مضامین کی فہرست


دسمبر ۲۰۲۳

غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مغربی اور امریکی الیکٹرانک میڈیا نے واضح طور پر اسرائیل کی طرف داری کی ہے۔ اس میڈیا وار کی فکری بنیادیں نوم چومسکی اپنی کتاب Manufacturing Consent: The Political Economy of the Mass Media  میں چار عشرے قبل واضح کرچکے ہیں۔ کتاب کے آخر میں وہ (ص۴۰۲ ) اپنے مقدمے کا لب لباب پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ امریکی میڈیا ایک مؤثر اور طاقت ور ادارہ ہے، جو جارحانہ طاقت کے نظام کی معاونت میں پروپیگنڈے کی خدمت انجام دیتا ہے۔ یہ بات انھوں نے ۱۹۸۸ء میں لکھی تھی کہ یہ پروپیگنڈا سسٹم ٹی وی نیٹ ورکس کے ذریعے مزید مؤثر ہوگیا ہے۔

اسرائیلی بمباری کے حوالے سے مغربی میڈیا بہت 'محتاط رہا۔ مثال کے طور پر جب ۱۷؍اکتوبر کو غزہ میں ’الاہلی العربی ہسپتال‘ پر بمباری ہوئی، جس میں ۵۰۰ سے زیادہ لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ نیویارک ٹائمز نے بھی خبر لگائی کہ اسرائیل نے ہسپتال پر بمباری کی۔ اس پر اسرائیل نے وضاحتی بیان جاری کیا کہ ’’یہ ’جہاد اسلامی‘ تنظیم کا گائڈڈ میزائل تھا جو ہسپتال پر گرا ہے، ہم نے کوئی حملہ نہیں کیا‘‘ ۔ ۲۳؍اکتوبر کو نیویارک ٹائمز نے یوٹرن لیتے ہوئے ادارتی نوٹ میں لکھا کہ ہسپتال پر حملے کی خبر حماس کے دعوؤں پر مبنی ہے اور اس کی تصدیق نہیں کی جاسکتی۔ بعد میں نیویارک ٹائمز میں کم و بیش درجن تجزیے شائع ہوئے جس میں اسرائیل کے دعوے کی حمایت واضح نظر آرہی تھی۔

اسرائیل کے اس جھوٹے دعوے کی تصدیق یا تائید امریکا اور مغربی ممالک کے ابلاغی اداروں اور کارپوریشنوں نے بھی کی، جن میں نیو یارک ٹائمز کے علاوہ، ایسوسی ایٹ پریس،  سی این این، وال سٹریٹ جرنل اور بی بی سی بھی شامل ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ’مہذب مغرب‘ نے پہلے اپنے فارنزک تجزیوں سے حملے کو متنازع بنایا اور بعد میں کھل کر اسرائیلی بیانیے کی حمایت اور تائید کی۔ اگر چہ اسرائیل اپنےدعوے کےلیے کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہ کرسکا، لیکن میڈیا سمیت امریکا اور دیگر مغربی ممالک نے آنکھیں بند کرکے اس کی تصدیق بھی کرلی۔

جس وقت بمباری ہوئی، اس کی فوٹیج اسی وقت الجزیرہ کے رپورٹر نے بنائی۔ اس فوٹیج کے علاوہ دیگر وڈیو سے الجزیرہ کی سند نے اس پورے واقعے کابہت باریک بینی سے فارنزک تجزیہ کیا اور اسرائیل کے دعوے کو مسترد کردیا۔ یہ وڈیو الجزیزہ کی ویب سائٹ پر Video investigation: What hit al-Ahli Hospital in Gaza? کے عنوان سے موجود ہے۔ قارئین دونوں جانب کے دعوؤں کو دیکھ سکتے ہیں۔

مغربی میڈیا کے واضح جھکاؤ کے علاوہ بین الاقوامی میڈیا میں جہاں اس کے برعکس موقف پیش ہو رہا تھا اور جو مغرب کی عمل داری سے باہر تھا، انھیں خاموش کرانے کی بھی کوششیں کی گئیں۔ مثال کے طور پراس جنگ میں بڑے میڈیا مراکز اور ذرائع میں الجزیرہ کا کردار غیر معمولی اور بہت نمایاں رہا۔ امریکی سیکرٹری خارجہ ٹونی بلنکن نے تلملا کر قطری حکومت سے خصوصی طور پر ’جنگ کی کوریج کے حجم کو کم کرنے اور 'اعتدال ' سے کام لینے‘ کا کہا۔

دوسری جانب اس جنگ میں سوشل میڈیا کا کردار بہت اہم رہا۔ سوشل میڈیا آؤٹ لیٹس میں صرف ایکس (سابق ٹوئیٹر) کی پالیسی: فیس بک، لنکڈ ان اور انسٹاگرام وغیرکی بہ نسبت 'سخت ' نہیں تھی۔ اس کا پہلا نتیجہ یہ نکلا کہ یورپ میں ایلون مسک کو’’ ایکس پر اسرائیل -حماس جنگ کی غلط معلومات پھیلانے کی وجہ سے جواب دینے کے لیے ۲۴ گھنٹے کا وقت دیا گیا‘‘۔

یورپی کمشنر برائے انٹرنل مارکیٹ، تھیری بریٹن نے ۱۰؍ اکتوبر کو ایلون مسک کو لکھے گئے ایک خط میں کہا: ’’اس امرکے ’اشارے‘ ملے ہیں کہ ایکس پر غزہ کے حوالے سے غلط معلومات اور ’پُرتشدد‘ مواد پھیلا یا جا رہا ہے، مسک ۲۴ گھنٹوں کے اندراس کی وضاحت کرے‘‘۔ ساتھ یہ بھی کہا گیا: ’’یورپی قانونی ضوابط کی تعمیل نہ کرنے کے نتیجے میں ایکس کی سالانہ آمدنی کا چھ فی صد جرمانہ بھی عائد ہوسکتا‘‘۔

جب اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں غزہ میں انٹرنیٹ اور اس کے علاوہ پورا مواصلاتی نظام منقطع ہوگیا تو سوشل میڈیا پر ایک مہم میں ایلون مسک سے مطالبہ کیا گیاکہ وہ غزہ میں اسٹار لنک انٹرنیٹ بحال کرے۔ تاہم، جیسے ہی ٹرینڈنے زور پکڑا، مسک نے اعلان کیا کہ وہ سٹار لنک کے ذریعے غزہ میں کام کرنے والی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ امدادی تنظیموں کےلیے انٹرنیٹ فراہم کرے گا۔ اس کے رد عمل میں اسرائیلی وزیر مواصلات شلومو نے کہا: ’’اسرائیل سٹار لنک کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات منقطع کر دے گا‘‘۔ مسک کو دھمکی بھی دی گئی۔

جب یہ ساری کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئیں اوراسرائیلی موقف اس کے باوجود ناکامی سے دوچار ہوا، تو وہ سوشل میڈیا پر مختلف ذرائع سے اپنا بیانیہ پیش کرنے پر مجبور ہوگیا، جس کےلیے اسرائیل نے کئی ملین ڈالر مختص کیے۔ یہ منصوبہ بھی کامیاب نہ ہوسکا اور پوری دنیا میں لاکھوں لوگ اسرئیلی جارحیت کے خلاف نکلے، تو پچھلے ہفتے وزیر اعظم نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ ہم بھی ۷؍اکتوبر کی وڈیوز جاری کریں گےتاکہ عالمی رائے عامہ میں توازن آجائے۔ لیکن ابھی تک یہ بھی ناکام ہی معلوم ہوتا ہے۔

میڈیا وار میں اب ایک نیا اضافہ یہ ہوا ہے کہ ۱۲ نومبر کو سیمافور (Semafor) نے ایک رپورٹ شائع کی ہے، جس میں بتایا گیا کہ وال اسٹریٹ اور ہالی ووڈکے ارب پتی امریکی عوام کو حماس بطور ایک دہشت گرد تنظیم اور اسرائیل کے حق میں مہم چلانے کےلیے ۵۰ ملین ڈالر خرچ کرنے کے منصوبے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس منصوبے کے روح رواں بیری سٹرنلچٹ ہے، جس نے یہ مہم ۷؍اکتوبر کے بعد شروع کی۔ سیمافور کے مطابق سٹرنلچٹ نے دنیا بھر کے درجنوں امیر ترین کاروباری لوگوں کو ای میل کیا، جس میں ان میں سے ہر فرد سے دس دس لاکھ ڈالر کے عطیہ کا مطالبہ کیا گیا۔

سٹرنلچٹ نے لکھا کہ ’’سی این این کے مالک اور اینڈی وور (جو کہ ایک بڑا میڈیا گروپ ہے) سے اس کی ’بہت اچھی گفتگو‘ ہوئی ہے اور دونوں اس مہم میں ہمارا ساتھ دینے پر متفق ہیں‘‘۔ سٹرنلچٹ کے مطابق: ’’اس مہم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ غزہ میں ہونے والی اموات کی کوریج کے نتیجے میں اسرائیل عالمی سطح پر ہمدردی اور حمایت کھو رہا ہے اور ہمیں اس نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے اپنا بیانیہ تشکیل دینا چاہیے۔

اس مہم سے رائے عامہ یقیناً تبدیل ہوجائے گی، کیوں کہ فلسطینیوں کےلیے حماس جو پروپیگنڈا کر رہا ہے اس سے اسرائیل کےلیے ہمدردی ختم ہورہی ہے۔ اس لیے اب ہمیں اپنا بیانیہ تشکیل دینے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔

یہ ای میل اس نے ۵۰ سے زیادہ لوگوں کو بھیجی ہے، جو دنیا کے امیر ترین لوگ ہیں، اور جن کا مجموعی نیٹ ورک پانچ سو بلین ڈالر ہے۔

اسرائیل کی تائید کے لیے میدانِ میں اُتر کر میڈیا کو استعمال کرنے کی یہ ایک معمولی سی جھلک ہے۔ یہ بھی صرف وہ خاکہ ہے ، جو سامنے آیا ہے۔ اس بیانیے کےلیے کروڑوں ڈالر خرچ کیے جارہے، سیاسی اور سفارتی دباؤ سے بھی کام لیا جارہا ہے، دھمکیوں سے بھی دریغ نہیں کیا جا رہا، اور خلافِ واقعہ پروپیگنڈا اس کے بہت اہم عنصر کے طور پر سامنے آیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ کوششیں بار آور ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہیں۔

