مضامین کی فہرست


نومبر۲۰۰۷

غیرمسلموں سے اظہارِ تعزیت

سوال: میرے شوہر کے تایا قادیانی (مرتد) ہوگئے تھے‘ اور اب اُن کی اولاد بھی قادیانی ہے۔ جب سے پروردگار نے ہدایت دی ہے‘ ہم لوگوں کا ان سے میل جول نہیں ہے۔گذشتہ دنوں میرے شوہر اپنے بھائیوں کے ساتھ گائوں گئے‘ تو وہاں موجود قادیانیوں کے گھر بھی تعزیت کے لیے گئے۔ جب مجھے پتا چلا کہ میرے شوہر کسی قادیانی کے گھر گئے ہیں تو مجھے بہت افسوس ہوا کہ یقینا یہ اُن کو اپنا رشتے دار سمجھتے ہوئے تعزیت کے لیے گئے ہوں گے۔ میرے شوہر کا موقف ہے کہ اُن کے تایا مرتد تھے لیکن اُن کی اولاد کا کیا قصور‘ وہ تو اُن کی ڈگر پر ہی چل رہی ہے‘ وہ مرتد نہیں‘ اور یہ کہ اسلام کافروں‘ عیسائیوں وغیرہ سے ملنے سے نہیں روکتا۔ اچھا سلوک تو ہرکسی سے کرنے کا حکم ہے‘ خواہ وہ قادیانی ہو یا کوئی بھی غیرمسلم۔ میرے میاں کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے فاتحہ نہیں پڑھی‘ صرف افسوس کرنے گئے تھے۔ اس ضمن میں شرعی نقطۂ نظر واضح فرما دیں تاکہ ان جیسے پڑھے لکھے اور سادہ لوح مسلمان کسی غلط فہمی کی بنا پر اپنی آخرت نہ خراب کر بیٹھیں۔

جواب: آپ کا دینی جذبہ قابلِ قدر ہے۔ اللہ تعالیٰ اس پر آپ کو برکت اور اجر عطا فرمائے۔ آمین!

مرتد‘ کافر و مشرک اور زندیق کے لیے دعاے مغفرت نہیں کی جاسکتی‘ اور اس کے فوت ہونے پر غم کا اظہار بھی نہیں کیا جاسکتا‘ البتہ یہ کلمات کہے جاسکتے ہیں: ’’کاش! وہ ایمان کے ساتھ رخصت ہوتا‘‘۔ آپ کے شوہر نے ان کے لیے دعاے مغفرت نہیں کی‘ اچھا کیا۔

اس سلسلے میں یہ بات سمجھ لینا چاہیے کہ :

۱- کفار سے موالات ناجائز ہے۔ موالات کا معنی دلی دوستی اور دلی محبت اور ان کے ساتھ رشتے ناتے اور شادی غمی میں شرکت ہے کہ ان کی خوشی کو اپنی خوشی اور ان کے غم کو اپنا غم سمجھنا___ ایسا کرنا صحیح نہیںہے۔

۲- ’مواساۃ‘ ہمدردی و غم گساری‘ بھوکوں کو کھانا کھلانا‘ پیاسوں کو پانی پلانا‘ بیماروں کا علاج کرنا‘ یہ ایسے کافروں کے ساتھ ہوسکتا ہے جن کے ساتھ برسرِ جنگ نہ ہوں اور جن سے دشمنی نہ ہو۔

۳- مدارات‘ رواداری‘ خوش اخلاقی‘ یہ تمام کفار سے ہوسکتی ہے بلکہ ہونی چاہیے تاکہ وہ متاثر ہوں‘ ہمارے ساتھ دشمنی نہ کریں اس لیے کہ جب دشمنی ہوجاتی ہے تو پھر تبلیغ کا اثر نہیں ہوتا۔ کفار چاہے مرتد نہ ہوں‘ ان سے برادرانہ مراسم نہیں رکھنے چاہییں۔ صرف خوش اخلاقی اور رواداری سے پیش آنا چاہیے۔

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ آپ کے شوہر کے تایا مرتد ہوگئے‘ ان کی اولاد کا کیا قصور ہے‘ وہ مرتد نہیں‘ درست نہیں ہے۔ ان کی اولاد منافقین اور زندیق کے حکم میں ہے۔ وہ اپنے کفر کو اسلام قرار دے کر دھوکا دہی کے مرتکب ہیں۔ یہ بھی ارتداد کی طرح کا جرم ہے۔ ان کے ساتھ کوئی ایسا معاملہ اور تعلق رکھنا جائز نہیں ہے جس کے سبب لوگ ان کو مسلمان سمجھیں یا ان سے مسلمانوں کا سا معاملہ کریں۔ ان سے تعلق ’مدارات‘ تک رہنا چاہیے جسے رواداری اور خوش اخلاقی کہا جاسکے۔ اظہار افسوس اور دعاے مغفرت درست نہیں ہے۔ البتہ آپ کے شوہر نے جو اظہار افسوس کیا اس میں وضاحت ہونی چاہیے تھی کہ ہمیں افسوس ہے کہ قادیانیت پر ایمان کی حالت میں فوت ہوگیا اور اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو دائرۂ اسلام میں آنے کی توفیق دے۔

