اس کائنات کے خالق نے انسان کو اپنا خلیفہ بنانے کا اعلان کیا تو ملائکہ نے عرض کیا: ’’اے اللہ کیا تو دنیا میں ایک ایسی مخلوق کو آباد کرنا اور اپنا خلیفہ بنانا چاہتا ہے جو وہاں فساد پھیلائے گا اور خون ریزی کرے گا‘‘۔ اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا: ’’میں وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے‘‘۔ اللہ نے انسان کو اس کرہ ارضی پر آباد کر دیا۔ اتفاق کی بات ہے کہ انسانوں کے درمیان پہلی موت قتل کے نتیجے میں واقع ہوئی۔ آدمؑ کے ایک بیٹے قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو ناحق قتل کردیا۔
’’اور ذرا انھیں آدمؑ کے دو بیٹوں کا قصہ بھی بے کم و کاست سنا دو۔ جب ان دونوں نے قربانی کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول کی گئی اور دوسرے کی نہ کی گئی۔ اس نے کہا ’’میں تجھے مار ڈالوں گا‘‘۔ اس نے جواب دیا ’’اللہ تو متقیوں ہی کی نذریں قبول کرتا ہے۔ اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ اٹھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ نہ اٹھائوں گا۔ میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ تو ہی سمیٹ لے اور دوزخی بن کر رہے۔ ظالموں کے ظلم کا یہی ٹھیک بدلہ ہے‘‘۔ آخر کار اس کے نفس نے اپنے بھائی کا قتل اس کے لیے آسان کر دیا اور وہ اسے مار کر ان لوگوں میں شامل ہوگیا جو نقصان اٹھانے والے ہیں‘‘۔ (المائدہ ۵: ۲۷ تا ۳۰)
اللہ نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی کسی ایک انسان کو ناحق قتل کرتا ہے تو گویا وہ پوری انسانیت کا قاتل ہوتا ہے اور جو ایک جان کو بچاتا ہے وہ پوری انسانیت کو بچانے کا انعام حاصل کر لیتا ہے۔ اس قانون کو انہی آیات کے بعد اللہ تعالیٰ نے انبیائے بنی اسرائیل کو دی گئی شریعت کے تناظر میں یوں بیان فرمایا: ’’تورات میں ہم نے یہودیوں پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت، اور تمام زخموں کے لیے برابر کا بدلہ۔ پھر جو قصاص کا صدقہ کر دے تو وہ اس کے لیے کفارہ ہے۔ اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی ظالم ہیں‘‘۔ (المائدہ ۵: ۴۵)
قرآن مجید میں قصاص کو انسانی زندگی کی حفاظت کا ضامن قرار دیا گیا ہے۔ ارشاد باری ہے: ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمھارے لیے قتل کے مقدموں میں قصاص کا حکم لکھ دیا گیا ہے۔ آزاد آدمی نے قتل کیا ہو تو اس آزاد ہی سے بدلہ لیا جائے، غلام قاتل ہو تو وہ غلام ہی قتل کیا جائے، اور عورت اس جرم کی مرتکب ہو تو اس عورت ہی سے قصاص لیا جائے۔ ہاں اگر کسی قاتل کے ساتھ اس کا بھائی کچھ نرمی کرنے کے لیے تیار ہو تو معروف طریقے کے مطابق خون بہا کا تصفیہ ہونا چاہیے اور قاتل کو لازم ہے کہ راستی کے ساتھ خوں بہا ادا کرے۔ یہ تمھارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے۔ اس پر بھی جو زیادتی کرے، اس کے لیے درد ناک سزا ہے‘‘۔ (البقرہ ۲: ۱۷۸ - ۱۷۹)
اب قاتل کے بارے میں حکم یہی ہے کہ مقتول کے ورثا اسے قصاص میں قتل کرانا چاہیں تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔ کوئی حکمران یا مجلس قانون ساز، اس بارے میں شریعت اسلامیہ کے فیصلے کو تبدیل کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ البتہ ورثا کا یہ حق ثابت ہے کہ وہ بغیر کسی خون بہا کے محض اللہ کی خاطر بھی معاف کرسکتے ہیں، یا خون بہا وصول کرکے جان بخشی کرسکتے ہیں اور اگر ان میں سے کوئی آپشن بھی وہ نہ اپنائیں تو قاتل کو مقتول کے بدلے میں قتل کر دیا جائے گا۔ بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس قانون میں خون بہانے کا راستہ کھلا رکھا گیا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس پر عمل درآمد کے نتیجے میں خون ریزی کا لامتناہی سلسلہ رک جاتا ہے۔ اگر قاتل ورثاے مقتول کی رضا کے بغیر قصاص سے بچ نکلے تو فطری طور پر متاثرہ فریق کے دل میں انتقام کا جذبہ پروان چڑھتا ہے اور پھر قتل مقاتلے کا غیرمطلوب اور تباہ کن دروازہ کھل جاتا ہے۔ جو خون ریزی ایک مجرم کو سزا دینے کی صورت میں رُک سکتی تھی وہ معاشرے میں قتل مقاتلے اور خون ریزی کا متعدی مرض یوں پھیلاتی ہے کہ بسا اوقات بیسیوں اور سیکڑوں قیمتی جانیں دونوں طرف سے اس کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اس کی مثالیں سیکڑوں نہیں ہزاروں میں موجود ہیں۔
اگر کسی معاشرے میں لاقانونیت اور بدامنی کا دور دورہ ہو اور پھر قانون قصاص بھی معطل یا منسوخ کر دیا جائے تو قاتل جری ہو جاتے ہیں اور معصوم شہری موت کا ترنوالہ بنتے چلے جاتے ہیں۔ آج یہی چیز ہم اپنے معاشرے میں دیکھ رہے ہیں۔ جن معاشروں میں قانون قصاص اپنی پوری روح کے ساتھ نافذ ہے وہاں اِکا دُکا خون ریزی تو ہوسکتی ہے مگر تھوک کے حساب سے قتل کی وارداتیں ہرگز پروان نہیں چڑھ سکتیں۔ دنیا کے تمام ممالک اور تمام اقوام کے درمیان یہ قانون موجود رہا ہے اور اس پر عمل صدیوں سے ہوتا چلا آیا ہے کیوں کہ آسمانی شرائع میں اس کے احکام کے علاوہ خود انسانی فطرت اس کا تقاضا کرتی ہے کہ یہی انصاف اور امن کا راستہ ہے۔
اب یہ الٹی گنگا پچھلی صدی سے مغرب کی بے خدا تہذیب میں چل نکلی کہ مظلوم سے ہمدردی کے بجاے ظالم سے ہمدردی کے جذبات انگیخت کیے جائیں۔ اس کے لیے مغرب کے دانش وروں سے بلکہ نظام ہاے حکومت اور این جی اوز سے لے کر سرکاری ادارے اور پوری ریاستی مشینری تک اس کام میں جُت گئی کہ اپنے اس نظریہ باطل کو حق ثابت کریں اور پوری دنیا کو باور کرائیں کہ قاتل کا خون مباح نہیں۔ پھر یہ بتایا جائے کہ آخر مقتول کا خون کیوں اور کس اصول و ضابطے کے تحت مباح قرار پا سکتا ہے؟ اس کا کوئی اخلاقی و انسانی اور عقلی و منطقی جواز آج تک ثابت نہیں کیا جا سکا۔ یہ عجیب تہذیب اور ناقابل فہم روشن خیالی ہے کہ مظلوم کے بجاے ظالم سے ہمدردی اور قاتل کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ یہ تہذیب نہیں بلکہ یہ تو وحشیانہ پن اور سنگ دلی کی بدترین مثال ہے۔ پھر یہی نہیں کہ ان ممالک نے اپنے ہاں یہ ظالمانہ روش رائج کر دی ہے بلکہ وہ پوری دنیا کو اس پر مجبور کر رہے ہیں کہ وہ بھی اسے اپنائیں۔ اگر نہ اپنائیں تو ان پر ہر طرح کا دبائو ڈالا جائے اور اس ظالمانہ قانون کو مسترد کرنے کی صورت میں اس پورے معاشرے کو نشانہ انتقام بنایا جائے۔
یورپین یونین کے ممالک مالی امداد کے لیے اب تیسری دنیا کے ممالک پر یہ شرط بھی عائد کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ملک سے قانونِ قصاص ختم کریں اور سزاے موت کو منسوخ کر دیں۔ تجارتی دبائو کے حربے بھی استعمال ہو رہے ہیں۔ دنیا کے بیش تر ممالک نے وقت کی اس رو اور پروپیگنڈے کے اس طوفان کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں اور وہاں سزاے موت منسوخ ہوچکی ہے۔ اس کے باوجود دنیا کے سب سے بڑی آبادی کے تمام مشرقی و مغربی ممالک میں اب تک سزاے موت کا قانون نافذ العمل ہے۔ ان ممالک میں چین، بھارت، امریکا، انڈونیشیا، اور جاپان شامل ہیں۔ دنیا کا اہم اور واحد ایٹمی مسلمان ملک پاکستان عجیب منافقت اور مخمصے کا شکار ہے۔ قانونِ قصاص ملک میں اب تک موجود ہے مگر اسے منسوخ کرنے کے عزائم سامنے آرہے ہیں۔ گذشتہ چھے سات سالوں سے یہ معطل ہے۔ یہ طرزِ عمل انصاف کے اصولوں کے بھی منافی ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ قرآن کے واضح حکم اور نص صریح کی بھی خلاف ورزی ہے جو اکبر الکبائر میں شمار ہوتا ہے۔ حضور نبی اکرمؐ نے فتح مکہ کے موقع پر جو اہم ہدایات ارشاد فرمائی تھیں ان میں ایک یہ حکم تھا کہ اگر کوئی شخص ناحق قتل کر دیا جائے تو مقتول کے ولی (ورثا) کو یہ حق ہے کہ وہ قاتل سے خون بہا وصول کرکے اسے معاف کر دیں یا اپنے مقتول کے بدلے میں اسے قتل کرنے کا مطالبہ کریں۔ (بحوالہ مسلم، حدیث نمبر ۲۴۹۳ روایت حضرت ابوہریرہؓ)۔ پاکستان کے حکمرانوں کو سوچنا چاہیے کہ اللہ اور اس کے رسول کے احکام سے سرتابی بلکہ بغاوت کرکے وہ کس انجام سے دوچار ہوں گے۔
اسلام کا ہر حکم پوری انسانیت کے لیے پیغام حیات ہے۔ اس میں عدل و انصاف بھی ہے اور مکمل مساوات انسانی اور غیر جانبداری کی بھی ضمانت دی گئی ہے۔ اس قانون کے ہوتے ہوئے کوئی کمزور محض اپنے وسائل کی کمی کی وجہ سے انصاف سے محروم نہیں کیا جا سکتا اور کوئی طاقت ور اپنے ذرائع و وسائل اور اثر و رسوخ کی بدولت انصاف کا گلا نہیں گھونٹ سکتا۔ اگر کسی بڑے نے جرم کیا ہے تو وہ اس کے بدلے میں ماخوذ ہوگا، چھوٹے نے کیا ہے تو وہی جوابدہ ہوگا۔ عورت اور مرد دونوں اس اصولِ انصاف کے سامنے یکساں مسئول ہیں۔ ارشاد باری پہلے گزر چکا ہے کہ: الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْثٰی بِالْأُنْثٰی۔
نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں بالکل واضح احکام دیے ہیں۔ اسلام میں کسی انسان کا خون خواہ وہ کافر ہو یا مسلم مباح نہیں جب تک کہ اس نے کوئی ایسا جرم نہ کیا ہو جس پر قرآن و حدیث میں سزاے موت کا حکم دیا گیا ہو۔ علماے حق نے اس موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ خون کے مباح ہونے کی اسلام میں پانچ شرائط یا پانچ جرائم ہیں، جن کا تذکرہ آگے آ رہا ہے۔ ان میں سے جس جرم کا بھی ارتکاب کیا گیا ہو، جرم ثابت ہونے پر اس کی سزا موت ہے۔ اللہ نے حکم دیا ہے کہ قتل کا ہرگز ارتکاب نہ کیا جائے سواے حق کے ساتھ۔
’’قتل نفس کا ارتکاب نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ۔ اور جو شخص مظلومانہ قتل کیا گیا ہو اس کے ولی کو ہم نے قصاص کے مطالبے کا حق عطا کیا ہے، پس چاہیے کہ وہ قتل میں حد سے نہ گزرے، اس کی مدد کی جائے گی‘‘۔ (بنی اسرائیل ۱۷: ۳۳)
مولانا مودودی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ’’(بعد میں) اسلامی قانون نے قتل بالحق کو صرف پانچ صورتوں میں محدود کر دیا: ایک قتل عمد کے مجرم سے قصاص، دوسرے دین حق کے راستے میں مزاحمت کرنے والوں سے جنگ۔ تیسرے اسلامی نظام حکومت کو الٹنے کی سعی کرنے والوں کو سزا۔ چوتھے شادی شدہ مرد یا عورت کو ارتکابِ زنا کی سزا۔ پانچویں ارتداد کی سزا۔ صرف یہی پانچ صورتیں ہیں جن میں انسانی جان کی حرمت مرتفع ہو جاتی ہے اور اسے قتل کرنا جائز ہو جاتا ہے‘‘۔ (تفہیم القرآن، ج۲، بنی اسرائیل حاشیہ ۳۴)
اسی طرح مقتول کے وارث یا ولی کو بھی حکم دیا گیا ہے کہ وہ حد سے تجاوز نہ کرے۔
’’اصل الفاظ ہیں ’’اس کے ولی کو ہم نے سلطان عطا کیا ہے‘‘۔ سلطان سے مراد یہاں ’’حجت‘‘ ہے جس کی بنا پر وہ قصاص کا مطالبہ کرسکتا ہے۔ اس سے اسلامی قانونی کا یہ اصول نکلتا ہے کہ قتل کے مقدمے میں اصل مدعی حکومت نہیں بلکہ اولیائے مقتول ہیں، اور وہ قاتل کو معاف کرنے اور قصاص کے بجاے خون بہا لینے پر راضی ہو سکتے ہیں‘‘۔ (تفہیم القرآن، ج۲، بنی اسرائیل حاشیہ ۳۵)
مقتول کا خاندان اور ورثا خود سے انتقام اور قصاص پر عمل نہیں کرسکتے۔ یہ ریاست اور اس کے نظام عدالت کی ذمہ داری ہے۔ مولانا مودودی تحریر فرماتے ہیں: ’’قتل میں حد سے گزرنے کی متعدد صورتیں ہوسکتی ہیں اور وہ سب ممنوع ہیں۔ مثلاً جوش انتقام میں مجرم کے علاوہ دوسروں کو قتل کرنا، یا مجرم کو عذاب دے دے کر مارنا، یا مار دینے کے بعد اس کی لاش پر غصہ نکالنا، یا خوں بہا لینے کے بعد پھر اسے قتل کرنا وغیرہ۔
چونکہ [ان آیات کے نزول] تک اسلامی حکومت قائم نہ ہوئی تھی اس لیے اس بات کو نہیں کھولا گیا کہ اس کی مدد کون کرے گا۔ بعد میں جب اسلامی حکومت قائم ہوگئی تو یہ طے کر دیا گیا کہ اس کی مدد کرنا اس کے قبیلے یا اس کے حلیفوں کا کام نہیں بلکہ اسلامی حکومت اور اس کے نظامِ عدالت کا کام ہے۔ کوئی شخص یا گروہ بطور خود قتل کا انتقام لینے کا مجاز نہیں ہے بلکہ یہ منصب اسلامی حکومت کا ہے کہ حصولِ انصاف کے لیے اس سے مدد مانگی جائے‘‘۔ (تفہیم القرآن، ج۲، بنی اسرائیل حاشیہ ۳۶-۳۷)
قانونِ قصاص کے خلاف جتنا بھی واویلا کیا جائے، یہ حقیقت ہے کہ ۵۸ ممالک میں آج بھی سزاے موت کا قانون موجود ہے۔ ۹۷ ممالک نے اسے قانوناً یا عملاً ختم کر دیا ہے۔ ۳۵ ممالک ایسے ہیں کہ وہاں سزاے موت کے خاتمے کا کوئی قانون منظور نہیں ہوا مگر سزاے موت پر عمل بھی دس بارہ سال سے کبھی نہیں ہوا۔ یوں عملاً یہ ان ممالک میں شمار ہوتے ہیں جہاں سزاے موت نہیں ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے اعداد و شمار کے مطابق ۱۴۰ ممالک میں سزاے موت کا عمل ختم ہوچکا ہے۔ ان میں یورپین یونین کے تمام ممالک جن کی تعداد ۴۷ ہے شامل ہیں۔ ترکی واحد مسلمان ملک ہے جو ان میں شامل ہے۔ دیگر تمام مسلم ممالک میں سزاے موت یا قصاص کا قانون موجود ہے، گو پاکستان میں بھی تقریباً چھے سال سے اس پر عمل درآمد رکا ہوا ہے۔
میاں نواز شریف صاحب نے اپنے پیش رو حکمرانوں کی طرح مغرب کی مرعوبیت سے خوف زدہ ہوکر اس قرآنی و نبوی قانون کو تعطل کا شکار بنا رکھا ہے۔ آبادی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو ۶۰ فی صد سے زائد عالمی آبادی کے خطوں میں یہ قانون اب تک لاگو ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل، یواین او اور دیگر این جی اوز جن کا ضمیر مغرب کی تہذیب سے اٹھا ہے۔ اس سزا کے خلاف اپنی مہم تیز سے تیز تر کرتے چلے جا رہے ہیں اور نہ ماننے والوں پر پابندیاں لگانے کی باتیں بھی ہو رہی ہیں مگر امریکا اور چین جیسے ویٹو پاور رکھنے والے ممالک اور آبادی و وسائل کے لحاظ سے انتہائی طاقت ور اقوام اس کے حق میں نہیں۔ اقوام متحدہ نے جنرل اسمبلی اور سیکورٹی کونسل میں ۲۰۰۷ء، ۲۰۰۸ء اور پھر ۲۰۱۰ء میں سزاے موت کے خاتمے کے لیے قرارداد منظور کیں مگر ان کو بڑی قوتوں نے ویٹو کردیا۔ یہ عجیب بات ہے کہ ایمنسٹی جو عدل و انصاف کی علَم بردار بنتی ہے، قاتل اور مجرم کی پشت پناہ بنی کھڑی ہے اور مظلوم کے زخموں پر نمک ہی نہیں مرچیں بھی چھڑک رہی ہے۔ آخر ان اداروں کی ایسے معاملات میں ان پالیسیوں کی موجودگی کیا اخلاقی حیثیت باقی رہ جاتی ہے۔
جہاں تک مسلمان ممالک اور بالخصوص اسلام کے نام پر وجود میں آنے والی ریاست پاکستان کا تعلق ہے تو حکمرانوں، پالیسی سازوں اور تمام اہلِ وطن کی خدمت میں ہم نبیِ مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پیش کرنا چاہتے ہیں۔ ’’حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی پاکؐ نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص خطا اور بھول چوک یا نشانہ بازی میں مارا گیا یا کوڑا لگنے سے قتل ہوگیا تو اس کی دیت قتل خطا والی ہے۔ اور جو عمداً قتل کیا گیا تو قاتل سے اس کا قصاص لیا جائے گا۔ اگر کوئی اس میں رکاوٹ بنتا ہے تو اس پر اللہ کی، اس کے فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت ہے‘‘۔ (بحوالہ سنن ابی داؤد، کتاب الدیات حدیث ۳۹۹۶ ، ابن ماجہ، کتاب الدیات، حدیث ۲۶۳۱)
پاکستان کے حکمرانو، خدا کے لیے سوچو! اللہ اور اس کے فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت کی وعید کچھ کم نہیں۔ کاش! اللہ اور اس کے رسولؐ پر ایمان کا دعویٰ کرنے والوں کی آنکھوں سے پٹی اتر جائے!
اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن جنوبی افریقہ کی طرف سے ان کے سالانہ کنونشن میں شرکت کا دعوت نامہ کافی دن پہلے مل چکا تھا۔ کنونشن سے قبل کئی ایک دیگر پروگرام بھی منتظمین نے طے کررکھے تھے۔۱۴؍اپریل کوجوہانس برگ پہنچا ۔ ۳۰؍اپریل کو تین دن کے لیے جوہانس برگ سے نیروبی گیا۔ یہ تین دن صبح شام مصروفیت میں گزرے۔ اسلامک فاؤنڈیشن، ینگ مسلم ایسوسی ایشن اور دیگر اسلامی تنظیموں نے کئی پروگرام مرتب کررکھے تھے۔ ۴ مئی کو واپس جوہانس برگ پہنچا۔ ایک دو پروگرام جو رہتے تھے، بالخصوص پریٹوریا میں اسلامک سرکل کے اجتماع میں حاضر ی دی۔ نیروبی کا قیام مختصر مگر بہت دل چسپ تھا، تاہم اس کے بارے میں کچھ کہنے کی یہاں گنجایش نہیں۔ ان سطور میں انتہائی اختصار کے ساتھ جنوبی افریقہ کے کچھ احوال پیش خدمت ہیں۔
براعظم افریقہ کا سب سے طاقت ور اور موثر ملک جنوبی افریقہ ہے۔ سفید فام اقلیت سے ۱۹۹۴ء میں آز ادی کے بعد اس کا سرکاری نام بھی ری پبلک آف ساؤتھ افریقہ ہے۔ یہاں برطانوی سامراج کئی صدیوں تک مسلط رہا۔آج سے ایک صدی قبل مقامی سفید فام لوگوں نے جن کا مجموعی آبادی میں تناسب ۲۰سے ۲۵فی صد تھا، یک طرفہ طور پر برطانوی سامراج سے علیحدہ ہوکر اپنی حکومت کا اعلان کردیا۔ کم وبیش ایک صدی تک ان لوگوں نے مقامی آبادی پر نسلی امتیاز کی پالیسیوں کے ذریعے بے انتہا مظالم ڈھائے۔ سب سے زیادہ آبادی مقامی افریقی لوگوں کی تھی، دوسرے نمبر پر سفید فام، تیسرے نمبر پر مخلوط نسل جن کو کلرڈ کہا جاتا ہے، اور سب سے چھوٹی اقلیت ایشیائی آبادی پر مشتمل تھی جس میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ یہ مسلمان ہندستان، ملائیشیا اور انڈونیشیا کے علاقوں سے مختلف وجوہات کی بنا پر وہاں منتقل ہوئے تھے۔ افریقی بلکہ غیر سفید فام تمام آبادی، ہر قسم کے بنیادی حقوق سے محروم تھی۔ ان کی حیثیت غلاموں سے بھی بدتر تھی۔
بیسیویں صدی کے آغاز ہی سے آزادی کے لیے لوگوں نے خفیہ طو رپر جدوجہد شروع کردی تھی۔ اس صدی کے پانچویں عشرے میں باقاعدہ تحریک آزادی نے اپنا وجود قائم کیا اور خود کو منوایا۔ نیلسن منڈیلا قومی وحدت کی علامت بن کر ابھرا اور تمام مظلوم طبقات اس کے پیچھے کھڑے ہوگئے۔ منڈیلا کو بے انتہا اذیتوں سے گزرنا پڑا۔ کم وبیش ۲۸ برس جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہا۔ وہ خطرناک ترین ’دہشت گرد‘ قرار پایا۔ نسلی امتیاز کی بنیاد پر قائم نظام حکومت نے تحریک آزادی کے کارکنان کو بری طرح کچلا، مگر طلبہ جب اس تحریک میں شامل ہوئے تو تحریک نے زور پکڑ لیا۔ طویل جدوجہد کے بعد پوری دنیا کی توجہ بھی اس مظلوم خطے کی طرف مبذول ہوئی۔ آخر اقلیتی حکمرانوں کے ساتھ تحریک آزادی کے کئی معاہدوں کے بعد جن میں عالمی اداروں نے بھی کردار ادا کیا، ۱۹۹۴ء کے انتخابات میں افریقن نیشنل کانگریس، نیلسن منڈیلا کی قیادت میں بھاری اکثریت سے جیت گئی اور آزادی کا سورج طلوع ہوا۔
نیلسن منڈیلا باباے قوم اور انتہائی مقبول شخصیت ہے۔ چار چار سال کی دو میقات صدارتی محل میں گزارنے کے بعد پوری قوم کے مطالبے کے باوجود اس نے جارج واشنگٹن کی طرح تیسری مرتبہ انتخابات میں حصہ لینے سے انکار کردیا۔ اس کے نائب مسٹر مبیکی تھابو نے بھی اسی روایت کو قائم رکھا۔ اس وقت تیسرا صدر مسٹر زوما برسراقتدار ہے۔ یہ اس کی پہلی میقات ہے۔ ملک میں کثیر الجماعتی جمہوریت ہے۔انتخابات باقاعدگی سے ہوتے ہیں، سفید فام پارٹی بھی انتخابات میں حصہ لیتی ہے اور پارلیمان میں موجود ہے۔ میدانِ سیاست میں حکمران پارٹی افریقن نیشنل کانگریس کے سامنے کوئی بڑا چیلنج نہیں مگر مختلف افریقی گروپوں نے اپنی اپنی پارٹیاں قائم کررکھی ہیں جو آہستہ آہستہ زور پکڑ رہی ہیں۔ مسلمانوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے کچھ زیادہ ہی حصہ امور مملکت میں حاصل ہے۔ یہ بجا طور پر تحریک آزادی میں ان کی شرکت کا صلہ ہے۔ حلال فوڈ اور گوشت بھی مجلس علما کے دوگروپوں کے سرٹیفکیٹ سے فراہم کیا جاتا ہے۔
جنوبی افریقہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ افریقہ میں سب سے مضبوط اقتصادی حالت اسی کی ہے، جب کہ پوری دنیا میں معاشی میدان میں اس کا ۲۸واں نمبر ہے۔ سفید فام آبادی میں یہودی خاصی تعداد میں ہیں اور دنیا کے مال دار ترین لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ذرائع آمدنی میں زراعت، معدنیات، بالخصوص سونا اور ہیرے، صنعت، اور سیاحت اہم شعبے ہیں۔ مسلمانوں کی آبادی اڑھائی سے تین فی صد ہے۔ مسلمان بڑے شہروں میں مقیم ہیں اور مالی لحاظ سے خوش حال ہیں۔ مقامی آبادی میں دعوت اسلام کے بڑے مواقع ہیں۔ مسلمانوں نے اس میدان میں آزادیِ اظہار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے منظم منصوبہ بندی کرکے کوئی کام نہیں کیا۔ الحمدللہ اب کچھ پیش رفت شروع ہوئی ہے۔ مسلمانوں میں جمعیت العلما اور تبلیغی جماعت کافی منظم اور مؤثر ہیں۔ ان کا بہت مضبوط نیٹ ورک پورے ملک میں موجود ہے۔ یہاں کی مساجد بہت خوب صورت اور صاف ستھری ہیں۔ مدارس میں بھی بچوں کو اچھی اور معیاری تعلیم دی جاتی ہے۔ ہندی الاصل مسلمانوں کی مساجد میں تمام سہولیات کے باجود عمومی طور پر خواتین کے لیے پروگراموں میں شرکت کی گنجایش نہیں ہوتی۔ اس مرتبہ البتہ یہ تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے کہ بعض مساجد کے ساتھ خواتین کے لیے بھی نماز اور اجتماعات کا اہتمام کیا جارہا ہے، یہ بہت خوش آیند ہے۔
جمعیت العلما اور تبلیغی جماعت کے بعد مسلمانوں کی دوسری بڑی تنظیم اسلامی میڈیکل ایسوسی ایشن ہے۔ یہ تنظیم بھی آزادی سے قبل قائم ہوئی تھی اور اس نے فلاحی کاموں کے علاوہ تعلیمی اور دعوتی میدان میں بھی اب قدم رکھ دیا ہے۔ یہ ایسوسی ایشن مسلمان ڈاکٹروں کی عالمی تنظیم فیما (فیڈریشن آف اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشنز) کی بھی ممبر ہے۔ اس فیڈریشن میں عمومی طور پر فلسطین، اردن، ترکی، پاکستان، ملائیشیا اور جنوبی افریقہ کے ڈاکٹر زیادہ فعال اور منظم ہیں۔ اس کے موجودہ صدر اردن سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر محمد احمد مشعل ہیں۔ پاکستان کے ڈاکٹر تنویرالحسن زبیری اور ڈاکٹر حفیظ الرحمان بھی اس کے مرکزی ذمہ داران میں شامل ہیں۔ جنوبی افریقہ کے جسمانی لحاظ سے معذور مگر انتہائی فعال اور باہمت ڈاکٹر اشرف جی دار بھی فیڈریشن کی مرکزی مجلس میں شامل ہیں۔
ایک خوش آیند بات یہ ہے کہ جنوبی افریقہ کے مسلمان ہی نہیں عام افریقی اور حکومت بھی فلسطینیوں کے ساتھ بہت زیادہ یک جہتی و ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ انھیں معلوم ہے کہ نسلی امتیاز کی پالیسی نے ان کو کس قدر اذیت پہنچائی تھی۔ وہ صہیونیوں کے شدید مخالف ہیں۔ اسی طرح یہاں کے مسلمان طالبانِ افغانستان کے حامی اور امریکا و ناٹو کے سخت خلاف ہیں۔ مسئلہ کشمیر سے یہاں کوئی خاص دل چسپی نہیں پائی جاتی اور اس کی وجوہ ہیں۔
اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن ساؤتھ افریقہ گذشتہ ۳۰ برس سے باقاعدگی کے ساتھ اپنا سالانہ کنونشن منعقد کرتی ہے۔ یہ مختلف شہروں میں ہوتا رہتا ہے۔ اس کی کل حاضری عموماً ۴۰۰،۵۰۰ کے لگ بھگ ہوتی ہے۔ غیرڈاکٹر شرکا جو ڈاکٹروں کے اہل خانہ میں سے ہوتے ہیں، بھی شریک محفل ہوتے ہیں۔ یوں تعداد کافی زیادہ ہوجاتی ہے۔ مجھے کئی مرتبہ اس سالانہ کنونشن میں شرکت کی دعوت ملتی رہی، مگر میں اس میں دو مرتبہ ہی شریک ہوسکا۔ پہلی بار ۱۹۹۷ء میں اور دوسری مرتبہ اس سال ماہِ اپریل میں۔ ڈاکٹر حضرات تین دن کے سالانہ کنونشن میں بہت سلیقے اور ترتیب کے ساتھ اپنا پروگرام مرتب کرتے ہیں۔ بعض پروگرام اکٹھے ایک ہال میں ہوتے ہیں، جب کہ کئی ایک پروگرام تین چار مختلف ہالوں میں شرکا کو تقسیم کرکے متنوع موضوعات پر منظم کیے جاتے ہیں۔ ان پروگراموں کی جامعیت یہ ہے کہ ان میں دروس قرآن وحدیث بھی ہوتے ہیں اور مختلف اسلامی موضوعات پر ڈاکٹر اور دیگر حضرات کے لیکچر بھی رکھے جاتے ہیں۔ ساتھ ساتھ میڈیکل کے تمام شعبوں کے متعلق ماہرین کے نہایت اعلیٰ علمی و تکنیکی لیکچر ہوتے ہیں۔ ہر پروگرام کے بعد سوال وجواب کا دل چسپ سلسلہ بھی چلتا ہے۔ نماز باجماعت کا مثالی اہتمام ہوتا ہے۔
پاکستان سے تعلق رکھنے والے احباب ڈاکٹروں، پروفیسروں، تاجر، صنعت کار اور محنت مزدوری کرنے والے طبقات پر مشتمل ہیں۔ پاکستانی آبادی ایک لاکھ کے لگ بھگ ہے جو پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہے۔ بیش تر لوگ یہاں کا پاسپورٹ حاصل کرچکے ہیں۔ یہاں تحریکی احباب نے اپنا ایک نظم قائم کیا ہے جو آہستہ آہستہ منظم ہورہا ہے۔ اس کا نام اسلامک سرکل آف ساؤتھ افریقہ ہے۔ ۱۷،۱۸ مقامات پر اس کے وابستگان کسی نہ کسی صورت میں خود کو حلقے کی صورت دینے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ ہر مقام کے ذمہ داران سے رپورٹ لی جاتی ہے۔ مرکزی دفتر جوہانس برگ میں ہے۔ اس وقت ڈاکٹر سید شبیرحسین صدر، ڈاکٹر فیاض حمید سیکرٹری اور ڈاکٹر طاہر مسعود خازن ہیں۔ خواتین میں بھی کام منظم ہورہا ہے۔ میرے لیے آئی ایم اے کی دعوت میں کشش اس وجہ سے تھی کہ اپنے تحریکی احباب کے کام کی کارکردگی، جس کا بیج ۱۵برس پہلے ڈالا گیا تھا،دیکھنے کا موقع مل جائے گا۔ الحمدللہ میڈیکل ایسوسی ایشن کے کنونشن کے علاوہ آئی ایم اے کے پروگراموں کے تحت کیپ ٹاؤن، ڈربن، کلارک سٹاپ، پولک وین (پرانا نام پیٹرزبرگ) وغیرہ میں جانے اور ڈاکٹروں کے ساتھ تبادلۂ خیالات کا موقع ملا۔ گذشتہ سال برادرم اظہر اقبال کو دو مرتبہ یہاں آنے کا موقع ملا اور انھوں نے کام کو منظم کرنے میں مقامی ساتھیوں کا بھرپور ساتھ دیا۔ ان مقامات پر کوئی پاکستانی ڈاکٹر تو نہیں تھا، البتہ ہندی الاصل برادران وخواہران ہر جگہ پروگراموں میں شریک ہوتے رہے۔ ان مقامات پر جہاں کہیں مساجد میں پروگرام ہوئے وہاں پاکستانی احباب نے بھی شرکت کی۔اسلامک سرکل آف ساؤتھ افریقہ کے تحت دو بڑے پروگرام ہوئے۔ ایک جوہانس برگ میں جس میں گردونواح سے مختلف صوبوں اور شہروں سے احباب نے شرکت کی۔ دوسرا بڑا پروگرام گراہمز ٹاؤن میں تھا، اس میں اس علاقے کے گردونواح سے بیش تر صوبوں اور شہروں سے لوگ آئے تھے۔ ہر دو مقامات پر خواتین بھی شامل تھیں۔ ان کے علاوہ کنگ ولیمز ٹائون اور کوئینز ٹائون میں بھی پروگرام کیے گئے۔
اسلامک سرکل کے پروگرام اردو میں ہوتے تھے، جب کہ اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن اور مساجد کے تمام پروگرام انگریزی میں۔ ہرجگہ یہ بات زیر غور آئی کہ مقامی آبادی میں کام کیسے کیا جائے؟ اس وقت مجموعی طو رپر اس ملک میں بہت امن وسکون ہے مگر چونکہ مقامی آبادی معاشی لحاظ سے محرومی کا شکار ہے، اس لیے وہ اپنی اس کیفیت اور حالت زار کو بہت محسوس کرتے ہیں۔ آزادی ملنے اور سیاہ فام آبادی کی اپنی حکومت قائم ہونے کے باوجود ابھی تک عام افریقی شہری معاشی و تعلیمی میدان میں بہت پیچھے ہے۔ کبھی کبھار ردعمل میں کچھ باتیں خاموش سمندر کی سطح پر آجاتی ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر ان لوگوں کی اخلاقی اور ذہنی تربیت اور معاشی وسماجی ارتقا کا اہتمام نہ ہوا تو کسی وقت بھی یہ لاوا پھٹ سکتا ہے۔ مسلمانوں نے ایسے کئی تعلیمی ادارے قائم کیے ہیں جن میں مقامی آبادی کے وہ بچے جن کے والدین کا پتا نہیں، یا جن کی مائیں ہیں اور باپ نامعلوم، یا جن کے والدین بہت ہی غربت کا شکار ہونے کی وجہ سے اپنے بچوں کی تعلیم کا اہتمام نہیں کرسکتے، ان اداروں میں داخل کیے جاتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے ان بچوں کے لیے ان اداروں میں آنے کے بعد رہایش، خوراک، لباس اور تعلیم کی مکمل ذمہ داری اسلامی تنظیمیں اپنے ذمے لے لیتی ہیں۔ ان کے والدین اور مقامی آبادی اس بات سے کوئی اختلاف نہیں رکھتی کہ انھیں مسلمان بنالیا جائے۔ مجھے ڈربن کے علاقے میں ایک چھوٹی دیہاتی آبادی انچانگا میں،وہاں کے اسلامک سنٹر جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک صاحب ِخیر میڈیکل ڈاکٹر جناب غلام حسین تتلہ اس کے روح رواں ہیں۔ سیکڑوں ایکڑ پر مشتمل رقبے پر اس مرکز کی عمارات بھی بہت قابل دید ہیں۔ کچھ کلاسوں میں جاکر ۵ سے ۱۰سال کی عمر کے بچے بچیوں کو دیکھنے کا موقع ملا تو طبیعت خوش ہوگئی۔ ان سب نے اتنی خوش الحانی کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت اور شش کلمات پڑھ کر سنائے کہ بے ساختہ میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ان کا لہجہ بھی بہت اچھا تھا، مخارج بھی درست اور لحنِ بلالی تو تھا ہی!
اس طرح کے مراکز جگہ جگہ قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ الحمدللہ تمام باعمل مسلمان اس ضرورت کا احساس وادراک رکھتے ہیں۔ دوردراز کی افریقی آبادیوں میں آئی ایم اے کی موبائل ڈسپنسریاں بھی فعال دیکھیں۔ ایک دیہاتی علاقے میں ۳۰، ۴۰ خواتین، بوڑھوں اور بچوں کو بہت صاف ستھری جگہ پر بٹھانے کی سہولت کے ساتھ ڈسپنسری کو برسرِعمل دیکھا، تو اُن مخیر حضرات کے لیے جو مالی ایثار کر رہے ہیں اور اُن رضاکاروں کے لیے جو میدان عمل میں سرگرم ہیں، دل سے دعائیں نکلیں۔ خوش آیند بات یہ ہے کہ جن لوگوں کی خدمت کی جارہی ہے وہ اس پر ممنون احسان ہیں، ورنہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ خدمت کرنے والوں کو تحسین کے بجاے شک و شبہے کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ پاکستان میں ہمیں اس کا تجربہ ہوتا رہتا ہے۔ ڈاکٹر شبیر حسین اور کئی دیگر مسلمان ڈاکٹر آنکھوں میں موتیے کے بلامعاوضہ آپریشن کرنے کے لیے کیمپ لگاتے رہتے ہیں۔ پاکستان سے بھی اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے ڈاکٹر ان کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ ایک کیمپ میں ۹۰کے قریب شفایافتہ مریضوں کے درمیان تقسیم تحائف کی محفل میں مجھے بھی جانے کا اتفاق ہوا۔ یہاں اسلام کاتعارف بھی کرایا گیا۔ تمام مریض انتہائی خوش اور ڈاکٹر شبیر اور ان کی ٹیم کے لیے رطب اللسان تھے۔ دیگر تحائف کے علاوہ انھیں قرآن مجید اور رسالہ دینیات کے انگریزی ترجمے دیے گئے۔ یہ بڑا بنیادی کام ہے مگر ذاتی روابط اور اسلام کی عملی تعلیم و تربیت اس سے اگلی اور اصل ذمہ داری ہے۔
وطنِ عزیز پاکستان دو قومی نظریے کی اساس پر وجود میں آیا۔ اس کی بنیاد ’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ‘ کے ایمان افروز نعرے پر رکھی گئی تھی۔ مدینہ کی بے مثال اسلامی ریاست کے بعد ہماری تاریخ میں اسلام کے نام پر قائم ہونے والی دوسری ریاست ہے۔ اس ریاست کا قیام اہلِ پاکستان کے لیے جہاں ایک بڑا اعزاز تھا، وہیں بہت بڑی آزمایش بھی تھی۔ بد قسمتی ہے کہ اس سرزمین کو صبغۃ اللہ کا نمونہ بنانے کے بجاے بوجوہ غیر اسلامی رنگ میں رنگ دیا گیا۔ اگر یہ ریاست اسلامی رنگ میں رنگ جاتی تو آج عالمِ اسلام کی قیادت کر رہی ہوتی۔ آج اس کی سالمیت بھی خطرے میں ہے۔ سیکولرازم، لسانی و علاقائی تعصبات، مذہبی منافرت و فرقہ واریت اور جاہلی عصبیتوںنے اس نظریاتی ریاست کو کھوکھلا کرکے رکھ دیا ہے۔ا سلام دشمن قوتیں بالخصوص امریکا ،بھارت اور اسرائیل کی تثلیثِ خبیثہ ہمارے ملک کی سا لمیت کے خلاف مسلسل سازشیں کرتی رہتی ہیں۔ ان غیر ملکی دشمنوں کو ہمارے نااہل حکمرانوں کی پالیسیاں اور نالائقیاں بھی تقویت پہنچاتی ہیں۔ دشمنانِ اسلام و پاکستان کو ملک کے اندر سے بھی کچھ عناصر مل جاتے ہیں جو ان کا کھیل کھیلتے ہیں۔
