اسلام کی تعلیمات ابدی اور لافانی ہیں۔ اسلام زمان و مکان کی حدود قیود سے بالا تر ہونے کی وجہ سے ہر دور کی رہبری و رہنمائی کرتا ہے۔ ہر شعبۂ حیات کے لیے قرآن و سیرتِ نبویؐ میں بنیادی رہنما اصول موجود ہیں۔ ان اصولوں کا ہر معاشرے میں اطلاق کیا جاسکتا ہے ۔ ریاست، سیاست اور قیادت کے لیے بھی یہاں ایسے بنیادی اصول موجود ہیں جو ہر دور کے معاشرے کی ناگزیر ضرورت ہیں۔ اس لیے اسلامی تعلیمات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ میں’سرکاری ملازمین‘ (Public Servants)کے پیشہ وارانہ فرائض و ذمہ داریوں کے حوالے سے بہت سی اہم اور بنیادی ہدایات موجود ہیں۔
دستور زمانہ یہ ہے کہ عہدے اور منصب ایک اعزاز سمجھے جاتے ہیں لیکن اسلام میں یہ ایک ’امانت‘ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ نہایت اہم اور بنیادی فرق ہے جو ذمہ داریوں کی نوعیت اور عہدے دار کی حیثیت کو واضح کر دیتا ہے۔ اس ذمہ داری کی بجا آوری کے ہرپہلو کا اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کا تصور ’منصب دار‘ کو ’خدمت گار‘ کے روپ میں پیش کرتا ہے۔ یہ خدمت گار اپنے فرائض کی بجا آوری میں ہر لمحہ لرزاں وترساں رہتا ہے کہ کہیں کوتاہی ہو گئی تو خدا کے سامنے کیا جواب دوں گا۔ یہی وہ تصور تھا جس کی وجہ سے اکابرین امت کسی ذمہ داری کو قبول کرنے سے گریز کرتے تھے۔
نبی کریمؐ نے واضح ہدایات ارشاد فرمائیں کہ عہدے یا منصب کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ آپؐ کا واضح ارشاد ہے: ’’اللہ کی قسم! ہم اس عمل پر کسی ایسے شخص کو عامل مقرر نہیں کرتے، جو اس کا مطالبہ کرے اور جو اس کی تمنا کرے‘‘ (بخاری، ۷۱۹۴)۔اس حدیث مبارکہ نے اس حقیقت پر روشنی ڈالی ہے کہ جب عہدے مطالبات اور لالچ کی بنیاد پر مانگے جائیں گے تو معاشرے میں بے اعتدالی اور افسران میں لوٹ مار کا رجحان زور پکڑے گا۔ آپؐ نے فرمایا کہ یہ عہدہ امانت ہے اور (اس کا حق ادا نہ ہو سکا) تو قیامت کے دن یہ رُسوائی اور ندامت کا سبب بنے گا (بخاری، ۱۸۲۵)۔ آپؐ اُمت میں ان عہدوں کے طلب کی حرص کا پیدا ہونا بھی نگاہِ نبوت سے ملاحظہ فرما رہے تھے اور اس کو یوں بیان بھی کر دیا: ’’عنقریب تم امار ت کے لیے حرص و کوشش کرو گے‘‘۔
قوم جن لوگوں کو منصب ان کی اہلیت و صلاحیت دیکھ کر دے اور وہ اس کے لیے تگ و دو کریں، تو اللہ تعالیٰ کی توفیق اور عنایات اس منصب کے تقاضوں کو ادا کرنے کے لیے شامل حال ہوجاتی ہیں۔ (بخاری،۷۱۴۶)
دوسری طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صاحب منصب کے لیے جو لفظ استعمال فرمایا وہ ’راعی‘ کا ہے۔ راعی (نگہبان) اپنے ریوڑ کو خود بھی نقصان نہیں پہنچاتا اور دوسرے کو بھی روکتا ہے اور اس کی نظر اپنے ہر جانور پر ہوتی ہے۔ راعی اپنے ریوڑ سے اس درجہ پیار کرتا ہے کہ ریوڑ کا ہرجانور اس کے اشاروں پر چلتا ہے۔ ’راعی‘ کے اس اعلیٰ درجے کے تعلق سے رعیت بھی راعی کے اشارۂ ابرو پر جان وارنے کے لیے تیار ہو جاتی ہے، بشرطیکہ افسر ’راعی‘ کے روپ میں ہو ’بیوروکریٹ‘ کی شکل میں نہ ہو۔ حدیث نبوی ؐ کے الفاظ یہ ہیں:’’آگاہ رہو تم سب نگہبان ہو اور تم سب اپنے ماتحتوں کے متعلق جواب دہ ہو‘‘۔(بخاری، ۱۸۲۷)
ذمہ داریوں کی نوعیت کے اعتبار سے سرکاری ملازم’راعی‘ کی طرح ہے اور اپنی حیثیت کے مطابق وہ اسلام اور پاکستان کا نمایندہ ہے۔ اسے اپنی ذمہ داریوں سے اس طرح عہدہ برآ ہونا ہے کہ وہ فرائض منصبی انجام دیتے ہوئے ایک اچھے مسلمان اور محب وطن پاکستانی کی شکل میں لوگوں کے سامنے ہو۔ اپنی اس حیثیت کو صرف پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں ہی ظاہر نہ کیا جائے بلکہ اس کی زندگی کے ہر میدان میں اس حیثیت کا عکس نظر آئے۔
شریعت ِ اسلامیہ میں اہلیت و صلاحیت کے حامل اور حرص و طمع سے بچنے والے لوگوں کو عہدہ و منصب کی امانت سونپی گئی ہے کہ مقاصد شریعت کی محافظت ہوتا کہ معاشرہ جنت کا نمونہ بن جائے۔ مقاصد شریعت درج ذیل ہیں:
۱- تحفظ دین: یعنی دین الٰہی کو ہر جہت سے نافذ کیا جاسکے اور اللہ اور بندے کے درمیان تعلق ہر شعبے میں قائم رہے۔
۲- تحفظِ جان: لوگوں کے جان و مال کی حفاظت ہو سکے۔ قصاص ودیت کے قرآنی احکامات اسی مقصد کے لیے ہیں۔
۳- تحفظِ عقل: عقل کا تحفظ شریعت کے بنیادی مقاصد میں سے ہے کیونکہ انسان اور جانوروں میں تمیز کرنے والی یہی قوت ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے شراب نوشی اور منشیات کا استعمال ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
۴- تحفظِ نسل :خاندان کے ادارے کی بقا کے لیے بدکاری پر پابندی لگائی گئی اور نکاح کا حکم دیا گیا ہے۔
۵- تحفظِ مال:مال کسی فرد کا ہو یا اجتماعی ادارہ و حکومت کا اس کا تحفظ لازم و ضروری ہے۔ قطع ید جیسی سزائوں کا یہی مقصد ہے۔
۶- تحفظِ عدل:قیام عدل شریعت کے بنیادی اور اہم مقاصد میں سے ہے۔ اگر عدل ہو گا تو دیگر مقاصد شریعت کی حفاظت ہو سکے گی۔
کہا جا سکتا ہے کہ ایک اسلامی ریاست میں مختلف محکمے، منصب اور عہدو ں کے بنیادی و اساسی مقاصد درج بالا ہیں۔ چونکہ یہ مقاصد بذات خود بہت اعلیٰ ہیں اس لیے اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل افراد کا تقرر ان مناصب پر کیا جانا چاہیے۔
سرکاری ملازمین کے انتخاب کے لیے رہنما اصول
قرآ ن کریم اور اسوۂ حسنہ سے سرکاری ملازمین کے انتخاب کے لیے بنیادی رہنما اصول سامنے آتے ہیں۔ اس معاملے میں اس آیت قرآنی کو ایک بنیادی اور اصولی حیثیت حاصل ہے: ’’بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں امانت والوں (ان کے اہل) کو ادا کرو‘‘۔ (النساء ۴:۵۸)
l علم اور اہلیت:اسلام میں علم کے حصول پر اتنا زور دیا گیا ہے کہ گمان گزرتا ہے کہ اسلام اور علم ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں۔ امام غزالی کے نزدیک دنیا اور آخرت میں سعادت کی بنیاد علم ہی ہے۔ افسران اپنے علم سے معاشرے کے لیے راہ سعادت کی نشان دہی کرتے ہیں۔ لہٰذا، اس طبقے کے لیے ضروری ہے کہ وہ زندگی کے مصالح و مفاسد کا علم رکھتا ہو۔ ایسا علم کہ جس سے وہ خود بھی فائدہ اٹھائیںاور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچائیں۔
ایک قوی سربراہ ادارہ وہ ہے جو اپنے فرائض منصبی سے خوب واقف ہو۔ دفتری کام کے مقاصد سے باخبر ہو، ترتیب کا ر اور پروگرام بنانے میں ماہر ہو اور اس میں ایجاد و اختراع کی قابلیت ہو، نیز کام کو منظم کرنے کی مہارت رکھتا ہو۔ اس کے ذہن میں غایت کا ر واضح ہو اور اپنی تمام صلاحیتوں کو مقصدتک پہنچنے کے لیے استعمال میں لائے۔ وہ لوگ جو کسی کو کوئی ذمہ داری سپرد کرتے ہوئے صرف اس کی امانت اور بلند کردار پر قناعت کر لیتے ہیں وہ بھی اسی غلط فہمی میں ہیں جیسے کہ وہ لوگ جو ان چیزوں کو نظرانداز کرکے محض کسی کی مہارت خصوصی دیکھ کر اس پر بھروسا کرلیتے ہیں۔ خائن اور بددیانت ماہرین خصوصی ویسا ہی نقصان پہنچاتے ہیں جیسا کہ نا اہل اور ناواقفان کا ر ایمان دار لوگ۔ سربراہ ادارہ خائن ہو اور صالح کردار لوگوں کو ذمہ داریوں سے محروم رکھا جائے، تو نتیجہ دونوں حالتوں میں ایک ہوگا۔
آپؐ نے فرمایا:’’جس میں امانت نہیں ، اس میں ایمان نہیں، جس کو اپنے عہد کا پاس نہیں اس میں دین نہیں۔ اس ہستی کی قسم جس کے قبضے میں محمدؐ کی جان ہے! کسی بندے کا اس وقت تک دین درست نہ ہو گا جب تک کہ اس کی زبان درست نہ ہو، اور اس کی زبان درست نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس کا دل درست نہ ہو۔ جو کوئی ناجائز ذرائع سے مال کمائے گا اور اس میں سے خرچ کرے گا تو اسے برکت نہیں دی جائے گی۔ اگر اس میں سے خیرات کرے تو وہ قبول نہیں ہوگی۔ جو اس میں سے بچ جائے گا وہ اس کے جہنم کی طرف سفر کا توشہ ہو گا‘‘۔(کنزالعمال، ۵۵۰۳)
آپؐ نے فرمایا:’’قیامت کی نشانیوں میں ہے کہ سب سے پہلے اس امت سے امانت کا جوہر جاتا رہے گا‘‘۔(ایضاً، ۵۴۰۲)
نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میری امت اس وقت تک فطری صلاحیت پر قائم رہے گی جب تک وہ امانت کو غنیمت کا مال اور زکوٰۃ کو جرمانہ نہیں سمجھے گی‘‘۔ (ایضاً، ۵۴۰۴)
نبی کریمؐ نے امانت میں خیانت کو نفاق کی علامت قرار دیا ہے۔ (بخاری، ۳۳)
نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’ اگر کسی سے ساری دنیا کی چیزیں چھن جائیں اور اس کے پاس امانت کا وصف باقی رہ جائے تو اسے کسی چیز کا تأسف نہیں‘‘۔ آپؐ نے فرمایا ’’مومن میں ہر بری عادت ہو سکتی ہے لیکن خیانت اور جھوٹ اس میں نہیں آسکتا‘‘۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے ایک روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’اللہ کی راہ میں شہید کیا جانا تمام گناہوں کا کفارہ ہے لیکن امانت کا کفارہ نہیں۔ ایک بندے کو قیامت کے روز لایا جائے گا جو شہید ہوا ہو گا اور کہا جائے گا کہ تم امانت (جس میں اس نے خیانت کی ہو گی) ادا کرو۔ وہ کہے گا کہ اے اللہ ! اب میں اسے کس طرح لائوں ، اب تو دنیا ختم ہو چکی ہے۔ کہا جائے گا کہ اسے جہنم کے طبقہ ’ہاویہ‘ میں لے جائو۔ وہاں امانت والی چیز مثال بن کر اصل حالت میں اس کے سامنے آئے گی تو وہ اسے دیکھ کر پہچان لے گا اور اس کو پکڑنے کے لیے اس کے پیچھے بھاگے گا یہاں تک کہ اسے پکڑ لے گا۔ وہ اسے اپنے کندھوں پر لاد کر چلے گا۔ لیکن جب وہ جہنم سے نکلنے کی کوشش کرے گا تو وہ بوجھ اس کے کندھے سے گر پڑے گا۔ پھر وہ اس کے پیچھے ہمیشہ بھاگتا چلا جائے گا۔ اس کے بعد آپؐ نے وضو، نماز ، ناپ تول اور دیگر بہت سی چیزیں گن کر فرمایا: ان سب سے زیادہ سخت معاملہ امانت کی چیزوں کا ہے‘‘۔ (بیہقی ، شعب الایمان، ۵۲۶۲)
ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسولؐ اللہ نے امانت کی اہمیت کو بیان فرمایا: ’’اللہ جب کسی بندے کو ہلاک کرنا چاہتا ہے تو اس سے حیا کو نکال لیتا ہے۔ جب حیا اس سے نکل جاتی ہے تو ہمیشہ اس پر اللہ کا غصہ ہوتا ہے۔ جب اس پر اللہ کا غصہ رہتا ہے تو اس کے دل سے امانت نکل جاتی ہے، تُو پھر اُسے ہمیشہ چور اور خائن پاتا ہے۔ جب اسے تُو چور اور خائن پاتا ہے تو اس میں سے رحمت نکل جاتی ہے۔ جب اس میں سے رحمت نکل جاتی ہے تو اسے ہمیشہ مردود و ملعون پائے گا۔ جب وہ ہروقت مردود و ملعون ہو جاتاہے تو اس کی گردن سے اسلام کی رسی نکل گئی‘‘۔ (ابن ماجہ، ۴۰۵۴)
نبی کریمؐ نے امانت کی پاس داری اور محافظت کا سبق لوگوں کے ذہنوں میں بٹھانے کے ساتھ لوگوں کو خیانت اور بددیانتی کے بارے میں بھی آگاہ فرمایا۔ اس سلسلے میں قرآن میں ارشاد ہے:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰہَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْٓا اَمٰنٰتِکُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَo (الانفال۸:۲۷) اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ، جانتے بوجھتے اللہ اور اس کے رسول ؐ کے ساتھ خیانت نہ کرو اور نہ جانتے بوجھتے آپس کی امانتوں میں خیانت کرو۔
وَ لَا تَکُنْ لِّلْخَآئِنِیْنَ خَصِیْمًاo (النساء ۴:۱۰۵) تم بد دیانت لوگوں کی طرف سے جھگڑنے والے نہ بنو۔
اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْخَآئِنِیْنَo(الانفال ۸:۵۸)بے شک اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
نبی کریمؐ نے ان آیات کا صحیح مفہوم اپنے اسوۂ حسنہ کے ساتھ پیش فرمایا۔ آپؐ جن باتوں سے پناہ مانگا کرتے تھے، ان میں سے ایک خیانت ہے۔ آپؐ کا ارشاد ِ گرامی ہے:’’اے اللہ مجھے خیانت سے بچائے رکھنا کہ یہ بہت بُرا اندرونی ساتھی ہے‘‘۔ (ابوداؤد،۱۵۴۷)
آپ ؐ نے فرمایا: ’’سب سے اچھا میرا زمانہ ہے، پھر وہ زمانہ جو اس کے بعد آئے گا، پھر اس کے بعد آنے والا زمانہ۔ اس کے بعد ایسا زمانہ آئے گا جب لوگ بن بلائے گواہی دیں گے، خیانت کریں گے ، امانت داری نہیں کریں گے، نذر مانیں گے لیکن پوری نہیں کریں گے‘‘۔ (بخاری، ۳۴۵۰) ۔ آپ ؐ نے فرمایا کہ بد دیانتی قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔ آپؐ کا ارشاد گرامی ہے: ’’جب امانت ضائع کر دی جانے لگے تو قیامت کا انتظار کرو‘‘۔ (بخاری، ۵۹)
اسلامی معاشرے کا ہر فرد خواہ اس کے پاس کوئی عہدہ ومنصب ہو یا نہ ہو، اس میں درج ذیل بنیادی اوصاف ضرور ہونے چاہییں اور صاحبِ منصب میں تو کمال درجے پر ہونے چاہییں:
اسلامی نقطۂ نگاہ سے عمل و کردار کی اساس و بنیاد ، محرک و سرچشمہ اور روح و جان تقویٰ ہے۔ ملازم جب تک صاحب تقویٰ نہیں ہو گا فرائض کی انجام دہی بہتر طور پر نہ ہو سکے گی۔ خاص طور پر افسران کے حوالے سے حضرت عمر بن عبد العزیزؓ کا یہ واقعہ قابل توجہ ہے:
آپ اکثر دعا کرتے وقت روتے تھے۔ اہلیہ نے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا:جب میں اپنے بارے میں غور کرتا ہوں کہ میں اس امت کے چھوٹے بڑے اور سیاہ و سفید جملہ امور کا ذمہ دار ہوں اور بے کس، غریب ، محتاج، فقیر ، گم شدہ قیدی اور اس قبیل کے دوسرے آدمیوں کو یاد کرتا ہوں جو سارے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں اور جن کی ذمہ داری مجھ پر ہے اور اللہ اس بارے میں مجھ سے سوال کرے گا اور رسولؐ اللہ کے سامنے کوئی دلیل پیش نہ کر سکوں گا، تو مجھے خوف لاحق ہوجاتا ہے اور میرے آنسو نکل آتے ہیں۔ اور جس قدر میں ان چیزوں پر غور کرتا ہوں اسی قدر میرا دل خوف زدہ ہوتا جاتا ہے‘‘۔(عبدالرشید عراقی، سیرت عمر بن عبدالعزیز، ص ۱۲۷)
یہ ہے تقویٰ سے احساس ذمہ داری کے شعور کی بیداری اور اس کو بہترین طرز پر کرنے کے جذبے کا پیدا ہونا۔ جب یہ قوی جذبہ پیدا ہو جاتا ہے تو حکومت جسم پر نہیں دلوں پر ہوتی ہے۔ ہماری تاریخ میں کتنی ہی نامور شخصیات ہیں جو بظاہر کوئی عہدہ نہیں رکھتی تھیں مگر آج بھی ان کے تقویٰ کی وجہ سے دلوں میں احترام موجود ہے۔ ایک ایسے ہی ’حکمران‘ کو دیکھ کر ہارون الرشید کی ایک کنیز نے بادشاہ سے کہا تھا کہ اصل بادشاہی تو عبد اللہ بن مبارک کی ہے جو لوگوں کے دلوں پر قائم ہے، آپ کی نہیں جو زور و جبر سے قائم ہے ۔
اسلامی معاشرے کے افراد، خواہ سرکاری عہدے دار ہوں یا عام شہری ہر ایک کو اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے لیے حیاتِ نبویؐ کے ماہ و سال اور لیل و نہار بطور نمونہ سامنے رکھنے ہوں گے۔ نبی کریمؐ کے ارشادات اور آپؐ کی سیر ت کے نقوش یہ سب حیات مسلم کے لیے دائمی رہنما اصول ہیں اور ایک مسلمان ان رہنما نقوش سے ہٹ کر کسی مغربی طرزِ حیات سے رہنمائی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ صحابہ کرامؓ اور مثالی اسلامی ادوار میں رہنمائی کے یہی بنیادی اصول مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوئے ہیں۔ تہذیب اور تمدن کی بنیادیں بھی انھی اصولوں پر استوار کی جائیں گی۔ کسی بھی صورت میں ان سے انحراف نہیں کیا جا سکتا۔
ماتحتوں پر شفقت و مہربانی: افسر(Public Servant)اور ماتحتوں میں رشتہ ایک جسم کے اعضا کی طرح ہے۔ جسم کے تمام اعضا ایک دوسرے کو نفع پہنچاتے ہیں جس سے بدن کا سارا نظام چلتا ہے۔ ہمارے ہاں نظام کو چلانے کے لیے شفقت و محبت اور مہربانی و نرمی کے بجاے سختی، درشتی و تندخوئی کو معیارِ افسری سمجھا جاتا ہے مگر قرآن کریم سیرت رسولؐ اللہ کا جو نقشہ ہمارے سامنے پیش کرتا ہے اور اعلیٰ قیات کا جو وصف ہمارے لیے تجویز کرتا ہے وہ رفق و نرمی ہے:
فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَھُمْ ج وَ لَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ ص فَاعْفُ عَنْھُمْ وَ اسْتَغْفِرْلَھُمْ وَشَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ ج (الِ عمرٰن ۳:۱۵۹) (اے پیغمبرؐ) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم اِن لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو ۔ ورنہ اگر کہیں تُندخو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمھارے گردوپیش سے چُھٹ جاتے۔ اِن کے قصور معاف کردو، اِن کے حق میں دُعاے مغفرت کرو، اور دین کے کام میں اِن کو بھی شریکِ مشورہ رکھو۔
اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میری اُمت میں سے اگر کسی فرد کو اُمت کی کوئی ذمہ داری سونپی گئی اور اس نے اُمت پر سختی کی تو تُو بھی اس پر سختی کر اور اگر اس نے نرمی کی تو تُو بھی نرمی کر۔
کسی کے لیے مشکلات پیدا کرنا اور سختی کا رویہ اپنانا آسان ہے لیکن آسانی و نرمی کی راہیں نکالنا مشکل ہے۔ آپؐ نے اسی لیے ایسے آدمی سے جو سخت گیر ہو بچنے کی ہدایت کی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’بے شک حطمہ بدترین حاکم ہے، لہٰذا تم ایسے لوگوں میں شمار ہونے سے بچو‘‘۔(مسلم، ۸۴۰)
