اسوئہ دعوت کا آغاز غارِ حرا کے اس واقعے سے ہوتا ہے کہ جبرئیل امین ؑ آکر فرماتے ہیں: ’’پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا‘‘ (العلق:۹۶:۱) ۔ہیبت و جلال کے باوجود نبی صلی اللہ علیہ وسلم معذرت کرتے ہیں کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ جبرئیل امین ؑ دوبارہ کہتے ہیں، دوبارہ عذر پیش ہوتا ہے: میں پڑھ نہیں سکتا، اور تیسری بار آپؐ سہمے ہوئے پڑھتے ہیں۔ گویا پہلا سبق اور پہلا کام پڑھنے کا، علم حاصل کرنے کا دیا گیا۔
وحی آتی ہے: راتوں کو اُٹھو، رب کو یاد کرو (المزمل ۷۳:۲)، کہ یہ داعی کے لیے ضروری توشہ ہے۔ اگلی وحی آتی ہے: اے اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے، اُٹھو اور خبردار کرو۔ اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو… اپنے رب کے لیے صبر کرو (المدثر ۷۴:۱-۷)۔ یہ کام چونکہ رب کا ہے، رب کے لیے ہے، اور اس کام کو رب کی پشتی بانی بھی حاصل ہے، لہٰذا رب کے راستے پر چلتے ہوئے صبر کرنا ہے۔ اس طرح داعی کو ناگزیر ضروریات اور تقاضوں سے آگاہ کر دیا گیا۔
حضرت حمزہؓ کے سامنے چار سال کے عرصے میں کئی مواقع آئے، خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت پیش کی، مگر براہِ راست دعوت سے متاثر ہوکر اسلام قبول نہ کیا۔ حضرت حمزہؓ چچا تھے۔ ایک روز کوہِ صفا کے پاس ابوجہل نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر دست درازی کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبر سے اذیت برداشت کرتے رہے اور کوئی جواب نہ دیا۔ اتفاق سے عبداللہ بن جذعان کی لونڈی نے یہ سارا ماجرا دیکھا۔ جب حضرت حمزہؓ شکار سے واپس آئے تو انھیں یہ واقعہ سنایا اور کہا کہ ہائے! تم خود دیکھ سکتے کہ تمھارے بھتیجے پر کیا گزری! یہ سننا تھا کہ رگِ حمیت جاگ اُٹھی۔ سیدھے قریش کی مجلس میں جاپہنچے۔ ابوجہل سے کہا: میں محمد کے دین پر ایمان لے آیا ہوں، جو وہ کہتا ہے وہی میں کہتا ہوں، کرلو جو کرسکتے ہو___ داعیِ حق کا صبر، اذیتوں پر رویہ اور کردار، دعوت کا ذریعہ، اس کا تعارف، اور اس کے پھیلائو میں معاون بنتا رہا۔
آج بھی یہی صورت ہے کہ ایک برطانوی صحافی خاتون ایوان ریڈلے طالبان کی جاسوسی کے لیے جاتی ہے۔ اتفاق سے گرفتار ہو جاتی ہے اور قید میں طالبان کے کردار کا مطالعہ کرتی ہے۔ قید سے چھوٹنے پر قرآنِ مجید پڑھتی ہے اور نتیجتاً اسلام کی پُرجوش مبلغہ بن جاتی ہے۔ برطانیہ میں اسلام چینل کے ذریعے، اسلام کی دعوت اور اس کے بارے میں شکوک و شبہات کو دُور کرتی ہے۔ ایک مسلمان عورت ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہے، جو امریکا کی قید میں صعوبتیں برداشت کر رہی ہے۔
مصالحت کی راہ نکالنے کے لیے، مخالفین تحریک نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک مطالبہ یہ بھی رکھا۔ اگر آپؐ اپنے حلقے سے ہمارے معاشرے کے گھٹیا لوگوں کو، ہمارے غلاموں اور لڑکوں بالوں کو نکال دیں تو پھر ہم آپؐ کے پاس آکر بیٹھیں گے اور آپؐ کی تعلیمات کو سنیں گے۔ موجودہ حالت میں یہ ہمارے مرتبے سے فروتر ہے کہ ہم نچلے طبقے کے لوگوں کے ساتھ نشست و برخاست کریں۔ مطلوب یہ تھا کہ تحریک کو ان جان نثاروں کی خدمات سے محروم کر دیا جائے۔ غرض جو جو حربے اختیار کیے گئے، وحی کے ذریعے ان کے لیے رہنمائی آتی گئی: وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْھَہٗ (انعام ۶:۵۲) ’’جو لوگ اپنے رب کو رات دن پکارنے میں لگے ہوئے ہیں، انھیں اپنے سے دُور نہ پھینکو‘‘۔
جب ایک ذی اثر مخالف سے گفتگو کے دوران ایک ساتھی کی مداخلت کو ناپسند فرمایا تو داعیِ اعظمؐ کو تنبیہہ آگئی: عَبَسَ وَتَوَلّٰی۔ٓ ٓ o اَنْ جَآئَہُ الْاَعْمٰی (عبس ۸۰:۱-۲) ’’ترش رو ہوا اور بے رُخی برتی، اس بات پر کہ وہ اندھا اس کے پاس آگیا‘‘۔
اہلِ قریش وفد بنابنا کر آئے اور کہا کہ بادشاہ بنا لیتے ہیں، علاج کروا دیتے ہیں، دولت جمع کردیتے ہیں، کسی امیر خاتون سے شادی کرا دیتے ہیں۔ غرض انسانی فطرت کے جتنے کمزور پہلو ہوسکتے ہیں سب کے ذریعے وار کیا، اور بار بار کیا مگر داعیِ حق دعوت سے باز نہیں آئے، مداہنت نہیں برتی۔ اپنے راستے پر، پُرسکون اور کامل اطمینانِ قلب کے ساتھ چلتے رہے۔ اپنی دعوت بہ بانگِ دہل بیان کرتے رہے۔ نہ نظر جھکی، نہ زبان لڑکھڑائی، نہ پاے ثبات میں لغزش آئی___ آج کے داعی کے لیے، اس میں بڑا سبق اور رہنمائی و نمونہ ہے۔
پہاڑوں کا فرشتہ حاضر ہوتا ہے۔ اشارہ کریں تو طائف کے لوگوں کو ان پہاڑوں کے درمیان پیس کر رکھ دوں، مگر اس عالم میں بھی داعی کی شفقت اور محبت اس کی اجازت نہیں دیتی کہ یہ نسل تو نہیں لیکن ان کی اولاد شاید دین کو قبول کر لے۔ اسی سفر میں جنوں کی جماعت قرآن سنتی اور ایمان لاتی ہے۔ قیامِ مکّہ کے دوران میں سورئہ یوسف نازل ہوتی ہے اور حدیث دیگراں کے پردے میں، داعیِ حق کو بشارت دی جاتی ہے کہ حالات آج ناسازگار ہیں مگر انجامِ کار غلبہ تمھارا ہے___ آج کے داعی کے لیے بھی یہ بشارتیں قرآن پاک میں محفوظ ہیں مگر کوئی ان پر کان تو دھرے اور سمجھے تو سہی۔