اسلام دشمن قوتیں دورِ نبوت و دورِ صحابہ کرام میں بھی امت کے درمیان پھوٹ ڈالنے اور فتنے اٹھانے میں مشغول رہتی تھیں۔ مدینہ کے انصار دو قبائل اوس و خزرج سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے درمیان جاہلی دور میں قبائلی جنگیں ہوتی رہتی تھیں۔ مدینہ کے یہودی ان کو لڑا کر ایک طرف ان کی قوت کو ضعف میں بدلتے اور دوسری طرف ان کو سودی قرض میں جکڑتے اور ان کے ہاتھ اپنا اسلحہ فروخت کرتے۔ بنو قریظہ اوس کے حلیف تھے اور بنو نضیرو بنو قینقاع کی خزرج کے ساتھ دوستی تھی۔ اسلام کی آمد کے ساتھ دونوں قبائل کے درمیان دشمنی کی جگہ دوستی اور نفرت کی جگہ محبت کے جذبات موج زن ہوگئے۔ یہود کو اس سے بہت مایوسی ہوئی۔ آخر انھوں نے اپنا شیطانی مکر استعمال کیا۔ صحابہ کی ایک مجلس میں جنگ ِ بعاث کا تذکرہ چھیڑ دیا اور فریقین کے شعرا کے پرجوش رجزیہ اشعار پڑھنے لگے۔ اوس و خزرج کے جذبات بھڑک اٹھے اور وہ ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار اٹھانے کے بارے میں سوچنے لگے۔ اسی دوران میں نبی اکرمؐ کو اس واقعے کی اطلاع ملی۔ آپؐ فوراً موقع پر پہنچے اور فریقین کو سخت سرزنش کی۔ حضور پاکؐ کی سرزنش اور تذکیر سن کر اوس و خزرج زاروقطار رونے لگے اور ایک دوسرے سے والہانہ بغل گیر ہوگئے۔
قرآن نے بھی اس واقعے کا پورا نقشہ کھینچا ہے: ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم نے ان اہل کتاب میں سے ایک گروہ کی بات مانی تو یہ تمھیں ایمان سے پھر کفر کی طرف پھیر لے جائیں گے۔ تمھارے لیے کفر کی طرف جانے کا اب کیا موقع باقی ہے، جب کہ تم کو اللہ کی آیات سنائی جارہی ہیں اور تمھارے درمیان اس کا رسولؐ موجود ہے؟ جو اللہ کا دامن مضبوطی کے ساتھ تھامے گا وہ ضرور راہِ راست پالے گا…سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ اللہ کے اس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے۔ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، اس نے تمھارے دل جوڑ دیے اور اس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے۔ تم آگ سے بھرے ہوئے ایک گڑھے کے کنارے کھڑے تھے، اللہ نے تم کو اس سے بچالیا ‘‘۔(اٰل عمران ۳:۱۰۰، ۱۰۱ ، ۱۰۳)
دشمنانِ اسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایسے فتنے اٹھا کر صحابہ کرامؓ کی قدسی جماعت کے درمیان آگ بھڑکانے سے باز نہ آئے، وہ آج کیوں نچلے بیٹھیں گے۔ ان کا آلۂ کار بن جانا کس قدر نقصان دہ ہے، ہر صاحبِ ایمان اور کلمہ گو کو اس پر غور کرنا چاہیے۔ اُمت مسلمہ کے درمیان قتل و غارت گری کے بازار گرم کرنا نہ اسلام کی خدمت ہے، نہ اُمت مسلمہ کی، نہ خود قاتلوں کی۔ یہ سراسر تباہی ہے جو خسر الدنیا والاٰخرۃ کے زمرے میں آتی ہے۔ گذشتہ کچھ عرصے سے دہشت گردی اور قتل و غارت گری کا عفریت ننگا ناچ، ناچ رہا ہے اور اتنی قیمتی جانوں کو ہڑپ کر چکا ہے کہ جسدِ ملی ’ تن ہمہ داغ داغ شد‘ کی تصویر بن کر رہ گیا ہے۔ آئے دن وحشیانہ وارداتیں اور بہیمانہ قتل و غارت گری کی خبریں ذرائع ابلاغ سے شائع اور نشر ہوتی رہتی ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ حکومت نام کی کوئی چیز اس ملک میں موجود ہی نہیں ہے۔ ۲۸فروری۲۰۱۲ء کو راولپنڈی سے گلگت جانے والی چار بسوں سے مسافروں کو اتار کر شناخت کے بعد ان میں سے ۱۹؍افراد کو اندھا دھند فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا۔ ان مقتولین میں دو خواتین بھی شامل تھیں۔ اس واقعے میں ۱۰؍افراد شدید زخمی ہوئے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ان بسوں کو شمالی علاقہ جات کے قریب ہربن کے مقام پر ۱۴؍افراد نے صبح ۸بجے کے قریب روکا۔ یہ افراد فوجی وردیوں میں ملبوس، مسلح نقاب پوش تھے۔ اس واقعے سے ایک روز قبل نوشہرہ میں ایک سیاسی جلسے میں بم دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میںسات افراد جاں بحق اور ۳۲ زخمی ہوگئے۔ جب بھی اس طرح کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے، صدر اور وزیر اعظم سے لے کر وزیر داخلہ اور پولیس افسران تک سب واقعے کی مذمت کرتے اور قوم کو یقین دہانی کراتے ہیں کہ مجرموں کو جلد پکڑ کر کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج تک ان گھناونے جرائم کے مرتکب افراد کو سزا نہیں دی جاسکی۔ یہ حکمرانوں کی ایسی نااہلی و ناکامی ہے جس کے باعث وہ حق حکمرانی کھو چکے ہیں۔
فرقہ واریت کے نام پر بھڑکائی گئی آگ نے شیعہ سُنّی فساد کے روپ میں بے شمار قیمتی جانوں کو ہڑپ کیا ہے۔ قتل ہونے والوں میں دونوں جانب سے بے گناہ و معصوم شہری گولیوں کا نشانہ بنے ہیں۔ بحیثیت مجموعی یہ پوری امت کا نقصان ہے۔ اس کی ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے حکمرانوں اور سیاسی و مذہبی جماعتوں کی قیادت کو سنجیدگی سے سرجوڑ کر بیٹھنا چاہیے۔ علامہ اقبال نے نہایت بلیغ انداز میں دردِ دل کے ساتھ امت کو سمجھایا تھا ؎
اے کہ نشناسی خفی را از جلی ہُشیار باش
اے گرفتارِ ابوبکرؓ و علیؓ ہُشیار باش
ہماری راے میں بیش تر واقعات میں امریکا ، بھارت اور اسرائیل کی ایجنسیوں کے لوگ ملوث ہوتے ہیں، جن کے پیش نظر پاکستان کی سا لمیت کو ختم کرنا ہے۔ بلوچستان میں قتل و غارت گری کے پیچھے علاقائی و قبائلی عزائم ہوتے ہیں۔ کراچی کی قتل وغارت گری میں بھی لسانی عصبیتوں کا دخل ہے، جب کہ پنجاب، خیبر پختونخوا اور بالخصوص گلگت بلتستان کے علاقوں میں مذہبی منافرت اس کا سبب ہے۔ گلگت کے اس افسوس ناک واقعے سے ایک ماہ قبل شمالی علاقے دیامیر میں سُنّی مسلک کے دوافراد مارے گئے تھے۔ بعض حلقوں کے نزدیک یہ اس واقعے کا ردعمل بھی ہوسکتا ہے۔ وقتاً فوقتاً شیعہ سُنّی فسادات کی طرح سنیوں کے درمیان بھی بریلوی اور دیوبندی، حنفی و سلفی اور اسی طرح جہادی و غیر جہادی کے نام پر منافرت پھیلانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ اسلام میں قتلِ ناحق کو بہت بڑا جرم قرار دیا گیا ہے۔ ’’جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے [ناحق] قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا‘‘۔ (المائدہ۵:۳۲)
اس مضمون پر بہت سی احادیث میں روشنی ڈالی گئی ہے۔ کسی کلمہ گو کے ناحق قتل کا مرتکب دائمی جہنمی ہوگا (ابی داؤد، حدیث ۴۲۷۰ بروایت حضرت ابوالدردائؓ)۔ کسی غیر مسلم ذمی کو قتل کرنے کو بھی اتنا بڑا جرم قرار دیا گیا ہے کہ اس کا ارتکاب کرنے والا جنت کی خوشبو بھی نہ پاسکے گا حالانکہ یہ خوشبو ۴۰برس کی مسافت تک پہنچتی ہے (بحوالہ نسائی، حدیث ۴۷۵۴ بروایت حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ)۔ ایک کلمہ گو کو قتل کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ کتاب اللہ میں بھی اس کی سزا دائمی جہنم قرار دی گئی ہے۔ ارشاد ربانی ہے: ’’رہا وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے‘‘(النسائ۴:۹۳)۔ یہ معاملہ اتنا نازک ہے کہ حضرت اسامہ بن زیدؓ کا مشہور واقعہ اس کی بہت اچھی وضاحت کرتا ہے۔ ایک جنگ میں حضرت اسامہؓ نے ایک محارب و مقاتل دشمن کو قتل کیا، جب کہ اس نے کلمہ پڑھ لیا تھا۔ حضرت اسامہؓ نے اجتہاد کیا کہ وہ محض اپنی جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھ رہا ہے ورنہ وہ تو اسلامی فوجوں کے مد مقابل لڑتا رہا تھا۔ جب آنحضوؐر کو اس واقعے کی اطلاع ملی تو آپؐ حضرت اسامہؓ سے سخت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ قیامت کے دن تم اللہ کو کیا جواب دو گے جب وہ کلمہ پڑھتا ہوا اللہ کے سامنے حاضر ہوگا۔ حضرت اسامہؓ نے عرض کیا: یا رسولؐ اللہ!دراصل اس نے جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھا تھا، دل سے تو وہ کافر ہی تھا۔ اس پر آپؐ نے فرمایا کہ کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا۔ حضرت اسامہؓ خود بیان کیا کرتے تھے کہ آنحضوؐر کی ناراضی سے میں اس قدر پریشان ہوا کہ میں نے دل میں کہا: اے کاش! میں اس سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا اور یہ غلطی مجھ سے سرزد نہ ہوتی۔ (بخاری)
اسلام کی رُو سے ہر کلمہ گو مسلمان ہے۔ باطن کا معاملہ بندے اور رب کے درمیان ہے اور وہ قیامت کو ہر شخص کے بارے میں عدل و انصاف کا فیصلہ صادر فرمائے گا۔ پاکستان میں ہرکلمہ گو خود کو مسلمان کہتا ہے۔ عقاید و مسالک اور فروعات میں اختلافات یقینا ہیں۔ یہ صدیوں سے چلے آرہے ہیں۔ ان کی بنیاد پر اختلافِ راے کی گنجایش تو یقینا موجود ہے مگر کسی بھی شخص یا گروہ کو ہتھیار اُٹھا لینے اور دوسروں کو قتل کرنے کا جواز نہ قرآن و سنت میں ملتا ہے نہ ملکی قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص واجب القتل ہے تو اس کا طریقِ کار بالکل واضح ہے اور مجاز عدالتیں اور ادارے اس کے متعلق فیصلہ صادر کردیں تبھی اس کا خون مباح ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی صورت ایسی نہیں کہ کوئی فرد یا گروہ اپنی ذاتی حیثیت میںقانون کے تقاضے پورے کیے بغیر کسی انسانی جان کو ہلاک کردے۔
حکومت کی نااہلی نے حالات کو اتنا بگاڑ دیا ہے کہ انارکی اور طوائف الملوکی نے پوری پاک سرزمین کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان حکمرانوں سے امن و امان کی توقع بالکل عبث ہے۔ اکابر ملت کو مسالک کی حد بندیوں سے بالاتر ہو کر سرجوڑ کے بیٹھنا چاہیے۔ ملّی یکجہتی کو نسل کے انداز میں پھر سے متحد ہو کر چیلنج کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ منافرتوں کی جگہ پھر سے ہم آہنگی اور دشمنی کی جگہ اخوت کو فروغ دینے کی امید دینی شخصیات اور انھی قوتوں سے وابستہ ہے۔ جب ملّی یک جہتی کو نسل وجود میں آئی تھی اور متحارب گروہ ایک میز پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھے تھے تو بہت سی غلط فہمیاں دور ہوئی تھیں اور ہر ایک نے تسلیم کیا تھا کہ ہمارے باہمی اختلافات اور ایک دوسرے کے بارے میں شدید تصورات و تحفظات حقیقت سے بہت بعید تھے۔ اب پھر وقت آگیا ہے کہ اس مسئلے کو جنگی اور ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کی جائے۔ اس میں سب کا بھلا ہے ورنہ یہ آگ جس طرح اس سے پہلے بے شمار گھرانوں کو برباد کر چکی ہے اسی طرح مزید نقصان کا باعث بنے گی۔ نفرت و عصبیت کی وبا مزید پھیلے گی تو ناقابلِ تلافی نقصان کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔ علامہ اقبالؒ نے کیا خوب نصیحت فرمائی ہے جو آج بالکل ہمارے حسبِ حال ہے:
منفعت ایک ہے اس قوم کی ، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبیؐ ، دین بھی، ایمان بھی ایک
حرمِ پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
تیونس سے شروع ہونے والی بہار نے کئی عرب ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے مصر، لیبیا اور یمن میں بھی آمریت کا جنازہ نکل گیا۔ اب دیریا سویر شام کی باری ہے۔ اس بہارِ جاں فزا سے افریقہ کے دیگر ممالک بھی فیض یاب ہو رہے ہیں۔ مغربی افریقہ کا ملک سینیگال اس کی بہترین مثال ہے جہاں دارالحکومت ڈاکار اور دیگر شہروں میں عوام صدر عبد اللہ واد کے خلاف سر سے کفن باندھ کر میدان میں نکل آئے ہیں۔ سینیگال مغربی افریقہ کا ایک چھوٹا سا ملک ہے۔ اس کا کُل رقبہ ایک لاکھ ۹۶ہزار ۷سو۲۳ مربع کلومیٹر، یعنی پاکستان کے رقبے کا ایک چوتھائی ہے، جب کہ آبادی ایک کروڑ ۲۳ لاکھ ہے، یعنی پاکستان کی آبادی کا پندرھواں حصہ۔ ملک معاشی لحاظ سے پاکستان سے بھی غریب ہے۔ فی کس آمدنی۱۶۰۰ ڈالر فی کس سالانہ ہے، جب کہ پاکستان کی تقریباً۲۱۰۰ڈالر فی کس سالانہ ہے۔ سینیگال کی آبادی ۹۶ فی صد مسلمان ہے البتہ قدیم مذہبی رسومات اور روایاتِ بت پرستی بیش تر آبادی میں اسی طرح پائی جاتی ہیں، جس طرح ہمارے ہاں ہندوانہ تہذیب اور رسوم و رواج کا چلن ہے۔
سینیگال نے ہم سے ۱۳ برس بعد، یعنی ۱۹۶۰ ء میں فرانسیسی استعمار سے آزادی حاصل کی۔ پانچ مقامی قبائلی زبانوں کے علاوہ فرانسیسی یہاں کی سرکاری زبان رہی ہے۔ اب عربی کی طرف بھی بہت زیادہ رجحان ہے۔ افریقہ کا یہ ملک اس لحاظ سے دیگر بیش تر افریقی، لاطینی امریکی اور ایشیائی و عرب ممالک سے ممتاز و ممیز ہے کہ یہاں فوجی انقلابات کی کوئی روایت نہیں ملتی۔ یہاں کی فوج ہے بھی نہایت مختصر۔ سینیگال کے بحیثیت مجموعی اپنے ہمسایوں سے تعلقات اچھے ہی رہے ہیں البتہ اپنے پڑوسی ملک مالی کے ساتھ اس وقت کچھ تلخیاں پیدا ہوئی تھیں جب دونوں ممالک نے آزادی کے بعد آپس میں ایک وفاق قائم کیا، مگر چار ہی ماہ بعد یہ وفاق بکھر گیا اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرلی۔ اس علیحدگی میں بھی نہ کوئی گولی چلی، نہ فسادات ہوئے۔ یوں ان افریقی ممالک نے مہذب ہونے کا ثبوت دیا۔ سینیگال کے پڑوس میں سبھی ممالک چھوٹے چھوٹے ہیں۔ ان میں گامبیا، ماریتانیہ، مالی، گِنی اور گِنی بسائو شامل ہیں۔ یہاں اسلام کی روشنی تقریباً اُسی دور میں پہنچی جب مسلمان شمال مغربی افریقہ سے ہسپانیہ کی طرف منتقل ہوئے۔
سینیگال میں صحیح اسلامی تعلیم کا فقدان رہا ہے۔ اس کے باوجود شمال مغربی افریقہ کے عرب ممالک الجزائر، لیبیا، تیونس اور مراکش کے اسلامی جہاد کی وجہ سے یہاں بھی ایک محدود طبقے میں جہادی جذبات پروان چڑھے۔ سنوسی تحریک، عبدالقادر الجزائری اور عمرمختار سے محبت کرنے والا ایک مختصر حلقہ ڈاکار اور دیگر بڑے شہروں میں موجود ہے۔ تحریک ِآزادی میں بھی یہ لوگ پیش پیش تھے، مگر فرانسیسی استعمار نے ان کو ہمیشہ زیرعتاب رکھا۔ بدقسمتی سے عیسائی مشنری اور قادیانی بھی یہاں اپنی سرگرمیاں فرانسیسی دور ہی سے جاری رکھے ہوئے ہیں اور بے پناہ وسائل رکھتے ہیں۔ تاہم، یہ بات باعث ِ اطمینان ہے کہ سینیگال کی آبادی نے عیسائیت یا قادیانیت کو قبول نہیں کیا۔
سینیگال میں اسلامی تحریک بالکل نئی اور قوت کے لحاظ سے ابھی بہت محدود ہے۔ تاہم، مصر اور سعودی عرب کی جامعات سے فارغ ہوکر آنے والے نوجوان عقائد و افکار کے لحاظ سے درست اسلامی سوچ کے حامل ہیں۔ انھوں نے اخوان المسلمون کی فکر سے متاثر ہوکر ۱۹۹۹ء میں ایک تنظیم کی بنیاد رکھی جس کا نام ’جماعت عبادالرحمن‘ ہے۔ اس کے سربراہ ایک ذہین اور تعلیم یافتہ مسلمان استاد احمد جاں ہیں۔ وہ مولانا مودودی کے مداح ہونے کے ساتھ تحریکِ اسلامی پاکستان سے بھی متعارف ہیں۔ والی سعودی عرب نے بھی اس ملک میں کافی کام کیا ہے اور ان کے موجودہ نمایندے استاد رجب مصری ہیں۔ اسلامی تحریک کے لیے ایسے قابل نوجوانوں کا وجود بساغنیمت ہے۔ ان کا کام محدود تھا مگر گذشتہ سال کی عرب بہار نے جب اسلامی بہار کا روپ دھارا تو ان کی جماعت کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہوا۔ ابھی وہ انتخابی معرکے میں اُترنے کے قابل نہیں مگر ان کے منظم کام کی وجہ سے تمام اپوزیشن پارٹیاں ان کی حمایت کے لیے کوشاں ہیں۔ انھوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اسلام کی برتری اور جمہوریت کی حقیقی بحالی و تحفظ کی یقین دہانی کرانے والے صدارتی اُمیدوار کی حمایت کریں گے۔ طلبا میں ’طلبا عبادالرحمن‘ کے نام سے ان کی ملک گیر تنظیم موجود ہے جو فعال ہے اور مستقبل میں قوت میں اضافے کا باعث ہوگی۔ پاکستان سے اسلامی میڈیکل ایسوسی ایشن نے ڈاکٹر انتظاربٹ اور دیگر ماہرین امراضِ چشم اطبا کی نگرانی میں گذشتہ چند برسوں سے افریقہ کے جن ممالک میں فری میڈیکل کیمپ لگائے ہیں ان میں سینیگال بھی قابلِ ذکر ہے۔ ان کیمپوں کی وجہ سے بھی عباد الرحمن تنظیم کو اخلاقی و عمومی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ یہاں فرانس اور بھارت نے سونے کی کانوں اور کھاد کی فیکٹریوں کے ذریعے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ پاکستان کا اس ملک کے ساتھ محض سفارت خانے کی حد تک تعلق ہے۔
سینیگال پر مختلف اوقات میں پرتگال، فرانس اور برطانیہ نے اپنے استعماری پنجے گاڑے مگر آخر میں ۱۸۴۰ء سے ۱۹۶۰ء تک یہ سرزمین فرانسیسی کالونی ہی رہی۔ یورپ اور امریکا میں افریقی آبادی کو غلام بنا کر فروخت کیا گیا تو اس کا سب سے بڑا اڈا بھی اسی ملک میں تھا۔ فرانس نے سینیگال کو آزادی دینے سے قبل اپنا ایک سدھایا ہوا شاگرد لیوپولڈ سیدار سینغور، کمال چابک دستی سے اس ملک پر مسلط کر دیا۔ موصوف خاندانی لحاظ سے مسلمان تھے مگر فرانسیسی تہذیب و ثقافت کے دل دادہ، فرنچ زبان کے شاعر اور آزاد ملک کی حکمرانی کے باوجود اس بات کے خواہش مند کہ انھیں فرانسیسی شہریت مل جائے۔ انھیں اس میں کامیابی نہ ہوسکی۔ ہاں، فرانس کی سرپرستی میں اس ملک پر ایک جماعتی نظام کے تحت اس نے ۲۰سال حکمرانی کی۔ اس عرصے میں اس نے جو قانون، جب چاہا اور جیسے چاہا بنایا اور پھر جب چاہا اسے تبدیل کر دیا۔ وہ سیاہ و سفید کا مالک تھا۔ سیکولرازم اور سوشلزم کا دل دادہ صدر سینغور ہر روز معاشی پالیسیاں بدلتا تھا۔ ملک کی معیشت تباہ ہو رہی تھی۔ اس دوران میں اس نے ایک مفید اور انقلابی کام بھی کر دکھایا۔ ۱۹۷۳ء میں اس نے دیگر چھے پڑوسی ممالک کے ساتھ مل کر ’مغربی افریقی معاشی کمیونٹی‘ کی بنیاد رکھی جس سے ان سب کو کم و بیش تجارتی فوائد حاصل ہوئے۔ سینیگال اقوام متحدہ ،او آئی سی اور افریقن یونین کا ممبر ہے۔
