مضامین کی فہرست


اپریل ۲۰۲۰

افغان جہادکے دنوں میں ایک میڈیکل ڈاکٹر کی حیثیت سے ۱۹۸۳ء تا ۱۹۹۲ء کئی بار   افغانستان جانا ہوا۔ روسی بمباری سے افغانستان کا دیہی علاقہ مکمل طور پر برباد ہوچکا تھا۔ ان علاقوں سے اکثریت پاکستان ہجرت کر گئی تھی۔ پھر جب افغان مجاہدین نے حکومت قائم کرنے کی ناکام کوشش کی، تو بڑے شہروں کابل،جلال آباد،گردیز،چغہ سرائے وغیرہ جانا ہوا، جہاں تباہی کے مناظر عام تھے۔ شاہراہیں ،پُل، باغات، عمارات زمیں بوس ہوتی گئیں اور غربت و افلاس میں مزید اضافہ مشاہدہ میں آتا رہا۔ ۱۹۹۴ء سے طالبان کی آمد کے ساتھ امن آیا، لیکن کچھ ہی عرصے بعد امریکی قیادت میں ناٹو افواج نے رہی سہی کسر نکال دی۔ ہرافغان کے دل کی آواز ہے کہ غیر ملکی مداخلت یقینا ختم ہو نی چاہیے، اس کے بغیر ملک میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔

ماضی کی طویل خانہ جنگی کے بعد اگر پھر نئی خانہ جنگی ہوئی تو یہ ایک بڑاالمیہ ہوگا۔ یہی سوال تمام افغانوں اور ان کے بہی خواہوں کو پریشان کیے ہوئے ہے۔ اسی لیے جب ۲۹ فروری ۲۰۲۰ء کو ایک طویل انتظار کے بعد قطر میں ایک تاریخی امن معاہدہ طے پایا، تو اس پر افغان عوام نے کوئی پُرجوش استقبال نہیں کیا، حالانکہ سب کی خواہش تھی کہ طالبان اور امریکا کے درمیان امن مذاکرات کامیابی سےہم کنار ہوں۔افغانستان میںمنعقد ہونے والے گذشتہ تمام صدارتی انتخابات کے تمام امیدواروں نے عوام سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ ملک میںامن قائم کرنے کے لیے طالبان سے مذاکرات کریں گے۔حامد کرزئی اور اشرف غنی اس وعدے کی بنیاد پر انتخابی مہم چلاتے رہے کہ ’’ہمارا اصل کام امن کا قیام ہوگا۔ ہم طالبان سے اپیل کرتے تھے کہ وہ مذاکرات کریں‘‘۔ لیکن طالبان کا موقف یہ تھا کہ ۲۰۰۱ء میں جب امریکی افواج نے افغانستان پر نائن الیون کے واقعے کو بنیاد بناکر دھاوا بولا، تو اس وقت افغانستان میں مُلّا عمر کی قیادت میں امارت اسلامی قائم تھی، جس کو ختم کرکے ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کی گئی۔چونکہ گذشتہ دوعشروں میں طالبان کی امارت اسلامی، غیر ملکی قبضے کے خلاف مزاحمت کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔اس لیے جب بھی قابض فوج افغانستان چھوڑے تو اسے ہم سے بات کر کے معاملات طے کرنا ہوں گے۔ آخرکار امریکی صدربارک اوباما نے ۲۰۰۸ء میں افغانستان سے فوجی انخلا اور طالبان سے مذاکرات کا اصولی فیصلہ کیا۔لیکن انھیں فیصلے پر عمل درآمد میں متعدد اندرونی مزاحمتوں کا سامنا رہا۔ پھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخابات جیتنے کے بعد انخلا کی حکمت عملی پر کام شروع کیا۔ امریکی افواج اور اتحادیوں کے تحفظ اور واپسی کے لیے طالبان سے مذاکرات کی کڑوی گولی نگلنے کی کوشش کی۔

بالآخر ’امارت اسلامی افغانستان‘ کے نمایندے مُلّا عبدالغنی برادر اور ’ریاست ہاے متحدہ امریکا‘ کے نمایندے کے زلمے خلیل زادے نے ایک امن معاہدے پر دستخط کردیے۔ اس موقعے پر دونوں فریقوں نے معاہدے کے لیے پاکستان کے کردار اور مصالحانہ کوششوں کی تعریف کی ۔ اس معاہدے پر مختصر بات کرنے سے پہلے متن کا مطالعہ مفید ہوگا، یہ معاہدہ ۱۲سال کے طویل ترین بحث و مباحثے کے بعد حتمی شکل میں سامنے آیا ہے، اور بہ یک وقت انگریزی، پشتو، دری، [فارسی] میں جاری کیا ہے۔

افغان امن معاہدہ

’’معاہدہ براے بحالی امن افغانستان، مابین امارت اسلامی افغانستان، جس کو ریاست متحدہ  [امریکا] ایک مملکت کے طور پر تسلیم نہیں کرتی اور طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں، اور ریاست متحدہ ۲۹ فروری ۲۰۲۰ء  بمطابق ۵ رجب ۱۴۴۱ہجری قمری کیلنڈر اور۱۰ حوت ۱۳۹۸ ہجری شمسی کیلنڈر‘‘ یہ ایک جامع امن معاہدہ کیا ہے، جس کے چار حصے ہیں :

    ۱-  ضمانتوںاور عمل درآمد کا نظام، جس سے سرزمین افغانستان کو کسی گروہ اور فرد کو ریاست متحدہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف استعمال سے روکا جائے گا ۔

    ۲۔   ضمانتوں اور عمل درآمد کے نظام الاوقات کے تحت افغانستان سے تمام غیر ملکی افواج کے انخلا کا اعلان۔

    ۳-  ضمانتوںاور غیر ملکی افواج کے انخلا کے نظام الاوقات کا اعلان، بین الاقوامی گواہوں کی موجودگی میںکہ سرزمین افغانستان ریاست متحدہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف استعمال نہ ہو اور امارت اسلامی افغانستان جس کو ریاست متحدایک مملکت کے طور پر تسلیم نہیں کرتی اور طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں، بین الافغان مذاکرات افغان گروہوں کے ساتھ ۱۰مارچ ۲۰۲۰ء شروع کرے گا، بمطابق ۱۵ رجب ۱۴۴۱ ہجری قمری کیلنڈر اور ۲۰حوت ۱۳۹۸ ہجری شمسی کیلنڈر۔

    ۴-  مستقل اور جامع فائر بندی بین الافغان مذاکرات اور صلاح مشوروں کا مرکزی نکتہ ہو گا، جس میں مشترکہ نظام نفاذ کا اعلان اور افغانستان میں مستقبل کا سیاسی نقشۂ کار شامل ہیں ۔

یہ چاروں حصے مربوط ہیں اور عمل درآمد متفقہ نظام الاوقات اور متفقہ شرائط پر ہو گا:

___ درج ذیل میں معاہدے کے پہلے اور دوسرے حصے کے نفاذ کا متن ہے:

دونوں فریقوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ان دونوں حصوں کے نفاذ کا انحصار ایک دوسرے پر ہے۔ امارت اسلامی افغانستان جس کو ریاست متحدہ  ایک مملکت کے طور پر تسلیم نہیں کرتی اور طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں، کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے زیر اثر علاقوں میں ان پر عمل کرائے اور جب تک افغانستان میں بین الافغان مذاکرات کے ایک نئی عبوری افغان اسلامی حکومت قائم نہیں ہو جاتی۔

 پہلا حصّہ :

ریاست متحدہ افغانستان سے تمام امریکی و اتحادی فوجی قوت بشمول تمام غیرسفارتی سول افراد،نجی سیکورٹی،ٹھیکے دار،تربیتی عملہ،مشیر اور دیگر معاون عملے کا انخلا ۱۴ ماہ میں یقینی بنائے گی، جس کا اعلان اس معاہدے میں کیا گیا ہے۔اور اس سلسلے میں درج ذیل اقدامات اٹھائیں گے:

(الف) ریاست متحدہ اور اس کے اتحادی  پہلے ۱۳۵ دنوں میں یہ اقدامات کریں گے:

    ۱-  (امریکا) اپنے فوجیوں کی تعدادکو گھٹا کر(۸,۶۰۰) تک لائے گا اور اسی تناسب سے اتحادی فوجوں کی تعداد بھی کم کی جائے گی۔

    ۲-  ریاست متحدہ اور اس کے اتحادی (۵) فوجی اڈوں سے مکمل انخلا کریں گے۔

        (ب) امارت اسلامی افغانستان جس کو ریاست متحدہ ایک ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کرتی اور طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں، کے عملی اقدامات اور معاہدے کی پابندی کو دیکھتے ہوئے ریاست متحدہ اور اس کے اتحادی درج ذیل کام کریں گے:

    ۱-  ریاست متحدہ اور اس کے اتحادی ساڑھے ۹ ماہ میں افغانستان سے بقیہ انخلا مکمل کریں گے۔

    ۲ - اسی طرح ریاست متحدہ اور اس کے اتحادی، تمام بقیہ فوجی اڈوں سے انخلا مکمل کریں گے۔

