نومبر ۲۰۰۴

فہرست مضامین

مدیر کے نام

| نومبر ۲۰۰۴ | مدیر کے نام

Responsive image Responsive image

خالد محمود ‘لاہور - عبدالمتین اخوندزادہ ‘ کوئٹہ

رمضان المبارک کے موقع پر ترجمان القرآن میں خصوصی اہتمام کی روایت رہی ہے۔ اس دفعہ ’’حقیقت سجدہ‘‘ اور تراویح پر مولانامودودیؒ کے جواب کے علاوہ کوئی خاص تحریر نہ تھی‘ بہت کمی محسوس ہوئی۔


ڈاکٹر راشد محمود‘ لاہور

’’سرحد میں نظامِ صلوٰۃ: برکات وامکانات‘‘ (اکتوبر۲۰۰۴ئ) سے نظام صلوٰۃ کے مختلف پہلو بالخصوص اصلاح معاشرہ کے لیے تحریکی پہلو اجاگر ہوکر سامنے آیا۔ ضرورت ہے کہ نظامِ زکوٰۃ پر بھی اس نوعیت کی تحریر شائع کی جائے۔


غلام حیدر ‘ ایبٹ آباد

’’مغربی تہذیب کی یلغار‘‘ (ستمبر ۲۰۰۴ئ) میں تجزیہ بالکل درست ہے لیکن درپیش مسائل کے حل کے لیے مطلوبہ لائحہ عمل کی نشان دہی بھی ضروری ہے۔ عوامی جدوجہد کے ذریعے اسلامی قیادت کو سامنے لانے میں شدید مسائل کا سامنا ہے۔ بیشتر اسلامی ممالک میں آمریت مسلط ہے اور انتخابات کی نوبت ہی نہیں آتی۔ اگر ہوں‘ جیسے ہمارے ملک میں تومنصفانہ نہیں ہوتے۔ حکومت‘ وڈیرے‘ سرمایہ دار اور دیگر مفادات یافتہ عناصر بڑی رکاوٹیں ہیں۔ اگر کہیں انتخابات کے ذریعے اسلامی تحریک کو آگے آنے کا موقع مل جائے‘ جیسا کہ الجزائر میں ہوا تو فوج مداخلت کر کے راستہ روک دیتی ہے۔ اخوان المسلمون اور دیگر اسلامی تحریکوں پر ڈھائے جانے والے وحشیانہ مظالم بھی اس راہ کی رکاوٹ ہیں۔ آخر تبدیلی آئے تو کیسے؟ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت سے  بہت سی توقعات وابستہ ہیں۔ ان موضوعات کے حوالے سے مختلف ممالک کے مشاہداتی و تحقیقی مطالعوں کی ضرورت ہے۔ اسلامی تحقیقی ادارے توجہ کریں تو خدمت ہوگی۔


فیض الکبیر ‘ دیر (سرحد)

’’تصنیفی تربیت کا ایک تجربہ‘‘ (ستمبر ۲۰۰۴ئ) پڑھ کر بہت خوشی ہوئی کہ ہمارے مربین‘ محققینِ اسلام کی تیاری و تربیت پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ یہ کام واقعی بہت اہم اور ضروری ہے۔ جماعت اسلامی ابتداً ایک    علمی تحریک کی شکل میں سامنے آئی اور خود امیرکارواں سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اور بانی ارکان نامور اہل علم تھے۔  قحط الرجال کے اس دورمیں واقعی ایسے دانشورانِ اسلام کی ضرورت ہے جو اسلام کی صحیح ترجمانی کریں اور  مغرب کے مخالف اسلام پروپیگنڈے کا مؤثر جواب دے سکیں۔


ڈاکٹر ممتاز احمد ‘ ہیمپٹن یونی ورسٹی ورجینیا‘ امریکا

’’دارفور: سوڈان میں امریکی مداخلت‘‘ (اگست ۲۰۰۴ئ) کا مسئلہ اتنا سادہ نہیں ہے جیسا کہ عبدالغفار عزیز صاحب نے پیش کیا ہے۔ یہ بہت پیچیدہ مسئلہ ہے اور اس سے گلوخلاصی کرانا آسان نہیں۔ یہ بجا ہے کہ بعض مغربی حکومتوں کا جذبۂ انسانیت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ ان کے اپنے مقاصد کارفرما ہیں لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ دارفور کے خطے میں مارچ سے ۷۰ ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور لاکھوں بے گھر۔ اور اس سانحے کی بڑی ذمہ داری حکومت پرآتی ہے۔ جنجاوید تو ٹھگوں کا گروہ ہیں۔ میرے سوڈانی دوست جو حالات سے واقف ہیں‘ وہ بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ڈاکٹر حسن ترابی بھی۔

  • عبدالغفار عزیز: ہم بالکل انھی الفاظ میںیہ بات امریکی سرکاری ذرائع سے بھی سن چکے ہیں۔ ڈاکٹر ترابی صاحب کا بھی یہی موقف ہے۔ اسی لیے حکومت سوڈان ترابی صاحب کو بھی بحران کے اسباب میں سے ایک بڑا سبب قرار دیتی ہے۔ رہے اعداد و شمار تو ان میں بہت تفاوت ہے۔ سوڈان اور واشنگٹن بہت فاصلے پر ہیں۔