خیال رہے کہ محض آنا جانا منع نہیں ہے‘ جب کہ مقصد برادرانہ تعلق قائم کرنا نہ ہو بلکہ صرف رسمی تعلق قائم کرنا ہو‘ تا کہ ان کو دائرۂ اسلام میں لانے کی کوشش کی جاسکے اور سمجھا بجھا کر راہِ ہدایت پر ڈالا جاسکے۔

آپ اپنے شوہر کی موجودہ حالت پر زیادہ پریشان نہ ہوں‘ انھوں نے ان سے برادرانہ تعلق قائم نہیں کیے‘ دعاے مغفرت نہیں کی‘ البتہ افسوس کا طریقہ ان کو نہیں آتا تھا۔ اس وضاحت کے بعد ان پر حقیقت اجاگر ہوجائے گی۔ (مولانا عبدالمالک)

نکاح اور والدین میں اختلاف راے

س: میرے بڑے بیٹے کی شادی اُس کی والدہ اور نانی‘اُس کی خالہ زاد سے کرنا چاہتی تھیں‘ لیکن میرا بیٹا اس پر رضامند نہ ہوا اور اُس کی خالہ زاد کی شادی کہیںاور ہوگئی۔ اب میرا بیٹا اپنی پھوپھی زاد سے شادی کرنا چاہتا ہے اور اپنے دوستوں کے ذریعے اُس نے یہ بات مجھ تک اور اپنی والدہ تک پہنچائی بھی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ بنا کہ اُس کی نانی صاحبہ اور ماموں صاحب نے سخت مخالفت شروع کر دی اور اپنی اَنا کا مسئلہ بنا لیا ہے۔ میری بیوی سخت الجھن میں ہے۔ ایک طرف اُس کے میکے والے ہیں اور دوسری طرف بیٹا اور اُس کی خواہش۔

بیٹے کی والدہ گناہ کے ڈر سے اپنی والدہ کو ناراض نہیں کرنا چاہتی۔ لیکن میرے خیال میں اسلام نے ہر فرد کو خواہ وہ اولاد ہو‘ بیٹا یا بیٹی ہی کیوں نہ ہوں‘ شادی کے معاملے میں اپنی خواہش اور مرضی کے اظہار کی اجازت دی ہے اور والدین کے لیے اولاد کی خوشی کو مدنظر رکھنا حکمت کا تقاضا ہے۔ سوال یہ ہے کہ میرے سسرال والوں کی ضد کیا عصبیت جاہلیہ کے شمار میں نہیں آتی؟ میرے اور میری اہلیہ کے لیے صحیح طرزِعمل کیا ہے؟ اگر میری بیوی بحیثیت والدہ بیٹے کو حکم دیتی ہے کہ وہ یہ خیال چھوڑ دے اور پھر وہ نہ مانے یا مان تو لے لیکن اپنے دل میں بوجھ بنا بیٹھے‘ کیا ایسا اُس کے لیے کرنا والدہ کی نافرمانی کے زمرے میں آتا ہے۔ نیز کیا میں قطع رحمی کا مرتکب تو نہ ہوجائوں گا؟

ج: آپ نے اپنے بیٹے کے عقد نکاح کے بارے میں جو سوال کیا ہے‘ اس کا جواب یہ ہے کہ نکاح کے مسئلے میں عقد میں منسلک ہونے والوں کی رضامندی دوسری رضامندیوں پر فائق ہے۔ آپ کا بیٹا اگر اپنی پھوپھی زاد سے شادی کرنا چاہتا ہے تو اسے اس کا حق حاصل ہے۔     نانی صاحبہ اور ماموں صاحب کے پاس اگر ایسا دوسرا رشتہ نہیں ہے جو آپ کے بیٹے کو پسند ہو تو پھر انھیں پھوپھی زاد سے شادی میں رکاوٹ نہیں ڈالنا چاہیے۔ وہ اگر ناراضی کا اظہار کریں یا ناراض ہوجائیں تو اس میں آپ کے بیٹے یا آپ کا اور آپ کی اہلیہ کا کوئی قصور نہیں ہے‘ اور یہ قطع رحمی نہیں ہے کہ آپ اپنے بیٹے کی پسند کے مطابق اس کی شادی کردیں۔ نانی صاحبہ اور ماموں صاحب کو ناراض نہیں ہونا چاہیے۔