فلسطین اور کشمیر دونوں تنازعات، مسلم دنیا کے غیر حل شدہ دیرینہ مسائل ہیں جو عالمی سیاست کا شکار ہیں۔ اگر موجودہ غیر متوازن عالمی طاقت کی شطرنج کی بساط بغیر کسی تبدیلی کے جاری رہی تو مسلم دنیا میں مزید خون بہے گا۔ درحقیقت سلطنت عثمانیہ کے بارے میں اپنے مخصوص تصوّر کے تحت متحد ہونے والی مغربی دنیا انفرادی ملک کی تشکیل یا اجتماعی طاقت سے مسلمانوں کے عروج کو تو گوارا کرتی ہے۔ تاہم، عام دنیا اسلام کو ایک زندہ قوت کے طور پر دیکھتی ہے جو دوبارہ ابھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسلام کے دوبارہ غلبہ پانے کا یہ خدشہ پوری دنیا کو اسلام یا اسلام سے مشابہہ کسی ماڈل کے خلاف متحد رکھتا ہے۔اور ان کی یہ منصوبہ بند سوچ، علاقائی، براعظمی، عالمی، جیو پولیٹیکل طور پر ان کی دفاعی دیوار بناتی ہے۔ مسلم دنیا اپنی موجودہ حیثیت کے ساتھ اپنے خلاف کسی بھی قسم کی سازش کو ناکام بنانے سے قاصر ہے۔

دفاع سے محروم رکھنے کی زندہ مثال فلسطین اور کشمیر کے تنازعات ہیں جو گذشتہ ۷۶ برسوں سے حل طلب ہیں۔ یہاں تک کہ ان دو تنازعات کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے منظور شدہ روڈ میپ کی غالب حقیقت نے بھی عالمی سفارتی قسمت سازوں کو اس بات پر آمادہ نہیں کیا کہ وہ اپنے اخلاقی، سیاسی، سفارتی اثر و رسوخ اور زمینی حقائق کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کردار ادا کریں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو کشمیر اور فلسطین کے پیچیدہ تنازعات کے تصفیے کا اختیار دیا گیا: اقوام متحدہ کی زیر نگرانی کشمیر میں رائے شماری اور فلسطین کے تنازعہ کا دو ریاستی حل۔

کشمیر کو ایک تنازع کے طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) میں بھارت نے یکم جنوری ۱۹۴۸ء کو عالمی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے بین الاقوامی تنازع کے طور پر پیش کیا تھا۔سلامتی کونسل نے جموں و کشمیر میں بین الاقوامی استصواب رائے کے لیے ۱۳؍ اگست ۱۹۴۸ء اور ۵ جنوری ۱۹۴۹ء کی قراردادیں منظور کیں جس کا مطلب ہے کہ اس نے جموں و کشمیر پر بھارتی دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ تاہم، بھارت غلط طریقے سے اس بات پر قائم ہے کہ کشمیر کے آخری حکمران مہاراجا ہری سنگھ نے ۲۶؍اکتوبر ۱۹۴۷ء کو کشمیر کا بھارت سے الحاق کیا تھا۔

یہ دعویٰ تاریخ کی کسوٹی پر پورا نہیں اُترتا کیونکہ مہاراجا نے اسی سال اکتوبر کے شروع میں اپنی آمرانہ حکومت کے خلاف عوامی بغاوت کے نتیجے میں اپنی راجدھانی سری نگر چھوڑ کر جموں میں پناہ لی تھی۔ وہ کسی عہدے پر نہیں تھا یا الحاق کے معاہدے پر دستخط کرنے کا حق دار نہیں تھا۔ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ مہاراجا نے اس سے پہلے ۱۲؍ اگست ۱۹۴۷ء کو حکومت پاکستان کے ساتھ ایک ’تعطل کا معاہدہ‘ (اسٹینڈاسٹل)کیا تھا، یعنی پاکستان جموں و کشمیر کی ریاست کی بالادستی کا ایک جغرافیائی فریق بن گیا تھا اور اس نے سٹینڈ اسٹل معاہدے پر دستخط کیے تھے ۔ دوسری طرف ہندستان نے مہاراجا کی اسی طرح کے اسٹینڈاسٹل معاہدے کی پیش کش کو مسترد کر دیا تھا۔

تاریخی ریکارڈ کے مطابق بھارت کا کشمیر پر کوئی دعویٰ نہیں ہے، لیکن وہ ریاست کے ایک بڑے حصے پر اپنی فوج کے ذریعے زبردستی قابض ہے۔ اس وقت کشمیر کے بھارتی حصے میں ۱۰لاکھ کے قریب پیشہ ور مسلح افواج موجود ہیں۔ کشمیر پر پاکستان کا مقدمہ زیادہ مضبوط ہے لیکن حکومت پاکستان کشمیر کے معاملے میں اقوام متحدہ کے اندر یا اس سے باہر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اسٹینڈاسٹل معاہدے کا حوالہ نہیں دیتی جو کہ ایک ٹھوس تاریخی ثبوت ہے۔

فلسطین پر اقوام متحدہ کا دو ریاستی حل کافی حد تک قابل عمل ہے لیکن بھارت کی طرح اسرائیلی غاصبانہ تکبر اقوام متحدہ کے تقسیم کے منصوبے پر عمل درآمد کی راہ میں حائل ہے۔ فلسطین کے روڈ میپ پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے پورے مشرق وسطیٰ میں انسانوں کے خون کے تالاب بڑھ رہے ہیں۔ فلسطینیوں کو ۵ مئی ۱۹۴۸ء سے لے کر ۲۱ نومبر۲۰۲۳ء کی خوں ریزی اور سفاکیت کے نتیجے میں سلسلہ وار قتل و غارت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ان کے اُکھاڑ پچھاڑ کے مصائب میں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی فلسطین میں حالیہ جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تازہ منظور کردہ قرارداد ہے جو قانون اور انسانیت کے تمام تقاضوں کے خلاف ایک جنگجوانہ اقدام ہے۔

سلامتی کونسل کی یہ قرارداد مستقبل میں دنیا کے کسی بھی کمزور ملک کے خلاف کسی بھی طاقت ور ملک کے جارحانہ عزائم کو بڑھانے یا قانونی جواز کا باعث ثابت ہوگی۔ یہ قرارداد نہ رُکنے والی جنگوں کا لائسنس ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ عجیب و غریب واقعہ سلامتی کونسل کے تحت کیوں پیش آیا جس کا بنیادی کام امن کی حفاظت کرنا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ فلسطین میں جنگ کے وقفہ کی یہ قرارداد عام دنیا کے لیے اسی تناظر میں موزوں ہے جس کا میں نے اس مضمون کے آغاز میں ذکر کیا تھا۔ نظریاتی طور پر موجودہ دور کی عالمی طاقتیں مسلم دنیا کے حق میں نہیں ہیں۔ یہ عالمی تقسیم بالکل واضح ہے جس کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ایک منڈلاتا ہوا خطرہ ہے جو ایک حقیقت کے طور پر موجود ہے!

دنیا کے دو خطرناک ترین ممالک

___اسرائیل اور بھارت

عمران جان

بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور پاکستان ایک جیسی ریاستیں ہیں۔ اس لیے کہ دونوں کو عقیدے کے نام پر بنایا گیا تھا اور ایک مخصوص عقیدے کے پیروکاروں کا گھر قرار دیا گیا تھا، یعنی یہودیوں کے لیے اسرائیل اور مسلمانوں کے لیے پاکستان۔ اس نامعقول دلیل میں وہ جو بات بہت آسانی سے نظرانداز کردیتے ہیں وہ یہ ہے کہ جو لوگ نئے پاکستان کے شہری بنے وہ پہلے ہی یہاں رہ رہے تھے۔ وہ اس سرزمین کے مقامی لوگ تھے۔ وہ یورپ یا سوویت یونین سے بھیجے اور نہیں لائے گئے تھے۔ پاکستان اور ہندستان کے دنیا کے نقشے پر معرضِ وجود میں آنے سے پہلے یہ سرزمین صدیوں تک مسلمانوں اور ہندوؤں کا مسکن تھی۔

اسرائیل کا تصور صہیونیوں کے چالاک ذہنوں کے علاوہ کہیں موجود نہیں تھا۔ یہودیوں کو دنیا کے دوسرے حصوں جیسے یورپ اور سوویت یونین وغیرہ سے وہاں لایا گیا اور انھیں فلسطین میں بسایا گیا جہاں مقامی لوگ رہتے تھے جنھیں فلسطینی کہا جاتا تھا۔ یہ ان کی سرزمین نہیں تھی۔ وہ وہاں نہیں رہتے تھے ۔ اور یہ اب بھی ان کی سرزمین نہیں ہے۔

اگر کوئی بھی دو ریاستیں دنیا کی کسی بھی دوسری ریاستوں کے مقابلے میں مختلف طریقوں سے ایک جیسی ہیں، تو وہ ہندستان اور اسرائیل ہیں۔ دونوں نے بعض علاقوں کو وحشیانہ و سفاکانہ فوجی قبضے میں رکھا ہوا ہے۔ اگر مغربی کنارے اور غزہ کی صورتِ حال بہت پیچیدہ ہے، تو دوسری طرف کشمیر دنیا کا سب سے گنجان فوجی علاقہ ہے۔ دونوں ممالک چاہیں گے کہ ان کی ریاستیں مذہبی طور پر یکساں ہوں۔ دونوں ایک خاص مذہبی گروہ: مسلمانوں سے دیرینہ نفرت رکھتے ہیں۔

۲۰۱۸ء میں، اسرائیل نے نیشن اسٹیٹ لا کے نام سے ایک قانون نافذ کیا، جس میں کہا گیا کہ دیگر نسل پرست اقدامات کے علاوہ، ووٹ کا حق ’یہودیوں کے لیے مخصوص‘ ہے۔ اس طرح اسرائیل کے تمام عرب شہریوں کو قومی خود ارادیت کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے۔ اسرائیل کی ۹۰لاکھ آبادی میں عرب اس کا پانچواں حصہ بنتے ہیں۔ اس کے بعد اسرائیل کی ڈروز کمیونٹی ہے، جوکہ تقریباًایک لاکھ ۲۰ ہزار کا ایک چھوٹا گروپ ہے اور وہ عام طور پر جنگ کے لیے فرنٹ لائنز پر ہوتے ہیں، جو ایک ایسے ملک کے لیے اپنی جانیں قربان کرتے ہیں جو انھیں مساوی شہری کے طور پر قبول نہیں کرتا۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اسرائیل کی نوزائیدہ ریاست کے ساتھ بدنام زمانہ ’خون کے معاہدے‘ پر دستخط کیے تھے۔ تقریباً ۸۰ فی صد ڈروز مرد اسرائیلی فوج میں بھرتی ہوتے ہیں۔ صرف ڈروز خواتین مستثنیٰ ہیں۔