سینیگالی عوام بھی اپنے صدر سے تنگ آچکے تھے۔ عوامی پریشانی نے ابھی کوئی احتجاجی رنگ یا انقلابی لہر کا روپ نہیں اختیار کیا تھا کہ اپنے خلاف عوامی نفرت کا احساس کرتے ہوئے صدر سینغور نے اقتدار سے استعفا دے دیا۔ تیسری دنیا کے ممالک اور وہ بھی پس ماندہ افریقہ میں یہ مثال یکتا ہے۔ دراصل سینغور کے اقتدار سے ہاتھ اٹھانے کی وجہ اس کی معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں رونما ہونے والی اقتصادی ابتری اور عوام الناس کی شدید پریشانی اور غم و غصہ تھا۔ اس نے یہ شاطرانہ چال بھی چلی کہ اپنے نائب عبدہٗ ضیوف کو اقتدار سونپ دیا۔ ضیوف نے کسی حد تک عوام کے لیے سیاسی آزادی کا راستہ ہموار کیا مگر ہنوز ملکی سیاست یک جماعتی سیاسی پارٹی کے گرد ہی گھومتی رہی۔ نئے صدر نے معاشی صورتِ حال کو سنبھالا دینے کے لیے اپنے پیش رو کی قومیائی ہوئی بیش تر کمپنیوں اور اداروں کو پرائیویٹ سیکٹر میں منتقل کر دیا۔ ملک کے اندر خام لوہا اور فاسفیٹ کی اچھی خاصی مقدار موجود ہے، اسے ترقی دینے کی کوشش بھی کی گئی۔ کچھ عرصے کے بعد ضیوف نے کثیرالجماعتی سیاست کی اجازت دی۔ حکومت کے مخالفین نے اپنی سیاسی جماعت بنالی جس کے بعد کئی نئی جماعتیں بھی وجود میں آنے لگیں۔
ضیوف کے ۲۰سالہ دورِا قتدار کے بعد مارچ ۲۰۰۰ء میں صدارتی الیکشن ہوئے تو اپوزیشن کے نمایندے عبد اللہ واد نے ۶۰ فی صد ووٹ حاصل کرکے صدارتی الیکشن جیت لیا۔ ۲۰سال صدارتی منصب پر فائز رہنے کے بعد اپنی عبرت ناک شکست کو تسلیم کرتے ہوئے ضیوف نے بڑی خوش اسلوبی سے اقتدار نو منتخب صدر کے حوالے کر دیا۔ اب ملک کے اندر سیاسی آزاد یاں بھی تھیں اور مختلف پارٹیاں اپنے اپنے پروگرام کے تحت اپنے منشور بھی پیش کر رہی تھیں۔ عبد اللہ واد اگرچہ انتخاب کے ذریعے برسر اقتدار آیا مگر وہ اپنے اقتدار کو دوام دینے کے جنون میں مبتلا ہوگیا۔ اس نے جو اصلاحات کیں، اس کے نتیجے میں ملک بھر میں اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ ان اصلاحات میں سے ایک یہ تھی کہ عورتوں کو ووٹ کا حق دیا گیا نیز انھیں جایداد اور وراثت کا حق بھی قانون میں دے دیا گیا۔ اس عرصے میں عبد اللہ واد نے اپوزیشن کے دبائو پر دستور میں ایک ترمیم کی، جس کے تحت کوئی بھی صدر دو میقات سے زیادہ انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتا۔
عبد اللہ واد ۲۰۰۱ء میں منتخب ہوا تھا، پھر ۲۰۰۷ء میں، اور اب ۲۰۱۲ء کے انتخابات کے لیے دوبارہ اُمیدوار بن گیا ہے۔ اپوزیشن نے اس پر شدید احتجاج کیا ہے۔ دستور میں ترمیم کے بعد دستور کی دفعہ ۲۷ اور ۱۰۴ واضح طور پر کسی بھی منتخب صدر کے لیے دو سے زیادہ مرتبہ صدارتی انتخاب لڑنا ممنوع قرار دیتی ہیں۔ عبد اللہ واد نے یہ مکرو حیلہ اختیار کیا ہے کہ اس کا پہلا انتخاب دستوری ترمیم سے قبل ہوگیا تھا، اس لیے اسے اس مرتبہ بھی انتخاب میں حصہ لینے پر کوئی دستوری قدغن نہیں ہے۔ حزبِ مخالف کی تمام پارٹیاں صدر کے خلاف میدان میں نکل آئی ہیں۔ دارالحکومت ڈاکار اور دیگر بڑے شہروں میں بڑے بڑے مظاہرے ہورہے ہیں اور کئی جگہ سرکاری عمارتوں کو توڑ پھوڑ کے ذریعے نقصان بھی پہنچایا گیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ عرب دنیا میں اٹھنے والی تحریکوں کے اثرات سینیگال میں بھی پہنچ گئے ہیں۔ حزبِ اختلاف کی ’’سوشلسٹ پارٹی آف سینیگال‘‘ کے صدارتی امیدوار عثمان تنور دیانگ نے ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عبد اللہ واد صدارت پر غاصبانہ اور غیر دستوری قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ دستور کی خلاف ورزی کرکے اس نے خود کو مجرم ثابت کر دیا ہے۔ اب عوامی غیظ و غضب سے بچنے کی ایک ہی صورت ہے کہ وہ دستور کی پابندی کرے۔
اس دوران میں عبد اللہ واد نے دستوری مجلس کے پانچ ارکان سے تصدیق کروالی ہے کہ اس کا یہ الیکشن تیسرا نہیں، دوسرا شمار ہوگا۔ اپوزیشن صدارتی امیدوار نے کہا کہ یہ ہزاروں کا مجمع جو فیصلہ دے رہا ہے، وہ درست ہے یا پانچ افراد کا فیصلہ درست تسلیم کیا جائے۔ اس موقع پر مجمع عام میں صدر عبد اللہ واد کے خلاف زبردست نعرے بازی کی گئی۔ ایک دوسرے صدارتی امیدوار ابراہیم فال نے کہا: ’’صدر واد کے اس خود غرضانہ موقف کے نتیجے میں پورا ملک مستقل طور پر تشدد اور بدامنی کا شکار ہوجائے گا۔ اگر صدر نے اپنی حکومتی مشینری کے ذریعے پرتشدد راستہ اختیار کیا تو عوام اس سے زیادہ قوت کے ساتھ اس کا جواب دیں گے‘‘۔ سیاسی پارٹیوں کے علاوہ سول سوسائٹی کے تمام طبقے بھی صدر کی راے سے اختلاف کر رہے ہیں۔ ایک نوجوان سینیگالی آرٹسٹ یوسف اندور نے کہا کہ سینیگال کا ہر شخص آج سڑکوں پر نکل آیا ہے اور لوگوں کے چہروں سے واضح طور پر پڑھا جاسکتا ہے کہ وہ موجودہ صدر کی رخصتی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ ایک معروف سیاسی تجزیہ نگار اور ماہرِ امور سینیگال مختار ولد سیداتی نے کہا: ’’سینیگال میں ذرائع ابلاغ کے ذریعے وہی جذبات پروان چڑھ رہے ہیں جو عالم عرب میں دیکھے گئے۔ گذشتہ کچھ عرصے سے عرب میڈیا بہت مقبول ہو رہا ہے۔ یہ بات ہر گز بعید نہیں کہ عرب دنیا میں رونما ہونے والا انقلاب ان تمام افریقی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لے جو عربی ثقافت سے متاثر ہیں اور اس لحاظ سے سینیگال بہت نمایاں ہے ‘‘۔
بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی ( بی این پی) کے دو لیڈر صلاح الدین قادر چودھری اور عبد العلیم، عوامی لیگی حکومت کے قائم کردہ نام نہاد انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل میں مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ حسینہ واجد کی حکومت نے اپنی پچھلی مدتِ حکومت میں بھی جنگی جرائم کے الزامات لگا کر اپنے مخالفین کو نشانۂ انتقام بنانا چاہا تھا، مگر بوجوہ اپنے ان عزائم کو وہ عملی جامہ نہ پہناسکی۔ اس مرتبہ بھاری اکثریت سے کامیابی کے بعد عوامی لیگ نے اپنے ایجنڈے میں یہی ایشو سرفہرست رکھا۔ بنگلہ دیش تحریک میں مشرقی پاکستان کی بنگالی آبادی نے بھی بلاشبہہ کلیدی کردار ادا کیا تھا، مگر اس میں شک نہیں کہ اگر بھارت کی سرپرستی اور مکمل حمایت حاصل نہ ہوتی تو محض مکتی باہنی یا چھے نکاتی پروگرام کے علم بردار سیاسی کارکن یہ منزل سر نہ کرسکتے۔ خانہ جنگی کے اس عرصے میں جماعت اسلامی نے ایک محب وطن جماعت کی حیثیت سے مقدور بھر کوشش کی کہ بدامنی اور انتشار کے اس ماحول میں عوام کو تحفظ دیا جائے، تاہم ۱۶دسمبر ۱۹۷۱ء کو یہ سانحہ رونما ہوا کہ ملک دولخت ہوگیا۔
عوامی لیگ حکومت نے اپنی پے درپے ناکامیوں کے بعد، ۴۰ برس گزرنے پر سیاسی حربے کے طور پر اپنے مدِمقابل راست فکر قیادت کو نشانہ بنانے اور راستے سے ہٹانے کے لیے جنگی جرائم کے نام سے جو ٹربیونل قائم کیا ہے، اس پر عالمی اداروں اور حقوقِ انسانی کی تنظیموں نے مکمل عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ہے۔ ۲۰ نومبر ۲۰۱۱ء کو نائب امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش مولانا دلاور حسین سعیدی پر باقاعدہ فردِ جرم عاید کی گئی۔ ان کے علاوہ جو لوگ سال سے زیادہ عرصہ ہوا، جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند کیے گئے ہیں، ان میں جناب مطیع الرحمان نظامی امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش اور علی احسن محمد مجاہد قیم جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے علاوہ محمد قمر الزمان اور عبد القادر ملا شامل ہیں۔ پروفیسر نذیر احمد، حمیدالرحمان آزاد، مولانا رفیع الدین احمد، مولانا اے ٹی ایم معصوم، رفیق النبی، عبدالرحمان اور مولانا عبدالمنان کو بھی جماعت اور اسلامی چھاترو شِبر کے دیگر ۱۲ راہ نمائوں کے ساتھ گرفتار کرکے مختلف دیگر مقدمات میں ملوث کر دیا گیا ہے۔ اب تک دلاور حسین سعیدی صاحب کے بعد نظامی صاحب، مجاہد صاحب اور قمر الزمان صاحب پر بھی فردِ جرم عاید کر دی گئی ہے۔ استغاثہ نے ٹربیونل کے سامنے اظہار کیا کہ ابھی تک پوری تفتیش مکمل نہیں ہوسکی۔
اس دوران مولانا دلاور حسین سعیدی کے خلاف گواہیاں شروع ہوگئی ہیں۔ ان پر لگائے گئے الزامات میں سے ایک یہ ہے کہ انھوں نے ۱۹۷۱ء میں پاکستان آرمی سے قریبی تعلق رکھا اور انھیں عوام کے خلاف کارروائیاں کرنے کی ترغیب دیتے رہے۔ ان کے خلاف ۶۸ گواہ تیار کیے گئے ہیں۔ ان گواہوں پر مولانا سعیدی کے وکلا جرح کر رہے ہیں، جس کے دوران بہت دل چسپ تضادات سامنے آرہے ہیں۔ تاہم عمومی راے یہ پائی جاتی ہے کہ اگر عرب ملکوں کی طرح کوئی عوامی ریلا سڑکوں پر نہ نکلا اور عرب عوامی لہر کی طرح بنگلہ دیش عوامی لہر کا سماں پیدا نہ ہوا تو ٹربیونل حکومتی اشارے پر فیصلے صادر کردے گا۔ ۷۱ سالہ مولانا سعیدی شوگر اور بلڈپریشر کے مریض ہیں، انھیں علاج معالجے کی سہولیات بھی حاصل نہیں۔ انھیں اپنے خرچ پر اپنے معالج سے ملاقات کا بھی کم ہی موقع دیا گیا ہے۔
روزنامہ بنگلہ دیش ٹوڈے میں ۱۲ دسمبر کو ایک رپورٹ چھپی ہے جس میں جماعت اسلامی کے وکیل بیرسٹر عبد الرزاق نے ٹریبونل کے سامنے یہ شکایت پیش کی کہ محض الزام لگنے سے کوئی شخص مجرم نہیں بن جاتا، جب کہ حکومتی ذرائع ابلاغ اور وزیر قانون بیرسٹر شفیق احمد ان لوگوں کو مجرم قرار دے رہے ہیں۔ چیئرمین ٹربیونل جسٹس نظام الحق نے ان کی شکایت کو مبنی برحق قرار دیا اور کہا کہ وہ خود بھی ذرائع ابلاغ کی اس روش کو دیکھ کر کڑھتے ہیں۔ پروفیسر غلام اعظم صاحب (عمر:۸۹ سال) کو بھی گرفتار کرنے کے لیے حکومت مسلسل دھمکیاں دے رہی ہے۔
غیر جانب دار حلقے ان تمام الزامات کو مضحکہ خیز اور انصاف کا گلا گھونٹنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ایک اہم پہلو جسے مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا وہ بنگلہ دیش میں مقیم بہاری آبادی پر ہونے والے طویل مظالم کی داستان ہے۔ بنگلہ دیش کی تخلیق کے وقت اس آبادی کو علیحدگی پسندوں نے جس بُری طرح سے قتل و غارت گری، لوٹ مار اور عصمت دری کا نشانہ بنایا، اس کی داستانیں تو باقاعدہ ثبوتوں کے ساتھ موجود ہیں مگر ان کی کہیں کوئی شنوائی نہیں ہورہی۔ بھارت کے تجزیہ نگار کلدیپ نائر نے بنگلہ دیش میں گذشتہ مہینے پانچ دن گزارے اور اس نے ان خیالات کا اظہار کیا کہ ٹربیونل قانون و انصاف کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ کلدیپ نائر کے بقول حسینہ واجد بھارت کو خوش کرنے کے لیے اپنے ہی ملک کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ ایک انٹرویو میں اس نے یہ بھی کہا کہ حسینہ واجد حکومت نے یک طرفہ طور پر بھارت کو ٹرانزٹ کے حقوق دیے ہیں، جن کے تحت بھارت آسام میں علیحدگی پسندوں کو کچلنے کے لیے بنگلہ دیشی راہ داری استعمال کررہا ہے۔ حسینہ واجد لوگوں کی نظروں میں عزت و احترام کھو بیٹھی ہے۔ اس نے جنگی جرائم کا ٹربیونل قائم کرکے خوف و ہراس پیدا کرنے اور اگلے انتخابات سے قبل اپنے مخالفین کو ٹھکانے لگانے کا جو فیصلہ کیا ہے، وہ خاصا خطرناک قدم ہے۔ (ہفت روزہ Blitz، ۴ دسمبر ۲۰۱۱ئ)
بنگلہ دیش کے معروف صحافی انوار حسین مانجو (جو مجلس قانون ساز کے ممبر اور وزیر بھی رہے ہیں اور بنگلہ دیش کے لیجنڈ صحافی تفضل حسین عرف مانک میاں کے فرزند ہیں) نے کہا ہے کہ ملک کے اندر حسینہ واجد حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ایک بغاوت کی کیفیت عوام میں پیدا ہوگئی ہے۔ عوام الناس آج ہر مجلس میں یہ کہہ رہے ہیں کہ ملک میں سیاست نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی، محض لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔ بنگلہ دیش کی عدالتوں کے بارے میں آج وکلا اور ماہرینِ قانون یہ کہہ رہے ہیں یہ عدالتیں انصاف کرنے کے بجاے حکومتی تیور دیکھ کر فیصلے صادر کررہی ہیں۔ (ایضاً)
عالمی ذرائع ابلاغ بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ ٹربیونل انصاف کے لیے قائم نہیں کیا گیا بلکہ حکمران اپنے راستے سے مخالفین کو ہٹانا چاہتے ہیں۔ بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے اشرف الزمان خان، جو ان دنوں امریکا میں مقیم اور گرین کارڈ ہولڈر ہیں، ان پر بھی فردِ جرم عاید کرنے کے لیے استغاثہ نے کیس ٹربیونل میں پیش کر دیا ہے۔ ایک دوسری معروف شخصیت معین الدین چودھری جو برطانوی شہری ہیں، انھیں بھی البدر کا کمانڈر ہونے کے الزام کے تحت اسی فردِ جرم کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔ نیویارک ٹائمز (۳۰ نومبر ۲۰۱۱ ئ) میں ٹام فیلکس جے نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان لوگوں کو ان کی غیر حاضری میں سزا سنادی جائے گی۔ مضمون نگار نے تفصیلاً لکھا ہے کہ بہاری آبادی پر ڈھائے جانے والے مظالم کا تو کوئی تذکرہ نہیں، البتہ بنگالی آبادی کے قتل عام کا بہت غلغلہ ہے۔ مضمون نگار کے بقول: انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ رکھا جائے تو ان پر یہ الزام ثابت کرنا خاصا مشکل ہے۔ مضمون نگار نے لکھا ہے کہ ۱۷۷۵ ایسے افراد کی فہرست غیر جانب دار لوگوں نے تیار کی ہے جن میں عوامی لیگ سے تعلق رکھنے والے افراد بھی مجرم قرار دیے گئے ہیں۔ مضمون نگار نے ایم اے حسن نامی ایک سماجی کارکن کا حوالہ دیا ہے جس نے جنگی جرائم کے حقائق جمع کیے ہیں، اس کے مطابق اگر جرم کا ارتکاب ہوا ہے تو مجرم دونوں جانب ہیں مگر طرفہ تماشا یہ ہے کہ قانونی کارروائی (انتقامی) یک طرفہ ہورہی ہے۔
ڈیلی سٹار ڈھاکہ (۱۲ دسمبر ۲۰۱۱ئ) کے مطابق مولانا دلاور حسین سعیدی کے خلاف حوالدار محبوب العالم کی گواہی پر مولانا کے وکیلِ دفاع بیرسٹر میزان الاسلام نے ایک دستاویز عدالت میں پیش کی، جس کے مطابق حوالدار نے وزیراعظم کی خدمت میں پیروج پور کے ڈپٹی کمشنر کی وساطت سے ایک درخواست پیش کی کہ اسے مکان تعمیر کرنے کے لیے سرکاری خزانے سے امداد دی جائے۔ جب حوالدار پر جرح کی گئی تو استغاثہ کے وکلا نے شور مچایا کہ یہ دستاویز جعلی ہے اور ٹربیونل کے چیئرمین جسٹس نظام الحق نے سماعت اگلے دن تک ملتوی کردی۔ یہ ٹربیونل کا جو ڈھونگ رچایا گیا ہے، کچھ معلوم نہیں کہ اس سے کیا برآمد ہوگا؟ نیوز ویک نے ۲۳دسمبر کے شمارے میں بنگلہ دیش پر خصوصی نمبر شائع کیا ہے۔ بحیثیت مجموعی تمام مضامین بنگلہ دیش کی تخلیق ہی کے حوالے سے لکھے گئے ہیں، مگر بین السطور جگہ جگہ ٹربیونل اور اس کی انتقامی کارروائیوں کا حوالہ بھی ملتا ہے۔
بنگلہ دیش کے حالات سے باخبر اہلِ دانش کی راے ہے کہ عالمِ عرب میں طویل خاموشی اور مردنی کے بعد جو بیداری کی لہر اُٹھی ہے، اس نے ساری مسلم دنیا پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ بنگلہ دیش کے عوام سیاسی لحاظ سے بہت پختہ اور کئی تجربات کے حامل ہیں۔ موجودہ گھٹن کے نتیجے میں یہاں بھی بنگالی بہار کا سماں پیدا ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’بعض اوقات تم کسی چیز کو ناپسند کرتے ہو مگر اس میں تمھارے لیے بھلائی (پنہاں) ہوتی ہے‘‘۔
عالم اسلام میں طویل عرصے تک آمریت وملوکیت اور مارشل لاؤں کی سیاہ رات چھائی رہی ہے۔ عرب دنیا تو بالخصوص بنیادی حقوق سے مکمل طور پر محروم کردی گئی تھی۔اس سال کے آغاز سے تیونس سے شروع ہونے والی انقلابی لہر نے دیکھتے ہی دیکھتے تمام عرب ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔تیونس، مصر او رلیبیا سے آمریت کا خاتمہ ہوا اور شام اور یمن انقلاب کے دہانے پر کھڑے ہیں۔اب تک تیونس کا انقلاب ایک مرحلہ طے کرکے اگلے مراحل میں داخل ہوچکا ہے۔
