یہ بات واضح ہے کہ مستشرقین کی دونوں طرح کی تحریریں مسلم معاشرے کے حق میں بُری ثابت ہوئیں، کیونکہ انھوں نے اُمہ کے ذہن میں محرومی کا احساس بھر دیا۔ خواہ وہ مدح سرائی یا قصیدہ خوانی کی شکل ہی میں ہو۔ اس چیز نے موجودہ حقائق پر غوروفکر سے ہٹاکر، ہمیں شان دار ماضی کی خیالی جنّت میں پہنچا دیا۔ ہم پر اس طرح نکتہ چینی کی گئی اور ہمیں یوں بے قیمت ثابت کیا گیا کہ ہم موحدین کے بعد کے زوال پذیر معاشرے کے محافظ تصور کیے جانے لگیں۔ اس صورت میں ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم اسلامی نقطۂ نظر کے تحت مستشرقین کی تحریروں کو علم و عقل کی کسوٹی پہ پر کھیں اور اسلامی حقیقت کو واضح کریں۔ اس لیے کہ اسلامی حقیقت کی وضاحت یا دفاع کا حق اور ذمہ داری مسلمانوں پر ہی ہے۔
اگر اس استشراق کا کوئی مثبت پہلو ہے، تو وہ اسلامی فکر کی قصیدہ خوانی نہیں بلکہ اس پر ٹھوس تنقید کی صورت میں ہے۔ اس لیے کہ جب استشراق کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جائے گا کہ ’’عربوں نے سائنسی علوم میں کوئی حصہ نہیں لیا‘‘ تو ہوسکتا ہے، اس کی تلافی سطحی علمیت سے کی جائے جیساکہ طنطاوی جوہری نے تفسیر میں کیا ہے۔ لیکن مثبت اور ٹھوس تنقید کے نتیجے میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ اسلام کے مخالفین شدت پسندی اور حقیقت سے انکار کی بنا پر، اسلام اور سائنس کا مسئلہ ایک نئی شکل میں پیش کیا جائے، جو دین کے بلندمقام اور سائنس کی منطق سے زیادہ قریب ہو۔ قرآنی آیات میں کوئی خلا کو ڈھونڈنے یا ایٹمی توانائی کے تجزیے کا مفہوم تلاش کرنے کے بجاے، ہمارے سامنے اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ کیا قرآنی آیات کی روح سائنسی عمل کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے یا اس کی ہمت افزائی کرکے اسے ترقی دیتی ہے؟
یہ سوال بھی توجہ چاہتا ہے کہ کیا قرآن کسی معاشرے میں سائنسی ترقی کے لیے سازگار فضا قائم کرسکتا ہے؟ اور کیاوہ سائنسی علوم کو قبول کرنے اور انھیں دوسروں تک پہنچانے کے لیے لازمی ذہنی صلاحیتیں بیدار کرسکتا ہے؟
اس ضمن میں ہمیں نفسیاتی اور سماجی پہلو سے مسئلے کو پیش کرنا چاہیے، نہ کہ سائنسی علوم کی ترقی کے پہلو سے ۔اگر ہم اسلامی فکر کو اس پہلو سے صحیح ثابت کرسکیں تو اس کے کھاتے میں ان دو انکشافات کو درج کرسکتے ہیں، جن کے بغیر بیسویں صدی کی سائنسی ترقیات کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ آج نیوکلیائی سائنس کے باب میں جو حیرت انگیز ترقی ہوئی ہے، کیا طبیعیات کے ماہرین اسے ریاضی کے قواعد اور الیکٹرانک کیلکولیٹر کے بغیر حاصل کرسکتے تھے؟ اور کیا یہ آلات اعشاری نظام کے بغیر اپنا عمل جاری رکھ سکتے تھے، جس کے ذریعے ہم مثلاً ایووگیڈرو نمبر{ FR 645 } کے صرف پانچ یا زیادہ صحیح یہ کہ سات نمبروں کو لکھ سکتے ہیں؟ کیا ریاضی کا یہ حیرت انگیز نظام اس ذہنی فضا کا ثمر نہیں ہے، جو اسلامی معاشرے میں قرآنی تعلیمات نے قائم کی تھی؟
یہاں ہم ریاضیات کی ترقی میں ’الجبرا‘ کے کردار پر بھی سوال اُٹھائیں گے، جس نے مادی اعداد کے علم کو خالص رُموز و علامات کا علم بنادیا۔ ’الجبرا‘ کا لفظ ہی اس کے عرب ماخذ کی نشان دہی کے لیے کافی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی عقل، اسلامی دانش کی اس معنی میں احسان مند ہے کہ اس نے ایک ایسا ذریعہ دیا، جس کے بغیر انسانیت ریاضیاتی سائنس کے میدان میں ترقی نہیں کرسکتی تھی۔ ہمیں اس کی فکر نہیں کہ فرید وجدی کی طرح مستشرقین کے کاسہ لیس شاگردوں نے بغیر کسی دلیل و ثبوت کے ’الجبرا‘ کو یونانی فلسفی دیوفانتوس کی طرف منسوب کر دیا، بلکہ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ ’الجبرا‘ کا علم اس ذہنی فضا میں پیدا ہوا تھا ،جو قرآن نے قائم کی تھی۔ لیکن یہ بھی ایک بے معنی اور طفلانہ حرکت ہوگی کہ سائنسی علوم کی ترقی کی نشان دہی کرتے ہوئے ہم اعشاری نظام اور ’الجبرا‘ کو قرآنی آیات سے مربوط کردیں۔
حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم میں براہِ راست اعشاری نظام یا ’الجبرا‘ کا ذکر نہیں ہے، لیکن قرآن نے ایک ایسی نئی ذہنی فضا ضرور قائم کر دی، جس میں سابقہ یونانی اور رومی دور کی طرح سائنسی علوم ترقی کی راہ پر گامزن ہوگئے۔ سائنسی ترقی کو صرف سائنس کی کامیابیوں میں نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ اسے ان تمام ذہنی اور سماجی حالات کے پس منظر میں دیکھنا چاہیے، جن سے ایک مخصوص ماحول تشکیل پاتا ہے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ہردور میں عقل کی دل چسپی کے مراکز ذہنی فضا کی تبدیلی کے اعتبار سے بدلتے رہتے ہیں۔
ہم تاریخی اعتبار سے صنعت اور صنعت کاری کو ڈونیس بیبان کے انکشاف سے مربوط کرسکتے ہیں، جس نے آگ پر رکھی ہوئی کیتلی کے ڈھکن کو بھاپ سے اُوپر نیچے ہوتے دیکھ کر اتفاقیہ طور پر اسٹیم کی طاقت دریافت کرلی تھی۔
لیکن ہمیں یہاں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ آگ کے انکشاف کے لمحے سے لے کر یہ اتفاق تمام انسانی نسلوں میں پیش آتا رہا تھا، لیکن بیبان کے دور تک کوئی شخص بھی بھاپ کی طاقت کا انکشاف نہ کرسکا۔ ایسا کیوں تھا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈونیس بیبان یا انگریز موجد واٹ اپنے تجربات اور جائزوں کو اس نئے ذہنی ماحول میں پروان چڑھا رہے تھے، جو یورپ میں دو صدی پہلے سے قائم تھا، جب ڈیکارٹ نے میتھڈ پر اپنی مشہور کتاب میں اس طرح پیش گوئی کی تھی:
ایسے علم کا حصول ممکن ہے جس کی زندگی میں نفع بخش طریقے سے تطبیق کی جاسکے۔ اس طرح درس گاہوں کو تصوراتی فلسفہ ترک کرکے ایسے فلسفے کی تعلیم دینا چاہیے، جو تطبیق کے قابل ہو۔ آگ، ہوا، اجرامِ فلکی، اور آسمانوں اور ہماری زمین کے اردگرد جو سیارے ہیں، ان سب کے بارے میں معلوم کرکے ہمیں یہ موقع فراہم کرے، کہ خود ان کے قانون کے تحت اسے اپنے ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرسکیں، تاکہ ہم فطرت کی قوتوں پر قابو پاکر انھیں زیراستعمال لاسکیں۔
یہ عبارت واضح طور پر ڈیکارٹ کے بعد آنے والے سائنس اور ٹکنالوجی کے انقلاب کی پیش گوئی اور اس راہ کی نشان دہی کر رہی ہے، جسے سودمند علمی حقیقت کی تلاش کے لیے یورپی فکر نے اختیار کیا۔ یہ ضروری تھا کہ اس راہ پر چل کر یورپی فکر کو اسٹیم کی طاقت ملتی، خواہ اس کا انکشاف کرنے والا ڈوینس بیبان ہوتا یا کوئی اور۔
اس طرح ڈیکارٹ کے اسلوب اور قاعدے (میتھڈالوجی) نے وسیع پیمانے پر وہ ذہنی ماحول تشکیل دیا، جس میں فائدے کی متلاشی عقلی توانائیاں پروان چڑھیں، جو نئی تہذیب کی علامت ہیں۔
٭سائنس کیا ہے؟ یہی وہ مقام ہے، جہاں ہم اسلام اور سائنس کے عمومی تعلق کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔ اس لیے کہ مظاہرِ قدرت کی دنیا کے مقابلے میں ایک مسلمان قرآنی متن کے زیراثر اسلامی ذہن سے اپنے لیے جو راہ اختیار کرے گا، اور جس نئے عقلی ماحول میں یہ ذہن ترقی کرے گا، یہ سب درحقیقت مسئلے کے مختلف بنیادی پہلو ہیں۔
سائنس بذاتِ خود معلومات کا اور اسے حاصل کرنے کے طریقوں کے مجموعے کا نام ہے۔ لیکن اس تعریف میں جو ہم نے سائنسی ترقی کی تاریخ کے نقطۂ نظر سے کی ہے، کچھ اور اضافہ کرنا ہوگا۔ کیونکہ سائنسی ترقی صرف اسی گوشے تک محدود نہیں ہے ، بلکہ اس کے لیے متعدد ذہنی اور سماجی شرائط لازم ہیں، جو منفی یا مثبت طریقے پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ اس طرح کہ وہ یا تو اس کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنیں گی یا اسے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کریں گی۔
اس کو اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ جب گلیلیو نے سورج کے گرد زمین کے گھومنے کا نظریہ پیش کیا، تو اسے کسی علمی مخالفت کا نہیں بلکہ مخصوص مذہبی عقائد کے اختلاف کا سامنا کرنا پڑا۔ گلیلیو کو کسی سائنسی اکیڈمی نے مجرم قرار نہیں دیا تھا، بلکہ ایک مذہبی عدالت نے عیسائی عقیدے کے تحفظ کے نام پر مجرم قرار دیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ گلیلیو کو جبرو محرومی کے متعدد عوامل نے مجرم قرار دیا تھا جو اسے موت کی سزا سنانے والے اس معاشرے کی ذہنیت میں جمے ہوئے تھے۔
