مصر نے کیمپ ڈیوڈ معاہدے (جنوری ۱۹۷۴ئ) میں اسرائیل کو تسلیم کرلیا تھا۔ اسرائیل کے ساتھ متحارب عرب ریاستوں میں سے مصر اپنی قوت اور تعداد کے لحاظ سے اہم ملک تھا۔ مصری قوم نے اس ذلت آمیز معاہدے کو دل سے کبھی تسلیم نہیں کیا۔ مصر کو جتنا بھی سیکولر‘ جدید‘ لبرل اور مغرب زدہ بنانے کی حکومتی اور عالمی کاوشیں ہوئی ہیں‘ حقیقت یہ ہے کہ وہ سب مصر کی اسلامی تحریک کے وسیع اثرات‘ منظم جدوجہد اور بحیثیت مجموعی‘ مصر کے عام مسلمان شہری کی اسلام کے ساتھ وابستگی کی بدولت اپنے مطلوبہ مذموم نتائج حاصل نہیں کر سکیں۔ مصری اداروں میں اسرائیل کے سرکاری سطح کے اثر و رسوخ کو ایک مصری‘ خواہ تحریک اسلامی کے ساتھ وابستہ ہو یا نہ ہو‘ نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
صدر محمد انوار السادات نے ناصری آمریت کے بعد اگرچہ ملک میں بنیادی حقوق بحال کر کے جمہوریت تو رائج نہیں کی تھی مگر سابقہ ادوار کے شدید جبروتشددکے مقابلے میں کچھ کمی ضرور آگئی تھی۔ اس کے نتیجے میں اخوان المسلمون کی اعلیٰ قیادت اور کارکنان جو سیکڑوں کی تعداد میں گذشتہ ۱۹ سالوں سے جیلوں میں بدترین قسم کے مظالم کا شکار تھے‘ رہا کر دیے گئے۔ اس کے باوجود سادات کا یہودیوں کی ناجائز ریاست کو قانوناً تسلیم کرلینا ملک بھر میں اس کے بہت بڑے جرم کی نظر سے دیکھا گیا اور مظلوم و بے گھر فلسطینی عوام سے انسانی اور اسلامی ہمدردی کا یہی تقاضا بھی تھا۔ تاہم‘ اخوان کے نزدیک اس بدترین فیصلے کے باوجود حکومت کے خلاف کوئی غیرقانونی اقدام کرنے کا جواز نہ تھا۔ اخوان نے قانونی حدود کے اندر احتجاج کیا مگر ایک اور انتہا پسند گروپ ’جماعت التکفیر والھجرہ‘ کے نوجوانوں نے سادات کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا جس کو ۶اکتوبر ۱۹۸۱ء کو ایک نوجوان خالد اسلامبولی نے عملی جامہ پہنایا۔ (اخوان کے موقف کے لیے دیکھیے مرشدِعام سید عمرتلمسانی کی یادداشتیں‘ یادوں کی امانت‘ باب پنجم)
اس موقع پر بھی اخوان کے خلاف بہت واویلا ہوا‘ پکڑ دھکڑ بھی ہوئی مگر ان کے خلاف کوئی الزام ثابت نہ ہوسکا‘ کیونکہ قاتل نے پوری ذمہ داری کے ساتھ قتل کا اعتراف کیا اور اس کا کوئی تعلق اخوان کے ساتھ نہ مل سکا تھا۔ اخوان نے قانونی حدود کے اندر ہمیشہ اس فیصلے کے خلاف صداے احتجاج بلند کی۔ یہودیوں کے فلسطین میں مظالم اور صہیونی منصوبوں میں پیش رفت کے خلاف بھی اخوان مسلسل زبان‘ قلم اور راے عامہ کے ذریعے نکیر کرتے رہے۔ پارلیمان میں بھی اخوان کے ارکان ہمیشہ بدعنوانی‘ حکومتی اہل کاروں کی نااہلی‘ انتظامیہ کے ظلم و ستم اور عوامی نوعیت کے دیگر مسائل‘ مہنگائی‘ بے روزگاری‘ زراعت و تجارت کی بدحالی پر احتجاج کے ساتھ ساتھ فلسطین کے اندر اسرائیلی حکومت کے مظالم کے خلاف توجہ دلائو نوٹس‘ تحاریکِ التوا‘ تحاریکِ استحقاق‘ قراردادوں اور تقاریر کے ذریعے مصری عوام کے جذبات کی حقیقی ترجمانی کرتے رہے۔ اس کے علاوہ مصر کے معاملات میں یہودیوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ بلکہ مداخلت پر بھی اخوان کی پارلیمان میں کارکردگی بہت نمایاں رہی۔ واضح رہے کہ اخوان پر اگرچہ قانوناً پابندی ہے مگر ان کے قابلِ لحاظ افراد آزاد حیثیت میں یا بعض انتخابات میں دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے پلیٹ فارم سے کامیاب ہوکر پارلیمنٹ میں پہنچتے رہے ہیں۔
