مضامین کی فہرست


فروری ۲۰۰۴

گلوبلائزیشن اور اسلام  ‘مولانا یاسرندیم۔ ناشر: دارالکتاب‘ دیوبند ‘(بھارت)۔ صفحات: ۴۵۶۔ قیمت: درج نہیں۔

عالم گیریت یا گلوبلائزیشن‘ اکیسویں صدی کا ایک ایسا فتنہ ہے‘ جو اپنی تمام حشرسامانیوں کے ساتھ تدریجاً‘ لیکن نہایت تیزی سے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیتا جا رہا ہے۔ اگرچہ یہ اصطلاح بھی نئی ہے‘ اس کے اطلاقات بھی ‘اور اس کی جڑیں بیسویں صدی کے وسط میں بآسانی تلاش کی جاسکتی ہیں۔ لیکن مغرب سے آنے والی اس یلغار کا تعلق اٹھارھویں‘ انیسویں صدی کے اس دور سے ہے‘ جب اس سمت سے اٹھنے والا طوفان ایشیا‘ افریقہ اور جنوبی امریکہ کے عوام پر  قہر بن کر ٹوٹ پڑا تھا۔ مزاحمت کرنے والے سفاکی کے ساتھ نیست و نابود کیے جا رہے تھے‘ وسائل کا بے پناہ استحصال ہو رہا تھا‘ اور قیادت و حکومت’غیروں‘ کے ہاتھوں میں چلی گئی تھی۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد’نوآبادیات‘ کا یہ دور سمٹتا چلا گیا‘ لیکن اس کی جگہ ایک نئے استعمار نے لے لی‘ جو زیادہ ’نفیس‘ ، بظاہر نرم لیکن اندر سے اسی طرح سفاک اور بے رحم تھا۔

۱۹۴۵ء میں اقوامِ متحدہ (جس میں چار بڑی طاقتوں کو ساری دنیا کی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لیے ویٹو کا اختیار دیا گیا) اور پھر ۱۹۹۰ء میں ’نیا عالمی نظام‘ (New World Order) اور پھر۱۹۹۵ء میں عالمی تجارتی کانفرنس میں ایک نئی عالمی تنظیم براے تجارت (WTO) کے پردے میں عالم گیریت کے عفریت نے جنم لیا‘ جو اپنی ساری حشرسامانیوں کے ساتھ ساری دنیا میں اکھاڑ پچھاڑ میں مصروف ہے۔ پچھلی صدی میں ۹۰ء کی دہائی میں روس کے انہدام کے بعد (جو مغربی استحصالی سرمایہ دارانہ نظام کے لیے ایک چیلنج تھا)‘ کوئی قابلِ ذکر طاقت نہ رہی جو اس عفریت کو للکارتی۔ ماوزے تنگ کے بعد چین بھی اس ’زلف‘ کا اسیر ہوگیا‘ اور اب یہ ساری دنیا میں کوس’ ’لمن الملک‘‘ بجا رہا ہے۔

عالم گیریت کے حامی اسے جدیدیت کی ایک ایسی لہر قرار دیتے ہیں‘ جس کے ذریعے یورپ اور امریکہ کی ’خوش حالی‘ ساری دنیا کا مقدر بن جائے گی‘ سب کا معیارِ زندگی بڑھے گا‘ تعلیم و ثقافت عام ہوگی‘ صحت و مسرت سے سبھی فیض یاب ہوں گے۔ گویا دنیا سے پس ماندگی‘ تاریکی اور غربت کا خاتمہ ہوجائے گا۔ مگر یہ ہوگا کس طرح؟ یوں کہ صنعت‘ تجارت (اور سیاست)‘ اور ثقافت کے لیے انسان کی بنائی ہوئی سرحدیں دھندلی پڑ جائیں گی‘ ساری دنیا ایک ایسا قصبہ     بن جائے گی‘ جس کے سارے شہری خوش حالی اور ترقی کے ثمرات سے یکساں مستفید ہوسکیں گے۔ مگر عملاً ہوا کیا؟ ہوا یہ ہے کہ مغربی قوتوں نے‘ جو ساری دنیا کے وسائل کے استحصال‘ سائنس اور فنیات کی ترقی اور سامانِ حرب و ضرب کے نتیجے میں پہلے ہی دنیا کے بیشتر ممالک پر حاوی ہوچکی تھیں۔ یہ مطالبے شروع کیے کہ تجارت‘ صنعت و حرفت اور دولت کی نقل و حرکت پر ساری پابندیاں ختم ہونی چاہییں۔

