بی بی ہاجرہ ؑ جب مکہ کی اس تنگ وادی میں جو چاروں طرف سے پہاڑوں سے گھری ہوئی تھی مشیت ایزدی اور غیبی اشارے سے ٹھیرگئیں، پانی ختم ہونے پر ماں بیٹے نے شدید پیاس محسوس کی۔ لگتا تھا کہ پیاس کی شدت سے دونوں جان گنوا دیں گے۔ اس ریت کے صحرا میں دُور دُور تک پانی کا نام و نشان تک نہ تھا۔ حضرت ہاجرہ ؑ نے ایک ٹیلے پر کھڑے ہوکر دُور حدِ نگاہ تک نظر دوڑائی مگر کچھ دکھائی نہ دیا۔ پریشانی کے عالم میں کبھی ایک ٹیلے پر جاتیں، کبھی دوسرے پر۔ اس طرح انھوں نے سات چکر کاٹ لیے۔ ساتویں چکر کے بعد ذرا دم لینے بیٹھیں تو کیا دیکھتی ہیں کہ جہاں اسماعیل ؑ لیٹے ایڑیاں رگڑ رہے تھے وہاں اللہ کے حکم سے ایک چشمہ جاری ہوگیا تھا اور پانی تیزی سے اُبل رہا تھا۔ پانی کو روکنے کے لیے بی بی ہاجرہ ؑ نے اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر کہا: زم زم، ٹھیرٹھیر۔ اسی دن سے اس چشمے اور پانی کا نام زم زم ہوگیا۔
حضرت اسماعیل ؑ نے جوان ہوکر قبیلہ جرہم کی ایک خاتون سے شادی کی۔ ان کے ۱۲بیٹے تھے۔ حضرت اسماعیلؑ کے بعد ان کے بڑے بیٹے نبایوط زم زم کے متولی بن گئے۔ ایک طویل عرصے تک مضاض کی اولاد زم زم کی نگہبانی کے منصب پر فائز رہی۔ یہاں تک کہ عرب کے قبیلہ بنوخزاعہ نے زم زم کو بنی جرہم سے چھین لیا۔ جرہم کے سردار عمر بن حارث نے جب متاع زم زم چھنتی دیکھی تو زم زم کو بند کر کے اس کا نام و نشان مٹا دیا۔
پانچویں صدی عیسوی میں آلِ اسماعیل کو سردار قصی بن کلاب کی ہمت اور بہادری کے باعث بیت اللہ کی نگہبانی کا منصب پھر حاصل ہوا۔ قصی کی چوتھی پشت میں عبدالمطلب آتے ہیں جواپنی دانش مندی اور معاملہ فہمی کی وجہ سے قبیلے میں ایک ممتاز مقام رکھتے تھے۔ احمد بن عبدالجبار نے یونس بن بکیر کی وساطت سے ابن اسحاق کی یہ روایت نقل کی ہے کہ عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف ایک دن کعبہ کے پاس مقامِ حجر میں سو رہے تھے کہ حالت ِ خواب میں کسی آنے والے نے انھیں زم زم کھودنے کا حکم دیا۔ کیوںکہ چاہِ زم زم بنی اسماعیل ، اکبر اور جرہم کے اقتدار کے بعد سے اٹ کر گم ہوگیا تھا اور اس کی جگہ اور مقام کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہ تھا۔ اب عبدالمطلب کو اس کے برآمد کرنے کا حکم دیا گیا۔
خواب میں غیبی اشارہ ملنے کے بعد عبدالمطلب قریش کے پاس آئے اور کہا: اے معشرِقریش! مجھے زم زم کھودنے کا حکم دیا گیا ہے۔ لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ کیا آپ کو بتایا گیا ہے کہ زم زم کہاں ہے؟ تو آپ نے نفی میں جواب دیا۔ اس پر قریش نے آپ کو مشورہ دیا کہ آپ دوبارہ اپنی اسی خواب گاہ میں جائیں۔ اگر آپ کا خواب حقیقتاً اللہ کی طرف سے ہوا اور سچا ہوا تو اس کی مزید وضاحت ہوجائے گی اور اگر یہ شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ ہوا تو شیطان پھر لوٹ کر نہیں آئے گا۔
عبدالمطلب نے ایسا ہی کیا۔ وہ واپس آئے اور اپنی خواب گاہ مقامِ حجر میں آکر سو گئے۔ اُن کے خواب میں پھر کوئی آیا اور آنے والے نے کہا: ’’برہ کو کھودو‘‘۔ عبدالمطلب نے پوچھا: ’برہ‘ کیا چیز ہے؟ یہ سنتے ہی اشارہ کرنے والا غائب ہوگیا۔ اگلے دن عبدالمطلب اپنی اسی خواب گاہ میں سو رہے تھے۔ وہ اشارہ کرنے والا پھر ظاہر ہوا اور کہا:’’مضنونہ کو کھودو‘‘۔ عبدالمطلب نے پوچھا کہ ’مضنونہ ‘کیا چیز ہے؟ اس پر اشارہ کرنے والا چلا گیا۔
