مضامین کی فہرست


نومبر ۲۰۰۴

سائنسی دَور میں اسلامی جہاد کی کیفیت

سوال : مسلمانوں کے جذبۂ ’’جہاد‘‘ کو زندہ رکھنے کے لیے آج بیسویں صدی میں کیا طریق کار اختیارکیا جائے گا‘ جب کہ آج کی جنگ شمشیر و سناں سے یا میدانِ جنگ میں صف آرا ہوکر دست بدست نبردآزمائی سے نہیں ہوتی بلکہ سائنسی ہتھیاروں‘ جنگی چالوں(strategy) اور جاسوسی (secret service) سے لڑی جاتی ہے؟ آپ ایٹم بم‘ راکٹ میزائل اور مشینی ایجادات وغیرہ کا سہارا لے کر اس سائنسی و ایٹمی  دور میں ’’جہاد‘‘ کی تشریح کس طرح کریں گے؟ کیا چاند‘ مریخ و مشتری پر اترنے  اور سٹلائٹ چھوڑنے یا فضا میں راکٹ سے پرواز کرنے اور نت نئی ایجادات  کرنے والے مجاہدین کے زمرے میں آسکتے ہیں؟… انتظامی امور اور مملکتی نظام (civil administration) میں فوج کو کیا مقام دیا جا سکتا ہے؟ موجودہ دور کے فوجی انقلابات سے ملکی نظام میں فوج کی شمولیت اور افادیت بہت حد تک ثابت ہوچکی ہے۔ کیوں نہ فوج کو دورِ امن میں بٹھا کر کھلانے کے بجاے ہر میدان میں قوم کی خدمت سپرد ہو؟

جواب: جہاد کے متعلق اولین بات یہ سمجھ لینی چاہیے کہ جہاد اور لڑاکاپن میں بہت فرق ہے۔ اسی طرح قومی اغراض کے لیے جہاد اور چیز ہے‘ اور جہاد فی سبیل اللہ اور چیز۔ مسلمانوں میں جس جذبۂ جہاد کے پیدا کرنے کی ضرورت ہے وہ اس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتا جب تک ان کے اندر ایمان ترقی کرتے کرتے اس حد تک نہ پہنچ جائے کہ وہ خدا کی زمین سے برائیوں کو مٹانے اور اس زمین میں خدا کا حکم بلند کرنے کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہوجائیں۔ سردست تو ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ سب کچھ اس جذبے کی جڑ کاٹ دینے کے لیے کیا جارہا ہے۔ تعلیم وہ دی جارہی ہے جو ایمان کے بجاے شک اور انکار پیدا کرے۔ تربیت وہ دی جارہی ہے جس سے افراد اور سوسائٹی میں وہ برائیاں پھیلیں جنھیں ہر مسلمان جانتا ہے کہ اسلام کے نزدیک وہ برائیاں ہیں۔ اس کے بعد یہ سوال لاحاصل ہے کہ مسلمانوں میں جذبۂ جہاد کیسے پیدا ہوگا۔ موجودہ حالت میں یا تو مسلمان کرائے کا سپاہی (mercenary) بنے گا‘ یا حد سے حد قومی اغراض کے لیے لڑے گا۔ رہے سائنسی ہتھیار اور جنگی چالیں (strategy) تو یہ وہ اسباب ہیں جو جائز اغراض اور ناجائز اغراض سب کے لیے استعمال ہوسکتے ہیں۔ اگرمسلمان میں سچا ایمان موجود ہو اور اسلام کا نصب العین اس کا اپنا نصب العین بن جائے تو وہ پورے جذبے کے ساتھ تمام وہ قابلیتیں اپنے اندر پیدا کرے گا جو اس زمانے میں لڑنے کے لیے درکار ہیں‘ اور تمام وہ ذرائع اور وسائل فراہم کرے گا جو آج یا آیندہ جنگ کے لیے درکار ہوں۔

چاند اور مریخ اور مشتری پر اترنا اپنی نوعیت کے لحاظ سے کولمبس کے امریکا پر اترنے اور واسکوڈے گاما کے جزائر شرق الہند پر اترنے سے زیادہ مختلف نہیں۔ اگر یہ لوگ مجاہد فی سبیل اللہ مانے جاسکتے ہیں تو چاند اور مریخ پر اترنے والے بھی مجاہدین بن جائیں گے۔

انتظامی امور اور مملکتی نظام (civil administration) میں فوج کا داخل ہونا‘ فوج کے لیے بھی اور ملک کے لیے بھی سخت تباہ کن ہے۔ فوج بیرونی دشمنوں سے ملک کی حفاظت کرنے کے لیے منظم کی جاتی ہے۔ ملک پر حکومت کرنے کے لیے منظم نہیں کی جاتی۔ اس کو تربیت دشمنوں سے لڑنے کی دی جاتی ہے۔ اس تربیت سے پیدا ہونے والے اوصاف خود اپنے ملک کے باشندوں سے معاملہ کرنے کے لیے موزوں نہیں ہوتے۔ علاوہ بریں ملکی معاملات کو جو لوگ بھی چلائیں خواہ وہ سیاست کار (politicians) ہوں یا ملکی نظم و نسق کے منتظم(civil administration)‘ ان کے کام کی نوعیت ہی ایسی ہوتی ہے کہ ملک میں بہت سے لوگ اس سے خوش بھی ہوتے ہیں اور ناراض بھی۔ فوج کا اس میدان میں اترنا لامحالہ فوج کو غیر ہردلعزیز (unpopular)بنانے کا موجب ہوتا ہے۔ حالانکہ فوج کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ سارے ملک کے باشندے   اس کی پشت پر ہوں اور جنگ کے موقع پر ملک کا ہر فرد اس کی مدد کرنے کے لیے تیار ہو۔ دنیا میں زمانۂ حال کے فوجی انقلابات نے ملکی نظام میں فوج کی شمولیت کو مفید ثابت نہیں کیا ہے‘ بلکہ درحقیقت تجربے نے اس کے برے نتائج ظاہر کر دیے ہیں۔ (مولانا مودودیؒ، رسائل و مسائل ‘ ج ۴‘ ص ۲۵۳-۲۵۶)


کتب کے غیرقانونی ایڈیشن کی اشاعت

س:  ایک معروف عالمی اشاعتی ادارے کی کتب کی قیمتیں بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ ان کی نصابی و دیگر کتب کی مانگ بھی بہت ہے۔ چنانچہ کچھ ناشر مقامی طور پر شائع شدہ ۲نمبر ایڈیشن مارکیٹ میں لاتے ہیں جو مقابلتاً سستا ہوتا ہے جس سے عام آدمی کو فائدہ بھی پہنچتا ہے۔ کیا ایک دکان دار کے لیے ایسی کتب فروخت کرنا جائز ہے؟

