زیرتبصرہ کتاب پاکستان میں غربت کے خاتمے کے لیے ایک جامع پلان کی حیثیت رکھتی ہے جس میں ضلعی حکومتوں کو اپنا رول ایک خاص حد تک ادا کرنا ہے، جب کہ بنیادی طور پر غربت کے خاتمے کایہ تمام منصوبہ نجی کمپنیوں کے ہاتھوں تشکیل اور فروغ پائے گا۔ اس منصوبے کا لبِ لباب یہ ہے کہ شہری اوردیہی علاقوں میں ہر فرد اپنا کاروبار یا ملازمت حاصل کرسکے، ملک کا ہرشہری، دیہی یا شہری کی تخصیص کے بغیر ۱۵۰۰ مربع فٹ کے ایک فلیٹ کا مالک بن سکے جس کے لیے اسے ابتدائی طور پر صرف ۲۵۰۰ روپے کرایہ ادا کرنا پڑے اور زرعی زمین کی کم از کم ملکیت کو ساڑھے ۱۲ ایکڑ کی سطح تک لایا جاسکے جو کہ معاشی لحاظ سے مناسب رقبہ (economic size) ہے۔
مصنف نے مندرجہ بالا اہداف کے حصول کے لیے ایک جامع تحریر لکھی، جو کہ ان کے موضوع پر گرفت کو ظاہر کرتی ہے اور مصنف کی اپنے گردوپیش کے حالات پر گہری نظر کو ظاہر کرتی ہے۔ اس مقصد کے لیے ضروری قانون سازی کے لیے ڈرافٹ بھی کتاب میں شامل ہیں۔ مصنف کے خیال میں یہ پلان اگر نافذ کردیا جائے تو اس کے نتیجے میں بہت بڑی معاشی سرگرمی فروغ پذیر ہوگی اور سماجی ڈھانچے میں ایک بہت بڑی تبدیلی وقوع پذیر ہوگی۔
کتاب کو پڑھتے ہوئے قاری اپنے آپ کو ایک تصوراتی دنیا (utopia) میں پاتا ہے، جس کے لیے ایک تصوراتی محل کھڑا کیا گیا اور اس محل کی ایک ایک تفصیل بیان کردی گئی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ دنیا میں تصورات (concepts) پیش کیے جاتے ہیں اور لوگ ان پر غوروفکر کرکے عمل کی راہیں تلاش کرتے ہیں۔ کبھی مکمل طور پر اور کبھی جزوی طور پر کچھ باتوں کو لے کر عمل کی دنیا میں اس پر عمارات کھڑی کی جاتی ہیں، اس لحاظ سے یہ کتاب ایک قابلِ قدر کاوش ہے۔
کچھ باتیں اس میں محلِ نظر معلوم ہوتی ہیں، خاص طور پرسیدابوالاعلیٰ مودودیؒ کی کتاب مسئلہ ملکیت زمین کو موضوع بحث بناکر اس کا تنقیدی جائزہ اضافی نظر آتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک اور پاکستانی طرزِ معاشرت کے لیے جو منصوبہ پیش کیا گیا ہے وہ ہمارے ہاں بظاہر بہت کامیاب ہوتا نظر نہیں آتا۔ کاروباری مقاصد کے لیے وسائل کی فراہمی کے لیے آج تقریباً تمام ادارے بنکوں کے قرض پر انحصار کرتے ہیں۔ نجی کمپنیاں اپنے پاس سے رقوم کیوں کر خرچ کریں گی، جب کہ وہ فیکٹریاں اور منافع بخش ادارے قائم کرنے کے لیے بھی بنکوں کے قرض پر انحصار کرتی ہیں۔ یہ اور اس طرح کے بہت سے سوالات اُٹھنے کے باوجود کتاب قابلِ قدر ہے اور معیشت دانوں اور فیصلہ سازوں کے لیے ایک رہنما کتاب ہے۔ (پروفیسر میاں محمد اکرم)