نتیجتاً پس ماندہ ملکوں میں مزاحمت کمزور پڑتی جا رہی ہے‘ بیشتر حکمران اور پالیسی ساز یا تو خرید لیے گئے ہیں‘ یا انھوں نے یہی مناسب جانا ہے کہ اپنے مفادات کو انھی سے وابستہ کریں۔ کھلی منڈی‘ ملکی تجارت‘ بے روک ٹوک وسائل کی حرکت کے نتیجے میں غریب ملکوں ہی کا نقصان ہو رہا ہے۔ ’کثیرالقومی‘ کمیٹیاں پس ماندہ ملکوں میں ہشت پا کی طرح وسائل کو چُوس رہی ہیں۔ سستی مزدوری اور وسائل سے اپنی مہارت کے نتیجے میں ’قدر افزونی‘ کے ذریعے اپنی دولت میں اضافہ کررہی ہیں۔ ایک کلچر‘ ایک زبان‘ اباحیت‘کرپشن‘ لادینیت کے ذریعے نہ صرف اخلاقی بندشیں ڈھیلی پڑتی جا رہی ہیں‘ بلکہ غربت‘ بے روزگاری اور لاقانونیت میں بھی اضافہ ہوا ہے‘ کیوں کہ عالم گیریت کا ایک اہم اصول ’نج کاری‘ بھی ہے‘ جس کے نتیجے میں حکومتیں اپنی ذمہ داریوں سے سبک دوش ہوکر عوام کی فلاح و بہبود اور خبرگیری کو اپنے استحصالی اداروں کے سپرد کر رہی ہیں‘ جن کا ایمان ’’کثیر ترین نفع کا حصول‘‘ (maximization of profit) ہے۔

اس نئے رجحان پر انگریزی اور دوسری مغربی زبانوں میں بہت سا لٹریچرآچکا ہے اور   آرہا ہے۔ اس کے حق میں بھی اور اس پر تنقید کرتے ہوئے اس کے خلاف بھی۔ اُردو میں گلوبلائزیشن اور اسلام اس موضوع پر ایک نئی کتاب ہے۔ فاضل مصنف نے جو دیوبند کے ایک دینی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں‘ اور دینی علوم کے فاضل ہیں‘ عربی‘ انگریزی اور اُردو کے تمام دستیاب مصادر سے استفادہ کر کے اس نئے رجحان کی تاریخ‘ اس کے عواقب و نتائج پر سیرحاصل بحث کی ہے۔

مصنف کا کہنا ہے کہ ’’جدید گلوبلائزیشن جن نظریات کو دعوت دے رہا ہے‘ اور جن افکار وخیالات کو نافذ کرنا چاہتا ہے‘ وہ انھی جاہلی مفاسد کا عکس ہیں‘ جو ]قبل اسلام[ غضب ِ خداوندی کا باعث بنے تھے۔ جاہلیت کی طرح گلوبلائزیشن نے بھی سُود‘ اباحیت‘ اور جنس پرستی کو درست ٹھیرایا اور عالمی استحکام کے نام پر سیاسی انارکی پھیلائی۔ زمانۂ جاہلیت میں جس طرح مال داروں کے مفادات ہی کو محبوب رکھا جاتا تھا اور غُربا کی زندگی کو تنگ سے تنگ کر دیا جاتا تھا‘ عالم گیریت میں بھی چند گنی چُنی کمپنیوں کے مالکان اور ان کے ذاتی مفادات کی رعایت کی جاتی ہے۔ عالمی اقتدار پر چند طاقتوں ہی کا غلبہ ہے‘ جو سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے ذریعے پوری دنیا کو غلام بنائے ہوئے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا بالکل درست ہے کہ آج کا گلوبلائزیشن زمانۂ جاہلیت کی کھلی تصویر اور اس کا عکاس ہے‘‘۔ (ص ۴۳۲-۴۳۳)

اس کتاب کی ایک بڑی خوبی ہے کہ فاضل مصنف نے اُردو کے قارئین کو اس موضوع پر لکھی جانے والی بہت سی عربی تحریروں سے روشناس کرایا ہے۔ تاہم انگریزی زبان میں موجود اس وسیع ذخیرے سے کماحقہ استفادہ نہیں کیا گیا‘ جو’گھر کے گواہ‘کی حیثیت سے دستیاب ہے‘ اور اس نظام کی تمام ہلاکت سامانیوں کے باوجود اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ بہت عرصہ نہیں گزرے گا کہ یہ طلسم تارِ عنکبوت کی طرح بکھر جائے گا۔ (پروفیسر ڈاکٹر عبدالقدیرسلیم)


حدزنا آرڈی ننس ۱۹۷۹: اعتراضات کی حقیقت‘ مرتبین: ظفرالحسن‘ زیتون حفیظ‘ غزالہ اسلم‘ اکیسراحمد۔ ناشر: ویمن ایڈ ٹرسٹ پاکستان‘ مکان ۳۷‘ گلی ۲‘ سیکٹر جی ٹین تھری‘ اسلام آباد۔ صفحات:۷۴ (ڈائریکٹری سائز)۔ قیمت: ۱۲۰ روپے۔

مظلومیِ نسواں کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ عصرحاضرمیں یہ ظلم مختلف روپ بدل بدل کر عورت کو نشانۂ ستم بنا رہا ہے۔ طرفہ تماشا دیکھیے کہ اس ظلم کی شکار ہستی عورت‘ ستم گر کے دام کو  دانہ سمجھتی نظرآتی ہے۔

قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ’اپوا‘ قسم کی تنظیموں نے مسلم عورت کو گھر کی چاردیواری سے کھینچ کر باہر لانے کا بیڑا اٹھایاتھا۔ وقتاً فوقتاً اس ہدف کی جانب بڑھنے کے مختلف بہانے تراشے گئے اور نئی نئی سبیلیں نکالی گئیں۔ گذشتہ ۲۵ برس سے اسی حلقے نے حدود آرڈی ننس پر تنقید کا بازار گرم کیا ہوا ہے‘ جس میں نام تو عورت کی ہمدردی کا ہے‘ مگر اس مہم کا نشانہ اسلامی تہذیب اور اسلامی قوانین ہیں۔ اس کتاب میں حدود آرڈی ننس ۱۹۷۹ء کے متن کا تعزیرات پاکستان کے سابقہ قوانین سے موازنہ کیا گیا ہے۔ یوں لفظی اور معنوی سطح پر اس پروپیگنڈے کے تاروپود بکھیرنے کی کوشش کی گئی ہے‘ جس کا سلسلہ بڑے تواتر سے جاری ہے۔ پھر حدود آرڈی ننس پر مختلف اعتراضات کا جائزہ لیتے ہوئے دیگر متعلقہ امور کو بھی زیربحث لایا گیا ہے اور آخر میں سفارشات پیش کی گئی ہیں۔

اہلِ علم کی جانب سے ‘ اس جارحانہ الزامی مہم کا ساتھ ہی ساتھ جواب دیا جاتا رہا ہے‘ لیکن زیرنظرکتاب میں اس بحث کو اختصار سے مرتب کیا گیا ہے۔ جتنا بڑا چیلنج درپیش ہے‘ اس میں گنجایش موجود ہے کہ اس موضوع پر مزید گہرائی سے کام کیا جائے۔ حدود آرڈی ننس ہو یا اس کتاب میں پیش کردہ سفارشات‘ سبھی پر بات کی جاسکتی ہے‘ مگر راستہ قرآن وسنت اور     تعامل صحابہؓ کی روشنی میں دیکھا جائے تو عصرِحاضر میں بہترراہیں متعین کی جاسکتی ہیں۔ البتہ اگر معاملات کو مغربی دبائو کے نتیجے میں ’’درست کرنے‘‘ کی کوشش کی گئی تو ان قوانین کی روح اور احکامِ الٰہی کا منشا دونوں متاثر ہوں گے۔

پیش لفظ میں ڈاکٹر محموداحمد غازی نے لکھا ہے: ’’یہ جائزہ ملک کے تمام اہلِ علم‘ خاص طور پر قانون دانوں اور قانون ساز حضرات تک پہنچنا چاہیے‘‘ (ص ۷)۔ بلاشبہہ اپنی موجودہ شکل میں یہ ایک موثر اور قابلِ لحاظ پیش کش ہے۔(سلیم منصورخالد)


محکماتِ عالمِ قرآنی‘ ڈاکٹر محموداحمد غازی۔ ناشر: دعوہ اکیڈمی‘ بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی‘ پوسٹ بکس ۱۴۸۵‘ اسلام آباد۔ صفحات: ۱۳۵۔ قیمت: ۳۰ روپے۔

جاویدنامہ (۱۹۳۲ئ) علامہ اقبال کی شاعرانہ فکر کا شاہکارہے۔ وہ اسے اپنی زندگی کا ماحصل (ان کے اپنے بقول: life work) بنانے کے لیے کوشاں رہے۔ اپنے اس مجموعۂ شعر کووہ ’’ڈوائن کامیڈی کی طرح ایک اسلامی کامیڈی‘‘ سمجھتے تھے‘ جس میں انھوں نے اپنے مرشد مولانا جلال الدین رومی کی معیت و رہنمائی میں مختلف افلاک اور سیاروں کا تصوراتی اور روحانی سفر کیا ہے۔ متعدد اکابر وشخصیات کی ارواح سے ملاقات و گفتگو کی اور اس حوالے سے ’’بہت سے روحانی تجربات‘ دینی حقائق‘ علمی افکار اورشاعرانہ خیالات‘‘ کا اظہار کیا۔ فلک عطارد کے دورے میں جمال الدین افغانی اور سعید حلیم پاشا کے ساتھ مکالمے میں علامہ نے ’’عالمِ قرآنی‘‘ کے عنوان کے تحت چار محکمات کا ذکر کیا ہے۔ زیرنظر کتاب میں اس حوالے سے عالمِ قرآنی کی تشکیلِ نو اور جہانِ قرآنی کی ازسرِنودریافت کو موضوعِ گفتگو بنایا گیا ہے۔ کتاب کا ضمنی عنوان ہے: ’’علامہ اقبال کی نظرمیں قرآنی دنیا کی امتیازی خصوصیات اور اس کی بنیادیں (جاوید نامہ کی روشنی میں)‘‘۔

