بنگلہ دیش ہمارا برادر اسلامی ملک ہے جو ۱۶؍دسمبر۱۹۷۱ء تک پاکستان کے مشرقی بازو کے طور پر ہمارا ایک صوبہ تھا۔ اس کے بعد اس نے پاکستان سے علیحدگی اختیار کرلی اور اب ایک آزاد ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر موجود ہے۔ بنگلہ دیش کی آبادی تقریباً ۱۵کروڑ افراد پرمشتمل ہے۔ یہاں گذشتہ ۳۷ برسوں کے دوران کئی مرتبہ فوج نے براہِ راست انقلاب برپا کیا اور مارشل لا لگا کر حکومت پر قبضہ کیا۔ بعد میں فوجی جرنیلوں نے خود کو سیاسی شخصیت بنانے کے لیے اپنی سیاسی پارٹیاں بنائیں اور ان کے ذریعے سے کئی سال حکومت کرتے رہے۔
شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی حسینہ واجد اور جنرل ضیا الرحمن کی بیوہ خالدہ ضیا بنگلہ دیش کی عوامی لیگ اور بی این پی کی راہ نما ہیں۔ دونوں خواتین یکے بعد دیگرے وزراے اعظم رہ چکی ہیں۔ خالدہ ضیا نے یہ منصب دو مرتبہ حاصل کیا۔ ان کی حکومت کو فوج نے پُرتشدد ہنگاموں کے بعد ۲۰۰۶ء کے آخر میں برخاست کردیا تھا۔ فوج نے اس مرتبہ براہِ راست حکومت پر قبضہ کرنے کے بجاے پسِ پردہ رہ کر کٹھ پتلی حکومت کے ذریعے بالواسطہ حکمرانی کا راستہ اپنایا۔ اصل اختیارات فوج ہی کے پاس ہیں۔ اس عبوری حکومت نے ملک کے بڑے بڑے تمام لیڈروں کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات قائم کیے۔ خالدہ ضیا، حسینہ واجد اور بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے امیر مطیع الرحمن نظامی سب پابندِ سلاسل ہوئے۔مطیع الرحمن نظامی نے چیلنج کیا کہ عام عدالت میں ان کا مقدمہ چلایا جائے۔ عدالت سے انھیں رہائی ملی مگر ایک ماہ بعد انھیں دوبارہ جماعت کے سیکرٹری جنرل، سابق وفاقی وزیر علی حسن مجاہد کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا۔ ان کی گرفتاری پر شدید احتجاج ہوا تو عبوری حکومت نے ایمرجنسی قوانین کے تحت جلسے جلوسوں پر پابندی عائد کردی۔ ۱۶نومبر کو دونوں قائدین کی عدالت سے ضمانت ہوگئی ہے اور وہ رہا ہوچکے ہیں۔
عبوری حکومت کی کوشش تھی کہ دونوں سابق وزراے اعظم خالدہ ضیا اور حسینہ واجد کو میدانِ سیاست سے خارج کردیا جائے لیکن اس میں انھیں کامیابی حاصل نہیں ہوپائی۔ اب ۲۹دسمبر۲۰۰۸ء کو عام انتخابات ہونا ہیں۔ گذشتہ پارلیمنٹ میں خالدہ ضیا کی پارٹی بی این پی کے ساتھ جماعت اسلامی اور دیگر دو پارٹیوں نے اتحاد کیا تھا، جب کہ عوامی لیگ کے ساتھ ۱۰چھوٹی پارٹیاں اتحادی تھیں۔ بنگلہ دیش پارلیمنٹ میں کُل ۳۴۵ نشستیں ہیں، جن میں سے ۳۰۰ نشستیں براہِ راست انتخاب کے ذریعے پُر کی جاتی ہیں اور خواتین کے لیے ۴۵ مختص نشستیں منتخب ارکانِ پارلیمنٹ کے تناسب سے پارٹیوں کو ملتی ہیں۔ جنرل نشستوں پر بھی خواتین انتخاب لڑ سکتی ہیں۔ بنگلہ دیش کا یومِ آزادی ۱۶دسمبر کو منایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان، جماعت اسلامی، البدر، الشمس اور پاک فوج کے خلاف خوب پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ اس کے پیچھے عوامی لیگ اور بھارت نواز عناصر کا ہاتھ ہوتا ہے۔ میڈیا پر زہریلا پروپیگنڈا، در و دیوار پر چاکنگ، غرض ایک عجیب ماحول ہوتا ہے۔ ظاہر ہے ایسی فضا میں انتخابی معرکہ عوامی لیگ ہی کے مفاد میں ہوسکتا ہے۔ جماعت اسلامی اور بی این پی دونوں جماعتیں چند ماہ کے لیے انتخابات کے التوا کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
خالدہ ضیا اور ان کی پارٹی کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ عوامی لیگ کی حامی حکومت میں مشیرداخلہ (تمام وزرا مشیر ہی کہلاتے ہیں) حسین ظل الرحمن نے کافی مہارت سے عوامی لیگ کے حق میں فضا ہموار کردی ہے۔ بی این پی کے ۱۴۰ انتخابی حلقوں کو خراب کردیا گیا ہے۔ ۱۰۰ حلقے ایسے ہیں جہاں سے بی این پی کے مضبوط امیدواروں کو مختلف الزامات کے تحت نااہل قرار دے دیا گیا ہے، جب کہ ۴۰ حلقوں کی حدبندیاں اس طرح بدلی گئی ہیں کہ عوامی لیگ کو زبردست فائدہ پہنچے۔ اس وجہ سے بی این پی کے سیکرٹری جنرل خوندکر دلاور حسین نے انتخابات کے بائیکاٹ کی بھی دھمکی دی ہے۔ اب حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ انتخابات کچھ ہفتوں کے لیے ملتوی ہوسکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ۳۲ سیاسی پارٹیوں نے رجسٹریشن کرا لی ہے۔
خالدہ ضیا کی بی این پی کی اتحادی جماعتوں میں جماعت اسلامی، قومی مدارس کی تنظیم، تنظیم اتحاد الاسلامی اور جنرل ارشاد کی نیشنل پارٹی کا ایک گروپ(ناجی الرحمن) شامل تھے۔ انتخابات میں خالدہ ضیا کی پارٹی نے ۲۰۱ نشستیں جیتیں۔ جماعت اسلامی نے ۱۷ (خواتین کی نشستیں ملا کر کُل ۲۰)، اتحاد الاسلامی نے ۳ اور نیشنل پارٹی(ناجی الرحمن) نے ۴ نشستیں جیتیں۔ عوامی لیگ کو صرف ۵۷ نشستیں ملیں۔ اس کے اتحادی صرف ۲ نشستیں حاصل کرسکے۔ باقی چند نشستیں جنرل ارشاد کی نیشنل پارٹی اور چند ایک آزاد امیدواروں کو ملیں۔ خالدہ ضیا کے اتحاد کو پارلیمنٹ میں ۲۳۵ارکان کی حمایت حاصل تھی۔ خالدہ ضیا کی کامیابی کا دارومدار پہلے بھی جماعت اسلامی کی حمایت پر تھا اور آیندہ انتخابات میں بھی جماعت ہی کے تعاون سے وہ نشستیں جیت سکیں گی۔
ملک میں راے عامہ کے سروے یہ بتاتے ہیں کہ عوامی لیگ کی حمایت تقریباً ۳۵ فی صد ہے۔ دوسرے نمبر پر ۲۹ فی صد کے ساتھ نیشنل پارٹی ہے۔ تیسرے نمبر پر جماعت اسلامی ہے جس کے حامی ۱۷ فی صد ہیں۔ جنرل حسین محمد ارشاد کی نیشنل پارٹی چند اضلاع تک محدود ہے۔ غالباً وہ ۸سے ۱۰ نشستیں حاصل کرپائیں گے۔ باقی آبادی چھوٹی پارٹیوں اور ضلعی گروپوں کے درمیان تقسیم ہے۔ بی این پی کی دیگر دو اتحادی جماعتیں بھی مجموعی طور پر ۵سے ۶ فی صد تک حمایت رکھتی ہیں۔ عوامی لیگ کے ساتھ اتحاد میں شامل جماعتیں تعداد میں تو بہت ہیں لیکن عملاً وہ محض خانہ پُری ہے۔
عبوری حکومت کے مخصوص عزائم ہیں۔ ان کی ترجیح اول تو یہ ہے کہ اہم سیاسی شخصیات کو میدانِ سیاست سے خارج کردیا جائے اور پاکستان میں پرویز مشرف کے تجربے کے مطابق کٹھ پتلی حکومت کے ذریعے اپنی من مانی کی جائے۔ اگر یہ نہ ہوسکے تو ان کی دوسری ترجیح یہ ہے کہ بی این پی اور جماعت اسلامی کا اتحاد کسی صورت برسرِاقتدار نہ آسکے۔ موجودہ آرمی چیف جنرل معین الدین احمد بھارت کا حامی ہے اور جواب میں بھارتی حکومت بھی اس کے بارے میں خاصا نرم گوشہ رکھتی ہے۔ ان جرنیل صاحب اور عوامی لیگ کے درمیان سیکولر سوچ کے علاوہ بھارت نوازی بھی ایک قدرِ مشترک کی حیثیت رکھتی ہے۔ خالدہ ضیا اور حسینہ واجد کے درمیان گذشتہ ۱۵برس سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی بلکہ بول چال تک بند رہی ہے۔ اب دونوں راہ نمائوں کے درمیان ملاقات کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔ عوامی لیگ چاہتی ہے کہ بی این پی بائیکاٹ نہ کرے کیونکہ اس صورت میں انتخابات کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا اور بی این پی کے سیکرٹری جنرل کے مطابق ایسی حکومت ایک ماہ بھی قائم نہ رہ سکے گی۔
بی این پی کوئی دینی سوچ رکھنے والی جماعت نہیں لیکن عوامی لیگ اور بی این پی کا موازنہ کیا جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ جماعت بھارت کے مقابلے میں پاکستان سے زیادہ قریب ہے اور لادینی خیالات کی حمایت کرنے کے بجاے زبانی کلامی حد تک ہی سہی، اسلامی اقدار وشعائر کو ترجیح دیتی ہے۔ عوامی لیگ پاکستان مخالف ہے اور جماعت اسلامی کو آج تک غدارِ وطن قرار دیتی ہے۔ ان حالات میں جماعت اسلامی کی قیادت نے بنگلہ دیش کے قیام کے بعد سے اب تک بڑی حکمت کے ساتھ اپنا راستہ متعین کیا ہے اور ملک کی تیسری بڑی پارٹی کا مقام حاصل کرلیا ہے۔
سابقہ کابینہ میں جماعت اسلامی کے دو وزرا تھے: امیر جماعت مطیع الرحمن نظامی اور قیم جماعت علی حسن محمد مجاہد۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر عالمی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق انھی دووزرا کی وزارتوں میں قاعدے اور ضابطے کی مکمل پابندی کی گئی۔ عبوری حکومت نے بدعنوانی کے مقدمات قائم کرنے کے لیے ریکارڈ کی خوب چھان بین کی لیکن ان وزرا کے خلاف کوئی شواہد نہ تلاش کرسکی۔ ان کی وزارتوں کی کارکردگی کے اپنے اور غیر سب ہی قائل رہے۔ جماعت کی موجودہ بڑھتی ہوئی حمایت میں ان وزرا کی کارکردگی کا نمایاں حصہ ہے۔
جماعت اسلامی نے اسلامی بنک بنگلہ دیش کے ذریعے غیرسودی بنکاری کا قابلِ تحسین تجربہ کیا ہے۔ یہ بنک ملک کے تمام بنکوں کے مقابلے میں زیادہ کامیاب، اکاؤنٹ ہولڈرز کے نزدیک زیادہ قابل اعتماد اور مالیاتی امور اسلامی اصولوں کے مطابق انجام دینے کی وجہ سے انتہائی مقبول ہے۔ بنک نے اپنے حصہ داروں کو اچھا منافع دینے کے ساتھ ساتھ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اس قدر رفاہی کام کیا ہے کہ تمام مخالفانہ پروپیگنڈا اس کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوا ہے۔
جماعت اسلامی نے عوامی سطح تک کسانوں اور مزدوروں کے اندر اپنی تنظیم کو منظم کیا ہے اور ملک کا کوئی حصہ ایسانہیں، جہاں انھیں مؤثر قابلِ لحاظ حمایت حاصل نہ ہو۔ جماعت اسلامی نے اپنی تنظیم میں خواتین کو بھی بڑی تعداد میں شامل کیا ہے۔ بنگلہ دیش بننے کے وقت جماعت اسلامی پاکستان کے ارکان تقریباً ۲۵۰ تھے۔ ان میں سے کئی شہید ہوگئے، جب کہ بہت سے جلاوطن بھی ہوئے۔ اس وقت مرد ارکان کی تعداد ۱۷ ہزار ۷ سو ۱۳ ہے، جب کہ خواتین ارکان کی تعداد ۶ہزار ۲سو ۱۱ ہے۔ یوں کُل تعداد ۳۰ہزار ۹ سو ۲۴ ہے۔
جماعت اسلامی نے تنظیمی اور مالیاتی شعبے کے علاوہ شعبہ ابلاغ عامہ میں بھی کامیاب پیش رفت کی ہے۔ ملک میں موجود سرکاری اور غیرسرکاری تمام ٹی وی چینل لادین اور ہندونواز عناصر کی آماجگاہ ہیں۔ ان سب میں قدرِ مشترک اسلام، پاکستان اور جماعت اسلامی کی مخالفت ہے۔ جماعت نے کچھ عرصہ قبل اپنا چینل شروع کیا ہے جو دیگانتو(آفاق) کے نام سے پروگرام پیش کررہا ہے اور روز بروز مقبول ہوتا چلا جارہا ہے۔ یہ چینل اپنا ایک روزنامہ بھی اسی نام سے شائع کررہا ہے، جس کی اشاعت اس وقت ایک لاکھ ۵۰ ہزار ہے۔
اگر مجوزہ انتخابات میں عبوری حکومت اور فوج زیادہ مداخلت نہیں کرتی تو بی این پی، جماعت اسلامی اتحاد واضح اکثریت حاصل کرسکتا ہے۔ پچھلے انتخابات میں جماعت اسلامی کو اتحاد کی طرف سے ۳۰نشستیں دی گئی تھیں جس میں سے جماعت نے ۱۷ جیتیں۔ اس مرتبہ جماعت کا مطالبہ ہے کہ اسے کم از کم ۵۰ نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرنے کی اجازت دی جائے۔ دیکھیے اگلے انتخابات میں برادر مسلم ملک بنگلہ دیش کی تقدیر کا کیا فیصلہ ہوتا ہے۔
اسکارف کے مسئلے کے بعد، اب ترکی سے خبر یہ ہے کہ ۱۴مارچ کو ترکی کے چیف پراسیکیوٹر نے ۱۶۲ صفحات پر مشتمل ایک فائل دستوری عدالت میں پیش کی اور پُرزور الفاظ میں عدالت سے درخواست کی کہ حکمران عدالت پارٹی سیکولر دشمنی میں تمام حدوں کو پھلانگ گئی ہے، اس پر پابندی لگائی جائے۔ یہ ۱۱ رکنی دستوری عدالت وہ حتمی ادارہ ہے جس کے فیصلوں پر نظرثانی نہیں ہوسکتی۔ اسی عدالت نے ۱۹۹۸ء میں نجم الدین اربکان اور ان کی رفاہ پارٹی کے خلاف فیصلہ دیا تھا جس میں ۹ ججوں نے فیصلے کے حق میں اور ۲ نے فیصلے کے خلاف راے دی تھی۔ کوئی بھی فیصلہ نافذ ہونے کے لیے ۶ ججوں کی حمایت ضروری ہوتی ہے۔ آج یہی نام نہاد عدالت اس نئے مقدمے کی سماعت کر رہی ہے جس میں درخواست کی گئی ہے کہ نہ صرف پارٹی پر پابندی لگائی جائے بلکہ وزیراعظم اور صدر سمیت عدالت پارٹی کے ۷۱ نمایاں سیاسی رہنمائوں پر سیاست میں حصہ لینا ممنوع قرار دے دیا جائے۔
ادھر عدالت میں مقدمہ زیرسماعت ہے اور ادھر فوج اس میں کھلم کھلا مداخلت کر رہی ہے۔ چیف آف اسٹاف جنرل یاسر بوکانت نے پریس میں ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: ’’ترکی کی سیکولر حیثیت مسلمہ ہے۔ برائی کے مراکز ترک دستور کے تقدس کو پامال کرنے میں مصروف ہیں‘‘۔ عمومی خیال یہ ہے کہ دستوری عدالت منتخب حکومت کے خلاف فیصلہ صادر کردے گی لیکن اب حالات نصف صدی قبل سے کافی مختلف ہیں۔ ترک پارلیمان کے اسپیکر کوکسال توپتان نے انقرہ میں ۵جون کو ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ دستوری عدالت کے لامحدود اختیارات محدود کردیے جائیں۔ ہمیں یک ایوانی پارلیمان کی جگہ دو ایوانی مقننہ کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے اور غیرمنتخب اداروں کو ایوان کے تابع رکھنا چاہیے۔
اسپیکر کی اس بات کی حمایت میں بہت سے غیر جانب دار ماہرینِدستور اور دانش ور بھی منظرعام پر آگئے۔ ڈاکٹر مصطفی سنتوب ترکی کے دستوری ماہر ہیں۔ انھوں نے کہا: ’’یہ اعلیٰ عدالت ملک و قوم کے لیے ایک مسئلہ بن گئی ہے۔ قانون ساز ادارے کے بارے میں عدالت کا فیصلہ بالکل بے وقعت ہے۔ دستوری ترامیم جب قواعد و ضوابط کے مطابق پارلیمنٹ میں منظور ہوجائیں تو ان کے اجرا کو کوئی نہیں روک سکتا‘‘۔ واضح رہے کہ ترکی کے دستور کی دفعہ ۱۴۸ کے مطابق: ’’ریاست کا کوئی ادارہ پارلیمنٹ سے برتر نہیں ہوسکتا‘‘۔
اسکارف پر پابندی ہٹانے کے خلاف سیکولر عناصر نے عدالت سے رجوع کیا تو عدالت نے اس پارلیمانی فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے یونی ورسٹی کے قانون کے پروفیسر سیراب یزیجی نے کہا:’’یہ فیصلہ قانونی کم اور سیاسی زیادہ ہے۔ عدالت نے اسکارف پر پابندی لگا کر پارلیمنٹ بلکہ خود دستور پر بھی اجارہ داری حاصل کرنے کی کوشش کی ہے‘‘۔
