ وہاں سے رہنمائی کے لیے کبھی کبھار خطوط بھی ارسال کیے جاتے تھے۔ مولانا مرحوم‘ افریقہ کے بارے میں اس قدر معلومات رکھتے تھے کہ حیرانی ہوتی‘ حالانکہ مولانا نے افریقہ کا کبھی دورہ نہ کیا تھا۔

میں نے حبشہ کے ظالم شہنشاہ ہیل سلاسی کا تختہ اُلٹے جانے کے بعد اس کے مظالم کا تذکرہ کیا تو مولانا نے فرمایا: ’’ہیل سلاسی بڑا ظالم اور متعصب عیسائی تھا۔ اس کے دل میں  اسلام سے شدید بغض و عناد تھا‘ مگر نئے آنے والے کمیونسٹ فوجی افسران‘ مسلمانوں پر اس سے بھی زیادہ ظلم ڈھائیں گے۔ کیونکہ روس نے جہاں کہیں اپنے حامیوں کو کامیاب کرایا ہے‘   خوف وہراس کی بدترین فضا پیدا کی ہے۔ اس کے باوجود ایک اچھا پہلو یہ ہے کہ اریٹیریا کے مسلمانوں کی تحریک اب مضبوط ہو جائے گی‘ کیونکہ ہیل سلاسی پورے ملک میں اتحاد کا مظہر  سمجھا جاتا تھا۔ اس کے لیے پایا جانے والا نام نہاد تقدس موجودہ فوجی حکمرانوں کو حاصل       نہ ہوگا‘‘۔ یہ بات مولانا مودودیؒ نے اکتوبر ۱۹۷۵ء کو فرمائی تھی۔ کس قدر درست تجزیہ اور کتنی    سچی پیش بینی تھی۔ ۱۹۹۳ء میں مسلم علاقہ اریٹیریا حبشہ کی غلامی سے آزاد ہوگیا۔

۱۹۷۸ء میں مجھے اچانک اپنی والدہ مرحومہ کی شدید بیماری کی وجہ سے پاکستان آنا پڑا تو مولانا سے ملاقات ہوئی۔ یوگنڈا کے فوجی ڈکٹیٹر عیدی امین کی حکومت کے خلاف باغیوں نے تنزانیہ کی افواج کے تعاون سے خانہ جنگی شروع کر دی تھی۔ باغی مسلسل پیش رفت کر رہے تھے۔ یوگنڈا میں مسلمان اقلیت میں ہیں۔

مولانا نے اس جنگ کے بارے میں فرمایا: ’’عیدی امین کی حماقتوں کا خمیازہ مسلم عوام کو بھگتنا پڑے گا۔ اس کے خلاف جس طرح ساری قوتیں سرگرم عمل ہیں‘ اس کی شکست اب بالکل نوشتۂ دیوار ہے۔ اسے تو کہیں نہ کہیں پناہ مل جائے گی مگر عام مسلمانوں پر سخت عذاب آجائے گا‘‘۔جولیس نیریرے (صدر تنزانیہ) کے بارے میں فرمایا: ’’وہ زنجبار کی مسلم حیثیت اور اسلامی تشخص کو ختم کرنے کا پہلے ہی مجرم ہے‘ اب یوگنڈا میں بھی ایک تنگ دل عیسائی مشنری کی طرح اسلام کی بیخ کنی کرے گا‘‘۔اس کے پانچ چھ ماہ بعد اپریل ۱۹۷۹ء میں یوگنڈا پر باغیوں کا قبضہ ہوگیا۔ عیدی امین کو تو سعودی عرب میں سیاسی پناہ مل گئی‘ مگر مسلمان آبادی ظلم کا نشانہ بنی۔