اس بات کی حقیقت اور مفہوم کو سمجھنے کے لیے ہمیں ڈیکارٹ سے پہلے کے اس یورپی معاشرے کو دیکھنا ہوگا، جس نے فلکیات کے ایک بڑے سائنس دان کو موت کی نیند سلا دیا تھا۔ اس معاشرے میں [ستاروں کا علم رکھنے کا دعویٰ کرنے والے]نجومی کو ایک اہم ترین مشیر کا مقام حاصل تھا، جیسے تھوسٹراڈ موسی جو فرانس کے ایوانِ شاہی میں ملکۂ کاترینا کا مشیر خاص تھا۔
اس امر کی مزید وضاحت کے لیے یہ بتانا ضروری ہے کہ اگر یہ گلیلیو،ایک مسلممعاشرے میں زندگی گزار رہا ہوتا (باوجودیکہ اس دور میں مسلم تہذیب رُوبہ زوال تھی) تو اسے ان حالات کا سامنا نہ کرنا پڑتا، جو اس کی علمی تحقیق کی راہ میں رکاوٹ بنے اور نتیجے کے طور پر اسے اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑا۔ تیسری صدی ہجری کے اوائل میں اس دور کے ایک بڑے ملحد اسحاق ابن الراوندی [م:۹۱۱ء] نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے کہا تھا:
لَقَدْ تحجر عَرِیْضًا اِبْنِ اَبِیْ کِبْشَۃَ حِیْنَ ادّٰعِی اَنَّہٗ خَاتَمَ الْاَنْبِیَآء (ابن ابی کبشہ نے کس ہٹ دھرمی سے آخری نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے)
سب کو معلوم ہے کہ یہاں ’ابن ابی کبشہ‘ سے کون مراد ہے؟ اسلام کی عظیم ترین ہستی کی شان میں گستاخی کے باوجود ابن الراوندی پر مقدمہ چلانے اور اسے مجرم قرار دینے کے لیے کوئی مذہبی عدالت نہیں لگائی گئی، تاہم اسے اپنی گستاخی کا نتیجہ خود بھگتنا تھا۔ اس نے مکہ کی طرف جاتے ہوئے راستے میں خودکشی کرلی۔
اسی طرح قرآن کے بارے میں اندلس کے ایک یہودی کی دریدہ دہنی کے خلاف ابن حزم نے بڑا مؤثر جواب دیا تھا، جو رسالۃ ابن التجریلۃ کے نام سے مشہور ہے۔ ایسے سخت رو واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ اس نئے ذہنی ماحول میں، جب اسلامی معاشرہ دنیا کے لیے ایک اعلیٰ نمونہ اور مثالی معاشرہ تھا، فکروخیال کی آزادی کو زبردستی ختم نہیں کیا جاتا تھا۔
اسلامی تاریخ میں فکری جبر کی مثالیں شاذونادر ہی ملیں گی، جیسے مامون الرشید کے دور میں ’خلق قرآن‘ کا مسئلہ سامنے آیا تھا۔ ان حالات میں بھی بعض اُمور سامنے آتے ہیں،جو فکری جبر کی شدت کے عوامل کو ممکن حد تک کم کردیتے تھے۔یہ اُمور اسلامی ضمیر میں قرآنی تعلیمات کے زیراثر جاگزیں تھے۔ آیئے دیکھیں کہ نزولِ وحی کے بعد سے کیسا ذہنی ماحول تشکیل پارہا تھا؟
٭ نزولِ وحی کے بعد کا ذہنی ماحول: عہد نامہ قدیم میں باب ’پیدایش‘ کی ابتدا کائنات کے مادی مظاہر سے ہوتی ہے۔ انجیل یوحنا کے عہدنامہ جدید کی ابتدا تجسیم کے عمل سے ہوتی ہے، جب کہ قرآن کی ابتدا ذہنی پہلو لیے ہوئے ہوتی ہے: اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ ، ’’پڑھ اپنے رب کے نام سے‘‘۔ اِقْرَاْ …یہ پہلا لفظ ہے جو پہلے اسلامی ضمیر، یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ضمیر پر وارد ہوتا ہے۔ اس کے بعد ہرمسلمان کے ضمیر پر اپنے لیے جگہ بناتا چلا جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ الفاظ ہی ’روح‘ اور پیغام و بیان کا وسیلۂ اظہار ہیں۔ وہ ہرمعرفت کے حامل اور علامت ہوتے ہیں۔ نزولِ قرآن کا اوّلین لمحہ اِقْرَاْ کی شکل میں الفاظ کی اہمیت کی نشان دہی، ان کے موضوع کا خصوصی تذکرہ اور اسلامی ضمیر میں ان کی قدروقیمت کو ثبت کردیتا ہے۔
لفظ، ’روح‘ کو منتقل کرنا اور اس کے پیغام کو پہنچانا ہے اور اس کے ساتھ اسے ضائع ہونے سے محفوظ رکھتا ہے۔ یہ لفظ سب سے پہلے خود قرآن کی حفاظت کرتا ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جس کا چودہ سو سال سے ایک حرف بھی نہیں بدلا جاسکا۔ اس کے برعکس دورِ قدیم سے دورِ جدید تک کی تمام کتابیں ہیں کہ جن کی تاریخی صداقت کو جدید تنقید ، علمی توثیق کے بغیر صرف علامتی حیثیت میں قبول کرتی ہے۔
یہ خصوصیت اس جدید فکر کا پہلا علمی نتیجہ تھی، جو قرآنی فضا میں پروان چڑھی۔ اس ماحول کا آغاز ٹھیک اس وقت ہوا، جب سیّدنا عثمانؓ کے زمانے میں نوخیز اسلامی معاشرے نے قرآنی آیات کو جمع کیا، تاکہ انھیں ضائع ہونے سے بچایا جاسکے اور ان کا اس طرح احاطہ کیا جاسکے کہ کسی قسم کی تبدیلی کی گنجایش باقی نہ رہے۔ سیّدنا زید بن ثابتؓ کی سربراہی میں ایک کمیٹی نے یہ کام انجام دیا تھا۔ درحقیقت منہج (میتھڈ) کے مطابق یہ پہلا علمی کام تھا۔ زیربحث موضوع میں اس کی تفصیلات کا تذکرہ ممکن نہیں، لیکن تدوین قرآن میں جس محنت، احتیاط اور متن کی صحت سے کام لیا گیا ہے، اسے جدید تنقید کی نظر میں قابلِ ستایش ہونا چاہیے۔
درحقیقت یہ فکر ِاسلامی کا ہی نہیں بلکہ اس انسانی فکر کا پہلا علمی کارنامہ تھا، جس نے قابلِ تقلید مثالی شخصیت کے سامنے بے چون و چرا سر جھکا کر اپنی طویل تاریخ میں بارہا ٹھوکریں کھائی ہیں، بلکہ اس جدید دور میں بھی بسااوقات انسانی فکر کے قدم ڈگمگائے ہیں۔ اس سلسلے میں سوویت یونین [اشتراکی روسی سلطنت]کی مثال دی جاسکتی ہے، جہاں بائیولوجی جدید سائنسی قافلہ سے ۳۰سال پیچھے رہ گئی کیونکہ لیسنکو نے خود کو قابلِ مثال نمونہ سمجھ لیا تھا۔
تمام انسانی معاشروں کی تاریخ بتاتی ہے کہ انھیں اپنی ذہنی عمر کی ترقی کے مختلف مراحل میں اس طرح کی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انسانیت اپنی ذہنی ترقی کے عمل میں عمر کے بالعموم تین مراحل سے گزرتی ہے:
عمر کے پہلے دور (ایامِ طوفُولت) میں وہ اپنے فیصلے ’عالم الاشیاء‘ (مادی اشیا کی دنیا) کے معیار کے مطابق کرتی ہے۔ اس طرح کہ اس کا معمولی سا فیصلہ بھی ابتدائی ضرورت کے مطابق ہوگا۔
اپنی عمر کے دوسرے دور میں انسانیت کے اپنے فیصلے مثالی نمونے کے اصول و معیار کے مطابق ہوں گے، اور ان کا تعلق ’عالم الاشخاص‘ (اشخاص کی دنیا) سے ہوگا۔ اس مرحلے میں فکروخیال تجسیم سے دُور نہیں ہوتا۔ اس کی ساری قیمت اس ذات پر منحصر ہوتی ہے، جو ہماری نظروں میں فکروخیال کا مجسم نمونہ ہوتی ہے۔
اس کے بعد انسانیت بلوغ کے مرحلے، یعنی اپنی عمر کے تیسرے دور ’عالمِ الافکار‘ (افکار کی دنیا) میں داخل ہوتی ہے۔ اس وقت افکار کی بذاتِ خود ایک منفرد حیثیت ہوتی ہے۔ اس کے لیے ’عالم الاشیاء‘ یا’عالم الاشخاص‘ میں سے کسی کی توثیق کی ضرورت نہیں رہتی۔
یہاں اس بات پر غور کرنا ضروری ہے کہ انسان جب عقلی پختگی کی عمر کو پہنچ جاتا ہے، تو فکر اپنی قدروقیمت کی بقا کے لیے اشخاص یا اشیا کی محتاج نہیں رہتی۔ آگے آنے والی ایک قرآنی آیت اس صورتِ حال کو پوری طرح واضح کردے گی۔ ہمیں معلوم ہے کہ اسلامی فکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے بڑی حد تک مربوط تھی۔ جس معاشرے میں اسلام کی دعوت دی جارہی تھی، اس کی نظروں میں یہ فکر آپؐ کی ذات میں مجسم تھی۔ لیکن قرآنِ کریم چاہتا تھا کہ اس کی آیات اس قید سے آزاد ہوجائیں، تاکہ جدید معاشرہ بھی اس قسم کی تمام قیود سے آزاد ہوجائے، جو علم وفکر کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی:
وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ۰ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ۰ۭ اَفَا۟ىِٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓى اَعْقَابِكُمْ۰ۭ (اٰل عمرٰن۳:۱۴۴)محمدؐ اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسولؐ ہیں، اُن سے پہلے اور رسولؐ بھی گزر چکے ہیں، پھر کیا اگر وہ مرجائیں یا قتل کردیے جائیں تو تم لوگ اُلٹے پاؤں پھرجاؤ گے؟
اس آیت کے نزول نے نوخیزمعاشرے کو مادی اشیا اور شیئیت (مادہ پرستی)کے دور سے نکال کر فکر کے دور میں پہنچا دیا۔
٭ علم کی حقیقت:ہم دیکھتے ہیں کہ نزول اِقْرَاْ کے بعد سے اس معاشرے کے نفسیاتی خدوخال میں تبدیلی واقع ہوئی، جس کے نتیجے میں ایک نیا ذہنی ماحول وجود میں آیا۔ اس کے ساتھ اس ماحول پر ایسے تجربات کیے جارہے تھے، تاکہ نوخیز اسلامی ضمیر میں اس کی شکل خوب واضح ہوجائے۔ قرآن سوال کرتا ہے:
ہَلْ يَسْتَوِي الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ۰ۭ (الزمر ۳۹:۹) کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں کبھی یکساں ہوسکتے ہیں؟
مذکورہ آیت جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سوال کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے، وہ درحقیقت اسلامی ضمیر میں علم کی قدروقیمت بٹھانے، اور نئے معاشرے میں جاہل کے مقابلے میں اہلِ علم کی فوقیت کا اعلان تھا۔