اسی طرح بھارت نے ایک قانون وضع کیا ہے جسے سٹیزن شپ امینڈمنٹ ایکٹ  (CAA) کہتے ہیں، جو پڑوسی ریاستوں جیسے پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے مذہبی اقلیتوں کو امیگریشن کی اجازت دیتا ہے لیکن ایک شرط کے ساتھ مشروط ہے: تارکین وطن کا غیر مسلم ہونا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی بھارتی ریاست آسام میں لاکھوں مسلمان تارکین وطن ہیں جو وہاں کئی دہائیوں سے غیرقانونی طور پر مقیم ہیں لیکن انھیں ہندستانی شہریت نہیں دی جاتی کیونکہ وہ یہ ثابت نہیں کرسکتے کہ وہ بنگلہ دیش کے ایک خودمختار ملک کے طور پر قیام سے پہلے ہندستان آئے تھے اور اس لیے بھی کہ وہ مسلمان ہیں۔ درحقیقت اس کے نتیجے میں پڑوسی ریاستوں سے آنے والے غیرمسلم تارکین وطن آسام کی ریاست میں بڑی تعداد میں آ جائیں گے کیونکہ اس کی سرحد بنگلہ دیش سے ملتی ہے۔ ان تارکین وطن کے لیے ہندستانی شہری بننے کے لیے ایسی کوئی سخت شرائط نہیں ہیں۔

مذکورہ بالا اسرائیلی اور ہندستانی دونوں قوانین کا مقصد اپنے معاشروں کو بالترتیب مکمل طور پر یہودی اور ہندو بنانا ہے۔ اسرائیل امریکی حکومت پر دبائو ڈالنے کے لیے اور اسے اس یہودی ریاست کے خلاف کام کرنے سے روکنے کے لیے جبری دبائو،پروپیگنڈا، لابنگ اور ان کی حیثیت کو مقامی پولیس والے کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ ہندستان چین کے خلاف مقامی پولیس اہلکار بننے کی اپنی صلاحیت اور امریکی کارپوریشنوں کے لیے ایک بہت بڑی منڈی ہونے کی وجہ سے امریکی حکومت کو اسی طرح دبائو میں رکھنے کے لیے اپنی افادیت کا استعمال کرتا ہے۔ اسرائیل کسی بھی سنیما یا نشریاتی کام کو روکتا ہے جو بے گناہ فلسطینی شہریوں کے خلاف کی جانے والی جارحیت کے لیے اہم ہو سکتا ہے۔ بھارت نے گرفتاریوں کی دھمکیاں، واٹس ایپ کے ذریعے پروپیگنڈا، بڑے پیمانے پر عوامی دباؤ اور دیگر دباؤ کے حربے___ یہاں تک کہ نیٹ فلیکس اور ایمیزون پرائم ویڈیو کو سیلف سنسرشپ پر قائل کیا۔ جب تک ان خطرناک ریاستوں کے ساتھ انکل سام اپنے مفادات کے لیے تعاون کرتے رہیں گے، دُنیا کو سکون نہیں مل سکے گا۔ (ایکسپریس ٹریبون، ۲۳ نومبر ۲۰۲۳ء)

یہ ۸ سے ۱۲مارچ ۱۹۵۴ء کے دوران پانچ روزہ ’کامیاب‘ جمہوریت کش مشقیں تھیں، جب عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان کے صوبائی اسمبلی کے الیکشن میں ’جگتو فرنٹ‘ کے نام سے الیکشن لوٹنے کا کامیاب تجربہ کیا۔ اس معرکے میں نسل پرستی، جھوٹ، کانگریسی سرپرستی اور پولنگ اسٹیشن پر دھونس و دھاندلی کا مطلب عوامی لیگ کی کامیابی قرار پایا۔ ۷۰سال پر پھیلی تاریخ میں، عوامی لیگ کے فاسد خون میں یہی بیماری پلٹ پلٹ کر اُمڈتی ہے اور سیاسی درندگی کی ایک نئی منزل عبور کرلیتی ہے۔

پچھلے پندرہ برسوں کے دوران حسینہ واجد کی نام نہاد قیادت میں، بھارتی ایجنسی ’را‘ نے کامیابی سے بنگلہ دیش کی جمہوریت کا قلع قمع کرکے ایک گماشتہ ٹولہ مسلط کر رکھا ہے۔ جو قانون شکن ہے، قاتل ہے، فاشسٹ ہے اور جھوٹ کے انبار پر کھڑا ہے۔ بنگلہ دیش سے باہر، بھارتی پشت پناہی میں متحرک این جی اوز پاکستان میں یہ تاثر دیتی ہیں کہ ’’بنگلہ دیش معاشی جنّت بن چکا ہے‘‘۔ لیکن جب بنگلہ دیش میں دیکھتے ہیں تو ظلم، نفرت، قتل و غارت، بے روزگاری اور عدل کا خون بکھرا نظر آتا ہے۔

موجودہ حکمران عوامی لیگی ٹولے نے ۷جنوری ۲۰۲۴ء کو ملک میں ۱۲ویں پارلیمانی الیکشن کا اعلان کیا ہے، لیکن اس شکل میں کہ گذشتہ کئی برس سے بنگلہ دیش میں اپوزیشن کی دونوں بڑی پارٹیوں یعنی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اورجماعت اسلامی کو مفلوج کرکے رکھا ہے، بلکہ اپنے طور پر انھیں کچل کر رکھ دیا گیا ہے۔

اس سب کے باوجود کہ بی این پی کی سربراہ بیگم خالدہ ضیاء مسلسل جیل میں قید ہیں اور انھیں علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے تک کی اجازت نہیں۔ دوسری جانب جماعت اسلامی کی قیادت کو یا تو پھانسیوں پر لٹکا دیا گیا، یا بہت سے قائدین کو جیل کی کال کوٹھڑیوں میں موت کے منہ میں دھکیل دیا گیا ہے۔ جماعت کو بہ حیثیت سیاسی جماعت الیکشن میں حصہ لینے کے حق سے محروم کردیا گیا ہے۔ اس کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمٰن صاحب کو بغیر کسی مقدمے کے ایک سال سے زیادہ عرصہ گزرا، قید کر رکھا ہے۔ اسی طرح جماعت اسلامی کے رفاہی اور معاشی اداروں کو برباد کردیا ہے۔ لٹریچر کو کتب خانوں سے نکال باہر پھینکا ہے۔ عام عوامی لیگی غنڈوں کو بالکل آر ایس ایس اسٹائل میں جماعت کےکارکنوں، دفتروں اور گھروں پر حملے کرنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ یہ ہے وہ منظرنامہ، جس میں بنگلہ دیش کے الیکشن کا ڈھول پیٹا جارہا ہے۔

یہ ۱۰ جون ۲۰۲۳ء کی بات ہے، جب دس سال شدید پابندی کے بعد پہلی بار جماعت اسلامی کو ڈھاکہ کے ایک چھوٹے سے ہال میں جلسہ منعقد کرنے کی اجازت ملی۔ اس ہال میں مشکل سے تین سو افراد کی گنجایش تھی لیکن ڈھاکہ نے یہ منظر دیکھا کہ اس اجلاس میں شرکت کے لیے تقریباً ایک لاکھ پُرامن افراد، ڈھاکہ کی شاہراہوں پر کھڑے، جلسہ گاہ جانے یا جلسہ گاہ سے مقررین کی تقاریر سننے کے لیے اُمڈے چلے آرہے ہیں۔ اس منظر نے بنگلہ دیش میں عوامی لیگی، ہندو قوم پرست اور سوشلسٹ اخبارات کے صفحات پر کہرام برپا کردیا اور یہ مطالبہ کیا جانے لگا کہ ’’دس برس میں جماعت اسلامی کو اور اسلامی چھاترو شبر (اسلامی جمعیت طلبہ) ختم نہیں کیا جاسکا، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ انھیں کچل دیا جائے‘‘۔ یہ بیانات اور تجزیے آج بھی پڑھے جاسکتے ہیں۔

بنگلہ دیش میں یہ نام نہاد الیکشن درحقیقت بھارتی ایجنسی ’را‘ کی ایک انتخابی دھوکا دہی کی مشق ہے۔ اسی لیے بی این پی نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر حسینہ واجد نے وزارتِ عظمیٰ سے استعفا نہ دیا تو وہ الیکشن میں حصہ نہیں لے گی، جب کہ جماعت مطالبہ کر رہی ہے کہ:

            ۱-         جماعت اسلامی پر الیکشن میں حصہ لینے کے لیے عائد پابندی ختم کی جائے۔

            ۲-         حسینہ واجد حکومت ختم کرکے عبوری حکومت قائم کی جائے۔

            ۳-         بی این پی سمیت تمام سیاسی قائدین اور پارٹیوں کو الیکشن میں حصہ لینے کا حق دیا جائے۔

            ۴-         تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔

            ۵-         عوامی لیگی مسلح غنڈوں کو لگام دی جائے۔

            ۶-         قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سیاسی مخالفین کچلنے سے منع کیا جائے۔

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے قائم مقام امیر پروفیسر مجیب الرحمان نے ۱۹نومبر ۲۰۲۳ء کے بنگلہ دیشی کنگرو سپریم کورٹ کے فیصلے پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔ یاد رہے ڈھاکہ ہائی کورٹ نے یکہ طرفہ طور پر یکم اگست ۲۰۱۳ء کو جماعت اسلامی کی رجسٹریشن غیرقانونی قرار دی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف جماعت نے سپریم کورٹ میں بروقت اپیل کی تھی، مگر دس سال تک اپیل کی کوئی سماعت نہ ہوئی۔ آخرکار جنوری ۲۰۲۳ء کو سپریم کورٹ نے جماعت کے وکلا سے کہا کہ ’’دوماہ کے اندر اندر دوبارہ جامع بیان داخل کریں‘‘۔ جماعت نے مقررہ تاریخ گزرنے سے پہلے درخواست جمع کرادی۔ مگر پانچ ماہ تک پھر کوئی سماعت نہ ہوئی اور اس عرصے میں ۱۰جون کو جماعت کے بندہال میں جلسے کا سن کر ہزاروں لوگوں کی آمد نے حکومت اور کنگرو کورٹ کی عقل کو بٹہ لگادیا۔ ۱۹نومبر ۲۰۲۳ء کو آخرکار سپریم کورٹ نے کیس سننے کے لیے مقرر کیا، مگر سماعت شروع ہوتے ہی کہہ دیا: ’’ہم جماعت کے وکیلوں کی سماعت نہیں کریں گے‘‘ اور درخواست مسترد کردی۔ یہ سب ڈراما پوری دُنیا کے سامنے کھیلا گیا ہے۔

یہ عدالتی ڈراما ابھی انجام کو پہنچا ہی تھا کہ جماعت اسلامی اور اسلامی چھاترو شبر کے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ اور کریک ڈائون کی سیاہ آندھی پورے بنگلہ دیش میں چلنا شروع ہوگئی۔ جس میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران جماعت اسلامی کے ۲ہزار ۹ سو ۳۷ کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ان قیدیوں میں بزرگ، معذور اور خواتین بھی شامل ہیں۔ تین کارکنوں کو عوامی لیگی غنڈوں نے تیزدھار آلے سے حملہ کرکے شہید کردیا ہے۔ پانچ کارکنوں کو پولیس نے گولی مار کر زخمی کیا ہے۔ ۵۷۳کارکن شدید زخمی حالت میں نجی ہسپتالوں میں پڑے ہیں، کہ سرکاری ہسپتال جماعت کے کارکنوں کو طبّی امداد دینے سے انکاری ہیں۔ ابھی ہم کہہ نہیں سکتے کہ دسمبر کے مہینے میں حسینہ واجد نامی ’کالی ماتا‘ (خونی ماتا) جماعت کے کتنے کارکنوں اور انصاف کا خون پیئے گی!