ج: جو قوانین شریعت کے خلاف نہ ہوں ان کی پابندی کرنا بھی ضروری ہے۔ قانون کی پابندی معاہدے کی پابندی ہے۔ اس لیے کہ ایک مہذب معاشرے میں حکومت اور عوام کے ہر فرد نے درحقیقت حکومت اور حکومت کا فرد ہونے کی حیثیت سے اس بات کا عہد کیا ہوتا ہے کہ وہ قانون کی پابندی کرے گا۔ کتب کی طباعت و اشاعت کا بھی ایک قانون ہے اور حکومت اور حکومت کے شہری اس قانون پر عمل اور اس کی پاسداری کے پابند ہیں۔ بین الاقوامی قوانین جو قرآن وسنت سے متصادم نہ ہوں‘ان کی پابندی بھی ضروری ہے۔

اس لیے کسی ادارے کی نصابی و غیر نصابی کتب کا بلااجازت طبع کرنا اور فروخت کرنا خلافِ قانون ہونے کی وجہ سے اخلاق اور شریعت کی ہدایات کی خلاف ورزی ہے۔ جو لوگ ۲نمبرکتب شائع کر کے کمائی کرتے ہیں وہ غیرقانونی کام کے ساتھ غیر اخلاقی کام بھی کرتے ہیں۔ کسی بھی اشاعتی ادارے کی کتب کی اشاعت اسی وقت کی جاسکتی ہے‘ جب کہ قانون اس کی اجازت دیتا ہو۔ خلافِ قانون کام کرنے والے ظاہر ہے کہ خفیہ طور پرایسا کرتے ہیں اور وہ خود بھی جانتے ہیں کہ اگر ان کے بارے میں علم ہوگیا تو ان کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گناہ کی نشانی یہ بھی بیان کی ہے کہ گناہ وہ ہے جس سے تیرے دل میں خلش پیدا ہو اور تو اسے لوگوں کے سامنے کرنے کو ناپسند کرے۔ اسی لیے اس ادارے کی کتب شائع کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ باقاعدہ بات چیت کر کے معاملہ طے کریں اور اس کے بعد اس کی اشاعت کریں۔ (مولانا عبدالمالک)


قسطوں پر گاڑی خریدنا

س: آج کل بنک لیز پر (قسطوں میں) گاڑیاں دیتے ہیں۔ ماہانہ ۶ ہزار روپے قسط ادا کرنا ہوتی ہے‘ اور تین سال کی مدت میں پوری ادایگی کرنا ہوتی ہے۔ بنک اس مد میں‘ مروجہ قیمت سے ۵۰ ہزار روپے زاید رقم وصول کرتا ہے۔ اس میں سہولت یہ ہے کہ یک مشت رقم کی ادایگی نہیں کرنا پڑتی‘ نیز دیگر کاروباروں میں بھی نقد اور ادھار قیمت کا فرق رائج ہے۔ کیا بنک کی اس نوعیت کی اسکیم جائز ہے؟

ج:  قسطوں پر گاڑیوں کی قیمت طے شدہ ہو اور اگر کسی مجبوری کی وجہ سے قسطیں بروقت ادا نہ کی جاسکیں تو قیمت میں مزید اضافہ نہ ہو‘ تو ایسی صورت میں گاڑیوں کی خرید وفروخت غیرسودی ہوگی اور غیرسودی ہونے کی وجہ سے ان کی خریداری جائز ہوگی۔ البتہ ایسی شکل میں بہت زیادہ منافع لینا اور بہت زیادہ مہنگی کرکے فروخت کرنا اخلاق حسنہ کے خلاف ہوگا۔ اس صورت میں گاڑی مہنگی فروخت کرنا غیرسودی تو ہے لیکن اتنی زیادہ مہنگی فروخت کرنا کہ سودی منافع کا بدل مہنگا کرکے حاصل کر لیا جائے‘ اگرچہ حرام تو نہیں ہوگا لیکن اس کی حوصلہ افزائی بھی نہیں کی جائے گی۔ اس لیے کمپنیوں کو مالیت پر چیزیں بہت زیادہ مہنگی کرکے فروخت نہیں کرنی چاہییں‘ نیز اگر بروقت قسطیں ادا نہ کرنے کی وجہ سے قیمت بڑھا دی جائے یا جرمانے کے نام سے رقم لی جائے تو یہ بھی ناروا ہوگا اور سود شمار ہوگا۔ (ع - م)

معینُ القاری شرح صحیح البخاری، مولانا معین الدین خٹکؒ، ترتیب و تخریج: مولانا محمد عارف۔ ناشر: شعبۂ نشرواشاعت‘ جامعہ عربیہ گوجرانوالہ۔ ضخامت: جلداول: ص۳۷۷‘ دوم: ص۴۵۴۔ قیمت فی جلد: ۱۵۰ روپے۔

صحیح بخاری جس طرح کتبِ حدیث میں اَصحّ الکتب بعد کتاب اللّٰہ شمار ہوتی ہے‘ اسی طرح یہ بجاطور پر اَدق الکتب بعد کتاب اللہ بھی ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری کی بے شمار شروح میں سے زیادہ مشہور اورممتاز دو شروح ہوئیں ۔ ایک حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانیؒ (م:۵۸۲ھ) کی فتح الباری اور دوسری علامہ بدرالدین محموداحمد العینیؒ (م: ۸۵۵ھ) کی عمدۃ القاری ہے۔ حال ہی میں علامہ مولانا معین الدین خٹکؒ کی معین القاری شرح صحیح البخاری شائع ہوئی ہے۔ یہ مولانا خٹک مرحوم کی تقاریر کیسٹوں سے اتار کر ان کے شاگردِ رشید حضرت مولانا محمد عارف نائب شیخ الحدیث جامعہ عربیہ گوجرانوالہ کی زیرنگرانی اور ان کی کاوش سے مرتب کی گئی ہے۔

یہ صحیح بخاری کی مکمل شرح ہے۔ اس میں حدیث کا مکمل متن اور سلیس اُردو ترجمہ ہے‘ اور یہ ذکر بھی کہ صحیح بخاریمیں ایک حدیث کتنی جگہ آئی ہے۔ صحیح بخاریکی مشکلات کا حل اور ترجمۃ الباب کے تحت ذکر کردہ احادیث سے ترجمۃ الباب کا ربط پوری تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ ترجمۃ الباب کے مباحث و مضامین‘ مستنبط مسائل اور آیات و احادیث کی جامع اورمفصل تشریح‘رُواۃ (حدیث) کے حالات‘ قدیم اور جدید فرق باطلہ اور ان کے فلسفوں اور نظریات پر سیرحاصل روشنی ڈالی گئی ہے۔ نئے اِزموں: سیکولرزم‘ سوشلزم‘ کمیونزم اور نئے فرقوں: قادیانیوں‘ منکرین حدیث اور ان کے مختلف گروہوں: پرویزیوں اور چکڑالولیوں کا عالمانہ مگر عام فہم تعارف وغیرہ۔