(ج)ریاست متحدہ پابند ہے کہ وہ فوری طور پر تمام دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ ایک منصوبے پر کام کرے، تاکہ جلد ازجلد جنگی اور سیاسی قیدیوں کی رہا ئی عمل میں لائی جا سکے، جس میں تعاون اور منظوری تمام متعلقہ فریق دیں گے۔ امارت اسلامی افغانستان جس کو ریاست متحدہ ایک ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کرتی اور طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں، کے ۵ ہزار تک کے قیدیوں کو رہا کیا جائے گا، جب کہ دوسرے فریق کے ۱۰۰۰ (ایک ہزار) قیدیوں کی رہائی ۱۰مارچ ۲۰۲۰ء تک عمل میں آئے گی۔جو بین الافغان مذاکرات کا پہلا دن ہوگا۔ بمطابق ۱۵رجب ۱۴۴۱ ہجری قمری کینڈر اور ۲۰ حوت ۱۳۹۸ ہجری شمسی کیلنڈر۔متعلقہ فریقین کا یہ عزم ہے کہ آیندہ ۳ ماہ میں تمام قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا۔

ریاست متحدہ اس عمل کو مکمل کرنے کی پابند ہے ۔امارت اسلامی افغانستان جس کو ریاست متحدہ ایک ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کرتی اور طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں، اس امر کے پابند ہیں کہ رہا شدہ قیدی اس معاہدے پر عمل کرنے کے پابند ہوں گے اور وہ ریاست متحدہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے کو ئی خطرہ نہیں بنیں گے۔

(د)بین الافغان مذاکرات کے آغاز پر ریاست متحدہ، امارت اسلامی افغانستان جس کو ریاست متحدہ ایک ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کرتی اور طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں، اس  کے ارکان کے خلاف سروں پر مقرر کیے جانے والے انعامات کی فہرست کو ختم کرنے اور دیگر پابندیوں کو ختم کرنے کے لیے ۲۷ ؍اگست۲۰۲۰ء کا ہدف رکھا گیا ہے،بمطابق ۸محرم ۱۴۴۲ ہجری قمری کیلنڈر اور ۶سنبلہ ۱۳۹۹ ہجری شمسی کیلنڈر ۔

(ح)بین الافغان مذاکرات کے آغاز پر ریاست متحدہ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دیگر ارکان کے ساتھ مل کر ایسے سفارتی اقدامات کرے گی، جس سے امارت اسلامی افغانستان جس کو ریاست متحدہ ایک ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کرتی اور طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں، کے ارکان کے نام پابندیوں کی فہرست سے نکالے جاسکیں، اس ارادے کے ساتھ کہ یہ ہدف ۲۹مئی ۲۰۲۰ء تک حاصل ہو جائے،بمطابق ۶ شوال ۱۴۴۱ ہجری قمری کیلنڈر اور ۹ جوزہ ۱۳۹۹ ہجری شمسی کیلنڈر۔

(و) ریاست متحدہ اور اس کے اتحادی، کو ئی بھی ایسی دھمکی یا طاقت کا استعمال نہیں کریں گے، جس سے افغانستان کی سیاسی آزادی اور جغرافیائی سالمیت متاثر ہو تی ہو اور نہ اس کے داخلی معاملات میں مداخلت کریں گے۔

 دوسرا حصّہ :

اس معاہدے کے اعلان کے ساتھ ہی امارت اسلامی افغانستان جس کو ریاست متحدہ ایک مملکت کے طور پر تسلیم نہیں کرتی اور طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں، درج ذیل اقدامات اٹھائے گی، تاکہ کسی بھی گروہ یا فرد بشمول القاعدہ کو روکے گی، جوافغانستان سرزمین کو ریاست متحدہ اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کے لیے خطرہ کا باعث ہو۔

    ۱-  امارت اسلامی افغانستان جس کو ریاست متحدہ ایک مملکت کے طور پر تسلیم نہیں کرتی اور طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں، اپنے ارکان اور دیگر افراد اور گروہوں بشمول القاعدہ کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ افغان سرزمین کو ریاست متحدہ یا اس کےاتحادیوں کی سلامتی کے خلاف استعمال کرسکے۔

    ۲-  امارت اسلامی افغانستان جس کو ریاست متحدہ  ایک مملکت کے طور پر تسلیم نہیں کرتی اور طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں، ان عناصر کو ایک واضح پیغام دے گی جو ریاست متحدہ اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کے لیے ایک خطرہ ہیں کہ ان کے لیے افغانستان میں کو ئی جگہ نہیں ہے، اور امارت اسلامی افغانستان جس کو ریاست متحدہ ایک مملکت کے طور پر تسلیم نہیں کرتی اور طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں، کے ارکان کو ہدایت کرے گی کہ وہ کسی ایسے گروہ یا افراد سے تعاون نہ کریں، جو ریاست متحدہ اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

    ۳- امارت اسلامی افغانستان جس کو ریاست متحدہ ایک مملکت کے طور پر تسلیم نہیں کرتی اور طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں، بھی ایسے گروہ یا افراد کو روکے گی، جو ریاست متحدہ اور اس کے اتحادیوں کے سلامتی کے لیے خطرہ ہو، نیز ایسے افراد کو بھرتی،تربیت اور چندہ جمع کرنے سے بھی معاہدے کے قواعد کے مطابق روکے گی۔

    ۴-  امارت اسلامی افغانستان جس کو ریاست متحدہ ایک مملکت کے طور پر تسلیم نہیں کرتی اور طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں، اس امر کے پابند ہوں گے کہ جو لوگ افغانستان میں پناہ اور رہایش کے خواہش مند ہوں گے، بین الاقوامی مائیگریشن قوانین کے مطابق اور اس معاہدے کے مطابق ایسے افراد ریاست متحدہ اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کے خلاف خطرہ نہ بنیں گے۔

    ۵-  امارت اسلامی افغانستان جس کو ریاست متحدہ ایک مملکت کے طور پر تسلیم نہیں کرتی اور طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں، کسی کو بھی ویزہ ،پاسپورٹ ،سفری پرمٹ یا دیگر قانونی دستاویزات فراہم نہیں کرے گا، جو ریاست متحدہ یا اس کے اتحادیوں کے لیے خطرے کا باعث بنے۔

 تیسرا حصّہ :

    ۱-  ریاست متحدہ اس معاہدے کی توثیق کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کر ے گی۔

    ۲-  ریاست متحدہ ، امارت اسلامی افغانستان جس کو ریاست متحدہ ،ایک ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کرتی اور طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں، آپس میں مثبت تعلقات قائم کریں گے اور چاہیں گے کہ معاملات طے پانے کے بعد بننے والی افغان اسلامی حکومت کے تعلقات اور بین الافغان مذاکرات کے نتائج مثبت ہوںگے۔

    ۳-  ریاست متحدہ نئی افغان اسلامی حکومت جو بین الافغان مذاکرات اور تصفیہ کے بعد وجود میں آئے گی، کے ساتھ مالی تعاون جاری رکھے گا اور اس کے اندرونی معاملات میں دخل انداز نہیں ہو گا۔

اس معاہدے پر دوحہ قطر میں دستخط کیے گئے۔۲۹ فروری ۲۰۲۰ء بمطابق ۵ رجب ۱۴۴۱ہجری قمری کیلنڈر اور۱۰ حوت ۱۳۹۸ ہجری شمسی کیلنڈر، پشتو ، دری اور انگریزی زبانوں میں بیک وقت جس کا ہر ایک متن مصدقہ ہے۔

 معاہدے کی حیثیت:

اس معاہدے کے متن میں ۱۶ مرتبہ ایک ہی جملہ لکھا گیا ہے:’’امارت اسلامی افغانستان جس کو ریاست متحدہ ایک مملکت کے طور پر تسلیم نہیں کرتی اور طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیںــ‘‘۔ یاد رہے ۲۰۰۱ء میںجب امریکا، افغانستان پر قابض ہوا تو یہاں اسلامی امارت قائم تھی، جس کو زبردستی ہٹایا گیا اور اب جب آپ اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں تو آپ کو اس امارت اسلامی کو تسلیم کرنا پڑے گا۔چنانچہ درمیانی راستہ یہ نکالا کہ ’امارت اسلامی‘ کی اصطلاح کو تو مان لیا گیا، لیکن اس کے ساتھ امریکی مذاکرات کاروں نے یہ اضافہ کیا ’’ جس کو امریکا ایک ریاست یا مملکت کے طور پر تسلیم نہیں کرتی‘‘۔طالبان کے لیے تو یہ امر باعث اطمینان رہا کہ ان کو برابر کے فریق کے طور پر تسلیم کرلیا گیا، جو مسلّمہ بین الاقوامی روایات کے عین مطابق ہے، کہ قابض غیر ملکی فوج اپنی شکست تسلیم کرکے جب انخلا کرتی ہے، تو وہ مزاحمت کاروں سے اسی طرح کا معاہدہ کرتی ہے۔ اگر پوری طرح تسلیم نہیں کیا جاتا تو متن کی بعض دفعات سے اشارہ ملتا ہے، خاص طورپر جب امارت اسلامی سے مطالبہ ہو تا ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کو ویزہ یا پاسپورٹ نہیں دیں گے، جو امریکا کے لیے خطرہ بنے۔ اس طرح معاہدے میں جارح طاقت کی حیثیت سے امریکا نے نہ اپنی غلطی تسلیم کی اور نہ افغان قوم سے ان مظالم اور قتل عام پر معافی مانگی، جو گذشتہ ۱۹سال میں امریکی اور اس کے اتحادی افواج کی جارحیت کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوئے۔

