نومبر۲۰۰۷

فہرست مضامین

رسائل و مسائل

| نومبر۲۰۰۷ | رسائل و مسائل

Responsive image Responsive image

غیرمسلموں سے اظہارِ تعزیت

سوال: میرے شوہر کے تایا قادیانی (مرتد) ہوگئے تھے‘ اور اب اُن کی اولاد بھی قادیانی ہے۔ جب سے پروردگار نے ہدایت دی ہے‘ ہم لوگوں کا ان سے میل جول نہیں ہے۔گذشتہ دنوں میرے شوہر اپنے بھائیوں کے ساتھ گائوں گئے‘ تو وہاں موجود قادیانیوں کے گھر بھی تعزیت کے لیے گئے۔ جب مجھے پتا چلا کہ میرے شوہر کسی قادیانی کے گھر گئے ہیں تو مجھے بہت افسوس ہوا کہ یقینا یہ اُن کو اپنا رشتے دار سمجھتے ہوئے تعزیت کے لیے گئے ہوں گے۔ میرے شوہر کا موقف ہے کہ اُن کے تایا مرتد تھے لیکن اُن کی اولاد کا کیا قصور‘ وہ تو اُن کی ڈگر پر ہی چل رہی ہے‘ وہ مرتد نہیں‘ اور یہ کہ اسلام کافروں‘ عیسائیوں وغیرہ سے ملنے سے نہیں روکتا۔ اچھا سلوک تو ہرکسی سے کرنے کا حکم ہے‘ خواہ وہ قادیانی ہو یا کوئی بھی غیرمسلم۔ میرے میاں کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے فاتحہ نہیں پڑھی‘ صرف افسوس کرنے گئے تھے۔ اس ضمن میں شرعی نقطۂ نظر واضح فرما دیں تاکہ ان جیسے پڑھے لکھے اور سادہ لوح مسلمان کسی غلط فہمی کی بنا پر اپنی آخرت نہ خراب کر بیٹھیں۔

جواب: آپ کا دینی جذبہ قابلِ قدر ہے۔ اللہ تعالیٰ اس پر آپ کو برکت اور اجر عطا فرمائے۔ آمین!

مرتد‘ کافر و مشرک اور زندیق کے لیے دعاے مغفرت نہیں کی جاسکتی‘ اور اس کے فوت ہونے پر غم کا اظہار بھی نہیں کیا جاسکتا‘ البتہ یہ کلمات کہے جاسکتے ہیں: ’’کاش! وہ ایمان کے ساتھ رخصت ہوتا‘‘۔ آپ کے شوہر نے ان کے لیے دعاے مغفرت نہیں کی‘ اچھا کیا۔

اس سلسلے میں یہ بات سمجھ لینا چاہیے کہ :

۱- کفار سے موالات ناجائز ہے۔ موالات کا معنی دلی دوستی اور دلی محبت اور ان کے ساتھ رشتے ناتے اور شادی غمی میں شرکت ہے کہ ان کی خوشی کو اپنی خوشی اور ان کے غم کو اپنا غم سمجھنا___ ایسا کرنا صحیح نہیںہے۔

۲- ’مواساۃ‘ ہمدردی و غم گساری‘ بھوکوں کو کھانا کھلانا‘ پیاسوں کو پانی پلانا‘ بیماروں کا علاج کرنا‘ یہ ایسے کافروں کے ساتھ ہوسکتا ہے جن کے ساتھ برسرِ جنگ نہ ہوں اور جن سے دشمنی نہ ہو۔

۳- مدارات‘ رواداری‘ خوش اخلاقی‘ یہ تمام کفار سے ہوسکتی ہے بلکہ ہونی چاہیے تاکہ وہ متاثر ہوں‘ ہمارے ساتھ دشمنی نہ کریں اس لیے کہ جب دشمنی ہوجاتی ہے تو پھر تبلیغ کا اثر نہیں ہوتا۔ کفار چاہے مرتد نہ ہوں‘ ان سے برادرانہ مراسم نہیں رکھنے چاہییں۔ صرف خوش اخلاقی اور رواداری سے پیش آنا چاہیے۔