ایک مرتبہ میں نے مولانا کی خدمت میں افریقی مسلم معاشرے کی اس خرابی کا تذکرہ کیا کہ وہاں شادی کا تقدس تقریباً ختم ہوچکا ہے۔ اس قدر طلاقیں واقع ہوتی ہیں کہ کثیرتعداد میں مطلقہ جوڑوں کے بچے بے یارومددگار ہوکر عیسائی مشنریوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ اس پر مولانا نے فرمایا: ’’عربوں کے ہاں سے بہت ساری اچھی اور بری چیزیں افریقہ میں بھی پہنچی ہیں۔ نکاح کا تقدس اور طلاق حلال ہونے کے باوجود ابغض قرار پانے کا موضوع دھندلا گیا ہے۔ اسے اجاگر کرنے کے لیے اسلام کی بنیادی تعلیمات کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ کتاب حقوق الزوجین کا سواحلی ترجمہ کروا کر اسے عام پھیلانے سے بھی مفید نتائج برآمد ہوسکتے ہیں‘‘۔

پہلی مرتبہ جب میں کینیا پہنچا تو معلوم ہوا کہ چودھری غلام محمد مرحوم و مغفور نے افریقہ اور بالخصوص افریقہ کے مشرقی حصے میں تحریک کے لیے بہت کام کیا ہے۔یہاں چودھری صاحب مرحوم کے ساتھ ان شخصیات کا تذکرہ بھی ضروری ہے جو افریقہ میں ان کے دست و بازو بن کر میدانِ عمل میں سینہ سپر رہے۔ ان میں محمد بشیر دیوان مرحوم‘ عبدالحلیم بٹ مرحوم‘ محمد شفیع میرمرحوم‘ ڈاکٹر محمد سعید مرحوم‘ ضیاء الدین سومرو مرحوم‘ خلیل ملک مرحوم ‘جناب پروفیسر خورشیداحمد‘ جناب رائو محمد اختر‘ جناب عبدالرحمن بزمی‘ جناب حاجی محمد لقمان اور افریقی آبادی میں سے کینیا کے پہلے چیف قاضی شیخ محمد قاسم مزروعی مرحوم‘ دوسرے چیف قاضی شیخ عبداللہ صالح فارسی مرحوم‘ شیخ زبیدی مرحوم‘ ممبر پارلیمنٹ عثمان ورارو مرحوم‘ ممبرپارلیمنٹ ورارو (یوسف) کانجا وغیرہ اس قافلے میں شامل رہے۔ سب سے اہم کام سواحلی اور لوگنڈی زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ ہے۔ سواحلی زبان میں تو قرآن مجید کا ترجمہ اس وقت تک ہوچکا تھا‘ مگر لوگنڈی زبان میں ابھی ترجمہ زیرتکمیل تھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ سواحلی زبان میں ترجمہ قرآن Qurani Takatifuکو بڑے پیمانے پر سواحلی علاقوں میں پہنچانے کا کام اسلامک فائونڈیشن نیروبی نے بطریق احسن انجام دیا۔ اس کام میں کچھ خدمات سرانجام دینے کی سعادت مجھے بھی حاصل ہوئی۔

  • مقدمہ تفہیم القرآن: سواحلی زبان میں قرآن مجید کے مترجم‘ شیخ عبداللہ صالح فارسی‘ کینیا کے چیف قاضی تھے۔ موصوف نے سواحلی زبان میں قرآن مجید کا فصیح و بلیغ ترجمہ کیا تھا۔ وہ مولانا مودودیؒ کی شخصیت سے بے حد متاثر تھے۔ بہت بڑے شاعر‘ ادیب‘ مبلغ‘ خطیب‘ محدث اور فقیہہ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ مجلسی آدمی تھے۔ اپنی مجلس میں لوگوں کو وعظ و تذکیر کے ساتھ اپنی خوش گوار گفتگو کے ذریعے ماحول کو بڑا لطیف رکھتے تھے۔ مجلس میں مولانا مودودیؒ کا تذکرہ جب بھی آجاتا تو انتہائی سنجیدہ ہوجاتے اور بعض اوقات مولانا مودودیؒ کی علمی کاوشوں اور جدوجہد کے تذکرے سے ان کی آنکھیں اشکبار ہوجاتیں۔ مولانا کی وفات پر انھوں نے عربی میں ایک مرثیہ بھی لکھاتھا جو پاکستان کے اُردو اخبارات و رسائل میں چھپا تھا۔ تفہیم القرآن کا مقدمہ شیخ عبداللہ صالح فارسی نے اپنے ترجمہ قرآن کے شروع میں بطور خاص ترجمہ کر کے شائع کیا۔ وہ فرمایا کرتے تھے: ’’ساری زندگی قرآن مجید کے پڑھنے‘ پڑھانے اور سمجھنے سمجھانے میں صرف کی‘ مگر اس تحریر کو دیکھ کر پتا چلا کہ قرآن کو سمجھنے اور اس کو آگے پہنچانے کا طریقہ کیا ہے‘‘۔