ائمہ مساجد کا حقیقی مقام معاشرے کے قائدین کا ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ اب انھوں نے اپنا یہ مقام عموماً کھو دیا ہے اور وہ صرف دو رکعت کے امام سمجھے جاتے ہیں۔ اسلامی نظام قائم ہو تو حکمران مساجد میں نماز کی امامت کریں لیکن موجودہ نظام میں تو یہ حال ہے کہ اگر موجودہ حکمران امامت کے مصلے پر آجائیں تو مقتدی مسجد خالی کردیں۔ معاشرے کی قیادت اور امامت میں یہ دُوری دورِ زوال اور دورِ غلامی کا نتیجہ ہے۔ اب وقت کا تقاضا ہے کہ مسجدوں کے امام، جو کوئی بھی ہیں، اپنے بلند مقام سے آگاہ ہوں اور اس کے مطابق طرزِعمل اختیار کریں۔ تحفۃ الائمۃ محمدحنیف عبدالمجید کی ایک ایسی نہایت بھرپور اور مؤثر کاوش ہے جس میں ائمہ مساجد کی صفات، ان کے لیے نصائح اور وعظ کے آداب پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ ان کی ذمہ داریوں سے بھی آگاہ کیا گیا ہے۔ کافی اچھی بحث اس مسئلے پر ہے کہ آئمہ کرام کا دائرہ صرف مسجد نہیں ہے، بلکہ مسجد سے باہر کا معاشرہ بھی ہے جس میں انھیں دعوت و تبلیغ کی ذمہ داری ادا کرنا چاہیے۔
وحدت اُمت کے حوالے سے بھی بہت مناسب اور پُرزور توجہ دلائی گئی ہے۔ مفتی محمد شفیع صاحب کا مضمون اس حوالے سے نقل کیا گیا ہے۔ تاریخ سے مثالیں دی گئی ہیں کہ افتراق و انتشار نے اُمت کو کیا نقصان پہنچایا ہے۔ مذاہب اربعہ کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ جن چند مذموم صفات کی بنا پر ان میں دشمنی اور بُغض مستحکم ہوگیا ہے: ’’ان صفاتِ مذمومہ میں سے ایک صفتِ مذموم مذہبی تعصب، جہالت اور اپنی غلط بات پر ڈٹ جانا ہے‘‘۔ (ص ۵۴۰)مقتدیوں کی تربیت کیسے کی جائے؟ اس پر بھی بہت وسیع دائرے میں کلام کیا گیا ہے۔
اس کتاب میں نماز کے آداب، نماز پڑھنے کا درست طریقہ، مسجد کے آداب، صف بندی کے آداب سبھی کچھ پر سیرحاصل گفتگو کی گئی ہے۔ ائمہ کرام کے مطالعہ کے لیے کتب کی فہرست دی گئی ہے۔ ساتھ ہی مقتدیوں کے لیے، ان کے اہلِ خانہ کے لیے اور انگریزی پڑھنے والے مقتدیوں کے لیے فہرست کتب دی گئی ہے۔
ہم اپنی مساجد میں اچھے اچھے ائمہ کو دیکھتے ہیں جو نماز پڑھانے سے زیادہ اپنا کوئی کام نہیں سمجھتے۔ مقتدیوں کی تربیت سے ان کو واسطہ نہیں اور معاشرے میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے بھی عموماً وہ آنکھیں بند رکھتے ہیں حالانکہ یہ ان کا اصل میدانِ کار ہے۔
محمد حنیف عبدالمجید صاحب نے ۷۸۲ صفحے کی اس کتاب میں موضوع کے ہر پہلو پر نہایت دل نشین انداز میں روشنی ڈالی ہے۔ معیاری سفید کاغذ پر روشن اُجلے حروف قاری کو پڑھنے میں آسانی فراہم کرتے ہیں۔ دوسری طرف کتاب میں بلاتکلف آٹھ آٹھ دس صفحے عربی کے بلاترجمہ نقل کیے گئے ہیں اس لیے کہ مصنف کے نزدیک پڑھنے والے اہلِ علم ہیں (شاید انھیں اہلِ علم کے مبلغ علم کا اندازہ نہیں)۔ لکھنے والے تو ابھی تک ’ان کو‘کے بجاے ’انکو‘ لکھ رہے ہیں اوریہاں دوسری طرف انتہا یہ ہے کہ بلکہ کو ’بل کہ‘ لکھا گیا ہے۔ یہ کتاب جہاں ائمہ کے لیے تحفہ ہے، پڑھنے والے مقتدیوں کے لیے بھی تحفہ ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ کتاب کا ضخیم ہونا قارئین کی تعداد کم کردیتا ہے، لیکن مصنف اپنے اہلِ علم سے خوش گمان ہیں اس لیے کہ انھوں نے اطمینان سے ہرموضوع پر کلام کیا ہے اور ضخامت کی پروا کیے بغیر کیا ہے۔