جاوید نامہ کے مجموعی تنقیدی اور تجزیاتی مطالعے پر مبنی کئی ایک کتابیں اور تحقیقی مقالے ملتے ہیں۔ زیربحث تصنیف‘ اس کے صرف ایک مبحث (محکماتِ عالمِ قرآنی) سے متعلق ہے۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب نے عالمِ قرآنی کی ان چار محکمات (خلافتِ آدم‘حکومت ِ الٰہی‘ زمین خدا کی ملکیت ہے‘ حکمت خیرکثیر ہے) پر اقبال کی شعری و فکری توضیحات کے حوالے سے کلام کیا ہے۔ ابتدا میں جاوید نامہ کامختصر تعارف ہے‘ بعدازاں چار ابواب میں چاروں محکمات پر بحث کی گئی ہے۔ آخر میں یہ وضاحت کہ عالمِ قرآنی وجود میں آسکتا ہے‘ بشرطیکہ افرادِ اُمت اہلِ فرنگ کی تقلید سے اجتناب کریں اور اپنی مملکتوں میں سرمایہ داری‘ جاگیرداری اور ملوکیت کے بجاے قرآنی نظام رائج کریں۔ جب وہ اپنے اسلوبِ حیات کو توازن‘ اعتدال اور فقرپر استوار کریں گے تو خودی اور اپنے حقیقی تشخص کو پالیںگے‘ اور یہ اُمت کی سربلندی کا راستہ ہوگا۔

جنابِ مولف کی یہ کاوش جاوید نامہ کے متعلقہ حصے کی ایک عمدہ تشریح ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ علامہ اقبال محض ایک شاعرہی نہ تھے‘ قانون و سیاست اور معاشیات پر بھی گہری نظر رکھتے تھے اور بجاطور پر انھیں شدید احساس تھا کہ دولت کی منصفانہ تقسیم کے بغیر‘  روے زمین پر عدل وانصاف کا قیام ممکن نہیں۔ کتاب کا معیار طباعت و اشاعت اطمینان بخش ہے مگر آغاز میں فہرست کی کمی کھٹکتی ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)


خیالوں کی مہک‘ عتیق الرحمن صدیقی۔ ناشر: نورِاسلام اکیڈمی‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۲۲۴۔ قیمت: ۹۶ روپے۔

معلم اگر باعمل بھی ہو تو اس کی ہر بات روح کی گہرائیوں تک اترتی چلی جاتی ہے۔ جناب عتیق الرحمن صدیقی ہمارے اہلِ قلم حضرات کے اُسی قافلے سے تعلق رکھتے ہیں جو گل و بلبل کے قصوں کو خیرباد کہہ کر اپنے زورِ قلم سے اور نورِ علم سے مسلمان معاشرے کی اصلاح میں تندہی سے مصروف ہے۔

زیرِنظر کتاب مختلف موضوعات پر لکھے گئے ایسے مضامین کا مجموعہ ہے جن میں مصنف نے معاشرتی اصلاح کے مقصد اور تعلیم و تلقین کے جذبے کے ہمراہ‘ دین مبین کی ترویج و تبلیغ میں جولانیِ قلم کا خوب خوب مظاہرہ کیا ہے۔ اُن کے یہ مضامین ایک سچے مسلمان اور ایک سچے پاکستانی کے جذبۂ حب الوطنی کے بھی آئینہ دار ہیں۔ حرفِ اول میں لکھتے ہیں: ’’میرے پیشِ نظر مقصد یہ ہے کہ اسلام کے سیاسی‘ معاشرتی‘ تعلیمی اور اخلاقی نقوش کو ابھارا اور اُجاگر کیا جائے تاکہ پاکستان میں فکروعمل کے اعتبار سے ایک صالح اور صحت مند معاشرہ وجود میں آئے‘‘۔

اُن کی یہ کتاب اول تا آخر اُن کے اسی عزم کی ترجمان نظرآتی ہے۔ وہ ارضِ پاکستان میں دین کے بنیادی علوم کے ہمراہ جدید سائنسی اور دیگر معاون علوم کی درس و تدریس سے ایک ایسا ریاستی نظام تشکیل دینے کے متمنی دکھائی دیتے ہیں جو تقویٰ و جہاد‘ عشق رسالتؐ اور عدل و مساوات کی عملداری کے ہم سفر جدید سائنسی ترقی کا بھی مظہر ہو۔

یہ مضامین اپنے متنوع موضوعات کے اعتبار سے ایک خوب صورت گلدستے کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔ اگرچہ ان کے بعض سیاسی زاویہ ہاے نظر سے ہٹ کر سوچا جا سکتا ہے لیکن ان کے خلوص سے کسی صورت انکار نہیں کیا جا سکتا۔ (سعید اکرم)


حکایتیں کیا کیا‘ رضی الدین سید۔ نیشنل اکیڈمی آف اسلامک ریسرچ‘ کلفٹن‘ کراچی۔ صفحات: ۱۹۰۔ قیمت: ۱۲۰ روپے۔

