مضامین کی فہرست


مارچ ۲۰۲۲

لندن میں قائم ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ (IA) انسانی حقوق کی کوئی واحد عالمی انجمن نہیں ہے کہ جس نے اسرائیل کو ’نسل پرست ریاست‘ قرار دیا ہو۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے بہت سے دوسرے گروپ بھی صہیونی ریاست کے خلاف ایسے ہی جذبات کا اظہار کرتے چلے آئے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشل اپنی تازہ رپورٹ کے بعد انسانی حقوق کی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ سمیت دو اسرائیلی انجمنوں (بتسلیم اور یش دین) کی ہم نوا بن گئی ہے، جو ماضی میں اسرائیل کے نسل پرست اقدامات کا پردہ چاک کر چکی ہیں۔

ایمنسٹی کی اس رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ اسرائیل اپنے زیر قبضہ فلسطینی علاقوں میں قوانین، پالیسیوں اور ضابطوں کے ذریعے نسل پرستی کی ایک ایسی مربوط پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کا مقصد فلسطینیوں کو اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں برابری کے حقوق سے محروم رکھنا ہے۔ اسی طرح فلسطینی شہریوں کو دبانا اور ان پر غلبہ حاصل کرنا ہے۔سرکاری طور پر تمام اسرائیلی شہریوں کو مذہب ونسل کے امتیاز کے بغیر برابر کا شہری تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ ’کم تر غیر نسل‘ کے طور پر برتاؤ کرتا ہے۔

اسرائیل کے دفتر خارجہ نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو ’جھوٹ، تضادات کا مجموعہ‘ قرار دیتے ہوئے رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’بے بنیاد الزامات کے ذریعے ادارے کی اسرائیل سے نفرت واضح ہے‘‘۔ اور یہ کہ ’’یہ رپورٹ اسرائیلی ریاست کے قیام کے حق کو تسلیم نہیں کرتی اور اس رپورٹ میں جو زبان استعمال کی گئی ہے، اس کا مقصد اسرائیل کو بدنام کرنا اور یہود مخالف جذبات کو اُبھارنا ہے۔

نسل پرست صہیونی ریاست کے کئی امریکی اور یورپی حامیوں نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے حوالے سے لائحہ عمل ترتیب دینے کے بلند بانگ دعوے کرتے ہوئے ’بیانیے کی جنگ‘ لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ ’بیانیے کی جنگ‘ جیسی اصطلاحات کا انتخاب ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل اپنے خلاف سچائی جاننے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ اسرائیل کی نسل پرستی کو بے نقاب کرنے والی لاتعداد رپورٹوں کو تل ابیب اور اس کے حواری ’پروپیگنڈا کی جنگ‘ قرار دیتے ہیں۔ یہ طرزِعمل ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل اپنے ہی پروپیگنڈے کا شکار ہو کر ظالمانہ نسل پرست نظام کی خامیوں سے پہلوتہی برت رہا ہے۔

اسرائیل میں نسل پرستی کے مظاہر تو پہلے دن سے ہی ملنا شروع ہو گئے تھے۔ اسرائیل کی تاریخ اور صہیونی نظریے سے آگاہ نقاد بخوبی جانتے تھے کہ فلسطین کے اصل باشندوں کو بے دخل کرکے ان کی جگہ یورپی یہودیوں کے لیے وطن قائم کرنے کی کوششوں کا نتیجہ ۲۰ ویں صدی کے آغاز پر وہاں کے ۹۵ فی صد مقامی باسیوں کے حقوق کی بُری طرح پامالی کی صورت میں سامنے آئے گا۔  اس نظام کو نسل پرستی اور ظالمانہ پالیسیوں کے ذریعے ہی قائم رکھا جا سکتا تھا۔اسرائیل کے چند نرم خو ناقدین نے صہیونی منصوبے پر واضح اور دو ٹوک رائے دینے سے اس لیے گریز کیا کہ شاید مستقبل بعید میں کوئی نہ کوئی، کسی دن تل ابیب کی حکومت کو ’نسل پرستی‘ کے راستے پر چلنے سے روک سکے۔