یہ بحث جاری ہی تھی کہ نئے واقعات رونما ہونے شروع ہوگئے۔ یکم جولائی کو دارالحکومت انقرہ میں پولیس نے چھاپے مار کر بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ۲۱ شدت پسند قوم پرست گرفتار کرلیے۔ ان میں دو معروف ریٹائرڈ جرنیل بھی شامل ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ وہ خفیہ طریقے سے منتخب حکومت کا تختہ اُلٹنے کی سازش کر رہے تھے۔ وزیراعظم طیب اردوگان نے ان لوگوں کو ارجن کون (Ergene Kon) سے متعلق قرار دیا۔ یہ تنظیم ترکی میں کافی بدنام ہے۔ اس سے پہلے بھی اس کے ارکان بم حملوں اور بڑی شخصیات کو قتل کر کے انقلاب برپا کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار ہوتے رہے ہیں۔ ۱۶ جولائی کو ترکی ذرئع ابلاغ کے مطابق اس تنظیم کے مزید افراد گرفتار ہوئے جس سے گرفتار شدگان کی تعداد ۵۸ تک پہنچ گئی ہے۔ عدالتوں نے ان میں سے بعض کو جن میں ایک ریٹائرڈ میجر جنرل بھی شامل ہے، ضمانت پر رہا کردیا ہے۔ اس انتہاپسند تنظیم کی حمایت انجمن افکار اتاترک (Ataturk Thought Association) بھی کر رہی ہے جس کا صدر ایک ریٹائرڈ جنرل ایروگر (Eroger) ہے۔ وہ بھی گرفتار ہے اور ہنوز زیرحراست ہے۔
ان سطور کے شائع ہونے تک ممکن ہے کہ عدالت کا فیصلہ بھی منظرعام پر آجائے۔ عدالت کو فیصلہ کرنے میں جلدی بھی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عدلیہ کے ججوں کا تقرر صدر کے اختیار میں ہوتا ہے۔ دستوری عدالت کے تمام جج سابق صدر احمدنجدت سیزر کے دورِ صدارت میں مقرر کیے گئے تھے۔ ان میں سے بعض کو اگلے سالوں میں ریٹائر ہونا تھا اور عمومی خیال یہ تھا کہ ان کی جگہ عبداللہ گل ایسے ججوں کو مقرر کریں گے جو کم از کم شدت پسند سیکولر نہ ہوں۔
بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق اردوگان حکومت نے اسکارف کا مسئلہ عجلت میں اور قبل از وقت چھیڑ کر اپنے لیے مشکلات پیدا کرلی ہیں۔ ممکن ہے ایسا ہی ہو لیکن ترکی کی جدید تاریخ بتاتی ہے کہ مخالفین کے شر سے بالواسطہ ہمیشہ خیر برآمد ہوا ہے۔ اب بھی اگر عدالت اور ارتقا پارٹی پر پابندی لگتی ہے تو نیوزویک کے مطابق اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوجائے گا اور اگر عدالت پابندی نہیں لگاتی تو اس سے بھی عملاً حکومت کی جیت ہوگی اور اسے بالادستی مل جائے گی۔ اس ضمن میں ڈان ۵جولائی کا ادارتی شذرہ اور ۷جولائی کو اسی اخبار میں: ’ترکی میں جمہوریت کا معلق مستقبل‘ جوکہ گارجین لندن کے مضمون نگار مائورین فریلے (Maureen Freely) کا مضمون ہے، قابلِ ملاحظہ ہیں۔
نیوزویک کے تازہ شمارے (۲۱ جولائی) میں ترکش ڈیلی نیوز کے ڈپٹی ایڈیٹر اور مشہور تجزیہ نگار مصطفی اکیول نے ’ترکی کے خلاف سازش‘ کے عنوان سے جو تجزیہ کیا ہے اس میں لادین عناصر کی شدید مذمت کے ساتھ یہ راے ظاہر کی ہے کہ حکمران پارٹی اور اس کی قیادت پر پابندی کی صورت میں وقتی طور پر اگلی پارلیمان پھر معلق ہوگی اور نئی حکومتوں کو جرنیل اپنے اشاروں پر نچائیں گے، تاہم طویل المیعاد تناظر میں اردوگان کی پارٹی مزید مضبوط ہوگی۔
ہماری راے میں حکمران پارٹی پر پابندی لگنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ اعلیٰ قیادت کو سیاست سے خارج بلکہ پابندِسلاسل بھی کیا جاسکتا ہے۔ ترکی میں اب تک ۲۵ پارٹیوں پر پابندی لگ چکی ہے۔ ان میں زیادہ تر کرد یا کمیونسٹ تھیں۔ اس سے پہلے اسلامی پارٹی پر پانچ مرتبہ پابندیاں لگیں۔ اسلامی پارٹی واحد پارٹی ہے جس پر پابندیوں سے ہمیشہ عوامی تائید میں اضافہ ہوا ہے۔ اگر پابندی لگتی ہے تو یہ فیصلہ اور اس کے بعد کا منظر سیکولر طبقات کے لیے کچھ زیادہ خوش آیند نہیں ہوگا۔ ہم ترکی کے اسلام دوست حلقوں کو یہی پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ صبرواستقامت اور حکمت کے ساتھ آگے بڑھتے رہیں ع ’’شرِّ برانگیزد عدو کہ خیر ما در آں باشد‘‘۔
مصر عالمِ عرب کا بہت اہم ملک ہے۔ عالمِ اسلام کی مضبوط تحریک اسلامی، اخوان المسلمون اس ملک میں ۱۹۲۸ء میں وجود پذیر ہوئی۔ اپنے قیام کے کچھ ہی عرصے بعد اس تحریک کو گوناگوں مشکلات اور مصری حکومت کے تشدد کے علاوہ عالمی قوتوں کی چیرہ دستیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ تحریک کی بنیادیں قرآن وسنت کے مضبوط اور محکم اصولوں پر اٹھائی گئی تھیں، اس لیے تحریک کی قیادت اور کارکنان نے وقت کے طوفانوں کا ایسی پامردی سے مقابلہ کیا کہ دوست اس پر جھوم اٹھتے ہیں تو دشمن بھی اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ حسن البنا شہید ہوں یا ان کے قافلے کے دیگر شہدا، عبدالقادر عودہؒ، محمد فرغلی ؒاور سید قطبؒ سبھی آج دنیا میں روشن ستاروں کی مانند جگمگا رہے ہیں۔ تحریک کی قیادت میں حسن الہضیبیؒ سے لے کر عمرتلمسانی.ؒ تک اور مصطفی مشہورؒ سے لے کر محمدمہدی عاکف حفظہ اللہ تک سبھی صاحبِ عزیمت تھے۔ قیدوبند کی صعوبتیں اور ظلم وستم کے کوڑے ان کے پاے استقامت میں تزلزل پیدا نہ کرسکے۔
اخوان قانون اور دستور کے مطابق تبدیلی کے علَم بردار اور خفیہ سرگرمیوں کے مخالف ہیں۔ انھوں نے ہمیشہ عدالتوں میں اپنے کیس لڑے مگر بدقسمتی سے مصری حکمرانوں نے کبھی عدالتوں کو آزادانہ فیصلے کرنے کی اجازت نہیں دی۔ جب جرأت مند قاضیوں نے جان جوکھوں میں ڈال کر انصاف پر مبنی فیصلے صادر کیے تو پاکستانی حکمران جنرل پرویز مشرف کی طرح مصری حکمرانوں کا کوڑا عدلیہ پر بھی برستا رہا۔ عدالتوں کے ججوں کا ضمیر اس کے باوجود زندہ ہے، اسی وجہ سے بیش تر مقدمات عسکری عدالتوں ہی میں چلائے جاتے ہیں۔ اخوان اپنے آغاز ہی سے سیاسی اور جمہوری دھارے میں شامل رہے ہیں لیکن مصری نظام نے انھیں کبھی قبول نہیں کیا۔ مصر کے گذشتہ عام انتخابات منعقدہ ۲۰۰۵ء میں اخوان سے متعلق امیدواروں نے اپنی آزادانہ حیثیت میں ساری دھاندلیوں کے باوجود ۸۸ نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے پوری دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا تھا۔ ملک کے عام انتخابات کے بعد شیڈول کے مطابق بلدیاتی انتخابات کاانعقاد اپریل ۲۰۰۶ء میں ہونا تھا مگر مصری حکومت نے مختلف حیلوں بہانوں سے وہ انتخابات دو سال کے لیے ملتوی کردیے۔ اس التوا پر ملک بھر میں شدید احتجاج ہوا، اور مصر کی سول سوسائٹی نے کئی دنوں تک اس مسئلے کو حکومت کی بوکھلاہٹ اور بزدلی قرار دے کر بلدیاتی انتخابات منعقد کرانے کی تحریک جاری رکھی۔
اس موقع پر تمام تجزیہ نگار کہہ رہے تھے کہ مصری حکومت اخوان کی مقبولیت سے خوف زدہ ہوکر بلدیاتی انتخابات سے راہِ فرار اختیار کرگئی ہے۔ اس دوران حسنی مبارک نے دستور میں کئی ترمیمات کیں، جنھیں حکمران پارٹی کے انگوٹھا چھاپ قانون سازوں نے منظور کرلیا مگر سول سوسائٹی نے ان پر ہمیشہ تحفظات کا اظہار بلکہ شدید مخالفت اور احتجاج کیا۔ ان دو سالوں میں مصر میں پھر سے پکڑدھکڑ کا ایسا سلسلہ شروع ہوا، جس نے جمال عبدالناصر کے فرعونی دور کی یادیں تازہ کردیں۔ ہزاروں کی تعداد میں اخوان جیلوں میں ڈالے گئے، حتیٰ کہ ان کے ارکان پارلیمنٹ کو بھی نہ بخشا گیا۔ ظلم کی حد یہ ہے کہ اگر اخوانی اسیروں کے اہلِ خانہ کی دیکھ بھال اور معاشی مدد کے لیے کوئی صاحبِ خیر خدمت سرانجام دیتا تو اس جرم کی پاداش میں اسے بھی جیل میں ڈال دیا جاتا۔ایسے تمام کیس خصوصی ملٹری عدالتوں میں چلائے جاتے ہیں۔ اخوان کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمود عزت کے بقول: ایک ایسے مخیر مصری کو جس نے اسیروں کے بال بچوں سے تعاون کیا، ۵۵ سال قید کی سزا سنائی گئی۔ (بحوالہ رسالہ الاخوان، شمارہ ۵۴۷، ۲۸ مارچ ۲۰۰۸ئ)
۲۰۰۸ء کے آغاز میں انھی پُرآشوب حالات میں حسنی مبارک حکومت نے ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات کا اعلان کردیا۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ ان انتخابات سے قبل اخوان کے اہم رہنمائوں کو پابندِ سلاسل کر دیا گیا اور انتخابات کا اعلان ہوتے ہی ملک بھر سے اخوان کے متوقع بلدیاتی امیدواروں کی پکڑ دھکڑ بھی شروع ہوگئی۔ ۸ اپریل انتخابات کی تاریخ تھی، جب کہ اس سے قبل اخوان کے ڈیڑھ سے دو ہزار کے درمیان مقامی رہنما ملک بھر کی جیلوں میں محبوس کر دیے گئے۔ تجزیہ نگاروں کے بقول حال ہی میں کی جانے والی دستوری ترمیم جس کے مطابق صدارتی امیدوار کے لیے ۹۰ ارکانِ پارلیمان اور ۱۴۰ بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کی تائید ضروری ہے، اس پکڑدھکڑ کی اصل محرک ہے۔ حسنی مبارک خوف زدہ ہے کہ کہیں اپوزیشن کا کوئی نمایاں لیڈر آیندہ انتخابات میں صدارتی امیدوار کے لیے اہلیت حاصل نہ کرلے۔
اخوان نے ان انتخابات کے لیے ۵ ہزار ۷ سو ۵۴ امیدواروں کا انتخاب کیا تھا، مگر پکڑدھکڑ اور خوف و ہراس کی وجہ سے صرف ۴۹۸ امیدوار کاغذات جمع کرا سکے۔ آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ مصری تجزیہ نگار نبیل شرف الدین کے بقول: ان ۴۹۸ میں سے صرف ۲۰ امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہوسکے، باقی سب کے کاغذات ہی مسترد کردیے گئے۔ اخوان کے نائب مرشدعام ڈاکٹر محمد حبیب نے اعدادوشمار کی روشنی میں اس صورت حال پر پریس کوبریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اب ایسے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کے علاوہ ہمارے پاس اور کیا چارۂ کار ہے۔ اخوان کے علاوہ ایک اور تنظیم تحریکِ مصر براے تبدیلی (کفایۃ) نے بھی ان فراڈ انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔ ان دونوں تنظیموں نے تمام سیاسی گروپوں اور آزاد امیدواران سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ انتخابات کا بائیکاٹ کردیں۔ اسی طرح ٹریڈ یونینز نے بھی ان انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔تجزیہ نگاروں کے بقول عملاً پولنگ اسٹیشنوں پر اُلّو بول رہے تھے اور حکومتی کارندے آزادانہ ٹھپے لگا رہے تھے۔
حقوقِ انسانی کی تنظیم براے عرب دنیا نے ۱۸ اپریل کو اس تشویش ناک صورت حال پر اپنے ردّعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصر میں بدترین قسم کا سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے۔ تمام بنیادی حقوق معطل ہیں، حتیٰ کہ عسکری عدالتوں کا جو ڈھونگ رچایا گیا ہے، اس میں ملزمان کے رشتے داروں اور وکلا تک کو جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس کے علاوہ کسی فوٹوگرافر اور صحافی کو بھی ان کے قریب پھٹکنے نہیں دیا گیا۔ اگر کوئی صحافی اور کیمرہ مین وہاں پہنچ بھی پایا، تو اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ٹیپ ریکارڈر اور کیمرے تک چھین لیے گئے۔ انسانی حقوق کی اس تنظیم نے کہا ہے کہ انصاف کے عالمی ضوابط و قوانین کے علاوہ مصری دستور کی دفعہ ۱۶۹ کے تحت یہ ظلم کسی صورت گوارا نہیں کیا جاسکتا۔
ان حالات میں بظاہر حسنی مبارک نے بلدیات سے حزبِ اختلاف کا نام و نشان مٹا دیا ہے مگر مصر اور پوری دنیا کے مہذب شہری اس انتخاب کو ایک ڈرامے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں دیتے۔ اخوان کے نائب مرشدعام ڈاکٹر محمد حبیب نے اخباری نمایندوں سے بات چیت کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ یہ ہتھکنڈے نہ تو مصری حکومت کو استحکام دے سکتے ہیں، نہ اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے حریت پسندوں کو سرنگوں کرسکتے ہیں۔ عالمی جریدے الشرق الاوسط کے تجزیہ نگاروں کے مطابق حسنی مبارک اپنے بیٹے جمال کو اپنی جانشینی کے لیے تیار کرچکا ہے۔ لیکن ان اوچھے حربوں سے حکومت اور ایوانِ صدارت کی ساکھ بُری طرح سے متاثر ہوچکی ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ اب حسنی مبارک دور کا خاتمہ قریب ہے کیونکہ مصر میں جس قدر نفرت موجودہ حکومت سے پائی جاتی ہے، اس کی کوئی مثال ماضی میں دیکھنے میں نہیں آئی۔
بلدیاتی انتخابات کے بعد مصر میں وسیع پیمانے پر احتجاج ہو رہا ہے۔ حسنی مبارک نے اس صورت حال کو آہنی ہاتھ سے قابو کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ ملک بھر میں ۲۸ گورنروں (ڈی سی) کا نئے سرے سے تقرر عمل میں لایا گیا ہے۔ ان میں سے ۱۲ نئے چہرے سامنے آئے ہیں، جب کہ تین کے اضلاع تبدیل کیے گئے اور ۱۳ سابقہ اضلاع ہی میں بحال رکھے گئے ہیں۔ ان سے حسنی مبارک نے گذشتہ ہفتے حلف لیا ہے اور انھیں تلقین کی گئی ہے کہ امنِ عامہ میں گڑبڑ کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے۔ ان گورنروں نے حلف کے بعد اعلان کیا کہ ان کی ترجیحات میں ان عناصر کی بیخ کنی سرفہرست ہے جو امن و امان کا مسئلہ پیدا کریں، نیز وہ صدر کے سیاسی پروگرام کے محافظ بن کر کام کریں گے۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکومتی عزائم کیا ہیں۔
دنیاے علم و ادب کا درخشندہ ستارہ،تاریخ اسلام کا امین،سیرت رسولؐ اور سیرت صحابہؓ پر گراں قدر کتابوں کا مصنف ،درویش صفت اور انکسار کا پیکر ،فرزند اسلام طالب الہاشمی (۱۹۲۳ئ-۲۰۰۸ئ) ۱۶ فروری۲۰۰۸ ء کو ہم سے رخصت ہوگیا! انا للّٰہ وانا الیہ رٰجعون۔ منصورہ مسجد میں نماز فجر کے بعد اس عظیم شخصیت کی وفات کا اعلان ہوا تو تمام نمازیوں کی زبان پر انا للہ کے الفاظ آگئے۔بیش تر لوگ مرحوم سے بالمشافہہ نہ بھی ملے ہوں تو ایک بڑی تعداد ان کے نام سے آشنا اور ان کے علمی کارناموں سے واقف تھی۔
جناب طالب الہاشمی جن کا اصلی نام بہت کم لوگوں کومعلوم ہے، ۱۲ جون۱۹۲۳ء کو ضلع سیالکوٹ کے ایک چھوٹے سے گائوں دھیدووالی نزد ڈسکہ میں پیدا ہوئے۔ان کے دادا مرحوم اس دور میں علاقے کے پڑھے لکھے اور معزز فرد تھے،جو مولوی نظام دین کے نام سے معروف تھے۔ مولوی صاحب کے بیٹے محمد حسین قریشی تھے جن کے ہاں اس ہونہار سپوت نے جنم لیا۔ انھوں نے اپنے نومولود کا نام محمد یونس قریشی رکھا۔
یونس صاحب کے والد چونکہ ڈاک خانے میں ملازم تھے،اس لیے ان کی ترغیب پر میٹرک کا نتیجہ آنے کے بعد ۱۹۴۳ء میں ڈاک خانے میں ملازم ہو گئے اور لاہور میں پوسٹ ماسٹر جنرل کے دفتر میں تعیناتی عمل میں آئی۔ میٹرک کے امتحان کے بعد انھوں نے فارسی اور عربی کے امتحانات: منشی فاضل اور ادیب فاضل بھی جامعۂ پنجاب سے بطور پرائیویٹ طالب علم پاس کیے۔ ان کا عربی اور فارسی کا ذوق بہت اچھا تھا۔ اپنی ملازمت کے دوران وہ معمول کے مطابق ترقی حاصل کرتے رہے اور ۴۰سال ملازمت مکمل کرنے کے بعد ۱۹۸۳ء میں ریٹائر ہوئے۔
