مارچ ۲۰۲۲

فہرست مضامین

کتاب نما

| مارچ ۲۰۲۲ | کتاب نما

احرامِ ثنا (نعتیہ دیوان)، مقصود علی شاہ۔ناشر: نعت آشنا پبلی کیشنز، پاک ٹاور، کبیر سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۹۱۸۷۵۷۵-۰۳۰۰۔ صفحات: ۳۰۴۔ قیمت: ۶۵۰ روپے۔

زیرنظر کتاب، ایک نعتیہ دیوان ہے۔’ ’دیوان‘‘ عام نعتیہ مجموعوں سے اس لحاظ سے مختلف ہوتا ہے کہ اس میں شامل نگارشات کی ردیفوں کے آخری حروف کو حروفِ تہجی کے لحاظ سے مرتب کیا جاتا ہے۔ یعنی ’الف‘ سے ’ی‘ تک کےحروف پر ختم ہونے والی نعتوں کو ترتیب وارشاملِ مجموعہ کیا جاتاہے‘‘(پروفیسر ریاض مجید)۔ اس دیوان میں ’ڑ‘، ’ڑھ‘، ’ژ‘ جیسے حروف پر ختم ہونےوالی ردیفیں بھی شامل ہیں۔

 مقصود علی شاہ کی فنی مہارت، ان کی تخلیقی صلاحیت، اور جودتِ طبع کا ایک اور پہلو ان کی تراکیب سازی ہے، اور ان کی تراکیب میں بہت تنوع اور جدّت ہے، مثلاً دو لفظی تراکیب: نوید ِ مدام، اِحلالِ مجلّٰی، محیطِ تقویم، مہرِوہاج__ پھر سہ لفظی تراکیب: فیضِ نسبتِ عترت، اِمکان گَہِ صعود مدارِ بہجت ِ طالعی، تعلیقِ اوجِ میم__  پھر اسی طرح چار لفظی تراکیب: حصارِ مدحت خیرالوریٰ،  آلودۂ نگارش غیرثنا، بہرِ نوید موجۂ دیدار، جمالِ مقطعِ بعدِ ابد__  چار سے زائد لفظوں کی تراکیب بھی ہیں، جیسے: نعت الہام مجلّٰی بہ حرائے وطن، پیش دہلیز ِ شہِ اقلیمِ ملکِ کبریا__  بلاشبہہ یہ تراکیب شاعر کے فنی کمال کا ثبوت ہیں۔ صبیح رحمانی اور جلیل عالی نے مجموعے کی تحسین کی ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)


قومی ترانہ :فارسی یا اردو، عابد علی بیگ ۔ناشر:abidalibaig@gmail.com ملنے کا پتا: ادارہ نورحق، ۵۰۳ قائدین کالونی، کراچی۔فون:  ۳۴۹۴۰۶۰۶-۰۲۱۔ صفحات ۲۹۲۔قیمت :۹۰۰روپے /۱۰برطانوی پونڈ/۱۵ امریکی ڈالر

 عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ اکثر کتابیں ،’کتاب برائے کتاب‘ کی تصویر پیش کرتی ہیں، اور بہت کم کتب ایسی ہوتی ہیں کہ جو واقعی کسی علمی ،سماجی، تاریخی یا تہذیبی ضرورت کو پورا کرتی ہیں۔تاہم، اس فضا میں ’’قومی ترانہ :فارسی یا اردو‘‘ کی شکل میں ایسی کتاب سامنے آئی ہے، جو واقعی ایک کمی کو بخوبی پورا کرتی ہے۔