بیت العلم ٹرسٹ کی جانب سے گذشتہ عرصے میں کئی مفید چیزیں آئی ہیں: تحفۂ دلہن، تحفۂ دلہا، مثالی ماں، مثالی باپ، مثالی استاد۔ بچوں کے لیے ۳۶۵ کہانیاں (۳جلدیں) اور ماہنامہ ذوق و شوق۔ اللہ تعالیٰ اصلاح کی ان کوششوں کو قبول کرے، ان میں برکت ڈالے اور مسلمانوں کے دل اپنی دنیا اور آخرت کی بھلائی کے لیے کھولے۔ (مسلم سجاد)
زیرتبصرہ کتاب میں فاضل مصنف نے غزواتِ نبویؐ اور سرایا کے نتیجے میں مدنی معیشت پر مرتب ہونے والے معاشی اثرات کے جائزہ لیا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ مدنی معیشت میں ان غزوات و سرایا کے نتیجے میں حاصل ہونے والے مالِ غنیمت کا بہت تھوڑا حصہ بنتا ہے اور مدنی معیشت کا انحصار اس مالِ غنیمت پر نہ تھا بلکہ دوسرے ذرائع آمدن مثلاً زکوٰۃ، صدقات، لوگوں کی طرف سے رضاکارانہ رقوم کی فراہمی وغیرہ پر تھا۔ مصنف نے مستشرقین کی طرف سے اٹھائے گئے ان اعتراضات کا جواب دینے کے لیے عربی، اُردو اور انگریزی میں لکھی گئی کتب اور رسائل سے نتائج اخذ کرتے ہوئے کتاب میں حوالے بھی درج کردیے ہیں۔
فاضل مصنف نے آغاز میں کتبِ مغازی کے سلسلہ میں اپنا نقطۂ نظر بیان کرتے ہوئے مغازی کے موضوع پر لکھی گئی کتب اور ان کے عرصۂ اشاعت کا تذکرہ کیا ہے۔ اس کے بعد غزوات نبویؐ اور سرایا (جن لڑائیوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شریک نہ تھے) کا سال بہ سال جائزہ پیش کیا ہے، ان غزوات و سرایا سے حاصل ہونے والے اموالِ غنیمت، قیدیوں اور دیگر پہلوئوں پر روشنی ڈالی ہے اور ان غزوات پر آنے والے مصارف کا بھی تجزیہ پیش کیا ہے (ص ۱۱۷ تا ۱۲۱)۔ اسی طرح جنگی قیدیوں پر اٹھنے والے مصارف، اور دیگر جانی و مالی نقصانات پر بحث کی ہے (ص ۱۲۱ تا ۱۲۵)، جب کہ مدنی معیشت کے مختلف پہلوئوں کا تجزیہ کیا ہے۔ (ص ۱۲۶ تا ۱۴۱)
کتاب میں مختلف کتب و رسائل کے متعلق تعلیقات و حواشی (ص۱۴۲ تا ۲۰۸ ) بہت اچھا اضافہ ہے۔ غزوات و سرایا کا ایک نظر میں جائزہ لینے کے لیے مختلف غزوات کا گوشوارہ (ص ۲۰۹ تا ۲۲۴ )بنایا گیا ہے، جس میں غزوہ یا سرایہ کا نام، سال و ماہ، مسلمانوں اور کافروں کی تعداد اور ان کے قائدین کے نام اور نتائج بیان کیے گئے ہیں۔
اپنے موضوع کے حوالے سے یہ کتاب اپنی طرز کی اچھوتی کتاب ہے، جو کہ فاضل مصنف کی محنت ِشاقہ اور تحقیقی ذہن کی عکاسی کرتی ہے، اور مستشرقین کے اعتراضات کا ایک شافی جواب ہے۔ (م - م - ا)
خیروشر اور نیکی و بدی کی جنگ ازل سے جاری ہے اور ابد تک جاری رہے گی۔ شیطان اپنی تمام تر فریب کاریوں، عیاریوں، مکاریوں اور اکساہٹوں کے ساتھ مورچہ زن ہے۔ مگر قرآن و حدیث سے اس کے ہتھکنڈوں سے بچنے کے لیے وسیع رہنمائی ملتی ہے۔ امام ابن جوزیؒ نے شیطان لعین کی دسیسہ کاریوں، فریب کاریوں اور دھوکے بازیوں پر جامع کتاب تالیف کر کے اُمت کو شیطان لعین کے حملوں سے بچانے کے لیے سامان فراہم کیا ہے۔