برطانیہ کے موجودہ وزیر اعظم بورس جانسن کا تعلق ایسے مکتبہ فکر سے ہے، جو حقائق کے بجائے عقیدے کو بنیاد مانتے ہیں۔ وزیر خارجہ کے طور پر انھوں نے ۲۰۱۷ء میں اسرائیل کو خبردار کیا تھا کہ ’تل ابیب کو نسل پرستی یا دو ریاستی حل میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا۔‘ جانسن کے اس بیان کے بعد قابض ریاست کے فلسطینیوں کے ساتھ سلوک کا موازنہ جنوبی افریقہ پر حکمرانی کرنے والی سفید فام اقلیت سے کیا جانے لگا۔پھر فلسطینیوں کے حق خود اختیاری سے متعلق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شاطرانہ بیان کا جواب دیتے ہوئے بورس جانسن کا کہنا تھا کہ آپ کو دو ریاستی حل پر عمل کرنا پڑے گا، یا پھر آپ کا  شمار نسل پرستانہ نظام کے پیروکاروں میں کیا جائے گا‘۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ اسرائیلیوں اور صہیونیت کے بانیوں کی بڑی تعداد تو فلسطینیوں کو انسان ہی نہیں سمجھتی، ایسے میں ان کے استصواب رائے کے حق کی بات چہ معنی دارد؟

سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور حکومت میں امریکی وزارت خارجہ کا قلمدان رکھنے والے جان کیری بھی اسرائیل کے مستقبل سے متعلق واضح نظریات رکھتے تھے۔ واشنگٹن میں ۲۰۱۴ء کے دوران ایک بند کمرے میں ہونے والے اجلاس کے دوران جان کیری نے خدشہ ظاہر کیا کہ ’اگر فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کی کوششیں ناکامی سے دوچار ہوئیں، تو اسرائیل کے نسل پرست ریاست بننے کے خطرات دوچند ہو جائیں گے‘۔ فرانسیسی وزیر خارجہ جین یوزلی ڈریان بھی کم وبیش ایسے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں۔ ڈریان کے بقول: ’نسل پرستی کا خطرہ بہت زیادہ ہے، اور اس سنگین صورتِ حال کے جوں کا توں برقرار رہنے کا امکان بڑھ گیا ہے‘۔

یہ دونوں رہنما بڑی آسانی سے یہ بات فراموش کر بیٹھے کہ ’سٹیٹس کو‘ اسرائیل میں مستقل حقیقت ہے اور اسرائیلی نسل پرست جمہوریت سے متعلق ان کے خیالات ایسے مستقبل سے وابستہ ہیں، جس کا دور دور تک نام و نشان نہیں۔

اقوام متحدہ کے سابق جنرل سکیرٹری بان کی مون کا اسرائیلی جمہوریت سے متعلق اعتبار بھی کچے دھاگے سے بندھا تھا۔ گذشتہ برس ایک بیان میں بان کی مون کا کہنا تھا، ’فلسطینی علاقوں میں غیر انسانی اور جارحانہ اسرائیلی اقدامات سے عبارت صہیونی ریاست کے انداز حکمرانی کا منطقی نتیجہ نسل پرستی کے سوا اور کچھ نہیں‘۔ بان کی مون کا تبصرہ اسرائیل کے نسل پرست ریاست ہونے سے متعلق اقوام متحدہ کے خیالات سے آگاہی کا نقیب ثابت ہوا۔ اگرچہ عالمی ادارے کے موجودہ جنرل سیکرٹری انتونیو گوتیریش نے اسرائیل کو نسل پرست قرار دیے جانے سے متعلق اقوامِ متحدہ کی ۲۰۱۷ء میں جاری کردہ رپورٹ ختم کرانے کی بھر پور کوشش کی۔ یہ اقدام یہود مخالف الزامات کے بعد سامنے آنے والے شدید دباؤ کے بعد کیا گیا۔ اس کے بعد اقوام متحدہ نے اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں سے روا رکھے جانے والے سلوک کا جائزہ اور ان دنوں غزہ پر حملے کی تحقیقات کے لیے مستقل کمیشن تشکیل دے دیا۔

اب اسرائیلی رہنما اس بات پر متفکر ہیں کہ مبادا یو این کمیشن کی حتمی رپورٹ کی اشاعت میں صہیونی ریاست کو نسل پرست اقدامات کا قصور وار نہ ٹھیرا دیا جائے۔ صہیونی قیادت کو اس بات کا مکمل ادراک ہے کہ اسرائیل کے جمہوری چہرے کو بھی ظاہری طور پر سجایا گیا ہے۔ پانچ برس قبل سابق اسرائیلی وزیر اعظم ایہود باراک ایک انٹرویو میں اسی خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل کے موجودہ حالات ’اب تک نسل پرستانہ نہیں‘، تاہم صہیونی ریاست ’پھسلتی ڈھلوان‘ پر اسی سمت سفر کر رہی ہے۔اسی طرح سابق وزیر اعظم ایہود اولمرٹ بھی خبردار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’اسرائیل کو جنوبی افریقہ طرز کی جدوجہد‘ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ فلسطینی ریاست قائم نہ ہونے کی صورت میں تل ابیب یہ جنگ ہار بھی سکتا ہے‘۔