ایک زمانہ تھا کہ اخبارات میں کالم صرف فکاہی نوعیت کے شائع ہوتے تھے۔ لیکن اب تو ہر طرح‘ ہر نوعیت اور ہر معیار و انداز کے کالم لکھے جا رہے ہیں‘ بلکہ کالم نگاری ایک الگ صنف بن گئی ہے اور کالم نگار اتنی سیاسی اہمیت اختیارکرگئے ہیں کہ بڑے بڑے سیاست دان‘ کالم نگاروں سے مناسب رابطہ رکھنے میں اپنی عافیت سمجھتے ہیں--- رضی الدین سید کسی بڑے اخبار کے اس نوعیت کے معروف کالم نگار نہیں۔ ان کے کالم ان کے زخمی اور حساس دل کی پکار ہوتے ہیں اور گاہے بہ گاہے ملک کے مختلف اخبارات اور رسائل میں شائع ہوتے ہیں۔ اپنے ۴۱کالموں کو انھوں نے اس کتاب میں پیش کر دیا ہے۔

کالموں کے موضوعات میں بڑی وسعت اور تنوع ہے۔ خود ہی انھوں نے سیاسی‘ سماجی‘ مذہبی‘ فکری اور متفرق عنوانات میں ان کو تقسیم کیا ہے اور ان میں موجودہ پاکستانی معاشرے کے سب ہی پہلو زیربحث آگئے ہیں۔ معاشرہ آج جن تکلیف دہ مسائل کا شکار ہے‘ تجزیہ کیا جائے تو ان کا ایک سبب توعوام کی اپنی مسلمہ اقدار سے دُوری ہے۔ دوسرے‘ ملک کا اقتدار ایسے عناصر کے ہاتھوں میں ہے جو مسائل کے حل کے بارے میں لاپروا ہیں اور مغرب کی نقالی ہی کو معراج سمجھتے ہیں۔ بعض عنوانات سے کالم کی نوعیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے‘ مثلاً :علامہ اقبال بھی آج القاعدہ کے رکن شمار کیے جاتے--- اگر جاپان کے پڑوس میں ہندستان ہوتا--- اگر حج کی ادایگی پاکستان میں ہوتی--- وغیرہ۔

کتاب دل چسپ ہے اور ایمانی جذبے کی آبیاری کرتی ہے۔ رضی الدین سید انگریزی اور اُردو دونوں میں لکھتے ہیں‘ کئی کتابوں کے ترجمے کیے ہیں۔ ان کی اصل دل چسپی صہیونیت کے بارے میں احادیث نبویؐ کی پیش گوئیوں پر تحقیقات سے ہے۔ (مسلم سجاد)


آئینۂ کردار‘ ڈاکٹر زاہدمنیرعامر۔ ناشر: شیخ زاید اسلامک سنٹر‘ پنجاب یونی ورسٹی‘ لاہور۔ صفحات: ۱۱۲۔ قیمت: ۸۰ روپے۔

کردار اور بنی آدم ساتھ ساتھ چلے آ رہے ہیں۔ انسان تخلیق کیا گیا تو اس کا کردار بھی متعین کر دیا گیا کہ انسان کی اچھائی یا برائی کا انحصار اس کے کردار پر ہوگا۔

آئینۂ کردار میں تاریخی حوالوں کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ مختلف معاشروں میں اخلاق کی اہمیت مسلّم رہی ہے۔ جو قومیں اخلاق کے ضابطوں کو توڑتی ہیں وہ ذلیل و رسوا ہوجاتی ہیں۔ مصنف نے تاریخ کے مختلف ادوار میں اخلاق کے مختلف پیمانوں اور اتار چڑھائو کی وضاحت کی ہے اور موقع محل کی مناسبت سے حوالے اور اقوال بھی درج کیے ہیں۔استقامت‘ صبر‘ پاکیزگی‘ مطابقت‘ تشکر‘ سفارش اور کامیابی اور اسی طرح کے متعدد موضوعات پر اظہارخیال کیا گیا ہے۔

مولف کا دھیما اسلوب ایسا ہے جیسے کوئی سرگوشیاں کر رہا ہے۔ بات دل میں اترتی چلی جاتی ہے۔ الفاظ شناسی اور شگفتگی ان کے اسلوب کا خاصہ ہیں۔ عربی و فارسی اشعار کا حوالہ ان کے وسیع مطالعے کا ثبوت ہے۔ قارئین‘ کتاب کو دل چسپ پائیں گے۔ (قاسم محمود وینس)