یہودی ریاست اور اس کے سرپرست امریکہ نے ہمیشہ اخوان کی ان ’گستاخیوں‘کو تشویش کی نظر سے دیکھا اور انھیں ’حدود کا پابند‘ بنانے کے احکامات مصری حکمرانوں کو وقتاً فوقتاً جاری ہوتے رہے۔ شیخ احمد یاسینؒ اور ڈاکٹر عبدالعزیز رنتیسیؒ کی شہادتوں پر بھی اخوان نے پُرزور احتجاج کیا‘ اور رفاہ پر تباہ کن صہیونی حملوں کی بھی زوردار انداز میں مذمت کی۔ اخوان کے ارکان پارلیمان اور دیگر اہم اور فعال شخصیات کے خلاف صہیونی لابی کئی سالوں سے سرگرم عمل تھی۔ کافی عرصے سے فضا بن رہی تھی کہ اخوان پر ہاتھ ڈالا جائے۔
صدر حسنی مبارک نے واشنگٹن پوسٹ (۲۲ مارچ ۲۰۰۳ئ) کو اپنے انٹرویو میں گذشتہ سال کھل کر کہا تھا کہ ’’اگر مصر میں کھلی آزادیاں دے دی جائیں تو حالات خطرناک صورت اختیار کرلیں گے۔ کٹر مذہبی عناصر‘ بالخصوص اخوان اداروں پر چھا جائیں گے‘‘۔ یہی بات یہودی مسلسل کہے چلے جا رہے ہیں۔ گویا صدر حسنی مبارک نے خود مغرب کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا کہ آزادیوں اور جمہوری حقوق کا مطالبہ کرو گے تو ہمارے ساتھ تم بھی پچھتائو گے۔ صدر حسنی مبارک نے اس سال ۱۲ مارچ ۲۰۰۴ء کو سکندریہ میں جدید اصلاحات کے موضوع پر ایک کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے زوردار الفاظ میں اس تصور کو رد کر دیا کہ شدت پسند مذہبی افکار کو پنپنے کا موقع دیا جائے (المجتمع‘ کویت‘ شمارہ ۱۶۰۴‘ ۱۱ جون ۲۰۰۴ئ)۔ اپنے سابقہ دورئہ یورپ میں بھی وہ جگہ جگہ الجزائر کی مثال دے کر مکمل آزادیوں کے خطرات سے یورپ اور مغرب کو ڈراتے رہے ہیں۔ عرب اخبارات نے اٹلی کے اخبار لاریبوبلیکا کی ۵ مارچ ۲۰۰۴ء کی اشاعت کے حوالے سے ان کا جو انٹرویو شائع کیا ہے وہ خطرے کی کئی گھنٹیاں بجاتا سنائی دیتا ہے۔
اس دوران ناصری آمریت کے ابتدائی دور میں کیے جانے والے کئی اقدامات کی ریہرسل بھی دیکھنے میں آئی۔ اخوان اور دیگر باخبر حلقے سمجھ رہے تھے کہ کچھ ہونے والا ہے۔ اخوان کے ایک سابق رکن انجینیرابوالعلا ماضی کی قیادت میں ایک نئی ’معتدل، لبرل‘ سیاسی پارٹی کی بنیاد بھی رکھی جا رہی ہے جس کا نام ’حزب الوسط‘ تجویز کیا گیا ہے۔ مصری پارلیمان کا موسمِ گرما کا اجلاس جاری تھا۔ اس میں ۷۵ ارکان نے حکومت سے سوال کیا کہ وہ اصلاح کے نام پر پکنے والی کھچڑی کے بارے میں ایوان اور قوم کو کچھ بتائے۔ بے چارے وزرا بتا تو کیا سکتے تھے‘ اس کے چند روز بعد ۱۵ مئی کو اخوان کے ۵۸ اہم رہنمائوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
گرفتاری کے ساتھ ہی ان کے خاندانوں کو بھوکا مارنے اور ان کے کاروباری شراکت داروں کو خوف زدہ کرنے کے لیے ان کی کمپنیاں‘ تجارتی ادارے‘ فارمیسیاں اور سرمایہ کاری کے تمام ذرائع پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ واضح رہے کہ یہ تمام ارکان اپنے اپنے پیشہ ورانہ شعبوں میں مہارت کی اعلیٰ مثال بھی ہیں اور کئی خاندانوں کو اپنے منصوبوں میں سرمایہ کاری اور شراکت کی بنیاد پر سہارا دیے ہوئے تھے۔ اخوان کے لوگ اپنے کاروبار ہمیشہ کامیابی اور دیانت سے چلاتے رہے ہیں اور حکومت نے جب بھی ان پر ظلم کا کوڑا برسایا ہے‘ اس پہلو کو بھی خصوصی ہدف بنانا ضروری سمجھا گیا ہے۔ آج پھر مصری حکومت کی طرف سے یہ ظلم ایسے وقت میں ڈھایا گیا ہے جب اخوان صہیونی شیطانی حملوں کے مدمقابل نہ صرف فلسطینی عوام کی حمایت کر رہے تھے بلکہ حکومتِ مصر کو بھی مضبوط موقف اپنانے پر اپنی حمایت کا یقین دلا رہے تھے۔ انھوں نے عراق میں امریکی مظالم کے خلاف زبردست احتجاج کیا اور تمام عرب و مسلمان ممالک کے حکمرانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اسلامی فریضے کی ادایگی کے لیے متحدہ موقف اپنائیں۔
گرفتار شدگان کے ساتھ کیا کچھ کیا گیا؟ مصری پارلیمنٹ کی دفاع‘ امن و امان اور عوامی حقوق کی مجلس قائمہ نے جب ان نظربندوں سے جیل میں ملاقات کی تو ان کے بقول ان کے پائوں تلے سے زمین نکل گئی۔ عراق کی ابوغریب جیل ہی کی طرح یہاں ان پاکیزہ صفت ابناے وطن کے ساتھ ان کی اپنی سرکاری مشینری نے ناقابلِ بیان مظالم ڈھائے تھے۔ ان ارکان پارلیمنٹ میں حکومتی جماعت اور دیگر پارٹیوں کے نمایندے شامل تھے۔ کمیٹی کے سربراہ انجینیرفتحی قزمان تھے‘ جب کہ ارکان میں بریگیڈیئر حازم حمادی‘ بریگیڈیئر بدر القاضی‘ ڈاکٹر ایمن نور‘ حمدین صباحی‘ طلعت سادات‘ ڈاکٹر محمد مرسٰی (اخوان کے پارلیمانی گروپ لیڈر) کے نام تھے۔ تمام ارکان نے قاہرہ کے جنوب میں واقع تاریخی اور بدنامِ زمانہ جیل خانے لیمان طرہ فارم کا ۹ جون ۲۰۰۴ء کی شام کو معائنہ کیا۔ یہ بدترین قسم کا عقوبت خانہ ہے۔ اخوان کی تاریخ جاننے والے اچھی طرح باخبر ہیں کہ ناصر کے دور میں بھی یہاں اخوان پر قیامت ڈھائی گئی تھی۔ اس کی دلدوز تفصیلات اخوان کے تیسرے مرشدعام عمر تلمسانیؒ کی یادداشتوں یادوں کی امانت اور چوتھے مرشدِعام سید محمد حامد ابوالنصرؒ کی خودنوشت تحریکی داستانِ حیات وادی نیل کا قافلہ سخت جان کے علاوہ ڈاکٹر محمود عبدالحلیم مرحوم (سابق شیخ ازھر) کی ضخیم کتاب تاریخ اخوان المسلمون کی دونوں جلدوں میں مختلف مقامات پر دیکھی جا سکتی ہیں۔
اس ملاقات میں کمیٹی کے ارکان کے علاوہ اخوان کے دیگر ۱۴ ارکانِ پارلیمنٹ بھی موجود تھے۔ پارٹیوں کی تقسیم سے قطع نظر کمیٹی کے جملہ ارکان کی رائے میں تمام نظربندوں کے ساتھ انتہائی وحشیانہ‘ غیر انسانی‘ اذیت ناک اور توہین آمیز سلوک کیا گیا۔ اکثر کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں‘ سبھی کے جسم پر بدترین تعذیب کے نشانات پائے گئے۔ بعض ان صدمات اور بجلی کے جھٹکوں کی وجہ سے اپنے اعصاب اور حواس تک کھو چکے تھے۔ عرب اخبارات اور مختلف ویب سائٹس پر اس کی مکمل تفصیلات سامنے آئی ہیں جو دل دہلا دینے والی ہیں۔(شرق الاوسط‘ لندن‘ ۱۵ جون ۲۰۰۴ئ۔ القدس العربی‘ ۱۷جون ۲۰۰۴ئ۔ الدعوۃ ویب سائٹ‘ www.aldaawah.org ‘۱۷ جون ۲۰۰۴ئ)