بزرگ اسرائیلی رہنما کے بقول ’جس دن دو ریاستی حل ناکامی سے دوچار ہوا، اور ہمیں جنوبی افریقہ کی طرز پر مساوی ووٹ کی جدوجہد کا سامنا کرنا پڑا تو اسرائیل کا خاتمہ نوشتۂ دیوار ہوگا‘۔

دوسرے اسرائیلیوں کا کہنا ہے کہ نسل پرستی مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ زمانہ حال کی زندۂ جاوید حقیقت ہے۔ سابق اسرائیلی وزیر تعلیم شولامیت علونی کہتے ہیں کہ’ اسرائیل مقامی فلسطینیوں کے خلاف پرتشدد نسل پرستی کا ارتکاب کر رہا ہے‘۔ سابق اسرائیلی اٹارنی جنرل مائیکل بنیائر کی رائے میں ’اسرائیل نے مقبوضہ علاقوں میں نسل پرستی قائم کر رکھی ہے۔‘

اسرائیل بڑی مدت سے امریکی یونی ورسٹیوں میں اسرائیل کی حمایت کے لیے ’ہاسبارہ‘ تنظیم کے ذریعے کوشاں ہے۔ اس ضمن میں اطلاعاتی پروپیگنڈے سے اپنا ’روشن چہرہ‘ مغرب کے سامنے پیش کرتا چلا آیا ہے، مگر سابق امریکی صدر جمی کارٹر نے ’ہسبارہ تکنیک‘ کو اپنی کتاب کے ذریعے نقصان پہنچایا ہے اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ اس کا نقطۂ عروج بننے جا رہی ہے۔ ’فلسطین: نسل پرستی نہیں، امن‘ کے عنوان سے ۲۰۰۶ء میں سامنے آنے والی جمی کارٹر کی کتاب اسرائیل کی نسل پرستانہ روش کے بارے میں بحث کا نقطۂ آغاز بنی۔

کارٹر کے ناقدین نے روایت کے مطابق انھیں یہود مخالف خیالات کا پرچارک قرار دیا، تاہم اس کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ مغربی دنیا کو جمہوریت کے لبادے میں لپٹا اسرائیل کا وہ مکروہ چہرہ دکھائی دینے لگا، جو دراصل نسل پرستی کی گرد سے اَٹا ہوا تھا۔

دو عشرے گزرنے کے بعد کئی امریکی ادارے، اسرائیل کے بارے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرتے ہوئے یہ کہتے سنائی دیں گے کہ ’اسرائیل ناجائز قبضے کے بوجھ تلے دبی اپنی جمہوریت کو دنیا کے سامنے مہنگے داموں مزید نہیں بیچ سکتا‘۔

ایمنسٹی کی حالیہ رپورٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ تل ابیب اس وقت تک نسل پرست ریاست ہی قرار پائے گا، جب تک وہ فلسطینیوں کو یہودیوں کے مساوی حقوق دینے پر تیار نہیں ہوتا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل موجودہ رپورٹ جاری کرنے کے بعد ان اداروں کی فہرست میں شامل ہو گئی جو اسرائیل کے متعصبانہ رویہ کی کھلے عام مذمت کرتے ہیں اور اقوام عالم کو یاد دہانی کرواتے ہیں کہ ’’بہت ہوگیا، اسرائیل کی جواب دہی اب نہیں تو کب؟ ‘‘