حکومت سازی کے لیے حالیہ گفت و شنید کے دوران البتہ نامزد وزیر اعظم جناب الجبالی کی طرف ایک تبصرہ منسوب کیا گیا ہے کہ انھوں نے اپنی پارٹی کے ایک اجلاس میں اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ ان شاء اللہ ہم چھٹی خلافت راشدہ قائم کرنے کے مرحلے میں ہیں۔ التکاتل پارٹی کے نمایندے حُمَیس کَسِیْلہ نے رائٹر کے مطابق اس بیان کو بنیاد بنا کر یہ الزام لگایا ہے کہ نہضت بنیادپرستی کی طرف گامزن ہے۔ اگرچہ ابھی تک انھوں نے باہمی مذاکرات کے بائیکاٹ کا اعلان نہیں کیا مگر یہ خدشہ ظاہر کیا کہ ممکن ہے اس صورت حال میں مخلوط حکومت بنانے اور دستور سازی کے مرحلے میں اتفاق نہ ہوسکے۔ اسلامی پارٹی کے سربراہ نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ آئیڈیلز کا تذکرہ اور چیز ہے اور معروضی حالات میں سب کے جذبات کا احترام دوسری بات۔ ہم اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ سب کو ساتھ لے کر چلا جائے لہٰذا کسی کو خائف ہونے کی ضرورت نہیں۔
اخوان کی قائم کردہ پارٹی حزب الحریۃ والعدالۃ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر سعد الکتاتنی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سابق صدر کی کالعدم نیشنل پارٹی کو عبوری عسکری کونسل کی تائید حاصل ہے، جس سے حکومت کی غیر جانب داری مشکوک ہوجاتی ہے۔ اس دوران مصر میں ۱۹سال کے بعد میڈیکل ایسوسی ایشن کے قومی اور علاقائی انتخابات منعقد ہوئے ہیں، جس میں پہلی مرتبہ حکومت کی مداخلت کے بغیر ڈاکٹروں نے اپنی راے کا اظہار کیا ہے۔ اس میں اخوان کے امیدوار ڈاکٹر محمدخیری عبدالدائم مرکزی صدر منتخب ہوئے ہیں، جب کہ مجلس عاملہ کی بیش تر نشستیں بھی اخوان ہی کو ملی ہیں۔ ۲۷ صوبائی دارالحکومتوں میں سے ۱۵ میں اخوان کے ارکان صدر، سیکرٹری اور مجلس عاملہ کی اکثریتی نشستوں پر کامیاب ہوئے ہیں۔ ان انتخابات کے بعد ہی حسنی مبارک کی کالعدم پارٹی کو بحال کرنے اور ان کے نمایندوں کو انتخاب میں جانے کی عدالتی کارروائی سامنے آئی ہے۔ المجتمع نے قاہرہ سے محمد جمال عرفہ کا ایک تجزیہ اور اپنے نمایندے کی ایک رپورٹ شمارے ۱۹۷۴ء، ۲۲-۲۸ اکتوبر‘ میں شائع کی ہے جس میں بہت سی تفصیلات سامنے آئی ہیں کہ مصر میں آزادانہ انتخابات کی صورت میں اخوان ان شاء اللہ بڑی قوت بن کر ابھریں گے۔
لیبیا کے عوام طویل آمریت کے مظالم برداشت کرنے کے باوجود اسلام پر کاربند رہے ہیں اور تاریخی لحاظ سے سنوسی دور سے لے کر اب تک لیبیا میں گھر کا ماحول اسلامی اقدار کا محافظ رہا ہے۔ اب یہاں اگلے مراحل میں قوم کا کڑا امتحان ہوگا۔ ایک جانب قذافی کی باقیات بھی ابھی تک بعض علاقوں میں موجود ہیں۔ مغربی سوچ رکھنے والے عناصر بھی میدان سیاست میں منظم ہورہے ہیں اور قبائلی سردار بھی نئے سیاسی سیٹ اپ میں اپنا حصہ طلب کر رہے ہیں۔ ان سب کے درمیان اسلامی سوچ رکھنے والے لوگ اگرچہ تعداد میں زیادہ ہیں مگر ابھی تک ان کی کوئی منظم تحریک سامنے نہیں آسکی۔ اگرچہ الاخوان المسلمون لیبیا کے نام سے تحریک نہ صرف موجود ہے بلکہ عبوری کونسل میں بھی شامل ہے لیکن ان کی پالیسی یہی ہے کہ اپنی شرکت کو زیادہ نمایاں نہ کیا جائے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ لیبیا میں اخوان کے اثرات پائے جاتے ہیں اور تیونس و مصر کی تبدیلیاں لیبیا کے عوام کو بھی متاثر کریں گی۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو مگر یہ ایک لحاظ سے اسلام دشمن مقامی و عالمی قوتوں کو خبردار کرنے کی بھی سازش ہوسکتی ہے۔ المجتمع کے تجزیہ نگار عبدالباقی خلیفہ نے لیبیا کے انقلاب کے بعد کی صورتِ حال کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ قذافی نے ۲ سو ارب ڈالر ملک سے باہر مختلف ممالک میں منتقل کیے تھے۔ اب مغرب کی نظریں لیبیا کے قدرتی وسائل کے علاوہ ان رقوم پر ہیں جو سابق حکمران اور اس کے خاندان نے مختلف اکائونٹس میں جمع کرا رکھی ہیں۔ تجزیہ نگار کے بقول لیبیا کے عوام اسلام سے بہت قریب ہیں مگر ابھی تک صورتِ حال واضح نہیں۔ مغربی قوتیں لیبیا کو تقسیم کرنے کی سازشیں بھی کر رہی ہیں اور لیبیا میں کئی ایک متحارب قوتیں موجود ہیں، جو مسلح بھی ہیں۔ خدا نہ کرے کہ ان کے درمیان پھر کوئی خون ریزی شروع ہو جائے اور آمریت کے بعد کا سہانا خواب بدقسمتی سے چکنا چور ہو جائے۔ (المجتمع، شمارہ ۱۹۷۵، ۱۹؍اکتوبر تا۴ ؍نومبر۲۰۱۱ء)
عرب لیگ نے یکے بعد دیگرے اپنے تین اجلاسوں میں شامی حکومت کوفی الفور تشدد بند اور اپوزیشن سے مذاکرات کرنے کی قرار دادیں منظور کی ہیں۔ ان قرار دادوں پر ماسواے شام، لبنان اور یمن کے تمام عرب ممالک متفق تھے۔ رباط میں ہونے والے لیگ کے آخری اجلاس مورخہ ۱۶ نومبر ۲۰۱۱ء میں عرب لیگ نے پھر شام کے خلاف قرارداد منظور کی ہے اور اس کے معاشی بائیکاٹ کی بھی حمایت کی ہے۔ اس اجلاس میں شام شریک نہیں ہوا تھا۔ ترکی کے وزیر خارجہ احمددائود اوغلو خصوصی دعوت پر اجلاس میں شریک تھے۔ انھوں نے بھی وہاں اعلان کیا کہ ترکی نے شام کو اسلحے کی سپلائی پر پہلے ہی پابندی لگا دی ہے اور اب شام کے ساتھ تجارتی تعلقات منقطع کرنے اور اس کو بجلی کی ترسیل بھی بند کرنے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ دمشق میں بشارالاسد کے نصیری حامیوں اور حکومتی کارندوں نے فرانس، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ترکی کے سفارت خانوں پر حملے کیے اور ان ممالک کے پرچم جلائے۔ اس پر ترک صدر، وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے سخت ترین الفاظ میں احتجاج کیا اور شام کو نتائج و عواقب کی وارننگ دی۔ ساتھ ہی مطالبہ کیا کہ شامی حکومت فی الفور اس جرم پر معذرت کرے۔ چنانچہ شام کے وزیر داخلہ نے اس پر معذرت کی ہے۔ فرانس اور دیگر ممالک نے بھی احتجاج کیا ہے اور اپنے سفیروں کو واپس بلالیا ہے۔(روزنامہ ڈان، ۱۶ نومبر ۲۰۱۱ء)
او آئی سی کے اجلاس میں بھاری اکثریت سے مسلمان ممالک نے یہ قرار داد منظور کی کہ بشار الاسد ہوش کے ناخن لیں اور خود کو کرنل قذافی جیسے انجام سے بچا لیں۔اجلاس کے بعد او آئی سی کے سیکرٹری جنرل اکمل الدین احسان اوغلونے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ شامی صدر کی ہٹ دھرمی ان کے لیے ہی نہیں پورے ملک اور خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔ اسرائیل سے متصل یہ مسلمان ملک ایک حساس مقام کا حامل ہے اور بحالات موجودہ عالمی جنگ کا اکھاڑا بھی بن سکتا ہے۔ بشار الاسد کی آہنی گرفت کے باوجود تجزیہ نگار رابرٹ فسک کو دمشق ٹی وی نے ایک تجزیاتی پروگرام میں مدعوکیا تو اس نے شامی صدر کو بے لاگ انداز میں اپنے غلط موقف کو بدلنے کی تلقین کی۔ اس نے بتایا کہ بشار الاسد کے بعض فوجی، مظاہرین کے ساتھ مل گئے ہیں۔ انھوں نے آزاد شامی فوج کے نام سے ایک حکومت مخالف محاذ بھی قائم کر لیا ہے مگر کلاشنکوف اور رائفلوں سے بکتر بند گاڑیوں کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ بکتر بند دستے جب بغاوت کریں گے تو دھڑن تختہ ہوجائے گا۔(ڈان، بحوالہ انڈی پنڈنٹ، ۱۶؍نومبر ۲۰۱۱ء)
حکومت مخالف جماعتوں نے شامی قومی کونسل بھی تشکیل دی ہے۔ اس کے ۷۱؍ارکان میں سے ۳۴؍ اخوانی ہیں۔ گویا اخوان المسلمون کے اثرات نمایاں ہیں لیکن سیکولر عناصر سخت قوانین کے نفاذ کے خلاف ہیں۔ تاہم اس اختلاف کے باوجود عوامی مزاحمت آگے بڑھ رہی ہے۔ یورپی یونین، ناٹو ممالک اور او آئی سی سبھی نے بشار الاسد کے مظالم کی مذمت کی ہے۔ شام کی حمایت کرنے والے ممالک میں ایران، لبنان، روس اور چین شامل ہیں۔ المجتمع کی تجزیہ نگار سیدہ فادی شامیہ نے بیروت سے لکھا ہے کہ لبنان حکومت حزب اللہ کے زیر اثر شام کی نصیری حکومت کا ساتھ دے رہی ہے، مگر لبنانی عوام منقسم ہیں۔ کچھ اپنی حکومت کے ساتھ ہیں اور نصف سے زائد شامی عوام کے حامی ہیں۔ اگر شامی حکومت گرے گی تو لبنان کی موجودہ حکومت بھی برسراقتدار نہیں رہ سکے گی۔ (المجتمع، کویت، شمارہ ۱۹۷۴، ۲۲-۲۸؍ اکتوبر ۲۰۱۱ء)
یمن میں اسلامی تحریک حزب الاصلاح الاسلامی کے راہ نما شیخ صادق الاحمر نے کہا ہے کہ صدر صالح حواس کھو بیٹھے ہیں۔ ان کی زبان سے جھوٹ کے سوا کچھ برآمد نہیں ہو رہا اور ملک پر عملاً ان کی حکومت ختم ہوچکی ہے۔ ان کا وجود محض سرکاری ٹیلی ویژن، ریڈیو اور صدارتی محل تک محدود ہوگیا ہے۔ اقوام متحدہ کے نمایندے جمال بن عمر جو دو ہفتے صنعا میں صدر صالح کو اپنے وعدوں کا پاس کرنے کی تلقین کرتے رہے، بالآخر ناکام واپس چلے گئے ہیں۔ صنعا سے المجتمع کے نمایندے عادل امین نے اپنے تجزیے میں لکھا ہے کہ صدر صالح پر اب کوئی آدمی اعتماد نہیں کرتا۔ انھوں نے سیاسی راہ نما محمد قحطان کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس شخص کا جھوٹ اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا کہ تین مرتبہ اس نے اعلان کیا کہ وہ خلیجی کونسل کے فیصلے پر دستخط کر دے گا مگر ہر دفعہ وہ اس سے مکر جاتا رہا۔ تجزیہ نگار کا خیال ہے کہ صدر کا انجام وہی ہوگا جو لیبیا کے معمر قذافی کا ہوا ہے۔ اگر حکومت کے گرنے کے بعد یہاں آزادانہ انتخابات ہوتے ہیں تو یمن کی اسلامی تحریک التجمع الیمنی للاصلاح کے سب سے بڑی پارلیمانی پارٹی کے طور پر کامیاب ہونے کے امکانات تمام مغربی اور عربی تجزیہ نگاروں کے رشحاتِ قلم میں پڑھے جاسکتے ہیں۔
یمن کی حریت پسند خاتون توکل کِرمان کو امن کا نوبل پرائز ملا ہے۔ یہ الاصلاح کی رکن شوریٰ اور تحریک حریت میں اگلی صفوں میں کام کرنے والی خاتون ہیں۔ ان کے انعام کی خبریں مغربی اور عربی ذرائع ابلاغ میں بہت نمایاں طور پر عوام تک پہنچتی رہی ہیں۔ سڑکوں پر نکلنے والے عوام اور نوجوان زیادہ تر اسلامی تحریک کے ارکان اور مؤیدین ہوتے ہیں۔ المجتمع کے شمارہ ۱۹۷۳ اور ۱۹۷۴میں صنعا سے عادل امین نے بہت تفصیلی رپورٹس بھیجی ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اب جلد ہی یمن میں آمریت کا باب ختم ہونے والا ہے۔ امید ہے تیونس کی طرح یمن سے بھی ان شاء اللہ اہل ایمان کو خوش خبریاں ملیں گی، وباللّٰہ التوفیق۔
عالمِ عرب میں برپا ہونے والے انقلاب کے بارے میں مغرب اور سیکولر عناصر کا یہ دعویٰ تھا کہ یہ ظلم و ناانصافی، آزادیِ اظہار پر پابندی اور معاشی استحصال کے خلاف ردعمل ہے، اس کا اسلام یا اسلام پسندوں سے کوئی تعلق نہیں۔ دوسری طرف یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ اسلام پسند آگئے تو سخت قوانین نافذ کریں گے، پابندیاں عائد کریں گے بالخصوص خواتین کے حقوق پر زد پڑے گی۔ لیکن تیونس کے انتخابات نے یہ بات واضح کردی کہ ’عرب بہار‘ دراصل اسلامی انقلاب کی طرف پیش رفت ہے۔ عوام نے اسلام پسندوں کے حق میں ووٹ ڈالا ہے اور تیونس میں النہضت کے کامیاب ارکان میں نمایاں تعداد خواتین ارکان کی ہے۔ اسلامی تحریکیں جبر کے بجاے سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہیں اور اعتدال پسندی، رواداری اور انصاف جیسی اسلامی روایات کو آگے بڑھاتے ہوئے معاشرے میں بتدریج تبدیلی لانا چاہتی ہیں۔ اسلامی تحریکوں کی اس حکمت عملی اور اعتدال پسندی کی روش کی بناپر مغربی اسکالر بھی یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ اب اسلامی تحریکوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
روس یورپ کا سب سے بڑ ا ملک ہے۔ اسے کمیونزم کی پہلی سرکاری تجربہ گاہ ہونے کا ’شرف ‘ بھی حاصل ہے ۔ ۱۹۹۱ء سے قبل یہ سوویت یونین (USSR) کہلاتا تھا۔ گرم پانیوں تک پہنچنے اور اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جب اس نے افغانستان کا رخ کیاتو عملًا اس کی منزل بحرِ ہند اور بحیرہ عرب پر واقع پاکستان اور دیگر ہمسایہ مسلم ممالک کے ساحل تھے۔ افغانستان کی طویل تاریخ نے ہردور میں اور ہر مرتبہ جارح قوتوں کے بارے میں جوفیصلہ کیاتھا دورِجدید کی تاریخ نے ایک بار پھر اس کا منظر دیکھ لیا۔ سوویت یونین اپنی ساری اندھی طاقت کے باوجود افغان مجاہدین کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوا۔ قدرت کا کرشمہ دیکھیے کہ شکست محض افغانستان کی سرزمین تک ہی محدود نہ رہی ، دریاے آموکے اس پار بھی تمام مقبوضہ ریاستیں افغان مجاہدین کی ضرب کاری کے نتیجے میں روس کے چنگل سے نکل کر آزادی سے ہم کنار ہوگئیں ۔ پھر ساری دنیا نے بچشمِ حیرت دیکھا کہ دیکھتے ہی دیکھتے وسط ایشیا ہی نہیں پورا مشرقی یورپ جو روس کے پنجۂ استبداد میں جکڑا ہوا تھا ، بھی انگڑائی لینے لگا۔ اس جبریت کی مالا یوں ٹوٹی کہ سارے دانے بکھرگئے ۔ ظلم و بربریت کے بہت سے مظاہر شکست و ریخت سے دوچار ہوئے ۔ جرمنی کی دیوار برلن بھی ٹوٹ گئی ۔ سابق سوویت یونین/ روس کی آبادی ۲۵،۲۶ کروڑ سے گھٹ کر ۱۳ کروڑ پرآگئی اور اس کا جغرافیہ بھی آدھے سے کچھ کم ہو کر اس کے فولادی ہاتھوں سے نکل گیا ۔
کمیونزم کے پون صدی پر محیط استبدادی دور (۱۹۱۷ء تا ۱۹۹۱ئ) کے دوران اس کی سرحدوں کے اندر اسلام کا نام لینا ممنوع تھا ، مسجدیں مقفل تھیں اور وسط ایشیائی ریاستوں کی مسلمان آبادیاں آزادی سے نئی نسلوں تک کلمہ توحید پہنچانے کے قابل نہیں رہی تھیں ۔ والدین راتوں کو چھپ چھپاکر اپنے گھروں کے بند کمروں میں سرگوشی کے اندازمیں اپنے چھوٹے بچوں کو کلمہ او رنماز پڑھاتے تھے ، مگریہ تھے ہی کتنے ؟ یوں سمجھیں آٹے میں نمک کے برابر۔ لینن ، سٹالن اور ان کے جانشینوں نے یکے بعد دیگرے ، بظاہر سوویت یونین سے مذہب، بالخصوص اسلام کو دیس نکالا دے دیا تھا، مگر حقیقت یہ ہے کہ اسلام مرجھاجانے والا پودانہیں بلکہ انتہائی سخت جان اور اپنی بقا کے لیے ہمہ تن فکر مند، مضبوط ترین جڑوں پر کھڑا وہ تنا ور درخت ہے کہ جس کی کوئی شاخ سوکھ بھی جائے تو اس کے تنے سے نئی شاخیں او رشگوفے پھوٹنے لگتے ہیں ۔سٹالن نے بڑے طمطراق سے کہا تھا کہ ہم نے ’روایتی خدا‘ کو روس کی سرحدوں اور فضاؤں سے نکال باہر کیا ہے۔ خروشیف نے اپنے دور میں بڑہانکتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہوا بازوں نے آسمان کی بلندیوں اور فضاکی پہنائیوں میں جاکر مشاہدہ کیا ہے کہ مذہبیت کے علَم برداروں کا خد ا کہیں موجود نہیں ۔ یہ اور ایسے سب کفریہ کلمات خالق کائنات اپنے بڑے ظرف کی وجہ سے برداشت کرتا ہے ،مگر اس کی پکڑ آنے کے بعد یہ کفر بکنے والے پانی کے ایک بلبلے سے زیادہ کوئی وقعت نہیں رکھتے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہ ہرزہ سرائی کرنے والے مغرور شیطان ہر دور میں فنا کے گھاٹ اُتر جاتے ہیں اور حقیقت و صداقت اپنی جگہ موجود رہتی ہے اور مشکل ترین حالات میں بھی اپنا وجود برقرار رکھتی ہے ۔
جہاد ِافغانستان کے دور میں اسلامی لٹریچر آہنی دیواروں کو توڑ کر روسی سرزمین میںداخل ہوگیا تھا ۔ اس زمانے میں جب یہ رپورٹس نظر سے گزرتی تھیں تو بہت سے لوگ انھیں غیر مستند اور اکثر اسے مبالغہ آرائی سمجھتے تھے ۔آج کے روس میں تازہ ترین اعدادو شمار اور عالمی میڈیا پر آنے والے حقائق چشم کشا بھی ہیں اور ربع صدی پرانی ان رپورٹوں کی تصدیق بھی کرتے ہیں۔ آج روس کے دارالحکومت ماسکو کا ایک منظر مقامی مسلمانوں کی مشکلات اور مسائل کے باوجود بہت ہمت افزا اور حوصلہ بخش ہے ۔ اس ضمن میں حال ہی میں ماسکو سے ایک تجزیہ نگار ماریہ پانینا (Maria Panina) کا تجزیہ سامنے آیا ہے۔ وہ لکھتی ہے کہ ماسکو شہر جس کی کل آبادی ایک کروڑ ۵لاکھ ہے، میں مسلمانوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ۱۲ لاکھ ہے ۔ تاہم ان سرکاری اعداد وشمار کو مسلمانوں کی مؤثر قومی تنظیم کونسل آف مفتیان (Council of Muftian )نے مسترد کیا ہے اور انھوں نے مسلمانوں کی تعداد ۲۰ لاکھ قرار دی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہو ا کہ روسی دارالحکومت ماسکو میں مسلمان کم وبیش ۱۸، ۱۹ فی صد ہیں ۔ یہ یورپ کی تمام آبادیوں میں مسلمانوں کا سب سے بڑا تناسب ہے ۔ اسلام کو ختم کردینے کا اعلان کرنے والے کس قدر جھوٹے اور لغو دعوے کرتے رہے تھے۔ یہ سرکاری اعداد و شمار بھی خود اس پر تبصرہ کرنے کے لیے کافی و شافی ہیں۔ ان کے مطابق بھی مسلمان ماسکو کی آبادی کا ۱۲ بارہ فی صد تو ہیں!