جناب ہاشمی ،محمد یونس قریشی سے اس علمی و قلمی نام تک کیسے پہنچے،یہ بھی ایک دل چسپ کہانی ہے۔وہ کہا کرتے تھے کہ میں طالب ہاشمی نہیں،طالب الہاشمی ہوں۔میرا یہ نام محض عرف و پہچان نہیں بلکہ یہ با معنی انتخاب ہے۔ان کے نزدیک ان کا یہ نام مرکب توصیفی نہیں، مرکب اضافی ہے۔الہاشمی سے مراد النبی الہاشمی ہے اور طالب اپنے لفظی و لغوی معنیٰ کے مطابق طلب کرنے والے،ڈھونڈنے والے اور تلاش کرنے والے کا مفہوم اپنے اندر رکھتا ہے۔اگر ان کی تحریروں کو دیکھیں تو ایک ایک لفظ نہ صرف نبی محترمؐ کی عقیدت و محبت کا ترجمان ہے بلکہ آنحضوؐر کے جاں نثاروں کی عقیدت و محبت بھی مرحوم کے قلم معجز بیان سے یکساں ہویدا ہے۔
طالب الہاشمی صاحب سے پہلی ملاقات تقریباً ۳۰ سال پہلے اردوبازار میں البدر پبلی کیشنز کے مالک عبدالحفیظ صاحب کی وساطت سے ہوئی۔اس وقت تک ہاشمی صاحب کی چند کتابیں اور ایک آدھ مضمون نظر سے گزرا تھا۔ سیرت صحابہ پر ان کا قلم رواں دواں تھا۔ان کا نام پڑھ کر جو خاکہ تصور میں آیاتھا ،وہ اس سے خاصے مختلف نظر آئے۔ معلوم ہوا کہ موصوف اتنے بڑے ادیب اور قلم کار ہونے کے ساتھ ساتھ خاصے صحت مند انسان بھی ہیں۔ اس کے بعد ان سے وقتاًفوقتاً ملاقاتیں ہوتی رہیں۔جب میں ۱۹۸۵ء میں مستقل طور پر لاہور آگیا تو ہاشمی صاحب سے کبھی اردو بازار اور زیادہ تر منصورہ میں ملاقات کا شرف حاصل ہوتا رہا۔ جب بھی ملاقات ہوتی خندہ پیشانی، خلوص و محبت اور اپنائیت سے پیش آتے، اور مہمان نوازی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ وہ بہت ملنسار اور مہمان نواز تھے۔
راقم نے اپنی استطاعت کے مطابق مولانا مودودیؒ کی تحریروں سے اسماے عَلَم کو کسی حد تک ٹھیک تلفظ کے ساتھ پڑھنے کی تربیت پائی ہے۔اس کے باوجود اپنی کم علمی کی وجہ سے کبھی کبھارکسی اسم عَلَم کا غلط تلفظ زبان پر آجایا کرتا تھا۔ ایک روز محترم طالب الہاشمی میرے پاس تشریف لائے اور بڑی محبت سے فرمایا: ’’میں سوچ رہا تھا کہ آپ کو فون کر دوں مگر پھر خیال آیا کہ فون کیا کرنا، خود چلتا ہوں تاکہ ملاقات ادھوری نہیں پوری ہو جائے‘‘۔پھر آواز قدرے دھیمی ہوگئی۔ بولے:’’میں نے منصورہ مسجد میں آپ کی گفتگو سنی تھی،تاریخی واقعات کا بہت اچھا استحضار ہے لیکن ایک معمولی سی غلطی کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔آپ نے اپنی گفتگو میں ہِشام بن عمرو کو ہَشام کہا تھا،اس کی تصحیح ضروری ہے۔‘‘اگرچہ یہ معمولی سی بات ہے مگر اس سے ان کی شفقت اور اپنے سے کم تر لوگوں کی تربیت کا پہلو نکلتا ہے۔
سیرت پر طالب الہاشمی صاحب کی کتابیں پڑھنے سے قبل میں نے ۱۹۷۱ء میں سیرت صحابہؓ پر کچھ مضامین لکھے تھے اور میرا ارادہ اپنے ذوق کے مطابق اس میدان میں مزید کچھ لکھنے کا بھی تھا لیکن سچی بات یہ ہے کہ جب ہاشمی صاحب کی اسی موضوع پر کتابیں نظر سے گزریں تو میںنے سوچا کہ انھوں نے اردو زبان میں اس موضوع کا حق ادا کر دیا ہے۔ان کی عظمت دیکھیے کہ جب انھیں معلوم ہوا تو بار ہا فرمایا کہ ہر شخص کا اپنا انداز اور ذوق ہوتا ہے۔ایک ہی موضوع پر مختلف لوگوں کی تحریریں تکرار نہیں،تنوع کہلاتی ہیں۔آپ کو قلم نہیں روکنا چاہیے۔
سیرت نگاری کا محرک بھی ایک خاص واقعہ ہے۔ ہاشمی صاحب کے بقول: ایک بار وہ مطالعہ کرتے کرتے سو گئے۔ خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی۔ جب بیدار ہوئے تو پسینے سے شرابور تھے اور شبلی نعمانی کی سیرت النبیؐ ان کے سینے پر تھی۔ اس واقعے کے بعد انھوں نے سیرت نگاری کو باقاعدہ اپنانے کا فیصلہ کیا۔
ان کے کام کی وسعت، تحقیق کے اعلیٰ معیار کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ فردِواحد نے بغیر کسی اضافی سہولتوں کے تن تنہا اداروں سے بڑھ کر کام کیا۔ ان کا اسلوبِ بیان نہایت شُستہ، رواں اور مؤثر تھا۔ قاری ان کی تحریر پڑھ کر متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا اور حبِ رسولؐ کی کیفیت سے سرشار ہوجاتا ہے اور عمل کے لیے تحریک پاتا ہے۔ ان کے اٹھ جانے سے یقینا سیرت نگاری اور تاریخ نویسی کے میدان میں ایک بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے۔ ان کا کام خود اپنی جگہ تحقیق کے لیے ایک موضوع ہے۔
ہاشمی صاحب کی ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے کے باوجود مطالعے اور محنت کی اپنی عادت کو بڑی جز رسی سے برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔انھوں نے تاریخ کے کم و بیش ہر پہلو پر قابل قدر کتابیں لکھیں لیکن ان کا اصل موضوع سیرت رسولؐ اور سیرت صحابہؓ ہے۔ تصانیف کی تعداد ۱۰۰ سے زائد ہے۔آنحضوؐر کی سیرت پر ان کی ایمان افروز تحریریں اب بھی منظر عام پر آرہی تھیں۔آخری کتاب،جس کی طباعت سے پہلے وہ خالق حقیقی سے جا ملے،آنحضوؐر کے خادمان خاص کے موضوع پر ہے۔آپ کی کتابوں پر آپ کو صدارتی اور ادبی ایوارڈ بھی ملے لیکن مرحوم نے ان کو کبھی اپنی پہچان یا افتخار کا ذریعہ نہ بنایا۔
مرحوم کا علمی و ادبی مقام ان اعزازوں کے بغیر ہی بہت بلند تھا۔ ان کی کتابیں مختلف اداروں نے چھاپی ہیں۔اہم کتابوں میںسے چند ایک کے نام یہ ہیں: lرحمت دارینؐ، آنحضوؐر کی سیرت پر اہم کتاب ہے lیہ تیرے پراسرار بندے، جس میں آنحضوؐر کے ۸۱ صحابہ اور ۴۰ مشاہیر ِامت کا تذکرہ ہے lرحمت دارینؐ کے سو شیدائی ،آنحضوؐر کے ۱۰۰ صحابہؓ کے حالات پر مشتمل ہے lتذکار صحابیات میں صحابیات کے ایمان افروز حالات ہیں lحبیب کبریا کے تین سو اصحاب کے نام سے ایک قیمتی دستاویز ہے lفوزوسعادت کے ایک سو پچاس چراغ بھی صحابہ کرام کے حالات بیان کرتی ہے۔
ان کے علاوہ اولیاء اللہ کے تذکرے ،مشہور تاریخی شخصیات کے واقعات ،بچوں کی کتابیں اور ادبی کتب بھی ہاشمی صاحب کے رشحاتِ قلم کی امین ہیں۔۴۰ جاں نثار،۵۰ صحابہ، ۷۰ستارے اور کئی دیگر کتب مرحوم کا صدقۂ جاریہ ہیں۔ برعظیم کے بزرگانِ دین بابا فریدالدین ،خواجہ نظام الدین اجمیری اور دیگر بزرگوں پر بھی قلم اٹھایا۔ ان کی کتابوں کی طویل فہرست ہے،جو ان کی بیش تر کتابوں کے آخر میں دیکھی جا سکتی ہے۔
عموماً جس کاغذ کو ردی سمجھ کر پھینک دیا جاتا ہے، اسے بھی وہ اپنی تحریروں کے لیے استعمال کر لیا کرتے تھے۔ یہ کفایت شعاری اور اشیاکا درست استعمال سنت رسول اور سنت خلفاے راشدین ہے۔وہ حساب کتاب کے بڑے جز رس تھے۔ہر چیز نوٹ بک میں درج کرتے۔بچوں کو کوئی پیسہ دیتے تو ان سے بھی یہی مطالبہ کرتے کہ وہ پورا حساب دیں۔ اپنے ناشرین کے ساتھ بھی ہرلین دین تحریراً کرتے اور باقاعدہ ریکارڈ رکھتے۔پرانے بزرگوں کی طرح انھوں نے کبھی کسی پر بوجھ بننا گوارا نہ کیا۔ اسلاف کی روایات کے مطابق اپنے کفن دفن کا خرچ بھی الگ لفافوں میں چٹیں لکھ کر محفوظ کر رکھا تھا۔ہاشمی صاحب نے بھرپور زندگی گزاری اور چلتے پھرتے، ہنستے مسکراتے بالآخر اپنی منزل سے ہم کنار ہو گئے!
جمہوریہ چاڈ اقوام متحدہ، افریقی اتحاد کی تنظیم (OAU) اور اسلامی کانفرنس کا رکن ہے۔ یہاں مسلمان اکثریت (۵۷ فی صد) میں ہیں۔ چاڈ میں اس وقت خانہ جنگی جاری ہے۔ دنیابھر میں اس کی خبریں منظرعام پر آرہی ہیں۔ چاڈ ایک تو افریقی ملک ہے، دوسرے فرانسیسی استعمار کے زیرتسلط رہنے کی وجہ سے انگریزی بولنے والے ممالک کے برعکس فرینکوفون (فرانسیسی زبان) برادری کا رکن ہے۔ اسی وجہ سے انگریزی استعمار میں رہنے والے علاقوں کے برعکس فرانسیسی نوآبادیات والے علاقوں میں زیادہ متعارف ہے۔ یہ علاقہ بنیادی طور پر مسلمانوں کا ملک تھا۔ فرانسیسی استعمار نے ۱۹۰۰ء میں یہاںقبضہ کیا اور مسلمان حکمران ربیح الزبیر کو حکومت سے بے دخل کردیا۔ الزبیر کا اپنا تعلق بھی چاڈ سے نہیں تھا۔ وہ سوڈان کا حکمران تھا جس نے ۱۸۸۳ء کو اس علاقے کی تین مقامی بادشاہتوں کو یکے بعد دیگرے فتح کیا۔ فرانسیسی استعمار کے خلاف اس وقت سے ہی مقامی آبادی نے جدوجہد شروع کر دی تھی لیکن انھیں عملاً آزادی ۱۹۶۰ء میں حاصل ہوئی۔ یہ آزادی بھی فی الحقیقت براے نام ہی تھی کیونکہ فرانس نے اپنی فوجیں اور دیگر ادارے یہاں آزادی کے بعد بھی مسلط رکھے، جو اب تک پوری طرح معاملات میں دخیل ہیں۔
بدیشی آقائوں نے جاتے ہوئے مسلمان اکثریت کے اس ملک کا پہلامقامی حکمران جنوب کے ایک عیسائی فرنکوئیس ٹومبل بائی کو بنایا۔چاڈ خشکی میں گھرا ہوا ملک ہے، جس کا رقبہ پاکستان سے تقریباً ڈیڑھ گنا ہے (چاڈ ۱۲لاکھ ۸۴ہزار مربع میل، پاکستان ۸ لاکھ ۹سو ۴۰ مربع میل) اور آبادی صرف ایک کروڑ ۱۰ لاکھ ہے۔ چاڈ کی سرحدیں جن ملکوں سے ملتی ہیں، ان میں نائیجیریا، لیبیا،سوڈان، سنٹرل افریقن ری پبلک، کیمرون اور نائیجر، چھے ممالک شامل ہیں۔ اس کے دوہمسایے نائیجیریا اور سوڈان براعظم افریقہ میں آبادی اور رقبے کے لحاظ سے بالترتیب سب سے بڑے ملک ہیں۔ چاڈ میں آزادی کے بعد مسلسل افراتفری اور جنگ و جدال رہا ہے۔ شمال میں بسنے والے مسلمان، جو ملکی آبادی کا ۶۰ فی صد ہیں، اقلیت کی حکومت میں خود کو مطمئن نہیں پاسکتے تھے۔ وہ شروع سے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہے۔ جب کوئی شنوائی نہ ہوئی تو وہ بغاوت پر مجبور ہوگئے۔ وقتاً فوقتاً باہر کے ممالک بھی اس خانہ جنگی میں شریک ہوتے رہے۔
ملک کا پہلا صدر فرنکوئیس ۱۹۷۵ء میں ایک بغاوت کے دوران قتل کردیا گیا۔ اس کامیاب بغاوت کے بعد جنرل فیلکس مالوم ملک پر قابض ہوگیا، یہ بھی ایک عیسائی تھا۔ ۱۹۷۹ء میں ایک باغی لیڈر گوکونی عیدی جو مسلمان تھا، برسراقتدار آگیا۔ بدقسمتی سے چاڈ میں اس کے بعد بھی حالات معمول پر نہ آئے۔ چاڈ میں فوجی بغاوت، عوامی خانہ جنگی اور افراتفری مسلسل جاری رہی۔اس عرصے میں ایک اور مسلمان حسین ہبرے جو پہلے وزیردفاع تھا، بھی کچھ عرصے کے لیے برسرِاقتدار رہا۔ اسے لیبیا کی حمایت حاصل تھی۔ موجودہ حکمران ادریس ڈیبی ۱۹۹۰ء میں برسرِاقتدار آیا۔ وہ بھی ایک زمانے میں کمانڈر اِن چیف اور وزیردفاع رہ چکا تھا جو حکومت سے الگ ہوکر خانہ جنگی اور فرانس و لیبیا کی حمایت کے نتیجے میں برسرِاقتدار آیا۔ وہ فرانس کا تربیت یافتہ ہے۔ چاڈ معدنی دولت سے مالامال ہے، یہاں پٹرولیم، یورینیم اور سونے کے بڑے ذخائر موجود ہیں لیکن ابھی تک پوری طرح سے انھیں استعمال میں نہیں لایا گیا۔ مغربی ممالک پٹرول اور دوسری قیمتی معدنی دولت یورینیم پر نظریں گاڑے ہوئے ہیں۔ ایک معاہدے کے تحت چین بھی تیل کی تلاش اور انتفاع کے لیے صحرائی علاقے میں کھدائی کر رہا ہے۔
موجودہ حکومت کے خلاف بغاوت اچانک نمودار نہیں ہوئی، یہاں کئی سالوں سے مسلح مزاحمت کی تحریکیں چل رہی تھیں۔ اس سال کے آغاز میں باغی دستوں نے بڑی قوت کے ساتھ ملک کے دارالحکومت انجمینا پر اچانک حملہ کیا اور پورے دارالحکومت پر ان کا قبضہ ہوگیا۔ محض صدارتی محل اور اس کے آس پاس کے کچھ محدود علاقے ان کی دست رس سے باہر رہ گئے۔ صدر کی حفاظت کے لیے فرانس کے کئی ہزار فوجی دستے دارالحکومت میں پہلے سے موجود ہیں۔ میراج طیاروں کی مدد اور فضائی کور سے ان فرانسیسیوں نے باغی جنگجوئوں کو صدارتی محل سے دُور دھکیلنے میں وقتی کامیابی تو حاصل کرلی لیکن ابھی تک حالات کسی کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ موجودہ صدر ادریس دیبی اب تک برسرِاقتدار آنے والے تمام حکمرانوں سے زیادہ عرصہ یعنی تقریباً اٹھارہ سال سے حکمران اور سیاہ وسفید کا مالک ہے۔ وہ اپنے مغربی آقائوں کی طرف سے پیش کردہ ہر معاہدے پر دستخط کرتا چلا آرہا ہے، جس کی وجہ سے اس کی ذاتی دولت میں توبے پناہ اضافہ ہوا لیکن عام آدمی کو کوئی ریلیف نہیں ملا۔ پٹرول، سونے اور یورینیم جیسی قیمتی معدنی دولت کے باوجود چاڈ بھوک و افلاس اور قحط و بربادی کا نقشہ پیش کرتا ہے۔ یو این او کے تیار کردہ ہیومن ڈویلپمنٹ انڈکس کے مطابق اس کا شمار دنیا کے ۱۸۰ ممالک میں سے پانچ غریب ترین ملکوں میں ہوتا ہے۔
چاڈ کا ایک دوسرا بڑا مسئلہ سوڈان کے جنوبی علاقے دارفور میں جاری لڑائی کی وجہ سے مہاجرین کی آمد رہا ہے۔ اس وقت دارفور سے آئے ہوئے دو لاکھ سے زیادہ مہاجرین یہاں مقیم ہیں۔ سوڈانی حکومت کے خلاف دارفور میں گذشتہ کئی برسوں سے جو شورش برپا ہے اس کے پیچھے مغربی منصوبہ سازوں کی سازشیں شامل ہیںاور سوڈانیوں کے خیال میں چاڈ سے حملہ آور اس خانہ جنگی میں حکومت کے خلاف باغیوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔ دوسری طرف چاڈ حکومت اپنے ملک میں پھیلی ہوئی بغاوت کو سوڈان کے کھاتے میں ڈالتی ہے اور اس کے اس دعوے کو مغربی دنیا بھی درست تسلیم کرتی ہے۔چاڈ کے مسلمان موجودہ حکمران کو جو ان کا ہم مذہب ہونے کے باوجود مکمل طور پر فرانس کا ہم نوا اور اس کی تہذیب کا دل دادہ ہے، شدید نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس کا تعلق بھی ایک چھوٹے سے قبیلے زگاوہ (Zagawa) سے ہے جو ملک کی آبادی کا صرف ڈیڑھ فی صد بنتا ہے۔