تعارف کتب

  • احکامِ الٰہی‘ (کرنل) محمد ایوب خاں۔ ادارہ اشاعت القرآن‘ ۲۹۴‘ ایکس ٹینشن‘ کیولری گرائونڈ‘ لاہور کینٹ۔ صفحات: ۱۱۸۔ قیمت: ۵۰ روپے۔] ۱۸عنوانات: ایمان‘ توحید‘ عبادتِ خدا‘ ذکروصلوٰۃ‘ حج‘ کعبہ‘ روزے‘ سود‘ وصیت و وراثت‘ احکامِ سیاسی‘ ہجرت و جہاد‘ سزائیں وغیرہ کے تحت آیاتِ قرآنی کے تراجم یکجا۔ تاکہ ’’ایک نظر میں معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کن کاموں کو کرنے اور کن کاموں سے رُک جانے کا مطالبہ کرتا ہے‘‘۔[
  • جہت ساز تخلیقی شخصیت‘ ابوالامتیاز ع س مسلم‘ ڈاکٹر طاہر تونسوی۔ ناشر: القمرانٹرپرائزز‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات:۱۴۲۔قیمت: ۱۵۰ روپے۔] ع س مسلم کی شخصیت اور فن کے مختلف پہلوئوں: نعت گوئی‘ انشائیہ نویسی‘ نظم نگاری‘ ادبی نظریات‘ نیز شخصی اوصاف و میلانات وغیرہ کا تذکرہ اور تجزیہ۔ اعترافِ ہنر کی قابلِ قدر کاوش۔[
  • تاریخِ اندلس‘ سید ریاست علی ندوی۔ناشر: مکی دارالکتب‘ چوک اے جی آفس‘ لاہور۔ صفحات: ۴۰۰۔ قیمت: ۲۰۰ روپے۔]اُردو زبان میں اندلس کی یہ طبع زاد تاریخ پہلی بار ۱۹۵۰ء دارالمصنفین اعظم گڑھ سے چھپی تھی‘ یہ اس کی مکرّر اشاعت ہے۔[
  • Iqbal and His Contemporary Literary Movements ]اقبال اور ان کی معاصر ادبی تحریکیں[ : ظفراقبال رائو۔ناشر: اقبال اکادمی‘ ایوانِ اقبال‘ ایجرٹن روڈ‘ لاہور‘ ۲۰۰۳ئ۔] یورپ کی مختلف تحریکوں: سوشلزم‘ میگنیزم‘ فاشزم‘ سمبولزم‘ رومانٹے سیزم‘ مارکسزم وغیرہ کا ذکر اور ان کے باب میں اقبال کا رویہ۔ یہ کتاب‘ ایم فل اقبالیات کا ایک مقالہ ہے۔[

ڈاکٹر بشریٰ تسنیم ‘ملتان

جنوری ۲۰۰۴ء کا ترجمان القرآن سرورق سے لے کر مضامین تک‘ ایک خوش گوار تازگی و تبدیلی لیے ہوئے محسوس ہوا۔ خصوصاً فہم قرآن کے تحت ’’منتخب تفاسیر سے ایک مطالعہ‘‘ نے بہت متاثر کیا۔ ایک ہی نشست میں مختلف النوع تفاسیر‘ ایک ہی آیت کے حوالے سے مفید‘ موثر اور طلبِ علم کے پیاسوں کے لیے تسکین کا باعث ہے۔ کیا یہ سلسلہ مستقل جاری رہ سکتا ہے؟ ’’تربیت: چند بنیادی باتیں‘‘ ، خرم مرادؒ کی باتیں ’’جوبات دل سے نکلتی ہے اثر رکھتی ہے‘‘کا زندہ ثبوت ہیں۔


نواز موھل‘ لودھراں

مولانا مودودیؒ کی تحریر ’’خسارے کی تجارت‘‘ (جنوری ۲۰۰۴ئ) پڑھی۔ ۶۰ سال پہلے کی تحریر کا آج بھی ہمارے حالات پراسی طرح انطباق ہوتا ہے۔ آج بھی وطن عزیز کے ڈاکٹر‘انجینیراور ماہرین مالیات بیرون ملک اغیار کے لیے خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور ہم ہیں کہ ان کی طرف سے زرمبادلہ کی ترسیل پر خوش ہیں۔ مولانا علیہ الرحمہ کی یہ رائے بالکل صد فی صد درست اور صائب تھی کہ ہم ایسا کرنے سے اپنے تعلیم یافتہ افراد کو ضائع کر رہے ہیں۔ واقعی مولانا علیہ الرحمہ اس صدی کے عظیم انسانوں میں سے ایک تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی قبرپر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔


غلام عباس طاہر لیل ‘ جھنگ

’’تربیت: چند بنیادی باتیں‘‘ (جنوری ۲۰۰۴ئ) بہت اچھا مضمون ہے۔ ترجمان القرآن اپنی تحریروں کے حوالے سے پہلے سے زیادہ معیاری بن گیا ہے۔ ’’رسائل و مسائل‘‘ مفید سلسلہ ہے۔ اس کی کمی محسوس ہوئی۔ ’اشاعت ِ خاص‘یقینی طور پر ایک تاریخی دستاویز ہے۔


