سوال: مذاہب کا پروگرام اگر انسانی فطرت کے لیے کشش رکھتا تھا تو متقی لوگوں نے کسی بھی ملک و قوم میں بہتر سوسائٹی بنانے میں کیوں کامیابی حاصل نہیں کی؟ اگر انسانیت کی پوری تاریخ میں بھی مذہب کامیاب نہ ہوسکا تو آج کیوں کر اس سے امن و ترقی کی اُمیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں؟ یہ کہہ دینا کہ انسانی فطرت ہی میں خرابی مضمر تھی، مفید نہیں ہوسکتا۔ مذاہب حق کو زندہ کرنے اور باطل کو مٹانے کے لیے کام کرتے رہے مگر نتیجہ تھوڑے تھوڑے وقفے کو چھوڑ کر ہمیشہ اُلٹا ہی نکلا اور تاریخ کے سیلاب کا رُخ نہ بدلا، یا بالفاظِ دیگر شیطان کی طاقت شکست نہ کھا سکی؟
جواب: آپ کا یہ سوال جتنے مختصر لفظوں میں ہے، اتنے مختصر لفظوں میں اس کا جواب نہیں دیا جاسکتا۔ تاہم اگر محض اشارات سے آپ کی تشفی ہوسکے تو جواب یہ ہے کہ اوّل تو آپ لفظِ مذہب کے نام سے جس چیز کو مُراد لیتے ہیں اس کا تعین کریں۔ اگر مذہب کا لفظ آپ جنس کے طور پر استعمال کر رہے ہیں جس میں ہرقسم کے مذاہب شامل ہیں تو اس کی طرف سے جواب دہی کرنا میرا کام نہیں ہے۔ اور اگر مذہب سے آپ کی مراد دین حق، یعنی وہ دین ہے جس کی تعلیم ابتداے آفرینش سے انسان کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی جاتی رہی ہے اور جس کا نام عربی زبان میں اسلام ہے، تو وہ مجموعہ ہے اُن اصولوں کا جو کائنات کی واقعی حقیقتوں پر مبنی ہیں اور بجاے خود صحیح ہیں، خواہ انسان ان کو مانے یا نہ مانے۔
ان کی مثال ایسی ہے، جیسے مثلاً حفظانِ صحت کے اصول ہیں کہ وہ انسان کے جسم کی ساخت اور اس کے اعضا کی حقیقی فعلیت اور اس کے طبعی ماحول کی واقعی حقیقتوں پر مبنی ہیں۔ ان اصولوں کے مطابق کھانا، پینا، سانس لینا، آرام کرنا وغیرہ لازمی طور پر انسان کو تندرست رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص یا ساری دنیا مل کر بھی ان اصولوں کی خلاف ورزی کرے تو نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ حفظانِ صحت کے اصول باطل ہیں، نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کی پابندی کرنا انسانی فطرت کا تقاضا نہیں ہے، نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ اصول ٹوٹ گئے اور شکست کھاگئے، اور نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ انسانوں کی اس خلاف ورزی نے ان اصولوں کا کوئی نقصان کیا ہے، بلکہ درحقیقت اگر انسان ان اصولوں کے خلاف چلتے ہیں تو یہ ان کی ناکامی ہے اور نقصان ان کا اپنا ہے نہ کہ ان اصولوں کا۔
پس آپ جس چیز کو مذہب کی ناکامی کہہ رہے ہیں، وہ مذہب کی ناکامی نہیں، انسانوں کی ناکامی ہے۔ مثال کے طور پر مذہب ہم کو امانت کی تعلیم دیتا ہے۔ اب اگر تمام دنیا کے انسان مل کر بھی خیانت شروع کر دیں اور امانتوں کو ضائع کرنے لگیں تو کیا آپ یہ کہیں گے کہ مذہب ناکام ہوا؟ مذہب کی ناکامی تو اس صورت میں ہوسکتی ہے، جب کہ یا تو یہ ثابت ہوجائے کہ فطرتِ کائنات اور فطرتِ انسان امانت کی نہیں خیانت کی مقتضی ہے، یا یہ ثابت ہوجائے کہ انسانی زندگی کا حقیقی امن اور تمدنِ انسانی کا قابلِ اعتماد استقلال اور تہذیب کا تسلسلِ ارتقا امانت سے نہیں بلکہ خیانت سے قائم ہوتا ہے۔ لیکن اگر یہ ثابت نہیں ہوتا اور نہیں ہوسکتا تو انسانوں کا امانت چھوڑ کر خیانت کو اختیار کرنا اور اس سے اخلاقی، روحانی اور تمدنی نقصانات اُٹھانا انسانوں کی ناکامی کا ثبوت ہے، نہ کہ ’مذہب‘ یا دین کی ناکامی کا۔ اسی طرح اور جتنے اصول ’دین‘ نے پیش کیے ہیں یا بالفاظِ دیگر جن اصولوں کے مجموعے کا نام ’دینِ حق‘ ہے ان کو جانچ کر دیکھیے کہ وہ حق ہیں یا نہیں؟ اگر وہ حق ہیں تو ان کی کامیابی و ناکامی کا فیصلہ اس بنا پر نہ کیجیے کہ انسانوں نے ان کی پابندی کی ہے یا نہیں۔ انسانوں نے جب ان کی پیروی کی تو وہ خود کامیاب ہوئے اور اگر ان کی پیروی نہ کی تو وہ خود ناکام ہوئے۔(سیدابوالاعلیٰ مودودی، رسائل و مسائل، سوم، ص ۱۴۵-۱۴۸)
س: قرآن مجید کی تمام سورتوں کی ابتدا میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی جاتی ہے، ماسوا سورئہ توبہ کے۔ مولانا مودودیؒ لکھتے ہیں کہ ’’حضوؐر کی وفات کے بعد حضرت ابوبکرؓ کے زمانے میں جب قرآن مجید کو مرتب کرنے کا ارادہ کیا گیا تو اس تھیلے کو نکالا گیا اور تمام سورتوں کی ترتیب، جیسے کہ رسولؐ اللہ نے بتائی تھی، وہ قائم رکھ کر ان کی نقل تیار کی گئی۔ تو چوں کہ حضوؐر کی لکھوائی ہوئی سورئہ توبہ کے شروع میں بسم اللہ درج نہیں تھی، اس وجہ سے صحابہ کرامؓ نے بھی اسے درج نہیں کیا۔ باقی کوئی سورت قرآنِ مجید کی ایسی نہیں ہے، جس کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے نہ ہوا ہو‘‘۔
دراصل سورئہ توبہ کی ابتدا میں بسم اللہ کیوں نہ پڑھی جائے؟ اس کا سبب تشنہ رہ جاتا ہے۔ ازراہِ کرم اس جانب رہ نمائی فرمائیں یا کسی تفسیر کا حوالہ دیں تاکہ تشنگی دُور ہوسکے۔
ج: تفہیم القرآن ، جلد دوم، سورئہ توبہ کے شروع میں مولانا مودودیؒ نے جو نوٹ لکھا ہے، اس میں ’بسم اللہ نہ لکھنے کی وجہ‘ کے ذیلی عنوان کے تحت فرمایا ہے: ’’اس سورہ کی ابتدا میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھی جاتی۔ اس کے متعدد وجوہ مفسرین نے بیان کیے ہیں، جن میں بہت کچھ اختلاف ہے۔ مگر صحیح بات وہی ہے جو امام رازیؒ نے لکھی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس کے آغاز میں بسم اللہ نہیں لکھوائی تھی، اس لیے صحابہ کرامؓ نے بھی نہیں لکھی اور بعد کے لوگ بھی اسی کی پیروی کرتے رہے۔ یہ اس بات کا مزید ایک ثبوت ہے کہ قرآن کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جوں کا توں لینے، اور جیساتھا ویسا ہی اس کے محفوظ رکھنے میں کس درجہ احتیاط و اہتمام سے کام لیا گیا ہے‘‘۔
سورئہ توبہ کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کیوں نہیں لکھی گئی؟ اس سلسلے میں مفسرین نے متعدد اقوال نقل کیے ہیں۔ لیکن ان کی حیثیت بس نکات و لطائف کی ہے۔ علامہ قرطبیؒ نے ایک قول یہ نقل کیا ہے کہ اہلِ عرب جب کسی قوم سے کیے ہوئے اپنے معاہدوں کو منسوخ کرتے تھے تو منسوخی کے اعلان کے لیے تیار کردہ تحریر پر بسم اللہ نہیں لکھتے تھے۔ سورئہ توبہ میں بھی مشرکین سے کیے گئے معاہدے کی منسوخی کا اعلان ہے، اس لیے اس کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے نہیں کیا گیا اور جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ کو بھیجاکہ حج کے موقع پر ان آیات کو علی الاعلان سنا دیں تو انھوں نے بھی شروع میں بسم اللہ نہیں پڑھی۔
ایک دوسرا قول انھوں نے حضرت علیؓ سے نقل کیا ہے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم اصلاً امان اور رحمت کا مظہر ہے، جب کہ اس سورت سے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور غضب کا اظہار ہوتا ہے (تفسیر قرطبی، طبع مصر، ۱۹۸۷ء، ۸/۶۳)۔ لیکن اس تاویل کو علامہ آلوسی نے ضعیف بتایا ہے۔ اس لیے کہ بعض دیگر سورتوں، مثلاً مطففین، ہمزہ اور لہب وغیرہ کا آغاز بھی اللہ کے غضب سے ہوا ہے، مگر ان کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھی جاتی ہے۔ (روح المعانی، طبع مصر، ۱/۴۱)
اس سلسلے میں قولِ فیصل وہی ہے جسے علامہ قرطبیؒ نے امام قشیریؒ کے واسطے سے نقل کیا ہے: ’’صحیح بات یہ ہے کہ یہاں بسم اللہ الرحمن الرحیم اس لیے نہیں لکھی جاتی کیوں کہ حضرت جبرئیل ؑجو قرآن لے کر نازل ہوئے تھے، اس میں یہاں وہ نہیں تھی‘‘۔(تفسیر قرطبی، ۸/۶۳)
یہ تو بسم اللہ الرحمن الرحیم نہ لکھے جانے کی بات ہے۔ جہاں تک اس کے پڑھنے یا نہ پڑھنے کا معاملہ ہے، تو اس سلسلے میں علما فرماتے ہیں کہ چوں کہ یہاں وہ لکھی ہوئی نہیں ہے، اس لیے اسے پڑھنا بھی نہیں چاہیے۔ لیکن بعض علما اس کے پڑھنے کی اجازت دیتے ہیں۔ اس موضوع پر علامہ آلوسی نے کسی قدر تفصیل سے لکھاہے، جسے نقل کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ وہ امام سخاویؒ کے حوالے سے فرماتے ہیں: ’’مشہور ہے کہ سورئہ توبہ کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہ پڑھی جائے۔ عاصمؒ سے مروی ہے کہ پڑھنی چاہیے۔ یہ بات انھوں نے قیاساً کہی ہے۔ کیوں کہ اس کے لکھے نہ جانے کا سبب یا تو یہ ہے کہ اس میں مشرکینِ مکہ سے جنگ کی بات کہی گئی ہے یا یہ ہے کہ صحابہ قطعی طور پر طے نہیں کرپائے تھے کہ یہ مستقل سورت ہے یا سورئہ انفال کا حصہ ہے۔ پہلی صورت میں اس کا حکم ان لوگوں کے ساتھ خاص ہوگا جن کے بارے میں یہ سورت اُتری تھی اور ہم تو اسے برکت حاصل کرنے کے لیے پڑھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر ان آیتوں سے قرآن پڑھنے کا آغاز کیا جائے جن میں مشرکین سے جنگ کرنے کا حکم ہے تو ان سے پہلے بسم اللہ پڑھنا بالاتفاق جائز ہے۔ دوسری صورت میں بھی بسم اللہ پڑھی جاسکتی ہے جس طرح سورتوں کے شروع میں بسم اللہ پڑھنی چاہیے۔ روایت میں ہے کہ مصحفِ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے شروع میں وہ لکھی ہوئی تھی‘‘۔ (روح المعانی، ۱۰/۴۲)
علامہ آلوسیؒ مزید فرماتے ہیں: ’’ابن منادر کی راے ہے کہ بسم اللہ (سورئہ توبہ کے شروع میں) پڑھنی چاہیے۔ الاتناع میں بھی اس کے جواز کی بات کہی گئی ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ اسے نہ پڑھنا مستحب ہے، اس لیے کہ مصحف میں وہ درج نہیں ہے اور اس معاملے میں کسی دوسرے کی تقلید نہیں کی جائے گی۔ لیکن اس جگہ بسم اللہ پڑھنے کو حرام قرار دینا اور نہ پڑھنے کو واجب کہنا، جیساکہ بعض مشائخ شافعیہ کا خیال ہے، تو ظاہر ہے کہ یہ بات صحیح نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو شخص درمیانِ سورہ سے تلاوت شروع کرے، اس کے لیے بسم اللہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے واللّٰہ تعالٰی اعلم‘‘۔ (روح المعانی، ۱۰/۴۲)
اس موضوع پر مولانا مفتی محمد شفیع عثمانیؒ نے اپنی تفسیر میں صحیح رہ نمائی کی ہے: ’’حضرات فقہا نے فرمایا ہے کہ جو شخص اُوپر سے سورئہ انفال کی تلاوت کرتا آیا ہو اور سورئہ توبہ شروع کر رہا ہو وہ بسم اللہ نہ پڑھے، لیکن جو شخص اس سورت کے شروع یا درمیان سے اپنی تلاوت شروع کر رہا ہے، اس کو چاہیے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر شروع کرے۔ بعض ناواقف یہ سمجھتے ہیں کہ سورئہ توبہ کی تلاوت میں کسی حال میں بسم اللہ پڑھنا جائز نہیں۔ یہ غلط ہے اور اس پر دوسری غلطی یہ ہے کہ بجاے بسم اللہ کے، یہ لوگ اس کے شروع میں اعوذ باللّٰہ من النار پڑھتے ہیں، جس کا کوئی ثبوت آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ سے نہیں ہے‘‘ (معارف القرآن، طبع دیوبند، ۴/۷۷)۔ (رضی الاسلام ندوی، زندگی نو، نئی دہلی، مئی ۲۰۱۱ء)
س: ایسا ناقص الخلقت جنین، جس کے بارے میں الٹراسائونڈ سے یقین ہوگیا ہو کہ وہ پیدا ہوگا تو مختصر عرصے میں مرجائے گا یا زندہ رہے گا تو معمول کی زندگی نہیںگزار سکے گا۔ کیا اس کا اسقاط کراناجائز ہے؟
ج: اسلامی شریعت نے جنین کو وہی حیثیت دی ہے جو زندہ انسان کی ہوتی ہے۔ اسی لیے اس نے ان تمام صورتوں کو ممنوع قرار دیا ہے جن سے جنین کو ضرر لاحق ہوسکتا ہے۔ اگر جنین کو کسی قسم کا خطرہ ہو تو حاملہ یا مرضعہ (دودھ پلانے والی) عورت کو رمضان کے روزے نہ رکھنے کا حکم ہے۔ اسی طرح اس پر حد جاری نہیں کی جاسکتی، جب تک کہ وہ بچے کو جنم نہ دے لے اور وہ دودھ چھڑانے کی عمر کو نہ پہنچ جائے۔
اسی بنا پر علما نے روح پھونکے جانے کی مدت کے بعد اسقاط کو ناجائز قرار دیا ہے۔ یہ مدت بخاری و مسلم کی ایک حدیث کے مطابق ۱۲۰ دن ہے۔ اس سے قبل اس کے جواز یا عدم جواز کے سلسلے میں ان کا اختلاف ہے۔ بعض علما کے نزدیک بہ وقت ِ ضرورت جائز ہے۔ کیوں کہ روح پھونکے جانے سے قبل جنین محض ایک بے جان لوتھڑا ہے، لیکن بعض علما اس وقت بھی اسقاط کو حرام نہیں تو مکروہ ضرور قرار دیتے ہیں۔ اس لیے کہ اگر اسے چھوڑ دیا جائے تو آیندہ اس میں روح پڑ جائے گی۔
بعض علما کے نزدیک روح پھونکے جانے کی مدت کے بعد بھی ناگزیر حالت میں اسقاط کروایا جاسکتا ہے۔ یہ ناگزیر صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ جنین میں کوئی ایسا تخلیقی نقص پیدا ہوجائے کہ پیدا ہونے کے بعد اس کی زندگی اجیرن ہوجائے۔ الٹراسائونڈ سے ایسے نقائص کا پتا لگ جاتا ہے۔ علامہ یوسف القرضاوی نے ایک سوال کے جواب میں اس موضوع پر تفصیل سے لکھا ہے اور ان علما کی راے سے اپنے اختلاف کا اظہار کرتے ہوئے بعض دلائل دیے ہیں۔
آخر میں لکھا ہے: ’’میری نظر میں صرف ایک ہی ایسی صورت ہے جس میں اسقاط کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ وہ یہ کہ اسقاط نہ کرایا گیا تو ماں کی جان کو خطرہ لاحق ہوجائے۔ ایسی صورت میں ماں کی جان بچانے کے لیے حمل کو ساقط کرایا جاسکتا ہے۔ کیوں کہ ماں کی جان بہرحال بچے کی جان سے زیادہ اہم ہے (فتاویٰ یوسف القرضاوی، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی، جلد دوم، ص ۲۲۵)۔ (رضی الاسلام ندوی، زندگی نو، نئی دہلی، مئی ۲۰۱۱ء)
س: بعض اوقات انسان کے ذہن میں عجیب و غریب قسم کے سوالات و وسوسے آنے لگتے ہیں ، کیا ان وسوسوں پر مواخذہ کیا جائے گا؟
ج: دل میں خیالات و وساوس کا آنا خاصۂ انسانی ہے۔ نماز کے دوران اگر وسوسے آئیں تو کوشش کرکے انھیں جھٹک دینا چاہیے۔ عام حالات میں بھی وسوسے مطلوب نہیں لیکن بہرحال یہ انسانی کمزوری ہے۔ اسی لیے نبی رئوف و رحیم نے امت کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ رب العالمین نے اپنی رحمت خاص سے میری امت پر سے دل میں گزرنے والے خیالات و وساوس پر مواخذہ نہ کرنے کی بشارت دی ہے، جب تک کہ اس وسوسے کو زبان پر نہ لایا جائے اور نہ اس کے مطابق کوئی عمل ہی کیا جائے۔ صحیح حدیث میں یہ بھی ثابت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریمؐ سے صحابہؓ نے یہ سوال کیا کہ ان کے دل میں خیالات و وسوسے آتے ہیں، تو آپؐ نے فرمایا کہ ہاں یہ وسوسے آنے کا عمل انسانی کمزوری ہے۔ یہ عمل بعض اوقات انسان کو اس مقام پر لے آتا ہے کہ وہ سوچتا ہے ساری مخلوق کو اللہ نے پیدا کیا ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا جب ایسا خیال ذہن میں آئے تو سمجھو کہ یہ شیطان ہے۔ اس لیے وسوسوں کو ذہن سے فوراً جھٹک کر یہ کہیے: اٰمنت باللّٰہ ورسلہ۔ ایک دوسری روایت میں آں حضورؐ نے فرمایا: ایسی کیفیت میں انسان کو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے اور ان خیالات کو یکسر ترک کرنا چاہیے (مسلم)۔ واللّٰہ اعلم بالصواب۔ (شیخ عبدالعزیز بن بازؒ،ترجمہ: حافظ محمدادریس، المجتمع، کویت، شمارہ ۱۹۵۳، ۲۱مئی ۲۰۱۱ء)
س: قرآن مجید اگر غلطی سے ہاتھ سے گر جائے تو اس کا کیا کفارہ ہے، اور کیا ایسی صورت میں اسے چوم کر اونچی جگہ پر رکھنا چاہیے؟
ج: صحابی جلیل حضرت عکرمہؓ بن ابی جہل کے بارے میں یہ روایت بیان کی گئی ہے کہ وہ مصحف شریف کی تلاوت کرتے ہوئے اسے چوما کرتے تھے اور ساتھ کہا کرتے تھے کہ یہ میرے رب کریم کا عظیم الشان کلام ہے۔ اس لیے قرآن مجید کو چومنے میں کوئی حرج نہیں مگر قرآن مجید غلطی سے نیچے گر جائے تو اس پر کوئی کفارہ نہیں۔ اسی طرح یہ بات بھی سامنے رہنی چاہیے کہ قرآن مجید کو چومنا واجباتِ شرعیہ میں سے بھی نہیں ہے۔ پس قرآن مجید کی عظمت کے پیش نظر گرجانے کی صورت میں یا اس کے بغیر بھی قرآن کو عقیدت و محبت سے چوما جائے تو ہمارے نزدیک اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔(ایضاً)
سیاسی اور بین الاقوامی مسائل پر اسلام کی رہنمائی زیادہ تر اصولی ہدایات پر مبنی ہے۔ اس کی تفصیلات سے بہت زیادہ بحث نہیں کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے مسائل کے بارے میں ہمارے فقہی ذخیرے میں آرا کا ایک تنوع موجود ہے۔ گویا یہ مسائل ہر عہد کے اہلِ اسلام کو اسلام کی فراہم کردہ اصولی ہدایات کی روشنی میں خود حل کرنے ہوں گے جس کی مثالیں فقہا کی آرا کی صورت میں موجود ہیں۔ ’فقہی مباحث‘ میں بعض ایسے ہی اہم اور نازک مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ آٹھ عنوانات میں منقسم یہ کتاب بہت جامعیت کے ساتھ اسلامی شریعت میں اجتہاد کے عمل، دارالاسلام اور دارالحرب کا تصور (جدید عالمی تناظر میں)، اسلامی ریاست میں غیرمسلموں پر اسلامی قانون اور حدود کا نفاذ، غیرمسلموں سے ازدواجی تعلقات، اسلام کا قانونِ قصاص و دیت اور قذف و لعان کے احکام پر بھرپور رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
کتاب کی یہ خوبی خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہے کہ مصنف نے ذاتی تبصرے کا دخل بہت کم رکھا ہے۔ قرآن و حدیث کے نصوص اور فقہاے اسلام کی آرا ہی سے موضوع پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اگرچہ فقہی مباحث کے مسائل خالص فقہی نوعیت کے ہیں مگر جامع علمی اسلوب کی بنا پر عام فہم انداز میں سامنے آتے ہیں۔ غیرمسلم ممالک میں مقیم مسلمانوں اور مسلم ممالک میں مقیم غیرمسلموں کے لیے اسلامی شریعت نے جو رہنمائی فراہم کی ہے، اُردو قارئین کے لیے اس سے استفادے کی ایک صورت اس کتاب کا مطالعہ ہوسکتی ہے۔ مصنف نے انکسار کے ساتھ اس بات کا اظہار کیا ہے کہ’’ ان مسائل کی نوعیت ایک طالب علم کے قلم سے زیربحث موضوعات کے تعارف اور ان پر اظہارِ خیال کی ہے۔ یہ کسی فرد یا ادارے کی ترجمانی نہیں ہے‘‘۔ (ص ۹)
مجلہ تحقیقاتِ اسلامی میں شائع شدہ مزید ایسے علمی و فقہی ذخیرے کو کتابی صورت میں شائع کرنے کی ضرورت ہے۔ بایں ہمہ زیرنظر کتاب کسی محقق و عالم کی بنیادی ضرورت کو بھی بخوبی پورا کرتی ہے۔ (ارشاد الرحمٰن)
تجوید جیسے فنی موضوع پر ایک خاتون کی جانب سے اتنی عمدہ معیاری کتاب مسلمان خواتین کی درخشاں علمی روایت کا تسلسل ہے۔ اس کتاب کی مؤلفہ شاہدہ قاری نے اس سے قبل فضیلتِ قرآن اور قواعد فنِ تجوید کے نام سے بھی کتابیں لکھی ہیں۔
جَوّدِ القرآن ۱۰ ابواب پر مشتمل بڑے سائز کی ضخیم مجلّد کتاب ہے جس میں علم التجوید کے مشکل مباحث کو نہایت سلیس انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ پہلا طویل باب ’تعارف قرآنِ مجید‘ (۷۲صفحات) ایک منفرد کاوش قرار دیا جاسکتا ہے۔ متعلقہ احادیث ترجمہ اور قابلِ توجہ نکات کے ساتھ، آدابِ قرآن، آدابِ تلاوت، حقِ قرآن (عمل پر تاکید) تجوید، ترتیل، عیوبِ تلاوت، معلومات، جمع قرآن، قراے سابعہ اور ان کے راویوں کے حالات، اس میں سب ہی کچھ ہے۔ بعد کے آٹھ ابواب میں حروف کے مخارج اور صفات کی پہچان کے لیے نقشوں، چارٹس اور تصاویر سے مدد لی گئی ہے۔ مختلف رنگوں کے استعمال سے تفہیم کا انداز مزید سہل بنا دیاگیا ہے۔ ایسے وقت میں کہ ملک میں تجوید کے ساتھ قراء ت کرنے کا مبارک رجحان روز افزوں ہے، اس طرح کی دل کش کتابیں ایک بڑی ضرورت کو پورا کرتی ہیں۔یہ کتاب دینی مدارس اور عصری تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات کے لیے انتہائی مفید ہے۔ کتاب کی ترتیب اس طرح ہے کہ اسے نصاب کے طور پر بھی پڑھایا جاسکتا ہے۔ اپنے شوق سے تجوید سیکھنے والے افراد بھی اس سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ اگر قرآن انسٹی ٹیوٹ اس کا آڈیو وڈیو کیسٹ تیار کر دے تو کیا کہنا۔ طباعت اور پیش کش کا معیار اعلیٰ ہے۔ (حافظ ساجد انور)
سیرتِ رسولؐ ایک نہ ختم ہونے والا موضوع ہے۔ روایتی مضامین اور کتب شائع ہوتی ہیں، ان کی اپنی کشش اور ضرورت ہے۔ لیکن کبھی غیرروایتی پیش کش بھی سامنے آجاتی ہے۔ زیرتبصرہ خصوصی اشاعت اسی زمرے سے ہے۔
یہ کہا تو جاتا ہے کہ سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں آج کے دور کے انسان کی زندگی کے ہرطرح کے مسائل کا حل ہے لیکن اس حوالے سے مسائل کا تعین کرکے خصوصی مطالعے پیش کرنا اور وہ بھی یک جا، ایسا کام ہے جس کی تحسین نہ کرنا زیادتی ہوگا۔
اس خصوصی اشاعت کو نو ابواب میںتقسیم کیا گیا ہے، مثلاً شخصی ارتقا، لائف اسٹائل، سماج کے کمزور طبقات، عالمی مسائل، تمدنی مسائل، معاشی اور معاشرتی مسائل۔ ان کے تحت ۴۹ مقالات پیش کیے گئے ہیں۔ چند عنوانات یہ ہیں: انسانی وسائل کا فروغ، صارفین کا مسئلہ، مالیاتی بحران، آرٹ کلچر اور تفریحات، خواتین کے مسائل، معذوروں کا مقام، جنگی اخلاقیات، جنگی قیدی، ماحولیاتی بحران، وطن پرستی، حقوق انسانی، فحاشی و عریانی، معاشی پس ماندگی، urbanisation، (شہرکاری) بین المذاہب ڈائیلاگ وغیرہ۔ کئی مقالات عمومی نوعیت کے ہیں۔ لکھنے والوں میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، ڈاکٹر محمد رفعت، رضی الاسلام ندوی، یٰسین مظہرصدیقی، پروفیسر عبدالواسع اور بہت سے دوسرے شامل ہیں۔ یہ اشاعت معنوی اعتبار سے وقیع اور دستاویزی ہونے کے ساتھ ساتھ ظاہری طور پر دیدہ زیب اور دل کش ہے۔ (مسلم سجاد)
جنیدثاقب ۲۰۰۸ء میں شدید بیمار ہوگئے۔ کہتے ہیں یوں لگا کہ میرا سفر زندگی تمام ہوا، مجھے شدید پچھتاوا ہوا کہ استطاعت کے باوجود حج نہیں کرسکا۔ اب اگر میں اس دنیا سے رخصت ہوتا ہوں تو اپنے رب کے سامنے کیا منہ لے کر جائوں گا (ص ۱۳)۔ یہی پچھتاوا ان کے لیے سفرِحج کا محرّک بن گیا۔ چنانچہ ۲۰۰۹ء کے سفرِحج کی روداد انھوں نے اپنے استاد (پروفیسر محمد اکرم طاہر) کے شوق دلانے پر لکھ ڈالی۔ طاہرصاحب نے ’پیش لفظ‘ میں اسے ’حج کے سفرناموں میں ایک نہایت قابلِ قدر اضافہ‘ قرار دیا ہے (ص۹)۔ (اضافہ ہے یا نہیں؟ اس کا فیصلہ تاریخِ ادب کرے گی مگر) سفرنامہ دل چسپ ضرور ہے۔
حج اور عمرے کے بیش تر معاصر سفرناموں میں جو کچھ ہوتا ہے، مثلاً جدہ کیسے پہنچے؟ ہوائی اڈے پر حجاج سے کیا سلوک ہوا؟ مکّہ پہنچنے میں غیرمعمولی تاخیر، معلّم کی بے حسی، وزارتِ مذہبی امور کی بے نیازی، حرم سے قیام گاہوں کی دُوری، طواف کی لذت، مِنٰی اور عرفات کی سختیاں اور پریشانیاں، شیطانوں پر کنکرزنی، اپنے خیمے کا راستہ بھولنا، طوافِ وداع میں غیرمعمولی ہجوم وغیرہ، غرض سفرِحج کی تمام آزمایشوں کا ذکر اس سفرنامے میں بھی موجود ہے لیکن اس کے چند پہلو قاری کو متاثر کرتے ہیں، مثلاً زائر کی صاف گوئی ، حرم میں زیادہ سے زیادہ وقت گزار کر، ’نیکیاں کمانے‘ کی معصومانہ خواہش (جس پر جنید ثاقب نے دوستوں کے ساتھ جدہ جانے کا پروگرام بھی قربان کردیا) (ص ۶۳)۔ اسی طرح حرمین کے مختلف مقامات کی یادیں جوان کی رومانوی افتادِ طبع سے چمٹ کر بار بار تازہ ہوتی ہیں۔ اسی طرح اتباعِ سنت کی قابلِ تعریف کوشش۔ (ص ۸۴)
نام مکّہ میں نیا جنم اس لحاظ سے معنی خیز ہے کہ اس سفر میں جنید ثاقب کو دو اعتبار سے نئی زندگی ملی۔ اوّل اس لحاظ سے کہ حج قبول ہوا (تو حقوق العباد کو چھوڑ کر) زائر نے گناہوں سے پاک و صاف ہوکر گویا ’نیا جنم‘ لیا۔ دوم: روزِ عرفات انھیں جسمانی طور پر بھی نئی زندگی عطا ہوئی۔ وہ موت کے بہت قریب پہنچ کر بچ نکلے۔ مسجد نمرہ سے نکلتے ہوئے ایک بھگدڑ کی زد میں آگئے تھے۔ کہتے ہیں کہ میرے اللہ نے مجھے ’’اُس بھیڑ اور خوف ناک بھگدڑ سے نکال دیا جس میں گیارہ لوگ شہید ہوئے اور لاتعداد زخمی۔ مجھے نہیں معلوم کہ میںکیسے وہاں سے نکل آیا؟‘‘ (ص ۴۷)۔ بارھویں یہ بھی ہوسکتے تھے، اس لیے واقعی یہ ان کا ’نیا جنم‘ تھا۔ تین صفحات پر مشتمل مسجدنمرہ پہنچنے اوروہاں سے نکلنے کی اس روداد میں افسانے کا ساتحیّر(suspense) ہے۔ اسی طرح کے افسانوی بیانات سفرنامے کے بعض دوسرے حصوں میں بھی ملتے ہیں، مثلاً مدینہ منورہ میں ان کی بیلٹ کسی تیزدھار آلے سے کاٹی گئی۔ بیلٹ میں واپسی کی ہوائی ٹکٹ، پاسپورٹ کی نقل اور دوہزار ریال تھے مگر ’’خدا نے میری جان اور مال دونوں کو محفوظ رکھا، مجھے بچا لیا گیا‘‘۔ (ص ۱۱۴)
بیش تر نئے قلم کاروں کی طرح جنید ثاقب کے ہاں بھی زبان و بیان کی خامیاں موجود ہیں۔ سب سے تکلیف دہ انگریزی لفظوں کا بلاضرورت استعمال ہے اور اس طرح کے جملے ہیں: ’فاسٹ فوڈ کے ہوٹلز کی ایک چین ہے‘‘ یا ’’فاسٹ فوڈ کھانے کا موڈ ہوتا‘‘ (ص ۳۷)۔ کیا اُردو زبان کی آلودگی میں اضافہ کرنے والے انگریزی الفاظ کی جگہ اُردو میں موجود متبادل الفاظ استعمال نہیں کیے جاسکتے؟براہ کرم ’انگریزیت‘ سے بچنے کی شعوری کوشش کیجیے۔ (رفیع الدین ہاشمی)
تاریخ جہاں مختلف واقعات و حوادث کا مرقع ہے وہیں پر مردانِ بے باک و جری کے تذکرۂ جانفزا کا نام ہے___ تاریخ دراصل قوموں کے حافظے کا نام ہے جس سے قومیں اپنے مستقبل کا لائحہ عمل متعین کرتی اور آگے بڑھنے کا موقع پاتی ہیں۔
تاریخِ اسلام میں اپنی جدوجہد اور معرکہ آرائی کے اَنمٹ نقوش ثبت کرجانے والے چار مردانِ ذی وقار کا خوب صورت اور ایمان افروز تذکرہ درس و عبرت کے عنوان سے (جو مناسبت نہیں رکھتا) محسن فارانی نے ترتیب دیا ہے جن میں امیر عبدالقادر جزائریؒ، مہدی سوڈانیؒ، غازی انورپاشاؒ اور عمرمختار السنوسی کے دل چسپ تذکرے شامل ہیں۔
سید بادشاہ کے مصنف آباد شاہ پوری نے عالمِ اسلام کی ان چار افسانوی شخصیات کا احوال شگفتہ طرزِ تحریر اور جذبۂ ایمانی کے ساتھ رقم کیا ہے۔ مزاحمت کی علامت سمجھی جانے والی تاریخِ اسلام کی ان بلندپایہ اور بلندقامت شخصیات پر طبع ہونے والے یہ مضامین جہاں ان کے کارناموں کو اُجاگر کرتے ہیں وہیں فرانسیسی، روسی، برطانوی اور اطالوی سازشوں، ریشہ دوانیوں، وحشت ناک مظالم اور دہرے معیارات کا پردہ چاک کرتے نظر آتے ہیں۔ موجودہ صدی میں اہلِ مغرب بالخصوص امریکا اور یورپ کی مرضی سے عالمِ اسلام کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک اور اس کا پس منظر سمجھنے میں یہ مختصر کتاب ایک اچھا موقع فراہم کرتی ہے۔ آج ہم کو سوپر پاور سے ڈرانے والے دیکھیں کہ ان مجاہدوں سے سوپرپاور ڈرا کرتی تھیں۔ ان نوجوانوں کے لیے جنھیں پاکستان کا مستقبل تعمیر کرنا ہے، یہ کتاب ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ (عمران ظہور غازی)
ایک عام سے موضوع پر بظاہر ایک عام سی کتاب ہے لیکن ہاتھ میں لے کر ورق گردانی کریں تو محسوس ہوگا کہ پروفیسر ارشد جاوید صاحب نے ۱۰۰ سے بھی کم صفحات میں ۲۱ عنوانات کے تحت ایک خزانہ جمع کر دیا ہے۔ بڑوں کا خیال ہوتا ہے کہ آداب سیکھنا بچوں کا کام ہے، بڑوں کو اس سے کیا کام! لیکن جیساکہ سرورق پر لکھا گیا ہے کہ یہ ’’ہرپاکستانی کے لیے ضروری‘‘ ہے۔ پاکستانی لکھ کر مصنف نے تکلف سے کام لیا ہے۔ یہ ہر اُردو پڑھنے والے کے لیے ہے اور دیگر زبانوں میں ترجمہ ہوجائے تو ان زبانوں کے قارئین کے لیے بھی___ مسلمان ہونے کی بھی شرط نہیں، اس لیے کہ یہ آداب کسی بھی انسانی معاشرے کو شائستگی، باہمی احترام اور سکون دے سکتے ہیں۔پہلے باب میں اخلاقی آداب کے حوالے سے اخلاقی خوبیوں اور خرابیوں پر سب سے طویل تحریر ہے۔ جھوٹ، ایمان داری، قَسم، وعدہ، معاہدہ، غیبت، چغلی، بدگمانی، مذاق اُڑانا، طعنہ زنی، فحش گوئی، لڑائی جھگڑا، نرم مزاجی، چوری اور غصہ کے عنوانات سے آپ اس کی جامعیت کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔ اس کے بعد سونے جاگنے کے، کھانے پینے کے، لباس کے، مجلس کے، سفر کے، ٹریفک کے، حتیٰ کہ جنازے کے آداب، نیز صفائی اور پاکیزگی، صحت، شکرگزاری، پھر پڑوسی کے حقوق، راستے کے حقوق، والدین کے حقوق، ہر ایک پر اختصار لیکن جامعیت سے گفتگو کی گئی ہے اور آج کے حالات کا پورا لحاظ رکھاگیا ہے۔ آخری خوب صورت باب دعائوں کے موضوع پر ہے۔ ابتدائی ضروری گفتگو کے بعد خاص موقعوں کی دعائیں ترجمے کے ساتھ درج کر دی گئی ہیں۔
یہ مختصر کتاب ہرگھر کی ضرورت ہے۔ ہر بچے اور بڑے کی ضرورت ہے۔ اس کے ابواب رسائل میں بطور مضمون شائع ہوسکتے ہیں۔ بچوں کے رسائل تو باری باری سب کچھ نقل کرسکتے ہیں۔
کوئی کمی نہ بتائی جائے تو تبصرہ مکمل نہیں ہوتا۔ اگر ٹیلی فون کے آداب، انٹرنیٹ اور ای میل کے آداب اور فیس بُک کے آداب پر بھی ابواب ہوتے تو یہ کتاب زمانے کے تقاضوں کو پورا کرتی (اب بھی کرتی ہے)۔ ان مشاغل میں بڑے اور بچے اپنا بہت زیادہ وقت صَرف کر رہے ہیں۔ اس بارے میں انھیں کچھ آداب سکھانے کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ یہ آداب پر روایتی کتاب نہیں، قرآن اور حدیث پر ضرور مبنی ہے لیکن عملی اِطلاق میں کارگرنکات نے اسے ایک عام کتاب نہیں بلکہ جیسا کہ ابتدا میں کہا گیا ایک غیرمعمولی کتاب بنا دیا ہے۔ اگر ہمارا معاشرہ خواندہ اور زندہ معاشرہ ہوتا تو ایسی کتاب چند دنوں میں ایک ملین فروخت ہوتی۔(م- س)
اسلام ایمان و عمل ہے اور تحریک و تہذیب بھی۔ اس مناسبت سے وہ انسانی زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھتا ہے اور ان کی مثبت تشکیل کا فریضہ بھی انجام دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے اسلام صرف مسجد اور عبادت گاہوں کا دین نہیں بلکہ وہ کھیتوں، کھلیانوں، صنعت گاہوں اور ایوانِ اقتدار کے باسیوں سے بھی مخاطب ہوتا ہے۔ انقلابِ فرانس کے بعد جوں ہی صنعتی انقلاب کے دائرے میں وسعت آئی، تو سرمایے کا چند ہاتھوں میں ارتکاز ہوا اور انسانی محنت و مشقت کا استحصال اپنی انتہائوں کو چھونے لگا۔ یہی کچھ ہمارے سماج میں بھی ہوا۔
سید مودودی علیہ الرحمہ نے جب معاشرے کو خطاب کیا تو ان میں ایک مظلوم ترین طبقہ، پسے ہوئے مزدوروں کی صورت میں سامنے آیا، جس کا خون پسینہ ایک طرف سرمایہ دار نچوڑ رہا تھا تو دوسری جانب اشتراکی مزدور تحریک سرخ انقلاب کے خواب دکھلا کر سودے بازی کر رہی تھی۔ اسی مؤخر الذکر طبقے نے ان کی قیادت پر اجارہ داری بھی قائم کررکھی تھی۔ تحریکِ اسلامی نے مولانا مودودی کی رہنمائی میں ظلم کی اس دوہری زنجیر کو کاٹنے کے لیے اسلامی مزدور تحریک کا ڈول ڈالا۔ پہلے پہل اسے ایک اجنبی آواز کی طرح سنا گیا، مگر تحریکِ اسلامی سے وابستہ مزدور تحریک کے اَن تھک کارکنوں نے بہ یک وقت ظالم سرمایہ دار اور سرخ پیشہ ور لیڈرشپ، دونوں سے نبردآزما ہوئے۔ یہ کتاب اس حوالے سے کی جانے والی جدوجہد اور پیش آنے والے اُتارچڑھائو کا قیمتی ریکارڈ پیش کرتی ہے اور مولانا مودودی کی معاشی فکر کے بھولے بسرے گوشوں کو بھی نمایاں کرتی ہے۔ کتاب کا دیباچہ محترم سید منور حسن نے تحریر کیا ہے۔(سلیم منصور خالد)
آزاد کشمیر میں جماعت اسلامی ایک بھرپور دینی و سیاسی جماعت کے طور پر اپنا کردار ادا کررہی ہے۔ کرنل محمد رشید عباسی مرحوم نے اس ننھے سے پودے کو تناور درخت میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ زیرتبصرہ کتاب اسی تفصیل پر مبنی ہے۔
مرتب محمد صغیر قمر کو مرحوم کے قریب رہنے کا وافر موقع ملا اور اُن کا خیال ہے کہ کرنل مرحوم نے آزاد کشمیر کے کونے کونے میں عوام الناس تک تحریکِ اسلامی اور تحریکِ جہاد کا پیغام پہنچایا۔
کرنل محمد رشید عباسی مرحوم ۱۹۸۰ء میں جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے امیر بنے اور اپنی تمام صلاحیتیں اپنی دعوت کو پھیلانے میں کھپا دیں۔ یہاں تک کہ ۱۹۸۹ء میں وہ اپنے رب سے جاملے۔ رحلت سے قبل اُنھوں نے ایک بڑی ٹیم ایسے باصلاحیت نوجوانوں کی تیار کردی جنھوں نے غلبۂ اسلام اور استصواب راے کا علَم بلند رکھا، اور یہ جدوجہد ایک تسلسل سے آج بھی جاری ہے۔
جناب عبدالرشید ترابی، جناب الیف الدین ترابی، جناب حافظ محمد ادریس، جناب یعقوب شاہق کے مضامین خصوصی معلومات کے حامل ہیں۔ دیگر حضرات کے مضامین میں بھی قابلِ قدر معلومات ملتی ہیں۔ دو صد سے زائد صفحات میں مرحوم کے اہلِ خانہ کے علاوہ تحریکِ آزادیِ کشمیر کے اہم رہنمائوں اور اُن کے زیرتربیت رہنے والے کارکنوں کے احساسات کو بھی شاملِ اشاعت کیا گیا ہے۔ کتاب میں آزادی کی جدوجہد کے مختلف مراحل پر کشمیر کا نقشہ اور دیگر تفصیلات پر مبنی مضمون بھی شامل ہوتا تو اس کی قدروقیمت میں مزید اضافہ ہوجاتا۔ عالمی اسلامی تحریکات، تحریکِ آزادیِ کشمیر اور تحریکِ اسلامی کے موضوعات سے دل چسپی رکھنے والے حضرات کے لیے مفید کتاب ہے۔ (محمد ایوب منیر)
مولانا مودودیؒ نے آج سے ۷۸ سال قبل دین اسلام کی خدمت کے سلسلے میں ترجمان القرآن جاری کیا تھا۔ آپ نے اُن کی باقیات و صالحات کو زندہ رکھنے کا عزم کیا ہے، اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو، آمین! آپ نے عالمی ترجمان القرآن کے نام سے رسالے کا اجرا کر کے مولانا مودودیؒ کی روح کو سکون بہم پہنچایا ہے اور آپ کا یہ اقدام ہرلحاظ سے قابلِ تحسین ہے۔
الحمدللہ! عالمی ترجمان القرآن کا پہلا شمارہ آگیا۔ خوشی اس بات کی ہے کہ سید مودودیؒنے جس مشن کے لیے جماعت اسلامی قائم کی تھی، عالمی ترجمان القرآن اسی مشن کی تکمیل کے لیے کی جانے والی جدوجہد کا ایک تسلسل ہے۔ اللہ تعالیٰ اس رسالے کے ذریعے اس جدوجہد کو جاری رکھے، آمین!
نیا سرورق صوری و معنوی لحاظ سے خوب صورت اور معنی خیز ہے۔ بحیثیت مجموعی پرچہ اچھا ہے۔ تمام مضامین بالخصوص ’امریکی جارحیت: پاکستان کے لیے فیصلہ کن لمحہ‘ بروقت اور صحیح سمت میں رہنمائی ہے۔ مولانا گوہر رحمان مرحوم کی تحریر: ’نفاذِ شریعت کا راستہ؟‘ ایک اہم عملی مسئلے پر قرآن و سنت کی روشنی میں مدلل تحریر ہے۔ پروفیسر نجم الدین اربکان فی الواقع ایک تاریخ ساز شخصیت تھے۔ پروفیسر خورشیداحمد کی تحریر سے ان کی خدمات اور جدوجہد کی حقیقی تصویر سامنے آئی ہے، اور مخدوش حالات میںجہدِمسلسل اور اُمید اور حوصلے کا پیغام دیتی ہے۔
’امریکی جارحیت: پاکستان کے لیے فیصلہ کن لمحہ‘ (مئی ۲۰۱۱ء) عمدہ تجزیہ و تجاویز ہیں۔ ایبٹ آباد آپریشن کی آڑ میں امریکا نے پاکستان کی آزادی، خودمختاری اور عزت پر حملہ کیا ہے، مگر المیہ یہ ہے کہ ہمارے حکمران اس کھلی جارحیت سے سبق حاصل کرنے کے بجاے دشمنوں کے ہم نوا بنے ہوئے ہیں۔ انھیں ملک و قوم سے کوئی ہمدردی نہیں۔ ان کا ہدف صرف لوٹ مار کرنا ہے۔ ہمارے حکمرانوں نے ذاتی مفاد کے لیے پورے ملک کو دائو پر لگا دیا ہے، جب کہ دشمن کی نظریں ہماری ایٹمی تنصیبات پر لگی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب دشمن برملا کہہ رہا ہے کہ پاکستان میں دوبارہ یک طرفہ کارروائی سے گریز نہیں کریں گے۔ دشمن کی یہ دھمکی حکومت کے لیے کھلا چیلنج اور پوری قوم کے لیے لمحۂ فکریہ ہے!
کوئی تہذیبی و تمدنی حرکت جمود کی چٹانوں سے نہیں روکی جاسکتی۔ اس کو اگر روک سکتی ہے تو ایک مقابل کی تہذیبی و تمدنی حرکت ہی روک سکتی ہے۔ ہمارے ہاں اب تک سیلابوں کا مقابلہ چٹانیں کرتی رہی ہیں۔ اسی لیے ہمارے ملک سمیت قریب قریب تمام مسلمان ملک مغرب کے فکری و تہذیبی سیلابوں میں غرق ہوتے چلے گئے ہیں۔ اب ہم حرکت کا مقابلہ حرکت سے اور سیلاب کا مقابلہ جوابی سیلاب سے کر رہے ہیں.... ہماری تحریک کسی ایک گوشے یا ایک میدان میں ان ضلالتوں کا مقابلہ نہیں کررہی ہے بلکہ ہرمیدان میں ہمارا اور ان کا تصادم ہے۔ ہم نے ان کے تمام نظریات اور عملی طریقوں پر تنقید کی ہے اور ان کی کمزوریاں کھول کھول کر سامنے رکھ دی ہیں۔ ہم نے ہرمسئلۂ زندگی کا حل ان کے حل کے جواب میں پیش کیا ہے اور دلائل سے اس کو معقول ثابت کردیا ہے۔ ہم ان کے ادب کے مقابلے میں ایک صالح ادب لائے ہیں، ان کے فلسفے کے مقابلے میں ایک بہتر فلسفہ لائے ہیں، ان کی سیاست کے مقابلے میں ایک زیادہ مضبوط سیاست لائے ہیں،اور ہماری صفوں میں ان کا مقابلہ کرنے کے لیے صرف قال اللّٰہ وقال الرسول جاننے والے ہی نہیں ہیں بلکہ اس کے ساتھ قال ہیگل وقال مارکس وقال فرائڈ بھی انھی کے برابر جاننے والے ہیں۔ درس گاہوں میں جہاں ان کی فکر اور تہذیب کی اشاعت کرنے والے موجود ہیں، وہیں انھی کی ٹکّر کے فکری و تہذیبی مبلغ ہماری طرف سے بھی موجود ہیں.... سوسائٹی کے ہرطبقے میں ان کے اثرات کے بالمقابل ہمارے اثرات بھی کم یا زیادہ کارفرما ہیں.... اور ایک طاقت ور راے عام غیراسلامی افکار و اخلاق و اطوار کے خلاف تیار ہوتی جارہی ہے.... جماعت اسلامی بھی خالی خولی تقریریں اور تحریریں اور اجتماعی سرگرمیاں لیے ہوئے سامنے نہیں آگئی ہے بلکہ وہ انفرادی سیرت اور جماعتی اخلاق بھی ساتھ لائی ہے جو اسلام کی اگر مکمل نہیں تو کم از کم صحیح نمایندگی ضرور کرتا ہے۔ اس کے اثرات جہاں جہاں بھی پہنچ رہے ہیں، وہاں اسلامی خیالات کے ساتھ اسلامی تہذیب اور اسلامی اطوار کا مظاہرہ پورے فخر کے ساتھ سر اُونچا کرتے ہوئے کیا جا رہا ہے، اور وہ کیفیت دُور ہورہی ہے کہ ماڈرن سوسائٹی میں ایک شخص نماز تک پڑھتے ہوئے شرماتا تھا اور ایک خاتون بُرقع اوڑھنے پر لاکھ معذرتیں کرکے بھی ڈرتی تھی کہ نہ معلوم تاریک خیالی کا دھبہ اس کے دامن سے مٹا یا نہیں۔ (’اشارات‘، سید ابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۳۶، عدد ۲، شعبان ۱۳۷۰ھ، جون ۱۹۵۱ء،ص ۷-۸)