سواحلی زبان میںقرآن پاک کے ترجمے کی مقبولیت تفہیم القرآن کی طرح قابلِ رشک ہے۔ اس ترجمے سے قبل قادیانیوں نے سواحلی میں قرآن کا ترجمہ کرایا تھا۔ جب یہ درست اور مفید ترجمہ چھپا تو اسلامک فائونڈیشن نے اعلان کر دیا کہ:’’جس کسی شخص کے پاس قادیانی ترجمہ ہو وہ فائونڈیشن کے مرکزی دفترقرآن ہائوس میں جمع کرا کے شیخ عبداللہ صالح فارسی کا مستند اور اسلامی ترجمہ حاصل کرلے‘‘۔ اس اعلان کے بعد بے شمار لوگوں نے قادیانیوں کا ترجمہ جمع کروایا اور درست ترجمہ حاصل کرلیا۔

  • صومالی علما: میرے ایک صومالی نژاد دوست عثمان عبدی شوریا‘ نیروبی یونی ورسٹی میں طالب علم تھے۔ کینیا کے شمال مشرقی مسلم اکثریتی صوبے سے ان کا تعلق تھا۔ یونی ورسٹی    کی طلبہ تنظیم کے عہدے دار اور مخلص مسلمان نوجوان تھے۔ انھوں نے بتایا: ’’مولانا کا مقدمہ تفہیم القرآن صومالی علما کے ہاں اس قدر مقبول ہے کہ کئی صومالی علما جو سواحلی زبان سے نابلد ہیں‘ اس کا عربی ترجمہ حاصل کرکے اسے اپنی مجالس میں طلبہ کو صومالی میں پڑھاتے ہیں‘‘۔
  • لوگنڈی: لوگنڈی‘ یوگنڈا کی سرکاری اور عوامی زبان ہے۔ اس زبان میں بھی مشنری عیسائیوں اور قادیانیوں نے ترجمہ کر رکھا تھا۔ اکتوبر ۱۹۷۵ء میں‘ میں نے مولانا مرحوم سے ملاقات کی تو آپ نے حسبِ توقع افریقہ کے کام کے بارے میں رپورٹ طلب فرمائی۔ میں نے دیگر امور کے علاوہ لوگنڈی زبان میں قرآن مجید کے ترجمے کی بات بھی کی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ ہمیں تفہیم القرآن ہی کا براہِ راست ترجمہ کروانا چاہیے۔ اس پر مولانا نے فرمایا: ’’اس کام پر خاصا وقت لگے گا۔ سردست کسی پختہ عالم دین کے ذریعے قرآن مجید کے متن کا مختصر حواشی کے ساتھ ترجمہ وقت کی فوری ضرورت ہے‘ تاکہ گمراہ کن تراجم کا جلد سدباب ہوسکے‘‘۔ میں نے عرض کیا کہ یوگنڈا کے مفتی عبدالرزاق مٹووو کر رہے ہیں تو فرمایا: ’’تکمیل کی کوشش کی جائے‘‘۔ چنانچہ اس زبان میں قرآن پاک کا ترجمہ مکمل ہوا اور چھپا۔ یہ ترجمہ یوگنڈاکے سابق چیف قاضی شیخ عبدالرزاق مٹووو نے مکمل کیا اور اب تک اس کے کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔
  • اسلامی نظامِ زندگی: مولانا مودودیؒ کی نظام الحیاۃ فی الاسلام کا سواحلی میں ترجمہ کینیا کے سابق چیف قاضی شیخ محمد قاسم مزروعی مرحوم نے کیا تھا۔ اس کتاب نے نہ صرف بہت سے عیسائیوں کو مسلمان کیا‘ بلکہ کئی بشپ بھی مسلمان ہوگئے۔ یہ کتاب نیروبی یونی ورسٹی میں مسلم طلبہ کے لیے بطور نصابی کتاب شامل کرلی گئی تھی۔