’ حطمہ‘ سے مراد ایسا شخص ہے جو انتظامی امور کا ذمہ دار بنایا گیا ہو اور اس کی خاصیت ایسی ہو کہ وہ ظالم، خود غرض اور لوگوں کو اپنے ظلم سے تباہ کرنے والا ہو۔ اس حوالے سے حضرت عمر ؓ کے ایک خط کے یہ الفاظ بھی قابل توجہ ہیں:’’اے عمال (گورنر ) رعیت پر تمھارے اور رعیت کے تم پر حقوق ہیں۔ خدا برد بار حاکم کو بہت پسند کرتا ہے اور کوئی نفع اس نفع کے برابر ہمہ گیر اور عام نہیں ہوتا جو برد بار اور مہربان حاکم سے رعیت کو پہنچے۔(خورشیداحمد فارق، حضرت عمرؓ کے سرکاری خطوط، ص ۲۰۷)
ہمارے دفاتر میں استہزا، غیبت ، حسد، بُرے القاب، بد ظنی، تجسس جیسے مہلک ہتھیاروں کا راج ہوتا ہے جن سے عامۃ الناس، ماتحت اور افسران بالا کی عزت نفس کو مجروح کیا جاتا ہے ۔ در اصل یہ معاشرے اور دفاتر میں موجود منفی رویے ہیں جو پُرامن ماحول کو ہی تہ و بالا نہیں کرتے بلکہ دفاتر اور معاشرے کو آگے بڑھنے اور ترقی کی راہ پر گامزن ہونے سے بھی روکتے ہیں۔ قرآن و سنت کا مطالعہ کریں تو وہاں اُن قدروں کی تحسین و حوصلہ افزائی کی گئی ہے جو دفاتر اور معاشرے کی کارکردگی میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔ حسد سے منع کیا گیا ہے مگر رشک کو اچھا سمجھا گیا۔ حسدمیں دوسروں سے نعمت کے چھن جانے کا تصور ہے اور رشک میں دوسروں کے پاس موجود نعمت پر اظہار مسرت کے ساتھ اپنے لیے اس نعمت کے پانے کی تمنا ہے۔ تجسس اسلام کی نظر میں مذموم ہے، جب کہ رشک محمود ہے۔ تجسس میں دوسروں کے راز اور عیب ٹٹولنا اور دوسروں کے نقائص اور کوتاہیاں تلاش کرنا ہے، جب کہ رشک کا جذبہ انسان کو سرچشمۂ خیر ثابت کرنے کی تگ و دو سے عبارت ہے۔ یہی چیز معاشرہ اور دفتر کی ترقی کا سبب بنتی ہے۔
قصہ مختصر، اسلام معاشرے کے تمام اجزا کو ایسی مادی اور روحانی ترقی کی طرف دھکیلتا ہے جس میں دوسروں کے احساسات و جذبات تک کو قابل احترام سمجھا جائے۔ معاشرہ اور دفاتر جو ترقی اعلیٰ روحانی اور اخلاقی بنیادوں کو چھوڑ کر کر تے ہیں وہ پانی کا بلبلہ ہوتی ہے۔ چند احادیث کا ترجمہ ملا حظہ فرمائیں:
o بدگمانی سے بچو،بد گمانی سب سے بڑی جھوٹی بات ہے۔ بھید نہ ٹٹولو ، ایک دوسرے کی ٹوہ لگانے کی کوشش میں نہ لگ جائو۔ حسد اور بُغض سے بچو، سب مل کر خدا کے بندے اور آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔ (بخاری، ۶۰۶۶)
o افسر (حاکم) جب اپنے ماتحتوں اور رعایا کی بُرائیاں ٹٹولنے لگ جاتا ہے تو انھیں بگاڑ دیتا ہے ۔(ابوداؤد، ۴۸۸۹)
o اے وہ لوگو !جن کی زبانیں تو ایمان لا چکی ہیں لیکن دل ایمان دار نہیں ہوئے تم مسلمانوں کی غیبتیں کرنی چھوڑ دو اور ان کے عیبوں کی کرید نہ کرو۔ یاد رکھو اگر تم نے ان کے عیب ٹٹولے تو اللہ تعالیٰ تمھاری پوشیدہ خرابیوں کو ظاہر کر دے گا یہاں تک کہ تم اپنے خاندان میں بھی بدنام اور رسوا ہو جائو گے۔(ابوداؤد، ۴۸۸۰)
o جس نے کسی مسلمان کی برائی کر کے ایک نوالہ حاصل کیا اسے جہنم کی اتنی ہی غذا کھلائی جائے گی۔ اسی طرح جس نے مسلمانوں کی برائی کرنے پر پوشاک حاصل کی اسے اس جیسی جہنم کی پوشاک پہنائی جائے گی۔ (ابوداؤد، ۴۸۸۱)
نبی کریمؐ کے ارشادات نے احترام آدمیت و انسانیت کا پیغام دیا ہے جس سے نفسیاتی الجھنیں ختم ہوتی ہیں۔ نفرت و حقارت کے دھارے تھم جاتے ہیں۔ فساد کے جراثیم اور افتراق کی قوتیں دم توڑ دیتی ہیں۔ افسران بالا کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ خود بھی دوسروں کی عزت نفس کے محافظ بنیں اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کریں۔
مالِ غنیمت میں سے جو شخص کوئی چیز چراتا ہے اسے غال (خائن) اور اس فعل کو غلول (خیانت ) کہا جاتا ہے۔ اس کا جنازہ نبی کریمؐ نے نہیں پڑھا۔ حضرت زید بن خالد جہنیؓ سے روایت ہے کہ خیبر کے دن ایک جہنی شخص فوت ہوا۔ نبی کریمؐ کے سامنے اس شخص کی وفات کا ذکر کیا گیا تو آپؐ نے فرمایا:’’اپنے ساتھی کا جنازہ ’تم خود ہی‘ پڑھو‘‘۔آپ ؐ کی بات سن کر لوگوں کے چہرے متغیر ہوگئے۔ یہ دیکھتے ہوئے آپؐ نے فرمایا: ’’تمھارے ساتھی نے غنیمت کے مال میں سے کوئی چیز چرائی تھی‘‘۔(ابوداؤد، ۲۷۱۰، ۲۷۱۱)
امام احمد ؒ نے اس سے یہ اخذ کیا ہے کہ آپؐ کا یہ فرمانا کہ تم جنازہ پڑھ لو اور خود نہیں پڑھا، کہ امام کے لیے مناسب نہیں کہ وہ غال کی نمازِ جنازہ پڑھے۔ اس کے علاوہ باقی تمام لوگ جنازہ پڑھیں گے(ابن قدامہ، المغنی، ۳/۵۰۴)۔یہ درحقیقت بددیانتی کے جرم کی شدت کے اظہار کی ایک صورت ہے۔
نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا:’’صاحب مکس جنت میں داخل نہیں ہوگا‘‘۔(مسند دارمی، باب۲۸)۔ آپ ؐ نے فرمایا: ’’صاحب مکس کو آگ میں ڈالا جائے گا‘‘۔(مسنداحمد، ۴/۱۰۰۸)
حضرت عثمان بن ابی العاص ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسولؐ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت دائود علیہ السلام اپنے اہل و عیال کے ساتھ رات کے ایک حصے میں جاگتے اور عبادت کیا کرتے تھے کیونکہ رات میں ایک ایسا لمحہ ہوتا ہے جس میں جو دعا بھی کی جائے قبول ہوتی ہے سواے جادو کرنے والے اور زیادتی سے ٹیکس وصول کرنے والے کی۔ (ایضاً)
اس موضوع پر کئی روایات موجود ہیں کہ نبی کریمؐ نے فرمایا: آدھی رات کو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ایک پکارنے والا (فرشتہ) پکارتا ہے کہ ہے کوئی سائل کہ اس کی دعا کے مطابق اسے عطا کیا جائے۔ ہے کوئی تکلیف میں مبتلا کہ اس کو تکلیف سے نجات دی جائے۔ اس طرح کوئی ایسا مسلمان نہیں بچتا کہ اس کی دعا کو قبولیت حاصل نہ ہو سواے زانیہ عورت یا زیادتی سے محاصل وصول کرنے والے شخص کے کہ ان کی دعا قبول نہیں کی جاتی۔ (الترغیب والترہیب، ۲/۸۷)
حضرت ابو سعید خدری ؓ اور ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: ’’تمھارے اوپر ایسے حکمران اور عمال مقرر ہوں گے کہ ان کے ارد گرد شریر لوگ جمع ہوجائیں گے۔ یہ لوگ نمازوں کو مؤخر کر دیں گے۔ تم میں سے جو کوئی ان کے زمانے میں موجود ہو تو نہ ان کا عریف (لوگوںکے حالات حکومت تک پہنچانے والا) بنے، نہ ان کا صاحب الشرطہ(سپاہی) بنے اور نہ ان کا محاصل وصول کرنے والے محصلین بنے اور نہ ان کا خازن بنے‘‘۔ (ایضاً)
ان احادیث میں جن لوگوں کو وعید سنائی گئی ہے وہ ایسے لوگ ہیں جو زکوٰۃ ، عشر یا کوئی اور ٹیکس وصول کرتے وقت لوگوں کو ناجائز طور پر چھوٹ دینے کے لیے ان سے رشوت وصول کرتے ہیں اور جو لوگ رشوت نہیں دیتے، ان سے اصل سے زائد ٹیکس وصول کرتے ہیں یا کسی اور طریقے سے لوگوں پر ظلم کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ وصول کرنے والوں کو بھی تلقین فرمائی ہے کہ وہ لوگوں سے ان کے بہترین مال وصول نہ کریں۔ لیکن یہ لوگ آپ ؐ کی اس تلقین کی پروا نہ کرتے ہوئے ازراہِ ظلم ان کے بہترین مال وصول کرنے لگتے ہیں۔
کسی نے نبی کریم ؐ سے درخواست کی کہ’’ اسے اس کے باپ کے بعد جو کہ اب بوڑھا ہو چکا ہے، ایک چشمے کا عریف بنا دیا جائے ‘‘۔ آپ ؐنے فرمایا: ’’عرافت بے شک ایک ضروری منصب ہے، اس کے بغیر گزارا نہیں مگر اکثر عریف جہنم میں جائیں گے‘‘۔(ابوداؤد، ۲۹۳۴)
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے ، رسولؐ اللہ نے فرمایا:’’ جہنم میں ایک پتھر ہے جسے ’ویل‘کہا جاتا ہے۔ عرفاء کو اس پر چڑھایا جائے گا اور پھر نیچے پھینکا جائے گا‘‘۔(الترغیب والترہیب، ۲/۸۸)
مسند ابو یعلی میں روایت ہے کہ نبی کریمؐ ایک جنازے کے پاس سے گزرے آپؐ نے فرمایا: اس جنازے والے کے لیے خوشخبری ہے بشرطیکہ یہ ’عریف‘ نہ ہو۔ (ایضاً)
رشوت اور اس کے بارے میں وعید
مالی بد عنوانیوں کی ایک شکل رشوت بھی ہے۔ رشوت کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ جس کام کا معاوضہ لینا شرعاً درست نہ ہو، اس کا معاوضہ وصول کیاجائے۔ ایک کام کسی شخص کے فرائض میں داخل ہو اور اسے اس کام کی انجام دہی پر سرکاری طور پر معاوضہ ملتا ہو، ایسا کام کرنے پر وہ صاحب ِ ضرورت سے کوئی معاوضہ وصول کرے۔(مفتی محمد شفیع، معارف القرآن، ۳/۱۵۱-۱۵۲)