تیسرے دن عبدالمطلب اپنی اسی خواب گاہ مقامِ حجر کے قریب سو رہے تھے کہ وہ اشارہ کرنے والا پھر آیا اور عبدالمطلب سے کہا کہ ’’طیبہ کو کھودو‘‘۔ آپ نے پوچھا کہ ’طیبہ‘ کیا ہے؟ اس پر وہ پھر چلا گیا۔ چوتھے روز پھر ایسا ہی ہوا۔ عبدالمطلب اپنی آرام گاہ میں سو رہے تھے کہ اشارہ کرنے والا پھر خواب میں دکھائی دیا اور اس نے کہا کہ ’زم زم‘ کی کھدائی کرو۔ آپ نے پوچھا کہ ’زم زم‘ کیا ہے تو اس نے کہا: وہ کبھی خشک نہ ہوگا اور نہ اس کے پانی ہی میں کمی ہوگی۔ بتانے والے نے خواب میں ’زم زم‘ کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے اس کے محلِ وقوع کے بارے میں نشان دہی بھی کردی اور کہا کہ اگر تُو نے اسے برآمد کرلیا تو نادم نہ ہوگا۔ یہ تیرے جدِاعلیٰ کی میراث ہے۔ یہ چشمہ کبھی خشک نہ ہوگا اور نہ اس کے پانی ہی میں کبھی کمی واقع ہوگی۔ یہ حجاج کی ایک کثیرتعداد کو بھی سیراب کرتا رہے گا۔ جو گروہوں کی شکل میں آتے رہیں گے اور جوق در جوق جاتے رہیں گے۔ نذر ماننے والے اس کے پاس آکر حاجت مندوں کے لیے اپنی اپنی نذریں گزاریں گے۔ یہ تیری میراث ہے اور یہ تیرے حق میں اللہ کی طرف سے ہے۔ یہ اُن دوسرے چشموں کے مانند نہیں ہے جنھیں تو جانتا ہے، بلکہ یہ گوبر اور خون کے درمیان میں سے نکلنے والے خالص دودھ کی طرح پینے والوں کے لیے نہایت خوش گوار ہوگا۔
یہ سن کر عبدالمطلب نے پوچھا: وہ کہاں ہے؟ جواباً کہا گیا کہ چیونٹیوں کے بِلوں کے پاس جہاں کو ّا کل چونچ مارے گا۔ اگلے دن صبح کے وقت عبدالمطلب اپنے بیٹے حارث کو ساتھ لے کر نکلے۔ اس وقت حارث کے سوا ان کا کوئی بیٹا نہ تھا۔ دونوں نے چیونٹیوں کا بِل دریافت کیا اور دیکھا کہ اس کے پاس ہی کوّا چونچ مار رہا تھا اور یہ جگہ اساف اور نائلہ بتوں کے درمیان تھی جہاں پر قریش جانور ذبح کیا کرتے تھے۔
ابن اسحاق کی روایت کے مطابق: پھر عبدالمطلب کدال لے کر آگئے اور کھدائی کرنے کے لیے اُٹھے۔ جب قریش نے دیکھا کہ وہ ٹلنے والے نہیں تو انھوں نے عبدالمطلب سے کہا: بخدا ہم آپ کو ان دونوں بتوں کے درمیان سے کھودنے کی اجازت نہیں دیں گے جن کے پاس ہم جانور ذبح کرتے ہیں۔ عبدالمطلب نے اپنے بیٹے حارث سے کہا: مجھے کھدائی کرنے دو، خدا کی قسم! مجھے جو حکم دیا گیا ہے مَیں اس کی تعمیل ضرور کروں گا۔ جب قریش نے دیکھا کہ عبدالمطلب کا فیصلہ اٹل ہے تو انھوں نے کھدائی میں مزاحمت ترک کر دی اور چلے گئے۔زیادہ وقت نہ گزرا کہ پختہ کنواں اور ہتھیار اور سامان کا گٹھا برآمد ہوا۔ عبدالمطلب نے نعرئہ تکبیر بلند کیا۔ قریش کے لوگوں کو معلوم ہوگیا اور وہ سمجھ گئے کہ عبدالمطلب نے سچ کہا تھا اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ چنانچہ قریش کے سب لوگ اکٹھے ہوگئے اور عبدالمطلب سے کہنے لگے کہ یہ ہمارے باپ اسماعیل کا کنواں ہے۔ اس لیے اس پر ہمارا بھی حق ہے۔ ہمیں بھی اس میں اپنے ساتھ شریک کرو۔ عبدالمطلب نے جواب دیا: میںا یسا نہیں کروں گا۔ یہ خاص طور پر مجھے دیا گیا ہے اور تم میں سے کسی کو نہیں دیا گیا، مگر سب نے مل کر کہا کہ ہمیں بھی حصہ دار بنائو ورنہ ہم آپ کو نہیں چھوڑیں گے، خواہ اس معاملے میں ہمیں آپ سے جھگڑا کرنا پڑے۔