مجھے سوڈان‘ایتھوپیا (حبشہ) تنزانیہ‘ یوگنڈا‘ زیمبیا‘ زمبابوے‘ ملاوی‘ موزمبیق‘ ماریشس‘ مڈغاسکر‘ دی یونین آئی لینڈ‘ جیبوتی‘ جنوبی افریقہ اور نائیجیریا وغیرہ میں سفرکرنے کا بھی اتفاق ہوا۔ ان تمام علاقوں میں مولانا مودودیؒ کا تعارف پڑھے لکھے مسلمانوں کے حلقوں میں پہنچ چکا تھا۔ جن ممالک میں برعظیم سے تعلق رکھنے والی کوئی آبادی موجود تھی‘ وہاں آبادی کم ہو یا زیادہ‘ مولانا کا اُردو لٹریچر بھی پہنچ گیا تھا۔ ان ممالک میں بالخصوص عربی‘ فرانسیسی اور انگریزی زبانوں میں جس قدر بھی تراجم دستیاب تھے‘ لوگوں کی دل چسپی کا مرکز تھے۔ مختصر طور پر ان ممالک کے بارے میں چند سطور میں ایک خاکہ پیش خدمت ہے:

  • اریٹیریا : اکثر لوگ عربی زبان جانتے ہیں‘ اس لیے وہاں مولانا کا تعارف اور لٹریچر بہت زیادہ ہے۔ اسمارا اریٹیریا کا صدرمقام ہے۔ یہاں بھی مولانا کی عربی کتب لوگوں کے پاس موجود تھیں۔
  • تنزانیہ : تنزانیہ کی سرکاری زبان سواحلی ہے اور مولانا مودودیؒ کے ایک پرانے ساتھی ملک محمدحسین یہاں سال ہا سال مقیم رہے۔ ان کے علاوہ ہاشم گرانہ‘ برہان مٹینگوا‘ موسیٰ مدیدی‘ سلیمان صالح اور حمزہ سوکو مرحوم بھی فعال ساتھی تھے۔ کینیا سے شائع ہونے والا لٹریچر یہاں بھی یکساں مقبول تھا۔ یہاں ان لوگوں نے رائٹرز ورکشاپ کے نام سے ایک تحریری و تحقیقی ادارہ بھی قائم کر رکھا تھا‘ جومولانا کی تحریروں کو مضامین کی صورت میں شائع کرتا تھا۔ ابتدائی عرصے میں مولانا کے کتابچے سائیکلواسٹائل کیے جاتے تھے۔
  • زیمبیا : زیمبیا کی سرکاری زبان انگریزی تھی۔ قبائلی زبانیں تو کئی ہیں‘ تاہم بانٹو زبانوں میں سے یہاں سواحلی اور چیچوا(Chichewa) زبانیں زیادہ لکھنے پڑھنے میں استعمال ہوتی ہیں۔ اسی طرح ملاوی کی عوامی زبان بھی چیچوا ہے۔ زیمبیا میں ایوب آدم پٹیل اور ملاوی میں ابراہیم پنجوانی‘ ہمارے اچھے ساتھی تھے۔ مقامی زبان میں مولانا کے خطبات اور دینیات کے کچھ مضامین ترجمہ ہوکر شائع ہو رہے تھے مگر زیادہ کام نہ ہوسکا۔ پہلی کتاب جو ورلڈ اسمبلی آف مسلم یوتھ کے تعاون سے چیچوا میں ترجمہ ہوئی‘ رسالہ دینیاتتھی۔
  • زمبابوے : زمبابوے میں دو علماے کرام جناب موسیٰ منک اور موسیٰ مکدا‘ نے ہمارے ساتھ خاصا تعاون کیا۔ یہاں دو زبانیں مقامی طور پر معروف ہیں۔ انڈیبپلے (Ndebele) اور شونا (Shona)۔ ان دونوں زبانوں میں کتابچے شہادتِ حق اور  کلمہ طیبہ کے معنی وغیرہ اس دور میں سائیکلواسٹائل ہوکر لوگوں تک پہنچے تھے۔ البتہ انگریزی میں رسالہ دینیات اور خطبات خاص طور پر مقبول کتابیں ہیں۔
  • ماریشس : ماریشس بحرہند کا دُور دراز جزیرہ ہے‘ جہاں ہندو اکثریت میں ہیں۔ یہاں اسلامک سرکل ماریشس کا کام خاصا مقبول تھا۔ محمدحسین دہال اس مرکز کے روح رواں تھے۔ فرانسیسی اور کریول (Creole) یہاںکی مشہور زبانیں ہیں۔ ان زبانوں میں رسالہ دینیاتاور مولانا کی دیگر کتب کے کچھ حصے اسلامک سرکل نے شائع کیے تھے۔
  • جنوبی افریقہ : جنوبی افریقہ میں سفیدفام دورِ حکومت تک افریکانہ سرکاری زبان تھی۔ مگر آزادی کے بعد وہاں کھوسہ (Khosa) اور ذولو (Zulu) زبانوں کا راج ہوگیا۔ یہاں کی تینوں زبانوں میں رسالہ دینیاتکا ترجمہ ہوچکا ہے۔