لڑکی کے نکاح کے لیے والد کی رضامندی ضروری ہے لیکن اختلاف کی صورت میں لڑکی کی رضامندی فائق ہوگی‘ بشرطیکہ لڑکی کی رضامندی سے باپ یا خاندان کی عزت میں فرق نہ آتا ہو کہ وہ کسی گھٹیا شخص سے شادی کرنا چاہے۔ لڑکے کے بارے میں تو والد کی رضامندی کو بھی ضروری قرار نہیں دیا گیا‘ اس کے لیے ولی کی رضامندی کی شرط نہیں ہے۔ البتہ اتنی بات اسلامی معاشرے میں معروف چلی آئی ہے کہ لڑکے اور لڑکی دونوں کی شادی والد کی ذمہ داری ہے‘ اورحدیث میں اس کا ذکر بھی ہے کہ بالغ ہونے کے بعد شادی کرانا والد کی ذمہ داری ہے۔ یہ کام والدین اور خاندان کی رضامندی سے ہوتا ہے اور سب کو اس سے خوشی ہوتی ہے۔ لہٰذا لڑکے یا لڑکی کو اس کی مرضی کے خلاف شادی پر مجبور کرنا یا ان پر دبائو ڈالنا درست نہیں ہے۔ آپ کو چاہیے کہ نانی اور ماموں کو خاندان کے بااثر لوگوں کے ذریعے لڑکے کی مرضی کے مطابق شادی کرنے پر راضی کریں اور اگر  وہ راضی نہ ہوں تو آپ کی اہلیہ اور آپ کے بیٹے پر اس شادی کے کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔

اگر شریعت کے مطابق کام کیا جائے تو پھر قطع رحمی کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ صلہ رحمی اور  قطع رحمی کا دائرہ شریعت نے مقرر کردیا ہے۔ اگر ’نکاح‘ کے مسئلے میں تمام لوگوں کی رضامندی برابری کے درجے میں ہو تو پھر تو کبھی بھی کوئی نکاح نہیں ہوسکے گا۔ اس لیے شریعت نے اس کے لیے معیار اور ضابطہ مقرر کردیا ہے جو تمام نزاعات کے خاتمے کا ذریعہ ہے۔ حدیث کے الفاظ ہیں: فَاِنْ تَشَاجَرَا فَاسُّلْطَانُ وَلِیُّ مَن لَا وَلِیّ لَہٗ ، اگر لڑکی اور ولی میں اختلاف پیدا ہوجائے تو پھر عدالت اس کی ولی ہے جس کاکوئی ولی نہیں۔ گویا ایسی صورت میں عدالت لڑکی کے حق میں فیصلہ دے گی اور ولی کو اس بات کی اجازت نہیں ہوگی کہ وہ لڑکی کی مرضی کے خلاف اس کا نکاح کرے۔ رہا لڑکا تو وہ تو بدرجۂ اولیٰ اس کا مستحق ہے۔ وہ ولی کا قانوناً نہیں بلکہ اخلاقاً پابند ہے۔ واللّٰہ اعلم! (مولانا عبدالمالک)

 

تدبر قرآن پر ایک نظر، مولانا جلیل احسن ندوی‘ترتیب و تعلیق: مولانا نعیم الدین اصلاحی۔ ناشر: دارالتذکیر‘ رحمن مارکیٹ‘ غزنی سٹریٹ‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۱۷۰۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔

آٹھ ضخیم جلدوں پر مشتمل تدبر قرآن مولانا امین احسن اصلاحی کی عظیم شاہ کار تفسیر ہے۔ گوناگوں خصوصیات کی حامل اس تفسیر کی سب سے بڑی خوبی نظم قرآن کی پیش کاری ہے‘ تاہم غلطیوں‘ تسامحات اور فروگذاشتوں سے انبیاے کرام کے سوا نہ کوئی انسان پاک ہے اورنہ کوئی انسانی کاوش۔ مولانااصلاحی کے نزدیک قرآن فہمی میںعربی ادب‘ نزولِ قرآن کے دور کے عربی لٹریچر اور روایات کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اس لیے اِن اور بعض دیگر علمی معاملات میں اُن کی راے جمہور علما سے مختلف ہے۔