اگر چند لفظوں میں علم کا مفہوم بیان کیا جائے تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ’’ ہرمیدان میں حقیقت کی تلاش کا نام علم ہے ، خواہ وہ اخلاق، قانون اور سماجیات ہوں یا طب و طبیعیات وغیرہ‘‘۔ البتہ اس تلاش کی راہ میں رکاوٹیں پیدا ہوسکتی ہیں اور وہ تلاش بے راہ بھی ہوسکتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ہم کسی وہم کو حقیقت سمجھ لیں اور خیالات کے جنگل میں بھٹک جائیں۔ بسااوقات خیالات غلط بھی ہوتے ہیں۔ علم کو ایسے حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے، جن میں عقل شک و یقین کی کیفیت میں مبتلا ہو۔ اسے ان حالات کے مقابلے کے لیے عقل کو تربیت دینا چاہیے۔
قرآن نے اس پہلو کو نظرانداز نہیں کیا، بلکہ وہ اشارے کنائے میں اس طرف توجہ مبذول کراتا ہے، مثلاً وہ ’حقیقت‘ اور ’وہم‘ کا فرق یہودیوں کی بدعنوانی اور گمراہی کے واقعات سنا کر واضح کرتا ہے:
وَمِنْھُمْ اُمِّيُّوْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّآ اَمَانِىَّ وَاِنْ ھُمْ اِلَّا يَظُنُّوْنَ۷۸ (البقرہ ۲:۷۸) ان میں ایک دوسرا گروہ اُمّیوں کا ہے، جو کتاب کا تو علم رکھتے نہیں۔ بس اپنی بے بنیاد اُمیدوں اور آرزوؤں کو لیے بیٹھے ہیں اور محض وہم و گمان پر چلے جارہے ہیں۔
یہاں نفس کا میلان، شک و شبہہ اور محض امکانات بے یقینی کی مختلف کیفیتیں ہیں، جنھیں ہم ایک ’روشن حقیقت‘ کے بالمقابل نہیں رکھ سکتے کہ جو ذہنی یقین کی واضح ترین شکل کی نشان دہی کرتی ہے۔ پھر دوسری قرآنی آیات میں اس روش کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، جو زیربحث موضوع کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیے بغیر ان مسائل پر بحث کرے، جن کا اسے کوئی علم نہیں ہے:
ھٰٓاَنْتُمْ ھٰٓؤُلَاۗءِ حَاجَجْتُمْ فِـيْمَا لَكُمْ بِہٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَاۗجُّوْنَ فِيْـمَا لَيْسَ لَكُمْ بِہٖ عِلْمٌ۰ۭ (اٰل عمرٰن ۳:۶۶) تم لوگ جن چیزوں کا علم رکھتے ہو اُن میں تو خوب بحثیں کرچکے، اب اُن معاملات میں کیوں بحث کرنے چلے ہو جن کا تمھارے پاس کچھ بھی علم نہیں۔
یہ قرآنی آیات، اسلامی فکر کو علم کی راہ پر گامزن کرتی ہیں اور حصولِ علم کے لیے اسے بہتر طریق کار کی ہدایات دیتی ہیں۔ اس اعتبار سے قرآن کے نظام تعلیم و تربیت کا تفصیلی مطالعہ ضروری ہے۔ تاہم، قرآنی تصور کو حدیث نے عملی طور پر ان احکام کی شکل میں پیش کیا ہے جن کا تعلق براہِ راست مسلمان کی روزمرہ زندگی سے ہے: ’’علم کا حصول ہرمسلمان پر فرض ہے‘‘۔ ایسی احادیث، عملی طور پر ان ذہنی بنیادوں کو مزید مستحکم کرتی ہیں، جو فکر ِ اسلامی میں قرآن کے زیراثر قائم ہوئی تھیں، تاکہ یہ اسلامی فکر اپنے علمی، سیاسی اور معاشرتی کردار کو بہتر طریقے پر انجام دے سکے۔
قرآن کے جس نظامِ تربیت نے نئے معاشرے کو عقلی ذمہ داریوں کے لیے تیار کیا تھا، اس کے اثرات فرد کے طریق عمل اور زندگی کے معمول کے مطابق تجربات میں بھی نمایاں نظر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر حضرت عمر بن الخطابؓ ایک دن مدینہ کی کسی گلی سے گزرتے ہوئے والہانہ جذبے سے قرآن پڑھتے جارہے تھے۔ اور جب وہ ان آیات پر پہنچے:
اَنَّا صَبَبْنَا الْمَاۗءَ صَبًّا۲۵ۙ ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّا۲۶ۙ فَاَنْۢبَتْنَا فِيْہَا حَبًّا۲۷ۙ وَّعِنَبًا وَّقَضْبًا۲۸ۙ وَّزَيْتُوْنًا وَّنَخْلًا۲۹ۙ وَّحَدَاۗىِٕقَ غُلْبًا۳۰ۙ وَّفَاكِہَۃً وَّاَ بًّـا۳۱ۙ (عبس ۸۰: ۲۵- ۳۱) ہم نے اُوپر سے پانی برسایا، پھر زمین کو پھاڑا، پھر ہم نے اس میں غلہ، انگور، ترکاری، زیتون، کھجور، گنجان باغ اور میوے اور چارہ پیدا کیا۔
حضرت عمرؓ نے ’اَ بًّـا‘ کے لفظ پر توقف کرتے ہوئے محسوس کیا کہ انھیں اس لفظ کے معنی معلوم نہیں ہیں۔ اب آیئے دیکھیں کہ حضرت عمرؓ اس مشکل کو کیسے حل کرتے ہیں؟ حضرت عمرؓ لغت کے عالم نہیں ہیں۔ اس وقت تک یہ علم وجود میں نہیں آیا تھا۔ اس کو کتاب العین کے مؤلف الخلیل بن احمد الفراھیدی نے رائج کیا، جنھیں آج کی اصطلاح میں ’ماہر لسانیات‘ کہنا چاہیے۔ حضرت عمرؓ مفسر بھی نہیں تھے۔ وہ تو صرف عام انسان تھے، ایک ایسا عملی انسان، جو اپنے دائرۂ کار سے باہر کے اُمور میں دخل دینا پسند نہیں کرتا۔اور وہ اس آیت کو پیش نظر رکھتے ہیں:
فَلِمَ تُحَاۗجُّوْنَ فِيْمَا لَيْسَ لَكُمْ بِہٖ عِلْمٌ۰ۭ (الِ عمرٰن ۳:۶۶) اُن معاملات میں کیوں بحث کرنے چلے ہو جن کا تمھارے پاس کچھ بھی علم نہیں۔
ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے اس لفظ پر چند لمحے توقف کیا، کہ ایک لفظ کے معنی کی ناواقفیت مومن کے ضمیر کے لیے آیت کے مفہوم کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی۔ حضرت عمرؓ کے نزدیک اس وقت مسئلے کا تعلق علم کے دائرے سے نہیں بلکہ طریقِ عمل سے تھا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ انھوں نے خود اپنی سرزنش کرکے اس مسئلے کو حل کرلیا۔ انھوں نے کہا: ’’عمر کا اَ بًّـا سے کیا تعلق؟ اَ بًّـا سے ناواقفیت ہے تو کیا ہوا؟عمر ! یہ اپنے آپ کو خواہ مخواہ مشقت میں ڈالنا ہے‘‘۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ اپنے معاملات کی طرف متوجہ ہوگئے، جہاں بڑی بڑی ذمہ داریاں ان کی منتظر تھیں۔
اسی طرح ایک بار حضرت عمرؓ نے عورت کے مہر کی حد مقرر کرنا چاہی، اس لیے کہ ان کے خیال میں وہ مناسب مقدار سے زیادہ وصول کیا جارہا تھا۔ لیکن اس وقت ایک عورت نے یہ کہتے ہوئے ان کی مخالفت کی: ’’اے عمرؓ! اللہ نے آپ کو اس کا حق نہیں دیا‘‘ اور پھر اس عورت نے یہ آیت پڑھی:
وَاِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ ۰ۙ وَّاٰتَيْتُمْ اِحْدٰىھُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْہُ شَـيْـــًٔـا۰ۭ اَتَاْخُذُوْنَہٗ بُھْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِيْنًا۲۰(النساء۴:۲۰) اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لے آنے کا ارادہ ہی کرلو، تو خواہ تم نے اسے ڈھیر سا مال ہی کیوں نہ دیا ہو، اُس میں سے کچھ واپس نہ لینا۔ کیا تم اسے بہتان لگاکر اور صریح ظلم کرکے واپس لوگے؟
حضرت عمرؓ خاموش ہوگئے اور پھر کہا:’’اے عمر، سب لوگ تم سے زیادہ ذی علم ہیں، یہاں تک کہ یہ بوڑھی عورت بھی‘‘۔ اور اس طرح حضرت عمرؓ نے اپنی راے سے رجوع کرلیا۔
ان دونوں حالتوں میں تجربات کے سامنے عقل کا موقف واضح ہوجاتا ہے۔ پہلی حالت میں نئے ماحول کے زیراثر عقل ظاہری قیدوبند، یعنی الفاظ کی بالادستی سے آزاد ہوجاتی ہے، جو علم کی ترقی کی راہ میں اکثر رکاوٹ بنتی ہے۔اور دوسری حالت میں حضرت عمرؓ ہٹ دھرمی سے باز رہتے ہیں، جو حقیقت کی اَزلی دشمن اور اس کے حصول کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
اسلام کی ابتدائی تاریخ میں متعدد ایسی مثالیں ملیں گی، جو قرآن کے زیراثر نئے تشکیل شدہ عقلی ماحول کی نشان دہی کرتی ہیں، مثلاً حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہروان کے معرکے کے دوران نجومی کی راے کی پروا کیے بغیر، اس کے بتائے ہوئے مقررہ وقت کے بجاے قصداً کسی دوسرے وقت جنگ شروع کرتے ہیں اور دشمن پر غالب رہتے ہیں۔ پھر لوگوں سے مخاطب ہوکر فرماتے ہیں: ’’اگر ہم نجومی کے بتائے ہوئے وقت پر جنگ شروع کرتے، تو وہ کہتا کہ ہمیں ستاروں کی چال کی بدولت فتح نصیب ہوئی ہے‘‘۔
لیکن دوسرے موقعے پر یہی حضرت علیؓ، زیاد بن النظر کو پرچم دے کر کہتے ہیں: ’’تمھیں مجاہدین کی قیادت کرنا ہے۔ ان کے اہلِ علم کے مشورے سے فائدہ اُٹھاؤ اور ان کے جاہلوں کو تعلیم دو‘‘۔
یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ اسلامی فکر اس نئے ماحول میں فرد کے لیے ایک زینہ تیار کرتی ہے، جس کے ذریعے وہ بلندی تک پہنچ سکتا ہے۔ وہ کم علم کو سکھاتا ہے اور ذی علم سے سیکھتا ہے۔ اس طرح علم و معرفت کی یہ برقی رو دونوں رُخ پر دوڑنے لگے گی۔ بسااوقات یہ رو نیچے سے اُوپر آتی ہے، مثلاً مہر کی حد مقرر کیے جانے کے موقعے پر حضرت عمرؓ کے خلاف عورت کا اعتراض۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اسی زینے کی بدولت فکر ِ اسلامی دورِ جاہلیت کی شیئیت (مادیت) سے نکل کر ان بلندیوں تک پہنچی، جہاں سے اس نے تاریک دنیا کو علم کی روشنی سے منور کردیا۔
آج مستشرقین کی تحریروں میں جب ہم ان بلندیوں کی جھلک دیکھتے ہیں، تو ہماری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں اور ہم خیال کی وادیوں میں کھو جاتے ہیں۔ لیکن یہی مستشرقین اگر مسلمانوں کے ان علمی کارناموں کا انکار کرتے ہیں، تو ہم احساسِ کمتری میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ دونوں ہی حالتوں میں مستشرقین کی یہ تحریریں ہمارے ذہنوں میں دوطرفہ محرومی کا احساس پیدا کرتی ہیں۔ اس مخمصے سے ہم اسی حالت میں نجات حاصل کرسکتے ہیں، جب ہم قرآن کے تیارکردہ اس زینے کو دیکھیں، جسے طے کرکے انسانی فکر ان علمی کارناموں کی بلندیوں تک پہنچی ہے، جنھیں آج ٹکنالوجی کی ترقی کا بامِ عروج سمجھا جاتا ہے، مثلاً ریاضی کا اعشاری نظام، الجبرا، کیمیا، بائیولوجی کے متعدد اصول،طبیعیات اور فلکیات۔
جب ہم علم کے اس زینے پر نظر ڈالیں، تو ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اگر اسلامی معاشرہ چاہے تو یہ علمی زینہ اس وقت بھی اس کے قبضے میں بلکہ اس کے قدموں میں آسکتا ہے۔ ہمیں صرف یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اسلامی فکر کی جانب سے انسانیت کے علمی سرمایے میں اضافے کا مسئلہ صرف ان کارناموں پر منحصر نہیں ہے، جنھیں ایک مستشرق اپنی مرضی سے ثابت کرے یا ان کا انکار کرے، بلکہ اِقْرَاْ کے نزول کے بعد سے قرآنی مفہوم کے زیراثر عقلی فضا اور عقلی ڈھانچے میں جو بنیادی تبدیلی رُونما ہوئی، وہ اس کا حقیقی معیار ہے۔
اس جائزے کی روشنی میں مستشرقین کی تحریروں کے بارے میں اپنے موقف کے تعین کے لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اوّلاً ہم مستشرقین کی تحریروں کی علمی قیمت سے انکار نہیں کرسکتے بلکہ بسااوقات وہ قابلِ ستایش ہوتی ہیں، جیسے سیڈیو، گوسٹاف لوبون اور آسین پلاتھیوس کی تحریریں جو علمی لحاظ سے قابلِ احترام سمجھی جاتی ہیں ، اور اخلاقی پہلو کی حامل ہیں۔
٭ بنیادی پہلو: بیسویں صدی کا تمام فکری کام جو تاثیر اور فعالیت کے اعتبار سے اعلیٰ معیار کا قرار دیا جاتا ہے۔ اس کا ایک عملی پہلو بھی ہے، جس سے سیاست اور منفعت پسندی کے میدان میں ناجائز فائدہ بھی اُٹھایا جاسکتا ہے۔ اعلیٰ اور گھٹیا دونوں قسم کی کتابیں پریس سے باہر آتی ہیں۔ بسااوقات ان کے مصنّفین کی لاعلمی میں، ان ماہرین کے ہاتھوں تک پہنچ جاتی ہیں جو انھیں فکری کش مکش کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح وہ ہنگامہ آرائی، اخلاقی بے راہ روی اور صرف توجہ ہٹانے اور بہلانے کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ اس قسم کی کتابیں جب یورپ کے کسی شہر سے شائع ہوتی ہیں، تو اسی وقت کسی عرب دارالحکومت سے اس کا عربی ایڈیشن بھی شائع ہوجاتا ہے۔
اس مطابقت پر ان ملکوں میں بھی توجہ نہیں دی جاتی، جو فکری کش مکش کے ناپسندیدہ اثرات سے دوچار ہیں۔ ان ملکوں کو یہ تک خبر نہیں کہ اس فکری کش مکش کے ذرائع اور مقاصد کیا ہیں؟ بلکہ وہ اس کے مفہوم سے بھی ناآشنا ہیں، گویا ان کے نزدیک ’فکری کش مکش‘ محض ایک بے معنی لفظ ہو۔
آیئے کسی ’روشن خیال‘ شخص سے پوچھیں وہ مبہم اور غیرواضح جواب دے گا، ’’فکری کش مکش؟ غالباً آپ فلسفۂ وجودیت اور مارکسیت کا ذکرکر رہے ہیں؟‘‘ اگر آپ نے اپنے سوال کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ ’’نہیں جناب! میں اس مارکسیت کا ذکر کر رہا ہوں، جس کا مارکس سے کوئی تعلق نہیں‘‘۔ یہ محض چند الفاظ اور نعرے ہیں، جنھیں ہمارے نوجوانوں کو اس لیے سکھایا جاتا ہے کہ ہمارے بعض حکام کے خیال میں مارکسیت کو صرف ایک ذریعہ بناکر اس سے اسلام کے خلاف کام لیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح اس فلسفۂ وجودیت کو ہمارے وجود سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ یہ اشیا درحقیقت نئی نسل کے ذہنوں پراثرانداز ہونے کے ذرائع ہیں، جنھیں اس مقصد کے لیے وہ حلقے استعمال کر رہے ہیں، جو ان کے فلسفیانہ ، فنی یا سماجی پہلو کے خود بھی قائل نہیں ہیں۔ میرا اشارہ ڈائجسٹ قسم کی ان کتابوں کی طرف ہے، جو مفت یا بہت معمولی قیمت پر نوجوانوں میں تقسیم کی جارہی ہیں، تاکہ ان کی جیب پر بوجھ نہ پڑے، اور وہ ضمیر پر اثرانداز ہونے والے ان افکار کو بآسانی قبول کرلیں۔
صدافسوس کہ نام نہاد روشن خیال لوگ اس گفتگو کے مفہوم کو نہیں سمجھ سکتے۔ ان کی نگاہوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔ ان کے درمیان کوئی قدر مشترک نہیں۔ وہ بزعمِ خود فکری سطح پرہیں، جہاں غیروں کے افکار کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے: ’’خیال اپنا اپنا، پسند اپنی اپنی۔ اس پر بحث کی ضرورت نہیں‘‘۔
دوسری طرف غالباً آپ نظریاتی سطح پر ہیں، جہاں ہرنئی فکر کا خوردبین (مائیکروسکوپ) سے تجزیہ کرنا چاہیے، کیونکہ اس سطح پر ایک فکر محض فکر نہیں رہ جاتی جسے صرف فکری یا فنی نقطۂ نظر یا صاحب ِ فکر کے عزائم کی روشنی میں دیکھا جائے گا، بلکہ اس فکر کو اسے اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنے والوں کے حقیقی عزائم کے اعتبار سے پرکھا جائے گا۔ بہرحال آپ کی باتوں کو وہ لوگ اس لیے نہ سمجھ سکیں گے کہ وہ دنیا کی فکری کش مکش کے مفہوم کو دو بڑی سامراجی طاقتوں کی چپقلش تک محدود رکھتے ہیں۔
زیربحث موضوع کے مطابق ہمیں مستشرقین کی تحریروں کا صرف ان کی ذاتی اور فکری خصوصیات اور عزائم کے نقطۂ نظر سے جائزہ نہیں لینا چاہیے، بلکہ اس پہلو سے بھی دیکھنا چاہیے کہ کون لوگ مستشرقین کی تحریروں کو عالمِ اسلام میں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں؟
ان مقاصد میں، جیساکہ ہم پہلے نشان دہی کرچکے ہیں، تسخیر عقل و ضمیر بھی شامل ہے۔ اسے ہم اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ ہروہ نظریاتی خلا جہاں ہمارے افکار معدوم ہوں گے، اسے ہمارے مخالف اور دشمن افکار سے پُر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
یہ ایک عام اصول ہے، جس سے فکری کش مکش کے ماہرین بخوبی واقف ہیں۔ لیکن یہاں یہ بتادینا ضروری ہے کہ یہ ماہرین محض ایسے دانش ور نہیں ہیں، جو حقیقت براے حقیقت کی جستجو کررہے ہیں، بلکہ وہ اسے سیاسی مفادات کے میدان میں عملی شکل دینا چاہتے ہیں۔ اس طرح وہ نظریاتی خلا ظاہر ہونے تک کا انتظار نہیں کریں گے تاکہ اسے پُر کرسکیں، بلکہ یہ خلا وہ خود پیدا کریں گے۔ ہوسکتا ہے اس خلا کو عارضی طور پر دوسروں کے افکار سے پُر کردیں تاکہ پہلے مرحلے کے طور پر وہ ہم کو ہمارے افکار سے جداکرسکیں۔
درحقیقت یہ وہ میدان نہیں ہے کہ جہاں ’خط ِ مستقیم‘ کے اصول کے تحت کام ہوتا ہو۔ صاف سی بات ہے کہ ایک منطقی عمل کا منطقی نتیجہ ہی نکلے گا۔ اس کے برعکس فکری کش مکش کی اپنی ایک علیحدہ منطق ہے۔ عموماً اس کی راہ پُرپیچ ہوتی ہے۔ یہاں ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے تک درمیانی اور پُرپیچ راہوں سے پہنچا جاتا ہے۔
مثال کے طور پر یہ نقلی مارکسزم جو بائیں بازو کے خیالات کے حامل ہمارے نوجوانوں کو گھول کر پلائی جارہی ہے، صرف ایک درمیانی مرحلہ ہے۔ جس کا مقصد ہمارے نوجوانوں کے ایک طبقے کو ملک میں نظریاتی محاذ سے علیحدہ کرنا ہے۔ علیحدگی کی اس کارروائی کا ذمہ دار لیڈر، نوجوانوں سے یہ تو کہہ نہیں سکتا کہ ’’ہم آپ کے ملک میں ترقی کی رفتار کم کرنا چاہتے ہیں ، اس لیے کیا آپ ان افکار و خیالات کی تحریر و تنقیص میں ہماری مدد کریں گے جو ترقی کی اس رفتار کو برقرار رکھے ہوئے ہیں؟‘‘ اس لیے کہ اس قسم کی باتوں کو سراسر یاوہ گوئی اور جنون کہا جائے گا۔ اب اس کے سامنے صرف ایک ہی راہ ہے کہ وہ نوجوانوں کی اس جماعت کو بیرونی افکار کے پُل سے دوسرے کنارے تک لے جائے، جہاں نقلی مارکسسٹ، فریبی قوم پرست اور جعلی انقلاب کے نقاب اُوڑھے ہوئے افراد نظر آئیں گے۔
فکری اور عملی بہروپ کے ان سوداگروں کی اس کارروائی کا پہلا نتیجہ یہ نکلا کہ وطن کا اخلاقی اتحاد ختم ہوگیا، جب کہ آزادی کے بعد کے اہم اور نازک مسائل کا سامنا کرنے کے لیے وطن عزیز کو اس اتحاد کی اشد ضرورت تھی۔ اس کارروائی کے منفی فکری نتائج جس قدر ہمارے نوجوانوں پر، اور سماجی نتائج جس قدر ہمارے معاشرے پر ظاہر ہوں گے، اسی قدر ان مسائل میں کمی کے بجاے اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ اس طرح ان نوجوانوں کی شکل میں، مخصوص فکری کش مکش مسلط کرنے کے ماہرین کے ہاتھوں میں ہماری نکیل ہوگی___ کتنا بڑا المیہ ہے!