عبدالمطلب نے کہا: اچھا تو اس کے لیے ایک حَکم مقرر کرلیا جائے جو اس معاملے کو نمٹادے۔ اس پر قریش کے لوگ متفق ہوگئے اور انھوں نے بنی سعد بن ندیم کی ایک عورت کاہنہ کا نام تجویز کیا جو شام کے بالائی علاقے میں رہتی تھی۔
عبدالمطلب اپنی برادری کے ایک گروہ کی معیت میں عازمِ سفر ہوئے اور قریش کے دیگر قبیلوں میں سے ایک جماعت بھی فریق ثانی کی حیثیت سے ساتھ روانہ ہوئی۔ اس زمانے میں شام اور حجاز کے درمیان بے آب و گیاہ جنگل و صحرا تھے۔ جب یہ قافلہ شام و حجاز کے درمیان بیابانوں میں سے کسی ویران جگہ پہنچا تو عبدالمطلب اور ان کے ساتھیوں میں سے ہر ایک کے پاس پانی ختم ہوگیا اور انھیں یقین ہوگیا کہ وہ پیاس سے ہلاک ہوجائیں گے۔ انھوں نے فریق ثانی سے پانی مانگا تو انھوں نے پانی دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ہمیں بھی تمھاری طرح ہلاکت کا خوف ہے۔
ان حالات میں عبدالمطلب نے اپنے ساتھیوں سے ان کی راے دریافت کی۔ انھوں نے کہا کہ ہماری راے آپ کی راے کے تابع ہے۔ آپ جو بھی حکم دیں گے ہم اس کی تعمیل کریں گے۔ عبدالمطلب نے کہا کہ میری راے تو یہ ہے کہ ہم میں سے ہرکوئی اپنی طاقت کے مطابق ایک ایک گڑھا کھودے تاکہ ہم میں سے جب کوئی ہلاک ہوجائے تو اس کا ساتھی اسے اس گڑھے میں ڈال دے اور چھپا دے۔ عبدالمطلب کے ساتھیوں نے ایک ایک گڑھا کھودا اور موت کا انتظار کرنے لگے۔ پھر عبدالمطلب نے کہا: خدا کی قسم! ہمارا اس طرح اپنے آپ کو موت کے منہ میں ڈال دینا اور اِدھر اُدھر پانی کی تلاش میں جدوجہد نہ کرنا ہماری کمزوری کی علامت ہے۔ چلو یہاں سے کوچ کریں شاید اللہ تعالیٰ ہمیں سیراب کردے۔ یہ سن کر سب اُٹھ کھڑے ہوئے۔
عبدالمطلب بھی اُونٹنی کی طرف بڑھے اور اس پر سوار ہوگئے۔ جب عبدالمطلب کی اُونٹنی اُٹھی تو اس کے پائوں کے نیچے سے میٹھے پانی کا چشمہ پھوٹ نکلا۔ سب نے اپنی اُونٹنیوں کو بٹھا دیا اور اپنی سواریوں کو روک لیا۔ عبدالمطلب نے بھی اپنی اُونٹنی کو بٹھا دیا۔ پھر سب نے پانی پیا اور سفر کے لیے بھی ذخیرہ کرلیا اور جانوروں کو بھی پلایا۔ پھر اپنے دوسرے قریشی ساتھیوں کو بھی بلایا کہ آئو دیکھو ہمیں اللہ تعالیٰ نے پانی عنایت فرمایا ہے۔ وہ سب آئے، انھوں نے بھی پانی پیا اور بھر بھی لیا۔ اس کے بعد قریشی ساتھیوں نے کہا: اے عبدالمطلب خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ نے آپ کے حق میں فیصلہ صادر فرما دیا ہے۔ وہ ذات جس نے بیابان میں آپ کو سیراب کیا ہے اسی نے آپ کو زم زم بھی عطا کیا ہے۔ چلو واپس چلیں زم زم آ پ ہی کا ہے۔ ہم اس معاملے میں آپ سے جھگڑا نہیں کریں گے۔
ایک روایت کے مطابق قریش واپس چلے گئے۔ واپس آکر عبدالمطلب نے پھر کھدائی شروع کر دی۔ انھوں نے زیادہ کھدائی کی تو سونے کے دو ہرن دستیاب ہوئے۔ یہ وہ ہرن تھے جو جرہم نے مکہ سے نکلتے وقت دفن کیے تھے۔
ابن اسحاق ہی کی روایت ہے کہ زم زم کی کھدائی کے دوران جنابِ عبدالمطلب کو دو ہرنوں کے علاوہ تلواریں بھی ملیں۔ قریش نے کہا کہ ہم بھی آپ کے ساتھ ان برآمد شدہ چیزوں کے حق دار ہیں اس لیے ہمیں بھی ان میں شریک کیا جائے۔