زیرنظر کتاب میں مولانا جلیل احسن ندوی نے کئی مقامات پر مولانا اصلاحی کے نقطۂ نظر سے اختلاف کیا اور تدبر قرآن کے تسامحات کا محاکمہ کیا ہے۔ ایک مثال ملاحظہ ہو: سورۂ بقرہ آیت ۲ (ذٰلِکَ الْکِتَاب… للمتقین) کا ترجمہ مولانا اصلاحی نے اس طرح کیا ہے: ’’یہ کتابِ الٰہی ہے، اس کے کتاب الٰہی ہونے میں کوئی شک نہیں‘ ہدایت ہے ڈرنے والوں کے لیے‘‘ (تدبر قرآن‘ اوّل‘ ص ۳۷)۔ تفسیری حصے میں ذٰلِکَ کا مطلب بتاتے ہوئے کہتے ہیں: ’’جو چیز مخاطب کے علم میں ہے یا جس کا ذکر گفتگو میں آچکا ہے‘ اگر اس کی طرف اشارہ کرنا ہو تو وہاں ذٰلِکَ استعمال کریں گے‘‘۔ اس پر مولانا ندوی نے اعتراض کیا ہے کہ تب تو اس (ذٰلِکَ) کا ترجمہ ’وہ‘ سے کرنا چاہیے نہ کہ ’یہ‘ سے۔ صاحبِ تدبر قرآن آگے لکھتے ہیں: یہاں ذٰلِکَ کا اشارہ سورہ کے اس نام کی طرف ہے جس کا ذکر گزر چکا ہے اور بتانا یہ مقصود ہے کہ یہ الم قرآن عظیم کا ایک حصہ ہے (ایضاً، ص ۴۱)۔ ندوی صاحب لکھتے ہیں: ذٰلِکَ کا ’یہ‘ سے ترجمہ کرنا درست نہیں اور نہ یہ درست ہے کہ ذٰلِکَ کا اشارہ سورہ کی طرف ہے بلکہ ذٰلِکَ کا ترجمہ ’وہ‘ درست ہے۔ نیزیہاں سورہ کے نام کی طرف اشارہ نہیں ہے بلکہ اس کتاب کی طرف اشارہ ماننا چاہیے جس کا اہلِ کتاب بالخصوص یہود انتظار کر رہے تھے جس پر ایمان لانے کا ان سے اللہ نے موسٰی ؑاور دوسرے انبیاے بنی اسرائیل کے ذریعے پختہ عہدوپیمان لیا تھا(ص ۱۱)۔ مصنف نے گروہی تعصبات سے بالاتر ہوکر تجزیہ اور مدلل بحث کی ہے۔ بعض مقامات پر اسلوبِ تنقید قدرے سخت ہے لیکن بحیثیت مجموعی یہ اختلاف و تنقید صاحبِ تدبر قرآن کے پورے احترام کے ساتھ علمی و فکری حدود میں ہے۔

سورئہ بقرہ سے سورئہ فتح تک کی مختلف آیات کے تراجم اور ان کی تفسیر پر مشتمل یہ مضامین وقتاً فوقتاً ماہ نامہ زندگی اور ماہ نامہ حیاتِ نو میں شائع ہوتے رہے۔ نعیم الدین اصلاحی نے انھیں جمع کیا‘ کتابی شکل دی اور اس پر تعلیقات و حواشی کا اضافہ کیا۔ یہ صرف چند سورتوں تک محدود ہیں۔ زیرنظر کتاب قرآنی مطالعے کے سلسلے میں متوازن راے قائم کرنے اور قرآن فہمی کے ذوق میں اضافے کا سبب بنے گی۔ (حمیداللّٰہ خٹک)


اسلام اور مغرب کا تصادم، اسرارالحق‘ مترجم: وسیم الحق۔ ناشر: کتاب سراے‘ الحمدمارکیٹ‘ غزنی سٹریٹ‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۲۲۳۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔

اسرارالحق کی کتاب The End of Illusionsکے چھٹے باب کا اُردو ترجمہ وسیم الحق نے کیا ہے۔ اس اہم تصنیف میں بہ دلائل یہ ثابت کیا گیا ہے کہ اسلام‘ قرآن‘ جہاد‘ حجاب اور مسجد کے خلاف مغرب کے چند لوگ نہیں بلکہ صدارتی مشیر‘ انتہائی بااثر تھنک ٹینک‘ پالیسی ساز ادارے‘ یونی ورسٹیاں اور ذرائع ابلاغ کے سرخیل سب کے سب شب و روز سرگرمِ عمل ہیں۔ نام نہاد دہشت گردی کا مرتکب مسلم دہشت گرد قرار پاتا ہے‘ جب کہ کسی عیسائی‘ یہودی‘ جاپانی‘ ہندو یا تامل فرد کے لیے اس کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی کہ اُس کے مذہب کی شناخت کی جائے۔

اسرارالحق صاحب نے سیکڑوں حوالوں کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ ڈنمارک کے خاکہ نگار کے خاکوں نے شہرت حاصل کرلی ورنہ امریکا اور یورپی ممالک کے متعدد صدور‘ سربراہانِ فوج اور پالیسی ساز اداروں کے بیانات بھی اپنی زہرناکی میں خاکوں سے کم نہیں۔ سب سے بڑا عملی ثبوت افغانستان وعراق ہیں کہ جہاں انسانیت کے ہر اصول کو پامال کر کے طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