عوامی لیگی کا رکن، قانون شکن اور بدعنوان شمس الدین احمد چودھری، بنگلہ دیشی عدلیہ کا اصل چہرہ ہے۔ کچھ سال پہلے تک بدنام شہرت کا حامل یہ شخص اپیل کونسل میں منصف کے طور پر شامل ہوکر سپریم کورٹ کا وقار مٹی میں ملا رہا تھا۔ دس سال سے زیادہ عرصہ قبل جب یہ آدمی ہائی کورٹ کا جج تھا تو میں نے بطور شہری اور مدیر روزنامہ امر دیش ،صدر مملکت اور چیف جسٹس کو خط لکھ کر  اس کے خلاف احتسابی کارروائی شروع کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس خط میں اس کی بدعنوانی اور اخلاقی گراوٹ کے کئی واضح اور ناقابلِ تردید ثبوت بھی مہیا کیے گئے تھے۔ لیکن نتیجہ وہی نکلا، جو کسی فسطائی ریاست میں ہو سکتا تھا۔ اس ملزم کو ترقی دے کر اپیل ڈویژن میں بھیج دیا گیا۔ دوسری طرف ایک اختلافی آواز کو دبانے کے لیے مبینہ طور پر وزیر اعظم حسینہ واجد کے حکم پر مجھے گرفتار کر لیا گیا۔ دورانِ حراست تشدد کا نشانہ بنایا گیا، کئی دفعہ جان سے مارنے کی کوشش ہوئی، پانچ سال تک قید میں رکھا گیا، اخبار بند کردیا اور چھاپہ خانے کو پولیس نے سربمہر کر دیا۔ ۲۲ جولائی ۲۰۱۸ء کو عدالتی حدود میں ایک دفعہ پھر مجھ پر حکومتی جماعت کے اُجرتی قاتلوں نے حملہ کیا، جس کے بعد ملک چھوڑنے کے سواکوئی چارہ نہ رہا۔

یہی شمس الدین نامی بدمعاش ’جج َ‘ اب ریٹائر ہونے کے بعد چند دن سے دوبارہ خبروں کا حصہ بنا ہوا ہے۔ موصوف نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں بنگلہ دیش سے امریکی سفیر پیٹر حاس کو نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکا نے بنگلہ دیش کی فسطائی حکومت کے چند محدود اور غیر متعین عناصر کے خلاف ویزا پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ یہ ایک تلخ سچائی ہے کہ بنگلہ دیشی عدلیہ راتوں رات ذلّت کی گہرائی میں جاگری بلکہ ۲۰۰۸ء میں عوامی لیگ کے اقتدار میں آنے کے بعد بنگلہ دیش سے جمہوریت کے خاتمے اور عدل کی زندگی کے قتل کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ ہمارے اخبار امردیش نے ہر طرح کی مخالفت کے باوجود ۲۰۰۹ء میں عدلیہ میں بڑھتی ہوئی سیاسی مداخلت اور بھرتیوں کے خلاف کئی مضامین شائع کیے تھے۔ یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوگیا تھا جب دسمبر ۲۰۰۸ء میں حسینہ واجد، امریکا و بھارت کی مدد سے انتخابات میں کامیابی کے نام پر اقتدار پہ قابض ہوئی تھیں۔ بھارت کے سابق صدر پرناب مکھرجی، جو اُس وقت وزیر خارجہ تھے، اپنی یادداشتوں میں یہ قصہ سناتے ہیں کہ کیسے انھوں نے تب کے بنگالی سپہ سالار جنرل معین کو شیخ حسینہ کے حق میں انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے آمادہ کیا تھا۔ مکھرجی کے بقول انھوں نے بدلے میں جنرل معین کو یقین دہانی کروائی تھی کہ حسینہ کی حکومت میں بنگالی فوج کی سپہ سالاری انھی کے پاس رہے گی۔

۱۰ مئی ۲۰۱۰ء کومیں نے امر دیش  میں ایک کالم بعنوان ’آزادیٔ عدالت کے نام پر دھوکا‘ لکھا تھا۔ اس کے جواب میں توہین عدالت کے دو مقدمے قائم کر کے مجھے چھ ماہ کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔ ایک لاکھ ٹکا جرمانہ بھی میری سزا میں شامل تھا، جو میں نے یہ کہتے ہوئے ادا نہیں کیا کہ میرا مضمون مکمل طور پر حق اور سچ پر مبنی ہے اور اخلاص کے تحت لکھا گیا ہے۔ نتیجتاً میری سزا میں ایک مہینے کا اضافہ کر دیا گیا۔

میرا مقدمہ عدالت کے فل بنچ کے سامنے لگا تھا۔ اپیلیٹ ڈویژن کے ایک جج نے عدالت میں کہا تھا: اس مقدمے میں لفظ ’’سچ آپ کا دفاع نہیں کر سکتا‘‘۔ میں نے اپنا مقدمہ بغیر کسی وکیل کے جیل سے خود لڑا تھا کیونکہ قید خانے میں کوئی قانونی مدد اور سہولت دستیاب نہیں تھی۔ ان جج صاحب کا نام عبدالمتین تھا، اور ریٹائر ہونے کے بعد اب وہ سول سوسائٹی کا تازہ تازہ حصہ بنے ہیں، اور جب منہ کھول کر عدلیہ کی آزادی پر خطبے دیتے ہیں تو مجھے ہنسی آتی ہے۔ جب میرا مقدمہ چل رہا تھا تو سپریم کورٹ میں ان کا دوسرا نمبر تھا اور وہ خود چیف جسٹس بننے کے امیدوار تھے۔اس عہدے کے لالچ میں وہ حسینہ واجد کی چاپلوسی میں اُلٹے سیدھے ہو رہے تھے اور ان کی کوشش تھی کہ اس فسطائی حکومت کو خوش کرنے کے لیے مجھے زیادہ سے زیادہ سزا دی جائے کیونکہ میں نے حکمران خاندان کی بدعنوانیوں اور بنیادی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز بلند کی تھی۔ مگر سفاک وزیراعظم کے قریب ترین سمجھے جانے والے جسٹس خیر الحق، عبدالمتین کو پیچھے چھوڑ کر چیف جسٹس بن گئے اور بنگلہ دیشی جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل انھی نے ٹھونکی۔

پستی کی طرف بڑھتے بنگلہ دیش کو خبردارکرنے کے لیے میں نے اپنی تحریروں کے ذریعے بین الاقوامی برادری کو باخبر رکھنے کی کوشش کی، لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ میں نے تب کی امریکی انتظامیہ کی پالیسیوں پر بھی کڑی تنقید کی اور ایک مضمون بعنوان ’’گڈگورننس اب امریکی مقاصد کا حصہ نہیں‘‘ ( ۱۷ مئی ۲۰۱۰ء) امر دیش میں شائع کیا۔ ریاستی مشینری اور سیکولرازم کے لبادے میں چھپے اسلام مخالف میڈیا نے، جس کی سربراہی ۹۰ کے عشرے سے پروتھم ایلو اور ڈیلی سٹار  اخبار کے گروپ کر رہے ہیں، مجھے ’اسلامی انتہا پسند‘ قرار دے ڈالا۔ یہ بہتان دنیائے مغرب میں شدید اسلام دشمنی کے لیے کافی خطرناک ہو سکتا تھا۔ اگرچہ اسلام دشمنی کو دیکھتے ہوئے اقوام متحدہ نے حال ہی میں ۱۵ مارچ ’اسلاموفوبیا‘ پراپیگنڈا مہم کے خلاف عالمی دن قرار دیا ہے، جو یقیناً خوش آیند ہے۔ تاہم، ۲۰۱۰ء میں عالمی سیاسی حالات کافی مختلف تھے۔ بظاہر ۲۰۱۰ء میں امریکیوں کو اخبار امردیش کے خلاف ہونے والی فسطائی کارروائیوں پر خوشی ہوتی تھی، جو بنگال کا دوسرا مقبول ترین اخبار تھا اور اس کے برعکس امریکا کا حمایت یافتہ پروتھم ایلو بعد میں آتا تھا۔ میری اور اسلام پسند سمجھے جانے والے ’دشمن‘ عناصر کی تکالیف پر ڈھاکہ میں موجود امریکی سفارت خانہ بھی مطمئن تھا۔

دُنیا کے حاکم اس چیز کو اہمیت نہیں دیتے کہ بندے کی وضع قطع کیا ہے، چاہے وہ کیسی ہی ماڈرن صورت رکھتا ہو، وہ اس کے خیالات اور عمل کی بنیاد پر طے کرلیتے ہیں کہ یہ اسلام پسند ہے اور اسے سیکولر طبقے میں شمار نہیں کرنا۔

عوامی لیگی حکومت کی پشت پناہی میں حریص اور مفادات کے اسیر ججوں اور وکلا کی ایک بڑی جماعت نے جارج آرویل [م: ۱۹۵۰ء]کے ناولوں Animal Farm وغیرہ سے مماثل ایک ظالمانہ ریاست بنانے کی سازش کی تھی، جس میں ’کن ٹٹا باپ (شیخ مجیب کا بھوت)‘ اور ’کن ٹٹی شہزادی (شیخ حسینہ جو خودکو ’سر‘ کہلوانے پر مصر رہتی ہیں)‘ اقتدار اعلیٰ پر قابض ہوں گے۔ عدلیہ کی جانب سے اس سازش میں شریکِ جرم درج ذیل تھے:

۱- سابق چیف جسٹس خیر الحق،۲- سابق چیف جسٹس ایس کے سنہا، ۳- سابق چیف جسٹس مزمل حسین،۴- سابق چیف جسٹس تفضل اسلام، ۵- سابق چیف جسٹس فضل الکریم، ۶-سابق چیف جسٹس سید محمود حسین، ۷- سابق چیف جسٹس حسن فائز صدیقی، ۸-موجودہ چیف جسٹس عبید الحسن، ۹- سابق اپیل ڈویژن جسٹس شمس الدین چودھری، ۱۰- سابق اپیل ڈویژن جسٹس نظام الحق نسیم (جن کے کردار کا پردہ روزنامہ امر دیش اور دی اکانومسٹ نے ’اسکائپ اسکینڈل‘ میں چاک کیا تھاـ)،۱۱- موجودہ اپیل ڈویژن جسٹس عنایت الرحمٰن،۱۲- موجودہ وزیرقانون انیس الحق،۱۳- سابقہ وزیر قانون  شفیق احمد،۱۴- مرحوم اٹارنی جنرل محبوب عالم، ۱۵-غلام عارف ٹیپو ایڈووکیٹ، ۱۶-سیّدریاض الرحمٰن ایڈووکیٹ،۱۷-رانا داس گپتا ایڈووکیٹ، ۱۸- زیاد المعلوم ایڈووکیٹ (مجرم اسکائپ سکینڈل)