افتخارالدین منصور‘ لاہور

نکٹائی کے بارے میں ڈاکٹرانیس احمد (’’رسائل و مسائل‘‘، دسمبر ۲۰۰۳ئ) کے ارشادات  محل نظر ہیں۔ ان کے خیال میں ایک عمل اگر عموم کے درجے میں آجائے تو قباحت رفع ہوجاتی ہے۔ جہاں تک نکٹائی کا معاملہ ہے‘ اس کا رواج عیسائیوں میں ہے۔ وہ کسی نہ کسی طریق پر گلے میں اسے استعمال کرتے ہیں۔ اس کے بارے میں ان کا اصرار یہاں تک ہے کہ سابق صدرِامریکہ نے وہائٹ ہائوس کے ملازمین سے نکٹائی باندھ کر دفترآنے کی باقاعدہ فرمایش کی اور فرمایا کہ یہ امر ’’ہمارے لیے باعث ِ فخرہے‘‘۔ جہاں تک اس کے عموم کا تعلق ہے وہ عموم اتباع کا ہے آزاد مرضی کا نہیں۔ چونکہ نصرانی ہم پر صدیوں تک حکمران رہے‘ علم وعمل‘ قوت و زور اور وسائل دنیاوی میں وہ ہم سے آگے ہیں اور ہم تابعِ محض‘نتیجہ یہ کہ ان کا ہر خوب و ناخوب‘ خوب ہی ہے اور ہمارے لیے عموم!

نکٹائی باندھ لینے میں کوئی اخلاقی برائی نہیں ہے لیکن ہمارے ہاں جذبہ یہ ہے کہ ہم وہ نظرآئیں جو وہ ہیں۔ یہ ذہن کی مرعوبیت کی دلیل ہے۔ بنیادی جذبہ درست ہونا چاہیے۔ جب ہم اپنے قدموں پر چلنے کے قابل ہوجائیں گے تو دنیا کے تمام’’خوب‘‘ہم اپنی کھوئی ہوئی میراث ہی سمجھیں گے۔ جہاں تک مسائل کا معاملہ ہے‘ نکٹائی اتنا بڑا مسئلہ نہیں کہ روزی کو ٹھکرایا جائے۔ اگر بہتر ملازمت مل سکتی ہو تو کراہت کو اپنے اوپر لازم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ دوسری صورت میں بدمزگی پیدا کرنے کے بجاے’برداشت‘کیا جانا چاہیے۔


عبدالرشید بھٹی ‘ کراچی

’اشاعت ِ خاص‘ علم و ادب کا بہترین مرقع ہے جس کے لکھنے والے اور مرتبین سب لائقِ تحسین ہیں۔ یوں تو ہرمضمون کا ہر جملہ سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہے لیکن مجھے سب سے زیادہ محترمہ بشریٰ تسنیم اور خلیل الرحمن چشتی صاحب کی تحریر پسند آئی۔ خصوصاً وہ دعا جو ڈاکٹر صاحبہ کو اُن کے والدین نے سکھائی تھی وہ ہم سب کے لیے مشعلِ راہ ہے۔


حامد عبدالرحمٰن الکاف ‘ یمن

’مولانا مودودی نمبر‘جامع و مانع اور ظاہری وباطنی خوبیوں کی بنا پر اپنی مثال آپ--- ایک       قابلِ ستایش کاوش!  ’اشاعت ِخاص‘میں خاص مضمون محمدمامون الہضیبی کے قلم سے ہے جن کو مجاہد ابن مجاہد اور مرشدعام الاخوان المسلمون ابن مرشد عام الاخوان المسلمون ہونے کا شرف حاصل ہے۔ یہ سونے پہ سہاگا ہے۔ ایک ایسے نادر روزگار شخص کے قلم سے الامام الشہیدحسن البنا اور الامام العبقری سیدابوالاعلیٰ مودودی کی سیرتوں کا تقابلی مطالعہ‘ مماثل پہلوئوں کو گنانے کی نیت سے کیا جائے تو ایسا دکھائی دیتا ہے کہ وہ مودودی کو اتنا ہی جانتے ہیں جتنا کہ وہ حسن البنا سے واقف ہیں۔ یہ ان کی علمی وسعت اور فکر کی گہرائی کی دلیل ہے۔

میرے نزدیک دوسرا خاص مضمون محمداسماعیل قریشی ایڈووکیٹ کا ’’یاد ہے مجھ کو ترا حرفِ بلند‘‘ ہے جس میں نہ صرف پاکستانی قانون دانوں کی طرف سے بلکہ عالمِ اسلامی کے قانون دانوں کی جانب سے مودودیؒ کی دستوری اور قانونی عبقریت کا اعتراف ان کو ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس کی تنظیم کا سرپرست اعلیٰ منتخب کرکے کیا گیا۔