۲۲۳ صفحات کی زیرنظر کتاب میں امریکی ذرائع ابلاغ‘ امریکی کانگرس‘ اقوامِ متحدہ‘ یورپی یونین‘ بھارت اور جاپان کے درجنوں ایسے حوالے درج کیے گئے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ وہاں اسلام کو روے زمین سے نیست و نابود کرنے کے لیے کیا کچھ سازشیں ہو رہی ہیں۔ ان مسلسل حوالوں اور بیانات کو پڑھ کر ایک بار تو یہ احساس ہوتا ہے کہ میڈیا نے ہمیں اس طرح بے دست و پا کردیا ہے کہ ہم اپنے ہی قتل کے لیے کی جانے والی کوششوں سے آگاہ نہیں ہیں۔

اسرارالحق نے غیر جانب داری سے اسلامی نظامِ معاشرت‘ تہذیب‘ جذبۂ جہاد‘ شہادت‘ پُرمسرت زندگی‘ شراکتِ اقتدار‘ رواداری اور نظامِ حکومت کے خدوخال اور ان کے رہنما اصولوں کی نشان دہی کردی ہے۔ کتاب کے ابتدائی ۵۷ صفحات تو حقیقتاً آنکھیں کھول دینے والے ہیں۔ انگریزی سے اُردو ترجمہ انتہائی محنت سے کیا گیا ہے۔ مغرب اور مغربی فکر سے آگاہی کے لیے یہ ایک اہم کتاب ہے۔ (محمد ایوب منیر)


۱- صحت کی حفاظت ، ۲- قدرتی دوائیں،۳- امراض اور علاج ، ڈاکٹر حکیم عبدالحنان۔ ناشر: ٹائم مینجمنٹ‘ پوسٹ بکس ۱۲۳۵۶‘ ڈی ایچ اے‘ کراچی-۲۵۵۰۰۔ صفحات: (علی الترتیب)  ۲۷۲، ۱۵۲،۲۲۴۔ قیمت: ۲۰۰، ۱۳۰،۱۷۰ روپے۔

پرانا محاورہ ہے کہ صحت دولت ہے‘ لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ اس دولت کی قیمت بہت بڑھتی جارہی ہے۔ جو بیماری کسی کو ہوجائے معلوم ہوتا ہے کہ ساری عمر کا علاج چاہیے۔ دوائیں غذا اور خوراک کا حصہ بن گئی ہیں۔ پرانے وقتوں میں بہت ساری بیماریاں گھروں ہی میں نبٹائی جاتی تھیں۔ خاندان کی بزرگ خواتین کے پاس اتنے مجرب نسخے ہوتے تھے کہ صرف پیچیدہ بیماریوں کے لیے ڈاکٹر کا منہ دیکھنا پڑتا تھا۔ یہ صدری نسخے بھی آہستہ آہستہ متروک ہوگئے اور ڈاکٹری علاج کا چلن بڑھ گیا۔ اس پس منظر میں ڈاکٹر حکیم عبدالحنان کی یہ تین کتابیں نعمت سے کم نہیں۔ حکیم صاحب نے سادہ اور عام فہم زبان میں اتنا کچھ فراہم کر دیا ہے کہ اگر عام تعلیم یافتہ مرد اور خواتین ان تینوں کتابوں کو کورس کی طرح پڑھ لیں، (یعنی اس پر امتحان میں ۵۰ فی صد سے زائد نمبر لے سکیں) تو نہ صرف وہ اپنی ذاتی صحت ٹھیک رکھیں گے بلکہ خاندان کے دوسرے چھوٹے بڑوں کے لیے ایک حد تک معالج کا کام کرسکیںگے (اور یوں علاج پر خرچ ہونے والے ہزاروں بلکہ شاید لاکھوں روپے کی بچت کریں گے)۔

صحت کی حفاظت میں بیماریوں سے بچائو اور زندگی گزارنے کے آسان طریقے فراہم کیے گئے ہیں۔ قدرتی دوائیں میں پھلوں‘ سبزیوں اور عام جڑی بوٹیوں سے محفوظ اور مؤثر انداز سے علاج کے طریقے بیان کیے گئے ہیں۔ وہ باتیں جو اخبارات اور رسائل میں موسم کے لحاظ سے پڑھنے کو ملتی ہیں‘ سب یہاں یک جا اور مستند موجود ہیں۔ امراض اور علاج میں ہر قسم کے عام امراض (بلڈپریشر‘ ذیابیطس‘ دمہ اور دیگر) کے بارے میں بہت کام کی باتیں اور مفید مشورے دیے گئے ہیں اور ساتھ ہی طبِ یونانی کے کچھ آسان نسخے بھی بیان کیے گئے ہیں۔

عام فائدے کی یہ معیاری کتابیں ہر فرد کی ضرورت ہیں۔ (مسلم سجاد)


مجھے ہے حکمِ اذاں، اوریا مقبول جان۔ ناشر: کتاب گھر‘ ادارہ الانوار‘ دکان۲‘ انور مینشن‘ بنوری ٹائون‘ کراچی۔ فون: ۴۹۱۹۶۷۳۔ صفحات، حصہ اوّل: ۳۱۰‘ دوم: ۳۱۲۔ قیمت: درج نہیں۔