ماسکو کے مسلمانوں کااس وقت ایک بہت بڑ ا مسئلہ یہ ہے کہ انھیں مساجد بنانے کی آزادی حاصل نہیں ہے ۔ ماسکو جیسے اتنے بڑے شہر اور اتنی بڑی مسلم آبادی کے لیے صرف چار مساجد ہیں۔ ان کے علاوہ مسلمان کئی چھوٹی موٹی جگہوں پر کسی نہ کسی طرح نماز کا اہتمام کرتے ہیں مگر چار جامع مساجد کے سوا کہیں نماز جمعہ ادا نہیں کرسکتے ۔ ماسکو کی سب سے بڑی مسجد سوبرنایا (Sobernaya) میں جمعہ کے روز ہزاروں کی تعداد میں نمازی آتے ہیں مگر مسجد اپنی وسعت کے باوجود تنگ پڑ جاتی ہے ۔ مسجد میں نماز یوں کو جگہ نہیں ملتی تو وہ مسجد سے ملحق گیلریوں ، دفاتر اور راہداریوں کو بھر لیتے ہیں۔ اس کے بعد باقی ماندہ لوگ مسجد سے ملحق سٹرکوں اور پارک میں صفیں بنانے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ جامع مسجد کے نمازیوں میں ہر عمر کے لوگ شامل ہوتے ہیں ۔ایک نمازی عبداللہ ہاشم ابراہیم ( ابراہیموف) کی عمر ۳۰ سال ہے ، اس نے اس مسئلے پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میںباقاعدہ اس مسجد میں جمعہ پڑھنے کے لیے آتا ہوں ۔اگر میں ذرا سا بھی لیٹ ہوجاؤں اور اذان کے قریب پہنچوں تو مجھے نماز پڑھنے کے لیے کہیں جگہ نہیں ملتی ۔ میںمایوس ہوکر مسجد کے باہر کوئی جگہ تلاش کرتا ہوں ۔ ہم نے مسجد کی توسیع کے لیے باقاعدہ درخواست بھی دے رکھی ہے ، مگر اس میں رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں۔
ماریہ پانینا کے بقول: ایک نمازی عاشور اشرف (عشورؤف ) کی عمر ۶۰ سال سے زائد ہے ، اس نے اپنے سرکے سفید نقرئی بالوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کس قدر زیادتی کی بات ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے ہمیں عبادت کی جگہ دینے میں بھی لیت و لعل سے کام لیا جارہا ہے۔ نمازِ جمعہ ہمارے دین میں بڑی اہمیت کی حامل ہے ۔ مسلمان اس فرض کی ادایگی کے لیے جوق در جوق مساجد کا رخ کرتے ہیں مگر یہاں پہنچ کر بہت سے نمازیوں کو مایوسی ہوتی ہے کہ مسجد میں جگہ ہی نہیں رہی۔ برف باری ہورہی ہو یا شدید طوفانی بارش ہم پورے شوق کے ساتھ اللہ کے گھر کی طرف آتے ہیں۔ مسجد کی توسیع کا مطالبہ کرکے ہم بھیک نہیں مانگتے، یہ ہمارا بنیادی شہری حق ہے ۔ انتظامیہ کو ہمارے اس مسئلے کو سرخ فیتے کے ذریعے روکنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔
اس جامع مسجد کے امام اور خطیب روس کے بڑے معروف عالم دین ہیں۔ ان کا نام حضرت مولانا علاؤ الدین (علاؤ دینوف) ہے ۔ انھوں نے اس مسئلے پر اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’اس مسجد کی توسیع کے لیے باقاعدہ رسمی کارروائی مکمل کی گئی ہے ۔ اس میں کسی قسم کا کوئی قانونی سقم نہیں ، لیکن چونکہ روس میں ہر جائز مطالبہ بھی رشوت کی آلودگی کا شکار ہو جاتا ہے ، اس لیے ساری کاروائی مکمل ہوجانے کے باوجود محض ایک بیوروکریٹ فائل پر سانپ بنا بیٹھا ہے ۔ اسے رشوت چاہیے، بھلا مسجد کی تعمیر وتوسیع میں ہم رشوت دیں؟‘‘
روس میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد جہاں مسلمانوں کو پھلنے پھولنے کے مواقع حاصل ہوئے وہیں قوم پرست عناصر نے بھی خوب پر پرزے نکالے ۔ وہ قوم پرستی کی عصبیت کو اتنا بھڑکاتے ہیں کہ یہ کئی مقامات پر نسلی فسادات کا سبب بن جاتی ہے ۔ امام علاؤ الدین نے اپنے ایک بیان میںکہا کہ ہماری بڑی مساجد کو توسیع کی حقیقی ضرورت ہے ، مگر ہم محض اس پر اکتفا نہیں کریں گے ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ہر کاؤنٹی اور مسلمان آبادی کے ہریونٹ میں لازماً ایک مسجد ہونی چاہیے ۔ سوبرنایا جامع مسجد کے ارد گرد بسنے والی آبادی کو بھی نسل پرستوں نے خوب بھڑکایا ہو اہے ۔ ان انتہا پسندوں کے ایک لیڈر میخائل بطریموف نے مسجد کی توسیع کی شدت سے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس وقت تو ہم مسجد کے گرد و نواح میں اپنے پالتو کتے، بلیاں لے کر خوب سیر سپاٹا کرلیتے ہیں ۔مسجد کے سامنے کھلی جگہ پر ہم باربی کیو، روسٹ اور کباب پارٹیاں بھی کرلیتے ہیں ۔ مسجد کی مزید توسیع ہوگئی تو ہم اس آزادی سے محروم ہوجائیں گے ۔کسی دن خطیب صاحب یہ بھی کہیںگے کہ یہاں تم گوشت روسٹ نہ کیا کرو کیونکہ ہمارے گوشت میں سب سے بڑا جز خنزیرہے اور ان اماموں کو پتا نہیں خنزیر سے کیوں شدید نفرت ہے‘‘۔ علامہ اقبال نے تقریباً ایک صدی قبل ابلیس کی زبانی یہ اعتراف کر ایا تھا کہ اسے مستقبل میں کسی اور سے کوئی خطرہ نہیں، صرف اسلام سے ہے۔ اسلام دراصل عمل کا نام ہے اور مسلمان جب عمل کی طرف مائل ہوتا ہے تو پھر وہ ناقابلِ شکست ہوجاتا ہے۔ اسی لیے ابلیس نے کہا تھا:
کب ڈرا سکتے ہیں مجھ کو اشتراکی کوچہ گرد
یہ پریشاں روزگار ، آشفتہ مغز ، آشفتہ مُو
جانتا ہے، جس پہ روشن باطنِ ایّام ہے
مزدکیّت فتنۂ فردا نہیں، اسلام ہے
قوم پرستوں کی حامی ایک این جی او جس کا مرکز ماسکو میں ہے ، سووا (SOVA )کے نام سے رجسٹرڈ ہے ۔ یہ خود کو تھنک ٹینک کے نام سے پیش کرتی ہے اور اپنے سروے اور تجزیے اسلام مخالف لوازمے کے ساتھ پبلک میں عام کرتی رہتی ہے ۔اس گروہ نے مسجد کے علاقے میں اپنا انتخابی امیدوار بھی میخائل بطریموف کو بنا رکھا ہے ۔ وہ اس علاقے ہی میں نہیںہر اس علاقے میں جہاں مسلمانوں کی آبادی ہے، انتخابات میں کاغذات ِنامزدگی داخل کروا دیتا ہے۔ اس کے پیش نظر یہ ہوتا ہے کہ کوئی مسلمان یا ان کا کوئی غیر مسلم ہمدرد کامیاب نہ ہوجائے ۔ ماسکو میں ایک جانب مقامی مسلمان ہیں اور دوسری جانب وسط ایشیائی ریاستوں میں سے بھی ہر ریاست کی نمایندگی کرنے والی آبادی یہاں مقیم ہے ۔ مسلمان اور قومیت پرست ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں۔
کمیونسٹ خاصے منتشر اور ایک لحاظ سے غیرفعال ہوگئے تھے۔ ۱۹۹۱ء میں سوویت یونین کے بعد سے اب تک حکومتی سطح پر بھی اور کمیونسٹ پارٹی کے پلیٹ فارم سے بھی اشتراکی ریاست کے بانی ولاڈی میرلینن کی سالگرہ اور برسی، نیز بالشویک انقلاب کا تاریخی دن منانے کی رسم تقریباً ختم ہوچکی تھی۔ ۲۰ برس کے وقفے سے اس سال پہلی مرتبہ سات نومبر کو لینن کی کامیابی کی ۹۳ویں سالگرہ منائی گئی ہے۔لینن نے ۲۵؍اکتوبر۱۹۱۷ء کو زارِ روس کے محل ونٹرپیلس سینٹ پیٹرزبرگ میں داخل ہوکر بالشویک انقلاب کا اعلان کیا تھا۔ بعد میں روس کا کیلنڈر بدلا گیا تو اس انقلاب کی تاریخ ۷ نومبر قرار پائی۔ اس سال پھر کمیونسٹوں نے ماسکو میں ایک ریلی نکالی اور ۷نومبر کو اپنے فعال ہونے کا ثبوت فراہم کیا۔ (روزنامہ نیوز، لاہور، بحوالہ اے ایف پی، ۸نومبر۲۰۱۰ئ)
ماسکو کے اس معاشرتی و مذہبی تناظر میں مسلم کمیونٹی، قومیت پرست روسی اور کمیونسٹ بلاک سبھی اس وقت ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ اس ماحول میں بعض غیر مسلم این جی او ز بھی سرگرم عمل ہیں جو غیر جانب داری سے اپنا نقطۂ نظر پیش کردیتی ہیں ۔ ایسی ہی ایک این جی او جو عالمی سطح پر معروف ہے ، ماسکو کارنیگی سینٹر کے نام سے رجسٹرڈ ہے ۔ اس کے ایک تھنک ٹینک الیکسی مالا شنکوف نے ایک تازہ رپورٹ میں اپنا تجزیہ پیش کیا تواس میں کہا کہ ماسکو کی مقامی آبادی کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ماسکوعام قسم کی کوئی چھوٹی موٹی بلدیہ نہیں بلکہ کاسموپولیٹن شہر ہے جہاں کم و بیش دنیا کی ہر نسل اور تمام مذاہب کے لوگ پائے جاتے ہیں ۔ تشدد اور عدم برداشت کا رویہ کسی صورت بھی پسندیدہ قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ تمام نظریات کی حامل آبادیاں اپنے بنیادی حقوق کا مطالبہ کرسکتی ہیں ۔ اس کی مخالفت تنگ نظری اور تعصب کے سوا کچھ نہیں کہلاسکتی ۔ ایک غیرمسلم اور غیر جانب دار این جی او کا یہ نقطۂ نظر ہماری راے میں یقینا خوش آیند ہے مگر سچی بات یہ ہے کہ اگر ماسکو کے مسلمان خود بیدار اور منظم نہ ہو چکے ہوتے تو کوئی این جی او اور تھینک ٹھینک ان خیالات کا اظہار نہ کرتا۔
پوری دنیا میں بے شمار تھنک ٹینکس اور این جی اوز سرگرم عمل ہیں مگر ان میں غیر جانبدار اور غیر متعصب بہت کم ہیں۔ غیر مسلم دنیا میں ایسے بیش تر ادارے مسلسل یہ منفی واویلا کررہے ہیں کہ اسلام جیسا خطر ناک مذہب دنیا میں بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے ۔ اس میںشک نہیں کہ قبولیت ِاسلام اور مسلم آبادیوں کی افزایش روز افزوں ہے ، مگر غیر مسلم اور متعصب حلقوں کو جو چیز قدرے سکون فراہم کرتی ہے وہ یہ ہے کہ مسلمان کہیں بھی حتی کہ آزاد مسلمان ملکوں میں بھی آزادانہ فیصلے نہیں کرسکتے ۔وہ غیروں کے محتاج اور دست نگر ہیں ۔ ان اسلام دشمن عناصر کو یہ بھی معلوم ہے کہ مسلمانوں کی آبادی بلا شبہہ بڑھ رہی ہے مگر اسلام کے حقیقی ، انقلابی پیغام کو اپنا دستور حیات بنانے والے تعداد میں نسبتاً بہت کم ہیں ۔ اس سارے کچھ کے باوجود علامہ اقبالؒ کے بقول کسی وقت بھی یہ شیر پھر ہوشیار ہوگا اور کفر کی بالادستی کو تہہ و بالا کردے گا، جس طرح ماضی میںاس نے دنیا کی نام نہاد سوپر پاور روما کی سلطنت کو اُلٹ دیا تھا۔ آج اگرچہ بظاہر گھٹاٹوپ اندھیرے ہیں مگر روشنی اور اُمید کی کرنیں بھی پھوٹ رہی ہیں اور کہیں سے یہ صدا ضرور سنائی دے رہی ہے ؎
نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو الٹ دیا تھا
سنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے، وہ شیر پھر ہوشیار ہوگا
عالمِ اسلام کی معروف تحریک الاخوان المسلمون پر ایک جامع اور تفصیلی مضمون برطانوی جریدے دی اکانومسٹ (۱۰؍اکتوبر ۲۰۰۹ء)نے شائع کیا ہے۔ مضمون نگار نے اپنے تجزیے میں مختلف عرب ممالک میں سرگرمِ عمل اخوان تحریک کی حقیقی مشکلات و مسائل اور درپیش چیلنجوں کا احاطہ کرنے کی بھی کوشش کی ہے اور بین السطور اپنے دل میں چھپی مخصوص تمنائوں اور آرزوئوں کا اظہار بھی کیا ہے۔ بلاشبہہ آج پورا عالمِ اسلام کفر کی یلغار اور نرغے میں ہے۔ اسلام دشمن قوتوں کا اصل ہدف اسلامی نظریۂ حیات اور قرآن و سنت کی تعلیمات پر مشتمل وہ حقیقی تصورِ دین ہے جس سے بحیثیتِ مجموعی امتِ مسلمہ کے انحراف اورحکمران ومترفین طبقات کے فکری اور عملی لحاظ سے غیرمسلم نظریات کے سانچے میں ڈھل چکنے کے باوجود دشمنانِ اسلام خوف زدہ ہیں۔
یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ امتِ مسلمہ کے درمیان احیاے دین اور نشاتِ ثانیہ کی تحریکیں مسلمان ممالک ہی میں نہیں، غیر مسلم ممالک میں بھی کسی نہ کسی انداز میں موجود ہیں۔ چومکھی لڑائی کا محاورہ پوری آب و تاب کے ساتھ آج اسلامی تحریکوں کی جدو جہدپر منطبق ہوتا نظر آتا ہے۔ آج امتِ مسلمہ کو درپیش خطرات بیرونی بھی ہیں اور اندرونی بھی۔ اندرونی خطرات سیکولر اور مغرب نواز حکمرانوں کے بھی پیدا کردہ ہیں اور نام نہاد سیکولر اہلِ دانش (intelligentsia) بھی اسلامی اقدار کے خلاف پورے لا ؤ لشکر کے ساتھ محاذ پر موجود ہیں۔ یہاں تک تو بات قابلِ فہم ہے لیکن اس سے اگلا مرحلہ یہ ہے کہ خود اسلام کا نام لینے والوں کے درمیان کئی مختلف اللّون لہریں اُٹھا دی گئی ہیں، جن کا آپس میں کوئی تال میل نہیں بلکہ بعض اوقات تو وہ ایک دوسرے سے متحارب نظر آتی ہیں۔
انٹرنیشنل اور عالم عرب کے ممالک کی سطح پراخوان المسلمون فکری، اعتقادی اور عملی لحاظ سے بہت مضبوط بنیادوں پر قائم اسلامی تحریک ہے مگر عالمی اور مقامی میدانوں میں معروضی حالات نے اسے کئی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ اکانومسٹ کا تجزیہ نگار مختلف ملکوں میں اخوان کے بڑھتے ہوئے قدم رک جانے کا تذکرہ مزے لے لے کر کرتا ہے۔ دنیا بھر میں جن ممالک کے اندر کسی بھی انداز میں انتخابات ہوتے ہیں وہاں آگے بڑھنے اور پیچھے ہٹنے کی تمام کھلاڑیوں کے لیے کئی ایک وجوہات ہو سکتی ہیں۔ کبھی نشستیں کم ہوتی ہیں تو اگلے مرحلے میں زیادہ بھی ہو سکتی ہیں لیکن اکانومسٹ کے نمایندے نے اس تناظر میں بجا طور پر مختلف حکومتوں کی طرف سے اخوان کا ناطقہ بند کرنے کی مذموم کاوشوں کا بھی ذکرکیا ہے۔ ان ممالک میں سے اکثر میں انتخابات محض ایک ڈھونگ اور ڈراما ہوتے ہیں۔ مغرب نواز حکمران اپنی من مانی سے مخالفین کو کامیابی سے محروم کرنے کے لیے جو چاہیں کریں، مغربی دنیا خاموش تماشائی بنی رہتی ہے۔ اسی سے معلوم ہوجاتا ہے کہ جمہوریت کے یہ عاشقان اپنے دعووں میں کس قدر سچے ہیں۔
اخوان المسلمون کی بنیاد مصر میں ۱۹۲۸ء میں پڑی تھی، پھر وہاں سے یہ تحریک دوسرے ملکوں میں پھیلی۔ مصر کے بعد سب سے پہلے جس ملک میں یہ تنظیم قائم ہوئی وہ شام ہے۔ حالیہ برسوں میں سیاسی لحاظ سے جہاں اخوان کے متاثرین کو سب سے بڑی کامیابی حاصل ہوئی، وہ غزہ اور فلسطین ہیں۔ شامی حکومت اور غزہ و فلسطین کی تحریکِ آزادی حماس کے تعلقات آپس میں بہت قریبی اور دوستانہ ہیں۔ اس کی حقیقی وجہ شامی حکومت کی حماس سے محبت نہیں بلکہ علاقے کی معروضی صورتِ حال ہے۔ دوسری جانب حماس کو بھی اگرچہ شامی حکومت اور اس کی مجموعی سوچ کے علاوہ مقامی اخوان کے ساتھ اس کے رویے پر خاصے تحفظات ہیں مگر ان کی مجبوری اور مصلحت کا تقاضا ہے کہ وہ شام کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہ کریں۔ کسی عرب ملک نے انھیں اپنے ہاں وہ سہولیات فراہم نہیں کیں جو انھیں شام میں حاصل ہیں۔
شام کے جو علاقے جولان کی پہاڑیوں سمیت اسرائیل نے ۱۹۶۷ء کی جنگ میں قبضے میں لے لیے تھے اور جنھیں پوری ڈھٹائی کے ساتھ بعد میں اسرائیل کا حصہ بنادیاگیا، اس پر شامی حکومت اور عوام کو شدید قلق اور صدمہ ہے۔ اس لیے مصر اور اُردن کے برعکس شام کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات خاصے کشیدہ ہیں۔ حماس غزہ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی ناجائز ریاست اور اس کے ظالمانہ حملوں کا جس جرأت ودلیری کے ساتھ مقابلہ کر رہی ہے، اس کی بدولت اُمتِ مسلمہ کے بیدار مغز مسلمانوں کے نزدیک اسے ہیرو کا درجہ حاصل ہے۔ اندریں حالات شام کے اخوانی، شامی حکومت کے بے پناہ مظالم کی وجہ سے جس ابتلا و آزمایش سے گزر رہے ہیں، اس کی بنا پر انھیں جہاں شام کی نصیری حکومت سے شدید نفرت ہے، وہیں حماس اور شام کے باہمی تعلقات پر بھی وہ کبیدہ خاطر ہوتے ہیں۔ شام میں اخوان کی بنیاد ۱۹۴۵ء میں پڑی تھی۔ اس کے پہلے سربراہ عالمی شہرت کے حامل عالمِ دین اور دانش ور الشیخ ڈاکٹر مصطفی السباعی تھے۔ شام میں اخوانی سربراہ کو مراقبِ عام کہا جاتا ہے۔ جب اخوان نے اپنا عالمی تنظیمی ڈھانچا ترتیب دیا تو اس میں مصری تنظیم کے سربراہ (مرشدِعام)کو تنظیم کا عالمی قائد تسلیم کیا گیا، جب کہ شام اور دیگر علاقوں کے سربراہانِ اخوان بالعموم نائب صدر مقرر کیے جاتے ہیں۔ چونکہ عالمی تنظیم ایک ڈھیلے ڈھالے ڈھانچے پر مشتمل ہے، اس لیے شام کے مخصوص حالات کے بارے میں اس فورم پر بھی کبھی کبھار بحث و تکرار کی نوبت آجاتی ہے۔
شام میں اخوان نے اپنے قیام کے بعد جمہوری دور میں انتخابی عمل میں شرکت اور جمہوری اداروں کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا تھا۔ شامی اخوان عملاً منتخب اداروں میں نمایندگی کرتے رہے، حتیٰ کہ بعض اوقات انھیں مخلوط حکومتوں میں وزارتی ذمہ داریاں ادا کرنے کا موقع بھی ملا۔ ان کا یہ سلسلہ کامیابی سے آگے بڑھ رہا تھا کہ بدقسمتی سے ملک فوجی آمریت اور اس کے نتیجے میں یک جماعتی سیاست کی نذر ہو گیا۔ ۱۹۴۷ء، ۱۹۵۰ء، ۱۹۵۴ء اور ۱۹۶۲ء کے انتخابا ت میں شامی اخوان نے حصہ لیا اور دستور سازی کے عمل میں بھی ایوان کے اندر اور باہر فعال کردار ادا کیا۔ ۱۹۴۸ء میں مراقبِ عام الشیخ مصطفی ا لسباعی پارلیمنٹ کے رکن تھے، جنھیں ۱۹۴۹ء میں پارلیمان میں ڈپٹی سپیکر بھی منتخب کیا گیا۔ ۱۹۶۲ء کے انتخابات میں اخوان کے ۱۳ چیدہ چیدہ راہ نما پارلیمان میں منتخب ہو گئے۔ ان میں جناب عصام العطار، عمر الخطیب، زھیر الشاویش، محمد سعید العباد، طیب خواجہ، محمد علی مشعل، شیخ عبدالفتاح (ابوغدہ)اورڈاکٹر نبیل صبحی کے اسماے گرامی قابلِ ذکر ہیں جنھیں عا لمِ عرب کے تمام پڑھے لکھے لوگ جانتے ہیں۔ اخوان کے پارلیمانی گروپ کی کارکردگی اور اہلیت کی بنا پر کچھ دیگر آزاد ارکان بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے، یہاں تک کہ ان کی تعداد ۲۰ ہو گئی۔
مختلف حکومتوں میں جو شامی اخوان وزارتی ذمہ داریاں نبھاتے رہے ہیں ان میں خالدالعظم کی وزارتِ عظمیٰ میں جناب عمر الخطیب، ڈاکٹر نبیل اور احمد مظہر العظمہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ جب جمہوریت پر شب خون مارا گیا اور بعث پارٹی فوجی انقلاب کے نتیجے میں برسرِ اقتدار آئی تو شامی اخوان پر سرزمینِ شام تنگ کر دی گئی۔ نصیری انقلاب سے قبل بھی لادین قوتیں جن میں شامی عیسائی بہت پیش پیش تھے اسلامی شعائر کے خلاف کھل کر میدان میں آچکی تھیں۔ ان کی جسارت کا حال اس سے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ کھلے عام اپنے منشور میں بعث پارٹی نے اپنا عقیدہ یوں بیان کیا ؎
اٰمنت بالبعثِ رباً لا شریک لہ
و بالعروبۃ دیناً مالہ ثانی
(میں نے بعث پارٹی کو اپنا رب تسلیم کر لیا ہے اور اس میں کسی دوسرے کو شریک نہیں سمجھتا۔ عرب قومیت میرا دین ہے اور اس کا کوئی بدل نہیں)۔
یہ در اصل اس اسلامی شعر کا جواب ہے جس میں کہا گیا تھا ؎
اٰمنت باللہ رباً لا شریک لہ
و بالاسلام دیناً مالہ ثانی