نظربندوں کو اذیت پہنچانے کے لیے مختلف اصطلاحات اور خفیہ الفاظ ایجاد کیے گئے تھے۔ ان میں سے ایک تھا: ’استاکوزا‘۔ اس کا مطلب تھا کہ سر سے لے کر پائوں تک تمام جسم اور بالخصوص نازک اعضا کو بجلی کے جھٹکے دیے جائیں۔ ایک حکم ہوتا تھا: ’ابوغریب کا تجربہ دہرائو‘۔ اس کے نتیجے میں بجلی کے جھٹکوں والی سلاخیں جسم کے نازک حصوں میں داخل کی جاتی تھیں اور ایسے ایسے مذموم ہتھکنڈے استعمال کیے گئے جن کا بیان بھی یہاں ممکن نہیں۔ صبحی صالح ایڈووکیٹ (صدر اسکندریہ بار ایسوسی ایشن) جس نے انٹرنیشنل وکلا پینل کے ہمراہ ابوغریب جیل کا معائنہ کیا تھا‘ اپنے بیان میں یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ لیمان طرہ جیل کے مظالم نے ابوغریب جیل اور گوانٹاناموبے کے عقوبت خانوں کی یاد تازہ کر دی ہے۔ پھر اس نے اخوان کے ان نظربندوں پر مظالم کے دردناک واقعات بیان کیے۔ ان کو ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال کر چھت سے لٹکا دیا گیا جس کے نتیجے میں کئی نظربندوں کی کلائی کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں مگر ان کو کسی قسم کے علاج معالجے کی کوئی سہولت حاصل نہ تھی۔ یہ سب اعلیٰ تعلیم یافتہ‘ ڈاکٹر‘ انجینیر‘ چارٹرڈ اکائونٹنٹ‘ وکلا‘ پروفیسر‘ علما‘ سابق امیدوارانِ پارلیمنٹ اور پی ایچ ڈی حضرات ہیں۔ (الدعوہ‘ حوالہ مذکورہ بالا)
ان سب مظالم سے بڑا ظلم یہ ہے کہ ایک قیمتی انسانی جان کو اذیتیں پہنچا پہنچا کر شہید کردیا گیا۔ اس کا انگ انگ زخمی تھا اور ہر ہڈی پسلی توڑ دی گئی۔ یہ عظیم انسان ۴۶ سالہ انجینیراکرم زہیری شہیدؒ ہے جو جامِ شہادت نوش کر کے زندۂ جاوید ہوگیا‘ مگر یہ سوال اُمت کے سامنے چھوڑ گیا کہ یہ مظالم کب تک برداشت کیے جاتے رہیں گے!
اکرم زہیری شہیدؒ دیگر اخوان کے ساتھ ۱۵ مئی ۲۰۰۴ء کو گرفتار کیے گئے۔ وہ شوگر کے مریض تھے۔ انھیں اپنے ساتھ کوئی دوا رکھنے کی اجازت تک نہ دی گئی۔ تفتیش کے دوران تشدد کے نتیجے میں ان کی حالت مزید بگڑ گئی۔ ان کے ساتھیوں نے جیل حکام کو بار بار اس جانب متوجہ کیا مگر بے سود۔ جب حالت زیادہ خراب ہوئی تو انھیں جیل کے ہسپتال میں لے گئے مگر وہاں علاج معالجے کی کوئی سہولت موجود نہ تھی۔ جب انھیں وزارت داخلہ کے ہسپتال قاہرہ بھیجنے کا فیصلہ ہوا تو ایسی ایمبولینس میں انھیں بھیجا گیا جو نہایت خستہ حال تھی۔ ان کے دونوں ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال دی گئیں ۔ راستے میں خراب گاڑی اور غیرمحتاط ڈرائیونگ کی وجہ سے وہ کئی بار گرے اور ان کی کئی ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔
اخوان کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر محمد مرسیٰ کے بیان کے مطابق ۱۰ دن تک انجینیراکرم زہیری موت و حیات کی کش مکش میں مبتلا رہے مگر ان کا نہ کوئی مناسب علاج کیا گیا نہ انھیں کسی معالج کی خدمات حاصل ہوسکیں۔ بدھ کے دن ۹ جون ۲۰۰۴ء کو فجر کے وقت اکرم زہیری شہادت کے مرتبے پر فائز ہو کر ان مصیبتوں سے نجات پاگئے۔ ان کا تعلق اسکندریہ سے تھا۔ وہ سول انجینیرتھے اور انجینیرکونسل کے شعبہ منصوبہ بندی کے صدر تھے۔ ۱۹۸۴ء میں وہ طلبہ کی انجینیرنگ کونسل کے صدر اور ۱۹۸۵ء میں اسکندریہ یونی ورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر منتخب ہوئے۔ شہید نے اپنے پیچھے دو بیٹے‘ ایک بیٹی اور بیوہ سوگوار چھوڑے ہیں۔ ان کے بچے ابھی اسکول میں زیرتعلیم ہیں۔ انجینیراکرم زہیری شہیدؒ کی کمپنی جو جبراً بند کردی گئی ہے‘ کا بہت اچھا کام تھا۔ یہ زمینوں اور مکانوں کی خرید وفروخت اور تعمیرات کی پرائیویٹ رجسٹرڈ کمپنی تھی۔