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ آپ کے شوہر کے تایا مرتد ہوگئے‘ ان کی اولاد کا کیا قصور ہے‘ وہ مرتد نہیں‘ درست نہیں ہے۔ ان کی اولاد منافقین اور زندیق کے حکم میں ہے۔ وہ اپنے کفر کو اسلام قرار دے کر دھوکا دہی کے مرتکب ہیں۔ یہ بھی ارتداد کی طرح کا جرم ہے۔ ان کے ساتھ کوئی ایسا معاملہ اور تعلق رکھنا جائز نہیں ہے جس کے سبب لوگ ان کو مسلمان سمجھیں یا ان سے مسلمانوں کا سا معاملہ کریں۔ ان سے تعلق ’مدارات‘ تک رہنا چاہیے جسے رواداری اور خوش اخلاقی کہا جاسکے۔ اظہار افسوس اور دعاے مغفرت درست نہیں ہے۔ البتہ آپ کے شوہر نے جو اظہار افسوس کیا اس میں وضاحت ہونی چاہیے تھی کہ ہمیں افسوس ہے کہ قادیانیت پر ایمان کی حالت میں فوت ہوگیا اور اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو دائرۂ اسلام میں آنے کی توفیق دے۔

خیال رہے کہ محض آنا جانا منع نہیں ہے‘ جب کہ مقصد برادرانہ تعلق قائم کرنا نہ ہو بلکہ صرف رسمی تعلق قائم کرنا ہو‘ تا کہ ان کو دائرۂ اسلام میں لانے کی کوشش کی جاسکے اور سمجھا بجھا کر راہِ ہدایت پر ڈالا جاسکے۔

آپ اپنے شوہر کی موجودہ حالت پر زیادہ پریشان نہ ہوں‘ انھوں نے ان سے برادرانہ تعلق قائم نہیں کیے‘ دعاے مغفرت نہیں کی‘ البتہ افسوس کا طریقہ ان کو نہیں آتا تھا۔ اس وضاحت کے بعد ان پر حقیقت اجاگر ہوجائے گی۔ (مولانا عبدالمالک)

نکاح اور والدین میں اختلاف راے

س: میرے بڑے بیٹے کی شادی اُس کی والدہ اور نانی‘اُس کی خالہ زاد سے کرنا چاہتی تھیں‘ لیکن میرا بیٹا اس پر رضامند نہ ہوا اور اُس کی خالہ زاد کی شادی کہیںاور ہوگئی۔ اب میرا بیٹا اپنی پھوپھی زاد سے شادی کرنا چاہتا ہے اور اپنے دوستوں کے ذریعے اُس نے یہ بات مجھ تک اور اپنی والدہ تک پہنچائی بھی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ بنا کہ اُس کی نانی صاحبہ اور ماموں صاحب نے سخت مخالفت شروع کر دی اور اپنی اَنا کا مسئلہ بنا لیا ہے۔ میری بیوی سخت الجھن میں ہے۔ ایک طرف اُس کے میکے والے ہیں اور دوسری طرف بیٹا اور اُس کی خواہش۔

بیٹے کی والدہ گناہ کے ڈر سے اپنی والدہ کو ناراض نہیں کرنا چاہتی۔ لیکن میرے خیال میں اسلام نے ہر فرد کو خواہ وہ اولاد ہو‘ بیٹا یا بیٹی ہی کیوں نہ ہوں‘ شادی کے معاملے میں اپنی خواہش اور مرضی کے اظہار کی اجازت دی ہے اور والدین کے لیے اولاد کی خوشی کو مدنظر رکھنا حکمت کا تقاضا ہے۔ سوال یہ ہے کہ میرے سسرال والوں کی ضد کیا عصبیت جاہلیہ کے شمار میں نہیں آتی؟ میرے اور میری اہلیہ کے لیے صحیح طرزِعمل کیا ہے؟ اگر میری بیوی بحیثیت والدہ بیٹے کو حکم دیتی ہے کہ وہ یہ خیال چھوڑ دے اور پھر وہ نہ مانے یا مان تو لے لیکن اپنے دل میں بوجھ بنا بیٹھے‘ کیا ایسا اُس کے لیے کرنا والدہ کی نافرمانی کے زمرے میں آتا ہے۔ نیز کیا میں قطع رحمی کا مرتکب تو نہ ہوجائوں گا؟