٭ ایک شبہہ اور اس کا ازالہ:ہو سکتا ہے کہ مستشرقین کے حوالے سے زیربحث موضوع پر ہماری ان باتوں کا بظاہرکوئی تعلق نظر نہ آرہا ہو، لیکن سچ پوچھیے تو یہ موضوع سے علیحدہ نہیں ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم پوری کارروائی کا مجموعی اور مکمل جائزہ لیں۔ وہ اس طرح کہ فکری کش مکش کے یہ ماہرین ایک طرف نوجوانوں کی ایک جماعت کو دینی شعائر کا مذاق اُڑانے اور اسلام کے مخالف خیالات کا انجکشن دے کر انھیں پاگل کتوں کی طرح بھونکنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ دوسری طرف یہی ماہرین ہمارے نوجوانوں کی ایک دوسری جماعت کو مستشرقین کی تحریروں سے تیار کردہ خواب آور گولیاں مہیا کرنے اور کھلانے کا کام کرتے ہیں۔ اس طرح ہمارے دونوں قسم کے نوجوانوں کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ایک ہیجان انگیزی کے زیراثر فکری طور پر مفلوج اور دوسرا خواب آور دوا کی وجہ سے فکری طور پر ناکارہ و نامراد۔ ایک ہنگامہ آرائی پر آمادہ اور دوسرا خوابوں کی دنیا میں مست۔ ہمارے خیال میں مسلم دنیا میں فکری کش مکش کے دائرے میں مستشرقین کی تحریروں کا یہی کردار ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس دائرے میں ہمارے فکری عمل کی کیا شکل ہونی چاہیے؟ یہاں مجھے یہ کہنے کی اجازت دی جائے کہ تفصیلات کو نظرانداز کرکے صرف اس خیال کی نشان دہی کی جاسکتی ہے، جو زبان زدخاص و عام ہے کہ صرف سیاسی آزادی کا حصول ہی کافی نہیں، اسے معاشی آزادی کے ذریعے مستحکم کرنا بھی ضروری ہے۔
یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے لیکن ہم اس میں اتنا اضافہ کرنا چاہیں گے کہ جو معاشرہ اپنے بنیادی افکار خود وضع نہیں کرتا، وہ نہ تو ضروریاتِ زندگی کی اشیا تیار کرسکتا ہے اور نہ صنعت کاری کے لیے لازمی مصنوعات۔ ایک زیرتعمیر معاشرہ درآمد شدہ افکار سے تعمیر نہیں کیا جاسکتا، خواہ یہ افکار استشراق سے ماخوذ ہوں یا اشتراکیت اور وجودیت سے۔ اسے کتابوں کے بجاے عملی تجربے سے اپنی راہ نکالنی ہے۔ اسی طرح ہمیں بھی اپنا ذاتی تجربہ حاصل کرنا چاہیے اور اپنے دائرۂ فکر و عمل کا تعین خود کرنا چاہیے نہ کہ کسی اور کی طرف سے ہمارے لیے متعین کیا جائے۔ آخری بات یہ کہ عقیدے اور فکر کے میدان میں اپنا حقیقی وجود، اور آزادی بحال کرکے ہی ہم معاشی اور سیاسی آزادی حاصل کرسکتے ہیں۔
عصرِحاضر جسے زعم ہے کہ وہ’جدید‘ ہے، لیکن ظلم و زیادتی کے باب میں یہ ’جدید‘ اُتنا ہی بھیانک اور قدیم ہے، جتنا کہ ظلم و ستم سے لتھڑا تاریک ماضی ہوا کرتا تھا۔ ظلم کی طرف داری اور ظلم کی پردہ داری کےلیے عصرِحاضر کے مقتدر ملکوں، طبقوں اور ’غیرسرکاری تنظیموں‘ کی سیاہ کاری کا گندا کھیل برابر عروج پر ہے۔ اس ظلم کی ایک شرم ناک مثال بنگلہ دیش میں موجودہ عشرے میں برابر پیش کی جارہی ہے۔ لیکن عالمی ادارے، ملکوں کے حکمران اور انسانی حقوق کے ’سوداگر‘ سب خاموشی سے آنکھیں بند کیے دکھائی دیتے ہیں۔ ظلم کے اس طوفان نے ایک اور سعید روح مولانا عبدالسبحان کو نگل لیا ہے، اناللہ وانا الیہ راجعون۔
مولانا عبدالسبحان ۱۹فروری ۱۹۳۶ء کو مومن پارہ، ضلع پبنہ مشرقی بنگال میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد گرامی نعیم الدین احمد ایک دینی اسکالر تھے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم رام چندر پور سے حاصل کی، ۱۹۵۲ءمیں مدرسہ عالیہ سراج گنج سے فاضل اور ۱۹۵۴ء میں کامل کی سند اس اعزاز سے حاصل کی کہ مدرسہ بورڈ کے مشرقی پاکستان بھر کے امتحان میں ساتویں پوزیشن پر آئے۔ بنگلہ کے علاوہ، عربی، اُردو میں دسترس کے ساتھ انگریزی اور فارسی کا اچھا فہم رکھتے تھے۔ فاضل کی سند لیتے ہی خداداد قابلیت کی بنیاد پر ، اپنے مدرسے میں تدریسی ذمہ داریاں ادا کرنے لگے، اور اس کے ساتھ مزید تعلیم بھی حاصل کرتے رہے۔ اسی زمانے میں مولانا مودودی کی کتب اورکلامِ اقبال سے والہانہ عشق پیدا ہوا، اورپھر جماعت اسلامی کے قافلے کے ہراوّل دستے میں دعوت، تربیت اور خدمت پر مبنی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگے۔ مولانا عبدالسبحان ضلع پبنہ میں جماعت اسلامی کے دعوت و تنظیم میں تاسیسی رہنما تصور کیے جاتے تھے۔
۱۹۶۵ء میں پبنہ شہر منتقل ہوگئے، جہاں جماعت کے تنظیمی اور رفاہی نظم و ضبط کے ذمہ دار مقرر ہوگئے اور کچھ ہی عرصہ بعد جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی شوریٰ کے رکن منتخب ہوئے۔ ۱۹۷۱ء میں پاکستانی حکمرانوں کی بے تدبیری، سیاست دانوں کی خودغرضی اوربھارتی پشت پناہی سے شروع ہونے والی بدامنی اور تخریب کاری کے دوران امن کمیٹی پبنہ کے جنرل سیکرٹری مقرر ہوئے۔ اس دوران مولانا عبدالسبحان نے غیربنگالی اہلِ وطن کو عوامی لیگی دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل و غارت سے بچانے کے لیے اپنی جان تک داؤ پر لگادی اور تخریب کاری روکنے کے لیے شہری سطح پر انتظامات کیے۔ دسمبر ۱۹۷۱ء میں سقوطِ مشرقی پاکستان کے کچھ عرصہ بعد ہجرت کرکے مغربی پاکستان آگئے اور پھر ۱۹۷۵ء میں واپس بنگلہ دیش چلے گئے۔
۲۰۰۱ء کے پارلیمانی انتخابات میں پبنہ سے پانچویں بار رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے اور اس کے دو سال بعد۲۰۰۳ء میں ، یعنی ۱۹۷۱ء کے ۳۲برس بعد عوامی لیگ نے ان کے خلاف اچانک ایک فوجداری ’مقدمہ‘ درج کرا دیا، جس میں کہا گیا کہ:’’ اپریل تا اکتوبر ۱۹۷۱ء انھوں نے ۴۵۰؍افراد کو قتل کیا، جن میں زیادہ تر ہندو تھے۔ گھروں کو آگ لگائی اور لوٹ مار کی‘‘۔ جب حسینہ واجد (عوامی لیگ) کی حکومت ایک باقاعدہ سازش کے تحت قائم کی گئی تو اس حکومت نے جماعت اسلامی کی قیادت کے خلاف تواترکے ساتھ مقدمات چلانے کے لیے ۲۰۱۰ء میں نام نہاد کرائمز ٹریبونل (ICT) بنائے۔
اِس شیطانی کھیل کو آگے بڑھانے کے لیے ۲۰ستمبر ۲۰۱۲ء کو، جب مولانا عبدالسبحان ڈھاکہ سے اپنے گھر پبنہ شہر جارہے تھے کہ راستے میں پڑنے والے بنگ بندو پُل پر انھیں گرفتار کرلیا گیا، اور یہ بتایا گیا: ’’۲۰۰۳ء کے قائم شدہ مقدمے کے تحت گرفتار کیا گیا ہے‘‘۔ اگلے روز خصوصی ٹریبونل میں پیش کرکے مقدمے کی کارروائی شروع کی۔
اس خانہ ساز عدالت نے ۳۱دسمبر ۲۰۱۳ء کو مقدمے کا ڈراما شروع کیا اور ۱۸فروری ۲۰۱۵ء کو آپ کو سزاے موت سنائی۔ ۱۸مارچ ۲۰۱۵ء کو مولانا عبدالسبحان نے جھوٹے مقدمے، یک طرفہ کارروائی اور سرکاری گواہوں پر جرح کرنے کے حق کو سلب کرنے کو بنیاد بناکر سپریم کورٹ میں اپیل دائرکی۔ظاہر ہے کہ جب سب چیزیں ہی ایک جہل اور حددرجہ جعل پر مبنی تھیں تو شریک ِ جرم بنگلہ دیش سپریم کورٹ کیسے اپیل کا میرٹ پرفیصلہ دیتی؟ یوں اپیل مسترد ہوئی اور مولانا عبدالسبحان تب سے اب تک جیل کی پھانسی گھاٹ کوٹھڑی میں قید تھے اور کسی بھی وقت تختۂ دار کے لیے بلیک وارنٹ کے اجرا کے منتظر تھے۔
بڑھاپے اور مسلسل قید کی وجہ سے مولانا عبدالسبحان متعدد امراض کے شکارہوچکے تھے۔ ۲۴جنوری ۲۰۲۰ء کو جب صحت کی حالت بہت زیادہ بگڑگئی تو جیل حکام کی سفارش پرڈھاکہ میڈیکل کالج ہسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں ۱۴فروری ۲۰۲۰ء کو دن ڈیڑھ بجے بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے نائب امیر ، بزرگ پارلیمنٹیرین ، دینی رہنما اور ۸۴سال کے بزرگ مولانا عبدالسبحان انتقال فرماگئے۔ یوں ۱۹۷۱ء میں برہمنی سامراجیت کےخلاف کھڑے رہنے اور پھر آخردم تک بھارت کی طفیلی اور ’را‘ کی پروردہ حکومت کے سامنے ڈٹ کر دیوار بننے اور اسلامی اُمت کے موقف کی تائید کرنے والے مجاہد نے جان کانذرانہ دے کر عہد ِ وفا نبھایا۔
ہم دیکھتے ہیں کہ وہ جو انسانی حقوق کے نام پر دکان سجاتے ہیں، انھیں نہ ایسے بے معنی فوجداری مقدمات میں کوئی خرابی نظر آتی ہے، نہ انھیں جعلی عدالتی عمل میں کچھ قباحت دکھائی دیتی ہے، اور نہ ایسی اموات اور پھانسیوں پر ان کے ضمیر پہ کچھ بار پڑتا ہے۔
بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمٰن نے تعزیتی بیان میں کہا: ’’مولانا عبدالسبحان صاحب ایک متنازعہ اور سیاسی تعصب سے آلودہ انتقامی مقدمے میں جعلی اور عوامی لیگی گواہیوں کی بنیاد پر سزاے موت سے منسوب کیے گئے۔ وہ گذشتہ آٹھ برس سے جیل میں قید تھے۔ حالانکہ ۱۹۷۲ء سے لے کر اب سے چند برس پہلے تک، بنگلہ دیش میں کبھی کسی نے، مولانا عبدالسبحان کو کسی فوجداری جرم کا ملزم قرار نہیں دیا تھا۔ اس دوران میں انھوں نے بنگلہ دیش کی سیاسی، سماجی، تعلیمی، معاشی اور دینی ترقی کے لیے بے پناہ خدمات انجام دیں۔ بنگلہ دیش میں اسلامی شعائر کی سربلندی اور عدل و انصاف کا دور دورہ دیکھنا ان کا خواب تھا۔ ایک مدت سے وہ شدید بیمار تھے۔ اہلِ خانہ نے بار بار اپیل کی کہ انھیں علاج کی سہولت مہیا کی جائے، لیکن موجودہ حکومت نے کسی اپیل پر دھیان نہ دیا۔ اور جب حالت بہت بگڑگئی تو چند روز کے لیے اس طرح ہسپتال بھیجا کہ علاج ان کے لیے بے معنی ہو کر رہ گیا‘‘۔
