مضامین کی فہرست


مئی ۲۰۲۴

یہ صدی مغرب یعنی امریکا اور اتحادیوں کے عہد ِزوال کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔ ہرآنے والا بحران، اس کے زوال کے عمل کو تیز تر کیے چلا جارہا ہے۔ غزہ میں جاری جنگ اس صورتِ حال کا تازہ ترین مظہر ہے۔ مغربی اخبارات واضح گھبراہٹ کے عالم میں یہ پکارتے نظر آتے ہیں کہ ’’غزہ میں نظر آنے والے ملبے تلے کئی ہزار نامعلوم لاشوں کے ساتھ اور بھی بہت کچھ دفن ہوچکا ہے‘‘۔  ٹائمز میگزین میں میتھیو پیریسس نے لکھا ہے کہ ’’فلسطینی ہسپتالوں کے ساتھ ساتھ اسرائیلی ساکھ بھی اس قدر تباہ ہو چکی ہے کہ اس کا اندازہ مشکل ہے۔‘‘ ان کی یہ بات بجا، لیکن اس کو صرف اسرائیل کا مسئلہ سمجھنا ایک سطحیت ہی نہیں حماقت بھی ہے۔ سابقہ فلسطینی مذاکرات کار ’ڈیانا بٹو‘ جب کہتی ہیں کہ ’’یہ دراصل امریکا و اسرائیل کا مشترکہ حملہ ہے‘‘ تو یہ اسی حقیقت کا بیان ہے، جسے ہرلمحہ ساری دنیا دیکھ رہی ہے۔ اسرائیل کے کٹر حامیوں کو بھی نظر آ رہا ہے کہ اسے حقیقی معنوں میں شکست ہو چکی ہے اور تمام تر ساکھ مٹی میں مل چکی ہے۔ بہت جلد دنیا کو یہ احساس ہوجائے گا کہ یہی صورتِ حال اسرائیل کو ہلہ شیری دینے والے مغربی ممالک کو بھی درپیش ہے۔

مغرب کا زوال، غزہ میں جاری تاریخی ظلم سے بہت پہلے شروع ہو چکا تھا۔ مغربی دائیں بازو کے نزدیک یہ زوال امیگریشن، ثقافتی تنوع، اسلام، جدید افکار، نئے جنسی نظریات، خاندانی نظام کے خاتمہ وغیرہ کو سمجھا جاتا ہے۔ لز ٹروس کی نئی کتابTen Years to Save the West،جو آزاد تجارت کے خلاف برسرپیکار نام نہاد بائیں بازو کے خلاف لکھی گئی ہے، انھی خدشات کی نمایندگی کرتی ہے۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو معاملہ بڑا سادہ ہے۔ ۳۰سال قبل سویت یونین ٹوٹنے کے بعد مغربی اشرافیہ، قبل از وقت ’فتح کے نشے‘ میں مدہوش بلکہ بدمست ہو گئی تھی۔ انہدامِ دیوار برلن کے موقعے پر نیوکنزرویٹو امریکی صحافی میج ڈیکٹر کا فخروگھمنڈ اسی طرف اشارہ کرتا ہے، جس نے بڑی رعونت کے ساتھ کہا تھا: ’’یہ کہنے کا وقت آ گیا ہے کہ ہم جیت چکے ہیں۔ گڈبائے۔‘‘

اس نام نہاد ’فتح‘سےدو نتائج اخذ کیے گئے: اوّل، ۱۹۸۰ء کے عشرے میں سامنے   آنے والا ’’بے لگام سرمایہ داری نظام انسانیت کی معراج ہے‘‘ جس میں بہتری کی گنجایش باقی نہیں رہی ہے۔ امریکی دانش ور فرانسس فوکویاما نے اپنی کتابوں End of Historyاور Last Man میں بڑھ چڑھ کر ان خیالات کا اظہار کیا۔ دوسرا یہ کہ امریکا اور اس کے اتحادی اب لا محدود طاقت کے مالک ہیں، جس کی بنیاد پر وہ پوری دنیا میں تھانیداری اور داداگیری کر سکتے ہیں۔ ان کے اس غرور اور احساس برتری کا نتیجہ یونانی رزمیوں کے ہیرو کی طرح زوال کی صورت میں نکلا۔

۷۰ کے عشرے میں امریکی طاقت کو شدید دھچکا پہنچا تھا، جب دنیا نے دیکھا کہ کس طرح ویت نام جنگ میں شکست کے بعد سائیگاؤن میں امریکی نمایندے افراتفری کے عالم میں ہیلی کاپٹروں پر چڑھ کر بھاگ رہے تھے۔ تاہم، اس کا مرکزی حریف سوویت یونین (اشتراکی روس) اس سے بھی زیادہ بُرے حالوں میں تھا اور کچھ عرصے بعد اس کی شکست و ریخت نے مغرب کو دوبارہ سنبھلنے کا موقع دے دیا۔ اسی تناظر میں پہلی خلیجی جنگ (۱۹۹۱ء) اور سابقہ یوگوسلاویہ میں عسکری دخل اندازی کو ’لبرل دخل اندازی‘ کے طور پر دیکھا گیا۔ اس کے بعد ستمبر ۲۰۰۱ء میں نائن الیون کا المیہ ہوگیا اور انسانی کرب اور شرمندگیوں میں ڈوبی شکستوں کی ایک نئی داستان شروع ہوئی۔

افغانستان میں کھیلی جانے والی خون کی ہولی کے بعد اگست ۲۰۲۱ء میں طالبان نے اپنی شرائط پر اس طویل جنگ کو ختم کیا، جس سے اس سے کہیں زیادہ مضبوط ہو گئے، جتنے وہ جنگ سے پہلے تھے۔ عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل عمرو موسیٰ نے ۲۰۰۳ء میں کہا تھا کہ ’’عراق پر حملہ سارے شرق اوسط کو جہنم میں دھکیل دے گا‘‘ اور دنیا نے دیکھا کہ پھر یہی ہوا۔ لیبیا کی خانہ جنگی میں نیٹو کی شمولیت سے یہ فتح تو حاصل ہوئی کہ لیبیا کے صدر معمر قذافی کا تختہ اکتوبر ۲۰۱۱ء میں اُلٹ دیا گیا۔ لیکن نتیجہ کیا نکلا؟ آج یہ ملک خانہ جنگی سے تباہ حال ، ناکام ریاست کا منظر پیش کر رہا ہے۔

اس ساری مہم جوئی کے نتیجے میں صرف مغرب کی عسکری بالادستی کا ہی دھڑن تختہ نہیں ہوا ہے، بلکہ اس دوران عالمی قوانین اور ضابطوں کو جس طرح روندا گیا، اس نے دوسری ریاستوں کو بھی ایک عالمی بدنظمی کی راہ دکھا دی ہے۔ براؤن یونی ورسٹی، امریکا کی تحقیق کے مطابق: ’’نائن الیون کے نتیجے میں شروع ہونے والی جنگوں میں تقریباً ۴۵لاکھ لوگ ہلاک ہوئے۔ ان جنگوںمیں ہونے والی خون ریزی اور گوانتانامو بے یا ابو غریب میں ہونے والی انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں نے دنیا بھر میں مغرب کے اخلاقی برتری کے دعوے کو بہت نقصان پہنچایا‘‘۔ اس نقصان کو روسی صدر ولادی میرپیوٹن جیسے کچھ لوگوں نے اپنی جارحیت کی دلیل کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔

غزہ میں جاری قتل عام میں اپنے کردار کے ساتھ ساتھ مغرب کو اس پر بھی غور کرنا چاہیے کہ اس نے کیونکر وہ حالات پیدا کیے، جن سے پیوٹن جیسے لوگ پیدا ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یوکرین پر جارحانہ حملے کی ذمہ داری پیوٹن حکومت پر ہی عائد ہوتی ہے کیونکہ امریکا بہرحال واحد ریاست نہیں ہے، جو دنیا میں بدامنی اور تباہی برپا کر سکتی ہے۔ لیکن کیا بات یہیں ختم ہو جاتی ہے؟ کیا امریکا اور مغربی دنیا کی جانب سے روس کو برآمد کیا گیا ’نیو لبرل معاشی نظریہ‘ اس تباہی میں حصہ دار نہیں ہے؟ بلاشبہہ پیوٹن ازم نے سرد جنگ کے خاتمے پر روس میں پیدا ہونے والی مایوسی سے فائدہ اٹھایا ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مغربی ممالک نے ’’Economic Shock Therapy‘‘ کے نام پر روسی معاشی نظام سے بے جا چھیڑچھاڑ کی ہے، جس کا نتیجہ ’’عظیم معاشی بحران‘‘ سے بھی بڑے بحران کی صورت میں نکلا، اور ناقابل برداشت مہنگائی، اوسط عمر میںاچانک کمی اوراشرافیہ کی لُوٹ مار  نے روس کو اس حال تک پہنچا دیا۔ سوویت یونین کے زوال کے بعد ایک مستحکم روس، پیوٹن جیسے ڈکٹیٹر کی جارحانہ پالیسیوں کے خلاف اپنا دفاع کر سکتا تھا۔

اس تباہ کن معاشی نظام نے نہ صرف روس کو غیر مستحکم کیا بلکہ مغربی لبرل جمہوریتوں کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ اس بے لگام سرمایہ داری نے براہ راست ۲۰۰۸ء کے معاشی بحران کی بنیاد رکھی، جس سے مغرب آج تک نکل نہیں سکا۔ بہت سے مغربی ممالک نے کفایت شعاری کے ایسے منصوبے شروع کیے، جن کا نتیجہ معاشی جمود اور زوال کی صورت میں نکلا ہے۔ یہ صورتِ حال دائیں بازو کی آمریت کے لیے موزوں ترین سمجھی جا سکتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی دائیں بازو کی تحریک شروع ہوئی، جو خود امریکی جمہوریت کے لیے ہی چیلنج بن چکی ہے۔ ساری دنیا میں لبرل جمہوریت زوال پذیر ہے اور آمریت اس کی جگہ لے رہی ہے۔ ایک مثال ہنگری کی بھی ہے جس پر یورپی یونین بہت چیں بہ جبیں ہوتا ہے، لیکن کچھ کر نہیں پاتا۔ یورپ کے اکثریتی ممالک میں انتہائی دایاں بازو واپس آ رہا ہے، جو اس براعظم کے لیے نیک شگون نہیں سمجھا جا سکتا۔

دیوار برلن کے انہدام پر مغربی اشرافیہ کا جشن منانا درست نہیں تھا۔ آج تین عشرے گزرنے کے بعد ان کے غرور کا نتیجہ تباہی کی صورت میں نکلا ہے اور دنیا خاک و خون میں غرق ہورہی ہے۔ غزہ کی صورتِ حال مغربی ساکھ کی تباہی کا بدترین خونی استعارہ ہے۔ زیادہ تر دنیا پہلے ہی مغرب کی اخلاقی برتری کے دعوؤں کی حقیقت جان چکی تھی، لیکن اب کی بار واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ ہمارا اخلاقی زوال مکمل ہو چکا ہے، کیونکہ ساری مشرقی دنیا اب اسرائیل کو بچانے والوں سے شدید نفرت کرتی ہے۔

صورتِ حال اس سے مختلف بھی ہو سکتی ہے۔ مغرب کی سابقہ ناکام مہم جوئیوں کا حساب ہونا چاہیے تھا، لیکن اس کے برعکس ہوا یہ کہ حکومتی وزرا سے لے کر جنگ پر اُکسانے والے تجزیہ کاروں تک، تمام لوگ ہر قسم کے خونی ایڈونچر کے بعد بھی نہ جانے کس طرح اپنی پوزیشن پر موجود رہے ہیں۔ دوسری طرف ان تباہ کن فیصلوں کی مخالفت کرنے والے معاملہ فہم لوگوں کو عزّت کے بجائے رسوائی کا مستحق سمجھا گیا ہے۔ اگرچہ تاریخ نے انھیں ہر دفعہ درست ثابت کیا،لیکن آج بھی ایسے لوگوں کو بڑی آسانی سے ’شدت پسند‘ یا ’غدار‘ قرار دے دیا جاتا ہے۔

ہم چاہتے تو ایک ایسا معاشی نظام تشکیل دے سکتے تھے، جو صرف چند لوگوں کے بینک اکاؤنٹس میں دنیا کی ساری دولت اکٹھی کرنے کے بجائے اس کی عادلانہ تقسیم کا ضامن ہوتا۔ اسی طرح ہم چاہتے تو اسرائیل کے ظالمانہ حملے کی حمایت نہ کر کے اپنی ساکھ کو بچا سکتے تھے۔ صدافسوس کہ ایسا نہ ہو سکا۔ یہ گذشتہ چند برس ہمارے لیے بڑے تکلیف دہ اور تھکا دینے والے ثابت ہوئے ہیں۔ لیکن انتظار کیجیے، زوالِ مغرب کے کئی مرحلے ابھی آنا باقی ہیں۔

۱۹۹۰ء سے بھارتی مسلح افواج نے کشمیر کے آزادی پسند عوام کے خلاف دہشت گردی کا راج مسلط کر رکھا ہے، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ ۱۶ سے زیادہ بنیادی قراردادوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ لیکن اس جائز، قانونی اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ مطالبے کے جواب میں بھارتی قابض فوج کی وحشیانہ کارروائیوں میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ اب تک ۱۵ سے ۳۰  سال کی عمر کے نوجوانوں سمیت مقبوضہ جموں و کشمیر کے ایک لاکھ سے زائد شہریوں کو شہید کیا جا چکا ہے۔ کشمیری مسلمان خواتین کو اجتماعی عصمت دری کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ غیرجانب دار اور بین الاقوامی این جی اوز کے مطابق ۱۰ہزار سے زائد افراد لاپتا ریکارڈ ہوچکے ہیں۔ کشمیر میں ہندستانی دانش وروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے بڑی تگ و دو کے بعد اجتماعی قبریں دریافت کیں، لیکن مزید تلاش ترک کردی گئی ہے کیونکہ ان اجتماعی قبروں کی تلاش میں ملوث افراد کو ہندستانی حکام نے گرفتار یا ملک بدر کر دیا۔

بھارت نے پیلٹ گن کا بے دردی سے استعمال کیا ہے اور اس وحشت کاری میں ۹ سال کی عمر کے کمسن کشمیری بچوں کو بھی نہیں بخشا۔ ایسے متاثرین میں سے سیکڑوں بچّے نابینا ہو چکے ہیں۔ ۵؍ اگست ۲۰۱۹ء سے، نریندر مودی کی سربراہی میں ہندو نسل پرست حکومت نے آئین کے آرٹیکل ۳۷۰ اور اے-۳۵ کو منسوخ کردیا ہے۔ اس کے بعد غیر کشمیریوں کو ملازمتیں حاصل کرنے اور مقبوضہ وادی میں جائیداد خریدنے میں سہولت فراہم کر دی گئی ہے۔ اس کے بعد سے، لاکھوں آرایس ایس کے عسکریت پسند ہندوؤں کو کشمیر پہنچایا گیا ہے اور انھیں رہائشی حقوق فراہم کیے گئے ہیں۔

مقدس مقامات کی زیارت کے بہانے روزانہ ہزاروں ہندوؤں کو کشمیر لے جایا جاتا ہے۔ مقامی لوگوں سے (سیکورٹی ایشوز کی آڑ میں) بہت بڑی اراضی ضبط کی جا رہی ہے، تاکہ باہر سے آنے والے ہندوؤں کے لیے بستیاں بنائی جا سکیں۔ اصل کھیل اور منصوبہ تو یہاں پر مسلم آبادی کا تناسب تبدیل کرنا اور انھیں روزگار، جائیداد اور عزّت و احترام اور تحفظ سے محروم کرنا ہے۔

نوجوانوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے اور فوج کے سرچ آپریشن کے دوران انھیں گرفتار کر کے فوجی کیمپوں میں لے جاکر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، معذور کیا جاتا ہے یا پھر  قتل کر دیا جاتا ہے۔ ان کے لواحقین اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتے ہیں اگر وہ ان کی لاشیں حاصل کرسکیں۔ عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی کی وجہ سے بھارت کو کشمیر میں مظالم میں اضافے کا حوصلہ ملا ہے۔ کشمیر کے بے بس عوام آزادی پسند لوگوں سے التجا کررہے ہیں کہ وہ اقتدار کے ایوانوں میں ان کے حق میں آواز بلند کریں، چاہے وہ واشنگٹن ہو، لندن ہو، برسلز ہو، پیرس ہو، ٹوکیو ہو یا کوئی اور۔

کشمیر کا المیہ فلسطینیوں کے المیے کے مترادف ہے اور کئی صورتوں میں اُن سے بڑھ کر اذیت ناک صورتِ حال پیش کرتا ہے۔ کشمیری اور فلسطینی اپنے حقوق اور آزادیوں کو تسلیم کرانے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں او ر انتہائی جارحیت پسند ریاستوں کے ہاتھوں کچلے جارہے ہیں۔ ۱۲؍اکتوبر ۲۰۲۳ء کو جب اسرائیل غزہ پر بے دردی سے مسلسل فضائی حملے کر رہا تھا، ہندستان میں اسرائیل کے سفیر، نور گیلن نے ایشین نیوز انٹرنیشنل کو بتایا کہ انھیں ہندستان میں لوگوں کی طرف سے اتنی زیادہ حمایت ملی کہ وہ صرف ہندستانی رضاکاروں سے ایک اور اسرائیلی فوج کو بھرتی کرسکتے ہیں: ’’ہر کوئی مجھے کہہ رہا ہے کہ 'میں رضاکارانہ طور پر اسرائیلی فوج میں بھرتی ہونا چاہتا ہوں، میں اسرائیل کے لیے لڑنا چاہتا ہوں‘‘۔ اس نے کہا: ’’ہندو قوم پرست کھلے عام اور زوروشور سے اس بات پر جشن مناتے ہیں کہ جو کچھ اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ کر رہا ہے‘‘۔ نسل پرست بی جے پی کے کارکنوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’اسرائیل ہمیں نسلی تطہیر کا سبق دے رہا ہے کیونکہ ہم کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ بالکل یہی کرنے جا رہے ہیں۔ ہم ہندو جنونیوں کو بھارتی فوج کے شانہ بشانہ لڑنے، خواتین کی عصمت دری کرنے اور قتل و غارت گری کے لیے بھیجیں گے کیونکہ ہم مسلمانوں کے ساتھ یہی کرنا چاہتے ہیں‘‘۔(دی یروشلم پوسٹ، ۲۱جنوری ۲۰۲۴ء)

قانون کے پروفیسر ڈاکٹر خالد ابو الفضل نے Usuli انسٹی ٹیوٹ چینل پر یو ٹیوب لائیو سٹریم میں کہا کہ ’’غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف کیے جانے والے بدترین قتل عام میں سے کچھ حملے اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دینے والے ہندستانی فوجیوں کی طرف سے کیے گئے ہیں‘‘۔ اس بات کا انکشاف میموری ٹی وی نے ایک رپورٹ میں کیا ہے۔معروف اخبار ہارٹز  (Haarretz) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق: ’’اسرائیل، بھارت کو اسلحہ فروخت کرنے والا دوسرا بڑا ملک بن گیا ہے‘‘۔ ہتھیاروں کی نگرانی کرنے والے اداروں کے مطابق، بھارت اسرائیلی ساختہ اسلحے کا سب سے بڑا خریدار ہے، جو ہرسال ایک بلین ڈالر سے زیادہ خرچ کرتا ہے، جس میں آنے والے برسوں میں کئی گنا اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ کشمیر اور فلسطین کے لیے شدید خطرہ ہے۔ یہ دونوں ممالک توسیع پسندی اور اپنی مقبوضہ سرزمین کی مسلم آبادی کو ختم کرنے کے شیطانی منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔ سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے میں بھارت اور اسرائیل کا مشترکہ جیو اسٹرےٹیجک مفاد ہے۔ ہندستان اور اسرائیل کا اتحاد ان کے غیراخلاقی اسلاموفوبیا نظریہ کی بنیاد پر بڑے عالمی تنازعات کا ایک مضبوط نسخہ ہے، اور دونوں ممالک بین الاقوامی معاہدوں کی ڈھٹائی سے خلاف ورزی کرنے والے ہیں۔ دونوں ممالک کی طرف سے عالمی سطح پر پروپیگنڈا ایجنسیوں کو وافر مقدار میں فنڈز فراہم کیے گئے ہیں، جن کا واحد کام اسلام کی تصویر کو مسخ کرکے دُنیا کے لیے اسلام کو ایک خطرے کے طور پر پیش کرنا اور حقیقی آزادی کی جدوجہد کو دہشت گردانہ تحریکوں کے طور پر پیش کرنا ہے۔

بہ بات بہت تشویش کا باعث ہے کہ بار بار یہ خبریں منظر عام پر آتی رہتی ہیں کہ اسرائیلی ایجنٹ اکثر کشمیر کا دورہ کر رہے ہیں اور مغربی کنارے کی طرز کی بستیوں کو بڑھانے اور خطے کے اکثریتی کردار کو تبدیل کرنے کے بارے میں بھارت کو اسٹرے ٹیجک معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ ۵؍اگست ۲۰۱۹ء سے بھارت جارحانہ انداز میں اس ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور لاکھوں ہندو شدت پسندوں کو مقبوضہ کشمیر میں رہائشی حقوق فراہم کیے گئے ہیں۔ ان دونوں غاصب اور جارح ملکوں کی ڈھٹائی پر مبنی اور کھلم کھلا مجرمانہ سرگرمیاں، اقوام متحدہ کی عالمی طاقتوں کے زیراثر کمزور پالیسی اور جانب دارانہ روش کا نتیجہ ہے، کہ جو اپنی ہی منظور کردہ قراردادوں کو عملی جامہ پہنانے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔اس وقت اسرائیل فلسطینیوں کی بے دریغ نسل کشی میں ملوث ہے۔ بالکل اسی انداز سے انڈیا بھی کشمیر میں اقدامات کرتا آرہا ہے۔

مسلم دنیا اور دیگر تمام امن پسند یہودی اور عیسائی ان وحشیانہ اقدامات کے خلاف احتجاج میں شامل ہوئے ہیں۔ یہ انتہائی افسوس ناک ہے کہ بڑے مسلم ممالک کے حکمران اپنے عیش و عشرت یا ذاتی مفادات پر مبنی ایجنڈے میں الجھے ہوئے ہیں اور فلسطین اور کشمیر کے مسائل کو نظر انداز کرچکے ہیں۔ اس موقعے پر، امن پسند شہریوں کی طرف سے مظلوم فلسطینی عوام کا ساتھ دینا بالکل جائز ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کی مشکلات کو بھی فراموش نہیں کیا جانا چاہیے۔

جیسا کہ بیان کیا گیا ہے، ہندستانی مسلح افواج کے ہاتھوں کشمیر میں ہزاروں افراد کا قتل عام، عصمت دری اور بڑی تعداد میں لوگوں کو معذوری سے دوچار کر دیا گیا ہے۔ کشمیر کو جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور بھارتی فوج سزا سے بریت اور کسی پکڑ دھکڑ کے خوف سے بے نیاز ہوکر قتل، عصمت دری، لُوٹ مار اور املاک کو تباہ کر سکتی ہے۔ غزہ کے معصوم لوگوں کی آہیں اور چیخ پکار کو  دیکھتے ہوئے ہمیں یہ بھی یاد دلانا چاہیے کہ کشمیری بھی انڈین قبضے کے ہاتھوں اسی طرح کی اذیتوں سے گزر رہے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ غزہ میں عالمی میڈیا کی محدود رسائی کے باوجود کچھ نہ کچھ خبریں باہر نکلتی رہتی ہیں، لیکن مقبوضہ کشمیر میں تو میڈیا کی صورتِ حال اس قدر مخدوش ہے کہ نیویارک میں قائم ’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ کے مطابق کشمیر میں نیوز میڈیا ختم ہونے کے دہانے پر ہے۔

بلاشبہہ ہمیں فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کی غیر متزلزل اور بے دریغ حمایت کرنی چاہیے۔ ہم کشمیر پر اپنی آواز کو پست نہیں کر سکتے کہ جہاں مسلم آبادی کو نیست و نابود ہونے اور صفحۂ ہستی سے مٹ جانے کے خطرے کا سامنا ہے۔ آئیے ہم جنوری ۲۰۲۲ء میں امریکی کانگریس کے سامنے اپنی گواہی کے دوران ’جینوسائیڈواچ‘ کے چیئرمین ڈاکٹر گریگوری اسٹینٹن کی جانب سے دی گئی اس وارننگ پر توجہ دیں کہ ’’کشمیر نسل کشی کے دہانے پر ہے‘‘۔

یہ ۲۰۱۴ء کی بات ہے، انڈیا کے عام انتخابات کو کورکرنے کے لیے مَیں صوبہ بہار کے سمستی پور قصبہ میں گیا تھا۔ معلوم ہوا کہ ہوٹل کے سامنے ہی ایک مقامی منیجر کے کمرے میں قصبے کے سیاسی کارکن اور دانش ور شام کو جمع ہوتے ہیں، جہاں ایک مقامی کلب جیسا ماحول ہوتا ہے۔ سیاسی ماحول جاننے کے لیے میں بھی ان کے کلب میں پہنچا۔

نئی دہلی کے صحافی کی اپنے دفتر میں کوئی عزت و وقعت ہو یا نہ ہو، مگر دارلحکومت کے باہر قدم رکھتے ہی اس کا وقار خاصا بلند ہو جاتا ہے۔ اس کلب نما کمرے میں، پُرتپاک انداز سے میرا استقبال ہوا۔ ایک مقامی سیاسی کارکن نے گفتگو کے درمیان کہا کہ ’’اگر ان انتخابات میں نریندر مودی جیت جاتے ہیں، تو بھارت ہی نہیں، پوری دنیا میں آیندہ انتخابات کے لڑنے کا طریق کار ہی بدل جائے گا‘‘۔ مزید کہا: ’’یہ انتخاب روایتی طریقوں، انسانی احساسات اور ٹکنالوجی کے درمیان ایک جنگ ہے‘‘۔ دراصل ان انتخابات میں پہلی بار سوشل میڈیا اور ٹکنالوجی کا بھر پور استعمال کرتے ہوئے ، مودی نے بہت سی افواہیں اور آدھا سچ پھیلا کر عوام کی ذہن سازی کرکے اکثریت حاصل کرکے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔

اس نئی انتخابی حکمت عملی کے خالق تو بی جے پی کے لیڈر اور مودی کے گورو کیشو بائی پٹیل ہیں، جنھوں نے ۱۹۹۵ءمیں گجرات کے صوبائی انتخابات میں چھوٹے چھوٹے کیم کارڈرز کا استعمال کیا، جس کے لیے برطانیہ میں پارٹی کے ہمدرد افراد بڑی تعداد میں اپنے ساتھ یہ کیمرے لے کر آگئے۔ انتخابی مہم کے دوران وہ کیم کارڈرز ہاتھ میں لیے ریکارڈنگ کرتے نظر آتے تھے۔ ان کارڈوں نے انتخابی مہم میں ایسا رنگ ڈالا کہ کانگریس کی انتخابی مہم میں بھنگ پڑگئی اور تب سے اب تک اس صوبہ میں بی جے پی کی حکومت ہے۔

اسی طرح انتخابات میں ٹکنالوجی کے استعمال کو بہار کے ایک شہری پرشانت کشور نے ایک انتہا تک پہنچادیا۔ موصوف اقوام متحدہ کے صحت عامہ پراجیکٹ میں کام کرنے کے بعد ملک میں واپس آئے تھے۔ انھوں نے سڑکوں پر گاجے باجے کے بجائے، موبائل فونز پر ایس ایم ایس، اور دیگر پلیٹ فارمز کی مدد سے مہم چلاکر براہِ راست عوامی ذہنوں کو متاثر کرنے کا بیڑا ٹھایا۔ ان کی پہلی محدود مہم ۲۰۱۲ء میں اس وقت رُوبہ عمل آئی تھی، جب مودی، گجرات صوبہ کے تیسری مرتبہ وزیراعلیٰ منتخب ہوئے۔ ایک بار کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے مجھے بتایا تھا: کشور میری دریافت تھی جنھیں بھارت واپس آکر اپنے دفتر میں کام کرنے کی ترغیب دی تھی۔

کشور نے ۲۰۱۴ء کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر مودی کے لیے کام کرکے قطعی اکثریت حاصل کروانے میں مدد دی اور پھر ایک سال بعد الگ ہوکر بہار میں نتیش کمار اور لالو پرساد یادو کے اتحاد کے لیے کام کرکے بی جے پی کو ہروا دیا۔

پرشانت کشور کے دوست شیوم شنکر سنگھ نے کتاب How to Win an Indian Election?  میں ایسے طور طریقوں کو بیان کیا ہے،جن سے موجودہ دور میں انتخابات کی جیت کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ سنگھ کا کہنا ہے کہ مودی کے لیے چائے بیچنے والا یا نچلے طبقہ سے تعلق رکھنے والا برانڈ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت بنایا گیا تھا۔ پھر آن گراؤنڈ اور آن لائن مہم کے مؤثر امتزاج سے کانگریس اور گاندھی خاندان کے خلاف ایک بھرپور منفی فضا پیدا کی گئی۔ ایسی فضا شاید ہی خودبخود بنتی ہو۔ عوامی ذہنوں کو اپنی گرفت میں لینے والے ایک آئیڈیا کے لیے بڑی محنت اور مسلسل تکرار درکار ہوتی ہے، جسے جدید ٹکنالوجی نے آسان بنا دیا ہے۔

شیوم سنگھ نے پرشانت کشور سے الگ ہوکر اپنی تمام مہارت بی جے پی کے سپرد کردی۔ سنگھ اور اس کے ساتھیوں کا سب سے بڑا کارنامہ ۲۰۱۸ء میں شمال مشرقی صوبہ تری پورہ کو کمیونسٹوں سے چھیننا قرار دیا گیا، جو اس صوبہ پر ۲۵برسوں سے بر سر اقتدار تھے۔ ۲۰۱۳ء کے اسمبلی انتخابات کے دوران بی جے پی کو کل ووٹوں کا محض ۱ء۵۴ فی صد ووٹ حاصل ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ ریاست کے وزیر اعلیٰ سی ایم مانک سرکار نے ایک سادہ آدمی کی حیثیت سے صاف ستھرے اور مخلص ہونے کی مضبوط ساکھ بنا رکھی تھی۔ یہ انتخابات دو مخالف نظریاتی دھڑوں دائیں اور بائیں بازو کی جنگ تھی۔ ڈیٹا پر کام کرتے ہوئے سنگھ اور اس کی پارٹی نے ویژولائزیشن ٹولز بنانے پر توجہ مرکوز کی، نقشوں پر ڈیٹا پلاٹ کرنے اور بار گرافس اور چارٹس جیسے دیگر گرافیکل فارمیٹس تشکیل دیے۔ ایک پرائیویٹ کمپنی کے ساتھ مل کر ایک موبائل ایپ پر بھی کام کیا، جو ڈیٹا کو پارٹی رہنماؤں کے لیے آسان بناتا تھا۔ صوبہ کے قبائلی، کمیونسٹ حکومت سے نالاں ہیں۔ اس ناراضی اور پھر ڈیٹا کی بھر مار کا ایک ایسا مجموعہ حرکت میں لایا گیا ، جس نے کمیونسٹوں کو زچ کردیا اور بی جے پی کا ووٹ بینک ایک فی صد سے اُٹھا کر ۳۶ فی صد تک پہنچا دیا۔

سنگھ کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے پاس پہلے سے راشٹریہ سیوئم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے کیڈر کی طاقت موجود ہے۔ آر ایس ایس نے ملک بھر میں ووٹر لسٹ کے ایک ایک صفحے پر انچارج تعینات کر رکھے ہیں۔ یہ انچارج ووٹر لسٹ کے ایک صفحے پر درج تمام ووٹروں کے درمیان رسائی اور مہم کا ذمہ دار ہوتا ہے، اور جو اوسطاً ساٹھ ناموں پر مشتمل ہوتا ہے۔ایک بار جب کسی پارٹی نے ووٹروں کی ذاتوں اور مذاہب کو انتخابی فہرست میں ان کے ناموں کے ساتھ کمپیوٹر کے سافٹ ویئر میں درج کرادیا، تو اگلا مرحلہ ان کے فون نمبر حاصل کرنے کا ہوتا ہے۔ یہ ڈیٹا بروکرز کے پاس سے دستیاب رہتا، جنھوں نے ممکنہ طور پر اسے ٹیلی کام کمپنیوں کے نچلے درجے کے ملازمین یا سم کارڈ ڈیلرز سے حاصل کررکھا ہوتا ہے۔

بھارت میں اس وقت ۵۳۵ملین واٹس ایپ صارفین ہیں۔ سنگھ کے مطابق مغربی ممالک کے برعکس بھارت میں دیہات کے سفر میں احساس ہوا کہ ووٹروں کا خیال ہے کہ سیاسی واٹس ایپ گروپ میں شامل ہونے سے انھیں کسی قسم کی اندرونی معلومات یا طاقت کے محور تک رسائی حاصل ہو گئی ہے۔چونکہ اس گروپ میں چند معتبر افراد بھی ہوتے ہیں، تو اس سے ان کو لگتا ہے کہ وہ مؤثر لوگوں کے قریب ہوگئے ہیں۔ اگر انھیں کسی معروف سیاسی لیڈر یا ورکر کے خلاف غلط بیانی موبائل پر ملتی ہے، تو وہ اس کو دلچسپی کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ جھوٹے پراپیگنڈا کو پھیلانے کا یہ ایک انتہائی خطرناک رجحان ہے۔ ۲ستمبر ۲۰۱۸ء کو، ایک ٹویٹر صارف نے ایک غریب بھکاری کی ویڈیو ٹویٹ کی ، جس میں لکھا کہ ’اس کو مسلمانوں نے پیٹا ہے‘۔ ایک اداکارہ نے ۹۸ لاکھ فالوورز کے ساتھ اس خبر کو فارورڈ کرکے اعلان کیا کہ ’’جس شخص کی پٹائی کی جارہی ہے وہ ناگا سادھو سنیاسی ہے، جو ہندوؤں کے ایک طبقہ کے لیے نہایت ہی متبرک ہوتے ہیں‘‘۔اس کے بعد خدا کی پناہ، سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر افواہوں کا بدترین بازار گرم ہوگیا۔ ایک دن کے بعد تھانے کے ایس ایچ او اور دہرادون کے ایس ایس پی نے واضح کیا کہ ’’یہ شخص ناگا سادھو نہیں تھا بلکہ ایک عادی نشہ باز تھا ، جس نے ایک ہندو عورت کے ساتھ بدتمیزی کی تھی اور اس عورت کے بھائی نے اس کی پٹائی کی‘‘۔یعنی اس پورے واقعے میں کوئی بھی مسلمان ملوث نہیں تھا۔ مگر اس ویڈیو کلپ نے اُس وقت تک اپنا کام کر دیا تھا، تردید پڑھنے کی بھلا کسے فرصت؟

سنگھ کا کہنا ہے کہ ’’علاقائی پارٹیوں کو شکست دینے کے لیے ، بی جے پی نے ہندو ووٹ بینک کو تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اس کے لیے بابری مسجد ، رام مندر کو بار بار یاد دلانا اور یہ پیغام دینا کہ رام مند ر کو ایک مغل جنرل میر باقی نے ۱۵۲۸ء میں توڑ کر مسجد بنائی تھی۔ کتاب کے مطابق: ’’بی جے پی نے اپنے آپ کو ایک ایسی پارٹی میں ڈھالا ہے، جو ہندو مقاصدکی آبیاری کرتی ہے اور اس میں سب سے بڑی رکاوٹ مسلمان ہے اور اپوزیشن ان کی خوشامد اور پذیرائی کرنے میں لگی ہوئی ہے‘‘۔ یہ کوئی حادثاتی نعرہ نہیں ہے، بلکہ بی جے پی کا انتخابی اور نسل پرستانہ برانڈ ہے۔

 ۲۰۱۷ء کے اتر پردیش قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں بی جے پی اور اس کے اتحادیوں نے ایک بھی مسلم امیدوار کھڑا کیے بغیر ۴۰۰ میں سے ۳۲۵ سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔موجودہ انتخابات میں بھی پارٹی نے ایک ہی مسلم امیدوار کو کیرالا سے کھڑا کیا ہے، جو جیتنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ انتخابات جیتنے کے لیے بی جے پی کو اپنا ہندو ووٹ بینک برقرار رکھنا ہے، کیونکہ پولرائزیشن میں اضافے سے ہی پارٹی کو انتخابی طور پر فائدہ ہوتا ہے۔مسلمانوں کے علاوہ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے دانش وروں کو بھی دشمنوں کے زمرے میں رکھا گیا ہے اور وزیراعظم نریندرا مودی نے خود ان کے لیے ’اربن نکسل‘ اور ’ٹکڑے ٹکڑے گینگ‘ جیسے الفاظ استعمال کیے ہیں۔

قصہ مختصر یہ کہ بی جے پی کو اچھی طرح معلوم ہے کہ مثبت ایجنڈے پر وہ انتخابات جیت نہیں سکتی ہے۔ مگر اس کے سامنے عملی مشکل ہے کہ دو اہم ایشوز یعنی ’گائے‘ اور ’پاکستان‘ کو وہ ۲۰۱۴ء اور ۲۰۱۹ء میں کیش کرا چکی ہے ۔ اب لے دے کے ۲۰۲۴ء کے لیے ’مسلمان‘ بچا ہے۔ لوگوں کو اُمید تھی کہ شاید اس بار بی جے پی ترقی اور مثبت ایجنڈے کو لے کر میدان میں اترے گی، کیونکہ مسلمان والا ایشو کرناٹک کے حالیہ صوبائی انتخابات میں پٹ گیا تھا،جہاں ٹیپو سلطان سے لے کر حجاب وغیرہ کو ایشو بنایا گیا تھا ۔ یاد رہے مودی نے کئی انتہا پسند لیڈروں کو اس بار ٹکٹ نہیں دیے ، تاکہ خلیجی مسلم ممالک میں اپنی پارٹی کی شبیہہ کو تبدیل کرنے میں کامیابی ہو۔

تاہم، ابھی اچانک راجستھان میں نریندرا مودی نے جیسی زبان استعمال کی ہے، اور مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہے، وہ سارے اندیشوں کو سچ ثابت کر رہی ہے۔ مسلمانوں کے بارے میں یہ نفرت انگیز جملے بولتے ہوئے موصوف نے کہا ہے :’’اگرکانگریس اقتدار میں  آئی تو وہ بھارت کی دولت ’دراندازوں‘ میں تقسیم کردے گی، جو زیادہ سے زیادہ بچّے پیدا کرتے ہیں‘‘۔ مودی کی اس بات پر جلسے میں زوردار نعرے بلند ہوئے، تو نریندرا مودی نے جوش میں آکر یہ کہا:’’کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی محنت کا کمایا ہوا پیسہ دراندازوں کو دے دیا جائے، کیا آپ یہ قبول کرو گے؟‘‘کہنے کو تو یہ ایک دو جملے ہیں، لیکن زہر کی تلخی بڑھانے کا بڑا مؤثر ہتھیار بھی ہیں۔  اس چیز نے صرف انڈیا ہی نہیں بلکہ پوری دُنیا کے میڈیا اور سوشل میڈیا کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔

اس طرح یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ ۲۰۲۴ء میں انڈیا کا یہ الیکشن پولرائزیشن اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا کر ہی لڑا جارہا ہے۔ یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ ابھی تک جن علاقوں میں پولنگ ہوئی ہے، وہ بی جے پی کی توقعات کے برعکس نتائج ظاہر کر رہی ہے۔ اس لیے اب ان کو لگتا ہے کہ لازمی طور پر ہندو ووٹروں کو خوف کی نفسیات میں مبتلا کرکے ہی ان سے ووٹ بٹورے جاسکتے ہیں۔

فرانسیسی سیکولرزم کے تحت ۲۰۰۰ء کے اوائل میں، میں نے تحریک آزادئ نسواں سے وابستگی کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے حقوقِ نسواں کی تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔ اس وقت سیکولرزم کے نام پر ایک قومی بحث چل رہی تھی کہ ’’کیا سیکولر سرکاری اسکولوں میں مسلم طالبات کو سر ڈھانپنے کا حق حاصل ہے یا نہیں؟‘‘ مہینوں کی بحث کے بعد، مارچ ۲۰۰۴  میں، فرانسیسی پارلیمنٹ نے ایک قانون منظور کرکے ’ہیڈ اسکارف‘ پر پابندی عائد کر دی۔ اسکولوں میں ’’ایسی علامتیں یا ملبوسات جو طالب علموں کی مذہبی وابستگی کو واضح کرتی ہوں‘‘ کا پہننا غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔

اس وقت میں نے محسوس کیا کہ یہ فیصلہ تحریکِ حقوقِ نسواں کے حلقوں میں کافی مقبول ہے، بشمول اس سفید فام گروہ کے، جس کا میں حصہ تھی۔ بہت سے سفید فام حقوقِ نسواں (Patriarchy) کی علَم برداروں (Feminists)کا خیال تھا کہ ان کا مشن مسلمان خواتین اور لڑکیوں کو اسلام سے جڑے اس خاص قسم کے پدرانہ برتری کے نظام سے نجات دلانا ہے ۔ اگر مسلم خواتین اس پدرانہ جبر کو برداشت کر رہی ہیں، اور حجاب پہننے کے معاملے میں ان کی اپنی کوئی مرضی یا آزادی نہیں ہے ،جس سے میں اختلاف کرتی ہوں، تو انھیں اسکولوں سے دور رکھنا کس طرح انھیں بنیادی حقوق تک رسائی دینے میں مدد کرے گا؟ میں نے یہ نقطۂ نظر اپنایا کہ ان کے تجربے کی وضاحت ثقافتی تسلط (cultural domination) کی عینک سے کرنے کے بجائے یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ خواتین اور لڑکیاں اپنے لیے خود کیا چاہتی ہیں؟

 ۱۹۰۵ء کا قانون، جس نے سب سے پہلے فرانس میں لادینیت /سیکولرزم کا اصول قائم کیا، آزادی کی ضمانت کے بارے میں تھا۔ اس نے بلا کسی عقیدے کی تفریق کے چرچ اور ریاست کی علیحدگی، فرانسیسی شہریوں کی مذہبی آزادی، اور قانون کے سامنے تمام شہریوں کے احترام کے نظام کو قائم کیا۔ سیکولرزم نے فرانسیسی ریاست اور قومی اداروں پر غیر جانب داری نافذ کی، لیکن شہریوں سے ذاتی غیر جانب داری کا مطالبہ نہیں کیا۔ مگر پھر ایک سو سال بعد ۲۰۰۴ءمیں سیکولرزم کے اصول کی تفہیم میں ایک اہم موڑ دیکھا گیا، جس میں ریاستی اسکولوں میں جانے والوں سے مذہب کے بارے میں غیر جانب دار رہنے، یا کم از کم اپنے عقائد کے بارے میں محتاط رہنے کا مطالبہ کیا گیا۔ تعلیم ہی وہ واحد عوامی محکمہ تھا، جس پر ۲۰۰۴ء کا یہ قاعدہ لاگو ہوا۔

نائن الیون کے بعد، بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کے تناظر میں، فرانس کے عوام کی اور میڈیا اور سیاسی طبقے کی یہ رائے بن گئی کہ مسلمانوں کے شناختی وجود (visibility) پر کڑی نظر رکھنی چاہیے۔ طالب علموں کو ان قومی تعلیمی اداروں کی طرف سے تحفظ حاصل ہونا چاہیے، جس میں وہ شرکت کرتے ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ انھوں نے خود کو کس طرح پیش کرنے کا انتخاب کیا ہے۔ لیکن سیکولرزم کے اصول نے ترقی کر کے یہ مطالبہ بھی شامل کر لیا کہ لوگ مذہبی عقیدے کو مکمل طور پر نجی رکھیں، جب کہ ۲۰۰۴ءکا قانون تمام ’نمایاں‘ مذہبی علامتوں پر پابندی کے لیے بنایا گیا تھا، جس میں عیسائی صلیب بھی شامل تھی۔ لیکن یہ تو محض ایک حوالہ تھا، جب کہ عملی طور پر اس نے اسلام کے اظہار کو ہی نشانہ بنایا۔ اس طرح اس قانون نے پچھلے ۲۰ برسوں میں بے لگام اسلاموفوبیا کے تعاقب کے دروازے کھولے، جس کی علامتی اور متعین شناخت مسلم خواتین اور لڑکیوں کی ظاہری شکل میں کی گئی۔

۲۰۲۳ءمیں میکرون کی فرانسیسی حکومت نے ریاستی اسکولوں میں ’عبایا‘ (لمبے بازو والا لباس) پر ایک اور پابندی، وضاحت کیے بغیر، شامل کر دی، جس سے اسکولوں کو من مانے احکامات صادر کرنے کی گنجایش ملی۔ لمبے لباس اور عبایہ میں فرق بتانا مشکل ہے۔ بہت سی مسلمان لڑکیاں اور خواتین عام دکانوں پر بکنے والے ملبوسات سے جسم کو ڈھانپتی ہیں۔ لہٰذا، یہی لباس ایک مسلمان لڑکی کے لیے مذہبی سمجھا جاتا ہے، لیکن ایک غیر مسلم کے لیے آزادانہ طور پر قابلِ قبول تصور کیا جاتا۔ یہ نسلی امتیاز (Racial Profiling)نہیں تو کیا ہے؟

۲۰۱۱ءمیں عوامی و سرکاری مقامات پر اپنے چہرے کو ڈھانپنا غیرقانونی قرار دیا گیا۔ بہت سوں کا خیال ہے کہ اس عمل سے صرف برقعوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ۲۰۱۶ء میں میونسپلٹیوں نے عوامی تالابوں اور ساحلوں میں ’برکینی‘ (burkini: یعنی پیراکی کے وقت پورے جسم کو ڈھانپنے والا لباس) پہننے پر پابندی لگانا شروع کی۔ اس حکم کے خلاف درخواست بھی عدالت میں ۲۰۲۲ء میں مسترد ہوگئی۔

حجاب پہننے والی خواتین کھلاڑیوں کو ٹیموں سے خارج کر دیا گیا،اور ان کے کھیلنے پر پابندی لگادی گئی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جہاں فرانسیسی کھلاڑی اپنے ملک میں حجاب نہیں پہن سکیں گی، وہیں بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کے قوانین دوسرے ممالک کی خواتین کو حجاب پہننے کی اجازت دیں گے۔

سرکاری محکموں کے برعکس، نجی ملکیت کے کاروبارسیکولرزم کے قوانین کے پابند نہیں ہیں۔ لیکن بہت سےاُلجھن کے شکار لوگ ان کو بھی ان قوانین کا پابند سمجھتے ہیں، جس کا مظہر اسٹراسبرگ  شہر میں جوتوں کی دکان پر کام کرنے والی ایک با حجاب عارضی ملازمہ کے ساتھ کیے جانے والے ناروا سلوک میں یہ رویہ دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ سیکولرزم، جو آزادی کی ضمانت تصور کیا جاتا تھا، وہی ہراساں کرنے، ذلیل کرنے اور متعصبانہ سلوک کرنےکا ذریعہ بن گیا ہے۔

غیر یورپی خواتین کے ساتھ اس طرح کا سرپرستانہ سلوک (Patronising) اور ان کے ’تسلیم کرنے‘ (Submission) کے بارے فرضی گمان کی نفسیات فرانسیسی نوآبادیاتی دور سے جا ملتی ہے۔ نوآبادیاتی الجزائر کی خواتین کی عوامی نقاب کشائی کی تقریبات، فوج نے ۱۹۵۰ کے عشرے  میں اس لیے کی تھیں تاکہ ’یکسانیت‘ (Assimilation) ’تسلیم‘ (Submission) اور ’تہذیب‘ (Civilisation) کو وہاں فروغ دیں۔ عورتوں کی نقاب کشائی کا عمل نوآبادیات اور وہاں کے لوگوں کے جسموں پر کنٹرول جمائے رکھنے کا ایک طریقہ تھا۔

MeToo [’میں بھی نشانہ بنی‘]کے دورکے بعد، ایسے اقدامات جو خواتین کی ’جسمانی خودمختاری‘ پر حاوی نظر آتے ہیں، کھلی مذمت کے مستحق ہیں۔ خواتین کو یہ انتخاب کرنے کے لیے آزاد ہونا چاہیے کہ وہ اپنے جسم کو کس طرح ڈھانپنے کا انتخاب کریں یا نہ کریں۔

مگر مذہبی نشانات کی کھوج کی خواہش نے مسلمانوں کے لیے عدم برداشت کی فضا پیدا کردی ہے، جو خواتین کو نشانہ بنانے سے بھی آگے نکل گئی ہے۔ داڑھیوں کو چیلنج کیا جا رہا ہے، اور ایک مسلمان شخص کی پولیس میں بھرتی کی درخواست اس لیے مسترد کی گئی کیونکہ اس کی پیشانی پر کثرتِ سجود سے نشان بنا ہوا تھا۔ ابھی حال ہی میں، فرانسیسی فٹ بال فیڈریشن نے فیصلہ صادر کیا ہے کہ قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کو رمضان میں روزے رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔

مسلمانوں کے لیے یہ پیغام بہت واضح ہے کہ وہ ثقافتی طور پر ’ضم‘ (assimilate) ہوجائیں یا عوامی حلقوں سے دُور رہیں۔ یہ کوئی بڑی تعجب کی بات نہیں ہے کہ مسلم افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد فرانس چھوڑ کر جا رہی ہے۔

حال ہی میں پیرس کے ایک ہائی اسکول کے پرنسپل نے آن لائن، دھمکیاں موصول ہونے پر ملازمت چھوڑ دی جب ایک طالبہ کے ساتھ اس بات پر چپقلش ہوئی کہ وہ نقاب اتار دے۔ طالبہ جس کی عمر ۱۸سال سے زیادہ تھی، نے یہ الزام لگایا کہ اس پر جسمانی حملہ کیا گیا، مگر عدالت نے اس الزام کو مسترد کر دیا۔ اس معاملے میں وزیراعظم گیبریل اٹل نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ریاست پرنسپل پر بدسلوکی کا جھوٹا الزام لگانے پر طالبہ پر مقدمہ دائر کرے گی‘‘۔

۲۰ سال گزرنے کے باوجود نقاب پر پابندی اور مسلم لباس کے لیے عدم برداشت کی شکل میں فردِ جرم عائد کرنے کا یہ نتیجہ ہے کہ اسکولوں کو ابھی تک اس قانون کے نفاذ میں مشکل پیش آرہی ہے۔ بہت سے مسلمان اسے امتیازی سلوک سے تعبیر کرتے ہیں جو اکثر اس حد تک تناؤ کی شکل اختیار کرجاتا ہے کہ اکثر حکومتی مداخلت کی ضرورت پڑجاتی ہے۔ اپنی جگہ یہ قانون ایک صریح ناکامی ہے۔

مثبت خبر یہ ہے کہ مسلمان اور خاص طور پر مسلم خواتین نے گذشتہ ۲۰ برسوں میں نت نئے مزاحمتی طریقے تلاش کیے ہیں۔ انھوں نے مختلف تنظیمیں بنائی ہیں جیسا کہ:’Lallab‘ ، جو مسلم خواتین کے بارے میں بیانیوں کو چیلنج کرتی ہے۔ پھر ’Mums are All Equal‘ ،جو حجاب پہننے والی ماؤں کو اپنے بچوں کی سکول کی زندگیوں میں شامل ہونے کی حمایت کرتی ہے، اور Les Hijabeuses ، حجاب پہننے والی خواتین کی فٹ بال ٹیم۔

خوش قسمتی سے، نوجوان نسل سیکولرزم کے مسخ شدہ تصور کو مسترد کر رہی ہے۔ اُمید ہے کہ وہ ایک ایسا مستقبل تعمیر کر پائیں گے جو ہر شہری کے لیے خوش آیند اور اسے خوش آمدید کہنے والا ہو، چاہے وہ کچھ بھی اپنا سر ڈھانپنے کے لیے انتخاب کرتے ہوں۔ جب یہ ہدف حاصل ہو جائے، تب ہی یہ ملک ایک مستند آزاد فرانسیسی معاشرہ سمجھا جائے گا۔

عام انسان اور رسول میں فرق

سوال: ایمان بالغیب کے حوالے سے عام انسان اور رسول میں کیا فرق ہے؟

جواب: ایمان بالغیب کے لحاظ سے عام انسان اور رسول میں یہ فرق ہے کہ عام انسانوں کو اللہ تعالیٰ وہ علم نہیں دیتا جو رسول کو دیتا ہے۔ اس وجہ سے عام انسانوں سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ رسول پر ایمان لائیں، اور جو علم رسول انھیں دیتا ہے اسے تسلیم کریں، اور اس کی پیروی کریں۔ ایمان بالغیب عام انسانوں کے لیے اور رسولوں کے لیے علم بالشہادۃ ہوتا ہے۔(آئین، ۲۱؍اپریل ۱۹۷۶ء)

                          


                       

والدہ کی خدمت اور شادی

سوال: بوڑھی والدہ کی خدمت کے خیال سے اگر شادی نہ کی جائے تو شریعہ کا کیا حکم ہے؟

جواب: شادی کرنا فرض تو نہیں ہے، ہاں سنت ہے، اور ایک بڑی اہم سنت ہے۔ اگر شادی نہ کی جائے تو اس سے انفرادی اور اجتماعی زندگی کے کئی دائروں میں خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ والدہ ضعیف ہیں تو ان کی خدمت کرنا آپ کا فرض ہے۔ لیکن محض اس بنیاد پر شادی نہ کرنا درست نہیں ہے، بلکہ شادی کرنے کے بعد آپ اپنی والدہ کی خدمت اور زیادہ بہتر طریقے سے انجام دے سکتے ہیں۔