اسلامی دستور کا معرکہ اور محاذ مودودیؒ کی عبقری فکر کا مرہونِ منت تھا۔ انھوں نے اس محاذ پر معرکے کا آغاز کیا اور پھر اس کے ہر مورچے پر یہاں تک ڈٹ کر مقابلہ کیا کہ باطل کو ہمیشہ پسپا ہی ہونا پڑا۔ اسی معرکے کا ایک رخ پاکستان کی مختلف عدالتوں میں نہایت درجے نازک دستوری اور قانونی مسائل پر بحثیں بھی ہیں جن میں کامیابی کا کریڈٹ خود صف ِ اوّل کے وکلا نے مودودیؒ کو دیا ہے۔ یہ اچھوتا معرکہ تھا جو اپنے جلو میں اچھوتے مسائل لایا اور جس کو ایک بے مثال دستوری اور قانونی دماغ نے حل کیا۔ ابھی ضرورت باقی ہے کہ خود قانون دان حضرات دستوری اور قانونی میدان میں مودودیؒ کی عبقریت پر لکھیں اور مختلف پہلوئوں کو اجاگر کریں۔

خلیل الرحمن چشتی کا مضمون: ’’تحریک احیاے دین کا قافلہ سالار‘‘ بھی خوب ہے۔ ان کی یہ تجویز بھی قابلِ غور ہے کہ قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں کی شرح لکھی جائے۔ ڈاکٹرجاوید اقبال نے ’’اجماع‘‘ کی بات بھی خوب کہی۔ یہ کن کا اجماع ہے؟ بشر کا اجماع خدا کے خلاف‘ حق کو حق ہونے کی صفت سے محروم نہیں کر سکتا۔

اشتراکیت کا مقابلہ

اشتراکیت بری طرح نوجوانوں میں نشوونما پانے لگی ہے۔ اس سلسلے میں رہ نمائی کی بڑی ضرورت ہے۔ اگر آپ اس کے مقابلے کی طرف توجہ کریں‘ اور اس کی تردید کے لیے قلم اٹھائیں‘ تو غالباً وقت کا ایک اہم تقاضا پوا ہو جائے گا۔

اشتراکیت کے مقابلے کی طرف مجھے توجہ ہے۔ سات آٹھ برس‘ اس کے مطالعے میں صرف کرچکا ہوں اور اس کے ساتھ اسلام کے معاشی نظام کو بھی سمجھنے کی کوشش کی ہے‘ لیکن جس وجہ سے اب تک اس چیز پر براہِ راست حملہ نہیں کیا ہے‘ وہ یہ ہے کہ اشتراکیت کا مقابلہ محض ایک آدھ کتاب یا چند مضامین سے نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک تحریک ہے جو ۸۰‘ ۹۰ سال کے اندر بڑے سازوسامان اور بڑی زبردست علمی تیاریوں کے ساتھ پرورش پاکر دنیا پر چھا گئی ہے۔ اس کا ایک پورا نظامِ فلسفہ ہے جس پر اخلاق‘ تمدن‘ معیشت‘ معاشرت‘ ادب‘ تعلیم‘ علومِ طبیعی‘ غرض تمام شعبہ ہاے زندگی کے متعلق ایک ہمہ گیر ’’دین‘‘ کی عمارت قائم کی گئی ہے‘ اور پھر وہ کاغذ ہی پر نہیں بنی ہے بلکہ ہزاروں لاکھوں ذہین‘ ذی علم‘ جفاکش اور ایثار پیشہ لوگوں نے‘ سالہا سال کی محنتوں سے اس دین کو ایک تحریک کی شکل میں‘ دنیا کے گوشے گوشے میں پھیلایا ہے اور ایک وسیع خطۂ زمین میں اس کی بنیاد پر ایک نہایت طاقتور حکومت عملاً چلاکر دکھائی ہے۔ ایسی تحریک کا مقابلہ صرف ایک تحریک ہی کرسکتی ہے جس کی پشت پر ایک ایسی جماعت ہو جو علمی ہتھیاروں سے بھی مسلح ہو‘ کیرکٹرکی طاقت بھی رکھتی ہو‘ عمل اور قربانی کے میدان میں بھی ٹکرلے سکتی ہو‘ اور پھر وہ اتنی تیار ہو کہ جس دین کو وہ دین مارکس کے مقابلے میں لے کر اٹھے اس کی ترجمانی زندگی کے ہر شعبے میں مارکسیوں سے زیادہ کامیاب علمی و عملی طریقوں سے کر سکے۔ اسی لیے میں نے اشتراکیت کے خلاف محض دل کی تسلی کے لیے کوئی کتاب یا مضمون لکھنے کے بجاے وہ پروگرام اختیار کیا ہے جسے آپ جماعت ِاسلامی کی تحریک کی صورت میں‘ اس وقت عہدِطفولیت سے گزرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔میں پوری قوت کے ساتھ نہ صرف دینِ مارکس بلکہ ہر دینِ باطل کے مقابلے میں اُترنا چاہتا ہوں اور اسی کی تیاری کر رہا ہوں۔ اللہ مدد فرمائے۔ (’’رسائل و مسائل‘‘، ابوالاعلیٰ مودودی‘ ترجمان القرآن‘ جلد ۲۴‘ عدد ۱-۲‘ محرم و صفر ۱۳۶۳ھ‘ جنوری و فروری ۱۹۴۴ئ‘ ص ۸۸)