اسلامی شعائر کے خلاف بغاوت دن بدن بڑھتی چلی گئی۔ بعث پارٹی کے دورِ حکومت میں بے شمار جرائم کا ارتکاب ہوا۔ شناختی کارڈ سے مذہب اور مسلم کا خانہ خارج کر دیا گیا۔ اوقاف کی تمام املاک کو اونے پونے داموں اپنے منظورِ نظر لوگوں کے ہاتھ بیچ دیا گیا۔ حافظ الاسد کے بھائی رفعت الاسدنے قتل و غارت گری کے ذریعے پورے ملک میں خوف وہراس کا ماحول پیدا کر دیا (بعد میں حافظ الاسد نے اپنے بھائی کو اپنے اور اپنی اولاد کے لیے خطرہ سمجھا تو اسے بھی راستے سے ہٹادیا گیا)۔تعلیمی نصاب سے اسلامی مضامین خارج کر دیے گئے۔ اسلامی شعائر کا مذاق سرکاری سرپرستی میں چلنے والے رسائل و اخبارات میں روزمرہ کا معمول بن گیا۔ مجلہ الفجر نے گدھے کا کارٹون بنا کر اس کے سر پر عمامہ پہنایا۔ مجلہ الشعیب میں لکھا گیا کہ (نعوذ باللہ)اللہ اور تصورِادیان کو میوزیم میں رکھوا دینا چاہیے۔ حلب، حمص اور دمشق میں تمام اخوانی رہنمائوںاور اہلِ علم کو جیلوں میں بند کر دیا گیا۔ ڈاکٹر حسن ہویدی، عبدالفتاح ابو غدہ، شیخ سعیدحوّٰی اور امین شاکر جیسی بلند پایہ شخصیات سال ہا سال جیلوں میں بند رہیں۔
اس دور سے شا می مسلمانوں کے لیے مشکلات پیدا ہونا شروع ہوئیں۔ ۸مارچ ۱۹۶۳ء ہی کو فوجی انقلاب کے ساتھ سیاسی پارٹیوں بالخصوص اخوان پر پابندی لگا دی گئی۔ تما م اسلامی رسائل وجرائد بند کر دیے گئے، منبر و محراب کی آزادی چھین لی گئی اور سیاسی آزادیوں کا باب مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔ اس عرصے میں عیسائی اور اشتراکی عناصر نے قومیت پرستوں کے ساتھ مل کر خود کو منظم کیا، فوج سے اسلامی ذہن رکھنے والے افسران کو چن چن کر نکالا گیا اورایک نصیری (علوی) جرنیل صلاح جدید کو ۲۳ فروری ۱۹۶۶ء کو فوج کے سربراہ کا منصب سونپ دیا گیا اور جرنیلوں کو وزارتوں کے قلم دان سونپ دیے گئے۔ اسی سال ایئر فورس سے تعلق رکھنے والے فوجی افسر حافظ الاسد کو وزیر ِ دفاع بنایا گیا۔ فوجی کونسل میں جو ملک کے سیاہ و سفید کی مالک قرار پائی، ۱۵ارکان تھے۔ ان میں پانچ نصیری، دو دروز، دو اسماعیلی اور چھے سنی ارکان تھے۔ بعد میں تین نصیری مزید شامل کیے گئے اور ان کے شامل ہوتے ہی ۱۹۷۰ء کا انقلاب برپا ہوا جس کے نتیجے میں حافظ الاسد (موجودہ صدر بشار الاسد کا والد) بلاشرکتِ غیرے ملک کا حکمران بن گیا۔ اس نے ۲۰۰۰ء تک بد ترین آمریت کے تحت حکومت کی اور اپنی موت سے پہلے اپنے بیٹے بشارالاسد کو تخت و تاج کا مالک قرار دے دیا۔
حافظ الاسد کے دور میں شام کے اندر اخوان پر بے پناہ مظالم ڈھائے گئے۔ جہاں کہیں اخوان نے احتجاج کیا، انھیں مسلح ایکشن کے ذریعے انتہائی سنگ دلی سے کچل دیا گیا۔ ہزاروں اخوان مردوخواتین جیل میں بند کردیے گئے۔ حلب کے شہر کو ۲۰ستمبر ۱۹۷۹ء میں شامی فوجوں نے یوں گھیرے میں لے لیا جیسے کوئی دشمن ملک اپنے مخالف پر چڑھ دوڑتا ہے اور اخوان کی بہت بڑی تعداد قتل کر دی گئی۔ دوسرے بڑے شہر حماۃ میں بھی ۱۹۸۲ء میں ایسے ہی ایک آپریشن کے ذریعے ہزاروں بے گناہ شہریوں کو موت کے گھاٹ اتاردیا گیا۔ آج تک اخوان کی ایک بڑی تعداد جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ جو لوگ ملک کے اندر موجود ہیں وہ یا تو جیلوں میں بند ہیں یا ان کے کاروبار بند کرنے اور انھیں ملازمتوں کے لیے نااہل قرار دینے کے بعد ان کا معاشی قتلِ عام کیا گیا ہے۔ داخلی طور پر یہ صورتِ حال بہت درد ناک ہے لیکن حماس کے قائد خالد المشعل اور ان کے قریبی ساتھی دمشق میں امن سے زندگی گزار رہے ہیں۔ انھیں یہ پناہ کسی دوسرے ملک میں نہیں مل سکتی۔ کوئی شک نہیں کہ شام کے سارے شر میںسے حماس کی حمایت کا یہ پہلو ہی خیر کا ایک مظہر ہے لیکن شامی اخوان شاکی ہیں کہ عالمِ اسلام اور ان کے اپنے بھائی بند انھیں فراموش کر بیٹھے ہیں۔ مغربی ذرائع بھی تسلیم کرتے ہیں کہ حماۃ شہر میں ۱۰ ہزار شہری موت کے گھاٹ اتار دیے گئے تھے۔ اکانومسٹ کے تجزیہ نگار نے اپنے مضمون میں بیان کیا ہے کہ اس سال اپریل میں اخوان نے شام کی اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد سے علیحدگی اختیار کر لی ہے، اور یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ شامی اخوان حکمران بعث پارٹی سے سودا بازی کے لیے پر تول رہے ہیں۔ شام میں چونکہ عوام کو جمہوری آزادیاں حاصل نہیں، اس لیے اخوان کی نمایندگی کہیں موجود نہیں۔ اگر عرب ملکوں میں حقیقی معنوں میں عوام الناس کو آزادانہ ماحول میسر آجائے تو مصر و شام دو ایسے ممالک ہیں، جہاں اخوان کو سیاسی میدان میں کوئی شکست نہیں دے سکتا مگر یہ مواقع کب میسر آئیں گے، کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ سرِدست تو مصر میں بھی اخوان پر مزید پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں اور ان کے سیکڑوں مؤثر لوگ جیل میں بند ہیں۔
اکانومسٹ کا نمایندہ بظاہر غیر جانب دارانہ تجزیہ پیش کرتا ہے مگر یہ بیان کرتے ہوئے اس کی خوشی ڈھکی چھپی نہیں رہتی کہ سابقہ انتخاب میں مصر میں ۸۵نشستیں حاصل کرنے والے اخوان کے ارکان جو آزاد نمایندگان کے طور پر جیتے تھے، آیندہ شاید پارلیمنٹ کا منہ نہ دیکھ سکیں۔ اس نے خود ہی یہ نتیجہ بھی اخذ کیا ہے کہ مصر میں اخوان کے مرشدِ عام محمد مہدی عاکف (عمر ۸۱سال) حالات سے دل برداشتہ ہو گئے ہیں اور انھوںنے آیندہ سال جنوری میں قیادت سے دستبرداری کا اعلان کر دیا ہے، جب کہ اس سے قبل تمام مرشد انِ عام تا دمِ آخر قیادت کرتے رہے ہیں۔ اس کے نزدیک اس روایت کو توڑنے کی وجہ بد دلی اور مایوسی ہے۔ یہ عجیب مغربی منطق ہے جس کی توجیہ سمجھ میں نہیں آتی۔ تاعمر قیادت اخوان کی ایک روایت ہے، یہ نہ ان کے دستور کی کوئی دفعہ ہے نہ یہ قرآن و سنت کا منصوص حکم۔ اخوان مشکلات کا شکار ضرور ہیں مگر ان کی صفوں میں کہیں کوئی مایوسی نظر نہیں آتی۔ مشکل ترین حالات میں بھی یہ لوگ پر عزم اور مستقل مزاج رہے ہیں۔
مذکورہ تجزیے میں بعض باتیں حقائق کے برعکس ہیں۔ کویت کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پچھلی اسمبلی میں حامیانِ اخوان کے چھے نمایندے تھے۔ اب انھیں صرف ایک سیٹ ملی ہے۔ مراکش میں اخوان کی فکر سے متاثر جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی مسلسل آگے بڑھ رہی تھی لیکن موجودہ بلدیاتی انتخابات میں چھے فی صد سے بھی کم کامیابی حاصل کرپائی ہے۔ سوڈان میں ڈاکٹر حسن ترابی کو حکومت نے اقتدار سے بہت دُور کر دیا ہے، جب کہ تجزیہ نگار کے مطابق اردن اور غزہ میں بھی اخوان کے سیاسی مستقبل کا ستارہ گردش میں نظر آتاہے۔ غزہ کی سابقہ ۲۲روزہ جنگ سے تجزیہ نگار کے بقول عام فلسطینی سخت نالاں ہیں کہ حماس نے بلاوجہ اسرائیل سے چھیڑخانی کرکے اپنے اور عوام کے لیے تباہی کا سامان فراہم کیا۔ یہ تجزیہ حقائق کے بالکل برعکس ہے۔ بہرکیف جہاں ایسے تجزیے مغرب کی مخصوص فکر کی عکاسی کرتے ہیں، وہیں یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ مسلمان معاشروں میں اسلامی سوچ کو جڑ سے اکھاڑپھینکنے یا کم از کم اتنا محدود کر دینے کا منصوبہ کہ وہ بے اثر ہو کر رہ جائے مغربی تھنک ٹینکس نے گذشتہ صدی ہی میں بنا لیا تھا۔ اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے مسلمان حکمرانوں کو خدمات سونپ دی گئی ہیں۔ ان حالات میں اسلامی تحریکوں کی ذمہ داریاں کئی گنابڑھ جاتی ہیں۔ اپنی صفوں میں اتحادبرقرار رکھنا اور اپنے کارکنان کے حوصلے بلند رکھنے کے لیے قلیل المیعاد اور طویل المیعاد منصوبہ بندی وقت کا تقاضا ہے۔ اسلامی تحریکوں کی قیادت یقینا ان تمام حالات سے باخبر بھی ہے اور چیلنج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ مغربی تجزیہ نگاروں کے تجزیے سے باخبر رہنے کے ساتھ ان سے فائدہ اٹھانے کی بھی ضرورت ہے۔
جہاں تک شامی اخوان کا معاملہ ہے، عالمِ اسلام کی جملہ اسلامی تحریکوں کو ان کے مسئلے کو زندہ کرنے کے لیے فکر بھی کرنی چاہیے اور ان کے حق میں آواز بھی اٹھانی چاہیے۔ حماس تو بے شک مجبور ہے کہ اسے بوجوہ کسی عرب ملک میں وہ سہولتیں حاصل نہیں جو شام میں حاصل ہیں۔ ان کی ضرورت ہے کہ انھیں فلسطین سے ملحق ممالک میں جاے پناہ مل جائے۔ چار ممالک ہی ایسے ہیں جو یہ جغرافیائی پوزیشن رکھتے ہیں۔ ان میں سے مصر اوراُردن تو کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے بعد سے اسرائیل کو تسلیم کر چکے ہیں اور فلسطین کی جدو جہدِ آزادی کے عملاً مخالف ہیں۔ لبنان کے اپنے مخصوص حالات اور مسائل ہیں۔ یہاں حزب اللہ اسرائیل دشمن ہے مگر اپنی مصلحتوں کے تحت اسے شام سے بھی بنا کر رکھنا پڑتی ہے۔ اس ملک میں حزب اللہ کی عسکری و سیاسی قوت ایک حد تک قابلِ ذکر ضرور ہے مگر وہ اقلیتی گروہ ہے۔ شام ہی ایک ایسا ملک رہ جاتا ہے جس نے حماس کو اپنے ہاں مہمان بنایا ہوا ہے اور بیرونی دبائو کے باوجود اس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ حماس کی حمایت ضرور ی اور فرض ہے مگر شامی اخوان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ایک معتدل اور متوازن پالیسی کے ذریعے حالات کا مقابلہ ممکن ہے اور یہی وقت کا تقاضا بھی ہے۔
وطنِ عزیزاسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین پاکستان کے تمام شہریوں کو بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ یہاں بسنے والی اقلیتیں اکثریتی آبادی کے ساتھ نہ صرف ہم آہنگ ہیں بلکہ جہاں تک سب سے بڑی اقلیت مسیحی برادری کا تعلق ہے، وہ معاشرتی اور اقتصادی لحاظ سے اکثریت کے ساتھ مشترکہ مفادات کی حامل ہے۔ دونوں آبادیوں کے درمیان فرقہ وارانہ منافرت کی فضا، اللہ کے فضل سے، کہیں نہیں پائی جاتی۔ بعض اوقات کچھ واقعات ایسے رونما ہوجاتے ہیں کہ جس کا بروقت سدّباب اور تدارک نہ کیا جائے تو وہ شعلۂ جوالہ بن جاتے ہیں۔ یہ واقعات اتفاقی بھی ہو سکتے ہیں اور ان کے اندر کسی سوچی سمجھی سازش کے امکانات بھی ہوتے ہیں۔
۳۰ جولائی ۲۰۰۹ء کو گوجرہ، ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایک ناخوش گوار واقعہ رونما ہوا،جو مسیحیوں کے خلاف مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے کا سبب بنا۔ پھر اسی ہفتے میں ۴؍ اگست کو مریدکے ضلع شیخوپورہ میں ایک اوردرد ناک سانحہ رونما ہوا، جس میں ہنگامہ کرنے والے بھی مسلمان تھے اور اس ہنگامے کی نذر ہونے والے بھی مسلمان۔ دونوں واقعات کی نوعیت الگ الگ بھی ہے اور ایک لحاظ سے یکساں بھی۔ گوجرہ کے واقعے میں، روزنامہ ڈان کی رپورٹ کے مطابق، چک نمبر ۹۵جے بی میں عیسائیوں کی بستی میں شادی کی کسی تقریب میں طالب مسیح کے بیٹے عدنان مسیح نے کرنسی نوٹوں کے ساتھ قرآنی آیات پر مشتمل اوراق مقدسہ کو بھی ہوا میں اُچھالا۔ یہ مبینہ واقعہ کتابِ مقدس کی بے حرمتی کے مترادف تھا۔ جوں ہی بے حرمتی کی یہ خبر بستی اور اس کے گردونواح کے دیہاتوں میں پہنچی تو لوگ مشتعل ہوگئے۔ اس دوران میں عیسائی آبادی سے لوگ گھر چھوڑ کر بھاگ گئے۔ مشتعل ہجوم نے کچھ خالی گھروں کو آگ لگائی مگر کوئی جانی نقصان اس میں نہیں ہوا۔ اس موقع پربڑے بزرگوںاور اصحاب الراے کا ایک جرگہ فوراً میدان میں آیا اور انھوں نے بڑی حکمت و دانش سے ایک جانب احتجاجی ہجوم کو کنٹرول کیا اور دوسری جانب متعلقہ عیسائی افرادسے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعے پر مسلمانوں سے معذرت بھی کریں اور آیندہ ایسا جرم نہ کرنے کی یقین دہانی کرائیں، مگر مذکورہ افراد طالب مسیح اور اس کے دیگر ساتھیوں مختار مسیح اور عمران مسیح نے اس واقعے کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے معذرت کرنے سے صاف انکار کردیا۔ اس پر اشتعال اور پھیل گیا مگر ڈان ہی کی رپورٹ کے مطابق ڈی پی او انکسار خان، مقامی ایم پی اے بلال اصغر وڑائچ اور ایک مقامی عالمِ دین مولانا نور احمد نے مشتعل ہجوم سے درخواست کی کہ وہ منتشر ہوجائیں۔ لوگوں نے اس موقع پر کہا کہ: ’’اگر ملزمان گرفتار کر لیے جائیں تو وہ منتشر ہوجائیں گے‘‘۔ ان ذمہ داران نے اس کا وعدہ کیا۔
لوگ تو منتشر ہوگئے مگر تعجب ہے کہ حکومت اور انتظامیہ نے اس معاملے میں نااہلی کا ثبوت دیا اور کوئی گرفتاری عمل میں نہ لائی گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اگلے روز جمعہ کی نماز کے بعد مختلف مساجد سے احتجاجی مظاہروں کے شرکا مین روڈ پر آئے، انھوں نے روڈ بلاک کی اور جب عیسائیوں کی بستی کی طرف بڑھنے لگے تو وہاں سے فائرنگ کی گئی۔ فائر کرنے والے کون تھے، یہ ابھی تک معلوم نہیں ہوسکا۔ عینی شاہدین اور علاقے کے سنجیدہ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ سات آٹھ نقاب پوش تھے، جن کے پاس کوئی ایسا آتش گیر مادہ تھا کہ وہ پہلے یہ مواد پھینکتے، پھر آگ لگاتے اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ آگ گھروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی۔ مقامی لوگوں کے مطابق جس طرح بے نظیربھٹو کے قتل پر جگہ جگہ خاص ٹیکنیک سے فوری آگ لگائی گئی تھی اور پھر جس طرح گذشتہ سال کراچی میں وکلا کو ان کے چیمبر میں جلایا گیا تھا، بالکل ایسا ہی انداز اس واردات میں بھی اختیار کیا گیا ہے۔ پڑوسی ملک کے بارے میں ہمارے حکمران بار بار یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اس کے ایجنٹ ہمارے ملک میں دخل اندازی کررہے ہیں۔ ممکن ہے یہ انھی کا کارنامہ ہو۔ عیسائی آبادی کے اکثر و بیش تر گھر تو خالی تھے لیکن جن گھروں میں لوگ موجود تھے وہ نکلنے میں کامیاب نہ ہوسکے کیونکہ آتش گیر مادہ ایسا سریع شعلہ انگیز تھا کہ اس نے فوراً ہی ہر چیز کو بھسم کر کے رکھ دیا۔
اس دوران میں توجہ طلب بات یہ ہے کہ مرکزی اور صوبائی وزرا دوست محمد کھوسہ، خلیل طاہر سندھو، کامران مائیکل، شہباز بھٹی اور این جی اوز کے کئی نمایندگان یہاں کے چکر لگاتے رہے مگر جرگے کے فیصلے کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کی طرف کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔ اگر ان لوگوں کو حراست میں لے لیا جاتا تو ایک جانب بہت سی قیمتی جانیں بچ جاتیں اور دوسری جانب مشتعل لوگوں کے جذبات بھی ٹھنڈے ہوجاتے اور قانونی و عدالتی کارروائی سے سب کا اطمینان ہوجاتا۔ عجیب بات یہ ہے کہ مرکزی وزیر اور عیسائیوں کے نمایندے شہباز بھٹی صاحب نے این جی اوز کی معیت میں اس واقعے کو بنیاد بنا کر تحفظ ناموس رسالت ایکٹ (۲۹۵سی) کے خلاف فضا پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اسی طرح صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ اور شہباز بھٹی نے اپنے اخباری بیانات میں کہا کہ قرآن پاک کی تو سرے سے کوئی توہین ہی نہیں ہوئی۔ ان غیر ذمہ دارانہ بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم بھی بعد از خرابیِ بسیار یہاں آئے۔ ان پر عالمی عیسائی تنظیموں اور این جی اوز نے بے انتہا دبائو ڈالا۔ یہاں آکراصحابِ اقتدار نے متاثرین کے لیے معاوضہ جات کا اعلان کیا مگر یہ مسائل کا حل، نہ کل تھا نہ آج ہے۔ اصل میں قانون کی حکمرانی اور انصاف کی عمل داری ہی سے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔
جہاں تک دفعہ ۲۹۵سی ، کا تعلق ہے تو حقیقت یہ ہے کہ توہینِ رسالتؐ کا یہ ایکٹ جہاں ایک جانب مقدس ہستیوں اور الہامی کتب و مقدسات کے تقدس کے لیے ضروری ہے، وہیں اس کے نتیجے میں لوگوں کی جان و مال کو بھی تحفظ ملتا ہے۔ اسی تناظر میں ایک مرکزی وزیر (براے حقوق انسانی) میاں ممتاز عالم گیلانی نے کہا ہے کہ حکومت توہینؐ رسالت قانون میں ترمیم کرنا چاہتی ہے۔ یہ بیان انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز ہے۔ وزیر موصوف کا مبلغ علم یہ ہے کہ انھوں نے پانچ الہامی کتابوں پر ایمان لانے کا فتویٰ صادر کیا۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی طرف سے مذہبی ہم آہنگی کے نام پر دفعہ ۲۹۵ سی کو تبدیل کرنے کا اعلان ہے۔ واضح رہے کہ یہ دفعہ تمام انبیاے کرام اور جملہ الہامی کتابوں کو تقدس فراہم کرتی ہے اور ہرگز مذہبی ہم آہنگی میں کسی قسم کی رکاوٹ اور رخنے کا باعث نہیں ہے۔
گوجرہ کا یہ سانحہ تو دو مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان تھا، جس پر این جی اوز اور سیکولر حلقے اپنی پرانی رٹ لگا رہے ہیں کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے لیکن مرید کے کا واقعہ تو اکثریت و اقلیت اور مسلم مسیحی آبادی کا معاملہ نہیں۔ لا قانونیت کے اس واقعے میں تو ایک نیک اور پرہیز گار مسلمان شیخ نجیب ظفر اور اس کی فیکٹری میں کام کرنے والا ایک غریب مسلمان مزدور مزمل شاہ بے ہنگم ہجوم کے ہاتھوں جان کی بازی ہار گئے۔ اس واقعے کے پیچھے چند شر پسند عناصر کا ہاتھ ہے۔ شیخ نجیب ظفر مریدکے، کے قریب کٹھیالہ ورکاں میں ایسٹ لیدر فیکٹری کے نام سے چمڑے کا کارخانہ چلا رہے تھے، اپنے کاروباری حریفوں، فیکٹری کے ایک شرپسند ملازم کی شرارت اور بعض مذہبی جہلا کی اشتعال انگیزی کے نتیجے میں اس حادثے کا شکار ہوئے۔ تفصیلات کے مطابق قاسم مغل نامی ملازم ورکرز یونین کا نمایندہ بن کر ملازمین کے معاوضوں میں اضافے اور خود اپنے مفادات کے لیے مہمات چلاتا رہتا تھا۔ اسے کارخانے کے مالک سے پرانی عداوت بھی تھی۔ اسی نے شیخ نجیب ظفر سے ملاقات کی اور وہاں سے باہر نکلتے ہی شور مچا دیا کہ کارخانہ دار شیخ نجیب ظفر نے کیلنڈر پر لکھی ہوئی آیاتِ قرآنی کی بے حرمتی کی ہے۔ موبائل فون کے علاوہ بستی کی مساجد میں جاکر بھی یہ اعلان کر وایا گیا اور غیر ذمہ دار مؤذنین اور آئمۂ مساجد نے بلاتحقیق یہ اعلانات کر دیے۔ شیخ نجیب ظفر کے جاننے والے تمام لوگ گواہی دیتے ہیں کہ وہ انتہائی نیک، مخیر اور متقی انسان تھا۔ اس کے خلاف شرپسندوں نے بے ہنگم ہجوم اکٹھا کیا اور فیکٹری پر ہلہ بول دیا۔ سیکورٹی گارڈ نے جب انھیں روکنا چاہا تو ہجوم نے فائرنگ شروع کردی۔ ایک سکیورٹی گارڈ مزمل شاہ اور فیکٹری کا مالک نجیب ظفر فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہوگئے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق نجیب ظفر کے جسم میں دو گولیاں پیوست ہوئی تھیں۔