ان کے علاوہ جن بے ضمیر ججوں نے اپنے عہدوں کے لالچ اور مراعات کی ہوس کے لیے فسطائی حکومت کے جائز و ناجائز اقدامات کی حمایت کی، ان میں دو شخصیات خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہیں، ایک اپیل ڈویژن کے جسٹس عبدالمتین اور دوسری سابقہ جسٹس نجم الآراء سلطانہ۔ ان میں سے جسٹس عبدالمتین کا ذکر پہلے ہو چکا جو آج کل پروتھم ایلو اور ڈیلی سٹار کی چھترچھایا کے نیچے نام نہاد سول سوسائٹی کے ارکان کے درمیان ایک بزرگ دانشور اور سیاست دان کے طور پر خود کو پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جسٹس نجم الآراء سلطانہ کے بارے میں یہ بتا دیا جائے کہ انھوں نے جسٹس عبدالوہاب میاں اور جسٹس امام علی کے ساتھ مل کر اس آئینی ترمیم کی بڑی سختی سے مخالفت کی تھی، جس کے تحت نگران حکومتوں کا نظام ختم کر کے بنگلہ دیش میں ایک جماعت کی فسطائی حکومت کا راستہ ہموار کیا گیا۔ جب یہ کیس سپریم کورٹ میں پہنچا تھا تو مذکورہ تین جج اس کے مخالف تھے، جب کہ تین ہی ججوں نے حمایت کی تھی۔ آخر چیف جسٹس خیر الحق نے اس کی حمایت میں فیصلہ دے کر بنگلہ دیش کے آئین میں مہیا کردہ آزادانہ انتخابات کی سب سے بڑی ضمانت ختم کر دی تھی۔ 

 عدلیہ میں موجود عوامی لیگی حواریوں کے جرائم کی ایک فہرست یاددہانی کے لیے پیش ہے:

            ۱-         نگران حکومتی نظام کا خاتمہ کر کے عوامی لیگی شیطانی حکومت کے لیے زمین ہموار کرنا۔

            ۲-         انسانیت کے خلاف ہر طرح کے جرائم مثلاً جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، حراست میں تشدد وغیرہ میں شیخ حسینہ اورپولیس، فوج، راب(RAB) میں موجود اس کے ڈیتھ اسکواڈ کی مدد۔ حزب اختلاف کے رہنماؤں، آزاد صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی ضمانتوں سے انکار، بنگالی عوام کے بنیادی حقوق پر کھلی ڈاکا زنی۔

            ۳-         فاشسٹ حکمران شیخ حسینہ کی خواہشات کے مطابق اس کے سیاسی مخالفین بشمولہ سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے خلاف وزارت قانون کی جانب سے تیار کردہ فیصلے بغیر کسی شرم، ہچکچاہٹ کے من و عن سنا دینا اور جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان کی مسلسل گرفتاری کہ جس میں انھیں نہ ضمانت کا جائز حق میسر ہے، نہ اپنی بزرگی اور بگڑتی صحت کے باوجود علاج کی مناسب سہولت۔

            ۴-         نئی دہلی حکومت کے ایما پر اسلام پسند رہنماؤں کے قتل کے لیے کینگرو عدالتوں کا قیام اور ملکی عدلیہ اور اداروں کی مستقل تباہی۔ اس قتل و غارت گری کے لیے ۱۹۷۱ء کی جنگ کو جواز بنایا جاتا ہے۔ روزنامہ امر دیش اور لندن اکانومسٹ نے ۲۰۱۲ء میں ایک زبردست تحقیقی رپورٹ کے ذریعے اس منصوبے کا پردہ چاک کر دیا تھا۔ یہ رپورٹ آزادی کے بعد کی بنگلہ دیشی صحافت میں اہم مقام رکھتی ہے۔ تاہم، بین الاقوامی برادری اور مغرب کے آزادی ٔ صحافت کے علَم برداروں نے سیاسی مصلحتوں کے تحت ہندستان کو خوش کرنے کے لیے آنکھیں بند رکھنے کا فیصلہ کیا۔

            ۵-         آزادیٔ اظہار پر پابندیوں میں حکومت کے ساتھ اتحاد۔

            ۶-         ملک میں قانون کی حکمرانی مکمل طور پر ختم کرنے میں حکومت کے ساتھ اشتراک۔

پچھلے پندرہ برسوں کے دوران ہونے والے عدلیہ کے یہ جرائم مدتوں یاد رکھے جائیں گے۔ یہ سب انڈیا کی پشت پناہی میں ایک بدعنوان اور ظالم خاتون کی ایما پر کیا گیا ہے۔ ہمیں اُمید ہے کہ عدلیہ میں عوامی لیگ کے مقرر کردہ یہ جلاد ایک دن انصاف کا سامنا کریں گے۔

کیا یہ بیان حقیقت ہے یا بے جا مغالطہ انگیزی؟___ ’’اُردو کے نفاذ کا مسئلہ کسی قومی، ملکی، یا نسلی عصبیت کا مسئلہ نہیں ہے کہ ایک زبان کو ہٹا کر اس کی جگہ دوسری زبان نافذ کر دی جائے، بلکہ یہ دینی، قومی، ملکی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی مسئلہ ہے‘‘۔ آئیے جائزہ لیتے ہیں۔

  • دینی پہلو: یہ دینی مسئلہ اس طرح ہے کہ عربی کے بعد سب سے زیادہ اسلامی لٹریچر اُردو میں ہے، لیکن خطرناک حد تک اُردو فہمی آہستہ آہستہ کم ہوتی جا رہی ہے۔ اگر استعماری اور غیراستعماری سازش کے تحت یا پھر ہماری نادانی کے سبب اُردو زبان ختم ہو جاتی ہے تو ذرا سوچیے، ہماری آنے والی نسلوں کا کیا بنے گا؟ ماہرین کہہ رہے ہیں کہ اگر ہماری یہی روش رہی تو اُردو کا وجود بس ۲۰، ۲۵ سال کی کہانی ہے (یعنی اُردو یا نیم قسم کی اُردو بس بول چال کا ذریعہ رہ جائے گی، لکھنے پڑھنے اور برتنے کی چیز نہیں ہو گی)۔

ادب انسان کو اچھا انسان بنانے میں مددگار ہوتا ہے۔ مگر ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے آنے والی نسلیں اُردو ادب سے کٹتی  جا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں وہ اُردو میں لکھے گئے نہایت قیمتی دینی، تہذیبی اور تاریخی لٹریچر سے بھی کٹ جائیں گی۔ یہ اندازہ لگانے کے لیے آدمی کا دانش ور ہونا ضروری نہیں ۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ابھی ایسی صورت حال نہیں ہے، لیکن غور کریں تو واقعی ہم اسی طرف تیزی سے جا رہے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسئلے کے سنگین ہونے سے پہلے اس پر قابو پانے کی کوشش کی جائے۔

کہا جا سکتا ہے کہ ’’قرآن اور احادیثِ نبویؐ میں تو کسی خاص زبان کی ترویج کا حکم نہیں ہے۔ یہ بات درست ہے کہ قرآن و حدیث نبویؐ میں ایسی کوئی صریح ہدایت نہیں ہے۔ البتہ، قرآن میں دو جگہ اس کی طرف اشارے ضرور ملتے ہیں: ایک تو سورۂ حٰم السجدہ کی آیت ۴۴ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: (مشرکین کے اعتراض کے جواب میں)’’اگرہم اس قرآن کو عجمی (زبان میں) بھیجتے تو یہ لوگ کہتے، کیوں نہ اس کی آیات کھول کر بیان کی گئیں؟ کیا عجیب بات ہے کہ کلام عجمی ہے اور مخاطب عرب ہیں‘‘۔ دوسری جگہ سورۂ ابراہیم کی آیت ۴ میں فرمایا گیا ہے: ’’ہم نے اپنا پیغام دینے کے لیے جب کبھی کوئی رسول بھیجا ہے، اس نے اپنی قوم ہی کی زبان میں پیغام دیا ہے، تاکہ وہ انھیں اچھی طرح کھول کر بات سمجھائے‘‘۔ گویا کسی چیز یا موضوع کا ابلاغ متعلقہ لوگوں کی اپنی زبان میں ہی کماحقہٗ ممکن ہے۔ اجنبی زبان میں لوگوں کو صحیح طور پر نہیں سمجھایا جاسکتا۔

پاکستان میں اُردو کا نفاذ اسلام کی روح کے عین مطابق ہے، اور بدیسی زبان کا نفاذ اسلام کی روح کے بالکل منافی ہے۔ اب سوچ لیجیے کہ اگر قوم کے اوپر غیر ملکی زبان مسلط ہو، جس پر عبور رکھنے والے دو چار فی صد سے زیادہ نہ ہوں، تو کیا اس قوم کے نوجوان مروجہ علوم و فنون پر بآسانی صحیح طور پر عبور حاصل کر سکیں گے؟ اپنی زبان کے خاتمے یا کم فہمی کی وجہ سے کیا یہ نوجوان اپنے تہذیبی ورثے سے جڑے رہ سکیں گے؟ اپنی زبان اور ادب سے بے بہرہ یہ نوجوان جب تعلیم و تدریس کے شعبے میں آئیں گے، تو کیا اپنے شاگردوں کو آسان زبان میں موضوع کو سمجھا سکیں گے، یا کسی مذاکرے میں اپنا ما فی الضمیر سہل انداز میں پیش کر سکیں گے؟ کسی موضوع پر کوئی مضمون یا کتاب آسان اور عام فہم زبان میں لکھ سکیں گے؟ ایک حدیث نبویؐکا مفہوم ہے کہ ’’آسانیاں پیدا کرو، مشکلات پیدا نہ کرو‘‘ (یَسِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا، بخاری، حدیث۶۱۹۲، کتاب الآداب)، اور جہاں انگریزی سمجھنے والے دو چار فی صد سے زیادہ نہ ہوں، وہاں دفتری امور نمٹانا اور تعلیم حاصل کرنا انگریزی میں آسان ہو گا یا اُردو میں؟

اسی طرح مولانا اشرف علی تھانوی ؒ کا ۱۹۳۹ء کا یہ فتویٰ بھی موجود ہے: ’’اس وقت اُردو زبان کی حفاظت حسبِ استطاعت واجب ہو گی اور باوجود قدرت کے اس میں غفلت اور سُستی کرنا معصیت اور موجبِ مواخذۂ آخرت ہو گا‘‘ مگر اب تو اُردو کے لیے حالات اور بھی بدتر ہو گئے ہیں۔