موجودہ بغاوت اگرچہ ان دنوں زیادہ منظرعام پر آگئی ہے مگر اس کی جڑیں ماضی میں دُور تک جاتی ہیں۔ ۱۹۹۸ء میں موجودہ صدر کے سابق وزیردفاع یوسف توجومی (Togoimi) نے مسلح بغاوت کی تھی جو دو تین سال مسلسل جاری رہی۔ اس دوران ملک کے بیش تر حصوں پرباغیوں نے قبضہ کرلیا تھا۔ ۲۰۰۲ء میں لیبیا کے صدر معمر قذافی نے مصالحت کی کوشش کی، مگر وہ کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی، تاہم وقتی طور پر باغی تحریک پس منظر میں چلی گئی۔ قذافی صاحب نے چاڈ کے ساتھ الحاق کرنے کی بھی کوشش کی تھی اور ۱۹۸۱ء میں لیبیا کے فوجی دستے چاڈ بھیجے گئے تھے۔ ملک کی عام آبادی نے قذافی صاحب کی اس کاوش کو شک اور نفرت کی نگاہ سے دیکھا۔ یوں الحاق کا یہ منصوبہ دم توڑگیا اور لیبی فوجوں کو ۱۹۸۳ء میں ملک سے نکل جانے کا حکم ملا مگر وہ خانہ جنگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ۱۹۸۷ء تک چاڈ کے شمالی علاقوں میں براجمان رہے۔ معمرقذافی پر چاڈ کی آبادی کم ہی اعتماد کرتی ہے۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اگر فرانس اور دیگر مغربی قوتوں کی سرپرستی حاصل نہ ہو تو موجودہ حکومت ایک دن میں ختم ہوجائے۔ حالات کا اُونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے، کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ عالمی ادارے اور مغربی حکومتیں چاڈ کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہیں۔ وہ اپنی مرضی ہی کے حکمرانوں کو یہاں مسلط رکھیں گی خواہ موجودہ صدر کی صورت میں یا اس کے متبادل کے طور پر۔ آپ حیران ہوں گے کہ چاڈ سے جو پٹرول نکلتاہے، وہ عالمی بنک کے قرضوں کی سرمایہ کاری سے کیمرون کی بندرگاہ کریبی (Karibi) تک ۷۰۰ میل لمبی پائپ لائن کے ذریعے پہنچا دیا جاتا ہے۔ وہاں سے عالمی بنک مختلف ممالک کو عالمی منڈی کے بھائو پر فروخت کردیتا ہے۔ اس سے چاڈ کو محض ساڑھے ۱۲ فی صد رائلٹی ملتی ہے جو صریح ظلم ہے۔ اس میں سے بھی جنوری ۲۰۰۶ء میں عالمی بنک نے ۱۲۵ ملین ڈالر کی رائلٹی کئی عذر ہاے لنگ کو جواز بناکر منجمد کردی۔ اس کے علاوہ ایک سابقہ معاہدے کے مطابق فراہم کی جانے والی ۱۲۴ ملین ڈالر کی امداد بھی روک لی گئی۔ یوں ملک کی اس دولت پر بھی مقامی آبادی کا کوئی حق تسلیم نہیں کیا جا رہا ہے۔ یہ ظلم جب تک دنیا میں جاری رہے گا، انسانیت آزادی اور چین کا سانس کیسے لے سکے گی؟ تیسری دنیا میں نہ معاشی آزادی ہے، نہ سیاسی حریت۔ دنیا ایک حقیقی انقلاب کی پیاسی ہے۔ سرمایہ پرستی کا سفینہ ڈوبے بغیر انقلاب نہیں آسکتا۔
دنیا واقعی ایک عالمی گائوں کی حیثیت اختیار کرگئی ہے۔ دنیا کے کسی بھی خطے میں کوئی اہم واقعہ یا حادثہ رونما ہوجائے، ہر شہر اور قصبے بلکہ گائوں اور گوٹھ میں ذرائع ابلاغ پوری تفصیلات و تصاویر بروقت پہنچا دیتے ہیں۔ اس وقت عالمی خبروں میں ایک نمایاں ترین خبر مشرقی افریقہ کے ملک کینیا کے صدارتی انتخابات اور ان کے مابعد کے حالات و واقعات ہیں۔ موجودہ صورت حال کو سمجھنے کے لیے کینیا کے سیاسی و معاشرتی پس منظر کا مختصر مطالعہ مفید رہے گا۔
کینیا، براعظم افریقہ کا اہم اور مرکزی کردار کا حامل ملک ہے جہاں انتخابات باقاعدگی سے ہوتے رہے ہیں اور فوج کبھی ایوانِ اقتدار پر قابض نہیں ہوسکی۔ اس ملک نے انگریزی استعمار سے سخت جدوجہد اور گوریلا جنگ کے بعد ۱۲دسمبر ۱۹۶۳ء کو آزادی حاصل کی تھی۔ اس وقت کینیا کی آبادی ساڑھے تین کروڑ سے متجاوز ہے۔ خوب صورت ساحلوں، قابلِ دید جزائر اور انتہائی دل فریب پہاڑی مقامات کے علاوہ گھنے جنگلوں اور ہر طرح کے جنگلی جانوروں (wild life)کی وجہ سے یہ ملک دنیا بھر کے سیاحوں کا بھی مرکز ہے۔ پھر موسم اتنا پُرکشش کہ ۱۲ مہینے نہ شدت کی گرمی نہ یخ بستہ سردی، یہاں کے دن اور رات تقریباً سال بھر برابر رہتے ہیں۔
ملک کی آزادی کے بعد پہلا سربراہِ مملکت باباے قوم، مزے جوموکنیاٹا(Mzee Jomo Kenyatta) منتخب ہوا، جسے پوری قوم کا اعتماد اور قابلِ رشک مقبولیت حاصل تھی جو اس کے آخری لمحے تک برقرار رہی۔ وہ اپنی وفات (۱۹۷۸ئ) تک بلاشرکت غیرے ملک کا سربراہ رہا۔ دستور کے مطابق ہر پانچ سال بعد صدارتی اور پارلیمانی انتخاب ہوتے رہے لیکن ملک میں کثیرالجماعتی سیاست ممنوع تھی۔ ایک ہی پارٹی کینیا افریقن نیشنل یونین (KANU) حکمران رہی۔ صدر کنیاٹا کے مقابلے پر کبھی کسی نے کاغذات نامزدگی داخل ہی نہیں کیے تھے، البتہ پارلیمان میں کانو کے ارکان آپس میں مقابلہ کرتے اور تقریباً آزادانہ و منصفانہ انتخابات کے ذریعے پارلیمان میں پہنچتے تھے۔
آزادی کے بعد ملک کا پہلا نائب صدر، موجودہ اپوزیشن لیڈر رائیلا اوڈنگہ (Raila Odinga) کا باپ اوڈنگہ اوگِنگہ (Oginga) تھا۔ آزادی کے کچھ ہی عرصے بعد صدر اور نائب صدر کے درمیان تنازعات شروع ہوگئے، جس کے نتیجے میں اوڈنگہ کو پس دیوارِ زنداں بھیج دیا گیا۔ کنیاٹا نے زندگی کے آخری برسوں میں اپنے حریف کو جیل سے رہا کردیا مگر وہ مؤثر شخصیت ہونے کے باوجود بدلے ہوئے حالات میں سیاسی میدان میں کوئی خاص مقام حاصل نہ کرسکا۔ کنیاٹا کی اچانک وفات (۱۹۷۸ئ) کے بعد نائب صدر ڈینیل ارپ موئی (Daniel Arapmoi) دستور کے مطابق قائم مقام صدر بن گیا، جو کنیاٹا کے زمانے میں محض ایک نمایشی نائب صدر کے طور پر پہچانا جاتا تھا۔ موئی نے آہستہ آہستہ اپنی گرفت اتنی مضبوط کرلی کہ نہ صرف حکمران سیاسی پارٹی کانو بلکہ تمام حکومتی اور نیم حکومتی اداروں پر بھی اپنے قبیلے اور من پسند لوگوں کو مسلط کردیا۔ کرپشن اس قدر بڑھی کہ لوگ بلبلا اُٹھے۔ صدر موئی کے خلاف ۱۹۸۲ء میں جونیر افسروں کی طرف سے ناکام فوجی بغاوت ہوئی، جسے اس وقت کے مسلمان آرمی چیف جنرل محمود محمد کی طرف سے کچل دیا گیا تھا۔ اس سے موئی کے حوصلے اور من مانی مزید بڑھ گئی۔
۱۹۹۳ء میں صدر موئی کے چوتھی بار منتخب ہونے کے بعد ملک کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی بالآخر ناقابلِ برداشت ہوگئی۔ لوگوں نے کثیرالجماعتی سیاست کے لیے مظاہرے شروع کردیے۔ ان مظاہروں کو سختی سے کچلنے کی حکومتی کوشش کے باوجود، ان میں مسلسل شدت آتی چلی گئی اور ملک کا بڑا قبیلہ (کیکویو(Kikuyu)، پہلے صدر کنیاٹا اور موجودہ صدر کیباکی (Kibaki) کا قبیلہ) پوری طرح حکومت کے خلاف منظم ہوگیا۔ موجودہ صدر شروع میں موئی کے ساتھ نائب صدر کے فرائض ادا کرتا رہا تھا۔ موئی نے اسے برخاست کردیا اور نسبتاً چھوٹے قبائل کو اپنے ساتھ ملاکر حکومت بچانے کی پالیسی اختیار کی۔ ۱۹۹۹ء میں احتجاجی تحریک کامیاب ہوگئی اور کثیرالجماعتی سیاست کا آغاز ہوا، مگر انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے حکمران پارٹی ہی برسرِاقتدار رہی۔
صدر موئی کا تعلق کالن جین (Kalenjin) قبیلے سے تھا، جو آبادی کا ۱۲ فی صد ہے۔ کینیا میں ۵۰ سے زائد قبائلی اور لسانی گروپ ہیں لیکن تقریباً ۷۵ فی صد آبادی پانچ بڑے قبائل پر مشتمل ہے۔ باقی چھوٹے چھوٹے گروپ مل کر ۲۵ فی صدبنتے ہیں۔ سب سے بڑا قبیلہ موجودہ صدر موائی (Mwai) کیباکی کا ہے (
۲۲ فی صد)، دوسرے نمبر پر لوہیا (Luhya)، ( ۱۴ فی صد)، تیسرے نمبر پر اپوزیشن لیڈر رائیلا اوڈنگہ کا قبیلہ لوئو (Luo) ( ۱۳ فی صد)، چوتھے نمبر پر کالن جین (۱۲ فی صد) اور پانچویں نمبر پر کامبا (Kamba) ( ۱۱ فی صد) ہے۔ موائی کیباکی ۲۰۰۲ء کے انتخابات میں حکمران کانو پارٹی کے صدارتی امیداوار اوصرو کنیاٹا (باباے قوم کا بیٹا) کے مقابلے پر رائیلہ اوڈنگہ اور دیگر گروپوں کی مدد سے جیتا تھا۔ اس نے اپنے مختصر دورِ حکومت میں اپنے پیش رو سے بھی زیادہ کرپشن کی مگر اسے امریکا کی اشیرباد حاصل رہی۔ اس نے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی اور کانو کو بھی اپنا حلیف بنا لیا۔ مگر اس کے قریبی ساتھی اس کا ساتھ چھوڑ گئے۔ انھوں نے اس کے خلاف نئی پارٹی، اورنج ڈیموکریٹک موومنٹ بناکر تحریک شروع کردی۔
۲۷ دسمبر ۲۰۰۷ء کے انتخابات میں تین امیدوار حصہ لے رہے تھے جن میں نمایاں دو ہی تھے یعنی موائی کیباکی (حکمران نیشنل یونٹی پارٹی) رائیلا اوڈنگہ (اورنج ڈیموکریٹک موومنٹ) ملک کی سابقہ حکمران پارٹی کانو، موائی کیباکی کی حلیف ہے لیکن وہ اب بے اثر ہوچکی ہے۔ انتخابات میں واضح طور پر اوڈنگہ جیت رہا تھا۔ تمام سروے رپورٹس اور مبصرین کے مطابق اس کی جیت یقینی تھی مگر انتخابات میں بے پناہ دھاندلی اور جھرلو استعمال کیا گیا۔ الیکشن اتھارٹی نے خود بھی نتائج کو مشکوک بنا دیا ہے۔ چیف الیکشن کمیشن صحافیوں کے سامنے بے بس نظر آرہے تھے۔ وہ سارے سوالات کے جواب ہی نہ دے سکے۔ اپوزیشن نے نتائج مسترد کرکے احتجاجی تحریک شروع کر دی۔
انتخابات کے بعد فوری طور پر امریکا نے کینیا کے معاملات میں مداخلت شروع کر دی اور امریکا کی نمایندہ جنڈائی فریزر (Jenday Frazer) حکومت اور اپوزیشن میں مصالحت کرانے کے لیے نیروبی پہنچ گئی اور اب تک اس کام میں سرگرمِ عمل ہے۔ اسی طرح سے آرگنائزیشن آف افریقن یونٹی (OAU) کے سربراہ اور گھانا کے صدر جان کفور (John Kufour) بھی مصالحت کنندہ کے طور پر نیروبی پہنچے۔ نیلسن منڈیلا اور بشپ ڈسمنڈ ٹوٹو جنوبی افریقہ سے نیروبی وارد ہوئے۔ ان سب لوگوں نے حکومت اور اپوزیشن میں مذاکرات کی کوشش کی مگر تاحال کوئی کامیابی نہیں ہوسکی۔ صدر کیباکی کے خلاف عوامی لہر اتنی مضبوط ہے کہ امریکی دبائواور دیگر سفارت کاروں کی کوششوں کے باوجود حزبِ اختلاف اور عوام دھاندلی سے جیتنے والے صدر کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔صدر کیباکی نے متنازعہ انتخابات کے بعد اپنی صدارت برقرار رکھنے کے لیے قومی حکومت کے قیام کا بھی اعلان کردیا، کابینہ میں دیگر پارٹیوں کو نمایندگی دینے کا وعدہ بھی۔ انھوں نے ایک کابینہ کا تقرر بھی کردیا مگر ان کے مدّمقابل رائیلا اوڈنگہ نے اسے جعلی صدر کی جعلی کابینہ کہہ کر مسترد کردیا۔ اپوزیشن کا موقف واضح، دوٹوک، یک نکاتی اورحتمی ہے کہ غاصب اور انتخابی نتائج کے چور سے کسی قسم کے مذاکرات کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
ملک کے حالات دگرگوں ہیں اور تمام افریقی ممالک کے لوگ ان کا تجسس سے مطالعہ کررہے ہیں۔ محتاط اندازوں کے مطابق اب تک ایک ہزار سے زائد لوگ ہنگاموں کے دوران پولیس کی گولیوں سے، یا عوامی بلووں کے نتیجے میں مارے جاچکے ہیں، جب کہ کینیا کے وزیرخزانہ ایموس کیمونیا (Amos Kimunya) کے بقول مالی نقصان کا تخمینہ ایک بلین ڈالر ہے اور اربوں شلنگ کی جایدادیں نذرِ آتش ہوچکی ہیں۔ اقوام متحدہ کے اداروں کے تازہ ترین سروے میں تین لاکھ لوگ گھروں سے بے گھر بتائے گئے ہیں اور ابھی تک بڑے شہروں میں زندگی معمول پر نہیں آئی۔ رائیلا اوڈنگہ انقلابی ذہن رکھنے والا ہنگامہ پرور لیڈر ہے، جب کہ موائی کیباکی، امریکا کا منظور نظر۔ ارپ موئی کے خلاف کیباکی کا بڑا حامی رائیلا ہی تھا۔ کیباکی نے گذشتہ پانچ سالوں میں امریکی اشاروں پر جنرل پرویز مشرف کی طرح نام نہاد دہشت گردی کے خلاف ملک میں کئی کریک ڈائون کیے ہیں۔
ایک قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ تمام چھوٹے قبائل بالخصوص سواحلی اور شمال مشرقی علاقوں میں بسنے والے مسلمان پوری طرح اپوزیشن کے ساتھ ہیں۔ مسلمانوں کی حقیقی آبادی کو ہمیشہ گھٹاکر بیان کیا گیا ہے۔ عملاً اس ملک میں مسلمان ۲۵ سے ۳۰ فی صد ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کیباکی امریکی کٹھ پتلی ہے۔ یہ حقیقت تو بالکل عیاں ہے کہ دنیا بھر میں بالخصوص تیسری دنیا کے ممالک میں امریکا کے خلاف شدید عوامی نفرت پائی جاتی ہے۔ مسلم اُمہ میں جو عمومی بیداری نظر آتی ہے، افریقی ممالک میں بھی اس کی ایک نمایاں لہر محسوس کی جارہی ہے۔ نوجوان اسلام کی طرف رجوع کر رہے ہیں اور اپنے اپنے ملکوں میں بحیثیت مسلم کمیونٹی فعال کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔
حزبِ اختلاف کی پارٹی اورنج ڈیموکریٹک موومنٹ میں ساحلی علاقوں سے ایک اُبھرتا ہوا نوجوان نجیب بلالہ بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ وہ اپوزیشن لیڈر اوڈنگہ کے قریب ترین ساتھیوں میں شمار ہوتا ہے اور بعض سیاسی مبصرین کی راے میں اگر اوڈنگہ منتخب ہوجاتا ہے تو نجیب بلالہ یا کسی دوسرے مسلمان لیڈر کے نائب صدر یا کم از کم اہم وزارتوں میں سے کسی وزارت پر آنے کے امکانات خاصے روشن ہیں۔ کینیا کی اپوزیشن اس لحاظ سے قابلِ تحسین ہے کہ مقامی طور پر حکومت کی پُرتشدد کارروائیوں اور بیرونی طور پر سفارتی دبائو کے باوجود وہ کسی ناروا ڈیل یا دبائو کے ذریعے اپنے حق سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہے۔ یہ نعرہ اب کینیا میں ہر بچے بوڑھے کی زبان پر ہے کہ غاصب حکومت نامنظور، غاصب سے مذاکرات نامنظور۔ اس نعرے میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے لیے بھی پیغام پنہاں ہے۔
مصر پر طویل عرصے تک فراعنہ حکمران رہے۔ مصر کے ان حکمرانوں کے مظالم تاریخ ہی میں نہیں‘ سابقہ الہامی کتب اور قرآن مجید میں بھی بہت تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔ دورِجدید کے مسلمان مصری حکمرانوں نے اس مسلمان ملک کو سرزمینِ فراعنہ اور خود کو ابناے فراعنہ کہنے میں فخر محسوس کیا۔ آج اسی فرعونی دَور کی یادیں مصر میں تازہ کی جارہی ہیں۔ اخوان ایک دفعہ پھر حکمرانوں کے انتقام کا نشانہ ہیں مگر سرزمین مصر بحیثیت مجموعی بھی تباہی کے دہانے پر آکھڑی ہے۔ اخوان المسلمون‘ عرب دنیا سے اٹھنے والی وہ اسلامی تحریک ہے جس نے زندگی کے ہر شعبے میں مسلمانوں کی تربیت کی ہے۔ اخوان نے اسلام کے جامع تصور کو دورِ جدید کے تقاضوں کے مطابق اُجاگر کیا ہے اور معاشرتی‘ سیاسی‘ معاشی اور تعلیمی میدان میں عالمِ عرب کی گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں۔ ۱۹۲۸ء میں مصر میں قائم ہونے والی یہ تحریک‘ آج عالمِ عرب ہی نہیں‘ پوری دنیا میں معروف اور ایک حقیقت ہے۔
غلبۂ اسلام کے لیے جدوجہد کرنے والے تمام لوگ ہردور میں ابتلا و آزمایش سے ہمت و استقامت سے گزرتے رہے ہیں مگر دورِ جدید میں اخوان المسلمون نے عزیمت کی جو بے مثال تاریخ رقم کی ہے وہ قرونِ اولیٰ کے عظیم مسلمانوں کی یاد تازہ کردیتی ہے۔ ابتلا و آزمایش کا یہ سلسلہ تحریک کے آغاز سے لے کر آج تک مسلسل جاری ہے۔ آفرین ہے ان جواں ہمت لوگوں کے جذبۂ ایثار و قربانی پر کہ جو مستبد حکمرانوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے بجاے راہِ عزیمت پر مسلسل چراغ جلاتے جارہے ہیں۔ حسن البنا‘ عبدالقادر عودہ اور سیدقطب کی شہادت‘ حسن الہضیبی‘ عمرتلمسانی‘ محمد حامد ابوالنصر‘ مصطفی مشہور اور ہزاروں اخوانیوں کی قیدوبند کی ناقابلِ بیان صعوبتیں ان کے لیے روشنی کے مینار ہیں۔ عمرتلمسانی نے کیا خوب فرمایا تھا کہ طاغوت کے مظالم کے سامنے اہلِ حق کا ڈٹ جانا اور جھکنے سے انکار کردینا‘ طاغوت کی شکست اور حق کی فتح ہے‘ اگرچہ اہلِ حق اس جدوجہد میں جان ہی سے کیوں نہ گزر جائیں!