  • نائیجیریا : نائیجیریا میں اسلامک فائونڈیشن قائم ہے۔ فائونڈیشن کو ڈاکٹر حسن گوارزو مرحوم نے خاصا فعال اور مضبوط بنایا تھا۔نائیجیریا کی سب سے اہم زبان ہائوسا (Hausa) ہے‘ اس میں شیخ ابوبکرگومی نے قرآن مجید کا ترجمہ کیا تھا۔ یوروبا (Yoruba)‘ ایبو (Ibo)‘ اور فلانی (Fulani) بھی بڑی زبانیں ہیں۔ ان چاروں زبانوں میں رسالہ دینیات کا ترجمہ ہوگیا ہے اور خطبات کے اجزا بھی دستیاب ہیں۔
  • یورپی مشنری سرگرمیاں : افریقہ میں یورپی ممالک کی مشنری سرگرمیاں کافی عرصے سے منظم انداز میں چل رہی ہیں۔ مغربی دنیا کے دیگر ملکوں کی طرح ڈنمارک کی بعض تنظیموں نے بھی یہاں مشنری ادارے قائم کیے ہیں۔ ایسا ہی ایک ادارہ کینیا کے ایک ضلعی صدرمقام ایسیولو میں تھا۔ یہ سنٹر ہمارے الفلاح اسلامک مرکز سے متصل تھا۔ یہاں کا انچارج ایک ڈینش نوجوان پریبن بوگارڈ (Preben Bundgaard) تھا۔ الفلاح مرکز کے انچارج جناب شیخ محمد سلفی تھے۔ مسٹر پریبن کے ساتھ ان کی مجلسیں ہوتی رہتی تھیں۔ اسیولیو نیروبی سے تقریباً دو سو کلومیٹر فاصلے پر ہے۔ شیخ صاحب نے ایک روز وہاں مسٹر پریبن سے ہمارا تعارف کروایا کہ ان کے ذہن میں اسلام کے بارے میں بہت سے سوالات ہیں۔ مسٹر پریبن نے پہلی ہی ملاقات میں کئی سوالات پوچھے۔ جس سے اندازہ ہوا کہ اسلام کے بارے میں ان کی معلومات کس قدر غلط ہیں۔ ان سے درخواست کی گئی کہ وہ سنجیدگی سے اسلام کی بنیادی تعلیمات کا مطالعہ کریں۔ انھیں سب سے پہلے سلامتی کا راستہ دی گئی جو سواحلی اور انگریزی دونوں زبانوں میں دستیاب تھی۔ سواحلی زبان میں اس کا نام Njia ya Amani Na Uokofuہے۔
  • دل کی دنیا : پہلی کتاب مکمل طور پر پڑھ لینے کے بعد مسٹر پریبن نے کہا: ’’اس کتاب نے میرے دل میں ایک آگ سی لگا دی ہے‘ کچھ سمجھ نہیںآرہی کہ حقیقت تک پہنچنے کے لیے کیا کروں‘‘۔ انھیں بتایا گیا کہ وہ دینیات کا مطالعہ کریں اور اس کے نتیجے میں ذہن میں اٹھنے والے سوالات پیش کریں۔ چنانچہ دینیات کا مطالعہ مکمل کرنے کے بعد وہ اسیولو سے نیروبی آئے۔ جب وہ اسلامک فائونڈیشن کے دفترقرآن ہائوس میں پہنچے تو میں اس وقت نماز پڑھ رہا تھا۔ چوکیدار نے دروازہ کھول دیا اور وہ ہال میں کرسی پر بیٹھ گئے۔ میں نماز سے فارغ ہوا علیک سلیک کے بعد جب انھوں نے اپنے ڈینش لہجے میں پوری ثنا پڑھ دی تو مجھے خوش گوار تعجب ہوا۔ میں نے کہا:’’مسٹر پریبن آپ کیا مسلمان ہوچکے ہیں؟‘‘ کہنے لگے: ’’ابھی نہیں‘ البتہ اس کی جانب پیش قدمی شروع کر دی ہے‘‘۔ میں نے پوچھا: ’’پھرآپ نے یہ عربی عبارت کس طرح یاد کی ہے؟‘‘ کہنے لگے: ’’دینیات کتاب میں اسلام کا بہت جامع تعارف کروایا گیا ہے۔ اس کتاب کے مطابق معلوم ہوا جو شخص مسلمان ہوتا ہے اس پر سب سے پہلے نماز فرض ہو جاتی ہے جس سے فرار ممکن نہیں۔ اس لیے میں نے سوچا کہ اگر میں مسلمان ہو جائوں اور نماز پڑھنا نہ آتی ہو تو یہ ایک ناقص مسلمان کی صورت ہوگی۔ چنانچہ میں نے باقاعدہ مسلمان ہونے سے پہلے نماز یاد کرنا شروع کر دی ہے۔ اب میں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ آپ ۱۵ دن بعد اسیولو آئیں اور ہم اپنی اس ملاقات میں حتمی طور پر طے کرلیں کہ آیا مجھے مسلمان ہونا ہے یا اپنے سابقہ مذہب پر رہنا ہے‘‘۔