اردو اور عربی میں صحیح بخاری کی بہت سی شروح ملتی ہیں۔لیکن معین القاری‘ صحیح بخاری کی ایسی شرح ہے جسے عصرِحاضر میں دستیاب جملہ شروح میں وہی مقام حاصل ہے جو قرآن پاک کی تفاسیرمیں تفہیم القرآن کو حاصل ہے۔

معین القاری کا اندازِ بیان محض علمی اور تحقیقی ہے‘ مناظرانہ نہیں ہے۔ فقہی اختلافات بیان کرتے ہوئے ‘اپنے زمانے کے مکاتب فکر میں سے کسی پر طعن و تشنیع نہیں کی گئی۔ اس لیے تمام مدارس و مکاتب فکر کے علما و طلبہ اورعامۃ المسلمین بلاتردّد اس سے استفادہ کرسکتے ہیں۔

ابتدا میں حضرت مولانا معین الدین خٹکؒ اور ان کے استاذ حضرت مولانا فخرالدینؒ کے سوانح اور مقدمے کے ساتھ بدء الوحی کی احادیث کی تشریح دی گئی ہے۔ مقدمے میں حدیث کی تعریفات اوّلیہ اور حجیتِ حدیث (از مولانا محمدعارف)‘ منکرین حدیث کے اعتراضات کا تجزیہ (از مولانا معین الدین خٹکؒ)‘ حدیث کا معیار‘ روایت و درایت‘ حدیث کی اصطلاحات‘ حدیث معنعن‘ حدیث منقطع‘ حدیث معضل‘ حدیث معلق‘ اصح الکتب کے بعد کتاب اللہ کی توضیح‘ مسالک اربعہ میں فرق اور صحاح ستہ کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔ گویا اس شرح کی حیثیت انسائی کلوپیڈیا کی ہے۔ یہ نہ صرف دینی اور اسلامی تحریک کے وابستگان‘ بلکہ جدید تعلیم یافتہ طبقے‘ بلکہ دینی مدارس کے اساتذہ‘ صحیح بخاری کے پڑھانے والے شیوخ اورپڑھنے والے طلبہ کے لیے بھی ایک قیمتی تحفہ اور زادِ راہ ثابت ہوگی۔ (مولانا عبدالمالک)


First Things First ] پہلی بات پہلے[ ‘خالد بیگ۔ملنے کا پتا: www.albalaghbookstore.com   صفحات:۴۲۰۔ قیمت: ۲۰ ڈالر‘ پاکستان کے لیے رعایتی قیمت: ۶ سو روپے۔

متلاشی ذہنوں اور مضطرب دلوں کے لیے خالد بیگ کے کالم‘ اب کتابی شکل میں پیش کردیے گئے ہیں۔ وہ یہ کالم  First Thing Firstکے عنوان سے دسمبر ۱۹۹۵ء سے Impact لندن میں لکھ رہے ہیں۔ اس کالم میں عصرحاضر سے متعلق اسلامی موضوعات کا ایک وسیع دائرہ زیربحث آتا ہے۔ بہت سے شائقین کے لیے امپیکٹ کا یہ وہ کالم ہے جس کا وہ بے چینی سے انتظار کرتے اور رسالے میں سب سے پہلے اسے پڑھتے ہیں۔

آج اسلامی معاشرے اپنی شناخت اور سند کی تلاش میں ہیں اور مسلمان اپنی انفرادی زندگیوں میں گمبھیر مسائل کا سامنا کر رہے ہیں‘ یہ کالم اسی پس منظر میں لکھے گئے ہیں۔ خالد بیگ کی حقیقی مہارت ان کی اس صلاحیت میں ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے موجودہ حالات پر   اسلام کے ابتدائی مآخذ سے رہنمائی اخذ کر کے مختصر تبصرے کرتے ہیں۔ فصاحت‘ بے ساختگی   اور اختصار کے ساتھ وہ بڑی خوب صورتی سے مسائل کو اسلامی تناظر میں بیان کرتے ہیں۔  بیرونی اثرات کی پیدا کردہ الجھنوں کو صاف کرتے اور اپنے پڑھنے والوں کو بحیثیت مسلمان اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے بیدار اور متحرک کرتے ہیں۔

خالد بیگ کو درست بات جامعیت سے کہنے کا ملکہ حاصل ہے۔ دوسرے مصنف جو بات کئی درجن صفحات میں کہہ پاتے ہیں‘ وہ انھیں دو تین صفحات میں خوب صورتی سے کہہ دیتے ہیں۔ ان کا غیرجانب دارانہ انداز‘ ٹھہرا ہوا سنجیدہ لب و لہجہ‘ سوچ بچار کی بنیاد پر متوازن آرا اور بصیرت افروز تبصرے‘ یقینا اس کتاب کو قاری کے لیے ایک جذب کرنے والا اور مالا مال کرنے والا تجربہ بنا دیتے ہیں۔ ان کالموں کے چند عنوانات : قرآن‘ رسولؐ سے محبت‘ عبادات‘ اسلام ہی حل ہے‘ انتخاب آپ کو کرنا ہے‘ ذاتی اصلاح‘ عورت اور خاندان‘ تعلیم‘ اتحاد‘ بہائو کی مزاحمت‘ تاریخ‘ ایک نظر وغیرہ‘ کل ۸۱ کالم ہیں جن میں سے ۲۰ ذاتی اصلاح کے موضوع پر ہیں۔

مصنف کے بقول یہ کالم لکھنے میں انھوں نے مولانا اشرف علی تھانویؒ، مولانا ابوالحسن  علی ندویؒ، مولانا منظورنعمانیؒ، مفتی محمد شفیعؒ، مفتی تقی عثمانی اور بعض دوسرے علما کی تحریروں سے استفادہ کیا ہے۔ بعض کالم تو اردو سے براہ راست تلخیص کیے گئے ہیں۔

یہ کالم بہت مقبول ہوئے ہیں۔ اسپینی‘ ملائی‘ فرانسیسی‘ بوسنی اور اردو زبان میں ترجمے کیے گئے ہیں۔ انگلش میڈیم اسکولوں میں بھی انھیں مفید پایا گیا ہے۔(مسلم سجاد)


حقائق اسلام‘ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی۔ ناشر: مرکزی مکتبہ اسلامی‘ ڈی-۳۰۷‘ دعوت نگر‘ ابوالفضل اینکلیو‘ جامعہ نگر ‘ نیودہلی-۱۱۰۰۲۵‘ بھارت۔ صفحات: ۲۱۶۔ قیمت: ۵۰ روپے