اللہ تعالیٰ اپنے کچھ بندوں کے ساتھ خصوصی احسان کرتاہے تو ان کو کفر و شرک کی گمراہیوں سے نکال کر رشد وہدایت کی راہ سے نوازتا ہے۔ ایسے ہی خوش نصیبوں میں ایک بڑا نام ڈاکٹر ولفریڈ ہوف مین ہیں جنھوں نے قبولِ اسلام کے بعد اپنا نام مراد ہوف مین رکھا۔ وہ مراد ہوف مین، جو قبولِ اسلام کے بعد بے لاگ اسلامی مفکر کی حیثیت سے مغرب کے اُفق پر جلوہ افروز ہوئے۔ مترجم قرآن، مصنف، تجزیہ نگار، داعی، مفکر اور ایک سفارت کار کی حیثیت سے نہ صرف عیسائی دنیا میں بلکہ عالم اسلام میں بھی مشہور ومعروف ہیں۔
مراد ہوف مین ۶جولائی ۱۹۳۱ء کو اُسچا فنبرگ (جرمنی) کے ایک کیتھولک گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے نیو یارک میں یونین کالج سے گریجویشن کی اور پھر میونخ یونی ورسٹی سے قانون میں Contempt of Court Publication under American and German Law کے موضوع پر ۵ ۱۹۷ء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے علاوہ انھوں نے ہارورڈ یونی ورسٹی سے ایل ایل ایم کی ڈگری بھی حاصل کی۔ اس کے بعد NATOکے انفارمیشن ڈائرکٹر کے طور پر تعینات رہے، اور ۱۹۸۳ء سے ۱۹۸۷ء تک برسلز میں انفارمیشن ڈائرکٹر کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ موصوف پہلے(۱۹۸۳-ء۱۹۹۰ء)الجیریا اور بعدازاں(۱۹۹۰ء-۱۹۹۴ء) مراکش میں جرمنی کے سفیر جیسی اہم ذمہ داریوں پر فائز رہے۔
- قبولِ اسلام :مراد ہوف مین ۲۵؍ دسمبر ۱۹۸۰ء کو مشرف بہ اسلام ہوئے۔ قبولِ اسلام کے متعلق انھوں نے ماہنامہ الدعوۃ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا:’’ سفارت کاری نے مجھے یہ موقع دیا کہ میں نے مغربی فکر و تہذیب کا گہرائی وگیرائی سے مطالعہ کیا ۔ اسلام کے متعلق میرا علم سطحی معلومات پر مبنی تھا‘‘۔ وہ اپنی کتاب Journey to Makkah میں لکھتے ہیں: ’’میں ۱۹۶۲ء میں الجیریا کے جرمن سفارت خانے میں تعینات تھا۔ اس دوران میں نے اسلام کے متعلق پڑھنا شروع کیا۔ میں اس مذہب کے بارے میں واقفیت حاصل کرنے کا متمنی تھا، جس کے ۱۰لاکھ متبعین نے اپنے وطن کو آزاد کرانے کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ۔ ۱۹۶۲ ء میں الجیریا کے عوام آزادی کی جنگ لڑرہے تھے۔ پھر میں نے اسلام کو سمجھنے کے لیے عربی زبان سیکھی اور قرآن مقدس کو پڑھنا شروع کیا ،اور جوں جوں اس کی گہرائیوں میں اترتا گیا، اس کے ساتھ تعلق خاطر پختہ سے پختہ تر ہوتا گیا۔ یوں اس کتاب انقلاب کے ساتھ میرا یہ تعلق قائم ودائم ہوگیا۔ یہ مقدس کتاب علم وفکر کا محور اور دل کی جملہ بیماریوں کے لیے نسخۂ کیمیا ہے‘‘۔
مراد ہوف مین نے ایک انٹرویو میں بتایا: ’’یوں اسلام نے میری روحانی ضرورتوں کو اطمینان اور یک سوئی کے ساتھ میری زندگی کو متوازن بنا دیا۔اور سب سے حیرت انگیز تجربہ یہ ہوا کہ قبولِ اسلام کے بعد دنیا بھر کے مسلمانوں نے مجھے گلے سے لگالیا‘‘۔ انھوں نے ۱۹۸۰ء میں پہلا عمرہ کیا۔ جب وہ جدہ کے پاسپورٹ آفس پہنچے تو اچانک ان کے پاس ایک افسر آیا اور ان کی آنکھیں نم تھیں۔ اس نے انھیں گلے سے لگایا اور کہا: ’میرا اسلامی بھائی‘۔ پھر جب مَیں نے ’ناٹو‘کے صلاح کار کی حیثیت سے عہدہ سنبھالا تو اسلام کے خلاف مغرب کے بُرے عزائم اور فریب کاریوں کا پتا چلا۔ ایک دن میں نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ یورپ کی نوجوان نسل عیسائیت سے کیوں دُوری اختیار کرتی جارہی ہے؟ تو جواب ملا: ’’ان کو کسی متبادل کی تلاش ہے‘‘۔ اسی لیے مَیں نے ۱۹۸۵ء میں اپنی پہلی کتاب ایک جرمن مسلم کاروزنامچہ (Diary of German Muslim) لکھی اور ۱۹۹۳ء میں اسلام بطور متبادل (Islam the Alternative) شائع کی‘‘۔
اسلام بطور متبادل میں جب انھوں نے مغرب کو دعوت دی کہ آپ اسلام کے جھنڈے تلے ہی زندگی گزاریں تو جرمنی میں سیاست دانوں، پادریوں ، صحافیوں اور نام نہاد حقوقِ نسواں کے علَم برداروں نے ان کی شدید مذمت کرتے ہوئے انھیں ’بنیاد پرست‘ کہا۔ ہوف مین نے سفارت کاری سے سبکدوش ہونے کے بعد اپنی اہلیہ کے ساتھ ترکی میں قیام کیااور اپنا سارا وقت دعوتی کام پر صرف کرنے کے ساتھ ساتھ مغربی فکر وتہذیب کی پستی وزوال پر علمی سطح کا کام کیا ۔ یہ کتاب فوکویاما کی کتاب The End of Historyکا جواب ہے۔جس میں وہ لکھتے ہیں:’’اسلام پوری انسانیت کے لیے متبادل نظام ہے‘‘۔ ۱۹۹۶ء میں ان کی کتاب Islam-2000 کے عنوان کے تحت شائع ہوئی۔ ۱۹۹۶ء میں مکہ کا سفر (Journey to Makkah) اور ۲۰۰۰ء میں ’اسلام تیسرے ہزاریےمیں‘ (Islam in the Third Milliennium)جیسی علمی کتابیں شائع ہوئیں، جو جرمن، عربی اور انگریزی میں بھی دستیاب ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے قرآن مجید کا ترجمہ جرمن زبان میں کیا ہے، جو ۱۹۹۷ء میں شائع ہوا۔
مراد ہوف مین بین الاقوامی سطح کے علمی وفکری جرائد میں لکھتے رہے ہیں، جس میں برطانیہ کا Encounter اور American Journal of Social Science قابل ذکر ہیں۔ موصوف ’دی اسلامک فاؤنڈیشن‘ برطانیہ کے رسالے The Muslim World Book Reviewکے مستقل تبصرہ نگاروں میں شامل رہے ہیں۔ ان کی زیادہ تر کتابوں اور مقالات کا موضوع مـغربی دنیا میں اسلام کی نمایندگی ہے۔ ۲۰۰۷ء میں انھوں نے آپ کے اور ہمارے درمیان مشترکہ نقطۂ نظر کے عنوان سے ایک کھلا خط لکھا، جس میں مسیحی دنیا کو بہت سی مشتر کہ باتوں پر متوجہ ہونے کے لیے اُبھارا گیا۔ ۱۳جنوری ۲۰۲۰ء کو یہ عظیم داعی خالقِ حقیقی سے جاملے ،انا للّٰہ و انا الیہ راجعون۔
- اسلام ایک متبادل : ’’دنیاے انسانیت کے لیے اسلام ایک نجات دہندہ دین ہے، جو وحی الٰہی پر مبنی ہے ۔اسلام نے ابتدا ہی سے انسانی مسائل کو حل کیا اور عصر حاضر کے مسائل کا حل بھی اسلام ہی کے پاس ہے، اور اسلام ہی اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اُمید کی واحد کرن ہے ‘‘۔
’’لاریب، دنیا کا مستقبل اسلام کے سائے میں ہے ۔ اسلام کو بطورِ متبادل پیش نہ کرنے کی ذمہ دار مغربی مراکز دانش، میڈیا اور مذہبی مقتدرہ پر تو ہے ہی، لیکن اس کے برابر ذمہ دار مسلمان بھی ہیں۔ اسلام مادہ پرستانہ زندگی پر ایک شدید چوٹ ہے اور مغرب میں مادہ پرستانہ سوچ عروج پر ہے، جس کا شکار مغرب کا ہر فرد ہے۔ تاہم، وہاں اب اس مادہ پرست زندگی سے ہر فرد تنگ آچکا ہے جس کاوہ برملا اظہار بھی کرتا ہے۔ یہ بات بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ مغرب اب اللہ پر ایمان رکھنے کے بجاے مادیت، ترقی، فحاشی، ہم جنسی اور انسانی حقوق کی پامالی پر یقین رکھتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ مغرب کو پتا ہے کہ اسی پیغام میں انسانیت کے مصائب اور مسائل کا حل ہے اور اسلام ہی پیغام رحمت ہے، جو زمان و مکان کی قید سے مبرا ہے‘‘۔ (Al-Dawah,2003)
- دعوتِ دین ، ذرائع ابلاغ اور اسلوب : ’’مغرب میں بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے وجود پر ایمان نہیں رکھتے ہیں، اس لیے ان سے یہ کہنا آسان بات نہیں ہے کہ اللہ نے فلاں فلاں بات کہی ہے اور وہ مان جائیں۔ اس مقصد کے لیے آپ کو قرآنی آیات کے ساتھ ساتھ سائنسی اسلوب اختیار کرنا چاہیے۔ اس طریقے سے ان کو اللہ اور اللہ کے وجود پر ایمان لانے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ ہمارے پاس جو لٹریچر موجود ہے، وہ پوری طرح اس ضرورت کا شافی جواب نہیں ہےکہ جس کی ضرورت ہے۔لہٰذا، جدید اسلوب میں لٹریچر تیار کرنا بھی بہت ضروری ہے۔
اسی طرح مغر ب سے مکالمے کی آج کئی گنا زیادہ ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں مسلمانوں کو خود سے پیش قدمی کر نی چاہیے۔ہمیں اکیسویں صدی میں رہناہے اور اسلام کی نمایندگی کرنی ہے، نہ کہ پیش آمدہ چیلنج کے مقابلے میں فرار کی راہ اختیار کرنی ہے۔ جن لوگوں تک پیغامِ حق ابھی تک نہیں پہنچا ،ان تک یہ پیغام بہم پہنچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی ہے اور اس کے لیے ان تمام معروف اورجدید ذرائع کو بروے کار لانے کی ضرورت ہے جو آج کل میسر ہیں‘‘۔ (ایضاً)
’’پہلے اپنے آپ کو اُن کے لیے قابلِ قبول بنایئے کہ جن کو دعوت دینی ہے، اور پھر ان تک پیغامِ رحمت پہنچائیں۔ یہ دعوت کا سب سے کار آمد اور مفید پہلو ہے۔داعی کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ مشرق اور مغرب دونوں کی فکر و علوم سے واقف ہو۔ اس طرح مغربی زبان اور تہذیب سے بھی بخوبی واقف ہو تاکہ ان تک صحیح اور مؤثر انداز سے بات پہنچا سکے۔ اسلام دنیاے انسانیت کے لیے کوئی نیا مذہب نہیں ہے بلکہ یہ انبیاے کرام کے تسلسل کا ایک حصہ ہے۔ اسلام حضرت عیسٰیؑ ہی کے طریق کار کا ایک مظہر ہے۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ عیسائی دنیا نے ان مسیحی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا بلکہ ان میں بے شمار تحریفات بھی کیں۔ بعد کے ادوار میں بھی عیسائی راہبوں اور عالموں نے تحریفات کا سلسلہ جاری رکھا، یہاں تک کہ جان پال نے عیسائیت کی پوری تصویر بدل کے رکھ دی، جس کے نتیجے میں آج کی عیسائیت درحقیقت سینٹ پال کی تعلیمات اور خرافات کا مرکب بن گئی ہے ۔اسلام کا کردار یہ ہے کہ وہ عیسائیت کو اصل مقام کی طرف واپس لایا اور اس کے ان تمام خرافات اور تحریفات کی نشان دہی کی، جس کی وجہ سے عیسائت فکری انحراف اور انتشار کی شکار ہوئی۔ اب ضرورت ہے کہ ان کے پاس اس الٰہیاتی ہدایت اور انبیاے کرام کی دعوت کی آخری قسط (Episode) کو سائنٹفک اسلوب میں پہنچایا جائے‘‘۔