انتہائی ناسازگار ماحول میں، صاف صاف الفاظ اور فیصلہ کن انداز میں، ایک نعرہ لگایا: ’’حق آگیا اور باطل مٹ گیا، باطل تو مٹنے والا ہی ہے‘‘ (بنی اسرائیل ۱۷:۸۱)۔ اگر آج کوئی کہے کہ امریکا شکست کھائے گا، روس کی طرح ٹوٹے گا اور نہتے مسلمان کامیاب ہوں گے، تو لوگ کہیں گے کہ یہ کسی دیوانے کی بڑ ہے۔ خوش فہمی میں نہ رہیں اور زمینی حقائق دیکھیں۔ اس وقت بھی یہی کہا گیا اور اُمید کا دامن تھامنے اور کوشش میں لگے رہنے کا سبق ہے جو داعی نے دیا۔
تشدد کسی متزلزل نظام کا آخری ہتھیار ہوتا ہے۔ تمام قبائل سے نمایندے لیے جاتے ہیں اور گروہ براے حملہ تشکیل دیا جاتا ہے۔ داعیِ اعظمؐ کے گھر کا محاصرہ کرلیا جاتا ہے۔ ایک تدبیر، تدبیر کرنے والے کرتے ہیں، اور ایک تدبیر خیرالماکرین کرتا ہے___ ان تدبیر کرنے والوں کو پیدا کرنے والا اور ان سے اچھی تدبیر کرنے والا۔ پھر ان کی تدبیریں اکارت جاتی ہیں___ کل مکہ سے ہجرت کی رات یہ ہُوا اور آج بھی یہ ہوتا ہے اور یہ ہوتا رہے گا۔ اس سفرہجرت کی صعوبتوں میں بھی لَاتَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا (غم نہ کر، اللہ تمھارے ساتھ ہے۔ التوبہ ۹: ۴۰) کا پیغام دیا جاتا ہے۔
داعیِ اعظمؐ مدینہ پہنچتے ہیں۔ دعوت کا اسلوب کیا ہے۔ جگہ حاصل کی جاتی ہے اور گارے اور گھاس پھونس سے مسجدنبویؐ کی تعمیر کی جاتی ہے۔ یہ مسجد محض عبادت گاہ اور معبد نہیں ہے۔ یہ حکومت کے کاروبار، مشورے کا ایوان، پارلیمنٹ، سرکاری مہمان خانہ، سپریم کورٹ، جی ایچ کیو، جمہوری دارالعوام اور قومی لیکچرہال ہے۔ یہ مرکزی دفاتر ہیں۔ یوں اسلامی ریاست کی تاسیس ہوتی ہے۔ سیاسی لحاظ سے اہم تعمیری اقدام، میثاقِ مدینہ کیا جاتا ہے۔ ریاست چلانے کے لیے مدینہ کے یہود و مشرکین اور مسلمانوں کی سوسائٹی کو ایک نظم میں پرو دیا جاتا ہے۔ ایک تحریری معاہدہ ہوتا ہے جس کو دنیا کا پہلا تحریری دستور کہا جاسکتا ہے۔
مدینہ کے منظم ہونے والے معاشرے میں خدا کی حاکمیت اور اس کے قانون کو سیاسی اہمیت حاصل ہوگئی۔ سیاسی، قانونی اور عدالتی لحاظ سے اتھارٹی، یعنی آخری اختیار، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں آگیا۔ دفاعی لحاظ سے مدینہ اور اس کے گردونواح کی پوری آبادی ایک متحد طاقت بن گئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بطورِ داعی، مدینے کے معاشرے کا سب سے بڑا معاشی مسئلہ، سیکڑوں مہاجرین کی بحالی کا مسئلہ، مواخات مدینہ کے ذریعے حل کرتے ہیں۔
داعی کا کردار، صرف ایک صوفی درویش کا نہیں بلکہ اجتماعی معاملات کو سنبھالنے، سنوارنے، ماہرانہ حکمت سے پورا کرنے کا نظر آتا ہے۔ تمدنی نظام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی جزوی اصلاح چاہتے تھے یا ہمہ گیر؟ دعوت مذہبی و اخلاقی تھی یا سیاسی اہمیت بھی رکھتی تھی؟ نعرہ یہ دیا گیا اور اس کی وضاحت یہ دی گئی: ’’وہی تو ہے جس نے اپنے رسولؐ کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پورے کے پورے دین پر غالب کردے، خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو‘‘۔ (الصف ۶۱:۹)
یہ بھی کہا گیا کہ ’’اگر قیادت کے اختیارات میں ہمارا بھی کچھ حصہ ہوتا تو ہم نہ مارے جاتے، اگرہمارے مشورے پر عمل کیا ہوتا تو یہ دن دیکھنا نہ پڑتا‘‘۔ غزوئہ احزاب شروع ہوتا ہے، ۱۷روز سے محاصرہ جاری ہے، طرفین پڑائو ڈالے بیٹھے ہیں۔ سارا عرب اکٹھا ہوکر اُمڈ آیا ہے۔ گویا اس وقت ناٹو کی مانند اتحادی فوجیں، آخری ضرب لگانے کے لیے آئی تھیں۔ اس موقع پر یہود کی ریشہ دوانیاں اور غداریاں عروج پر ہیں۔ غزوئہ تبوک سے واپسی پر واقعۂ افک پیش آتا ہے۔ اُم المومنین حضرت عائشہؓ پر رکیک الزام لگتا ہے، اور جب معاملہ داعی، تحریک کے قائد کی بیوی سے متعلق ہو تو اس کی نوعیت اور بھی سنگین ہوجاتی ہے۔ اس بہتان اور الزام تراشی کا معاملہ ایک ماہ تک چلتا رہا۔ اس ہنگامہ خیز طوفان سے گزرتے ہوئے حضرت عائشہؓ کے ساتھ ساتھ بڑی مظلوم ذات داعیِ حق، نبیِ رحمتؐ کی تھی۔ داعیِ اعظم کی اعلیٰ ظرفی، حوصلہ مندی اور صبروتحمل کا عظیم مظاہرہ ہوتا ہے۔ نبی کریمؐ نے غیرجذباتی اور پُروقار طرزِعمل اختیار کیا۔ قصور کیا تھا کہ وہ انسانیت کا نجات ہندہ، ان کو ان کے رب کی طرف بلاتا تھا۔
لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ(الاحزاب ۳۳:۲۱) درحقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ ہے۔
یہ ۱۹۴۵ء کی بات ہے‘ جب اقوام عالم میں پنچایت کا کردار ادا کرنے کے لیے اقوام متحدہ کا ادارہ تشکیل پایا۔ اسی ادارے کے تحت ۱۹۴۶ء میں انسانی حقوق کمیشن اور پھر اس کے بعد خواتین حقوق کمیشن بنا‘ جب کہ خواتین کی پہلی عالمی کانفرنس ۱۹۷۵ء میں میکسکو میں ہوئی اور مساوات‘ ترقی اور امن جدوجہد کے لیے نعرہ قرار پایا۔