شہید کے خاندان اوراسکندریہ کے اخوان کی خواہش تھی کہ ان کا جنازہ جمعرات ۱۰ جون کو بعد نماز ظہر پڑھا جاتا۔ مگر امن و امان قائم رکھنے کے ٹھیکیدار حکمرانوں نے حکم صادر کیا کہ جنازہ رات ہی کو پڑھا جائے گا۔ چنانچہ شام کو جیل سے شہید کا جسدِخاکی ان کے گھر پہنچنے کے تین چار گھنٹے بعد رات کو ۱۰ بجے ان کا جنازہ اٹھا۔ جنازے کے ساتھ پولیس کی گاڑیاں خوف و ہراس پیدا کر رہی تھیں۔ ۵ ہزار نمازی جنازے کے ساتھ چل رہے تھے۔ اخوان کی قیادت میں سے استاد جمعہ امین عبدالعزیز‘ ڈاکٹر محمود عزت‘ جناب مسعود السبحی‘ ڈاکٹر ابراہیم زعفرانی‘ استاد حسن محمد ابراہیم (رکن پارلیمان)‘ انجینیرصابر عبدالصادق (رکن پارلیمان) اس موقع پر موجود تھے۔ سب لوگوں کی زبان پر اللہ کی حمدوثنا‘ شہید کے درجات کی بلندی کے لیے دعا اور پسماندگان کے لیے صبرواجر کی مناجات تھی۔ اس موقع پر استاد جمعہ امین نے بہت رقت انگیزخطاب کیا۔ اخوان کو حسب سابق صبر کی تلقین کی‘ پسماندگان کے لیے دعائوں اور نیک تمنائوں کا اظہار کیا اور کہا کہ جن لوگوں نے اکرم کو اذیتیں پہنچائی ہیں انھوں نے اپنے لیے ذلت و رسوائی اور عذاب کا سودا کیا ہے‘ مگر اللہ نے اکرم کو شہادت عظمیٰ کا تاج پہنا دیا ہے۔
گرفتار شدہ اخوان ابھی تک جیل میں ہیں۔ یہ نظربند اعلیٰ تعلیم یافتہ‘ مصر بلکہ پورے عالمِ عرب میں اپنی قابلیت و صلاحیت کی وجہ سے معروف شخصیات کے مالک ہیں۔ شہید اکرم عبدالعزیز کے علاوہ اہم شخصیات میں محمد اسامہ‘ ڈاکٹر جمال نثار‘ مدحت الحداد‘ جمال ماضی‘ابراہیم زویل‘ حمزہ صبری حمزہ‘ محمدی السید (سابق امیداوار پارلیمان)‘ حمدی سلیمان ایڈوکیٹ‘ ڈاکٹر مصطفی الغنیمی‘ ڈاکٹر محمد رمضان‘ ڈاکٹر محمد المھدی اور ڈاکٹر عاشور الحلوانی جیسے نابغۂ روزگار فرزندانِ اسلام شامل ہیں۔ ان میں سے بعض نظربندوں بالخصوص محمد اسامہ کی حالت تشویش ناک ہے۔
اخوان کے مرشدعام جناب محمد مہدی عاکف نے اپنے ساتھیوں کی گرفتاری پر اپنے فوری ردعمل میں شدید غم و الم اور غصے کا اظہار کیا اور مصری حکومت کے اس فیصلے کو صہیونی اور امریکی جارح قوتوں کو خوش کرنے کی مذموم حرکت قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ اخوان کی تاریخ قربانیوں اور صبرواستقامت سے بھری پڑی ہے۔ ہم تمام حالات کا پامردی سے مقابلہ کریں گے۔ اکرم زہیری کی شہادت پر بھی انھوں نے اخوان کو صبروتحمل اور عزیمت کی تلقین فرمائی اور کہا کہ اکرم کو اللہ نے شہادت کی کرامت عطا فرما دی ہے۔
ایک برادر اسلامی ملک میں یہ کچھ ہو جائے اور کہیں سے کوئی احتجاج نہ ہو‘ یہ کوئی اچھی صورت حال نہیں ہے۔ غم تو اس بات کا کیا جاتا ہے کہ امریکہ افغانستان اور عراق میں خود آکر مظالم کی انتہا کر رہا ہے لیکن اُمت مسلمہ کی جانب سے اسے کوئی رکاوٹ پیش نہیں آرہی ہے (بلکہ آگے بڑھ کر تعاون پیش کیا جا رہا ہے) لیکن مصر اور دوسرے اسلامی ممالک میں اپنے پٹھوئوں کے ذریعے جو کچھ کروا رہا ہے‘ کیا اسے بھی ٹھنڈے پیٹوں برداشت کیا جائے گا؟ موجودہ صلیبی جنگ کا تقاضا ہے کہ اسلام کا ہر سپاہی خاموش رہنے اور بیٹھنے کے بجاے‘ میدان میں نکلے اور اپنا فرض ادا کرے۔ منظم گروہ‘ اتنا منظم احتجاج تو کرسکتے ہیں کہ ظالم کو اپنی گرفت ڈھیلی کرنا پڑے۔ اسلامی تحریکوں کی قیادت کو اس طرف توجہ کرنا چاہیے۔