۲۷۸ صفحات پر مشتمل یہ مدلّل رپورٹ امریکی سینیٹ ممبران کی تنقید کی زد میں آئی ہے ۔ امریکی قانون سازوں کی اسرائیل نوازی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک طرف فلسطینی نژاد امریکی بزرگ اسدعمر کی اسرائیلی فوج کے تشدد کے نتیجے میں موت واقع ہوجاتی ہے تو یہ سب خاموش ۔ دوسری جانب جب انسانی حقوق کے ادارے اسرائیل پر انگلی اٹھانے کی جسارت کرتے ہیں تو اُلٹا ان اداروں پر نکتہ چینی کی جاتی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل رپورٹ پر برہم مقتدر لوگوں میں سر فہرست نام امریکی امور خارجہ کی سینیٹ کمیٹی کے چیئرمین رابرٹ مینی ڈیز کے بارے میں شنید ہے کہ اسرائیل گذشتہ ۱۶ برس سے  ان کی انتخابی مہم کے لیے ہزاروں ڈالر فنڈنگ کر رہا ہے ۔ جیسے ہی یہ رپورٹ سامنے آئی، تو رابرٹ مینی ڈیز نے فی الفور اس تنظیم کی کارکردگی کو ناقص قرار دیا اور واضح طور پر اس رپورٹ کو غلط فہمی اور گمراہ کن حقائق پر مبنی قرار دیا۔

بلاشبہہ اسد عمر نامی بزرگ شہری کی موت کی ذمہ دار ان کی بےجا حراست تھی۔ اسرائیلی فوجیوں نے ان کو مغربی کنارے کے ایک قصبے سے شبہہ کی بنیاد پر گرفتار کیا، جب وہ اپنی کار پر جا رہے تھے۔ تشدد کی وجہ سے اسی روز ان کی موت واقع ہوگئی۔ روزنامہ نیویارک ٹائمز کے مطابق اسرائیلی فوجی سربراہ نے اس حادثے پر اظہار افسوس کیا مگر معافی مانگنے سے گریز کیا ۔

اس سارے معاملے کو دیکھا جائے تو سمجھ آتا ہے کہ مذکورہ رپورٹ واقعی اسرائیل کے متعصبانہ رویے، غاصبانہ نظام حکومت اور انسانیت کے خلاف جرائم پر ایک مؤثر اور چشم کشا دستاویز ہے۔ تاہم، اس پر امریکی اربابِ اختیار کی خاموشی لمحۂ فکریہ ہے ۔

احرامِ ثنا (نعتیہ دیوان)، مقصود علی شاہ۔ناشر: نعت آشنا پبلی کیشنز، پاک ٹاور، کبیر سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۹۱۸۷۵۷۵-۰۳۰۰۔ صفحات: ۳۰۴۔ قیمت: ۶۵۰ روپے۔

زیرنظر کتاب، ایک نعتیہ دیوان ہے۔’ ’دیوان‘‘ عام نعتیہ مجموعوں سے اس لحاظ سے مختلف ہوتا ہے کہ اس میں شامل نگارشات کی ردیفوں کے آخری حروف کو حروفِ تہجی کے لحاظ سے مرتب کیا جاتا ہے۔ یعنی ’الف‘ سے ’ی‘ تک کےحروف پر ختم ہونے والی نعتوں کو ترتیب وارشاملِ مجموعہ کیا جاتاہے‘‘(پروفیسر ریاض مجید)۔ اس دیوان میں ’ڑ‘، ’ڑھ‘، ’ژ‘ جیسے حروف پر ختم ہونےوالی ردیفیں بھی شامل ہیں۔

 مقصود علی شاہ کی فنی مہارت، ان کی تخلیقی صلاحیت، اور جودتِ طبع کا ایک اور پہلو ان کی تراکیب سازی ہے، اور ان کی تراکیب میں بہت تنوع اور جدّت ہے، مثلاً دو لفظی تراکیب: نوید ِ مدام، اِحلالِ مجلّٰی، محیطِ تقویم، مہرِوہاج__ پھر سہ لفظی تراکیب: فیضِ نسبتِ عترت، اِمکان گَہِ صعود مدارِ بہجت ِ طالعی، تعلیقِ اوجِ میم__  پھر اسی طرح چار لفظی تراکیب: حصارِ مدحت خیرالوریٰ،  آلودۂ نگارش غیرثنا، بہرِ نوید موجۂ دیدار، جمالِ مقطعِ بعدِ ابد__  چار سے زائد لفظوں کی تراکیب بھی ہیں، جیسے: نعت الہام مجلّٰی بہ حرائے وطن، پیش دہلیز ِ شہِ اقلیمِ ملکِ کبریا__  بلاشبہہ یہ تراکیب شاعر کے فنی کمال کا ثبوت ہیں۔ صبیح رحمانی اور جلیل عالی نے مجموعے کی تحسین کی ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)