بعدازاں ہر پانچ سال بعد کوپن ہیگن (۱۹۸۰ئ) ‘نیروبی (۱۹۸۵ئ) ‘بیجنگ (۱۹۹۵ئ)‘ نیویارک (۲۰۰۰ئ) میں یہ خواتین عالمی کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔ تاہم‘ ۱۹۹۰ء میں نہیں ہو سکی اور اب ۲۰۰۵ء نیویارک میں ہونی ہے۔ دسمبر ۱۹۷۹ء میں حقوقِ نسواں کے لیے ایک عالمی معاہدہ کنونشن فار الیمی نیشن آف ڈسکریمی نیشن اگینسٹ ویمن جسے ’سیڈا‘ (CEDAW) کہا جاتا ہے‘ ہوا۔اس میں یہ طے پایا کہ عورت اور مرد کو مساوات اور برابری کے مقام پر لانے کے لیے ہر طرح کے امتیاز کو ختم کیا جائے۔ اس کی ۳۰ دفعات ہیں جن میں ۱۶دفعات خواتین کے مختلف حقوق سے متعلق ہیں اور بقیہ انتظامی نفاذ سے متعلق۔
اس معاہدے کی دفعہ ۲۹ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے بارے میں ہے۔ اس کا مطلب امریکا کے ایک دانش ور رچرڈ نے راولپنڈی کے ایک میڈیکل کالج میں لیکچر دیتے ہوئے یوں سمجھایا تھا کہ: کوشش جاری ہے کہ عورت کو یہ حق دلایا جائے کہ اولاد کی پیدایش کا فیصلہ وہ کرے۔ اگر کسی مرحلے پر وہ یہ فیصلہ کرتی ہے کہ میں یہ بوجھ نہیں اٹھا سکتی اور وہ ایک ڈاکٹر کے پاس جاتی ہے کہ مجھے اس بوجھ سے نجات دلا دی جائے۔ اگر ڈاکٹر انکار کرتا ہے کہ وہ اس عمل کو درست نہیں سمجھتا تو خواتین کے حقوق کے مطابق یہ علاج مہیا نہ کرنے والا ڈاکٹر مجرم تصور کیا جائے گا‘ اُس عالمی عدالت میں اس پر مقدمہ چلایا جاسکتا ہے۔
۱۹۷۹ء کے ’سیڈا‘ معاہدے پر عمل درآمد کے لیے ۱۳ دائرہ کار طے کیے گئے۔ انھی نکات کو آیندہ جائزوں کے لیے بنیاد قرار دیا گیا۔ اس معاہدے پر عمل درآمد کے لیے ایک فریق حکومت ہے اور دوسری این جی اوز۔ حکومتوں کو امداد دینے والے عالمی اداروں کی مراعات کئی پہلوئوں سے اس معاہدے پر عمل درآمد کے ساتھ بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر مشروط ہیں۔ عالمی ایجنڈے کی علم بردار اور بالخصوص عالمی امداد حاصل کرنے والی این جی اوز بھی اپنے کام کے ساتھ‘ حکومتی اقدام کی نگرانی اور محاسب کا کردار ادا کرتی ہیں۔ ہر چار سال بعد حکومت کو یہ رپورٹ دینی ہوتی ہے ۔ رپورٹ کے لیے نکات‘ تفصیلی جزئیات کے ساتھ اقوام متحدہ کی طرف سے بھجوائے جاتے ہیں۔
’سیڈا‘ پر اب تک ۱۵۰ ممالک دستخط کرچکے ہیں۔ اس میں بھی اہم پہلو یہ ہے کہ کئی یورپی ممالک اور خود امریکا نے ابھی تک اس پر دستخط نہیں کیے۔ پاکستان کی طرف سے وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں صدر فاروق خان لغاری نے کچھ تحفظات کے ساتھ اس پر دستخط کیے تھے کہ ہم اپنے ملکی آئین کے منافی ضوابط پر عمل درآمد کے پابند نہیں ہوں گے۔
مساوات‘ ترقی اور امن کے نام پر بنایا جانے والا خواتین حقوق کمیشن ہو‘ یا وقتاً فوقتاً کی جانے والی خواتین عالمی کانفرنسیں ‘ یہ عالمی حقوق نسواں تحریک کے مختلف شاخسانے ہیں۔ اسی طرح بیجنگ پلیٹ فارم آف ایکشن کے ۱۳ نکاتی عنوانات سے بظاہر اختلاف ممکن نہیں۔ اس لیے کہ وہ عورت کی فلاح و ترقی کے لیے جامع منصوبے کی تصویر پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن اس بظاہر صورت حال سے فریب کھانے کے بجاے گہرائی میںجاکر جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ یہ ردعمل کی ایک عالمی تحریک ہے جس میں بہت سے پیغامات مضمر ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ دنیا میں خواہ مغرب ہو یا مشرق‘ غیرمسلم معاشرہ ہو یا مسلم معاشرہ‘ عورت کے ساتھ کئی حوالوں سے دوسرے درجے کے شہری کا سلوک کیا جاتا ہے۔ اسلام کے مسلمہ اصولوں پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے نام نہاد اسلامی معاشروں میں بھی کئی ایسے رویے مروج ہیں۔
اسلام‘ عورت کے کردار کے لیے جو نمونہ ہمارے سامنے پیش کرتا ہے‘ اُس نے پستیوں میں گری ہوئی عورت کو عملاً اٹھا کر معاشرے کی ایک قابلِ احترام ہستی بنا کر اعلیٰ مقام سے نوازا۔ قرآنی تعلیمات‘ احادیث نبویؐ اور خود اسوۂ رسولؐ آج بھی نشانِ راہ و منزل ہیں۔ بیٹی کے قتل کی ممانعت‘ پرورش میں برابری‘ بچیوں اور بچوں کی تعلیم کے لیے ہدایات‘ بچیوں کی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی‘ کفالت‘ بلوغت کے بعد نکاح میں بیٹی کی مرضی کا لحاظ رکھتے ہوئے رخصتی کا اہتمام کرنا اور باپ کے ترکے میں حصہ دار ہونا اس کا حق ٹھیرا۔ شادی کے وقت مہر کی ادایگی اور وہ بھی کوئی لگابندھا ۳۲ روپے کے شرعی مہرکا تصور نہیں ہے‘ بلکہ عورت کے خاندان کی مناسبت سے مہر کا تعین ہونا قرار پایا۔ جب حضرت عمرؓ نے مہر کی رقم مقرر کرنے کے لیے مشورہ چاہا تو ایک عورت کھڑی ہوگئی اور کہا: قرآن نے تو ڈھیروں مال بھی عورت کو دیا ہو تو واپس نہ لینے کی نصیحت کی ہے‘ آپ کیسے اس رقم کو مقرر کر سکتے ہیں۔ اس پر حضرت عمرؓ نے اپنی رائے سے رجوع کیا۔
