مارچ ۲۰۲۲

فہرست مضامین

مصر میں فوجی حکمرانی اور اخوان کی عزیمت

حافظ محمد عبداللہ | مارچ ۲۰۲۲ | اخبار اُمت

اخوان المسلمون کے مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع خصوصی عدالت میں بیان دے رہے تھے:  ’’میں کہہ چکا ہوں کہ ہمارا پُرامن رویہ تمھاری گولی سے زیادہ طاقت ور ہے ۔کیا میری امن پسندی ہی میرے خلاف دلیل بنادی جائے گی؟جب سے اخوان المسلمون قائم ہوئی ہے، ہماری جدوجہد پرامن ہے اور ان شاء اللہ ہم پر توڑے جانے والے ظلم کے خلاف اللہ کی نصرت ہمیں ضرور حاصل ہوکر رہے گی۔جج صاحبان ! حقائق کو توڑا مروڑا جارہا ہے ۔جو کٹہرے میں کھڑے کیے گئے ہیں اور جو جیلوں میں ناحق بنداورقید کاٹ رہے ہیں، ظلم انھی پر توڑا گیا ہے۔ ان شاء اللہ اخوان المسلمون فتحیاب لوٹے گی اور پہلے سے بڑھ کر طاقت ور: وَسَـيَعْلَمُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اَيَّ مُنْقَلَبٍ يَّنْقَلِبُوْنَ۝۲۲۷‘‘

ڈاکٹر محمد بدیع [پ: ۷؍اگست ۱۹۴۳ء] ۱۶جنوری ۲۰۱۰ء کو اخوان المسلمون کے آٹھویں مرشد عام منتخب ہوئے۔ ڈاکٹر صاحب ایک صائب الرائے اور صاحب ِعزیمت رہنما ہیں ۔ اخوان المسلمون کے سابق مرشد عام [۲۰۰۴ء- ۲۰۱۰ء] محمدمھدی عاکف [۱۹۲۸ء-۲۰۱۷ء] کے قریبی ساتھی ہیں ۔دونوں سید قطب شہید [شہادت: ۲۹؍اگست ۱۹۶۶ء]کے شاگرد رہے اور سید صاحب کے ساتھ ہی ۱۹۶۵ء کی قید و بند اور ابتلا و آزمایش میں مبتلا رہے اور کندن بن کر نکلے۔ مصر کے ریاستی اطلاعاتی ادارے نے ۱۹۹۹ء میں انھیں ’۱۰۰   بہترین عرب سائنس دانوں‘ میں شمار کیا تھا ۔

اس وقت کے مصری فوجی حکمران ، جمال عبد الناصر کی فوجی عدالت نے ڈاکٹر محمد بدیع کو ناکردہ جرم کی پاداش میں ۱۵ سال قید کی سزا سنائی تھی۔ وہ ۹سال جیل میں قید رہ کر رہا ہوئے۔ ۱۹۹۸ء میں ۷۵ دن کے لیے پھر قید کردئیے گئے ۔۱۹۹۹ء میں تیسری بار گرفتار کیے گئے اور پانچ سال قید کی سزا پائی اور ۲۰۰۳ء میں رہا ہوئے۔

۲۰۱۳ء میں صدر مرسی کی منتخب حکومت کے خلاف چند دولت مند ملکوں کی پشت پناہی میں جنرل سیسی کی باغی حکومت نے فوجی انقلاب میں ایک بار پھر گرفتار کرلیا۔ فوجی جنتا نے اس بار ان پر قتل اور تشدد پر اُبھارنے کا الزام عائد کیا۔اس وقت مصر کے آٹھ اضلاع میں ان کے خلاف ۴۸مقدمات درج ہیں ۔

حالیہ فروری ۲۰۲۲ء میں ایک جعلی مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے مرشدعام کی عمرقید کو برقرار رکھاگیاہے۔۳۰دن کے اندر اندر انھیں سنائی جانے والی یہ دوسری عمرقید کی سزا ہے۔ اس طرح مختلف مقدمات میں اب تک مجموعی طور پر انھیں ۲۰۰ برس کی عمرقید سنائی جاچکی ہے۔ مزید ۸۰ برس قید کی سزائوں والے مقدمات کی سماعت ابھی باقی ہے۔

 ۷۸برس کے مرشدعام کو آٹھ برس سے مسلسل قیدتنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ان کی بیٹی ضحی بدیع کہتی ہیں کہ میرے والد محترم علیل ہیں۔ پانچ برس سے انھیں اہلِ خانہ سے ملنے نہیں دیا گیا۔ کھانے پینے کا سامان اور باہر سے دوا تک نہیں پہنچنے دی جارہی۔ انھیں طبّی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے اور قید کی تعذیب اور مشقت اس پر سوا ہے۔ ’’وہ سخت جسمانی کمزوری کا شکار ہیں ، ان کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ہماری التجا سننے والا کوئی نہیں، سوائے اللہ کے‘‘۔