پاکستان کے اخباری صفحات پر روزانہ لاکھوں الفاظ خرچ کر کے خبریں پیش کی جاتی ہیں اور مضامین یا کالم لکھے جاتے ہیں۔ جملوں اور حرفوں کی یہ برکھا چند گھنٹوں میں فنا کے گھاٹ اُتر جاتی ہے۔ تاہم جو چند ہزار الفاظ زندگی پاتے ہیں‘ ان میں سے ایک قابلِ لحاظ تعداد اوریا مقبول جان کے حصے میں آئی ہے۔ حرفِ راز کے اس پُرعزم رازدان نے لفظوں کو پاکیزگی اور عصری شعور کو دانش کی کسوٹی پر پرکھنے کی روایت میں بامعنی پیش رفت کی ہے۔

ان دو مجموعوں میں شامل مختصر مضامین معروف ہفت روزہ ضربِ مومن میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ ان نثرپاروں میں ہماری زندگی کے روز مرہ حادثات و واقعات کو تاریخی‘ سماجی‘ دینی‘ اخلاقی اور نفسیاتی تناظر میں سمجھنے اور سمجھانے کا توجہ طلب انداز پایاجاتا ہے۔ مجموعی طور پر کتاب کے اوراق پر مغرب کی غیرمنصفانہ یلغار‘ دھونس اور زیادتی کے فہم کو نمایاں کیا اور خود مسلم دنیا میں   بکھری بے عملی اور بے حمیتی پر نظر ڈالی گئی ہے۔ مسلم دنیا بھی کیا‘ مسلم قیادتوں کی بے وفائی نے دشمن کے راستے صاف اور آراستہ کرنے کے لیے جو گل کھلائے ہیں‘ ان مضامین میں انھیں دیکھا اور احساسِ زیاں کی کسک محسوس کی جاسکتی ہے۔(سلیم منصورخالد)


دل پہ دستک،اخترعباس۔ ناشر: منشورات‘ منصورہ‘ لاہور۔ صفحات: ۲۳۸۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔

اخترعباس صحافتی اور ادبی حلقوں میں جانا پہچانا نام ہے۔زیرنظر کتاب کے ۳۳ اخباری کالم‘ دین‘ وطن اور اپنی اقدارکے ساتھ محبت کرنے والے قلم کار کی سوچ بچار‘ذاتی تجربے‘ مشاہدے اور مطالعے کا عکس ہیں۔ خوب صورت الفاظ‘ عام فہم‘سادہ اور چھوٹے چھوٹے جملوں کے ساتھ بات کہنے کا فن‘ پُرکشش عنوانات کے ساتھ۔ چند عنوانات درج ذیل ہیں: ’انھیں موت دوست لگتی ہے‘، ’خالی ہاتھوں والوں کو کوئی کیسے یاد رکھے‘، ’غلط فیصلوں کے پہاڑ اکثر سر نہیں ہوتے‘، ’جتنا بڑا یقین اتنی بڑی کامرانی‘، ’اتنے سخت دل تو نہ ہوجایا کرو‘۔

اخترعباس نوجوان قلم کار ہیں جنھوں نے قلمی جہاد کا بیڑا اٹھایا ہے۔واعظانہ انداز کے بجاے خاموشی سے اپنی بات اس طرح کہتے ہیں جس سے امید‘ سرشاری کے جذبات اُجاگر ہوتے ہیں۔ یہی ان کی تحریر کی خوبی اور بات کہنے کا وہ ڈھنگ ہے جو ان کو موجودہ دور کے اہلِ قلم میں ممتاز کرتا ہے۔ اگرچہ یہ کالم پھول ڈائجسٹ میں بچوں کے لیے لکھے گئے ہیں مگر یہ ہرعمرکے قاری کو متاثر کرتے ہیں۔ جہادِ زندگی میں نئے راستوں اور منزلوں کے متلاشی حضرات کے لیے یہ کتاب ایک انمول تحفہ ہے۔ (عمران ظہور غازی )