نان نفقہ‘ یعنی خوراک‘ لباس‘ مکان اور استطاعت ہو تو خادم کا انتظام کرکے دینا بھی شوہر کی ذمہ داری اور بیوی کا حق ٹھیرا۔ حضرت عائشہؓ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حبشیوں کا تماشا دکھا کر بیویوں کے لیے تفریح کی نظیر بھی قائم کی۔ شوہر کے ترکے سے آٹھویں حصے کی بیوی حق دار ٹھیری۔ بحیثیت ماں حق خدمت باپ سے تین گنا زیادہ دیا گیا۔ سعی ہاجرہ کو حج کا لازمی رکن قرار دے کر بچے کی پرورش کے لیے کی جانے والی دوڑدھوپ کو اعزاز بخشا گیا‘ بیٹے سے بھی وراثت دلوائی گئی۔ بحیثیت آزاد شہری عورت جان‘ مال اور عزت میں برابر کی محترم ٹھیری۔ حق ملکیت تسلیم کیا گیا‘ کاروبار و ملازمت‘ رائے‘ مشورے و محاسبے کا حق بھی ملا۔حضرت ام سلمیٰؓ کے مشورے پر خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے موقع پر عمل کیا۔
فرائض میں اولاد کی پیدایش و پرورش‘ شوہر کی فرماں برداری و شکرگزاری ضروری قرار پائی۔ عورت اور مرد کے نکاح کے ذریعے وجود میں آنے والے معاشرے کی بنیادی اکائی خاندان میں‘ تقسیمِ کار میں مرد بیرون خانہ معاشی سرگرمیوں کے لیے اور عورت اولاد کی پرورش کے لیے گھر کی نگران ٹھیری۔ یوں باہم تعاون کے لیے ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّھُنَّ کے مصداق ایک دوسرے کی کمزوریوں کے ساتھ نبھائو‘ اور خوبیوں کی قدردانی کی تلقین کے ساتھ گھر کے ادارے کو پُرسکون گہوارہ بنایا گیا۔ اگر کبھی غلط فہمی پیدا ہوجائے تو خاندان کے حَکم تصفیہ اور صلح کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت کی گئی۔ طلاق جائز مگر ناپسندیدہ گردانی گئی اور اگر نبھا نہ ہوپائے تو آخری چارہ کار کے طور پر مرد طلاق دے سکتا ہے اور عورت خلع کے ذریعے علیحدگی اختیار کرسکتی ہے۔
اسلام کی تعلیمات اور اس کے نتیجے میں بننے والے معاشرے کے مقابلے میں حقوقِ نسواں کے لیے کی جانے والی کوششیں معاشرے پر ایک دوسری طرح سے اثرانداز ہوئی ہیں۔ نتیجتاً معاشرہ بہت سے مسائل سے دوچار ہے اور انسانی زندگی عدم توازن اور انتشار کا شکار ہوکر رہ گئی ہے۔
عورتوں کی برابری کے ایجنڈے اور ہر طرح کی تفریق ختم کرنے کی کوششوں کے ساتھ‘ یہ تقسیم ذہنوں کو پراگندا کررہی ہے۔ پہلے ۵ فی صد کوٹہ ملازمت خواتین کے لیے مخصوص ہوا‘ اب اس کو ۵۰ فی صد تک لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر ملازمتوں پر ۵۰ فی صد کوٹے پر اور ۱۵ سے ۲۰ فی صد میرٹ پر خواتین آجائیں‘ تو تقریباً ۷۰ فی صد ملازمتیں عورتوں کے پاس اور ۳۰فی صد مردوں کے پاس ہوں گی۔ اس طرح مردوں کی بے روزگاری میں اضافے اور گھر میں تعاون اور ذمہ داری کی تقسیم پر اصرار سے معاشرے کا ایک نیا نقشہ بنے گا۔ معاشی میدان میںعورتیں سرگرم اور مرد گھر کے نگہبان ہوں گے۔ ماں کے اندر ممتا کے روپ میں اولاد کی پرورش کے لیے عطاکردہ تحمل‘ نرمی‘ الفت کی جگہ باپ لے گا جس کو بیرونی محاذکے لیے زیادہ طاقت ور اور سخت جان بنایا گیا۔ اس طرح توازن کے بگڑنے سے اولاد اور خاندان پر اس کے منفی اثرات آئیں گے۔
ان ممکنہ خدشات کے باوجود مغرب سے ذہنی مرعوبیت کی بنا پر عورت کی معاشی ترقی کے لیے‘ ہر میدان میں مخصوص نشستیں‘ قرضہ جات کا نظام‘ ہر شعبۂ زندگی میں بلاتفریق تعلیم و ملازمت‘ مرد کے ساتھ شانہ بشانہ دوڑ اور اعتدال پسند اور روشن خیال ثابت کرنے کے لیے‘ عالمی اور ملکی سطح پر کئی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف ملک میں مہنگائی‘ غربت اور بے روزگاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے‘ جب کہ میڈیا کے ذریعے مادہ پرستانہ تہذیب کی یلغار ہے۔
معاشی ترقی اور خودانحصاری کے نام پر مرد کی کفالت سے محروم کرنے‘ اور عورت کی کمائی کے لیے عوامل و حالات پیدا کرنا عورت کے ساتھ خیرخواہی نہیں ظلم ہے۔ اگرچہ موجودہ مسلم معاشرے کسی بھی جگہ اپنی اصل روح کے مطابق اسلامی قدروں کی آبیاری نہیں کر رہے‘ تاہم ۹۹فی صد مرد خواہ دین کا کوئی فہم رکھتے ہوں یا نہ رکھتے ہوں‘ یہ جانتے ہیں کہ بیوی کو کما کر کھلانا ان کی ذمہ داری ہے۔
گھر کے اندر عورت کے کردار کو معاشی ترقی کے عوامل کے طور پر تسلیم کیا جانا‘ وراثت کی تقسیم اور منتقلی‘ حق مہر کی ادایگی اور حق ملکیت کے آزادانہ استعمال‘ اسلام کے دیے گئے ماڈل کی روشنی میں عورت کی معاشی ترقی کا حصہ تھے مگر ان سے صرفِ نظر کیا گیا۔ ضرورت ہے کہ ان پر پوری دلجمعی کے ساتھ‘ تمام معاشرے میں اخلاقاً و قانوناً عمل درآمد ہو۔
معاشی کفالت کے حوالے سے جہاں مرد حقیقی مجبوری‘ بیماری یا نشے وغیرہ کی بری عادات کی وجہ سے نہ کماتے ہوں یا کم کماتے ہوں‘ وہاں بھی عورت کو کمائی کے لیے دھکیل دینے کے بجاے ریاست کو ایسا نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے کہ خوش حال رشتہ دار اور ریاست اُس کی کفالت کا بوجھ اُٹھائے۔
۲۰۰۰ء میں نیویارک میں ہونے والی بیجنگ پلس فائیو کانفرنس کے دوران ایک امریکی خاتون‘ ہم پاکستانی خواتین کے وفد کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی اور بتایا کہ میں تین سال پاکستان رہی اور میں نے پاکستانی عورتوں پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا عنوان ہے: ’’پاکستانی عورتو! تم کہاں ہو؟‘‘