اگلے سفر میں جب ہم اسیولو پہنچے تو قافلہ ڈاکٹرمحمد سعید صاحب مرحوم‘ خلیل ملک صاحب مرحوم‘ حاجی محمد لقمان صاحب‘ محمد اختر بھٹی صاحب پرمشتمل تھا۔ شیخ محمد سلفی صاحب ہمارے میزبان تھے اور ہمیں اس بات کا انتظار تھا کہ مسٹرپریبن الفلاح مرکز میں کب آتے ہیں۔ شیخ سلفی بتانے لگے کہ پریبن نے صبح سے کئی مرتبہ پوچھا ہے کہ نیروبی سے مہمان کب آئیں گے۔ ہم یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ مسٹر پریبن تشریف لے آئے اور آتے ہی کہا: ’’السلام علیکم‘‘۔ ہم نے ان کا حال احوال معلوم کیا۔ میں نے کہا: ’’کیا آپ مسلمان ہوچکے ہیں‘‘۔ انھوں نے کہا: ’’ہاں‘ ان شاء اللہ آج مسلمان ہونے کا ارادہ کر کے آیا ہوں‘‘۔ اس مجلس میں سب لوگوں کی زبان پر اللہ اکبر‘ اللہ اکبر تھا اور بعض کی آنکھوں میں آنسو بھی۔ اسی مجلس میں مسٹر پریبن کو کلمہ پڑھایا گیا‘ جو انھوں نے پہلے سے یاد کیا ہوا تھا۔ اسی روز ان کا اسلامی نام عبدالرحمن رکھا گیا۔ واقعہ یہ ہے کہ اس انقلاب کا سب سے بڑا محرک سید مودودیؒ کی کتب ہی ہیں۔