عرب حکومتوں کے پالیسی سازوں کے خیال میں ’عرب بہار‘ کی کامیابی کے پیچھے در اصل اخوان المسلمون کے نظریاتی ،سرتاپا قربانی دینے والے، منظم کارکنان تھے ۔لہٰذا، جب تک انھیں اور ان کی قیادت کا صفایا نہ کردیا جائے دنیا بھر کی طاغوتی قوتوں کی پشت پناہی کے باوجود، ہمارے لیے کامیابی کا کوئی امکان نہیں ۔اسی لیے اخوان المسلمون اور خصوصاً ان کی قیادت ان کا اہم ہدف ہے۔

۲۰۱۳ء میں مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع کی گرفتاری کے بعد جناب محمود عزت قائم مقام مرشدعام مقرر ہوئے۔ حکومتی جبرو استبداد کو دیکھتے ہوئے بار بار ساتھیوں نے انھیں ملک سے باہر چلے جانے کا مشورہ دیا ۔لیکن قائم مقام مرشد عام نے دار و گیر میں مبتلااپنے ساتھیوں کو تنہا چھوڑنا پسند نہ کیا اور ملک ہی میں اپنے کارکنوں کے درمیان رہے ۔۲۰۱۵ٌ میں اخوان المسلمون کے دیگر ۹۲کارکنان کے ہمراہ انھیں بھی ان کی عدم موجودگی میں سزائے موت سنائی گئی تھی، جسے بعد میں عمر قید میں بدل دیا گیا۔ ۸؍ اپریل ۲۰۲۱ء کو محمود عزت بھی گرفتار کرلیے گئے ۔

نائب مرشد عام محمود عزت کے ساتھ کام کرنے والی اعلیٰ انتظامی کمیٹی کے اولین کنوینیر ڈاکٹر محمد کمال کوابتدا میں ہی شہید کردیا گیا تھا اور دوسرے ذمہ دار ڈاکٹر محمد عبد الرحمٰن مرسی کو قید کرلیا گیا۔

اخوان کے رہنما ڈاکٹر عصام عریان ۲۱؍ اگست ۲۰۲۱ءکو سیسی آمریت کے ہاتھوں قید کے دوران تشدد سے جیل ہی میں انتقال کرگئے ۔ ان کی تشدد زدہ میّت، گھر والوں کے حوالے کرنے کے بجائے انتظامیہ نے خود سپرد خاک کردی تھی۔ تدفین کے وقت گھروالوں کو قبرستان آنے تو دیا گیا،لیکن موبائل فون لانے کی اجازت نہیں دی، تاکہ مجرم نظام اپنا جرم چھپاسکے۔

امام ابن تیمیہؒ نے قید کی دھمکی کے جواب میں فرمایا تھا:’’ہمارے دشمن ہمارے ساتھ زیادہ سے زیادہ کیا کرسکتے ہیں ؟ قید ہمارے لیے خلوت اور تنہائی میں عبادت کا موقع ہے ۔جلاوطنی ہمارے لیے سیاحت ہے اور قتل ہمارے لیے شہادت‘‘ ۔امام ؒ کے اس مقولے کو زندگی کا وظیفہ بناتے ہوئے اس وقت اخوان المسلمو ن کی چوٹی کی قیادت اورمکتب ارشاد کے تمام ممبران قید میں ہیں۔ اخوان کے ۶۰ہزار کارکن جیلوں میں بند ہیں ۔(جیلوں میں جگہ کم پڑچکی ہے اور حال ہی میں جنرل سیسی حکومت نے نئے جیل خانے تعمیر کرنے کا حکم صادر کیا ہے۔)

صدر مرسی کی زندگی میں مرشد عام محمد مھدی عاکف سے حکومت نے مذاکرات کرنا چاہے تو انھوں نے فرمایا: ’’جس نے مذاکرات کرنے ہوں وہ مصر کے حقیقی منتخب صدر ( مرسی ) سے کرے‘‘۔ نائب مرشد عام خیرت الشاطر کا کہنا تھا: ’’جو بات چیت چاہتا ہے ،وہ صدر مصر (مرسی)سے کرے‘‘۔

صدر مرسی شہید کی دوران قید جیل میں وفات [۱۷جون ۲۰۱۹ء] کے بعد اخوان کا دو ٹوک موقف اب یہ ہے کہ ’’ان کی شہادت کے بعد مذاکرات کا حق اب صرف اور صرف مصری قوم کو ہے۔ اس لیے کہ جنگ اب اخوان اور غدار فوجی جنتا کے مابین نہیں بلکہ بغاوت کے مرتکب فوجیوں اور اس قوم کے درمیان ہے، جس کا مینڈیٹ چُرالیا گیا ہے۔جس کی آواز کو دبا دیاگیا ہے ،اورجس کی عزت پامال کی گئی ہے ۔ تیران و صنافیر کے جزیرے بیچ ڈالے گئے، اور مصر کو امریکا واسرائیل کا بے دام غلام بنادیا گیا ۔