تازہ ترین فرعونی کوڑا‘ جو صرف اخوان ہی پر نہیں‘ بحیثیت مجموعی ملک کی معیشت پر برسایا گیا ہے‘ بہت خطرناک اور دُور رس نتائج کا حامل ہے۔ اخوان المسلمون کے مرکزی رہنما‘ مرشدعام کے نائب دوم‘ انجینیرخیرت الشاطر سمیت ۳۰ کے قریب تجارتی و کاروباری فرموں کے اخوانی مالکان کو نہ صرف گرفتار کرلیا گیا ہے بلکہ ان کے تجارتی اداروں اور ان کے ذاتی و شراکت داروں کے مشترکہ اثاثہ جات کو بھی منجمد کردیا گیاہے۔ ان کاروباری لوگوں کی حالیہ گرفتاری کے علاوہ اخوان کے سیکڑوں سیاسی کارکنان پہلے ہی سے جیلوں میں مقید ہیں۔ ہنگامی قوانین کے ذریعے حکومت مصر نے گذشتہ انتخابات سے قبل اور بعد‘ بہت سے سیاسی مخالفین بالخصوص اخوان سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات کو تسلسل کے ساتھ جھوٹے مقدمات میں گرفتار کرنے کا مذموم سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ ان کالے قوانین کے خلاف سیاسی جماعتوں کے علاوہ مصر کے وکلا بلکہ ججوں نے بھی شدید احتجاج کیا ہے۔ ججوں کے حکومتی ایما پر فیصلے کرنے سے اجتناب کی وجہ سے حکومت‘ خصوصی اور فوجی عدالتیں قائم کرکے ان لوگوں کو انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے۔
حالیہ گرفتاریوں کے نتیجے میں چونکہ ملک کے معروف تاجر‘ صنعت کار اور سرمایہ کار گرفتار کیے گئے اور ان کے اداروں پر قبضہ کرکے اثاثے منجمد کردیے گئے ہیں‘ اس لیے مصر سے سرمایہ کار اپنا سرمایہ دھڑا دھڑ بیرونِ ملک بھجوا رہے ہیں۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق تقریباً ۲۱ارب مصری پائونڈ کا سرمایہ بیرونِ ملک منتقل کیا جاچکا ہے۔ غیرجانب دار تجارتی حلقے بھی تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ ملک کے تمام ایوان ہاے صنعت و تجارت نے اس صورتِ حال کو ملک کی معاشی تباہی اور مصری عوام کے معاشی قتل کے مترادف قرار دیا ہے۔ ثقہ اخباری اطلاعات کے مطابق مصر میں سکیورٹی فورسز نے ۴۵ جاسوسی نیٹ ورک پکڑے ہیں‘ جو صہیونی و صلیبی اداروں نے قائم کررکھے ہیں اور ان کا مقصدمصر کی سالمیت کو تباہ کرنا ہے۔ مگر طُرفہ تماشا ہے کہ ان اداروں کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کے بجاے اُلٹا اخوان کوہدفِ انتقام بنایا گیا ہے۔
اخوان کے مرشدِ عام جناب محمد مہدی عاکف نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے حکومتی ہتھکنڈوں کو بوکھلاہٹ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ اخلاقی و دینی اصولوں کے مطابق بھی پابندیاں لگانے اور قیدوبند کے مراحل سے گزارنے کا یہ عمل ناپسندیدہ ہے اور ملک کا دستور بھی اس کی اجازت نہیں دیتا لیکن افسوس تو یہ ہے کہ دستور کو حکمرانوں نے موم کی ناک بنادیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اخوان‘ سیاسی و معاشی کسی سطح پر کوئی غیر قانونی کام نہیں کرتے۔ یہ ساری کارروائی امریکی دبائو کے تحت کی گئی ہے۔ امریکا اخوان کی مقبولیت اور پارلیمنٹ میں ان کے مضبوط گروپ کی وجہ سے اخوان کو خطرہ سمجھتا ہے۔(نیوزویک‘ عربی اڈیشن‘۲۷ فروری ۲۰۰۷ء)
ترکی کے اخبار المساء سے گفتگو کرتے ہوئے مرشدعام نے کہا کہ جن اداروں بالخصوص اخوان کے راہنما حسن مالک کی فرم پر پابندی لگائی گئی ہے‘ وہ اپنی ساکھ اور اپنے شفاف و کامیاب کاروبار کی وجہ سے اتنے مقبول تھے کہ مصر ہی نہیں‘ مصر سے باہر کے سرمایہ کار اور شراکت دار بھی ان میں سرمایہ لگائے ہوئے تھے‘ حتیٰ کے ترکی کی کئی کاروباری کمپنیوں نے بھی مصر کے ان اداروں میں حصص خرید رکھے تھے۔ یہ مصر کی گرتی ہوئی اقتصادی صورتِ حال اور متزلزل اخلاقی ساکھ کو مزید تباہ کرنے کی حکومتی کوشش ہے‘ جسے کوئی بھی عقلِ سلیم رکھنے والا شخص درست قرار نہیں دے سکتا۔ مرشدعام نے حسنی مبارک اور ان کی حکومت کی غیر قانونی کارروائیوں پر تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ ۱۰ برسوں میں حکومت نے اخوان سے تعلق رکھنے والے ۲۵ ہزار بے گناہ شہریوں کو گرفتار کیا ہے۔ ان میں سے ۳۰۰ کے قریب لوگوں کو فوجی عدالتوں سے سزائیںدلوائی گئی ہیں۔
مصر میں اس ظالمانہ اقدام کے خلاف کافی بے چینی اور ردعمل پایا جاتا ہے۔ اخوان کے مجلہ رسالہ الاخوان (شمارہ ۴۹۵‘ مارچ ۲۰۰۷ء) نے مختلف انٹرنیٹ سے حاصل کردہ کچھ نمونے پیش کیے ہیں جن میں گرفتار شدگان کی خدمات اور صلاحیتوں کا تذکرہ ہے اور نہایت مؤثر انداز میں ان پر ڈھائے جانے والے ظلم کے خلاف صداے احتجاج بلند کی گئی ہے۔ صحافت پرقدغن کے باوجود اب ایسے وسائل و ذرائع موجود ہیں کہ لوگ ان کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں اور احتجاج ریکارڈ کراتے ہیں۔
روزنامہ ڈان لاہور نے آئی پی ایس نیوز سروس کے حوالے سے ۱۶ فروری ۲۰۰۷ء کو ایک تفصیلی رپورٹ چھاپی ہے جس کے مطابق ۲۸ جنوری ۲۰۰۷ء کو اخوان سے تعلق رکھنے والے ۲۹معروف صنعت کاروں اور تاجروں کو غیرقانونی طور پر اس وقت گرفتار کرلیا گیا‘ جب کہ ایک دن قبل ان میں سے بعض کو مصر کی ایک عدالت نے سابقہ مقدمات سے رہا کیا تھا۔ حسنی مبارک نے ۱۵جنوری ۲۰۰۷ء کو ایک اعلان کیا‘ جس کے مطابق اخوان کو مصر کی سلامتی کے لیے خطرناک قرار دیا۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ مصری صدر نے اخوان کے دینی تشخص کو خطرے کی علامت قراردیا۔
مصر کے سیاسی حالات پر گہری نظر رکھنے والے سیاسی مبصرین کے نزدیک ۲۰۰۵ء کے انتخاباتِ عام میں حکومتی جبر اور پابندیوں کے باوجود اخوان نے پارلیمنٹ کی ۲۰ فی صد نشستوں پر جوکامیابی حاصل کی تھی‘ اس نے پوری دنیا کو حیرت اور مصری حکمرانوں کو پریشانی میں مبتلا کر دیا تھا۔ اخوان کی مقبولیت میں ایک بڑا سبب ان کی خدمتِ خلق اور فلاح و بہبود کے منصوبوں کو قرار دیا جاتا ہے۔ حکومت جانتی ہے کہ یہ متمول کاروباری ادارے ان فلاحی خدمات میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتے ہیں۔ اسی لیے ان پر ہاتھ ڈالا گیا ہے۔ پارلیمانی امور کے ذمہ دار اور قانونی امور کے ماہر اخوانی راہنما صبحی صالح نے اس حکومتی اقدام کو امریکا اور اس کے زیراثر مسلمان حکومتوں کی طرف سے اسلام کے خلاف جنگ کا ایک محاذ قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حماس کو بھی معاشی لحاظ سے اپاہج کیا گیا‘ اب مصر میں اخوان کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جا رہا ہے۔
اخوان کے نائب مرشدعام اوّل ڈاکٹر محمدحبیب نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس طرح کے ہتھکنڈے ہمارے خلاف ہمیشہ استعمال کیے جا تے رہے ہیں۔ گذشتہ ۲۵ برسوں سے ملک پر ہنگامی قوانین کی تلوار لٹک رہی ہے اور انھی کو بنیاد بناکر تازہ حملہ کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مصر کے لیے حکمران طبقہ ہر لحاظ سے خطرہ ہے۔ حکومت یہ چاہتی ہے کہ اس کی مجوزہ دستوری ترامیم کے خلاف اخوان کی احتجاجی اور سیاسی جدوجہد کا راستہ روکا جائے۔ اسی لیے وہ ہماری معاشی شہ رگ کاٹنے کا فیصلہ کرچکی ہے۔ لیکن ہمارے تمام کام قانون کے دائروں میں ہیں اور ہمارے کاروبار شفاف ہیں۔ ہم پر ہمیشہ اوچھے حملے ہوتے رہے ہیں مگر اللہ نے ہمیں ہر مرتبہ سرخ رو کیا ہے اور ہم مصر کو ایک اسلامی اور جمہوری ملک بنانے کی کوششیں کسی صورت ترک نہیں کرسکتے۔(المجتمع، ۱۷فروری ۲۰۰۷ء)
مرشدعام نے تازہ ترین صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم مصر کی سیاست میں تحمل و برداشت کے علَم بردار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کے پروگراموں کے ساتھ صرف اسلام چندپروگرام رکھنے والی قوتوں کو ہی اختلاف نہیں بلکہ تمام لبرل‘ سیکولر اور بائیں بازو کی پارٹیاں بھی اختلاف رکھتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم جس اسلام کی بات کرتے ہیں وہ قرآن و سنت کی بالادستی پر مبنی ہے۔ مذہبی پاپائیت (تھیاکریسی) کا الزام لگانے والے حقائق سے چشم پوشی کرتے ہیں۔
مصر کے ججوں کی تنظیم کے صدر جسٹس زکریا عبدالعزیز نے ایک بیان میں حکومت کی دستوری ترامیم پر شدید افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت دستور کی دفعہ ۸۸ اور ۱۷۳ میں جو ترمیمات کر رہی ہے‘ وہ دراصل مصری عدلیہ کے پَر کاٹنے اور انھیں آزادی سے محروم کرنے کی کوشش ہے۔ مصر کی عدلیہ کو انتخابات کی نگرانی کا جو قانونی و دستوری حق حاصل ہے‘ اسے ختم کرکے محض مبصر کا درجہ دیا جا رہا ہے۔ یہ دستور کی دفعہ ۱۶۵-۱۶۶ کی صریح خلاف ورزی ہے۔ یہ دفعات عدلیہ کو انتخابات کی نگرانی کا مستقل اختیار دیتی ہیں۔ انھوں نے حکومت کے اس اقدام کو بھی حرفِ تنقید بنایا جس کے مطابق جوڈیشل کونسل کو ختم کرکے ہرسطح کی عدالت کے چیف پر مشتمل ایک نئی کونسل بنائی جارہی ہے جو آزادانہ فیصلے نہیں کرسکے گی۔(المجتمع‘ عدد ۱۷۳۹ )
مصر میں کاروباری اداروں پر لگائی جانے والے حالیہ پابندیوں کو پاکستان کی جانب سے بعض فلاحی تنظیمات پر پابندی اور ان کے اثاثہ جات اور اداروں کو منجمد و مقفل کرنے کے تناظر میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عالمِ اسلام کے سب حکمران باہر کی ہدایات پر عمل پیرا ہیں۔ یہ صورتِ حال کسی خوش حال اور مہذب معاشرے کی عکاسی نہیں کرتی۔ اُمت مسلمہ کو اس اہانت آمیز صورت سے نکلنے کے لیے پُرامن مگر منظم و مسلسل جدوجہدکی ضرورت ہے۔ اخوان کی قیادت نے اسی عزم کا اظہار کیا ہے جو خوش آیند ہے۔
قرآن مجید کتابِ ہدایت ہے‘انسانوں کے لیے قیامت تک کا منہج اس میں محفوظ کردیا گیا ہے۔قرآن نے جہاں کائنات کے وسیع وعریض عناصر سے استشہاد کرکے انسان کے لیے سامانِ عبرت فراہم کیا ہے‘وہیں انسانی تاریخ کو بھی عام فہم انداز میں لوگوں کے سامنے بطور سبق پیش فرمایا ہے۔تاریخ کے متعلق قرآنی فلسفہ کئی آیات میں بیان ہوا ہے۔بطور مثال سورہ اعراف کی ایک آیت کا مختصر سا حصہ اس مضمون کی بہترین تشریح کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔ ارشاد ہے: فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْن(الاعراف ۷:۱۷۶)’’تم ان کو یہ حکایات سناتے رہو شاید یہ غوروفکر کریں‘‘۔
غوروفکر اور نصیحت وعبرت کے اس ارشاد کی روشنی میں ہم ماضی اور حال کے مستبد حکمرانوں کو دیکھتے ہیں تو ان میں کافی مماثلت نظر آتی ہے۔یہاں بھی قرآن ہی کا تبصرہ پیش خدمت ہے جو جامع اور ابدی ہے: کَذٰلِکَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ مِثْلَ قَوْلِھِمْط(البقرہ ۲:۱۱۸) ’’ایسی ہی باتیں (اور کام) ان سے پہلے لوگ بھی کیا کرتے تھے۔ان سب اگلے پچھلے گمراہوں کی ذہنیتیں ایک جیسی ہیں‘‘۔
حکمران انتہائی نازک طبع لوگ ہوتے ہیں‘ وہ کسی مخالفت کو تو کہاں برداشت کریں گے بقول حافظ شیرازی’’ تابِ سخن بھی نہیں رکھتے‘‘۔مخالفین کوکو لہو میں پیل دینا‘آگ میںجلا ڈالنا‘ تختۂ دار پر لٹکا دینا اور بدترین قسم کے انتقامی ہتھکنڈوں سے خوف وہراس کی فضامستقل پیدا کیے رکھنا‘ حکمرانوں کے مزاج شاہی کا طرۂ امتیاز ہوتا ہے۔بات بات پہ اندھی قوت کا استعمال‘ریاستی طاقت کو حرکت میں لانے کی ظالمانہ دھمکیاں اور جھوٹ کے زہریلے پروپیگنڈے کا سہارا لے کر مخالفین کی کردار کشی‘ ظالم حکمرانوں کے نزدیک ان کے اقتدار کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔معاشی استحصال‘معاشرتی بائیکاٹ‘حوصلہ شکنی کے لیے استہزا‘مخالفین کو احساس کمتری میں مبتلا کرنے کے لیے‘ ان کی غربت کا مذاق اور اس کے مقابل اپنی قوت‘دولت‘حشمت اور لامحدود وسائل پر فخرومباہات ‘پنداروانانیت کے اس مہلک مرض کے لیے نسخۂ شفا قرار پاتے ہیں۔قرآن ان اور ان سے بھی زیادہ مذموم اوصاف کا تذکرہ کرکے‘ ان حکمرانوں کے عبرت ناک انجام سے باخبر کرتا ہے۔