اُس سے جب یہ پوچھا گیا :بتائو عافیت کس میں ہے‘ مرد عورت کے لیے کما کر لائے یا عورت خود اپنے لیے کمائے؟ اُس نے کہا: عافیت تو اسی میں ہے کہ عورت گھر بیٹھے اور کمانے کی پابند نہ ہو‘ مگر یہ غلط ہے کہ اُس کو باہر نکلنے نہ دیا جائے۔ اُسے بتایا گیا کہ اسلام عورت کو اپنی آزاد مرضی و منشا پر چھوڑتا ہے چاہے تو باہر جاکر ملازمت و کاروبار کرے‘ چاہے گھر بیٹھے مگر اُس کی کفالت کی ذمہ داری ہر دو صورت میں مرد ہی پر ہے۔ اُس نے تسلیم کیا: اگر ایسا ہے تو یہ بہترین ہے۔ پھر مغرب کی عورت کی وہ قابلِ رحم حالت بھی زیربحث آئی‘ جس کے کئی ساتھی تو ہوتے ہیں مگر کوئی شوہر یا کفیل نہیں ہوتا۔ اُس کے اپنے بچے ہونے نہیں پاتے‘ اگر ہوں تو ریاست پالتی ہے یا وہ خود نہ صرف اپنے لیے بلکہ اُن کے لیے کماتی اور انھیں پالتی بھی ہے۔
عورت مخصوص میدانوں کا انتخاب کرے یا ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں سے معاشرے کی خدمت و فلاح کے لیے کام کرنا چاہے‘ اُس کو اُس کے لیے میدان کار مہیا کیا جانا چاہیے۔ باہم مسابقت ہو مگر وہ صرف عورتوں کے مابین۔ مرد اور عورت کو مکمل مخلوط ماحول میں یا تحفظ فراہم کیے بغیر ملازمت و معاشی ترقی میں ساتھ ساتھ کھڑا کیا گیا تو کئی واقعات ہوں گے۔ لہٰذا ہرہر سطح پر مخلوط ماحول جہاں اسلام کی روح اور اقدار کے منافی ہے وہاں خود عورتوں کے لیے بھی غیرمحفوظ اور مسائل کا باعث ہے۔
اس نمایندگی کے ذریعے خواتین کے حقوق کے حصول کے بارے میں کئی طبقے تحفظات کا اظہار کرتے ہیں کہ جب ملک کی نصف صدی سے زائد پر محیط تاریخ میں‘ ۹۸ فی صد مرد نمایندگان مردوں کی ترقی کی ضمانت نہیں بنے تو یہ اقدام مروجہ نظام کی اصلاح کے دیگر اقدامات کے بغیر کتنا فائدہ مند ہوگا۔ مگر اس سے عورتوں کو مشاورت کے فورم تک رسائی ضرور ملی ہے‘ تاہم بچوں پر اثرات‘ شوہر بیوی کے مابین غلط فہمیوں‘ عورت پر گھر اور سیاست کے بوجھ کے باعث خاندان کا ادارہ متاثر ہونے کے شواہد سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اسلام عورت کے مشورے کو اہمیت دیتا ہے۔ اُس کو راے دینے اور محاسبہ کرنے کی بھی آزادی ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ اپنی اقدار و روایات کی روشنی میں جائزہ لیا جائے اور اس چیلنج سے نبٹنے کے لیے حکمت عملی اختیار کی جائے۔ پارٹی نشستوں پر متناسب نمایندگی عورت کو ایک مرد امیدوار کی طرح تمام تر انتخابی جدوجہد سے بچانے اور نمایندگی دلوانے کا ذریعہ ہے۔ اگرچہ این جی اوز ’سیڈا‘ کی روشنی میں اس طریق کار کو عورتوں کا قومی دھارے میں شامل کیا جانا نہیں گردانتی اور مردوں کی طرح انتخابی امیدوار بننے کی حامی ہیں۔ خواتین کی نمایندگی کے حوالے سے یہ امور توجہ طلب ہیں: پارٹی نامزدگی میں عمر‘ دیگر گھریلو حالات کا لحاظ اور پھر پارلیمنٹ میں الگ نشستیں‘ کارروائی میں حصہ لینے اور تیاری کے لیے کچھ ضوابطِ کار‘ خاندان کی ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہونے کے لیے کچھ رعایتیں‘ مثلاً شوہر و بچوں کا مقام اسمبلی پر تبادلہ و داخلہ‘ ہر محفل و استقبالیے و عشایئے میں شامل کیا جانا وغیرہ۔
بلوغت کی تبدیلیاں و اثرات‘ ازدواجی زندگی کے مقتضیات‘ ایڈزبچائو کے طریقوں کی ضرورت پر بحث کرتے ہوئے جنسی تعلیم دی جانے پر بعض باشعور طبقات کی طرف سے اصرار کیا جاتا ہے۔ مغربی طرز تعلیم سے بچانے کے لیے اپنی اقدار و اخلاقیات کے حدودِکار میں رہتے ہوئے‘ مناسب انداز میں اس کو حدیث و فقہ کے مطابق ترتیب دیا جائے یا چھوڑ دیا جائے‘ یہ بھی ایک چیلنج ہے۔
بچوں کی دیکھ بھال کے لیے آیا کا انتظام اور خود دن رات یا کئی کئی روز بیرون شہر یا بیرون ملک ملازمت‘ میٹنگوں‘ سیمی ناروں‘ ورکشاپوں‘ اجلاسوں میں شرکت یا دورے اور فنکشنوں میں غیرمحرم مردوں کے ساتھ مصروف عمل رہنا‘ جہاں آیندہ نسلوں کی تربیت پر اثرانداز ہوگا وہاں گھروں میں غیرمحرم نوکرانی یا آیا اور شوہر کی موجودگی بھی معاشرے میں کئی کہانیوں کو جنم دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ بچوں کو کارٹون‘ انٹرنیٹ‘ سی ڈی پروگراموں میں مصروف کرکے‘ یا کئی کئی چینلوں کے ٹی وی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے یا معاشی ترقی میں حصے کے فوائد و نقصانات کا موازنہ کر کے ایک بہتر لائحہ عمل ترتیب دیا جائے؟
عورت کی ترقی کے ایسے فورموں پر‘ یہ موقف بھی بغیر رو رعایت کے کھل کر بیان کیا جاتا ہے کہ ’سیڈا‘ پر عائد تحفظات ختم کر دیے جانے چاہییں‘ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو صرف پاکستان ہونا چاہیے‘ دستور میں شامل قرارداد مقاصد کی حامل دفعہ کوحذف کردیا جانا چاہیے___ کچھ نہیں کہاجاسکتا کہ کس وقت کیا فیصلہ کر لیا جاتا ہے!