برعظیم پاک و ہند میں اس کے متعدد اڈیشن چھپتے رہے، اب مکتبہ دارالابلاغ نے ’تلبیس ابلیس‘ کا نیا رواں اور شُستہ ترجمہ اغلاط سے پاک کمپوزنگ کرکے شائع کیا ہے۔ ترجمے کے لیے علامہ ناصرالدین البانی کے شاگرد رشید علی حسن عبدالحمید کا ترتیب دیا ہوا نسخہ پیش نظر رکھا گیا۔ علی حسن علی عبدالحمید نے تخریج کرتے ہوئے صرف صحیح احادیث کا انتخاب کیا، جب کہ ضعیف احادیث یکسر خارج کردیں۔
امام ابن جوزیؒ ایک بلندپایہ عالم دین، محدث، مؤرخ، واعظ اور مربی تھے۔ انھوں نے ۱۷۸ اساتذہ سے کسب ِفیض کیا، ان کی تصانیف کی تعداد ۲۵۰ کے لگ بھگ ہے۔ زاد المسیر کے نام سے قرآن کی تفسیر لکھی اور پہلے مفسرکہلائے۔ حنبلی مسلک پر سختی سے عمل پیرا ابن جوزی، فرائض و احکامات کے معاملے میں خود بڑے سخت اور متشدد تھے۔انھوں نے تلبیس ابلیس میں روایات لینے کے سلسلے میں خاص احتیاط کا اہتمام کیا اور ثقہ روایات لیں۔ ترغیبات و ترہیبات کے ضمن میں ضعیف روایات لے لی جاتی ہیں، صحاح ستہ میں فضائل کے باب میں ضعیف اور کمزور روایات موجود ہیں جو تذکیر کے لیے نقل ہوتی ہیں۔ کمزور اور ضعیف روایات کو تلبیس ابلیس سے خارج کر کے کتاب کی چاشنی کو کم کردیا گیا اور اس طرح اس کا دائرہ بھی محدود کردیا گیا، میرے خیال میں اس ضمن میں درمیانی راہ نکالنی چاہیے تھی، تاکہ اصل کتاب کا حُسن برقرار رہتا۔(عمران ظہور غازی)
عموماً کسی شخص کے ظاہری خدوخال، بول چال اور چال ڈھال سے اس کے بارے میں ایک راے قائم کی جاتی ہے۔ شخصیت دراصل ان منفرد اوصاف کی میکانکی تنظیم اور وحدت کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کو عطا کیے ہیں۔ شخصیت کی تعمیر میں جہاں ارثی اور ماحولیاتی عناصر کا کردار نمایاں ہوتا ہے وہاں فرد کے خیالات اور سوچ کے اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ یہی اس کتاب کا موضوع ہے۔
مصنف نے شخصیت کے تعمیراتی عناصر اور اصولوں کا مطالعہ، مختلف ماہرین نفسیات اور علما کی آرا کی روشنی میں کیا ہے اور پھر اپنے مشاہدات اور تجزیے سے ان اصولوں پر بحث کی ہے جن سے شخصیت کی تعمیروترقی ممکن ہے۔ ان کا خیال ہے تن بہ تقدیر ہوکر بیٹھ رہنے کے بجاے ایک فرد اپنے اندر خوداعتمادی، قوتِ فیصلہ، قوتِ ارادی، غوروفکر اور عزم و ہمت جیسے اوصاف کو بیدار کرلے تو وہ پسندیدہ اور کامیاب زندگی بسر کرسکتا ہے۔ زندگی کا نصب العین چونکہ زندگی کا رُخ متعین کرتا ہے، اس لیے ایک فرد کی زندگی کا مرکز و محور یہی قرار پاتا ہے، اور یہی باقی اوصاف کو بیدار کرنے کے لیے تحریک پیدا کرتا ہے۔