 اس معاہدے کے شروع میں ضمانتوں کا ذکر ہے، لیکن آگے اس کی تفصیل نہیں دی گئی۔ جس سے یہ امکان ہے کہ معاہدے کے علاوہ بھی کوئی خفیہ دستاویز بنائی گئی ہے ۔معاہدے میں بین الافغان مذاکرات کے آغاز اور دونوں طرف سے قیدیوں کو رہا کرنے کے لیے ۱۰ مارچ کی تاریخ دی گئی تھی، جو خاموشی سے گزر چکی ہے،جب کہ امریکی پابندیوں کے خاتمے کے لیے ۲۹مئی اور اقوام متحدہ کی پابندیوں کے لیے۲۷ ؍اگست مقرر کی گئی ہے، جو الٹی ترتیب ہے۔ بین الافغان مذاکرات کے انعقادکی ذمہ داری اگرچہ امریکی حکومت نے قبول کی ہے، البتہ اس کو کا میابی سے ہم کنار کرنے میں یقینا طالبان کلیدی اہمیت کے حامل ہیں۔ طالبان کے موجودہ سربراہ مُلّا ہیبت اللہ ہیں جو روپوش ہیں، انھوں نے کامیابی سے تحریک طالبان کی رہنمائی کی ہے اور اپنی صفوں میں اتحاد قائم رکھا ہے۔

مستقبل کے امکانات: افغانستان کا کُل رقبہ ۶۵۲۲۳۷ مربع کلو میٹر ہے۔محتاط اندازوں کے مطابق تقریباً ۵۰فی صد علاقہ طالبان کے زیر کنٹرول ہے۔ ان کے انتظامی ادارے اور عدالتیں کام کر رہی ہیں۔ باقی علاقوں میں بھی ان کے اثرات محسوس کیے جا سکتے ہیں۔جنگی صلاحیت میں ان کی سب سے بڑی کمزوری فضائی قوت کا نہ ہونا ہے۔طالبان کا دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان کی اکثریت کا تعلق پختون آبادی ہی سے ہے۔ افغانستان ایک کثیر القومی وطن ہے، جس میں ۴۵ فی صد پختون،۲۰ فی صد تاجک، ۲۰ فی ہزارہ، ۹ فی صد ازبک، ترکمان اور ۳ فی صد دیگر قومیتیں ہیں۔

افغانستان میں طالبان کے بعد دوسرا بڑا فریق سابقہ شمالی اتحاد ہے، اور کم از کم چارصوبوں پر ان کا قبضہ ہے۔آج کل ان کی قیادت ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے پاس ہے۔ صدارتی انتخابات ۲۰۱۵ء کے پہلے مرحلے میں انھوں نے ۴۵ فی صد ووٹ لے کر ڈاکٹر اشرف غنی کو شکست دےدی تھی، لیکن دوسرے مرحلے میں، ڈاکٹر اشرف غنی، طالبان کی درپردہ حمایت سے مکمل پختون آبادی کے ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔ بعد میں عبداللہ عبداللہ حکومت میں چیف ایگزیکٹیو کی حیثیت سے، امریکی ایما پر شامل ہو گئے تھے۔ ۲۰۱۹ء کے انتخابات میں انھوں نے پختون ووٹ بھی حاصل کیے تھے۔ کُل۲۷ لاکھ ووٹ ڈالے گئے، اس میں سے ۹ لاکھ ووٹ انھوں نے حاصل کیے، جب کہ ۱۰  لاکھ ووٹ جو ضائع کیے گئے، ان میں بھی اکثریت ان کے ووٹوں کی تھی۔ اب انھوں نے اشرف غنی کے مقابلے میں صدر جمہوریہ بننے کا اعلان کردیا ہے اور ۶ صوبوں میں اپنے گورنر بھی مقرر کر دیے ہیں۔صدر اشرف غنی کی مخالفت میں ان کو ایک اہم شخصیت ازبک رہنما رشید دوستم کی بھی حمایت حاصل ہے، جو دشت لیلیٰ میں ہزاروں طالبان قیدیوں کےسفاکانہ قتل میں ملوث تھے، اور ایک مؤثر قوت رکھتے ہیں اور اسلحے کا بھی بڑا ذخیرہ رکھتے ہیں۔

تیسرا اہم گروہ ہزارہ شیعہ قبیلہ ہے، جو افغانستان کے ایک مرکزی صوبے بامیان پہ قابض ہے۔گذشتہ دنوں کابل میں ان کے سابق رہنما عبدالکریم خلیلی کی برسی کے موقعے پر ایک بڑے اجتماع پر حملہ ہوا تھا، جس میں ۵۰ سے زائد شرکا جاں بحق ہو ئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔ ہزارہ قبیلہ بھی طالبان کے مقابلے میں شمالی اتحاد کا ساتھ دے گا۔

چوتھا اہم گروپ گل بدین حکمت یار اور حزب اسلامی پر مشتمل ہے۔ گذشتہ  صدارتی انتخابات میں وہ تیسرے نمبر پر رہے۔ ملک کے طول و عرض میں انھوں نے مؤثر انتخابی مہم چلائی۔ روسی جارحیت کے دوران افغان جہاد میں یہ مجاہدین کا سب سے بڑا گروپ تھا، لیکن بعد میں شمالی اتحاد سے جنگ کے دوران اور پھر طالبان کی آمد سے ان کی پوزیشن کمزور ہو تی گئی۔گذشتہ سال انھوں نے اشرف غنی حکومت کے ساتھ صلح کا معاہدہ کر لیااور انتخابی عمل میں بھی حصہ لیا۔ حزب اسلامی ایک نظریاتی حیثیت سے اہمیت رکھتی ہے اور قومی ایشو ز پر اپنی آزاد راے کا اظہار بھی کرتی ہے۔

۲۰۰۵ء میں حامد کر زئی نے اپنے دورِ صدارت کے آخری زمانے میں امریکا کےساتھ ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا، جس میں امریکی افواج کو پانچ مستقل اڈے دینے کی بات کی گئی تھی۔تاہم، بعد میں آنے والے صدر اشرف غنی نے اپنے دور کے آغاز میں ہی امریکی دباؤ پر دستخط کر دیے تھے۔

صدر اشرف غنی کی قیادت میں افغان حکومت اس معاہدے کی تیسری اہم فریق ہے، جو مذاکرات سے باہر رکھی گئی۔ لیکن معاہدے کے نفاذ میں ان کا اہم کردار ہے۔ملک کے بڑے شہروں پر ان کا اقتدار قائم ہے۔ تین لاکھ افغان فوج اور ایک لاکھ کی تعداد میں افغان پولیس ان کی حکم کے تابع ہے۔ وہ خود تو ایک ماہر معیشت اور علمی شخصیت ہیں اور پختون قبیلے احمد زئی سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن کوئی جنگی پس منظر نہیں رکھتے۔ حالیہ انتخابات نے ان کو خاصا کمزور کر دیا ہے۔ انھوں نے اس بار صرف ۹ لاکھ ووٹ حاصل کیے، جب کہ کل ووٹرز کی تعداد ۹۶لاکھ ہے۔ ۱۸ ستمبر ۲۰۱۹ء کو ہونے والے صدارتی انتخاب کا نتیجہ ۵ ماہ بعد مشتہر کیا گیا اور اس طرح ان کو ۵۰ فی صد ووٹ دے کر پہلے مرحلے میں کامیاب قرار دیا گیا۔ انھوں نے ۹ مارچ۲۰۲۰ء کو جب صدارتی محل میں صدر جمہوریہ کا حلف اٹھایا، تو اس وقت صدارتی محل ہی کے قریبی بلاک میں ان کے مقابل امیدوار عبدا للہ عبد اللہ نے بھی صدارتی حلف اٹھایا۔ اشرف غنی کے ایک اور حلیف اور ان کے ساتھ پہلے صدارتی دور میں نائب صدر عبد الرشید دوستم بھی ان سے قریب ہی رہایش پذیر ہیں۔ ان کے مسلح گارڈ برسرِعام اپنی قوت کا اظہار کرتے ہو ئے نظر آتے ہیں۔ان حالات میں آنے والے بین الافغان مذاکرات میں اشرف غنی ایک کمزور پوزیشن میں نظر آرہے ہیں۔ ڈاکٹر عبدا للہ عبداللہ گروپ نے مذاکرات میں اس طرح شرکت کا عندیہ دیا ہے کہ ان کا نمایندہ وفد شریک ہوگا، لیکن وہ اشرف غنی کے سرکاری وفد کا حصہ نہیں ہوں گے۔

اشرف غنی نے طالبان قیدیوں کی رہائی میں تاخیر کا حربہ استعمال کرکے پورے معاہدے کو کمزو ر کر دیا۔ معاہدے کے مطابق ۱۰ مارچ ۲۰۲۰ء کو دونوں طرف سے قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع ہونا تھا اور بین الافغان مذاکرات کا نکتہ آغاز تھا،لیکن یہ دونوں کام مؤخر ہو گئے۔

’قطر امن معاہدے‘ کو کامیاب بنانے میں حکومت پاکستان بہت اہم کردار رہا ہے۔جس کا اعتراف معاہدے کی تقریب میں ہی عالمی میڈیا کے سامنے دونوںفریقوں کے نمایندوں نے کیا تھا۔ اس اعترافِ حقیقت کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کی مخالف لابیاں ہر جگہ اس کا توڑ کرنے کے لیے متحرک ہو گئیں ۔ بھارتی میڈیا نے تو اس کے خلاف بولنا ہی تھا کہ بھارت کے پاکستان دشمن مفادات افغانستان میں جنگی صورتِ حال کے برقرار رہنے سے جڑے ہو ئے ہیں۔لیکن امریکا میں موجود بھارت نواز اور پاکستان دشمن صحافتی اور بااثر حلقوں نے بھی اس تخریب پسندانہ کام میں اپنا حصہ ڈالا۔ ایک عرصے سے تمام بڑے امریکی دانش وَر،جنگی ماہرین اور تھنک ٹینک محسوس کر رہے تھے کہ امریکا کسی طریقے سے افغانستان کی اس نام نہاد ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ سے نکل آئے۔ اسی طرح دُوراندیش حلقے سمجھتے ہیں کہ ’داعش‘ کے لیے بھی پُرامن اور طالبان کا افغانستان قابلِ قبول نہیں ہوگا۔پاکستان میں تنگ نظر قوم پرست عناصر بھی اس کھیل میں بھارت کے وکیل صفائی بلکہ ہراوّل دستے کا کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں ۔

مراد یہ ہے کہ موجودہ حالات میں معمولی سی غلطی بھی افغانستان کو ایک بار پھر ہولناک تصادم کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ ہم افغان قوم اور اس کی قیادتوں سے ہوش مندی اور وسیع النظر فیصلوں کی توقع رکھتے ہیں۔

نہ اسے’جھڑپیں‘ کہا جاسکتا ہے نہ ’ احتجاج‘ ___یہ ایک منظم قتل عام تھا!