حقوق نسواں کی عالمی تحریک اس حد تک آگے بڑھ چکی ہے کہ’سیڈا‘ اس وقت ملک کی ترقی ناپنے کا پیمانہ بنا دیا گیا ہے۔ ترقی پذیر ممالک کی امداد کو اس پر عمل درآمد کے ساتھ مشروط کردیا گیا ہے‘ این جی اوز کی صورت میں منظم قوتیں سیکولر ایجنڈے کو مؤثر انداز میں آگے بڑھا رہی ہیں‘ حکمران وقت سامراجی قوتوں کے آلۂ کار بن چکے ہیں‘ تعلیم کے سیکولر ایجنڈے کے ذریعے تہذیبی تبدیلی کا عمل جاری ہے‘ اور روشن خیالی اور اعتدال پسندی کے نام پر اسلام کو تحریف کا نشانہ بنایاجا رہا ہے۔ ان مسائل کے ہوتے ہوئے آج کے دور کی تہذیبی جنگ میں اپنی شناخت قائم رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے‘ نیزعالمی برادری کے ساتھ بھی رہیں اور اپنی اقدار و روایات کی حفاظت بھی کریں‘ یہ کیسے ممکن ہو۔ ان تمام چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے اور عورت کو اس کا حقیقی مقام دینے کے لیے ایک بھرپور جدوجہد اور ٹھوس لائحہ عمل کے ساتھ ساتھ بالخصوص خواتین میں دینی شعور کی آبیاری اور احیا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔
_____________
مسیحی تہذیب نے عورت کو گناہ کی جڑ گردانا اور تقویٰ و اعلیٰ اخلاق کا تقاضا یہ سمجھا کہ نکاح ہی نہ کیا جائے۔ یہ پابندی ایک مستحسن قدر کے طور پر آج بھی وہاں کے مذہبی پیشوا پادری کے لیے موجود ہے۔ اس راہبانہ تصور کے زیر اثر یورپ اور امریکہ کے لیے جو قوانین بنائے گئے‘ ان میں عورت کو ادنیٰ حیثیت اور پست مقام دیا گیا۔ جب تہذیب کے مرکز کے دعوے دار معاشرے کی صورت حال یہ تھی تو دنیا کے بیش تر حصوں میں کسی نہ کسی شکل میں عورت کا استحصال جاری رہا۔
ردعمل کے طور پر حقوق نسواں کی ایک تحریک برپا ہوئی‘ جس کا آغاز اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے حقوق نسواں کمیشن کے قیام ۱۹۴۸ء سے ہوا۔ عالمی کانفرنسوں کا انعقاد‘ خواتین کا سال اور حقوق نسواں کا عالمی دن منانے کے ساتھ‘ اہم پیش رفت ۱۹۷۹ء میں سیڈا (CEDAW) کے ذریعے ہوئی۔ جس کے لائحہ عمل کے طور پر ۱۴ نکات طے کیے گئے جنھیں عورت کے لیے ترقی‘ امن مساوات کے نعرے کے ساتھ عالمی سطح سے پیش کیا گیا۔ آج امریکی‘ نیور ورلڈ آرڈر‘ کے تحت اسے مغرب کی تہذیبی بالادستی کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ بیش تر مسلمان ممالک کی حکومتوں نے اس عالمی معاہدے پر دستخط کیے۔ عالمی مالیاتی اداروں کی امداد بھی کسی حد تک اس ایجنڈے کے نفاذ کے ساتھ مشروط رکھی گئی۔ باقاعدگی سے منعقد ہونے والے جائزہ اجلاسوں نے ان اہداف کے حصول میں مدد کی۔ عالمی میڈیا اور انٹرنیٹ اس تحریک کے لیے معاون ثابت ہوئے۔ خود مغربی تصورات کے تحت رونما ہونے والی نام نہاد ’عالم گیریت‘ نے ساری دنیا کی عورتوں کو غیر محسوس طور پر اس کا ممبر بنا دیا۔ انھوں نے اپنے ساتھ روا رکھنے جانے والے رویوں اور پیش آنے والے واقعات کو مغرب کے پیش کردہ تناظر میں دیکھنا شروع کیا۔ اسی تسلسل میں دنیا کے بیش تر ممالک میں عورت کے حقوق کی علم بردار این جی اوز اس ایجنڈے کے لیے دنیا بھر میں سرگرم عمل ہیں۔
مولانا مودودیؒ نے مسلم عورت کو عصر حاضر کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے جو رہنمائی عطا فرمائی ہے‘ اسے انھی کی تحریروں سے منتخب کردہ نکات کی روشنی میں پیش کیا جا رہا ہے:
’’یہ نظریات جن پر نئی مغربی معاشرت اور (حقوق نسواں کی عالمی تحریک) کی بنیاد رکھی گئی ہے‘ تین عنوانوں کے تحت آتے ہیں:
مساوات کے معنی یہ سمجھ لیے گئے کہ عورت اور مرد نہ صرف اخلاقی مرتبے اور انسانی حقوق میں مساوی ہوں‘ بلکہ تمدنی زندگی میں بھی عورت وہی کام کرے جو مرد کرتے ہیں۔ معاشی‘ سیاسی اور اجتماعی سرگرمیوں‘ انتخابی جدوجہد‘ دفتروں اور کارخانوں میں ملازمت‘ آزاد تجارتی و صنعتی پیشوں میں مردوں سے مقابلہ‘ سوسائٹی کے تفریحی مشاغل میں شرکت‘ یا اور بہت سی نا کردنی و ناگفتنی مصروفیات۔
عورت کے معاشی استقلال‘ یعنی خود کمانے نے اسے مرد کی معاونت سے بے نیاز کر دیا‘ اور اصول یہ بنا کہ عورت اور مرد دونوں کمائیں اور گھر کا انتظام بازار کے سپرد کر دیا جائے۔
مردوں اور عورتوں کے آزادانہ اختلاط نے عورتوں میں حسن کی نمایش‘ عریانی اور صنفی خواہش کو غیرمعمولی ترقی دے دی۔ اس قسم کی مخلوط سوسائٹی میں فطری طور پر دونوں صنفوں کے اندر یہ جذبہ ابھر آتا ہے کہ صنفِ مقابل کے لیے زیادہ سے زیادہ جاذب نظر بنیں‘ لہٰذا ہوش سنبھالتے ہی انھی خواہشات کا دیوان کو دبوچ لیتا ہے۔
ہمارے اہل حل و عقد نے جب مرعوبیت سے مسحور آنکھوں کے ساتھ فرنگی عورتوں کی زینت‘ آرایش اور ان کی آزادانہ نقل و حرکت اور سرگرمیوں کو دیکھا تو ان کے دلوں میں یہ تمنا پیدا ہوئی کہ کاش! ہماری عورتیں بھی اس روش پہ چلیں‘ تاکہ ہمارا تمدن بھی فرنگی کا ہمسر ہو جائے۔ پھر وہ آزادی نسواں‘ اور تعلیم اناث اور مساوات مرد و زن کے ان جدید نظریات سے بھی متاثر ہوئے‘ جو طاقت ور استدلالی زبان اور شان دار طباعت کے ساتھ بارش کی طرح مسلسل ان پر برس رہے تھے۔ اس لٹریچر کی زبردست طاقت نے ان کی قوت تنقید کو ماؤف کر دیا اور ان کے وجدان میں یہ بات اتر گئی کہ ان نظریات پر ایمان بالغیب لانا اور تحریر و تقریر میں ان کی وکالت کرنا (بقدر جرات و ہمت) عملی زندگی میں بھی ان کو رائج کر دینا‘ ہر اس شخص کے لیے ضروری ہے جو ’’روشن خیال‘‘ کہلانا پسند کرتا ہو اور ’’دقیانوسیت‘‘ کے بدترین الزام سے بچنا چاہتا ہو‘‘۔