ج: آپ نے اپنے بیٹے کے عقد نکاح کے بارے میں جو سوال کیا ہے‘ اس کا جواب یہ ہے کہ نکاح کے مسئلے میں عقد میں منسلک ہونے والوں کی رضامندی دوسری رضامندیوں پر فائق ہے۔ آپ کا بیٹا اگر اپنی پھوپھی زاد سے شادی کرنا چاہتا ہے تو اسے اس کا حق حاصل ہے۔     نانی صاحبہ اور ماموں صاحب کے پاس اگر ایسا دوسرا رشتہ نہیں ہے جو آپ کے بیٹے کو پسند ہو تو پھر انھیں پھوپھی زاد سے شادی میں رکاوٹ نہیں ڈالنا چاہیے۔ وہ اگر ناراضی کا اظہار کریں یا ناراض ہوجائیں تو اس میں آپ کے بیٹے یا آپ کا اور آپ کی اہلیہ کا کوئی قصور نہیں ہے‘ اور یہ قطع رحمی نہیں ہے کہ آپ اپنے بیٹے کی پسند کے مطابق اس کی شادی کردیں۔ نانی صاحبہ اور ماموں صاحب کو ناراض نہیں ہونا چاہیے۔

لڑکی کے نکاح کے لیے والد کی رضامندی ضروری ہے لیکن اختلاف کی صورت میں لڑکی کی رضامندی فائق ہوگی‘ بشرطیکہ لڑکی کی رضامندی سے باپ یا خاندان کی عزت میں فرق نہ آتا ہو کہ وہ کسی گھٹیا شخص سے شادی کرنا چاہے۔ لڑکے کے بارے میں تو والد کی رضامندی کو بھی ضروری قرار نہیں دیا گیا‘ اس کے لیے ولی کی رضامندی کی شرط نہیں ہے۔ البتہ اتنی بات اسلامی معاشرے میں معروف چلی آئی ہے کہ لڑکے اور لڑکی دونوں کی شادی والد کی ذمہ داری ہے‘ اورحدیث میں اس کا ذکر بھی ہے کہ بالغ ہونے کے بعد شادی کرانا والد کی ذمہ داری ہے۔ یہ کام والدین اور خاندان کی رضامندی سے ہوتا ہے اور سب کو اس سے خوشی ہوتی ہے۔ لہٰذا لڑکے یا لڑکی کو اس کی مرضی کے خلاف شادی پر مجبور کرنا یا ان پر دبائو ڈالنا درست نہیں ہے۔ آپ کو چاہیے کہ نانی اور ماموں کو خاندان کے بااثر لوگوں کے ذریعے لڑکے کی مرضی کے مطابق شادی کرنے پر راضی کریں اور اگر  وہ راضی نہ ہوں تو آپ کی اہلیہ اور آپ کے بیٹے پر اس شادی کے کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔

اگر شریعت کے مطابق کام کیا جائے تو پھر قطع رحمی کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ صلہ رحمی اور  قطع رحمی کا دائرہ شریعت نے مقرر کردیا ہے۔ اگر ’نکاح‘ کے مسئلے میں تمام لوگوں کی رضامندی برابری کے درجے میں ہو تو پھر تو کبھی بھی کوئی نکاح نہیں ہوسکے گا۔ اس لیے شریعت نے اس کے لیے معیار اور ضابطہ مقرر کردیا ہے جو تمام نزاعات کے خاتمے کا ذریعہ ہے۔ حدیث کے الفاظ ہیں: فَاِنْ تَشَاجَرَا فَاسُّلْطَانُ وَلِیُّ مَن لَا وَلِیّ لَہٗ ، اگر لڑکی اور ولی میں اختلاف پیدا ہوجائے تو پھر عدالت اس کی ولی ہے جس کاکوئی ولی نہیں۔ گویا ایسی صورت میں عدالت لڑکی کے حق میں فیصلہ دے گی اور ولی کو اس بات کی اجازت نہیں ہوگی کہ وہ لڑکی کی مرضی کے خلاف اس کا نکاح کرے۔ رہا لڑکا تو وہ تو بدرجۂ اولیٰ اس کا مستحق ہے۔ وہ ولی کا قانوناً نہیں بلکہ اخلاقاً پابند ہے۔ واللّٰہ اعلم! (مولانا عبدالمالک)