کتاب میں ۱۶ ایسے بنیادی اصولوں پر بحث کی گئی ہے جو شاہراہِ حیات پر کامیابی کے سفر کے لیے مفید ہیں۔ شخصیت کی تعمیر اور کیریئر پلاننگ کے لیے ایک مفید کتاب ہے۔ اسلوبِ بیان سادہ اور پُرکشش ہے۔ (عبداللّٰہ شاہ ہاشمی)
لیت و لعل اور ٹال مٹول کی عادت ایک عادتِ بد ہے جس کی وجہ سے انسان اپنی زندگی میں بے حد نقصان اٹھاتا ہے۔ ٹال مٹول کی عادت کسی بھی انسان کو وراثت میں نہیں ملتی اور نہ یہ عادت انسان کی شخصیت اور کردار کا حصہ ہی ہوتی ہے۔ یہ محض ایک عادت اور رویہ ہے اور یہ عادت انسان کی زندگی پر بُرے اثرات مرتب کرتی ہے جس کی وجہ سے انسان دبائو اور تنائو کا شکار ہوجاتا ہے۔ نتیجے کے طور پر اس کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔
مصنفہ نے انسان کے خوف و ہراس میں مبتلا ہونے کی ممکنہ وجوہات کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ کون کون سے خوف اور خطرات ہیں، جو انسان کی راہ کی دیوار بنتے ہیں اور ان سے کیسے نبٹا جاسکتا ہے۔ پھر بہتر زندگی گزارنے کے لیے کام کو بروقت اور منصوبہ بندی کے تحت سرانجام دینے کے بہت سے گُر بتائے ہیں۔ مختلف لوگوں کی ذاتی زندگیوں کے تجربات کا نچوڑ پیش کیا گیا ہے۔ منظم، بھرپور اور متحرک زندگی گزارنے کے لیے اہم اصولوں کو زیربحث لایا گیا ہے۔ مترجم نے Stop Procrastinating کا ٹال مٹول کی عادت سے نجات خوب صورت ترجمہ کیا ہے۔ وقت کی قدروقیمت جاننے، اپنے معمولات کو بے ترتیب ہونے سے بچانے اور منصوبوں کو احسن طریقے سے پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے یہ مفید رہنمائی ہے۔ (محمد الیاس انصاری)
دہشت گردی کی نام نہاد امریکی جنگ نے عالم اسلام کے اصحاب دانش کو بھی غور و فکر کے نئے دوراہوں پر لاکھڑا کیاہے۔مغرب کی اس نئی اور کھلی جارحیت کے پس منظر اور داعیے کو سمجھنے سمجھانے کی بحث زوروں پر ہے۔فاضل مصنف نے ابن ابی شیبہ کی اس روایت سے استدلال کیا ہے کہ فارس تمھاری ایک ٹکر ہوگا (یابڑی حد) دو ۔پھر فارس کو اللہ مفتوح کرادے گامگر روم کے کئی سینگ ہوں گے۔اس کا ایک سینگ ہلکان ہوگا تو نیا سینگ نکل آئے گا۔
خلاصۂ استدلال یہ ہے کہ موجودہ امریکن ایمپائر اپنے یونانی و رومی پس منظر کے ساتھ بنی الاصفر (سلطنت روم) ہی کا تاریخی تسلسل ہے۔ مغربی تہذیب کا یہ امام،یونان کی لادینیت، رومن ایمپائر کی قبضے کی ہوس اور موجودہ مسخ شدہ عیسائیت کی شرک و بدعملی کا حقیقی وارث ہے۔ مصنف کے مطابق رومیوں کے ورثا کی اسلام کے ساتھ یہ جنگ اپنی شکلیں تو تبدیل کرتی رہی ہے لیکن تھمی کبھی نہیں۔انجام کار کامیابی یقینا عالم اسلام کا مقدر ہے لیکن اس کے لئے صحیح حکمت عملی، اور شرعی ضوابط کا مکمل التزام ناگزیر ہے ۔کتاب دہشت گردی کے خلاف جنگ کے پس منظر میں لکھے جانے والے لٹریچر میں ایک قابل قدر اضافہ ہے۔(حافظ محمد عبد اللّٰہ)