مسٹر پریبن جو اب عبدالرحمن بن چکے تھے‘ اس سے قبل کینیا کی ایک مقامی لڑکی کے ساتھ رہایش پذیر تھے۔ وہ ایک عیسائی لڑکی تھی۔ عبدالرحمن کی کوششوں کے باوجود وہ مسلمان نہ ہوئی تو ان کے درمیان ایک خلیج حائل ہوگئی۔

اس واقعے کے بعد عبدالرحمن کو ان کے مشن نے ملازمت سے نکال دیا اور انھوں نے وطن واپسی کے لیے رخت سفر باندھا۔ قبل اس کے کہ وہ واپس جاتے‘ ان کی خواہش تھی کہ وہ عمرے کی سعادت حاصل کرلیں۔ اس دوران نام کی تبدیلی‘ قبولِ اسلام کی شہادت اور سرٹیفیکیٹ تیار کرلیا گیا۔ اسی مجلس میں ان کے سامنے تجویز رکھی گئی کہ کیوں نہ عمرے کی ادایگی کے بعد اسلامک فائونڈیشن کے مرکز میں کچھ عرصہ کام کریں‘ چنانچہ وہ اس پر تیار ہوگئے۔ انھیں جو معاوضہ ڈنمارک حکومت کی طرف سے مل رہا تھا‘ ہم وہ تو نہ دے سکے‘ لیکن ہمارا معمولی سا معاوضہ اس جویاے حق نے قبول کر لیا۔ انھوں نے ہمارے ساتھ تقریباً دو سال تک کام کیا۔ دوسال بعد انھوں نے مستقل طور پر ڈنمارک جاکر اسلامک سنٹر کوپن ہیگن میں خدمات انجام دیں۔

  • قادیانی فتنہ:۱۹۷۴ء تک کینیا میں قادیانیوں کا مشن خاصا فعال تھا۔ لیکن پاکستانی دستور میں چوتھی آئینی ترمیم کے بعد جب پاکستان پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دے دیا تو پوری دنیا میں ان کے اثرات سمٹنے لگے۔ ان کے مبلغ شیخ مبارک اخبارات کے ذریعے سے اپنے نظریات کا پرچار کرتے تھے‘ لیکن ان کے ہر آرٹیکل کا جواب ہم بھیجتے جو اخبارات میں چھپ جاتا۔

اس عرصے میں قادیانیوںکے ایک مشنری نے قرآن ہائوس میں آکر میرے ساتھ مناظرہ کیا۔ اس کا طریقۂ واردات یہ تھا کہ ایک موضوع کو چھوڑ کر دوسرے موضوع پر بحث چھیڑ دیتا۔ اس مباحثے کے دوران مولانا مودودیؒ کا کتابچہ ختم نبوت زیربحث آیاجو ہم نے کینیا میں انگریزی اور سواحلی میں چھپوا کر تقسیم کیا تھا۔ اس کی زبان سے یہ بات نکلی کہ علما نے ہمارے خلاف بڑی بڑی کانفرنسیں کیں‘ بڑے جلوس نکالے‘ لیکن اس شخص نے جتنا نقصان ہمیں پہنچایا ہے‘ کوئی نہیں پہنچا سکا۔ اس کا اشارہ مولانا مودودیؒ کے مقالے ختم نبوت کی طرف تھا۔