تعارف کتب

  •  ماہ نامہ چراغ اسلام، مدیراعلیٰ: مولانا عطاء الرحمن مدنی۔ پتا: جامعہ عربیہ‘ انور انڈسٹری‘ جی ٹی روڈ‘ گوجرانوالہ۔ صفحات: ۸۰۔ قیمت: ۱۵ روپے۔ [ملک بھر سے نکلنے والے دینی رسائل کی تعداد میں ایک خوش گوار اضافہ‘  چار شمارے شائع ہوچکے ہیں۔ مضامین کا انتخاب معیاری ہوتا ہے۔ اکتوبر کے شمارے میں اعتکاف ‘شب قدر اور غزوئہ بدر پر مضامین ہیں۔ عیدکارڈ کے خلاف ایک مؤثر مضمون بھی شامل ہے۔]
  •  سہ ماہی الحنیف ، مدیراعلیٰ: قاری افضل اکبر۔پتا: فاروقی مسجد‘ سعود آباد‘ ملیر‘ کراچی-۳۷۔ صفحات: ۶۲۔ قیمت: درج نہیں۔ [یہ بھی ایک اضافہ ہے لیکن سہ ماہی۔ پہلے شمارے میں سیدابوالاعلیٰ مودودی‘ سید قطب شہید‘ سید ابوالحسن ندوی‘ مولانا گوہر رحمن‘ مولانا جلال الدین عمری‘ علامہ زاہد الرشدی‘ سید عارف شیرازی کے مقالات شامل ہیں۔ ان رسائل کا یہ فائدہ ضرور ہونا چاہیے کہ مدرسے کے استاد اور طلبہ جدید مسائل پر تحقیق کر کے عام فہم انداز سے لکھیں۔]
  •  دوماہی سربکف ، مدیراعلیٰ: منظرعارفی۔ پتا: سربکف‘ پوسٹ بکس ۷۲۷۲‘ کراچی۔ صفحات: ۱۶۸۔ قیمت: (خاص نمبر) ۸۰ روپے۔ [سیرت پر متعدد اچھی تحریروں کا مجموعہ۔ لکھنے والوں میں مولانا مودودی‘ نعیم صدیقی‘ اسعدگیلانی‘ پروفیسر خورشیداحمد اور خالد علوی صاحبان شامل ہیں‘ نیز ہر صفحے پر معروف شعرا کے اشعار۔]
  •  آزادی نسواں، زوال نسواں، ڈاکٹر جاوید اقبال (ہومیو)۔ ناشر: علم و عرفان پبلشرز‘ ۳۴- اُردو بازار‘ لاہور۔ فون: ۷۲۳۲۳۳۶۔ صفحات: ۱۸۳۔ قیمت: ۱۵۰ روپے (مجلد)۔ [مؤلف نے دینی غیرت کے جذبے سے اس منفی پروپیگنڈے کاجائزہ لیاہے جس کے تحت مسلمان خواتین کی بدحالی کی خودساختہ داستانوں کی تشہیر کی جاتی ہے۔ چار ابواب: عورت اور مذاہبِ عالم‘ عورت اور معاشرتی زندگی‘ عورت اور اسلامی احکام‘ آزادیِ نسواں یا زوالِ نسواں ___میں ان مباحث کو سمیٹا گیا ہے۔]
  •  Islam , Essence and Spirit، محمد زبیر فاروقی۔ ناشر: دعوہ اکیڈیمی‘ انٹرنیشنل اسلامک  یونی ورسٹی‘ اسلام آباد۔ صفحات: ۱۰۰۔ قیمت: ۷۰ روپے۔ [بنیادی اسلامی عقائد کا فلسفہ۔ ہر لحظہ بدلتی دنیا میں توحید‘ رسالت‘ آخرت کے تصورات‘ مستحکم خاندانی نظام اور نظامِ معاشرت میں اخلاقیات کی غرض و غایت۔ علمِ وحی اور اکتسابی علم نے انسانیت کے لیے کون سے راستے کشادہ کیے ہیں۔ بے خدا تہذیب اور معیشت و معاشرت نے کیا گُل کھلائے‘ ان موضوعات پر قلم اٹھایا گیاہے۔ انگریزی دانوں کے لیے اسلام کا ایک مؤثر تعارف۔]

احمد علی محمودی ‘حاصل پور

’مستقبل کا چیلنج اور ہم‘ (اکتوبر ۲۰۰۷ء) میں امامت کی حقیقت جس دل نشین پیرایے میں بیان کی گئی ہے‘ وہ نہ صرف قابلِ ستایش بلکہ قابلِ تقلید ہے۔ بدقسمتی سے سیاسی و فروعی مسائل نے دورِحاضر کے امام کی فکرونظر کو محدود کردیا ہے۔ عالم گیر اسلامی انقلاب کی منزل کے حصول کے لیے مفید فکری لوازمہ ہے۔

اے ڈی جمیل ‘جھنگ

محترم محمد یوسف اصلاحی کی تحریر: ’آپ کا گھر‘ (اکتوبر ۲۰۰۷ء) اس لحاظ سے اہمیت کی حامل ہے کہ اپنے گھروں کی طرف توجہ اور اہلِ خانہ کی تربیت اور اسلامی روایات سے گہرا رشتہ جوڑنے کے لیے نہ صرف  دل سوزی سے توجہ دلائی گئی ہے بلکہ عملی رہنمائی بھی دی گئی ہے۔