مئی ۲۰۰۸ء کے شمارے میں Granny Nam Tells the Story پر تبصرہ شائع ہوا تھا۔ بچوں کے لیے باتصویر قرآنی کہانیوں کے تین حصے محترمہ نصرت محمود نے لکھے ہیں۔ ملنے کا پتا: 191-J ، ڈی ایچ اے، سیکٹر ای ایم ای، ایسٹ کینال بنک، لاہور ، فون: 7511655۔ قیمت: 300 روپے علاوہ ڈاک خرچ
مادہ پرستی کے اس دور میں ایک مسلمان کے لیے تزکیۂ نفس، ذاتی اصلاح اور شیطان کے شر سے بچنے کی اشد ضرورت ہے۔ ’اصل مسئلہ اخلاقی‘ مولانا مودودیؒ کا مضمون: ’ایک دوسرے کے لیے کدورت‘ اور محمدیوسف اصلاحی کا ’گناہ گار سے نفرت نہیں، اصلاح‘ (جولائی ۲۰۰۸ئ) اس ضرورت کو کماحقہٗ پورا کرتے ہیں۔ ’دوسروں پر تنقید اور اپنے آپ کو بھول جانا‘ ہر ایک کا وطیرہ بنتا جارہا ہے۔ آج کی اسلامی و اصلاحی تحریکوں میں افراد کے مابین اسلام کے اخلاقی اصولوں پر عمل پیرا ہونے اور اخلاقی برائیوں، مثلاً بُغض و حسد، بدخواہی و بدگمانی، غیبت و بہتان وغیرہ سے بچنے کے لیے ایسے مضامین کی اشاعت مفید ہے۔
’پاکستان کے حالات : تبدیلی کس طرح؟‘ (جولائی ۲۰۰۸ئ) میں خرم مرادؒ نے تبدیلی کا حقیقی راستہ دکھایا ہے۔ مسئلہ اس پر چلنے کا ہے۔ پاکستانی معاشرے کے جن روحانی امراض کا ذکر کیا ہے اُن میں آج شدت سے اضافہ ہو رہا ہے۔ وہ ملک جس میں قانون نافذ کرنے والا خود مجرمانہ ذہنیت رکھتا ہو اور ملک کا دستور مسلسل پائوں تلے روندتا ہو، حکمران طبقہ عدل و انصاف کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہو، امن و سلامتی، مساوات، صبروتحمل، ایثار و ہمدردی، اخلاص و شرافت کم یاب ہوں تو ان حالات میں صرف چہروں کی تبدیلی سے حالات بہتر نہیں ہوسکتے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے افکارو خیالات پر نظرثانی کریں، اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں، مثبت سوچ اپنائیں۔ اپنے دلوں سے مادیت اور مغرب کی مرعوبیت کو کھرچ ڈالیں اور اپنے دامن کو نورایمان، ذکروعبادت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سے مزین کریں۔ تب ہی ہم ایک باعزت قوم بن کر اُبھر سکتے ہیں۔
’او‘ لیول کی اسلامیات میں فرقہ واریت‘ (جولائی ۲۰۰۸ئ) کے حوالے سے آپ کے شذرہ نگار کی حکومت سے اپیل پڑھ کر مجھے ہنسی آگئی۔ ہماری حکومت بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں اپنی رٹ نافذ کرنے سے فارغ ہو، تو پھر ان اداروں پر اپنی رٹ نافذ کرے۔ دراصل اربابِ حکومت اتنی اہم ذمہ داریوں، یعنی کرسیوں کو سنبھالنے میں لگے ہوئے ہیں کہ کہاں کیا پڑھایا جا رہا ہے، اس سے انھیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ویسے بھی ان کی نظروں میں تو لیول امتحانات لینے والے اس قوم کے محسن ہیں۔ پاکستان پر ان اداروں کی رٹ نافذ ہے، جو چاہیں، پڑھائیں۔
بہت عرصے بعد ’مابعد جدیدیت کا چیلنج اور اسلام‘ (جولائی ۲۰۰۸ئ) جیسا مضمون ترجمان میں پڑھنے کو ملا۔آپ نے اسے مکمل شائع نہ کرکے بڑا ظلم کیا۔ اس کی خاطر کوئی بھی دوسرا مضمون روکا جاسکتا تھا۔ اب دوسری قسط کا انتظار ہے!