قرآن مجید میں رشوت کے لیے سُحت کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ لفظ سُحت کے معنی ہلاکت و بربادی کے ہیں۔ رشوت نہ صرف لینے دینے والوں کو اخلاقی اور معاشی طور پر تباہ و برباد کرتی ہے بلکہ ملک و ملت کی جڑ اور امن عامہ کی بنیادیں ہلا دیتی ہے۔ جس ملک میں رشوت کی لعنت چل پڑتی ہے وہاں قانون بے اثر ہو کر رہ جاتا ہے ، لوگ رشوت دے کر ہر کام کروا لیتے ہیں۔ حق دار کا حق مارا جاتا ہے اور غیر حق دار مالک بن بیٹھتے ہیں۔ قانون ، جو کہ لوگوں کے حقوق کا ضامن ہوتا ہے بے اثر ہوکر رہ جاتا ہے۔ قانون کی حاکمیت جس معاشرے میں کمزور پڑ جائے وہ معاشرہ زیادہ دیر چل نہیں سکتا ، نہ کسی کی جان محفوظ رہتی ہے نہ مال و عزت۔ قرآن مجید نے اسے سُحت کہہ کر ’اشد حرام‘ قرار دے دیا ہے ۔ رشوت کے دروازے بند کرنے کے لیے اسلام نے یہ اصول دیا ہے کہ امراء و حکام کو تحفے دینا حرام ہے۔ اس سلسلے میں قرآن مجید میں ارشاد ہے:
وَ لَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِھَآ اِلَی الْحُکَّامِ لِتَاْکُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَo (البقرہ ۲:۱۸۸) اور تم لوگ نہ تو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناروا طریقے سے کھائو اور نہ حاکموں کے آگے اُن کو اس غرض کے لیے پیش کرو کہ تمھیں دوسروں کے مال کا کوئی حصہ قصداً ظالمانہ طریقے سے کھانے کا موقع مل جائے۔
قرآن مجید نے یہود کے مذہبی اجارہ دار طبقے کی یہ خرابی بیان کی ہے کہ وہ لوگوں کو ان کی پسند کے فتوے جاری کر کے ان سے رشوت کھاتے ہیں۔ قرآن مجید نے ان لوگوں کا ذکر یوں فرمایا:
اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ الْکِتٰبِ وَ یَشْتَرُوْنَ بِہٖ ثَمَنًا قَلِیْلاً اُولٰٓئِکَ مَا یَاْکُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِھِمْ اِلَّا النَّارَ وَ لَا یُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَ لَا یُزَکِّیْھِمْ وَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ o(البقرہ ۲:۱۷۲) اللہ تعالیٰ نے جو کچھ نازل فرمایا ہے ، یہ لوگ (یہود) اسے چھپاتے ہیں اور اس کے ذریعے معمولی معاوضہ حاصل کرتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے قیامت کے دن بات نہیں کرے گا اور نہ انھیں پاک کرے گا۔
نبی کریمؐ کی پالیسی بظاہر بڑی سخت نظر آتی ہے لیکن مالیاتی معاملات میں نظم اسی صورت میں پیدا ہو سکتا ہے جب بد عنوانی کا سبب بننے والے ہر چھوٹے سے چھوٹے سوراخ کو بھی مکمل طور پر بند کیا جائے۔ چھوٹی چھوٹی بد عنوانیوں سے اگر در گزرکیا جائے تو یہی غلطیاں پورے معاشی ڈھانچے کو زمین بوس کر دیتی ہیں۔آج کا دور اس کی واضح مثال ہے۔
حق یہ ہے کہ جو لوگ اُن احکام کو چھپاتے ہیں جو اللہ نے اپنی کتاب میں نازل کیے ہیں اور تھوڑے سے دنیوی فائدوں پر انھیں بھینٹ چڑھاتے ہیں، وہ دراصل اپنے پیٹ آگ سے بھر رہے ہیں۔ قیامت کے روز اللہ ہرگز ان سے بات نہ کرے گا، نہ انھیں پاکیزہ ٹھیرائے گا، اور اُن کے لیے دردناک سزا ہے۔
نبی کریم ؐنے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی۔(ترمذی، ۱۳۳۶)۔ آپ ؐ نے فرمایا :جس گوشت نے سُحت (حرام) سے پرورش پائی، آگ اس کے لیے زیادہ مناسب ہے۔ پوچھا گیا: سُحت کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: الرشوۃ فی الحکم،’’فیصلے صادر کرنے میں رشوت وصول کرنا‘‘۔(الجامع لاحکام القرآن، ۳/۱۸۳)
اسی طرح کی ایک حدیث مبارکہ حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ سے بھی مروی ہے:ابن خویز منداد نے سُحت کی ایک شکل یہ بیان کی ہے کہ ایک شخص کا کسی صاحبِ اختیار شخص کے ساتھ کوئی کام اور حاجت ہو لیکن اس کی صاحبِ منصب تک رسائی نہ ہو، جب کہ کسی دوسرے شخص کا اس صاحبِ منصب کے سا تھ تعلق موجود ہو اور وہ سائل کی رسائی متعلقہ افسر تک کروانے کے لیے کوئی معاوضہ طلب کرے۔ (ایضاً)
سُحت اوررشوت کی ایک شکل یہ بھی روایت میں بیان کی گئی ہے کہ کسی صاحبِ منصب شخص کو کوئی چیز دی جائے تاکہ کسی کا حق مار کر خود حاصل کر لیا جائے۔ اگر کوئی شخص رشوت لے کر کسی کا کام حق کے مطابق کرتا ہے تو وہ شخص رشورت لینے کی وجہ سے گنہگار ہوگا اور یہ مال اس کے لیے سُحت ہوگا۔ لیکن اگر رشوت لے کر حق کے خلاف فیصلہ کیا اور غیر حقدار کو حق دے دیا تو یہ جرم کئی گنا بڑھ جائے گا۔ اس میں رشوت، ظلم، حق تلفی اور اللہ تعالیٰ کی حد کو توڑنا بھی شامل ہو جاتا ہے۔ (ایضاً)
امام ابو حنیفہؒ کا نقطۂ نگاہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص رشوت وصول کرتا ہے تو اسے اسی وقت معزول کر دیا جائے۔ اگر اسے معزول نہ کیا گیا تو اس فعل کے ارتکاب کے فوراً بعد سے اس کے تمام احکام غیر قانونی سمجھے جائیں گے۔ (ایضاً)
صاحب تفسیر امام قرطبی ؒ فرماتے ہیں کہ رشوت وصول کرنا فسق ہے اور کسی فاسق کے لیے فیصلہ کرنا جائز نہیں (ایضاً)۔ حدیث شریف میں رشوت کے لینے دینے میں واسطہ بننے والے کو بھی اتنا ہی مجرم قرار دیا گیا ہے جتنا رشوت لینے اور دینے والے کو۔ (کنزالعمال، ۱۴۴۹۵)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قرآنی تعلیمات کو عملی شکل دی ۔ آج کے دور میں مالی بدعنوانیوں کے انسداد کے لیے یہ واقعہ بڑا بنیادی راہنما ثابت ہو سکتا ہے۔
خیبر کے یہودیوں سے نبی کریمؐ نے اس شرط پر مصالحت فرمائی تھی کہ وہ اپنی آدھی زرعی آمدنی مسلمانوں کو ادا کیا کریں گے۔ آپ ؐ کی طرف سے حضرت عبد اللہ بن رواحہ ؓ کو محاصل وصول کرنے کے لیے متعین فرمایا گیا۔ ان لوگوں نے اپنی عورتوں کے زیورات بیچ کر رقم جمع کی اور صحابی رسول کو پیش کرنا چاہی کہ یہود کا حصہ بڑھا دیاجائے۔ حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ کاجواب نہ صرف یہود کے لیے بلکہ آج کے دور کے لیے بھی روشنی کا مینار ہے۔ آپ ؓ نے فرمایا: ’’اے یہودیو! اللہ کی قسم تم اللہ کی مخلوق میں سے مبغوض ترین مخلوق ہو لیکن تمھاری یہ رشوت مجھے ظلم پر آمادہ نہیں کر سکی۔ تمھاری یہ رشوت حرام ہے۔ ہم مسلمان اسے نہیں کھاتے‘‘۔ یہودیوں نے ان کی تقریر سن کر کہا کہ یہی وہ انصاف ہے جس سے آسمان و زمین قائم ہیں۔(مؤطا امام مالک، ۱/۵۱۶)
بد عنوانی کی ایک شکل یہ ہے کہ حکمران لوگوں کو سرکاری خزانے سے رشوت کے طور پر مال دیں اور اس سے ان کا مقصد یہ ہو کہ سیاسی یا معاشی مقاصد حاصل کریں۔ اس طرح کی بد عنوانی کے انسداد کے لیے نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا: ’’اے لوگو! اگر تمہیں کوئی چیز عطا کریں تو لے لیا کرو جب تک کہ وہ عطا ہی رہے یعنی (یہ عطیہ کسی خدمت اور استحقاق کے طور پر ہو اور اس کی شرعی بنیاد موجود ہو)پھر جب قریش اقتدار کی خاطر ایک دوسرے سے لڑیں اور عطائیں قرض کے بدلے میں ملیں تو ان عطیات کو چھوڑ دیں اور قبول نہ کرو‘‘۔(ابوداؤد، ۳۹۵۹)
آپؐ نے فرمایا : ’’جب قریش آپس میں حکومت کے لیے لڑنے لگیں اور رشوت کے طورپر لوگوں کو عطیات دیئے جائیں (اور یہ مستحق لوگوں کو نہ دئیے جاتے ہوں) تو یہ عطیات قبول نہ کرو‘‘(ایضاً)۔ آج کے دور میں یہ دونوں طرح کی رشوت موجود ہے ۔ سرکاری کارندے قومی خزانے کو اپنی ذاتی دولت سمجھ کرنا جائز طور پر لوگوں کو بھاری رقوم دیتے ہیں۔ آہستہ آہستہ عوام کی بہت بڑی تعداد اخلاقی طور پر دیوالیہ ہوتی جار ہی ہے۔ رشوت نے لوگوں کی اخلاقی حس کو زنگ آلود کر کے ان کے ضمیر کو سلا دیا ہے۔ دوسری طرف عوام میں یہ خیال اب جڑ پکڑ چکا ہے کہ رشوت کے بغیرکوئی کام نہیں ہو سکتا اور رشوت کے ذریعے ہر ناممکن کام ممکن ہو جاتا ہے۔
ابو امامہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: جو شخص کسی حاکم یا امیر سے کسی کی سفارش کرے اور پھر اس حاکم کو ہدیہ بھیجے اور وہ اس ہدیہ کو قبول کرے تو اس کا یہ فعل ایسا ہے گویا کہ وہ سود کے بڑے دروازے میں داخل ہو گیا۔(ابوداؤد، ۳۵۴۱)
مولانا مودودیؒ لکھتے ہیں کہ اسلام کے معاشی نظام میں انتقالِ دولت کا جواز تین طریقوں سے جائز ہے۔ ان میں وراثت ، ہبہ اور محنت و کسب شامل ہیں۔ اس کے علاوہ عطیات بھی انتقالِ دولت کا ایک ذریعہ ہیں۔ لیکن عطیات صرف وہی معتبر ہوتے ہیں جو کسی چیز یا مال کے حقیقی مالک نے شرعی حدود کے اندر کسی کو ہبہ اور عطیہ دیا ہو۔ اگر عطیہ کسی حکومت کی جانب سے ہو تو وہ اسی صورت میں جائز ہو گا جب وہ کسی صحیح خدمت کے صلے میں یا معاشرے کے مفاد کے لیے حکومت املاک میں سے جائز اور معروف طریقے پر دیا گیا ہو۔عطیہ دینے کا حق بی اسی حکومت کو حاصل ہو گا جو شرعی دستور کے مطابق شوریٰ کے طریقہ کے مطابق چلائی جا رہی ہواور جس کا محاسبہ کرنے کا حق اور آزادی قوم کو حاصل ہو۔ (اسلامی ریاست، ص ۵۱۶)