۱- معاشرتی مسائل جو اکثر مسلم معاشرے میں رواج پا چکے ہیں‘ گو اسلام سے ان کا کوئی واسطہ نہیں‘ ان کو ایک خاص انداز سے اجاگر کیا جا رہا ہے۔ ان میں سے بیش تر سے انکار ممکن نہیں کہ یہ ہمارے معاشرے میں موجود ہیں‘ تاہم ان کی شدت میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ان میں قرآن سے شادی‘ کاروکاری‘ گھروں میں عورتوں کی بے جا مار پیٹ‘ مٹی کے تیل کے چولہوں کے پھٹنے کے واقعات میں عموماً عورتوں کا زخمی ہونا وغیرہ شامل ہیں۔
۲- دوسرے وہ نکات جن کی زد براہ راست اسلام کے قوانین پر پڑتی ہے۔ مثلاً وراثت‘ گواہی اور دیت میں نصف مقدار کی بنا پر ’’آدھی عورت‘‘ کہا گیا۔ عورت کے لیے حجاب و ستر کی حدود‘ چار شادیوں کی اجازت‘ پسند کی شادی‘ حدود قوانین‘ آئین پاکستان سے قرارداد مقاصد اور اسلامی نظریاتی کونسل کے خاتمے وغیرہ کا غلغلہ۔
۳- تیسرا حصہ‘ براہ راست تو نہیں مگر بالواسطہ اسلامی اقدار اور نظریاتی اساس کو متاثر کرنے والا ہے۔ عورتوں کی بیرون خانہ سرگرمیوں کے لیے چلائی جانے والی تحریک‘ ملازمتوں کا کوٹہ‘ ۳۳ فی صد سیاسی نمایندگی‘ ہر میدان میں مخلوط ملازمت‘ وغیرہ کا عنوان یہ ہے کہ عورتوں کو مردوں کے شانہ بشانہ مرکزی دھارے میں شامل کیا جائے‘ کیونکہ عورت کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کی نفی کے لیے یہ اقدامات ضروری ہیں۔
مذکورہ بالا تینوں امور کی پوری پوری رعایت ملحوظ رکھ کر اسلام نے عورت کو وسیع تمدنی و معاشی حقوق دیے ہیں‘ اور عزت و شرف کے جو بلند مراتب عطا کیے ہیں اور ان حقوق و مراتب کی حفاظت کے لیے اخلاقی و قانونی ہدایات میں جیسی پائے دار ضمانتیں مہیا کیں ہیں‘ ان کی نظیر دنیا کی کسی قدیم و جدید معاشرت میں نہیں ملتی۔
تمدنی حقوق: شوہر کے انتخاب کا عورت کو پورا پورا حق دیا گیا ہے۔ ایک ناپسندیدہ یا ظالم یا ناکارہ شوہر کے مقابلے میں عورت کوخلع اور فسخ و تفریق کے وسیع حقوق دیے گئے ہیں۔ شوہر کو بیوی سے حسن سلوک اور فیاضانہ برتاؤ کی ہدایت کی گئی ہے: وَعَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْـرُوْفِ(النساء ۴:۱۹)‘یعنی عورت کے ساتھ نیکی کا برتاؤ کرو۔ اسی طرح نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کا ارشاد ہے: ’’تم میں اچھے لوگ وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے ساتھ اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ لطف و مہربانی کا سلوک کرنے والے ہیں‘‘۔
بیوہ اور مطلقہ کو نکاح ثانی کا غیر مشروط حق دیا گیا ہے‘ جو آج تک یورپ و امریکہ کے بیش تر ممالک میں نہیں ملا۔
مرد و عورت کے درمیان امتیاز کے خاتمے کے لیے جان‘ مال اور عزت کے تحفظ میں اسلامی قانون عورت اور مرد کے درمیان کسی قسم کا امتیاز نہیں برتتا۔
عورتوں کی تعلیم‘ عورتوں کو دینی اور دنیوی علوم سیکھنے کی نہ صرف اجازت دی گئی بلکہ اسے ضروری قرار دیا گیا۔
قرآن پاک میں واضح کر دیا گیا: ’’اور جو نیک عمل کرے گا‘ خواہ مرد ہو یا عورت ‘بشرطیکہ ہو وہ مومن‘ تو ایسے ہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرّہ برابر حق تلفی نہ ہونے پائے گی‘‘۔ (النسائ۴:: ۱۲۴)
آپ صلی اﷲ علیہ و سلم نے باطنی اصلاح پر ہی اکتفا نہیں فرمایا‘ بلکہ قانون کے ذریعے عورتوں کے حقوق کی حفاظت اور مردوں کے ظلم کی روک تھام کا انتظام بھی کیا۔ اور عورتوں میں اتنی بیداری پیدا کی کہ وہ اپنے جائز حقوق کو سمجھیں اور ان کی حفاظت کے لیے قانون سے مدد لیں۔
حضرت عبداﷲ بن عمرؓ کا بیان ہے کہ جب تک حضور اکرم صلی اﷲ علیہ و سلم زندہ رہے ہم اپنی عورتوں سے بات کرنے میں احتیاط کرتے تھے کہ مبادا ہمارے حق میں کوئی حکم نازل ہو جائے‘ اور جب حضور اکرم ؐنے وفات پائی تب ہم نے کھل کر بات کرنا شروع کی۔ (الجامع الصحیح)
خاندان کا نظام عورت اور مرد کے اس مستقل اور پائے دار تعلق سے بنتا ہے جس کا نام نکاح ہے۔ یہی چیز ان کی انفرادیت کو اجتماعیت میں تبدیل کرتی ہے اور صنفی انتشار کے میلانات کو تمدن کا خادم بناتی ہے۔ اسی نظام کے دائرے میں محبت و ایثار کی وہ فضا پیدا ہوتی ہے‘ جس میں نئی نسلیں صحیح تربیت کے ساتھ پروان چڑھتی ہیں۔ اسی تصور نکاح کے ساتھ ازواج کی ذمہ داریوں‘ ان کے حقوق و فرائض اور ان کے اخلاقی انضباط کا بوجھ سہارا جا سکتا ہے‘‘۔