دہلی کے فسادات پر یہ جملہ برطانوی خاتون رکن پارلیمان ناڈیا وہٹّوم کا ہے ۔ برطانیہ کے ہاؤس آف کامنز (ایوانِ نمایندگان) میں دہلی فسادات پر جو بحث ہوئی اور جس طرح فسادات پر تشویش کا اظہار کیا گیا، وہ ہندستان کی مودی حکومت کا سرشرم سے جھکانے کے لیے کافی ہے۔ بالخصوص اس لیے کہ برطانیہ نے تو اپنے ایوان میں دہلی فسادات پر بحث کروائی ہے، لیکن جہاں یہ فسادات ہوئے ہیں، ہندستان کی راجدھانی دہلی ، وہاں سے پورے بھارت پر حکومت کرنے والی مودی حکومت دہلی تشدد کے موضوع پر اپنےایوان میں بحث کرانے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ بہیمانہ تشدد کی وارداتوں پر بحث کی اجازت نہ دے کر شاید ان کی ’ شدت‘ اور ان کی ’ بہیمیت‘ کو بے اثر کرنے کی کوشش اس لیے ہے کہ یہ فسادات اب ساری دنیا میں ’ مسلم کش فسادات‘ مانے جارہے ہیں۔ ناڈیا وہٹّوم ایک پنجابی سکھ پارلیمنٹیرین ہیں اور ۲۰۱۹ء میں جب انھوں نے الیکشن میں کامیابی حاصل کی تھی، تب وہ ۱۹برس کی تھیں ، سب سے کم عمر رکن پارلیمان۔ انھوں نے نہ صرف یہ کہ دہلی کے تشدد یا فسادات کو ’جھڑپیں‘ اور ’ احتجاج‘ ماننے سے انکار کیا، بلکہ صاف لفظوں میں وہ بات کہہ دی، جسے کہنے سے بہت سی زبانیں ہچکچا رہی ہیں۔ انھوں نے کہا ’’ اسے وہی کہیں جو یہ ہے : ہندستانی مسلمانوں کے خلاف مسلسل اور منظم طور پر ’ہندوتوا تشدد‘ اوروہ بھی بی جے پی کی منظوری سے‘‘۔

کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ۲۰۱۴ء میں نریندر مودی حکومت کے قیام کے بعد سے ’ہندوتوادیوں‘ نے مسلمانوں کے خلاف مسلسل اور منظم پرتشدد سرگرمیاں شروع کررکھی ہیں؟ نریندر مودی کے  پہلی بار وزیراعظم بننے کے چند روز بعد ہی ماب لنچنگ (ہجومی تشدد) کا نہ ختم ہونے والا ایک سلسلہ شروع ہوگیا ۔ اخلاق سے لے کر پہلو خان تک نہ جانے کتنے لوگوں کو ’گؤکشی‘ کے الزام میں بڑی ہی بے رحمی سے قتل کیاگیا۔ ننھے حافظ جنید کو مار مار کر موت کی نیند سُلادینا بھی کیا منظم حملہ نہیں تھا؟  بلند شہر میں ابھی بس چند روز پہلے دو مسلمانوں کو ، اس شبہے میں کہ وہ گؤکشی کے مرتکب ہوئے ہیں، لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے پیٹ پیٹ کر لہولہان کردیا گیا ۔ دونوں ہی نازک حالت میں اسپتال میں داخل کیے گئے تھے۔ یہ تمام واقعات بی جے پی کی ’ منظوری‘ کے بغیر نہ گزرے ہوئے کل میں ہوئے تھے ،اور نہ آج اس کے بغیر ممکن ہیں ۔

 ہم جو کہیں وہی ’ کھانا‘ ہے ، وہی ’ پینا‘ ہے ۔ہم جو پڑھائیں وہی پڑھنا پڑے گا ، چاہے وہ گیتا کا پاٹھ ہو کہ سوریۂ نمسکار میں ’ اوم ‘ کی جاپ ہو ۔ ابھی عدالت سے طلاقِ ثلاثہ پر پابندی لگوائیں گے ۔  ابھی تو بابری مسجد کی زمین بھی لیں گے اور یہ سب کام ہو بھی گئے۔ پھر بھی یہ مسلمان  ہندستان چھوڑنے کو تیار نہیں ، کیوں نہ ان کی ’شہریت‘ پر ہی سوالات کھڑے کردیے جائیں ؟ ان سے وہ دستاویزات مانگی جائیں، جو اگر مودی سے بھی مانگی جائیں تو وہ نہ دےسکیں، مگر اس طرح وہ ملک جہاں ان کے آباواجداد بسے اور مرے ، جہاں انھوں نے محنت کی ، گھر بسائے ، تعلیمی ادارے بنائے ، مسجدیں بنائیں ، انھیں کھدیڑنے کی سبیل نکالی جائے ۔ اسی لیے این آرسی ، این پی آر اور  سی اے اے لے آئے ہیں ۔ اب کیسے بچو گے؟ لیکن مسلمان تو آج بھی اسی سرزمین پر کھڑا ہے،  اپنے حق کے لیے آوازیں اٹھا رہا ہے۔

 مسلم خواتین نے دہلی سے لے کر یوپی، راجستھان، کرناٹک ، بہار، مغربی بنگال، آسام اور ممبئی وغیرہ تک نہ جانے کتنے شاہین باغ بنالیے ہیں ۔ یہ ’شاہین باغ‘ مودی حکومت کو دہلائے ہوئے ہیں اور سی اے اے کے پیچھے اپنا تخریبی دماغ لگانے والے امیت شا کی بھی نیندیں حرام کیے ہوئے ہیں___  لہٰذا، کیوں نہ انھیں ڈرایا جائے اور ڈرانے کا یہ کام آر ایس ایس اور بی جے پی کے لیڈروں نے کرتے ہوئے نفرت کی ساری باتیں ، ساری زہریلی تقریریں ،’ دیش کے غداروں کو گولی مارو سالوں کو ‘ جیسے سارے نفرت سے بھرے ہوئے نعرے مسلسل منظم، منصوبہ بند انداز سے دُہرائے گئےاورعام کیے گئے۔ ان کا مقصد تشدد کی وہ لہر اُبھارنا ہے، جس کی زد میں دہلی آجائے اور نقصان اقلیت کا ہو ، مسلم اقلیت کا ہو___  یہاں ہمارا مقصد لاشوں کو ہندوؤں، مسلمانوں ، دلتوں وغیرہ میں تقسیم کرنا نہیں ہے ۔ تشدد پھوٹے گا تو سب کو لپیٹ میں لے گا ، مگر تشدد کا یہ ’رقص ابلیس ‘ مسلمانوں کے ہی خلاف تھا۔ اس کا سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ ’ شاہین باغ‘ اور بھارت بھر کے دوسرے احتجاجی مظاہروں کو ایک جھٹکے میں ’ لپیٹ‘ دینا تھا، مگر یہ نہیں ہوسکا ۔

بی بی سی پر سوتک بسواس کی رپورٹ کا عنوان ہے: ’’ دلی فسادات کے دوران مسلمانوں کے گھروں کو چُن چُن کر آگ لگائی گئی۔‘‘ محمد منظر اور ان کے خاندان کے لٹنے پٹنے اور برباد ہونے کی داستان بڑی ہی المناک ہے ۔ بی بی سی نے ایک ویڈیو رپورٹ جاری کی ہے، جس میں یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ تشدد پر آمادہ ہندو ہجوم کو پولیس اہلکار پتھر چن چن کر دے رہے ہیں کہ وہ مخالف پر پتھراؤ کرسکیں ۔ خود پولیس والے ساتھ ساتھ پتھراؤ کررہے ہیں ۔ بی بی سی نے جب یہ دریافت کیا کہ کیا پولیس والے بھی پتھراؤ کررہے تھے؟ تب کیمرے کے سامنے لوگوں نے اعتراف کیا کہ ہاں پولیس اہلکار انھیں پتھر اٹھا اٹھا کر مسلمانوں پر پھینکنے کے لیے دے رہے تھے اور خود بھی پتھراؤ کررہے تھے۔ ہمانشوراٹھور نام کے ایک شخص کا بیان ہے : ’’ہمارے پاس یہاں پتھر کم تھے، لہٰذا پولیس والے پتھرلے کر آئے تاکہ ہم پتھراؤ کرسکیں‘‘۔ اس ویڈیو میں پولیس کے ذریعے مسلمانوں پر تشدد ڈھانے کی مکمل منصوبہ بندی عیاں ہے ۔ لاٹھی ڈنڈوں سے نوجوانوں کی پٹائی اور ایسی شدید کہ فیضان نامی نوجوان نے دم توڑ دیا۔ لاٹھی ڈنڈوں سے پیٹتے ہوئے قومی ترانہ پڑھوانا، گویا پولیس کی ساری سرگرمیوں کا محور یہ تھاکہ مسلمان ’ قوم پرست‘ یا ’نیشنلسٹ‘ نہیں ہیں ۔ دہلی اقلیتی کمیشن کا یہ تسلیم کرنا ہے کہ ’ تشد د یک طرفہ تھا اور اس کے لیے بہترین منصوبہ بندی کی گئی تھی، بیرونی غنڈے، شرپسند لوٹ مارمیں شریک تھے لیکن انھیں بہرحال مقامی مدد بھی حاصل تھی‘‘۔