جس لمحے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہ صفا پر چڑھ کراسلام کی دعوت پیش کی‘ اسلام پر اعتراضات کاسلسلہ اسی وقت سے شروع ہوگیا۔ اعتراضات گوناگوں تھے حتیٰ کہ قرآن پاک اور رسولؐ اللہ کی ذات گرامی بھی اعتراضات کا ہدف بنی۔ حقائق اسلام میں مصنف نے ہر طرح کے اعتراضات کے مختصر شافی جواب دیے ہیں۔ مسلمانوں کے معاشرے میں رہنے والوں کو تو بہت کم ان اعتراضات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن غیرمسلم معاشروں کے مسلمانوں کو ان اعتراضات سے روزمرہ واسطہ پیش آتا ہے۔

کیا قرآن واقعی اللہ کا پیغام ہے؟ رسول کریمؐ کی ازواج کی تعداد‘ حضرت زینبؓ سے نکاح ‘ حضرت عائشہؓ کی عمر ‘حج میں قربانی دولت کا ضیاع ہے‘ پردہ بے جا پابندی ہے اور بھارت کے خصوصی پس منظر میں گوشت خوری پر اعتراضات اور حیوانات کے حقوق جیسے موضوعات پر بحث کی گئی ہے۔ یقینا یہ ایک مفید اور ضروری کتاب ہے۔ مصنف نے ابتدا ہی میں لکھ دیا ہے کہ اعتراضات کا سبب اسلام سے ناواقفیت‘ مسلمانوں کی بے عملی اور جھوٹا پروپیگنڈا ہے۔ تدارک کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان اسلام کا سچا نمونہ بنیں‘ غیرمسلموں سے ربط بڑھائیں اور اعتراضات کا جواب دیں۔ (م - س)


اصلاح کے سات رنگ‘ نگہت ہاشمی۔ ناشر: النورانٹرنیشنل‘ ۱۰۳- سعیدکالونی نمبر۱‘ کینال روڈ‘ فیصل آباد۔ صفحات: ۱۳۰۔ قیمت: درج نہیں۔

رمضان المبارک کے ۳۰ دنوں کے لیے‘ یہ روزانہ کا ایک دستور العمل ہے۔ دراصل یہ  نگہت ہاشمی کے لیکچر ہیں جو رمضان کی مختصر تربیتی کلاسوںمیں دیے گئے۔ ان کی افادیت و مقبولیت اور فوائد و ثمرات کے پیشِ نظر ان لیکچروں کی طلب بڑھی‘ اور فوٹوکاپیاں مہیاکرنا مشکل ہوگیا‘ تو اب انھیں مرتب کرکے شائع کر دیا گیا ہے۔ ہر روز کے لیے قرآن کی ایک آیت (یا قرآن کے بارے میں ایک مختصر حدیث)‘ ایک دعا‘ وضو‘ نماز میں خضوع و خشوع اور اخلاق و انفاق کے لیے ہدایت--- آخر میں ’’آج کیا کریں‘‘ کے تحت ۲‘۳ کام کرنے کا عزم--- ہر عنوان کے تحت واضح نکات۔

رمضان میں ان ۳۰ اسباق کا اجتماعی مطالعہ‘ نیز گھروں میں بچوں کے ساتھ مل کر پڑھنا‘ ان ہدایات کی عملی صورتوں کا راستہ نکالنا‘ دعا یاد کرنا وغیرہ باعثِ افادیت ہوگا۔ (رفیع الدین ہاشمی)


کالم نگر‘ اشرف بخاری۔ ناشر: دارالتذکیر‘ رحمن مارکیٹ‘ غزنی سٹریٹ‘ اردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۳۹۷۔ قیمت: ۳۰۰ روپے۔

مصنف طویل عرصے تک درس و تدریس سے وابستہ رہے ہیں اور انھوں نے بطور پرنسپل‘ ڈائرکٹر تعلیمات اور صدر نشین تعلیمی بورڈ ایبٹ آباد بھی خدمات انجام دی ہیں۔ تدریسی اور انتظامی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ بخاری صاحب نے قرطاس و قلم سے بھی اپنا رشتہ بڑی خوبی سے نبھایا ہے۔ یہ بظاہر تو اخباری کالم ہیں اور فرمایش پر یا اشاعتی تقاضوں کی تعمیل میں لکھے گئے‘ لیکن درحقیقت یہ غوروفکر کی دعوت سے لبریز سندیسے ہیں۔

مصنف نے تاریخ‘ دانش‘ حرکت پذیری اور عبرت آموزی کو پہلو بہ پہلو لاکھڑا کیا ہے۔ ان میں سیاسیاتِ وطن سے لے کر سیاسیاتِ عالم تک کے رنگ ہیں۔ بخاری صاحب نے تواریخ و ادبیات کی پرپیچ وادیوں کی نشان دہی کی ہے۔ ان کے ہاں ہمیں حب الوطنی کی ایک متوازن لہر ملتی ہے۔

چند جملوں سے کتاب کے لہجے سے شناسائی حاصل کرنا آسان ہوسکتا ہے:

  • ’’شاہ بھٹائی کے رسالے میں صرف ایک سطر سندھ کے بارے میں ہے کہ خداے مہربان! سندھ ہمیشہ سرسبز و شاداب رہے۔ پورے رسالے میں اہل سندھ کے درد کی عکاسی ضرور ہے‘ لیکن کوئی نعرہ بازی نہیں‘‘ (ص ۳۲۶)۔
  • ’’قائداعظم… حسنِ کردار کا نقشِ جمیل تھا۔ راست گو‘ راست فکر‘ دیانت و امانت کی چلتی پھرتی تصویر‘ مالی معاملات میں امکانی حد تک محتاط‘ نظم و ضبط کا پیکر‘ نہ بکنے والا نہ جھکنے والا‘ نہ دروغ باف نہ الزام تراش‘ نہ روباہ صفت نہ اقتدار پرست‘ نہ بڑھک باز‘ نہ اسیرِنرگسیت‘‘ (ص۱۱۵)۔
  • ] قائداعظم[ ’’نے ثابت کر دیا کہ سیاست جھوٹ‘ منافقت اور فریب دہی کے بغیر بھی ہوسکتی ہے‘‘۔ (ص ۱۱۷)۔
  • ’’فرزندانِ کشمیر جس کربلاے جدید سے آج گزر رہے ہیں‘ کون اس کے پس منظر سے ناواقف ہے؟ دنیا کا ہر باضمیر معاشرہ چیخ اٹھا ہے… لیکن ہماری ادیب برادری… اپنے برج عاج میں بیٹھی کاغذی پھولوں سے دل بہلا رہی ہے… جس کا سارا زورِ تخیل آج بھی ان کافوری شمعوں کا اسیر ہے جو اپنے ہی دیس میں گل ہوگئی ہیں‘‘ (ص ۱۳۷‘ ۱۳۸) وغیرہ۔