  • سیاسی پہلو: اگر قومی، ملکی اور سیاسی تناظر میں دیکھا جائے تو ذرا سوچیے کہ دنیا میں آپ کسی ایک ملک کی بھی مثال نہیں دے سکتے ہیں، جس نے اپنی زبان چھوڑ کر کسی غیر ملکی زبان کو استعمال کر کے ترقی حاصل کی ہو؟ جاپان کے بارے میں تو یہ بات تصدیق شدہ ہے کہ جب دوسری عالمگیر جنگ میں شکست کے بعد فاتح امریکا نے شہنشاۂ جاپان سے پوچھا: ’مانگو کیا مانگتے ہو؟‘ تو دانا اور محبِّ وطن شہنشاہ نے جواب دیا: ’اپنے ملک میں اپنی زبان میں تعلیم‘۔ اس لین دین کا نتیجہ  آج ہمارے سامنے ہے۔ غرض جاپان، جرمنی، فرانس وغیرہ بلکہ دنیا کے جس ملک نے بھی ترقی کی ہے، اپنی زبان میں تعلیم دے کر ہی کی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر غیر ملکی زبان میں تعلیم دی جائے تو طالب علم کی تقریباً ۵۰ فی صد توانائی (بعض اوقات تو ۷۰ اور۸۰ فی صد )دوسری زبان سمجھنے پر خرچ ہوتی ہے اور بقیہ ۲۰ تا ۳۰ فی صد نفسِ مضمون پر۔

دوسری طرف یہ دیکھیے کہ میٹرک اور انٹر میں ہمارے طلبہ و طالبات کی اکثریت کس مضمون میں ناکام (فیل) ہوتی ہے؟ جواب واضح صورت میں سامنے آتا ہے کہ ’انگریزی میں‘۔ پنجاب میں پچھلے ۲۰ سال کے نتائج کے مطابق میٹرک کے اوسطاً ۷۰ فی صد طلبہ انگریزی میں فیل ہوئے اور انٹر کے ۸۷ فی صد۔ ان طلبہ میں کافی تعداد ایسے نوجوانوں کی ہو سکتی ہے، جو انگریزی کے علاوہ دوسرے مضامین یا شعبوں میں اچھے ہوں اور آگے چل کر دوسرے شعبوں میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔ اس طرح ہماری قوم ہر سال معتد بہ تعداد میں اچھے اذہان سے محروم ہو جاتی ہے۔

  • معاشی پہلو: پاکستان میں اُردو کے نفاذ کا ایک معاشی پہلو یہ بھی ہے کہ ملک میں انگریزی سمجھنے والے دو چار فی صد سے زیادہ نہیں ہیں۔ یہ زبان (انگریزی) دراصل ہماری اشرافیہ یا ’گندمی انگریزوں‘ جرنیلوں اور نوکر شاہی کی زبان ہے۔ انگریزی ہی کی بدولت ان لوگوں کا اقتدار اور برتری قائم ہے۔ اگر اُردو پاکستان کی سرکاری زبان بن جاتی ہے، تو ان ’گندمی انگریزوں‘ اور ان کی آیندہ نسلوں کا اقتدار اور برتری ختم ہو جائے گی۔ اگر اُردو ہماری سرکاری زبان نہیں بنتی، تو غریب اور متوسط طبقے کے بچے کلرک، مزدور اور چپراسی ہی بنیں گے، چاہے وہ کتنے ہی ذہین کیوں نہ ہوں، اور کلیدی عہدے اور منصب بھی اسی مقتدر طبقے کے بچوں کا مقدر بنیں گے۔ سی ایس ایس کے امتحان اُردو میں نہ کروانے کی بڑی وجہ یہی ہے۔ آج بھی آپ دیکھ سکتے ہیں کہ امتحانی مراحل اور مصاحبوں (انٹرویو)میں وہی امیدوار کامیاب ہوتے ہیں جن کی انگریزی اچھی ہوتی ہے، چاہے نفسِ مضمون میں وہ کتنے ہی کم زور کیوں نہ ہوں۔

انگریزوں کی آمد سے قبل ہندستانی مسلمانوں کی تعلیمی حالت کیا تھی؟ اس بارے میں ایک برطانوی اعلیٰ افسر جنرل ولیم ہنری سلیمین کے اپنی کتاب Rambles and Recollections of an Indian Official  (۱۸۴۴ء) میں یہ الفاظ قابلِ توجہ ہیں:’’دنیا میں صرف چند قومیں ایسی ہوں گی جیسی کہ مسلمانانِ ہند ہیں اور جن میں تعلیم اعلیٰ پائے کی ہے اور سیر حاصل ہے۔ جس (بھی)آدمی کی تنخواہ -/۲۰روپے ماہانہ ہے، وہ اپنے بچوں کو ایسی تعلیم دیتا ہے، جیسی انگلستان کے وزیراعظم کی ہوتی ہے۔ یہ افراد عربی، فارسی کے ذریعے، اس طرح کا علم حاصل کرتے ہیں جیسا ہمارے نوجوان یونانی اور لاطینی کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔ ان کا علم اسی پایہ کا ہوتا ہے، جس پایہ کا اوکسفرڈ کے فارغ التحصیل کا۔ یہ عالم بغیر کسی جھجک کے سقراط، ارسطو، افلاطون، جالینوس اور بوعلی سینا کی تعلیمات پر گفتگو کرتا ہے۔ ہم میں سے بہترین یورپی بھی اعلیٰ خاندان کے تعلیم یافتہ مسلمانوں کے سامنے علمی لحاظ سے خود کو کم تر اور پست محسوس کرتے ہیں، بالخصوص جب کوئی سنجیدہ علمی گفتگو ہو‘‘۔

اسی طرح لارڈ میکالے، رکن قانون ساز گورنر جنرل کونسل کے ۲ فروری۱۸۳۵ء کو برطانوی پارلیمنٹ سے خطاب کا درج ذیل اقتباس دیکھیے: ’’میں نے ہندستان کا مکمل دورہ کیا ہے۔ میں نے یہاں نہ کسی کو بھکاری دیکھا ہے اور نہ چور۔ میں نے اس ملک میں اس قدر فارغ البالی، ثروت، اخلاقی اقدار اور نہایت اعلیٰ ظرف کے لوگ دیکھے ہیں کہ میں نہیں سمجھ سکتا کہ ہم اس ملک کو اس وقت تک فتح کرسکتے ہیں جب تک اس قوم کی کمرِ ہمت کو شکستہ نہیں کر دیں، جو دراصل اس کا ثقافتی اور روحانی ورثہ ہے۔ چنانچہ میری تجویز ہے کہ ہم ان کے قدیم نظامِ تعلیم اور ثقافت کو   تبدیل کر دیں تاکہ ہندستانیوں کو یہ یقین ہو جائے کہ جو کچھ باہر سے آرہا ہے اور انگلستانی ہے وہ مستحسن و عظیم ہے بہ نسبت ان کے اپنے ثقافتی نظام کے۔ اس طرح ان کی عزتِ نفس ختم ہوجائے گی، ان کی ثقافت ماضی کی داستان بن کر رہ جائے گی، اور وہ وہی ہوجائیں گے جو ہم اُنھیں بنانا چاہتے ہیں، ایک صحیح طرح سے مغلوب قوم....‘‘۔

 چنانچہ انگریزوں کی آمد کے بعد، اس طرزِ تعلیم میں قطع و برید کی گئی۔ سب سے پہلے علمِ دین کو خارج کیا گیا۔ اس کے بعد رفتہ رفتہ دیگر اجزائے علم اور عربی و فارسی کو عام تعلیم سے خارج کیا گیا، آخرکار طالب علم، علم کے لحاظ سے ناقص، اور صرف سرکاری ملازمت اور اہل کار ہونے کے قابل رہ گئے، تابع فرمان ملازم!

  • معاشرتی پہلو: اُردو اپنے حق کے مطابق اگر رواج نہیں پاسکی ہے تو اس کا ایک معاشرتی نقصان یہ بھی ہے کہ جن لوگوں کی انگریزی اچھی نہ ہو وہ انگریزی جاننے والوں سے عموماً خود کو کم تر سمجھنے لگتے ہیں اور نتیجتاً اپنی قوتِ کار کو گھٹا لیتے ہیں۔ دوسری طرف انگریزی جاننے اور اس کو اُوڑھنا بچھونا بنا لینے والے خواہ مخواہ احساسِ برتری کا شکار ہو کر دوسروں کو حقیر سمجھنے لگتے ہیں اور اپنی علمیت کا رُعب جھاڑنا ان کی پختہ عادت بن جاتی ہے، اور وہ اپنی زبان بھی بگاڑ لیتے ہیں۔

جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن میں ۳۰سال تک تمام مضامین اُردو میں پڑھائے جاتے رہے۔ جن دنوں نام نہاد اسرائیل والے اپنی مُردہ عبرانی زبان کو زندہ کر رہے تھے، ان دنوں ہمارے ہاں تمام تر اعلیٰ سائنسی مضامین بہ شمول ایم بی بی ایس، بی ای (انجینیرنگ)، طبیعیات، کیمیا وغیرہ، الغرض ایک مضمون انگریزی کے سوا تمام مضامین اُردو میں پڑھائے جارہے تھے۔یہ سلسلہ سقوطِ حیدرآباد تک جاری رہا اور پھر وہاں اُردو ذریعۂ تعلیم کو ختم کر دیا گیا۔ جامعہ عثمانیہ کے فارغ التحصیل ڈاکٹروں کی اپنے مضمون پر گرفت اتنی مضبوط تھی کہ برطانیہ میں ایف آر سی ایس وغیرہ کے داخلہ ٹیسٹ سے ان کو مستثنیٰ کر دیا گیا تھا۔ دراصل تخلیقی قوت اپنی ہی زبان سے آتی ہے۔

دوسری طرف آزادی کے بعد پڑوسی مشرک ملک میں جب اسمبلی میں سرکاری زبان کے لیے رائے شماری ہوئی تو اُردو اور ہندی کے ووٹ بالکل برابر ہوگئے۔ اس کے بعد اسپیکر کے فیصلہ کن ووٹ سے ہندی سرکاری زبان بن گئی۔ کہا جاتا ہے کہ وہ لوگ ہرسال اپنی مُردہ زبان سنسکرت کے کچھ الفاظ منتخب کر لیتے ہیں اور پھر میڈیا اور دوسرے ذرائع ان مُردہ الفاظ کو عام کرتے ہیں۔

آپ نے کسی انگریز یا امریکی کو انگلستان یا امریکا میں نمبر (اعداد) اُردو میں بتاتے ہوئے یا اپنی گفتگو میں جابجا اُردو الفاظ استعمال کرتے ہوئے دیکھا یا سنا ہے؟ یقیناً نہیںسُنا ہوگا، مگر افسوس کہ ہمارے ہاں معاملہ بالکل اُلٹ ہوچکا ہے۔ نئی نسل تو ایک طرف خود بڑے بھی، اُردو اعداد (۱،۲،۳،۴) لکھنے کے بجائے رومن یا انگریزی اعداد (4,3,2,1) لکھنا ہی مناسب سمجھتے ہیں۔ یہاں پر تین واقعات ملاحظہ کیجیے:

  • ایک معالجِ امراضِ ذہنی ڈاکٹر سیّد مبین اخترکہتے ہیں: انھوں نے ایسے انگریزی میڈیم اسکول میں تعلیم حاصل کی جہاں پڑھانے والے بھی انگریز تھے، اگر غلطی سے کوئی اُردو کا لفظ زبان سے نکل جاتا تو بہت شرمندگی اٹھانی پڑتی تھی۔ پھر انٹر میں بھی ذریعۂ تعلیم انگریزی ہی تھی۔ ایم بی بی ایس تو وہاں تھا ہی انگریزی میں۔ اس کے بعد وہ تخصص کے لیے امریکا چلے گئے۔ وہاں پڑوسی ملک میکسیکو (جو کہ امریکا کے بالکل ساتھ واقع ہے)سے بھی ڈاکٹر اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکا آئے ہوئے تھے۔ ان ڈاکٹروں کو انگریزی بالکل نہیں آتی تھی۔ ڈاکٹر صاحب اپنی انگریزی دانی پر بہت خوش تھے کہ انھیں انگریزی آتی ہے اور وہ گورے امریکیوں کے شانہ بشانہ ہیں، جب کہ میکسیکو کے ڈاکٹروں کو انگریزی نہیں آتی۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے چھے ماہ کے اندر میکسیکو کے ڈاکٹروں نے انگریزی میں اتنی استعداد پیدا کر لی کہ اپنا کام بخوبی چلانے لگے۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ پھر مجھے بڑا افسوس ہوا کہ جو کام میں چھے مہینے کی محنت سے کر سکتا تھا، اس کے لیے میں نے اپنے آپ کو اپنے تہذیبی ورثے، اقبالؔ، غالبؔ، میرؔ، اکبرؔ ا لٰہ آبادی وغیرہ سے کاٹ لیا تھا کہ اتنی انگریزی پڑھنے کے باوجود انگریزی کی نسبت اُردو میں اظہارِ خیال کرنا زیادہ آسان ہے کیونکہ اُردو میری اپنی زبان ہے۔
  • دوسرا واقعہ انگلستان کے ایک وزیر تعلیم کے دورئہ پاکستان کا ہے۔ ہمارے ’گندمی انگریزوں‘ نے انھیں اپنے انگریزی میڈیم اسکولوں کا دورہ کرایا۔ دورے کے بعد ان سے پاکستانی بچوں کو انگریزی میں تعلیم دیے جانے پر ان کے تاثرات پوچھے گئے۔ ہمارے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ وہ گورے صاحب اس بات سے بہت خوش ہوں گے، لیکن انھوں نے جواب دیا: ’’اگر میں اپنے ملک میں ایسا کرتا کہ کسی غیر ملکی زبان میں طلبہکو تعلیم دلواتا، تو دو جگہوں میں سے ایک جگہ مجھے ضرور جانا پڑتا: پھانسی گھاٹ یا پھر پاگل خانے‘‘۔ بقول ان کے دوسری زبان میں تعلیم دینے سے بچے کی ذہانت اور تخلیقی صلاحیتیں بُری طرح کچلی جاتی ہیں۔
  • اسی طرح فرض کریں، آپ اپنے دوست کے ساتھ جارہے ہیں، آپ کی جیب میں ۲۳۰ روپے ہیں۔ راستے میں آپ کوئی چیز خریدنا چاہتے ہیں جس کی قیمت ۲۴۰ روپے ہے۔  اب اگر آپ دوست سے دس روپے قرض لیتے ہیں تو کیا یہ مناسب ہوگا؟ آپ کہیں گے کہ اس میں کوئی بُرائی نہیں، اور فی الواقع اس میں کوئی بُرائی نہیں ہے۔ اب ذرا معاملے کو دوسری طرح دیکھیے کہ آپ کو جو چیز خریدنی ہے اس کی قیمت صرف دس روپے ہے۔ جیب میں ۲۳۰روپے رکھتے ہوئے بھی اگر آپ دوست سے دس روپے مانگیں تو کیا یہ کوئی معقول بات ہوگی؟ یقینا نہیں۔   زبان کے مسئلے کو بھی اسی طرح دیکھیے۔ جو الفاظ ہماری اپنی زبان میں ہیں، ان کی جگہ ہمیں دوسری زبان کے الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہییں۔ غلط اور بلاضرورت ’لسانی قرض‘ بھی کچھ ایسے ہی منفی اثرڈالتے ہیں، جیساکہ مالیاتی قرضے کمرتوڑتے ہیں۔ بلکہ سچ بات یہ ہے کہ مالی قرض تو واپس ہوسکتا ہے، لیکن لسانی اور تہذیبی قرض کا بوجھ واپس نہیں کیا جاسکتا۔
  • آئینی پہلو: پاکستان میں اُردو کا نفاذسیاسی ہی نہیں ایک اہم دستوری اور آئینی پہلو سے بھی ہے۔ پاکستان کے ہر آئین میں اُردو کے نفاذ کی ضمانت دی گئی ہے۔ آئین کسی قوم اور ملک کی نہایت اہم اور مقدس دستاویز ہوتی ہے جس پر عمل ضروری ہوتا ہے۔ ۱۹۷۳ء کے دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی دفعہ ۲۵۱ (۱) میں یہ الفاظ اُردو کے نفاذ کی ضمانت دیتے ہیں:

پاکستان کی قومی زبان اُردو ہے اور یومِ آغاز سے [یعنی اگست ۱۹۷۳ء] ۱۵برس کے اندر اندر اس کو سرکاری و دیگر اغراض کے لیے استعمال کرنے کے انتظامات کیے جائیں گے۔

تحریکِ پاکستان کی بنیاد میں دو چیزیں تھیں: ایک اسلام اور دوسری اُردو زبان، کیوں کہ ہندو اکثریت ان دونوں کے در پے تھی۔ آج خلفشار کے اس دور میں بھی یہی دو چیزیں پاکستان کو متحد رکھ سکتی ہیں۔ اُردو کے مخالف جب اُردو پر یہ غلط اور بے بنیاد اعتراض کرتے ہیں کہ اُردو میں سائنسی مضامین نہیں پڑھائے جا سکتے حالانکہ لگ بھگ ۳۰برس تک جامعہ عثمانیہ اور انجینیرنگ کالج رڑکی اور دیگر جگہوں پر اعلیٰ ترین سائنسی مضامین بشمول ایم بی بی ایس، بی ای، اُردو میں پڑھائے جاتے رہے ہیں۔ جہاں تک اس اعتراض کا تعلق ہے کہ اُردو سرکاری یا دفتری زبان نہیں بن سکتی، تو حیدرآباد دکن کا ذکر تو چھوڑیے جہاں سرکاری دفاتر میں تمام کام اُردو میں ہو تا تھا، موجودہ دور میں مقتدرہ قومی زبان جیسا باوقار قومی ادارہ اُردو کو دفتری زبان بنانے کے لیے گذشتہ کئی عشروں سے تیار بیٹھا ہے۔ یہ ادارہ کہتا ہے کہ بس حکم کی دیر ہے، اُردو زبان نافذ ہونے کے لیے بالکل تیار ہے۔ اُردو، جدید اطلاعاتی دور کے شانہ بشانہ چلنے کی بھی اہلیت رکھتی ہے۔  اُردو کے بہی خواہوں کے لیے خوش خبری یہ ہے کہ ’سافٹ ویئر‘ ما ہرین نے اب اِن پیج  ایپلی کیشن کو ’مائکرو سافٹ ورڈ‘ اور ’ایکسل‘ کے ساتھ جوڑ کر اُردو میں کام کرنا بہت آسان بنا دیا ہے، نیز ’اِن پیج‘ کا مواد یونی کوڈ میں تبدیل کرنا ممکن ہے جس کے بعد اُردو مواد کو انٹرنیٹ کے ذریعے برق رفتاری سے ارسال کیا جاسکتا ہے (اس سلسلے میں ایک ویب سائٹ www.urdu.ca سے کلیدی مدد لی جا سکتی ہے)۔

  • صوبائی زبانوں کے لیے اہمیت: پاکستان میں پنجابی، سندھی، بلوچی اور پشتو وغیرہ سب زبانیں ہماری اپنی زبانیں ہیں۔ پاکستان کا دستور بھی دفعہ ۲۵۱ (۳) کے تحت انھیں ان الفاظ میں تحفظ دیتا ہے:’’قومی زبان کی حیثیت کو متاثر کیے بغیر، کوئی صوبائی اسمبلی قانون کے ذریعے قومی زبان کے علاوہ کسی صوبائی زبان کی تعلیم، ترقی اور اس کے استعمال کے لیے اقدامات تجویز کر سکے گی‘‘۔

ملک میں اس وقت اہمیت کے لحاظ سے انگریزی پہلے درجے پر ہے، اُردو دوسرے اور صوبائی زبانیں تیسرے درجے پر۔ جب اُردو سرکاری زبان بن جائے گی تو اہمیت کے لحاظ سے اُردو پہلے درجے پر آ جائے گی، صوبائی زبانیں بہ لحاظ اہمیت تیسرے سے دوسرے درجے پر آجائیں گی، یعنی اُردو کا نفاذ ہماری علاقائی زبانوں کے تحفظ اور ترقی میں بھی ممدومعاون ہو گا۔

  • انگریزی کا مقام: ہم نے انگریزی (بمقابلہ اُردو) کے لیے جو کچھ کہا ہے اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ انگریزی کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور ہم  انگریزی سے قطع تعلق کر لیں۔ فی زمانہ انگریزی سائنس اور ٹکنالوجی کی زبان ہے، لہٰذا ترقی کے لیے ہمیں انگریزی سیکھنی ہوگی۔ لیکن ہم جس چیز کے مخالف ہیں وہ صرف یہ ہے کہ انگریزی ذریعۂ تعلیم ہو اور انگریزی ہی سرکاری زبان ہو۔ ہم انگریزی کے بطور مضمون پڑھائے جانے کے مخالف نہیں۔ سائنس اور ٹکنالوجی کی تعلیم کے لیے اصل کتب کے اُردو تراجم ہونے چاہییں۔ لیکن یہ کام سرکاری سرپرستی چاہتا ہے۔ یاد رکھیے! ہمارے بعد جو لوگ آ رہے ہیں وہ اس مسئلے کی اہمیت کو بالکل نہیں جانتے۔ یعنی یہ کام اگر ہم نے کر لیا یا کرانے کی کوشش کرتے رہے تو ٹھیک، ورنہ بعد میں یہ کام اور زیادہ مشکل ہو جائے گا اور وقت  نکل جائے گا، جو ابھی ہمارے پاس ہے۔ ذرا سوچیے ہمارا ملک ایک ایسے ملک کے طور پر شناخت کیا جائے گا جس کی زمین، فصلیں، ثقافت، لباس، غذائیں تو اپنی ہوںگی لیکن زبان اپنی نہیں ہوگی۔