قرآن مجید کی سورہ النمل بادشاہوں کی قوت اور باہمی آویزش کا ایک دل چسپ تاریخی واقعہ پیش کرتی ہے۔ایک جانب تورسولِ خدا حضرت سلیمان ؑ حکمران ہیں‘دوسری جانب یمن کے متمدن اور طاقت ور خطّے میں ایک بت پرست خاتون ملکۂ سبا تخت پر براجمان ہے۔حضرت سلیمان ؑ کی طرف سے ملکہ کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی گئی توایک اہم اور ہنگامی اجلاس میں اس نے اپنے وزرا سے خطاب کرتے ہوئے کہا’’اے سردارانِ قوم! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو‘میں کسی معاملے کا فیصلہ تمھارے بغیر نہیں کرتی ہوں‘‘۔ اُنھوں نے جواب دیا’’ہم طاقت ور اور لڑنے والے لوگ ہیں۔آگے فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔آپ خود دیکھ لیں کہ آپ کو کیا حکم دینا ہے‘‘۔ملکہ نے کہا کہ’’بادشاہ جب کسی ملک میں گھس آتے ہیں تو اسے خراب اور اس کے عزت والوں کو ذلیل کردیتے ہیں۔یہی کچھ وہ کیا کرتے ہیں۔میں اِن لوگوں کی طرف ایک ہدیہ بھیجتی ہوں‘پھر دیکھتی ہوں میرے ایلچی کیا جواب لے کر آتے ہیں‘‘۔ (آیت ۳۲-۳۵)
اس ایک فقرے میں امپیریلزم اور اس کے اثرات ونتائج پر مکمل تبصرہ کردیا گیا ہے۔ بادشاہوں کی ملک گیری اور فاتح قوموں کی دوسری قوموں پر دست درازی کبھی اصلاح اور خیر خواہی کے لیے نہیں ہوتی۔اس کی غرض یہی ہوتی ہے کہ دوسری قوم کو خدا نے جو رزق دیا ہے اور جو وسائل وذرائع عطا کیے ہیں ان سے وہ خود متمتع ہوں اور اس قوم کو اتنا بے بس کردیں کہ وہ کبھی ان کے مقابلے میں سر اٹھا کر اپنا حصہ نہ مانگ سکے۔اس غرض کے لیے وہ اس کی خوشحالی اور طاقت اور عزت کے تمام ذرائع ختم کردیتے ہیں‘اس کے جن لوگوں میں بھی اپنی خودی کا دم داعیہ ہوتا ہے انھیںکچل کر رکھ دیتے ہیں‘اس کے افراد میں غلامی‘خوشامد‘ایک دوسرے کی کاٹ‘ایک دوسرے کی جاسوسی‘ فاتح کی نقالی‘اپنی تہذیب کی تحقیر‘فاتح تہذیب کی تعظیم اور ایسے ہی دوسرے کمینہ اوصاف پیدا کردیتے ہیں‘اور انھیں بتدریج اس بات کا خوگر بنا دیتے ہیں کہ وہ اپنی کسی مقدس چیز کو بھی بیچ دینے میں تامل نہ کریں اور اُجرت پر ہر ذلیل سے ذلیل خدمت انجام دینے کے لیے تیار ہوجائیں۔(تفہیم القرآن‘ سوم‘ ص ۵۷۳)
ملکۂ سباء کا یہ دانش مندانہ تجزیہ جہاں اس کی عقل وفہم کا پتا دیتا ہے ‘وہیں انسانی تاریخ کا یہ پہلو بھی واضح کرتا ہے کہ خدا سے برگشتہ اور آخرت کی جواب دہی کے احساس سے بے خوف حکمرانوں کے ہاتھوں عزتیں برباد ہوتی اور مال وجان غیر محفوظ ہوجاتے ہیں۔انسانی تاریخ کا پورا نچوڑ بھی یہی ہے۔آج بھی پوری دنیا میں یہی کھیل جاری ہے۔امریکا اور اس کے اتحادی نیز بھارت اور اسرائیل اس کی زندہ مثالیں ہیں۔طاقت جس طرح کی بھی ہو وہ انسان کو خودسر‘ سنگ دل‘ اور ظالم بنانے کا ذریعہ ہوتی ہے۔ہاں‘ اس طاقت کے ساتھ خدا خوفی‘احساسِ آخرت اور جواب دہی کا تصور شامل ہوتو انسان حدود سے تجاوز کرتے ہوئے ڈرتا ہے۔معاشی ومعاشرتی اور ذہنی وجسمانی قوت سبھی بڑا امتحان ہوتی ہیں مگر سیاسی وحکومتی طاقت کا معاملہ سبھی سے زیادہ شدید اور فتنہ سامان ثابت ہوتا ہے۔
حکمران اور مقتدر طبقے اللہ کی دی ہوئی مہلت کو اپنی قوت کا کمال سمجھتے ہیں۔ خلق خدا کی جان لے لینا ان کے نزدیک معمولی کام ہے۔قوم نوح کے مقتدر طبقے نے سیدنا نوحؑ کو قتل اور سنگسار کردینے کی بار بار دھمکیاں دیں اور کئی بار ان پر حملہ آور ہوئے۔قرآن نے اس نکتے پر روشنی ڈالی ہے ۔ سورۂ قمرمیں ارشاد ہے ’’(قوم نوح نے) ہمارے بندے کو جھوٹا قرار دیا اور کہا کہ یہ دیوانہ ہے اور وہ بری طرح جھڑکا اور دھمکایا گیا‘‘(آیت ۹)۔سورۂ شعراء کے مطابق اس قوم نے حضرت نوحؑ کو ان الفاظ میں دھمکی دی’’اے نوح! اگر تو باز نہ آیا تو پھٹکارے ہوئے لوگوں میں شامل ہوکر رہے گا‘‘(آیت ۱۱۴)۔ آیت میں ’’مرجومین‘‘ کا لفظ آیا ہے جس کا ترجمہ پھٹکارے ہوئے بھی ہے اور سنگسار کیے ہوئے بھی ہوسکتا ہے۔
حضرت صالح علیہ السلام کو بھی ان کی قوم نے قتل کی دھمکی دی اور ان کے خلاف سازش تیار کی۔سورہ نمل کی آیات ۴۹ تا ۵۲ میں اس پورے واقعے کا نقشہ یوں کھینچا گیا ہے ’’اُس شہر میں نوجتھے دار تھے جو ملک میں فساد پھیلاتے اور کوئی اصلاح کا کام نہ کرتے تھے۔انھوں نے آپس میں کہا’’خدا کی قسم کھا کر عہد کرلو کہ ہم صالحؑ اور اس کے گھر والوں پر شب خون ماریں گے اور پھر اس کے ولی سے کہہ دیں گے کہ ہم اس کے خاندان کی ہلاکت کے موقع پر موجود نہ تھے‘ہم بالکل سچ کہتے ہیں‘‘۔یہ چال تو وہ چلے اور پھر ایک چال ہم نے چلی جس کی انھیں خبر نہ تھی۔اب دیکھ لو کہ ان کی چال کا انجام کیا ہوا۔ہم نے تباہ کرکے رکھ دیا اُن کو اور ان کی پوری قوم کو۔ اُن کے گھر خالی پڑے ہیں اُس ظلم کی پاداش میںجو وہ کرتے تھے‘اس میں ایک نشان عبرت ہے اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں‘‘۔
[ولی سے مراد]حضرت صالحؑ کے قبیلے کا سردارہے‘جس کو قدیم قبائلی رسم ورواج کے مطابق ان کے خون کے دعوے کا حق پہنچتا تھا۔یہ وہی پوزیشن ہے جو نبیؐ کے زمانے میں آپؐ کے چچا ابوطالب کو حاصل تھی۔کفار قریش بھی اسی اندیشے سے ہاتھ روکتے تھے کہ اگر وہ آنحضرتؐ کو قتل کردیں گے تو بنی ہاشم کے سردار ابوطالب اپنے قبیلے کی طرف سے خون کا دعویٰ لے کر اٹھیں گے۔
[قومِ ثمود کی سازش] بعینہٖ اُسی نوعیت کی سازش تھی جیسی مکہ کے قبائلی سردار نبیؐ کے خلاف سوچتے رہتے تھے‘اور بالآخر یہی سازش انھوں نے ہجرت کے موقع پر حضوؐر کو قتل کرنے کے لیے کی‘یعنی یہ کہ سب قبیلوں کے لوگ مل کر آپؐ پر حملہ کریں تاکہ بنی ہاشم کسی ایک قبیلے کو ملزم نہ ٹھہرا سکیں اور سب قبیلوں سے بیک وقت لڑنا ان کے لیے ممکن نہ ہو۔
[دوسری طرف ہوا یوں کہ] قبل اس کے کہ وہ اپنے طے شدہ وقت پر حضرت صالحؑ کے ہاں شب خون مارتے‘اللہ تعالیٰ نے اپنا عذاب بھیج دیا اور نہ صرف وہ‘ بلکہ ان کی پوری قوم تباہ ہوگئی۔معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہ سازش ان لوگوں نے اونٹنی کی کوچیں کاٹنے کے بعد کی تھی۔سورۂ ہود میں ذکر آتا ہے کہ جب انھوں نے اونٹنی کو مار ڈالا تو حضرت صالحؑ نے انھیں نوٹس دیا کہ بس تین دن مزے کرلو‘اس کے بعد تم پر عذاب آجائے گا(فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِکُمْ ثَلٰـثَۃَ اَیَّامٍ ذٰلِکَ وَعْدٌ غَیْرُ مَکْذُوْبٍo ھود۱۱:۶۵)۔اس پر شاید انھوں نے سوچا ہوگا کہ صالحؑ کا عذابِ موعود تو آئے چاہے نہ آئے‘ہم لگے ہاتھوں اونٹنی کے ساتھ اس کا کام بھی کیوں نہ تمام کردیں۔چنانچہ اغلب یہ ہے کہ انھوں نے شب خون مارنے کے لیے وہی رات تجویز کی ہوگی جس رات عذاب آنا تھا اور قبل اس کے کہ ان کا ہاتھ حضرت صالحؑ پر پڑتا خدا کا زبردست ہاتھ ان پر پڑ گیا۔ (تفہیم القرآن‘ جلد ۳‘ ص ۵۸۴-۵۸۵)
یہ انسانی تاریخ کے بہ تکرار رونما ہونے والے واقعات ہیں جو قدیم دور میں تو پورے جتھے اور باغی عوام کو ملیامیٹ کر دیتے تھے مگر جدید دور میں بھی ظالم اپنے مظالم کا کچھ نہ کچھ مزا دنیا میں چکھ ہی لیتے ہیں۔پھر بھی کوئی عبرت نہیں پکڑتا‘ہر آمر مطلق یہ سمجھتا ہے کہ مجھ سے قبل جو گرفت میں آگئے تھے‘بے وقوف تھے‘میں تو بڑا جزرس‘محتاط اور منصوبہ ساز ہوں۔میں کیسے پکڑ ا جائوں گا‘ مگر سارے دریچے بند کردینے کے باوجود‘ وہ اپنی تباہی کا سبب بننے والے دریچے کو بند کرنا بھول جاتا ہے۔
حضرت نوحؑ اور حضرت صالحؑ کو قتل کرنے کی کوششیں ہوئیں مگر حضرت ابراہیم ؑ کو تو عملاً قتل کرنے کے لیے آگ میںپھینک دیا گیاتھا۔وقت کے مستبد حکمران نمرود کے دربار سے قرآن کے الفاظ میں یہ فیصلہ صادر ہوا’’انھوں نے کہا جلا ڈالو اس کو اور حمایت کرو اپنے خدائوںکی اگر تمھیں کچھ کرنا ہے‘‘۔ (الانبیائ۲۱:۶۸)
مستبد حکمران اپنی سازشوں میں مصروف رہتے ہیں مگر اللہ کی قدرت ِ کاملہ ان کی سازشوں کو ناکام بنانے کا فیصلہ کرتی ہے تو سب منصوبے ہوا میں اڑ جاتے ہیں۔چنانچہ‘ اس منصوبے کی ناکامی کا نقشہ قرآن نے یوں کھینچا ہے’’ ہم نے کہا اے آگ! ٹھنڈی ہوجا اور سلامتی بن جا ابراہیم ؑ پر۔ وہ چاہتے تھے کہ ابراہیم ؑکے ساتھ برائی کریں مگر ہم نے ان کو بری طرح ناکام کردیا‘ اور ہم اُسے اور لوط ؑکو بچا کر اس سرزمین کی طرف نکال لے گئے جس میں ہم نے دنیا والوں کے لیے برکتیں رکھی ہیں‘‘۔(الانبیاء ۲۱:۶۸-۷۱)
فرعون کا ذکر قرآن میں زیادہ تفصیل کے ساتھ آیا ہے کیونکہ قرآن نے موسٰی ؑ کی جدوجہد کا بھرپور تعار ف کرایا ہے۔قرآن کے مطابق ’’فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کردیا۔ان میں سے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتا تھا اس کے لڑکوں کو قتل کرتا اور لڑکیوں کو جیتا رہنے دیتا۔فی الواقع وہ مفسد لوگوں میں سے تھا‘‘۔(القصص۲۸: ۴)
بنی اسرائیل کے بچوں کے قتل کرنے کا تذکرہ قرآن میں کئی مقامات پر آیا ہے۔مثلاًسورہ البقرہ ۲:۴۹‘ الاعراف ۷:۱۴۱‘ ابراہیم ۱۴:۶‘ القصص ۲۸:۴۔اسی طرح اس نے اپنے درباری جادوگروں کو بھی ان کے ایمان لانے کے بعد پھانسی لگا دیا تھا۔اس موقع پر فرعون نے وہی گھسی پٹی دلیل پیش کی جو ظلم کرنے والے حکمران ہر دور میں پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ قرآن میں اس کا تذکرہ کئی مقامات پر آیا ہے۔یہاں ہم سورۃ الاعراف سے یہ مضمون نقل کرتے ہیں۔ ’’فرعون نے کہا’’تم اس پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمھیں اجازت دوں؟ یقینا یہ کوئی خفیہ سازش تھی جو تم لوگوں نے اس دارالسلطنت میں کی‘ تاکہ اس کے مالکوں کو اقتدار سے بے دخل کردو۔اچھا‘ تو اس کا نتیجہ اب تمھیں معلوم ہواجاتا ہے۔میں تمھارے ہاتھ پائوں مخالف سمتوں سے کٹوا دوں گا اور اس کے بعد تم سب کو سولی پر چڑھائوں گا‘‘۔انھوںنے جواب دیا ’’بہرحال ہمیں پلٹنا اپنے رب ہی کی طرف ہے۔ توجس بات پر ہم سے انتقام لینا چاہتا ہے وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہمارے رب کی نشانیاں جب ہمارے سامنے آگئیں تو ہم نے انھیں مان لیا۔ اے رب!ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اٹھا تو اس حال میں کہ ہم تیرے فرماںبردار ہوں‘‘۔ (آیات ۱۲۳ تا ۱۲۶)اس کے علاوہ ملاحظہ فرمائیے: طہٰ۲۰:۵۷-۷۶‘ الشعراء ۲۶: ۳۴-۵۱۔
ظلم اور ظالم کی بنیاد کمزور ہوتی ہے۔پتّا بھی ہلے تو ظالم سمجھتا ہے کہ جان پر بن گئی۔ذرا سی حرکت کہیں سے محسوس ہو تو اسے سازش اور حکومت کا تختہ الٹنے کا ’’خطرناک منصوبہ‘‘ قرار دیا جاتا ہے۔واقعہ مذکورہ میں قرآن کے بیان کے مطابق فرعون کے اس سارے ظلم کے باوجود مخلص مومن‘ موت سے ڈر کر کفر کی جانب پلٹنے کے بجاے موت قبول کرنے پر تیار ہوگئے اور اللہ نے ان کو ایسی ثابت قدمی بخشی جو مثال بن گئی۔اس مثال کا اتباع اہل حق ہر دور میں کرتے رہے ہیں ۔یہاں تک کہ آج کا دورِ انحطاط بھی اس سے خالی نہیں ہے۔عالم اسلام میں غیر ملکی حملہ آوروں اور نام نہاد مسلمان آمروں کے مقابلے پر جگہ جگہ استقامت اور مضبوط کردار کی یہ شمعیں روشن ہیں۔اسی مصر میں قدیم فرعون نے اہلِ ایمان کو تختۂ دار پر لٹکایا تھا جہاں دور جدید کے فراعنہ کے ہاتھوں عبدالقادر عودہ شہید اور اُن کے رفقا سیدقطب شہید اور آج کئی دیگر اہل حق پھانسی گھاٹ کی یہ منزلیں جرأت واستقامت کے ساتھ سرکرتے چلے آرہے ہیں۔فلسطین کی مقدس سرزمین‘انبیا وآئمہ اور صحابہ کا مسکن عراق‘ اہلِ عزیمت کا وطن افغانستان‘ جنت نظیر وادیٔ کشمیراور کوہ قاف کے بلند ہمت شیشانیوں کا مولد چیچنیا اسی تابناک تاریخ کا تسلسل بن کر ظلم اور ظالم کی ہزیمت کا اعلان کررہے ہیں۔اس موقع پر وادیٔ نیل کے پرعزم اسلامی راہ نما جناب سید عمر تلمسانی ؒ کا یہ فقرہ شدت سے یاد آرہا ہے کہ ’’ظالم کے سامنے مظلوم کا جھکنے سے انکار کردینا دراصل ظالم کی شکست اور مظلوم کی فتح ہوتی ہے اگرچہ اس میں جان ہی کیوں نہ چلی جائے‘‘۔
فرعون نے حضرت موسٰی ؑ کو بھی کئی بار قتل کرنے کی دھمکیاں دیں اور اس کی وجہ یہ بیان کی کہ موسیٰ زمیں میں فساد پھیلانا چاہتا ہے قرآن کا تبصرہ ملاحظہ فرمائیں’’ایک روز فرعون نے اپنے درباریوں سے کہا: چھوڑو مجھے‘ میں اس موسیٰ کو قتل کیے دیتا ہوں اور پکار دیکھے یہ اپنے رب کو۔مجھے اندیشہ ہے کہ یہ تمھارا دین بدل ڈالے گا یا ملک میںفساد برپا کرے گا‘‘(المومن۴۰:۲۶)۔ اس کے جواب میں پیغمبرحق سیدنا موسٰی ؑ خوف زدہ ہونے کے بجاے ان الفاظ میں نعرۂ حق بلند فرماتے ہیں ’’موسٰی ؑ نے کہا میں نے تو ہر اس متکبر کے مقابلے میں‘جو یوم الحساب پر ایمان نہیں رکھتا‘اپنے رب اور تمھارے رب کی پناہ لے لی ہے‘‘۔ (المومن ۴۰: ۲۷)