اگر مناسب پیراگراف بناتے ہوئے‘ ہرمضمون کے آخر میں تاریخ اشاعت بھی درج کردی جاتی تو مضمون کا پس منظر جاننا آسان ہو جاتا۔ بہرحال یہ چھوٹے چھوٹے مضامین عمدہ اسلوب میں اور دل کش انداز سے کسی اہم نکتے کی طرف توجہ دلاتے اور عمل پر ابھارتے ہیں۔ (سلیم منصور خالد)


زمانہ اس کو بھلا نہ دے‘ محمود عالم ‘ مرتب: محمد یوسف بیدری۔ تقسیم کار: اردو بک ریویو‘ میٹروپول بلڈنگ‘ دریا گنج‘ نئی دہلی-۱۱۰۰۰۲۔ صفحات: ۲۰۸۔ قیمت: ۱۰۰ روپے۔

دیباچہ نگار ڈاکٹر احمد یوسف نے کتاب کو خاکوں کا مجموعہ قرار دیا ہے۔ بلاشبہہ بعض شخصیات کا ذکر اس حسن و خوبی سے کیا گیا ہے (خصوصاً کتاب کے آخری حصے میں) انھیں خوب صورت خاکوں میں شمار کیا جاسکتا ہے‘ لیکن زیادہ تر ایک ایک‘ دو دو صفحاتی شخصی تعارف ہیں۔ بعض تو بالکل ہی مختصر بلکہ سرسری‘ نصف صفحہ یا اس سے بھی کم‘ (ایک صاحب کا ذکر فقط پانچ سطروں میں ہے۔ اس کتاب کو شخصیات کا تذکرہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔

ایک لحاظ سے یہ کتاب ’’یاد نگاری‘‘ کا نمونہ ہے۔ مصنف نے جن بزرگوں‘ اساتذہ‘ دوستوں‘ عزیزوں یا ہم کاروں سے کسی مرحلے پر اکتساب و استفادہ کیا‘ ان سے متاثر ہوئے (یا کچھ زیادہ تاثر نہیں بھی لیا) تو بلاکسی ترتیب کے اور بیش تر صورتوں میں کسی تمہید کے بغیر‘ ان کے بارے میں جو بات ذہن میں آئی‘ لکھتے چلے گئے۔ تواریخ (ولادت یا وفات) وغیرہ سے یہ تذکرہ ’’پاک‘‘ ہے۔ کسی شخص کا ذکر اچانک شروع ہوتا ہے اور ختم بھی اچانک ہوتا ہے۔

مصنف نے مجموعی طور پر افراد و اشخاص کی خوبیوں اور نیکیوں کا ذکر کیا ہے۔ انداز و اسلوب بے تکلفانہ اور کہیں بے باکانہ ہے۔ یہ بے باکی بعض اوقات نشترزنی کی حد تک جاپہنچتی ہے اور بعدازاں مصنف اپنی غلطی پر نادم ہوتے ہیں۔

ان خاکوں یا شخصی تذکروں سے سب سے اچھی‘ مفصل اور سچی تصویر خود مصنف کی اپنی بنتی ہے۔ کتاب پڑھتے ہوئے کہیں کہیں احساس ہوتا ہے کہ یہ محمود عالم صاحب کی اپنی یادداشتوں کا مجموعہ ہے۔ اگر کتاب کو خود مصنف ہی مرتب کرتے تو کیا حرج تھا؟ (ر - ہ )


سفر بلادِ غرب کے‘ محمد صغیرقمر۔ ناشر: منشورات‘ منصورہ‘ لاہور۔ صفحات: ۲۲۳۔ قیمت: ۱۲۰ روپے۔

سفرنامہ اب محض رودادِ سفر نہیں رہا‘ بلکہ سفرنگاروں نے جغرافیے کے ساتھ تاریخ اور مختلف معاشروں کے ماحول اور ان کی نفسیات کا ذکر شامل کر کے‘ سفرنامے کو ایک دل چسپ صنفِ ادب بنا دیا ہے۔ زیرنظر سفرنامہ اسی ذیل میں آتا ہے۔ صغیرقمر نے عمیق مشاہدات کو ایک بے ساختہ اسلوب میں پیش کر کے رودادِ سفرکو سفرنامے کا روپ دیا ہے۔

مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر روشناس کرانے کے لیے سردار اعجاز افضل خان‘ پروفیسر نذیراحمد شال اور صغیرقمر پر مشتمل ایک سہ رکنی وفد نے پانچ ملکوں کا دورہ کیا۔ اس دورے میں پاکستانیوں اور کشمیریوں سے خطاب کیا‘ ملاقاتیں کیں اور بعض مقامی دانش وروں اوربااثر افراد سے مل کر ان پر مسئلہ کشمیر کی اہمیت واضح کی۔ یوں یہ کتاب ایک بڑے مقصد کے لیے کیے گئے جرمنی‘ ناروے اور اسپین کے اسفار کی روداد پر مشتمل ہے۔ یہ مقصد ہی اُسے دیگر سفرناموں سے ممتاز کرتا ہے۔ (پیش لفظ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب اور سویڈن بھی گئے تھے۔ پھر ان کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا؟ کم از کم سویڈن کا ذکر تو ناروے کے ساتھ ہی مناسب تھا)۔

صغیر قمر‘ زیرِسیاحت ممالک کے ماحول و معاشرت کا تجزیہ کرتے ہوئے‘ ان ممالک کی تاریخ پر بھی نظرڈالتے ہیں۔ اس لیے ہر منظر پورے پسِ منظر کے ساتھ مجسم ہوکرسامنے آجاتا ہے۔ اسپین کے احوال میں مصنف کے اپنے مشاہدات کم ہیں اور تاریخی احوال نگاری زیادہ ۔(عبداللّٰہ شاہ ہاشمی)


جریدہ ۲۷،مرتبہ: سید خالد جامعی۔ ناشر: شعبۂ تصنیف و تالیف وترجمہ‘ جامعہ کراچی۔ صفحات: ۴۹۸۔ قیمت: ۲۰۰ روپے۔