پاکستان میں اس طرح کے دل دوز واقعات کئی بار وقوع پذیر ہوئے ہیں۔ ہمیں اچھی طرح سے یاد ہے کہ ۲۱؍ اپریل ۱۹۹۴ء کو گوجرانوالہ میں جماعت اسلامی کے بزرگ رکن مستری حبیب اللہ مرحوم کے ۳۶ سالہ حافظ قرآن بیٹے سجاد فاروق کو کھیالی میں شرپسندوں نے ایک ہجوم کی صورت میں حملہ کرکے شہید کر دیا تھا۔ وہ حافظِ قرآن بھی تھے اور جامعہ عربیہ گوجرانوالہ سے فارغ التحصیل ہونے کے علاوہ ہومیو پیتھک ڈاکٹر بھی تھے۔ نہایت نیک طینت اور ہمدرد، ہر وقت باوضو، پانچ وقت کے نمازی ،فارغ اوقات میں تلاوت قرآن میں ہمہ تن مصروف، کلینک پر آنے والے غربا کو مفت دوا دینا اور اپنے محلے میں غلط کاروں پر نظر رکھنا، ان کی صفات تھیں۔ علاقے کے کچھ شرپسند لوگوں نے ان پر الزام لگایاکہ انھوں نے قرآن پاک کی بے حرمتی کی ہے۔ اس صالح نوجوان کی خوبیوں کا تفصیلی تذکرہ اس کی شہادت پر کئی کالم نگاروں نے کیا۔ ہفت روزہ زندگی لاہور کی اشاعت ۳۰؍اپریل ۱۹۹۴ء میں ابو شیراز نے خود گوجرانوالہ میں اہلِ محلہ کی کثیر تعداد سے انٹرویو کرنے کے بعد جو مضمون لکھا، اس میں مرحوم کی زندگی ایک مثالی مسلمان اور سچے عاشقِ رسولؐ کی خوب صورت تصویر پیش کرتی ہے۔ فسادیوں کے حملے کے وقت حافظ سجاد سورۃ یٰسٓ کی تلاوت کر رہا تھا۔ ان واقعات کو بنیاد بنا کر دفعہ ۲۹۵ سی کے خلاف فضا بنانا شرپسندی اور اسلام دشمنی کے سوا کچھ نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے پرانے سانحات ہوں یا گوجرہ اور مریدکے میں ہونے والے تازہ واقعات، سبھی لا قانونیت کی بد ترین مثالیں ہیں۔ قانون ہاتھ میں لے کر اور عوامی ہجوم کے بل پر انصاف(Mob Justice) کا کوئی تصور اسلام میں ہے، نہ پاکستان کی دستوری و قانونی دستاویزات کے اندر اس کی کوئی گنجایش ہے۔ مریدکے میں تو شر انگیزوں کے ہاتھوں سب کچھ بلااشتعال ہوا ہے، جب کہ گوجرہ میں آتش زنی اور قتلِ انسانی کا بہت بڑا اور قابلِ مذمت جرم ہونے کے باوجود اس میں اشتعال کا ایک سبب موجود تھا، جس سے نکلنے کا راستہ جرگے نے متعین کیا تھا مگر حکومت اور انتظامیہ اپنے فرائض ادا کرنے میں بری طرح ناکام رہی۔
بعد از خرابیِ بسیار حکومت پنجاب نے لاہور ہائی کورٹ سے عدالتی تحقیقات کی درخواست کی تو ہائیکورٹ نے سیشن جج مقبول احمد باجوہ کو سانحۂ گوجرہ کی تحقیقات کی ذمہ داری سونپی۔ گوجرہ کے واقعے کی پوری اور تفصیلی تحقیق ہونی چاہیے۔ جن لوگوں کا جو جو جرم ہے، اس کا تعین اور اس جرم کے مطابق ملزموں کو عدالتی سزا ملنی چاہیے۔ جہاں تک مریدکے، کے سانحے کا تعلق ہے، اس میں ملزمان کی کافی حد تک نشان دہی ہوچکی ہے۔ شیخوپورہ کے ڈی پی او، رائے طاہر حسین نے وقوعہ کے روز ہی اخباری نمایندوں کو بتایا کہ ۲۴افراد موقع پر گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق اصل سرغنہ قاسم مغل کے علاوہ گائوں کی مسجد کا امام مولوی شبیر بھی اشتعال انگیزی کا سبب بنا۔ اسی طرح روزنامہ ڈان نے ۵؍ اگست کی اشاعت میں یہ رپورٹ بھی شائع کی ہے کہ وقوعہ سے دو ہفتے قبل شیخ نجیب ظفر کے کچھ شراکت کاروں کا بھی اس سے ایک کاروباری تنازعہ ہوا تھا۔ واقعے میں ان کے ملوث ہونے کا شبہہ بھی کیا جارہا ہے۔ عدالتی ذرائع سے اس کی تحقیق بھی ہونی چاہیے اور جو لوگ موقع سے پکڑے گئے ہیں، ان کو بھی مکمل تفتیش کے بعد دہرے قتل کے اس جرم میں قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔
اس طرح کے واقعات ملک کی سا لمیت اور عوام کی جان و مال کے لیے زہرِ قاتل ہیں۔ ان کا سدِباب بہت ضروری ہے۔ اس ضمن میں چند اقدامات ناگزیر ہیں: (۱)مقدس شخصیات اور مذہبی مقدسات کے خلاف ہرقسم کی توہین آمیز حرکات کو قانون کے مطابق کچلنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی غیر ملکی ایجنٹوں کا قلع قمع اور اسلام دشمن این جی اوز کو بھی ان کی حدود میں پابند کرنا ضروری ہے۔ (۲) اشتعال انگیزی اور لاقانونیت کا پرچار اور جرم کا اقدام کرنے والے عناصر سے بھی سختی سے نمٹنا اور قانون کے مطابق ان کو سزائیں دینا، خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم، ملک و قوم کے مفاد میں ہے۔ (۳) سب سے اہم بات یہ ہے کہ انتظامیہ اپنی فرض شناسی کا اہتمام کرے اور اداے فرض میں سستی اور کوتاہی کرنے والے افسران کو ہر گز معاف نہ کیا جائے۔(۴) قانون نافذ کرنے والے ادارے اور امن و امان کی ذمہ دار پولیس فورس کو محض حکمرانوں کی خدمت اور ان کے مخالفین کی تادیب کے بجاے اپنے فرائض ادا کرنے کا پابند بنایا جائے۔ (۵) وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور وفاقی وزیر کے اُس بیان کی سرکاری سطح پر تردید کی جائے جس میں ۲۹۵ سی کو تبدیل کرنے کی بات کی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ قانون جہاں توہینِ رسالتؐ جیسے سنگین اقدامات کی روک تھام کا ذریعہ ہے، وہاں مقدس ہستیوں کے تقدس اور احترام کو ممکن بناتا ہے، نیز لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کا بھی ذریعہ ہے۔ مسئلے کی حساسیت اور نزاکت کے پیش نظر اسے مؤثر بنانے کی ضرورت ہے نہ کہ مغربی دبائو کے تحت اسے تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے۔
صومالیہ میں خد ا خدا کر کے ایک ایسی حکومت وجود میں آگئی ہے جس سے صومالی اور دیگر افریقی ممالک کے لوگوں کو امید بندھ گئی ہے کہ طویل خانہ جنگی، افراتفری اور انتشار کے بعد صومالیہ کے حالات سنبھل جائیں گے اور نفاذِ شریعت کی طرف بھی پیش رفت ہوسکے گی۔نئی حکومت کے سربراہ ۴۵ سالہ شیخ شریف احمد معتدل، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور روحانی سلسلے اویسیہ کے راہ نما ہیں۔ انھوں نے اپنی پارلیمان سے مشاورت کے بعد ایک اور نوجوان عمر عبدالرشید علی شرمارکے، کو وزیراعظم نامزد کیا ہے۔ وہ بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ، ماہر سفارت کار، اور ملک کے پہلے صدر عبدالرشید علی شرمارکے، کے فرزند ہیں۔ صدر شرمارکے، کو فوجی انقلاب کے دوران قتل کر دیا گیا تھا۔ مرحوم کے بارے میں عام صومالی اب تک اچھی رائے رکھتے ہیں۔ نئی حکومت کے سامنے بہت بڑے چیلنج ہیں۔ موجودہ حالات میں صومالیہ پر حکومت کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ یہ فی الحقیقت کانٹوں کا تاج ہے جو ان دونوجوانوں نے سر پر سجالیا ہے۔ اللہ ان کی مدد کرے۔
صومالیہ براعظم افریقہ کا پس ماندہ ترین ملک ہے، جس کی آبادی ۱۰۰ فی صد مسلمان ہے۔ قرنِ افریقہ میں واقع یہ ملک ۶ لاکھ ۳۷ ہزار ۶سو ۵۷ مربع کلومیٹر رقبے کو محیط ہے، جس میں سے بہت بڑا حصہ صحرائی اور بالکل بنجر ہے۔ کچھ پہاڑی علاقے بھی ہیں اور ساحلِ سمندر کے ساتھ بھی ۶ہزار ۳ سو کلومیٹر لمبی پٹی لگتی ہے، جس میں خلیج عدن، بحیرہ عرب اور بحرہند کے ساحل شامل ہیں۔ جوبا اور شبلی نامی دو دریا بھی اس ملک سے گزرتے ہیں لیکن ان سے کوئی خاطرخواہ زرعی و صنعتی فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ اُونٹ، بھیڑبکری اور گائے پالتو جانور ہیں۔ بیش تر لوگ چرواہے ہیں۔ یورینیم اور تیل کے وسیع ذخائر موجود ہیں مگر ابھی تک انھیں حاصل کرنے کا کوئی جامع منصوبہ عمل میں نہیں لایا جاسکا۔
صومالیہ کو برطانوی اور اطالوی استعمار سے ۱۹۶۰ء میں آزادی ملی۔ آزادی کے فوراً بعد صومالیہ کی اپنے ہمسایے کینیا سے سرحدی علاقوں کے تنازع پر جنگ چھڑ گئی جس میں دونوں ملکوں کا خاصا نقصان ہوا مگر صومالیہ کے متنازع علاقوں پر برطانیہ، امریکا اور عالمِ مغرب کی اشیرباد سے کینیا کا قبضہ تسلیم کرلیا گیا۔ صومالیہ کا پہلا صدر عبدالرشید علی شرمارکے، ایک صاف ستھرا سیاست دان تھا مگر طبعاً کمزور تھا۔ اس لیے ملک میں بدنظمی اور کرپشن کی وجہ سے عدمِ اطمینان پیدا ہوا۔ ان حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فوج کے سربراہ میجر جنرل محمد زیاد برّے نے ۱۵ اکتوبر ۱۹۶۹ء کو بغاوت کرکے ملک پر قبضہ کرلیا اور صدر شرمارکے، کو قتل کردیا گیا۔ یوں ملک پر فوجی آمریت مسلط ہوئی جو ۱۹۹۱ء تک قائم رہی اور جب اس کا خاتمہ ہوا تو صومالیہ بدترین خانہ جنگی کی لپیٹ میں تھا۔
آمریت ملکوں اورقوموں کے لیے ہمیشہ زہرِقاتل ثابت ہوتی ہے۔ زیاد برّے کے ملک سے فرار ہو جانے کے بعد اب تک کوئی متحدہ حکومت صومالیہ میں قائم نہیں ہوسکی۔ وقتاًفوقتاً مختلف مسلح گروہ اور قبائلی لشکر دارالحکومت مقدیشو پر قابض ہوتے رہے مگر پورا ملک ایک حکومت کے تحت متحد ہونے کے بجاے مختلف گروپوں کے زیرتسلط رہا۔ کینیا کے ساتھ صومالیہ کے تعلقات معمول پر آئے تو بدقسمتی سے اس کے شمالی ہمسایے ایتھوپیا سے نئی جنگ چھڑ گئی۔ ادھر ایتھوپیا میں ہیلے مینگستو کا تختہ اُلٹ کر میلس زیناوی (Meles Zenawi) برسرِاقتدار آگیا، اور یہ اسی طرح امریکی مہرہ ہے جس طرح پاکستان اور افغان حکمران۔ امریکا کے اشارے پر ایتھوپیا کی فوجیں اگست ۲۰۰۱ء میں صومالیہ میں امن قائم کرنے کے بہانے داخل ہوئیں جوچند ماہ قبل تک وہاں موجود رہی ہیں اور بے پناہ قتل و غارت گری اور لوٹ مار کا ارتکاب کرتی رہی ہیں۔
صومالیہ میں بہت سے جنگ جُو سردار اپنی چھوٹی چھوٹی ریاستیںقائم کیے بیٹھے تھے۔ فرح عدید ۱۹۹۲ء میںمقدیشو پر قابض تھا۔ اس نے امریکی فوجیوں کو پکڑ کر مقدیشو کی سڑکوں پر گھسیٹا تھا جس کے نتیجے میں امریکی تو وہاں سے دم دبا کے بھاگ گئے مگر انھوں نے ایتھوپیا کے ذریعے صومالیہ سے خوب انتقام لیا۔ افریقی اتحاد کی تنظیم (OAU) اور دوسری عالمی تنظیموں نے کوشش کی کہ صومالیہ میں اتفاق راے پیدا ہوجائے اور امن و امان کی کوئی صورت بن سکے مگر یہ تمام کوششیں صومالیہ کے اسلام پسند حلقوں کو مجوزہ سیٹ اَپ سے خارج کرنے پر مرتکز رہیں۔ صومالی اپنی طبیعت کے لحاظ سے افغانوں سے بہت مشابہت رکھتے ہیں۔ اگر ہم صومالیہ کو افریقہ کا افغانستان کہیں تو یہ غلط نہ ہوگا۔ صومالی جفاکش اور بہادر قوم ہیں اور اسلام سے محبت ان کی گھٹی میں پڑی ہے۔
اگست ۲۰۰۴ء میں عالمی اداروں کے دبائو کے تحت مختلف گروپوں کے درمیان کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں ایک معاہدہ طے پایا جس میں ۲۷۵ نامزد ارکان پرمشتمل ایک پارلیمان وجود میںآئی۔ دو ماہ بعد نیروبی ہی میں صومالیہ کے نیم خودمختار صوبے ارض البنط (pant land) کے راہنما عبداللہ یوسف کو وفاقی حکومت کا عبوری صدر بنا دیا گیا جو امریکا کا منظورِنظر تھا۔ صاحب ِموصوف نے نیروبی ہی میں اپنے منصب کا حلف اٹھایا اور اسی دن افریقی یونین سے درخواست کردی کہ وہ ۲۰ہزار فوجی صومالیہ میں امن قائم کرنے کے لیے بھیجے۔ چونکہ اس نئے صدر کی ذاتی شہرت بھی اچھی نہیں تھی اور ملک میں عمومی حمایت سے بھی وہ محروم تھے، اس لیے زیادہ دیر اپنا مصنوعی اقتدار قائم نہ رکھ سکے۔ اس عرصے میں نفاذِ شریعت کے لیے ملک میں اسلامی عدالتوں کے نام سے ایک تحریک چل رہی تھی جو دن بہ دن لوگوں میں مقبول ہورہی تھی۔ اسلامی عدالت اتحاد نے صرف ۴ ماہ کی لڑائی کے بعد جون ۲۰۰۶ء میں دارالحکومت مقدیشو اور دیگر اہم مقامات پر قبضہ کرلیا۔ ان لوگوں نے تھوڑے عرصے میں امن و امان کی حالت بہت بہتر بنا دی۔
اس دور میں بھی موجودہ صدرِ مملکت، اسلامی عدالت یونین کے چیئرمین شیخ شریف احمد کو وسیع تر مشاورت میں صدرِ مملکت بنانے کا فیصلہ ہوا تھا مگر امریکی سرپرستی میں قائم عبوری پارلیمنٹ مقیم نیروبی نے اسلامی انتظامیہ کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور ایتھوپیا اور امریکا کو مداخلت کی دعوت دی۔ اس کے بعد حبشہ کی فوجی پیش قدمی شروع ہوئی۔ امریکا کی مکمل سرپرستی میں دسمبر ۲۰۰۶ء میں حبشہ کے زمینی حملے کے ساتھ ہی امریکی گن شپ ہیلی کاپٹرز کے ذریعے فضائی حملے شروع ہوگئے اور یوں صومالیہ کا امن پھر تباہ و برباد ہوگیا۔ اس طرح ایتھوپیا (عملاً) اور امریکا (بالواسطہ) ملک پر مسلط ہوگئے۔ اسی عرصے میں مسلم نوجوانوں کی ایک تنظیم ’الشباب‘ کے نام سے وجود میں آئی۔ امریکا نے اسے القاعدہ کی ایک شاخ قرار دیا۔ بدقسمتی سے الشباب اور اسلامی عدالت اتحاد نے اپنے اپنے راستے الگ کرلیے جس سے اسلام پسند قوتیں کمزور ہوئیں۔ صومالیہ کے حالات سے باخبرتجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ الشباب میں کچھ عناصر باہر سے داخل (induct) کیے گئے تھے جو اس اختلاف کے شعلوں پر تیل چھڑک رہے تھے۔ یوں مفاہمت کی ہر کوشش دم توڑ گئی۔
ستمبر ۲۰۰۷ء میں اریٹیریا کے دارالحکومت اسمارا میں اسلام پسندوں کا ایک نیا اتحاد وجود میں آیا، جسے انھوں نے اتحاد براے آزادیِ نو صومالیہ (Alliance for the Re-liberation of Somalia) کا نام دیا۔ امریکا کے منظورِنظر صدر عبداللہ یوسف نے نومبر ۲۰۰۷ء میں نورحسن حسین کو وزیراعظم نامزد کیا لیکن صومالیہ پر کوئی حقیقی رٹ قائم کرنے میں یہ حکومت بُری طرح ناکام رہی۔ صدر اور وزیراعظم ایک دوسرے سے برسرِپیکار ہوگئے۔ دسمبر ۲۰۰۸ء میں صدر نے وزیراعظم کو معزول کردیا اور محمود محمد گلید کو وزیراعظم نامزد کیا گیا مگر پارلیمان نے اس کے تقرر کو مسترد کردیا۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی ادارے اس نتیجے پر پہنچ گئے تھے کہ اتحاد براے آزادیِ نو صومالیہ کی شرکت کے بغیر مسائل حل نہیں ہوسکتے۔
صدر عبداللہ یوسف، ذلیل و رسوا ہوکر ۲۹دسمبر ۲۰۰۸ء کو صدارت چھوڑ کر گوشہ نشین ہوگیا۔ نئے فارمولے کے تحت ۳۱ جنوری ۲۰۰۹ء کو جبوتی میں ایک نئی عبوری پارلیمنٹ وجود میں آئی، جس میں ۲۰۰ ارکانِ اسمبلی اسلامی گروپوں سے اور ۷۵ مختلف قبائل سے نامزد کیے گئے۔ ہرقبیلے کو اس کے حجم کے مطابق نمایندگی دی گئی۔ اس اجلاس میں کثرت راے سے شیخ شریف احمد کو صومالیہ کا نیا صدر چن لیا گیا۔ اپنے انتخاب کے بعد انھوں نے متوازن اور معتدل انداز میں ملکی بحران کو قومی اتفاق راے سے حل کرنے کا اعلان کیا۔ ۱۹۹۱ء کے بعد سے یہ اس شورش زدہ ملک کی پندرھویں حکومت ہے۔ اس کی کامیابی و ناکامی کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے کیونکہ ’الشباب‘ نے اس نئے سیٹ اَپ کو قبول نہیں کیا اور بعض علاقوں میں ان کازور ہے۔ الشباب کی قیادت ایک نوجوان شیخ حسن ظاہر اویس کر رہے ہیں جو ایک بہادر اور جنگ جُو نوجوان ہیں اور امریکا نے ان کے سر کی قیمت مقرر کر کے انھیں اشتہاری ’دہشت گرد‘ قرار دیا ہوا ہے۔
۷ فروری ۲۰۰۹ء کو شیخ شریف احمد مقدیشو میں اپنی عبوری پارلیمنٹ کے ساتھ تشریف لائے تو ہزاروں لوگوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا۔ شیخ شریف البغال قبیلے سے ہیں جو معروف اور محترم سمجھا جاتا ہے۔ وہ جولائی ۱۹۶۴ء میں پید ا ہوئے۔ انھوں نے اپنی تعلیم لیبیا اور سوڈان میں مکمل کی۔ سوڈان میں قیام کے دوران وہ اخوان کی دعوت سے بھی متاثر ہوئے۔ وہ معتدل مزاج اور نیک نفس انسان ہیں۔ بیش تر صومالیوں کی طرح شیخ شریف بھی حافظ قرآن ہیں اور اویسی سلسلے کے روحانی پیشوا ہیں۔ انتہائی ملنسار، بُردبار اور اعلیٰ تعلیم یافتہ صومالی صدر خود کو استاد (معلم) کہلانے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ ان کا تخصص علومِ جغرافیہ میں ہے۔ شیخ شریف کے بارے میں عام تجزیہ نگار پُرامید ہیں کہ وہ مسائل کو حل کرلیں گے۔
شیخ شریف نے حلف اٹھانے کے بعد جبوتی میں ارکانِ پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا اور اتفاق راے سے ایک نوجوان عمر عبدالرشید علی شرمارکے، کو پارلیمنٹ کا وزیراعظم نامزد کیا ہے۔ موصوف ایک سابق سفارت کار ہیں جو اقوام متحدہ میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ امریکا کے تعلیم یافتہ ہیں اور صومالیہ کے ناگفتہ بہ حالات کی وجہ سے کینیڈا میں منتقل ہوگئے تھے۔ انھیں ایک ماہ کے اندر کابینہ نامزد کرنا ہوگی، جس کی منظوری پارلیمنٹ سے ضروری ہے۔ ان کا تعلق ایک بڑے قبیلے دارود سے ہے۔ وہ آزاد صومالیہ کے پہلے صدر کے بیٹے ہیں۔ صدر اور وزیراعظم کو عمومی طور پر لوگوں کی حمایت حاصل ہے مگر ’الشباب‘ تنظیم نے صدر کے بارے میں تو زیادہ سخت تبصرہ نہیں کیا تھا البتہ نامزد وزیراعظم پر شدید الفاظ میں تنقید کی ہے۔ دوسری جانب یہ بھی سنا جا رہا ہے کہ امریکا نامزد وزیراعظم کوقبول کر لے گا مگر شاید نومنتخب صدر کو زیادہ عرصہ برداشت نہ کرسکے۔ شیخ شریف ایتھوپیا کو بھی سخت ناپسند ہیں۔ حبشہ کی فوجوں کی یلغار کے بعد شیخ شریف کو جلاوطنی اختیار کرنا پڑی تھی۔
تقریباً ۹۰ لاکھ آبادی پر مشتمل یہ وسیع و عریض خطہ بدحالی، خانہ جنگی، قحط سالی اور قتل و غارت گری کی وجہ سے بدترین بحران کا شکار ہے۔ صومالیہ کو بحری قزاقی کا بھی سامنا ہے جو تجارتی بحری جہازوں کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صومالیہ کے انتہائی دگرگوں حالات نے ہی ان لوگوں کو جرائم پر مجبور کردیا ہے۔ پوری دنیا کو صومالیہ کے مسائل پر سر جوڑ کر اس کا کوئی حل تلاش کرنا ہوگا۔ اگر یہاں امن قائم نہ ہوسکا تو بحرہند اور خلیج عدن کے تجارتی راستے مستقل خطرات کی زد میں رہیں گے۔ موجودہ حکومت سے قیامِ امن اور نفاذِ شریعت کے لیے بہت سی توقعات وابستہ ہیں۔