کتاب کے مصنف نے راست جذبے، قومی لگن اور تحقیقی ذوق کی مثال قائم کرتے ہوئے ایک مغالطے کی جڑ کاٹ کے رکھ دی ہے۔ جب سے برقی ذرائع ابلاغ اوربرق رفتار سماجی ابلاغیات کا طوفان اٹھا ہے تو جہالت بھی حد درجہ بے لگام ہو کر قدم قدم پر اور لمحہ بہ لمحہ مغالطہ انگیزی پھیلانے میں سرگرم ہے۔ گذشتہ بیس برسوں کے دوران میں ایک مخصوص ذہن پاکستان کے ’قومی ترانے ‘کو ہدف بنانے کے لیے طرح طرح کی شرانگیزی کرتا چلا آیا ہے۔ پہلے کہا گیا کہ ’’قائد اعظم نے  جگن ناتھ آزاد کو قومی ترانہ لکھنے کو کہا تھا‘‘۔ جب اس بے بنیاد دعوے کو ملیامیٹ کیا گیا تو دوسرا حملہ ہوا: ’’قومی ترانہ پاکستان کی کسی زبان میں نہیں ہے، یہ تو فارسی میں لکھا گیا ہے اور اس میں صرف ایک لفظ ’کا‘ اردو سے لیا گیا ہے۔‘‘دراصل یہ افسانہ طرازیاں پاکستان سے وابستہ قابلِ احترام علامتوں کو مشکوک قرار دینے یا استہزا کا نشانہ بنانے کی ایک مربوط مہم کا حصہ ہیں۔

جناب عابد علی بیگ نے کمال درجہ محنت سے قومی ترانے کے ایک ایک لفظ پر تحقیق وجستجو کرکے اور مدلّل نظائر کے ساتھ،ان دعوئوں کو دھول بنا کر ہوا میں اڑا دیا ہے، اور یہ ثابت کیا ہے کہ یہ الفاظ عربی، فارسی ،سنسکرت سے پیدائشی تعلق رکھنے کے باوجود فی الحقیقت آج اردو ہی کے الفاظ ہیں اور ہمارے روز مرہ کے الفاظ ہیں، جنھیں عمومی سطح پر سمجھنا کچھ مشکل نہیں ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اس کتاب کے مطالعے کے نتیجے میں نہ صرف قومی ترانے سے محبت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ قاری علم وادب کے ان جواہرات تک رسائی پاتا ہے، جن تک پہنچنا عام طور پر ممکن نہیں ہوتا ۔ قومی ترانے کے خالق جناب حفیظ جالندھری کا یہ قول واقعی بہت اہم ہے کہ ’’اس سے مشکل کام میں نے زندگی بھر نہیں کیا ‘‘۔کتاب بڑی محبت اور حسنِ پیش کش کے ساتھ شائع کی گئی ہے۔ (س م خ )


قائد اعظمؒ محمد علی جناح،ابو جنید عنایت علی۔ ناشر:مکتبہ فروغ فکر اقبال ،۹۷۰ نظام بلاک، اقبال ٹائون لاہور ۔رابطہ: ۷۶۵۵۵۰۹-۰۳۳۲۔ صفحات :۲۷۹۔قیمت :۶۵۰ روپے۔

قائد اعظمؒ کی زندگی پر یہ ایک عمومی نوعیّت کی عمدہ کتاب ہے، بقولِ مصنف : ’’اس میں حیاتِ قائد کے ایسے پہلوئوں (اسلام، پیغمبرؐ اسلام سے محبت، دیانت ،اصول پسندی، عالی ظرفی، وقت کی پابندی، خواتین کا احترام ،نوجوانوں سے محبت ،علما اور ہم عصر مشاہیر سے تعلقات وغیرہ) کو اُجاگر کیا گیا ہے‘‘۔

کتاب ۴۸ اُردو اور انگریزی کتابوں کی مدد سے تیار کی گئی ہے، جو قائداعظم اور ان کے متعلقات موضوع وار اقتباسات مع حوالہ باب کے آخر میں موجود ہے۔ بعض ابواب تو پورے کے پورے ایک ہی کتاب سے اخذ کیے گئے ہیں۔ کتاب کو جامع بنانے کے لیے مؤلّف نے موضوع کے متعلقات (قومی پرچم ،قومی ترانہ ،جناح کیپ ،کرنسی، اثاثہ جات کی تقسیم، بائونڈری کمیشن اور تقسیم ہند میں دھاندلی وغیرہ)کا مختصر سا تعارف بھی دیا ہے۔

کتاب سے تحریک پاکستان ،مطالعۂ پاکستان ،قیام پاکستان اور قائد اعظم کے ذہن میں تصویر پاکستان واضح ہو کر سامنے آ جاتی ہے۔  (رفیع الدین ہاشمی