عبدالمطلب نے جواب دیا: ایسا نہیں ہوسکتا۔ ہاں، یہ ہوسکتا ہے کہ تم میرے ساتھ اس معاملے کا فیصلہ منصفانہ طریقے پر کرلو اور قرعہ اندازی پر رضامند ہوجائو۔
عبدالمطلب نے کہا: کعبہ کے لیے دو تیر، تمھارے لیے دو تیر، اور اپنے لیے دو تیر مقرر کروں گا اور جس کے لیے جو چیز نکلے گی وہ اسی کو ملے گی۔ قریش نے کہا: آپ نے انصاف کی بات کی ہم اس طریقے پر رضامند ہیں۔ چنانچہ دو زرد تیر کعبہ کے لیے، دو سیاہ تیر عبدالمطلب کے لیے، اور دوسفید تیر قریش کے لیے مقرر کر دیے گئے۔ پھر یہ قرعہ انداز کے سپرد کر دیے گئے۔ عبدالمطلب دُعا کے لیے کھڑے ہوگئے اور انھوں نے یہ اشعار پڑھے:
اے اللہ! تو ستودہ صفات بادشاہ ہے اور تُو ہی میرا پروردگار ہے جس کے قبضۂ قدرت میں زندگی اور موت ہے۔ تُو بلند و بالااور مضبوط سلسلہ ہاے کوہ کو تھامے ہوئے ہے اور جدید سازوسامان اور قدیم موروثی مال و متاع کا عطا کرنے والا تُو ہی ہے۔ اگر تُو چاہے تو الہام کردے کہ یہ زیورات اور لوہے کے اوزار کہاں رکھے جائیں؟ اے احکام کے صادر فرمانے والے! مَیں تیرے فیصلے کا پابند ہوں۔ پس تُو آج اپنے ارادے کو بالوضاحت ظاہر فرما دے۔ اے پروردگار! اپنا فیصلہ صادر فرما دے۔ میں اس سے رُوگردانی نہیں کروں گا۔
تیرانداز نے تیر ڈالے تو دونوں زرد تیر دونوں ہرنوں پر کعبۃ اللہ کے لیے نکلے۔ عبدالمطلب نے دونوں ہرن کعبہ کے دروازے پر نصب کر دیے۔ یہ پہلا سونا تھا جس سے کعبۃ اللہ کو آراستہ کیا گیا۔ دونوں سیاہ تیر عبدالمطلب کے حق میں تلواروں اور زرہوں پر نکلے۔
اللہ عزوجل نے زم زم کی کھدائی کے بارے میں عبدالمطلب کی رہنمائی فرمائی اور انھیں خاص طور پر اس اعزاز کے لیے منتخب کیا۔ جب عبدالمطلب نے زم زم برآمد کرلیا تو اللہ عزوجل نے قوم کی نظروں میں ان کی بزرگی اور قدر و منزلت میں اضافہ کر دیا۔ لوگ زم زم کی برکت و فضیلت کی وجہ سے اسی کی طرف رجوع کرنے لگے کیوںکہ یہ مسجد ِ حرام میں تھا اور اسی سے اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیلؑ کو سیراب کیا تھا۔ یہ حضرت اسماعیل ؑ بن ابراہیم ؑ کا چشمہ تھا۔ جب حضرت اسماعیل ؑ کو صغرسنی میں پیاس محسوس ہوئی تھی تو اللہ نے ان کو اس چشمے سے ہی پانی پلایا تھا اور وہ سیراب ہوئے تھے۔
عبداللہ بن ابی نجیح نے مجاہد کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ مجاہد نے کہا کہ ہم ہمیشہ سے یہ سنتے آئے ہیں کہ جب حضرت اسماعیل ؑ کو پیاس لگی تو جبریل ؑ نے اپنی ایڑی سے کھدائی کرکے زم زم کا چشمہ جاری کر دیا۔
حضرت ابوذرغفاریؓ سے روایت ہے کہ جب وہ آغازِ اسلام کے زمانے میں آنحضرتؐ کی خبر سن کر مکہ آئے تو ان کو پورے ایک مہینے تک بارگاہِ نبوت میں حاضری کا موقع نہ مل سکا۔ اُن کے پاس کوئی زادِ راہ بھی موجود نہ تھا صرف زم زم کا پانی پی کر مدت بسر کی اور مَیں بھوک کے ضعف کا کوئی اثر محسوس نہیں کرتا تھا۔(مسلم)
حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ زم زم کا پانی بھوک کے وقت غذا اور بیماری کی حالت میں شافی دوا کا کام کرتا ہے۔
زم زم کا پانی پاک و مطہر اور ہرقسم کی ملاوٹ سے پاک ہے۔ زم زم جنّت کے چشموں میں سے ایک چشمہ ہے۔ یہ روے زمین پر سب سے عمدہ، افضل اور خیروبرکت والا پانی ہے۔ یہ پانی بھوک کے لیے کھانا اور بیمار کے لیے شفا ہے۔ یہ پانی سردرد کے لیے مفید ہے اور بینائی کو تیز کرتا ہے اور جسم و جاں کو توانائی بخشتا ہے اور قوتِ ہاضمہ کو بہتر کرتا ہے۔