قومی ترانہ :فارسی یا اردو، عابد علی بیگ ۔ناشر:abidalibaig@gmail.com ملنے کا پتا: ادارہ نورحق، ۵۰۳ قائدین کالونی، کراچی۔فون:  ۳۴۹۴۰۶۰۶-۰۲۱۔ صفحات ۲۹۲۔قیمت :۹۰۰روپے /۱۰برطانوی پونڈ/۱۵ امریکی ڈالر

 عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ اکثر کتابیں ،’کتاب برائے کتاب‘ کی تصویر پیش کرتی ہیں، اور بہت کم کتب ایسی ہوتی ہیں کہ جو واقعی کسی علمی ،سماجی، تاریخی یا تہذیبی ضرورت کو پورا کرتی ہیں۔تاہم، اس فضا میں ’’قومی ترانہ :فارسی یا اردو‘‘ کی شکل میں ایسی کتاب سامنے آئی ہے، جو واقعی ایک کمی کو بخوبی پورا کرتی ہے۔

کتاب کے مصنف نے راست جذبے، قومی لگن اور تحقیقی ذوق کی مثال قائم کرتے ہوئے ایک مغالطے کی جڑ کاٹ کے رکھ دی ہے۔ جب سے برقی ذرائع ابلاغ اوربرق رفتار سماجی ابلاغیات کا طوفان اٹھا ہے تو جہالت بھی حد درجہ بے لگام ہو کر قدم قدم پر اور لمحہ بہ لمحہ مغالطہ انگیزی پھیلانے میں سرگرم ہے۔ گذشتہ بیس برسوں کے دوران میں ایک مخصوص ذہن پاکستان کے ’قومی ترانے ‘کو ہدف بنانے کے لیے طرح طرح کی شرانگیزی کرتا چلا آیا ہے۔ پہلے کہا گیا کہ ’’قائد اعظم نے  جگن ناتھ آزاد کو قومی ترانہ لکھنے کو کہا تھا‘‘۔ جب اس بے بنیاد دعوے کو ملیامیٹ کیا گیا تو دوسرا حملہ ہوا: ’’قومی ترانہ پاکستان کی کسی زبان میں نہیں ہے، یہ تو فارسی میں لکھا گیا ہے اور اس میں صرف ایک لفظ ’کا‘ اردو سے لیا گیا ہے۔‘‘دراصل یہ افسانہ طرازیاں پاکستان سے وابستہ قابلِ احترام علامتوں کو مشکوک قرار دینے یا استہزا کا نشانہ بنانے کی ایک مربوط مہم کا حصہ ہیں۔

جناب عابد علی بیگ نے کمال درجہ محنت سے قومی ترانے کے ایک ایک لفظ پر تحقیق وجستجو کرکے اور مدلّل نظائر کے ساتھ،ان دعوئوں کو دھول بنا کر ہوا میں اڑا دیا ہے، اور یہ ثابت کیا ہے کہ یہ الفاظ عربی، فارسی ،سنسکرت سے پیدائشی تعلق رکھنے کے باوجود فی الحقیقت آج اردو ہی کے الفاظ ہیں اور ہمارے روز مرہ کے الفاظ ہیں، جنھیں عمومی سطح پر سمجھنا کچھ مشکل نہیں ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اس کتاب کے مطالعے کے نتیجے میں نہ صرف قومی ترانے سے محبت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ قاری علم وادب کے ان جواہرات تک رسائی پاتا ہے، جن تک پہنچنا عام طور پر ممکن نہیں ہوتا ۔ قومی ترانے کے خالق جناب حفیظ جالندھری کا یہ قول واقعی بہت اہم ہے کہ ’’اس سے مشکل کام میں نے زندگی بھر نہیں کیا ‘‘۔کتاب بڑی محبت اور حسنِ پیش کش کے ساتھ شائع کی گئی ہے۔ (س م خ )


قائد اعظمؒ محمد علی جناح،ابو جنید عنایت علی۔ ناشر:مکتبہ فروغ فکر اقبال ،۹۷۰ نظام بلاک، اقبال ٹائون لاہور ۔رابطہ: ۷۶۵۵۵۰۹-۰۳۳۲۔ صفحات :۲۷۹۔قیمت :۶۵۰ روپے۔

قائد اعظمؒ کی زندگی پر یہ ایک عمومی نوعیّت کی عمدہ کتاب ہے، بقولِ مصنف : ’’اس میں حیاتِ قائد کے ایسے پہلوئوں (اسلام، پیغمبرؐ اسلام سے محبت، دیانت ،اصول پسندی، عالی ظرفی، وقت کی پابندی، خواتین کا احترام ،نوجوانوں سے محبت ،علما اور ہم عصر مشاہیر سے تعلقات وغیرہ) کو اُجاگر کیا گیا ہے‘‘۔