- احیاے اسلام اور تجدید: مراد ہوف مین کے نزدیک: ’’تجدید اور احیا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور اس سے انکار ممکن نہیں۔ تجدید کا کام اسلام کے کن موضوعات پر ہوگا؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ اسلام میں تجدید کا کام عصر حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق بنانا ہوگا۔ عقائد، عبادات اور اخلاقیات کو چھوڑ کر اس کے تہذیبی پہلوؤں پر تجدید کا کام کرنا انتہائی ضروری ہے۔
’’معیاری اور ہمہ جہت نصاب میں قرآن ،تفسیر، حدیث، فقہ، سیرت اور علم کلام کے ساتھ ساتھ عصری علوم کو شامل کیا جائے۔ قرآن کے مطالعے کے ساتھ کائنات کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔ دراصل ان دونوں کا مطالعہ ہمارے فکر و عمل میں توازن قائم رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔اور میرا یقین ہے کہ احیاے اسلام کا آغاز یورپ سے ہوگا‘‘۔
- مغربی فکر و تہذیب کا زوال: مراد ہوف مین کے نزدیک: ’’مغربی تہذیب اپنی ساخت کے اعتبار سے کامل شربن چکی ہے۔ اس انسانیت خور تہذیب میں منشیات کے ساتھ ساتھ ٹی وی اور انٹرنیٹ بھی شامل ہے ۔مغرب کی اس بے شرم اور روح فرسا تہذیب کی اندرونی صورتِ حال پر اپنے ایک لیکچر میں لکھتے ہیں:’’ مغرب میں طلاق کی شرح خوف ناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ بڑے بڑے شہروں میں آدھے گھر مجرد فرد چلا رہے ہیں، جس میں وہ عورتیں بھی شامل ہیں جو بچہ تو چاہتی ہیں، لیکن شوہر نہیں ۔بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد بن باپ کے پل رہی ہے۔ بہت سے بچے ذہنی عدم توازن کا شکار ہیں ۔انسان نے خدا کے تصور سے دامن چھڑا کر خود کو ہرشے کا معیار قرار دے لیا۔ مذہب تیزی سے انسان کا ذاتی معاملہ بنتا چلا گیا۔ سائنسی علوم نے اس کی جگہ لے لی اور نتیجہ یہ کہ سائنٹزم اور ریشنلزم (Scientism and Rationalism) خود ساختہ مذاہب کا درجہ اختیار کر گئے‘‘۔
- حقوق نسواں اور اسلام : مراد ہوف مین کہتے ہیں:’’دنیا میں اسلام کے سوا ہرمذہب اور تحریک نے صنفِ نازک کو استحصال کے سوا کچھ بھی نہیں دیا اور صرف اسلام نے ہی ان کو ان تمام حقوق سے نوازا، جن کی وہ حق دارہیں اور جو ان کی فطرت کے عین مطابق ہیں‘‘۔
’’عورت کے حقِ خودارادیت اور مردوں سے کندھے سے کندھا ملا کر کام کرنے کے نتیجے میں، مغرب اب بے تحاشا مسائل کا سامنا کر رہا ہے ۔بچوں کو رحم مادر ہی میں گلا گھونٹ دینے کا نعرہ مغرب کا ہی ہے اور جس پر وہ فخر کے ساتھ رُوبہ عمل بھی ہے‘‘ ۔دورِ جاہلیت اور دورِ حاضر کے درمیان فرق کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’دورِجاہلیت میں بچپن میں ہی لڑکیوں کو قتل کر دیا جاتا تھا، جب کہ دورِ جدید میں لڑکیوں کے ساتھ ساتھ تو اب لڑکوں کا بھی اسقاط حمل کے ذریعے سے گلا گھونٹا جا رہا ہے‘‘ ۔مراد ہوف مین کہتے ہیں کہ ’’دنیا میں نصف سے زیادہ آبادی عورتوں پر مشتمل ہے۔ کوئی بھی قوم یا تہذیب، جو ان کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے میں ناکام رہے گی، اسے بالآخر خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مغرب میں مردوں کے برعکس دوشیزاؤں کے اسلام کی طرف زیادہ مائل ہونے کے باوجود بحیثیت مجموعی مغرب میں عورتیں، اسلام سے بہت حد تک شدید بُغض رکھتی ہیں۔ جس کی وجہ محض یہ غلط فہمیاں ہیں کہ اسلام مردوں کا مذہب ہے اور اگر مسلمان مردوں نے ہرجگہ خواتین کو قرآن کے عطاکردہ حقوق دیے ہوتے، تو ہمیں اس غلط فہمی کا سامنا نہ کرنا پڑتا‘‘۔
’’یہ حقیقت ہے کہ روایت پسند مسلم معاشروں نے اپنی عورتوں کو کئی قرآنی حقوق نہیں دیے۔ کیا ہم بھول گئے کہ قرآن کو ہم تک منتقل کرنے والوں میں حضرت حفصہؓ بنت عمر الخطاب بھی ہیں،یا یہ کہ ایک عورت نے مسجد نبوی میں جمعہ کے خطبے میں امیرالمومنین کو عین خطبے کے درمیان روک کر ان پر تنقید کی تھی؟‘‘
- اسلام اور جمہوریت: مغرب ہی کیا عالم اسلام میں بھی سب سے زیادہ جو موضوعِ بحث ہے، وہ اسلام اور جمہوریت ہے ۔اس حوالے سے بعض اسلامی مفکرین اور اسکالرز اسلام اور جمہوریت کو دو متضاد شے قرار دیتے ہیں، جب کہ بعض ان دونوں کو ہم آہنگ ٹھیراتے ہیں۔ مراد ہوف مین ثانی الذکر طبقے سے تعلق رکھتے اور لکھتے ہیں کہ ’’منطقی طور پر سب سے پہلے مسلمانوں کو اس غلط تصور کا خاتمہ کرنا ہوگا کہ اسلام اور جمہوریت ایک ساتھ نہیں چل سکتے ہیں۔ جو لوگ اسلام اور جمہوریت کو باہم متضاد سمجھتے ہیں، وہ نہ اسلام کے بارے میں کچھ جانتے ہیں اور نہ جمہوریت کے بارے میں۔ دنیا کو سب سے پہلے جمہوری اصول اسلام نے سکھائے ہیں۔ ایک چھوٹی اکائی سے لے کر پارلیمنٹ تک اسلام نے ٹھوس اصولوں کو متعین کیا ہے۔ ہم ،جنھوں نے سب سے پہلے اپنا خلیفہ منتخب کیا اور اسے دنیا کے سامنے بھرپور دلیل بنایا کہ خلفاے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین دنیا کی تاریخ میں پہلے منتخب سربراہانِ مملکت تھے‘‘ــ۔
ان کے نزدیک: ’’اسلام جمہوریت کا جو تصور پیش کرتا ہے، اس میں حاکمیت الٰہیہ کو مرکزی مقام حاصل ہے اور قانون سازی کا حق صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے،جس میں تبدیلی کرنے کی کوئی گنجایش نہیں ہوتی۔اسلامی جمہوریت میں کوئی بھی پارلیمان اپنے اہل دستور، یعنی قرآن و سنت میں دیے گئے خدائی احکامات کو اپنے تمام تر قانونی اختیار کے باوجود تبدیل نہیں کر سکے گی۔ اسلام میں جمہوریت نہ مذہبی علَم برداروں کی ہوتی ہے نہ سیکولر علَم برداروں کی بلکہ یہ نظریاتی حکومت ہوتی ہے، جس کا دستورِ اساسی قرآن مجید ہوتا ہے‘‘ (Islam 2000 ،ص۱۲)۔
مراد ہوف مین کا کہنا ہے کہ ’’دنیا میں ہرشخص نے کسی دوسرے شخص سے فیض حاصل کیا اور ہر شخص نے کسی دوسرے شخص کی کامیابیوں پر عمارت کھڑی کی‘‘ ۔موصوف کے نزدیک ’’اسلام تصادم کا قائل نہیں، بلکہ افہام و تفہیم سے تہذیبوں کو آگے بڑھاتا ہے‘‘ ۔
ہمارے عزیز دوست اور سرپرست محترم عبدالرشید صدیقی، ۲۳دسمبر ۲۰۱۹ء کو انتقال فرما گئے: اِنَّـا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ! مجھے اُن کے ساتھ ۱۹۸۵ء سے بہت قریب رہ کر کام کرنے کا موقع ملا، خصوصاً ’ینگ مسلمز‘ (YM)، اسلامک سوسائٹی آف بریٹن (ISB) اور یوکے اسلامک مشن (UKIM) میں تو وہ ہمارے مربی، استاد اور رہنما تھے۔ اُن کی پارسائی، للہیت، بلندخلقی، فروتنی، مخلصانہ سرپرستی اور محبت آگیں رفاقت، وہ جوہری خوبیاں تھیں، جنھوں نے مجھے بے پناہ متاثر کیا اور دینی جذبے کی آنچ سے روشناس کرایا۔
وہ نجی ملاقاتوں میں اور زندگی کے رسمی اور غیررسمی مراحل اور مواقع پر قرآنِ عظیم کی آیات، احادیث کے اسباق اور سیرتِ طیبہ کے واقعات کو بروقت اور اس قدر دل نشین انداز سے تازہ کرتے، سدابہار مسکراہٹ سے دُہراتے اور اس پیارے انداز سے دل میں اُتارتے کہ جی چاہتا: وہ کہیں اور سنا کرے کوئی۔ وہ مزید کچھ بتائیں اور ان مقدس تعلیمات کے زیرسایہ وقت گزارنے کا موقع عنایت فرمائیں۔ یہ تو ایک بڑا روشن پہلو ہے۔ اس کے پہلو بہ پہلو میں نے ذاتی زندگی کے معاملات اور بحرانوں اور پریشانیوں میں رہنمائی کے لیے جب بھی ان سے رجوع کیا، تو انھوں نے کمالِ شفقت، بڑے خلوص، سراپا ہمدردی اور دُور اندیشی سے میری دست گیری کی۔ ان کی راے ہمیشہ صائب، مضبوط اور متوازن ہوتی۔
عبدالرشید صدیقی صاحب ستمبر ۱۹۳۲ء میں ممبئی میں پیدا ہوئے اور ۱۹۶۳ء میں نقل مکانی کرکے برطانیہ تشریف لائے۔ اُن کی صالح فطرت نے انھیں یہاں پہنچنے کے پہلے ہی روز سے اسلامی تنظیموں سے وابستہ رکھا، اور پھر اس دیارِغیر میں انھوں نے زندگی کے ۶۰برس، دعوتِ دین، تزکیہ و تربیت اور تحقیق و تالیف کی سرگرمیوں میں اس طرح گزارے کہ ان کا نام برطانیہ میں خدمت ِ دین کا استعارہ بن گیا۔ مذکورہ بالا تینوں تنظیموں میں بڑا اہم کردار ادا کرنے کے علاوہ طویل مدت تک دی اسلامک فاؤنڈیشن،لیسٹر (TIF) اور مارک فیلڈ انسٹی ٹیوٹ آف ہائر ایجوکیشن (MIHE) کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے رکن بھی رہے۔ مزید یہ کہ ۵۵برس تک ان اداروں کی رہنمائی اور نگرانی کے لیے بہت سی مرکزی ذمہ داریاں بھی ادا کیں، جن میں سینیر نائب صدر، سیکرٹری جنرل، سربراہ شعبۂ دعوت اور صدر شعبۂ منصوبہ سازی شامل ہیں۔
عبدالرشید صدیقی صاحب اپنے حُسنِ اخلاق، اَن تھک ریاضت، کامل یکسوئی، اعلیٰ تحقیقاتی قابلیت کے سبب اور اس سے بڑھ کر مطالعۂ قرآن اور مطالب ِ قرآن میں گہری نظر کی وجہ سے ہم سب کے مرکز نگاہ بن گئے تھے۔ وہ دعوتِ دین اور تربیت ِدین کی مصروفیتوں میں دلی سکون اور طمانیت محسوس کرتے تھے۔
انھوں نے اپنی زندگی کے سفر میں اہم موڑ کی نشان دہی ان لفظوں میں کی ہے: ’’بمبئی میں کالج کی تعلیم کے دوران میں زندگی کے معاملات اور سماجی مسائل سے لاتعلق سا تھا۔ اسی دوران میں میرے ایک عزیز دوست ذاکر علی صدیقی نے مجھے مولانا مودودیؒ کی کتب سے متعارف کرایا، جن کے مطالعے نے طبیعت پر گہرا اثر ڈالا۔ اسی زمانے میں جماعت اسلامی کے ممتاز مربی مولانا شمس پیرزادہؒ کے حلقۂ درسِ قرآن میں باقاعدگی سے شریک ہونے لگا۔ امرواقعہ ہے کہ ان بلندپایہ اور علم وفضل سے مالا مال دروسِ قرآن نے نقطۂ نظر اور مقصد ِ زندگی میں یک سر تبدیلی پیدا کردی اور یہ شعور دیا کہ قرآن صرف پڑھنے کے لیے نہیں، بلکہ غوروفکر کرنے اور زندگی کو اس کے زیراثر گزارنے کے لیے ہے۔ اسی سلسلۂ درس میں مجھے معلوم ہوا کہ قرآن کریم اس وقت تک سمجھ میں آنہیں سکتا، جب تک کہ سنت اور حدیث کے فہم سے انسان کورا اور لاتعلق ہو۔ اس پہلو نے مجھے دینی علوم کی روشنی میں پڑھنے، سمجھنے، لکھنے اور سمجھانے کی راہیں دکھائیں‘‘۔
محترم صدیقی صاحب نے مزید بتایا: ’’شروع میں تو اجلاسوں کی رپورٹیں لکھنے اور پریس ریلیز مرتب کرنے کا کام بڑے شوق سے کرتا رہا۔ پھر اسٹڈی سرکلز چلانے میں مصروف ہوگیا۔ اس کے ساتھ ہی درسِ قرآن دینے پر زور دیا جانے لگا۔ طبیعت میں جھجک تھی اور آواز بھی کچھ تیز تھی، اس لیے حوصلہ نہیں پاتاتھا۔ تاہم، ۲۵برس کی عمر میں بمبئی جیسے بڑے شہر میں ناظم مقرر کردیا گیا۔ اس ذمہ داری نے لازمی طور پر وہاں درس دینے اور اسٹڈی سرکل چلانے کے لیے مطالعے میں وسعت پیدا کرنے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں تک، مؤثر انداز میں ابلاغ کی ذمہ داری ادا کرنے پر اُبھارا،جس نے بہت سی صلاحیتوں کو اُجاگر کیا‘‘۔
یاد رہے زندگی کے ابتدائی عرصے میں عبدالرشید صدیقی صاحب نے معاشیات، سیاسیات اور قانون کی تعلیم بمبئی یونی ورسٹی سے حاصل کی تھی۔ اس کے بعد لندن میں لائبریری سائنس میں ماسٹرز کی سند ِ فضیلت لی۔ وہ لیسٹر یونی ورسٹی میں ۱۹۶۶ء سے ۱۹۹۷ء تک لائبریرین کے منصب پر خدمات انجام دیتے رہے۔ اس مدت میں یونی ورسٹی میں جمعہ کا خطبہ دینے کی ذمہ داری بھی باقاعدگی سے ادا کرتے رہے۔
بقول صدیقی صاحب: ’’جب برطانیہ آیا تو اسلامک مشن کی تشکیل کے بعد اس کے ترجمان پیغام کا مدیر مقرر ہوا۔ اداریہ نویسی کے ساتھ مضامین لکھنے، لکھوانے اور خبروں کو مرتب کرنے کی لازمی مشق بھی شروع ہوئی۔ اس چیز نے لکھنے اور لکھوانے کی منصوبہ سازی کی تربیت دی‘‘۔
تحریرو تصنیف کے ذیل میں عبدالرشید صدیقی صاحب نے بہت قیمتی کتب صدقۂ جاریہ کے طور پر چھوڑی ہیں، جن میں: *Living in Allah's Presence *Treasurers of the Quran *Key to al-Fatihah *Key to Al-Imran *Tazkiyah: The Islamic Path of Self-Development *Quranic Keywords: A Reference Guide *Lift up Your Hearts *Man and Destiny *Shariah: A Divine Code of Life وغیرہ شامل ہیں۔ اسی طرح انھوں نے مختلف اسکالروں کی کتب کو بہت اعلیٰ معیار پر مرتب و مدون کیا۔(ترجمہ: س م خ)
اہلِ کشمیر ایک طویل مدت سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کے خلاف اور اسلام کی سربلندی اور حق خود ارادیت کے حصول کے لیے عزم و ہمت اور صبرواستقامت سے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس جدوجہد کے نتیجے میں ایک لاکھ کے قریب کشمیری مرد و خواتین، نوجوان اور بچے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں، جب کہ ایک لاکھ سے زائد زخمی و معذور ہوچکے ہیں۔ اتنی ہی تعداد میں مرد و خواتین، نوجوان، بزرگ اور بچے بھارتی غاصب فوج کے ہاتھوں گرفتار، جیلوں، تعذیبی مرکزوں، انٹروگیشن سنٹروں اور ٹارچر سیلوں میں نہایت وحشیانہ اور انسانیت سوز مظالم سے دوچار ہیں جن کے تصور ہی سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد لاپتا ہے جن کے بارے میں نہیںمعلوم کہ آیا وہ زندہ بھی ہیں یا ہلاک ہوچکے ہیں۔
اس تمام تر جبر اور انسانی حقوق کی پامالی کے باوجود اہلِ کشمیر نے بھارتی جارحیت اور تہذیبی و ثقافتی یلغار کا منظم انداز میں ایک جامع حکمت عملی سے مقابلہ کیا ہے۔ سیاسی محاذ ہو یا نظریاتی محاذ، تہذیبی و ثقافتی محاذ ہو یا تعلیمی محاذ اور دعوتی محاذہو یا عسکری محاذ___ ہرہرمحاذ پر اہلِ کشمیر نے مسلمانوں کے وجود کو مٹانے کی بھارت کی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور لازوال قربانیوں سے داستانِ عزیمت رقم کی ہے۔
اس تحریکِ آزادی میں خواتین نے بھی مردوں کے شانہ بہ شانہ حصہ لیا ہے اور کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ انھوں نے مردوں کو حوصلہ اور سہارا دیا ہے، اپنے بیٹوں کو جہادکشمیر کے لیے تیار کیا اور بھارتی فوج کے ظلم و جبر اور سفاکیت کو بڑے حوصلے اور ہمت سے برداشت کیا۔ مردوں کے شہید یا لاپتا ہوجانے کے نتیجے میں خواتین کو بہت سے مسائل کا بھی سامنا ہے۔ وہ نیم بیوہ اور نیم بیوی کی سی کیفیت سے دوچار ہیں۔ انھیں نہیں معلوم کہ خاوند حیات ہیں یا شہید ہوچکے ہیں۔ مائوں کو لاپتا ہوجانے والے بچوں کا انتظار ہے کہ آیا زندوں میں ہیں یا مُردوں میں کہ صبر ہی آجائے۔ مردوں کی عدم موجودگی میں خواتین معاشی بوجھ بھی اُٹھائے ہوئے ہیں۔ وہ لاپتا خاوند کا ڈیتھ سرٹیفیکیٹ نہیں پیش کرسکتیں کہ پنشن کی وصولی کی کوئی صورت بن سکے، بلکہ باپردہ خواتین بھیک مانگنے پر مجبور ہیں۔ بھارتی فوج کے ہاتھوں اپنے بچوں بالخصوص بچیوں کے تحفظ کے لیے بھی فکرمند اور ہراساں ہیں اور اس کے نتیجے میں ذہنی امراض سے بھی دوچار ہیں۔
ان حالات میں ادبی محاذ پر کشمیری اہلِ قلم نے ظلم کے خلاف بالخصوص خواتین کو درپیش مسائل اور ان کی قربانیوں کو موضوع بناتے ہوئے قلم اُٹھایا ہے۔ گذشتہ کچھ عرصے میں کئی ناول اور رپورٹیں سامنے آئی ہیں جنھوں نے مؤثرانداز میں ظلم کے خلاف آواز بلند کی ہے اور دنیا کو متوجہ کیا ہے۔ ان میں شہناز بشیر کا ناول Half Mother (نصف ماں)، بشارت پیر کا Curfewed Night (کرفیو کی رات) اور مرزا وحید کا The Collaborater (دشمن سے خفیہ تعاون کرنے والا) معروف ہیں۔ اس کے علاوہ ایک تنظیم ایسوسی ایشن آف پیرنٹس آف ڈس اپیرڈ پرسنز، کے تحت ایک رپورٹ Half Widow, Half Wife(نصف بیوہ، نصف بیوی) بھی سامنے آئی ہے جس میں براہِ راست خواتین سے رابطہ کر کے ان کے مسائل کو موضوع بنایا گیا ہے۔ یہ ان خواتین کے مسائل پر مبنی ہے جنھیں نہیں معلوم کہ ان کے خاوند زندہ ہیں یا وفات پاچکے ہیں۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے: نیم بیوائیں، نیم بیویاں، ترجمان القرآن، مئی ۲۰۱۲ئ)
’نصف ماں‘ (Half Mother) حال ہی میں سامنے آنے والا ناول ہے جس کے جواں سال مصنف، شہناز بشیر سنٹرل یونی ورسٹی آف کشمیر میں میڈیا اسٹڈیز سے وابستہ ہیں۔ انھوں نے اپنے ناول میں ۱۹۸۷ء کے انتخابات کے بعد جب اہلِ کشمیر نے سیاسی عمل سے مایوس ہوکر عسکریت کی حکمت عملی کو اپنایا اور ۱۹۹۰ء میں وادی میں مظالم کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا تھا، کو موضوع بنایا ہے۔ مختلف کرداروں کے ذریعے اس دور کے مظالم کی عکاسی کی کامیاب کوشش کی ہے۔ ۸ہزار لاپتا افراد کے لواحقین بالخصوص مائیں جس کرب اور اذیت سے گزر رہی ہیں، اس کو حلیمہ کے کردار سے نمایاں کیا ہے جس کے جوان بیٹے (عمران) کو بھارتی فوجی اُٹھا کر لے جاتے ہیں۔ اس دوران اس کا سہارا اور حوصلہ دلانے والا باپ بھی شہید کردیا جاتا ہے۔ وہ بے یارومددگار لیکن ماں کی ممتا کے ہاتھوں مجبور ہوکر اپنے بیٹے کی تلاش میں نکل کھڑی ہوتی ہے اور ماری ماری پھرتی ہے۔ پولیس اسٹیشن، جیل، آرمی کیمپ اور ٹارچر سیل اور جہاںتک اس کی رسائی ممکن ہوتی ہے، بیٹے کو تلاش کرتی پھرتی ہے لیکن ناکامی کا منہ ہی دیکھتی ہے۔ یہ خون کے آنسو رُلا دینے والی کہانی ایک کشمیری ماں کے جذبات و احساسات اور اس کے مسائل کی عکاسی کرتے ہوئے قاری کو بہت متاثر کرتی ہے اور سوچنے پر مجبور کردیتی ہے۔
ادبی محاذ پر ایک اور آواز معروف ادیب، مین بُکر پرائز اور سڈنی پیس پرائز کی حامل ارون دھتی راے کی ہے جو ہندو ہونے کے باوجود کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز اُٹھاتی رہتی ہیں۔ ۲۰۰۸ء میں جب مقبوضہ کشمیر میں امرناتھ منتقلی زمین کا تنازع اُٹھا تھا اور حکومت نے غیرقانونی طور پر کشمیر کی زمین ہندو پنڈتوں کو الاٹ کرنے کی کوشش کی تھی تو پورے کشمیر میں احتجاجی تحریک شروع ہوگئی تھی اور لاکھوں کشمیری اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ اس موقعے پر ارون دھتی راے نے کشمیر کا دورہ کیا تھا اور پھر ایک تنقیدی انٹرویو میں چشم دید مشاہدات کی روشنی میں یہ مطالبہ کیا تھا کہ اہلِ کشمیر اگر بھارت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے تو ان کو علیحدگی کا حق ملنا چاہیے۔ یہ انٹرویو ٹائمز آف انڈیا میں ۸؍اگست ۲۰۰۸ء کو شائع ہوا۔ اس پر انھیں ہندوئوں کی طرف سے سخت احتجاج اور دھمکیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ تاہم یہ دبائو انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کوشاں اس ادیبہ کو اہلِ کشمیر کے حق میں آواز بلند کرنے سے نہ روک سکا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ جس طرح اہلِ کشمیر ادبی محاذ پر سرگرمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، پاکستانی ادیب بھی اپنا فرض ادا کریں۔ افسانہ، ناول اور شاعری کے ذریعے کشمیر کا مقدمہ پیش کریں اور دلوں اور جذبات کی ترجمانی کریں۔ آج سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں آواز پہنچانا بہت سہل ہوگیا ہے۔ اہلِ کشمیر اگر اپنے خون کی سرخی سے تاریخ رقم کر رہے ہیں، تو کیا پاکستانی اہلِ قلم کا فرض نہیں کہ وہ بھی اپنے قلم کی سیاہی سے کچھ قرض ادا کریں۔