فرعون اپنے سارے لائو لشکر اور قوت کے باوجود موسٰی ؑ کو دھمکیاں تو دیتا رہا مگر آپ پر ہاتھ اٹھانے کی اسے کبھی ہمت وجرأت نہ ہوئی۔فرعون نے دنیا کے دیگر قدیم وجدید رعونت پسند حکمرانوں کی طرح موسٰی ؑکو حقیر اور بے وقعت ثابت کرنے کی بھی کوشش کی‘ اپنی دولت وحشمت پر فخروغرور اور موسٰی ؑکی غربت کا مذاق اس کے نزدیک اس دعوت اور داعی کو ہلکا کرنے کا ذریعہ تھا مگر حقیقت میں یہ اس کی اپنی ہی کم ظرفی تھی کیونکہ اس طرح حق کا استخفاف کسی دور میں ممکن نہیں ہوا۔ قرآن اس سارے واقعہ کو یوں بیان کرتا ہے۔’’ایک روز فرعون نے اپنی قوم کے درمیان پکار کر کہا ’’لوگو! کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے‘اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہ رہی ہیں؟کیا تم لوگوں کو نظر نہیں آتا؟میں بہتر ہوں یا یہ شخص جو ذلیل وحقیر ہے اور اپنی بات کھول کر بیان نہیں کرسکتا؟کیوں نہ اس پر سونے کے کنگن اتارے گئے؟یا فرشتوں کا ایک دستہ اس کی اردلی میں نہ آیا؟‘‘اُس (فرعون) نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں (قومِ فرعون) نے اس کی اطاعت کی‘درحقیقت وہ تھے ہی فاسق لوگ۔آخر کار جب انھوں نے ہمیں غضب ناک کردیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان کو اکٹھا غرق کردیا‘‘۔(الزخرف ۴۳:۵۱ -۵۵)
حضور اکرمؐ کو بھی آپؐ کے دور کے منکرین حق نے ہرطرح ہراساں کرنا چاہا۔ڈرایا دھمکایا‘ قتل کی سازشیں تیار کیں‘قید اور جلا وطنی کی دھمکیاں دیں‘مگر آنحضوؐر اپنی بات پر ڈٹے رہے۔اس صورت حال کا نقشہ قرآن کی سورۂ الانفال میں یوں کھینچا گیا ہے۔’’وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جب منکرین حق آپ کے خلاف تدبیریں سوچ رہے تھے کہ تجھے قید کردیں یا قتل کرڈالیںیا جلاوطن کردیں۔وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اللہ اپنی چال چل رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے ‘‘۔(آیت ۳۰)
آج عالمی نقشے پر ایک نگاہ ڈالیں تو ساری تاریخ خود کو دہراتی نظر آتی ہے۔قتل عام‘ جلانا‘ پھانسی چڑھانا ‘بچوں کا قتل‘معاشی قتل‘استہزا‘جھوٹا پروپیگنڈہ اورکردار کشی‘جلا وطنی اور وسائل پر قبضہ سارے مناظر موجود ہیں۔اس کائنات کا مالک کتنا حلیم اور واسع ہے۔انسان کو کتنی ڈھیل دیے چلا جاتا ہے۔ وہ جب رسی کھنچنے پر آئے تو ذرا دیر نہیں لگتی اس کا ارشاد ہے’’قومِ عاد کا حال یہ تھا کہ وہ زمین میں کسی حق کے بغیر بڑے بن بیٹھے اور کہنے لگے’’کون ہے ہم سے زیادہ زورآور؟‘‘ان کو یہ نہ سوجھا کہ جس خدا نے ان کو پیدا کیا ہے‘وہ ان سے زیادہ زورآور ہے۔وہ ہماری آیات کا انکار ہی کرتے رہے‘‘۔(حم السجدہ ۴۱:۱۵)
آج کے دور میں ہیروشیما‘ناگاساکی اوراس کے بعد مظالم کی ایک طویل داستان ‘گیس میمرز‘نیپام بم‘ڈیزی کٹرز‘کیمیکل اور بائیو ہتھیار جس بے دردی اورظلم کے ساتھ استعمال ہورہے ہیں‘وہ دورِجدید کے بظاہر اور بزعمِ خویش مہذب انسان کی خونخواری‘درندگی اور خدا سے بغاوت کا نمایاں نمونہ ہیں۔آبادیوں کی آبادیاں جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دینا‘انسانوں کو بلکہ ان کی آنے والی نسلوں تک کو معذور‘اپاہج اور ناکارہ کردینے کے لیے نت نئے ہتھیاروں کی ایجاد ایک دیوانگی کا روپ دھار چکی ہے۔ اس حوالے سے بھی قرآن مجید قدیم قوموں کا حوالہ دیتا ہے کہ وہ آگ کی خندقیں تیار کرکے اہل ایمان کو ان میں بھون ڈالتے تھے۔سورۂ البروج کا یہ مضمون دل دہلا دینے والا ہے۔ ارشاد ربانی ہے: ’’قسم ہے مضبوط قلعوں والے آسمان کی ‘اور اُس دن کی جس دن کا وعدہ کیاگیا ہے‘اور دیکھنے والے کی اور دیکھی جانے والی چیز کی کہ مارے گئے گڑھے والے‘(اُس گڑھے والے) جس میں خوب بھڑکتے ہوئے ایندھن کی آگ تھی‘ جب کہ وہ اُس گڑھے کے کنارے پر بیٹھے ہوئے تھے اور جو کچھ وہ ایمان لانے والوں کے ساتھ کر رہے تھے اُسے دیکھ رہے تھے‘اور اُن اہل ایمان سے اُن کی دشمنی اس کے سوا کسی وجہ سے نہیں تھی کہ وہ اُس خدا پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے‘جو آسمانوں اور زمین کی سلطنت کا مالک ہے‘اور وہ خدا سب کچھ دیکھ رہا ہے۔جن لوگوں نے مومن مردوں اور عورتوں پر ستم توڑا اور پھر اس سے تائب نہ ہوئے‘ یقینا اُن کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور اُن کے لیے جلائے جانے کی سزا ہے‘‘۔ (البروج ۸۵:۱-۱۰)
ان آیات کی تفسیر میں علامہ ابن کثیرؒ اور دیگر متقدمین آئمہ تفسیر نے کافی تفصیلات لکھی ہیں۔دور جدید کے عظیم مفسر قرآن سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ نے بھی شرح وبسط کے ساتھ ان آیات کے تفسیری حاشیے لکھے ہیں۔ وہ ان آیات کی تفسیر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’گڑھے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے بڑے بڑے گڑھوں میں آگ بھڑکا کرایمان لانے والے لوگوں کو اُس میں پھینکا اور اپنی آنکھوں سے اُن کے جلنے کا تماشا دیکھا تھا۔مارے گئے کا مطلب یہ ہے کہ اُن پر خدا کی لعنت پڑی اور وہ عذاب الٰہی کے مستحق ہوگئے‘ اور اس بات پر تین چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے۔ایک‘ برجوں والے آسمان کی۔ دوسرے‘روز قیامت کے ہولناک مناظر کی اور اُس ساری مخلوق کی جو اُن مناظر کو دیکھے گی۔ پہلی چیز اس بات پر شہادت دے رہی ہے کہ جو قادر مطلق ہستی کائنات کے عظیم الشان ستاروں اور سیاروں پر حکمرانی کر رہی ہے اس کی گرفت سے یہ حقیر وذلیل انسان کہاں بچ سکتے ہیں۔دوسری چیز کی قسم اس بنا پر کھائی گئی ہے کہ دنیا نے اُن لوگوں پر جو ظلم کرنا چاہا کرلیا‘مگر وہ دن بہر حال آنے والا ہے جس سے انسانوں کو خبردار کیا جا چکا ہے کہ اُس میں ہر مظلوم کی داد رسی اور ہر ظالم کی پکڑ ہوگی۔تیسری چیز کی قسم اس لیے کھائی گئی ہے کہ جس طرح اِن ظالموں نے اُن بے بس اہل ایمان کے جلنے کا تماشا دیکھا اُسی طرح قیامت کے روز ساری خلق دیکھے گی کہ اِن کی خبر کس طرح لی جاتی ہے۔
گڑھوں میں آگ جلا کر ایمان والوں کو ان میں پھینکنے کے متعدد واقعات روایات میں بیان ہوئے ہیں۔جن سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں کئی مرتبہ اس طرح کے مظالم کیے گئے ہیں۔
ان میں سے ایک واقعہ حضرت صہیب رومیؓ نے رسول ؐاللہ سے روایت کیا ہے کہ ایک بادشاہ کے پاس ایک ساحر تھا۔اُس نے اپنے بڑھاپے میں بادشاہ سے کہا کہ کوئی لڑکا ایسا مامور کردے جو مجھ سے یہ سحر سیکھ لے۔بادشاہ نے ایک لڑکے کو مقرر کردیا۔مگر وہ لڑکا ساحر کے پاس آتے جاتے ایک راہب سے بھی(جو غالباً پیروانِ مسیحؑ میں سے تھا) ملنے لگا‘اور اس کی باتوں سے متاثر ہوکر ایمان لے آیا حتیٰ کہ اس کی تربیت سے صاحبِ کرامت ہوگیا اور اندھوں کو بینا اور کوڑھیوں کو تندرست کرنے لگا۔بادشاہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ لڑکا توحید پر ایمان لے آیا ہے تو اس نے پہلے تو راہب کو قتل کیا ‘پھر اس لڑکے کو قتل کرنا چاہا‘مگر کوئی ہتھیار اور کوئی حربہ اُس پر کارگر نہ ہوا۔آخرکار لڑکے نے کہا کہ اگر تو مجھے قتل کرنا ہی چاہتا ہے تو مجمعِ عام میں بِاسْمِ رَبِّ الْغُلَامِ (اس لڑکے کے رب کے نام پر) کہہ کر مجھے تیر مار‘ میںمر جائوں گا۔چنانچہ بادشاہ نے ایسا ہی کیا اور لڑکا مرگیا۔اس پر لوگ پکار اٹھے کہ ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لے آئے۔ بادشاہ کے مصاحبوں نے اُس سے کہا کہ یہ تو وہی کچھ ہوگیا جس سے آپ بچنا چاہتے تھے۔ لوگ آپ کے دین کو چھوڑ کر اس لڑکے کے دین کو مان گئے۔بادشاہ یہ حالت دیکھ کر غصے میں بھر گیا۔اس نے سڑکوں کے کنارے گڑھے کھدوائے ‘ان میں آگ بھروائی اور جس جس نے ایمان سے پھرنا قبول نہ کیااس کو آگ میں پھکوا دیا۔ (احمد‘مسلم‘ترمذی‘ابن جریر‘عبدالرزاق‘ابن ابی شیبہ‘طبرانی‘عبد بن حُمَید)
دوسرا واقعہ حضرت علیؓ سے مروی ہے۔وہ فرماتے ہیں کہ ایران کے ایک بادشاہ نے شراب پی کر اپنی بہن سے زنا کا ارتکاب کیا اور دونوں کے درمیان ناجائز تعلقات استوار ہوگئے۔بات کھلی تو بادشاہ نے لوگوں میں اعلان کردیا کہ خدا نے بہن سے نکاح حلال کردیا ہے۔لوگوں نے اسے قبول نہ کیا تو اس نے طرح طرح کے عذاب دے کر عوام کو یہ بات ماننے پر مجبور کیا‘یہاں تک کہ آگ سے بھرے ہوئے گڑھوں میں ہر اس شخص کو پِھکواتا چلا گیا جس نے اِسے ماننے سے انکار کیا۔حضرت علیؓ کا بیان ہے کہ اُسی وقت سے مجوسیوں میں محرمات سے نکاح کا طریقہ رائج ہوا ہے۔(ابن جریر)
تیسرا واقعہ ابن عباسؓ نے غالباً اسرائیلی روایات سے نقل کیا ہے کہ بابل والوں نے بنی اسرائیل کو دین ِموسٰی ؑ سے پھر جانے پر مجبور کیا یہاں تک کہ انھوں نے آگ سے بھرے ہوئے گڑھوں میں اُن لوگوں کو پھینک دیا جو اس سے انکار کرتے تھے۔(ابن جریر‘عبد بن حُمَید)
سب سے مشہور واقعہ نجران کاہے جسے ابن ہشام‘طبری‘ابن خلدون اور صاحب معجم البلدان وغیرہ اسلامی مؤرخین نے بیان کیا ہے۔اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حمیر(یمن)کا بادشاہ تبان اسعد ابوکرب ایک مرتبہ یثرب گیا جہاں یہودیوں سے متاثر ہوکر اس نے دین ِیہود قبول کرلیا اور بنی قریظہ کے دو یہودی عالموں کو اپنے ساتھ یمن لے گیا۔وہاں اس نے بڑے پیمانے پر یہودیت کی اشاعت کی۔اس کا بیٹا ذونواس‘ اس کا جانشین ہوا اور اُس نے نجران پر جو جنوبی عرب میں عیسائیوں کا گڑھ تھا‘حملہ کیا تاکہ وہاں سے عیسائیت کا خاتمہ کردے اور اس کے باشندوں کو یہودیت اختیار کرنے پر مجبور کرے۔ (ابن ہشام کہتا ہے کہ یہ لوگ حضرت عیسٰی ؑ کے اصل دین پر قائم تھے)۔ نجران پہنچ کر اس نے لوگوں کو دین ِیہود قبول کرنے کی دعوت دی مگر انھوں نے انکار کیا۔اس پر اس نے بکثرت لوگوں کو آگ سے بھرے ہوئے گڑھوں میں پھینک کر جلوا دیا اور بہت سوں کو قتل کردیا‘یہاں تک کہ مجموعی طور پر ۲۰ ہزار آدمی مارے گئے۔اہل نجران میں سے ایک شخص دَوس بن ذُوثعلبان بھاگ نکلا اور ایک روایت کی رو سے اُس نے قیصر روم کے پاس جاکر‘اور دوسری روایت کی رو سے حبش کے بادشاہ نجاشی کے پاس جاکر اس ظلم کی شکایت کی۔پہلی روایت کی رو سے قیصر نے حبش کے بادشاہ کو لکھا ‘اور دوسری روایت کی رو سے نجاشی نے قیصر سے بحری بیڑہ فراہم کرنے کی درخواست کی۔ آخرکار حبش کی ۷۰ ہزار فوج اریاط نامی ایک جنرل کی قیادت میں یمن پر حملہ آور ہوئی‘ ذونواس مارا گیا‘یہودی حکومت کا خاتمہ ہوگیا ‘اور یمن حبش کی عیسائی سلطنت کا ایک حصہ بن گیا‘‘۔ (تفہیم القرآن‘ ج ۶‘ ص ۲۹۵-۲۹۷)
دنیا میں ہمیشہ غلط کار لوگوں کا یہ خاصّہ رہا ہے کہ غلط کاروں کے انجام کی پوری تاریخ ان کے سامنے ہوتی ہے مگر وہ اس سے سبق نہیں لیتے۔ حتیٰ کہ اپنے پیش رَو غلط کاروں کا جو انجام خود ان کے اپنے ہاتھوں ہوچکا ہوتا ہے اس سے بھی انھیں عبرت حاصل نہیں ہوتی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ خدا کا قانونِ مکافات صرف دوسروں ہی کے لیے تھا‘ اُن کے لیے اس قانون میں ترمیم کر دی گئی ہے۔ پھر اپنی کامیابیوں کے نشے میں وہ یہ بھی فرض کر لیتے ہیں کہ دنیا میں سب احمق بستے ہیں۔ کوئی نہ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے‘ نہ اپنے کانوں سے سُن سکتا ہے اور نہ اپنے دماغ سے واقعات کو سمجھ سکتا ہے۔ بس جو کچھ وہ دکھائیں گے اسی کو دنیا دیکھے گی‘ جو کچھ وہ سنائیں گے اسی کو دنیا سنے گی‘ اور جو کچھ وہ سمجھائیں گے دنیا بُزِاخفش [سر ہلاتی بکری] کی طرح اس پر سر ہلاتی رہے گی۔ یہی برخود غلطی پہلے بھی بہت سے بزعمِ خویش عاقل اورفی الحقیقت غافل لوگوں کو لے بیٹھی ہے‘ اور اسی کے بُرے نتائج دیکھنے کے لیے اب بھی کچھ برخود غلط حضرات لپکے چلے جارہے ہیں۔ (رُوداد کل پاکستان اجتماع جماعت اسلامی پاکستان‘ لاہور‘ اختتامی خطاب‘ ۱۹۶۳ئ‘ ص ۷۷-۷۸)
سورت (انڈیا) کے ایک گائوں میں یکم جولائی ۱۹۱۸ء کو ایک بچہ نے آنکھ کھولی جس کا نام والدین نے احمد رکھا۔ خاندانی نام احمد حسین دیدات تھا۔ خاندان کاروباری پس منظر رکھتا تھا مگر جنگِ عظیم نے اکثر کاروبار ٹھپ کر دیے تھے۔ میمن برادری اور سورتی آبادی کا ایک حصہ جنوبی افریقہ میں مقیم تھا اور وہاں روزگار کے بہتر مواقع موجود تھے۔ اس خاندان کے سربراہ حسین دیدات اپنے بیٹے احمد کی پیدایش کے چند ماہ بعد جنوبی افریقہ چلے گئے تھے۔ وہ پیشے کے لحاظ سے درزی تھے۔ احمد دیدات بھی ۹ سال کی عمر میں اپنے باپ کے پاس نیٹال (جنوبی افریقہ) پہنچ گئے۔ ان کی والدہ اور باقی افراد خانہ سورت ہی میں مقیم تھے۔ والدہ اپنے بیٹے کی روانگی کے چند ہی ماہ بعد فوت ہوگئیں۔ شیخ دیدات اپنی والدہ کا تذکرہ جب بھی کرتے آبدیدہ ہوجایا کرتے تھے۔