کتاب ۴۸ اُردو اور انگریزی کتابوں کی مدد سے تیار کی گئی ہے، جو قائداعظم اور ان کے متعلقات موضوع وار اقتباسات مع حوالہ باب کے آخر میں موجود ہے۔ بعض ابواب تو پورے کے پورے ایک ہی کتاب سے اخذ کیے گئے ہیں۔ کتاب کو جامع بنانے کے لیے مؤلّف نے موضوع کے متعلقات (قومی پرچم ،قومی ترانہ ،جناح کیپ ،کرنسی، اثاثہ جات کی تقسیم، بائونڈری کمیشن اور تقسیم ہند میں دھاندلی وغیرہ)کا مختصر سا تعارف بھی دیا ہے۔

کتاب سے تحریک پاکستان ،مطالعۂ پاکستان ،قیام پاکستان اور قائد اعظم کے ذہن میں تصویر پاکستان واضح ہو کر سامنے آ جاتی ہے۔  (رفیع الدین ہاشمی

’مشرک‘ کہنے میں احتیاط!

یہ بات خوب سمجھ لیجیے کہ عقیدے،اور خصوصاً عقیدۂ توحید کا معاملہ بڑا ہی نازک ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس پر کفروایمان اور فلاح و خسران کا مدار ہے۔ اس معاملے میں یہ طرزِعمل صحیح نہیں ہے کہ مختلف احتمالات رکھنے والی آیات اور احادیث میں سے ایک مطلب نچوڑ کر کوئی عقیدہ بنالیا جائے اور اسے داخل ایمانیات کردیا جائے۔ عقیدہ تو صاف اور صریح محکمات سے ماخوذ ہونا چاہیے، جن میں اللہ اور اس کے رسولؐ نے ایک بات ماننے کی دعوت دی ہو، اور یہ ثابت ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اُس کی تبلیغ فرماتے تھے، اور صحابہ کرام ؓ و تابعینؒ و تبع تابعین ؒاور ائمہ مجتہدینؒ اُس پر اعتقاد رکھتے تھے۔کیا کوئی شخص بتا سکتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عالم الغیب والشہادۃ ہونے یا جمیع ماکان وما یکون کے عالم ہونے کا عقیدہ یہ نوعیت رکھتا ہے؟

یہ عقیدہ اگر واقعی اسلامی عقائد میں شامل ہوتاتو اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں اس کی تصریح فرماتا کہ میرے رسول ؐ کو حاضرو ناظر تسلیم کرو۔ حضورؐ خود یہ دعویٰ فرماتے اور اسے ماننے کی دعوت دیتے کہ میں ہرجگہ موجود ہوں، اور قیامت تک حاضرو ناظر رہوں گا۔ صحابہ کرامؓ اور سلف صالحینؒ میں یہ عقیدہ عام طور پر شائع ہوتا اور عقائد اسلام کی کتابوں میں اسے ثبت کیا جاتا۔

میں ان مسائل میں [ایسے] خیالات کو تاویل کی غلطی سمجھتا ہوں، اور اسے غلط کہنے میں تامل نہیں کرتا۔مگر مجھے اس بات سے اتفاق نہیں ہے کہ انھیں ’مشرک‘ کہا جائے اور مشرکینِ عرب سے تشبیہہ دی جائے۔ میں ان کے بارے میں یہ گمان نہیں رکھتا کہ وہ شرک کو شرک جانتے ہوئے اس کے قائل ہوسکتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ توحید ہی کو اصل دین مانتے ہیں اور اسی پر اعتقاد رکھتے ہیں۔ اس لیے انھیں ’مشرک‘ کہنا زیادتی ہے۔البتہ انھوں نے بعض آیات اور احادیث کی تاویل کرنے میں سخت غلطی کی ہے اور میں یہی اُمیدرکھتا ہوں کہ اگر ضد دلانے والی باتیں نہ کی جائیں بلکہ معقول طریقے سے دلیل کے ساتھ سمجھایا جائےتو وہ جان بوجھ کر کسی گمراہی پر اصرار نہ کریں گے۔(’رسائل و مسائل‘، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، مارچ ۱۹۶۲ء، ج۵۷، عدد۶، ص ۵۸-۶۰)