ملک میں مالی باے قاعدگی بیت المال کو غلط طور پر استعمال کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔ اس غلط استعمال کا ایک طریقہ یہ ہے کہ خزانہ غیر مستحق لوگوں کے لیے کھول دیا جائے، اس سے ملکی خزانہ کئی پہلوئوں سے منفی طور پر متاثر ہوتا ہے ۔ ایک تو غیر مستحق لوگ ملکی خزانے پر ناروا بوجھ بن جاتے ہیں ۔ خزانہ غلط طور پر استعمال ہونے لگتاہے ۔ حق دار محروم رہ جاتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ لوگوں کو محنت کی بجائے مفت خوری کی عادت پڑ جاتی ہے اور جس ملک کے لوگ محنت سے گریز کرنے لگیں ، اس کی معیشت تباہ ہو کر رہ جاتی ہے۔
اس سلسلے میں شاہ ولی اللہ ؒ لکھتے ہیںکہ اگر بیت المال سے وہ لوگ وظائف اور مستقل امداد لینا شروع کر دیں جو درحقیقت اس کے مستحق نہیں ہوتے تو یہ لوگ حقداروں کا حق مارنے کے مرتکب بھی ہوتے ہیں اور ملکی خزانہ بھی غلط طور پر استعمال ہونے لگتا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگر اس طرح کی صورت پیدا ہو جائے تو باشندوں کی اکثریت بادشاہ پر انحصار کرنے لگتی ہے اور بیت المال پر بوجھ بن جاتی ہے۔ غیر مستحق لوگ کبھی یہ کہہ کر وظیفہ حاصل کرتے ہیں کہ وہ غازی ہیں اور ملک کے سیاسی راہنما ہیں۔ وہ کبھی یہ کہہ کر وظائف حاصل کرتے ہیں کہ وہ درباری شاعر ہیں اور بادشاہوں کی درباری شاعروں پر عنایات ہوا ہی کرتی ہیں۔ وہ یہ وظائف کبھی یہ کہہ کر حاصل کرتے ہیں کہ وہ صوفی اور درویش ہیں اور خلیفہ اس بات کو معیوب سمجھتا ہے کہ وہ ان لوگوں کے حالت کی تفتیش کرے کہ کیا یہ حقیقت مین ان وظائف کے مستحق ہیں بھی یا نہیں؟…ان کا معاشی انحصار صرف بادشاہوںکی مصاحبت ، ان کی خوشامدی ، جی حضوری اور ان کی مدح میں چرب زبانی پر ہوتا ہے اورآخر کار یہ ایک ایسا فن بن جاتا ہے کہ ان کے تمام خیالات اور فکریں اس برے فن پر صرف ہونے لگتی ہیں اور وقت کی تباہی کا باعث بن جاتے ہیں۔ (حجۃ اللّٰہ البالغہ)
ملکی خزانے کے غلط استعمال کی ایک شکل سر براہِ مملکت یا سربراہِ حکومت کے مالیاتی اختیارات بھی ہیں۔ ان اختیارات کے تحت سرکاری خزانہ سربراہ کی ذاتی ملکیت کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ خصوصی طور پر ایسی مدات جن کا کوئی آڈٹ نہیں ہوتا یا جنہیں آج کی اصطلاح میں (unforeseen) مدات کہا جاتا ہے ۔ ان مدات میں سے عموما ًسیاسی رشوتوں کا کام لیا جاتا ہے۔ پاکستان کے سیاسی ماحول میں تو اس طرزِ عمل سے عوام بھی آگاہ ہو چکے ہیںکہ سیاسی لوگوں کو ہم نوابنانے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا جاتا۔ یہ بات بالکل بجا ہے کہ قومی اور بین الاقوامی میدان میں کار ہاے نمایاں سر انجام دینے والوں کی حوصلہ ہونی چاہئے تاکہ دوسروں کی بھی حوصلہ افزائی ہو۔اس سلسلے میں قرنِ اوّل سے شواہد ملتے ہیں کہ ملک و ملت کے لیے کار ہائے نمایاں سر انجام دینے والوں کی قدر شناسی کی گئی، لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ غیر مستحق لوگوں اور سرکاری افسران کے چہیتوں کو بھاری انعامات و وظائف سے نوازا جائے اور ہزاروں حق دار اور اہل لوگوں کی کسی کو خبر بھی نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ یہ انعامات ملکی خزانے پر ناروا بوجھ نہ بن جائیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ انعامات ملک میں غیر عادلانہ تقسیم دولت کی شکل اختیار نہ کر لیں۔ جن لوگوں پر ملی خزانہ خرچ کیا جائے، ان کی خدمات ملکی نظریے کے ساتھ مطابقت بھی رکھتی ہوں۔ ایسا نہ ہو کہ جن شعبوں کو اللہ اور اس کا رسولؐ حرام قرار دیں ، جن کے انسداد کے احکام دئیے گئے ہوں ہم ان شعبوں میں ’خدمات‘ سر انجام دینے والوں کو انعامات سے نوازیں۔
اس سلسلے میں کچھ عرصہ قبل لاہور ہائی کورٹ میں یہ مسئلہ زیر بحث آیا کہ وزیر اعظم پاکستان یا صدرِ مملکت یا کسی اعلیٰ عہدے دار کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے خصوصی اختیارات کو کام میں لاتے ہوئے کسی کو پلاٹ یا خصوصی انعامات سے نواز سکے گا یا نہیں ؟ عدالت نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ کسی بڑے سے بڑے عہدے دار کو اس بات کا حق حاصل نہیں کہ وہ بیت المال میں تصرف کرے اوراپنی پسند کے لوگوں کو انعامات سے نوازے۔ جن لوگوںکو حکومت نے اونے پونے داموں پلاٹ فروخت کیے تھے، انھیں حکم دیا گیا کہ وہ ان پلاٹوں کی حقیقی قیمت اد اکریں۔ عدالت نے سابق وزرائے اعظم اور وزیر اعلیٰ کو حکم دیا کہ وہ بیت المال سے رقوم نکلوانے اور سستے داموں پلاٹ فروخت کرنے کی عدالت میں وضاحت کریں۔ عدالت نے قرار دیا کہ پاکستان بیت المال ایکٹ ۱۹۹۱ء کے تحت بیت المال سے تصرف کے حوالے سے وزیر اعظم کے پاس کوئی اختیارات نہیں اور پاکستان بیت المال مینجمنٹ بورڈ اس کے فنڈز کو ایکٹ کے مطابق خرچ کرنے کا مجاز ہے۔ پنجاب ہائی کورٹ کے فاضل جج نے قرار دیا کہ وزارتِ خزانہ بیت المال سے کوئی بھی رقم وزیر اعظم سیکر ٹریٹ کو منتقل نہیں کر سکتی۔ عدالت نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مستحق افراد کی شناخت کے لیے کوئی مناسب منصفانہ اور منظم طریقہ موجود نہیں ہے اور نہ ہی فی کس امدا دکے لیے کوئی ضابطہ موجو د ہے۔ عدالت کے خیال کے مطابق کسی فردِ واحد کو یہ اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ اپنی مرضی سے بیت المال میں تصرف کرے ۔ بد عنوانی کے انسداد کے لیے عدالت نے کہا کہ کسی بھی فرد کے پاس کوئی صواب دیدی مالیاتی اختیارا ت نہیں ہونے چاہییں۔
۵۰۰۰ء قبل مسیح کی تاریخ رکھنے والا ’نینویٰ‘ حالیہ عراق کا ایک اہم صوبہ ہے۔ موصل اس کا صدر مقام اور ۴۵۶کلومیٹر پر واقع وفاقی دارالحکومت بغداد کے بعد ملک کا دوسرا بڑا شہر ہے، جو ایک بار پھر عالمی خبروں کا مرکز ہے۔ ۱۷؍ اکتوبر ۲۰۱۶ء سے یہاں گھمسان کی جنگ ہورہی ہے۔ بظاہر اس جنگ میں ایک طرف عراقی افواج، الحشد الشعبی کے نام سے شیعہ رضاکار لشکر، کرد فوج ’بشمرگہ‘ اور ان سب کو مکمل امریکی سرپرستی اور عسکری تعاون حاصل ہے۔ دوسری طرف ۲۰۱۴ء سے اس پر قابض داعش کے جنگ جُو ہیں۔
گذشتہ برسوں کے دوران یہاں کئی لڑائیاں ہوئی ہیں۔ عراقی افواج اپنے اور شیعہ لشکروں کے سوا کسی علاقائی قوت کو کامیاب نہیں دیکھنا چاہتیں۔ داعش خود پر حملہ آور شیعہ لشکروں کے علاوہ مقامی سُنّی آبادی اور صدام حسین کے دست راست عزت الدوری کی قیادت میں قائم نقشبندی لشکر سے بھی برسر پیکار ہے۔ ترکی بھی اپنی سرحد پر ہونے والی اس لڑائی سے لاتعلق نہیں اور عملاً اس میں شرکت چاہتا ہے۔ ایک دوسرے سے دشمنی رکھنے کے باوجود: امریکی، اور عراقی افواج اور دوسری طرف داعش بھی، یعنی یہ تینوں ترکی کو یہاں نہیں دیکھنا چاہتے۔ امریکا ان سب فریقوں کو تادیر باہم خوں ریزی میں مصروف دیکھنا چاہتا ہے۔ اس آگ پر مسلسل تیل چھڑک رہا ہے۔ جنگ کا شکار بے گناہ شہری بن رہے ہیں، جنھیں ہر جانب سے ظلم و ستم اور مہاجرت کا سامنا ہے۔
۲۰۰۳ء میں عراق پر قبضہ کرنے کے بعد امریکا کو جس بھرپور عوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، موصل ان میں سرفہرست تھا۔ اس وقت امریکی پالیسی ساز اداروں نے واضح سفارشات پیش کی تھیں کہ عراق اور دیگر علاقوں میں درپیش مزاحمت کا مقابلہ صرف ’اسلام کو تقسیم‘ کرکے ہی کیا جاسکتا ہے۔ Split Islam کے عنوان سے لکھی گئی ان تحریروں کا تعارف کئی بار ترجمان القرآن کے صفحات پر کروایا جاچکا ہے۔ شام، عراق، لبنان اور یمن آج ان ’مغربی سفارشات‘ کی عملی تصویر پیش کررہے ہیں۔
۲۰۱۴ء میں اس پر داعش کا مکمل قبضہ ہوجانے کے بعد خود عراقی پارلیمنٹ نے ایک تحقیقاتی کمیٹی بنائی کہ اس بارے میں حقائق پیش کرے۔ اگست ۲۰۱۵ء میں اس کمیٹی کی رپورٹ سامنے آئی، جس میں کہا گیا تھا کہ سقوط موصل کے اصل ذمہ دار اس وقت کے عراقی وزیراعظم نوری المالکی اور ان کے معاونین تھے۔ کچھ عرصہ قبل الاخوان المسلمون عراق کے سابق سربراہ نے ملاقات میں راقم کو بتایا کہ موصل پر داعش کا حملہ ہوا تو اس وقت وزیراعظم نوری المالکی نے ۱۰ہزار افراد پر مشتمل لشکر کے سامنے وہاں موجود ۷۰ ہزار سے زائد عراقی افواج کو اپنا تمام تر جدید ترین اسلحہ وہیں چھوڑ کر، وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا تھا۔ یہی اسلحہ بعد میں داعش کے ہاتھ آیا۔ گذشتہ دوبرس کے دوران کئی بار ایسا ہوا کہ امریکی افواج نے ’غلطی‘ سے مزید جدید اسلحہ داعش کے زیرقبضہ علاقے میں اتار دیا۔ حال ہی میں روتانا الخلیجیۃ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے، ترک صدر رجب طیب اردوان نے انکشاف کیا ہے کہ شام کے بعض علاقوں کو جب دہشت گردوں سے آزاد کروایا گیا تو وہاں سے کثیر تعداد میں مغربی ممالک کا فراہم کردہ بھاری اسلحہ برآمد ہوا۔ ان کا کہنا تھا: ’’امریکی کہتے ہیں کہ یہ اسلحہ داعش کے مقابلے کے لیے دیا گیا ہے … ہم بھی تو داعش کا مقابلہ کررہے ہیں، آؤ پھر ہم مل کر اس سے لڑیں … ایک دوسرے کو یا خود کو دھوکا دینے سے باز آجانا چاہیے‘‘۔