مولانا مودودیؒ کا کارنامہ ہمہ پہلو‘ ہمہ جہت اور جامع ہے۔ آپ کا اصل کام فکری رہنمائی اور قلم و قرطاس کا صحیح استعمال ہے۔ جہاد قلم‘ زبان اور سیف سبھی سے کیا جاتا ہے۔ دیرپا اثرات قلمی جہاد ہی کے ہوتے ہیں‘ جو سید مودودیؒ کی اصل پہچان ہے۔
مولانا مودودیؒ کی تمام تصانیف‘ موثر‘ دل و دماغ کو اپیل کرنے والی‘ اور ایک مخلص داعی ٔ حق کا دردِ دل لیے ہوئے ہیں۔ ان کتابوں نے بلاشبہہ لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو تبدیل کیا ہے۔ ہر علاقے اور ہرزبان سے تعلق رکھنے والے غیرمسلم ان کی تحریریں پڑھ کر اسلام سے روشناس ہوئے۔ اسی طرح مولانا مودودیؒ کی کتب کے مطالعے کی بدولت خودبے شمار مسلمانوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا ہوا۔ ان سطور میں چند واقعات براعظم افریقہ کے تناظر میں پیش خدمت ہیں۔
میں نے حبشہ کے ظالم شہنشاہ ہیل سلاسی کا تختہ اُلٹے جانے کے بعد اس کے مظالم کا تذکرہ کیا تو مولانا نے فرمایا: ’’ہیل سلاسی بڑا ظالم اور متعصب عیسائی تھا۔ اس کے دل میں اسلام سے شدید بغض و عناد تھا‘ مگر نئے آنے والے کمیونسٹ فوجی افسران‘ مسلمانوں پر اس سے بھی زیادہ ظلم ڈھائیں گے۔ کیونکہ روس نے جہاں کہیں اپنے حامیوں کو کامیاب کرایا ہے‘ خوف وہراس کی بدترین فضا پیدا کی ہے۔ اس کے باوجود ایک اچھا پہلو یہ ہے کہ اریٹیریا کے مسلمانوں کی تحریک اب مضبوط ہو جائے گی‘ کیونکہ ہیل سلاسی پورے ملک میں اتحاد کا مظہر سمجھا جاتا تھا۔ اس کے لیے پایا جانے والا نام نہاد تقدس موجودہ فوجی حکمرانوں کو حاصل نہ ہوگا‘‘۔ یہ بات مولانا مودودیؒ نے اکتوبر ۱۹۷۵ء کو فرمائی تھی۔ کس قدر درست تجزیہ اور کتنی سچی پیش بینی تھی۔ ۱۹۹۳ء میں مسلم علاقہ اریٹیریا حبشہ کی غلامی سے آزاد ہوگیا۔
۱۹۷۸ء میں مجھے اچانک اپنی والدہ مرحومہ کی شدید بیماری کی وجہ سے پاکستان آنا پڑا تو مولانا سے ملاقات ہوئی۔ یوگنڈا کے فوجی ڈکٹیٹر عیدی امین کی حکومت کے خلاف باغیوں نے تنزانیہ کی افواج کے تعاون سے خانہ جنگی شروع کر دی تھی۔ باغی مسلسل پیش رفت کر رہے تھے۔ یوگنڈا میں مسلمان اقلیت میں ہیں۔
مولانا نے اس جنگ کے بارے میں فرمایا: ’’عیدی امین کی حماقتوں کا خمیازہ مسلم عوام کو بھگتنا پڑے گا۔ اس کے خلاف جس طرح ساری قوتیں سرگرم عمل ہیں‘ اس کی شکست اب بالکل نوشتۂ دیوار ہے۔ اسے تو کہیں نہ کہیں پناہ مل جائے گی مگر عام مسلمانوں پر سخت عذاب آجائے گا‘‘۔جولیس نیریرے (صدر تنزانیہ) کے بارے میں فرمایا: ’’وہ زنجبار کی مسلم حیثیت اور اسلامی تشخص کو ختم کرنے کا پہلے ہی مجرم ہے‘ اب یوگنڈا میں بھی ایک تنگ دل عیسائی مشنری کی طرح اسلام کی بیخ کنی کرے گا‘‘۔اس کے پانچ چھ ماہ بعد اپریل ۱۹۷۹ء میں یوگنڈا پر باغیوں کا قبضہ ہوگیا۔ عیدی امین کو تو سعودی عرب میں سیاسی پناہ مل گئی‘ مگر مسلمان آبادی ظلم کا نشانہ بنی۔