ختمِ نبوت، ایک مسلمان کا بنیادی عقیدہ ہے، اور اس کا انکار یا اس میں کسی نوعیت کی ملاوٹ یا شک، ایمان کی بنیاد ڈھا دیتی ہے۔ ۱۹ویں صدی کے آخری عشروں میں قادیانیت نے بال و پَر نکالے اور ۲۰ویں صدی کے آغاز میں مرزا غلام احمد نے اپنی جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا۔ یہ ’نبوت‘ بنیادی طور پر برطانوی سامراج کی مرضی کے مطابق دینِ اسلام کی نئی تعبیرو تشریح کے بوئے جانے والے جھاڑ جھنکار پر مشتمل تھی۔ مرزا نے اپنی نبوت کے نہ ماننے والوں کو ’کافر‘ ہی نہیں قرار دیا، بلکہ انھیں نہایت غلیظ ناموں سے بھی نوازا۔
اس ضمن میں اُمت مسلمہ کے ضمیر نے یکسو ہوکر مذکورہ فتنے کی نفی کی۔ علامہ اقبال نے تو ایک جملے میں واضح کر دیا کہ: ’’قادیانی اسلام اور ہندستان دونوں کے غدار ہیں‘‘۔ اور یہ بات انھوں نے قادیانیت کے وکیلِ صفائی پنڈت جواہر لال نہرو کو ایک خط میں لکھی۔
علماے کرام کے ہاں تو اس بارے میں کوئی شک نہ تھا: حنفی [بریلوی، دیوبندی]، سلفی، شیعہ علما، قادیانیت کے کفر پر متفق تھے، مگر پاکستان یا ہندستان کا جدید تعلیم یافتہ طبقہ اپنی کم علمی کی بناپر اسے ’مولویوں کی لڑائی اور کفرسازی کا شاخسانہ‘ تصور کرتا تھا۔ ۲۹مئی ۱۹۷۴ء کو نشتر میڈیکل کالج ملتان میں زیرتعلیم اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنوں اور حامیوں پر، ربوہ ریلوے اسٹیشن پر قادیانی نوجوانوں نے حملہ کیا، جس نے اس مسئلے کو شعلۂ جوالہ بنادیا۔ قریہ قریہ تحریکِ ختم نبوتؐ شروع ہوئی۔ تب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اس مسئلے کو پاکستان کی پارلیمنٹ میں پیش کیا، جس میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ممبران نے بطور ’عدالت‘ مسئلے کے تمام فریقوں کو سنا، ان پر جرح کی اور آخرکار ۷ستمبر۱۹۷۴ء کو فیصلہ سنایا کہ:’’ قادیانیت کے دونوں گروہ دائرۂ اسلام سے خارج ہیں‘‘۔
زیرنظر کتاب پاکستان کے بزرگ اور باخبر صحافی جناب سعود ساحر نے مرتب کی ہے۔ اس کتاب کا سب سے دل چسپ اور آنکھیں کھول دینے والا حصہ اس بحث پر مشتمل ہے، جو پاکستان کی پارلیمانی عدالت میں سوال و جواب کی صورت میں ہوئی۔ دراصل یہی بحث قادیانیت کی حقیقت کو پاکستان کے دستور سازوں کے سامنے بے نقاب کرنے کا ذریعہ بنی ہے۔
یہ نہایت افسوس ناک بات ہے کہ ۱۹۷۴ء سے اب تک اس بحث کو سرکاری طور پر شائع نہیں کیا گیا۔ اس سے قبل اس بحث کے متعلقہ مکالمات کو مولانا اللہ وسایا صاحب نے تحریک ختمِ نبوت ۱۹۷۴ء (جلد دوم،صفحات: ۴۴۲)کے عنوان سے شائع کیا تھا، جس پر ترجمان القرآن (اپریل ۱۹۹۵ء) میں تبصرہ کیا گیا تھا۔ زیرتبصرہ کتاب کے مرتب نے بھی انھی متذکرہ مکالمات کو اپنے ذرائع سے حاصل کرکے زیرنظر کتاب مرتب کی ہے، لیکن انھوں نے محض مکالمات نہیں بلکہ بحث کی کیفیات، اُتار چڑھائو، تلخی تُرشی کو بھی قلم بند کیا ہے۔ اس سے اس مسئلے کی جزئیات واضح ہوکر سامنے آتی ہیں۔ جناب سعود ساحر کی یہ خدمت قابلِ تحسین ہے، تاہم ہمارا بنیادی مطالبہ یہی ہے کہ اس پوری کارروائی کو سرکاری طور پر اسپیکرآفس کی طرف سے شائع کیا جانا چاہیے۔ جو حیثیت و اہمیت اُس دستاویز کو حاصل ہوگی، وہ کسی دوسرے ذریعے سے حاصل کردہ معلومات کو حاصل نہیں ہوسکتی۔ بلاشبہہ سعود صاحب یا اللہ وسایا صاحب کی کتب میں شائع کردہ مکالمات درست ہیں، مگر ان کی حیثیت پرائیویٹ دستاویز کی ہے۔