موصل پر حالیہ حملے کا خوف ناک ترین پہلو اسے شیعہ سُنّی تصادم کی بلندیوں پر پہنچا دینا ہے۔ موصل پر حملے سے کئی ہفتے پہلے الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے تعصبات کے شعلے بھڑکائے جانے لگے۔ موصل شہر کی ۹۰ فی صد سے زائد اکثریت سنی آبادی پر مشتمل ہے۔ داعش نے پوری آبادی کو یرغمال اور اپنی مرضی کا پابند کردیا۔ داعش کے خلاف جنگ کے نام پر عراقی فوج اور الحشد الشعبی کو جو مذہبی غذا فراہم کی گئی، وہ تمام اہل سنت مسلمانوں سے نفرت و انتقام پر مشتمل تھی۔ الحشد الشعبی بنیادی طور پر درجنوں مسلح شیعہ رضاکار گروہوں کے مجموعے کا نام ہے۔ ہر گروہ کسی نہ کسی علاقے میں ’مخالفین‘ کے خلاف کوئی بڑا ’کارنامہ‘ انجام دے چکا ہے۔ ایک گروہ کے سربراہ قیس الخزعلی حملے سے پہلے اپنے کارکنان کو تیار کرتے ہوئے مخاطب ہوتے ہیں: ’’امام حسینؓ کے قاتلوں سے بدلہ لیتے ہوئے کارروائی کرنا ہے‘‘۔ ’’یہ لوگ انھی باپ دادا کی اولاد ہیں جنہوں نے امام (حسینؓ) کو قتل کیا تھا‘‘۔ اس طرح کے اشتعال انگیز ویڈیوز بڑے پیمانے پر پھیلائے جارہے ہیں۔ بوجھل دل کے ساتھ یہاں دیگ کا ایک چاول صرف اس لیے پیش کیا ہے کہ اس مہیب خطرے سے خبردار کیا جاسکے۔ اس تناظر میں یہ اندازہ لگایا جاسکے کہ دوران جنگ اور بعد از جنگ خدانخواستہ قتل و انتقام کیا مہیب صورت اختیار کرسکتے ہیں۔ ۱۷؍ اکتوبر کو موصل پر حملہ شروع ہوا، اسی روز کا برطانوی اخبار دی انڈی پنڈنٹ لکھتا ہے:
After ISIS the future of Mousal will be decided by sactarian forces داعش کے بعد موصل کے مستقبل کا فیصلہ فرقہ پرست قوتیں کریں گی۔
موصل کے قریب واقع شہر ’تلعفر‘ بنیادی طور پر ترکمانی النسل اہل سنت اکثریت پر مشتمل ہے۔ ۲۰۰۵ء اور ۲۰۰۶ء کے دوران یہاں القاعدہ اور شیعہ ملیشیا تنظیموں کے مابین لڑائیاں ہوتی رہیں، جن میں شیعہ ملیشیا کو شکست ہوئی۔ حالیہ حملے کے ساتھ ہی یہ امریکی یقین دہانیاں سامنے آنا شروع ہوگئیں کہ ’تلعفر ‘ کو شیعہ ملیشیا کے سپرد کردیا جائے گا۔ نینویٰ ہی کا ایک اور شہر ’سنجار‘ کرد اکثریت پر مشتمل ہے۔ اس کا ایک حصہ کرد قوم پرست تنظیم PKK اور ایک حصہ داعش کے ہاتھ دے دیا گیا ہے۔ یہ دونوں اسی علاقے سے ترکی کے خلاف اپنی عسکری کارروائیاں کرتے ہیں۔ اس لیے ایک طرف ترکی براہِ راست اور بالواسطہ اس لڑائی میں شریک رہنا چاہتا ہے۔ ترکی کا ایک اہم مقصد موصل میں مذہبی منافرت کو روکنا بھی ہے اور وہ اس کا اظہار بھی کرچکا ہے۔ دوسری جانب عراقی کردستان کی فوج ’بشمرگا‘ اپنی پوری قوت سے حملہ آور ہے۔ کردستان اس جنگ کے ذریعے اپنی مستقل حدود طے کرنا چاہتا ہے۔ امریکا اور روس بھی تمام تر باہمی کھینچا تانی اور بظاہر تنازعات کے باوجود اس جنگ میں ایک ہی ہدف رکھتے ہیں کہ خطے میں اپنے اپنے مہروں کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرسکیں۔
اس پورے نقشے پر دوبارہ نگاہ ڈالیں اور پھر مختلف اطراف بالخصوص روس کی طرف سے بار بار تیسری عالمی جنگ چھڑنے کی بات سنیں، اس کی طرف سے اپنے شہریوں کو خبردار رہنے کے اعلانات اور جدید و قدیم بحری بیڑے خطے میں بھیجے جانے کی خبریں سنیں تو حالات کی مزید سنگینی سامنے آتی ہے۔ گذشتہ دونوں عالمی جنگوں کے بعد بھی عالمی قوتوں کا نیا میزانیہ سامنے آیا اور عالم اسلام بالخصوص مشرق وسطیٰ کے حصے بخرے کردیے گئے تھے۔ لاکھوں بے گناہ انسان رزق خاک بنادیے گئے۔ اب ایک بار پھر خطے کی تقسیمِ نو کی باتیں کھلم کھلا ہورہی ہیں۔
۱۷؍ اکتوبر کو موصل پر حملے کا آغاز ہوا اور ۱۸؍ اکتوبر کو دی واشنگٹن ٹائمز نے تجزیہ شائع کیا کہ ۱۰برس قبل امریکی ذمہ دار جوبائیڈن کی طرف سے عراق کو تین حصوں میں تقسیم کرنے پر عمل درآمد کا وقت قریب آن لگا ہے۔ مختلف امریکی تھنک ٹینک تمام مکروہ منصوبے دوبارہ متعارف کروا رہے ہیں کہ عراق کے مغربی علاقے میں ایک الگ ملک بننے کے تمام تر عوامل موجود ہیں۔ تقریباً تمام چوٹی کے امریکی جرائد و رسائل، عراق اور شام میں جاری لڑائی کی کوکھ سے نئے ممالک وجود میں آنے اور ان کی مشکلات و مستقبل کے اثرات کا تجزیہ کررہے ہیں۔ تجزیے ہی نہیں شام اور عراق تو عملاً تقسیم کیے جاچکے ہیں، بس نقشے میں رنگ بھرنا اور تقسیم کے عمل کو خطے کے کئی دیگر ممالک تک پھیلانا باقی ہے۔ بدقسمتی سے یہ رنگ لاکھوں بے گناہ انسانوں کے خون سے بھرا جارہا ہے۔
اسی بارے میں ترک صدر رجب طیب اردوان نے اپنے خطاب میں کہا ہے: ’’ہر وہ ملک جو شامی حکومت اور شام میں موجود دہشت گرد تنظیموں کی مدد کررہا ہے، وہ گذشتہ پانچ برسوں میں قتل کیے جانے والے ۶ لاکھ بے گناہ شہریوں کے خون میں برابر کا شریک ہے۔ اب حالات جس مرحلے تک آن پہنچے ہیں وہ شام کی حدود تک محدود نہیں رہے۔ اب یہ مسئلہ ترکی اور ترک عوام کی بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ اس لیے ہم نے مصمم ارادہ اور حتمی فیصلہ کیا ہے کہ ہم دہشت گرد تنظیموں کا خاتمہ کرنے کے لیے اپنا فعال کردار ادا کریں گے۔ شامی سرزمین کی وحدت اور اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے لیے شامی عوام کے کامل حق کے بارے میں ہمارا واضح موقف ساری دنیا کو معلوم رہنا چاہیے‘‘۔
صدر اردوان کا مزید کہنا تھا کہ: ’’ہم نے شامی علاقے جرابلس کو داعش سے آزاد کروانے کے لیے معتدل شامی اپوزیشن جماعتوں سے تعاون کرتے ہوئے بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اب تک آزاد کروائے جانے والے علاقوں کے ۴۰ ہزار کے قریب شہری اب وہاں واپس جاچکے ہیں۔‘‘ مغربی سازشوں کے پیچھے اصل ہدف واضح کرتے ہوئے صدر اردوان کا کہنا تھا ’’ان کا اصل مقصد (ہماری سرحدوں سے متصل) ان شامی علاقوں پر قبضہ کرنا اور شمالی شام میں دہشت گردی پر مشتمل ایک کاریڈور بنانا ہے___ ہم کسی صورت اس کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم ترک سرزمین کی سلامتی کو درپیش ہر خطرے کامقابلہ کریں گے۔ترک سرحد سے متصل شام کا ۵ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ وہاں مقیم ہمارے برادر عرب عوام کے لیے پر امن بنانا ضروری ہے۔‘‘
ترکی میں موجود شامی پناہ گزینوں کے حوالے سے مغرب کے دوغلے پن کے بارے میں اردوان کا کہنا ہے: ہم نے ۳۰ لاکھ سے زائد اپنے شامی بھائیوں کو اپنے گھر میں جگہ دی ہے۔ اب تک ہم ان کی خدمت کے لیے سرکاری خزانے سے ساڑھے بارہ ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کرچکے ہیں۔ اتنا ہی سرمایہ مختلف ترک رفاہی ادارے خرچ کرچکے ہیں (یعنی ۲۵؍ ارب ڈالر)…لیکن افسوس کہ تمام تر دعووں کے باوجود ساری عالمی برادری نے اب تک صرف ۵۲کروڑ ڈالر خرچ کیے ہیں… حیرت ہے کہ ساری مغربی دنیا اپنی ان انسانی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کررہی ہے۔ وہ اپنے ملکوں میں بھی شامی پناہ گزینوں کے لیے خاردار تاریں لگا رہے ہیں لیکن ہم اپنے ان مصیبت زدہ بھائیوں کے لیے کبھی اپنے دروازے بند نہیں کرسکتے‘‘۔
ترک صدر کے خطاب اور انٹرویو سے یہ قدرے طویل اقتباسات حالات کی جامع عکاسی کرتے ہیں۔ فعال کردار ادا کرنے کی انھی کوششوں کی وجہ سے ترکی کو ہر طرف سے مزید دشمنیوں کانشانہ بنایا جارہا ہے۔ عراقی وزیراعظم حیدر العبادی اور ان کے وزرا تو آئے دن دشنام طرازی پر اُتر آتے ہیں۔
شام اور عراق میں روس اور ایران کا موقف بھی ترک پالیسی سے یکسر متصادم ہے، لیکن تمام تر تلخیوں اور اختلافات کے باوجود ترکی نے سفارتی محاذ پر دونوں ملکوں سے بہتر تعلقات استوار کیے ہیں۔ ایران نے بھی ۱۵جولائی کو ترکی میں ہونے والی ناکام بغاوت کی کھل کر مذمت کی ہے۔ بغاوت کی رات ایرانی وزیر خارجہ نے تین بار اپنے ترک ہم منصب سے رابطہ کرتے ہوئے منتخب حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔ کچھ روز بعد ترک وزیر خارجہ بھی اچانک تہران کے دورے پر چلے گئے۔ اسی طرح روس نے بھی بغاوت کی ناکامی یقینی ہوجانے کے بعد اس کی بھرپور مذمت کی۔ تمام تر اختلافات کے باوجود پیہم رابطوں کا ایک بنیادی سبب ان تینوں ممالک کے مؤثر اقتصادی تعلقات ہے۔