ایک مرتبہ میں نے مولانا کی خدمت میں افریقی مسلم معاشرے کی اس خرابی کا تذکرہ کیا کہ وہاں شادی کا تقدس تقریباً ختم ہوچکا ہے۔ اس قدر طلاقیں واقع ہوتی ہیں کہ کثیرتعداد میں مطلقہ جوڑوں کے بچے بے یارومددگار ہوکر عیسائی مشنریوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ اس پر مولانا نے فرمایا: ’’عربوں کے ہاں سے بہت ساری اچھی اور بری چیزیں افریقہ میں بھی پہنچی ہیں۔ نکاح کا تقدس اور طلاق حلال ہونے کے باوجود ابغض قرار پانے کا موضوع دھندلا گیا ہے۔ اسے اجاگر کرنے کے لیے اسلام کی بنیادی تعلیمات کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ کتاب حقوق الزوجین کا سواحلی ترجمہ کروا کر اسے عام پھیلانے سے بھی مفید نتائج برآمد ہوسکتے ہیں‘‘۔
پہلی مرتبہ جب میں کینیا پہنچا تو معلوم ہوا کہ چودھری غلام محمد مرحوم و مغفور نے افریقہ اور بالخصوص افریقہ کے مشرقی حصے میں تحریک کے لیے بہت کام کیا ہے۔یہاں چودھری صاحب مرحوم کے ساتھ ان شخصیات کا تذکرہ بھی ضروری ہے جو افریقہ میں ان کے دست و بازو بن کر میدانِ عمل میں سینہ سپر رہے۔ ان میں محمد بشیر دیوان مرحوم‘ عبدالحلیم بٹ مرحوم‘ محمد شفیع میرمرحوم‘ ڈاکٹر محمد سعید مرحوم‘ ضیاء الدین سومرو مرحوم‘ خلیل ملک مرحوم ‘جناب پروفیسر خورشیداحمد‘ جناب رائو محمد اختر‘ جناب عبدالرحمن بزمی‘ جناب حاجی محمد لقمان اور افریقی آبادی میں سے کینیا کے پہلے چیف قاضی شیخ محمد قاسم مزروعی مرحوم‘ دوسرے چیف قاضی شیخ عبداللہ صالح فارسی مرحوم‘ شیخ زبیدی مرحوم‘ ممبر پارلیمنٹ عثمان ورارو مرحوم‘ ممبرپارلیمنٹ ورارو (یوسف) کانجا وغیرہ اس قافلے میں شامل رہے۔ سب سے اہم کام سواحلی اور لوگنڈی زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ ہے۔ سواحلی زبان میں تو قرآن مجید کا ترجمہ اس وقت تک ہوچکا تھا‘ مگر لوگنڈی زبان میں ابھی ترجمہ زیرتکمیل تھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ سواحلی زبان میں ترجمہ قرآن Qurani Takatifuکو بڑے پیمانے پر سواحلی علاقوں میں پہنچانے کا کام اسلامک فائونڈیشن نیروبی نے بطریق احسن انجام دیا۔ اس کام میں کچھ خدمات سرانجام دینے کی سعادت مجھے بھی حاصل ہوئی۔
سواحلی زبان میںقرآن پاک کے ترجمے کی مقبولیت تفہیم القرآن کی طرح قابلِ رشک ہے۔ اس ترجمے سے قبل قادیانیوں نے سواحلی میں قرآن کا ترجمہ کرایا تھا۔ جب یہ درست اور مفید ترجمہ چھپا تو اسلامک فائونڈیشن نے اعلان کر دیا کہ:’’جس کسی شخص کے پاس قادیانی ترجمہ ہو وہ فائونڈیشن کے مرکزی دفترقرآن ہائوس میں جمع کرا کے شیخ عبداللہ صالح فارسی کا مستند اور اسلامی ترجمہ حاصل کرلے‘‘۔ اس اعلان کے بعد بے شمار لوگوں نے قادیانیوں کا ترجمہ جمع کروایا اور درست ترجمہ حاصل کرلیا۔
مجھے سوڈان‘ایتھوپیا (حبشہ) تنزانیہ‘ یوگنڈا‘ زیمبیا‘ زمبابوے‘ ملاوی‘ موزمبیق‘ ماریشس‘ مڈغاسکر‘ دی یونین آئی لینڈ‘ جیبوتی‘ جنوبی افریقہ اور نائیجیریا وغیرہ میں سفرکرنے کا بھی اتفاق ہوا۔ ان تمام علاقوں میں مولانا مودودیؒ کا تعارف پڑھے لکھے مسلمانوں کے حلقوں میں پہنچ چکا تھا۔ جن ممالک میں برعظیم سے تعلق رکھنے والی کوئی آبادی موجود تھی‘ وہاں آبادی کم ہو یا زیادہ‘ مولانا کا اُردو لٹریچر بھی پہنچ گیا تھا۔ ان ممالک میں بالخصوص عربی‘ فرانسیسی اور انگریزی زبانوں میں جس قدر بھی تراجم دستیاب تھے‘ لوگوں کی دل چسپی کا مرکز تھے۔ مختصر طور پر ان ممالک کے بارے میں چند سطور میں ایک خاکہ پیش خدمت ہے:
اگلے سفر میں جب ہم اسیولو پہنچے تو قافلہ ڈاکٹرمحمد سعید صاحب مرحوم‘ خلیل ملک صاحب مرحوم‘ حاجی محمد لقمان صاحب‘ محمد اختر بھٹی صاحب پرمشتمل تھا۔ شیخ محمد سلفی صاحب ہمارے میزبان تھے اور ہمیں اس بات کا انتظار تھا کہ مسٹرپریبن الفلاح مرکز میں کب آتے ہیں۔ شیخ سلفی بتانے لگے کہ پریبن نے صبح سے کئی مرتبہ پوچھا ہے کہ نیروبی سے مہمان کب آئیں گے۔ ہم یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ مسٹر پریبن تشریف لے آئے اور آتے ہی کہا: ’’السلام علیکم‘‘۔ ہم نے ان کا حال احوال معلوم کیا۔ میں نے کہا: ’’کیا آپ مسلمان ہوچکے ہیں‘‘۔ انھوں نے کہا: ’’ہاں‘ ان شاء اللہ آج مسلمان ہونے کا ارادہ کر کے آیا ہوں‘‘۔ اس مجلس میں سب لوگوں کی زبان پر اللہ اکبر‘ اللہ اکبر تھا اور بعض کی آنکھوں میں آنسو بھی۔ اسی مجلس میں مسٹر پریبن کو کلمہ پڑھایا گیا‘ جو انھوں نے پہلے سے یاد کیا ہوا تھا۔ اسی روز ان کا اسلامی نام عبدالرحمن رکھا گیا۔ واقعہ یہ ہے کہ اس انقلاب کا سب سے بڑا محرک سید مودودیؒ کی کتب ہی ہیں۔
مسٹر پریبن جو اب عبدالرحمن بن چکے تھے‘ اس سے قبل کینیا کی ایک مقامی لڑکی کے ساتھ رہایش پذیر تھے۔ وہ ایک عیسائی لڑکی تھی۔ عبدالرحمن کی کوششوں کے باوجود وہ مسلمان نہ ہوئی تو ان کے درمیان ایک خلیج حائل ہوگئی۔
اس واقعے کے بعد عبدالرحمن کو ان کے مشن نے ملازمت سے نکال دیا اور انھوں نے وطن واپسی کے لیے رخت سفر باندھا۔ قبل اس کے کہ وہ واپس جاتے‘ ان کی خواہش تھی کہ وہ عمرے کی سعادت حاصل کرلیں۔ اس دوران نام کی تبدیلی‘ قبولِ اسلام کی شہادت اور سرٹیفیکیٹ تیار کرلیا گیا۔ اسی مجلس میں ان کے سامنے تجویز رکھی گئی کہ کیوں نہ عمرے کی ادایگی کے بعد اسلامک فائونڈیشن کے مرکز میں کچھ عرصہ کام کریں‘ چنانچہ وہ اس پر تیار ہوگئے۔ انھیں جو معاوضہ ڈنمارک حکومت کی طرف سے مل رہا تھا‘ ہم وہ تو نہ دے سکے‘ لیکن ہمارا معمولی سا معاوضہ اس جویاے حق نے قبول کر لیا۔ انھوں نے ہمارے ساتھ تقریباً دو سال تک کام کیا۔ دوسال بعد انھوں نے مستقل طور پر ڈنمارک جاکر اسلامک سنٹر کوپن ہیگن میں خدمات انجام دیں۔
اس عرصے میں قادیانیوںکے ایک مشنری نے قرآن ہائوس میں آکر میرے ساتھ مناظرہ کیا۔ اس کا طریقۂ واردات یہ تھا کہ ایک موضوع کو چھوڑ کر دوسرے موضوع پر بحث چھیڑ دیتا۔ اس مباحثے کے دوران مولانا مودودیؒ کا کتابچہ ختم نبوت زیربحث آیاجو ہم نے کینیا میں انگریزی اور سواحلی میں چھپوا کر تقسیم کیا تھا۔ اس کی زبان سے یہ بات نکلی کہ علما نے ہمارے خلاف بڑی بڑی کانفرنسیں کیں‘ بڑے جلوس نکالے‘ لیکن اس شخص نے جتنا نقصان ہمیں پہنچایا ہے‘ کوئی نہیں پہنچا سکا۔ اس کا اشارہ مولانا مودودیؒ کے مقالے ختم نبوت کی طرف تھا۔
تحقیق پر پتا چلا کہ مولانا مودودیؒ کی کتاب دینیات کا سواحلی ترجمہ اس انقلاب کا محرک بنا۔ کتاب کے مترجم ممباسا کے مسلمان چراغ دین شہاب دین مرحوم تھے۔ اس کا ترجمہ چند سال قبل ہی سواحلی زبان میں ہوا تھا۔ دراصل اس ادارے میں کسی لڑکی کے پاس کسی ذریعے سے یہ کتاب پہنچی تو اس نے اس کا مطالعہ کیا۔ اس کے بعد اس نے اپنی دوسری ہم عمر لڑکیوں کو یہ کتاب پڑھنے کو دی۔ آہستہ آہستہ سب لڑکیوں نے یہ کتاب پڑھ لی اور آپس میں طے کیا: ’’ہم مسلمان ہیں اور ہمیں مسلمان ہی رہنا چاہیے‘‘۔