ساری دنیا میں ’د ہلی فسادات‘ کی گونج ہے ۔ کئی مسلم ممالک نے ، البتہ سعودی عرب    ان میں شامل نہیں ہے ، دہلی کے فسادات کو ’ مسلم کش‘ قرار دیا ہے ۔ ایران نے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے ۔ وزارت خارجہ کے سابق سکریٹری کے سی سنگھ ’ سفارتی قیمت‘ کے عنوان سے اپنے ایک مضمون میں تحریر کرتے ہیں کہ مودی سرکار کے علاقائی ایجنڈے نے ہندستان کی خارجہ پالیسی کو مسخ کرنا شروع کردیا ہے ۔ انھوں نے ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف اور ایران کے روحانی رہنما علی خامنہ ای کے دہلی فسادات کی مذمت میں دیے گئے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے اس اندیشے کا اظہار کیا ہے، کہ اسلامی دنیا سے ہندستان کے رشتے کٹ سکتے ہیں ۔ ایران سے قبل ملایشیا اور ترکی نے بھی دہلی فسادات پر ناراضی کا اظہارکیا تھا۔

ویسے ’ دہلی فسادات‘ نے صرف مسلم دنیا ہی کو بے چین اور مضطرب نہیں کیا ہے ، ابتدا ہی میں برطانیہ کے ہاؤس آف کامنز میں ’ دہلی فسادات‘ پر ہوئی بحث کا ذکر آچکا ہے ۔ امریکا میں ایک صدارتی امیدوار سینڈرس نے پہلے ہی دہلی کے تشدد کو مسلم کش قرار دے دیا ہے ۔ انھوں نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دورۂ ہند پر بھی سخت نکتہ چینی کی ہے ۔ اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے کمیشن نے صرف تشویش ہی ظاہر نہیں کی، اس نے سی اے اے کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک درخواست تک دے دی ہے۔ بی جے پی کے وہ تمام لیڈر جو ’زہر‘ بو رہے تھے ، آزاد ہیں ، ایف آئی آر تک  ان کے خلاف درج نہیں ہوئی ہے۔ لیکن بڑی تعداد میں اُلٹا متاثرین ہی کو ملزم قرار دے دیا گیا ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ آف انڈیا انھی کے خلاف کارروائی پر مصر ہے۔ سی اے اے کو لاگو کرنے پر پورا زور لگایا جارہا ہے، اور این پی آر میں والدین کی شہریت ثابت کرنے کو ابھی بھی لازمی کہا جارہا ہے ___ اور یہ جو شاہین باغ میں بہادر خواتین بیٹھی ہیں، ان کے خلاف ابھی بھی نعرے لگ رہے ہیں :’گولی مارو…‘

اعلٰی عدالتیں اور بی جے پی حکمرانی

عجب تماشا ہے کہ دہلی کو خون میں نہلانے والی زہریلی تقریروں کا معاملہ اعلیٰ عدالت سے کسی طرح سلجھائے نہیں سلجھ رہا، حالانکہ حقائق سب کے سامنے ہیں ۔ زہریلی تقریریں کرنے والے بی جے پی کے لیڈران بھی ،ان کی زہریلی تقریروں کے آڈیو اور ویڈیو بھی اور ان تقریروں کے نتیجے میں دہلی کی تباہی و بربادی اور تقریباً ۵۰؍ افراد کی اموات بھی ۔ جب اتنے سارے ثبوتوں کے بعد بھی دہلی ہائی کورٹ کپل مشرا، پرویش ورما اور انوراگ ٹھاکر کے خلاف کارروائی کے لیے دہلی پولیس کو حکم دینے سے لاچار اور مجبور ہے، تو اندازہ کرلیجیے کہ یہ عدالت فسادات میں مارے گئے ، لوٹے اور برباد کیے گئے لوگوں کے ساتھ کیا انصاف کرے گی!

دہلی کی عدالتیں ، ہائی کورٹ بھی اور سپریم کورٹ بھی، دہلی فسادات کے معاملے میں کس قدر ’سنجیدہ ‘ ہیں؟ اس کا اندازہ تو اسی سے ہو جاتا ہے کہ جب ایک جج جسٹس ایس مرلی دھرنے بی جے پی کے زہریلے لیڈروں کی زہریلی تقریروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنےکا سخت حکم دیا، تو انھیں راتوں رات چلتا کردیا گیا ۔ اور اس چلتا کرنے میں بھارت کے چیف جسٹس بوبڑے پیش پیش تھے ۔ انصاف کے مکھیا وہی تو ہیں اور اس پر غضب یہ کہ جب وہی مقدمہ دوبارہ دہلی ہائی کورٹ میں پیش ہوا، تو جسٹس ایس مرلی دھر کے بعد سماعت کرنے والے بینچ نے ، جو دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس سی ہری پر مشتمل تھا،اس کے حکم کے باوجود ایف آئی آر کیوں درج نہیں کی گئی؟ یہ سوال دریافت کرنے کے بجاے ، سماعت کی تاریخ ۱۳؍ اپریل مقرر کردی!

کیا یہ بھارت کی عدلیہ کا کام نہیں ہے کہ وہ لوگوں کے زخموں پرمرہم رکھے ، شرپسندوں اورظالموں کو فوری طور پر کٹہرے میں کھڑا کرے،اور عوام تک یہ پیغام پہنچائے کہ ملک کی عدالتیں سارے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور لوگ اطمینان رکھیں کہ انصاف کیا جائے گا، قصور واروں کو بخشا نہیں جائے گا چاہے وہ کتنے ہی طاقت ور کیوں نہ ہوں؟ اگر ہم سارے معاملے کا بغور جائزہ لیں تو اندازہ ہوجائے گا کہ ، مرکز کی بی جے پی کی حکومت ، یہ نہیں چاہتی کہ کپل مشرا، پرویش ورما اور انوراگ ٹھاکر جیسے آگ اُگلنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج ہو۔

عدالت کے اندر، ہائی کورٹ میں بھی اور سپریم کورٹ میں بھی سالیسٹر جنرل تشار مہتا بس ایک ہی جملہ رٹتے رہے ’’ابھی ایف آئی درج کرانے کے لیے حالات ٹھیک نہیں ہیں‘‘۔ مطلب یہ کہ اگر بی جے پی کے لیڈروں کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی تو تشدد کا دور پھر سے شروع ہوسکتا ہے ۔ کیا اس کا ایک مطلب یہ نہیں نکلتا کہ دہلی کے مسلم کش فسادات کے ذمے دار بی جے پی کے لیڈر ہی ہیں ؟

 کیا یہ اپنے آپ میں اقرار کرنا نہیںہے کہ اگر بی جے پی کے کسی لیڈر کے خلاف معاملہ درج ہوا تو دہلی کو اسی طرح سے پھر پھونک دیا جائے گا، جس طرح سے کہ پھونکا گیا ہے؟ اسے اقرار کے علاوہ اور کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ مراد یہ ہے کہ عدالت کو تو بی جے پی لیڈران کے تشدد میں ملوث ہونے کا مزید ثبوت مل گیا ہے ، اوراس کے باوجود وہ خاموش اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہے !!

شامی آمر بشارالاسد کے ہاتھوں شام میں قتل عام ہو رہا ہے، جس نے ۲لاکھ سے زیادہ سول آبادی کو کچل کررکھ دیا ہے۔ ان میں سے بیش تر اہلِ وطن کو اپنے بنیادی حقوق اور جمہوریت کے لیے آواز بلندکرنے پر مار ڈالا گیا اور اس میں سفاکی کی انتہا یہ ہے کہ یہ کام کرتے وقت قاتل طبقے نے مخصوص مذہبی ذہنیت کو مرکزی اہمیت دی۔مارے جانے والوں کی بڑی اکثریت سُنّی عرب آبادی پرمشتمل ہے، جنھیں انسانوں سے بدتر مخلوق سمجھ کر فنا کیا گیا ہے۔

بشارالاسد کی فوجیں ایک اور بدترین قتل عام کے لیے ادلب (Idlib) کے دروازے پر دستک دے رہی ہیں۔ ادلب کو ۲۰۱۱ء کے بعد بشار اپنے خلاف جمہوری اور انسانی حقوق مانگنے والوں کا آخری مرکز تصور کرتا ہے، وہاں سے مزید ۳۰لاکھ آبادی کو اسلحےکے زور پر اپنے گھروں سے بے دخل کرکے، ترکی اور یورپ کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔

یاد رہے ترکی نے ادلب کی سرحد پر بار بار جنگ بندی ختم کی، تاکہ وہاں سے شامی آبادی کے بہاؤ کو ترکی کی طرف بڑھنے سے روکا جاسکے۔ اُدھر بشار کی شامی فوجوں نے بمباری کرکے ۳۰ترک فوجیوں کو گذشتہ فروری میں ماردیا جس پر ترکی نے محدود جوابی کارروائی کی ، تاکہ جنگ کے پھیلاؤ کو بڑھنے نہ دیا جائے اور امن عالم کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔

آج کے بشارالاسد کے شام میں، عصرجدید کا ’ہولوکاسٹ‘ ہورہا ہے۔ وہاں جو کچھ ہورہا ہے اور جو کچھ ہونے جارہا ہے، اس سے بدترین کی اور کیا توقع کی جاسکتی ہے؟ بشار ایڑی چوڑی کا زور لگاکر اقتدار پہ قابض رہنا چاہتا ہے۔ مجموعی طور پر ۵ لاکھ شامی اس جنگ میں لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔ ایک کروڑ ۳۰ لاکھ بے گھر ہوکر دُنیا بھر میں در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ یہاں پر سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا بشارالاسد کو اس کا موقع فراہم کیا جائے گا کہ وہ ۱۰لاکھ لوگوں تک کو قتل کرڈالے؟ بدقسمتی کی بات ہے کہ ساری دنیا خاموشی سے اس وحشیانہ یلغار اور قتل عام کو دیکھ رہی ہے۔

شام کو فضائی حملوں سے روکنے کا اہتمام ہونا چاہیے تاکہ وہ بے گھر شامیوں کے درماندہ اور ہجرت کرتے بے یارومددگار ہوئے مظلوموں کو فضائی بم باری اور مشین گنوں سے نہ مارسکے۔  سُنّی شامیوں کی نسل کشی پر تلے ہوئے بشارالاسد کے حامی کہتے ہیں کہ ’’ہم تو مغربی سامراجیوں کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں‘‘۔ لیکن کیا وہ اس بے بنیاد دعوے کی تائید میں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس مقصد کے لیے بشار الاسد روسی سامراجیوں سے مدد حاصل کرکے یہ مقصد حاصل کررہا ہے؟ کیونکہ ان مظلوموں کے قافلوں پر حملےکرنےوالوں میں بشار کی فوجوں کے ساتھ روسی فضائیہ بھی برابر گھناؤنا کھیل کھیل رہی ہے۔

یہ سوال توجہ چاہتا ہے کہ ’’کیا دنیا میں بسنے والے حکمران اور عوام الناس، شام میں برپا نسل کشی کو درست سمجھتے ہیں؟ کیا وہ اس متفق علیہ عہد کو بھول گئے ہیں کہ آیندہ کبھی ہولوکاسٹ نہیں ہونے دیا جائے گا؟ کیا وہ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ شام کے یہ مظلوم اور خانماں برباد لوگ، انسان نہیں ہیں؟ اگر دنیا کے لوگ اپنی ذات اور اپنے ضمیر سے مخلص ہیں تو جواب دیں کہ کیا برطانیہ یا اسپین کے ۲لاکھ عام انسانوں کو یوں ذبح کردیا جاتا تو وہ واقعی یوں ہی خاموش رہتے؟ حالانکہ اہلِ مغرب اور امریکا کی عظیم اکثریت، دوسری جنگ ِ عظیم کے دوران جرمنی میں یہودیوں کے خلاف ہولوکاسٹ پربجا طور پر تڑپ اُٹھی تھی، لیکن آج وہ ضمیر کیوں سو چکا ہے؟

درحقیقت یہ تلخ سوال پھن پھیلائے کھڑا ہے کہ مغربی ضمیر، شام میں نسل کشی کو کچھ بھی سنجیدہ مقام نہیں دیتا۔ بشارالاسد کی فوجیں اندھا دھند سویلین آبادی پر آگ برسا رہی ہیں۔ وہ مردوں، عورتوں اور بچوں پر تسلسل کے ساتھ گیس اور کیمیکل بم برسا کر انھیں خوفناک اذیت سےدوچار کرتے ہوئے مار رہا ہے۔ وہ ’داعش‘ کو شام میں اس طرح کام کرنے کی اجازت دے رہا ہے، کہ دنیا کی توجہ کو اپنے ہاتھوں قتلِ انسانی سے ہٹاسکے۔ وہ اپنے فوجیوں کے ساتھ مسلسل کوشاں ہے کہ مقتولین کی اجتماعی قبروں کو دنیا کی نظروں سےبچائے اور داعش کے وجود کو خبروں کی سرخیوں میں اُبھارے۔ امرواقعہ ہے کہ بشار اور داعش، دونوں افواج نے شام میں آزادی کی اس جدوجہد کے پروانوں کو قتل کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کی ہے اور پورے المیے کو مغالطے کی نذر کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

دوسری طرف ہزاروں شامی سُنّی مسلمان، بشار کے اذیت خانوں میں قید میں سڑتے، روزانہ مرتے اور روزانہ بے بسی کی زندگی جیتے ہیں۔ وہ دُعا اور التجا کرتے ہیں کہ یااللہ! کسی کو ہماری مدد کے لیے بھیج۔ مگر افسوس کہ ان ہزاروں مجروح قیدیوں کی مناجاتیں، جیل خانوں کی دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ آتی ہیں۔ اور پھر جب ان کی لاشیں، بےرحمی سے مارے گئے جانوروں کی طرح کسی ویرانے میں پڑی نظر آتی ہیں، تو خود انسانیت شرما جاتی ہے۔ ایسی ہی ایک لاش کی تصویر جب عام ہوئی تھی تو امریکی حکومت نےبشار اور اس کے افسروں پر محض کچھ مدت کے لیے پابندی عائد کرکے، اپنی ’انسان دوستی‘ کا مضحکہ خیز ثبوت دینے کی کوشش کی تھی، مگر اس کے ہاتھوں انسانی قتلِ عام کو روکنے کے لیے کچھ اقدام نہ کیا۔

ہمارے مظلوم اور معصوم بچوں کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔ ہمارا مجموعی خاندانی، تہذیبی، اخلاقی، شہری اور تعلیمی مستقبل تباہی کے دھانے پر ہے۔ دُنیا انتشار اور بحران کے سوداگروں کے رحم و کرم پرہے، اورسرزمین شام اس المیے کا گڑھ ہے۔ یہاں پر مَیں ہولوکاسٹ سے بچ جانے والے ایلی ویسل کا یہ قول دُہرانا چاہوں گا:

میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ انسانیت کو پہنچنے والے دُکھ اور درد پر کبھی خاموش نہیں رہوں گا،اور ہرانسان کو پکاروں گا کہ وہ ظلم کی اس سیاہ رات میں غیر جانب دار نہ رہے۔ ظلم کا ہاتھ روکے، اس کی مذمت کرے اور مظلوم کی آواز بنے، اس کا ساتھ دے۔

شام میں روز افزوںانسانی نسل کشی پر دنیا کی بے خبری اورلاتعلقی درحقیقت انسانی تاریخ کا  اندوہ ناک المیہ ہے۔ کون ہے جو اس المیے کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا؟ (روزنامہ دی واشنگٹن پوسٹ، نیویارک، ۱۱مارچ ۲۰۲۰ء، ترجمہ: س م خ)

ناروے کی سمندری حدود میں جب ۱۹۷۹ء میں پیٹرولیم کے ذخائر نکالنے کا کام شروع ہوا، تو یورپ و امریکا کے متعدد عیسائی اور یہودی اداروں نے ناروے حکومت پر دباؤ ڈالا کہ ’’یہ تیل اسرائیل کو ارزاں نرخ پر یا مفت مہیا کیا جائے‘‘۔ ان کی دلیل تھی: ’’چونکہ تیل کی دولت سے مالامال عرب ممالک اسرائیل کو تیل فراہم نہیں کرتے ہیں اور ایران میں مغرب نواز رضا شاہ پہلوی حکومت کا تختہ اُلٹنے سے پٹرولیم کی فراہمی اور زیادہ مشکل ہوگئی ہے، اس لیے ناروے کو اپنے وسائل یہودی ریاست کی بقا کے لیے وقف کردینے چاہییں‘‘۔ ناروے کی ۱۵۰رکنی پارلیمان میں اس وقت ۸۷ ’اراکین فرینڈز آف اسرائیل‘ تنظیم کے سرگرم رکن تھے۔ تاہم، کوئی فیصلہ کرنے سے قبل ناروے کے وزیر اعظم اوڈوار نورڈلی نے ’فلسطین لیبریشن آرگنائزیشن‘ (PLO: تاسیس ۱۹۶۴ء) کے رہنماؤں اور عرب ممالک کا موقف جاننے کی خواہش ظاہر کی۔

بیش تر عرب ممالک نے اسرائیل کو پٹرولیم مہیا کرنے کی پُرزور مخالفت کی ۔ ان کی دلیل تھی کہ ’’اس کے بعد اسرائیل اور بھی زیادہ شیر ہوجائے گا اور امن کے لیے کوششیں مزید دشوار ہوجائیں گی‘‘، مگر پی ایل او کے سربراہ یاسر عرفات [م: ۱۱نومبر۲۰۰۴ء]نے ناروے کے وزیراعظم کو بتایا کہ’’ چاہے آپ اسرائیل کو تیل فراہم کریں یا نہ کریں، وہ یہ تیل حاصل کرکے ہی رہے گا۔ براہِ راست نہ سہی بالواسطہ دنیا میں کئی ملک اور افراد ہیں، جو یہ خرید کر اسرائیل کو سپلائی کریں گے۔ لہٰذا، بہتر یہ ہے کہ ناروے، اسرائیل کے ساتھ اپنی خیرسگالی کا خاطر خواہ فائدہ اٹھاکر فلسطینی قیادت اور اسرائیل کے درمیان پس پردہ مذاکرات کا سلسلہ شروع کرواکے ثالث کا کردار نبھائے‘‘۔