ہماری جامعات میں تحقیقی جریدوں کی روایت بہت مضبوط نہیں ہے۔ ماضی بعید میں جامعہ کراچی کے شعبہ تصنیف و تالیف و ترجمہ نے ایک رسالہ جریدہ کے نام سے جاری کیا تھا‘ ۱۷سال کے بعد ڈاکٹر معین الدین عقیل کے دورِ نظامت میں دوبارہ جاری ہوا۔ اب خالد جامعی اسے مرتب کر رہے ہیں۔ زیرتبصرہ شمارہ ۲۷ ’’چہ دلاور است‘‘ کے عنوان سے مشرق و مغرب میں سرقہ بازی کی تاریخ کے پُرلطف‘ دل چسپ اور انکشافات سے پُر بیانات پر مشتمل ہے۔ اس سے قبل اسی طرح کے ’’قدیم لسانیات و کتبات نمبر‘‘، ’’ادبیات نمبر‘‘اور ’’فلسفہ لغت نمبر‘‘ شائع ہوئے ہیں۔ ایک خاص شمارہ واحدمسلمان اور پاکستانی ماہرِآثار قدیمہ و تاریخ مولانا ابوالجلال ندوی کے تحقیقی مضامین پر مشتمل ہے۔

زیرتبصرہ سرقہ نمبر اردو کے کسی عام قاری کی آنکھیں کھول دینے والا ہے۔ ۱۹۵۶ء میں ماہنامہ مہرنیم روز نے اس سلسلے کا آغاز کیا کہ ہر ماہ کسی ایک سرقے کا انکشاف کرے۔ یہ تاریخی سلسلہ‘ علم و ادب کے صنم خانے میں تکبیر بن کر گونجتا رہا۔ اس سلسلے میں لکھنے والوں میں   دو نام نمایاں ہیں: سید حسن مثنیٰ ندوی اور سید ابوالخیر کشفی۔ تمام مضامین میں تقابلی مطالعہ کرتے ہوئے سرقہ ثابت کیا گیا ہے۔ بہت سے اہم نام ہیں۔ ابوالکلام آزاد‘ عصمت چغتائی‘ مولوی عبدالحق اور ڈاکٹر میر ولی الدین۔ نیاز فتح پوری نے ہیولاک ایلس کی پوری کتاب ترجمہ کر کے بہ عنوان: ترغیبات جنسی اپنے نام سے شائع کردی۔ نیاز فتح پوری کا‘ اُردو ادب میں بڑا نام ہے‘ مگر دوسروں کی چیزیں اپنے نام سے شائع کرنا انھیں خاصا مرغوب رہا۔ مرتب نے لکھا ہے کہ ۲۰ویں صدی کے سرقوں کی اقسام کو اس شمارے میں شامل نہیں کیا گیا‘ مثلاً دوسرے محققین کے مسودات چوری کر کے اپنے نام سے شائع کرا لینا‘ دوسرے محققین کی عسرت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اونے پونے داموں پر مسودات خرید لینا‘ مختلف ناشرین اور اداروں کے پاس طباعت کے لیے آنے والے مسودوں کا مطالعہ کر کے اُسی موضوع پر اصل کتاب کی طباعت سے پہلے‘ ایک نئی کتاب شائع کرالینا‘ طلبا و طالبات کی تحقیق اپنے نام سے شائع کرالینا‘ اس کے علاوہ سرقے کے جدید ترین طریقے وغیرہ۔ جریدہ کے خصوصی نمبروں نے جامعہ کے اس شعبے کو پاکستان کی علمی دنیا میں اہم مقام دلوا دیا ہے۔ یہ شعبہ اپنی کارکردگی کے لحاظ سے دوسرے میدانوں میں بھی نمایاں ہے اور مفید خدمات انجام دے رہا ہے۔ محققین ‘ اساتذہ اور اہل علم ۵۰ فی صد رعایت پر یہ شمارہ حاصل کرسکتے ہیں۔(م - س)


سیارہ سالنامہ ۲۰۰۴ئ‘ مدیر: حفیظ الرحمن احسن۔ پتا: ایوان ادب‘ چوک اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۳۰۸۔ قیمت: ۱۰۰ روپے۔

’’رنگ چمن کیا ہے؟‘‘ کے عنوان سے جناب مدیر نے بڑی دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ ہمارے علمی زوال اور تعلیمی پستی پر اظہار رنج و افسوس کیا ہے‘ اور اس کے ساتھ ہی نظام تعلیم کی بے مقصدیت اور ابتری کے مہلک اثرات اور نئی نسل کی بے راہ روی اور اخلاقی شکست و ریخت کی طرف متوجہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ: کیا یہ وقت نہیں کہ ہمارے ادبا اور شعرا اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے کام لیتے ہوئے اپنی قوم کے نوجوانوں کو بے مقصدیت اور بے راہ روی بلکہ   کج روی کی تاریکیوں سے نکالنے کا فریضہ سرانجام دیں؟ یہ سوال ایک طرح کی دعوتِ فکر ہے اور اقدام کے لیے ایک نہایت مثبت اور مناسب تجویز بھی۔

سیارہ کے اس سالنامے میں‘ جو کئی مہینوں کے طویل وقفوں کے بعد منظرعام پر آیا ہے‘ ایسی معیاری تخلیقات شامل ہیں جو اس ادبی مجلے کی پہچان ہیں۔ حمدونعت‘ نظمیں‘ مقالات‘ رفتگان کا تذکرہ‘ غزلیں‘ خاکے‘ افسانے اور کتابوں پر تبصرے اور خصوصی مطالعے (مقالات‘ سارے کے سارے شعرا پر ہیں)۔ رئیس احمد نعمانی کا ’’سلام بہ حضور خیرالانامؐ،، اُمت کے حالات پر اچھا تبصرہ ہے۔ بعض تحریریں قندِمکررکے طور پر شامل کی گئی ہیں۔ مختصر یہ کہ یہ شمارہ ہمیں اپنے دور کے اچھے لکھنے والوں سے اور معاصر ادبی رجحانات سے روشناس کراتا ہے۔(ر-ہ)