احمد دیدات کی تعلیم کچھ بھی نہ تھی مگر وہ بلا کے ذہین تھے۔ انھوں نے سٹینڈرڈ سکس (چھٹی کلاس) تک پڑھا مگر اپنے طور پر انگریزی زبان میں مہارت حاصل کرنے اور لکھنے‘ پڑھنے کا عمل جاری رکھا۔ چھوٹی عمر ہی سے ایک سٹور میں ملازمت کرلی۔ اس علاقے میں بہت سے عیسائی مشن اور گرجاگھر سرگرمِ عمل تھے۔ پادری اور راہبہ خواتین اسٹور پر خریداری کے لیے آتے تو ساتھ تبلیغ بھی کرتے۔ کم سن احمد دیدات بڑا پکا مسلمان تھا۔ وہ اُن مبلغین سے سوال کرتا مگر اسے کوئی اطمینان بخش جواب نہ ملتا۔ اس نے اسلام کا مطالعہ کیا مگر اس سے زیادہ عیسائیت پر تحقیق شروع کر دی۔ بائیبل کو لفظ بہ لفظ حفظ کرنا کسی عیسائی بشپ کے بھی بس میں نہیں مگر احمد دیدات نے یہ کارنامہ کردکھایا۔ مولانا رحمت اللہ کی کتاب اظہار الحق نے احمد دیدات کی بڑی رہنمائی کی۔
ملازمت اور کاروبار کے بجاے قدرت نے اس ذہین مسلمان نوجوان کو اسلام کا مبلغ بنانے کا فیصلہ کرلیا۔ وہ اپنے طور پر تحقیق کرتا رہا اور سفیدفام اقلیت کے نظامِ جبر اور نسلی امتیاز کی ظالمانہ پالیسیوں کے باوجود نہایت جرأت اور دھڑلے سے بڑے بڑے پادریوں کو چیلنج کرنے لگا۔ پادریوں کو اپنی قادر الکلامی کا بڑا پندار تھا۔ وہ اس ’’انڈین بوائے‘‘ کے مقابلے پر مناظرے کے میدان میں اترے تو دنیا حیران رہ گئی کہ بڑے بڑے بت یوں بے بس ہو کر دھڑام سے زمین بوس ہونے لگے کہ حضرت ابراہیم ؑکی تاریخ آنکھوں کے سامنے گھوم گئی۔ شیخ دیدات نے انگریزی زبان میںکمال حاصل کیا اور پیدایشی طور پر وہ تھے بھی شعلہ نوا خطیب۔ ان کا خطاب سماں باندھ دیتا تھا اور ہمیشہ وہ مشاعرہ لوٹ لیا کرتے تھے۔ ساتھ ہی ساتھ انھوں نے مناظروں کی روداد بھی لکھنا شروع کر دی۔ اسلام پر عیسائی مشنریوں کے اعتراضات کا جواب دینے کے علاوہ خود جارحانہ انداز اپناکر عیسائی مشنریوں پر بائیبل ہی کے حوالوں سے ایسے اعتراضات کیے کہ ان کے پاس کوئی جواب تھا‘ نہ اب تک ہے۔ یہ بات اپنی جگہ بحث طلب ہے کہ یہ انداز دعوت کے لیے کتنا مفید ہے‘ مگر ایک مرتبہ شیخ احمد دیدات نے خود اس کے جواب میں کہا کہ جنوبی افریقہ کے جس استحصالی اور نہایت جبرورعونت کے نظام میں انھوں نے اسلام کا دفاع شروع کیا تھا اس کے معروضی حالات ایسے تھے کہ کوئی اور چارئہ کار نہ تھا۔
۱۹۴۰ء تک احمد دیدات جنوب افریقی ممالک میں معروف مبلغ کے طور پر مشہور ہوگئے تھے۔ جنوبی افریقہ میں ہندو اثرات بھی خاصے تھے اور مسٹرگاندھی نے تو اپنی سیاسی سوچ اور جدوجہد آزادی کا سارا منصوبہ بھی وہیں سے شروع کیا تھا۔ احمد دیدات جس طرح اسلام اور عیسائیت کا موازنہ کرنے میں محنت کررہے تھے اسی طرح تحریکِ پاکستان کی بھی اکھنڈ بھارت کے مقابلے میں کھل کر حمایت کرتے تھے۔ پاکستان بنا تو احمد دیدات پاکستان آگئے۔ تین سال یہاں مقیم رہے مگر محسوس کیا کہ ان کے لیے مفید کردارادا کرنے کے لیے جنوبی افریقہ ہی بہترین سرزمین ہے۔ چنانچہ وہ واپس چلے گئے۔
شیخ احمد دیدات نے ایک تحقیقی و تعلیمی ادارہ السلام انسٹی ٹیوٹ کے نام سے برائمار (جنوبی افریقہ) میں قائم کیا جہاں سے ہزاروں نوجوانوں نے اسلام اور عیسائیت کے موازنے اور عیسائی مشنریوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مؤثر تعلیم حاصل کی۔ بلاشبہہ اس ادارے کی بڑی خدمات ہیں۔ ڈربن میں ایک جامع مسجد اور اسلامک پروپیگشن سنٹر کا قیام بھی مرحوم کا بڑا کارنامہ ہے۔ ان کی ہزاروں تقاریر کی وڈیو اور آڈیو کیسٹس دنیا بھر میں مقبول ہیں۔ دو درجن کے قریب ان کی کتب کئی زبانوں میں منتقل ہوچکی ہیں۔ انھوں نے دنیا بھر میں سفر کیا۔ کئی ممالک نے ان کو ویزا دینے سے بھی انکار کیا۔ انھوں نے ویٹی کن میں پوپ جان پال سے ملاقات کی اور امریکا میں کئی عیسائی مناظرین سے مباحثے کیے۔ امریکا میں جمی سواگرٹ کے ساتھ ان کا مناظرہ پوری دنیا میں مشہور ہوا۔
خدمت و تبلیغ اسلام کے اعتراف کے طور پر مرحوم کو ۱۹۸۶ء میں کنگ فیصل عالمی انعام ملا۔ انھوں نے اسلامی ممالک میں جاکر جو لیکچر دیے ان کو بے پناہ پذیرائی ملی۔ جنوبی افریقہ کی تحریک آزادی کا ہیرو اور باباے قوم نیلسن منڈیلا ان کا بڑا مداح تھا۔ اس کے الفاظ میں سفیدفام سر پر غرور جنگِ آزادی کے نتیجے ہی میں سرنگوں ہوا مگر اس پر اوّلین چرکے احمد دیدات ہی نے لگائے تھے۔ منڈیلااپنے دورِ صدارت میں شیخ دیدات سے قریبی رابطہ رکھتا تھا۔
شیخ دیدات پر ۱۹۹۶ء میں فالج کا شدید حملہ ہوا۔ ان کا نچلا دھڑ تقریباً مکمل طور پر جامد ہوگیا تھا‘ زبان بھی بند ہوگئی مگر وہ ایک خاص مشین کے ذریعے اشاروں سے بات چیت کرتے تھے۔ مئی ۱۹۹۷ء میں جب میں جنوبی افریقہ گیا تو ملاقات کے لیے حاضر ہوا۔ ان کے بیٹے یوسف دیدات سے بھی پہلے سے تعارف تھا۔ انھوںنے استقبال کیا اور فوراً شیخ کے کمرے میں لے گئے۔ انھوں نے پہچان لیا۔ آنکھوں میں آنسو آگئے اور مجھ سے کئی سوالات کیے۔ ان کے ہاں عیادت کے لیے بہت سے لوگ آئے تھے۔ میں نے شیخ دیدات کے ساتھ کینیا‘ تنزانیہ ‘ پاکستان اور خلیجی ریاستوں اور پاکستان میں کچھ وقت گزارا تھا۔ وہ سارے واقعات انھیں یاد تھے۔ ۹سال تک اس تکلیف دہ مرض کے ساتھ وہ زندہ رہے اور ۸۷ سال کی عمر میں ۸ اگست ۲۰۰۵ء کو خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ اللہ تعالیٰ ان کی حسنات کو قبول فرمائے اور جنت الفردوس میں داخل کرے۔
عالمِ اسلام کی معروف عالمہ‘ مبلغہ اور دعوتِ اسلامی کی مجسم تصویر سیدہ زینب الغزالی (۱۹۱۷ئ-۲۰۰۵ئ) ۸۸سال کی عمر میں ایک پُرآشوب‘ ابتلا و آزمایش سے بھرپور‘ عزیمت و عظمت سے مالا مال اور ہر لحاظ سے سعید و کامیاب زندگی گزار کر ۸ اگست ۲۰۰۵ء کو خالقِ حقیقی سے جاملیں ___ اناللّٰہ وانا الیہ راجعون۔
زینب الغزالی مصر کے ایک گائوں میتِ عمر میں ایک کاشتکار گھرانے میں پیداہوئیں۔ ان کے والد بہت نیک نہاد مسلمان اور تاریخِ اسلام سے گہراشغف رکھتے تھے۔ بچپن ہی سے زینب کے سامنے تاریخِ اسلام اور سیرتِ صحابیاتؓ کے زریں واقعات کا تذکرہ ہوتا رہتا تھا۔ انھوں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجاہد صفت صحابیہ نُسیبہ بنتِ کعبؓ کو ان کے جہادی کارناموں کی وجہ سے اپنا آئیڈیل بنا لیا تھا۔ زینب الغزالیؒ کے عنفوانِ شباب میں مصر میں اخوان المسلمون کی تحریک زور پکڑ رہی تھی۔ نوجوان زینب نے امام حسن البنّا کی دعوت کو اپنے دل کی آواز جانا اور اس دعوت کا حصہ بن گئیں۔ امام حسن البنّا سے اپنے بھائی کی معیت میں ملاقات کی اور انھی کی ہدایت پر ۱۹۴۸ء میں خواتین کو منظم کرنے کا کام جاری رکھا جو امام البنّا سے ملاقات سے قبل بھی وہ کر رہی تھیں۔ مردوں میں امام البنّا نے تحریک کی بنیاد رکھی تو خواتین میں یہ کارنامہ زینب الغزالی کے حصے میں آیا۔
زینب الغزالی نے خود ایک تنظیم قائم کی تھی جس کا نام سیدات مسلمات تھا‘ جب کہ اخوان کا حلقہ خواتین اخوات مسلمات کے نام سے کام کر رہا تھا۔ کچھ حکمتوں اور مصالح کی وجہ سے انھوں نے اپنی تنظیم کو ختم کرنے یا اخوات میں ضم کرنے کے بجاے اسی نام سے کام جاری رکھا مگر اخوان سے بھرپور تعاون بھی کرتی رہیں۔ وہ بہت اچھی منتظم اور امام حسن البنّا ہی کی طرح نہایت مؤثر خطیبہ تھیں جو خواتین میں بے پناہ مقبولیت حاصل کرنے میںکامیاب ہوئیں۔ یہ اخوان کی تحریک کا دل چسپ تاریخی واقعہ ہے کہ جب امام حسن البنّا نے سیدہ زینب کو اخوات میں شامل ہونے کی دعوت دی تو انھوں نے دلائل کے ساتھ انھیں قائل کیا کہ الگ تنظیم کے بھی کچھ فوائد ہیں۔ جب ۱۹۴۸ء میں سیدہ زینب نے اخوان پر ابتلا کو دیکھا تو امام البنّا کو پیش کش کی کہ وہ اخوات میں شامل ہونے پر آمادہ ہیں۔ اس موقع پر امام نے ان کو ہدایت دی اور قائل کیا کہ وہ اس تنظیم کو قائم رکھیں۔ یہ دونوں فیصلے اپنے اپنے وقت پر حالات کے تقاضوں کے عین مطابق تھے۔سیدات مسلمات تحریکی سوچ اور مکمل یک سوئی کے ساتھ مظلوموں کی امداد اور حاجت مندوں کو بنیادی ضروریات فراہم کرنے کا اہم کام کرتی تھیں۔ دورِ ابتلا میں نہایت حکمت اور خاموشی کے ساتھ ان عظیم خواتین نے اخوانی گھرانوں کو بڑا سہارا دیے رکھا۔
زینب الغزالی نے اپنی رودادِ ابتلا میں ایسے ایسے واقعات بیان کیے ہیں کہ رونگٹے کھڑے اور آنکھیں اشک بار ہوجاتی ہیں۔ امام حسن البنّا کی شہادت سے قبل ان کو کسی نے بتا دیا تھا کہ حکومت کے کیا عزائم ہیں۔ شاہ فاروق کے عہد میں امام کی شہادت اور بعد میں فوجی انقلاب کے ذریعے برسرِ اقتدار آنے والے طالع آزما کرنل جمال عبدالناصر کے اخوان کو بیخ و بُن سے اکھاڑ دینے کے حالات و واقعات انسانی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہیں۔ اس دورِ ابتلا میں سیدہ زینب نے اخوان کے گھرانوں کی امداد اور دعوت کے میدان میں پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے کی داعیانہ ذمہ داریوں کو بطریق احسن ادا کیا۔ وہ عورت تھیں مگر اللہ نے ان کو بے پناہ قوتِ ارادی اور عزمِ صمیم سے مالا مال کررکھا تھا۔ اخوان کے چھے قائدین ۱۹۵۴ء میں تختہ دار پر شہید کر دیے گئے۔ باقی ماندہ لوگ مرشدِعام دوم حسن الہضیبی کے ساتھ بدترین زنداں خانوں میں اذیت و کرب کی زندگی گزار رہے تھے۔ جیل سے باہر مردوں کے محاذ پر سید قطب اور خواتین کے حلقوں میں سیدہ زینب نے بے پناہ خدمات سرانجام دیں۔ سید قطب کو بھی ۱۹۵۶ء میں بغاوت کے مقدمے میں گرفتار کرلیا گیا۔ وہ ۲۹ اگست ۱۹۶۶ء کو تختۂ دار پہ لٹکائے گئے۔
زینب الغزالی کی بھی نگرانی کی جاتی رہی تھی۔ ان کی گرفتاری ۲۰ اگست ۱۹۶۵ء کو بغاوت ہی کی فردِ جرم کے تحت عمل میں آئی۔ ایام حُیاتی (اُردو ترجمہ رودادِ قفس از مولانا خلیل احمد حامدیؒ) میں مرحومہ نے اپنے اُوپر ڈھائے جانے والے مظالم بیان کیے ہیں۔ ان پر کتے چھوڑے گئے جو ان کو بھنبھوڑتے رہے‘ ان کو تازیانے مار مار کر لہولہان کر دیا گیا۔ ان کی ٹانگ توڑ دی گئی‘ ان کو بھوکا پیاسا رکھا گیا۔ وضو اور پینے کے لیے پانی تک نہ دیا گیا۔ رفعِ حاجت کے لیے بیت الخلا جانا بھی ممنوع تھا اور یہ کیفیت کئی روز تک رہی۔ آفرین ہے اس خاتون کی ہمت و عزیمت پر کہ ظالم ظلم توڑتے توڑتے تھک گئے مگراس نے باطل کے سامنے سر جھکانے سے انکار کردیا۔ ترغیب کا ہرجال بھی پھیلایا گیا اور ترہیب کا آخری حربہ تک بھی استعمال میں لایا گیا۔ ان کے فالج زدہ خاوند محمدسالم کی کنپٹی پہ پستول رکھ کر محبوس و مظلوم زینب کے طلاق نامے پر دستخط کرنے پر مجبورکیا گیا۔ ان سے زبردستی دستخط کرائے جا رہے تھے توان کی زبان پر یہ الفاظ تھے: ’’اے اللہ تو گواہ رہ‘ میں نے اپنی بیوی زینب الغزالی الجبیلی کو طلاق نہیں دی‘‘۔ (رودادِ قفس‘ ص ۲۷۵)
انھیں عمرقید کی سزا سنائی گئی مگر ناصر کی موت کے بعد سادات نے اخوانی زندانیوں کو رہا کرنا شروع کیا تو ۹ اگست ۱۹۷۱ء کو سیدہ زینب کی رہائی کا پروانہ جاری ہوگیا۔ اس وقت جیل میں ان کے ساتھ سید قطب کی عظیم بہن محترمہ حمیدہ قطب بھی مقید تھیں۔ زینب الغزالی نے حمیدہ قطب کو جیل میں چھوڑ کر رہا ہونے سے انکار کر دیا مگر کارندوں نے انھیں زبردستی جیل سے نکال باہر کیا اور عظیم سید قطب کی عظیم بہن نے بھی انھیں تسلی دی کہ وہ اطمینان سے جائیں‘ حمیدہ کے حوصلے اللہ کی توفیق سے پست نہ ہوں گے‘‘۔ (ایضاً‘ ص ۳۰۲-۳۰۳)
محترمہ زینب الغزالی کو چار مرتبہ خواب میں نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔ جیل میں آنحضوؐر نے ان کو ان کے پیدایشی نام سے تین مرتبہ پکارا۔ وہ کہتی ہیں کہ میرا نام زینب غزالی رکھا گیا تھا‘ الغزالی بعد میں معروف ہوگیا۔ آنحضوؐر نے زینب غزالی ہی کہہ کر پکارا اور تسلی دی کہ وہ آنحضوؐر کے نقشِ قدم پر چل رہی ہیں (ایضاً‘ ص ۷۸-۷۹)۔ یہ عظیم ترین اعزاز ہے۔
جیل سے رہائی کے بعد محترمہ زینب الغزالی اپنی وفات تک اخوان کی قیادت میں نمایاں شخصیت رہیں۔ امام حسن الہضیبیؒ‘ سید عمرتلمسانیؒ ،جناب محمد حامد ابوالنصرؒ، استاذ مصطفی مشہورؒ، جناب مامون الہضیبیؒ اور موجودہ مرشدعام الاخ محمد مہدی عاکف سبھی ان سے مشورے لیا کرتے تھے۔ وہ اخوان کی تحریک میں اس وقت مادرِ مشفق کا مقام رکھتی تھیں۔ ان کی زندگی قرونِ اولیٰ کی مسلمان خواتین کا نمونہ تھی۔ حق تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