 ناروے کی انھی کاوشوں کی صورت میں ۱۴ سال بعد ’اوسلو اکارڈ‘ [معاہدۂ اوسلو: ۱۳ستمبر ۱۹۹۳ء] وجود میں آیا۔ جس کی رُو سے فریقین نے ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے دو ریاستی فارمولے پر مہر لگائی ۔ یاسر عرفات کو فلسطینی اتھارٹی کا سربراہ تسلیم کیا گیا اور مغربی کنارہ اور غزہ کی پٹی ان کے حوالے کی گئی۔فلسطین کو مکمل ریاست کا درجہ دینے، سرحدوں کا تعین، سکیورٹی، فلسطینی مہاجرین کا مسئلہ اور القدس یا یروشلم شہر کے مستقبل کے بارے میں فریقین نے مزید بات چیت کے لیے ہامی بھرلی۔ اندازہ تھا کہ اس دوران اعتماد ساز ی کے اقدامات ، ملاقاتوں کے سلسلے اور پھر فلسطینیوں اور عام یہودی آباد کاروں کے درمیان رابطے سے ایک اعتماد کی فضا قائم ہو جائے گی ، جس سے پیچیدہ مسائل کے حل کی گنجایش نکل آئے گی۔

 اسرائیل نے فلسطینی ریاست کے قیام اور فلسطینی مہاجرین کی واپسی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرکے ’اوسلو اکارڈ‘ کی روح نکال دی تھی، مگر اب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے فلسطین کا جو  نقشۂ کار جاری کیا ہے، اس نے تو ’اوسلو کارڈ‘ کو مکمل طور پر دفنا دیا ہے۔ ’اوسلو اکارڈ‘ میں تو ایک فلسطینی ریاست قائم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر ’ٹرمپ کے منصوبے‘ (ڈیل آف سنچری) کے مطابق:  ’’فلسطین ، اب صرف مغربی کنارہ اور غزہ پر مشتمل ہوگا، مکمل ریاست کے بجاے اسرائیل کی زیرنگرانی اب محض ایک Protectrate (محافظت)کی شکل میں ہوگا، جس کی سلامتی اور دیگر امور اسرائیل طے کرے گا۔ یہ فلسطینی حکومت فوج نہیں رکھ سکے گی،تاہم ایک پولیس فورس تشکیل دے سکے گی۔ اس کی سرحدوں کی حفاظت اسرائیل کی ذمہ داریوں میں شامل ہوگی‘‘۔

یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ غزہ سے فلسطینیوں کا مکمل انخلا کرکے ان کو صحراے سینا میں بسایا جائے گا اور غزہ کا علاقہ مکمل طور پر اسرائیل کے حوالے کیا جائے گا۔۱۹۹۳ء میںاوسلو میں اسرائیلی اور فلسطینی قیادت کے درمیان طے پائے گئے سمجھوتے میں ایک فلسطینی اتھارٹی کا قیام عمل میں آیا تھا۔ جس سے ۴۰لاکھ کی آبادی کو دو خطوں: مشرق میں غزہ اور اُردن کی سرحد سے متصل مغربی کنارے میں تقسیم کیا گیاتھا۔ نسبتاً وسیع مغربی کنارے کا انتظام ’الفتح‘ کی قیادت فلسطین لبریشن آرگنائزیشن  (پی ایل او) کے پاس ہے ، وہیں غز ہ میں اسلامی تحریک ’حماس‘ [تاسیس: ۱۹۸۷ء، بانی شیخ احمد یاسین، ۱۹۳۷ء-۲۲مارچ ۲۰۰۴ء] بر سرِ اقتدار ہے۔ جہاں پی ایل او، اسرائیل کو تسلیم کرتا ہے، حماس یہودی ریاست کے وجود سے ہی انکاری ہے۔ چونکہ مغربی کنارہ اور  غزہ کے درمیان کوئی زمینی رابطہ نہیں ہے، اس لیے ا مریکی صدر کے مطابق ان کو منسلک کرنے کے لیے اسرائیلی علاقوں سے ۳۰میٹراُوپر ۱۰۰کلومیٹر دنیا کا ایک طویل ترین فلائی اوور بنایا جائے گا۔ مغربی کنارے میں جو تقریباً ۱۵یہودی علاقے ایک طرح سے زمینی جزیروں کی صورت میں ہیں، ان کو اسرائیل کے ساتھ منسلک کرنے کے لیے مخصوص شاہرائیں تعمیر کی جائیں گی۔

ایک سال قبل دہلی کے دورے پر آئے ایک یہودی عالم ڈیوڈ روزن نے مجھے بتایا تھا کہ ’’سابق امریکی صدر بارک اوباما جس خاکے کو تیار کرنے میں ناکام ہو گئے تھے، ٹرمپ ، سعودی عرب و دیگر عرب ممالک کے تعاون سے فلسطین کے حتمی حل کے قریب پہنچ گئے ہیں‘‘۔

ایئر لینڈ کے چیف ربی ڈیوڈ روزن، اسرائیل کی چیف ربائیٹ، یعنی مذہبی امورکے رکن ہیں اور امریکی جیوش کونسل ( AJC) کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔مشرق وسطیٰ میں امن مساعی اور خصوصاً اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیا ن بیک چینل تعلقات کے حوالے سے وہ خاصے سرگرم ہیں۔ وہ سابق سعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز [م:۲۳جنوری ۲۰۱۵ء]کی ایما پر قائم ’کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل سینٹر فار انٹر ریلیجنز اینڈ کلچر ڈائیلاگ‘ کے بورڈ ممبر بھی ہیں۔

مشر ق وسطیٰ میں اس وقت یہ تین عوامل اسرائیل کو امن مساعی کے لیے مجبور کر رہے ہیں:  ’’تمام تر جارحانہ کارروائیوں کے باوجود نسل پرست یہودیوں اور اسرائیلی حکام کو ادراک ہو گیا ہے کہ وہ ناقابلِ تسخیر نہیں ہیں۔ ویسے تو اس کا اندازہ ۱۹۷۳ء کی جنگ رمضان اور بعد میں ۲۰۰۶ءمیں جنگ لبنان کے موقعے پر ہی ہوگیا تھا ، مگر حالیہ کچھ عرصے سے یہ بات شدت کے ساتھ محسوس کی جا رہی ہے۔اس لیے دنیا بھر کے یہودی چاہتے ہیں کہ اس سے پہلے کہ تاریخ کا پہیہ کوئی اور رخ اختیار کرے، اسرائیل کی سرحدوں کا تعین کرکے، پڑوسی ممالک سے اس کا وجود تسلیم کرایا جائے۔ یہودی عالم کاکہنا تھا کہ توسیع پسندی اب کسی بھی صورت میں اسرائیل کے مفاد میں نہیں ہے۔ فوجی اعتبار سے اگرچہ اسرائیل سرحدوں کو وسیع کرنے کی قوت رکھتا ہے، مگر اس کے نتیجے میں مقبوضہ علاقوںکی آبادی کو بھی اس ناجائز قبضے کے ساتھ اسرائیل میں شامل کرنا پڑے گا، جس سے ظاہر ہے کہ یہودی اقلیت میں تبدیل ہوجائیں گے۔ دنیا بھر میں یہودی محض ایک کروڑ ہیں، جن میں ۶۰ لاکھ کے قریب اسرائیل میں رہتے ہیں۔ اس لیے فلسطینیوں سے زیادہ اسرائیلیوں کے لیے بھی اپنی بقا کے لیے سرحدوں کا تعین کرنا ضروری ہے۔

دوسرا یہ کہ اسرائیلی علاقوں میں مسلمانوں کی افزایش نسل یہودیوں سے کئی گنا زیا دہ ہے۔ ۱۹۶۷ء میں عرب ،اسرائیل کی آبادی کا ۱۴فی صد تھے ، جو اب لگ بھگ ۲۲ فی صد ہو چکے ہیں۔ یہ وہ مسلمان ہیں جنھوں نے اسرائیل کی شہریت تسلیم کی ہوئی ہے اور ’اسرائیلی عرب‘ کہلاتے ہیں۔

 تیسرا اہم سبب یہ ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے مشرقی ساحل پر حالیہ کچھ عرصے سے تیل اور گیس کے وسیع ذخائر دریافت ہو رہے ہیں۔ کہاں وہ اسرائیل ، جہاں پانی اور تیل کا فقدان تھا،  اب وہ خطے میں عرب ممالک کو پیچھے چھوڑ کر پٹرولیم کا مرکز بننے والا ہے۔ اس لیے وہ اب ہرصورت میں امن کو یقینی بناتے ہوئے، پوری سمندری حدود پر کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔ 

حیفا کے پاس سمندر سے صاف پانی کشید کرنے کا دنیا کا سب سے بڑا پلانٹ لگا کر پانی کے معاملے میں اسرائیل پہلے ہی خود کفالت اختیار کرکے اب اردن کو بھی پانی سپلائی کرتا ہے۔ اسرائیل نے اب اردن اور مصر کو گیس کی ترسیل شروع کر دی ہے۔ اس وقت مصر کو اسرائیل سے ۸۵ملین کیوبک میٹر گیس فراہم ہورہی ہے، جس سے اسرائیل سالانہ۱۹ء ۵ ارب ڈالر کماتا ہے۔ ستم ظریفی یہ کہ چند سال قبل تک اسرائیل ، مصر سے تیل و گیس خریدتا تھا۔ حیفا سے ۱۰۰کلومیٹر دُور سمندر میں تامار اور لیویاتھان کے مقام پر اسرائیل نے گیس کے وسیع ذخائر دریافت کیے ہیں۔