اگر آپ کو پاکستان سے محبت ہے تو آپ پاکستان کی قومی زبان اُردو کے تحفظ اور ترقی کے لیے کام کریں۔ آپ کا یہ قدم قوم کی ترقی اور استحکام کا بنیادی قدم ہوگا۔ اس اقدام سے استحصالی نظام کی گرفت بھی کمزور ہوگی، اور ان شاء اللہ اپنے ربّ کے ہاں آپ کو اجر بھی ملے گا۔

یہ ضروری نہیں کہ آپ اپنا ۱۰۰ فی صد وقت اُردو کے نفاذ کے لیے وقف کر دیں۔ نہیں، بلکہ ہمیں اُردو کے نفاذ کی کوششوں کے لیے اپنا ۵۰ فی صد یا ۲۵فی صد بلکہ ۱۰فی صد وقت بھی خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن ایک فی صد وقت تو اس کام کا حق بنتا ہے۔ یہ بھی دین اور ملک کی اہم خدمت ہے، بلکہ ایسی خدمت جو اہم ہونے کے باوجود توجہ سے محروم ہے۔

نفاذِ اُردو:کرنے کے کام

  • اللہ تعالیٰ سے باقاعدہ دعا کی جائے کہ نفاذِ اُردو کا کام پایۂ تکمیل کو پہنچے۔
  • اُردو کے نفاذ کی تنظیمیں متحد اور منظم ہوکر اور اشتراکِ عمل سے کام کریں۔
  •  دستخط انسان کی پہچان ہوتے ہیں، ہمیں اپنے دستخط اُردو میں کرنے چاہییں۔
  •  اپنے اور اپنے اداروں کے تعارفی کارڈ (وزیٹنگ کارڈ)اُردو میں چھپوانے چاہییں۔
  • اپنے چیک اُردو ہندسوں میں لکھیں۔ بنک ایسے چیک قبول کریںگے۔
  •  ہمیں دعوت نامے مادری یا قومی زبان میں چھپوانے چاہییں۔
  • اپنے موبائل فون کی ترتیب اُردو میں رکھنی چاہیے اور مختصر پیغام بھی اُردو میں کرنے چاہییں۔
  • دفاتر اور کاروباری اداروں کو اپنے دفتری اور جملہ اُمور اُردو ہی میں نمٹانے چاہییں۔
  • اپنی دکانوں اور دفاتر کے سائن بورڈ اُردو (یا انگریزی کے ساتھ اُردو) میں لکھوانے چاہییں۔
  • حسب ِاستطاعت اپنے مال کا ایک حصہ نفاذِاُردو کے لیے وقف کرنا چاہیے۔
  • اہل خانہ، دوستوں، پڑوسیوں اور دفتر کے ساتھیوں کو اُردو کے نفاذ کی اہمیت سے آگاہ کریں۔

ان اُمور پر عمل کرنے سے ہمارا قدم آگے بڑھے گا۔

 ایک حدیثِ نبویؐکا مفہوم ہے کہ جو شخص مسلمانوں کے اجتماعی معاملات سے لاتعلق رہا، وہ ہم میں سے نہیں۔ یاد رکھیے، اُردو کے نفاذ کا مسئلہ محض ایک زبان کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک دینی، قومی، ملکی، معاشی اور معاشرتی مسئلہ ہے۔ خدانخواستہ ایک دو نسلوں بعد اُردو (بطور زبان) مٹ گئی، تو اس کے ذمہ دار وہ لوگ بھی ہوں گے جو نہ جاننے یا جاننے کے باوجود اپنی مصروفیات میں سے وقت نہ نکال سکے۔ کیا ہم اس اہم مسئلے کے لیے اپنے وقت کا ایک فی صد بھی نہیں نکال سکتے؟

سوال: بعض حضرات ایسی انگوٹھی استعمال کرتے ہیں، جس میں بہ طور نگینہ کوئی پتھر لگاہوتا ہے۔ ان کا یہ بھی عقیدہ ہوتا ہے کہ اس پتھر کے انسانی جسم پر اثرات پڑتے ہیں اور مختلف بیماریوں میں افاقہ ہوتاہے۔ بہ راہ کرم وضاحت فرمائیں کہ کیا ایسی انگوٹھی کااستعمال درست ہے؟ اور کیا ایسا عقیدہ رکھنا جائز ہے؟

جواب: انگوٹھی کا استعمال زمانۂ قدیم سے ہوتارہا ہے۔ سونے، چاندی اور دیگر دھاتوں کی انگوٹھیاں بنائی اور پہنی جاتی رہی ہیں۔ شرعی طور سے انگوٹھی پہننا مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے جائز ہے۔ ہاں، سونا (Gold)اُمتِ محمدیہؐ کے مردوں کے لیے حرام ہے۔ اس لیے سونے کی انگوٹھی پہننا ان کے لیے جائز نہیں۔ حضرت ابوموسیٰؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

اُحِلَّ الذَّھَبُ وَالْحَرِیْرُ ِلِانَاثِ اُمّٰتِی وَحُرِّمَ عَلَی ذُکُوْرِھَا (نسائی: ۵۱۴۸﴾)سونا اور ریشم میری امت کی عورتوں کے لیے حلال اور مردوں کے لیے حرام ہے۔

بعض احادیث میں آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صراحت سے مردوں کو سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع کیاہے۔ (بخاری: ۵۸۶۳، ۵۸۶۴،مسلم:۲۰۶۶﴾)

احادیث میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی تھی، جس سے آپ ؐمہر کاکام لیاکرتے تھے۔ اس پر ’محمدرسول اللہ‘ کندہ تھا۔یہ انگوٹھی آپ ؐکے وصال کے بعد خلیفۂ اوّل حضرت ابوبکرؓ ، پھر خلیفہ دوم حضرت عمرؓ، پھر خلیفہ سوم حضرت عثمانؓ کے پاس رہی اور یہ حضرات اسے پہنتے رہے۔ حضرت عثمانؓ کے زمانے میں کہیں غائب ہوگئی۔ (بخاری: ۵۸۶۶،مسلم: ۲۰۹۱﴾)

انگوٹھی کانگینہ اسی دھات سے بھی ہوسکتاہے۔ مثلاً چاندی کی انگوٹھی کا نگینہ بھی چاندی کا ہو، اور دوسری دھات کا بھی ہوسکتاہے۔ چنانچہ عقیق، یاقوت اور دیگر قیمتی حجریات بھی استعمال کی جاسکتی ہیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو انگوٹھی بنوائی تھی، صحیح بخاری میں مذکورہے کہ اس کا نگینہ بھی چاندنی کاتھا (۵۸۷۰﴾) لیکن صحیح مسلم میں روایت کے الفاظ یہ ہیں: کَانَ خَاتَمُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مِنْ وَرَقٍ وَکَانَ فَصُّہ‘ حَبْشِیًّا ﴿(۲۰۹۴﴾)  ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ حبشہ کا بناہواتھا‘‘۔ اس سے اشارۃً معلوم ہوتاہے کہ وہ چاندی کے علاوہ کسی اور دھات کا تھا۔

جہاں تک حجریات کی تاثیر کا معاملہ ہے تو طب کی کتابوں میں اس کا تذکرہ ملتاہے۔ مختلف حجریات کے بارے میں بتایاگیاہے کہ انھیں اپنے پاس رکھنے، گردن میں لٹکانے یا کسی اور طرح سے اس کے خارجی استعمال سے انسانی جسم پر فلاں فلاں اثرات پڑتے ہیں۔ اس کا تعلق عقیدہ سے نہیں، بلکہ تجربے سے ہے۔ اگر کسی پتھر کا خارجی استعمال طبّی اعتبار سے فائدہ مند ثابت ہو تو اسے انگوٹھی کا نگینہ بنالینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

اللہ کے لیے دین کو خالص کرکے اُس کی بندگی کرنی چاہیے کیونکہ خالص اور بے آمیز اطاعت و بندگی، اللہ کا حق ہے۔ دوسرے الفاظ میں، بندگی کا مستحق کوئی دوسرا ہے ہی نہیں کہ اللہ کے ساتھ اُس کی بھی پرستش اور اُس کے احکام و قوانین کی بھی اطاعت کی جائے۔ اگر کوئی شخص اللہ کے سوا کسی اور کی خالص اور بے آمیز بندگی کرتا ہے تو غلط کرتا ہے اور اسی طرح اگر وہ اللہ کی بندگی کے ساتھ بندگیٔ غیر کی آمیزش کرتا ہے تو یہ بھی حق کے سراسر خلاف ہے......

دُنیا بھر کے مشرکین یہی کہتے ہیں کہ ہم دوسری ہستیوں کی عبادت اُن کو خالق سمجھتے ہوئے نہیں کرتے۔ خالق تو ہم اللہ ہی کو مانتے ہیں اور اصل معبود اسی کو سمجھتے ہیں، لیکن اس کی بارگاہ بہت اُونچی ہے جس تک ہماری رسائی بھلا کہاں ہوسکتی ہے۔ اس لیے ہم ان بزرگ ہستیوں کو ذریعہ بناتے ہیں تاکہ یہ ہماری دُعائیں اور التجائیں اللہ تک پہنچا دیں۔

اتفاق و اتحاد صرف توحید ہی میں ممکن ہے۔ شرک میں کوئی اتفاق نہیں ہوسکتا۔ دُنیا کے مشرکین کبھی اس پر متفق نہیں ہوئے ہیں کہ اللہ کے ہاں رسائی کا ذریعہ آخر کون سی ہستیاں ہیں؟ کسی کے نزدیک کچھ دیوتا اور دیویاں اس کا ذریعہ ہیں اور ان کے درمیان بھی سب دیوتائوں اور دیویوں پر اتفاق نہیں ہے۔ کسی کے نزدیک چاند، سورج، مریخ، مشتری اس کا ذریعہ ہیں اور وہ بھی آپس میں اس پر متفق نہیں کہ ان میں سے کس کا کیا مرتبہ ہے اور کون اللہ تک پہنچنے کا ذریعہ ہے؟ کسی کے نزدیک وفات یافتہ بزرگ ہستیاں اس کا ذریعہ ہیں اور ان کے درمیان بھی بے شمار اختلافات ہیں۔ کوئی کسی بزرگ کو مان رہا ہے اور کوئی کسی اور کو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اِن مختلف ہستیوں کے بارے میں یہ گمان نہ تو کسی علم پر مبنی ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کبھی کوئی ایسی فہرست آئی ہے کہ ’فلاں فلاں اشخاص ہمارے مقربِ خاص ہیں، لہٰذا ہم تک رسائی حاصل کرنے کے لیے تم ان کو ذریعہ بنائو‘۔ یہ تو ایک ایسا عقیدہ ہے، جو محض وہم اور اندھی عقیدت اور اسلاف کی بے سوچے سمجھے تقلید سے لوگوں میں پھیل گیا ہے۔ اس لیے لامحالہ اس میں اختلاف تو ہونا ہی ہے۔(’تفہیم القرآن ‘، سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۶۱، عدد۳، دسمبر ۱۹۶۳ء)