گذشتہ دورِ حکومت میں قومی اسمبلی کی اسپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے ۱۰؍اپریل ۲۰۱۱ء کو اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ اس کارروائی کو ’خفیہ دستاویزات‘ کے سردخانے سے نکال کر شائع کریں گی، اور انھوں نے یہ کارروائی چھپوا بھی لی تھی، مگر وہ اسے عوام الناس کے لیے شائع نہ کرسکیں۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ صورتِ حال پاکستان کے عوام کی حق تلفی، قادیانیت کی طرف داری اور دستورِ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی روح سے متصادم رویے کی غماز ہے۔ (سلیم منصور خالد)
علامہ اقبال کا شمار ان اکابر میں ہوتا ہے جنھوں نے مسلمانانِ برعظیم کو غلامی کی گہری نیند سے بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں:شاعر،مفکر،فلسفی ، سیاست دان، قانون دان وغیرہ ۔ اس سلسلے میں سیکڑوں کتابیں لکھی گئی ہیں اوریہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ اکادمی ادبیاتِ پاکستان نے ۱۹۹۰ء میں ’پاکستانی ادب کے معمار‘ کے عنوان سے ممتاز تخلیق کاروں پر ایک ایک کتاب شائع کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ زیرنظر کتاب اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس بارے میں اکادمی ادبیات کے صدرنشین افتخار عارف لکھتے ہیں: ’’یہ کتاب نام وَر اقبال شناس، ممتاز تنقیدنگار اور محقق پروفیسر ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی نے اکادمی ادبیات پاکستان کے لیے تحریر کی ہے۔ ہم ان کے تہ ِ دل سے شکرگزار ہیں۔ انھوں نے علامہ محمد اقبال کے حوالے سے تحقیقی اور تنقیدی نوعیت کا امتیازی اختصاص کے ساتھ بے حد وقیع کام کیا ہے‘‘۔
زیرنظر کتاب بقول مصنف: ’’اقبال کے عام قاری کے لیے ہے___ جو اقبال کے بارے میںکچھ زیادہ نہیں جانتا‘‘۔فی الحقیقت یہ کتاب اقبال کا تعارف ایک منفرد انداز میں کراتی ہے۔ اسے پڑھتے ہوئے اقبال اپنی خوبیوں اور کمزوریوں، یعنی پوری شخصیت کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ یہ کتاب قاری کو سوانح اقبال کے بہت سے گوشوں سے شناسا کراتی ہے۔اس میں اقبال کے آباواجداد،اساتذہ، عملی زندگی، سیاسی سرگرمیوں، ملکی اور غیرملکی دوروں اور آخری زمانے کی طویل علالت کے دنوں کے اہم واقعات کا احاطہ کیا گیا ہے، نیز اس میں اقبال کی فکریات سمجھنے کے لیے ان کے ملفوظات اور افکار و تصورات کا تذکرہ بھی آگیا ہے۔
مصنف کا اسلوب سادہ ، رواں اور دل کش ہے۔ (فیاض احمد ساجد)
علامہ یوسف القرضاوی کا شمار موجودہ زمانے کے چوٹی کے علما میں ہوتا ہے۔ عالمی حالات، اُمتِ مسلمہ کے مسائل اور جدید موضوعات پر ان کی گہری نظر ہے۔ اس طرح وہ فکری اور عملی دونوں میدانوں میں سرگرمِ عمل ہیں۔ علّامہ القرضاوی کو مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی [۱۹۰۳ء-۱۹۷۹ء] سے بہت محبت اور عقیدت ہے (یاد رہے، مولانا مودودی کی نمازِ جنازہ انھی نے پڑھائی تھی)۔