’پیپلزپارٹی کا دستوری تماشا‘ (جولائی ۲۰۰۸ئ) بھرپور اور متوازن تجزیہ ہے، نہ چاہتے ہوئے بھی تحسین پر مجبور ہوں۔ البتہ حکومتی بددیانتی (ص۱۳) کے لیے الفاظ کے استعمال میں احتیاط کی ضرورت تھی۔
’جاپان میں اسلام پر تازہ تحقیقات‘ (جون ۲۰۰۸ئ) پڑھا۔ ایک خوش گوار حیرت ہوئی کہ اس دورافتادہ سرزمین (Land of Rising Sun)میں اسلام کس طرح پہنچا! وسطی ایشیا کی مسلم ریاستوں کے بارے میں معلومات بہت کم ہیں۔ اس پر بھی کوئی تحریر دیں۔
’جاپان میں اسلام پر تازہ تحقیقات‘ (جون ۲۰۰۸ئ) پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ بہت معلومات ملیں۔ خیال آیا کہ اگر کوئی مسافر پاکستان کے بارے میں اس موضوع پر لکھے تو کیا لکھے گا؟ ہماری جامعات اور تحقیقی اداروں میں موضوعات کا انتخاب کسی ضرورت یا سوچی سمجھی اسکیم کی بنیاد پر نہیں ہوتا، بلکہ تحقیق کار اور گائیڈ کی سہولت فیصلہ کن ہوتی ہے۔ غیرمسلم ہی نہیں، مسلم ممالک کے بارے میں بھی اسی طرح کے مقالات کی سیریز ہم قارئین کے لیے چشم کشا ہوگی، مثلاً جرمنی میں… یا مصر میں…
یہ اطلاع دیتے ہوئے مسرت ہو رہی ہے کہ الحمدللہ نیپالی ترجمۂ قرآن کے رسم اجرا کا پروگرام نہایت کامیاب رہا۔ یہ ترجمہ تحریک اسلامی نیپال، اسلامی سنگھ نیپال کی پانچ سالہ محنتوں کا ثمرہ ہے۔ مولانا علائوالدین فلاحی، فارغ التحصیل جامع الفلاح اور سابق طالب علم بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی اسلام آباد کو ترجمے کی سعادت حاصل ہوئی۔ مختلف علماے کرام کی نظرثانی کے ساتھ ساتھ تین ماہر لسانیات سے بھی اس کی زبان کی تصحیح کروائی گئی ہے۔ یہ عربی متن کی نیپالی زبان میں ترجمانی ہے۔ اس کی تیاری میں قرآن مجید کے مشہور اُردو تراجم: تفہیم القرآن، تدبر القرآن، احسن البیان، معارف القرآن اور انگریزی زبانوں میں موجود تراجم کے ساتھ ساتھ متداول عربی تفاسیر سے بھی مدد لی گئی ہے۔رسمِ اجرا کے موقع پر منعقدہ پروگرام میں سیاسی و سماجی کارکنان، مختلف مسالک کے نمایندے، ہندو، بدھ، عیسائی اور جین مذاہب کے اعلیٰ عہدے داروں سمیت بڑی تعداد میں ہندوؤں اور مسلمانوں نے شرکت کی۔