خاندان کے اس دائرے میں‘ دائرہ کار کی تقسیم کرتے ہوئے معاشی ذمہ داری مرد پر ڈالی گئی۔ اس کو قوام و منتظم قرار دیا (provider & sustainer) ‘ اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَی النِّسَآئِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِھِمْط (النساء ۴:۳۴)’’مرد عورتوں پر قوام ہیں‘ اس بنا پر کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے‘ اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں‘‘۔ جب کہ عورت کو فرماں برداری‘ شکر گزاری اور اپنی عفت و شوہر کے مال کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اولاد کی پیدایش و پرورش عورت کا وظیفۂ زندگی قرار دیا گیا۔ اولاد کے لیے ’’ضعف پرضعف اٹھایا‘‘ کہہ کر عورت کی وکالت کی‘ سعی ہاجرہ کو مردوں کے لیے بھی حج و عمرے کا لازمی رکن قرار دے کر اس اہم ذمہ داری کو تسلیم کروایا۔ ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّھُنَّط (البقرہ ۲:۱۸۷) ’’وہ تمھارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو‘‘ کہہ کر ایک دوسرے کے لیے حفاظت‘ زینت اور ستر پوشی کا ذریعہ قرار دیا۔
اسلام کی تعلیمات تو یہ تھیں مگر اسلامی معاشرے میں رواج پانے والے بہت سے رویے اور معاملات اسلام کی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ وراثت میں استحقاق رکھنے کے باوجود‘ وراثت سے محروم کرنے کے لیے نہایت قبیح رسوم کو اپنانا‘ مہر کا خوش دلی کے ساتھ‘ پوری طرح ادا نہ کرنا‘ یہ ظلم تو خود دین کی سمجھ رکھنے والوں میں بھی عام ہے۔ شادی کے موقع پر ۳۲ روپے غیر شرعی مہر مقرر کرنے کی حکایت کا وجود‘ یا پھر زیادہ رقم مقرر کر دینا‘ مگر ادا نہ کرنا‘ یا مختلف حیلے بہانے سے بیوی کو محبور کر کے معاف کرا لینا اور اس فعل کی حرمت کے بارے میں لاپروائی برتنا‘ ہمارے آج کے مسلم معاشرے میں معیوب نہیں ہے۔ نان نفقہ‘ یعنی کھانا‘ لباس اور رہایش کے خاطر خواہ انتظام سے بے نیازی و عدم دل چسپی‘ شادی میں لڑکی کی مرضی معلوم کرنے کو غیر اہم جاننا‘ ناپسندیدہ شوہر کے ساتھ رہنے پر مجبور کرنے تک کو برا نہیں سمجھا جاتا۔ بیوی کی تفریح و دلجوئی و احسان کے معاملے کا نہ ہونا‘ بیوی کی ملکیت تسلیم نہ کرنا‘ خاندانی اکائی کو گھن کی طرح کھا رہا ہے۔ دیگر غیر اسلامی رسمیںجن میں جہیز‘سورا‘ونی‘ قرآن سے شادی‘ کاروکاری اور عورت کے گھر والوں سے معاشی مطالبات وغیرہ بھی مروج ہیں۔
معاشرے میں نئی تبدیلیاں بھی واضح ہیں۔ عورت کی ملازمت ایک حق اور رواج بنتا جا رہا ہے۔ بچوں کو ڈے کیئر سنٹر بھجوانا‘ خاندانی منصوبہ بندی کا عام ہونا اور اپنا معیار زندگی بلند کرنے کی تگ و دو کے لیے اس کی وکالت۔ اس کے ساتھ زوجین کی باہم ناراضیاں‘ خلع کی شرح میں پہلے سے کہیں زیادہ اضافہ‘ مردوں کے ساتھ اختلاط کے لیے پہلے کی سی کراہت کا نہ ہونا وغیرہ وغیرہ۔ یوں خاندانی اکائی کا استحکام متاثر ہو رہا ہے۔
مولانا فرماتے ہیں: ’’ضرورت اس امر کی تھی کہ مرد کے ساتھ عورت کے تعاون کی ایسی سبیل مقرر کر دی جائے کہ دونوں کا اشتراک عمل ہر حیثیت سے تمدن کے لیے صحت بخش ہو۔ اس نقطۂ عدل کو دنیا صد ہابرس سے تلاش کرتی رہی‘ مگر آج تک نہیں پا سکی‘ کبھی ایک انتہا کی طرف جاتی ہے تو پورے نصف حصے کو بیکار بناکر رکھ دیتی ہے۔ کبھی دوسری انتہا کی طرف جاتی ہے‘ اور انسانیت کے دونوں حصوں کو ملا کر غرق مے ناب کر دیتی ہے۔ افراط و تفریط کی بھول بھلیوں میں بھٹکنے والی دنیا کو اگر عدل کا راستہ دکھانے والا کوئی ہو سکتا تھا تو وہ صرف مسلمان تھا جس کے پاس اجتماعی زندگی کی ساری گتھیوں کے صحیح حل موجود ہیں‘ مگر دنیا کی بدنصیبی کا یہ بھی دردناک پہلو ہے کہ دوسروں کو راستہ دکھانا تو درکنار وہ خود اندھوں کی طرح ہر بھٹکنے والے کے پیچھے دوڑتا پھرتا ہے‘‘۔
لہٰذا ہر مسلمان عورت کو ایک بنیادی فیصلہ کرنا چاہیے: کیا آپ کو مغربی معاشرت اور اس کے زیر اثر پروان چڑھنے والی حقوق نسواں کی عالمی تحریک کا حصہ بننا ہے یا مسلمان معاشرے میں اسلام کے عطا کردہ حقوق کے حصول کے لیے معاون بننا ہے یا معاون نہیں بننا۔
اگر ایک ایسے صالح اور پاکیزہ تمدن کی ضرورت ہے‘ اور اگر ہم اسلام کے محکم اور آزمودہ نظام معاشرت سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو ہمیں اسلام کا راستہ اختیار کرنا چاہیے‘ اس کے ضابطے اور اس کے ڈسپلن کی پوری پوری پابندی کرنی چاہیے۔ ہمیں ان نظریات‘ تخیلات سے بھی اپنے دماغ کو خالی کرنا ہو گا جو مغرب سے مستعار لے رکھے ہیں۔ اسی طرح اسلام کو غیراسلامی تصورات سے مسخ کرنے سے لازماً باز آنا ہو گا۔ یہ عملی تصور ہی اسلام کی اشاعت و تعارف کا ناقابل تردید ثبوت ہو گا۔ اس کے لیے درج ذیل طریق اختیار کیے جا سکتے ہیں:
اسلامی معاشرے کو بگاڑ سے بچانے کے لیے‘ عورت اور مرد دونوں کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا‘ وگرنہ یہ بگاڑ مسلمان عورت کو ہی نہیں مرد کو بھی متاثر کرے گا۔ اس کے بالمقابل یہ کسی ایک مسلمان عورت کے لیے ہی نہیں‘ دنیا بھر کی عورتوں کے لیے ایک نمونہ و پناہ ہو گا۔ دین کی قدروں کا عملی ابلاغ ہی تشہیر و اشاعت دین کا بہترین ذریعہ ہے۔ (ماخوذ: پردہ‘ حقوق الزوجین‘ مسلم خواتین سے اسلام کے مطالبات از سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ)