مضامین کی فہرست


جون ۲۰۲۰

قرآن نے خود کو آسان قرار دیا ہے (سورئہ قمر، سورئہ مریم، سورئہ دخان)۔ آسان ہونے کا مفہوم کیا ہے؟ کیا ہرشخص قرآن کے مفہوم کو متعین کرسکتا ہے؟ اس بارے میں دوانتہائی رویے پائے جاتے ہیں: ایک ان دین دار لوگوں کا جو درسِ قرآن دینے، حتیٰ کہ ترجمۂ قرآن پڑھنے کو بھی ایمان کے لیے خطرہ تصور کرتے ہیں اور اسے سمجھنے سے پہلے ۱۷، ۱۸ علوم کے جاننے کو شرط قرار دیتے ہیں۔ دوسری طرف پروٹسٹنٹ فکرسے متاثر جدید افکار کا علَم بردار طبقہ یہ کہتا ہے کہ دینی ماخذ کی تفسیر و تعبیرپر کسی طبقے کی اجارہ داری نہیں، الہامی کتاب کا ہرماننے والا اس کی تشریح کا حق رکھتا ہے۔

یاد رہے عیسائی مذہب کی اصلاح کی پروٹسٹنٹ تحریک پاپائیت کے اس جبر کا ردعمل تھی  جس نے یورپ کی نشاتِ ثانیہ کے دور میں سائنسی مفکرین و فلاسفہ کی سوچ کو اپنے مذہبی عقائد پر حملہ سمجھتے ہوئے ان کے خلاف نہ صرف گمراہی کے فتوے دیے بلکہ سخت گیر سزائیں بھی دیں۔ مارٹن لوتھر نے جواب میں کہا: خدا نے انجیل انسانوں کی رہنمائی کے لیے نازل کی ہے اور ہر عیسائی کی نجات کا دارومدار اس کے انفرادی عقیدہ و اعمال پر ہے۔ اس لیے ہرآدمی کا یہ حق ہے کہ وہ   براہِ راست کلامِ الٰہی کو پڑھے اور دینی اُمور سے متعلق خود فیصلہ کرے۔ اس لیے کہ نجات کے لیے اصل ذمہ دار فرد ہے اور اس ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کے لیے اسے اختیار بھی چاہیے۔ چنانچہ ہرفرد کو اختیار ہے کہ وہ بائیبل کی تعبیر کرسکے۔ گویا ہرفرد کو تفسیر بالراے کی آزادی دے دی گئی۔

ہمارے ذرائع ابلاغ میں موجود ایک بڑا طبقہ اس بات کا پرچارک ہے کہ کوئی بھی عالمِ دین قرآن کی تشریح کا اجارہ دار نہیں کہ اس کی تفسیر و تعبیر کو آخری سند مانا جائے۔ بلاشبہہ الہامی ہدایت کی تفسیر و تعبیر پر کوئی طبقہ اجارہ داری کا حق نہیں رکھتا اور اسلام میں نہ تو وراثتی برہمنیت کا کوئی تصور ہے اور نہ پاپائیت کا نظام۔ اسلام تو آیا ہی اس لیے تھا کہ بندے اور ربّ کے درمیان جو ہستیاں حائل ہوگئی تھیں ، ان کی رکاوٹ کو ختم کردے۔ لیکن کیا ہرشخص یہ اہلیت رکھتا ہے کہ وہ قرآنی مفاہیم کا تعین کرسکے ، اور کیا دنیا کے دیگر شعبہ ہاے زندگی کے اُمور سےمتعلق بھی ہرشخص کی راے معتبر گردانی جاتی ہے؟ کیا کسی طبّی عارضے کے بارے میں کسی انجینیرکی راے کو وہی اعتبار حاصل ہوگا جو ایک ڈاکٹر یا طبیب کی راے کا ہوسکتا ہے؟ کیا کسی قانونی مسئلے کی تفہیم میں کسی ڈاکٹر کی راے کسی قانون دان کی راے کے ہم پلہ قرار دی جاسکتی ہے؟ غرضیکہ ہرعلم سے متعلق اسی شخص کی راے صائب قرار دی جاتی ہے جس نے اس علم کے اصول و مبادی سیکھنے میں زندگی کا ایک عرصہ کھپایا ہو۔ مولانا امین احسن اصلاحی کے بقول: ’’قرآنِ کے اسرار و حکم کے خزانے پر کسی خاص گروہ کا اجارہ نہیں ہے۔ اس خزانے سے بقدرِصلاحیت و استعداد وہ لوگ حصہ پاتے ہیں جو کتابِ الٰہی پر تدبر کرتے ہیں اور اُن شرائط کے ماتحت تدبر کرتے ہیں جو قرآن پر تدبر کے لیے مقرر ہیں‘‘۔ (تزکیہ نفس، ص۳۱)

تیسیر قرآن: مفسرین کی آرا

کسی آیت کا شانِ نزول کیا ہے؟ ناسخ و منسوخ آیات کون سی ہیں؟ کسی آیت کا سیاق و سباق کیا ہے؟ غریب الفاظ کا مفہوم کیا ہے؟کوئی لفظ اپنے حقیقی معنی میں استعمال ہوا ہے یا مجازی معنی میں؟ حذف و محذوف اور محکم ومتشابہ آیات کا علم، اصولِ تفسیر اور ماخذ تفسیر کو گہرائی سےجانے بغیر قرآنی مفاہیم کے تعین میں قدم قدم پر ٹھوکر کھانے کا اندیشہ موجود ہے۔ اس پہلو سے دیکھا جائے توہرشخص اس قابل نہیں کہ وہ قرآن سے صحیح طور پر استفادہ کرسکے ، جب کہ قرآن خود کو تذکیر کے لیے آسان قراردیتا ہے: وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۝۱۷ (القمر ۵۴: ۱۷) ’’ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے، پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟‘‘

مفتی محمد شفیعؒ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ’’ لِلذِّكْرِ،ذکر کے معنی یادکرنے اور حفظ کرنے کے بھی آتے ہیں اور کسی کلام سے نصیحت و عبرت حاصل کرنے کے بھی۔ یہ دونوں معانی یہاں مراد ہوسکتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے قرآن کریم کو حفظ کرنے کے لیے آسان کر دیا۔ یہ بات اس سے پہلے کسی کتاب کو حاصل نہیں ہوئی… اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ قرآنِ کریم نےاپنے مضامینِ عبرت و نصیحت کو ایسا آسان کرکے بیان کیا ہے کہ جس طرح بڑے سے بڑا عالم و ماہر، فلسفی اور حکیم اس سے فائدہ اُٹھاتا ہے، اسی طرح ہرعامی وجاہل جس کو علم سے کوئی مناسبت نہ ہو، وہ بھی عبرت و نصیحت کے مضامینِ قرآنی کو سمجھ کر اس سے متاثر ہوتا ہے۔آیت میں يَسَّرْنَا  کے  ساتھ لِلذِّكْرِ  کی قید لگا کر یہ بھی بتلا دیا گیا ہے کہ قرآن کو حفظ کرنے اور اس کے مضامین سے  عبرت و نصیحت حاصل کرنے کی حد تک آسان کردیا گیا ہے جس سے ہرعالم و جاہل، چھوٹا بڑا یکساں فائدہ اُٹھا سکتاہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ قرآنِ کریم سے مسائل واحکام کا استنباط بھی ایسا ہی آسان ہو، وہ اپنی جگہ ایک مستقل اور مشکل فن ہے جس میں عمریں صرف کرنےوالے علماے راسخین کو ہی حصہ ملتا ہے، ہر ایک کا وہ میدان نہیں۔ اس سے ان لوگوں کی غلطی واضح ہوگئی جوقرآن کریم کے اس جملے کا سہارا لے کر قرآن کی مکمل تعلیم اس کے اصول و قواعد سے حاصل کیے بغیر مجتہد بننا اور اپنی راے سے احکام و مسائل کا استخراج کرنا چاہتے ہیں کہ وہ کھلی گمراہی کا راستہ ہے‘‘ (معارف القرآن، جلد۸،ص ۲۳۰)۔

مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ کے بقول:’’بعض لوگوں نے يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ  کے الفاظ سے یہ غلط مطلب نکال لیا ہے کہ قرآن ایک آسان کتاب ہے، اسے سمجھنے کے لیے کسی علم کی ضرورت نہیں، حتیٰ کہ عربی زبان تک سے واقفیت کے بغیر جو شخص چاہے اس کی تفسیر کرسکتا ہے اور حدیث و فقہ سے بے نیاز ہوکر اُس کی آیات سے جو احکام چاہے مستنبط کرسکتا ہے۔ حالانکہ جس سیاق و سباق میں یہ الفاظ آئے ہیں ، اُس کو نگاہ میں رکھ کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس ارشاد کا مدُعا لوگوں کو یہ سمجھانا ہے کہ نصیحت کا ایک ذریعہ تو ہیں وہ عبرت ناک عذاب جو سرکش قوموں پر نازل ہوئے، اور دوسرا ذریعہ ہے یہ قرآن جو دلائل اور وعظ و تلقین سے تم کو سیدھا راستہ بتارہا ہے۔ اُس ذریعے کےمقابلے میں نصیحت کا یہ ذریعہ زیادہ آسان ہے۔ پھر کیوں تم اس سےفائدہ نہیں اُٹھاتے اور عذاب ہی دیکھنے پر اصرار کیے جاتے ہو؟ یہ تو سراسر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اپنے نبیؐ کے ذریعے سے یہ کتاب بھیج کر وہ تمھیں خبردار کررہا ہے کہ جن راہوں پر تم لوگ جارہے ہو وہ  کس تباہی کی طرف جاتی ہیں اور تمھاری خیر کس راہ میں ہے؟ نصیحت کا یہ طریقہ اسی لیے تو اختیار کیا گیا ہے کہ تباہی کے گڑھے میں گرنے سے پہلے تمھیں اُس سے بچا لیا جائے۔ اب اُس سے زیادہ نادان اور کون ہوگا جو سیدھی طرح سمجھانے سے نہ مانے اور گڑھے میں گر کر ہی یہ تسلیم کرے کہ واقعی یہ گڑھا تھا‘‘ (تفہیم القرآن، جلد۵،ص ۲۳۴-۲۳۵)۔

مولانا امین احسن اصلاحیؒ لکھتے ہیں: ’’اس آیت کا مطلب عام طور پر لوگوں نے یہ لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نےقرآن کو حفظ کرنے یا نصیحت حاصل کرنے کے لیے نہایت آسان کتاب بنایا ہے۔ یہ بات اگرچہ بجائے خود صحیح ہے لیکن آیت کا مفہوم اس سے بہت وسیع ہے۔ لفظ تیسیر عربی میں کسی چیز کو کیل کانٹے سے درست کرنے، پیش نظر مقصد کے لیے اس کو اچھی طرح موزوں بنانے اور جملہ لوازم سے آراستہ و پیراستہ کرنے کے معنوں میں آتا ہے، مثلاً یَسَّرَ الْفَرْسَ لِلرَّکُوب کے معنی ہوں گے گھوڑے کو تربیت دے کر ، اس کو کھلاپلا کر، زین، لگام، رکاب سے آراستہ کرکے سواری کے لیے بالکل ٹھیک ٹھاک کردیا … لفظ ذکر بھی یہاں وسیع معنوں میں استعمال ہوا ہے، یعنی تعلیم، تذکیر، آگاہی، تنبیہہ، نصیحت، موعظت، حصولِ عبرت اور اتمامِ حجت، سب اس کے مفہوم میں شامل ہیں… ہماری فطرت اور ہماری عقل کے اندر اللہ تعالیٰ نےعلم و معرفت کے جوخزانے ودیعت فرمائے ہیں لیکن ہم ان سے غافل ہیں، (قرآن) انھی کو ہمارے سامنے اُجاگرکرتاہے… تم مچلے ہوئے ہو کہ جب اس عذاب کی نشانی دیکھ لو گے تو مانو گے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمھاری تعلیم وتذکیر کے لیے قرآن اُتارا ہے جو ہرپہلو سے اس مقصد کے لیے جملہ لوازم سے آراستہ و مسلّح ہے تو آخر اس عظیم نصیحت سے کیوں فائدہ نہیں اُٹھاتے، عذاب کے تازیانے ہی کے لیے کیوں بے قرار ہو!‘‘ (تدبرقرآن، جلد۸، ص ۹۹-۱۰۰)

فہم قرآن کے دو درجے

اب تک کی بحث سے ہمیں فہم قرآن کے دو درجے معلوم ہوئے۔ قرآن کے الفاظ میں ایک درجے کو ہم تذکر اور دوسرے کو تدبر کہہ سکتے ہیں:

تذکر: اس سے مراد نصیحت کرنا، متنبہ کرنا، یاد کرناہے۔ گویا علم کے مطابق عمل کرنے کا عزم کرنا۔ قرآن کے ایک ایک لفظ کا تو نہیں البتہ مجموعی پیغام کا ادراک کرنا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو قرآن کے سب سے پہلے مخاطبین اُونٹ اور بکریاں چرانے والے بدو، تاجر اور کاشتکار تھے۔  ان میں سے ایک فی صد بھی پڑ ھے لکھے نہ تھے۔ ان کے پاس صَرف و نحو ، فلسفے اور تاریخ کی کوئی کتاب نہ تھی۔ لیکن انھوں نے قرآن سے جو اثر لیا اور وہ ان کے عمل میں ڈھل گیا۔ یہ وہ علم تھا جس کی تعلیم دیناقرآن کا مقصد تھا اور جس کی بنیاد پر وہ دنیا کو بہترین تہذیب و تمدن دینے والے بن گئے۔

تدبر:اس سے مراد ایسا غوروخوض کہ قرآن کے ایک ایک لفظ، آیت اور سورۃ کے مفہوم و مقاصد کو سمجھا جاسکے۔ اصولِ تفسیر اور علومِ تفسیر سے آگہی کے ساتھ یہ تدبر ہی ہے جو ایک انسان کو استنباطِ احکام، تفقہ فی الدین اور فتویٰ و تفسیرلکھنے کا اہل بناتاہے۔ یہی وہ عمل تھا جس کے لیے صحابۂ کرامؓ ایک ایک سورۃ کے سمجھنے میں کئی کئی ماہ و سال صرف کرتے تھے۔ یہ تدبر ہی ہے  جس کے ذریعے سے ازروے حدیث قیامت تک قرآن کے نت نئے عجائب کھلتے چلے جائیں گے۔

قرآن کا عام فہم ہونا

کسی بھی کلام کی آسانی دو پہلوؤں سے ہوتی ہے: ۱- اس کے الفاظ و عبارات نامانوس اور پیچیدہ نہ ہوں۔۲- اس کے مضامین اور نظریات قابل فہم اور آسان ہوں۔

قرآن اپنے موقف کو منوانے کے لیے آفاق و انفس کے ایسے فطری دلائل دیتا ہے جو ہردور اور ہرسطح کا انسان آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ اس میں فلسفہ و کلام کا اسلوبِ استدلال نہیں ہے کہ ایک خاص سطح کے لوگ ہی سمجھ سکیں۔

امام غزالی (م: ۵۰۵ھ) قرآنی دلائل اورمتکلمین و فلاسفہ کے دلائل کا فرق بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’قرآنی دلائل غذا کی طرح ہیں جس سے ہرانسان فائدہ اُٹھاتاہے، اورمتکلمین کے دلائل دوا کی طرح ہیں جن سے کچھ افراد تو فائدہ اُٹھاتے ہیں لیکن بہت سے لوگوں کو اس سے نقصان پہنچتا ہے۔ قرآنی دلائل کی مثال پانی کی ہے جس سے دودھ پیتا بچہ اور تنومند آدمی دونوں فائدہ اُٹھاتے ہیں، جب کہ دوسرے دلائل کھانوں کی طرح ہیں جن سے صحت مند لوگوں کو کبھی فائدہ پہنچتا ہے تو کبھی نقصان، لیکن دودھ پیتے بچے اس سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھا سکتے‘‘(علم الکلام، ص ۲۰)۔

امام فخرالدین رازی (م: ۶۰۶ھ) متکلمین و فلاسفہ کے امام ہیں۔وہ فرماتے ہیں: ’’میں نے علمِ کلام اورفلسفے کے طریقوں کو آزمالیا ہے۔ یہ نہ توکسی پیاسے کی پیاس بجھاسکتے ہیں اور نہ کسی بیمار کو شفا دے سکتے ہیں۔ میں نے سمجھ اوردیکھ لیا ہے کہ تمام راستوں کے مقابلے میں قریب ترین اور آسان ترین راستہ قرآن کا راستہ ہے‘‘ (البدایہ والنہایہ، جلد۱۳،ص ۵۶)۔

امام رازی تفسیر کبیر میں لکھتے ہیں: ’’قرآن کریم کا طرزِ استدلال لوگوں کے ذہنوں کے زیادہ قریب ہے اور ان کی عقل میں بات کو بٹھانے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے۔ قرآنی دلائل کو اذہان و افہام کے قریب ترین ہی ہونا چاہیے تاکہ ان سے خواص و عوام دونوں نفع اُٹھا سکیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ قرآنی دلائل کا مقصد مجادلہ و مناظرہ نہیں بلکہ صحیح اورسچے عقائد کو دلنشین کرانا ہے، اور اس مقصد کے لیے قرآنی دلائل دوسرے تمام طریقوں سے زیادہ مؤثر ہوتے ہیں‘‘۔

قرآن کے آسان ہونے کے ایک پہلو سے متعلق مولانا اصلاحی کہتے ہیں: ’’قرآن مجید بنی نوعِ آدم کے تمام طبقات کے لیے صحیفۂ ہدایت بن کر نازل ہوا ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ جو اس پرایمان لائے گا، فلاح پائے گا اور جواعراض کرے گا، وہ ہلاک ہوگا۔ اس وجہ سے ضروری ہے کہ اس کی تعلیم و دعوت کا معیار عام عقل انسانی کے معیار کے مطابق ہو تاکہ ہرانسان جوفکرونظر کی عام استعداد رکھتا ہے اس کو سمجھ سکے،اور اس کی تعلیمات پر عمل کرکے خالق کی خوشنودی حاصل کرسکے۔ ایک ایسی کتاب جس کا مقصد عام تعلیم و دعوت ہو، نہ تو لفظاً اتنی پیچیدہ ہونی چاہیے کہ جب تک خواص اس کی مشکلات حل نہ کریں،وہ سمجھ نہ آئے، اور نہ معناً اتنی مبہم اور دقیق ہونی چاہیے کہ انسانی فہم و ادراک کی عام استعداد اس کے اسرار و رُموز سمجھنے سے قاصرہو‘‘ (مبادی تدبر قرآن، ص ۱۰۴-۱۰۵)۔

قرآن نے توحید، رسالت اور آخرت کے اثبات پر عقلی دلائل بھی دیے ہیں اور نقلی بھی۔ نقلی دلائل میں جن انبیاے کرام اور صلحا، جیسے حضرت لقمان، حضرت مریم، اصحابِ کہف اور طاغوت، جیسے فرعون، اصحاب الاخدود، اصحاب الفیل وغیرہ کے واقعات بیان کیے ہیں۔ عرب ان سے مانوس تھے، جب کہ عقلی دلائل ایسے ہیں جو ایک اَن پڑھ آدمی کو بھی اپیل کرتے ہیں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی ان کی قوتِ تاثیرکا انکارنہیں کرسکتا۔ مثلاً زمانۂ قید کے دوران حضرت یوسف ؑ سے ان کے قیدی ہم نشین اپنے اپنے خوابوں کی تعبیر جاننے کے خواہش مند ہوئے تو آپ نے بھی ان کے سامنے ایک سوال رکھا: ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَيْرٌ اَمِ اللہُ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ۝۳۹ۭ (یوسف ۱۲: ۳۹) ’’کیا (کسی غلام کے لیے اس کے) کئی آقا بہتر ہیں یا ایک ہی اللہ غلبے والا؟‘‘

سوال کی صورت میں یہ ایک ایسی دلیل ہے جس کے مخاطب کے لیے ’ایک‘ کہے بغیر چارہ نہیں۔ اور اتناکہنے کے لیے قائل کو اصولِ تفسیر اور علومِ قرآنی کی تحصیل کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح جب اللہ یہ فرماتا ہے: لَوْ كَانَ فِيْہِمَآ اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللہُ لَفَسَدَتَا۝۰ۚ (الانبیاء ۲۱: ۲۲) ’’اگر زمین و آسمان میں اللہ کے سوا اورمعبود ہوتے تو یہ دونوں درہم برہم ہوجاتے‘‘۔ یہ ایسی دلیل ہے جو چودہ سو سال پہلے کے عالم و جاہل کو بھی اپیل کرتی تھی اور آج کے ترقی یافتہ زمانے کے لوگوں کو بھی۔

دلائل و مضامین کے عام فہم اور آسان ہونے ہی کی وجہ سے قریش قرآن کی تاثیر سے خوف زدہ تھے۔ قرآن نے ان کے اس اندرونی خوف کو یوں افشا کیا ہے:  وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْـغَوْا فِيْہِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ۝۲۶(حم السجدہ ۴۱:۲۶)’’اور کافر کہتے ہیں کہ اس قرآن کو ہرگز نہ سنو اور (جب سنایا جائے تو) شور مچا دو تاکہ تم غالب رہو‘‘۔گویا سردارانِ مکہ کو خدشہ ہے کہ  ع        ہو نہ جائے آشکارا شرع پیغمبرؐ کہیں

اگر کافر قرآن کے ابلاغ کو اپنے طاغوتی غلبے کے لیے خطرناک سمجھتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ اہلِ اسلام کا غلبہ کس چیز سے وابستہ ہے؟ لیکن مسلمان لیڈرشپ، اپنی بقا اور ترقی کے لیے غیرقرآنی تعلیم اور ٹکنالوجی کے حصول کو ہی مطمح نظر بنائے ہوئے ہیں۔ بقول احسان دانش  ؎

مانگتے پھرتے ہیں اغیار سے مٹی کے چراغ
اپنے خورشید پہ پھیلا دیے سایے ہم نے

 کفارِ مکّہ جب اہلِ ایمان کو تضحیک و استہزا،ظلم و تشدد کے باوجود نہ جھکا سکے تو ایک وقت آیا کہ سردارِ مکہ عتبہ بن ربیعہ دولت، سرداری اور بادشاہت کا پیغام لے کر سمجھوتہ کرنے آیا تو اللہ کے رسولؐ نے اسے سورہ حم السجدہ کی آیات کی تلاوت کی صورت میں اپنا پیغام دیا۔ وہ واپس آکراپنی قوم کو کہنے لگا کہ ’’میں نے محمد کی زبان سے جو کلام سنا ہے وہ ضرور کوئی اثر دکھاکر رہے گا‘‘(ابن ہشام)۔   یہ قرآن کی تیسیر و تاثیر ہی کا کمال تھا کہ مشرکین مکہ کی خواتین اور بچے چھتوں اور دیواروں پر چڑھ کر حضرت ابوبکرؓ کی تلاوت سنتے تھے اور ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگ جاتے۔

حضورؐ اور صحابۂ کرامؓ سے جب بھی کوئی اسلام کا تعارف چاہتا تو وہ جواب میں اکثر قرآن کا کچھ حصہ سناتے۔ شاہِ حبشہ کے دربار میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پوچھی گئی تو قرآن سنایا گیا۔ مکہ میں ابوذر غفاریؓ، طفیل دوسیؓ اوردیگر کو رسولؐ اللہ نے قرآن سنایا۔ مدینہ میں مصعب بن عمیرؓ نے اسید بن حضیرؓ، سعد بن معاذ ؓاور دیگر کو قرآن سنا کر ہی قبولِ اسلام پر آمادہ کیا۔

قرآن لوگوں کے لیے ہدایت ہے

قرآن خود کوھُدًى لِّلنَّاسِ (البقرہ ۲:۱۸۵)قرار دیتا ہے۔ اس اعتبار سے قرآن کا مخاطب انسان اور اس کا موضوع ہدایت ہے۔ اور انسانوں میں مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے ماننے والے اچھے بُرے، عالم و جاہل، سب شامل ہیں۔ ظاہر ہے کہ انھوں نے کسی قسم کے علومِ قرآنی نہیں پڑھے ہوں گے۔ اس کے باوجود قرآن خود کو ان کے لیے ہدایت کہتا ہے: ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۝۲ۙ (البقرہ ۲:۲) اور ہُدًى وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ (یونس ۱۰:۵۷) کہتا ہے اور لازم نہیں کہ تمام متقین اور مومنین علمی رسوخ کے حامل ہوں۔ اب اگر قرآن تمام انسانوں کی ہدایت کے لیے آیا ہے اور ہدایت ہرانسان کی ضرورت ہے تو ضروری ہواکہ ہدایت کے حصول کا راستہ آسان بھی ہو اور سب کی دسترس میں بھی۔ اس لیے کہ کائنات میں جس چیز کی ضرورت عام ہے قدرت نے اس کی دستیابی کو بھی عام رکھا ہے، جیسے ہوا اور پانی ہر آدمی کی ضرورت ہے تو اللہ نے اسے دوسری چیزوں کی نسبت اتنا ہی عام کردیا۔ ہدایت وہ چیز ہے جو ہوا اور پانی کی طرح ہرانسان کی ضرورت ہے تو یہ کس طرح درست ہے کہ اس تک انسانی دسترس کو مشکل بنا دیا جائے۔ چنانچہ اللہ نے فرمایا:

فَاِنَّمَا يَسَّرْنٰہُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِہِ الْمُتَّقِيْنَ وَتُنْذِرَ بِہٖ قَوْمًا لُّدًّا۝۹۷ (مریم ۱۹: ۹۷) پس اے نبیؐ، ہم نے اس قرآن کو آپؐ کی زبان میں اسی لیے آسان کر دیا کہ آپؐ اس کے ذریعے پرہیزگاروں کو خوشخبری دیں، اکھڑاور ہٹ دھرم قوم کو ڈرائیں۔

معلوم ہوا کہ خوشخبری اور ڈراوے کے لیے قرآن آسان بھی ہے اور مؤثر بھی، حتیٰ کہ اسی قرآن کے ذریعے عرب جیسی اکھڑقوم موم کی طرح نرم ہوگئی۔ اسی طرح تذکیر و یاددہانی کے لیے بھی قرآن آسان ہے۔ فرمایا:

فَاِنَّمَا يَسَّرْنٰہُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّہُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ۝۵۸ (الدخان ۴۴:۵۸) ہم نے اس قرآن کو تمھاری زبان میں آسان کر دیا تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔

سورئہ قمر کے آغاز میں حضرت نوح ؑ کی قوم کی سرکشی اور پھران پر نزول عذاب کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِيْ وَنُذُرِ۝۱۶ (القمر ۵۴: ۱۶)’’پس کیسا تھا میرا عذاب اور کیسے تھے میرے ڈراوے‘‘۔ اس سے اگلی آیت میں فرمایا:وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۝۱۷ (القمر۵۴:۱۷) ’’حقیقت یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کردیا ہے، پس ہے کوئی جو نصیحت حاصل کرے؟‘‘اس کے بعد قومِ عاد کی تباہی کا ذکر اور آیت ۲۱ میں فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِيْ وَنُذُرِ کی تکرار کے بعد آیت۲۲ میں يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ  کی تکرار ہے۔ بعدازاں قومِ لوط کی سرکشی اور عذاب کے ذکر کے بعد آیت ۳۹ میں عذاب اور اِنذار کے بعد آیت۳۲ میں تیسیر قرآن کی تکرار ہے۔ پھر قومِ لوط کی سرکشی اورعذاب کے ذکر کے بعد آیت۳۹ میں عذاب اور ڈراوے اور آیت۴۰ میں چوتھی مرتبہ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ   کی تکرار اس بات کا اظہار ہے کہ اللہ کی پکڑ سے خبردار کرنے،ڈرانے اور تذکیر و نصیحت کا جتنا آسان ذریعہ قرآن ہے کوئی اور چیز نہیں ہوسکتی۔

 قرآن کتابِ الٰہی سے اہلِ ایمان کے بدن کےرونگٹے کھڑے ہونے، دلوں کے نرم پڑنے اور یادالٰہی کی طرف متوجہ ہونے کی خبر دیتا ہے:

تَــقْشَعِرُّ مِنْہُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ۝۰ۚ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُہُمْ وَقُلُوْبُہُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللہِ۝۰ۭ (الزمر ۳۹:۲۳) اُسے سن کر اُن لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے ربّ سے ڈرنے والے ہیں، اور پھر اُن کے جسم اور ان کے دل نرم ہوکر اللہ کے ذکر کی طرف راغب ہوجاتے ہیں۔

قرآن فہمی کا تقاضا

برصغیر میں مسلمانوں کے دورِ زوال کی عظیم ہستی شاہ ولی اللہ نے اُمت کے زوال اور فساد کے علاج کے لیے فہم قرآن کو مؤثر علاج سمجھتےہوئے پہلی مرتبہ قرآن کا فارسی ترجمہ کیا جس کے باعث ان کے خلاف گمراہی کے فتوے بھی صادر ہوئے۔ ان کی کتاب تحفۃ الموحدین کا ذیل کا پیرا اُس ذہن کو سمجھنے میں مددگار ہے جو آج بھی قرآن فہمی میں رکاوٹ ہے۔ شاہ ولی اللہ قرآن فہمی سے خوف زدہ اس ذہن کی ایک ایک خلش کا آیاتِ قرآنی سے یوں ازالہ کرتے ہیں:
’’بعض کہتے ہیں کہ قرآن مجید اور احادیث کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جو بہت سے علوم اور بے شمار کتابیں پڑھا ہوا ہو اور اپنے زمانے کا علامہ ہو، جب کہ اللہ فرماتا ہے:
ہُوَالَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ يَتْلُوْا عَلَيْہِمْ اٰيٰتِہٖ وَيُزَكِّيْہِمْ وَيُعَلِّمُہُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ۝۰ۤ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۝۲ۙ (الجمعہ۶۲:۲)    اللہ تعالیٰ وہ ہستی ہے جس نے انھی اَن پڑھ لوگوں میں سے رسول مبعوث کیا جو ان پراس کی آیات کو تلاوت کرتا ہے، ان کےدلوں کو پاک کرتا ہے اور انھیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور اس سے پہلے تووہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔

یعنی اللہ کے رسولؐ بھی اَن پڑھ اور آپؐ کے اصحابِ بزرگوار بھی اَن پڑھ تھے لیکن جب رسولؐ اللہ نے اپنے اصحابؓ کے سامنے قرآن کی آیات پڑھیں تو ان کوسن کروہ ہرقسم کی بُرائی اور بگاڑ سے  پاک صاف ہوگئے۔ پس اگراَن پڑھ آدمی قرآن و حدیث نہیں سمجھ سکتا اور اس کی سمجھ کی استعداد نہیں رکھتا تو صحابہؓ بُرائیوں اور عیبوں سے کیسے پاک صاف ہوگئے؟

بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم بعد کے زمانے کے لوگ ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی برکت اور صحابہؓ کے دل کی سلامتی کہاں سےلائیں جو قرآن و حدیث کے معنی سمجھ سکیں؟ اس کاجواب اس سے اگلی آیت میں ہے: وَّاٰخَرِيْنَ مِنْہُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِہِمْ۝۰ۭ (الجمعہ ۶۲ :۳)، یعنی بعد والے لوگ خواہ پڑھے ہوئے ہوں یا اَن پڑھ، جو بھی مسلمان ہوں اور اصحاب کے طریقے کی پیروی کا ارادہ کریں اور قرآن وحدیث کو سنیں تو انھیں بھی پاک کرنے کے لیے یہ ذریعہ کافی ہوسکتا ہے اور وہ فرماتا ہے: وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ کافیہ پڑھنے والے اور شافیہ جاننے والے تو اس قرآن کے معنی سمجھنے سے عاجز ہوں ، جب کہ عرب کے جنگلی بدو اس کی حقیقت سے بہرہ ور ہوتے ہوں۔ اس کے علاوہ ایک جگہ یوں فرماتا ہے: اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ (محمد۴۷:۲۴) ’’وہ قرآن میں غوروفکر کیوں نہیں کرتے؟‘‘ پس  قرآن آسان نہ ہو تو اس میں غوروفکر کیوں کیا جائے؟ اَمْ عَلٰي قُلُوْبٍ اَقْفَالُہَا’’یا ان کے دلوں پر تالے چڑھے ہوئے ہیں؟‘‘۔ یعنی باوجودیکہ ان کےدلوں پر تالے نہیں لگے ہوئے ہیں، پھر بھی کیسی گمراہی ہے کہ قرآن پر غوروفکر میں زور نہیں لگاتے‘‘۔

مال و اسباب سے محرومی کو ابتلا و آزمایش سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے اہل ایمان جب اللہ کے باغیوں کو دنیا میں پھلتا پھولتا دیکھتے ہیں تو انھیں اس پر تعجب ہوتا ہے کہ آخر ان کو کیوں نوازا گیا ہے ؟ علامہ اقبال اپنی شہرۂ آفاق نظم ’شکوہ‘ میں ربِ کائنات سے کبھی تو اس طرح گلہ کرتے ہیں کہ ’ ’رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پر ‘‘ اور کبھی برملا سوال کرتے ہیں ’’کیوں مسلمانوں میں ہے دولتِ دنیا نایاب؟‘‘

یہ نہایت فطری استفسار ہے مگر قرآن حکیم میں اس کا نہایت دل چسپ اور ہمہ پہلو جواب دیا گیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’ان کا مال ومنال اور اُن کی اولاد آپ کو حیرت میں نہ ڈالے ، یہ تو محض اِس لیے ہےکہ اللہ اس دُنیا کی زندگی میں اُنھیں عذاب میں مبتلا کرے ‘‘(توبہ۹: ۵۵)۔ مال و متاع سے متعلق چونکہ حشر میں حساب کتاب ہوگا، تو اس لیے آخرت میں عذاب و ثواب فطری ہے، لیکن حیات دنیا میں اس کا باعثِ عذاب بن جانا بہ آسانی سمجھ میں نہیں آتا ۔ تاہم، کورونا کی وبا نے اس حقیقت کاپردہ فاش کردیا ہے۔

فی الحال اس عذاب کا سب سے زیادہ شکار دنیا کے مال دار ترین ممالک ہیں ۔ مذکورہ آیت بھی اسی جانب اشارہ کرتی ہے۔ اس مصیبت کا شکار وہ بڑے بڑے سرمایہ دار ہیں جن کو ساری دنیا کے لوگ حیرت و رشک کی نگاہ سے دیکھا کرتے تھے۔یہ معروف ہستیاں جب کسی تقریب میں  رونق افروز ہوتیں، تو عوام کی وہی کیفیت ہوتی جو قارون کو اس کے لاؤ لشکر کے ساتھ دیکھ کر بنی اسرائیل کے بڑے طبقے کی ہوئی تھی۔ قرآن حکیم میں اس کی منظرکشی ملاحظہ فرمائیں: ’’ پھر وہ اپنی قوم کے سامنے (پوری) زینت و آرایش (کی حالت) میں نکلا۔ (اس کی ظاہری شان و شوکت کو دیکھ کر) وہ لوگ بول اٹھے جو دنیوی زندگی کے خواہش مند تھے: کاش! ہمارے لیے (بھی) ایسا (مال و متاع) ہوتا جیسا قارون کو دیا گیا ہے، بے شک وہ بڑے نصیب والا ہے‘‘(القصص۲۸: ۷۹)۔

 آسمان نے ابھی حال میں یہ منظر دیکھا کہ بظاہر خوش بخت نظر آنے والے یہ اہل ثروت دیکھتے دیکھتے کائناتِ ہستی میں عذاب کا شکار ہوگئے اور کوئی طاقت ان کے کام نہیں آسکی ۔ ریزرو بنک یا فیڈرل خزانے کی مداخلت بھی اسٹاک ایکسچینج کی ریت کی دیوار کو تھام نہ سکی۔ یہ تباہی ان مفلس لوگوں کے لیے آزمایش نہیں بنی کہ جن کے پاس پس انداز کرنے کے لیے کچھ نہیں تھایا جن کو آرزومندی انھیں بازارِ حصص کی دہلیز تک لے کر نہیں گئی تھی۔ ایسے سارے لوگ اس کربِ عظیم سے محفوظ و مامون رہے۔ لیکن جن کو خوب نوازا گیا تھا، وہ مبتلاے عذاب ہوگئے ۔

ایسے میں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دھن دولت سے نوازنے کے بعد ربِّ کائنات اپنے بندوں کے ساتھ یہ سلوک کیوں کرتا ہے ؟ اس سوال کا جواب سورۂ اعراف کی مندرجہ ذیل آیات میں دیکھیں:’’اور اگر (ان) بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے، مگر اُنھوں نے تو جھٹلایا، لہٰذا ہم نے اُس بری کمائی کے حساب میں انھیں پکڑ لیا جو وہ سمیٹ رہے تھے ‘‘(الاعراف ۷:۹۶)، یعنی بنیادی وجہ تو یہ ہے کہ ان لوگوں نےایمان و تقویٰ کی روش اختیار کرنے کے بجائے کفر و بداعمالی کا راستہ اپنایا ۔ ہر دو جگہ (محرومی و سرفرازی میں ) پہلی شرط کا تعلق عقیدے سے اور دوسری کا عمل سے ہے۔ یہ آیت اجتماعی سطح پر برکتوں کے حق دار بننے اور ان سے محرومی کا شکار ہو نے کی وجہ بتاتی ہے ۔

 اب اگلا سوال یہ ہے کہ ان نامراد لوگوں نے خدائی نعمتوں سے نوازے جانے کے بعد شکر واحسان مندی سے کیوں اعراض برتا؟ استفہامیہ اسلوب بیان میں اس سوال کا انتہائی مؤثر جواب بالکل اگلی ہی آیات کے اندر موجود ہے۔ ارشادِ ربانی ہے: ’’ پھر کیا بستیوں کے لوگ اب اس سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ ہماری گرفت کبھی اچانک اُن پر رات کے وقت نہ آ جائے گی، جب کہ وہ سوئے پڑے ہوں؟ یا انھیں اطمینان ہو گیا ہے کہ ہمارا مضبوط ہاتھ کبھی یکایک ان پر دن کے وقت نہ پڑے گا، جب کہ وہ کھیل رہے ہوں؟‘‘(الاعراف۷:۹۷-۹۸)۔ کورونا وائرس کی آمد سےقبل غفلت کا شکار عالمِ انسانیت بالکل اسی کیفیت میں مبتلا تھا ۔ دنیا کے ترقی یافتہ ملک امریکا میں تادمِ تحریر[۲۸مئی ]  کورونا سے متاثرین کی تعداد تقریباً ۱۸لاکھ ہے اور ایک لاکھ ۵ سو۹۰ لوگ اس سے ہلاک ہوچکے ہیں،جب کہ دُنیا بھر میں ۲۹لاکھ افراد متاثر اور ۳ لاکھ ۷۰ہزار افراد موت کی وادی میں اُتر چکے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس ملک پر یہ مصیبت اچانک وارد ہوگئی ؟ جائزہ بتاتا ہے کہ وہ اپنی غفلت کی قیمت چکا رہے ہیں ۔

امریکی صدر فی الحال چین پر الزامات لگا رہے ہیں، مگر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ۳۱دسمبر۲۰۱۹ء کوچین نے اقوام متحدہ میں عالمی صحت کے ادارے کو خبردار کردیا تھا کہ: وُوہان شہر میں ۱۲ سے ۲۹ دسمبرکے درمیان ایک نئے وائرس کا پتا چلا ہے۔ اس کے بعد ہوانن کا مچھلی بازار بندکردیا گیا۔۵ جنوری کو چین نے انکشاف کیا کہ یہ وائرس سارس یا میرس سے مختلف ہے اور ۷جنوری کو اسے نوول کورونا وائرس کا نام دیا گیا ۔ ۱۱ جنوری کو چین میں اس سے پہلی موت ہوئی اور ۱۲ جنوری کو یہ وائرس ایک چینی باشندے کے ذریعے تھائی لینڈ پہنچ گیا ۔ یہ ساری خبریں اخبارات میں شائع ہورہی تھیں۔ دنیا کے چپے چپے پر نظر رکھنے والا امریکا یقیناً اس سے بے خبر نہ ہوگا۔

 امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں کورونا کی آمد کا اشارہ ۲۱ جنوری کو مل گیا تھا۔ ۲۲جنوری کو اس کے انسانوں کے ذریعے پھیلنے کی تصدیق ہوگئی اور اسی دن وُوہان سے باہر جانے والوں کے لیے ہوائی اڈا اور ریل کی سہولت بند کردی گئی۔ اس وقت تک چین میں ۵۴۷ لوگ متاثر اور ۱۷ہلاک ہوچکے تھے۔ ۲۳ جنوری کو عالمی ادارہ صحت (WHO) نے اس پر تشویش کا اظہار تو کیا، مگر اسے عالمی وبا تسلیم نہیں کیا۔ ۲۹جنوری کو وائٹ ہاؤس نے ٹاسک فورس بنا کر وائرس کے پھیلاؤ کی نگرانی کا اعلان کیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی حکام اس سے خبردار ہوچکے تھے ۔

 اتفاق سے ارضِ چین پرکورونا سے ہلاک ہونے والا پہلاغیر ملکی امریکی نژاد باشندہ تھا۔    ان تمام واقعات کے باوجود امریکی صدر کو یہ غلط فہمی تھی کورونا صرف چین سے دیگر ممالک کو بر آمد ہوتا ہے۔ اس لیے وہ بڑے ٹھاٹ باٹ کے ساتھ ہندستان کے دورے پر آگئے اور کورونا کی عالمی وبا کے دوران احمد آباد میں ہزاروں کے مجمع سے خطاب کیا۔ ہندستان سے پلٹ کر جب ۲۶ فروری کی صبح وہ امریکا پہنچے تو انھیں پتا چلا ہوگاکہ کیلی فورنیا میں ایک ایسا شخص کورونا سے ہلاک ہوگیا ہے، جس نے نہ تو غیر ملکی سفر کیا تھا اور نہ کسی مسافر کے رابطے میں آیا تھا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکا کے اندر بیرونی ذرائع کے بغیر بیماری کا پھیلاؤ شروع ہوچکا تھا، جسے کمیونٹی ٹرانسفر( یعنی معاشرتی پھیلاؤ) کہا جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے کہ جس کے بعد اس طرح کی وبا پر قابو پانا مشکل ہوجاتا ہے۔

امریکی حکومت نے بحالتِ مجبوری اس وبا سے نمٹنے کے لیے سرکاری نگرانِ کار مقرر کیا ۔ ۲۹ فروری کو واشنگٹن کا وہ پہلا مریض بھی لقمۂ اجل بن گیا۔ اس کے باوجود وبا کے حوالے سے امریکی حکام کے علاوہ عوام بھی سنجیدہ نہیں تھے ۔یکم مارچ کو فلوریڈا میں عوامی حفظان صحت کی ایمرجنسی نافذ کرکے۵۰ سے زیادہ لوگوں کے اکٹھا ہونے پر پابندی لگادی گئی، مگر اس کے۱۸ دن بعد اسی شہر کے ہزاروں لوگ بہار کا جشن منانے کی خاطر ساحلِ سمندر پر جمع ہوگئے۔اسی دن لوئزانا میں ایسٹ بیٹن چرچ کے اندر سیکڑوں لوگ عبادت کے لیے جمع ہوگئے۔ 

کسی آفت کے بارے میں جانتے بوجھتے اس طرح کی لاپروائی برتنے والی قوموں کے انجام سے متعلق فرمان ربّانی ہے :’’کیا یہ لوگ اللہ کی چال سے بے خوف ہیں؟ حالانکہ اللہ کی چال سے وہی قوم بے خوف ہوتی ہے جو تباہ ہونے والی ہو‘‘(الاعراف ۷:۹۹)۔ ان کے خسارے کا سبب نفس کی بندگی، مستقبل سے لاپروائی، رب کائنات کے تئیں بے فکری اور اس کی ہدایات سے بے نیازی بنی ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کی اس سنت کا اعادہ پہلے بھی ہوتا رہا ہے ۔ انسانی تاریخ اس طرح کی مثالوں سے بھری پڑی ہے، لیکن لوگ ان سے عبرت نہیں پکڑتے۔ انسان اگر پہلے والوں کے انجام سے سبق سیکھ کر اپنے عقائد و معاملات درست کرلے تو اس طرح کی اجتماعی تباہی سے محفوظ و مامون رہ سکتا ہے۔ اس سلسلے میں اگلی آیت میں یہی ہے ، فرمایا: ’’ اور کیا اُن لوگوں کو جو سابق اہل زمین کے بعد زمین کے وارث ہوتے ہیں، اِس امر واقعی نے کچھ سبق نہیں دیا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے قصوروں پر انھیں پکڑ سکتے ہیں؟ (مگر وہ سبق آموز حقائق سے تغافل برتتے ہیں) اور ہم ان کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں، پھر وہ کچھ نہیں سنتے ‘‘(الاعراف ۷:۱۰۰)۔

جب انسانوں کے دل پر مہر لگ جائے تو وہ اپنے آپ کو قوت سماعت سے محروم کرلیتے ہیں، اور عمدہ نصیحت پر کان دھرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ تاریخ انسانی میں اس کی ایک مثال قارون ہے۔ سورۃ القصص میں دیکھیں: ’’ یہ ایک واقعہ ہے کہ قارون، موسٰی کی قوم کا ایک شخص تھا، پھر وہ اپنی قوم کے خلاف سرکش ہو گیا۔ اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دے رکھے تھے کہ ان کی کنجیاں طاقت ور آدمیوں کی ایک جماعت مشکل سے اُٹھا سکتی تھی‘‘(القصص ۲۸:۷۶)۔ اس سرکشی کے باوجود بنی اسرائیل کے اہل دانش نے اس کو راہِ راست پر لانے کی کوشش کی: ’’ ایک دفعہ جب اس کی قوم کے لوگوں نے اُس سے کہا:’’پھول نہ جا، اللہ پھولنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے، اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور دُنیا میں سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کر۔ احسان کر جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے، اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کر، اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا‘‘(القصص ۲۸:۷۶-۷۷)۔

قارون نے مندرجہ بالا نصیحت کےجواب میں کہا تھا: ’’یہ سب کچھ تو مجھے اُس علم کی بنا پر دیا گیا ہے جو مجھ کو حاصل ہے‘‘ (القصص ۲۸:۷۸)۔ قارون کے رعونت آمیز ردعمل پر قرآن حکیم کا تبصرہ یہ ہے کہ: ’’کیا اس کو علم نہ تھا کہ اللہ اس سے پہلے بہت سے ایسے لوگوں کو ہلاک کرچکا ہے، جو اس سے زیادہ قوت اور جمعیت رکھتے تھے؟ مجرموں سے تو ان کے گناہ نہیں پوچھے جاتے‘‘ (القصص ۲۸:۷۸)۔ اس قصے میں قارون کے اُخروی انجام کا نہیں بلکہ دُنیوی تباہی کا ذکر ہے۔

کورونا وائرس نے اس منظر کو ایک نئے انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ بڑے بڑے سرمایہ دار اپنے حصص سمیت زمین میں دھنس چکے ہیں ۔ ان پر مال و منال کا خسارہ عذاب کا کوڑا بن کر برس رہا ہے ۔ اس کی چونکا دینے والی ایک مثال گذشتہ دنوں دبئی میں سامنے آئی، جہاں جوائے اراکل نامی کیرالہ کے ایک نام وَر سرمایہ دار نے ۱۴ویں منزل سے چھلانگ لگاکر خودکشی کرلی ۔ وہ مالی معاملات کے باعث ذہنی تناؤ کا شکار تھا۔ معمولی منشی کے عہدے سے  اپنا کیرئیر شروع کرکے دولت اور شہرت کی بلندی پر پہنچنے والا یہ فرد جدید ترین ریفائنری کا مالک تھا۔ کورونا کے سبب جوائے کے دو لاکھ ہم وطنوں کو امارات میں اپنا روزگار گنوانا پڑا، لیکن شاید ہی کسی نے جوائے اراکل جیسے امیر کبیر شخص کی مانند خودکشی کے بارے میں سوچا ہو۔ کیا یہ عذابِ عام کی وہ مخصوص شکل نہیں ہے کہ جس کی شدت ان خاص لوگوں تک محدود ہے کہ جن کا ذکر اول الذکر آیت میں کیا گیا ہے:’’ان کا مال ومنال اور اُن کی اولاد آپ کو حیرت میں نہ ڈالے ، یہ تو محض اِس لیے ہےکہ اللہ اس دُنیا کی زندگی میں اُنھیں عذاب میں مبتلا کرے ‘‘ (التوبہ ۹:۵۵)۔

عالمِ عرب کے عظیم اسلامی مفکر ڈاکٹر محمدعمارہ علمی و فکری کارناموں سے بھرپور زندگی گزارنے کے بعد ۲۸ فروری ۲۰۲۰ء کی شام ۸۹سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ ڈاکٹر محمد عمارہ ۸دسمبر ۱۹۳۱ء کو مصر کے کفر الشیخ نامی علاقے میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی میں قرآن کریم حفظ کیا۔ قاہرہ یونی ورسٹی سے اسلامیات میں گریجوایشن اور ایم اے کیا۔ وہیں سے ۱۹۷۵ میں اسلامی فلسفہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ آپ کئی علمی اداروں سے بحیثیت رکن وابستہ تھے، جن میں مصرکی مجلس اعلیٰ براے اسلامی امور، ہیئت کبار علما ازہر، انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک تھاٹ (IIIT)، اور مجمع البحوث الاسلامیۃ، جامعہ ازہر نمایاں ہیں۔ آپ نے مجلۃ الازھر کی ادارت کی خدمات بھی انجام دیں۔

 ڈاکٹر محمد عمارہ نے تقریباً ایک سو کتابیں لکھیں اور علمی، تحقیقی اور فکری مجلات کے لیے متعدد مضامین سپردِ قلم کیے۔ بہت سی علمی کانفرنسوں میں بھی شرکت کی اور علمی و فکری کاموں کے لیے اپنے آپ کو وقف کردیا تھا۔ وہ روزانہ ۱۸ گھنٹے مطالعہ و تحریر میں صرف کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ’’اگر عالم اسلام کے صرف سو علما و مفکرین بھی اپنے آپ کو علمی و فکری کاموں کے لیے وقف کردیں تو اس دور کا فکری منظرنامہ بالکل تبدیل ہوجائے گا‘‘۔

ڈاکٹر صاحب کی پرورش اور تربیت اگرچہ ازہر کے دینی پس منظر میں ہوئی، لیکن چونکہ شروع ہی سے وہ سماجی انصاف اور مصر پر غیر ملکی تسلط سے آزادی کے بڑے علَم بردار تھے، اس لیے کمیونسٹ تحریک اور مارکسی فکر سے متاثرہوئے اور اس تحریک کی نمایاں شخصیت بن گئے۔ اسی بنیاد پر تقریباً چھے سال تک جیل میں رہے۔ جیل کی زندگی میں انھوں نے اپنے افکار کاتنقیدی جائزہ لیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ ’’سماجی مسائل کا صحیح حل مارکسیت اورطبقاتی کش مکش میں نہیں بلکہ اسلام میں ہے‘‘۔ ڈاکٹر صاحب کی مارکسی فکر و تحریک سے وابستگی نے انھیں اس بات کا موقع دیا کہ وہ مغرب کے مادی افکار کوگہرائی کے ساتھ سمجھیں اور ان پر مضبوط تنقیدکرسکیں۔ وہ خود اسے مشیت ِ خداوندی سمجھتے تھے کہ ’’اس طرح وہ مارکسی فکر کو اچھی طرح سمجھ سکے اور اس کا تریاق بھی سوچ سکے‘‘۔یہی وجہ ہے سیکولر اور مارکسی حضرات نے ڈاکٹر صاحب کو شدید دشمنی کا ہدف بنایا۔ ڈاکٹر عمارہ خِیَارُھُمْ فِیْ الْجَاھِلِیَّۃِ خِیَارُھُمْ فِی الْاِسْلَامِ  [ان میں سے جاہلیت کے زمانے میں جو بہتر تھا، اسلام قبول کرنے کے بعد بھی بہتر ہے] کے مصداق سیکولرزم کے کیمپ سے نکلنے کے بعد اسلام کے بہترین داعی اور ترجمان ثابت ہوئے۔

ڈاکٹر صاحب کی زندگی میں نمایاں فکری تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ وہ اپنی فکری لغزشوں کو تسلیم کرنے اور اپنے افکار سے رجوع کرنے میں عار نہیں محسوس کرتےتھے۔ یہ علمی جرأت آج بہت سے علما و مفکرین میں دکھائی نہیں دیتی۔ وہ ان تبدیلیوں کو فکری پختگی اور ارتقا سے موسوم کرتے ہیں۔ ڈاکٹر عمارہ کے نزدیک ’’فکری ارتقا انسانی زندگی کی علامت ہے اور جو لوگ فکری جمود کو اپنا شیوہ بنالیتے ہیں، وہ مُردہ اور بے جان جسم ہیں‘‘۔ ڈاکٹر صاحب نے زندگی کے ایک مرحلے پر امام حسن البنا اور مولانا مودودی پر بھی تنقید کی اور پھر اپنے موقف سے رجوع بھی کیا۔ اسی طرح امام ابن تیمیہ پر تنقید کے بعد انھوں نے اپنی پوزیشن پر نظرثانی کی اور کہا کہ ’’اگر ان کے تجدیدی کاموں کو حکومت کی مدد حاصل ہوتی تو آج امت کی صورتِ حال کچھ اور ہوتی‘‘۔ عرب قومیت سے مارکسیت اور مارکسیت سے اسلام تک کا سفر اسی کشادہ ذہنی کی وجہ سے ان کے لیے ممکن ہوسکا۔ اس دوران وہ ہمیشہ آزادیِ وطن اور سماجی انصاف کے علَم بردار رہے۔

 علامہ محمد غزالی [۹۶-۱۹۱۷ء] ڈاکٹر محمد عمارہ کو ’اسلام کا عظیم داعی اوراسلامی تعلیمات کا پاسبان‘ ' بتاتے ہیں۔ علامہ محمد یوسف قرضاوی [پ:۹ستمبر ۱۹۲۶ء] ڈاکٹر محمد عمارہ کو ’اسلامی سرحدوں کا نگہبان‘ قرار دیتے ہیں۔ اس سے جہاں ڈاکٹر عمارہ کی فکری عظمت کا احساس ہوتا ہے، وہیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ علما اپنے معاصرین کی علمی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے میں کس قدر فیاض ہیں۔

ڈاکٹر محمد عمارہ نے فکری محاذ پر کئی کارنامے سرانجام دیے۔ انھوں نے اسلام پر اٹھائے جانے والے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا۔ مغربی افکار کے حملوں کا جواب بھی دیا۔ فکر اسلامی کے قدیم و جدید دھاروں پر لکھا۔ کئی کتابیں لکھ کر اسلام کے روشن پہلووں کو واضح کیا۔ محمد غزالی، حسن البنا اور ابوالاعلیٰ مودودی جیسی تجدیدو احیاے دین کی علَم بردار شخصیات اور ان کے کام کو بھی موضوع بنایا۔

ڈاکٹر عمارہ نے کئی ایسے مفکرین کی اسلامی خدمات پر روشنی ڈالی، جنھیں عموماً ’مغرب زدہ‘ تصور کیا جاتا ہے اور بتایا کہ ’’وہ فی نفسہٖ فکر اسلامی سے وابستہ ہیں۔ مشہور عرب ادیب طہٰ حسین کو سیکولر اور مغربیت زدہ لوگ اپنے لیے نمونہ مانتے ہیں اور اسلام پسندحلقہ انھیں مغربیت کا داعی سمجھتا ہے۔ ڈاکٹر عمارہ نے طہٰ حسین کی پوری زندگی کا جائزہ لے کر بتایا کہ کس طرح وہ فکری ارتقا کے مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد آخرکاراسلام کی طرف لوٹ آئے۔ اسی طرح جمال الدین افغانی، محمدعبدہٗ، رفاعۃ طہطاوی، قاسم امین، عبد الرحمن کواکبی جیسی شخصیات کی تحریروں کو الاعمال الکاملہ کے عنوان سے جمع کیا اور ان پر تحقیقی کام کرکے ان کے سلسلے میں شکوک و شبہات کو دور کیا اور فکراسلامی میں ان کی خدمات کو واضح کیا۔ یہ بڑا نازک اور مشکل کام تھا، لیکن کمالِ احتیاط کے ساتھ ڈاکٹر عمارہ نے سرانجام دیا۔ انھوں نے تصنیف و تالیف سے ہٹ کر فکری موضوعات پر فرج فودہ اور نصرحامد ابوزید جیسے سیکولر دانش وروں سے مکالمے اور مباحثے بھی کیے۔

ڈاکٹر عمارہ کے طرزِ فکرو تحقیق میں اعتدال کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ وہ فکر اسلامی میں أصالت (اسلام کے جوہر اور ثوابت سے وابستگی)اور معاصرت (عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگی) دونوں کو ضروری سمجھتے تھے۔ وہ امت کے مکاتب فکر میں تقلیدی سوچ کے مخالف اور افکار مغرب کی کاسہ لیسی کے بھی خلاف تھے۔ وہ کہتے تھے کہ ’’امت کے دانشورقطبیت (polarization)کا شکار ہیں۔ کچھ لوگ صرف اسلامیات کے ماہر ہیں، لیکن مغربی افکار کوسمجھنے اور ان کا جواب دینے پر قادر نہیں ہیں اورکچھ لوگ مغربی افکار سے واقف ہیں، لیکن اسلام سے ناواقف ہیں۔ اس چیز نے اسلامی فکر کی ترقی کو نقصان پہنچایا ہے‘‘۔ ڈاکٹر عمارہ نے اپنے علمی کام کے ذریعے اسی بات کی کوشش کی ہے کہ اسلام اور مغربی افکار دونوں کا مطالعہ کریں اور مغربی افکار کے مقابلے میں بجاطور پر اسلام کی بالادستی کو واضح کریں۔

ڈاکٹر عمارہ نے اپنی کتاب تحریر المرأۃ بین الاسلام و الغرب میں عورت کی آزادی کے سلسلے میں معتدل موقف اختیار کیا ہے۔ وہ مغربی سماج کے طرز پر عورت کی بلاحدود و ضوابط آزادی کے بھی خلاف تھے اور دین داری کے نام پر اسے مکمل طور پر محبوس کردینے کو بھی درست نہیں سمجھتے۔ ڈاکٹر عمارہ کہتے ہیں کہ سدِّ ذرائع کے اصول میں غیر ضروری توسع حلال کو حرام کرنے کا موجب بنتا ہے۔ ان کے نزدیک بعض اوقات سماجی وسیاسی سرگرمیوں عورتوں کی شرکت، معاشرے کی ضرورت ہوتی ہے اور اسلام کچھ شرائط کے ساتھ اس کی اجازت دیتا ہے‘‘۔

ڈاکٹر عمارہ نے عورت کی گواہی، میراث میں عورتوں کا حصہ، مرد کی قوامیت جیسے نازک مسائل پر بحث کرکے، اشکالات کے تشفی بخش جوابات دیے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عورت کی گواہی ہمیشہ آدھی نہیں ہوتی۔ وہ شھادۃ(قاضی کی عدالت میں عورت کے گواہ بننے) اوراشھاد( لین دین کے معاملے میں عورت کو گواہ بنانے )میں فرق کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ عورت کی گواہی سے متعلق سورۂ بقرہ کی آیت کا تعلق لین دین کے معاملے میں گواہ بنانے سے ہے۔ رہا عدالت میں گواہی کا معاملہ تو اس سلسلے میں وہ کہتے ہیں کہ بعض حالات میں عورت کی گواہی مرد کی گواہی کے برابر ہوتی ہے، بعض حالات میں صرف عورت کی گواہی قبول کی جائے گی اور بعض حالات میں صرف مرد کی گواہی قبول کی جائے گی‘‘۔ اسی طرح میراث کے معاملے میں وہ یہ کہتے ہیں کہ ’’میراث کی تقسیم میں ایک بنیاد قرابت داری ہے۔ قرآن کی رُو سے بعض حالات میں عورت کو مرد کے برابر حصہ ملتا ہے اوربعض حالات میں عورت کو مرد کا نصف حصہ ملتاہے‘‘۔

ڈاکٹر عمارہ نے اسلامی تحریکات کے مسائل، طریق کار اور مستقبل پربھی لکھا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ’’اسلامی تحریکات سیاسی سرگرمیوں میں زیادہ الجھ کر رہ گئی ہیں، جس سے اصلاحی کام اور سماجی انصاف کے مسائل و معاملات اور چیلنج متاثر ہوئے ہیں‘‘۔

ڈاکٹر عمارہ نے اسلام میں فنون لطیفہ کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’اسلام جمالیاتی قدروں کو پسند کرتا ہے اور فنون لطیفہ کا دشمن نہیں ہے‘‘۔ ان کے نزدیک ’’غنائیت اصلاًحرام نہیں بلکہ اس وقت حرام ہوتی ہے، جب وہ حرام کاموں کے ارتکاب کا وسیلہ بنے‘‘۔  ڈاکٹر عمارہ اپنے پیچھے ایک بڑا علمی سرمایہ چھوڑ گئے ہیں۔ ان کی وفات سے علمی دنیا میں ایک بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے۔ اللہ تعالی ان کی فکری خدمات کو قبول فرمائے اور ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے۔

۲۲ فروری ۲۰۲۰ء بروز ہفتہ ،بوقتِ سحر حفیظ الرحمٰن احسن اپنے ربّ کے پاس چلے گئے، اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ۔ احسن ان کا تخلص تھا،وہ شاعر تھے مگر شاعر کے علاوہ اور بھی بہت کچھ تھے۔ استاد، ادیب، نقاد، مقرر،منتظم۔ابتدائی دور میں وہ ـ’حفیظ الرحمٰن غازی پسروری‘ کے نام سے لکھتے تھے۔ وہ ۱۹؍اکتوبر ۱۹۳۴ء کو پسرور (ضلع سیالکوٹ) میں پیدا ہوئے۔

ان کا علمی و ادبی ذوق پروان چڑھانے میں زیادہ دخل دو شخصیتوں کا رہا۔اوّل: اسکول کے زمانے میں جناب طاہر شادانی(استاد گورنمنٹ ہائی سکول پسرور)اور مرے کالج سیالکوٹ کے دورِ طالب علمی میں پروفیسر آسی ضیائی۔

 انٹر میڈیٹ کے زمانے (۱۹۵۰ء-۱۹۵۲ ء)میں اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل ہو گئے۔ یہ وابستگی،جماعت اسلامی میں باقاعدہ شمولیت پر منتج ہوئی۔بی اے میں انھوں نے عربی کے مضمون میں (علامہ اقبال کی طرح)یونی ورسٹی میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔مزید تعلیم کے لیے وظیفہ ملا۔ انھوں نے(بوساطت اسلامیہ کالج لاہور)۱۹۵۹ء میں یونی ورسٹی اورینٹل کالج سے ایم اے عربی کا امتحان پاس کیا اورتیسری پوزیشن حاصل ہوئی۔بعد ازا ں ایم اے اردو بھی کر لیا۔گورنمنٹ کالج لائل پور[فیصل آباد]، گورنمنٹ کالج سرگودھا،مرے کالج سیالکوٹ اوراشاعتِ تعلیم کالج لاہور میں عربی اور اردو کے استاد رہے ۔۱۹۶۶ء میں وہ مستقلاً لاہور آگئے اور باقاعدہ درس و تدریس چھوڑ کر امین جاوید صاحب کے تعاون سے اشاعتی ادارے ’ایوانِ ادب‘کی بنیاد رکھی۔تعلیم و تعلّم سے ان کا رشتہ اس صورت میں برقرار رہاکہ انھوں نے انٹر میڈیٹ کے لازمی مضمون اردو کے لیے تحسینِ اردو مرتب کی، اور بچوں کے لیے بھی نظم و نثر کی چندخوب صورت کتابیں شائع کیں۔

حفیظ صاحب کا سب سے اہم کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے دروسِ قرآن و حدیث کو فیتہ بند (taperecord) کرنے کا اہتمام بڑی محبت اور ثابت قدمی سے کیا۔ پھر ان دروس کو کیسٹ کے ذریعے مولانا کی آواز میں ہزاروں لاکھوں افراد تک پہنچایا۔ مولانا سے محبت کے اس تعلق کو انھوں نے اپنے ایک مضمون میں اس طرح واضح کیا ہے: ’’دسمبر۱۹۴۶ء کے آخری ایام میں سیالکوٹ کے قصبے مرادپور میں جماعت اسلامی لاہور کمشنری کا دوروزہ اجتماع ہوا اور مَیں داداجان کے ساتھ اس اجتماع میں شریک ہوا۔ اس اجتماع میں مولانا کا تاریخی خطبہ ’شہادتِ حق‘ (۱۳دسمبر ۱۹۴۶ء) سننے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ اس اجتماع کی بدولت مجھے مولانا کو مسلسل دو روز تک دیکھنے اور سننے کا موقع ملا، اور اس طرح ان کی شخصیت کا ایک گہرا نقش میرے نہاں خانۂ شعور میں ثبت ہوگیا‘‘۔

راقم اپریل ۱۹۶۴ء میں سرگودھا سے لاہور آکر پنجاب یونی ورسٹی ایم اے اردوکی جماعت اوّل میں داخل ہوا۔باری تعالیٰ ہفت روزہ آئین لاہور کے مدیر مظفر بیگ (۱۹۳۵ء-۱۹۹۹ء)کو غریقِ رحمت کرے (آمین)،انھوں نے راقم الحروف کو مولانامودودیؒ کے دروس قرآن و حدیث اور دیگر خطبات کو قلم بند (رپورٹنگ)کرنے پر مامور کیا۔اس سلسلے میں راقم کے مرتب کردہ چند دروس اور خطبے آئین میں شائع ہوئے۔چند ایک تحریریں ماہنامہ ترجمان القرآن  لاہور میں بھی نقل ہوئی ہیں۔

غالباً ۱۹۶۶ء سے حفیظ صاحب مولانا کے دروس فیتہ بند (ٹیپ) کرنے لگے تھے۔ ان کے پاس جہازی سائز کا ایک ٹیپ ریکارڈر تھا،جو باہر سے گراموفون معلوم ہوتا تھا۔ان کے مرتب کردہ دروس آئین  میں شائع ہونے لگے۔ بعض جلسوں میں مولانا کے خطبات وہ ٹیپ کرتے اور راقم انھیں مرتب کرنا اور آئین  میں شائع ہوتے۔ترتیب و تدوین کا کام کبھی تو راقم ۲۳ وُولنر ہاسٹل میں کرتا اور جب کبھی ہاسٹل بند ہوتا (جیسے جنوری ۱۹۶۶ ء میں اعلانِ تاشقند پر ایوب خان کے خلاف ہنگامے ہونے پر ہوسٹل بند کر دیے گئے تھے)تو پھر یہ کام حفیظ صاحب کے دفتر نسبت روڈ میں ہوتا تھا۔

مظفر بیگ مرحوم نے ۱۹۶۵ء میں راقم کو سید مودودی کی عصری مجالس کی رپورٹنگ کی ذمہ داری سونپی۔بعد ازاں ’۵ اے ذیلدار پارک ‘کے اس سلسلے میں خود بیگ صاحب اور حفیظ الرحمٰن صاحب بھی شامل ہو گئے۔ان مجالس کی رُودادیں تین حصوں میں بارہا چھپ چکی ہیں۔غالباً ۱۹۷۶ ء میں حفیظ صاحب ،جناب نعیم صدیقی مرحوم کے علمی و ادبی رسالے سیارہ سے رضاکارانہ طور پر وابستہ ہوگئے اور انھوں نے نعیم صاحب کاخوب ہاتھ بٹایا۔یہاں تک کہ نعیم صاحب نے رسالہ مستقلاً ان کے سپرد کر دیااور انھوں نے اسے بڑی مہارت اور کامیابی سے جاری رکھا۔سیارہ نے بعض یادگار نمبر شائع کیے(اقبال نمبر تین بار،سید مودودی نمبر ایک بار)۔ اسلامی اور تعمیری ادب کے فروغ میں مجلّہ سیارہ  لاہور کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ سیارہ  کے سلسلے میں وہ اپنے حلقۂ احباب سے بھی مدد لیتے۔ مثال کے طور پر ایک بار مجھے خط میں لکھا کہ جگن ناتھ آزاد اور معین الدین عقیل سے مضامین کا تقاضا کیجیے اور کرتے رہیے کہ ان دونوں سے راقم کا مسلسل رابطہ رہتا تھا۔

 ۱۹۸۹ ء کی بات ہے ۔احباب میں سیارہ  کا نعیم صدیقی نمبر نکالنے کی تجویز گردش کر رہی تھی۔ ظفر حجازی صاحب نے ’نعیم صدیقی نمبر‘ کا ایک مفصل خاکہ بنا کر حفیظ صاحب کو ارسال کیا۔ حفیظ صاحب نے جواب میں لکھا:’’آپ نے جو سنہری تجاویز پیش کر کے مجھے ان پہ عمل در آمد کا ذمہ دار ٹھیرایا ہے،اسے آپ کے حُسنِ ظن یا پھر حُسنِ تخیل کا شاہکار قرار دیا جائے تو غلط نہ ہو گا۔اگر اسی طرح کی مکتوب آرائی منصوبوں کی تکمیل کا کبھی بھی وسیلہ بن سکتی تو میں بخوشی روزانہ آپ کی خدمت میں ایک ایسا ہی طویل محبت نامہ لکھنے کی ذمہ داری قبول کر لیتا‘‘۔