کچھ عرصہ قبل القرضاوی نے ایک مختصر مگر جامع کتاب نظرات فی فکر الامام المودودی شائع فرمائی۔زیرنظر کتاب اسی مجموعے کا اُردو ترجمہ ہے۔ علامہ قرضاوی نے اس کتاب میں مولانا مودودی کی فکری خصوصیات اور خدمات کا مختصر مگر جامع انداز میں بھرپور جائزہ لیا ہے۔ کتاب کے آخری حصے میں مولانا مودودی پر مولانا سیّدابوالحسن علی ندوی اور مصری دانش ور ڈاکٹر محمد عمارہ کی تنقید کا عمدہ تجزیہ کیا گیا ہے۔
علامہ قرضاوی، مولانا مودودی کے قدردان ہیں۔ انھوں نے مولانا مودودی کی فکرو بصیرت کو خوب صورت پیرایے میں پیش کیا ہے مگر بعض جزئیات میں ان سے اختلاف بھی کیا ہے، اور مختلف فیہ موضوعات کا تذکرہ بھی کیا ہے۔
کتاب کے آغاز میں مولانا ڈاکٹر محمد عنایت اللہ سبحانی کا مبسوط مقدمہ شامل ہے۔ جس میں انھوں نے، علّامہ قرضاوی کے تنقیدی اشارات کا مختصر جواب دیا ہے۔ کتاب کا ترجمہ ابوالاعلیٰ سیّد سبحانی نے کیا ہے، جو نہایت شُستہ اور رواں ہے۔ اس خدمت پر وہ اُردو خواں حلقے کی جانب سے شکریے کے مستحق ہیں۔ (محمد رضی الاسلام ندوی)
زیرنظر سفرنامے میں مصنفہ نے سیاحتی رُوداد کے ساتھ ایران کی تاریخ کے مختلف اَدوار کا عبرت انگیز منظرنامہ بھی پیش کیا ہے۔ جس میں تاریخی اور علمی شخصیتوں کا تذکرہ بھی شامل ہے جس سے مصنفہ کی (جو تاریخِ اسلامی کی پروفیسر ہیں) تاریخ پر نظر کا اندازہ ہوتا ہے۔ انھوں نے ایران کی سرزمین، وہاں کے باشندوں کے طورطریقوں اور ان کی عمومی بودوباش کا بڑی باریک بینی سے مشاہدہ کرکے اپنا نقطۂ نظر بھی بیان کیا ہے۔ انھوں نے ایران کے تمام مقامات اور شخصیات کو تاریخ کے تناظر میں دیکھا ہے۔
سفرنامے کا اسلوب ایسا شگفتہ اور سلیس ہے کہ قاری ایک ہی نشست میں پورے سفرنامے کا مطالعہ کرلیتا ہے۔ تسامح کئی ایک ہیں، صرف ایک کا ذکر۔ مصنفہ نے لکھا ہے: ’’سعدی، شیخ عبدالقادر جیلانی کے ہاتھ پر بیعت بھی تھے اور آپ ہی کے ہم رکاب ہوکر حج بیت اللہ بھی کیا تھا‘‘ (ص ۶۶)۔ حالاںکہ شیخ عبدالقادر جیلانی کی وفات (۱۴فروری ۱۱۶۶ء) کے ۴۴برس بعد شیخ سعدی ۱۲۱۰ء میں پیدا ہوئے تھے۔(ظفرحجازی)
o 1-Guidance of The Holy Quran, 2-Studies of the Quran،
پروفیسر اشرف الزماں خاں۔ ملنے کا پتا: اسلامک پبلی کیشنز لمیٹڈ، منصورہ، ملتان روڈ، لاہور۔ فون: ۳۵۲۵۲۵۰۱-۰۴۲۔ صفحات، مجلد(علی الترتیب): ۷۲، ۱۹۲۔ قیمت:۱۲۰ روپے، ۳۰۰ روپے۔[انگریزی زبان میں اسلام اور قرآن سے ابتدائی تعارف کے لیے نہایت مناسب مختصر کتابیں ہیں۔ پہلی کتاب میں زندگی کے تمام اہم پہلوئوں کے بارے میں بنیادی ہدایات منتخب قرآنی آیات کی صورت میں ترجمے اور مختصر تشریح کے ساتھ دی گئی ہیں۔ عقائد اور تزکیے کے ساتھ ساتھ اچھے معاشرتی تعلقات، نیک عمل، گناہ کے کام، حلال و حرام کے بعد پردہ، دعوتِ اسلامی اور جہاد کے بارے میں مختصر ابواب میں، ۶۶ صفحات کی کتاب میں سب ہی کچھ آگیا ہے۔ دوسری کتاب میں قرآن سے تعارف اور سورئہ فاتحہ کے بعد آخری پارہ عم کی سورتوں (۷۸-۱۱۴) کی مختصر تشریح اور پس منظر کے ساتھ انگریزی ترجمہ دیا گیا ہے۔ ]