تعارف کتب

  • افاداتِ شاہ ولی اللہ دہلوی (حصہ اول)‘ سید وصی مظہر ندوی۔ ناشر: مکتبہ صداے عام‘ حیدرآباد‘ سندھ۔ صفحات: ۱۲۷۔ قیمت: ۱۲۰ روپے۔ ] شاہ ولیؒ اللہ کے مختصرسوانح حیات اور حجۃ اللّٰہ البالغہ کی روشنی میں اسلامی عقائد و تعلیمات کا بیان۔ عام فہم زبان۔ شاہ صاحب کے علمی وعملی کارناموں پر مولانا مودودیؒ کا جامع تبصرہ بھی شامل ہے۔[
  • میاں بیوی کے حقوق و فرائض‘ مفتی حافظ محمد حسام الدین شریفی۔ ناشر: مرکزی انجمن سہروردیہ‘ ایف۱۳۷‘ سنٹرل ایونیو روڈ‘ ایس آئی ٹی ای‘کراچی‘۷۵۷۳۰۔ صفحات:۱۲۸۔ قیمت: ندارد۔] اسلام کا تصورِ عقد‘ خطبۂ نکاح‘ مہر‘ ولیمہ‘ وغیرہ اور ازدواجی زندگی کی اونچ نیچ اور فریقین کے حقوق و فرائض کا قرآن و سنت کی روشنی میں مختصرمگر جامع بیان ۔[
  • اسلامی طبی اخلاقیات‘ مصنف کا نام درج نہیں۔ ناشر: پیما پبلی کیشنز‘ لاہور۔ صفحات: ۹۶۔ قیمت:۴۰ روپے۔] طبی پیشے کے متعلقین (ڈاکٹروں‘ نرسوں اور دیگر معاون عملے ) کے لیے قرآن و سنت کی روشنی میں ایک ضابطہ ء اخلاق (خوش اخلاقی‘ بے لوثی‘ رازداری‘ سچی گواہی‘ غصے سے پرہیز‘ مریض کی اخلاقی تربیت‘ وقت کی پابندی‘ حرام ادویہ سے پرہیز وغیرہ)‘ اپنے موضوع پر ایک جامع‘ عمدہ اور بہت اچھی کتاب۔ تعجب ہے کہ مصنف کا نام ندارد۔[
  • شرح شمائل ترمذی‘ دوم۔ مولانا عبدالقیوم حقانی۔ ناشر: القاسم اکیڈمی‘ جامع ابوہریرہ‘ خالق آباد‘ نوشہرہ‘ صوبہ سرحد۔ صفحات: ۵۸۲۔ قیمت: درج نہیں۔] شمائل ترمذی کی تفصیلی درسی شرح پہلی جلد (تعارف: ترجمان القرآن‘ اپریل ۲۰۰۳ئ) کے بعد اب جلد دوم آئی ہے۔ متنِ حدیث مع اسناد‘ اعراب کا اہتمام‘ تعلیقات‘ راویانِ حدیث کے مختصر تذکرے‘ دوسری کتبِ حدیث سے استفادہ‘ اسلوب سادہ۔[
  • امریکا کا زوال‘ محمد صالح مغل۔ پتا: نعمانی کتب خانہ‘ حق سٹریٹ‘ اردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۲۲۹۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔] مصنف کے خیال میں امریکا کے زوال کی ابتدا ہوچکی ہے‘ امریکا کے اقتصادی‘ فنی‘ جنگی نقصانات کی تفصیل‘ اُمت مسلمہ کو ملیامیٹ کرنے کا صہیونی منصوبہ۔ صلیبیوں کے اہداف اور مظالم وغیرہ۔[
  • انسان اور شیطان‘ حافظ مبشرحسین لاہوری۔ ناشر: مبشراکیڈمی لاہور۔ صفحات: ۲۴۷۔ قیمت: ۹۰روپے۔]قرآن و سنت کی روشنی میں شیطان کی حقیقت‘ اس کے وجود کے جواز‘ انسان سے اس کے تعلق‘ ابلیس اور عام شیطان کے تعلق کی وضاحت اور شیطان کی گمراہیوں سے بچائو کی تدابیر۔[
  • یہود‘ انبیا کے قاتل اورانسانیت کے دشمن‘ یوسف عبدالرحمن۔ مترجم: راشد حامدی۔ ناشر: المنار پبلشرز‘  ۱۵/۵۲ بلند اپارٹمنٹ‘ بٹلا ہائوس‘ جامعہ نگر‘ نئی دہلی ۲۵۔ صفحات: ۶۳۔ قیمت: درج نہیں۔ ] دنیا پر یہودیوں کے تسلط کے موضوع پر معلومات افزا کتابچہ۔ مصنف حکومتِ کویت کی ’’عوامی کانفرنس براے مزاحمتِ اسرائیل‘‘ کے رکن ہیں۔ یہودی تاریخ اور اُمت مسلمہ کے خلاف ان کی ریشہ دوانیوں کا تذکرہ[۔

خالد محمود ‘لاہور - عبدالمتین اخوندزادہ ‘ کوئٹہ

رمضان المبارک کے موقع پر ترجمان القرآن میں خصوصی اہتمام کی روایت رہی ہے۔ اس دفعہ ’’حقیقت سجدہ‘‘ اور تراویح پر مولانامودودیؒ کے جواب کے علاوہ کوئی خاص تحریر نہ تھی‘ بہت کمی محسوس ہوئی۔


ڈاکٹر راشد محمود‘ لاہور

’’سرحد میں نظامِ صلوٰۃ: برکات وامکانات‘‘ (اکتوبر۲۰۰۴ئ) سے نظام صلوٰۃ کے مختلف پہلو بالخصوص اصلاح معاشرہ کے لیے تحریکی پہلو اجاگر ہوکر سامنے آیا۔ ضرورت ہے کہ نظامِ زکوٰۃ پر بھی اس نوعیت کی تحریر شائع کی جائے۔


غلام حیدر ‘ ایبٹ آباد

’’مغربی تہذیب کی یلغار‘‘ (ستمبر ۲۰۰۴ئ) میں تجزیہ بالکل درست ہے لیکن درپیش مسائل کے حل کے لیے مطلوبہ لائحہ عمل کی نشان دہی بھی ضروری ہے۔ عوامی جدوجہد کے ذریعے اسلامی قیادت کو سامنے لانے میں شدید مسائل کا سامنا ہے۔ بیشتر اسلامی ممالک میں آمریت مسلط ہے اور انتخابات کی نوبت ہی نہیں آتی۔ اگر ہوں‘ جیسے ہمارے ملک میں تومنصفانہ نہیں ہوتے۔ حکومت‘ وڈیرے‘ سرمایہ دار اور دیگر مفادات یافتہ عناصر بڑی رکاوٹیں ہیں۔ اگر کہیں انتخابات کے ذریعے اسلامی تحریک کو آگے آنے کا موقع مل جائے‘ جیسا کہ الجزائر میں ہوا تو فوج مداخلت کر کے راستہ روک دیتی ہے۔ اخوان المسلمون اور دیگر اسلامی تحریکوں پر ڈھائے جانے والے وحشیانہ مظالم بھی اس راہ کی رکاوٹ ہیں۔ آخر تبدیلی آئے تو کیسے؟ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت سے  بہت سی توقعات وابستہ ہیں۔ ان موضوعات کے حوالے سے مختلف ممالک کے مشاہداتی و تحقیقی مطالعوں کی ضرورت ہے۔ اسلامی تحقیقی ادارے توجہ کریں تو خدمت ہوگی۔


فیض الکبیر ‘ دیر (سرحد)