بحیرہ روم میں دیگر مقامات پر بھی پٹرول اور قدرتی گیس کے ’وسیع ذخائر‘ موجود ہیں،   جن پر فلسطینیوں کا دعویٰ ہے، مگر اس سمندر کا ۹۰فی صد اقتصادی زون اسرائیل کی تحویل میں ہے۔ لیویاتھان کے مقام پر ہی ۲۱ ٹریلین کیوبک فیٹ گیس کے ذخائر اگلے ۴۰سال تک اسرائیل کی ضروریات کے لیے بہت کافی ہیں۔ پچھلے ماہ یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ۶؍ارب ڈالر لاگت سے ’ایسٹ میڈ پائپ لائن‘ بچھانے کے معاہدے پر دستخط کیے، جو اسرائیل سے قبرص ہوتے ہوئے یونان اور اٹلی اور دیگر مغربی ممالک کو گیس کی ترسیل کرے گی۔ اس پائپ لائن سے یور پ کی توانائی کی ۱۰فی صد ضروریات پوری ہوسکیں گی۔

تاہم، امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے فلسطینی مسئلے کا جو فارمولا منظر عام پر آیا ہے، اس سے شاید ہی امن کی امید بندھ سکتی ہے۔ خدشہ ہے کہ یہ اس خطے کے لیے مزید پیچیدگیاں پیدا کرسکتا ہے۔ اس کے مطابق فلسطینی مہاجرین کی اپنے گھروں کو واپسی کا معاملہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔۱۸۱صفحات کے اس منصوبے میں عرب ممالک سے اپنی مرضی سے ہجرت کرنے والے یہودیوں اور بزور طاقت بے گھر ہوئے فلسطینی مہاجرین کو ایک ہی پلڑے میں رکھا گیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ: ’’اگر اسرائیل، عرب ممالک سے آئے یہودی پناہ گرینوں کو اپنے یہاں ضم کرسکتا ہے، تو عرب ممالک کو بھی فلسطینیوں کو مکمل شہریت دے کر پناہ گزینوں کے باب کو بند کردینا چاہیے‘‘۔

 دنیا بھر میں اس وقت ۷۰لاکھ فلسطینی مختلف ممالک میں وطن واپسی کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ منصوبے میں عرب ممالک سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے، کہ ۷۰سال قبل جو یہودی اپنے آبائی ممالک سے نقل مکانی کرکے اسرائیل میں بس گئے ہیں، ان کو پیچھے چھوڑی ہوئی جایدادوں کا معاوضہ دے دیا جائے۔ اسرائیل سے، تاہم یہ مطالبہ نہیں کیا گیا ہے کہ وہ بھی ان فلسطینی پناہ گزینوں کو ہرجانہ دے، جن کو اس نے اپنی جایدادوں سے زبردستی بے دخل کردیا ہے۔

اسی طرح کی بددیانتی قیدیوں کی رہائی کے سلسلے میں بھی اپنائی گئی ہے۔ فلسطینی مزاحمتی گروپوں کو بلاشرط تمام اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرنا ہوگا، مگر اسرائیلی تحویل میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے لیے شرطوں کی ایک لمبی فہرست درج کی گئی ہے۔ قتل، اقدام قتل، دہشت گردی، اسرائیلی شہریوں،فوج یا اس کے سیکورٹی دستوں پر حملوںمیں ملوث فلسطینیوں کو کسی بھی صورت میں رہائی نہیں ملے گی۔  آخر میں اسرائیلی حکا م کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنی صواب دید پر فلسطینی قیدیوں کو رہا کرسکتے ہیں۔

 اس منصوبے کی رُو سے القدس یا یروشلم شہر کو تقسیم نہیں کیا جائے گا، بلکہ اس کا مکمل کنٹرول اسرائیل کے پاس ہی رہے گا۔ شہر میں مکینوں کو اختیار ہوگا کہ وہ اسرائیل یا فلسطین کے شہری ہوں گے۔ الاقصیٰ حرم پر جو ں کی توں پوزیشن برقرار رہے گی، یعنی یہ بدستور اُردن کے اوقاف کی زیرنگرانی رہے گا۔ اگرچہ سعودی عرب اس کے کنٹرول کا متمنی تھا، تاکہ ریاض میں موجود سعودی بادشاہ تینوں حرمین، یعنی مکہ ، مدینہ اور مسجد اقصیٰ کے ’متولی یا خادم‘ قرار پائیں۔

اسرائیل، مسجد اقصیٰ کے تہہ خانے تک رسائی کا خواہش مند ہے۔ جس کے لیے اس نے مغربی سرے پر کھدائی بھی کی ہے ، تاکہ وہاں تک پہنچنے کے لیے مسجدکی دیواروں کے نیچے سے ایک سرنگ بنا سکے۔ یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ تہہ خانے میں ہی معبد سلیمانی کے کھنڈرات یا قبلۂ اوّل موجود ہے۔

شہر کی مونسپل حدود کے باہر کفر عقاب اور سہانات کے علاقوں کو مشرقی یروشلم یا القدس کا نام دے کر اس کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کیا جائے گا۔غزہ کے راستے اسرائیل اورمصر کی سرحدیں نقل و حمل اور تجارت کے لیے کھول دی جائیں گی۔ اسرائیلی بندر گاہیں حیفا اور اشدود کو فلسطینیوں کے لیے کھولا جائے گا۔ ’بحیرۂ مُردار‘ (Dead Sea) جو مغربی کنارے کے علاقے میں شامل ہے، اس کے وسائل پر اسرائیل اور اردن کا کنٹرول رہے گا۔ اسرائیل دنیا بھر میں ’بحیرئہ مُردار‘ کی مصنوعات برآمد کرتا ہے۔ ’بحیرۂ مُردار‘ میں کان کنی اور اس کی مصنوعات کو جلد کی حفاظت وغیرہ کی دوائیوں کے طور پر استعمال کرنے کی دریافت کا سہرا ایک پاکستانی نژاد یہودی کے سر ہے، جو کراچی سے اسرائیل منتقل ہو گیا تھا۔

اس پوری رُوداد کے بعد بھی بتایا گیا ہے کہ: ’’یہ منصوبہ تبھی عمل میں لایا جائے گا ، جب حالات اسرائیل کے موافق ہوں گے اور فلسطینی اگلے چار برسو ں تک تمام شرائط پر عمل درآمد کرکے اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنائیں گے۔ اس کے بعد ہی اسرائیل دیگر امور پر قدم اٹھائے گا‘‘۔ فلسطینی حکام کے لیے لازم قرار دیا گیا ہے کہ ا ن کو حماس اور دیگر تمام مزاحمتی گروپوں کو غیر مسلح کرنا ہوگا۔ اردن اور مغربی کنارے کی سرحدکی تین چیک پوسٹ فلسطینی حکام کے حوالے کی جائیں گی۔ اس پورے معاہدے میں ترکی کے کردار کا کوئی ذکر نہیں ہے ، جس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں القدس یا یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دیے جانے کے فیصلے کے خلاف ووٹ دلوانے میں قائدانہ کردارکرکے امریکا کے فیصلے کی سینہ تان کرمخالفت کی تھی۔

چند برس قبل دوحہ میں راقم کو مقتدر فلسطینی لیڈر خالد مشعل سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا تھا۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ ’’آپ تو دو ریاستی فارمولے کو رد کرتے ہیں اور اسرائیل کے وجود سے ہی انکاری ہیں، تو مفاہمت کیسے ہو؟‘‘ انھوں نے کہا:’’حماس کا رویہ کسی بھی طرح     امن مساعی میں رکاوٹ نہیں ہے۔ یاسر عرفات اور محمود عباس نے تو اسرائیل کو تسلیم کیا، مگر ان کے ساتھ کیا سلوک ہوا۔ تحریک میں شارٹ کٹ کی گنجایش نہیں ہوتی۔ اس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے استقامت ضروری ہے۔ اپنے آپ کو مضبوط بنانا اور زیادہ سے زیادہ حلیف بنانا تحریک کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ تاریخ کا پہیہ سست ہی سہی مگر گھومتا رہتا ہے‘‘۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ حماس ۲۰۰۶ء کے ’نیشنل فلسطین اکارڈ‘ پر کار بند ہے، جس کی رُو سے وہ دیگر گروپوں کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گی‘‘۔

      اس فارمولے میں فلسطینی علاقوں میں غربت و افلاس سے نبٹنے کے لیے ۵۰؍ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا بھی ذکر ہے۔ اس خیراتی سرمایہ کاری کے بجاے اگر فلسطینی اتھارٹی کو گیس کے ذخائر اور ’بحیرئہ مُردار‘ کے وسائل کا کنٹرول دیا جاتا تو یہ کئی گنا بہتر ہوتا ۔بہرحال، صدر ٹرمپ کی اس بدترین جانب داری پر مبنی نام نہاد ’ڈیل آف سینچری‘ نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ کمزور اور طاقت ور کے درمیان کوئی معاہدہ ہو ہی نہیں سکتا۔فلسطینی لیڈرو ں ،عرب و دیگر اسلامی ممالک کے لیے لازم ہے کہ اتحاد کا راستہ اختیار کرکے، سیاسی لحاظ سے طاقت ور اور مستحکم بننے پر زور دےکر تاریخ میں اپنے آپ کو سرخ رو کروائیں، ورنہ تاریخ کے بے رحم اوراق ان کو کبھی نہیں بخشیں گے۔