oاصطلاحاتِ حدیث، مرتب: عتیق الرحمٰن۔ ناشر: پیما پبلی کیشنز، پیما ہائوس۔ بی/۵۱۶، بلاک K، جوہر ٹائون، لاہور۔ فون: ۳۶۱۳۰۶۰۳-۰۴۲۔صفحات: ۶۴۔ قیمت: ۴۰ روپے۔[اس مختصر کتاب میں حدیث سے متعلق اصطلاحات کی واضح تعریف دی گئی ہے۔ اسی طرح قاری اس کتاب کے ذریعے علمِ حدیث سے متعلق بنیادی معلومات سے روشناس ہوجاتا ہے۔ پیما (پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن) اپنے ممبران کی دینی تربیت کا انتظام بھی کرتی ہے۔یہ معلوماتی کتاب اسی کے پیش نظر شائع کی گئی ہے۔]
o رسائل و مسائل، سیّدابوالاعلیٰ مودودی ،مرتب: ڈاکٹر نصیر خان، ناشر: اسلامک پبلی کیشنز، منصورہ، لاہور۔ فون:۳۵۲۵۲۵۰۱-۰۴۲۔صفحات: ۱۱۳۱۔ قیمت: ۱۵۰۰ روپے۔[مولانا مودودی کی شہرئہ آفاق کتاب رسائل و مسائل جو پانچ حصوں میں دستیاب تھی، اسے ایک جِلد میں موضوعاتی بنیادوں پر اکٹھا کر کے یہ ضخیم مجموعہ مرتب کیا گیا ہے۔ پانچوں جلدوں میں ذیلی عنوانات کے تحت جو سوال و جواب موجود تھے، انھیں اس کتاب میں متعلقہ فصل کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اگرچہ یہ بھی کتاب سازی کا ایک انداز ہے، لیکن اگر ترتیب ِ نو کے ساتھ اسے دو حصوں میں تقسیم اور متن کی چوڑائی کو قدرے کم کیا جاتا تو یہ عمل قاری کے لیے زیادہ سہولت بخش ہوتا۔ پھر جہاں جہاں مسئلے کی تاریخ اشاعت دی گئی ہے، اس کے ساتھ بنیادی جِلد (جسے ختم کیا گیا ہے) کا شمار اوّل؍ دوم؍ سوم وغیرہ کی نشان دہی کے ساتھ درج کیا جانا ضروری تھا۔ سواے حصہ پنجم کے، باقی جِلدیں مولاناموددویؒ ہی کی مرتب کردہ تھیں۔ اس لیے ان کی مستقل پہچان کو معدوم کرنا مناسب نہیں۔حصہ دوم کا تعارف مولانا امین احسن اصلاحی صاحب نے لکھا تھا، وہ بھی ریکارڈ پر رہنا چاہیے تھا۔ ]
حج کے موضوع پر ’اشارات‘ (ستمبر ۲۰۱۶ء) بروقت، مناسب اور بہت مؤثر ہیں۔ اللہ تعالیٰ پروفیسرخورشید احمد صاحب کو جزاے خیر دے اور کوئی حاجی یا غیرحاجی اس تحریر کے مطالعے سے محروم نہ رہے۔ یہ جملہ تو اس مضمون کی جان ہے: ’’جس نے حج زندگی میں ایک بار بھی جملہ آداب کے ساتھ کیا، تو یہ اس کی ساری زندگی رب کی عبدیت کی راہ پر رواں دواں رکھنے کے لیے کافی ہے‘‘ (ص ۱۶)۔قاضی رحمت اللہ کا مضمون مولانا مودودی کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے مفید ذریعہ ہے۔
’حج ایک عبادت، ایک پیغام‘ (اشارات، ستمبر۲۰۱۶ء) موقعے کی مناسبت سے ایک بہترین مضمون ہے جو عبادت کو زندگی سے اور زندگی کو ربّ سے جوڑتا ہے۔ بنگلہ دیش کے حالات، جماعت اسلامی کے رہنمائوں پر گزرنے والے حالات کی تفصیل پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ یااللہ ! کوئی سبیل پیدا فرما۔
عالمی ترجمان القرآن کے معیار کو برقرار رکھنے کی شدید ضرورت ہے، کیونکہ نظریاتی تشکیل و تعمیر کا اُردو میں غالباً یہ واحد مؤثر پرچہ ہے۔ بنگلہ دیش پر بہت بھرپور مضمون ہے، جس کے مطالعے نے وہاں بھائیوں پر گزرنے والی کیفیات کی جھلک دکھا کر لرزہ براندام کردیا۔ البتہ، فقہ و اجتہاد کے تحت مضمون پر زیادہ معیاری چیز لانے کی ضرورت تھی۔
’مسکراتے ہوئے السلام علیکم کہیے‘ (ستمبر ۲۰۱۶ء) سبق آموز ہے۔ یہ اسلامی شعائر میں ہے، جس سے غفلت برتی جارہی ہے۔ عموماً سیاسی اور عالمی اُمور زیادہ زیربحث آتے ہیں، جب کہ معاشرتی مسائل نظرانداز ہوجاتے ہیں۔ ’مقبوضہ‘ بنگلہ دیش میں انسانیت کی تذلیل‘ سے اہم معلومات ملیں جن سے عام طور پر لوگ بے خبر ہیں۔ تاہم مختصر ہوتا تو بہتر تھا۔