۲۴نومبر ۲۰۱۵ء کو ترک فضائیہ نے اپنی سرحدی حدود کی خلاف ورزی پر روس کا جنگی طیارہ ’سوخو۲۴‘ مار گرایا۔ اس کے بعد ترک روس تعلقات بدترین صورت اختیار کرگئے تھے لیکن دونوں ملکوں کے وسیع اور اہم ترین اقتصادی معاہدے اور منصوبے معلق ہوجانے کے بعد دونوں ملکوں نے بالآخر معاملات کافی حد تک سلجھا لیے ہیں۔ روسی صدر پوٹن اور طیب اردوان کی ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔ ترکی کی حتی المقدور کوشش ہے کہ ایران، شام، عراق اور ترکی کے سنگم پر امریکا اور روس کو کوئی ایسا علاقہ قائم نہ کرنے دے جو ان سب ممالک کے مستقبل کے لیے ایک مستقل خطرہ بن جائے۔ دوسری طرف ترکی سے دوستی اور تعلقات قائم کرنے والی کئی قوتیں بہرصورت ترکی کو طویل جنگ کی دلدل میں گھسیٹنا چاہتی ہیں۔ تقریباً ہر روز ترکی کے کسی نہ کسی شہر میں پولیس اور فوجی مراکز پر دھماکے ہوجاتے ہیں۔ ترک معیشت کے اہم ستون سیاحت کو تباہ کرنا عالمی منصوبے کا اہم حصہ ہے۔ اللہ کرے کہ تمام مسلمان ممالک اس حقیقت سے آشنا ہوجائیں کہ دشمن کا ہدف کوئی ایک نہیں سب ممالک ہیں۔
اس ساری لڑائی کا ایک بہت اہم پہلو وہ دینی بحث ہے، جو بعض مخصوص حلقوں میں گہری دل چسپی کا باعث بنتی ہے اور اس موضوع پر مفصل گفتگو کی ضرورت ہے۔ تیسری عالمی جنگ، علاقے کے بعض شہروں اور قصبوں کے ناموں اور ظاہر ہونے والے بعض کرداروں پر آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف فتنوں اور مراحل سے اُمت کو خبردار بھی کیا اور پیشن گوئیاں بھی کی ہیں۔ لیکن یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ آخری عہد کے عظیم ترین فتنوں اور نشانیوں کا اطلاق خود اپنے آپ پر کرتے ہوئے، بہت سے گروہوں اور افراد نے کئی بار خود کو ’خلافت‘ کا امین اور ’امام مہدی‘ تک قرار دے ڈالا ہے۔ اب ایک طرف داعش کا دعواے خلافت دیکھیں اور دوسری جانب صلیبی اور صہیونی طاقتوں کی اس کھلی عیاری کو دیکھیں کہ وہی انھیں تمام اسباب بقا فراہم کرنے والے ہیں، تو ان کے دعووں کی قلعی کھل جاتی ہے۔ صحیح احادیث میں بیان کیے گئے مراحل کی حقیقت کو بدل کر یا کسی غلط فہمی یا ضد کا شکار ہو کر دشمن کے اصل منصوبوں میں معاون بن جانا کسی طور بھی درست قرار نہیں دیا جاسکتا۔
حالیہ دورِ فتن کا ایک بدترین المیہ یہ بھی ہے کہ کئی مسلم ممالک اور عوام پر مسلط کم ظرف حکمران ایک دوسرے کو بلیک میل کرنے کے لیے دشمن کے ہاتھوں استعمال ہورہے ہیں۔ شیعہ سُنّی اور عرب و عجم کی لڑائی کی ایک رذیل مثال گذشتہ دنوں اس وقت سامنے آئی، جب سعودی عرب نے مصر کو مزید اربوں ڈالر دینے سے عارضی معذرت کرلی۔ یہ خبریں سامنے آتے ہی مصر کی شاہراہوں پر ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل کی طرف سے جہازی سائز کے کچھ اعلانات اور بورڈ لگا دیے گئے۔ اس اعلان میں ایرانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کی بڑی سی تصویر ہے، جو اپنی ’سیلفی‘ تصویر بنارہے ہیں۔ ان کے پس منظر میں سعودی دار الحکومت ریاض کے دو نمایاں ترین ٹاور اور کویتی دارالحکومت کی علامت بلند ترین ٹاور دکھائی دے رہے ہیں۔ عرب سفارت کار اس تصویر کی یہ تعبیر کرتے ہیں کہ: ’’اس میں یہ دھمکی دی جارہی ہے کہ ہماری مدد نہ کی گئی تو سعودی عرب اور کویت پر ایران قبضہ کرلے گا‘‘۔ اسی دوران میں شام میں جاری لڑائی کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرار داد پر راے شماری ہوئی تو حیرت انگیز طور پر مصر نے روس اور ایران کے موقف کے حق میں اور سعودی عرب کے موقف کے خلاف ووٹ دیا۔ اس پر خلیجی ریاستوں اور مصر کے ذرائع ابلاغ میں مسلسل بحث جاری ہے۔
سوال: فجر کی سنتیں فرض نماز کے فوراً بعد پڑھنا صحیح ہے یا صحیح نہیں؟
جواب: شیخ الاسلام بُرہان الدین مرغینالیؒ ھدایہ میں لکھتے ہیں: ’’جب فجر کی سنتیں فوت ہوجائیں تو سورج نکلنے سے پہلے ان کی قضا نہیں پڑھی جائے گی، اس لیے کہ سنت جب اپنے وقت سے رہ جائیں تو پھر وہ نفل بن جاتے ہیں اور نفل صبح کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک مکروہ ہیں۔ امام ابوحنیفہؒ اور ابویوسفؒ کے نزدیک سورج کے بلند ہونے کے بعد ان کی قضا نہیں ہے مگر امام محمدؒ نے فرمایا ہے کہ مجھے تو یہ پسند ہے کہ سورج کے بلند ہونے کے بعد زوال تک ان کی قضا پڑھ لی جائے‘‘۔
امام محمد بن محمود بابرتیؒ (متوفی ۷۸۶ھ) عنایہ علی الھدایہ میں لکھتے ہیں:’’ بعض فقہا نے کہا ہے کہ امام ابوحنیفہؒ اور ابویوسفؒ کا مقصد یہ ہے کہ: قضا واجب نہیں ہے، لیکن اگر قضا پڑھ لی گئی تو کوئی باک بھی نہیں ہے اور امام محمدؒ کہتے ہیں کہ قضا پڑھنا مجھے زیادہ پسند ہے مگر نہ پڑھنے میں کوئی باک بھی نہیں ہے (یعنی قضا نہ پڑھنے میں ورنہ بغیر عذر کے وقت پر نہ پڑھنے میں تو گناہ ہے)۔ اس اعتبار سے ہمارے ائمہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ لیکن بعض علما نے کہا ہے کہ اختلاف تو ہے مگر صرف اتنا کہ اگر کسی نے قضا پڑھ لی تو ابوحنیفہؒ و ابویوسفؒ کے نزدیک یہ نفل شمار ہوں گے اور امام محمدؒ کے نزدیک یہ سنت کی قضا ہوگی۔(رد المحتار، ص ۶۷۲، ج۱، طبع قدیم)
یہی وضاحت ابن عابدین شامیؒ نے درمختار کے حاشیے رد المحتارمیں بھی کی ہے۔ امام محمد بابرتی اور شامی کی اس وضاحت سے معلوم ہوا کہ فجر کی سنتیں فرض نماز کے متصل بعد قضا پڑھنا امام ابوحنیفہؒ، امام ابویوسفؒ اور امام محمدؒ تینوں کے نزدیک مکروہ ہے اور سورج نکلنے کے بعدزوال سے قبل ان کی قضا پڑھنا تینوں کے نزدیک جائز ہے ،مکروہ نہیں ۔ عبادات میں جائز اور غیرمکروہ کام مستحب ہوتا ہے، اس لیے کہ عبادت محضہ کا اجروثواب کے علاوہ اور کوئی مقصد ہوتا نہیں اور ثواب کے کاموں کا ادنیٰ درجہ مستحب ہوتا ہے۔ امام احمدؒ اور امام مالکؒ کے نزدیک بھی: ’’فجر کی سنتوں کی قضا سورج طلوع ہونے کے بعد پڑھنی بہتر ہے‘‘۔ البتہ امام احمدؒ کے نزدیک: ’’اگر فجر کی نماز کے بعد پڑھی لی جائیں تو کوئی باک بھی نہیں ہے‘‘۔(المغنی لابن قدامہ، ص ۸۹، ج۲)
ان ائمہ کی دلیل حضرت ابوہریرہؓ کی یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’جس نے فجر کی سنتیں نہ پڑھی ہوں تو سورج طلوع ہونے کے بعد پڑھ لے‘‘۔(سنن ترمذی)
امام شافعی کا قول جدید اور شافعیہ کا متداول مسلک یہ ہے کہ: ’’فجر کی سنتیں فرض کے متصل بعد بھی پڑھی جاسکتی ہیں بلکہ بہتر یہ ہے کہ نماز کے بعد پڑھ لی جائیں‘‘۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ: ’’نفل نماز نہیں ہے بلکہ سنتوں کی قضا ہے اور صبح کی نماز کے بعد قضا نماز پڑھنا جائز ہے‘‘۔ ان کی دوسری دلیل قیس بن قہدؓ کی یہ حدیث ہے کہ: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے اور اقامت ہوئی تو میں نے (سنتیں چھوڑ کر) آپؐ کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی۔ سلام کے بعد جب آپؐ نے نمازیوں کی طرف رُخ کیا اور مجھے نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا: ’’رُک جائو اے قیس! کیا دونمازیں اکٹھی پڑھ رہے ہو؟‘‘ میں نے عرض کیا کہ: ’’میں نے سنتیں نہیں پڑھی تھیں‘‘۔ اس پر آپؐ نے فرمایا: ’اذن شافعیہ‘ ۔اس کے معنی یہ ہیں کہ جب سنتیں پڑھ رہے ہو تو کوئی باک نہیں ہے اور حنفیہ یہ معنی کرتے ہیں کہ جب سنت ہیں تو نہ پڑھو۔(سنن ترمذی)
اس لفظ میں دونوں معنوں کا احتمال ہے، یعنی اس سے اباحت اور کراہت دونوں ثابت ہوسکتے ہیں، لیکن دوسری روایات سے اباحت اور جواز کے معنی کو ترجیح دی جاسکتی ہے۔ یہ حدیث مسنداحمد، ابوداؤد ، ابن ماجہ اورابن خزیمہ میں بھی نقل ہوئی ہے اور آخر میں ’فسکت رسول اللہ‘ کا لفظ آیا ہے اور ابن حبان کی روایت میں ’فلم ینکر‘ کا لفظ آیا ہے۔ (مسنداحمد، ج۵،ص۴۴۷، ابوداؤد، ج۲، ص ۵۱، ابن ماجہ بتحقیق محمد عبدالفوائد، ص۳۶۵)
ظاہر ہے کہ فسکت اور فلم ینکر ،یعنی آپ خاموش رہے اور کوئی اعتراض نہ کیا کہ الفاظ سے ثابت ہوتا ہے کہ فرض کے بعد اور طلوعِ شمس سے پہلے بھی فجر کی سنتیں پڑھی جاسکتی ہیں اور جس حدیث میں سورج نکلنے کے بعد پڑھنے کا ذکر ہوا ہے، اس میں پہلے پڑھنے کی ممانعت نہیں کی گئی۔ باقی رہی وہ حدیث جس میں نمازِ فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک اور نمازِ عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، تو یہ ’نہی‘ [منع کرنا]عام نوافل کے بارے میں ہے، قضا نماز کے بارے میں نہیں ہے اور یہ تو فجر کی سنتوں کی قضا تھی۔