  • شر میں خیر:کینیا کے شمال مشرقی علاقے میں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے‘ عیسائی مشنریوں نے جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے قصبات اور دیہات تک اپنا جال پھیلا رکھا ہے۔ جب اس علاقے کے مسلمانوں نے کینیا سے آزادی حاصل کر کے اپنے آپ کو مسلمان ملک صومالیہ سے جوڑنے کے لیے جدوجہد کی تو اس خانہ جنگی میں بے شمار مسلمان مرد مارے گئے۔ آبادیوں کی آبادیاں یتیموں اور بیوائوں کی وجہ سے کسمپرسی کا شکار ہو گئیں۔ اب عیسائی مشنریوں کو موقع ملا کہ وہ ہسپتالوں‘ اسکولوں‘ یتیم خانوں اور دیگر تعمیرات کے نام پر ان بستیوں میں گھس جائیں‘ جنھوں نے مسلمانوں کو گمراہ کیا اور بڑی تعداد میں لوگوں نے عیسائیت قبول کر لی۔ ایک قصبہ جہاں ہمارا بھی مرکز تھا۔ اس قصبے کا نام قربت اللہ ہے اور یہاں عیسائی مشنریوں نے بچیوں کا ایک پرائمری اور ہائر سیکنڈری اسکول اور انھیں سٹینو اور ٹائپسٹ کی تعلیم دینے کے لیے ٹائپنگ اور شارٹ ہینڈ کا ادارہ قائم کیا۔ کئی برس تک بچیوں کو تعلیم دینے کے بعد وہ سمجھے کہ یہ بچیاں اب مکمل طور پر انھی کے رنگ میں رنگ چکی ہیں‘ اور ان کا اپنے دین اور خاندانی پس منظر سے رابطہ ٹوٹ چکا ہے۔ اس لیے ان کے نام تک تبدیل کر دیے گئے۔ مگر ایک عجیب واقعہ رونما ہوا جس سے تہلکہ مچ گیا۔ جب ان کی پاسنگ آئوٹ تقریب آئی تو وہ اتوار کے دن اپنے معمول کے خلاف گرجاگھر میں حاضر نہ ہوئیں‘ بلکہ اپنے ہاسٹل ہی میں دبکی رہیں۔ مشنری عملے نے ہنگامہ کھڑا کیا اور کہا کہ فادر گرجا میں سرمن دے رہے ہیں اور تم ابھی تک تیار ہی نہیں ہوئیں۔ ایک لڑکی نے ہمت کر کے کہا: ’’ہم تو مسلمان ہیں اور مسلمان گرجا گھروں میں نہیں مسجدوں میں جایا کرتے ہیں‘‘۔
  • پارلیمنٹ میں بازگشت: اس ماحول اور ادارے میں یہ بات ایک دھماکے سے کم نہ تھی۔ ان کے ہاں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ انھیں اس ادارے سے فارغ کرنے اور انھیں اسناد نہ دینے کا فیصلہ ہوا۔ اللہ غریق رحمت کرے‘ ایک مسلمان ممبر پارلیمنٹ حاجی محمدخولے خولے ‘ جو اس علاقے سے ذرا دُور کے حلقے کی نمایندگی کرتے تھے بہت نیک مسلمان تھے۔ ان سے فائونڈیشن کے دیگر احباب کی طرح میرا بھی دوستی کا تعلق تھا‘ اس معاملے میں میدان میں آگئے۔ انھوں نے یہ مسئلہ پارلیمنٹ میں اٹھا دیا۔ چنانچہ دستور میں مذہب کی آزادی کا جو حق کینیا کے تمام شہریوں کو دیا گیا تھا‘ اس کی بدولت حکومت کی مداخلت پر بچیوں کو یہ سندات جاری کر دی گئیں۔ اس پر چرچ میں تحقیق شروع ہو گئی کہ: ’’اتنا عرصہ مشنریوں کے زیراثر رہنے کے باوجود ان بچیوں کو کیا ہوگیا تھا کہ انھوں نے اپنے آپ کو عیسائی کے بجاے مسلمان قرار دے دیا؟

تحقیق پر پتا چلا کہ مولانا مودودیؒ کی کتاب دینیات کا سواحلی ترجمہ اس انقلاب کا محرک بنا۔ کتاب کے مترجم ممباسا کے مسلمان چراغ دین شہاب دین مرحوم تھے۔ اس کا ترجمہ چند سال قبل ہی سواحلی زبان میں ہوا تھا۔ دراصل اس ادارے میں کسی لڑکی کے پاس کسی ذریعے سے یہ کتاب پہنچی تو اس نے اس کا مطالعہ کیا۔ اس کے بعد اس نے اپنی دوسری ہم عمر لڑکیوں کو یہ کتاب پڑھنے کو دی۔ آہستہ آہستہ سب لڑکیوں نے یہ کتاب پڑھ لی اور آپس میں طے کیا: ’’ہم مسلمان ہیں اور ہمیں مسلمان ہی رہنا چاہیے‘‘۔