’’تصنیفی تربیت کا ایک تجربہ‘‘ (ستمبر ۲۰۰۴ئ) پڑھ کر بہت خوشی ہوئی کہ ہمارے مربین‘ محققینِ اسلام کی تیاری و تربیت پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ یہ کام واقعی بہت اہم اور ضروری ہے۔ جماعت اسلامی ابتداً ایک    علمی تحریک کی شکل میں سامنے آئی اور خود امیرکارواں سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اور بانی ارکان نامور اہل علم تھے۔  قحط الرجال کے اس دورمیں واقعی ایسے دانشورانِ اسلام کی ضرورت ہے جو اسلام کی صحیح ترجمانی کریں اور  مغرب کے مخالف اسلام پروپیگنڈے کا مؤثر جواب دے سکیں۔


ڈاکٹر ممتاز احمد ‘ ہیمپٹن یونی ورسٹی ورجینیا‘ امریکا

’’دارفور: سوڈان میں امریکی مداخلت‘‘ (اگست ۲۰۰۴ئ) کا مسئلہ اتنا سادہ نہیں ہے جیسا کہ عبدالغفار عزیز صاحب نے پیش کیا ہے۔ یہ بہت پیچیدہ مسئلہ ہے اور اس سے گلوخلاصی کرانا آسان نہیں۔ یہ بجا ہے کہ بعض مغربی حکومتوں کا جذبۂ انسانیت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ ان کے اپنے مقاصد کارفرما ہیں لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ دارفور کے خطے میں مارچ سے ۷۰ ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور لاکھوں بے گھر۔ اور اس سانحے کی بڑی ذمہ داری حکومت پرآتی ہے۔ جنجاوید تو ٹھگوں کا گروہ ہیں۔ میرے سوڈانی دوست جو حالات سے واقف ہیں‘ وہ بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ڈاکٹر حسن ترابی بھی۔

  • عبدالغفار عزیز: ہم بالکل انھی الفاظ میںیہ بات امریکی سرکاری ذرائع سے بھی سن چکے ہیں۔ ڈاکٹر ترابی صاحب کا بھی یہی موقف ہے۔ اسی لیے حکومت سوڈان ترابی صاحب کو بھی بحران کے اسباب میں سے ایک بڑا سبب قرار دیتی ہے۔ رہے اعداد و شمار تو ان میں بہت تفاوت ہے۔ سوڈان اور واشنگٹن بہت فاصلے پر ہیں۔

تنازع یا تعاون؟

فلسفۂ ارتقا کا تیسرا اصول یہ پیش کیا گیا ہے کہ زندگی کا ارتقا تنازع(struggle) ہی کے   بل پر ہوتا ہے۔ یہ اصول بھی دراصل حیوانی زندگی سے اخذ کیا گیا تھا۔ لیکن آگے چل کر اسے انسانی زندگی پر بھی پھیلا دیا گیا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ تمدنی ارتقا کا فلسفہ جس دور میں مدون ہوا‘ اس دور میں انسان عملاً حیوانات کی سطح پر گرچکا تھا۔ وہ اپنی حقیقی امتیازی حیثیت‘ یعنی اپنی اخلاقیت اور ذمہ داری کو بھول گیا تھا اور اپنے اوپر کسی اقتداربالادست کی موجودگی کا قائل نہیں تھا۔ زندگی بعدالموت کا منکر ہونے کی وجہ سے اس نے لذت اندوزی اور خواہش پرستی کو مقصدِحیات ٹھیرا لیا تھا اور اجتماعیت کے بجاے وہ انفرادیت کی طرف جھک پڑا تھا۔ مختصر یہ کہ اس میں اور ادنیٰ حیوانات میں بجز اس کے کچھ فرق نہیں تھا کہ یہ اپنی خواہشات کی غلامی کرنے میں اپنے عقلی قویٰ کی مدد سے کچھ زیادہ کارہاے نمایاں دکھا رہا تھا۔ اس بنا پر  ہم یہ سمجھتے ہیں کہ علماے مدنیات نے انسان کو اگر حیوانات کے ساتھ ملا کر اس کا مطالعہ کیا تو وہ کچھ زیادہ غلطی پر نہ تھے۔ ان کی غلطی اگر تھی تو یہ تھی کہ انھوں نے ایک غیرفطری حالت کو فطری حالت قرار دے لیا اور انسان نے جو اجتماعی امراض پیدا کرلیے تھے انھیں علاماتِ صحت سمجھ لیا۔

اس غلط اندیشی سے یہ تصور پیدا ہوا کہ جس طرح ایک بیل ہری ہری گھاس کے لیے دوسرے بیل سے لڑجاتا ہے اسی طرح انسان کو ایک دوسرے سے نوالے چھیننے چاہییں۔ پھر جس طرح چیتوں کی ایک ٹولی جس جنگل میں چاہتی ہے‘ شکار کرتی پھرتی ہے۔ اسی طرح انسانی گروہوں کو بھی بین الاقوامی سیاسی صیادی کرتے پھرنا چاہیے۔ انسان کا گویا فطری منصب ہی یہ قرار پایا کہ وہ بحیثیت ِ فرد افراد سے الجھا رہے اور طبقات اور اقوام کی شکل میں منقسم ہونے کی حیثیت سے دوسرے طبقات اور دوسری اقوام سے متصادم رہے‘ ورنہ وہ ارتقا نہیں کر سکتا‘ بلکہ اس کی بقا تک ممکن نہیں ہے۔

زندگی کا کتنا یک رخا مطالعہ تھا۔ ان لوگوں نے زندگی میں تنازع کے اصول کی کارفرمائی تو دیکھ لی مگر یہ ’’توافق للبقا‘‘ (co-operation for existence)کے اصول کو نہ دیکھ سکے جو سورج سے زیادہ نمایاں تھا۔ توافق للبقا کی اصطلاح سے شاید آپ اُپرا رہے ہوں کہ یہ کیا بلا ہے مگر یہ اتنی عام اور صریح حقیقت ہے کہ کششِ زمین کی طرح محض پیش پا افتادہ ہونے کی وجہ سے کسی کو محسوس نہ ہوئی۔ اس کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا کافی ہے کہ اس کے بغیر تمدن کی گاڑی ایک انچ بھی نہیں چل سکتی۔ نہ صرف یہ کہ مدنیت کا محل اسی  سنگِ اساس پر کھڑا ہے‘ بلکہ کائنات کی توافق کی شاہ راہ پر اپنی منزلِ تکمیل کی طرف بڑھ رہی ہے۔ (توافق للبقا‘   نعیم صدیقی‘ ترجمان القرآن‘ جلد۲۵‘ عدد ۵-۶‘ ذی القعدہ‘ ذی الحجہ ۱۳۶۳ھ‘ نومبر‘ دسمبر۱۹۴۴ئ‘ ص ۴۷)