اگرچہ سنتوں کی قضا واجب نہیں ہے لیکن اس کی ممانعت بھی کسی حدیث میں نہیں آئی بلکہ ظہر کی دو رکعت سنتوں کی قضا نمازِ عصر کے بعد خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے اور فجر کی سنتوں کی قضا سورج نکلنے کے بعد مذکورہ قولی حدیث سے اور نمازِ فجر کے بعد مذکورہ تقریری حدیث سے ثابت ہے۔ مذکورہ بحث کے نتیجے میں بہتر اور افضل تو یہ ہے کہ فجر کی سنتیں رہ جائیں تو سورج طلوع ہونے کے بعد اور زوال سے قبل ان کی قضا پڑھی جائے۔
جمہور فقہا کی راے بھی یہی ہے کہ نمازِ فجر کے فوراً بعد پڑھنا بھی جائز ہے، اس لیے کہ رسولؐ اللہ نے اس کی بھی اجازت دی ہے۔ اگرچہ حنفی فقہ کے ائمہ ثلاثہ، یعنی امام ابوحنیفہؒ، امام ابویوسف اور امام محمدؒ کے نزدیک نمازِ فجر کے بعد اور طلوعِ شمس سے پہلے پڑھنا مکروہ ہے لیکن اگر اس سے مراد مکروہ تحریمی ہے تو اس کی دلیل کو مَیں سمجھ نہیں سکا ہوں۔ اگر مکردہ تنزیہی،یعنی غیراولیٰ مراد ہے تو پھر یہ صحیح ہے مگر فقہ حنفی کی کتابوں میں جب لفظ کردہ مطلقاً ذکر ہو تو اس سے مراد مکروہ تحریمی ہوتی ہے۔ (مولانا گوہر رحمان، تفہیم المسائل، چہارم، ص ۳۶۶-۳۷۰)
س : ہمارے یہاں ایک صاحب شوگر کے مریض تھے، جس کی وجہ سے ان کا ایک پیر پوری طرح سڑگیا تھا اوراس میں کیڑے پڑگئے تھے ۔ ان کاانتقال ہوا تو ڈاکٹروں نے تاکید کی کہ نہلاتے وقت ان کا پیر نہ کھولا جائے اوراس پر پلاسٹک کی تھیلی باندھ کر غسل دیا جائے۔میت کوغسل دیتے وقت کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ: ’’پورے بدن پر پانی پہنچانا فرض ہے‘‘ ۔ لیکن گھر والوں نے ڈاکٹروں کی بات مانتے ہوئے پیر میں جہاں زخم تھا اس پر پلاسٹک کی تھیلی باندھ دی اوربدن کے بقیہ حصے پر پانی بہایا گیا، جس طرح غسل دیا جاتا ہے ۔ دریافت یہ کرنا ہے کہ کیا میت کے کسی عضومیں زخم ہونے کی وجہ سے اگراس حصے پر پانی نہ بہایا جائے توغسل ہوجائے گا؟
دوسرا یہ کہ ایک صاحب بُری طرح حادثے کا شکار ہوگئے۔ ان کا سر بالکل کچل گیا اوربدن کے دوسرے حصوں پر بھی شدید چوٹیں آئیں۔ ان کا پوسٹ مارٹم ہوا ۔ اس کے بعد نعش کو ورثا کے حوالے کیا گیا۔ میت کوغسل دینے میں زحمت محسوس ہورہی تھی ۔ حادثے میں مرنے والے کوشہید مان کراسے بغیر غسل دیے نہیں دفن کیا جاسکتا؟
ج: اصطلاحِ شریعت میں شہیداس شخص کو کہا جاتا ہے جوراہِ خدا میں جنگ کرتے ہوئے مارا جائے۔ اس کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اسے غسل نہیں دیا جائے گا۔ غزو ۂ احد کے موقعے پر جو مسلمان شہید ہوگئے تھے اللہ کے رسولؐ نے ان کے بارے میں ہدایت دی تھی: ’’انھیں بغیر غسل دیے دفن کردو‘‘۔(بخاری)
احادیث میں کچھ دوسرے افراد کے لیے بھی شہید کا لفظ آیاہے ، مثلاً جوشخص پیٹ کے کسی مرض میں وفات پائے، جسے طاعون ہوجائے، یا جوڈوب کر مرے (بخاری:۶۵۳)۔ ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص اپنے مال کی حفاظت میں مارا جائے وہ شہید ہے (بخاری:۲۴۸۰، مسلم: ۱۴۱)۔ ان افراد پر اس حکم کا اطلاق نہیں ہوگا ۔ تمام فقہا کا اتفاق ہے کہ انھیں غسل دیا جائے گا۔
پھر اگر: ’’حادثے میں مرنے والے کسی شخص کا جسم بری طرح ٹوٹ پھوٹ جائے، نعش مسخ ہوجائے اور کچھ اعضا ضائع ہوجائیں تواس صورت میں غسل کا کیا حکم ہے؟‘‘ احناف اورمالکیہ کہتے ہیں کہ: ’’اگر بدن کے اکثر اعضا موجود ہیں توغسل دیا جائے گا، ورنہ نہیں‘‘ ۔ شوافع اورحنابلہ کے نزدیک: ’’جسم کا کچھ بھی حصہ موجود ہوتو اسے غسل دیا جائے گا‘‘۔ اس کی دلیل وہ یہ پیش کرتے ہیں کہ: ’’جنگِ جمل کے موقعے پر ایک پرندہ کسی میت کا ایک ہاتھ اڑا لایا تھا اوراسے مکہ میں گرادیا تھا۔ تب اہلِ مکہ نے اسے غسل دیا تھا اوراس موقعے پر انھوں نے نماز جنازہ بھی ادا کی تھی ‘‘۔
بسا اوقات میت کا کوئی عضو سڑجاتا ہے، اسے دھونے سے انفیکشن [سرایتِ مرض] کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس صورت میں اگرکسی ڈاکٹر کی تاکید ہے کہ اس عضو کونہ دھویا جائے تواس پر عمل کرنا چاہیے اور اس عضو کو چھوڑ کر بدن کے بقیہ حصوں پر پانی بہادینا چاہیے ۔ اس طرح غسل ہوجائے گا۔ (مولانا محمد رضی الاسلام ندوی)
مسلم سجاد صاحب کی یاد میں پروفیسر خورشید احمد کے مضمون (اکتوبر ۲۰۱۶ء) سے ان کے انتقال کی اطلاع ملی۔ دل کو ایک جھٹکا سا لگا۔ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی خاص رحمت سے نوازے اور دین کے لیے ان کے سعی و عمل کا بہتر سے بہتر صلہ عطا فرمائے۔آمین! ترجمان کے مرتب کی حیثیت کے علاوہ مَیں ان کی دیگر خدمات سے زیادہ واقف نہ تھا۔ اس مضمون سے ان کی خوبیوں کا علم ہوا، اور واقعتاً ان کی وفات سے دلی رنج ہوا۔
مدیر’ترجمان القرآن‘ نے ’اشارات‘ (اکتوبر ۲۰۱۶ء) میں وسیع مطالعے اور گہرے مشاہدے کی بنیاد پر، اُس ذہنیت کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے کہ جس کے علَم بردار لوگ، دین اسلام کو اپنی خواہشات کا تابع بنانا چاہتے ہیں۔ اسی طرح بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما میرقاسم علی شہید پر معلومات افزا مضمون نے بنگلہ دیش کی دل دہلا دینے والی صورتِ حال سے آگاہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اُمت مسلمہ کو ہوش عطا کرے۔
ایس احمد پیرزادہ کے مضمون ’غلامی یا پچھتاوا‘ (اکتوبر ۲۰۱۶ء) کے مطالعے سے اندازہ ہوا کہ اہلِ کشمیر کس ذہنی اذیت و کرب اور ظلم و ستم کا روز سامنا کرتے ہیں۔ مضمون نگار نے وہاں کے الم ناک حالات کی بھرپور عکاسی کی ہے۔ اسی وحشیانہ جبر کا نتیجہ ہے کہ آج کشمیر کی نوجوان نسل بھارتی جبر کے سامنے سینہ تان کر ڈٹ گئی ہے۔
عالمی ترجمان القرآن (اکتوبر ۲۰۱۶ء) میں ’اختلاف اُمت: نجات کی راہ؟‘پر مضمون اپنے مندرجات کے لحاظ سے بڑا اہم اور برمحل ہے۔ آج کل دو کلمے عام طور پر بولے جاتے ہیں: ’اختلاف اور تفرقہ‘۔ عام لوگ اور خواص بولتے رہتے ہیں۔ اس موضوع پر درج ذیل نکات پر مزید لکھنے کی ضرورت ہے:
۱-اختلاف اور تفرقے میں بنیادی فرق کیا ہے؟۲-کب اختلاف صرف اختلاف رہتا ہے؟۳-کب اختلاف تفرقہ میں بدل جاتا ہے؟۴-کب تفرقہ و اختلاف ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں؟۵ -تفرقہ و اختلاف کو کم کرنے یا ختم کرنے کے کون سے عوامل ہیں؟۶-اختلاف اُمتی رحمۃ کس پایے کی حدیث ہے؟۷-کیا یہ کہنا کہ اختلاف محمود ہے اور تفرقہ مذموم ہے، صحیح ہے؟۸-قرآنِ مجید میں اختلاف اپنے مادے کے لحاظ سے ۱۲۶مرتبہ آیا ہے جب کہ تفرقہ اپنے مادے کے لحاظ سے ۷۱ مرتبہ آیا ہے۔اس قسم کے مضمون سے اختلاف اور تفرقے میں فرق کیا جاسکے گا۔
انفرادی کوشش کا طریقہ یہ ہے کہ ہرشخص کچھ نہ کچھ ایسے نیک اعمال کا التزام کرے، جو زیادہ سے زیادہ اخفا کے ساتھ ہوں، اور ہمیشہ اپنے نفس کا جائزہ لے کر دیکھتا رہے کہ اسے زیادہ دل چسپی اِن مخفی نیکیوں میں محسوس ہوتی ہے یا اُن نیکیوں میں جو منظرعام پر آنے والی ہوں۔ اگر دوسری صورت ہو تو آدمی کو فوراً خبردار ہو جانا چاہیے کہ ’ریا‘ اس کے اندر نفوذ کر رہا ہے اور اللہ سے پناہ مانگتے ہوئے پوری قوتِ ارادی کے ساتھ نفس کی اس کیفیت کو بدلنے کی سعی کرنی چاہیے۔
اجتماعی کوشش کی صورت یہ ہے کہ جماعت اپنے دائرے میں ریاکارانہ رجحانات کو کبھی نہ پنپنے دے، اپنے کاموں میں اعلان و اظہار کو بس حقیقی ضرورت تک محدود رکھے۔ جماعتی مشوروں اور گفتگوئوں میں یہ بات کبھی اشارۃً و کنایۃً بھی برداشت نہ کی جائے کہ: فلاں کام اس لیے کرنا چاہیے کہ وہ مقبولیت کا ذریعہ ہے اور فلاں کام اس لیے نہ کرنا چاہیے کہ اسے لوگ پسند نہیں کرتے۔ جماعت کا داخلی ماحول ایسا ہونا چاہیے کہ وہ لوگوں کی تعریف اور مذمت، ہردو سے بے نیاز ہوکر کام کرنے کی ذہنیت پیدا کرے اور اُس ذہنیت کی پرورش نہ کرے جو مذمت سے دل شکستہ ہو اور تعریف سے غذا پائے۔
اس کے باوجود اگر کچھ افراد جماعت میں ایسے پائے جائیں جن میں ’ریا ‘کی بو محسوس ہو تو ان کی ہمت افزائی کرنے کے بجاے ان کے علاج کی فکر کی جانی چاہیے۔ (’اشارات‘، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۷، عدد۳، صَفر ۱۳۷۶ھ،نومبر ۱۹۵۶ء، ص ۱۵۱)