ارکان کی مشکلات میں بھی کوئی کمی نہیں اور نہ ان میں کسی کمی کی اس وقت تک کوئی توقع کرنی چاہیے جب تک کہ اپنے ماحول اور سوسائٹی کو بدل کر ہم اپنے ڈھب پر نہیں لے آتے۔ دریا میں رہتے ہوئے اس کی رو کے خلاف چلنے سے مزاحمت کا پیش آنا ایک فطری چیز ہے۔ جب آپ پوری سوسائٹی کے رجحانات، طور طریقوں اور چلن کے خلاف چلیں گے تو ہرہرقدم پر ٹکر ہوگی اور حقیقت یہ ہے کہ غلط اصولوں پر قائم نظامِ زندگی میں ہمیں اگر مشکلات پیش نہ آئیں تو تعجب کرنا چاہیے نہ کہ ان کے پیش آنے پر۔ البتہ ارکان کو یہ بات ضرور پیش نظر رکھنی چاہیے کہ مشکلات اور مزاحمتوں کو خواہ مخواہ دعوت کبھی نہ دیں بلکہ اپنی طرف سے حتی الامکان بچ کر چلنے کی کوشش کریں۔
مومن ایک دانا اور حکیم انجینیر کی طرح دین کی سڑک کو رضاے الٰہی کی منزل تک لے جاتا ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ ایک ماہر فن انجینیر پہاڑوں اور دریائوں اور نالوں سے خواہ مخواہ لڑ کر اپنی قوت اور سرمایہ ضائع کرنے کے بجاے اپنی سڑک کو پہاڑوں کے دامن کے ساتھ ساتھ، وادیوں کے کناروں پر، چھوٹے پایاب نالوں میں gap بنا کر اور دریائوں پر پل باندھ کر آگے گزر جاتا ہے، اور صرف ان پہاڑوں کو توڑنے اور ان ندی نالوں کو پاٹنے پر قوت و سرمایہ صرف کرتا ہے جہاں ایسا کیے بغیر آگے بڑھنے کی کوئی شکل نہ ہو یا اس کی سڑک کے لیے آیندہ نقصان کا موجب ہوسکتے ہوں۔ صراط مستقیم کے معماروں اور انجینیروں کو بھی اسی حکمت و دانائی سے کام کرنا ہے اور اپنے فن کا زور دکھانے کے لیے رکاوٹوں کو پیدا نہیں کرنا اور نہ مشکلات کو دعوت دینا ہے بلکہ جو فی الواقع موجود ہیں ان سے بھی حتی الامکان ٹکرائے بغیر آگے نکل جانا ہے۔ ہاں، جہاں کوئی بالکل ہمارا راستہ روکنے ہی پر تل جائے اور ہمیں اور دوسرے بندگانِ خدا کو حق پر چلنے ہی نہ دینا چاہتا ہو تو تصادم ناگزیر ہے لیکن اس کا فیصلہ جماعت کا کام ہے نہ کہ کسی ایک رکن یا مجموعہ ارکان کا۔
اس سال ہمارے مختلف ارکان کو قوم و برادری کے غیر شرعی اور بے بنیاد طور طریقوں کو ترک کردینے پر بعض جگہ قتل کی دھمکیاں دی گئی ہیں، بعض جگہ شہربدر اور برادری سے اخراج کے ڈراوے دیے گئے اور بعض جگہ رشتے ناطے اور عمربھر کے تعلقات منقطع کرلیے گئے اور بعض کی بیویوں نے ساتھ چھوڑ دیا لیکن الحمدللہ کہ کسی ایک رکن کے بھی پاے ثبات میں ذرا فرق نہ آیا بلکہ یہ سب کچھ ان کے ایمان و عقیدہ کو زیادہ پختہ ہی کردینے کا موجب ہوا۔(روداد جماعت اسلامی بابت ۴۶-۱۹۴۵ئ، میاں طفیل محمد، ترجمان القرآن، ج ۲۸، عدد ۶، جمادی الثانی، ۱۳۶۵ھ، مئی ۱۹۴۶ئ، ص ۶۱۔۶۲)