احسن صاحب زبان و بیان اور قواعد و انشا پر بخوبی دسترس رکھتے تھے۔اشاعت کے لیے موصول ہونے والے شعری اور نثری مسوًدوں کی نوک پلک سنوارنے میں خاصا وقت صرف کرتے تھے۔اس ضمن میں اگر کہیں اپنی معلومات میں کمی محسوس کرتے تو بلاتکلف اپنے دوستوں سے تبادلۂ خیال بھی کرتے تھے۔ایوان ادبِ میں بعد دوپہر ان کے قریبی احباب جمع ہوتے ، پروفیسر جعفر بلوچ،ڈاکٹر تحسین فراقی،افضل آرش، شیدا کاشمیری،انور میر،طاہر شادانی اور کبھی کبھار راقم بھی حاضری دیتا۔ سیارہ  یا حلقہ ادب یا کسی اور موضوع پر مشاورت کے لیے وہ احباب کو ازخود بھی بلالیتے اور احباب بڑی مسرت سے حاضر ہو جاتے۔

 مولانا مودودی کے دروسِ قرآن و حدیث کی نشرواشاعت میں ،ایک مرحلہ ایسا آیا، جب انھوں نے پروفیسر خورشید احمد صاحب کے مشورے اور اعانت سے الابلاغ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔ مگر چند کرم فرماؤں نے اسے مقدموں میں اُلجھا دیا۔ بہرحال اعلیٰ عدلیہ نے حفیظ الرحمٰن صاحب کے حق میں فیصلہ دیا۔ اس طرح خاصا وقت ضائع ہوجانے کے بعد مولانا مودودی کی آواز میں کیسٹوں کی نشرواشاعت ہونے لگی۔لیکن کیسٹ کا دور ختم ہوا اور یہ ادارہ بھی تعطل کا شکار ہو گیا۔

ہمارے ایک مشترکہ دوست تھے عبدالرحمٰن بزمی(م: ۱۴نومبر ۲۰۰۵ء) شاعر اور ادیب اور حفیظ صاحب کی طرح ہی اعلیٰ درجے کا علمی و ادبی ذوق رکھتے تھے۔ ان کے ورثا نے بزمی صاحب کا مجموعۂ کلام چھپوانا چاہا۔لندن ہی میں مقیم ایک مشترکہ دوست (جاوید اقبال خواجہ، م:۸؍اپریل ۲۰۱۹ء)کی وساطت سے ترتیب و تدوین اوراہتمام اشاعت کا قرعہ میرے نام نکلا۔ حفیظ صاحب فنِ شاعری کے کم و کیف سے بخوبی واقف تھے اور راقم اناڑی۔ چنانچہ راقم نے تدوین کی ذمہ داری حفیظ صاحب کو سونپ دی۔انھوں نے بڑی محنت سے مجموعہ:حرفِ تمنا مرتب کیا ،جو ۲۰۱۱ء میں منشورات لاہور سے شائع ہوا۔

مرحوم پروفیسر فروغ احمد (م:۲نومبر ۱۹۹۴ء)بھی اپنی وفات سے دو تین برس پہلے اپنے کلام کی تدوین و اشاعت کی ذمہ داری مجھے سونپ گئے تھے۔ حفیظ صاحب نے اس کی پروف خوانی کے علاوہ حسب ضرورت اصلاح و تصحیح بھی کر دی۔میری مصروفیات کی وجہ سے ’کلیاتِ کلام فروغ احمد‘ ابھی تک شائع نہیں ہو سکا(پروف محفوظ ہیں مگر کمپوزنگ تلاش طلب ہے)۔

غالباً ۱۹۸۱ء میں لاہور کے بعض ادب دوستوں نے ،حلقۂ ارباب ذوق کے باوجود، اسلام دوست اور تعمیر پسند مصنّفین کا ایک نیا ادبی فورم بنانے کی ضرورت محسوس کی ۔ان میں ڈاکٹر تحسین فراقی، جناب حفیظ الرحمٰن احسن، افضل آرش اور جعفر بلوچ پیش پیش تھے۔چند ایک مشاورتوں کے نتیجے میں ’حلقۂ ادب ‘قائم ہو گیااور اس کے ہفتہ وار تنقیدی اجلاس ہر منگل کی شام چائنیز لنچ ہوم میں ہونے لگے۔اس کی مجلسِ عاملہ میں ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا ،حفیظ صاحب ،سراج منیر،شہباز ملک اور راقم شامل تھے(شاید کچھ اور احباب بھی)۔پروفیسر آسی ضیائی حلقے کے صدراور حفیظ الرحمٰن احسن نائب صدر ، تحسین فراقی سیکرٹری اورسلیم منصور خالدجائنٹ سیکرٹری مقرر ہوئے، جو مسلسل تین برس تک باقاعدگی سے اجلاسوں کی کارروائی قلم بند کر کے پیش کرتے رہے۔پھر آفتا ب ثاقب اور ان کے بعد اصغرعابدنے یہ ذمہ داری سنبھال لی۔ اس حلقے کو چلانے میں حفیظ الرحمٰن احسن کا بنیادی اور فعال کردار رہا۔ان کا دفتر(ایوانِ ادب، حبیب بلڈنگ، اردو بازار لاہور) سیارہکے ساتھ حلقے کا دفتر بھی تھا۔وہیں دو ماہی یا سہ ماہی پروگرام بناتے اور اس کا سائیکلوسٹائل نکلوا کر یا کتابت کرا کے، نقول پھیلاتے ۔ وہ خود بھی اجلاسوں میں باقاعدگی سے شریک ہوتے تھے۔اکثر وبیش تر وہ مقررہ وقت سے پہلے مجلس گاہ میں پہنچ جاتے۔ حلقہ ۱۹۸۹ء تک چلتا رہا۔

 حالیہ دنوں میں مجھے حلقے کے ۱۹۸۱ء تا ۱۹۸۹ء دو ماہی پروگراموں پر مشتمل کاغذات دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ان سے پتا چلتا ہے کہ لاہور کے بیش تر اہم اور سینئر مصنّفین اور شعرا حسب پروگرام اپنی نگارشات پیش کرتے رہے۔چند نام:میرزا ادیب،جیلانی بی اے،عبداللہ قریشی،نعیم صدیقی،   شیخ منظور الٰہی، عبدالعزیز خالد، انجم رومانی، ڈاکٹر وحید قریشی، صلاح الدین محمود، عبدالکریم عابد، حفیظ تائب، حمیدجالندھری، جیلانی کامران،پروفیسر فروغ احمد،انتظار حسین، سیّد امجد الطاف، مقبول بیگ بدخشانی، رحمان مذنب، غلام الثقلین نقوی، اکرم جلیلی،سائرہ ہاشمی، سراج منیر، ہارون الرشید، سہیل عمر، عطاء الحق قاسمی، فضل الرحمان، یونس احقر، امجد طفیل وغیرہ۔

ادارہ معارفِ اسلامی لاہور نے سیّد ابوالاعلیٰ مودودی کی تحریروں سے سیرتِ سرورِ عالم ؐ کے مدنی دور پر مشتمل ،سیرت کاتیسرا حصہ مرتب کرنے کا منصوبہ بنایا ۔ابتدائی مرحلے پر لوازمہ مولانا عبدالوکیل علوی [م:۱۱جنوری ۲۰۱۶ء] نے جمع کیا، جسے حفیظ صاحب نے مرتب و مدوّن کیا اور حد درجہ تحقیق و تدقیق سے کام لیتے ہوئے نہایت محنت سے اس میں نیا لوازمہ شامل کیا ۔نظر ثانی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں آخری تدوین کی ذمے داری مجھے سونپی گئی، جس پر خاصا وقت صرف کیا اور مزید لوازمے کی شمولیت سے اسے حتمی شکل دی۔

۴۰برس کی رفاقت کے بعد اپریل ۱۹۹۴ء میں جماعت اسلامی سے الگ ہوکر ’تحریک اسلامی‘ تنظیم میں شامل ہوگئے۔ تاہم، اہل جماعت سے بھی تعلق برقرار رکھا، اور اس دیرینہ تعلق کو آخر وقت تک بڑے اعتدال سے نبھاتے رہے۔  مولانا مودودی کے ریکارڈ شدہ خطبات پر مشتمل انھوں نے کتاب الصوم ، فضائلِ قرآن مرتب کی۔ علاوہ ازیں   ۵-اے ذیلدار پارک، سوم اسلام کا سرچشمہ  قوت جماعت اسلامی اور مشرقی پاکستان ان کی اہم مرتبات ہیں۔

ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن کے مئی ۲۰۲۰ء کے شمارے میں ایک اہم مضمون نظر سے گزرا۔ مضمون کا عنوان ہے: ’روزہ اور طبی مسائل‘ اور اس کے مؤلف پروفیسر ڈاکٹر نجیب الحق پیشے کے اعتبار سے میڈیکل ڈاکٹر ہیں۔روزے کے دوران مختلف ادویات اور انجکشن کے استعمال کی مناسبت سے پروفیسر صاحب نے تفصیلی گفتگو کی ہے۔ بحیثیت مجموعی ان کی آرا سے مجھے اتفاق ہے مگر روزے کے فاسد ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے کچھ باتیں محل نظر ہیں ۔

ایک عام مشکل کا سامنا اکثر روزے داروں کو کرنا پڑتا ہے کہ روزے کی حالت میں آنکھ، ناک اور کان میں دوا ڈالی جاسکتی ہے یا نہیں؟ اس بارے میں پروفیسر صاحب رقم طراز ہیں: ’’آنکھ میں دوا ڈالنے کے بارے میں فقہا کی عمومی راے یہ ہے کہ اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، البتہ ناک میں دوا ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ کان کے اندرونی پردے کے صحیح اور سالم ہونے کا سو فی صد یقین ہو تو روزہ نہیں ٹوٹے گا، البتہ شک کی صورت میں بہتر یہی ہے کہ ماہر ڈاکٹر سے تصدیق کرلی جائے۔ پردہ پھٹا ہو یا اس میں سوراخ ہو تو دوائی ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا‘‘۔ ناک اور کان میں دوا ڈالنے کے حوالے سے محترم مضمون نگار کی راے سے ہمیں اتفاق ہے مگر آنکھ کے بارے میں ان کی راے سے ہمیں شدید اختلاف ہے۔ یہ معاملہ تھوڑی سی وضاحت کا طلب گارہے۔ برصغیرمیں عمومی طور پر فتاویٰ کی معروف کتاب فتاویٰ عالمگیری کورہنمائی کے لیے استعمال کیا  جاتا ہے۔یہ کتاب مغل حکمران اورنگ زیب عالم گیر کے دور میں مرتب کی گئی تھی۔ اس بات کو تین سوسال سےزیادہ عرصہ گزرچکاہے۔ یہ اپنے عہد کی عظیم تصنیف ہے اور آج کے دور میں بھی مفید ہے مگر ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ کتاب انسانوں نے مرتب کی تھی اور ان کی راے میں غلطی کا احتمال ہوتا ہے۔ آنکھ اورکان کی ساخت یا Anatomy کے حوالے سے اس کتاب میں بنیادی غلطی موجود ہے۔ اسی غلطی کو ہمارے دورکےعلما کی اکثریت نے نظرانداز کیا ہے۔

فاضل مضمون نگار بھی آنکھ کی حد تک اسی غلط روش پرگامزن ہیں۔ ہمارے علما کی اکثریت کا خیال ہے کہ آنکھ معتاد راستہ نہیں بلکہ کان معتاد راستہ ہے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ آنکھ کا تعلق ایک باریک نالی یا Duct کے ذریعے حلق اور بعدازاں معدے سے ہوتا ہے، جب کہ ایک صحت مند کان کا تعلق معدے سے نہیں ہوتا۔ اپنی اسی غلط فہمی کی بنیاد پر ہمارے علما روزے کے دوران آنکھ میں دوا ڈالنے کی اجازت دیتے ہیں اور کان میں دوا یاقطروں کا استعمال ممنوع قرار دیتے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ آنکھ میں دواکے قطرے ڈالے جائیں توان کے اثرات حلق تک پہنچتے ہیں اوربعض اوقات دوا کا ذائقہ بھی محسوس ہوتا ہے۔ گریہ و زاری کے دوران آنسو آنکھ سے خارج ہوتے ہیں مگر ایک نمکین ذائقہ ہمیں حلق میں محسوس ہوتا ہے۔ اس لیے روزے کی حالت میں آنکھ میں دوا ڈالنے سے احتراز کرنا ہوگا۔ کان کے بارے میں پروفیسر صاحب کی راےدرست ہے۔ جب تک کان کا پردہ مجروح یا Perforated نہ ہو اس وقت تک کان کا تعلق حلق اور معدے  سے نہیں ہوتا اور دوا کا استعمال روزے کو فاسد نہیں کرتا۔ اس معاملے میں احتیاط احسن ہے۔

 انجکشن کے استعمال کے بارے میں پروفیسر صاحب لکھتے ہیں:

انجکشن چاہے جِلد، گوشت یا رگ میں لگایا جائے اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ کیونکہ روزہ ٹوٹنے کے لیے ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ کوئی چیز بدن میں معتاد راستے سے داخل ہو،مثلاً منہ، ناک یا مقعد کے ذریعے۔ غیرمعتاد راستےسے کسی چیز کے بدن میں داخل ہونے سے اصولاً روزہ نہیں ٹوٹتا۔

یہاں فاضل مضمون نگار نے ایک بنیادی اصول بیان کردیا ہے کہ انجکشن کسی بھی نوعیت کا ہو اور کسی بھی ذریعےسے استعمال ہو، وہ روزہ ٹوٹنے کا باعث نہیں بنتا۔ یہ اصول بیان کرنے کے بعد کچھ تحفظات کا اظہار بھی فرماتے ہیں:

اگر کوئی مریض پیاس بجھانے کے لیے اور بھوک مٹانے کے لیے روزے میں انجکشن (ڈرپ) کا استعمال کرتا ہے تویہ روزے کی روح کے خلاف ہے اور اس مقصد یا اس نیت سے انجکشن کا استعمال انتہائی نامناسب حرکت ہے لیکن اگر یہ درد یا بخار کا زور توڑنے کے لیے استعمال کیا جائے تواس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

پروفیسرصاحب کی اس راے سے عجیب و غریب صورتِ حال جنم لیتی ہے۔ وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ انجکشن کے مذکورہ بالا استعمال سے روزہ ٹوٹتا نہیں ہے مگر یہ روزے کی روح کے خلاف ہے اور انتہائی نامناسب حرکت ہے۔ اس راے کی عملی تطبیق خاصی مشکل ہے اوربے شمار اشکالات پیدا ہوجاتے ہیں، مثلاً ایک شخص شدید نقاہت محسوس کرتا ہے اور ڈاکٹر اسے گلوکوز کی ڈرپ لگا دیتا ہے تو غالباً اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا کیونکہ مریض کی اپنی نیت میں کوئی کھوٹ نہیں ہے۔ اسی طرح روزے کی حالت میں ذیابیطس کا مریض گلوکوز کی کمی یا Hypoglycemia کا شکار ہوسکتا ہے اور ڈاکٹر کے مشورے سے اسے بین الورید گلوکوز دیا جاسکتا ہے۔ ہمارے محترم مضمون نگار کے مطابق ایسے شخص کا روزہ بھی فاسد نہیں ہوگا۔ ایک اور صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ پانی کی شدید کمی یا Dehydration کی وجہ سے کسی شخص کو نمکیاتی محلول یا Normal Saline کا بین الورید استعمال کرایا جائے۔ غالباً اس کا روزہ بھی قائم رہے گا کیونکہ ایسا شخص بدنیت نہیں ہے اور اس نے معتاد راستوں سے کوئی چیز بدن میں داخل نہیں کی ہے۔

دراصل مضمون نگار کے پیش نظر فقہا کی وہ عمومی راے ہے کہ غیرمعتاد راستوں، مثلاً جِلد، گوشت یا رگ کے ذریعے جسم میں کسی چیزکے دخول سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ ہم یہاں بھول رہے ہیں کہ فقہا کی یہ راے اس وقت سامنے آئی تھی جب انجکشن یا ڈرپ وغیرہ کے استعمال کا آغاز نہیں ہوا تھا۔ اس وقت جِلد اور گوشت کے ذریعے جسم میں کسی چیزکا دخول کیڑوں اور حشرات الارض کے کاٹنے سے ہوتا تھا اور معمولی رطوبت جسم میں داخل ہوجاتی تھی۔ یہ ایک غیرارادی عمل ہوتا تھا اور انسان کی اپنی خواہش کا اس میں کوئی دخل نہیں ہوتا تھا۔

کیڑے کے کاٹنے کے حوالے سے فقہا کی راے کا انطباق انجکشن اور ڈرپ پر نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں نئے سرے سے اجتہاد کرنے کی ضرورت تھی۔ یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ آج کل Parenteral Nutrition کا طریقہ بھی معروف ہوچکاہے، جس میں ورید کے ذریعے اہم غذائی اجزا مریض کے جسم میں داخل کیے جاتے ہیں۔ بہت سارے مریض توایسے ہیں جو برسوں سے کچھ کھائے پیئے بغیر صرف Total Parenteral Nutrition کی بنیاد پر زندہ ہیں۔ ہمارےہراجتہاد کے پس منظر میں یہ معروضی حقیقت موجود ہونی چاہیے کہ آج انجکشن کا استعمال جسم کو غذائیت فراہم کرنے کے متبادل طریقے کے طور پر معروف ہوچکا ہے۔

ہم جو کچھ منہ کے راستے کھاتے پیتے ہیں اس میں کچھ طبیعی اور کیمیائی تغیرات واقع ہوتے ہیں۔ بعدازاں غذائی مواد معدے کےراستے آنتوں میں داخل ہوجاتا ہے۔ کچھ مقعد اور پیشاب کے راستے خارج ہوجاتا ہے اورکچھ دورانِ خون میں شامل ہوکر جزوِ بدن بن جاتا ہے۔ہم جو کچھ انجکشن کے ذریعے جسم میںداخل کرتے ہیں وہ نظامِ انہضام میں جائے بغیر دورانِ خون میں شامل ہوجاتا ہے اور اپنا کام کرکے یا تو جزوِ بدن بن جاتا ہے یا پھر جسم سے خارج ہوجاتا ہے۔ آخری نتیجہ دونوں صورتوں میں یکساں ہوتا ہے۔ اس آخری نتیجے کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہمیں روزے کی حالت میں انجکشن کے استعمال کافیصلہ کرنا ہوگا۔

روزہ فاسدہونے کی وجوہ پر جس انداز سے گفتگو کی گئی ہے، اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ پروفیسرصاحب برصغیر کی روایتی فکر کے تحت فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ یاد رہے کہ ۱۴سے ۱۷ جون ۱۹۹۷ء میں کاسابلانکا، مراکش میں اسلامی فقہی کونسل کی نویں کانفرنس منعقد ہوئی جس میں طبی ماہرین اور جیدعلما نے شرکت کی۔ اس کانفرنس کے چند روز بعد جدہ (سعودی عرب) میںاسلامی فقہی کونسل کی دسویں کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ ان دونوں کانفرنسوں میں دیگر مسائل کے ساتھ روزہ فاسد ہونے کی طبی وجوہ پر ماہرین نے عوام الناس کے لیےجو ہدایات جاری کیں، ان فتاویٰ کا خلاصہ درج ذیل ہے:

    ۱-  غذائیت والے انجکشن لینے سے روزہ فاسدہوجاتا ہے۔

    ۲-  غذائیت والے انجکشن کا استعمال ایسے ہی ہے جیسے منہ کے راستے کھانا پینا۔

    ۳- روزے کی حالت میں نمکیاتی محلول یا Normal Saline کا بین الورید استعمال بھی روزے کوفاسد کردیتا ہے۔{ FR 645 }

درحقیقت یہ مریض یاڈاکٹر کی نیت کا مسئلہ نہیں ہے۔ معروضی حقیقت یہ ہے کہ روزے کی حالت میں ایک شخص کو انجکشن کے ذریعے غذائی مواد یا نمکیاتی محلول فراہم کیاجارہا ہے اور یہ عمل روزہ فاسد ہونے کا باعث بنتا ہے۔

بعض علما کی راے روزے کی حالت میں انجکشن کےحوالے سے اور زیادہ سخت ہے اور وہ ہرقسم کے انجکشن کے استعمال پر پابندی عائد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انجکشن خواہ غذائیت بخش ہو یا درد اور بخار کے لیے استعمال کیا جائے، دونوں صورتوں میں پانی یا محلول کی مناسب مقدار جسم میں داخل ہوکر دورانِ خون کا حصہ بن جاتی ہے۔ جب معتاد راستوں سے جسم میں داخل ہونے والی اشیا کی ہم تخصیص نہیں کرتے تو یہ تخصیص انجکشن کی صورت میں بھی نہیں ہوگی۔ کسی شخص کوروزے کی حالت میں اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ چھوٹی سی ایک گولی بغیر پانی کے نگل جائے۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو اس کا روزہ فاسدہوجائے گا حالاں کہ ایک چھوٹی سی گولی بھوک اور پیاس پر کوئی اثر نہیں ڈالتی۔ یہی اصول انجکشن کے معاملے میں بھی لاگو ہوگا۔

یہاں فقہ کے ایک اور بنیادی اصول کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔ اس اصول کے مطابق جس شے کی زیادہ مقدار حرام ہوتی ہے اس کی کم مقدار بھی حرام ہوتی ہے۔ شراب اور دیگر نشہ آور اشیا مقدارسے قطع نظرہرحال میں حرام قراردی گئی ہیں۔ روزے کی حالت میںپانی کا ایک گھونٹ یا گلاس دونوں حرام اور روزے کے فاسدہونے کا ذریعہ ہیں۔ اسی طرح انجکشن خواہ ایک ملی لٹر ہو یا پانچ سو ملی لٹردونوں صورتوں میں ممنوع ہوگا۔ بریلوی مکتبۂ فکر کے صاحب ِ تفسیر اور ممتاز عالمِ دین مولانا غلام رسول سعیدیؒ نے بڑے سائنسی انداز میں اس مسئلے کا جائزہ لے کر ہرقسم کے انجکشن کو ممنوع قراردیا ہے۔ میں دین کا ادنیٰ طالب علم ہوں مگرمجھے مذکورہ راے میں زیادہ وزن محسوس ہوتا ہے۔ آخر میں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ جن چیزوں کی ممانعت قرآن و حدیث اور اجماعِ صحابہ سے ثابت ہے، ان پر بحث کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔ اگر یہ ممانعت بعد میں علما کی طبی معلومات کی بنیاد پر عائد کی گئی ہے تو اس پر بحث کی گنجایش ہے اور ہرایک کی راے میں تبدیلی کا امکان موجودہے۔