محمد ابوبکر صدیق ‘بورے والہ

’افیون کی گولیاں‘ (ستمبر ۲۰۰۷ء) بہت ہی alarming ہے۔ ’پاک امریکا تعلقات‘ میں جو کچھ آپ نے فرمایاہے‘ اگر اُس پر پاکستانی قوم پوری سنجیدگی سے غور کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہماری اجتماعی خرابیِ بسیار کا   پتا نہ چل سکے۔اتنے واشگاف الفاظ میں ’انجیوگرافی‘ کرانے کے بعد بھی اگر ہم علاج کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تو شاید مستقبل قریب میںہم ایسی ’دلدل‘ میں پھنس بلکہ دھنس جائیں کہ جہاں سے قومیں صدیوں بعد ہی کہیں جاکر نکلا کرتی ہیں۔ تعلق مع اللہ سے کٹ کر‘ ہمارے لیے سواے ذلت و رسوائی کے اور کوئی راستہ نہیں بچتا۔

ڈاکٹر راشد محمود ‘لاہور

حکمت مودودی کے تحت ’دعوت دین کی تڑپ‘ (ستمبر ۲۰۰۷ء) میں‘ سیدمودودیؒ نے انقلاب برپا کرنے کے لیے اَن پڑھ لوگوں تک دعوت پہنچانے کی طرف توجہ دلائی ہے اور اصل رکاوٹ جذبۂ تبلیغ کی کمی کو قرار دیا ہے۔ دوسری طرف ’تجوید و قرا ء ت کی فضیلت‘ میں صحیح مخرج کی ادایگی پر بہت زوردیا گیا ہے اور صحیح ادایگی نہ ہونے پر سخت تنبیہہ کی گئی ہے اور وعیدیں سنائی گئی ہیں۔ یہاں تضاد محسوس ہوتا ہے۔ تجوید و قراء ت کی ضرورت و اہمیت اپنی جگہ لیکن اصل ترجیح پیغامِ قرآن اور روحِ قرآن سے آشنا کرنا‘ ہونی چاہیے۔ کسی عجمی سے مخرج کی صحیح ادایگی امرمحال ہے۔ غالباً یہی وجہ تھی کہ نبی کریمؐ نے دعوت دین دیتے ہوئے مخرج کی ادایگی پر اتنا زور نہیں دیا۔ اگر ایسا ہوتا تو شاید سیدنا بلالؓ اذان ہی نہ دے پاتے کیوں کہ ان کے لیے مخرج کی صحیح ادایگی ممکن نہ تھی۔

 

مفتی اور قاضی آپ کے ایمان و اسلام کا اندازہ کرنے میں غلطی کھا سکتے ہیں‘ مگر آپ خود اگر خدا کو عالم الغیب اور علیم بذات الصدور جانتے ہوئے اپنے قلب پر نگاہ ڈالیں گے تو آپ کے اپنے ضمیر سے یہ بات نہیں چھپ سکتی کہ جس دین کو آپ اپنی دنیوی اور اخروی نجات کا ضامن مانتے ہیں اس پر آپ کے ایمان کا فی الواقع کیا حال ہے۔ یہ آپ کے زبانی دعوے اور یہ     فلک شگاف نعرے انسانوں کو ممکن ہے مرعوب کر دیں اور انھیں کسی غلط فہمی میں بھی مبتلا کردیں لیکن خدا کے روبرو تو سب حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی۔ وہاں نعرے اور نام نہیں‘ نیتیں اور کام دیکھے جائیں گے۔ اسلام کا جو نمونہ آپ اِس وقت دنیا میں پیش کر رہے ہیں اس کا نتیجہ تو بجز خسرالدنیا والآخرہ کے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ آپ کے اِس اسلام نے دنیا بھر کو اصلی اسلام سے بدگمان کرکے رکھ دیا ہے اور خدا کی کتاب گواہ ہے کہ ایسے اسلام کی آخرت میں بھی کوئی قدروقیمت نہیں ہوگی۔ دوسرے مسلکوں اور نظام ہاے زندگی کی طرح اسلام بھی دو ہی صورتیں پیش کرتا ہے کہ یا تو اسے سارے کا سارا قبول کرو یا پھر اس معاملے ہی کو ختم کردو۔ یہ مسلمان اور نامسلمان ایک ساتھ بنے رہنے کے لیے کوئی گنجایش نہیں اور اگر آپ اس پر اصرار کریں گے تو پھر آپ سے پہلے کی مسلمان قوم‘ یعنی یہودیوں کا انجام آپ کے سامنے ہے۔ اگر آپ اس انجام سے بچنا چاہتے ہیں تو اس کی صورت یہی ہے کہ خدا کے دین پر فی الواقع ایمان لائیں اور اپنی زندگی اور اس کے معاملات سے‘ اپنے قول و عمل سے اور اپنی دوڑ دھوپ اور نقل و حرکت سے اسلام کی سچی شہادت پیش کریں۔ (’کارروائی اجتماعات جماعت اسلامی‘، میاں طفیل محمد، ترجمان القرآن‘ جلد۳۱‘ عدد۱‘ رجب ۱۳۶۶ھ‘ جون ۱۹۴۷ء‘ ص ۷-۸)